Tag: Urdu fiction

  • مور پنکھ کے دیس میں — حرا بتول (قسط نمبر ۱)

    مور پنکھ کے دیس میں — حرا بتول (قسط نمبر ۱)

    سیاہ چیتا ناجانے کیسے علاقہ غیر میں داخل ہو گیا تھا۔ رات کے اندھیرے میں وہ جان نہیں پایا تھا کہ وہ بھٹک کر اپنی راجدھانی سے بہت دور آچکا تھا یا پھر وہ جان بوجھ کر وہاں داخل ہوا تھا۔ شاید اسے اپنی چستی اورقوت پر بہت زیادہ ناز تھا جو وہاں چلا آیا جو بھی تھا، مگر اب وہ نہایت ہوشیاری اور احتیاط سے اپنی بھوک مٹانے کا کوئی سامان ڈھونڈ رہا تھا۔ رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اس کی موجودگی کا احساس اس کی سنہری چمکتی آنکھوں سے ہو رہا تھا یا پھر اس کی سیاہ لمبی دم کی سرسراہٹ سے۔
    اپنی خوف ناک چمکتی آنکھوں کو وہ بہت پھرتی سے دائیں بائیں گھوما رہا تھا کہ کہیں کسی شکار کا سراغ مل جائے۔ چند لمحوں بعد وہ چونک کر رک گیا پھر اس نے ایک ان دیکھے دائرے کے گرد دو سے تین چکر لگائے۔ وہ اپنے ارد گرد کا جائزہ لینے میں مگن تھا کہ اچانک خاموش فضا میں کہیں سے ایک خوفناک غراہٹ گونجی اور اس کا جواب بہت سی ایسی ہی وحشت ناک غراہٹوں سے دیا گیا۔ شاید اس علاقے کا اصل بادشاہ اپنی ”فوج” سمیت وہاں پہنچ چکا تھا۔ سیاہ چیتا اب گھبرایا ہوا تھا۔
    اب اندھیری رات میں مزید چمکتی آنکھیں پودوں اور جھاڑیوں میں سے جھلکتی دکھائی دے رہی تھیں اور پھر بہت آہستہ آہستہ تمام آنکھیں جھاڑیوں میں سے نکل کر اس سیاہ چیتے کے رو برو آتی گئیں۔ لگ بھگ آٹھ سے دس بھورے چیتے اس کو خوں خوار نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
    سیاہ چیتے کو اپنی سنگین غلطی کا احساس ہوا گیا کیوںکہ اب وہ غیر محسوس طریقے سے پیچھے ہٹ رہا تھا۔ شاید وہ جان چکا تھا کہ وہ واقعی ”غیر” کا علاقہ تھا۔ اس کے مقابل کھڑے تمام چیتوں کی نسل اِس کی نسل سے مختلف تھی۔ وہ سب اسے انجان نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ وہ وہاں تنہا تھا اور اس کے بھوکے وجود میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ ان سب کا مقابلہ کر پاتا۔ وہ تمام اب بھی غراتے ہوئے اس کی طرف بڑھ رہے تھے اور چند ہی لمحوں میں ان تمام چیتوں نے اسے گھیر لیا۔ سیاہ چیتا بھی اب غرانے لگا اور مسلسل چکر کاٹ رہا تھا۔ گھیرا لمحہ بہ لمحہ تنگ ہوتا جا رہا تھا۔ سیاہ چیتے کو اپنی موت چند قدموں کے فاصلے پر دکھائی دے رہی تھی۔
    ٭…٭…٭

    وہ دونوں فلم بناتے ہوئے شاید بہت دور نکل چکے تھے۔جب کہ وہ وہیں کھڑا عجیب وغریب اور اپنی نوعیت کا سب سے منفرد تہوار دیکھ رہا تھا۔ آج تک اس نے جتنے بھی تہوار فلم بند کیے تھے ان میں سب سے زیادہ عجیب اور انوکھاترین۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ ایک کے بعد ایک آدمی آتا اور میٹرس پر سوئے ہوئے بچوں کے اوپر سے پھلانگ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ جب بھی کوئی نیا آدمی قریب آتا دکھائی دیتا تو سڑک کے دونوں جانب قطار کی صورت میں کھڑے لوگ پریشانی اور تشویش سے اسے دیکھتے کہ کیا وہ کامیابی کے ساتھ یہ مارکہ سر کر سکتا ہے یا نہیں؟ اور جب وہ میٹرس پھلانگتا ہوا آگے بڑھ جاتا تو تماشائیوں کی رکی ہوئی سانسیں بحال ہو جاتیں اور ساتھ ساتھ وہ خوشی سے تالیاں بجاتے ہوئے کودنے والے آدمی کی مہارت کو داد بھی دیتے۔ آدمی کے گزر جانے کے بعد ان بچوں کے ماں باپ نزدیک آتے اور ان پر گلاب کی پتیاں نچھاور کرنے کے بعد جوش اور محبت سے انہیں اپنی آغوش میں بھر لیتے۔
    وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ اسپین کے ایک قدیم شہر برگس (Burgos) میں عالمی شہرت رکھتے، چار سو سال پرانے اس منفرد اور خطرناک تہوار کی فلم بندی کرنے آیا تھا۔ بے بی جمپنگ (baby jumping) کے نام سے مشہور اس تہوار میں اس سال پیدا ہوئے بچوں کو سڑک کے بیچ رکھے گدے پر لٹا دیا جاتا ہے۔ پھر قریبی گاؤں کے مرد پیلا اور سرخ لباس پہنے، شیطانی بہروپ میں آتے اور ان بچوں کے اوپر سے پھلانگتے چلے جاتے ہیں۔ وہاں کے لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ ایسا کرنے سے ان بچوں کے اندر موجود گناہ کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی اور ان کی بلائیں ٹل جاتیں ہیں۔ ہر قسم کی بیماری سے انہیں نجات مل جاتی ہے اور ان کی تقدیر بدل جاتی ہے۔ آخر میں ان ”معصوم” اور ”پاک” بچوں پر پھول نچھاور کیے جاتے ہیں خوشی کی علامت کے طور پر۔
    اس انوکھے منظر کو دیکھتے ہوئے وہ سوچ رہا تھا کہ کاش یہیں کھڑے کھڑے وقت تیس سال پیچھے چلا جائے اور پھر اس کے ماں باپ بھی اسے ان بچوں کے ساتھ اس بستر پر لٹا دیں اور کوئی ایسے ہی اس کے اوپر سے گزر کر اس کی تقدیر میں لکھی سیاہی کو مٹا دے اور پھر انہی ماؤں کی طرح اس کی ماں بھی ایسے ہی اسے اپنی آغوش میں سمو لے، مگر وقت کو پلٹانا اور تقدیر بدلنا تو ایک الٰہی امر ہے۔ اس جیسے عام سے آدمی کے لیے وقت کیسے پلٹ سکتا تھا؟
    ٭…٭…٭
    مجھے پتا ہے وہ بہت آگے جائے گا۔ شہرت کی بلندیوں کو چھونا اس کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ جب وہ ایسا کوئی مقام حاصل کر لے تو میں لوگوں کو بتاؤں کہ دیکھو میں وہ ہوں جسے اس جیسا کامیاب بندہ چاہتا ہے۔ دروازے کے اس پار سے اسے اس لڑکی کی اٹھلاتی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔
    ”اتنی محبت ہے تمہیں اس سے؟” کسی سہیلی نے دریافت کیا تھا۔
    ”محبت ؟”وہ دھیمے سے ہنسی۔
    ”محبت نہیں محبت کا جھانسا۔” ایک بار پھر اس کی ہنسی گونجی۔
    ”تمہیں تو پتا ہے کہ میں ماڈل بننا چاہتی ہوں۔ بہت زیادہ نام، پیسہ اور شہرت حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ وہ بس ایک سیڑھی ہے میرے لیے یہ سب حاصل کرنے کی ۔ ورنہ اس جیسے الو سے کون محبت کر سکتا ہے ؟ اس ملک میں اس سے کہیں بہتر لڑکے موجود ہیں محبت کرنے کے لیے مگر وہ سب کنگال اور نکمے ہیں۔ بہت سوں کو پرکھ چکی ہوں میں۔ سب کے سب ہر وقت خالی خولی محبت کا راگ الاپتے رہتے تھے۔ یہ واحد بندہ ہے جو میری محبت میں ڈوب کر میرے لیے دنیا کو تسخیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سو مجھے اسی کا انتخاب کرنا تھا نا۔” آج باہر کھڑے اس ہارے ہوئے نوجوان شخص کو وجہ سمجھ آئی تھی کہ وہ کیوں اپنے آپ کو اکثر حسین ناگن کہا کرتی تھی۔
    وہ مذاق میں کبھی کبھی اسے چھیڑا کرتا تھا کہ اس نے حسن سے اس کا شکار کیا ہے اور آج اسے ادراک ہوا کہ یہی حقیقت تھی۔ وہ واقعی اس کا شکار ہی تھا۔ بند دروازے کے پیچھے سے بھی وہ اس حسین ناگن کا مکروہ چہرہ دیکھ سکتا تھا۔ وہ ناگن اسے گھیر کر اپنا پھن تو پھیلا ہی چکی تھی۔ بس اب ڈسنا باقی رہ گیا تھا۔ وہ لڑکی اور بھی بہت کچھ بول رہی تھی۔ اس کی تمسخر سے بھری آواز باہر کھڑے نوجوان کو صاف سنائی دے رہی تھی۔ وہ آواز اسے کہیں دور…بہت دور دھکیل رہی تھی۔
    ٭…٭…٭
    میں سامنے بہتے دریا میں چھوٹے چھوٹے پتھرپھینکتا غیرحاضر دماغی سے بیٹھا تھا۔ وادی نیلم کے روح افزا نظارے میں میری دل چسپی نہ ہونے کے برابر تھی اور اس کی وجہ وہ شکستگی اور تنہائی تھی جس نے اس وقت میرے پورے وجود کا احاطہ کیا ہوا تھا۔ اپنی پشت سے آتی آوازیں مجھے سخت بری لگ رہی تھیں۔ قہقہے، ہنگامے، خوشی کے نعرے، سب زہر لگ رہے تھے اور میرا دل چاہ رہا تھا کہ ان ہنستے کھیلتے بچوں کو کسی بھی طرح خاموش کرا دوں۔
    ابھی کچھ ہی دیر پہلے میں بھی بہت شوق سے آیا تھا۔ ان بچوں کے ساتھ کھیلنے مگر ان بچوں نے مجھے اپنے ساتھ کھلانے سے انکار کر دیا۔
    ” تم ہمارے ساتھ نہیں کھیل سکتے کیوںکہ تم ہم جیسے نہیں ہو۔ جا ؤ اپنے لیے کوئی اپنے جیسا ہی ساتھی ڈھونڈو۔” مجھ سے دو سال بڑے بھائی نے تمسخر سے مسکرا کر کہا تو سب ہنسی میں لوٹ پوٹ ہوگئے۔
    ”لیکن یہ اپنے جیسا کہاں ڈھونڈے گا؟ اس جیسا کوئی بھی تو نہیں اس پورے گاؤں میں۔” ایک کزن نے پر سوچ انداز میں کہا۔ میں بس سر جھکائے کھڑا ان کی باتیں سننے پر مجبور تھا۔
    ”لیکن ایک جگہ ہے ایسی جہاں اس جیسے بہت سے لوگ رہتے ہیں۔” میرے بھائی نے معنی خیز نظروں سے کہا۔
    ”کہاں؟” بہت سے بچوں نے کورس میں پوچھا۔
    ”افریقہ کے جنگلات۔” جواب ملنے پر وہ سب مجھ پر کافی دیر تک ہنستے رہے اور پھر سے کھیل میں مگن ہو گئے۔ جب کہ میں آنکھوں میں ڈھیر سارے آنسو لیے دریائے نیلم کنارے بنے ایک بڑے سے پتھر پر بیٹھ گیا۔ میرے ساتھ ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا آیا تھا۔ میرے بہن بھائی، کزنز اور گاؤں کے دوسرے لڑکے ہمیشہ مجھے ایسے ہی تضحیک کا نشانہ بنا کر ساتھ کھیلنے سے انکار کردیتے تھے کیوں کہ میں اپنے خاندان کا ”نظر بٹو” تھا۔
    ٭…٭…٭
    جیف (Jeff)ابراہیم اور پیٹر گرانٹ سیاحت و تفریح کی دنیا کے جانے مانے نام تھے۔ ان کی ٹیم یورپ کے مختلف ممالک میں منعقد ہونے والے علاقائی،مذہبی اور ثقافتی تہواروں کی دستاویزی فلمیںبنایا کرتی تھی جنہیںیو کے کا ایک ٹریول چینل ”کریزی فیسٹیولز آف یورپ” کے نام سے نشر کرتاتھا۔ ان کی ٹیم میں کل تین لوگ تھے۔ پیٹر ہدایت کار اور پروڈیوسر تھا۔ایک دورے (ٹور) کے لیے درکار سارا چندہ اور سرمایہ کاری وہی فراہم کرتا تھا۔ کون سا تہوار کب اور کہاں منعقد ہو رہا ہے یہ سب معلومات حاصل کرنا اسی کی ذمہ داری تھی اور وہی سفر کو ترتیب دیتا تھا۔ ڈینیل ایک پیشہ ورکیمرا مین تھا جب کہ جیف ابراہیم شو کا میزبان اور سفری راہنما (ٹریول گائیڈ) تھا۔ کیمرے کے سامنے وہی اپنے الفاظ مہارت سے استعمال کرتے ہوئے ناظرین کی دل چسپی کو برقرار رکھتا تھا۔ اس کی گمبھیر آواز میں تہوار سے متعلق سنائی جانے والی تاریخ اور کہانیاں اس کے ناظرین کو بور اور بیزار نہیں ہونے دیتے تھے۔ پچھلے دو سالوں میں وہ اٹلی اور اسپین میں منعقد ہونے والے بہت سے تہوار اور میلے فلم بند کر چکے تھے۔ وہ تینوںبھرپور محنت اور لگن سے اپنا اپنا کام کرتے تھے یہی وجہ تھی کہ بہت تھوڑے عرصے میں ان کا پروگرام شہرت کی بلندیوں کو پہنچ چکا تھا اوران کے مداحوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا تھا۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد فیس بک اور ٹویٹر پر انہیں اور ان کے پروگرام کو ”فالو” کرتی تھی۔ ان کی یہی کوشش رہتی کہ منفرد اور دل چسپ دستاویزی فلموں سے اپنے ناظرین کی معلومات میں اضافہ کریں۔
    ساتھی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ تینوں اچھے دوست بھی تھے۔ سال کا زیادہ تر حصہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہی گزارتے۔ اس لیے کافی بے تکلف تھے۔ بالخصوص پیٹر اورڈینیل کی دوستی مثالی تھی۔ دونوں ہی شوخ مزاج، زندہ دل، سیاحت اور پر ہمت مہمات کے شوقین تھے۔ ہاں جیف ابراہیم ان سے کچھ مختلف تھا۔ ایک تو وہ ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے ان کی ٹیم میں شامل ہوا تھا دوسرا وہ فطرتاً خاموش اور سنجیدہ مزاج تھا۔ وہ اس دوستی کو اہمیت ضرور دیتا تھا مگر ہمیشہ ایک حد میں رہتے ہوئے اور وہ دونوں اس کی فطرت اور مزاج کا احترام کرتے تھے۔ پچھلے سات آٹھ ماہ سے وہ اسپین کے ٹور پر تھے۔ انوکھے اور حیرت انگیز تہواروں سے بھری اس سرزمین پر انہوں نے اپنی زندگی کے بہت سے یادگار دن گزارے تھے۔ اس سرزمین میں بسنے والوں کی طرح انہوں نے بھی ہر منفرد اور دلچسپ تہوار میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ چاہے وہ سنسنی خیز بل رننگ ) running bull ( فیسٹیول ہو یا پھر منفرد ترین نیئر ڈیتھ (near death) فیسٹیول یا بے مثال لاس فیلاس fallas) las ( کا میلا۔ اپنے اس تفریحی سفر کو انہوں نے اسپنش لوگوں کی طرح ہی گزارا تھا۔ہر انوکھے تہوار سے انوکھی خوشی کشید کر، مگر اب ان کا یہ سفر اپنے اختتام کو پہنچا تھا۔ اگلے ہفتے وہ ایک نئی منزل کی طرف سفر شروع کرنے والے تھے اور ان کا اگلا پڑاؤ لوک داستانوں کی سرزمین پر تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”تمہارا اس ہفتے کا شو دیکھا میں نے بہت زبردست تھا ہمیشہ کی طرح۔” ایملی نے مشروب کا گھونٹ لیتے ہوئے ایک بار پھر تعریفی جملہ کہا۔ پچھلے ایک گھنٹے میں اس طرح کے بہت سے جملے وہ متعدد بار بول چکی تھی۔ ایک دو بار تو اس نے مسکرا کر شکریہ ادا کر دیا، مگر اب اسے ان مصنوعی تعریفی کلمات سے الجھن ہو رہی تھی۔ اس لیے اس بار اس نے صرف سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا۔
    ” یہ آسمانی بلو شرٹ بہت جچ رہی ہے تم پر۔”اف ایک بار پھر تعریفوں کا جال بنا جا رہا ہے۔ اس نے کوفت سے سوچا۔
    وہ اس وقت پیٹر کے گھر الوداعی ڈنر میں آیا ہوا تھا جو پیٹر کی بیوی کرسٹی نے ان تینوں کے نئے سفر کے سلسلے میں رکھا تھا۔ اس سمیت صرف ڈینیل اور اس کی منگیتر نینسی اور کرسٹی کی بہن ایملی ہی یہاں مدعو تھے۔ کھانے کے بعد سب لوگ باتوں میں مشغول تھے اور وہ ہمیشہ کی طرح الگ تھلگ سا بیٹھا نیوز سن رہا تھا جب ایملی اس کے برابر آ کر بیٹھ گئی۔
    ” اتنے سنجیدہ اور بے رنگ کیوں ہو تم؟” کوئی جواب نہ پا کر اب کہ اس نے جھنجھلا کر پوچھا اور اس کے مزید نزدیک ہو گئی یوں کہ اب اس کا نیم عریاں کندھا جیف کے چوڑے شانے سے مس ہو رہا تھا۔
    ” پلیز مجھے یہ سب پسند نہیں۔” اس نے دھیمی آواز میں اسے تنبیہ کی تو وہ مسکرا کر تھوڑی پرے ہٹ گئی۔
    ” بس تمہاری ایسی باتوں نے تو مجھے تمہارا دیوانہ بنا دیا ہے۔ ورنہ آج کل کون ایسا مضبوط کردار رکھتا ہو گا؟” اس نے معنی خیز مسکراہٹ سجا کر کہا، تو جیف بے بسی سے لب بھینچ گیا۔ دوست کی بیوی ہونے کی حیثیت سے وہ کرسٹی کی بہت عزت کرتا تھا اور اسی کی وجہ سے وہ ایملی کو کوئی سخت بات نہیں کہنا چاہتا تھا، مگر اب وہ اس لڑکی کی بے باک حرکتوں اور باتوں سے تنگ آ چکا تھا۔ نہ جانے کس طرح پہلی ملاقات ہی سے ایملی اس میں دل چسپی لینے لگی تھی۔ ایک دو مرتبہ تو وہ اس سے اظہار محبت بھی کر چکی تھی جسے وہ بے نیازی سے ان سنی کرگیا تھا۔ جیف کو ایملی سمیت کسی بھی لڑکی میں کوئی دل چسپی نہیں تھی کیوں کہ وہ بہت اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ لڑکیاں کس طرح کی فطرت رکھتیں ہیں۔ اسے ادراک تھا کہ ان تمام کو جیف کی اپنی ذات سے زیادہ اس کی دولت اور شہرت میں دل چسپی ہے۔ اسے اپنے ساتھ پارٹیز میں لے جا کر اپنی دوستوں کو جلانے اور حسد میں مبتلا کرنے کا خبط ہے۔اپنے نام کو اس کے نام کے ساتھ جوڑ کر اپنی برتری دنیا پر ثابت کرنے کا جنون ہے اور یہ سب سوچنے میں وہ حق بہ جانب تھا کیوں کہ اس معاملے میں اس کے تجربات کافی تلخ رہے تھے۔
    ” جیف یار کہاں گم ہو؟” ماضی کی چبھتی یادوں سے چونک کر وہ ڈینیل کی طرف متوجہ ہوا جو اسی سے مخاطب تھا۔
    ” تم نے جواب نہیں دیا نینسی کے سوال کا؟”
    ” کیسا سوال؟”’وہ سنبھل کر گویا ہوا۔
    ” یہی کہ اس ٹیم میں بس تم ہی چھرے چھانٹ ہو۔ دنیا کی کسی ایک لڑکی کو تو مسز جیف ابراہیم ہونے کا شرف بخش دو۔” ڈینیل شرارتی لہجے میں بولا۔
    ” نہیں میرا کوئی ارادہ نہیں کسی کو بھی مسز ” جیف” بنانے کا۔” اس نے اپنے نام پر بالخصوص زور دیتے ہوئے بلا کی سنجیدگی سے اپنا ارادہ ظاہر کیا۔ اس کے جواب پر پیٹر اور ڈینیل کے مابین معنی خیز نظروں کا تبادلہ ہوا۔آج ایک بار پھر انہیں اس کے لہجے میں کچھ غیر معمولی پن محسوس ہوا تھا جو لاشعوری طور پر کبھی نہ کبھی اس کے انداز اور باتوں سے جھلک ہی جاتا تھا۔
    ” کیوں ؟” کرسٹی نے ایملی کو ایک نظر دیکھ کر پر سوچ انداز میں پوچھا ۔
    ” بس ابھی کوئی ایسا ارادہ نہیں۔ جب ہو گا تو آپ لوگوں کو ہی بتاؤں گا سب سے پہلے۔” ایک بار پھر بے نیازی کا خول چڑھا کر اس نے جان چھڑانا چاہی۔
    ” وہیں سے کوئی ڈھونڈ لینا اپنے لیے۔ وہاں کے میچ میکنگ فیسٹیول کی دھوم پوری دنیا میں ہے۔” نینسی کے مخلصانہ مشورے پر وہ مبہم سا مسکرایا۔
    ”ہاں ہاں بالکل ہم دونوں اس کی بھرپور مدد کریں گے ۔کیوں پیٹر ؟”ڈینیل نے پیٹر کی تائید چاہی تو اس نے فوراً حامی بھری۔
    ” اور ہاں جیف دھیان رکھنا کہیں تمہاری آڑ میں یہ دونوں وہاں اپنی میچ میکنگ نہ کرنے لگیں۔” نینسی نے اسے چوکس رہنے کو کہا، تو اس سمیت ڈینیل اور پیٹر بھی مسکرا دیے۔ کرسٹی اب مسلسل ایملی کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کر کے سمجھا رہی تھی کہ جیف ابراہیم پر وقت برباد کرنا چھوڑ دو۔
    اپنے منفی تجربات کی بنا پر جیف نے مصمم ارادہ کر رکھا تھا کہ وہ کبھی کسی لڑکی کو موقع نہیں دے گا اپنے قریب بھی پھٹکنے کا،مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ مستقبل قریب میں اس کا واسطہ ایک ڈھیٹ اور منچلی لڑکی سے پڑنے والا تھا۔ایک ایسی لڑکی جو اس کے مضبوط ارادوں کو توڑ کر رب کی قدرت کاملہ اور اٹل فیصلوں کی پہچان کرانے اس کی زندگی میں قدم رکھنے والی تھی۔
    ٭…٭…٭

  • چہرہ — اعتزاز سلیم وصلی

    چہرہ — اعتزاز سلیم وصلی

    ڈھولک بج رہی تھی۔ پورے گھر میں شور مچا ہوا تھا۔ کیوں نہ ہوتا؟ آج اس کی یعنی گھر کے اکلوتے بیٹے شہزاد کی مہندی سجائی جارہی تھی۔ شہزاد جس کے نام میں ماں اکثر ‘ہ ‘کااضافہ کرکے اسے”شہزادہ”کہتی تھی اور اس وقت ماں کے شہزادے کو اس کے دوستوں نے گھیر رکھا تھا۔ اس سب رونق میلے میں شہزاد کا دل بالکل نہیں لگ رہا تھا، مگر دنیا کی رسموں کو نبھانا تو تھا۔ سو چپ چاپ دوستوں کی باتوں کو سن کر لبوں سے مسکرانے کی کوشش کررہا تھا، لیکن آنکھوں میں ابھی بھی اداسی تھی۔
    ”شہزاد ویسے ایک بات ہے تیری شادی کا سن کر میں بڑا اُداس ہوں۔” اکبر نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
    ”کیوں شہزاد کون سا تیری منگیترسے شادی کررہا ہے؟” اکبر کے ساتھ کھڑے وسیم نے اس پر چوٹ کی۔ وہ غصے سے اسے گھورنے لگا۔
    ”یار میں اس لیے اُداس ہوں کہ ہمارا پیارا شہزاد اب جب بھی بازار میں ملے گا اور ہم اسے اسنوکر کھیلنے کی دعوت دیں گے، تو یہ کچھ اس طرح کے بہانے بنایا کرے گا، ارے آج تمہاری بھابی نے میکے جاناہے، آج منے کے پیمپر لے کر گھر جلدی جانا ہے۔ چھوٹی کا دودھ ختم ہو گیا ہے وہ لینا ہے۔” اس کی بات سن کر سب ہنس پڑے۔
    ”ویسے شہزادہ کچھ کچھ اُداس لگ رہا ہے۔ کہیں فیس بک والی تو یاد نہیں آرہی؟” وسیم نے اس کی بے زاری محسوس کرلی تھی شاید۔
    ”ارے نہیں، شہزادہ ایسی چیزیں ٹائم پاس کرنے کے لیے کرتا ہے۔ ویسے تھی بڑی پیاری۔ ایک دو تصاویر میں نے بھی دیکھی تھیں۔” اکبر نے آنکھ دبا کر اپنے مخصوص انداز میں جواب دیا۔ اس کے چہرے کی رنگت بدل چکی تھی۔
    ”کیا ہوا شہزادے؟”وسیم نے پوچھا۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا اور چپ چاپ گھر کے اندر چلا گیا۔ زنانہ حصے میں امی مہمان عورتوں میں گھری اپنی ہونے والی بہو کے حسن کے قصیدے پڑھ رہی تھیں۔ اس کے اشارے پر اُٹھ کر باہر آئیں۔
    ”کیا بات ہے شہزادے؟”
    ”امی مجھے یہ شادی نہیں کرنی۔” اس کی بات سن کر انہوں نے حیران نظروں سے اسے دیکھا۔ چند لمحوں کے بعد ان کے منہ سے اس کی توقع کے عین مطابق الفاظ برآمد ہوئے۔
    ”کیا بکواس کررہا ہے شہزادے؟ہوش میں تو ہے؟”
    ”بس مجھے یہ شادی نہیں کرنی۔یہ مہندی وغیرہ کی رسم کرنی ہے تو کرلیں۔ کل میں سب کے سامنے اعلان کردوں گا ابھی میں کہیں جارہا ہوں۔”یہی کہتا ہوا وہ گیٹ کی طرف بڑھا۔
    ”شہزادے، میری بات سن شہزادے۔” امی نے پکارا۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ گھر میں ہوئی لائٹنگ کی زرد روشنیوں میں امی کا چہرہ بھی زرد دکھائی دیا۔
    ”اگر تم نے کوئی ایسی ویسی حرکت کی تو میرا مرا ہوا منہ دیکھے گا یاد رکھنا۔ میں بھی تیری ماں ہوں۔” یہ کہہ کر وہ اندر چلی گئیں۔ ان کی دھمکی نے اس کے قدم جکڑ لیے تھے۔ کچھ دیر وہ وہیں کھڑا رہا پھر چپ چاپ گیٹ سے باہر آگیا۔ کچھ دیر بعد وہ سب دوستوں کو حیران چھوڑ کر وسیم سے بائیک مانگ کر گھر سے کوئی چالیس کلومیٹر دور شہر میں خواتین کے ایک ہوسٹل کی طرف بڑھ رہا تھا۔لوگ حیرانگی سے اسے دیکھ رہے تھے جس کی آج رات مہندی تھی، مگر وہ کہیں اور جارہا تھا۔
    ٭…٭…٭

    اچھے وقت کی امید میں برا وقت صبر سے گزارنا بھی بہادری کاکام ہے اور یہ کام زبیدہ خاتون اور اس کی بیٹی شاہین نے خوب کیا۔ تین بھائیوں کی اکلوتی بہن، زبیدہ بچپن سے جوانی تک ضرور لاڈ پیار میں پلی بڑھی تھی، مگر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی یہ لاڈ پیار کہیں گم ہو گیا۔ جب صرف ایک ماہ کے وقفے سے اس کی ماں اور باپ چل بسے۔ بھائیوں اور بھابھیوں نے بوجھ سے نجات حاصل کرنے کا وہی پرانا طریقہ اپنایا جسے آج بھی لوگ ذمہ داری نبھانا کہتے ہیں یعنی صرف سترہ سال کی عمر میں زبیدہ کی شادی کردی۔ کم عمری کی شادی اور وہ بھی اپنے سے دوگنا عمر کے شوہر کے ساتھ۔ کب تک گزارا ہوتا؟اقبال ایک شکی مزاج شخص تھا جس کے خیال میں محلے کا ہر لڑکا زبیدہ پر عاشق ہے اور اس میں زبیدہ کی ناز و ادا کا قصور ہے۔ زبیدہ کا صبر اور ایک مشرقی بیوی ہونے کے ناتے گھر بنانے کی یہ جدوجہد آٹھ سال تک چلی۔ گود میں ایک بیٹی لیے اور ماتھے پر طلاق کا دھباسجائے آٹھ سال بعد جب وہ واپس اپنے اذیتوں بھرے سفر کے اختتام پر ملنے والی منزل پر پہنچی تو یہ وہی جگہ تھا جہاں سے اس کا سفر شروع ہوا تھا۔ ابا کی حویلی اب تین حصوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔اس کے حصے میں نوکروں کے لیے بنایا گیا کمرا آیا۔طلاق کی کوئی خاص وجہ نہ تھی۔اقبال کے خیال میں زبیدہ کی بیٹی شاہین بھی بڑی ہو کر ماں پر جائے گی اس لیے اس ‘غیرت مند’ شخص نے ایسی ”بے شرم”بیوی کو طلاق دے دی جس نے بیٹی پیدا کی تھی۔بھائیوں سے کچھ امید تھی تو صرف روٹی ،کپڑااور مکان کی۔ جوبمشکل پوری ہوئی۔ وقت گزرا۔ شاہین پانچ سال کی ہوگئی۔ اسکول میں داخلے کا مسئلہ پیش آیا۔ زبیدہ نے گاؤں کی عورتوں کے کپڑے سینے شروع کر دیے۔ خدا نے اس کی محنت میں برکت ڈالی۔ کچھ پیسے ہاتھ آئے تو ننھی شاہین بھی اپنے کزنز کی طرح اسکول جانے لگی۔ پڑھنے میں تیز تھی وہ۔ کچھ اپنے حالات کا احساس بھی اس کے معصوم سے دماغ میں تھا۔ نو سال کی عمر میں پرائمری پاس کرنے کے بعد وہ شہر کے ہائی اسکول میں آگئی۔یہاں زبیدہ کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔اس کے بھائی اپنی بھانجی کو باقی خاندان کی لڑکیوں کی طرح گھر بٹھانا چاہتے تھے۔ لڑکیوں کو زیادہ تعلیم دلوانے کا رواج نہ تھا، لیکن زبیدہ ڈٹ گئی اور بھابھیوں سے”بے شرم”ہونے کا خطاب حاصل کرنے کے باوجود بیٹی کو پڑھنے شہر بھیج دیا۔ شہر لے جانے والی وین کا کرایہ اور باقی تعلیمی اخراجات وہ خود برداشت کررہی تھی۔ محنت کے ساتھ ساتھ اس کے ہاتھ میں صفائی آگئی اور وہ شاہین کے مشورے سے نت نئے ڈیزائن کے کپڑے بنانے لگی جس سے آمدنی میں اضافہ ہوا۔ لوگوں کے طعنے، باتیں اور بہت کچھ برداشت کرنے کے بعد اس نے صرف ایک بات سوچی تھی۔ ”شاہین کو کچھ بنانا ہے۔”شاہین نے میٹرک میں شاندار کامیابی حاصل کی اور پورے اسکول میں دوسرے نمبر پر رہی۔ اب اسے کالج جانا تھا۔ اس بار زبیدہ پر دباؤ زیادہ پڑا۔ بڑے ماموں کسی صورت بھی شاہین کو کالج داخلہ نہیں کرانا چاہتے تھے، مگر زبیدہ کے ساتھ شاہین بھی ڈٹ گئی اور کالج میں داخلہ لے لیا۔بڑوں کی مرضی کے خلاف کیا گیایہ فیصلہ درست رہایا غلط اس کا بات کا فیصلہ صرف دو ماہ بعد ہو گیا تھا۔ زبیدہ اور شاہین کا مقصد تو نیک تھا، مگر کچھ لوگوں کے ساتھ ان کی بدقسمتی سفر کرتی رہتی ہے اور یہ کبھی تھکتی نہیں۔
    ٭…٭…٭
    شہزاد کی موٹر سائیکل ہوا سے باتیں کررہی تھی۔وقت تیزی سے گزررہا تھا۔ٹھنڈی ہوا اس کے جسم سے ٹکرا رہی تھی، مگر وہ پچھلے چھے ماہ کی باتیں یاد کررہا تھا۔ گزرا وقت کسی فلم کی طرح اس کے دماغ میں چل رہا تھا۔
    ان دنوں وہ ایم اے کے ایگزامز کے بعد فری تھا۔شہزاد کے والد عباد احمد کی مین مارکیٹ میں تین دکانیں تھیں جن کو سنبھالنے کے لیے ملازمین تھے۔ اس لیے شہزاد کی زندگی بے فکری سے گزر رہی تھی۔ اکلوتا بیٹا ہونے کی وجہ سے اسے لاڈ پیار سے پالا گیا تھا، مگر وہ بگڑا نہ تھا بلکہ ایک سلجھے مزاج کا سنجیدہ جوان تھا جو زندگی کی پریشانیوں سے دور تھا۔انہی دنوں زندگی اسے مصنوعی دنیا میں لے گئی۔ فیس بک کا شوق اسے وسیم سے لگا تھا، مگر یہ شوق جنون اختیار کر گیا کیوں کہ فیس بک پر اس کے ہم مزاج لوگ مل گئے تھے۔ ایک دو جو اسی کے شہر کے تھے۔ ان سے وہ ملاقات بھی کرچکا تھا۔
    وہ ادب سے متعلق بنائے گئے ایک گروپ میں ایڈ تھاجس میں سب لوگ اپنی لکھی تحریریں،شاعری اور مضامین شیئر کرتے تھے۔ اس گروپ میں مختلف قسم کے مقابلے بھی ہوتے تھے جن میں وہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا۔ اسے شاعری کا شوق تھا۔خود بھی ٹوٹے پھوٹے الفاظ جوڑ کر انہیں شاعری کی شکل دیتا رہتا تھا۔ ایسے ہی ایک مقابلے میں، جس میں اپنے شعر کمنٹ کرنے تھے،اس کی پہلی پوزیشن آئی اور انعام میں ایک ناول ملا۔اس رات وہ کھانا کھانے کے بعد جیسے ہی آن لائن ہوا۔ اس کے میسنجر پر میسج ریکویسٹ آئی پڑی تھی۔یہ گروپ ہی کی ایک لڑکی تھی جس کا نام اس کی نظروں سامنے کئی بارگزرا تھا۔ اس نے کچھ سوچ کر میسج ریکویسٹ قبول کی ۔تھوڑی دیر بعد دوبارہ میسج ٹیون بجی۔
    ”السلام علیکم شہزاد صاحب،کیسے مزاج ہیں؟”
    ”وعلیکم السلام، میں ٹھیک ہوں۔ اللہ کا شکر ہے،آپ سنائیں؟”یہ پہلا موقع تھا کہ وہ فیس بک کی کسی لڑکی سے بات کررہا تھا ورنہ فیک آئی ڈی اور لڑکوں کے جنس تبدیل کرنے والی صلاحیت کے ڈر سے اس نے کبھی کسی لڑکی کی فرینڈ ریکویسٹ قبول کی تھی نہ میسج کا جواب دیا تھا۔ رسمی کلمات کے بعد شازیہ نام کی اس لڑکی نے اپنے میسج کرنے کا مقصد بیان کیا۔
    ”میں آپ سے شاعری سیکھنا چاہتی ہوں۔”
    ”مجھ سے؟”وہ ہنس پڑا۔
    ”جی آپ سے۔”
    ”ارے نہیں، مجھے شاعری نہیں آتی۔ یہ مقابلوں وغیرہ میں ٹوٹے پھوٹے الفاظ جوڑ لیتا ہوں ورنہ مجھے نہیں آتی شاعری۔” اس نے سچ بولا تھا مگر شازیہ ضد پر اڑ گئی۔
    ”پلیز نہ مت کریں۔مجھے شاعری کا شوق ہے۔اپنا درد لفظوں میں سمیٹنا ایک صلاحیت ہے جو بہرحال آپ میں ہے مجھے بھی سکھا دیں تھوڑا بہت۔”شہزاد جھنجلا گیا۔
    ”مگر جب مجھے کچھ آتا نہیں تو سکھاؤں گا کیسے؟”
    ”جیسے خود الفاظ جوڑ لیتے ہیں، مجھے بھی سکھا دیں ایسے ہی۔”وہ پکاارادہ کرکے آئی تھی شاید۔ شہزاد کو ہاں بولتے ہی بنی لیکن جلد اسے اندازہ ہو گیا شازیہ کا مقصد شاعری سیکھنا ہرگزنہ تھا۔وہ صرف اچھا وقت گزارنا چاہتی تھی۔ شاید تنہائی کا شکار تھی۔ میسج چیٹ کے بعد دونوں میں موبائل نمبرز کا تبادلہ ہو گیا۔یوں شہزاد کی زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی نے قدم رکھا ورنہ وہ سنجیدہ مزاج کا تھا،اس کی ایک عدد منگیتر خاندان میں موجود تھی جس سے کبھی اس نے کال پر بات نہ کی تھی، لیکن شازیہ اس کی زندگی میں رنگ لے آئی تھی۔ مصنوعی دنیا کے ذریعے ایک حقیقی رشتہ بن چکا تھا۔ وہ اسے اپنی تصویریں دکھا چکی تھی۔ وہ واقعی خوبصورت لڑکی تھی۔ شہزاد نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے ساتھ جڑتا جا رہا تھا۔
    ٭…٭…٭
    دنیا جس دن بنائی گئی تھی اس دن ایک لفظ بھی زمین پر اترا تھا۔”غلط فہمی”معمولی سی غلط فہمی اور بڑی لڑائیاں۔معمولی سی غلط فہمی اور کئی زندگیاں تباہ۔ایسی ہی ایک غلط فہمی نے شاہین اور زبیدہ کی زندگی کے درست جاتے راستے کو غلط سمت پر ڈال دیا تھا۔
    اس دن شاہین کالج سے چھٹی کے بعد سڑک کنارے کھڑی وین کا انتظار کررہی تھی۔ اس کے چہرے پر حسب معمول نقاب تھاجس میں سے اس کی سیاہ آنکھیں جھانک رہی تھیں۔ اچانک اس کے پاس ایک بائیک آکر رکی۔ اس پر سوار دو لڑکوں میں سے پیچھے بیٹھے لڑکے کے ہاتھ میں بوتل تھی۔ اس نے بوتل کا ڈھکن کھولا اور ایک جھٹکے سے بوتل میں موجود سیال اس کے چہرے پر اچھال دیا۔ اس نے چہرہ بچانے کی غیرارادی کوشش کی اور رخ پھیر لیا، مگر ہونٹ سے نیچے ٹھوڑی اور گردن کا کچھ حصہ تیزاب کی زد میں آگیا۔ نقاب اس کے چہرے سے اتر چکا تھا۔ جل جانے کے خوف اور جلن سے اس کے حلق سے چیخیں نکلیں۔آخری الفاظ جو اس نے سنے تھے وہ بائیک چلانے والے لڑکے کے تھے جس نے کہا تھا۔
    ”ارے یہ کوئی اور ہے۔”خوف کی شدت تھی یا تکلیف کا احساس۔وہ گری اور بے ہوش ہوگئی۔
    اسے ہوش آیا تو وہ ہسپتال میں تھی۔ چہرے کا نچلا حصہ جل چکا تھا اور چہرے پر ایک انمٹ داغ بن چکا تھا۔ چہرے کا داغ تو شاید برداشت ہو جاتا، مگر گاؤں میں اس کے جلنے کی خبر، جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور یہ خبر اس کے کردار پر داغ بن چکی تھی۔ ہر شخص کی زبان پر ایک ہی قصہ تھا اور ایک ہی کہانی۔ شاہین کا کسی لڑکے کے ساتھ چکر تھا جسے دھوکا دیا اور نتیجے میں اس کے منہ پر تیزاب پھینک دیا گیا۔ہسپتال سے اسے زبیدہ گھر لے گئی۔ماں کا رویہ بھی عجیب تھا۔کبھی اس سے ضرورت کے وقت بات کرتی ورنہ چپ رہتی۔آخر شاہین نے ہمت کرکے پوچھ لیا۔
    ”امی آپ مجھ سے ناراض ہیں؟”۔زبیدہ نے خاموش نظروں سے اسے دیکھا۔چند لمحوں بعد جب اس نے سوال دہرایا تو وہ بولی۔
    ”تم نے کیوں میری عزت کی دھجیاں اڑا دیں شاہین؟”وہ ساکت رہ گئی۔
    ”مگر امی میں نے کیا کیا ہے؟”
    ”تیرے چہرے پر یہ تیزاب اس لڑکے نے اس لیے پھینکا ہے نا کہ تو نے اسے چھوڑ کر کسی اور سے چکر چلا لیا تھا؟”زبیدہ کے منہ سے نکلنے والے الفاظ کئی دنوں کے غصے کا نتیجہ تھے۔وہ چیخی۔
    ”امی! میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔کس نے کہا آپ سے؟”
    ”سارا گاؤں کہہ رہا ہے شاہین۔تیرے ساتھ جانے والی لڑکیاں بھی کہہ رہی ہیں۔” اسے یقین نہیں آرہا تھا۔اس نے ماں کو تیزاب پھینکنے والے لڑکے کے آخری الفاظ بتائے۔
    ”اماںوہ کسی اور پہ پھینکنے آئے تھے۔”دونوں ماں بیٹی کی باتیں جاری تھیں کہ کسی نے کمرے کے دروازے پہ دستک دی۔زبیدہ نے دروازہ کھولا۔ سامنے اس کا بڑا بھائی صدیق کھڑاتھا۔
    ”تم دونوں ماں بیٹی یہاں سے دفع ہو جاؤ۔ ہمارے گھر میں بے شرموں کے لیے جگہ نہیں۔ ایک طلاق لے کر گھر بیٹھ گئی دوسری شہر میں لڑکوں سے چکر چلاتی ہے۔ میں نے کہا تھا نا اس کو نہ بھیج کالج۔اب دیکھ لے اس کے کارنامے۔” اس کی زہر اگلتی زبان نے زبیدہ کو گنگ کردیا۔وہ کچھ دیر خاموش کھڑی باتیں سنتی رہی اچانک اس کے سینے کے بائیں جانب درد اٹھااور نیچے گرگئی۔شاہین چیختی ہوئی ماں کی طرف بڑھی۔ صدیق باتیں سنا کر واپس چلا گیا اور بہن کی حالت نہ دیکھ سکا۔ کمرے میں شاہین کی چیخیں گونج رہی تھیں۔ وہ بھاگ کر باہر گئی۔ چھوٹے ماموں کا کمرہ نزدیک تھا۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔
    ”چھوٹے ماموں،چھوٹے ماموں”۔اندر سے ممانی باہر آئی۔
    ”کیا بات ہے کیوں چیخ رہی ہے منحوس۔ ایک تیری وجہ سے سکون برباد ہوا ہے اب کیا سونے بھی نہیں دے گی؟”
    ”ممانی! امی کو دیکھیں انہیں کچھ ہو گیا ہے۔”وہ ان کی باتیں نظرانداز کر کے بولی۔ اس کے آنکھ سے آنسو روانی کے ساتھ بہ رہے تھے۔
    ”اب کیا نیا ڈراما کر دیا زبیدہ نے۔”وہ بڑبڑاتی ہوئی اس کے ساتھ ان کے کمرے میں گئی جہاں زبیدہ شاہین کو اس دنیا میں تنہا چھوڑ کر اپنے خالق کی جانب لوٹ گئی تھی۔شاہین چیختی رہی، مگر اس کے سرپر ہاتھ رکھنے کے لیے کوئی نہ آیا۔
    ٭…٭…٭

  • محبت ہوگئی تم سے — تنزیلہ یوسف

    محبت ہوگئی تم سے — تنزیلہ یوسف

    رات کا جانے کون سا پہر تھا حلق میں کانٹے چبھتے محسوس ہوئے۔ نیند میں سائیڈ ٹیبل پر ہاتھ مارا تو کچھ ہاتھ نہ آیا۔”آج ہی پانی رکھنا بھول گئی اور آج ہی پیاس بھی لگ گئی۔” کمبل پیچھے ہٹایا اور شال لپیٹتی کمرے سے نکلی تو دل دھک سے رہ گیا۔ سامنے والے کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور لائٹ بھی آن تھی۔ یوں جیسے کوئی ابھی ابھی اٹھ کر باہر نکلا ہو۔
    ”ارے یہ کیسے کھلا رہ گیا؟” خود سے سوال کیا اور اگلے پل سر جھٹکتی راہ داری کے کونے کی جانب بڑھ گئی۔
    ”یہ… خالہ آج کچن کی لائٹ بند کرنا بھول گئیں۔ میں آج جلدی سوگئی تو خالہ بھی بھول گئیں۔ یہ آج سب کچھ اتنا عجیب سا کیوں لگ رہا ہے؟ آس پاس جیسے کوئی مانوس سی خوش بو پھیلی ہو۔” خود سے باتیں کرتے کرتے راہ داری عبور کی مگر جیسے ہی اندر کی جانب مڑی تو بے اختیار اس کی چیخ نکل گئی۔
    ”میرو…”
    ٭…٭…٭
    ”امی ! گل ہمارے ساتھ ہی رہے گی؟” شہریار نے پھر سے وہی سوال دہرایا جو وہ اس سے پہلے بھی کئی بار پوچھ چکا تھا اور صفیہ نے بہتے آنسو پونچھے اور اسے ساتھ لگاتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
    ”یہ امی اتنا کیوں رو رہی ہیں؟ خالہ خالو اللہ میاں کے پاس ہی تو گئے ہیں۔” شہریار نے خود سے سوال کیا لیکن اس سوال کا اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔
    ٭…٭…٭

    رضیہ اور عمران کو اس دنیا سے گئے دوسرا دن تھا جب آٹھ سال کی گل کا ہاتھ یہ کہہ کر اس کی خالہ کے ہاتھ میں دے دیا گیا کہ خالہ بھی تو ماں جیسی ہوتی ہے۔ اب گل اپنی صفیہ خالہ کے ساتھ رہے گی اور صفیہ نے گل کو بہن ، بہنوئی کی نشانی سمجھ کر سینے سے لگا لیا۔
    ”بڑے ہی بدنصیب ہیں جنہوں نے یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنے کی بجائے اسے بوجھ سمجھ کر اتار پھینکا۔ بیٹیاں بھی بھلا بوجھ ہوا کرتی ہیں؟”اظہار سخت متاسف تھے۔ بیوی کی طرح وہ بھی کھلے دل کے تھے۔ گل کے سر پر دستِ شفقت رکھتے بولے۔
    ”آوؑ کھیلیں۔” شہریار گل سے دو سال ہی بڑا تھا۔ جب سے گل یہاں آئی تھی۔ اسے اپنی یہ بڑی بڑی آنکھوں اور بھیگی پلکوں والی کزن خاصی دل چسپ لگی۔ پھر اکلوتا ہونے کے سبب کوئی ساتھ کھیلنے والا نہ ہوتا جس پر کبھی کبھی وہ اداس ہو جاتا تھا لیکن اب کھیلنے کے لیے اسے ساتھی مل گئی تھی جس پر وہ بہت خوش تھا۔ اب بھی اسے کھیلنے کا کہا۔
    ”نہیں! میں نہیں کھیلوں گی۔”گل کا لہجہ بھیگا ہوا تھا۔
    ”کیوں؟”شہریار کو اس کے انکار پر حیرت ہوئی۔
    ”مجھے امی! بابا یاد آرہے ہیں۔”
    ”اچھا نہ کھیلو، میرے ساتھ تو آوؑ تمہیں کچھ دکھانا ہے۔” گل کو خبر بھی نہیں ہوئی کہ کب وہ رونا بھولی، آنکھوں میں حیرت کا جہاں لیے اب ان جگنوؤں کو دیکھ رہی تھی جو شہریار نے بوتل میں قید کررکھے تھے۔
    ”تم نے انہیں بند کیوں کیا ہے؟ اس طرح تو یہ مرجائیں گے۔” ایک دم سے کچھ یاد آنے پر وہ خوف زدہ ہوتے ہوئے بولی۔
    ”یہ دیکھو میں نے بوتل کے ڈھکن پر چھوٹے چھوٹے کئی سوراخ کردیے ہیں تاکہ یہ دم گھٹنے سے مر نہ جائیں۔ میں انہیں رات میں موتیے کی باڑ پر آزاد کرکے انہیں چمکتا دیکھوں گا۔” شہریار کی آنکھیں اس منظر کا سوچ کر ہی چمکنے لگیں۔
    ”ہاں یہ ٹھیک ہے۔”گل نے اطمینان کا سانس لیتے ہوئے کہا۔
    ”اچھا یہ بتاؤ تمہارا نام شہریار ہے نا، کس نے رکھا تھا؟”اب دونوں صحن سے اوپر چھت کی طرف جاتی سیڑھیوں پر بیٹھے تھے کہ گل نے ہتھیلی پر ٹھوڑی ٹکاتے پوچھا۔
    ”امی نے۔ لیکن ابو نے ساتھ ”امیر”بھی لگادیا، ایسے میرا نام ہوا ”امیرِ شہریار!”
    ”یہ کیا عجیب سا نام ہوا امیرِ شہریار، گل کو اس کا نام سن کر اچنبھا ہوا۔
    ”ہاں ہے تو عجیب لیکن مجھے اچھا لگتا ہے اپنا نام۔ اسکول میں مس مجھے پورے نام سے بلاتی ہیں تو ایسا لگتا ہے میں بہت خاص ہوں، میرے دوست مجھے ”شیری”کہتے ہیں۔” شہریار کے لہجے میں تفاخر تھا۔
    ”میں بھی تمہیں شیری کہہ سکتی ہوں؟” گل نے جھجکتے ہوئے پوچھا ۔
    ”نہیں!” شہریار کے فوراً سے پیشتر جواب نے اسے حیران کردیا، لیکن اس کے بعد اس نے جو کہا اس نے گل کو بے حد سرشاری میں مبتلا کردیا تھا۔
    پھر ایسا ہر بار ہونے لگا۔ شہریار جب بھی گل کو اداس بیٹھا دیکھتا، کسی نہ کسی طرح اس کی توجہ کسی دوسری طرف مبذول کرادیتا۔ کب دونوں نے شعور کی وادی میں قدم رکھے کچھ پتا نہ چلا۔ اتنا ضرور ہوا تھا کہ اب شہریار گل کا سامنا کرتے کچھ ہچکچاہٹ کا شکار رہتا۔ بچپن کی انسیت کی پھوٹتی کونپل اب کسی تناور درخت کے مانند اس کے رگ و پے میں اپنی جڑیں پھیلا چکی تھی۔
    ”کیا وہ بھی میرے بارے میں ایسا ہی سوچتی ہے؟ اگر نہیں …تو ؟”اس سے آگے وہ کچھ سوچ نہ پاتا اور یہی سوچ اسے گل کے روبرو لانے سے روکتی تھی۔
    ٭…٭…٭
    اظہار اور صفیہ وقت آنے پر گل اور شہریار دونوں کو ایک بندھن میں باندھنے کا سوچے بیٹھے تھے۔ شہریار ابھی میٹرک میں ہی تھا کہ اظہار کا انتقال ہوگیا۔ وہ جو انجینئرنگ کالج میں جانے کا خواب دیکھا کرتا تھا، باپ کی وفات کے بعد بہت سوچ سمجھ کر ایک ٹیکنیکل کالج سے آٹو الیکٹریشن کے ڈیڑھ سالہ کورس میں داخلہ لے لیا۔ کالج کے بعد ایک ورک شاپ میں عملی طور پر کام سیکھنے لگا۔ اس کے ہاتھ اب مزدور کے ہاتھوں میں تبدیل ہوچکے تھے۔ صبح کا نکلا رات گئے گھر لوٹتا تو ماں کو دروازے پر اپنا منتظر پاتا۔ ماں کے ساتھ وہ جس چہرے کو پل بھر دیکھنے کے بعد اپنی تمام تر تھکن ہوا کرنے کی خواہش لیے گھر کی دہلیز پار کرتا، وہ چہرہ کہیں نہیں ہوتا تھا۔ کم از کم اس کے آس پاس تو نہیں۔ وہ گریس سے بھرے سیاہ پڑتے ہاتھوں سے اپنے گھر کا مستقبل سنوارنے میں لگا رہا اور گل اپنی آنکھوں میں من پسند خواب بسانے کی تگ و دو میں تھی۔ ایسے میں صفیہ بیٹے کے سر پر سہرا سجانے کی برسوں پرانی خواہش دل میں دبائے بیٹھی تھی کہ شہریار کو اس کی کمپنی کی جانب سے دبئی جانے کا موقع ملا۔ دبئی میں گاڑیوں کی اس کمپنی کی ورک شاپ تھی جہاں شہریار جیسے محنتی ہاتھوں کی ضرورت تھی۔
    ٭…٭…٭
    ”گل! ایک بات کرنی ہے۔” صفیہ نے بالآخر گل سے بات کرنے کی ٹھانی کہ اس سے بات کرنے کے بعد ہی وہ شہریار سے کوئی بات کرتیں۔
    ”جی خالہ!” گل جو بیڈ پر ٹانگیں پھیلائے ڈائجسٹ پڑھ رہی تھی، فوراً اپنی ٹانگیں سمیٹیں اور ہاتھ میں پکڑا ڈائجسٹ سائیڈ پر رکھ کر صفیہ کی طرف متوجہ ہوگئی۔ میٹرک کے امتحانات کے بعد یہ اس کی واحد مصروفیت تھی۔
    ”اگر آج رضیہ زندہ ہوتی تو مجھے اتنی مشکل نہ ہوتی۔” صفیہ نے بات کا آغاز کیا۔
    ”میں چاہتی ہوں کہ میری زندگی میں ہی تم اور شہریار گھر بار والے ہوجاوؑ۔”
    ”ارے واہ خالہ! آپ نے اکیلے ہی بہو ڈھونڈ لی اور مجھے بتایا تک نہیں، جائیں میں آپ سے نہیں بولتی۔” گل نے صفیہ کی بات پر دھیان دیے بنا ہی کہنا شروع کردیا اور صفیہ کو لگا کہ اگر آج اس نے گل سے بات نہ کی تو وہ اس سے یہ بات کبھی نہیں کرپائے گی۔ شہریار کی آنکھوں میں گل کے نام پر جل اٹھنے والے دیے وہ کبھی بجھنے نہیں دینا چاہتی تھی۔
    ”گل! میں تمہاری شادی شہریار سے کرنا چاہتی ہوں۔” یہ اولاد بھی کبھی کبھی بڑی آزمائشوں میں ڈال دیا کرتی ہے، اس کا اندازہ صفیہ کو اب ہورہا تھا، مگر زبان سے بات نکل چکی تھی کیوں کہ گل کے چہرے کے تاثرات عجیب سے ہوگئے تھے۔
    ”تمہاری مرضی کے بنا کچھ نہیں ہوگا۔” صفیہ کو کمرے میں گونجتی اپنی آواز جانے کیوں اجنبی محسوس ہوئی۔
    ”خالہ! میں ابھی پڑھنا چاہتی ہوں اور پھر جاب… کب تک آپ سب پر بوجھ بنی رہوں گی؟”گل نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔
    ”بیٹیاں کبھی اپنے ماں باپ پر بوجھ نہیں ہوتیں۔ آج اگر اظہار ہوتے تو بہت خوشی سے اس ذمہ داری کو پورا کرتے۔ میں تمہارے ساتھ زبردستی نہیں کروں گی۔ جس بات پر تمہارا دل راضی ہو وہ کرنا۔ تمہاری صورت میں اللہ نے میری اور اظہار کی بیٹی کی خواہش کو پورا کیا، ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ تمہاری زندگی کے فیصلے تمہاری مرضی کے بغیر ہوں؟”صفیہ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا اور کمرے سے نکل آئیں۔
    ٭…٭…٭
    ”تم نے سوچا بھی کیسے یہ سب۔” شہریار ابھی آیا ہی تھا کہ گل اس پر آندھی طوفان کی طرح چڑھ دوڑی۔ وہ جو اس وقت کسی کام سے گھر آیا تھا، اسے معلوم نہ تھا کہ گل کتنے غصے میں بھری بیٹھی ہے۔ صد شکر صفیہ گھر میں نہیں تھی ورنہ انہیں شدید دکھ ہوتا۔
    ”تم چاہتے ہو کہ میں ساری زندگی تمہارے لباس کی سیاہی دور کرتے کرتے خود بھی کہیں اس سیاہی میں گم ہو جاوؑں۔”
    اب شہریار کو بھی دل چسپی محسوس ہوئی۔ چہرے پہ مسکراہٹ سجائے، سینے پہ بازو لپیٹے اس دشمنِ جاں کو بولتے دیکھے گیا آخر اتنے عرصے بعد نظر تو آئی۔
    ”کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے۔”
    ”تم سن رہے ہو نا میں کیا کہہ رہی ہوں؟ ” گل کے زور سے بولنے پر وہ ایک دم سے خیالات کی دنیا سے باہر آیا۔
    ”ہاں! سن رہا ہوں تم بولو ۔”
    ”خاک سن رہے ہو؟ جانے کون سے خیالوں میں کھوئے رہتے ہو؟”گل کا پارہ اور چڑھ گیا۔ جواب میں شہریار کے لبوں پر مسکراہٹ رینگ گئی۔ اب اسے کیا بتاتا کہ کس کے خیالوں میں کھویا رہتا ہے۔
    ”خالہ کو منع کردو کہ تم مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتے۔”اپنا فیصلہ صادر کرتی کمرے سے باہر آگئی۔ اندر شہریار جہاں تھا، وہیں ساکت رہ گیا۔
    ”یہ کیا کہہ کر گئی ہے؟” اسے اپنی سماعت پر شبہ ہوا۔
    ”ابھی کیا کہا تم نے…” شہریار اگلے ہی پل گل کے سر پر موجود تھا ۔
    ”یار میں تمہیں ایسا لگتا ہوں کہ…”ایک پل کو گل کا دل دھڑکنا بھول گیا۔

  • قید — ساجدہ غلام محمد

    قید — ساجدہ غلام محمد

    ”انسان کو کس طرح نیند آتی ہے؟” ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہ سونے کے لیے لیٹا تھا اور اب اچانک یہ سوال اس کے ذہن میں ابھرا تھا۔ قریب ہی اس کی بیوی کی مدہم سانسیں بتا رہی تھیں کہ وہ گہری نیند سو رہی ہے۔
    ”آج نوٹ کرتا ہوں کہ نیند میں جاتے ہوئے انسان کی کیا کیفیت ہوتی ہے۔” اس نے کروٹ بدلتے ہوئے مسکرا کر سوچا اور آنکھیں بند کر لیں۔
    ”یہ بات کتنی منفرد ہے اور اگر مجھے پتا چل جائے تو شاید میں پہلا انسان ہوں گا جس نے اس بات کا مشاہدہ کیا ہو گا۔ شاید میری اس دریافت سے سائنس دان بھی اس طرف متوجہ ہو جائیں۔” اس کا شعور سوچ پر سوچ کو کھڑا کرتا ہوا آہستہ آہستہ اوپر اٹھنا شروع ہو گیا تھا کہ اچانک سوچوں کا مینار ٹوٹا اور شعور واپس اپنی دنیا میں پلٹ آیا۔ باہر کسی گاڑی نے زور سے ہارن بجایا تھا۔
    ”جاہل لوگ! دوسروں کے آرام کا ذرا بھی خیال نہیں ہے۔ ” اس نے آنکھیں کھول کر کھڑکی کی جانب دیکھا اور پھر بڑبڑاتے ہوئے کروٹ بدل لی۔
    ”اچھا بھلا سونے لگا تھا۔ ہاں تو میں سوچ رہا تھا کہ انسان نیند میں کس طرح جاتا ہے۔ اس ہارن نے سارا تسلسل توڑ دیا۔ سر ہی کھا جاتے ہیں یہ ہارن۔ مجھے تو لگتا ہے کہ میں اسی وجہ سے جلد بہرا ہی نہ ہو جاؤں۔ کل فیس بک پر ارسل نے پوسٹ لگائی ہوئی تھی سماعت کی آلودگی اور اس کے نقصانات پر۔ میں نے لائیک کی تھی وہ پوسٹ لیکن ارسل میری پوسٹس لائک نہیں کرتا۔ پتا نہیں مجھ سے کیا پرخاش ہے اسے۔” اس کا جسم دھیرے دھیرے ڈھیلا ہونا شروع ہو گیا تھا ۔
    ”واہ!یعنی کہ میں نیند کی کیفیت میں جا رہا ہوں۔” جسم کے ڈھیلے پن کو اس نے خوشدلی سے محسوس کیا تھا۔شعوراس کے اس احساس کو نظر انداز کر کے سوچ سے سوچ کی کڑی ملاتا ہوا، ہلکا پھلکا ہو کر دوبارہ اٹھنا شروع ہو گیا تھا۔کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اچانک شعور کو لگا کہ وہ بلندی سے نیچے گر رہا ہے۔جسم کو ایک جھٹکا سا لگا اور اس نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھول لیں۔
    ”ہیپنک جرک( jerk Hypnic)۔” اس کے ذہن میںلفظ گونجا ۔ ایک نظر گہری نیند سوئی ہوئی بیوی پر ڈال کر اس نے آنکھیں دوبارہ موند لیں۔
    ”یہ انسان کے اندر بھی کیا کمال کی مشینری بنائی ہے رب نے۔ سونے کے دوران اگر جسم کو کوئی مسئلہ ہو تو ہیپنک جرک کے ذریعے انسان کو سگنل دے دیتی ہے کہ پوزیشن ٹھیک کر لو۔ لیکن میں تو ٹھیک انداز میں ہی لیٹا ہوا ہوں۔ کچھ لوگ تو بالکل الٹے ہو کر سوتے ہیں۔ دم نہیں گھٹتا ہو گاان کا؟ پرسوں جو ڈرامہ آ رہا تھا ٹی وی پر، اس میں ہیرو کیسے اوندھے منہ سورہا تھا۔ یہ تو صحت اور سنت، دونوں کے خلاف ہے۔ میڈیا والے کہاں ان باتوں کا دھیان رکھتے ہیں۔” شعور نے ایک بار پھر سر اٹھا کر اوپر دیکھا۔ اندھیرے میں نہایت باریک سا پردہ اوپر تنا ہوا تھا۔ شعور نے سوچ سے سوچ نکالتے ہوئے اس پردے کی طرف اٹھنا شروع کیا اور اس دفعہ وہ وہاں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ جیسے ہی شعور اس تک پہنچا، اچانک پردے میں شگاف ہوا اور شعور اسے عبور کر کے لاشعور کی رنگوں بھری دنیا میں داخل ہو گیا۔
    وہ سو چکا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”اُٹھ جائیں! فجرکی جماعت کا وقت نکل جائے گا۔” بیوی نے کندھا پکڑ کر ہلایا تو وہ ہڑبڑا گیا۔ سیاہ پردہ چاک ہوا تھا اور شعور یک لخت لاشعور کی دنیا سے نکل کر واپس اپنی دنیا میں آ گیا تھا۔بیوی تہجد پڑھنے کی عادی تھی اور فجر کی نماز کے لیے وہی اسے جگاتی تھی۔
    ”اوہ!” اس نے یاد کرنے کی بہت کوشش کی کہ وہ کیسے نیند کی کیفیت میں گیا تھا اور اس کے ذہن میں آخری سوچ کیا تھی لیکن اسے کچھ بھی یاد نہیں آیا۔
    ”آج بہت غور کروں گا۔ بہت دلچسپ تجربہ ہے یہ۔” اس نے مسکراتے ہوئے سوچا اور غسل خانے کی جانب بڑھ گیا۔
    ٭…٭…٭
    ایک دفعہ پھر رات کی خاموشی اور تنہائی تھی۔ وہ سونے کے لیے لیٹ چکا تھا لیکن آنکھیں بند کرنے کے باوجود اس کا ذہن اپنے طور پر خوب چاک و چوبند تھا، یہ جاننے کے لئے کہ انسان کس طرح نیند کی وادی میں جاتا ہے۔
    ”آج تو میں جان کر ہی رہوں گا۔ حیرت ہے، کسی نے آج تک اس بارے میں نہیں سوچا۔ کمال ہے بھئی۔ خیر! کل بہت اہم میٹنگ ہے۔ سفید شرٹ کے ساتھ وہ نیلی ٹائی ٹھیک رہے گی جو عباد لندن سے میرے لئے لے کر آیا تھا۔ مزے میں ہے عباد بھی۔ لندن کی زندگی کا اپنا ہی حسن ہے۔ وہاں چلتی ہوئی ڈبل ڈیکر بسیں اور بکنگھم پیلس۔ وہاں کی ملکہ اتنی بوڑھی ہو گئی ہے، پتا نہیں کب مرے گی۔ میری دادی کی عمر کی تو ہو گئی ہے۔ دادی کو تو فوت ہوئے سات سال ہونے والے ہیں۔ ساگ کتنا لذیذ بناتی تھیں وہ، وہ ذائقہ ابھی تک مجھے دوبارہ کہیں نہیں ملا۔۔۔” شعور سوچوں کا جال بُنتا ہوا پردے کے بالکل پاس پہنچ چکا تھا۔ پردے میں شگاف ہوا اور شعور لاشعور کی دنیا میں داخل ہو گیا۔ اس کے داخل ہوتے ہی پردہ دوبارہ پہلے کی طرح بند ہو گیا۔
    لاشعور کی دنیا انوکھی تھی۔ شعور، لاشعور کا ہاتھ تھامے اڑتا پھر رہا تھا۔ کبھی سفید شرٹ پر نیلی ٹائی پہنے میٹنگ روم میں بیٹھا پزا کھاتا ہوا، کبھی شیروانی اور کلاہ پہن کر لندن کی ڈبل ڈیکر بس پر گھومتا ہوا۔
    ابھی شعور مزید اڑان بھرنے کی تیاریوں میں ہی تھا کہ اچانک پردہ چاک ہوا اور وہ واپس اپنی دنیا میں پلٹ آیا۔
    بیوی کو کھانسی آئی تھی۔ خشک تھی، پانی پیے بنا چارہ نہیں تھا۔ اس نے بمشکل آنکھیں کھول کر اپنے سرہانے رکھی پانی کی بوتل اس کی جانب بڑھائی۔
    ”طبیعت ٹھیک ہے؟ ”
    ”جی! بس خشک سردی کی وجہ سے نیند میں ہی اچانک کھانسی آ گئی ۔”بیوی پانی پی کر بوتل اپنے سرہانے رکھ کے لیٹ گئی تو اس نے دوبارہ آنکھیں بند کر لیں۔
    ”سردی بھی بڑھ گئی ہے۔ شام کو کمرے میں ہیٹر جلا کر کام تو کرتا رہا لیکن پانی کا برتن رکھنا بھول گیا۔ صبح نماز کے لیے اٹھوں گا تو رکھ دوں گا۔ اکرام صاحب بھی کہہ رہے تھے کہ کمرے میں ہیٹر جلے تو پانی ضرور رکھنا چاہیئے ورنہ کمرے کی ہوا خشک ہو جاتی ہے۔ ” تکیے پر اپنے سیدھے گال کے نیچے بایاں ہاتھ رکھ کر وہ دوبارہ سونے کی کوشش کر رہا تھا۔کچھ ہی لمحوں بعد ہپنک جرک کی وجہ سے اس کے گال کے نیچے کان کے پاس بائیں ہاتھ کی ایک انگلی زور سے ہلی تو اسے اپنے کان میں اس کی بہت اونچی سرسراہٹ سنائی دی۔
    ”ہمم! اس کا مطلب ہے کہ نیند میں جانے سے پہلے ایک فیز ایسا بھی آتا ہے جس میں انسان کی حسِ سماعت بہت زیادہ تیز ہو جاتی ہے۔ ” اس نے ہاتھ تکیے سے ہٹا کر ایک جانب رکھ دیا۔ مکمل خاموشی میں شعورکو کچھ ہی منٹ لگے تھے۔ وہ پردہ چاک کر کے لاشعور کی دنیا میں پہنچ چکا تھا۔ جہاں کبھی اس کے پیچھے چور ڈاکو لگ جاتے تو کبھی باس سے جھڑکیاں۔ نہ جانے کتنا ہی وقت گزر گیا۔ لاشعور، شعور کا ہاتھ تھامے اس کے ساتھ ساتھ تھا۔
    ”فضل! فضل!” اچانک کسی نے اس کا نام پکارا تھا۔ شعور نے پردہ چاک کر کے واپس اپنی دنیا میں جانا چاہا لیکن خلافِ توقع وہ چاک نہ ہوا۔شعور نے پورا زور لگایا، پردے پر ٹکریں ماریں لیکن وہ پردہ چاک نہ کر سکا۔
    ”بابا!” اس کا بیٹا اسے جھنجھوڑ رہا تھا۔ شعور کے اضطراب میں اضافہ ہو گیا۔ اندھا دھند بھاگتے ہوئے وہ پردے کا آخری سرا ڈھونڈ رہا تھا، کوئی سرا، کوئی سوراخ، کوئی درز، کچھ تو جہاں سے وہ واپس اپنی دنیا میں جا سکے لیکن کچھ نہ ملا۔ شعورتھک ہار کر لاشعور کی دنیا میں ہی بیٹھ گیا۔
    ”تم اب واپس نہیں جا سکتے! تم یہاں قید ہو گئے ہو۔” لاشعور کے لہجے میں شعور کے لیے ہمدردی تھی۔
    ”کمرے میں گیس بھر جانے کی وجہ سے دونوں کا انتقال ہو چکا ہے۔” ڈاکٹر نے بیٹے کو بتاتے ہوئے افسوس سے سر ہلایا۔شعور وہیں لاشعور کی دنیا میں سر پٹختا رہ گیا۔
    ٭…٭…٭

  • جنّت — طارق عزیز

    جنّت — طارق عزیز

    ”میں اگر قصائی خاندان کا فرد ہوں، میرا باپ قصاب ہے، تو اس میں میرا کیا قصور؟ میں تو قصائی کا کام نہیں کرتا نا؟ پھر لوگ مجھے ”قصائی قصائی” کہہ کر کیوں چڑاتے ہیں؟” حنیف نے اپنی ماں سے گلہ کرتے ہوئے کہا۔
    ”بیٹا کیا ہوا اگر لوگ ہمیں قصائی کہتے ہیں؟ یہ تو ہمارا آبائی پیشہ ہے، ذات تھوڑی ہے۔ اسی کاروبار سے ہم کماتے اور اپنے اہل و عیال کو پالتے ہیں۔ اس میں شرم کی کیا بات ہے؟ ہم کسی سے بھیک تو نہیں مانگتے نا؟ اپنے ہاتھ کی، اپنی محنت کی کمائی کھاتے ہیں۔ تم لوگوں کی باتوں کو دل پر نہ لیا کرو۔” حنیف کی ماں نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
    ”لیکن امّی لوگ اور محلّے کے لڑکے مجھے اس بات پر طنز کرتے اور چھیڑتے ہیں۔ اس طرح بات کرتے ہیں جیسے میں ان کا نوکر ہوں۔ یہ سب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔ بس میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے کسی اچھی جگہ ملازمت کروں گا تاکہ کوئی میرے بچوں کو قصائی کی اولاد ہونے کا طعنہ نہ دے۔” حنیف یہ کہتیہوئے آبدیدہ ہوگیا۔
    ”ٹھیک ہے بیٹا تُو فکر نہ کر۔ دل لگا کے پڑھ اور اپنی مرضی کی زندگی گزار۔ جتنا پڑھنا چاہتے ہو پڑھو۔ ہم تجھے ایک اچھا انسان بنتا دیکھنا چاہتے ہیں۔” ماں نے حنیف کو اپنی آغوش میں لیتے ہوئے اس کے آنسو پونچھے۔
    ٭…٭…٭

    حنیف اور شفیق دونوں سگے بھائی تھے۔ باپ آبائی پیشہ کی وجہ سے قصاب تھا۔ حنیف بڑا تھا اس سے چھوٹا شفیق اور سب سے چھوٹی فوزیہ بہن تھی۔ حنیف کو اپنے آبائی پیشے سے سخت نفرت تھی کیونکہ اسے محسوس ہوتا تھا کہ قصائی ہونے کی وجہ سے انہیں معاشرے میں کمتر سمجھا جاتا ہے۔ محلے کے لڑکے اسے قصائی کہہ کر چھیڑتے، تو وہ زچ ہوکر گھر سے باہر ہی نہیں نکلتا تھا۔ وہ شرم کے مارے اسکول یا کلاس میں بھی اپنے باپ کے پیشہ کے بارے میں کسی سے کچھ نہیں کہتا تھا۔ اس کا عزم تھا کہ وہ پڑھ لکھ کر اعلیٰ ملازمت کرلے گا، مگر یہ گھٹیا پیشہ نہیں اپنائے گا۔ اسی لیے وہ پڑھائی میں زیادہ دلچسپی لیتا تھا۔
    اس کے برعکس شفیق کو پڑھائی سے زیادہ رغبت نہ تھی۔ اس نے میٹرک کرنے کے بعد پڑھائی کو خیر باد کہا اور باپ کے ساتھ دکان پر بیٹھنا شروع کردیا۔ چند سالوں میں ہی اس کے باپ نے شفیقکی محنت اور شوق کو دیکھتے ہوئے اسے الگ دکان بنا دی۔ اس نے نہ صرف روایتی طریقہ سے دکان پر تازہ گوشت رکھا ہوا تھا بلکہ زمانے کے نئے اطوار کے مطابق فروزن میٹ اور گوشت کی مختلف پیک شدہ آئٹمز کے فریز رز لگوالیے تھے۔ اس کے پاس اب ہائی کلاس کی بیگمات بھی آتی تھیں۔ شفیق اب ایک کامیاب بزنس مین بن چکا تھا۔
    اسی عرصہ میں اس کا بڑا بھائی حنیف اپنی پڑھائی مکمل کرکے سرکاری محکمہ میں کلرک کی ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اب وہ بابو بن کر اپنی بائیک پر فخر سے ڈیوٹی پر جایا کرتا۔
    ان دونوں کے باپ لطیف کو لوگ طیفا قصائی کہتے تھے۔ اس نے محسوس کیا کہ اب دونوں بیٹے جوان بھی ہیں اور بر سرروززگار بھی، لہٰذا مناسب وقت ہے کہ اِن کی شادیاں کردی جائیں۔ اس نے دونوں بیٹوں کی شادی کے فرض سے سبکدوش ہونے سے قبل چھوٹی بیٹی فوزیہ کی شادی اپنی بڑی بہن کے بیٹے سے دوسرے شہر میں کردی۔ پھر اپنی گرتی صحت اور بڑھتی عمر کے پیش نظر بیٹی کو جائیداد میں اس کا حصہ دے کر اپنا مکان دونوں بیٹوں میں برابر تقسیم کردیا تاکہ وہ شادی کے بعد سکون سے اپنے اپنے گھر زندگی گزاریں۔
    بچوں کی شادیوں سے فراغت پانے کے بعد وہ قدرے پرسکون ہوچکا اور اب آرام کرنا چاہتا تھا۔ وہ آخر دم تک اپنی بیوی کے ہمراہ چھوٹے بیٹے شفیق کے ساتھ ہی رہا، کیونکہ بڑے بیٹے کی بیوی کے تیور اپنی ساس اور سُسر کو دیکھ کر کچھ مناسب نہیں رہتے تھے۔ شفیق اور اس کی بیوی نے دونوں میاں بیوی کی جی جان سے خدمت کی۔ اپنے سارے فرائض سے فراغت پاکر اگلے دو سالوں ہی میں لطیف اور اس کی بیوی معمولی بیمار رہ کر یکے بعد دیگرے اگلے جہان سدھار گئے۔
    باپ نے جس طرح دونوں بھائیوں میں انصاف کے ساتھ جائیداد تقسیم کی تھی اسی طرح طرح دونوں بھائیوں کو ربّ نے بھی برابری کے ساتھ ایک ایک بیٹے اور ایک ایک بیٹی سے نوازا۔
    بڑے بھائی حنیف کی بیوی پڑھی لکھی ہونے کے باعث اونچے رکھ رکھاؤ کی مالک اور صفائی پسند تھی۔ اپنے ساتھ والے گھر میں رہنے والے اپنے دیور اور اس کے بیوی بچوں کو وہ خود سے اور اپنے بچوں سے دور ہی رکھتی تھی۔ کیونکہ ایک قصائی گھرانے کے افراد سے اسے چربی کی بو آتی تھی، مگر اسے اپنے خاوند کی آنکھوں پر چڑھی چربی بے حد مرغوب تھی جو اپنی اصل تنخواہ سے کہیں زیادہ اوپر کی کمائی کی وجہ سے چڑھی ہوئی تھی۔
    حنیف اب اپنے محکمے میں اونچی پوسٹ کا افسر تھا۔ اس نے اپنے دونوں بچوں کو ہائی پروفائل کیتھیڈرل اسکول سسٹم میں تعلیم دلائی تاکہ وہ سوسائٹی میں اعلیٰ مقام پر پہنچسکیں۔
    اس کا بیٹا حبیب اسکول کی تعلیم کے بعد اب گورنمنٹ کالج میں پڑھ رہا تھا۔ جبکہ شفیق کا بیٹا رفیق بھی اپنے باپ کی طرح دسویں جماعت سے آگے پڑھنے کا خواہشمند نہیں تھا۔ اس لیے باپ نے میٹرک کے بعد اسے اپنے ساتھ فریش میٹ سٹور پر بٹھانا شروع کردیا۔ اپنے باپ کی طرح رفیق نے بھی اپنے آبائی پیشے کی تمام جزئیات پر جلد ہی عبور حاصل کرلیا۔ جب سے اس نے دکان کی ذمہ داری میں باپ کا بوجھ بانٹنا شروع کیا تھا شفیق کے کاندھے اوربھی چوڑے ہوگئے تھے اور وہ اپنے ہاتھوں میں پہلے سے زیادہ مضبوطی محسوس کررہا تھا۔ کرتا بھی کیوں نہ آخر بیٹا بازو جو بن گیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”میں نے کہا جی سنتے ہو، اپنی رضیہ بارہویں جماعت پاس کرچکی، خیر سے اب اٹھارہویں برس میں ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ اب جلدی سے کہیں اچھا بر دیکھ کر اس کی شادی کردیں۔” شفیق کی بیوی آسیہ نے رات کھانا کھانے کے دوران اس سے کہا۔
    ”ہاں بیگم کہتی تو تم ٹھیک ہو، بھلے ہی ابھی بیٹا تابعدار ہے، مگر آنے والے وقت کا کیا پتا اور ابھی اپنے بازوؤں میں ہمت ہے، جلد از جلد اپنے فرائض سے سبک دوش ہوجائیں تو اچھا ہے۔” شفیق نے تولیے سے ہاتھ پونچھتے ہوئے کہا۔
    ”میں تو کہتی ہوں کہ آپ اپنے خاندان میں ماموں، یا تایا چچا زاد کے ہاں کوئی اچھا سا لڑکا دیکھیے یا کہیں، تو میں اپنے بہن بھائیوں میں بات کروں؟” آسیہ نے برتن اُٹھاتے ہوئے پوچھا۔
    ”ٹھیک ہے میں کرتا ہوں بات اپنے رشتے داروں میں اور دوستوں کے کان میں بھی ڈال دیتا ہوں، ویسے تم بھی اپنی خاندان میں نظر رکھو، کہیں بھی مناسب لڑکا مل جائے تو بس سال دو سال میں اس کے ہاتھ پیلے کردیں۔” شفیق نے چارپائی پر لیٹتے ہوئے کہا۔ ”ہے تو حنیف بھائی کا بیٹا حبیب بھی لائق اور خوب صورت اب اچھا پڑھ لکھ بھی گیا ہے خواہش تو یہی تھی کہ اس سے بھائی بندی کا رشتہ مضبوط ہوتا، مگر وہ اور اس کی بیوی اونچے خیالات کے مالک ہیں۔ کاہے کو وہ غریب بھائی سے رشتہ لینا یا دینا گوارہ کریں گے۔ وہ تو غریب بھائی سے سال بھر میں صرف عید بقر عید پر ہی ملتا ہے بس، پھر سارا سال اس کی شکل دیکھنے کو ترس جاتا ہوں۔” شفیق نے ٹھنڈی آہ بھر کر کہا۔
    ”ہا آ آ آں ملتے ہیں آپ کے بھائی صاحب آپ کو عید بقر عید پر، ارے وہ تو ان کے بیل اور بکرے انہیں آپ کی چوکھٹ پارکرنے پرمجبور کرتے ہیں اس دن، ورنہ وہ تو دیکھیں بھی نہیں ادھر قصاب کے گھر کو۔” آسیہ نے سرمارتے ہوئے طنزیہ انداز میں جواب دیا۔
    ”اری یوں نہیں کہتے رفیق کی ماں، آخر وہ خون ہے میرا، اکلوتا بھائی، جیسا بھی ہے، ہے تو میرا بڑا بھائی نا؟ وہ جیسا بھی ہے میں تو اپنی فطرت کے مطابق اس کا احترام کرتا رہوں گا۔” شفیق نے آسیہ کو سمجھاتے ہوئے کہا۔
    ”تو ٹھیک ہے کیجیے میں نے کب منع کیا ہے۔” آسیہ نے بات ختم کرتے ہوئے کہا۔
    آسیہ کی بڑی بھاوج نے ان کی بیٹی رضیہ کو اپنے بڑے بیٹے کے لیے مانگ لیا۔ وہ اسی سال اپنے ماموں زاد سے بیاہ کر اسی شہر میں اپنے سسرال چلی گئی۔
    ٭…٭…٭
    حنیف پر ”لکشمی دیوی” کچھ زیادہ ہی مہربان تھی۔ اس نے ساتھ والے دونوں مکان خرید کر اپنے گھر کو کوٹھی بنا لیا۔ نئے خریدے جانے والے دونوں مکان گرا کر شاندار رہائش بنالی۔آخری کارنر والے مکان میں اس نے رہائش اختیار کرلی اور باپ کے دیے ہوئے مکان کو گرا دیا۔ اصل میں اس کی بیوی کو اب ساتھ والے گھر میں رہائش پزیر قصائی دیور کے گھر سے ادھر دیکھنے والوں پر اب زیادہ رعب پڑتا تھا۔
    شفیق کو بھائی کے ساتھ سانجھی دیوار اور سانجھے مکان کے اس طرح خاتمے کا بہت دکھ ہوا۔
    ٭…٭…٭

  • رین کوٹ — ہاشم ندیم

    رین کوٹ — ہاشم ندیم

    تیز برستی بارش میں جب کسی کی نئی ماڈل کی گاڑی ہچکولے لیتی ہوئی ایک جھٹکے سے رُک جائے تو اس کوفت کا اندازہ صرف وہی لگا سکتا ہے جو اس گاڑی میں سوار ہو۔ نعمان کو بھی اس اچانک افتاد کا ذرا بھی اندازہ نہ تھا۔ آج صبح فیکٹری کے لیے نئی سائٹ دیکھنے گھر سے نکلا، تو ہلکی پھوار اسی وقت شروع ہوچکی تھی، مگر جلد ہی وہ بوندا باندی تیز برسات میں تبدیل ہوگئی اور شہر کے آخری بس اسٹاپ سے کچھ پرے گاڑی نے چند ہچکیاں لیں اور رک گئی۔
    ”کیا ہوا ؟”
    ڈرائیور نے پریشانی کے عالم میں بونٹ بند کیا۔
    ”صاحب جی کچھ سمجھ نہیں آرہا، یہ آٹو میٹک گاڑیاں اپنی سمجھ سے باہر ہیں۔ کسی مکینک کوبلوانا پڑے گا جناب۔”
    نعمان نے بے زاری سے سرہلایا۔
    ”ٹھیک ہے۔ تم کسی مکینک کو بلا لائو، میں سامنے والے بس اسٹاپ کے شیڈ کے نیچے تمہارا انتظار کرتا ہوں۔ بند گاڑی میں یوں سرِ راہ بیٹھنا مجھے بہت عجیب لگتا ہے۔”
    نعمان نے گاڑی سے نکلنے سے پہلے رین کوٹ پہن لیا تاکہ اس کا قیمتی سوٹ خراب ہونے سے بچ جائے اور پھر تیزی سے قدم اٹھاتا، خود کو بارش سے بچاتا، سامنے بس اسٹاپ کی جانب بڑھ گیا۔ سڑک کے دونوں اطراف ٹین کے چھپر نما اسٹاپ بنائے گئے تھے جس کی ٹین کی ہٹ نما چھت کے نیچے لکڑی کے بنچ پڑے ہوئے تھے۔ دونوں جانب کچھ مسافر بیٹھے اور کھڑے بس کا انتظار کررہے تھے۔ نعمان نے رین کوٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے سرسری نظر سڑک کی دوسری جانب بنے دوسرے اسٹاپ پر ڈالی اور پھر اس کی نظریں جیسے جم کر رہ گئیں۔ اس نے دو تین بار پلکیں جھپک کر اپنے گماں کو یقین کی حد تک پہنچانے کی کوشش کی۔ مگر وہ سراب نہیں … حقیقت تھی… ہاں وہی تو تھی… کاجل… اس کے بالکل مخالف سمت والے اسٹاپ کے نیچے کھڑی بار ش سے بھیگی ہوئی، ہمیشہ کی طرح خود کو پہلے بے تحاشا بھگو کر پھر کانپتے رہنے والی کاجل۔
    نعمان بے اختیار اس کی جانب بڑھنے کے لیے سڑک پر دو قدم چلا تو کسی گاڑی کے تیز ہارن نے اسے چونک کر واپس پلٹنے پر مجبور کردیا۔ ہارن کی آواز سن کر کاجل نے بھی چونک کر اِدھر دیکھا اور اس کی نظریںبھی نعمان سے ٹکرائیں تو وہ ہکا بکا سی رہ گئی۔ اب جانے وہ بارش کی بوندیں تھیں یا پھر اس کے آنسو جو اس کی آنکھوں سے بہتے ہوئے اس کے گلابی عارض کے موتی بن گئے۔ دفعتاً نعمان کو احساس ہوا کہ کاجل کے ساتھ کوئی مرد بھی تھا۔ پرانی جینز پر ایک پتلی سی شرٹ میں ملبوس، بار بار ہاتھوں کو رگڑ کر گرمانے کی کوشش میں مصروف۔ اس نے ایک آدھ بار کاجل سے کوئی بات بھی کی اور کاجل نے سر جھکا کر اسے زیرِ لب جواب دیا۔ شاید وہ کاجل کا شوہر تھا۔
    نعمان اس شش و پنج میں گرفتار کھڑا رہا۔ نعمان کے جانب والی بس آگئی اور مسافر جلدی میں ایک دوسرے کو دھکیلتے ہوئے اُس میں سوار ہوکر اپنی منزل کو روانہ ہوگئے اور نعمان وہاں تنہا کھڑا رہ گیا۔ بارش تیز ہوتی جارہی تھی۔
    یہ بارشیں بھی کتنی عجیب ہوتی ہیں۔ کبھی کبھی باہر کچھ زیادہ بھگو نہ بھی پائیں پھر بھی ہمارے اندر جل تھل مچا دیتی ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ہمارے اندر برستی وہ پھوار باہر کسی کو نظر نہیں آتی، لیکن کچھ بدنصیب ایسے بھی تو ہوتے ہیں جن کے اندر باہر برستے ساون کا ایک چھینٹا بھی نہیں پڑتا۔ ان کے اندر صحرا ہی رہتا ہے۔ آج صبح نعمان نے جب گھر سے نکلتے ہوئے کھونٹی سے اپنے مخصوص نیلے رنگ کا رین کوٹ اتارا، تو ایک لمحے کے لیے جیسے اس کا سارا ماضی اس کی آنکھوں کے سامنے برق کی طرح گزر گیا۔
    وہ بھی ایک ایسی ہی طوفانی بارش کا دن تھا جب پہلی مرتبہ اس کی ملاقات کاجل سے ہوئی تھی۔ وہ دونوں ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھنے کے باوجود شعبے علیحدہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے انجان تھے، لیکن اس روز کی شدید بارش نے ان دونوں کو ملوا دیا۔ وہ دونوں ہی کالج بس نکل جانے کے بعد ڈیپارٹمنٹ کے برآمدے میں بارش رکنے کے انتظار میں کھڑے تھے، لیکن کچھ بارشیں کبھی نہیں تھمتیں۔ بادل برس کر چلے جاتے ہیں مگر من کی پھوار کبھی نہیں رکتی۔ اُن دونوں کے لیے بھی یہ بارش کچھ ایسا ہی پیغام لے کر آئی تھی۔ ساون میں شامیں بہت جلد ڈھل جاتی ہیں۔ کاجل بھی تیزی سے ہوتی شام اور مزید کالی گھٹائوں کی آمد سے پریشان کھڑی اپنی نازک کلائی پر بندھی گھڑی کو بار بار دیکھ رہی تھی۔ نعمان بھی ایک جانب کھڑا خود کو کوس رہا تھا کہ اس نے آج اپنی بائیک نکالنے میں سستی کیوں کی؟ آخر جب بارش نے تھمنے کا نام نہیں لیا اور اندھیرا بڑھنے لگا، تو گھبرائی ہوئی کاجل نے کچھ فاصلے پر کھڑے نعمان کوپکارا۔
    ”سنیں پلیز! آپ کیمپس کے باہر سے کوئی رکشا پکڑ لائیں گے میرے لیے؟ بہت دیر ہوگئی ہے۔ گھر میں امی پریشان ہورہی ہوں گی۔”
    نعمان خود بھی یہ سوچ رہا تھا کہ اب یہاں کھڑے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں، لہٰذا مین گیٹ سے باہر جاکر کوئی سواری پکڑ لینی چاہیے۔ کچھ ہی دیر میں بھیگا بھاگا سا نعمان ایک رکشے کے ساتھ کیمپس میں داخل ہوا۔ کاجل کو ڈیفنس کی طرف جانا تھا اور نعمان کو صدر۔ دونوں کی سمت مخالف تھی لیکن موسم کے تیور بتارہے تھے کہ کچھ دیر بعد جب شام ڈھل جائے گی، تب شاید واپسی کے لیے سڑک پر کوئی سواری بھی نہ ملے۔ ویسے بھی یونیورسٹی شہر سے دور مضافات میں واقع تھی ۔ آخر کار طے یہ پایا کہ پہلے کاجل کو اس کے گھر اتارا جائے گا اور پھر یہی رکشا نعمان کو اس کی منزل تک پہنچائے گا۔ راستے میں کاجل رکشے کے اندر سکڑی سمٹی سی بیٹھی رہی مگر یہ رکشا بھی بڑی بدتمیز قسم کی سواری ہے، ایک ذرا سا کنکر بھی پہیے کے نیچے آجائے تو پورا ”کانپ” جاتا ہے۔ لہٰذا نعمان اور کاجل کو جمے رہنے کے لیے سامنے لگی لوہے کی راڈ کو نہایت مضبوطی سے تھام کر بیٹھنا پڑا، لیکن جھٹکے تھے کہ رکنے میں ہی نہیں آرہے تھے اور پھر جب بے خیالی میں ان دونوں کی ایک دوسرے پر نظر پڑی، تو اپنی اپنی حالت دیکھ کر وہ دونوں ہی بے ساختہ کھل کھلا کر ہنس پڑے۔ یہ ان کی دوستی کی ابتدا تھی۔
    اور پھر کوئی دن ایسا نہ گزرا جب ان دونوں کی ملاقات نہ ہوئی ہو۔ وہ گھنٹوں ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کو کھوجاکر تے اور بالآخر ان کی یہ کھوج محبت کے اس گم نام جزیرے پر جاکر ختم ہوئی جہاں داخل ہونے کے لیے تو ہزار راستے موجود ہوتے ہیں، مگر نکلنے کا ایک بھی دروازہ نہیں ہوتا۔ پھر ایک دن ایسی ہی ایک بھیگتی شام میں کاجل نے نعمان کو یہ رین کوٹ تحفے میں دیا تھا۔ ان کے شہر میں بارشیں بہت ہوتی تھیں، لیکن کا جل کا یہ تحفہ اس بھیگی شام کی یاد میں تھا جب ان دونوں کی پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ ویسے بھی کاجل کو رین کوٹ پہنے مرد بہت سوبر لگتے تھے۔ اسے نعمان کو یہ نیلا رین کوٹ پہنے دیکھنے کا بہت شوق تھا، لیکن ان کے نصیب کا وہ آخری ساون ثابت ہوا۔
    اگلے برس ہی ان کی محبت کے چاند کو گرہن لگ گیا ۔ کاجل کے بھائی نے اسے کہیں باہر نعمان کے ساتھ یونیورسٹی اوقات میں گھومتے پھرتے دیکھ لیا اور کاجل کی تعلیم کا سلسلہ موقوف کردیا گیا۔ نعمان نے اپنے طور پر ہر کوشش کر دیکھی، مگر کاجل کی نظر بندی ختم نہ ہو سکی۔ گھر والوں نے کاجل کی سہیلیوں کو بھی زیرِ لب کاجل کے بارے میں دخل نہ دینے کا پیغام دے دیا تھا۔ ایسے میں کاجل کی ہم جماعت نائلہ جو اس کی ہمسائی بھی تھی، نعمان کا آخری سہارا ثابت ہوئی اور اس نے کسی طور کاجل تک نعمان کا یہ پیغام پہنچایا کہ اگر وہ دونوں نہ مل پائے تو نعمان مرجائے گا، مگر محبت کا زہر کسی کو پوری موت کب مرنے دیتا ہے؟ سو نعمان بھی زندہ رہا، مگر بہت سالوں تک دوسروں سے الگ زندگی گزارتا رہا۔ کاجل کے گھر والوں نے جلدی میں اس کی چٹ منگنی اور پٹ بیاہ کی رسم ادا کرکے اپنی جان چھڑائی۔ کاجل نے نائلہ کے ذریعے ہی نعمان کو یہ آخری پیغام بھجوایا کہ وہ اپنے گھر کی ہونے جارہی ہے، لہٰذا اب نعمان بھی اس کا خیال اپنے دل سے نکال کر اپنا گھر بسالے۔ نعمان یہ سن کر اند رسے ہزار بار کٹ کر رہ گیا۔ یہ لڑکیاں اپنا گھر بستے ہی کس آسانی سے دوسروں کو گھر بستی کے مشورے دینا شروع کردیتی ہیں۔ نائلہ کے بہ قول کاجل کا رشتہ بہت اچھے اور امیر کبیر خاندان میں ہوا تھا اور اس کا شوہر کاجل کا بہت خیال رکھتا تھا۔

  • بارِ گراں — افشاں علی

    بارِ گراں — افشاں علی

    آسمان کی نیلگوں وسعتوں میں شفق کی سرخی پھیلی ہوئی تھی۔ پرندے چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں اپنے آشیانوں کی جانب محوِ پرواز تھے۔ ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا نے اس ڈھلتی شام کو اور بھی دل فریب بنا دیا تھا۔ غروب آفتاب کا منظر دیکھ کر یوں محسوس ہورہا تھا گویا انڈے کو کسی نیلے برتن میں توڑ کر ہولے ہولے پھینٹ دیا گیا ہو۔ ٹیوشن کے بعد شام کی چائے وہ اکثر اپنی چھت سے نظر آتے ڈوبتے سورج کے منظر میں ڈوب کر ہی پیتی تھی۔ کچھ عرصے سے یہ اس کا مشغلہ بن چکا تھا۔ اب بھی وہ چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے رخصت ہوتے سورج اور اس کی بکھری زرد کرنوں کو دیکھنے میں محو تھی، جب نیچے سے مسلسل آتی اپنے نام کی پکار نے اس سحر کو توڑ دیا اور وہ نیچے جاتی سیڑھیوں کی جانب بڑھی۔
    ”بیٹا! کتنی بار کہا ہے جب دو وقت آپس میں مل رہے ہوں تو یوں چھت پر نہیں جاتے، مگر تم ہو کہ سنتی ہی نہیں۔” لاؤنج میں رضیہ بیگم نے نماز سے فراغت کے بعد جا نماز تہ کرتے ہوئے سیڑھیاں اترتی اپنی اکلوتی نورِ نظر انفال کو ڈپٹا۔
    ”امی! آپ تو جانتی ہیں مجھے ٹیوشن کے بعد ایک یہ ہی وقت تو ملتا ہے۔” چائے کا خالی مگ ڈائننگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے اس نے کہا۔
    ”تو بیٹا! کیا اس وقت چھت پر جانا ضروری ہے؟ اس وقت کھلے آسمان تلے جانے سے بزرگ منع کرتے ہیں۔” انہوں نے ہنوز خفگی دکھائی۔
    ”میری پیاری سی امی! نارنجی شفق پر ڈوبتے سورج کو دیکھنا’ اف! کتنا حسین منظر ہوتا ہے۔ اگر میں آرٹسٹ ہوتی تو ڈوبتے سورج کی اس دلکشی کو کینوس پر اتار کر اپنے کمرے میں ہی سجا دیتی۔” انفال نے آنکھیں میچ کر جذب کے عالم میں کہا۔
    ”اچھا چلو اپنے خوابوں اور خیالوں کی دنیا سے باہر آ کر نماز پڑھ لو، وقت نکلا جارہا ہے۔” رضیہ بیگم نے قدرے نرم لہجے میں کہا اور ڈائننگ ٹیبل پر موجود خالی مگ اٹھائے کچن کی جانب چل دیں، جب کہ انفال وضو کرنے چلی گئی۔
    ٭…٭…٭

    کھلے صحن سے ملحق کمرا، جو گیسٹ روم کے طور پر استعمال ہوتا تھا، اب گزشتہ کچھ ماہ سے ٹیوشن روم بن چکا تھا ۔
    ”بیٹا! صائمہ آئی ہیں’ تمہارا پوچھ رہی ہیں۔” انفال جو دل جمعی سے آٹھویں جماعت کی اسٹوڈنٹ کو maths سمجھانے میں مصروف تھی’ اچانک رضیہ بیگم کی آواز پر چونکی۔
    ”خیریت؟” بال پین رجسٹر پر رکھتے ہوئے اس نے گردن گھما کر امی کی جانب دیکھا۔
    ”ہاں! شاید اپنی بیٹی کے لیے ٹیوشن کی بات کرنی ہے۔” رضیہ بیگم نے اندازہ لگایا۔
    ”فلک! بیٹا آپ ذرا باقی بچوں کو دیکھ لیجیے، میں کچھ دیر میں آتی ہوں۔” انفال میٹرک کی ایک اسٹوڈنٹ کو اپنے پیچھے باقی بچوں کی ذمے داری سونپ کر امی کے ہم راہ کمرے سے باہر نکلی اور سٹنگ روم کی جانب بڑھی، جہاں صائمہ باجی اپنی بیٹی کے ہم راہ اس کی منتظر تھیں۔ وہ واقعی اپنی بیٹی کے ٹیوشن کے لیے ہی آئیں تھیں۔
    صائمہ باجی ان کے پڑوس میں نئی نئی آئی تھیں۔ اپنی اسٹڈیز اور پھر ٹیوشنز کی مصروفیات کی وجہ سے اسے کافی مشکلات کا سامنا تھا جس کے سبب اس نئی پڑوسن سے ملاقات نہ ہوپائی تھی۔ امی سے ہی اس نے وقتاً فوقتاً صائمہ باجی ذکر سُنا تھا۔ کچھ ماہ پہلے انفال کے گھر کے بالکل ساتھ تین منزلہ اپارٹمنٹ بنا تھا جس کے گراؤنڈ فلور پر صائمہ باجی رہنے آئی تھیں۔ اٹھائیس سالہ صائمہ باجی اپنی سات سالہ بیٹی اور والدہ نصرت خالہ کے ساتھ رہتی تھیں۔ صائمہ باجی جب چھوٹی تھیں، تب ہی ان کی امی نے اپنے شوہر سے طلاق لے لی اور پھر اپنے چار بھائیوں کے تعاون سے اپنی بیٹی کو ناصرف پالا پوسا بلکہ تعلیم بھی دلوائی اور اپنے بھتیجے کی پسند کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس کے بے حد اصرار پر صائمہ کو اس سے بیاہ دیا۔ مگر افسوس، بیٹی نے بھی ماں جیسی قسمت پائی تھی ۔ وہ بھی شادی کے محض ڈھائی سال بعد طلاق کے کاغذ اور ایک سالہ بسمہ کو گود میں لیے پھر سے ماں کے پاس چلی آئی جسے اب دونوں ماں بیٹی مل کر پال رہے تھے۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جہاں زخم لگا ہو’ نادانستہ طور پر چوٹ بھی بار بار اسی جگہ لگتی ہے۔
    ٭…٭…٭
    بسمہ بھی اس کے پاس ٹیوشن آنے لگی۔ وہ ذہین بچی تھی۔ سات سال کی عمر میں کلاس ون کی اسٹوڈنٹ تھی۔ کلاس ورک، ہوم ورک، ٹیوشن ورک یہاں تک کہ ٹیسٹ بھی اتنی صفائی و مہارت سے کرتی کہ کبھی کبھی انفال بھی حیران رہ جاتی۔ اسے ہمیشہ سے ایسے ہی بچے متاثر کرتے تھے اور بسمہ کی صورت اس کے اسٹوڈنٹس میں ایک اچھا اضافہ ہوا تھا۔
    ماہانہ ٹیسٹ ختم ہونے کے بعد اسکولوں میں تین روزہ چھٹی ہونے پر انفال نے بھی ٹیوشن سے چھٹیاں دے دیں تھیں تاکہ بچوں کے ساتھ ساتھ اسے بھی تھوڑا ذہنی سکون مل جائے۔اِس نے آج صبح ہی سے گھر کی مکمل صفائی کی مہم شروع کر رکھی تھی جب کہ رضیہ بیگم اپنی لاڈلی بیٹی کے لیے نہاری بنانے میں مصروف تھیں۔ پورے گھر میں اُڑتی مٹی کے ہم راہ نہاری کی خوشبو بھی پھیلی ہوئی تھی۔ دروازے پر بجتی مسلسل گھنٹی کی آواز پر وہ اپنا حلیہ درست کرتی گیٹ کی طرف بڑھی جہاں صائمہ باجی کھڑی تھیں۔
    ”ارے آپ؟ آئیے آئیے۔” اس نے خوش دلی سے انہیں اندر آنے کی دعوت دی۔
    ”لگتا ہے گھر کی صفائی میں مصروف تھی’ سوری انفال تمہیں ڈسڑب کیا۔ دراصل مجھے کچھ ضروری بات کرنی تھی’ اسی لیے اس وقت چلی آئی۔” صائمہ باجی نے اندر آتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں نہیں! کوئی بات نہیں، آپ اندر آئیے۔” وہ صائمہ باجی کو اپنے ہم راہ اندر لے آئی اور صوفے پر بیٹھنے کو کہا۔ رضیہ بیگم بھی کچن سے آ گئیں ۔
    ”آؤ بیٹا! خیریت تو ہے؟”
    ”جی آنٹی! سب خیریت ہے۔ بس انفال سے تھوڑی بات کرنی تھی۔”
    ”سب ٹھیک تو ہے نا؟ کوئی مسئلہ ہورہا ہے میرے پڑھانے میں؟” انفال نے یک دم پریشانی سے پوچھا جب کہ یہ ہی سوال رضیہ بیگم کے چہرے پر بھی رقم تھا۔ حالاں کہ بسمہ کو ٹیوشن آتے ابھی محض پندرہ دن ہی ہوئے تھے۔
    ”ارے نہیں نہیں یار ماشا اللہ تمہاری ٹیوشن سے تو میں بہت مطمئن ہوں۔ وہ دراصل کل سے اسکول میں چھٹیاں ہیں اور تم نے بھی ٹیوشن سے چھٹیاں دے دی ہیں۔ اب بسمہ سارا دن گھر میں تنگ کرتی رہے گی تو میں سوچ رہی تھی کہ تم چاہے صبح کے وقت تھوڑا سا ٹائم نکال کر اسے پڑھا دیا کرو۔” صائمہ باجی کی آمد سے زیادہ ان کی بات خلافِ توقع تھی۔
    ”مگر اسکول بھی بند ہے’ کوئی ہوم ورک بھی نہیں ہوگا تو پھر یہ کیا کرے گی؟” انفال نے آہستگی سے کہا۔
    ”ہاں وہ تو ہے’ مگر جب اسکول کھلے گا تو نیا ٹرم شروع ہوجائے گا۔ تب تک تم پچھلے کام کی دہرائی کروا دو تاکہ اسے یہ پکا یاد ہوجائے۔”
    مگر بسمہ کو تو ماشاء اللہ سب کچھ فرفر یاد ہے اور ویسے بھی نئے ٹرم کے پیپرز میں پچھلا توکچھ بھی نہیں آتا۔ پھر بچی پر خوامخواہ بوجھ پڑے گا۔” انفال نے انہیں سمجھایا ۔
    ”ہاں بسمہ بہت ہوشیار ہے، یہ کور کرلے گی۔ تم بس کسی بھی ٹائم ایک گھنٹا ہی نکال کر پڑھا دو، باقی میں خود دیکھ لوں گی۔” وہ انفال کی طرف سے دی جانے والی ٹیوشن کی چھٹیوں کو بحال کرنے پر بہ ضد تھیں۔
    ”چلیں ٹھیک ہے۔ آپ ساڑھے تین بجے تک بھیج دیجیے گا۔”
    ”نہیں! تب تو بسمہ سوئی ہوئی ہوتی میں ایسا کروں گی ٹیوشن کے ٹائم پر ہی بھیج دیا کروں گی۔”
    ”جی ٹھیک ہے۔”
    بالآخر انفال نے ہتھیار ڈال دیے۔
    ”کیا ضرورت تھی ہامی بھرنے کی؟ جب سکول سے چھٹیاں ہوئیں ہیں تب انہیں مسئلہ نہیں ہوا اور تم نے جو دو تین دن کی چھٹیاں دے دی ہیں، وہ انہیں ہضم نہیں ہو رہیں۔” صائمہ باجی کے جانے کے بعد رضیہ بیگم کے چہرے پر خفگی نمایاں تھی۔
    ”کوئی بات نہیں امی! وہ ابھی نئی ہیں، ایسے منع کرنا اچھا نہیں لگتا اور پھر ہماری پڑوسن بھی ہیں۔” انفال نے پھر سے ڈسٹنگ شروع کرتے ہوئے جواب دیا۔
    ”لیکن سوچنے والی بات تو ہے کہ میں نے ٹیوشن کی چھٹی تو سب کو دی ہے اور ان کے سوا کسی کو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔” انفال نے بھی کب سے ذہن میں مچلتے ہوئے سوال کو زبان دی۔
    ”بس بیٹا! وہ تھوڑی سی بے صبری اور جذباتی ہے۔ تمہاری بات بھی اپنی جگہ صحیح ہے۔ ابھی نئی ہے اور پھر پڑوسن بھی، تم انکار کردیتیں تو بلاوجہ بدزن ہوجاتی۔” رضیہ بیگم نے بھی بالاخر انفال کی بات سے اتفاق کیا جب کہ انفال بھی پر سوچ انداز میں پھر سے صفائی میں مشغول ہوگئی۔
    ٭…٭…٭
    انفال نے جس بات کو معمولی سمجھ کر درگزر کیا تھا، وہ صرف آغاز تھا۔ اس دن کے بعد سے تو صائمہ باجی نے گویا ان کے گھر پر ڈیرے ہی ڈال لیے۔ کبھی اسکول سے فوراً ہی واپسی پر اسکول ڈائری لیے چلی آتیں، تو کبھی ٹیوشن یا اسکول میں ہوئے کسی ٹیسٹ کی کاپی تھامے کچھ پوچھنے کی غرض سے۔ اب ایسا بھی نہیں تھا کہ انفال صحیح سے ٹیوشن نہیں پڑھاتی بلکہ وہ تو بہت محنت اور توجہ کے ساتھ دل لگا کر پڑھاتی تھی مگر معلوم نہیں صائمہ باجی ازل سے بے صبری تھیں یا بیٹی کی پڑھائی کو لے کر اتنی پوزیسیو ہوجاتی تھیں۔ ہر وہ کام جو بسمہ اسکول میں کرکے آتی یا پھر ٹیوشن میں انفال کرواتی، وہ سب صائمہ باجی کو ناصرف تفصیلاً معلوم کرنا ہوتا بلکہ سمجھنا بھی لازمی ہوتا۔ گویا بیٹی کے ساتھ ساتھ ازسر نو وہ خود بھی پڑھائی کررہی تھیں۔ گزشتہ ایک ماہ میں تو صائمہ باجی کے معمولی و غیر معمولی باتوں پر کوئی بیس چکر لگ چکے تھے اور اُس دن تو حد ہی ہوگئی۔ انفال کا موڈ بہت خوش گوار تھا اور وہ اسی خوش گوار موڈ کے ساتھ ٹیوشن پڑھا رہی تھی۔
    ”انفال باجی! کل اسکول میں اردو قواعد کی ٹیچر ضرب الامثال اور محاورات کا ٹیسٹ لیں گی۔”
    ”ٹھیک ہے! آپ یاد کرلو اور ان کے مطلب سمجھ لو، پھر میں ٹیسٹ لوں گی۔” انفال نے ڈائری دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
    ”انفال باجی! مجھے یاد ہے، آپ ٹیسٹ لے لیجیے۔” انیس الرحمان نے اپنی ٹیسٹ کاپی انفال کی سمت بڑھائی۔ انفال نے ٹیسٹ لکھ کر اس کے حوالے کیا اور بسمہ کو verb کی تعریف سمجھاکر یاد کروانے لگی۔ خلاف معمول، دس منٹ بعد ہی بسمہ کو verb نہ صرف سمجھ آچکا تھا بلکہ تعریف بھی یاد ہوچکی تھی۔ وہ اب باقی بچوں کو پڑھانے میں مشغول تھی جب انیس الرحمان بھی اپنی ٹیسٹ کاپی لے کر چلا آیا۔ انفال نے چیک کرنے کی غرض سے اس کے ہاتھ سے ٹیسٹ کاپی لی اور اگلے ہی لمحے نہ چاہتے ہوئے بھی ہنسی کے فوارے اس کے منہ سے پھوٹ پڑے۔
    ”انیس! یہ کیا لکھا ہے؟” ہنسی کو کنٹرول کرتے ہوئے اس نے کچھ لائنز کو ہائی لائیٹ کرتے ہوئے انیس سے پوچھا۔
    ”انفال باجی! محاورے اور ضرب الامثال۔” معصومیت سے جو جواب ملا، اس کا نظارہ ٹیسٹ کاپی پر بھی نظر آرہا تھا۔ انفال نے نظرِثانی کی۔ محاورہ تھا،”تارے توڑنا۔” جس کا جواب کچھ یوں تھا۔
    ”سُپرمین مون کے پاس جاکے تارے توڑ کر لاسکتا ہے۔”
    ”دھوبی کا کتا، نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔” اس کا مطلب ہے وہ کتا جو دھوبی کے گھر یا گھاٹ کے باہر ہوتا ہے۔”
    ”اُف! آج کل کے بچے بھی نا۔” انفال نے اپنی مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے پہلے انیس الرحمان کو ڈپٹا اور پھر جملے صحیح کرکے لکھوانے لگی۔ تب ہی صائمہ باجی کی آمد ہوئی۔ رضیہ بیگم شاید نمازِ مغرب پڑھنے میں مصروف تھیں، اس لیے انفال نے ٹیوشن کے بچے کو ہی گیٹ کھولنے کے لیے بھیجا جو اپنے ساتھ صائمہ باجی کو لیے ٹیوشن روم میں چلا آیا۔

  • مٹی کے پتلے — قرۃ العین خرم ہاشمی

    مٹی کے پتلے — قرۃ العین خرم ہاشمی

    خشک پتوں کے ڈھیرکے پاس بیٹھی وہ ہمیشہ کی طرح گم صم تھی ۔ جگہ جگہ سے ادھڑے دھاگوں کے پھیکے پڑتے رنگوں سے سجی بوسیدہ چادر،اس کے وجود کے گرد ایک حفاظتی دیوار کی طرح تنی رہتی۔ عشنا نے اسے اپنے بہت سے کپڑے اور جوتے دیے مگر نجانے کیوں وہ اپنی آرائش وزیبائش کی سب چیزوں سے ایسے دور بھاگتی جیسے وہ اس کی موت کا سامان ہوں۔ عشنا نے گاڑی سے اتر کر ایک سرسری سی نظر اس پر ڈالی اور گہری سانس لے کر اندر کی طرف چل پڑی۔
    اندر کا ماحول حسبِ معمول تھا۔ کہیں شور تھا ، کہیں دھیمی دھیمی آوازیں تھیں، کہیں بہت سی آوازوں میں بین کرتی خاموشی اور کہیں کسی کی گہری چپ کے پیچھے زندگی کی تلخیاں موجود تھیں۔ عشنا پچھلے کئی سالوں سے یہ سب دیکھتی اور خاموشی سے آگے بڑھ جاتی۔ اس نے بہت عرصہ پہلے یہ سوچ لیا تھا کہ اسے بھی اپنی ذات کی خاموشی کے ساتھ سمجھوتہ کر کے دوسروں کے حق میں بولنا تھا، آواز اٹھانی تھی اور اس نے ایسا ہی کیا۔ وہ اپنی ٹیم کے لوگوں کے ساتھ مل کر جو کام سر انجام دے رہی تھی، وہ ایک مثال بن کر دنیا کے سامنے آرہا تھا۔
    کئی سال پہلے اس کے کچھ دوستوں نے مل کر ایک این جی او بنائی تھی جو خواتین اور بچوں کی داد رسی کرتی تھی ۔ اس این جی او کے تحت چلنے والا ”ذہنی بحالی” کا یہ ادارہ عشنا کی زیرِ نگرانی تھا جہاں معاشرے کی ٹھکرائی بہت سی خواتین کو مختلف ہنر ان کی ذہنی استعداد کے مطابق سکھائے جاتے تھے۔
    پروین کئی سالوں سے یہاں کام کررہی تھی۔ عشنا کی پروین کے ساتھ اچھی سلام دعا تھی۔ پروین پڑھی لکھی تو نہیں تھی، مگر بہت محنتی اور ایمان دار تھی۔ کچھ عرصہ پہلے وہ علاج کی غرض سے اپنی چوبیس، پچیس سال کی بیٹی کو ساتھ لیے ڈاکٹر صائمہ کے پاس آئی تھی کہ اسے لگتا تھا کہ اس کی بیٹی ذہنی توازن کھو بیٹھی ہے اور اسے علاج کی ضرورت ہے۔ پروین نے ڈاکٹر کے پوچھنے پر اس کی حالت کے بارے میں روتے ہوئے بتایا کہ ا س کی بیٹی زیادہ تر خاموش رہتی ہے اور کبھی کبھی خود سے باتیں کرتی ہے۔ کوئی بات کرو تو عجیب عجیب سے جواب دیتی ہے۔ اکثر ڈر جاتی ہے، چیختی ہے، روتی ہے اور کہتی ہے کہ اماں آس پاس بنے چھوٹے بڑے بے شمار مٹی کے پتلے ہی پتلے ہیں۔ گاؤں میں سب کہتے ہیں کہ میری بیٹی پر جن بھوت کا سایہ ہے، مگر میں بہت سے پیروں فقیروں کے در پر بھی گئی ہوں، اس کی حالت سنبھلنے کے بجائے بگڑی ہی ہے۔ یہاں جب سے کام کر رہی ہوں، بہت سی ایسی عورتیں دیکھی ہیں جو میری بیٹی کی طرح ہی خود سے باتیں کرتیں ہیں۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ میری بیٹی پر کسی چیز کا سایہ نہیں ہے بلکہ وہ پاگل ہوگئی ہے۔ آپ کے علاج سے وہ ضرور ٹھیک ہوجائے گی۔ پروین نے عشنا اور ڈاکٹر صائمہ کی بہت منتیں کی تھیں کہ کسی طرح میری بیٹی کو ٹھیک کر دو۔ ان دونوں نے اسے تسلی دی کہ پریشان مت ہو۔ وہ اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ اگلے دن وہ بڑی سی ایک چادر میںسر تا پیر لپٹی ہوئی اپنی بیٹی کو ساتھ لے آئی اور ان دونوں کے پاس چھوڑ کر اپنے روز مرہ کے کاموں میں مشغول ہوگئی۔

    عشنا کو سانولی سلونی سی بختاور پہلی نظر میں ہی بہت اچھی لگی تھی ۔ اس سے ابتدائی بات چیت کے دوران اسے ایسا بالکل نہیں لگا کہ وہ پاگل ہے، مگر ڈاکٹر صائمہ ہی اس بات کی تصدیق کر سکتی تھی۔ عشنا نے ڈاکٹر صائمہ سے اس بارے میں بات کی ۔ کچھ دنوں بعد ڈاکٹر صائمہ نے بتایا کہ بختاور شدید ذہنی دباؤ کا شکا رہے۔ اگر یہی صورتِ حال رہی تو ممکن ہے کہ وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے۔ ڈاکٹر صائمہ نے پروین سے کہا کہ اسے واپس گاوں مت بھیجو بلکہ یہیں رہنے دو۔ کیوں کہ ماحول کی تبدیلی اور نئی مصروفیت سے وہ بہت جلد بہتر ہو جائے گی ۔ پروین پہلے ہی اسے اپنے پاس رکھنا چاہ رہی تھی ۔ اس کے لیے بھی اتنے بڑے شہر میں ایک آسرا اپنی بیٹی کا مل رہا تھا۔ بیٹا تو اپنی بیو ی اور بچوں کے ساتھ مگن ، ماں کو شہر بلا کر بھول چکا تھا اسی لیے تو پروین نے یہاں کام شروع کیا تھا جہاں اسے رہنے کے لیے کوارٹر ملا ہوا تھا اور تنخواہ بھی مناسب تھی۔ پروین کا کام آیا گیری کا تھا۔ وہ دوسرے عملے کے ساتھ ان خواتین کی دیکھ بھال میں مدد کرواتی تھی۔ بختاور کو اپنے پاس لا کر وہ بہت خوش تھی۔ دو مہینے کے بعد بختاور قدرے بہتر ہوگئی تھی۔ وہ ماں کے ساتھ کام میں ہاتھ بٹانے لگی، تو عشنا کو اچھا نہیں لگا کہ وہ کام بھی کرے اور اسے معاوضہ نہ ملے۔ اسی لیے عشنا نے اسے بھی کام پر رکھ لیا۔ اسے بھی بیٹھے بیٹھائے روزگار مل گیا۔ پروین بہت خوش تھی کہ بختاور کی حالت بہتر ہوگئی ہے اور وہ کمانے بھی لگی ہے ۔ اب کم از کم کسی کی محتاج تو نہیں رہے گی نا! ایک دن باتوں ہی باتوں میں پروین نے بتا یا۔
    ”بچپن ہی سے اسے گڈے گڑیوں سے کھیلنے کا بہت شوق تھا ! مگر ہماری اتنی حیثیت نہیں تھی کہ اس کی یہ خوا ہش پوری کر سکتے ۔اس کا ذہن بہت تیز تھا ۔یہ چھوٹی سی تھی جب سے اپنے شوق کی خاطر مٹی کے پتلے بناتی تھی ۔ سار ا سارا دن مٹی سے کھیلتی ، مٹی ہی لگتی تھی ! ”پروین نے ماضی کی یاد کا رنگ ، حال کے پانی میں گھولا تھا ۔ عشنا نے دلچسپی سے سامنے ہری گھاس پر سر جھکائے بیٹھی بختاور کی طرف دیکھا۔ اپنے ذکر پر وہ ایسے لاتعلق رہتی تھی جیسے کسی اور کی بات ہو رہی ہو ۔پروین نے ” میڈم صاحبہ” کے چہرے پر دلچسپی کے رنگ دیکھے، تو پرجوش ہو کر مزید بتانے لگی۔
    ”اللہ بخشے میری ماں کہتی تھی کہ پروین تیری دھی پر کسی چیز کا سایہ ہے ! کافروں والے کام کرتی ہے۔ مٹی سے بت بناتی ہے ،روک اسے ، کوئی دم دُرود کروا نہیں تو پچھتائے گی تُو…!”
    ”میڈم صاحبہ ٹھیک ہی تو کہتی تھی میری ماں! چنگی بھلی نظر آنے والی میری بختاور، عجیب عجیب باتیں کر نے لگی ہے ! کہتی ہے کہ اماں ہر طرف بت نظر آتے ہیں !اثر ہو گیا ہے اس کے ذہن پر ! سب کہتے ہیں کہ میری دھی پاگل ہو گئی ہے۔ اس کا گھر والا بھی تنگ آگیا ہے ! کہتا ہے کہ یہ بنجر زمین ہے ، کوئی سکھ نہیں دے سکتی ! نہ اولاد کی خوشی دے سکی ہے اور نہ بیویوں والا سکھ…! بس بوجھ کی طرح ہے اور اس نے بوجھ اتار پھینکا !مگر میڈم صاحبہ !ماں باپ تو اپنی والاد کا بوجھ تما م عمر ہی اٹھاتے ہیں ناں! وہ کیسے اپنا دامن بچا کر منہ پھیر لیں ۔ ان کے تو دل پر ہاتھ پڑتا ہے۔” عشنا کو ایسا لگا کہ جیسے ایک لمحے کے لیے بختاور کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ پھیلی تھی، مگر فوراً ہی اس نے اپنا چہرہ سپاٹ بنا لیا ۔ عشنا نے سر جھٹک کر دوبارہ پروین کی طرف دیکھا تھا ۔پروین کے پکے سانولے چہرے پر بھی دکھ کی کالی لکیریں بہت واضح تھیں۔ اس کی بے رنگ آنکھوں میں آنسو بھی پھیکے اور بے رنگ سے تھے ۔ نجا نے کیوں غریب کی زندگی میں کوئی رنگ گہرا اور پکا نہیں ہوتا ، سوائے غربت اور ذلت کے…!
    ”میری بات ہوئی ہے ڈاکٹر صائمہ سے ۔ وہ بختاور کی ذہنی حالت سے مطمئن ہیں، مگر لگتا ہے کہ وہ کسی ذہنی مسئلے یا دباؤ کا شکا رہے۔ اس لیے سب سے کٹ کر رہنے لگی ہے ۔تم امید رکھو ، وقت کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
    عشنا نے ہمیشہ کی طرح اسے تسلی دی تھی، مگر غریب کی جھولی میں اتنے چھید ہوتے ہیں کہ تسلی بھی وہاں ٹھہر نہیں پاتی۔ اس لیے کچھ دنوں کے بعد پروین پھر کسی نہ کسی بات سے پریشان ہو کر عشنا کے پاس دوڑی چلی آتی تھی۔ اگلے ہفتے کا اہتمام کیا گیا تھا عشنا کے پانچ سالہ بیٹے ارسلان کی سالگرہ تھی۔ گھر میں بڑے پیمانے پر تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔ عشنا نے پروین اور بختاور کو بھی کام کی غرض سے بلا لیا۔ وہ دونوں صبح سویرے ہی اس کے بڑے اور عالیشان گھر میں پہنچ گئیں تھیں اور آتے ہی سارا کام سنبھال لیا۔ اس دن عشنا کا شوہر خاور رضا بھی گھر پر تھا۔ اس عشنا معمول سے زیادہ چاق چوبند اور متحرک تھی کیوں کہ خاور رضا کا مزاج پل میں شعلہ بن جاتا تھا ۔ اسے چھوٹی سے چھوٹی بات بھی غُصّہ دلا دیتی تھی۔ پھر آج تو دن بھی بہت خاص تھا۔ خاور کو اپنی بڑی دونوں بیٹیوں سے بہت محبت تھی، مگر ارسلان میں سب کی جان تھی۔ وہ بہنوں کا لاڈلا تھا اور والدین کا بھی۔ آٹھ سالہ نور اور سات سالہ فاطمہ بھی بہت پرجوش ہو کر تیاریوں میں لگی ہوئیں تھیں۔
    ”عشنا!” خاور نے تند خو لہجے میں اسے پکارا تھا ۔ بختاور کو کام سمجھاتی وہ ”جی” کہتے ہوئے پلٹی تھی۔
    ”جاہل عورت! میں نے کہا بھی تھا کہ یہ کتابیں ردی میں پھینک دو! پرانی کتابیں ہوں یا پرانی چیزیں، مجھے دونوں سے سخت نفرت ہے۔ یہ بوسیدہ اوراق، نحوست کی علامت ہوتے ہیں۔ زندگی میں ہر دم نئی اوربغیر کسی سلوٹ یا شکن کے چیزیں ہونی چاہئیں! اٹھا و یہ سب کچھ!”
    خاور جو عشنا کو جاہل کہہ رہا تھا۔ خود گلا پھاڑ کر چلاتا ہوا، سب سے بڑا جاہل لگ رہا تھا۔ عشنا نے جلدی سے پاس موجود بختاور کو آواز دی جو خاموشی سے آگے بڑھی اور زمین پر گری کتابیں اٹھانے لگی۔ خاور منہ ہی منہ میں بڑبڑاتا ہوا، سگار سلگانے لگا۔ اس کا رخ دوسری طرف تھا۔ جب بختاور نے کتابیں اٹھا لیں، تو دروازے کی طرف جاتے ہوئے، ایک لمحے کے لیے خجالت بھرا چہرہ لیے کھڑی عشنا کے پاس رک کر بولی:
    ”میڈم صاحبہ! کیا پرانی چیزوں اور بوسیدہ ہوتی کتابوں کی طرح، بوسیدہ اور بساند دیتے رشتوں کو بھی زندگی سے نکال دینا چاہیے؟ اگر ایسا ہے، تو پھر آپ نے دیر کیوں کی ہے؟”
    خاور رضا نے حیرت سے پلٹ کر بد رنگ اوڑھنی میں لپٹے وجود کو دیکھا۔ وہ صرف اس کی پشت ہی دیکھ سکا، مگر اس کا متوازن لہجہ اور لفظ اسے چابک طرح لگے تھے۔ عشنا خود اس کی جرأت پر دنگ رہ گئی تھی۔ وہ تیزی سے خاور کی طرف بڑھی اور معذرت خواہ لہجے میں بولی:
    ”اسے کچھ مت کہنا ۔ یہ ذہنی مریضہ ہے۔ وہ تو میں اسے…!” عشنا کی بات ختم ہونے سے پہلے بختاور وہاں سے جا چکی تھی اور خاور کسی گہری سوچ میں گم خلاؤں میں گھورتا رہ گیا تھا۔ اتنی جرأت تو کبھی اس کی پڑھی لکھی، اپ ٹوڈیٹ بیوی نے نہیں کی تھی ، جسے ایک زمانہ سراہتا تھا۔ عورت کی ایسی جرأت، مرد کی انا پر کڑی ضرب کی طرح ہوتی ہے اور یہ ضرب ہی اسے بلبلانے اور تسخیر کرنے پر اکساتی ہے۔ وہ بھی یہ سوچ کر تسخیرکرنے نکلا تھا کہ سامنے ایک کمزور اور زمانے کی ستائی عورت ہے جو بہت جلد اس کی جال میں پھنس جائے گی، مگر سامنے کمزور اور زمانے کی ستائی عورت نہیں، بلکہ زمانے کی سکھائی اور برتی ہوئی ایک عورت کھڑی تھی ۔ اس دن عشنا کو پہلی بار پتا چلا کہ خود میں گم رہنے والی بختاور پڑھنا ،لکھنا بھی جانتی ہے کیوں کہ وہ اس کی اجازت سے سب پرانی کتابیں اپنے ساتھ لے گئی تھی۔ اب عشنا اکثر اسے فلاحی سنٹر میں کسی نہ کسی کونے میں بیٹھی کتاب کے ساتھ مگن دیکھتی تھی۔ کتاب پڑھتے ہوئے وہ بہت پرسکون اور خوش نظر آتی تھی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس دوران خاور رضا نے بھی کئی بار یہاں کا دورہ کیا تھا۔ کبھی کوئی فنڈدینے کے بہانے اور کبھی کوئی نئے پروجیکٹ کا آئیڈیا لے کر اور کچھ نہیں تو عشنا کے پاس ہی کسی نہ کسی کام کے بہانے آجاتا تھا ۔ عشنا کے لیے یہ تبدیلی بہت خوشگوار تھی ۔ ان کے تعلق پر جمی سرد برف پگھلنے لگی تھی ۔ ان دنوں وہ خوش تھی اور ہواؤں میں اُڑ رہی تھی۔ جب بہار کی ایک گلابی شام، کیاری سے پھول چنتی بختاور سے اس نے سوال کیا:
    ”لگتا ہے کہ تم یہاں آکر بہت خوش ہو!” یہ سن کر اپنی جھولی میں پھول رکھتی وہ مسکر ا دی۔
    ” خوش…! ہاں شاید…! کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے ناں کہ اپنی زندگی کی بند گلی کا ایک سرا ، کسی دوسرے کی زندگی سے ہو کر گزرتا ہے۔
    کچھ عرصہ پہلے تک مجھے لگتا تھا کہ میرا وجود جیتا جاگتا، سانس لیتا جسم نہیں ہے، بلکہ یہ بھی میرے ہاتھوں سے بنائے مٹی کے پتلوں کی طرح ہے۔ بے ترتیب، بے ڈھنگا۔۔۔! پھر مجھے لگنے لگا کہ صرف میرا وجود ہی نہیں، میرے آس پاس بے شمار، پتلے ہی پتلے ہیں۔ اتنے پتلے کہ اُنہیں گنتے ہوئے میری آنکھیں دکھنے لگیں۔ میری سانسیں رکنے لگیں تھیں اتنی حبس اور گھٹن تھی ان کے خاک اڑاتے جسموں کی…! مجھے لگتا تھا کہ یہ صرف میرے ساتھ ہی ہو رہا ہے۔ میں ہی مٹی کے پتلوں کی قید میں سانس لیتا ایک وجود ہوں۔
    مگر میڈم صاحبہ! ہر گزرتے دن کے ساتھ میں اب جان گئی ہوں کہ چاہے کسی غریب کی جھونپڑی ہو یا کسی امیر کا محل ! مٹی کے بنے چھوٹے بڑے پتلے ہر جگہ ہی موجود ہوتے ہیں۔”
    ”کیا مطلب ہے تمہارا؟” عشنا نے الجھ کر پوچھا۔ وہ مسکرا کر کچھ دیر سوچتی رہی اور پھر اس کی طرف متوجہ ہوکر بولی ۔
    ” ایک کہانی سنیں گی آپ…!” بختاور کا انداز جھجھک لیے ہوئے تھا ۔
    ” ہاں ضرور ! اگر وہ کہانی تم خود ہو تو…!” عشنا کا انداز حوصلہ افزاتھا ۔وہ چاہتی تھی کہ بختاور اپنے اندر کی گھٹن کو اظہار کاراستہ دے ۔
    ”اچھا حیرت ہے آپ کہانی سننا چاہتی ہیں اور وہ بھی میرے جیسی عام اور معمولی عورت کی…!” بختاور نے تعجب کا اظہار کیا۔ عشنا نے پرُ سکون انداز میں کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر متوجہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔

  • سرپرست — فوزیہ احسان رانا

    سرپرست — فوزیہ احسان رانا

    وشمہ چت لیٹی خالی الذہنی کی سی کیفیت میں کمرے کی چھت کو گھور رہی تھی۔ وہ سوچوں کی اندھیر نگری میں بھٹک رہی تھی لیکن اسے کوئی راہ سجھائی نہیں دے رہی تھی۔ وہ ہانیہ کو وہ خوشی دینا چاہتی تھی جو اس کے من کی مراد تھی۔ اسم شاپنگ کرکے ابھی تک نہیں آیا تھا۔ دو دن بعد اُس کی فلائٹ تھی اور جہاں اکیلی زہریلی سوچوں کے ساتھ لڑتے لڑتے نڈھال ہورہی تھی۔ جب وہ چھت کی کڑیاں ملاتے ملاتے تھک گئی تو اس نے پژ مردہ لمبی سی سانس خارج کی۔
    ابھی دو دن پہلے کی ہی تو بات ہے جب ہانیہ کچن میں اس کے پاس آئی تھی۔
    ”بھابی! مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے۔” وہ گھبرائی ہوئی سی تھی۔
    ”ہاں بولو ہانیہ۔ ” وشمہ نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔
    ” میں …وہ …بھابی…”اس کی پیشانی پر پانی کی بوندیں پھوٹیں تو وشمہ چونکی۔ اب ایسی بھی کیا بات ہے جو ہانیہ کہتے ہوئے یوں ہچکچا رہی ہے۔وشمہ نے ہانیہ کو کندھوں سے پکڑا اور اُسے اپنے کمرے میں لے آئی۔ جگ سے گلاس میں پانی انڈیلا اور ہانیہ کو تھما دیا۔ وشمہ نے اے سی کی کولنگ بڑھا دی اور ہانیہ کے عین سامنے بیٹھ گئی۔
    ”اب بتائو ایسی بھی کیا بات ہے جو تم اتنی بوکھلائی ہوئی ہو۔”
    ”بھابی میں اور زین ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔” آخر کار ہانیہ نے اپنے دل کی بات کہہ ہی ڈالی۔ وشمہ کا دماغ بھک سے اڑا ۔ وہ خالی بے تاثر نگاہوں سے ہانیہ کو دیکھے گئی۔
    ” یہ تم کیا کہہ رہی ہو ہانی جب کہ تم اچھی طرح جانتی ہو۔”وشمہ نے اپنی بات ادھوری چھوڑی۔
    ” جی میں جانتی ہوں کہ ہمارے خاندان میں برادری سے باہر شادیاں نہیں کی جاتیں۔ ” ہانیہ کی آواز کسی گہرے کنویں سے نکلتی محسوس ہو رہی تھی۔اس کے لہجے میں کچھ ایسا تھا جووشمہ کو چبھتا ہوا سا محسوس ہوا تھا۔
    ” سب جاننے کے باو جود تم نے اتنی احمقانہ بات کیسے کی ہانی؟تمہاری نسبت بچپن سے طے ہے۔” وشمہ نے جیسے اسے یاد دلایا۔
    ”جی مجھے اس بات کا اچھی طرح علم ہے مگر میں کسی ایسے رشتے کو نہیں مانتی جو زبر دستی طے کیے جاتے ہیں۔ ” وہ بھڑکی۔
    ”ہانی تمہارے ماننے یا نہ ماننے سے حقیقت بدل تو نہیں جائے گی نا، اور برادری والے کیا کہیں گے۔ ہم چاچا نواز کو رشتے سے انکار کیسے کر سکتے ہیں اور تمہارے بھائی بھی نہیں مانیں گے۔” وشمہ پتا نہیں اسے کیا سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی اور ہانیہ دل میں جو ٹھانے بیٹھی تھی۔ وشمہ اسے اس غلطی سے باز رکھنا چاہتی تھی مگر ہانیہ پر کسی بات کا اثر نہیں ہورہا تھا۔ ہانیہ وشمہ کو عجیب جتاتی سی نظروں سے دیکھتی سر نفی میں جھٹکتی رہی۔ ہانیہ کی آنکھوں سے سلگتے انگارے برس رہے تھے جس کی تپش کی آنچ میں وشمہ کا دل لپٹتا جا رہا تھا۔

    ”مجھے برادری سے کچھ نہیں لینا دینا بھابی اوکے؟ مجھے صرف ا سم بھیا کی پروا ہے اور اُنہیں بات کرنا اور ان کو منانا آپ کا کام ہے۔ ورنہ میں سمجھوں گی کہ آپ نے میرا مقدمہ لڑا ہی نہیں۔ بنا لڑے ہی ہار گئیں۔ ” ہانیہ نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا تو وشمہ روہانسی ہو گئی۔
    ”ٹھیک ہے، میں اسم سے بات کرتی ہوں شاید کوئی راہ نکل آئے۔” وشمہ نے ہولے سے کہا تو ہانیہ کے چہرے کے تنے ہوئے اعضا کچھ ڈھیلے پڑے، مگر ابھی بھی وہ وشمہ کو عجیب سی نگاہوں سے تکے جارہی تھی۔
    ”مجھے پوری امید ہے کہ آپ بھیا سے ہر بات منوا سکتی ہیں۔آپ بھی تو ہمارے خاندان کی نہیں ہیں۔ آپ اور بھیا بھی تو محبت کرتے تھے اور بھیا نے امی جی کو جان دینے کی دھمکی دے کر بالآخر منا ہی لیا تھا۔ کیا تب ہماری خالہ ہم سے خفا نہیں ہوئی تھیں؟ آپ نے تب ہماری خیر خواہی کا کیوں نہیں سوچا تھا کہ آپ کے آنے سے ہمارے سارے ننھیالیوں نے ہمیں چھوڑ دیا اور آج تک کبھی دوبارہ کوئی ہمارے گھر نہیں آیا۔ تب آپ کو ہمارے خاندان کی عزت کا احساس کیوں نہیں تھا؟ میری زین سے شادی کی صورت میں ہمارے ددھیالی ہم سے روٹھ جائیں گے اور آپ کو بہت فکر ہو رہی ہے۔ واہ بھابی واہ، کیا کہنے آپ کے۔اپنے لیے کچھ اور سوچا اور میری باری آپ کو نصیحتیں کرنا یاد آ گیا۔ میں شادی زین سے ہی کروں گی سنا آپ نے ۔” وہ دو ٹوک اور اٹل لہجے میں کہتی پا ئوں پٹختی اپنے کمرے میں چلی گئی اور وشمہ کا سانس وہیں اٹکا رہ گیا۔ وہ اسے بغیر لگی لپٹی کیسے کھری کھری سنا گئی تھی اور وشمہ کی تو بولتی ہی بند ہو گئی تھی۔ وہ جو بڑی معتبر بن کر ہانیہ کو مشورے دے رہی تھی ہانیہ الٹا اسے ہی آئینہ دکھا کر گویا اسے اس کی اوقات یاد دلا گئی تھی۔ ہانیہ نے کچھ غلط تو کہا بھی نہیں تھا۔ وشمہ چند ثانیے گم صم سی ہاتھ رخسار پر ٹکائے لمبے لمبے سانس لیتی رہی۔
    ٭…٭…٭
    ”اسم میری بات تو سنیں پلیز۔ ” وشمہ رو دینے والی ہو رہی تھی۔
    ”مجھے نہیں سننی یہ فضول بات۔ ” وہ غصے سے بولا۔
    ”وہ مجھ سے بد گمان ہو جائے گی اسم اور میں ایسا نہیں چاہتی۔ میں اس کی نظر میں اپنے لیے شک نہیں دیکھ سکتی۔”وشمہ رونے لگی۔
    ”میں اس ٹا پک پر بات ہی نہیں کرنا چاہتا اور ہاں، ہانی کو اپنی زبان میں سمجھا دینا کہ دوبارہ اس لڑکے سے نہ ملے ورنہ…”
    ”ورنہ کیا۔ ” وشمہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
    ”ورنہ میں اسے دوبارہ یونیورسٹی نہیں جانے دوں گا۔ ” وہ قطعیت سے کہتا ڈسٹ بن کو ٹھوکر مارتا کمرے سے نکل گیا اور تب سے وشمہ ایسے ہی بے حس لیٹی تھی۔ ہانیہ کے زہر میں بجھے جملے اس کی سماعتوں میں دہکتے انگاروں کے مانند برس رہے تھے۔ آنسو وشمہ کا تکیہ بھگو رہے تھے وہ ڈر رہی تھی کہ وہ ہانیہ کو کیا جواب دے گی۔ کوئی امید کوئی آس کچھ بھی تو نہیں۔ وہ پہلے ہی شاکی نگاہوں سے تکنے لگی تھی ۔ اب اور زیادہ متنفر ہو جائے گی۔ وہ دکھتے سر کے ساتھ روئے جا رہی تھی۔ پتا نہیں آنے والا وقت کیسے شک و شبہات ہانی کے دل میں ڈال دے گا۔ وشمہ نے کبھی ہانیہ سے روایتی بھابیوں والا سلوک نہیں رواں رکھا تھا۔ وہ اسے ایک ماں کی طرح محبت کرتی تھی۔ ہانیہ بھی اچھی لڑکی تھی، مگر اب زین والا معاملہ بہت گمبھیر تھا۔ کیا کرے کیسے سلجھائے۔ اسم کوئی بات ماننا تو درکنار سننے تک کا روادار نہیں تھا۔ اس نے تھک کر سر تکیے پر گرادیا۔ اس کے آنسو بے دریغ بہے جا رہے تھے۔ اسم غصے میں اکیلا ہی شاپنگ کرنے چلا گیا تھا۔ وہ رات کب واپس آیا وشمہ کو کچھ پتا نہیں چلا۔ وہ کر وٹیں بدلتے بدلتے نہ جانے کب سو گئی۔ اسم جب گھر آیا تو اس کا دل دکھ سے بھر گیا۔ و شمہ کے گالوں پر ابھی بھی اشکوں کے نشان تھے۔ وہ وشمہ کو اتنا چاہتا تھا کہ رونا تو درکنار وہ وشمہ کی پلکوں پر نمی تک بر داشت نہیں کرتا تھا۔اسم بیڈ پر لیٹا تا دیر محویت سے اُسے دیکھتا رہا۔
    ٭…٭…٭
    اسم کے آفس جانے کے بعد وشمہ اس کا بیگ تیار کر رہی تھی جب ہانیہ آندھی اور طوفان کی طرح کمرے میں داخل ہوئی۔اُسے دیکھتے ہی وشمہ کا خون خشک ہو گیا وہ جس لمحے سے کترا رہی تھی وہ اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ اس کے سامنے آن کھڑا ہوا تھا۔
    ”بات کی آپ نے بھیا سے؟” ہانیہ نے کھردرے لہجے میں پوچھا۔
    ”ہاں کی تھی۔” اس نے کسی مجرم کے مانند سر جھکائے رکھا تھا۔ اس میں ذرا بھی ہمت نہیں تھی کہ وہ ہانیہ کی طرف دیکھ سکے۔
    ” پھر؟” ہانیہ نے غضب ناک نظروں سے اسے گھورا۔
    ” وہ نہیں مان رہے ہانی۔” وشمہ کانپتے لبوں کے ساتھ قدرے مضطرب تھی۔
    ”ہاں! میری ماں نہیں ہے نا جس سے میں ضد کر کے اپنی بات منوا سکوں۔ ” ہانیہ ہچکیاں لے کر رونے لگی۔ وشمہ کا دل اتنی زور سے دھڑکا گویا آخری بار دھڑک رہا ہو۔ وہ عجلت میں اٹھی اور ہانیہ کو گلے لگانے کے لیے آگے بڑھی مگر ہانیہ نے اس کا ہاتھ بے دردی سے جھٹک دیا۔ اتنا انسلٹنگ انداز، ایسی سبکی وشمہ چور سی اپنی نگاہیں چرانے لگی۔ اس نے بھی وہی کام کیا تھا جو ہانیہ کرنا چاہ رہی تھی۔ اب وشمہ کس برتے پر اسے سمجھاتی اور وہ سمجھنا چاہتی بھی کب تھی۔ محبت کرنے والے کب کسی کی سنتے ہیں ۔
    ”جب بھیا نے خود محبت کی، آپ کو پانا چاہا پا لیا اور میری باری آئی تو خاندان والے یاد آ گئے۔ اس لیے نا کہ میرے ماں باپ نہیں ہیں۔ اس لیے نا کہ میں آپ لوگوں کے ساتھ ایک بوجھ بن کے رہ رہی ہوں ۔” وہ بے تکان بولے جا رہی تھی۔ اس بات سے بے خبر کہ اسم نے اس کی ساری باتیں سن لی تھیں۔ وہ کسی کام سے گھر آیا تھا اور اس نے ہانیہ کو یہ سب کہتے سنا تو ایک لمحے کے لیے اس کا دل پگھلنے لگا مگر دوسرا پل زیادہ خوف زدہ کر دینے والا تھا، بدنامی کا خوف ۔لوگ کیا کہیں گے، برادری خاندان اور روایات وغیرہ۔
    ”ایسے مت کہو ہانی، اسم تم سے بہت محبت کرتے ہیں اور میں بھی۔”
    ”بس کر دیں یہ ڈھکوسلے ۔بہت ہو گیا، اسم بھائی کی منافقت دیکھ لی میں نے۔اتنا تضاد، یہ رویوں کا تضاد بہت ہی تکلیف دے ہوتا ہے۔ میں مانتی ہوں کہ وہ سر پر ست ہیں میرے، مگرمیری تر جیح کیا ہے، میں کیا سوچتی ہوں، یہ انہوں نے کبھی نہیں دیکھا۔ انہوں نے کبھی میری خوشی کا خیال نہیں رکھا۔ بس حکم صادر کیا اور میں ان کی ہر بات بنا چوں چرا کیے مانتی چلی گئی۔ کبھی سر نہیں اٹھایا۔ میں کیا پڑھوں گی کہاں پڑھوں گی سب فیصلے انہوں نے ہی کیے اور میں نے کوئی اعتراض کیے بنا مانے، مگر یہ میری زندگی کا سب سے خاص اور اہم فیصلہ ہے جس پر میری آنے والی پوری زندگی کا دارو مدار ہے۔میں اپنے اس فیصلے سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹوں گی۔ اب میں کسی کی نہیں سنوں گی۔ اسم بھیا کی بھی نہیں۔ ” وہ چیخ چیخ کر بھڑاس نکال رہی تھی، مگر ایک زناٹے دار تھپڑ نے اسے چپ کرنے پر مجبور کر دیا۔ وہ گال پر ہاتھ رکھے دم سادھے دکھ کی نہ جانے کون سی سیڑھی پر کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں میں حیرت جم کر رہ گئی تھی۔ وہ یک ٹک ششدر سی اسم کو تکے جا رہی تھی۔ کیا کچھ نہیں ٹوٹا تھا اس کے اندر۔وہ سسکی اور شکوہ کناں نگاہوں سے اسم کو دیکھتی ہوئی بے طرح رو دی۔ اس کے رونے میں اتنی تڑپ تھی کہ ایک لمحے کے لیے اسم کا دل بھی رک سا گیا مگر وہ کمزور پڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اسی لیے اسم نے چنداں پروا نہیں کی۔
    ”اتنی زبان درازی؟ مجھے یقین نہیں آ رہا ہانیہ کہ یہ تم ہو؟ دفع ہو جائو میری نظروں سے اور سنو کل سے تم یونیورسٹی نہیں جائو گئی۔ ” وہ کہہ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے کمرے میں چلا گیا۔ وشمہ ابھی بھی زمین پر نظریں گاڑے ساکت کھڑی تھی اور وہ جو پٹر پٹر بول رہی تھی اس قدر شاک میں تھی گویا اسے سکتہ ہو گیا ہو۔وہ اندر تک چھیدتی کاٹتی نظروں سے وشمہ اور آسم کو دیکھتی زارو قطار روتی اپنے کمرے میں بھاگ گئی۔ وشمہ اپنی جگہ چور سی بنی زمین میں گڑی جا رہی تھی۔
    ٭…٭…٭

  • پہیہ —- نوید اکبر

    پہیہ —- نوید اکبر

    سنہ ٢٠٠٧ء…
    جی ٹی روڈ قصبوں اور شہروں کو چیرتی ہوئی لاہور کی طرف بڑھ رہی تھی۔ جوں جوں لاہور کا فاصلہ کم ہوتا جاتا تھا، لاہور اُتنا ہی دور ہوتا جا رہا تھا… اور دور ہوتے ہوتے اتنا دور ہو گیا کہ ایک جھوٹے خواب کی طرح دھند لانے لگا۔
    لارنس گارڈن کی پہاڑیوں میں چھپے بینچ (bench) جہاں وہ اُسے چھونے کے بہانے تراشا کرتا تھا، اب خیالوں میں موم کی طرح پگھل رہے تھے۔ راحت بیکرز کی کون آئس کریم جو پگھل پگھل کر اُن کی انگلیوں کو میٹھا کر دیتی تھی، اب خشک زبان کی کڑواہٹ کو یاد بھی نہ تھی۔ یہ کڑواہٹ بھی عجب تھی۔ زبان کڑوی تھی یا ہونٹ، سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ ایسے آہستہ آہستہ پھیل رہی تھی جیسے مغرب کے بعد دریا کا پانی خشک ساحل ریت پر پھیلنے لگتا ہے۔ اُف! … اب آنکھ بھی کڑوی ہو گئی۔ سڑک کچھ ٹھیک سے دکھائی نہیں دیتی تھی۔ عجیب ناگن کی طرح پینترے بدل رہی تھی۔ اُس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ گاڑی میں گھس کر اُس لڑکی کے ہاتھ پر ڈنگ مار دے۔ پھر آہستہ آہستہ وہ با اختیار ہونے لگی۔ پہلا ڈنگ … دوسرا ڈنگ… تیسرا… ہاتھ بے قابو ہونے لگے۔ گرفت ڈھیلی پڑنے لگی۔
    ہاں زندگی پر اُس کی گرفت ڈھیلی پڑ رہی تھی۔ پھر حمیرا کے کان میں کسی آخری حس نے سرگوشی کی اب وقت آگیا تھا کہ بریک پر پیر رکھ دیا جائے۔ بریک پر پیر … پر کیسے؟
    ٭٭٭٭
    ڈیفنس کے اس دو کنال کے سنسان مکان میں ٹونی کی دل چسپی کا مرکز صرف دو چیزیں تھی۔ ایک حمیرا اور دوسری وہ چند مچھلیاں جو ٹی وی کے اوپر شیشے کے vase میں دن رات تیرتی پھرتی تھیں۔ جب اُن میں سے کوئی مچھلی تیرنا بند کر دیتی تو حمیرا کو لگتا ٹونی چپ ہو گیا ہے۔ ٹونی کی آنکھیں بند رہنے لگتیں۔ وہ ٹونی کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر اُسے واپس دنیا میں آنے کا پیغام دیتی۔ بند آنکھوں والا چہرہ… کھلی آنکھوں والا چہرہ… شہاب کا چہرہ۔
    ٹونی واپس لوٹ آتا اور دم ہلا ہلا کر پورے گھر میں دوڑتا۔ خوب مذاق اُڑاتا حمیرا کا۔
    ٹونی کا شہاب حمیرا تھی۔ وہ کبھی سمجھ ہی نہیں پایا کہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے ٹراؤزر اور ٹی شرٹ میں لپ سٹک لگاتی حمیرا آئینے کے اُس پار شہاب کی خوابیدہ نگاہوں سے داد سمیٹ رہی ہے۔ حمیرا کی اس حرکت پر پاس پڑی میڈیکل فرسٹ ائیر کی کتاب کے ادھ کھلے صفحے ہوا سے اُلٹ پلٹ کر شور مچاتے۔ وہ آئینے کے اس پار شہاب سے حمیرا کی شکایت کرتی۔ کبھی وہ بھی محور تھے ان آنکھوں کا۔ کبھی یہ دو آنکھیں صرف ان لفظوں کے لئے ہی جا گتی تھیں۔ میڈیکل کی مشکل اصطلاحات (Terminologies) جب آنکھوں کے ذریعے ذہن میں اُترتیں تو رات بھر جاگتیں، کتابیں کے کھلے ہارے صفحے آنکھوں کو داد دیتے عقل کی۔ کیا ہو گیا تھا اس عقل کو جو کبھی اس لڑکی کا غرور تھی۔ کتنی پریکٹیکل باتیں کرتی تھی وہ۔ کیا وہ واقعی بھول گئی تھی کہ دل محض ایک جسمانی عضو ہے، جس کا واحد کام جسم میں خون کی گردش رواں رکھنا ہے… اور بس۔ یہی تو لکھا تھا Greys Anatomy میں۔ کیا وہ سب بھول گئی تھی؟ سہیلیاں، کالج، بازار، شہر، دنیا سب؟ اگر وہ ٹی وی ہی لگا لیتی تو اُسے پتا چل جاتا کہ اُس کے اپنے ملک میں سب اوپر نیچے ہو رہا تھا۔ جج کرسیوں سے اُتر گئے تھے، صدر کرسی سے چپکاہواتھا، سیاست دان اُسے اُتارنے اور خود کرسیوں پر چڑھنے کے لئے مر رہے تھے، اور دہشت گرد … وہ ان سب کو اُڑا رہے تھے۔ بجلی کے بعد آٹا بھی غائب ہو گیا تھا لیکن لوگ پریشان کم اور خوف زدہ زیادہ تھے کہ اُن کے پیارے جو صبح گھر سے نکلے تھے کیا وہ شام کو لوٹ پائیں گے یا نہیں؟

    دنیا تباہ ہو رہی تھی اور وہ بے خبر تھی۔ اُس کے پاپا اکثر CNN دیکھتے ہوئے اُس کے لئے پریشان ہوجاتے۔ وہ سال میں صرف ایک بار پاکستان آتے تھے اور وہ بھی اپنی گوری بیوی کے ہمراہ۔ اس سال تو یہ معمول بھی ٹوٹ گیا تھا۔ شائد کیتھرین اس سالانہ معمول سے بور ہو گئی تھی۔ حمیرا کی ممی کی قبر پر پھول چڑھانا کم از اُس کی ideal vacation کے تصور سے میل نہ کھاتا تھا۔ بھائی کا فون اکثر آجاتا۔ پڑھائی کیسے چل رہی ہے؟ پیسے ہیں کہ نہیں؟ امتحان کب ختم ہوں گے؟ تم اکیلے سارا دن کیا کرتی رہتی ہو؟ اب وہ کیا بتاتی کہ وہ آج کل سارا دن کرتی رہتی ہے۔ کبھی سوچنے بیٹھتی تو پریشان ہو جاتی۔ صبح کمرے کی کھڑکی بند کرنے کا خیال آیا تھا۔ باہر کچھ چڑیاں گھاس پہ بیٹھی چہچہا رہی تھیں۔ نل سے قطرہ قطرہ پانی ٹپک رہا تھا۔ پلک جھپکی تو چڑیاں غائب تھیں۔ نل سے ایک قطرہ ابھی بھی ٹپک رہا تھا لیکن چڑیوں کی صبح دنیا کے کسی اور کونے چلی گئی تھی۔ اُس کا گھر، اُس کی گلی، اُس کا شہر سب اندھیر ہو چکا تھا۔ شائد یہ اندھیرا اُس کے اندر اُتر جاتا، اگر اندر جگہ ہوتی۔ اندر تو شہاب کا سورج تھا،اور وہ اس سورج کی زمین … مسلسل گردش میں۔
    شہاب کون تھا؟
    سال پہلے جب نادیہ نے کالج کے فن فیئر میں اُس کا تعارف کرایا اُس وقت وہ کسی دس سالہ بچے کے چہرے پر کارٹون پینٹ کر رہی تھی۔ ایک نظر اُٹھا کر دیکھا پر دھیان دوبارہ کارٹون کی طرف چلا گیا تھا۔ نادیہ کے پہلو میں کھڑا شخص تو واضح طور پر نظر نہ آیا البتہ کھلے سینے پر موٹا سونے کا چمچماتا لاکٹ نظر کو خیرہ کرنے کے لئے کافی تھا۔ دس سالہ بچے کے چہرے پر نامکمل کارٹون اس جینز شرٹ پہنے چھے فٹ قامت کے گھنگریالے بالوں والے شخص سے ہزار درجے دل چسپ معلوم ہوا۔
    پھر اُس کی کال آنے لگے۔ وہ ریسیور اٹھانے پر مجبور تھی۔ کچھ فون اٹھائے بنا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ اُس کی پہلی گھنٹی ہی دماغ کے اُس خلیے کو متاثر کر دیتی ہے جس کا تعلق کال منقطع کرنے والے بٹن سے ہوتا ہے۔
    وہ اُسے بات کرنے کے لئے قائل کرتا تھا۔ قائل کرنے کے لئے کبھی اُس کے سامنے اپنے ماموں کے سیاسی کارناموں کا ذکر کرتا تو کبھی ابا کی فیکٹری کے اس فٹ بال کا تذکرہ شروع کر دیتا جسے گورے ورلڈ کپ میں ٹھڈے مارنے کا اعزاز بخش چکے تھے۔ اِدھر اُدھر کی باتوں میں اُس کے نجی کالج کا ذکر ہوتا جہاں سے وہ سات لاکھ روپے ادا کر کے ایم بی اے کر رہا تھا۔ مرغوب کرنے کے لئے اور بھی کئی چیزیں تھیں۔ مثلاً اُس کے پاس ایک لش پش کرتی نئے ماڈل کی ہونڈا سوک… اعلیٰ ترین اٹالین (Italian) اور کونٹی نینٹل (Continental) ریستورانوں میں اُس کی پسندیدہ دیسی خوراکیں وغیرہ وغیرہ۔لباس پر وہ بہت دھیان دیا کرتا۔ مہنگی ترین شرٹس، اس سے بھی مہنگی پینٹس اور پھر اس سے بھی مہنگے جوتے۔ کل ملا کر جو نقشہ بنتا وہ اس سرکاری ملازم سے تشبیہ کھاتا جس کی اوپر کی آمدن زیادہ ہو جائے تو ہاتھ پر رولیکس (Rolex) کی چم چم کرتی گھڑی بھی بندھ جاتی ہے اور جیب میں پڑا امپورٹڈ موبائل فون نجی محفلوں میں فلمیں بھی بنانے لگتا ہے۔
    حمیرا ہنستی تھی… وہ ان سب باتوں پر ہنستی تھی اور ہنستے ہنستے اچانک چپ ہو جاتی تھی۔ واقعی فون کی گھنٹی نے ”اُس” خلیے کو متاثر کر دیا تھا۔ وہ شہاب سے بندھ گئی تھی بالکل ویسے ہی جیسے بچپن میں اُس نے آیا بو اسے ضد کر کے اپنے جوتوں کے تسمے خود باندھے اور سارا دن وہ لیسز اسکول میں نہ کھلے کتنی خوش تھی وہ اور کتنی پریشان تھیں آیا بوا جب گھر آکر بھی وہ تسمے اُن سے نہ کھل سکے۔آیا بوا تو ان دنوں بھی بہت پریشان تھیں۔ اُنہوں نے زندگی کی بارش دیکھی تھی۔ بارش کے بعد آسمان پر روشنی کے جو سات رنگ بنتے ہیں وہ اُن سب سے واقف تھیں۔ حمیرا کے ہر رنگ سے آشنا تھیں وہ۔ وہ دیکھ سکتی تھیں کہ حمیرا بندھ گئی ہے۔ پریشانی یہ تھی کہ اگر گرہ نہ سلجھی تو؟
    ان دنوں بوا کی زبان بند اور ہونٹ ہلنا شروع ہو گئے تھے۔ آخر یہ دعائیں ہونٹوں کو لرزتا چھوڑ کر کہاں چلی جاتی ہیں؟ بوا کا اپنا ایک یقین تھا۔ وہ اپنے یقین پر قائم رہناچاہتی تھیں۔ دن بدن ایسا کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ حمیرا کے رنگ گہرے ہوتے چلے جا رہے تھے۔
    شہاب کا خیال ہی اُس کے لئے آکسیجن کی مانند تھا۔ یہ آکسیجن اُس کے رنگوں کو گاڑھا کر رہا تھا۔ شہاب کی ہونڈا سوک کو عرصے سے اُس کے کالج کے گیٹ کے پاس پارک ہونے کی عادت تھی۔ اُس کی فرنٹ سیٹ کے لئے زنانہ پرفیوم اپنے اندر جذب کرنا کوئی نیا تجربہ نہ تھا۔ اُس کی گاڑی کے اندر کا موسم باہر کے موسم سے ہمیشہ متضاد رہتا۔ گاڑی کے شیشے ہر موسم میں بند رہتے۔ گاڑی کے دروازے ایک ہی جنس کے مسافروں کے لئے کھلتے بند ہوتے۔ گاری کے اندر ٹیپ تو تھی پر کیسٹ خریدنا عرصہ ہوا اس نے چھوڑ دیا تھا۔ ہر سواری اپنی موسیقی ساتھ لاتی اور جاتے ہوئے ساتھ لے جاتی پر اُن کی کیسٹیں اکثر گاڑی میں ہی رہ جاتیں۔ حمیرا اُس کی یہ رنگ برنگی کولیکشن دیکھ کر بہت محظوظ ہوتی۔ اُس کے لئے شہاب کی گاڑی ایک ٹائم کیپسول (Time Capsule) تھی۔ جب گئیر بدلتے ہوئے پہلی بار اُس نے حمیرا کا ہاتھ پکڑا تھا اُس کے بعد وقت جیسے ٹھہر گیا تھا۔ گاڑی پہیوں سے بندھ گئی تھی اور پہئے اُسے گھما گھما کر دنیا گھما رہے تھے یا گاڑی پہیوں کو؟ اُس کا دماغ آہستہ آہستہ مدہوش ہونے لگا اور وہ سونے اور جاگنے لگی۔ گاڑی کسی مہنگے ہوٹل کے پاس رُکی پر پہیے نہ رُکے۔ پہیے ریسیپشن تک لڑھکے، پھر ایک کیپسول لفٹ نے پہیوں کا تعلق زمین سے کاٹ دیا۔ لفٹ آسمان کی طرف جا رہی تھی اور آسمان آنکھوں کے قریب آنے لگا۔ چاروں طرف بادل چھا گئے۔ دھند ہی دھند۔ ایسی دھند کہ چاروں طرف ایک ہی منظر۔ چاروں طرف ایک ہی شہاب۔
    ہوٹل کے اُس کمرے میں نہ پنکھا تھا نہ قالین، نہ بستر نہ چادر، نہ چھت نہ دیوار۔ چاروں طرف صرف پہیے ہی پہیے۔ اُس کو یوں لگا جیسے شہاب کی بارش ہو رہی ہو۔ دیواروں میں شہاب بہنے لگا۔ کمرے کے فرش میں شہاب اُبل پڑا۔ بجلی کی تاروں میں شہاب دوڑنے لگا۔ اُس کی حسیات عروج پر تھیں۔ وہ روپ بدل بدل کر کبھی دیوار، کبھی فرش اور کبھی بجلی کی تار بن جاتی… اور پھر بنتے بنتے سب کچھ سفید ہو گیا۔
    کہتے ہیں سفید رنگ سب رنگوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ واقعی سب کچھ آپس میں گھل گیا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ سفیدی زائل ہونے لگی۔ ایک ایک کر کے ہر رنگ چھٹنے لگا۔ آنکھوں کا اندھیر ا واپس لوٹ آیا۔ آہستہ سے آنکھیں کھولیں تو سر پر ہوٹل کی چھت چاروں دیواروں کا سہارا لئے اوندھے منہ ٹکی ہوئی تھی۔ اس چھت کے اوپر کئی سو فٹ کی بلندی پر کوئی جہاز اُن کے اوپر سے گزر رہا تھا۔ اُس جہاز کی آواز حمیرا کے وجود سے گزری اور وہ جاگ گئی۔ پھر اچانک حمیرا کو یاد آنے لگا… اُس کے بائیو کیمسٹری کے نوٹس جوتیاری کی آخری رات گم ہو گئے تھے دراصل ٹی وی لاؤنج میں پڑی الماری کی سب سے نچلی دراز میں تھے۔ اُس کے بھائی کا وہ سوئیٹر جو پچھلی گرمیوں میں مری چھوڑ آئی تھی اب اُس لاؤنج کے ایک بیرے کا بیٹا کالج پہن کر جاتا تھا۔ اُس کے کان کا ایک بندا جو نادیہ کی کزن کی مہندی کی تقریب میں کہیں گر گیا تھا وہ آج بھی اُس کے ایک تایا زاد کی جیب میں تھا۔ شہاب نے جیب سے سگریٹ کی ڈبیہ نکالی تو اچانک حمیرا کی کان میں اک سرگوشی ہوئی… پینتیس سال بعد شہاب کو دل کا دورہ پڑے گا۔
    شہاب نے گاڑی سٹارٹ کی اور پہیے دوبارہ گھومنے لگے۔ شہر سردیوں کی پہلی بارش سے گیلا تھا۔ اُن دنوں اُسے پہلی بار پتا چلا کہ دوپہر کو تین بجے جب سورج اک خاص نیزے پر ہوتا ہے تو اُس کی روشنی گندے نالے سے جڑی ظفر علی روڈ سے ٹکرا کر ہر طرف نور ہی نور کر دیتی ہے۔ گندے نالے کی ڈھلان پر لگی لال پھولوں کی جھاڑیاں، ہرے بھرے پتے، سبز گھاس اور گورا قبرستان کے جنگلے کی بیلیں سب روشنی میں نہا جاتے ہیں۔ اس نہائی ہوئی روشنی کے بیچ کی یہ سڑک نہ جانے کس چاند کی طرف جاتی تھی۔ اُن دنوں اُسے پتا چلا کہ شالامار باغ میں بہت بھیڑ ہوتی ہے۔ وہاں بھی جہاں سیر کرنے لوگوں کا مجمع لگا رہتا ہے اور وہاں بھی جہاں صدیوں سے کسی کا گزر نہیں ہوا۔