Tag: Urdu fiction

  • مائے نی میں کنوں آکھاں — سمیہ صدف (پہلا حصّہ)

    مائے نی میں کنوں آکھاں — سمیہ صدف (پہلا حصّہ)

    گھنٹہ بھر کوشش کرنے کے بعد بھی میں بمشکل چند لائنیں کاغذ پر گھسیٹ پایا تھا۔ جھنجھلاہٹ کے عالم میں قلم کاغذ پر پٹختے ہوئے میں نے گہرا سانس لیا۔ جولائی کا مہینہ اختتام پذیر تھا۔ اس موسم میں عموماً لاہور کی ہوائیں شعلے برسارہی ہوتی ہیں، مگر گزشتہ دو تین دن کی وقفہ وقفہ سے ہونے والی بارشوں کے باعث موسم خاصا خوشگوار ہوگیا تھا۔ تاہم بارش کے بعد تالاب بن جانیوالی سڑکوں کو اصل حالت میں واپس آنے کیلئے تھوڑا وقت درکار تھا۔ موسم خوشگوار ہونے کے باعث باغ میں خاصی چہل پہل نظر آرہی تھی ورنہ عموماً اس وقت یہ جگہ سنسان ہوا کرتی تھی۔ اِدھر سے اُدھر بھاگتے ہوئے بچے کولڈ ڈرنکس، چپس اور آئس کریم تھامے خاصا چہک رہے تھے۔ میں نے فائل ایک سائڈ پر رکھ کر پاس پڑا ہوا اخبار اُٹھا لیا۔ خبروں پر ایک سرسری نظر ڈال کر بے زاری سے سرہلاتے ہوئے اخبار فولڈ کرکے دوبارہ بنچ پر رکھ دیا۔ لوڈشیڈنگ، پانی کا بحران، مہنگائی، کرپشن، تیل کی چڑھتی ہوئی قیمتیں، غیرت کے نام پر قتل جیسی خبروں سے بھرا ہوا یہ اخبار کسی بھی نارمل انسان کو محض چند منٹوں میں فرسٹریشن کا شکار کردینے کے لئے کافی تھا۔ یاور میرے ہاتھ میں دبے ہوئے اخبار کو دیکھ کر اکثر اُسے بلڈپریشر ہائی کرنے اور ہارٹ اٹیک کروانے کا سب سے آزمودہ نسخہ قرار دیا کرتا تھا۔ مگر کیا کیا جاسکتا تھا کہ ہماری فیلڈ ہی ایسی تھی کہ خبر اور اخبار ہی کھانا پینا اور اوڑھنا بچھونا تھے۔ اس لئے ممکن ہی نہ تھا کہ باقی لوگوں کی طرح کبوتر بن کر آنکھیں بند کرلیتے اور اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوجاتے۔
    ”سر میرا خیال ہے کہ اخبار میں جگہ جگہ قیمتوں سے متعلق بکھری ہوئی خبروں کی بجائے ہم الگ سے مہنگائی ویکلی (weekly) ایڈیشن نہ شائع کرنا شروع کردیں۔ ”یاور اکثر مذاق میں کہتا تو ایڈیٹر صاحب اپنی عینک کے اوپر سے اُسے گھورتے ہوئے جواب دیتے۔
    ”ہاں پھر اس کے جو چارجز ہوں گے وہ تم اپنی سیلری میں سے کٹوانا۔ کیونکہ کاغذ کون سادرختوں پر لگے ہوتے ہیں۔ ان کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔”
    انہوں نے کاغذوں کا ایک انبار ڈسٹ بن کی نذر کیا۔
    ”قیمتیں تو ہر چیز کی ہی آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ اللہ کا شکر کہ آکسیجن پر ٹیکس نہیں لگا، ورنہ امیروں کے تو گودام سلنڈروں سے بھرے ہوتے اور غریب بے چارے سانس بھی مہینوں بعد ہی لیتے۔” اس نے تشکرانہ لہجہ اختیار کیا۔
    ”برخوردار! آج کل کے زمانے میں کوئی بھی چیز سستی نہیں ہے۔” اُنہوں نے فائلو ں میں سر گھسیڑا۔
    ”سوائے انسانی جان کے!” نہ چاہتے ہوئے بھی میری زبان اکثر پھسل جاتی۔
    ”حیرت ہے شکیلہ! بھابی تمہاری بچے سمیت کب سے میکہ بیٹھی ہوئی ہے اور تم ہو کہ ان کی محبت میں مری جارہی ہو۔” ثنا کی آواز مجھے حال میں کھینچ کر واپس لے آئی وہ شکیلہ کی فرمائش پر بچوں کے کپڑے اور کھلونے چھانٹی کرکے ایک طرف رکھتی جارہی تھی جنہیں شکیلہ محترمہ شاپرز میں بھرتی جارہی تھی۔ وہ بھی اپنے نام کی ایک ہی تھی۔ کبھی کتابیں لے کر ثنا کے پاس پہنچ جاتی تو کسی دن انگلش کے آدھے ادھورے جملے کہیں سے سن کر آجاتی اور پھر ان کا مطلب پوچھ پوچھ کر ثنا کو اُلجھائے رکھتی۔
    ”باجی ہو آر یو کا کیا مطلب ہے۔”
    ”اور آئی ایم کا؟” ثنا زچ ہوجاتی ۔ اس روز بھی وہ سامان چھانٹی کروانے کے ساتھ ساتھ آدھے ادھورے جملوں سے اُسے تپائے جارہی تھی۔
    ”بھابی میکے جاکر بیٹھی ہے تو قصور بھی تو بھائی کا ہی ہے نا۔” اس نے کھلونے سمیٹ کر شاپر میں ڈالے۔
    ”تم دنیا کی پہلی نند ہو جو بھابی کی نہ صرف طرفداری کررہی ہے بلکہ ہر بار اتنی چیزیں بھی جمع کرکے لے کر جاتی ہے بھابی اور بھتیجے کیلئے۔” ثنا نے حیرت کا اظہار کیا۔
    ”غلطی میرے بھائی کی ہی ہے جی۔ اس کا چکر چل رہا ہے میری چاچی کے ساتھ ۔” اس نے منہ بنایا جبکہ ثنا حیران رہ گئی۔
    ”چاچی کے ساتھ؟” اس کے حرکت کرتے ہوئے ہاتھ یوں ساکت ہوئے جیسے ایٹم بم گرنے کی خبر پڑھ لی ہو۔
    ”تو تمہارے چچا اور باقی خاندان والے کچھ کہتے نہیں؟”
    ”چچا کی تو وفات ہوگئی ہے۔ کافی بڑے تھے چاچی سے عمر میں۔ اب کون روک ٹوک کرے؟”اس نے شانے اچکاتے ہوئے کہا۔
    ”تو تم لوگ چاچی کو ا س کے والدین کے گھر بھیج دو۔ اولاد بھی نہیں ہے وہ اس کی کسی اچھی جگہ شادی کروادیں۔” ثنا نے سمجھدار کا مظاہرہ کیا۔
    ” اچھی جگہ؟ جب کنواری تھی تب بڑی عمر والے سے بیاہ دی تھی تو اب کون سا اچھا رشتہ ملے گا بھلا۔ والدین لے کر جانا بھی نہیں چاہتے۔ گھر میں آگے چار جوان لڑکیاں بیٹھی بڈھی ہورہی ہیں تو بیوہ بیٹی کے رشتہ اور کھانے پینے کی ذمہ داری کون اُٹھائے۔” وہ یوں ہنسی جیسے کوئی لطیفہ سن لیا ہو۔
    ”مگر ان کو اس سب معاملے سے کوئی بڑا آگاہ کرے تب تو وہ یقینا لے ہی جائیں گے۔ اُنہیں بھی تو پتہ چلے کہ ان کی بیٹی بیوگی کے بعد ان کی عزت کو بٹہ لگارہی ہے اور کسی کا گھر خراب کررہی ہے۔” ثنا جذباتی ہوگئی تھی۔
    ”باجی اس کا بوڑھا باپ بستر پر پڑا ہے۔ ماں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہے ۔ بہنیں بھی لوگوں کے کپڑے سیتی ہیں تب بھی روٹی کے لالے پڑے ہوتے ہیں۔ خالی پیٹ کسی نے عزت کا اچار ڈالنا ہے۔” وہ بے دھیانی میں بڑی گہری بات کر گئی تھی۔
    ”اب ایسی بھی بات نہیں ہے کہ وہ دو وقت کی روٹی کے پیچھے بیٹھی کی حرکتوں کی طرف سے آنکھیں بند کرکے بیٹھ جائیں۔اُنہیں خبر تو کرو۔ اپنی اماں سے کہو وہ بات کریں۔ خود ہی سے سب اندازہ لگاکر بیٹھ گئے ہو۔” اس نے منہ بسورا۔

    ”انہیں سب پتہ ہے جی، آپ نہیں سمجھیں گی باجی! جہاں سارا دن کی بھاگ دوڑ کے بعد بھی رات کو پیٹ بھر کھانا نہ ملے وہاں ان باتوں کے بارے میں کون سوچتا ہے۔ ہمارے علاقے میں کبھی آکر دیکھیںہر گھرکا یہی حال ہے۔ لوگوں کے گھروں میں کام کرنے والی کنواری جوان بیٹیاں چاہے شام دیر سے گھر واپس آئیں اور کام زیادہ ہونے کا بہانہ کردیں اور چاہے نیا جوڑا میک اپ جیولری اور موبائل ہاتھ میں لے کر پھر یں کسی کو کوئی فکر نہیں ہوتی نہ کوئی کچھ پوچھتا ہے۔ دن بھر گھر گھر کام کرنیوالی اور رات کو میاں سے پٹ کر ہلدی ملنے والی ہماری ماؤں کے پاس اتنا وقت کہاں کہ وہ ہم سے تفتیش کرتی پھریں یا ہم پر نظر رکھ سکیں۔” اس کے لہجے اور انداز میں ایسا کچھ تھا کہ میں لمحہ بھر کو پین روک کر اُسے دیکھنے پر مجبور ہوگیا تھا۔ وہ بیس بائیس سالہ لڑکی میچورٹی کے لحاظ سے اُس وقت اپنی عمر سے دگنی باتیں کررہی تھی مگر گھر کی چار دیواری میں مارننگ شوز دیکھ کر اور برانڈڈ کپڑے پہن کر زندگی گزارنے والی میری بیوی میں اتنی سمجھ بھلا کہاں سے آتی۔ سچ ہے کہ تجربہ سب سے بڑا استاد ہے۔ تب ہی تو ان پڑھ کام والی اس وقت خود استاد بنی بیٹھی تھی اور حسب توقع ثنا ناسمجھنے والے انداز میں شکیلہ کو گھور رہی تھی۔
    ”اب دیکھیں میری اماں صبح صفائی اور گھر کے تھوڑے بہت کام نمٹا کر سات بجے میرے ساتھ گھر سے نکلتی ہے۔ جمیلہ بچوں کی وجہ سے صبح کام کاج نہیں کرسکتی۔ دوپہر میں میں یا جمال واپس آتے ہیں تو وہ بچوں کو روٹی کھلا کر کام پر نکلتی ہے۔ جمال کھیل کود میں لگ جاتا ہے ایسے میں میں اگر شام دیر سے بھی واپس جاؤں تو پوچھنے والا کون بیٹھا ہے۔ سائیں اور بی بی کو تو خود کا ہوش نہیں ہوتا۔” اس نے اپنے معذور بھائی اور بہن کا نام لیا ۔ دو مرلہ کے اس کے مکان میں گھر کے افراد اور مسائل کا ایک انبار جمع تھا۔ لاہور کے علاقہ ”چونگی اَمر سدھو” کا ایک غریب گھرانہ جہاں ماں اور بڑا بھائی صبح کام کو نکلتے تو رات گئے واپس آتے۔ بڑی بہن جمیلہ جو تین بچوں کے بعد طلاق لے کر گھر آبیٹھی تھی خود گھروں میں کام کرکے بمشکل اپنے بچوں کا خرچا پورا کرتی۔پھر دو ذہنی معذور بھائی بہن جو سارا دن میلے کپڑوں اور منہ سے ٹپکتی رال کے ساتھ گھر ے دروازے پر بیٹھے رہتے۔ پھر شکیلہ تھی اور اس کا بھائی جمال جو کسی خیراتی سکول میں پڑھ رہا تھا۔ ایک یہی نہیں اس علاقے میں اکثریت ایسے ہی گھروں کی تھی۔ جگہ جگہ سرنجوں میں زہر بھر کر رگوں میں اُتارنے والے بھی نظر آجاتے تھے جوکہ معمولی بات تھی۔
    میں جو پچھلے دو گھنٹوں سے کچھ لکھنے کی کوشش کررہا تھا کبھی بچوں کے شور اور کبھی بیگم کے اس بحث و مباحثہ سے ڈسٹرب ہوکر کاغذ کے گولے ڈسٹ بن کی نذ رکرتا جارہا تھا۔ تنگ آکر اپنا سارا سازوسامان اُٹھا کر میں تنہائی اور خاموشی کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ کچھ روز قبل ایڈیٹر صاحب نے میگزین کے اسپیشل ایڈیشن کے لئے مجھے کوئی ہلکا پھلکا، مزاح سے بھرپور مضمون لکھنے کو کہا تھا جوکہ میری عادت اور لکھنے کے انداز دونوں کے ہی برعکس تھا۔
    ”سرآج کل کے دور میں ہلکا پھلکا اور آسان لکھنا ہی تو زیادہ بھاری اور مشکل کام ہے۔”
    میں نے ٹال مٹول سے کام لیا۔
    ”برخوردار! اس بات کا بھی تو دھیان رکھنا پڑتا ہے کہ بھاری بھرکم اکثر خود پر ہی بھاری پڑتا ہے۔” اُنہوں نے ذومعنی لہجہ اختیار کیا۔ یہ حقیقت تھی کہ میرے لکھنے کے خاصے کھلے ڈلے اور بے باک سٹائل نے اُنہیں کئی بار ناکوں چنے چبوائے تھے۔ کئی بار تنبیہی نوٹس بھی مل چکے تھے۔ مگر مجھے لمبی چھٹی دینا ان کے بس میں نہیں تھا۔ کیونکہ میرے لکھے ہوئے کالم، مضامین اور آرٹیکل ان کے اخبار اور میگزین کی جان ہوتے تھے۔ کچھ مگرمچھوں اور گندی مچھلیوں کو چھوڑ کر میرے قلم سے نکلے ہوئے الفاظ باقی تمام عوام خصوصاً متوسط طبقہ کے دل کی آواز ہوتے تھے جس کی بنا پر ان کا اخبار چل رہا تھا۔ ورنہ پرانے اخبار سے سالوں کی وابستگی کے بعد ان کی حالات کے مطابق بدلتی ہوئی حکمت ِ عملی کے سبب مجھے کنارا کشی اختیار کرنا پڑی تھی۔
    ”سعد! تم لکھنے میں بہت تلخ ہوجاتے ہو۔ عوام یہ سب پڑھنا نہیں چاہتی اور پھر اوپر سے بھی پریشر بڑھتا جارہا ہے اتنا سچ اور اتنی تلخی کسی سے ہضم نہیں ہوتی۔” پرانے اخبار کے ایڈیٹر صاحب عاجز آچکے تھے۔
    ”سر یہ سب منظر عام پر نہیں آئے گا تو معاشرے کی اصلاح کیسے ممکن ہوگی؟ غربت، بیروزگاری، کرپشن جیسے مسائل کو پس پشت ڈال کر غیر اہم اور بے فائدہ چیزوں پر صفحے کالے کرنے کا کیا فائدہ؟” میں پھر سے اُسی بحث لاحاصل میں پڑگیا تھا۔ اس تلخی کی وجہ میرا یہ نیا آرٹیکل بھی تھا جس کو پڑھ کر ہر صاحب قلم تعریفوں کے پل تو باندھتا مگر ساتھ ہی اسے چھاپنے سے معذرت کے الفاظ بھی ترتیب دینے لگتا۔
    ”ہماری اَسّی فیصد عوام پہلے ہی ان روز مرہ مسائل اور ٹینشنز سے بے زار ہو چکی ہے۔ تھوڑی دیر کو ان سوچوں اور مسائل سے نجات حاصل کرنے کے لئے اگر وہ میگزین اُٹھا لیتے ہیں تو یقینا وہ اس میگزین میں یہ سب پڑھنا نہیں چاہتے۔ کچھ مزاح اور تفریح کا سامان ڈھونڈتے ہیں۔ گلیمر چاہتے ہیں۔ اس قسم کے آرٹیکل اورخبریں عوام کو مزید فرسٹریشن کے سوا کچھ نہیں دیتے۔” انہوں نے سمجھانے کی کوشش کی۔
    ”اور گلیمر اور تفریح کیا ہے سر؟ آخر کیا لکھو ں میں؟ یہی کہ بسنت ایک ملکی اور ثقافتی تہوار ہے کیونکہ اب ثقافت کا مطلب محض ناچ گانا رہ گیا ہے۔ اگست کے مہینے میں ہفتہ دو ہفتہ گھرو ں پر قومی پرچم لہرا کر اندر بیٹھ کر انڈین ڈراموں سے لطف اندوز ہونا اور پھر جیوے جیوے پاکستان گالینا ”حب الوطنی” ہے؟ یا پھر اس بات پر بحث کروں کہ ویلنٹائن ڈے محبتوں کا تہوار ہے۔ نوجوانوں کی بے ضرر خوشیاں اور تفریحات ہیں ان میں اسلام کو نہ ٹھونسیں ۔ پر کونسی محبت سر؟ جس قوم کا بال بال سود اور قرضے میں جکڑا ہو کیا اُسے پھولوں کے کارڈز پر پیسے ضائع کرنا زیب دیتا ہے؟ جہاں آئے دن ماؤں کے لعل اُٹھائے جارہے ہوں اُن کے اعضا بیچے جارہے ہیں، تھر میں بچے فاقہ سے مررہے ہوںوہاں میں یہ بحث لاحاصل چھیڑدوں کہ فلاں ماڈل کوکافلاں سیاست دان کے ساتھ افیئر ہے یا نئی بالی ووڈ فلم کا فرسٹ ڈے فرسٹ شو ہاؤس فل گیا؟ کیا یہ قلم اور اس کی طاقت کے ساتھ مذاق نہیں ہوگا؟”
    مجھے اب واقعتا غصہ آگیاتھا۔
    ”تم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ آج کل کی عوام یہی سب دیکھنا اور پڑھنا چاہتے ہیں؟ اخبار بند کرکے میں کوئی فلاحی کام تو نہیں کرسکتا فی سبیل اللہ۔” ان کے انداز میں تضحیک کا عنصر نمایاں تھا۔ میں نے بحث کو ختم کردینا ہی مناسب سمجھا اور خاموشی سے اُٹھ کر وہاں سے چل دیا۔
    مگر اگلے ہی دن اُنہیں اپنا استعفیٰ میل کرچکا تھا۔ پیسے ، شہرت ، نمبر ون کی دوڑ میں کسی کو یہ سمجھانا کہ کیا چیز مفید ہے اور کیا مضر ، حق کیا ہے اور باطل کیا اور کونسی چیز نشے کی لت سے بھی زیادہ مہلک ہے بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف تھا۔
    اس کے بعد بہت عرصہ مجھے فارغ ہی رہنا پڑا۔ جہاں میری ٹیلنٹ اور معلومات کو سراہا جاتا اور یہ بتایا جاتا کہ میں اس فیلڈ میں بہت آگے تک جاسکتا تھا وہیں پر اپنا سٹائل تھوڑا سا چینج کرنے کو بھی کہا جاتا۔اس سٹائل کی تبدیلی کے مفہوم سے میں اچھی طرح واقف تھا۔ مگر اس ضمیر کا کیا کرتا جو کسی طور نہ خاموش ہوتا تھا۔ مجھے سڑکوں پر بے مقصد گھومتے ہوئے ایک گھنٹہ سے اوپر ہوچکا تھا۔ فیروز پور روڈ سے قینچی اسٹاپ کراس کرتے ہوئے مجھے بیگم کا آرڈر یاد آگیا۔ شکر ہی تھا کہ گھر نہیں پہنچ گیاتھا ورنہ جھڑپ یقینی تھی۔ آج سنڈے تھا اور شام میں اُسے کسی تقریب میں جانا تھا سو اس کی لاڈلی شکیلہ کو شام میں بچوں کے پاس ٹھہرنے کا پیغام دینا لازمی تھا۔ گاڑی واپس موڑتے ہی مجھے دانتوں تلے پسینہ آگیا۔ شدید بارش کے بعد اس علاقہ میں گاڑی لے کر جانا ایک عذاب سے کم نہ تھا۔ ”چونگی امر سدھو” کا وہ علاقہ جہاں ذرا سی بارش کے بعد ہی جگہ جگہ گندے پانی کے جوہڑ بن جاتے تھے۔ مگر اس علاقہ کے بچے ان گندے پانی کے جوہڑوں کو سوئمنگ پول سمجھ کر انجوائے کرتے نظر آتے۔ شکیلہ کے گھر تک جاتے جاتے میرے صاف ستھرے لباس پر جگہ جگہ مختلف نقشے بن چکے تھے۔ واپسی پر مجھے چوک سے کچھ پہلے ”وہ ” اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھی نظر آئی۔اکثر اس راستے سے گزرتے ہوئے بہت سی دکانوں کے بیچوں بیچ موجود اس سبزی فروٹ کی چھوٹی سی ٹھیلا نما دکان پر میری نظر چند سیکنڈ کے لئے اس پرجارکتی تھی۔ میلا کچیلا، جگہ جگہ سے پھٹا ہوا لباس، گرد آلود گھونسلہ جیسے بال، میل سے آٹا ہوا جسم، لمبے سیاہ ناخن، چپل سے بے نیاز سیاہ گھر والے پیر کیچڑ میں مار مار کر وہ اردگرد کے ماحول سے بے نیاز نیچے گرا ہوا گلاسڑاپھل بھی یوں رغبت سے کھا رہی ہوتی جیسے کوئی بچہ آئس کریم یا چاکلیٹ سے لطف اندوز ہورہا ہو۔ ایک لمحہ کو تو مجھے اُبکائی سی آگئی تھی۔مگر کوئی بھی ذی ہوش انسان اس پر ایک نظر ڈال کر ہی یہ اندازہ لگا سکتا تھا کہ اس کی ذہنی حالت صاف گندے، اچھے برے کا تصور سمجھنے سے قاصر تھی۔ جو چیز پہلی ہی نظر میں دیکھنے والوں کی توجہ اپنی جانب کھینچتی ان میں سے ایک تو اس کے ماتھے پر ابھرا ہوا سیاہ گوشت کا لوتھڑا جیسے الگ سے وہاں چپکایا گیا ہو اور کے علاوہ اس کے دائیں بازو پر موجود میل کچیل کے درمیان کسی پرانے اور گہرے زخم کے واضح نشانات تھے۔ اس تمام حلیہ کے باوجود اگر اس کا بغور جائزہ لیا جاتا تو اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ اس کی عمر کوئی تیس بتیس کے لگ بھگ تھی۔ یقینا وہ چند سال پہلے بہت خوبصورت بھی رہی ہوگی۔ مگر اس وقت تو اُسے اس حالت میں دیکھ کر سوائے کراہیت اور ترس کے اور کچھ محسوس نہیں ہوتا تھا۔ اکثر وہ اسی ساٹھ ستر سالہ سبزی والے کی ریڑھی کے پاس بیٹھی کچھ کھانے میں مصروف نظر آتی۔ کبھی ہاتھ میں پکڑا باسی روٹی کا ٹکڑا، کوئی گلاسڑا پھل یا فنگس زدہ سالن جیسے کوئی بھی نارمل انسان دیکھ کر یا سونگھ کر ہی کوسوں دور پھینک دے۔ مگر وہ یہ سب ایسی رغبت سے کھا رہی ہوتی جیسے کئی دنوں کے فاقہ کش کے سامنے ایسے لذیذ کھانوں کا دستر خوان سجادیا گیا ہو۔ جن کی خوشبو دور تک کھڑے لوگوں کو بھی اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہو۔
    ”وہ کون تھی؟ کہاں سے آئی تھی؟” میں نے کبھی غور کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی تھی۔ کیونکہ میں جس فیلڈسے وابستہ تھا اس میں میرا واسطہ ہر طرح کے لوگوں سے پڑتا رہتا تھا۔ معاشرہ کی اکثریت غربت اور مسائل کی چکی میں پس رہی تھی۔ خاص طور پر اس علاقے میں تو مسائل کا ایک انبار جمع تھا۔ ڈھائی تین مرلہ کے گھروں میں کئی کئی خاندان بیک وقت، لوڈشیڈنگ، پانی کی قلت ، نشے کی لت اور بھوک جیسے محاذوں پر برسرپیکار نظر آتے تھے۔
    مگر اس روز بلا ارادہ ہی میرے قدم ”مراد فروٹ شاپ” کی طرف بڑھنے لگے تھے ۔
    ٭…٭…٭
    ”اماں چوڑیاں۔” اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا بھاری تھیلا ایک ہاتھ سے دوسرے میں منتقل کیا اور للچائی ہوئی نظروں سے سامنے دکان میں لشکارے مارتی رنگ برنگی چوڑیوں کو دیکھنے لگی۔
    ”چل آگے۔” شیمو نے رکے بغیر اُسے گھر کا۔
    ”اماں آج تو لے دے۔ عید آرہی ہے نا!” تھیلا نیچے رکھ کر وہ ہمکنے لگی تھی۔ دکان میں رنگ برنگی ٹیوب لائٹس کی روشنی میں چکتی دمکتی چوڑیوں نے اس بار بھی اس کے قدم جکڑ لئے تھے۔
    ”آہو، تیرے پیو کا منی آرڈر آئے گا نا عید پر۔” سرپر رکھی وزنی بوری نیچے رکھ کر پھولی سانسیں بحال کرتے ہوئے اُس نے دوپٹے کے پلو سے پسینہ صاف کیا جبکہ شیمو کو رکتے دیکھ کر اس کے دل میں موہوم سی اُمید جاگ اُٹھی تھی۔
    ”اماں صرف آدھی درجن لے دے۔وہ سستی والی۔” اماں کے ہاتھ بوری کی طرف دوبارہ بڑھتے دیکھ کر اس نے پھر التجا کی۔
    ”سیدھی طرح ٹر(چل) ہن(اب)۔” اس نے ہاتھ گھما کر اُسے کس کر دو تھپڑ جڑے اور بوری دوبارہ سر پرلادلی۔ اماں کے قدم آگے بڑھتے دیکھ کر بھی اُسے من من بھر وزنی قدم اُٹھاتے دقت ہورہی تھی۔ نگاہیں جیسے جم سی گئیں تھیں۔ دفعتاً شیمو نے مڑ کر اُسے پھر سے گھورا اور ساتھ ہی گالیوں سے بھی نوازا۔ جبکہ اب دکاندار بھی اُسے اشارے سے وہاں سے ہٹنے کا کہہ رہا تھا۔ ہاتھ میں تھیلا پکڑے وہ مرے مرے قدم گھسیٹتی اس کے پیچھے چل پڑی۔ مگر بار بار مڑ کر حسرت بھری نظروں سے دکان کی جانب دیکھتی جاتی تھی۔ ایک قطار میں لگے ڈھیر سارے سیٹ اس کی نظروں کے سامنے سے ہٹ ہی نہیں رہے تھے۔موڑ مڑنے تک وہ مڑ مڑ کر پیچھے دیکھتی رہی۔
    شیمو نے گھر میں داخل ہوکر بوری باہر صحن میں رکھی جبکہ وہ ٹھیلا لئے ابھی باہر ہی کھڑی تھی گویا ناراضی کااظہار کررہی ہو۔مگر پروا کسے تھی۔
    ”نواب زادی اب اندر آئے گی یا بینڈ باجے بجواؤں تیرے لئے۔ اتنے کا م پڑے ہیں تیرا خصم آکر کرے گا۔” صحن میں اس کی چنگھاڑ بخوبی آس پاس کے مکان میں بھی سنی جاسکتی تھی۔

  • محبوب چہرہ — محمد جمیل اختر

    محبوب چہرہ — محمد جمیل اختر

    ہاں ہر چہرہ کسی کا محبوب ہوتا ہے یہ بات آپ نے ضرور سن رکھی ہوگی۔ سب کہتے ہیں کہ یہ سچ ہے لیکن کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ کیا یہ واقعی سچ ہے؟ اگر آپ اسے سچ سمجھتے ہیں تو میرے سا تھ آئیں میں آپ کواس بستی کے کچھ لوگوں سے ملواتا ہوں جو بالکل ویسے ہی سانس لے رہے ہیں جیسے کہ باقی انسان لیکن کچھ فرق تو ہے۔ معلوم نہیں یہ کس کے محبوب ہیں۔شاید ان سے ملنے کے بعد آپ کے خیالات بدل جائیں۔
    یہ ہے کمالا مسلی، کیا یہ بھی کسی محبوب ہوگا ؟ کوئی تو اس کی بھی عزت کرتا ہوگا؟
    کیا کہا ؟ اس کی بیوی؟
    واقعی ،بات ہونی تو ایسی ہی چاہیے تھی لیکن ایساہے نہیں ، اس کی بیوی اسے سارا دن برا بھلا کہتی رہتی ہے، اور باقی دنیا چوں کہ بہت صاف ستھری ہے سو وہ ایک گند اٹھانے والے سے محبت کیوں کر کرے گی۔ گند اٹھانا کوئی ایسا غیر اہم کام بھی نہیں ہے دنیا کو کمالے کو مسلی نہیں کہنا چاہیے کم از کم نام تو پورا لینا چاہیے۔ اچھا نام پورا نہ لیں لیکن ساتھ مسلی تو نہ لگائیں۔ اچھا مسلی بھی کہہ لیں لیکن اسے گندا تو نہ سمجھیں لیکن دنیا اسے گندا سمجھتی ہے اوردنیا تن کے کالے اور من کے کالے میں فرق نہیں کرتی۔ کمالا تو چلیں مسلی ہے سو اس سے تو محبت نہیں کی جاسکتی لیکن اس گائوں میں ایک اور دکھی عورت بھی تھی۔ غلام حسین کی بڑی بیٹی سلیمہ ۔ غلام حسین کی چار بیٹیوں میں یہ سب سے بڑی، سلیقہ شعار اور نیک سیرت لڑکی تھی۔
    بس ذرا رنگ کالا تھا، بچپن میں چیچک ہوا تو وہ اپنی نشانی بھی چھوڑ گیا لیکن اگر محبت اندھی ہے تو پھر سلیمہ سے بھی کسی کو تو محبت ہونی چاہیے تھی۔ زندگی کی پینتیس بہاریں دیکھیں لیکن جب بھی کوئی رشتے کے لیے آیاتو اس نے اس سے چھوٹی بہنوں کا ہی رشتہ مانگا ، شروع شروع میں غلام حسین نے انکار کیا کہ پہلے سلیمہ کا بوجھ سر سے اترنا چاہیے لیکن یہ وہ بوجھ تھا جو کوئی اٹھانے کوتیار ہی نہیں تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ سلیمہ چاند کا ٹکڑا تھی لیکن کوئی بھی اسے اپنے گھر لے جانے کوتیار نہیں تھاکیا آپ یقین کریں گے کہ اس کے لیے پینتیس سال تک کوئی رشتہ لے کر نہیں آیا اور جب ایک رشتہ آیا تو وہ ساتھ کے گائوں کے ایک رنڈوے مراثی کا جس کو اپنے دو بچوں کے پرورش کے لیے کوئی عورت چاہیے تھی۔
    غلام حسین کا بوڑھا جسم اس بات کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا کہ وہ انکارکرے سو سلیمہ بیاہ دی گئی ۔ ایسی شادیاں شاید ہی آپ نے کہیں دیکھی ہوں جس میں کسی کو کوئی خوشی نہ محسوس ہورہی ہو حتیٰ کہ دُلہا دلہن کو بھی ۔ وہ بڑی خدمت گزار بیوی تھی لیکن پھر بھی کھانا کم اور ذرا ذرا سی بات پر مار زیادہ کھاتی ۔ ہاں آپ نے ایسی کہانیاں سن رکھی ہوں گی کہ عورتوں پر بڑا ظلم ہوتا ہے لیکن کیا یہ جھوٹ ہے ؟ سلیمہ ایسا خزانہ تھی جو کسی بددیانت کے ہاتھ لگ جائے اور اسے سمجھ ہی نہ ہو کہ اس کا کرنا کیا ہے۔ دو سال بعد اسے کوئی پہچان نہیں سکتا تھا کہ یہ کون ہے، سینتیس سال کی عمر میں وہ ایسی بیمار ہوئی کہ مر گئی۔

    اور ظلم یہ کہ اس کے شوہر کو کو ئی غم بھی نہیں تھا۔ تو سلیمہ کس کی محبوب تھی؟ شاید اس کے دل میں بھی کوئی خواب ہو کہ وہ بھی کسی کی محبوب ہو۔آہ دنیا میں محبت کو بھی کوئی وجہ چاہیے بغیر وجہ کے یہ بھی نہیں ہوتی۔
    آئیے آگے چلتے ہیں ان سے ملیے! ہاں یہ صاحب جو سر پر بھاری سا تھیلا اٹھائے جارہے ہیں جی یہ جانی صاحب ہیں ، نہیں یہ کسی کے جانی نہیں ا ن کو لوگ جانی کہہ کر پکارتے ہیں۔ ساری بستی میں یہ سب سے سستے مزدور ہیں۔ کوئی بھی سامان اٹھوانا ہو کتنی دور لے کر جانا ہو کرایہ فقط پانچ روپے لیتے ہیں۔ دماغی صلاحیت کے اعتبار سے جانی تھوڑا کمزور ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک بار کچھ سال قبل کسی کام کے سلسلے میں اسے شہر بھیجا گیا تو بے چارا بس سٹاپ پر اترتے ہی پریشان ہوگیا کہ اتنی گاڑیا ں اور اتنے لوگ کہاں جارہے ہیں یا کہاں سے آرہے ہیں؟ سونے پر سہاگہ پہلے کسی نے جیب کاٹ لی پھر کوئی سامان کی پوٹلی بھی لے اُڑا۔ اب واپس کیسے آتا یہاں توکوئی جان پہچان کے بغیر سامان بھی نا اُٹھواتا۔
    لوگوں کی بڑی منتیں کیں کہ دیکھیں میرا سامان چوری ہوگیا ہے، مجھے گھر جانا ہے کچھ روپے دے دیں۔ میں بستی جاکربہت سا سامان اٹھائوں گا تو پہلے آپ کا قرض ادا کروں گا لیکن یہ شہر عجیب تھا یہاں کسی کو کسی پر اعتبار ہی نہیں تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ ایک تو آج کل مانگنے والوں کے پاس نئے نئے گر آگئے ہیں، کوئی دھوکے باز کہتا، کوئی چور اور کوئی کچھ بھی نہ کہتا بس آنکھیں دکھا دیتا ۔ حالاں کہ وہ چور نہیں تھا دھوکے باز تو بالکل بھی نہیں تھا۔ سارے گائوں کا سامان اُٹھاتا اور کبھی بھی کسی کی چوری نہیں کی ، کئی دفعہ مالٹوں کی پوری بوری چودھریوں کے گھر پہنچائی لیکن مجال ہے کہ ایک مالٹابھی جانی نے لیا ہو حالاں کہ پوری بوری میں سے کسی کو کیا معلوم کے ایک مالٹا کم ہے لیکن نہیں۔ پھر کسی نے بتایا کہ چوک میں مزدور بیٹھے ہیں ان کے ساتھ بیٹھ جائو قسمت ہوئی تو مزدوری مل جائے گی۔ سو وہ بیٹھ گیا وہیں، ایک صاحب آئے اور سبزی منڈی میں کچھ بوریاں ٹرک پر لادنے کا کہا، مزدوری پوچھی گئی تو جانی صاحب کے منہ سے ہمیشہ کی طرح پانچ نکلا ہی تھا کہ وہ صاحب بولے:” او نہ بھائی اس کام کے پانچ سو تو نہیں بنتے تین سو دوں گا۔”” جی جی ٹھیک ہے بلکہ بہت ٹھیک ہے۔” اور یوں شام کو جانی کو زندگی کی سب سے زیادہ مزدوری ملی ۔ا گلی ہی گاڑی پر بیٹھ کر واپس آگئے اور کئی دن گھر سے نہ نکلے ۔
    جب گھرسے نکلتے تو لوگ کہتے سنا ہے جانی شہر گئے تھے ؟ سنا ہے راستہ بھول گئے تھے؟ کچھ من چلے تو انہیں شہری بابو کہہ کر بھی چھیڑتے۔
    ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ ہر چہرہ کسی کا محبوب ہوتا ہے تو جانی کس کامحبوب ہوگا؟ وہ بے چارہ تو اپنی بیوی کا بھی محبوب نہ بن سکا تو اور لوگوں کا کیا محبوب بنتا۔
    اس کی بیوی کا قصہ کچھ یوں ہے کہ جس روز جانی کی شادی ہوئی بیوی اگلے ہی دن روٹھ کر میکے چلی گئی کہ میں نے نہیں رہنا اس پاگل کے ساتھ اور خلع کا مقدمہ کردیا۔ آخر یہ جھگڑا طلاق پر ختم ہوا۔ کہتے ہیں کہ طلاق کے کاغذوں پر جانی نے رو رو کر انگوٹھے لگائے تھے۔ جانی کے آنسو بھلا کس نے دیکھنے تھے۔ اب بھی گائوں والے جانی بے چارے کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ جانی سے اس کی بیوی کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ یہ دنیا سچ میں بہت ظالم ہے۔جانی تمام عمر کسی کا محبوب نہیں بن سکا۔محبت کیوں کر اندھی ہوتی ہے؟
    یہ ابھی تین گلیوں کی کہانیاں تھیں۔ ہاں ہاں آپ ضرور کہیں گے کہ ان تین گلیوں میں کتنے ہی محبوب چہرے ہوں گے۔ جی بالکل آپ درست کہہ رہے ہیں جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ محبت کسی نہ کسی وجہ سے ہی ہوتی ہے، سو میرے ساتھ انہی گلیوں میں تھوڑی دیر گھومیے وجہ بھی مل جائے گی۔
    یہ جو ابھی ابھی نئے ماڈل کی گاڑی گزری ہے جس کو دیکھ کر لوگ ہاتھ ہلا رہے تھے، یہ ملک صاحب کی بیٹے کی گاڑی تھی، ملک صاحب کا اکلوتا سپوت، ملک جابرجو کہ ملک صاحب کی ساری جائیداد کا وارث ہے۔ یقین مانیں وہ بُرا آدمی ہے، جوا کھیلتا ہے، شراب پیتا ہے، لیکن پھر بھی یہ دنیا اسے اچھا سمجھ کر سلام کرتی ہے۔ جابرسے محبت کی جاسکتی ہے کیوں کہ اتنی بڑی جائیداد محبت کرنے کی وجہ ہو سکتی ہے۔ یہی ملک جابر اگر کمالے مسلی کا بیٹا ہوتا تو سارے گائوں والے اس پر تھوکتے اور شرابی ، جواری کہہ کر اب تک گائوں بدر کر چکے ہوتے لیکن وہ جہاں سے گزرتا ہے، سلام ملک صاحب کو ہو رہا ہوتا ہے۔
    آئیں اب آپ کو دوسری گلی کی ہر دل عزیز شخصیت سے ملواتا ہوں۔ یہ ہیں ڈاکٹر ناصر، یقین مانیں یہ ڈاکٹر نہیں ہیں۔ کوئی ڈگری بھی نہیں ہے۔ بس شہر سے کمپائونڈری کا کوئی کورس کیا ہوا ہے یہاں گائوں میں کوئی ڈاکٹر نہیں تھاتو انہوں نے کلینک کھول لیا اور باہر ڈاکٹر ناصر ایم بی بی ایس لکھوا لیا اور ڈاکٹروں کی طرح ایک موٹی سی عینک لگائی سٹھیتوسکوپ گلے میں لگایا اور پورے ڈاکٹر بن گئے۔ سارے گائوں کا علاج کرتے ہیں اور جیب بھرتے ہیں لیکن گائوں میںکسی کوکوئی اعتراض نہیں ہے۔
    کس نے ڈگریاں چیک کرنی تھیں اور چیک بھی کیوں کرتے؟ یہاں جہاں ہم رہتے ہیں لوگ جعلی ڈگریا ں لے کر ملک کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں، یہ تو پھر ایک کلینک ہے۔ سو سارے گائوں میں ڈاکٹر ناصر کی واہ واہ ہوتی ہے۔ یقینا کئی لڑکیا ں دل ہی دل میں انہیں اپنے خوابوں کا شہزادہ سمجھتی ہوں گی حالاں کہ وہ ڈاکٹر نہیں بلکہ ایک قومی مجرم ہے جو لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے لیکن دنیا کب سمجھتی ہے۔ دنیا بالکل بھی نہیں سمجھتی ان کہانیوں کے سننے کے بعد بھی آپ یقینا کہہ رہے ہوں گے کہ ”محبت تو اندھی ہوتی ہے۔”
    ٭…٭…٭

  • نیا قانون — سعادت حسن منٹو

    نیا قانون — سعادت حسن منٹو

    منگو کوچوان اپنے اڈے میں بہت عقلمند آدمی سمجھا جاتا تھا۔ گو اس کی تعلیمی حیثیت صفر کے برابر تھی اور اس نے کبھی اسکول کا منہ بھی نہیں دیکھا تھا لیکن اس کے باوجود اسے دنیا بھر کی چیزوں کا علم تھا۔ اڈے کے وہ تمام کوچوان جن کو یہ جاننے کی خواہش ہوتی تھی کہ دنیا کے اندر کیا ہو رہا ہے، استاد منگو کی وسیع معلومات سے اچھی طرح واقف تھے۔
    پچھلے دنوں جب استاد منگو نے اپنی ایک سواری سے اسپین میں جنگ چھڑ جانے کی افواہ سنی تھی تو اس نے گاما چودھری کے چوڑے کاندھے پر تھپکی دے کر مدبرانہ انداز میں پیش گوئی کی تھی، ’’دیکھ لینا گاما چودھری، تھوڑے ہی دنوں میں اسپین کے اندر جنگ چھڑ جائے گی۔‘‘
    جب گاما چودھری نے اس سے یہ پوچھا تھاکہ اسپین کہاں واقع ہے تو استاد منگو نے بڑی متانت سے جواب دیا تھا، ’’ولایت میں اور کہاں؟‘‘
    اسپین کی جنگ چھڑی۔ اور جب ہرشخص کو پتہ چل گیا تو اسٹیشن کے اڈے میں جتنے کوچوان حقہ پی رہے تھےدل ہی دل میں استاد منگو کی بڑائی کا اعتراف کر رہے تھے۔ اور استاد منگو اس وقت مال روڈ کی چمکیلی سطح پر تانگہ چلاتے ہوئے کسی سواری سے تازہ ہندو مسلم فساد پر تبادلہ خیال کر رہا تھا۔

    اس روز شام کے قریب جب وہ اڈے میں آیا تو اس کا چہرہ غیر معمولی طور پر تمتمایا ہوا تھا۔ حقے کا دور چلتے چلتے جب ہندو مسلم فساد کی بات چھڑی تو استاد منگو نےسر پر سے خاکی پگڑی اتاری اور بغل میں داب کر بڑے مفکرانہ لہجے میں کہا، ’’یہ کسی پیر کی بددعا کا نتیجہ ہے کہ آئے دن ہندوؤں اور مسلمانوں میں چاقو، چھریاں چلتی رہتی ہیں۔ اور میں نے اپنے بڑوں سے سناہے کہ اکبر بادشاہ نے کسی درویش کا دل دکھایا تھا۔ اور اس درویش نے جل کر یہ بددعا دی تھی، ’جا، تیرے ہندستان میں ہمیشہ فساد ہی ہوتے رہیں گے‘ اور دیکھ لو جب سے اکبر بادشاہ کا راج ختم ہوا ہے ہندستان میں فساد پر فساد ہوتے رہتے ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ٹھنڈی سانس بھری۔ اور پھر حقّے کا دم لگا کر اپنی بات شروع کی، ’’یہ کانگرسی ہندستان کو آزاد کرانا چاہتے ہیں۔ میں کہتا ہوں اگر یہ لوگ ہزار سال بھی سر پٹکتے رہیں تو کچھ نہ ہو گا۔ بڑی سے بڑی بات یہ ہو گی کہ انگریز چلا جائے گا اور کوئی اٹلی والا آجائے گا۔ یا وہ روس والا جس کی بابت میں نے سنا ہے کہ بہت تگڑا آدمی ہے۔ لیکن ہندستان سدا غلام رہے گا۔ ہاں میں یہ کہنا بھول ہی گیا کہ پیر نے یہ بددعا بھی دی تھی کہ ہندستان پر ہمیشہ باہر کے آدمی راج کرتے رہیں گے۔‘‘

    استاد منگو کو انگریزوں سے بڑی نفرت تھی۔ اور اس نفرت کا سبب تو وہ یہ بتلایا کرتا تھا کہ وہ ہندستان پر اپنا سکہ چلاتے ہیں۔ اور طرح طرح کے ظلم ڈھاتے ہیں۔ مگر اس کے تنّفر کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ چھاؤنی کے گورے اسے بہت ستایا کرتے تھے۔ وہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کرتے تھے گویا وہ ایک ذلیل کتا ہے۔ اس کے علاوہ اسے ان کا رنگ بھی بالکل پسند نہ تھا۔ جب کبھی وہ گورے کے سرخ وسپید چہرے کو دیکھتا تو اُسے متلی آ جاتی۔ نہ معلوم کیوں وہ کہا کرتا تھا کہ ان کے لال جھریوں بھرے چہرے دیکھ کر مجھے وہ لاش یاد آ جاتی ہے جس کے جسم پر سے اوپر کی جھلّی گل گل کر جھڑ رہی ہو۔
    جب کسی شرابی گورے سے اس کا جھگڑا ہو جاتا تو سارا دن اس کی طبیعت مکّدر رہتی۔ اور وہ شام کو اڈے میں آکر ہل مارکہ سگرٹ پیتے یا حُقے کے کش لگاتے ہوئے اس ’گورے‘ کو جی بھر کر سنایا کرتا۔ ’’۔۔۔‘‘ یہ موٹی گالی دینے کے بعد وہ اپنے سر کو ڈھیلی پگڑی سمیت جھٹکا دے کر کہا کرتا تھا، ’’آگ لینے آئے تھے۔ اب گھر کے مالک ہی بن گئے ہیں۔ ناک میں دم کر رکھا ہے ان بندروں کی اولاد نے۔ یوں رعب گانٹھتے ہیں گویا ہم ان کے باوا کے نوکر ہیں ۔‘‘
    اس پر بھی اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوتا تھا۔ جب تک اس کا کوئی ساتھی اس کے پاس بیٹھا رہتا وہ اپنے سینے کی آگ اگلتا رہتا، ’’شکل دیکھتے ہو نا تم اس کی۔۔۔ جیسے کوڑھ ہو رہا ہے۔۔۔ بالکل مردار، ایک دھپّے کی مار اور گٹ پٹ یوں بک رہا تھا جیسے مار ہی ڈالے گا۔ تیری جان کی قسم، پہلے پہل جی میں آئی کہ ملعون کی کھوپڑی کے پرزے اڑا دوں لیکن اس خیال سے ٹل گیا کہ اس مردود کو مارنا اپنی ہتک ہے۔۔۔‘‘ یہ کہتے کہتے وہ تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو جاتا۔ اور ناک کو خاکی قمیص سے صاف کرنے کے بعد پھر بڑبڑانے لگ جاتا، ’’قسم ہے بھگوان کی ان لاٹ صاحبوں کے ناز اٹھاتے اٹھاتے تنگ آ گیا ہوں۔ جب کبھی ان کا منحوس چہرہ دیکھتا ہوں رگوں میں خون کھولنے لگ جاتا ہے۔ کوئی نیا قانون وانون بنے تو ان لوگوں سے نجات ملے۔ تیری قسم جان میں جان آ جائے۔‘‘
    اور جب ایک روز استاد منگو نے کچہری سے اپنے تانگے پر دو سواریاں لادیں اور ان کی گفتگو سے اسے پتہ چلا کہ ہندستان میں جدید آئین کا نفاذ ہونے والا ہے تو اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔
    دو مارواڑی جو کچہری میں اپنے دیوانی مقدمے کے سلسلے میں آئے تھے گھر جاتے ہوئے جدید آئین یعنی انڈیا ایکٹ کے متعلق آپس میں بات چیت کر رہے تھے، ’’سنا ہے کہ پہلی اپریل سے ہندوستان میں نیا قانون چلے گا۔۔۔ یا ہر چیز بدل جائے گی؟‘‘
    ’’ہر چیز تو نہیں بدلے گی۔ مگر کہتے ہیں کہ بہت کچھ بدل جائے گا اور ہندستانیوں کو آزادی مل جائے گی؟‘‘
    ’’کیا بیاج کے متعلق بھی کوئی نیا قانون پاس ہو گا؟‘‘
    ’’یہ پوچھنے کی بات ہے کل کسی وکیل سے دریافت کریں گے۔‘‘ ان مارواڑیوں کی بات چیت استاد منگو کے دل میں ناقابلِ بیان خوشی پیدا کر رہی تھی۔ وہ اپنے گھوڑے کو ہمیشہ گالیاں دیتا تھا۔ اور چابک سے بہت بری طرح پیٹا کرتا تھا۔ مگر اس روز وہ بار بار پیچھے مڑ کر مارواڑیوں کی طرف دیکھتا۔ اور اپنی بڑھی ہوئی مونچھوں کے بال ایک انگلی سے بڑی صفائی کے ساتھ اونچے کرکے گھوڑے کی پیٹھ پر باگیں ڈھیلی کرتے ہوئے بڑے پیار سے کہتا، ’’چل بیٹا۔۔۔ ذرا ہوا سے باتیں کرکے دکھا دے۔‘‘
    مارواڑیوں کو ان کے ٹھکانے پہنچا کر اس نے انارکلی میں دینو حلوائی کی دکان پر آدھ سیر دہی کی لسّی پی کر ایک بڑی ڈکار لی۔اور مونچھوں کو منہ میں دبا کر ان کو چوستے ہوئے ایسے ہی بلند آواز میں کہا، ’’ہت تیری ایسی تیسی۔‘‘
    شام کو جب وہ اڈے کو لوٹا تو خلافِ معمول اسے وہاں اپنی جان پہچان کا کوئی آدمی نہ مل سکا۔ یہ دیکھ کر اس کے سینے میں ایک عجیب و غریب طوفان برپا ہو گیا۔ آج وہ ایک بڑی خبر اپنے دوستوں کو سنانے والا تھا۔۔۔ بہت بڑی خبر، اور اس خبر کو اپنے اندر سے نکالنے کے لیے وہ سخت مجبور ہو رہا تھا لیکن وہاں کوئی تھا ہی نہیں۔
    آدھ گھنٹے تک وہ چابک بغل میں دبائے اسٹیشن کے اڈے کی آہنی چھت کے نیچے بیقراری کی حالت میں ٹہلتا رہا۔ اس کے دماغ میں بڑے اچھے اچھے خیالات آ رہے تھے۔ نئے قانون کے نفاذ کی خبر نے اس کو ایک نئی دنیا میں لاکر کھڑا کر دیا تھا۔ وہ اس نئے قانون کے متعلق جو پہلی اپریل کو ہندستان میں نافذ ہونے والا تھا اپنے دماغ کی تمام بتیاں روشن کرکے غورو فکر کر رہا تھا۔ اس کے کانوں میں مارواڑی کا یہ اندیشہ ’’کیا بیاج کے متعلق بھی کوئی نیا قانون پاس ہو گا؟‘‘ بار بار گونج رہا تھا۔ اور اس کے تمام جسم میں مسّرت کی ایک لہر دوڑا رہا تھا۔ کئی بار اپنی گھنی مونچھوں کے اندر ہنس کر اس نے مارواڑیوں کو گالی دی۔۔۔ ’’غریبوں کی کھٹیا میں گُھسے ہوئے کھٹمل۔۔۔ نیا قانون ان کے لیے کھولتا ہوا پانی ہو گا۔‘‘
    وہ بے حد مسرور تھا، خاص کر اس وقت اس کے دل کو بہت ٹھنڈک پہنچتی جب وہ خیال کرتا کہ گوروں۔۔۔ سفید چوہوں (وہ ان کو اسی نام سے یاد کیا کرتا تھا) کی تھوتھنیاں نئے قانون کے آتے ہی بلوں میں ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائیں گی۔
    جب نتھو گنجا، پگڑی بغل میں دبائے، اڈے میں داخل ہوا تو استاد منگو بڑھ کر اس سے ملا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بلند آواز سے کہنے لگا، ’’لا ہاتھ ادھر۔۔۔ ایسی خبر سناؤں کہ جی خوش ہو جائے۔۔۔ تیری اس گنجی کھوپری پر بال اگ آئیں۔‘‘ اور یہ کہہ کر منگو نے بڑےمزے لے لے کر نئے قانون کے متعلق اپنے دوست سے باتیں شروع کر دیں۔ دورانِ گفتگو میں اس نے کئی مرتبہ نتھو گنجے کے ہاتھ پر زور سے اپنا ہاتھ مار کر کہا، ’’تو دیکھتا رہ، کیا بنتا ہے، یہ روس والا بادشاہ کچھ نہ کچھ ضرور کرکے رہے گا۔‘‘

  • اے شب تاریک گزر — صدف ریحان گیلانی (تیسرا اور آخری حصّہ)

    اے شب تاریک گزر — صدف ریحان گیلانی (تیسرا اور آخری حصّہ)

    شہباز کبیر کی اولاد میں وہ تیسرے نمبر پر تھی۔ بھولی بھالی۔ من موہنی صورت، بلا کی سادہ مزاج اور حد درجے ذہین۔ جس عمر میں بچے کھیل کھلونوں کی جانب رغبت رکھتے ہیں۔ وہ تب بھی کتابوں میں سردیئے ہوتی۔ اس کی اپنی ایک الگ ہی دنیا تھی۔ پہلے تو وہ گاؤں کے ہی پرائمری اسکول جاتی تھی پھر جب بھائی اور آپا کے پرائمری کے پاس کرنے کے بعد شہر کے اسکول میں داخلہ ہوا تو اباجی نے اسے بھی ان کے ساتھ ہی بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ یوں وہ تیسری جماعت سے ہی شہر جانے لگی اور یہ ایک بہترین فیصلہ ہوا اس کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا۔
    ”میری بیٹی تو پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بنے گی۔” یہ آپابی کا خواب تھا۔
    آپا بی جو خود کبھی پڑھنے لکھنے کی بے حد شوقین رہی تھیں۔ مگر دیہاتی زندگی، تعلیم ماحول کا فقدان، ناکافی سہولتیں، وہ صرف قرآن پاک پڑھنا ہی سیکھ سکیں جو وہ بہترین قرات سے پڑھا کرتیں۔ جب بیاہ کر شہباز کبیر کے گھر آئیں تو ان کے مشورے سے گاؤں کی بچیوں کو قرآن پاک پڑھانے لگیں۔ سب انہیں آپابی پکارنے لگے حتیٰ کہ پھر ان کی اولاد بھی یہی کہنے لگی۔ جب بچے پڑھنے لکھنے بیٹھتے ساتھ وہ بھی بیٹھ جاتیں یوں کوشش سے تھوڑی بہت اردو پڑھنا بھی سیکھ لی۔
    اب اپنے خواب انہوںنے بیٹی کی پلکوں پر دوسردیئے اور وہ ایک اچھی امانت دار ثابت ہوئی پھر وقت نے بتایا۔
    حسن و ذہانت میں ان کی بڑی بیٹی بھی کم نہ تھی۔ بلکہ دیکھا جاتا تو خوبصورتی میں وہ چھوٹی سے دو ہاتھ آگے ہی تھی۔ مگر بس اک کمی تھی اس کے مزاج میں وہ لگن اور جذبہ نہ تھا جس کے بل پر چھوٹی منزل پہ منزلیں مارتی چلی گئی۔
    شاندار نمبروں سے بارہ جماعتیں پاس کرنے کے بعد قسمت کی یاوری سے اسے میڈیکل کالج میں بآسانی داخلہ مل گیا تھا۔ آپابی کے تو پاؤں ہی زمین پر نہ ٹکتے تھے۔ یہ نہیں تھا کہ خاندان میں سے کوئی اور اس فیلڈ میں نہیں تھا زینت پھوپھو کا بڑا بیٹا ڈاکٹر بن رہا تھا۔ ہاں وہ پہلی لڑکی تھی جو اتنی سخت پڑھائی کرنے جارہی تھی۔
    پہلے تو یہ تھا کہ اباجی نے گاڑی لگوا رکھی تھی صبح سویرے شہر لے جاتی پھر دوپہر واپسی پھر دلاور بھائی نے ڈرائیونگ سیکھ لی تو اپنی کار لے لی۔ مگر اب منہ اندھیرے اٹھ کر جانا اور شام تک واپسی کے بعد ہمت ہی نہ بچتی کہ رات گئے تک پڑھا جائے۔ بہت ہی مشکل ہونے لگا تھا۔ اس کی یہ روٹین دیکھ کر آپابی نے ہی شور ڈالا تھا۔
    اس طرح تو یہ لڑکی بیمار ہوجائے گی۔ ارے دوسروں کا علاج کرنے جوگی تو اللہ جانے کب ہوگی یہ نہ ہو کہ ہمیں اس کا ہی علاج کروانا پڑ جائے۔
    میں بہت تھک جاتی ہوں آپابی۔ پھر ٹھیک سے پڑھائی بھی نہیں ہوپاتی۔ اباجی سے کہیں نہ کہ مجھے ہاسٹل میں رہنے کی اجازت دے دیں۔
    مگر اباجی کو زمانے کے حالات سے ڈر لگتا تھا لوگوں کی رنگ رنگ کی باتیں سن کر وہ سخت متامل تھے۔

    میں ذکیہ بھابھی سے بات کرلیتا ہوں۔ جب اپنے شہر میں ہیں تو ضرور ہاسٹل میں رہنا ہے۔ وہ ایک الگ کمرہ تمہیں دے دیں گی۔ آرام سے رہنا سکون سے پڑھنا۔ آخر انہوں نے ہی حل نکالا تھا۔ مگر جس پر آپابی تو کیا اسے بھی شدید اعتراض تھا۔
    ”افوہ بڑی تائی۔ نہیں نہیں آپابی خدا کے واسطے۔ اباجی کو سمجھائیں۔ کتنی باتیں کرتی ہیں بڑی تائی۔ وہ تو سارے زمانے کی خبریں رکھتی ہیں پھر ان پر بے مقصد ڈسکشن کرنا بھی ان کی ہابی ہے۔ اس پر ان کا اتنا بڑا کنبہ۔ میں اس ماحول میں قطعی ایڈجسٹ نہیں ہوپاوؑں گی۔ میں بالکل نہیں رہونگی وہاں۔ اس نے واویلا مچایا پھر کسی طرح آپابی نے اباجی کو راضی کیا یہ تو وہی جانتی ہوں گی اور جب وہ پہلی بار اسے ہاسٹل چھوڑنے گئے تو خوب غصے میں تھے۔
    میرا دل ابھی بھی مطمئن نہیں ہے۔ پر میں نے تمہاری بات مان لی۔ لیکن یاد رکھنا۔ آئندہ تمہیں میرا ہر فیصلہ ماننا ہوگا۔” اور وہ تو اسی خوشی میں تھی کہ اب سکون سے پڑھا کرے گی زور و شور سے سرہلادیا۔
    افضل ماموں کے بڑے بیٹے کی شادی تھی۔ آپابی خریداری کرنے شہر آئی تھیں۔ واپسی پر اسے بھی زبردستی ساتھ لے آئیں۔
    ”پڑھ پڑھ کر کتنا سا منہ نکل آیا ہے میری بچی کا چار دن رونق میلہ دیکھوگی تو طبیعت پر اچھا اثر پڑے گا اور ہاں کوئی کتاب مت اٹھانا ساتھ میں۔ خاندان والے تو پہلے ہی جل جل کر مررہے ہیں وہاں بھی جاکر پڑھتی رہیں تو کہیں نظر ہی نہ لگ جائے۔ دھیان کرو اپنا۔ وہ ماں تھیں۔ خوب وہمی ہورہی تھیں۔ اس نے پھر بھی نظر بچاکر ایک دو کتابیں بیگ میں ڈال لیں۔ چند ہی دنوں میں ٹیسٹ اسٹارٹ ہورہے تھے وہ وقت ضائع کرنے کے حق میں نہیں تھی۔ اور وہ مہندی کا فنکشن تھا سارے خاندان کی لڑکیوں نے تیاریوں میں ایک دوسرے کو مات دینے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ اس کے اور آپا کے ڈریس آپابی ہی لے کر آئیں تھیں۔ جو اس نے تو بخوشی قبول کرلئے تھے مگر آپا نے سب میں ہی خوب خوب نقص نکالے تھے وہ تو اگلے ہی دن شہر جاکر اپنی پسند کے کپڑے لے کر آئی تھیں بھئی ان کے سسرال والے بھی اس شادی میں شرکت کرنے آرہے تھے اور خاص طور پر منگیتر صاحب بھی تو ان کا نخرہ کرنا بنتا تھا وہ خوب سجتی سنورتی۔ جبکہ وہ ٹشو کی گوٹالگی گھیر دار فراک سے بنا کسی میک اپ اور بھاری جیولری کے لمبے بالوں کی ڈھیلی ڈھالی سی چٹیا گوندھے آگئی تھی۔
    ہر طرف مخصوص ہلا گلا تھا۔ بڑے سارے صحن میں دریاں بچھی تھیں عین وسط میں علاقے کی مشہور میراثنیں اپنی پاٹ دار آوازوں میں پٹے اور شگنوں کے گیت گا رہی تھیں۔ خاندان کی بڑی بوڑھیاں بھی اردگرد گھیر ڈالے اپنی لرزتی آواز ساتھ ملانے لگیں۔ منچلی لڑکیاں کسی رشتے کی مامی، چاچی کو گھیر لائیں اور لڈی ڈالنے پر مجبور کرتیں۔ وہ بھی چار نا چار دونوں ہوا میں تلوار کی طرح لہراتے دو چار گول چکر کاٹ دیتیں۔
    لڑکیوں کا ہنس ہنس کر برا حال ہوجاتا پھر رسم کے وقت سرخ دوپٹے کی چھاوؑں میں دولہا میاں کو لاکر رنگ رنگ کے پھولوں سے سجی چوکی پر بٹھا دیا گیا۔ اتنا شو رشرابہ کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے۔ سب ادھر مصروف تھے۔ وہ چپکے سے کھسک کر ماموں جی کے کمرے میں جا بیٹھی۔ بڑے سادے ہینڈ پرس میں کتاب ، پین، پیڈ سب موجود تھا۔ عادت تھی جو یاد کرتی ساتھ کے ساتھ لکھتی بھی جاتی یوں زیادہ اچھے سے ذہن نشین ہوجاتا۔ وہ مصروف تھی تبھی کوئی کمرے میں آیا اور اسے سب سے چھپ چھپا کر کتابوں میں گم دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس کی خوبیوں کے متعلق سنا تو تھا آج آنکھوں سے دیکھ بھی لیا۔ باہر کی دل لبھاتی محفل کو چھوڑ کر یہاں اپنے ہی دھیان میں رٹے مارتی گلابی رنگ کی فراک میں وہ گلابی گڑیا ہی لگ رہی تھی۔ وہ اسے ڈسٹرب کئے بنا ہی پلٹ گیا۔
    ان کے ہاں کا رواج تھا جو بھی دینا دلانا ہوتا وہ بھی آج کے دن ہی نبیڑلیاجاتا سب برادری والے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق تحفے تحائف دیتے جس کی سب تفصیل درج کرنا ضروری ہوتا تھا تاکہ پھرجب کوئی بیٹا بیٹی بیاہے تو اسے کے دیئے کے مطابق دیا جاسکے۔ مامی حلیمہ کاپی پنسل دھونڈتی پھر رہی تھیں۔ کہ ماموں کے کمرے میں اسے بیٹھے دیکھ لیا۔
    ”لوبھئی بڑے یونہی نہیں علم کے فائدے بتاگئے پڑھا لکھا ہی جانے کاغذ قلم کی حیثیت۔ ادھر اتنے بڑے گھر میں۔ میں تو ڈھونڈ ڈھونڈ کہ مرگئی اور مسئلے کا حل نکلا ہماری ڈاکٹرنی صاحبہ کے پاس۔ لا ادھر دے مجھے۔ اچھا بلکہ یوں کر میری ٹٹی پجی(ٹوٹی پھوٹی) لکھائی میں لکھا کیا سمجھ آئے گا کسی کو۔ اگلے سٹیم پڑنے پر گالیاں ہی دیں گے مجھے۔ چل آ میری شہزادی تو ہی لکھ دے سارا حساب۔
    وہ اسے پنڈال میں کھینچ لائیں۔ ایک طرف دری پر سب چاچیاں، مامیاں، خالائیں، پھوپھیاں اپنا اپنا ”ورتارا” لے کر جمع تھیں۔ چلو لکھو۔
    خالہ فاخرہ کی طرف سے مبلغ پانچ سو روپیہ سمیت چار جوڑے۔
    چابی کبریٰ کی طرف سے ووہٹی کے لئے سونے کا چھلا سمیت مارے ٹیر کے جوڑے اور … مامی حلیمہ اسے لکھواتی جارہی تھیں۔ وہ بری پھنسی تھی۔ کاغذ قلم پاس رکھنے کا کبھی یہ انجام بھی ہوگا سوچا نہ تھا۔ وہ جھنجھلائی ہوئی بار بار چہرے پر پھسل آنے والی ریشمی لٹ کو کان کے پیچھے اڑستی۔ وہ ادھر سے گذرا تھا کہ نظر پڑی۔ اس کی حالت زار پر بے اختیار ہنسی آئی مگر اگلے ہی پل یہ خیال کہ وہ تو تندہی سے پڑھ رہی تھی اور اس کی پڑھائی ہر کام سے زیادہ ضروری ہے اور یہ اس سے بہتر بھلا کون جانتا وہ ادھر ہی آگیا۔
    ”کتنا مال اکٹھا ہوگیا مامی جی۔ آپ سب تو پوری دکان سجا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اگر حساب میں ذرا سی بھی گڑ بڑ رہ گئی تو… اور اگر کل کلاں کو سحرش باجی کی شادی پر آپ نے ورتارے میں ایک جوڑا بھی کم رکھا نہ تو خالہ بشریٰ نے ذرا لحاظ نہیں کرنا وہ تو لڑنے پہنچ جائیں گی اور پھر آپ کو بچانے والا بھی کوئی نہ ہوگا۔ لائیں مجھے دیں میں تمام تفصیل لکھ دیتا ہوں۔” اور اس نے نہایت ممنون نگاہ سے دیکھا تھا۔
    ”تھینکس محسن بھائی۔”
    مینشن ناٹ۔ جاؤ جاکر پڑھو۔” وہ مسکرایا۔ وہ بھی مسکراتی ہوئی اٹھ گئی۔
    محسن کی نظر پشت پر لہراتی لمبی چوٹی کے بلوں میں الجھ کر ساتھ چلی گئی تھی۔ یہ کیا اور کیوں ہوا تھا اس کے ساتھ۔ وہ خود نہیں سمجھ پایا۔ جسے دیکھنے کا اسے حق تھا اسے تو نظر بھر بھی نہ دیکھا جبکہ وہ سچ سنور کر سامنے آتی رہی۔
    اس کی اور نفیسہ کی منگنی بہت دھوم دھام سے تو نہ ہوئی تھی بس چار سال پہلے جب نفیسہ نے دسویں کا امتحان بہت اچھے نمبروںسے پاس کیا تو زینت پھوپھو مبارک باد دینے کے بہانے آئیں تھیں۔ اپنی یہ خوبصورت اور نخریلی سی بھتیجی تو انہیں شروع سے ہی بہت پیاری تھی۔ پھر ان کا شہزادوں جیسا بیٹا بھی کسی سے کم نہ تھا پورے خاندان کا پہلا قابل اور ذہین بچہ تھا جو ڈاکٹر بن رہا تھا ایسا پڑھا لکھا اور خوبرو کوئی اور نہ تھا پوری برادری میں سمجھو چاند سورج کی جوڑی ہوتی۔ انہوں نے تو بہت پہلے سے سوچ رکھا تھا۔ اس بار آئیں تو بھائی کے سامنے اپنی خواہش کااظہار کرڈالا۔ اور انہیں بھلا کیا اعتراض ہونا تھا۔ گاوؑں کے مشہور حلوائی سے پانچ کلو بالو شاہی منگوا کر اور شگن کے ایک سو ایک روپیہ نفیسہ کے ہاتھ پر رکھ کر وہ بات پکی کرگئیں۔
    اور اب یہ تھا کہ عید کے عید نفیسہ کا شاندار جوڑا۔ چوڑیاں، مہندی، مٹھائی آجاتی، ادھر سے بھی محسن کے لئے عید کا جوڑا، جوتا، ٹوپی، رومال چلا جاتا۔ اس بار بھی زینت پھوپھو کی بہو کے شایان شان خریداری کرنا تھی وہ بیٹے کے سر ہوگئیں کہ بازار لے چلے۔ دو چار دن تو وہ ٹال مٹول کرتا رہا۔ پھر اک شام جب باقی افراد خانہ ادھر ادھر مصروف تھے تو ہ فیصلہ کن انداز اپنائے سامنے آبیٹھا۔
    ”مجھے آپ سے ایک بہت ضروری بات کرنا ہے۔”
    ”ہاں بولو۔” وہ دھلے کپڑے تہہ لگا رہی تھیں۔
    آپ اس بار ماموں کی طرف عید لے کر جائیں گی مگر …
    مگر… زینت پھوپھو نے گردن موڑ کر بیٹے کو دیکھا جس کی نظریں فرش پر گڑی تھیں۔ چہرہ حد درجے سرخ۔ ”مگر … کیا” ان کا دل جانے کیوں ہول ہوگیا تھا۔
    ”مگر نفیسہ کے لئے نہیں سجیلہ کے لئے۔” اور انکے ہاتھ سے پھوپھا کی بوسگی کی قیمتی قمیض چھوٹ کر پیروںمیں جا پڑی۔
    ”ہائے میرے اللہ۔ یہ کیا بکواس کررہا ہے تو محسن؟ ”انہوں نے دو ہتھڑ سینے پر مارے تھے۔
    ”بے غیرتا، بے شرما، یہ کیا بک رہا ہے۔ ہوش میں تو ہے اپنے ۔”
    میں اپنے پورے حواسوں میں ہوں اماں۔ میں نے بہت سوچا ہے۔ نفیسہ بے شک بہت خوبصورت ہے۔ مگر اس کے انداز دیکھے ہیں آپ نے اس کا مزاج میری سمجھ میں نہیں آیا۔ قاسم کی شادی پر دیکھتا رہا ہوں میں اسے۔ جبکہ اس کے برعکس سجیلہ بہت سمجھدار لڑکی ہے۔ پھر وہ بھی تو ڈاکٹر بن رہی ہے میری طرح اور میری خواہش ہے کہ میری بیوی بھی ڈاکٹر ہو۔ مجھے یقین ہے ماموں میری بات سمجھ جائیں گے وہ بھی تو انہی کی بیٹی ہے پھر ہم کونسا رشتہ ختم کریں گے۔ نفیسہ نہ سہی… سجیلہ ہی…
    ”بس۔ میں ادھر ہی ڈک (بند) لے منہ کو۔ خبردار جو آئندہ تیری زبان پر یہ بات آئی۔ اوئے کم بختا اس عمرے میرے چٹے چونڈے میں سواء ڈلوائے گا زمانے کے ہاتھوں ۔ نفیسہ تیری منگ ہے۔ ساری دنیا کو پتہ ہے۔ تیری شادی بھی اسی سے ہوگی کن کھول کہ سن لے تو۔ اپنی خواہشیں تو اپنے پاس رکھ اور اس گل کو یہیں مکا کے دفع ہوجا ادھر سے۔ ” ان کا غصہ تو آسمان کو چھونے لگا اور وہ اس وقت تو اٹھ گیا تھا مگر بات ختم نہیں کی تھی۔ اور اگلی بار جب پھر دل کے ہاتھوں سخت مجبور ہوکر مدعا گوش گزار کرنے لگا تو اماں نے ابا کا پشاوری جوتا اٹھا کر پیٹ ڈالا۔

  • اے شب تاریک گزر —- صدف ریحان گیلانی (پہلا حصّہ)

    اے شب تاریک گزر —- صدف ریحان گیلانی (پہلا حصّہ)

    کھڑکیاں دروازے بند کرلینے سے اگر زندگی کے ہارے ہوئے لمحوں کا آسیب اپنی ہیبت ناکی سمیت کہیں فنا ہوجاتا تو پھر بھلا دنیا میں دکھ ہی کیا رہ جاتا مگر مصیبت تو یہی ہے کہ چاہے خود کو کسی اونچی فصیلوں والے قلعے میں بھی محصور کرلو۔ یہ آسیب وہاں پر بھی پھڑپھڑاتا ہوا پہنچ جاتا ہے۔
    بہتیرا جھٹکو، نظریں چراؤ، منہ پھیرلو۔
    لیکن یہ کم بخت کچھ یوں اپنے خونی پنجوں میں دبو چتا ہے کہ پور پور نیلی پڑجاتی ہے۔ ساری آہیں،کراہیں پن کر سینے میں سر پٹخنے لگتی ہیں۔ مارے نالے حلق میں گھٹ گھٹ جاتے ہیں۔ روح صحراؤں کے سفر پر نکل پڑتی ہے۔
    کہنے کوتو وہ دو گھنٹوں سے کمرہ بند ہوئے سورہی تھی لیکن کیا وہ واقعی سورہی تھی؟
    آہ… نیند !! جس کی وہ کبھی بے حد رسیا تھی۔ خوب سوتی مزے سے جی بھر کر بے فکری کے جھولوں میں نہ صرف اپنے بستر پر بلکہ وہ تو کہیں بھی پڑ کر سوجاتی ہیں۔ نیند تو آنکھ بندکرنے کی محتاج ہوتی یوں آکر پلکوں پر بسیرا کرتی کہ پھر کوئی سر پر آکر ڈھول پیٹتا رہے اس کی بلا سے۔ ہک ہاہ۔ کیادن تھے وہ بھی جب زندگی پورے رنگوں کے ساتھ اس کے اندر جیتی لیتی تھی اور … اب تو جیسے دمے کے جھٹکے لگتے تھے سانس بھی کھینچ کھینچ کر لینا پڑتا تھا۔
    آخر ہمارے ہاتھ کی لکیریں ویسی ہی کیوں نہیں رہتیں جیسی ہم چاہتے ہیں۔ صاف ستھری سیدھی سڑک کے جیسی جس پر خوابوں کی رتھ دوڑتی چلی جائے۔ بغیر رکے، بنا جھٹکا کھائے، کوئی اسپیڈ بریکر نہ روکے، کوئی اشارہ نہ ٹوکے، ہر راستہ ہوا کے پروں کے ساتھ ساتھ طے ہوتا چلا جائے۔ مگر… اوف یہ سب خواب، خیال، تصورانہی ہاتھوں کی الجھی، گنجلک لکیروں میں گم ہوگیا تھاجی تو چاہتا تھا اپنی ہی ہتھیلیوں کو کھرچ ڈالے، لیکن کیاہوتا پھر؟…
    آخر چاہا ہی تھا کیا اس تقدیر سے؟
    صرف ایک خواب؟
    فقط اک آرزو؟
    اک تمنا…
    اک خواہش…جو یو ں لاحاصل قرار دی گئی کہ بدلے میں آنکھیں ہی بے خواب کردی گئیں۔ ابھی تو تتلیوں، پھولوں کے رنگ آنچل میں سمیٹنا چاہے تھے کہ جانے کہاں سے کانٹے اگ آئے۔

    سامنے قیمتی مشروب سے بھرا پیالہ رکھا ہو اور پیاس لگی ہوپانی کی۔ تو پھر وہ پیالہ نظروں میں جچتا نہیں۔ جی ہی نہیں کرتا اسے ہونٹوں تک لے جانے کو… پانی … پانی… روم روم سے آواز آتی ہے۔
    بڑھتی تشنگی جان کو جھلسانے لگتی ہے روح تڑک کر نڈھال پڑجاتی ہے۔ وہ بھی خار خار ہوگئی تھی۔ زخم تازہ تھے سوداد بھی اسی قدر تھا اور پھر اپنے ایسے زخم پرانے ہو بھی جائیں تو ان پر کھرنڈ آتا ہی کہاں ہے وہ تو ہمیشہ اسی طرح رہتے ہیں۔ پانی پر جمی کاٹی کی طرح۔ ذرا سا چھولو تو پر درد وہی اذیت رسانی۔ جو رگ رگ کو کاٹتی چلی جائے۔ کنپٹیوں سے ہوکر بہتا مائع آج پھر تکیہ بھگورہا تھا۔ اندھیرے کمرے میں یک لخت روشنی کی کرن سی پھوٹنے لگی سائڈ ٹیبل پر رکھا سیل فون تھر تھرارہا تھا۔
    دونوں ہتھیلیوں سے آنکھیں رگڑتے ذرا سا سراٹھا کر چمکتی اسکرین پر نظر ڈالی ”عروج کالنگ” اوہنوں۔ اس نے کوفت سے سرپھر تکیے پر ڈالا۔ وہ کسی سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی اور اس وقت پھر عروج؟ حلق تک میں کرواہٹ گل گئی تھی۔
    بندکمرے میں دم گھٹنے لگا تھا اس نے بڑھ کر کھڑکیاں کھول دیں۔
    اک اور شام غم ڈھل رہی تھی اک اور شب تاریک کو صدا دے کر افق کی لالی اور اس کی آنکھوں کی سرخی میں کوئی خاص فرقا نہ دکھتا تھا۔ عارض نرگس سے ہورہے تھے۔ طبیعت پر عجب کسل مندی سی چھائی تھی۔ جو کھلے پٹ سے اندر آتی تازہ ہوا سے بھی دور نہ ہوئی اور شاید دور ہو بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ جب خزاں اندر بہت دور تک اپنا خیمہ گاڑلے تو پھر باہر کے سب موسم بے اثر ہوجاتے ہیں۔
    کتنی دیر وہ چوکھٹ پر ہتھیلیاں ٹکائے سورج کو گگن کے پار اترتے دیکھتی رہی۔ فون وقفے وقفے سے تھرتھراتا رہا اس کی صرف اک نظر عنایت کو جو وہ ہر گز بخشنے پر تیار نہ تھی۔ واش روم جاکر جلتی آنکھوں پر ٹھنڈے پانی کے کتنے ہی چھینٹے مارے لیکن لگتا تھا کہیں چنگاری سی اب بھی دبی ہے۔ دوپٹے کے پلوسے چہرہ تھپتھپاتی لاؤنج میں چلی آئی۔
    خیر نال اٹھ گئی دھی رانی ۔ میں تمہارے ہی پاس آرہی تھی۔ چائے لے آؤں پتر۔ اسے دیکھتے ہی صفیہ بوا کچن سے نکلیں۔
    ہاں بوا چائے لے آئیں اور ہاں میرے سر میں بہت درد ہے۔ ساتھ کوئی پین کلر بھی لادیں پلیز۔
    اور وہ نہ بھی بتاتی تب بھی انہوں نے دیکھ لیا تھا۔ بے رونق ستا ہوا چہرہ، سوجی آنکھیں، جو صاف چغلی کھا رہی تھیں۔ بے اختیار ان کا ہاتھ اس کے ماتھے پر ٹکا۔
    سر میں درد کیوں ہے پتر۔ خیرتے ہے ناں اور یہ روز روز سر میںدرد کیوںہونے لگاہے پتر۔ پھر تمہارا بنا مشورے گولیاں پھنکنا اور تو ٹھیک نہیں ہے بچے۔ دیکھو تو یہ رنگ کیساپیلا پھٹک ہورہا ہے۔ میں تو کہتی ہوں کسی اچھے سے ڈاکٹر کو دکھاؤ۔
    ڈاکٹر… اف سینیسے اک ہوک سی اٹھی۔ جوروگ جو نک بن کر اس کی روح کو چمٹ گئے تھے ان کا علاج اب کسی ڈاکٹر کے پاس تھا کیا؟ اگر کہو تو سر میں تیل ڈال دوں لگتا ہے کئی دن سے کنگھا ہی نہیں کیا۔
    دیکھو تو کیا حشر ہورہا ہے۔ ان کی انگلیاں اس کے الجھے بالوں میں پھنس گئی تھیں۔ اچھا آپ تیل بھی لگادیجئے گا کیا فرق پڑتا ہے۔ ابھی تو جائیں چائے اور پین کلر لے آئیں پلیز… زرتاشہ نے صوفے کی بیک سے سرٹکا کر آنکھیں موند لیں۔ بوا کچن کی جانب مڑگئیں۔
    ارے بھئی تم خود ادھرہو۔ فون کہاں ہے تمہارا۔ عروج کب سے کال کررہی ہے تمہیں حد ہوتی ہے لاپروائی کی۔ یہ لو عروج ڈارلنگ بات کرلو اس سے۔
    نفیسہ اچانک جانے کدھر سے نکلیں تھیں اور قبل اس کے کہ وہ کچھ سمجھتی یا منع کرپاتی انہوں نے اپنا قیمتی سیل فون اس کے کان سے چپکا دیا تھا۔ مرتا کیا نہ کرتا کہ مصداق اب کیا ہوسکتا تھا علاوہ بات کرنے کے۔
    خواہ مخواہ کی خوش اخلاقی بگھارنا اس کے نزدیک ہمیشہ سے منافقت کے زمرے میں آتا تھا اور غضب یہ کہ اب اسی منافقت کے سہارے سفر زیست طے کرنا ہوگا۔کبھی بہت زعم سے ہم کئی باتوں پر کاندھے اچکاکر ”آئی ڈونٹ کیئر” کہہ دیتے ہیں اور پھر یوں ہوتا ہے کہوہی باتیں کسی وقت پلٹ کر منہ چڑانے لگتی ہیں تب ہم کچھ بھی نہیں کرسکتے سوائے خود سے ہی نظریں چرانے کے۔ عروج سدا کی باتونی، ہنوز،کتنی خوش باش رہتی ہے ناں وہ اور اسے تو ہنستے لوگوں سے جیسے چڑ سی ہونے لگی تھی دو چار باتوں پر ہوں ہاں کرکے اس نے فون واپس ماں کی جانب بڑھایا جو بغور اس کے انداز دیکھ رہی تھیں۔ ان کی لاڈلی سے اس نے ٹھیک سے بات نہیں کی تھی سو اس جرم کی پاداش میں کلاس بھی لگ سکتی تھی اور فی الوقت کسی بھی طرح کی نصیحت سننے کا موڈ نہ تھا فوری کھسکنے کا سوچا مگر بھلا ہو بوا کا جو چائے لے آئیں تھیں مطلوبہ لوازم سمیت…
    یہ کیا ہے ؟ نفیسہ کی نظر ٹرے میں رکھی دوا پر تھی۔
    بیٹی کے سر میں درد ہے۔ میں نے تو کہا اسے مت کھایا کرو الٹی پلٹی دوائیں۔ کسی اچھے سے ڈاکٹر کو دکھالو۔ دیکھو تو حالت کیا ہوگئی ہے اس کی۔ بوا فکر مند ہورہی تھیں۔ انہوں نے بھی اس کا چہرہ جانچا۔
    ہاں تو درد تو ہوگا ناں جب سارا سارا دن کمرے میں بند رہوگی۔ پتہ نہیں کیا ہوتا جارہا ہے تمہیں۔ سب مینرز بھولنے لگی ہو کتنا کہا اسے اپنا خیال رکھا کرو۔ فریش رہا کرو۔ آخر ٹینشن کیا ہے۔ تمہیں تو اب کسی سے بات کرنا بھی گوارہ نہیں۔ کیا سوچتی ہوگی عروج ارے اسے کس لئے اگنور کررہی ہو۔ کیوں بات نہیں کرنا چاہتی اس سے پتہ ہے ناں کون ہے وہ۔ اس سے ایک نہیں دو دو رشتے ہیں تمہارے اور دونوں ہی توجہ اور عزت کے متقاضی ۔ کیا سوچتی ہوگی وہ بچی۔ تم لوگوں نے ہر مقام پر مجھے بس تنگ کرنے کی قسم کھائی ہے اور ایک وہ جلاد ہے کم بخت ۔ اس کا علیحدہ نخرہ ہے۔ وہ بھی بات نہیں کرتا اس سے فون تک نہیں اٹھاتااس کا اور اس کی وجہ سے کتنی اپ سیٹ رہتی ہے بے چاری۔ اب اگر تم بھی یوں ایٹی ٹیوڈ دکھاؤ گی تو سمجھ لو کہ یہ تمہارے ہی حق میں اچھا نہیں ہوگا۔ ارے تمہیں تو چاہیے کہ تم اس کے ساتھ نہیں بولو دوستی بڑھاؤ اسے ابھی سے اپنی مٹھی میں کرنے کی کوشش کروگی تو کل کو…
    پلیز مام لیو اٹ۔ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ جی نہیں چاہا بات کرنے کو پھر کبھی کرلونگی ابھی چھوڑ دیں یہ قصہ حلق میں اترا گھونٹ کونین گھلا ہوگیا تھا کپ ٹیبل پر پٹخ دیا۔
    ہاں تو کیوں ٹھیک نہیں ہے طبیعت ؟ کیا ہوگیا ہے؟
    ”ہر وقت منہ پھلائے پھرتی رہتی ہو۔ جب گونگے کا گڑ کھائے رہوگی تو یہی ہوگا۔ شکل دیکھی ہے آئینے میں اپنی۔ برسوں کی بیمار لگ رہی ہو حلیہ دیکھو ذرا اپنا کتنے روز ہوگئے ڈریس چینج نہیں کیا تم نے؟ کتنی بار میں نے کہا پارلر سے ہو آؤ۔ حالت سدھار لو اپنی مگر تم نے تو جیسے کوئی بھی بات نہ ماننے کا تہیہ کررکھا ہے۔” اور اس نے بے اختیار سراٹھا کر انہیں دیکھا تھا۔
    اب بھی یہ الزام؟؟ ان کے کہنے پر اس نے چپ چاپ اپنی پوری زندگی داؤ پر لگادی پھر بھی وہ خوش نہیں تھیں۔ اک کندچھری تھی جو عین شہ رگ کے اوپر رکھی گئی تھی۔ کرب کے مارے پلکیں بیچ لیں۔
    ستا ڈالا ہے تم دونوں نے تو مجھے۔ ایک وہ ہے جسے رتی بھر میرا احساس نہیں اتنا لاڈ پیار کیا اس دل کے لئے دیا تھاکہ میرے ہی مقابلے پر اتر آوؑ۔ میرے ہی فیصلوں کو رد کرنے کی جرات کرو۔ حد ہوگئی اور تمہیں تو میرا کہا اپنا بھی خیال نہیں ہے۔ ایسا کیا ہوگیا ہے آخر اس چپ کی وجہ جان سکتی ہوں میں کیا ثابت کرنا چاہتی ہو اس رویے سے۔ میں نے کوئی ظلم کردیا ہے تمہارے اوپر؟
    کیا بات ہے؟ کیوں ڈانٹ رہی ہو میری گڑیا کو؟ وہ عادتاً نان اسٹاپ شروع ہوچکی تھیں کسی کی پراہ کئے بغیر۔ غیاث ہمدانی ابھی آفس سے لوٹے تھے سیدھا وہی چلے آئے۔
    ارے میری ایسی قسمت کہاں کہ میں انہیں ڈانٹ سکوں۔ یہ تو آپ کی شہہ ہے جو انہوں نے میری زندگی اجیرن کررکھی ہے۔ اب یہی دیکھ لیں مسز علیم کی بیٹی کی مہندی ہے آج اور میں نے چار روز پہلے سے بتارکھا ہے۔ لیکن ذرا صورت دیکھیں اس کی یہ ہے کہیں لے جانے کے لائق۔ میں نے شرمندہ ہونا ہے وہاں۔ اس کا پورا سسرال انوائیٹڈ ہوگا وہ سب کیا دیکھیں گے۔ دنیا تو پل میں رائی کا پہاڑ کھڑا کرتی ہے۔ اسے تو کسی سے بات کرنا بھی گوارہ نہیں رہا۔ اس کی بدمزاجی کی کیا کیا وضاحتیں دونگی میں لوگوں کو۔ آج عروج کا فون آیا تھا۔ اب وہ پوری تفصیل بیان کررہی تھیں اور غیاث ہمدانی کی نظر بیٹی کے جھکے چہرے اور لرزتی پلکوں پر تھی۔
    اچھا سب باتیں چھوڑ و تم جاؤ میرے لئے اچھی سی چائے بنواؤ اور ساتھ میں کچھ کھانے کو بھی بہت بھوک لگی ہے۔ وہ اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئے اور اسے بازو کے گھیرے میں لے لیا گویا اپنی شفقت بھری پناہ میں اور یہ تو ہمیشہ سے ہوتا آیا تھا۔ جب کہیں نفیسہ بیگم اپنی جلالی طبیعت کی دھوپ سے بچوں کو گرمانا شروع کرتیں وہیں وہ ان کے لئے گھنی چھایا بن جاتے۔ ماں کی عتاب بھری سختیوں سے وہی تو بچاتے آئے تھے انہیںَ بلا کے نرم مزاج غیاث ہمدانی جب کسی اور کے ساتھ تلخی نہیں برت سکتے تھے تو پھر اپنی اولاد کے معاملے میں تو وہ بالکل ہی موم کا دل رکھتے تھے خصوصاً اس سے تو انہیں بے پناہ محبت تھی اکثر گھرانوں میں باپ کی سخت گیری کے آگے ماں بچوں کے لئے ڈھال بن جاتی ہے جبکہ یہاں معاملہ یکسر الٹ تھا بچپن سے ہی وہ ماں سے زیادہ ان کے قریب رہی تھی۔ ماں کا شعلہ مزاج اسے ہمیشہ ان سے دور اور خائف رکھتا تھا۔
    اور اب تو وہ ان سے بالکل ہی خفا ہوگئی تھی مگر اظہار کی جرات نہ تھی۔
    اب بھی وہی ہمیشہ کی طرح جی چاہ رہا تھا باپ کے سینے میں منہ چھپا کر ایک بار تو خوب سارا رولے تاکہ اندر جمع ہوتی کثافت کچھ تو بہہ جائے گوکہ اسے یہ بھی علم تھا۔ جو پھول نوچ کر تپتی ریت پر پھینک دیئے جائیں وہ پھر سے خوشبو نہیں دیتے۔
    ہاں بیٹا اب بتاؤ کیا بات ہے؟ کیوں تنگ کررہی ہو اپنی ماں کو؟ طریقے سے نفیسہ بیگم کو وہاں سے ہٹانے کے بعد وہ اس کی طرف متوجہ ہوئے۔
    میں کیوں تنگ کرونگی ماما کو وہ تو میں یونہی… تیزی سے پلکیں جھپکا جھپکا کر آنسو اندر اتارتی وہ انہیں بالکل وہی چھوٹی سی گڑیا لگی جب وہ ماں کے غصے سے بچنے کو ان کے دامن میں پناہڈھونڈا کرتی تھی وہ سہمی، گھبرائی ہوئی ذرتاشہ اب اتنی بڑی ہوگئی تھی کہ اسے اپنے آپ کو سنبھالنا بھی آگیا تھا۔
    اور اچھا اس کا مطلب آپ نہیں آپ کی مام آپ کو تنگ کررہی ہیں۔ ناٹ گڈ۔ انہوں نے جیسے کچھ سمجھتے سرہلایا۔

  • خونی سایہ — عمارہ خان (تیسرا اور آخری حصہ)

    خونی سایہ — عمارہ خان (تیسرا اور آخری حصہ)

    فلک جب سے اسٹور سے آیا تھا ایک ہی اینگل میں بیٹھا مسلسل سوچوں میں گم تھا۔ سارہ کافی دیر تک دیکھتی رہی، لیکن پھر مجبور ہوکے اس کے پاس چلی آئی۔
    ”کیا ہوا فلک، کچھ پریشان سے لگ رہے ہیں۔ کھانا بھی نہیں کھایا دیکھیں ٹھنڈا ہوگیا ہے۔”
    فلک نے چونک کے سارہ کو دیکھا اور سامنے رکھے کھانے پر بھی نظر ڈالی جو پتا نہیں کب سارہ رکھ گئی تھی۔
    ”ہوں…بس ایسے ہی۔”
    ”کوئی پریشانی ہے، تو مجھے بتادیں شاید کوئی مدد کرسکوں۔” سارہ نے بات برائے بات کرنی چاہی۔
    فلک واقعی اس وقت سارہ کو دیکھ کے سوچ رہا تھا کہ ایشل سے شادی کا کیا جواز دے پائے گا اسے۔
    ”تم مجھے کتنا چاہتی ہو۔ فلک خود بھی حیران رہ گیا اپنے سوال پر۔”
    سارہ نے چونک کے فلک کو دیکھا۔ پھر مسکراکے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے سکون سے جواب دیا۔
    ”اپنی جان بھی دے سکتی ہوں آپ کی خاطر۔”
    فلک نے اسے چونک کے دیکھا اور خود کلامی سی کی۔
    ”ہاں جان بھی تو…نہ رہے گا بانس نہ دینی بجے گی بانسری۔”
    سارہ فلک کے ذہن میں چلنے والی الجھن سے بے خبر، اس کے پاس آ کے بیٹھ گئی۔
    ”فلک میں آپ سے واقعی بہت محبت کرتی ہوں۔ میرے پاس آپ کے سوا اور ہے ہی کون… جان تو معمولی سی چیز ہے۔ اگر میرے بس میں ہو، تو یہ دنیا نچھاور کردوں آپ پر۔” سارہ نے جذب سے کہا، تو فلک بے ساختہ شرمندہ ہوگیا۔
    ”اتنا چاہتی ہو مجھے سارہ۔ٔٔ فلک نے شرما کے منہ پھیر لیا۔ وہ نہیں جانتی تھی کس سخت دل سے جی لگا بیٹھی ہے جو پہلے ہی کسی دوسرے کے نام پر دھڑکتا ہے اور اب اس کو بھی اپنی محبت پر قربان کرنے چلا تھا، لیکن فلک بھول گیا تھا، مکافات عمل بھی کوئی چیز ہے ۔ورنہ یہ دنیا ایسے ہی خود غرض لوگوں کی اجارہ داری پر ختم ہوچکی ہوتی۔
    ٭…٭…٭

    ”تم فیکٹری آجاؤ نا فلک…” ایشل نے دبے دبے لہجے میں فلک سے بحث جاری رکھی ۔
    ”ہم ادھر لنچ کرلیں گے ، پلیز میں بہت مصروف ہوں آج …”
    ”مصروف تو میں بھی ہوں ایشل، لیکن تمہاری خاطر سب چھوڑ چھاڑ کے … خیر چلو تم کام کرلو پھر کبھی مل لیں گے۔” فلک نے جانے انجانے ایشل کے جذبات دیکھنے چاہے۔
    ”تم جانتے ہو فلک، یہ فیکٹری کام اور بزنس میرے مطلب کے نہیں۔ جب سارا دن خالی دیواروں کو دیکھ دیکھ کے نفسیاتی طور پر پاگل ہونے لگتی ہوں، تو ادھر آجاتی ہوں اور چاہ کے بھی پلٹ نہیں سکتی جب تک…” ایشل نے جھجک کے بات ادھوری چھوڑ دی، لیکن فلک کی جانب سے کوئی سوال نہ پا کے خود ہی بات مکمل کرلی۔
    ”جب تک کوئی مضبوط سہارا نہیں مل جائے مجھے ، اسی جگہ رہنا ہے فلک سمجھو بات کو۔”
    فلک بے ساختہ تڑپ گیا۔
    ”اوہ ایشل۔میں ہوں نا تمہارے ساتھ۔”
    ”نہیں فلک اب نہیں۔ مجھے جھوٹے خواب نہیں دکھانا۔ وہ وقت الگ تھا اب میں اتنی کمزور ہوچکی ہوں کہ دوسرا جھٹکا نہیں سہ سکتی۔ تمہاری بیوی ہے، گھر ہے تم اس کو دیکھو۔ میں ٹھیک ہوں جہاں اتنا وقت گزرا ہے وہیں باقی بھی گزر جائے گا۔” ایشل نے تلخ مسکراہٹ سے جواب دیا۔
    ”میں آرہا ہوں تم میرا انتظار کرو۔” فلک نے تیزی سے فون کاٹ کے گاڑی کا رخ اسی فیکٹری کی جانب موڑا جہاں ایشل کو پانے کے لیے معمولی سی نوکری کرنے گیا تھا اور اسی کا سوال کرنے پر بے عزت ہوکے نکال دیا گیا تھا۔ وقت وقت کی بات تھی، جو کبھی بھی ایک سا نہیں رہتا۔
    ٭…٭…٭
    ”کیوں اتنی اداس رہتی ہو سارہ۔ خوش رہا کرو۔” قدسیہ بیگم نے سارہ کو روکھے الجھے ہوئے بالوں کے ساتھ پھرتے دیکھا، تو ٹوک گئیں۔
    ”کس کے لیے تیارہوں اماں؟” سارہ نے چائے کا کپ ان کی جانب بڑھاتے ہوئے تھکے لہجے میں پوچھا۔
    ”اپنے لیے ، میرے لیے۔ دیکھو فلک جتنی محنت کررہا ہے ہمارے لیے ہی تو کررہا ہے نا۔” قدسیہ بیگم نے سارہ کو اپنے پاس بٹھاتے ہوئے ، ایک بار پھر اسے دلاسا دیا۔ وہ یہ بات بھول گئیں تھیں کہ بیوی کے لیے شوہر کی ایک نظر ہی کافی ہوتی ہے۔ وہ بھانپ جاتی ہے اس کا شوہر اس کی جانب راغب نہیں ہے۔
    ”اماں میں کب سے ایک بات پوچھنا چاہ رہی تھی آپ سے۔” سارہ نے جھجک کے قدسیہ بیگم کی جانب دیکھا۔
    ”ہاں ہاں پوچھو بیٹی۔ ماں سے بھی کوئی اجازت لے کے بات کرتا ہے کیا۔”
    ”فلک اس شادی کے لیے راضی نہیں تھے کیا۔” سارہ نے دھیمے لہجے میں اپنے دل کی الجھن قدسیہ بیگم سے شیئر کی۔
    یہ سنتے ہی قدسیہ بیگم کے ہاتھ میں چائے کا کپ لرز گیا۔
    ”ایسی تو کوئی بات نہیں سارہ۔ یہ شادی اسی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔ ہم تمہیں اتنے دقیانوسی لگتے ہیں کہ پرانے زمانے کی طرح زبردستی شادی کرادیں گے وہ بھی لڑکے کی… ”قدسیہ بیگم نے بات کا رخ ہلکے پھلکے انداز میں بدلنا چاہا۔
    ”ویسے بھی اتنا وقت ہوگیا ہے تمہاری شادی کو اگر وہ تمہیں پسند نہیں کرتا، تو کیوں گھر میں رکھتا؟”
    ”لیکن اماں…” سارہ اپنی ساس کو فلک کے سرد مزاج کے متعلق بتانے سے جھجک رہی تھی۔
    ”سارہ ۔ ہم نے کڑا وقت گزارا ہے۔ اب فلک جو یہ دن رات محنت کررہا ہے سمجھو اس کا مداوا کرنے کے لیے …”
    ”اور یہ جو وقت گزر رہا ہے اماں ، پھر بعد میں اس کا مداوا کریں گے؟” سارہ کے اس سوال کا جواب قدسیہ بیگم کے پاس نہیں تھا۔
    ”کیوں فکر کرتی ہو، فلک کے ابا، اماں کی پسند ہو ایسے کیسے اس کو ناپسند ہوسکتی ہو تم۔” قدسیہ بیگم نے اپنی ہر ممکن کوشش کرلی، لیکن سارہ بھی اپنے شوہر کے بدلتے مزاج کو بخوبی جاننے لگی تھی۔اس کی چھٹی حس اسے اشارہ دے رہی تھی ، کچھ بہت غلط ہونے والا ہے۔
    ٭…٭…٭
    ”آؤ فلک آؤ۔” ایشل نے خوش دلی سے استقبال کیا، لیکن اس کے چہرے کی تھکن فلک کو بہت واضح محسو س ہوئی۔
    ”لنچ پر جانا ہے یا ادھر ہی آرڈر کردوں۔”
    ”کیوں تھکاتی ہو اتنا خود کو ایشل؟” فلک نے سرخ ہوتی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے ایشل سے سوال کیا۔
    ایشل نے آنکھیں موندے بہت سے آنسو پیچھے دھکیلے اور زیرلب جواب دیا۔
    ”پھر کیا کروں اور کچھ ہے بھی تو نہیں کرنے کو؟”
    ”تمہاری کوئی اولاد؟” جھجکتے ہوئے فلک نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
    ایشل نے آنکھیں کھول کے فلک کو دیکھا اور نظریں جھکا کے خود ترسی کا شکار ہوگئی۔
    ”نہیں میری کوئی اولاد نہیں ہے۔ میں اکیلی ہی ہوں اور شاید اکیلے ہی رہوں گی ہمیشہ۔”
    فلک نے یہ سن کے اپنے جسم و جان میں سکون کی لہر دوڑتی ہوئی محسوس کی۔
    ”تم سناؤ۔ شادی تو کرلی ، بچے نہیں بتائے کتنے ہیں اور کس کلاس میں ہیں۔” ایشل نے نم آنکھوں سے فلک کو دیکھا۔
    ”اتنی بار بات ہوئی لیکن کبھی پوچھا ہی نہیں تمہاری فیملی کے بارے میں۔”
    ”ہوں کی ہے شادی اور رہے بچے… مجھے کچھ چاہ نہیں تھی۔ اسی لیے …”
    ”تمہاری بیوی…کیا اُسے بھی ، میر امطلب ہے ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے ماں بننا۔”
    ”زبردستی کاسودا تھا ایشل…ابا، اماں کی خواہش پوری کردی بس کافی تھا۔ اب بیوی کی بھی کرنا مناسب نہیں سمجھا میں نے۔” خود غرضی سے جواب دیتا فلک ، وہ فلک نہیں لگ رہا تھا جو یونی ورسٹی میں مشہور ہی دوسروں کے کام کرنے کے لیے تھا۔ ایشل نے بہ غور اسے دیکھا۔
    ”خوش نہیں ہوفلک؟”
    ”تم ہو…؟”
    ایشل نے بے ساختہ نفی میں سر ہلادیا۔
    ”پھر میں کیسے خوش رہ سکتا ہوں۔”
    ”جب ہم نے ملنا ہی نہیں تھا تو…”ایشل نے افسوس سے سر جھکا لیا۔
    ”ہم کیوں ملے تھے فلک اور ہم اب کیوں ملے جب کہ ایک نہیں ہوسکتے۔ یہ قسمت بار بار ہم سے ہی کیوں کھیل رہی ہے۔”
    ”میں اب کسی کو نہیں کھیلنے دوں گا ایشل۔” فلک نے ایشل کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔
    ”اب نہیں… بس اب کوئی نہیں آسکتا ہمارے بیچ۔” فلک نے فولادی لہجے میں خود سے عہد کیا۔
    ”کاش کوئی جادو ہوجائے اور پچھلا وقت واپس مل سکے ہمیں۔” ایشل نے بھرائی ہوئی آواز میں اپنے دل کی بات کہہ دی۔
    ”تمہارا گھر بس چکا ہے بیوی ہے۔ ان کی موجودگی میں ایسے ملنا مجھے…کاش ہم کسی طرح پرانا وقت جی سکتے جب ہم ایک تھے۔”
    ”ابھی بھی ہم مل سکتے ہیں۔ ایشل تم دیکھنا ہم ایک ہوجائیں گے۔ ہاں ہم ایک ہوجائیں گے، تم بس میرا انتظار کرو۔” فلک کو ایک دم کسی سوچ نے بے چین کیا ۔
    ”ہاں ایسا ہوسکتا ہے۔ ایشل اس بار میں واپس آؤں گا میر ا یقین کرو۔” فلک تیزی سے بات مکمل کرکے آفس سے باہر نکل گیا اور ایشل اسے حیرانی سے دیکھتی رہ گئی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ فلک اس کی خاطر کسی دوسری انسانی جان سے کھیلنے جا رہا تھا۔
    ٭…٭…٭

  • خونی سایہ — عمارہ خان (دوسرا حصہ)

    خونی سایہ — عمارہ خان (دوسرا حصہ)

    فلک ناشتا تیار ہے جلدی آجاؤ۔ قدسیہ بیگم نے فلک کو آواز لگائی اور چائے دم پر رکھی۔
    فلک جو باتھ روم میں آئینے کے سامنے شیو کررہا تھا، ماں کی آوازسن کے سر ہلاتا منہ پر پانی کے چھپکے مارنے لگا۔ آئینے میں فلک کا عکس نیچے ہوجاتے ہی، اس کے پیچھے کھڑا ایک سایہ آئینے میں نظر آنے لگا۔ اس بات سے بے خبر فلک مستقل چہرے پر چھپکے مار رہا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”میں آج سکندر صاحب سے بات کرنے کی کوشش ضرور کروں گا۔” فلک نے سکندر صاحب کے آفس جاتے ہوئے دل ہی دل میں ایک بار پھر خود کو یاد کرایا اور اپنی ہمت بندھائی۔
    ”کیا ہوا زیادہ سے زیادہ منع ہی کریں گے یا ہوسکتا ہے نوکری سے نکال دیں، لیکن مجھے تسلی تورہے گی کوشش کی تھی ایشل کو پانے کی۔” انہی سوچوں میں گم وہ کب سکندر صاحب کے عین سامنے جابیٹھا اسے علم ہی نہیں ہوا۔
    ”اوہ یس یس…یو کین کم مائے پلیس۔”
    فلک نے چونک کے سکندر صاحب کو دیکھا جو کسی سے نہایت خوش گوار موڈ میں بات کررہے تھے۔
    ”ہوں موقع اچھا ہے۔ فون بند ہونے کے فوراً بعد میں بات کرلوں گا۔” فلک نے اپنی منصوبہ بندی جاری رکھی۔
    ”شیور شیور… اوکے پھر… ڈن ہوگیا۔ کل کا ڈنر میرے گھر… ہاں یار اب وقت ہے۔ بزنس کوفیملی بزنس بنا ہی لیا جائے۔ آخر ایک ہی بیٹی ہے میری۔ کسی ایرے غیرے کو تو دینے سے رہا نا۔” فلک جو فائل سکندر صاحب کے سامنے رکھ کے ہاتھ کے اشارے سے سائن کرنے کی جگہ بتا رہا تھا ایک دم ساکت ہوگیا۔ سکندرنے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔
    ”اسی لیے تو تم سے رشتہ جوڑ رہا ہوں سمدھی ہم پلہ ہی جچتا ہے بھئی۔” زوردار قہقہہ لگا کے اپنی ہی بات سے لطف اندوز ہوتے ہوئے سکندر صاحب نے با ت سمیٹی۔
    ”اچھا اچھا چلو، کام کرنے دو۔ کل ملتے ہیں پھر اور ہاں مٹھائی لیتے آنا خوشی کے موقع پر کچھ بدپرہیزی ہوہی سکتی ہے نا۔” مسکراتے ہوئے فون رکھا اور گم صم کھڑے فلک کی طرف دیکھ کے اچنبھے سے پوچھا۔
    ”یس فلک واٹ ہیپنڈ؟” سکندر صاحب نے لمحے بھر بعد باقاعدہ ہاتھ ہلا کے فلک کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی۔
    ”ہیلووووو ینگ مین۔ واٹس رونگ ود یو؟”
    ”نن نتھنگ سر…” فلک نے چونک کے سکندر صاحب کو دیکھااور اپنے اندر دم توڑتی ہوئی ایشل کی آس کو محسوس کیا۔
    ”اور کہاں سائن کرنے ہیں بھئی’ٔٔ سکندرصاحب نے خوش گوار لہجے میں پوچھتے ہوئے اس کی جانب بہ غور دیکھا، لیکن اسی وقت بجتے ہوئے فون نے ان کی توجہ دوسری جانب کردی۔ سکندر صاحب کے مصروف ہوتے ہی فلک گم صم سا آہستگی سے چلتا ہوا شکستہ قدموں سے باہر کی جانب مڑ گیا۔
    ٭…٭…٭

    ”اور آج میں نے تمہیں بھی کھو دیاایشل…”
    فلک اپنی سوچوں میں پریشان حال بس اسٹاپ کی جانب قدم بڑھارہا تھا کہ اسے اپنے بائیں جانب تیزسانسوں کی آواز آئی اور اس کے ساتھ گھسیٹے ہوئے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ فلک نے بے زاری سے اِدھر اُدھر دیکھا، لیکن کوئی نظر نہیں آیا۔ اس نے کندھے اُچکا کے ایک بار پھر بس اسٹاپ کی طرف بڑھنا شروع کردیا۔ فلک نے بس اسٹاپ تک جانے کے لیے مین روڈ پار کرنی چاہی۔ جیسے ہی وہ بیچ سڑک تک پہنچا اسے دوسری جانب سے ایک سایہ اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے نظر آیا۔ فلک ہکا بکا سڑک پر کھڑا رہ گیا۔ قسمت اچھی تھی جو ایسے بیچ سڑک میں رک جانے سے کسی گاڑی کے نیچے نہیں آیا ورنہ فلک نے انجانے میں خودکشی کی ہی کوشش کی تھی۔ تیز ہارن کی آواز سن کے فلک اپنے ہوش میں آیااور جلدی سے باقی سڑک پار کی۔ اسٹاپ پر پہنچ کے اس ہیولے کو ہر طرف ڈھونڈنے کی کوشش کی، لیکن وہ کہیں نہیں تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”کیا ہوا فلک میرے بچے، جب سے کام سے واپس آئے ہو گم صم بیٹھے ہو۔ سب خیر تو ہے نا۔” قدسیہ بیگم نے کھانے کی ٹرے اٹھاتے ہوئے کہا ۔ برائے نام ہی کھانا کھاکے فلک خاموشی سے صحن میں بچھی چارپائی پر نیم درازہوگیا۔
    ”اماں وہ مجھے…” فلک ابھی بہانہ بنانے کے لیے کوئی بات سوچ ہی رہا تھا کہ ایشل کے فون نے اسے ساکت کردیا۔
    ”ہیلو…” سرسراتی ہوئی آواز سن کے ایشل نے بہ مشکل اپنا غصہ کنڑول کیا۔
    ”تمہیں معلوم ہے نا میرارشتہ طے ہونے جارہا ہے۔” ایشل کے چیختی ہوئی آواز یقینا موبائل اسپیکر سے باہر تک سنائی دے رہی تھی۔ قدسیہ بیگم نے چونک کے فلک کو دیکھا۔ فلک نے زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجا کے چائے پینے کا اشارہ کیا جسے قدسیہ بیگم سمجھ کے خاموشی سے کچن کی جانب بڑھ گئیں، لیکن یہ الگ بات تھی کہ ان کا رواں رواں کان بنا فلک شیر کی جانب متوجہ رہا۔
    ”ہیلو ہیلو…فلک آر یو دئیر…” ایشل نے گھبرا کے فون چیک کیا کہ آیا لائن تو نہیں کٹ گئی۔
    ”ہاں سن رہا ہوں۔” فلک کی مایوسی میں ڈوبی ہوئی آواز سن کے ایشل کو مزید غصہ آگیا۔
    ”بس سنتے ہی رہنا کچھ کرنا نہیں تم۔”
    ”تم بتاؤ میں کیا کرسکتا ہوں؟”
    ”مجھ سے پوچھ کے محبت کی تھی ؟” ایشل روہانسی ہوگئی۔
    ”مت کرو ایسا۔ میں پہلے ہی پریشان ہوں۔” فلک نے بھی ذہنی اذیت جھیلتے ہوئے ایشل کو ٹوکا۔
    ”تم،ت۔تم… پریشان ہو اور تمہیں میری پریشانی کا ذرا سا بھی اندازہ ہے فلک؟ وہ لوگ… وہ لوگ کل…”
    فلک نے مایوس ہوکے آنکھیں بندکرلیں۔
    ”تم ایک بار… تم ایک بار پاپا سے بات تو کرکے دیکھو۔ایشل نے ایک بار پھر فلک کو اکسایا۔ باقی میں دیکھ لوں گی لیکن بات تو شروع کرونا۔ میں لڑکی ہوکے کیسے… سمجھ کیوں نہیں رہو فلک؟”
    ”سکندر صاحب کبھی نہیں مانیں گے۔ مشکل ہے ایشل بہت مشکل ہے ۔” فلک کے کانوں میں سکندر صاحب کی باتیں گونج گئیں۔
    ”پلیز میری خاطر ایک بار کوشش تو کرو میں نہیں رہ سکتی تمہارے بنا فلک۔” ایشل نے اپنے نسوانی پندار کو چکنا چور کرتے ہوئے کہہ ہی دیا، تو فلک کو بھی احساس ہوا جب وہ لڑکی ہو کے اسٹینڈ لے سکتی ہے، تو میں تو پھر مرد ہوں۔
    ”میں کل ضرور بات کروں گا سکندر صاحب سے۔” فلک نے ایشل کو ایک بار پھر بھرپور تسلی دی۔
    قدسیہ بیگم کچن کی چوکھٹ سے لگی یک طرفہ بات سن رہی تھیں وہ ہکا بکا رہ گئیں۔
    ٭…٭…٭
    بات کرنے میں کیا ہرج ہے۔ فلک نے دل ہی دل میں اپنی ہمت بندھائی۔ ایک بار سر کے کانوں میں بات ڈال دی جائے باقی یقینا ایشل دیکھ لے گی۔ فلک نے گہری سانس لیتے ہوئے خود کو کمپوز کیا اور سکندر صاحب کے کمرے کا دروازہ دیکھ کے ہونٹ بھینچ لیے۔ ارے ے ے ے یہ کیا؟
    سامنے ہی سڑک پار ہیولہ سکندر صاحب کے کمرے کا دروازہ کھول کے اندر داخل ہوتا ہوا دکھائی دیا۔ فلک نے یہ دیکھ کے بے اختیار ہی تیزی سے اپنے قدم بڑھائے اور جھٹکے سے دروازہ کھول دیا۔ پھر وہیں کھڑے ہوکے چاروں طر ف حیران نظروں سے جائزہ لینے کے بعد وہ ٹھٹک کے رہ گیا۔ سامنے ہی سکندر صاحب کوٹ پہنتے ہوئے ترش نگاہوں سے اسے گھور رہے تھے۔
    ”یہ کیا بدتمیزی ہے فلک؟” سکندر صاحب نے کوٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے ناگواری سے پوچھا۔
    ”سس سوری سر…وہ میں نے کسی کو اندر آتے دیکھا تھا۔”
    ”کس کو؟” سکندر صاحب نے سرجھٹکتے ہوئے سامنے میز پر رکھا ہوا موبائل اٹھایا ۔
    ”کون ہو تم ؟” فلک نے اچانک سکندر صاحب کے عین پیچھے کرسی پر بیٹھے ہوئے سائے کو دیکھ کے پوچھا۔
    ”کیا ہوگیا تمہیں فلک؟” سکندر صاحب نے فلک کی نظروں کا پیچھا کرتے ہوئے اپنی کرسی کی جانب دیکھا اور سوالیہ نظروں سے ایک بار پھر فلک کو دیکھتے ہوئے ماتھے پر بل ڈالے۔
    ”وہ سر…وہ ( ہاتھ کے اشارے سے پیچھے کرسی کی سمت ان کی توجہ مرکوز کرانی چاہی)یہ مجھے کل سڑک پر بھی ملا تھا اور ایک دم غائب ہوگیا اور آج آپ کی کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔”
    سکندرصاحب نے پیچھے پلٹ کے دیکھا، جہاں خالی کرسی پڑی ہوئی تھی۔
    ”کون بیٹھ گیا بھئی میری کرسی پہ ، یہ تو خالی ہے۔ لگتا ہے کام کا کچھ زیادہ ہی اسٹریس لیا ہے تم نے۔ ویسے تو خیر اچھی بات ہے، لیکن اتنی بہکی بہکی باتوں کی اِدھر کوئی گنجائش نہیں ہے ینگ بوائے۔” سکندر صاحب کا موڈ یقینا بہت خوش گوار تھا جو ابھی تک فلک کو برداشت کررہے تھے۔

  • کچن میں ایک دن — نایاب علی

    کچن میں ایک دن — نایاب علی

    ہر انسان فارغ وقت میں کچھ نا کچھ کرنا چاہتا ہے۔ جب اسے فارغ وقت میں اس کا من پسند کام مل جائے تو وہ خوشی سے جھومنے بلکہ ہوا میں اُڑنے لگتا ہے۔
    ہماری طبیعت بھی کچھ ایسی ہی ہے کہ جیسے ہی کوئی باہر جانے کو کہے، ہمارا دل بے اختیار بھنگڑا ڈالنے کو کرتا ہے۔ ایک دن گھر پر فارغ بیٹھے ایسے ہی ہم مکھیاں مار رہے تھے جب ابو کی آواز سنائی دی :
    ”چلیں باہر گھومنے چلتے ہیں۔” بس یہ سننے کی دیر تھی کہ ہم بھنگڑا ڈالنا شروع ہوگئے۔جس کے بعدہم تیار ہونے کو چل دئییاور آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر خود کو سنوارنے کے لیے جی جان سے محنت کرنے لگے۔ اتنی محنت تو ہم نے کبھی اپنے سکول کے امتحانات کے لیے نہیں کی تھی، اگر کی ہوتی تو آج ہم باعزت طریقے سے سب کے سامنے سر اٹھا کر چلتے۔جو چیز ڈریسنگ میز پر پڑی نظر آئی اسے لگاناایسے ضروری سمجھاجیسے اگر کسی چیز کو چھوڑ دیا تو وہ ہم سے ناراض ہو جائے گی۔ بیس منٹ کی مشقت کے بعد ہم تیار ہو گئے اورجب ہم نے خود کو آئینے میں دیکھا تو بلااختیار منہ سے ”واہ” نکلا۔ ہم دل ہی دل میں اپنی بلائیں لینے لگے۔ کوئی اور تو ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا کیوں کہ گھر میں کسی سے ہماری بنتی ہی نہیں تھی۔لہٰذا ہم نزاکت سے شاہانہ چال چلتے ہوئے کمرے سے باہر نکلے،مگر گھر والوں کو ہماری خوشی راس نا آئی۔
    باہر نکلتے ہی ہمیں مہمانوں کے آنے کی اطلاع دی اور ساتھ ہی ایک دل خراش خبر بھی سنا دی کہ ان مہمانوں کے لیے کچن میں جاکر کھانا بھی بنانا ہے۔ ہمارے منہ پر مثلث بن رہی تھی تو کبھی تکون، مختلف زاویوں کی شکل بنانے پر بھی گھر والوں کو ہم پر رحم نا آیا تو ہمیں کچن کارخ کرنا ہی پڑا۔ ہم نے کام جلدی نمٹانے کا سوچا اور جلدی سے پیاز کاٹ کر ہانڈی چولہے پر چڑھا دی اور خود آٹا گوندھنے کی تیاری کرنے لگے۔ آج اپنا سگھڑاپا دکھانے کا وقت آچکا تھا جب ہمیں اپنی قابلیت کا لوہا منوانا تھا۔ اس لیے ہمارے ہاتھ جلدی جلدی حرکت کر رہے تھے۔ کچھ دیر بعد ہمیں کچھ جلنے کی بو آئی جس میں سانس لینا بھی دشوار ہو رہا تھا۔ جیسے ہی ہماری نظر ہانڈی پر گئی تو ہماری آنکھیں اُبل کر باہر کو نکل آئیں۔ ہم ہانڈی میں گھی ڈالنا بھول گئے تھے۔ اور اب سر پکڑے اور منہ کھولے ہانڈی کو دیکھ رہے تھے۔ ہم نے بھاگ کر جلدی سے گھی ہانڈی میں انڈیلنا چاہا مگر وہ اُچھل کر زمین پر جا گرا اور ہم پھر سے ناکام ٹھہرے۔ اس ناقابلِ برداشت بدبو سے چھٹکارہ پانے کے لیے ہم اس میں پانی ڈالنے کی نیت سے آگے بڑھے مگر زمین پر پڑے گھی کی وجہ سے اپنا توازن کھو کر دھڑام سے زمین پر آگئے۔ اسی پر اکتفا نہیں ہوا بلکہ ہمارا ہاتھ خشک آٹے کے برتن پرجا لگا اور وہ بھی زمین پرہمارے ساتھ تشریف لے آیا۔ سلیقے سے سلجھے ہوئے ہمارے ہیئر اسٹائل میں چاندنی اُتر آئی۔ اس کے ساتھ ہی منہ پر بھی آٹے کی ایک موٹی تہہ جم گئی۔
    ہم نے باربار اُٹھنے کی کوشش کی مگر ہر بار پائوں پھسل جاتا اور ہم واپس زمیں بوس ہوجاتے ۔ آخرکارکافی تگ و دو کے بعد جب ہم کھڑے ہوئے تو کچن سے کمرے کا رُخ کیا۔ وہاں جاکر جیسے ہی آئینے کے سامنے کھڑے ہو کرہم نے اپنی شکل دیکھی تو ”واہ”سننے والی شکل کا ”تراہ”نکل گیا اور ہمارے پیچھے کان پھاڑنے والے قہقہے بلند ہوئے۔ ان قہقہوں نے ہمارے حوصلے پست نہیں کیے اور پھر وہ ہم ہی کیا جو ہار مان جائیں۔ ہم نے تو تعلیمی امتحانات میں بھی پانچ پانچ بار ایک ہی کلاس میں پانچ کتابوں میں شان دار طریقے سے فیل ہونے کا ریکارڈ بنا رکھا تھا مگر پھر بھی ہمت نہیں ہاری پھر ہم نے باتھ روم کا رخ کیا اور ہاتھ منہ دھوکر کچن میں واپس تشریف لے آئے کیوں کہ مہمانوں کے لیے کھانا بھی تو تیار کرنا تھا۔ بس یہی سوچ کر ہم جلدی آگے بڑھے اور کام میں جت گئے۔
    آخرکار ہماری دو گھنٹے کی محنت کا نتیجہ یہ نکلا کہ سالن نما کوئی آمیزہ تیار ہوا مگر یہ معلوم نہیں ہوا کہ وہ بنا کیا تھا؟ اس آمیزے میں ٹماٹر، لہسن، ادرک اور ہری مرچ جیسی چیزیں سمندری مخلوق کی طرح جابہ جااِدھر سے اُدھرآزادی سے
    گھوم رہی تھیں۔ ہماری لغت میں تو یہ آمیزہ ”قورمہ” نامی کسی ڈش سے مشابہت رکھتا تھاجس میں گوشت کا یہ عالم تھا کہ ڈبکی لگا کر بھی بوٹی ڈھونڈنے نکلو تو دوپہر سے شام ہو جائے مگر اس آمیزے میں تیرتی ہوئی یہ سمندری مخلوق اس کوشش کو ناکام بنا دیتیں اور آپ کو بغیر بوٹی کے ہی مایوس لوٹنا پڑتا۔ اب مرحلہ روٹیاں بنانے کا تھا مگر یہاں روٹیوں کی جگہ اعلیٰ قسم کے نقشے بن رہے تھے۔ ہمیں خدشہ ہوا کہ اگر لوگوں کو پہلے معلوم ہو جاتا تو یقینا ہمیں دنیا کا نقشے بنانے کی پیش کش ضرور موصول ہوجاتی اور ہمارا نام تاریخ میں سب سے اعلیٰ نقشہ نویسوں میں سرفہرست ہوتا۔ اس عظیم مشقت کے بعد ہم کھانا بنانے میں کام یاب ہوگئے اور ہمارے چہرے پر ایسی خوشی نمودار ہوئی جیسے سکندرِ اعظم کی طرح دنیا فتح کرلی ہو۔
    آخر کار مہمانوں کی آمد ہوئی اور انہیں کھانا پیش کیا گیا۔ وہ ماں ہی کیا جو سب کے سامنے اپنی اولاد کی تعریف نا کرے۔ اس دن بھی ماما نے ان کے سامنے ہمارے کھانے کی تعریف میں زمین آسمان ایک کر دیا۔ ابھی آدھا گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ ہمیں مہمانوں کے پاس طلب کرلیا گیا۔ ہم دھڑکتے دل کے ساتھ وہاں پہنچے تو وہاں موجود مہمان آنٹی نے مُسکرا کر ہمیں دیکھا۔ ہمیں سمجھ نہیں آئی کہ اس مسکراہٹ کا مطلب کیا ہے؟ خیر ہمیں مطلب سمجھ کر کرنا بھی کیا تھا۔ کچھ دیر بعد ہمیں وہ مطلب سمجھ میں آنا شروع ہوگیا جب وہ اپنے پرس سے پیسے نکال رہی تھیں جسے دیکھ کر ہماری باچھیں کھل گئی اور بے اختیار دل چاہا کہ اپنے پیارے سے ہاتھوں کوچوم لوں جنہوں نے اتنے مزے کا کھانا بنایا مگر یہ خوشی اگلے ہی لمحے غارت ہوگئی جب ان آنٹی نے کہا:
    ”بیٹا یہ لو پیسے اور کسی کوکنگ کلاس میں داخلہ لے لو۔”
    یہ سن کر ہم کمرے سے ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سرسے سینگ۔ اور آج تک کچن میں جانے کی جرأت نہ کر سکے۔

    ٭…٭…٭

  • خونی سایہ — عمارہ خان (پہلا حصہ)

    خونی سایہ — عمارہ خان (پہلا حصہ)

    رات کے وقت قبرستان کی ہولناکی دل دہلا دینے والی ہوتی ہے۔ ہر سو اندھیرا، تو ڈراؤنا سناٹا، دھندلکے میں نظر آتی ٹوٹی پھوٹی قبروں کی ویرانی۔ اسی ویرانی اور سناٹے میں کہیں دور سے کتوں کے بھونکنے اور غرانے کی آوازیں بھی جب شامل ہوجائیں تو مزید دہشت ناک منظر بن جاتا ہے۔
    ایسا ہی ایک منظر شہر کے اس پرانے قبرستان میں بھی نمایا ں تھا جہاں دھنسی ہوئی قبروں کے ساتھ جھاڑ جھنکار اور ٹوٹی ہوئی دیوار بتا رہی تھی کہ شاید یہ جگہ قبرستان کا اختتام ہے۔ ممکن ہے سالوں سے کسی انسان نے ادھر پاؤں نہیں دھرا ہو، اسی لیے خستہ حال قبروں کی تعداد کہیں زیادہ تھی۔ قبرستان کی ٹوٹی ہوئی دیوار سے اگر جھانکا جائے تو سامنے ہی فٹ پاتھ تھا اور اس کے ساتھ پکی سڑک گزر رہی تھی، جہاں اسٹریٹ لائٹ کی مدھم روشنی میں نظر آتا تھا۔ قبرستان کے اندر انتہائی کونے میں تین گھنے درختوں کے عین نیچے کسی نے جھگی بنا رکھی تھی۔
    اس جھگی میں ایک مضبوط جسامت کا انسان دھوتی باندھے آنکھیں موندے سامنے پڑے تھال میں کچھ پڑھ کے پھونک رہا تھا۔ تھال میں جہاں سیندور، کچھ مخصوص ساخت کی ہڈیاں کالا دھاگا اور ایک پتلا رکھا ہوا تھا وہیں اس کے برابر ایک کالا بلا بیٹھا اپنی دم چاٹ رہا تھا۔
    اچانک عامل نے دھیرے سے آنکھ کھولی اور بلے کو دیکھ کے مسکرایا۔
    ”آگیا، تو… ہوں۔”
    بلے نے عامل کو دیکھا اور میاؤں کے ساتھ ہی چھلانگ لگا کے اس کی گود میں آبیٹھا۔ عامل نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے لمحہ بھر کے لیے اسے تھپتھپایا اور حکمیہ انداز میں گویا ہوا۔
    ”جاجا کے دیکھ کام پورا ہوا یانہیں ۔” بلے نے یہ سن کے عامل کی گود سے چھلانگ ماری اور جھگی سے باہر نکل گیا۔ دوسری طرف عامل ایک بار پھر سکون سے آنکھیں موندے اپنے تھال کی سمت متوجہ ہوگیا۔
    ٭…٭…٭

    بلے نے جھگی سے باہر نکل کے آسمان کی طرف دیکھاا ور پھر قبرستان کے دوسرے کونے کی طرف قدم بڑھا دیے۔ اسے علم تھا کہاں جانا ہے اور کیا کرناہے۔ جیسے جیسے بلا آگے بڑھ رہا تھا ویسے ویسے پورے چاند کی تیز روشنی میں نمایا ں ہورہاتھا ۔ اس کے عین سر کے اوپر ایک انجانا سا دھوئیں کا ہالہ بلے کے ساتھ گردش کررہا ہے۔ یکایک ایک جانب سے ہلکی سی آہٹ سنائی دی جسے سن کے بلے کے بڑھتے قدم تھم گئے۔ کوئی تھا جو دبے قدموں چل رہا تھا۔ غراتے ہوئے بلے نے چاند کی جانب دیکھاا ور ساتھ ہی اپنی سمت بدل لی۔ شاید وہ آہٹ اسی مقصد کے لیے ابھری تھی۔
    قبرستان کے ایک طرف جہاں یہ جھگی تھی اسی کے انتہائی دائیں جانب عامل کا کالا بلا کسی کی نگرانی پر معمور تھا۔ وہ جس کی نگرانی کررہا تھا وہ ہیولہ اس نیم اندھیرے اور وحشت ناک ویرانی کو محسوس کرتا ہوا، دھیرے دھیرے جھجکتا ہوا چلا جارہا تھا۔ وہ ہیولہ ہر ایک منٹ بعد رک کے دائیں بائیں اس انداز میں سر گھمارہا تھا جیسے اندازہ کرنا چاہ رہا ہو، کوئی اسے دیکھ تو نہیں رہا، لیکن اس وقت آدھی رات کو کون بدبخت قبرستان کے اندر آئے گا۔ سوائے سفلی علم کرنے والوں کے جو اپنی دنیا اور آخرت دونوں تباہ کرنے پر تل جاتے ہیں۔
    ہیولے کے رکتے ہی کالے بلے نے بھی اس کے پیچھے رک کے اسے گھورنا شروع کردیا۔ جھجکتا ہوا ڈرتا سہما ہیولہ درختوں کے جھنڈ سے جیسے ہی چاند کی روشنی میں آیا، تونمایاں ہوا وہ کوئی عورت تھی۔ اس نے کالی سیاہ چادر اپنے اردگرد کچھ اس انداز میں لپیٹی ہوئی تھی کہ صرف ایک آنکھ ہی واضح نظر آرہی تھی۔ ایک ہاتھ پوری طرح چادر کے اندر تھا، تو دوسرے ہاتھ میں کوئی چیز دبی ہوئی تھی۔
    وہ عورت بلے کی معمولی سی آہٹ پا کے بدک گئی۔ ڈرتے ڈرتے اپنے آس پاس غور سے دیکھنے کے باوجود جب کوئی نظر نہیں آیا، تو سکون کا سانس لیتے ہوئے اس نے ہر ممکن تیزی کے ساتھ قدم بڑھائے اور اپنے مطلب کی جگہ پا کے وہ جھک گئی اور ساتھ ہی ہاتھ میں پکڑی ہوئی چیز اپنی نظروں کے سامنے کی، جو ایک بے ہنگم پتلا تھا جس کے چاروں طرف سوئیاں پیوست تھیں۔ اس عورت نے پتلے کو دیکھ کے جھرجھری سی لی اور ساتھ ہی چادر سے دوسرا ہاتھ نکالا جس میں ایک تھالی تھا۔ تھالی نیچے رکھ کے وہ دونوں ہاتھوں سے پُھرتی کے ساتھ زمین کھودنے لگی۔
    یکایک ساکن فضا میں ہوا کی سراسرہٹ ہونے لگی، جیسے طوفان کی آمد آمد ہو۔ اس عورت نے چونک کے قبرستان کے بدلتے ماحول کو دیکھااور جتنا گڑھا کھود چکی تھی اس نے پتلا اس میں دفن کیا اور اس کے بالکل برابر دوسرا گڑھا کھودنے کی تیاری کرنے لگی، لیکن اب اس کے ہاتھوں میں وہ تیزی اور پُھرتی نہیں تھی جو پہلے تھی۔ شاید بدلتے ماحول نے اس پر اثر کیا تھا، اس کے ہاتھ لرز رہے تھے۔ کانپتے ہاتھوں کے ساتھ تھالی زمین پہ رکھ کے اوپر سے مٹی ڈالی اور تیزی کے ساتھ قبرستان سے باہر کی راہ پکڑی۔
    عورت کو دور ہوتے دیکھ کے اس کالے بلے نے اپنی جگہ چھوڑی اور عین اسی مقام پر بیٹھ کے روتے ہوئے چہرہ آسمان کی جانب کرلیا۔ اسے اس طرح روتے دیکھ کے لگ رہا تھا، شاید وہ آنے والے وقت کا ماتم کررہا ہو۔
    ٭…٭…٭
    صبح کا سورج نکلتے ہی اس متوسط طبقے کے علاقے میں روزمرہ کی چہل پہل ہونے لگی تھی۔ اسکول جانے والے بچے اُچھلتے کودتے اور کچھ منہ بسورتے بسوں میں سفر کررہے تھے، تو نوکری پیشہ افراد بھی نک سک سے تیار ہوکے کھڑے اپنی اپنی ویگن اور بسوں کے انتظار میں تھے۔ سبزی والے آوازیں لگاتے گلیوں میں گھوم رہے تھے۔ غرض ہر جگہ دن نکلنے کی مخصوص افراتفری مچی ہوئی تھی۔
    ایک سفید پوش گھر کے چھوٹے سے صحن میں ادھیڑ عمر جوڑا بیٹھا تھا۔ عورت صحن میں بچھی چارپائی پر سامنے دھرے تسلے میں سے ساگ کے پتے الگ کررہی تھی۔ مرد کے سامنے رکھی ہوئی چھوٹی سی میز پر ناشتے کے جھوٹے برتن پڑے تھے۔
    ”آپ نے شکیل بھائی سے بات کی اپنے فلک کی نوکری کے لیے۔” ساگ کے پتے کاٹتے ہوئے ادھیڑ عمر عورت نے اپنے مجازی خدا کو مخاطب کیا جو اخبار پڑھنے میں منہمکتھے۔
    ”ہوں…کی تو تھی قدسیہ بیگم ، لیکن…” گہری سانس لیتے ہوئے انہوں نے اخبار پلٹا۔
    ”ایک تو میں آپ کے ان وقفوں سے بڑی تنگ ہوں۔ عمر گزر گئی کہتے ہوئے ، ایک ہی باری میں اپنی بات پوری کرلیا کریں۔” قدسیہ بیگم نے چڑتے ہوئے کہا۔
    ”ارے بھئی انہوں نے کہا ہے سادہ پڑھائی کون پوچھتا ہے آج کل …ادھوری تعلیم کے ساتھ کوئی سیلزمین کی ہی نوکری ملے گی کوئی افسر تو لگنے سے رہا۔” راشد علی نے پُھرتی کے ساتھ بات مکمل کی۔
    قدسیہ بیگم نے چھری ہوا میں لہراتے ہوئے اپنے اکلوتے بیٹے کے بارے میں ایسی بات کرنے والے کا غالباً غائبانہ ہی قتل کردیا تھا۔
    ”اے لو، کیا خوب کہی آپ نے بھی… تیرہ چودہ جماعتیں کیا کم ہوتی ہیں اور کالج جاتا تھا میرا بچہ۔ وہ تو ہمارے حالات اچانک ایسے ہوگئے جو بے چارہ امتحان دینے سے رہ گیا۔ ایسے کیسے سیلز مین کی نوکری کرے گا میرا بیٹا۔ لوگوں کو تو بس باتیں بنانے سے فرصت نہیں ہے۔ انہیں کیا معلوم، آپ کا وہ ایکسیڈنٹ نہ ہوا ہوتا، تو…”قدسیہ بیگم نے ایک دم اپنی بات ادھوری چھو ڑ د ی۔ شرمندگی سے سامنے بیٹھے شوہر کو دیکھا جو افسردگی سے سر ہلارہے تھے۔
    ”بالکل ٹھیک بول رہی ہو نیک بخت ، اگر وہ حادثہ پیش نہیں آتا، تو ہمارا فلک اس پیسوں سے اپنی فیس بھر لیتا جو مجھ پہ اٹھ گئے۔ ”
    ”لیکن آپ کا علاج بھی تو ضروری تھا نا۔” اب ایک بیوی نے اپنے شوہر کی دل جوئی کی۔
    ”پڑھائی کا کیا ہے کبھی بھی مکمل ہوسکتی ہے ۔ اگر خدا نخواستہ آپ کو کچھ ہوجاتا،تو ہم کیا کرتے۔”
    ”ہاں ہم غریبوں کے ساتھ یہ ہی مسائل لگے ہوتے ہیں ، علاج کرالیں یا پڑھ لیں۔”
    ”کوئی بات نہیں فلک کے ابا۔ قسمت میں ہوگی کوئی نوکری تو مل ہی جائے گی۔ ”قدسیہ بیگم نے سر جھٹک کے دوبارہ ساگ کی کٹائی کی طرف دھیان لگایا۔
    ”لیکن اب تو سولہ سولہ جماعت پاس لڑکے بھی طرح طرح کے کورس کرکے نوکریاں تلاش کرتے پھر رہے ہوتے ہیں۔” راشد علی نے حقیقت بیان کرنے میں کوئی تامل نہیں برتا۔
    ”ان حالات میں فلک کو اچھی نوکری کی امید چھوڑنی ہی پڑے گی۔ جو مل رہا ہے وہ قبول کرلے تو اچھا ہے۔”
    ”پھر بھی کوئی ڈھنگ کی نوکری ہوتو کرے نا۔” قدسیہ بیگم بہرحال ماں تھیں جس کے لیے دنیا کا بہترین بچہ ان کا بیٹا ہی تھا۔
    ”کس چیزکی کمی ہے فلک میں جو چھوٹی موٹی نوکری کرے۔”
    ”اس کے پاس کسی بھی قسم کا تجربہ نہیں ہے قدسیہ۔” راشد علی نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے اخبار میں پناہ لینے کی کوشش کی۔
    ”اے لو میاں یہ اچھی کہی۔ جب کوئی نوکری ہی نہیں ملے گی، تو تجربہ خاک آئے گا۔” قدسیہ بیگم نے چھری ہوا میں لہراتے ہوئے راشد علی کو گویا عقل دینے کی کوشش کی۔
    ”ایسی باتیں کون سوچتاہے اب۔” راشد علی نے اخبار پڑھتے پڑھتے ایک دم چونک کے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
    ”ارے ہاںوہ ماجد بھائی ایک گارمنٹ فیکٹری کا بتا تو رہے تھے۔ جہاں وہ خود عرصے سے کام کررہے ہیں۔ بول رہے تھے، میری بہت عزت کرتے ہیں سیٹھ صاحب۔ ان سے بات کرکے دیکھتا ہوں۔ اچھا ہوا یاد آگیا۔ آج ہی ان سے پوچھتا ہوں۔ اللہ کرے فلک کہیں کھپ جائے ادھرہی تاکہ…”
    ”اب میرا پڑھا لکھا بیٹا، کسی گارمنٹ فیکٹری میں کپڑے سیئے گا۔ ایسا بھی کیا برا وقت آنا میاں۔” قدسیہ بیگم نے راشد علی کی بات کاٹتے ہوئے فوراً ہی اُنہیں ٹوک دیا۔
    راشد علی نے بے ساختہ ہنستے ہوئے اپنی بیوی کا غصہ ملاحظہ کیا اور تسلی دی ۔
    ”ارے نیک بخت! فیکٹریوں میں صرف کپڑے ہی نہیں سلتے اور بہت کام بھی ہوتے ہیں۔ شاید اکاؤنٹنٹ کی جاب مل جائے۔”
    ”اُنہہ جیسے آپ ویسے ہی آپ کے دوست۔” قدسیہ بیگم نے مزید بحث کرنے کے بجائے اپنے کام میں مصروف ہونا زیادہ مناسب جانا۔
    ٭…٭…٭

  • بلا عنوان — ثناء شبیر سندھو

    بلا عنوان — ثناء شبیر سندھو

    ”زینب تم پلیز امی سے بات کرو۔” ثمرہ نے منت بھرے انداز میں میرے ہاتھ پکڑے۔
    ”تم فکر مت کرو ثمرہ، میں اُن سے بات کروں گی۔ مجھے اُمید ہے وہ مان جائیں گی۔” میں نے اس کے ہاتھ تھپتھپاتے ہوئے تسلی دی۔
    ” میں بہت پریشان ہوں، مجھے لگتا ہے امی شاید نہ مانیں۔” ثمرہ نے پریشانی سے کہا۔
    ”کیو ں نہیں مانیں گی یار؟ آنٹی اتنی کنزرویٹو تو نہیں ہیں ۔ میں نے انہیں یہی کہتے سنا ہے کہ اگر تم اپنی پسند سے بھی شادی کرنا چاہو تو بھی ان کو اعتراض نہیں ہو گا اور اب جب تمہیں کوئی پسند آہی گیا ہے تو پھر وائے ناٹ… ” میں نے اپنا موبائل اُٹھاتے ہوئے تفصیلی جواب دیا۔
    ”ہاں میرے حساب سے تو سب ٹھیک ہے حتی کہ سہیل کی کاسٹ بھی سیم ہے تو مسئلہ ہونا تو نہیں چاہئے ” ثمرہ نے ناخن چباتے ہوئے کہا۔
    ”افوہ! تم کیا موبائل کو چمٹ گئی ہو؟ اُٹھو چائے بنا کر لاؤ۔ ” اُس نے مجھے موبائل کے ساتھ مصروف دیکھ کر چڑ کر کہا۔
    ”یا ر پلیز! آج تم خود بنا لو گھر پر کوئی بھی نہیں ہے اور میرا موڈ نہیں ہے۔” میں نے سستی سے کہا۔
    ”اوہ واؤ! بات تم ایسے کر رہی ہو جیسے ہمیشہ تم ہی بنا تی ہو۔ آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ پہلے بھی چائے ہمیشہ میں یا ردا ہی بناتے ہیں۔ تم نے کس دن بنا کر پلائی؟” اُ س نے میری بہن کا نام لیتے ہوئے مجھے گھورکر کہا۔
    ”تو جاؤ پھر آج بھی خود بناؤ مجھے کہا ہی کیوں؟” میں نے بیپروائی سے کہا۔
    ”تو بہ! سستی اور کاہلی کی بھی حد ہوتی ہے۔” وہ بڑبڑاتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔
    میں نے اُس کی بڑبڑاہٹ پر اُسے منہ چڑایا اور اس کے جانے کے بعد سوچنے لگی کہ مجھے آنٹی سے کیا بات کرنی ہے۔
    ٭…٭…٭

    ”یہ ثمرہ کہاں رہ گئی؟” میں نے داخلی دروازے کی جانب دیکھا اور پھر اپنی کلائی پر بندھی گھڑی پر وقت دیکھا جو کہ نو بجا رہی تھی جب کہ ساڑھے سات فنکشن کا ٹائم تھا۔
    ”حد ہے، اگر نہیں آنا تھا تو بتا یا کیوں نہیں اس نے ۔ ” مجھے اُس پر تپ چڑھنے لگی۔
    ”زینب…زینی…” میں ابھی اندرونی حصے کی طرف جانے کا سوچ ہی رہی تھی کہ مجھے اپنے پیچھے اُس کی آواز سنائی دی۔ میں ٹھٹک کر رک گئی اور دانت پیستے ہوئے اُسے پلٹ کر دیکھا۔
    ”آئی ایم سوری یار! گھر میں اتنی پسوڑی پڑگئی کہ اتنا لیٹ ہے فنکشن، نہیں جانا اینڈ آل دیٹ۔ تمہیں پتا ہے جو ہمیشہ ہوتا ہے ہمارے گھر۔”اُس نے میرے پاس پہنچ کر میرا بازو پکڑتے ہوئے منت بھرے انداز میں صفائیاں دینی شروع کیں۔
    ”تو پھر تم گھر ہی کیوں نہیں رہ گئیں ثمرہ۔” میں نے دانت کچکچائے۔
    ”لو! پھر امی نے فہد کو ساتھ بھیج دیا، وہ باہر گاڑی میں ہے۔” اُس نے دانت دکھاتے ہوئے کہا۔
    ”تو پہلے ہی فہد کو بھیج دیتیں ساتھ۔” میں نے گہری سانس بھری اور قدم بڑھائے۔
    ”بارات آگئی کیا؟” ثمرہ نے میرے ہم قدم ہوتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں، بارات انتظار کر رہی تھی کہ ہر ہائی نیس ثمرہ جب وینیو پر پہنچیں گی تو ہی وہ بھی تشریف لائے گی۔” میں نے اُسے گھورا۔
    ”ہا ہا … فنی ۔ ” ثمرہ منہ پھاڑ کر ہنسی۔
    ”لوگ کھانا کھا کر واپس جارہے ہیں۔” میں نے اُسے اطلاع دی۔
    ”ہائے کیا کہہ رہی ہو ؟ میں نے بھی کھانا کھانا ہے۔” اُس نے دہائی دے کر کہا۔
    ”موٹی پہلے تانیہ سے تو مل لو۔” میں نے اُسے گھورا۔
    ”ہائے یار تانیہ کتنی لکی ہے ، اُس کی شادی اس کی پسند سے ہورہی ہے حالاں کہ اُس کے گھر والے اس کی باتوں سے کتنے کنزرویٹو سے لگتے تھے۔” ثمرہ نے آہ بھر کر کہا۔ تانیہ ہماری اچھی دوست اور کلاس میٹ تھی اور آج اس کی بارات تھی۔ اُس کا شوہر ہمارا سینئر تھا اور ہم دونوں طرف سے ہی انوائیٹڈ تھے لیکن اس ثمرہ نے لیٹ آکر سارا مزہ خراب کر دیا تھا۔
    ”جس کی جہاں شادی ہونی لکھی ہوتی ہے ہو ہی جاتی ہے ثمرہ بے بی ۔ ڈونٹ وری انشاء اللہ تمہارے من کی مراد بھی ضرور پوری ہو گی۔جا بچہ بابا جی نے دعا دے دی۔” میں نے اُس کو آگے کی طرف دھکیلتے ہوئے کہا۔
    ”دعا دے رہی ہو کہ دھکا۔ ” ثمرہ نے مُڑ کر غصے سے مجھے دیکھا ۔ میں ہنستے ہوئے آگے بڑھ گئی جہاں ہمارے کلاس میٹس ہماری طرف دیکھ کر ہاتھ ہلا رہے تھے۔
    ٭…٭…٭
    اُ ف کتنا رش ہو گیا ہے ہر جگہ …” میں نے بس میںبہ مشکل داخل ہوتے ہوئے لوگوں کے ہجوم کو دیکھ کوفت سے سوچا۔مجھے بس تک پہنچتے شام کے چھ بج چکے تھے۔
    ”اوہ شٹ! ثمرہ کی طرف جانا تھا آج تو۔”میں نے موبائل نکالا تو اُس پر ثمرہ کی مسڈ کالز دیکھ کر مجھے یاد آیا۔
    ”بیٹھی کوس رہی ہو گی مجھے ۔” میں نے سڑک پر بھاگتی دوڑتی گاڑیوں کو دیکھ کر سوچا۔ وہ چاہتی تھی کہ میں اُس کی امی کو اُسے پسند کی شادی کرنے کے لیے قائل کروں۔ میں نہیں جانتی تھی کہ وہ میری بات مانیں گی یا نہیں۔لیکن میں اُن سے ایک دفعہ بات ضرور کرنا چاہتی تھی۔ مجھے لگتا تھا ثمرہ سمیت ہر لڑکی کو حق ہے کہ وہ اپنی مرضی سے شادی کر سکے۔ ہاں البتہ رشتہ اور لڑکا اُس معیار کا بھی ہونا ضروری تھا جو کہ ثمرہ کے مطابق بالکل مناسب تھا۔ میں اپنی سوچوں میں گم اسٹاپ پر اُتری اور اپنی گلی سے آنے والی پہلی گلی میں مُڑ گئی جہاں ثمرہ کا گھر تھا۔
    ثمرہ اور میں بچپن کی سہیلیاں ہیں۔ ہمارے گھر بھی آس پاس تھے۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں ہمارا بہت اچھا ساتھ رہا۔ البتہ اب میں ایک آفس میں جاب کر رہی ہوں جب کہ ثمرہ ایک اسکول میں ٹیچنگ کرتی ہے۔ وہ تین بھائیوں کی اکلوتی بہن ہے اور اُس کی گھر میں ضرورت بھی رہتی ہے اس لئے اُس نے قریبی اسکول شوقیہ جوائن کر لیا تھا۔پچھلے کچھ عرصے سے ثمرہ کی ایک لڑکے جس کا نام سہیل تھا اُس سے بات چیت ہونے لگی تھی جو کہ اُس کے اسکول میں پڑھنے والی کسی بچے کا ماموں تھا۔ ثمرہ کی اُس میں دل چسپی کافی بڑھ گئی تھی اور وہ اُسی سے شادی کرنا چاہتی تھا۔ وہ لڑکا بھی راضی تھا اور اپنا رشتہ بھیجنا چاہتا تھا لیکن انہی دنوں ثمرہ کے ایک دو اور بھی پروپوزل زیر ِ غور تھے جن میں ایک اُس کی امی کا دور پار کا رشتہ دار تھا اور جسے وہ ایک بہت اچھا رشتہ مان رہی تھیں۔ ثمرہ اپنی امی کو ڈھکے چھپے لفظوں میں اپنی پسند کا بتا چکی تھی لیکن اُس کی امی نے اُس کو سنجیدگی سے لیے بغیر دوسرے آنے والے رشتوں کی چھان بین جاری رکھی۔ یہ بات ثمرہ کو خاصی پریشان کر رہی تھی اور وہ چاہتی تھی کہ میں اُ ن سے بات کروں۔ایسا نہیں تھا کہ آنٹی میری بات فوراً مان لیتیں لیکن بہرحال سن کر ایک دفعہ غور ضرور کرتی تھیں۔
    میں اپنی رو میں چلتی اُس کے گھر سے آگے نکل گئی اور پھر ٹھٹک کر رکی۔ پلٹ کر دیکھا تو اُس کے ابو گاڑی نکال رہے تھے۔ شاید وہ کہیں جارہے تھے۔ میں آہستگی سے چلتی ہوئی واپس آئی، اس دوران وہ گاڑی لے جا چکے تھے۔ میں نے اندر داخل ہو کر گیٹ بند کیا اور سیڑھیاں چڑھ گئی۔
    ”واہ آج تو زینب ہمارے گھر کا راستہ بھول آئی ہے۔” آنٹی جو ٹی وی لاؤنج میں ہی بیٹھی سبزی بنا رہی تھیں، مجھے دیکھتے ہی انہوں نے گرم جوشی سے کہا۔ یہ اُن کا ہمیشہ کا استقبالیہ جملہ تھا۔ میں روز بھی جاؤں تو بھی وہ یہی کہتی تھیں۔
    ”السلام علیکم آنٹی! آپ بھی نا۔ بس ہمیشہ یہی کہتی ہیں۔” میں نے جھینپ کر انہیں سلام کیا۔
    ”لو غلط کہتی ہوں کیا؟ مہینے بعد ہی شکل دکھاتی ہو۔”وہ اپنی بات پر قائم رہتے ہوئے بولیں۔
    ”ابھی تو میں پچھلے ہفتے آئی تھی آنٹی۔” میں نے بیگ سنٹرل ٹیبل پر رکھا اور چیخ کر کہا۔
    ”بس بس رہنے دو۔ اچھا بتاؤ کیا لو گی، چائے بنواؤں؟ ابھی چائے پیو میں کھانا بنا رہی ہوں۔ کھانا کھا کر جانا اب۔” انہوں نے محبت سے کہا تو میں نے سر ہلا دیا۔
    ”طیبہ جلدی سے باجی کے لئے چائے بنا کر لاؤ۔” آنٹی نے کچن کی طرف جا کر آواز لگائی۔ طیبہ نے ان کی آواز سنتے ہی باہر آ کر میری طرف دیکھتے ہوئے دانتوں کی نمائش کی اور پھر سر ہلا دیا۔ طیبہ اُن کی کل وقتی ملازمہ تھی۔
    ”اور بتاؤ بیٹا، کیا ہو رہا ہے؟” آنٹی نے واپس آکر چھری تھامی اور مزید بات شروع کی۔
    ”بس آنٹی آفس اور گھر اور کچھ خاص نہیں۔ یہ ثمرہ کہاں ہے؟” میں ان کو جواب دے کر ادھر ادھر جھانکتے ہوئے کہا۔
    ”میری بھتیجی آئی ہوئی ہے گاؤں سے۔اُسے بازار جانا تھا بس اُسی کو لے کر گئی ہے۔” انہوں نے مصروفیت بھرے انداز میں جواب دیا۔
    ”اوہ!” میرے منہ سے بے اختیار نکلا۔میں نے سوچا اُن سے بات کرنے کا یہی اچھا مو قع ہے۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا اور گلا کھنکھارنے لگی۔
    ”آنٹی وہ،مجھے کچھ بات کرنی تھی۔” میں نے آہستگی سے کہا۔
    ”ہاں کہو نا، کیا بات ہے؟” انہوں نے سر اُٹھا کر مجھے دیکھا۔
    ” ثمرہ نے آپ کو سہیل کے بارے میں تو بتایا ہی ہوگا۔” میں نے غور سے ان کا چہرہ دیکھا جو رنگ بدل چکا تھا۔
    ”ہاں۔ ” انہوں نے سپاٹ سے لہجے میں کہا۔