ساجد تھکا ہارا گھر لوٹا جمیلہ نے اسے دیکھتے ہی آڑے ہاتھوں لیا:”اتنی رات گئے تک باہر کیا جھک مارتے رہتے ہو ۔تنخواہ تو تم اتنی کم رکھتے ہو میرے ہاتھ میں!” اِس کے طرزِ تخاطب پر ساجد چڑ کر بولا” جمیلہ تو اچھی طرح جانتی ہے کہ میں کام کے علاوہ کہیں نہیں جاتا اوور ٹائم کرنے میں دیر ہو جاتی ہے”۔ جمیلہ پھر بھی باز نہ آئی ۔”ہاں ہاں جانتی ہوں سب،فالتو میں مٹر گشت کرتا رہتا ہے اوور ٹائم لگاتا تو آمدن نہ بڑھتی؟ میری بات سن لے توکان کھول کے ،منا اب چار سال کا ہو گیا ہے ،پانچ کا ہوتے ہی میں نے اسے سکول داخل کرانا ہے اس کے لیے مجھے ڈھیر سارے پیسے چاہئیں۔مجھے منے کو وہ بڑے والے سکول میں کرانا ہے جہاں صاحب لوگوں کے بچے پڑھتے ہیں ۔۔”
ساجد چارپائی پر بیٹھتے ہوئے بولا: ”اری بھاگوان اتنے بڑے بڑے ،اپنی اوقات سے اونچے خواب نہ دیکھا کر ،اللہ نے کیا نہیں دیا ہمیں ۔دو وقت حلال روٹی کھاتے ہیں ۔چین کی نیند سوتے ہیں۔اولاد ہے، سکون ہے ،جب منے کے سکول جانے کا وقت آئے گا تو دیکھ لیں گے ابھی تو کچھ روٹی پانی دے۔۔”
جمیلہ جو منے کے سکول کے خواب میں گم تھی خشک لہجے میں بولی :”اچھا دئیے دیتی ہوں۔”
سالن روٹی سامنے رکھنے کے بعد ساجد کے پاس بیٹھتے ہوئے جمیلہ نے نیا نکتہ اٹھایا” ساجی تو باہر کیوں نہیں چلا جاتا ؟”ساجد کے ہاتھ سے لقمہ گر گیا۔” باہر ؟ ” اس نے ہڑبڑا کے دوبارہ پوچھا ”کیا مطلب باہر ؟؟ ”
جمیلہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی: ”دیکھ ساجی یہاں تم اتنی محنت کرتے ہو، جان مارتے ہو سارا سارا دن لیکن ملتا کیا ہے تمہیںوہی تین ہزار؟ اور اوور ٹائم لگا بھی لو تو ہزار اور مل جاتا ہے ۔لیکن چار ہزار میں جیسے میں مہینہ نکالتی ہوں مجھے ہی پتا ہے ۔20 تاریخ کے بعد ہم نمک مرچ سے روٹی کھانے پہ آ جاتے ہیں اور گوشت تو عید بقر عید پر ہی نصیب ہوتا ہے !تم ایسا کرودبئی چلے جا ؤ،پھر دیکھنا کیسے دن پھرتے ہیں ہمارے ۔ وافر پیسہ آئے گا تو منا اچھے سکول میں پڑھے گا ،میں اچھے کپڑے لے سکوں گی،دیکھو نا مجھے سال سے اوپر ہو گیا نیا جوڑا بنائے ہوئے ”۔ جمیلہ نے ساجد کو نئے خواب دکھائے ۔
ساجد جیسے نیند سے جاگ اٹھا ” نہیں نہیں جمیلہ میں یہاں ہی اچھا ہوں ۔دیکھو بھلے ہی ہم نمک مرچ سے روٹی کھاتے ہیں لیکن سکون سے تو سوتے ہیں نا۔ہم دونوں ایک ساتھ ہیں ، منا پاس ہے اور میں توجب تک تم دونو ں کو نہ دیکھ لوں تو مجھے نیند نہیں آتی۔”
جمیلہ نے کندھے پر ساجد کا رکھا ہاتھ غصے سے ہٹایا اور پیر پٹختے ہوئے بولی:”تم نہیں سمجھو گے ۔ تم وہی کنویں کے مینڈک رہنا ۔۔لوگ ترقی کرتے ہیں تم نمک مرچ پر اٹکے رہنا ۔دیکھوساجد! بس بہت ہو گئی مجھ سے اب ایسی زندگی نہیں گزرتی ۔تمہیں کوئی خیال نہیں میرا ”۔جمیلہ نے منہ پھیر کر ناراضی ظاہر کی۔
”اچھا مان لو اگر میں جانے کے لیے راضی ہو بھی جاؤں تو کیسے ہو گا یہ سب ۔مفت میں تو نہیں باہر جاتے لوگ ”۔ساجد بولا ۔۔
جمیلہ خوشی سے اچھل پڑی” پیسوں کی تم فکر نہ کرو!” بھاگ کے صندوق سے پوٹلی نکال لائی اور پتلی تار جیسی دو چوڑیاں نکال کر کہنے لگی: ”یہ لو انہیں بیچ لو اور کچھ پیسے اپنے بھائی سے ادھار لے لو ،وہاں جا کے اتار دینا”۔منٹوں میں اُس نے مسئلہ حل کر دیا۔
ساجد چارپائی پر لیٹتے ہوئے بولا: ”نیک بخت ابھی سو جا ؤصبح بات کریں گے ”۔
جمیلہ بے صبری سے بولی: ”نہیں بات نہیں کریں گے بلکہ ایسا کرو تم کل فیکٹری سے چھٹی کرلواور میرے بھائی شوکت کو ساتھ لے کر کسی ایجنٹ کے پاس چلے جانا ۔۔”
قرض اور چوڑیاں بیچنے کے بعد حاصل ہونے والی رقم کی مددسے آخر کار ساجد دبئی پہنچ گیا۔وہاں پہنچ کر اس نے دیگر پاکستانی لڑکوں کے ساتھ مل کر ایک کمرہ کرائے پر لیا اور ٹیکسی چلانے لگا ۔۔۔سارا دن ٹیکسی چلاتا،رات کو تھکا ہارا بستر پر گر جاتا ۔کام کے علاوہ اسے لڑکوں کے ساتھ مل کر کمرے کی صفائی، کپڑے دھونا اور اپنی باری پر کھانا بھی بنانا پڑتا۔
اسے جمیلہ اور منا بہت یاد آتے ،جمیلہ کو فون کرتا،اپنی اُداسی کا بتاتاتو جمیلہ اسے تسلی دیتی کہ اُداس مت ہو،میں اور منا ٹھیک ہیں ۔بس تم ڈھیر سارے پیسے کما لو پھر واپس آجانا۔۔ساجد پھر سے اپنی ٹوٹی ہمت بندھانے لگتا ۔۔۔سب سے پہلے اس نے قرض کے لیے پیسہ جمع کیا اور جب قرض احسن طریقے سے اتر گیا تو ساجد اپنے پاس صرف ضرورت کے پیسے رکھتا ،باقی جمیلہ کو بھیج دیتا ۔۔۔اسی طرح گھن چکر بنے دن رات گزرتے رہے ۔ہر سال وہ وطن جانے کی سوچتا لیکن جمیلہ اسے سمجھا بجھا کے آنے سے منع کر دیتی کہ ابھی تھوڑا اور کما لو پھر آ جانااوروہ منے سے اداس ہونے کی بات کرتا تو جمیلہ کا جواب ہوتا کہ منا کہیں نہیں جا رہا ، ذرا زیادہ پیسے کما لو پھر آؤ گے تو ہم دونوں سے مل لینا۔۔۔چار سال بعد وہ پاکستان جا سکا۔
اس نے جہاز میں بیٹھتے ہی فیصلہ کیا کہ اب واپس دبئی نہیں آئے گا۔۔ گھر پہنچا تو اپنی اس جائے اماں کو پہچان نہ سکا کیوں کہ اس گھر کی حالت بالکل بدل چکی تھی ۔ فرش پر قالین بچھے تھے ۔چارپائیوں کی بہ جائے صوفے اور بیڈ آ چکے تھے ۔نکھری نکھری جمیلہ نے مہنگے کپڑے اور زیور پہن رکھا تھا ۔۔ساجدکو دیکھا تو خوشی سے نہال جمیلہ نے ساجد کو سارا گھر دکھایا کپڑے دھونے کی مشین آچکی تھی ،فریج ٹی وی سب کچھ تھا ۔اگر نہیں تھا تو صرف ساجد۔
اس کے تصور میں اس کا وہی سادہ سا گھر تھا ۔۔اسے ایسا لگ رہا تھا کہ اس کا کچھ گم ہو گیا ہے۔۔وہ نمک مرچ کے ساتھ روٹی اور جمیلہ کے ساتھ پیار بھری باتیں ڈھونڈ رہا تھا جب کہ یہاں تو ماحول ہی بدلا ہوا تھا۔جمیلہ اس کے سوٹ کیس میں بھرا سامان شوق سے دیکھ رہی تھی ۔
سوٹ کیس کی تلاشی لیتے لیتے جمیلہ نے فکرمندی سے کہا:”ساجی اب یہ ایک مہینہ تمہاری ٹیکسی بند رہے گی۔پورے مہینے کے پیسے گئے۔۔۔اب دیکھو مہینے سے زیادہ نہ چھٹی کرنا ”۔۔۔ساجد کے دل کو زبردست ٹھیس پہنچی کہ جمیلہ کے لیے اس کی حیثیت پیار کرنے والے شوہر سے زیادہ پیسوں کی مشین کی سی ہو گئی تھی۔ اُسے شوہر کا وقت اور پیار نہیں ،چیزیں چاہیے تھیں ۔
”منا کہاں ہے ”؟ ساجد نے دلی افسردگی چھپائے ہوئے بہ ظاہر خوش دلی سے پوچھا۔
”وہ ابھی آتا ہے ، میں نے اُسے دُکان سے کچھ لانے بھیجا ہے” ۔
سیٹی کی آواز پر ساجد نے مڑ کر دیکھا تو دروازے سے اس کا منا اندر داخل ہو رہا تھا ۔ عمدہ لباس ، کانوں میں ہیڈ فون اور ہاتھ میں موبائیل تھامے تھرکتا ہوا اندر آ رہا تھا ۔ ”بابا” ۔ وہ دوڑ کر بڑھا اور باپ سے لپٹ گیا لیکن اس کے انداز میں وہ گرم جوشی نہ تھی جس کی ساجد کوتوقع تھی۔ اک اجنبیت سی تھی ۔ گھر اور ماحول میں وہ اجنبی سا ہو گیا تھا ان سب کے لیے ۔
اُسے اپنا پرانا گھر اور اپنائیت بھرا ماحول بری طرح سے یاد آ رہا تھالیکن ان تمام آسائشوں نے اُن سب چیزوں کو پس پشت ڈال دیا تھا ۔ اس اجنبی کا ٹھکانہ صرف پردیس تھا ، پردیس۔۔۔اپنوں سے دوری ۔۔۔۔جس سے ا س کے اپنے خوش تھے ۔
Tag: Urdu fiction
-

اجنبی — لبنیٰ طاہر
-

زندگی جبرِ مسلسل کی طرح — آفاق احمد آفاق
وہ بہت دنوں سے باتیں سن رہا تھا ۔۔ بابا کی ۔۔ اماں کی ۔۔ بہن بھائیوں کی! اٹھتے بیٹھتے آتے جاتے سب کے پاس اس کے لیے ایک ہی سوال تھا ”شادی کب کروگے؟” وہ واقعی اب تنگ آچکا تھا۔ہزار بار گھروالوں کو کہہ چکا تھا ۔۔بتا چکا تھا کہ وہ ابھی شادی نہیں کرسکتا۔جب مناسب وقت ہو گا تووہ خود ہی بتادے گا لیکن اس کی وہاں سنتا کون تھا؟دنیا کے باقی تمام موضوعات گھر کے تمام افراد کے لیے جیسے ثانوی حیثیت اختیار کرگئے تھے۔ اوّلین حیثیت بس ایک ہی موضوع کو حاصل تھی اور وہ تھا’اس کی شادی۔”
شادی کے متعلق سب کی اپنی منطق تھی۔اس کے بابا کا خیال تھا کہ شادی مرد کی زندگی میں توازن لاتی ہے۔شادی شدہ غیر شادی شدہ مرد کی نسبت زیادہ ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اماں کو اس کے ذمہ دار بننے کی فکر نہ تھی،انہیں ارمان تھا تو بس اتنا کہ وہ اپنے جوان بیٹے کے سر پر سہرا دیکھ لیں اور ایک پیاری سی بہو بیاہ لائیں جو بالکل چاند کا ٹکڑا ہو۔بہنیں ویسے تو دل ہی دل میں بھائیوں کی شادیوں کی مخالف ہوتی ہیں کیوں کہ وہ سمجھتی ہیں کہ سہرا سجا لینے کے بعد بھائیوں کے پاس ا ن کی فرمائشیں پوری کرنے اور ان کے بچوں سے لاڈ کرنے کے لیے وقت بچتا ہے اورنہ ہی وسائل۔ کیوں کہ بھائیوں کی جیبیں بہنوں سے پہلے ان کی بیویاں خالی کردیتی ہیں۔ یہاں قصہ کچھ اور تھا۔بڑے بھیا کی شادی کے بعد ایک مدت ہوگئی گھر میں کوئی ہنگامہ ہوا۔نہ ڈھولک کی تھاپ سننے میں آئی تھی۔۔۔اور ایک عرصے سے انہوں نے ایک ساتھ ڈھیر سارے نئے کپڑے بھی تو نہیں بنوائے تھے ۔۔ یہ سب ارمان بہت ستانے لگے تو خیال آیا کہ کیوں ناں چھوٹے بھائی کی شادی ہی کروا دی جائے۔اسی بہانے کچھ دن گھر میں رونق بھی رہے گی اور سب سہیلیوںسے مل بیٹھنے کا موقع بھی ہاتھ آئے گا۔بھائی کے پرائے ہوجانے کا اندیشہ بہ دستور دلوں میں موجود تھا لیکن یہ سوچ کر راضی تھیں کہ ایک نہ ایک دن تو یہ ہونا ہی ہے آخر کب تک بیل کو کھونٹے سے باندھ کر رکھیں گی۔سو نا چار ضد پر اڑگئیں کہ شادی ہو اور ابھی ہو۔بڑے بھائیوں کی اس کی شادی میں دل چسپی کا واحد سبب، شادی کی تقریبات میں آنے والی خوب صورت ملبوسات اور زیورات سے سجی بہنوں کی سہیلیاں اور رشتے دار لڑکیوں کی آمد تھا ۔بڑے دونوں بھائی شادی شدہ تھے لیکن بدنیتی کسی رشتے سے منسلک تھوڑی ہے۔مرد تو ہے ہی سدا کا رنگین مزاج۔گھر میں بے شک چاند سی بیوی ہو پھر بھی باہر تانک جھانک نہ کی تو سمجھو کچھ نہ کیا۔سو اس کے بھائیوں کا رستہ بھی دنیا کے اکثر مردوں سے الگ نہ تھا۔ سب کی خواہشات اپنی جگہ لیکن اس نے طے کررکھا تھا کہ دوسروں کے نظریات اور فضول خواہشات کی تکمیل کے لیے وہ اپنی زندگی عذاب نہیں بنائے گا۔یہی سبب تھا کہ اس سے جب بھی شادی کے متعلق پوچھا گیا اس نے ہمیشہ انکار ہی کیا۔
ابھی کل کی ہی بات ہے۔وہ جیسے ہی جم سے واپس آیا تو ٹی وی لاؤنج سے گزرتے ہوئے اس کی نظراپنی بڑی بہن آسیہ پر پڑی جس کا واحد مشغلہ اپنے شوہر کی سرکاری افسری کی تعریف کرنا تھا۔اس نے چاہا کہ لاؤنج سے چپ چاپ گزر جائے لیکن اس کی بہن جیسے اسی کے انتظار میں بیٹھی تھی۔دیکھتے ہی آواز دی بات سننا ”جی فرمائیں” وہ جانتا تھا کہ اس کی بہن کا بیان ا پنے شوہر کی تعریف سے ہوتا ہوا، اپنی بیٹی علیزہ کی حیرت انگیز حرکات بیان کرنے کے بعد اس کی شادی کے موضوع پر ہی ختم ہوگا لیکن پھر بھی اس نے بہن کی بات سننا ضروری سمجھا۔
”جانتے ہو ذیشان کو گورنمنٹ نے بونس دیا ہے۔کل اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب میں پچاس ہزار کا چیک بھی ملے گا۔میں نے تو اسے کہہ دیا کہ یہ سب میری وجہ سے ہے۔مانتے ہیں کہ بندہ محنتی ہے ایمان دار ہے لیکن کیا پہلے نہیں تھا؟محنت تو پہلے بھی بہت کرتا تھا لیکن ایسی ترقیاں تو اسے پہلے کبھی نہ ملیں۔قسمت کھلی ہے تو مجھ سے شادی کے بعد۔” اسے بہن کے چہرے پر فخر سے زیادہ غرور کا رنگ نمایاں نظر آیا لیکن ”بہت بہتر”کے سوا کچھ نہ کہہ سکا۔
”دن میں پچاس بارفون کرکے میری اور علیزہ کی خیریت دریافت کرنا تو جیسے اس پر فرض ہو۔ابھی کچھ دیر پہلے اس کا فون آیاکہہ رہا تھا بونس کے پیسوں میں سیونگ کے پیسے ملاکرمجھے سونے کا سیٹ دلائے گا،وہی جو اس دن ڈرامے میں صنم بلوچ نے پہنا تھا۔اچھا تھا ناں؟”
اسے یہ تو علم نہ تھا کہ سیٹ اچھا تھا کہ نہیں۔اسے بس اتنا معلوم تھا کہ مفاہمتی رویہ اس کے حق میں بہتر تھا لہٰذا اسے ”جی اچھا تھا”کہنے پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔
”’ارے جانتے ہو آج علیزہ نے کیا کیا؟ذیشان کا فون آیا تو موبائل علیزہ کے ہاتھ میں ہی تھا۔جانے کیسے اٹینڈ کرلیا۔یقین جانو پورے دس منٹ اپنے بابا سے بات کی ہے اس نے۔میں تو واقعی دنگ رہ گئی۔ایکسٹرا ا رڈنری ہے میری بیٹی۔”
”لمبی چھوڑنے کی بھی ایک حد ہوتی ہے” ۔۔ اس نے سوچا۔اب یہ کیسے ممکن ہے کہ دس ماہ کی علیزہ کال اٹینڈ کرلے۔اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ غلطی اور اتفاق سے ہاتھ لگنے پر فون اٹینڈ ہو بھی گیا تو دس منٹ بات کرنے کی بات تو ایسی ہی ہے کہ جیسے کوئی کہے کہ دس سال کے بچے نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرلیا۔وہ جانتا تھا کہ اس کی بہن جھوٹ بول رہی ہے لیکن یہ بتاکربہن کو اس کی نظروں میں شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھا اسی لیے”ماشاء اللہ” کہہ کر جان چھڑانی چاہی لیکن اس کی بہن ابھی جان چھوڑنے کے موڈ میں نہ تھی۔
”اچھا تم بتاؤ شادی کا کیا سوچا؟جس طرح تم انکار پر انکارکیے جا رہے ہو لگتا نہیں کہ تم کسی کو پسند کرتے ہوگے۔وہ لڑکے اور طرح کے ہوتے ہیں تم تو ۔۔”وہ کچھ کہتے کہتے رک گئی”تم رہنے دو تم سے کچھ نہ ہوگا۔ٹھہرو میں تمہیں کچھ لڑکیوں کی تصویریں دکھاتی ہوں۔لائی ہوں اپنے ساتھ” ذیشان ایک ہفتے سے اسلام آباد گیا ہوا تھا سووہ ایک ہفتے سے علیزہ کے ساتھ یہیں تھی۔پورا ہفتہ وہ اس کی نظر سے بچ کر گزرتا رہا،آج ہاتھ آیا تھا ۔اتنی جلدی تو آزادی نہیں ملنی تھی۔وہ شکر کر رہا تھا کہ اس سے چھوٹی بہن اپنے سسرال کے ساتھ سکھرمیں تھی۔اگر وہ بھی ان دنوں گھر پر ہوتی تو دونوں بہنیں مل کر نہ جانے اس کا کیا حشر کرتیں۔ کچھ دور صوفے پر پڑی ایک فوٹو البم اٹھائے وہ اس کے قریب آئی اور تصویریں دکھانے لگی۔تصویریں دیکھنے سے پہلے اس نے پوچھا’کس کی تصویریں باجی؟’
”لڑکیوں کی اور کس کی؟لڑکوں کی تو دکھانے سے رہی بدھو۔”وہ ہلکے قہقہے کے ساتھ ہنس پڑی۔
”یہ ہے نمرا ہے” ذیشان کی چھوٹی بہن۔حال ہی میں کراچی یونی ورسٹی سے ایم بی اے کیا ہے۔یہ دیکھو سعدیہ۔فیشن ڈیزائننگ میں ڈپلومہ کر رکھا ہے۔کیا ڈیزائننگ کرتی ہے بھئی۔چھوٹے ماموں کی شادی میں، میں نے جو غرارہ پہنا تھا ناں،اسی نے ڈیزائننگ کیا تھا۔کیسی تعریف ہوئی تھی خاندان میں!اچھا یہ کیسی ہے؟”وہ ایک قبول صورت لڑکی کی تصویر تھی”یہ ندرت ہے۔پرائیویٹ ایم اے کیا ہے اس نے۔بے چاری سیدھی سادی سی لڑکی ہے۔نہ فیشن کی سدھ ہے نہ دنیاداری کی۔ خاموش سی کم گو۔اماں کو تو نمرا پسند ہے لیکن میں تو ندرت کو ترجیح دوں گی۔دیکھو ناں لڑکی ایسی ہو جو کم بولے مگر کام زیادہ کرے۔رنگ روپ کون سا عمر بھر ساتھ رہنا ہے۔یہ بہار تو آج ہے کل نہیں۔اصل بات ہوتی ہے گھرداری۔سچ پوچھو تو مجھے نمرا ایک آنکھ نہیں بھائی۔ذیشان نے تو بہت کہہ رکھا ہے لیکن میں نہیں چاہتی کہ وہ اس گھر میں آئے۔وہ یونی ورسٹی سے پڑھی ہے اور تم تو جانتے ہی ہو کہ یونی ورسٹی میں پڑھنے والی لڑکیوں کے کتنے افیئرز ہوتے ہیں۔ایسی لڑکیوں سے دور ہی بھلے۔تمہیں کیسی لگی ندرت؟”
”بس کریں باجی بہت ہوگیا۔”اس کے صبر کا پیمانہ لب ریز ہوچکا تھا۔”آپ سب کو ہزار بار کہہ چکا ہوں کہ مجھے ابھی شادی نہیں کرنی لیکن آپ کو میری بات سمجھ ہی نہیں آتی۔جب موقع ملتا ہے یہی راگ الاپنا جیسے اپنا فرض سمجھتی ہیں۔مجھے نہیں کرنی ان میں سے کسی کے ساتھ شادی۔آپ کے ساتھ آخر مسئلہ کیا ہے؟کیوں میرے سکون کے پیچھے پڑی ہیں؟”
”بہن ہے تمہاری۔تمہارے لیے نہیں سوچے گی تو کیا ہمسایوں کے لیے سوچے گی؟”اس کی بلند ہوتی آواز سن کر اماں کچن سے نکل کر لاؤنج میں آگئیں۔ ”شادی ہی کا تو کہہ رہی ہے تم سے،کون سے پیسے مانگ رہی ہے جو اس طرح چیخ رہے ہو؟”
”آپ لوگ مجھ سے پیسے لے لیں۔جتنے چاہیں لے لیں لیکن مجھے پھر شادی کے لیے نہ کہیں۔تنگ آگیا ہوں میں آپ کی یہ باتیں سن سن کر۔کل بھی کہا تھا،آج بھی کہتا ہوں میں شادی نہیں کروں گا۔”
اس نے سوچ لیا تھا کہ چپ رہ کر اور اذیت برداشت نہیں کرے گا۔
”ساٹھ ہزار تنخواہ ہے تمہاری۔۔گاڑی ہے۔۔بینک بیلنس ہے۔خوب رُو ہو ،جوان ہو اور کیا چاہیے ہوتا ہے شادی کے لیے؟ ہر طرح سے مکمل ہو ۔۔ کیا کمی ہے تم میں؟”
اس کی بہن نے بھی قسم کھا رکھی تھی کہ منوا کر ہی دم لے گی۔
”ہر طرح سے مکمل ہو ۔۔ کیا کمی ہے تم میں ۔۔ ہونہہ۔۔۔”وہ چاہتے ہوئے بھی کمی کا نہ بتا سکا۔بتا بھی کیسے سکتا تھا؟
”کوئی کمی نہیں،کچھ نامکمل نہیں۔بس دل نہیں چاہتا ۔۔زبردستی ہے کیا؟کان کھول کر سن لیں مجھے شادی نہیں کرنی۔آج پوچھیں گی تو بھی یہی جواب ہے،دو سال بعد پوچھیں گی پھر بھی جواب یہی رہے گا۔سمجھیں!”یہ کہہ کر وہ تیز قدم اٹھاتا لاؤنج سے نکل گیا۔
وہ ناصر حسن،جو زندگی کے اکتیسویں زینے پر پیر رکھ چکا تھا،پرکشش شخصیت کا مالک تھا۔ایک کامیاب مرد میں جو اور جیسی خوبیاں ہونی چاہئیں،اس میں سب تھیں۔مردانہ وجاہت کا عملی نمونہ،بہترین ملازمت،کار بینک بیلنس ۔۔ کیا نہیں تھا اس کے پاس؟پہلے کالج،پھر یونی ورسٹی اور اب کمپنی میں ساتھ کام کرنے والی کتنی خوب صورت لڑکیوں نے اس کی جانب قدم بڑھائے تھے لیکن اس کے انتخاب کی نظر کسی پر نہ ٹھہری۔اپنی جانب اٹھتی محبت بھری نگاہوں کا جواب اس نے ہمیشہ سردمزاجی سے دیا تھا۔لوگ سمجھتے تھے کہ اس کی سرد مہری اور بے پروائی اس کی مغرور طبیعت کا نتیجہ ہے لیکن ایسا نہ تھا۔یہ درست ہے کہ اس میں وہ تمام اوصاف موجود تھے جو کسی کو بھی غرور کی انتہاؤں تک پہنچاسکتے ہیں لیکن کم از کم وہ مغرور نہ تھا اورجو تھا وہ کبھی کسی نے محسوس ہی نہ کیا۔کوئی محسوس کرتا بھی تو کس طرح؟اس نے کسی کو کبھی اپنے اتنے قریب آنے کا موقع ہی نہیں دیا تھا کہ وہ اس کے اندر کی دنیا میں جھانک سکے، اسے سمجھ سکے۔وہ اکیلا تھا اور اکیلا ہی رہا۔روشنیوں کے درمیان اندھیروں میں زندگی کیسے گزاری جاتی ہے اسے تجربہ تھا۔وہ جانتا تھا کہ جب زندگی کے تمام رنگ ماند پڑجائیں تو زندگی کیسی ہوتی ہے۔سب کچھ حاصل کرنے کے بعد بھی خالی ہاتھ تھا۔بالکل اسی طرح جیسے کوئی شخص طویل مسافت کے بعد سمندر تک پہنچ کر بھی پیاسا رہ جائے۔ایسا ہی تو تھا وہ۔
اس بھری پڑی دنیا میں جہاں انسان ہی انسان تھے وہاں کوئی ایسا نہ تھا جو اس کے درد اور تکلیف کو جان سکتا،محسوس کرسکتا سوائے ایک عاصم کے۔عاصم اس کا دوست تھا۔ایسا دوست جس کے لیے لفظ دوست حقیقی معنوں میں استعمال کرکے اسے ہمیشہ خوشی ہوتی تھی۔وہ جب بھی پریشان ہوتا،دنیا کے سوالوں سے بے زار ہوتا،اسے عاصم ہی یاد آتا۔جس طرح تپتے صحرا میں مسافر کو اکیلے درخت کی صحبت عزیز ہوتی ہے ۔اسے بھی عاصم کی رفاقت عزیز تھی۔جیسے سارا دن دفتر میں کام کرکے تھکن سے چور گھر لوٹتے شخص کو چائے کے کپ،بیوی کی مسکراہٹ اور بچوں کی کھلکھلاہٹ کی ضرورت ہوتی ہے،اسے بھی عاصم کی ایسی ہی ضرورت تھی ۔عاصم بھی تو ایسا ہی تھا۔اس کے دکھوں کو سمیٹنے والا،اس کا ہم درد، اس کا دوست۔اس کی دنیا کے ہر راز سے واقف، ہر احساس سے آگاہ۔آج جب ایک بار پھر زمانے کی روش نے اس کے احساسات کو ٹھیس پہنچائی تو اسے عاصم یاد آیا۔اس نے اسے فون کیا اور اپنے آنے کا بتایا۔پندرہ منٹ کے بعد وہ عاصم کے گھرپر اس کے رو بہ رو بیٹھا چائے پی رہا تھا۔اسے ضرورت نہ تھی عاصم کوسب بتانے کی۔وہ پہلے سے جانتا تھا ۔۔ یہ پہلی بار نہ تھا۔
”تمہیں اماں بابا کو بتانا ہوگا”عاصم نے چائے کا سپ لیتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور آہستگی سے کہا۔یوں جیسے کہ وہ چاہتا ہو کہ اس کی کہی بات وہ نہ سنے۔
”تم جانتے ہو میں نہیں بتا سکتا۔میں کیسے بتا سکتا ہوں کہ۔۔۔نہیں یار”اس کے لیے بتانا واقعی آسان نہ تھا۔
”ایک دن تو تمہیں بتانا پڑے گا۔آخر کب تک ان سوالوں کو رد کرتے رہوگے؟کب تک بھاگتے رہو گے؟ گھر والوں کی پریشانی بھی تو اپنی جگہ درست ہے۔تمہاری عمر،تمہاری پوسٹ۔تمہاری ساریconditions شادی کے لیے مناسب ہیں۔”
”ساری conditions مناسب نہیں ہیں عاصم۔”اس نے دکھ سے کہا”conditions مناسب ہوتیں تو حالتیں اس قدر غیر مناسب نہ ہوتیں۔”
-

آخری لفظ — فارس مغل
وہ موسمِ زرد کی ایک شام تھی!
اس دن بھی وہ ریسٹورنٹ کی اسی نشست پراُداس بیٹھا تھا، جہاں وہ اپنی مرحومہ بیوی روزینہ کے ساتھ اکثر شام کافی پیتے ہوئے ڈھیروں باتیں کیا کرتا تھا ۔روزینہ کی وفات کو پانچ برس بیت چکے تھے۔۔۔ ان پانچ برسوں میں ان گنت لوگ لقمۂ اجل بنے اور ان گنت نے جنم لیا،لیکن اس کی زندگی شام کے اداس سورج کی مانند ہر لمحہ ڈوبنے کے لیے بے قرار رہی۔۔۔بیالیس برسوں کی رفاقت کوئی معمولی بات تو نہیں ہوتی اور رفاقت بھی ایسی کہ درمیان میں کبھی کوئی تیسرا نہ آسکا، حتٰی کہ کسی ننھے مہمان نے بھی آنے کی جرأت نہ کی۔
ساری عمر خوابوں کے پیچھے بھاگتے رہنا اور پھر خوابوں کو سینے سے لگا کر ہانپتے رہنا، کیا اس بھاگنے اور ہانپنے کے درمیانی وقفے کو زندگی کہتے ہیں؟
اس نے یہ سوچتے ہوئے ریسٹورنٹ کی کھڑکی سے باہردیکھا جہاں ساکن ہوا میں ابر چھایاہوا تھا ۔شام کا سورج دور پہاڑی کے اوپر بادلوں کی اوٹ میں کہیں گم تھا ۔
گزشتہ شب ہونے والی بارش سے درختوں کے تنے ابھی تک نم تھے ۔ٹھٹھرتی ہوئی سیاہ سڑک پر چنار کے طلائی پتے بکھرے ہوئے تھے ۔سارے منظر پر عجیب ہی مغمومیت طاری تھی ۔اس کی نظر صنوبر کے اس درخت پرٹھہر گئی ،جس کے بارے میں روزینہ کا خیال تھا کہ اس قدیم سدا بہار صنوبر کی جاذبیت روزبہ روز بڑھتی جارہی ہے ،جیسے ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا ہو،پتا نہیں یہ بوڑھاکب ہوگا؟
آہ روزینہ!اس نے گہرا سانس لیا اور سر کے سفید بالوں میں ایک ہاتھ کی انگلیوں کو پھنسا کردوسرے سے کافی کی پیالی لبوں سے لگا لی ۔اس کے چشمے کے شیشوں سے شام کی دھندلی روشنی ،کافی کی پیالی پر منعکس ہو رہی تھی ۔اسے لگا جیسے یہ اس کے آنسوؤں کی چمک ہے۔ اس نے پیالی میز پر رکھتے ہوئے جیب سے رومال نکالا اور عینک ماتھے پر چڑھا کرچند لمحوں کے لئے رومال اپنی آنکھوں پر رکھ لیا۔بند آنکھیں اسے ماضی میں لے گئیں جہاں ایک یادنے اس کا ہاتھ تھام کر بیس برس کی روزینہ کے سامنے لا کھڑا کیا ،جوپھولوں کی سیج پراس کے روبہ رو سرخ جوڑے میں حیا سے دُہری ہوئی جا رہی تھی اور وہ چُپ چاپ اسے تکتا جا رہا تھا۔گویا آواز کے پتھر سے طلسم ٹوٹ جانے کا خطرہ لاحق ہو!
سدا بہار صنوبر سے پرے چنار کا پیڑ اپنی برہنہ ٹہنیوں کے ساتھ خالی اور اداس کھڑا تھا ۔آہ!دنیا میں لاحاصل ہی انسان کا حاصل ہے ،اس کے ذہن میں خیال آیا ۔جسم تھکنے کے لیے جنم لیتے ہیں ۔ایسی تھکاوٹ ،جس کے بعد پلٹ کر دیکھنے کو بھی جی نہیں چاہتا ۔موت بھی ،جس کی آمد کا دھڑکا کبھی نیندیں اڑا دیا کرتابالآخرتھکن سے چور آنکھیں اسے ڈھونڈنے لگتی ہیں۔ یہ مہ و سال کی تھکن بھی کیا ظالم شے ہے ۔ اس نے اپنے ہاتھ کی جھریوں کو دیکھ کر سرد آہ بھری۔۔۔
شام مدہوش ہو کر اندھیرے کی بانہوں میں جھولنے لگی تھی ،لہٰذا اس نے گھر جانے کاقصد کیا۔اس کا شان دار مکان ریسٹورنٹ سے زیادہ دور نہ تھا ، ابھی اس نے بل کی ادائی کے لیے کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا ہی تھا ، کہ ایک نسوانی آواز نے اسے چونکا دیا:”اگر ناگوار نہ گزرے تو میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں؟”اس کا ہاتھ کوٹ کی جیب میں ٹھہر گیا۔
سر اٹھا کر آواز کی سمت دیکھا ،تو وہاں دیدہ زیب کالی ساڑھی میں ملبوس خوب صورت خاتون کو کھڑا پایا ،جس کی چمکتی آنکھوں میں بے انتہا کشش اور دل کش مسکراہٹ میں ہزار معنی پنہاں تھے۔
”جی ضرور”۔اس نے خاتون کے سراپے کا بہ غور جائزہ لیتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا ۔
خاتون اس کے روبرو میز کی دوسری جانب بیٹھ گئی ”معاف کیجئے گا میں کچھ دنوں سے یہاں آپ کو بے حد اُداس دیکھ رہی ہوں آج آپ سے بات کرنے کو جی چاہا سو اس لیے۔۔۔”
”میں تو یہاں کئی برسوں سے آرہاہوں لیکن ہاں۔۔اب کم کم آتا ہوں ۔۔”اُس پر خاتون کی موجودگی کا ایسا سحر طاری ہوا کہ اس نے گھر جانے کا ارادہ ترک کر دیا ۔
خاتون چالیس کے قریب تھیں ۔چہرہ جاڑے کے پورے چاند کی مانندپرسکون تھا۔
”جی میں جانتی ہوں ۔۔میں نے تو ان دنوں بھی آپ کو دیکھا تھا جب آپ یہاں اسی میز پر اپنی مرحومہ بیوی کے ساتھ اک دل چسپ کھیل کھیلا کرتے تھے۔”
اس نے خاتون کی جانب یک لحظہ نظر اٹھائی اور پھر چہرہ کھڑکی کی جانب موڑ لیا ۔
”میں معذرت چاہتی ہوں اگر آپ کو میری بات سے تکلیف پہنچی ہے۔”
”نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔”وہ خاتون پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا کہ وہ اندر سے کتنا دُکھی ہے ۔زندگی کا کوئی ایک بھی پل ایسا نہیں ،جس میں اس نے روزینہ کو یاد نہ کیا ہو۔اس کے ساتھ گزرا ہوا ایک ایک لمحہ ذہن و دل پر پتھر کی لکیر ایسا نقش تھا۔۔۔روزینہ جو کبھی اس کی شریکِ حیات رہی تھی ، اب شریکِ ذات بن چکی تھی۔
”دیکھئے ،آپ پھر اداس ہوگئے ، اگر میرا یہاں بیٹھنا آپ کو پسند نہیں تو میں چلی جاتی ہوں ۔۔”خاتون نے بناوٹ سے اپنی بات مکمل کر کے اس کے چہرے پر نگاہیں جما دیں۔
”آپ نے اپنا تعارف نہیں کروایامحترمہ ۔”اس نے عینک کو لرزیدہ ہاتھوں سے درست کیا۔۔
”اتفاق سے میرا نام بھی روزینہ ہے اور میں یہیں پاس ہی رہتی ہوں ۔”خاتون کی سحر انگیز آنکھوں میں دیکھ کر اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
”آپ مجھے روزی بلا سکتے ہیں۔”وہ بڑے قاتلانہ انداز میں بولی ۔
وہ اس حسین اتفاق کے بارے میں سوچنا چاہتا تھا کہ زندگی اتفاقات کا نام ہے یا سب کچھ پہلے سے طے شدہ پلان کے مطابق ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ دنیا ایک ا سٹیج ہے ہم سب کردار ہیں لیکن اسکرپٹ تو کسی نے دیکھا ہی نہیں، یہ کیسا کھیل ہے !لیکن کھیل دل چسپ ہے!
”اگر آپ کی اجازت ہو تو۔۔”اچانک روزی نے خیالات میں مداخلت کر دی۔
”کیسی اجازت ؟کہیے۔”
”اگر آپ برا نہ مانیں تو کیا ہم وہ کھیل، کھیل سکتے ہیں جو آپ اپنی مرحومہ بیوی کے ساتھ مل کر اسی جگہ کھیلا کرتے تھے ؟”روزی نے ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ دیا۔
اس نے آنکھیں موند لیں۔ چہرے پر تکلیف کے آثار نمایاں تھے ،کسی دیرینہ زخم کاکھرنڈ کھرچنے کی تکلیف کا شدید احساس !
”دیکھئے، آپ پھر اُداس ہوگئے شاید مجھے یہاں سے چلے جانا چاہیے۔”
وہ حیران تھا کہ اس اجنبی خاتون کو یہاں سے اُٹھ جانے کا کہنے کے لیے ،کیوں اس کے ہونٹوں کی جرأت جواب دے چکی تھی ؟وہ کیوں چاہتا تھا کہ وہ یہیں اس کے روبرو بیٹھی اس سے باتیں کرتی رہے ، اس کے زخموں کو کریدتی رہے ۔
وہ کچھ دیر سر جھکائے بیٹھا رہا اور پھر لب وا کیے:” آئیے کھیلیں۔۔”
اس کے لبوں پر خفیف سی مسکراہٹ ابھرکر غائب ہوگئی ۔
”بہت شکریہ۔۔نکالئے کھیل کا سامان۔”روزی نے ستائشی نگاہوں سے اسے دیکھا۔
زندگی روزانہ ایک نئے کھیل کے ساتھ میدان میں اترتی ہے۔ اس نے یہ سوچتے ہوئے کسی فرماں برداربچے کی مانند کوٹ کے اندرونی جیب سے ایک چھوٹی سی ڈائری اور قلم نکال کر میز پر رکھ دیا۔ روزی کے ہونٹوں پر دل فریب مسکراہٹ پھیل گئی ۔ اس نے ڈائری پر قلم سے کچھ تحریرکیا اور ڈائری اُس کے سامنے کھسکا دی ۔ اس کھیل کا آغاز اس کی مرحومہ بیوی نے کیاتھا ،جس میں بے ترتیب حروف کو جوڑ کر لفظ کو پہچاننا تھا، شرط یہ تھی کہ بوجھنے والی شے حدِ نگاہ ہو ، کھیل کے آخر میں ہارنے والا کافی کے پیسے ادا کیاکرتاتھا۔
” و۔ا۔س۔ف۔ن ”روزی نے ایک نظر ڈائری کو دیکھا اور پھر اپنی نظریں ریسٹورنٹ میں گھماتے ہوئے مسکرا کر چھت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے آہستہ سے ”فانوس ”کہا ۔اس نے تعریفی نظروں سے روزی کودیکھااور سر کواثبات میں جنبش دی:”گویا آپ کھیل سے واقف ہیں۔”
ریسٹورنٹ شہر سے دور ایک پہاڑی پر تھا،جہاں گرمیوں کی بہ نسبت سرما میں بھیڑ کم ہوتی تھی ۔
”ب۔ص۔ر۔و۔ن ”یہ لفظ روزی کی جانب سے آیا تھا اس نے لفظ دیکھ کرکھڑکی سے باہر صنوبر کے پیڑکی طرف اشارہ کیا
”ھ۔ڑ۔ا۔س۔ی ”روزی نے چند لمحے غور سے لفظ کودیکھا اور پھر دھیماسا مسکراکر ساڑھی کا فال درست کیا ۔
”م۔ی۔ن ”لکھ کر روزی نے فوراًڈائری اس کے سامنے رکھ دی۔
اس نے عینک ماتھے پر ٹکا کر رومال میں آنکھوں کی نمی جذب کی اور عینک واپس آنکھوں پر گرا کرڈائری میں لکھے لفظ کو دیکھ کر چند لمحوں تک افسردہ سا مسکراتا رہا
”آپ بالکل روزینہ کی طرح کھیل رہی ہیں ، وہ بھی اسی طرح میری کیفیات کو بھانپ کر لفظ بناتی تھی۔”روزی ہتھیلی پر ٹھوڑی جما کر اس کے افسردہ چہرے کا جائزہ لینے لگی،شادی کے بعدکچھ عرصہ تک میں اپنی کوئی بھی پریشانی روزینہ کو بتانے سے گریز کرتارہا ۔ اسے اپنے ساتھ پریشان دیکھنا مجھے گوارا نہ تھا لیکن پھر ایک روز میں اپنی ترقی کے سلسلے میں کچھ زیادہ فکر مندہو رہا تھا۔اس نے استفسار کیا اور میں نے پریشانی کا سبب بتا دیا۔۔۔اس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں میرا چہرہ تھام کر پیار سے آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور بولی سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ کتنا عام سا فقرہ تھا لیکن اس کے ہونٹوں سے ادا ہو کر انمول اور میرے مایوس لمحات کی ڈھارس بن گیا ۔اس دن کے بعد تمام غم، مصیبتیں اور الجھنیں اس فقرے کے آگے ہیچ دکھائی دیں، وہ دل ہی دل میں اپنی بیوی کو یاد کرنے لگا۔
شام کے ساتھ زینہ زینہ اترتے وقت کو پیچھے دھکیل کرکھیل آگے بڑھتا چلا جا رہا تھا۔
”ر۔م۔ز۔د۔ ”اس نے ڈائری آگے کھسکا دی ۔
روزی نے ایک نظر ڈائری پر دیکھا اور انگوٹھی میں جڑے زمرد پر انگلی سے دستک کی ،گویا پوچھ رہی ہو کہ آپ کو پتھروں سے بھی رغبت ہے؟
اس کی نظریں ابھی تک انگوٹھی پر مرکوز تھیں”ہاں،بس یونہی آپ کی انگوٹھی میں زمرد جڑا دیکھا تو یاد آیا کہ ایک دفعہ روزینہ نے فرمائش کی کہ اسے گہرے سبز رنگ کا زمردچاہیے ۔اس نے کسی رسالے میں پڑھا تھا کہ یہ اس کا خوش بختی کا پتھر ہے ،جب کہ میرا ایسی باتوں پر بالکل یقین نہیں تھا ۔میں نے اسے ان فریبی نجومیوں کے بارے بتانا چاہا لیکن وہ اپنی ضد پر قائم رہی ۔بادلِ نہ خواستہ ایک روز میں نے اسے خوبصورت سا زمرد تحفہ میں دے ہی دیا ۔۔وہ شام کا وقت تھا زمرد کو اپنی ہتھیلی پر دیکھ کر اس کاچہرہ گلاب کی مانند کھل اٹھا،سرخی اس کے کنجِ لب سے کانوں کی لوتلک دوڑ گئی ۔ اس کی آنکھوں میں شادمانی کی لہر دیکھ کر مجھ پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ دنیا میں کوئی بھی شے، چاہے وہ آپ کو پسند ہو یا نہ ہو،آپ کے جیون ساتھی کی ایک مسکان سے زیادہ نہ قیمتی ہو سکتی ہے اور نہ ہی اہم۔۔” یہ کہتے ہوئے اُس نے یوں آنکھیں موند لیں جیسے وہ بے حد تھک گیا ہو۔
”آپ ٹھیک تو ہیں؟”روزی کے لہجے میں اطمینان تھا ”اچھا بس کھیل ختم کرتے ہیں”۔
شام ڈھلنے کے باعث تاریکی کھڑکی سے اندر جھانکنے لگی تھی ۔ریسٹورنٹ کی تمام بتیاں روشن ہوچکی تھیں،اس روشنی میں اس کے ستر سالہ قدیم سر کی چاندی چمک رہی تھی۔۔۔ خاموشی کا وقفہ طویل ہونے لگا ۔
”میں نے آج سے پہلے خود کو کبھی اتنا تھکا ہوا محسوس نہیں کیا۔”اس کی آنکھوں میں تھکاوٹ کے گہرے سائے تھے۔
انسان بھی کتنے بہروپ بدلتا ہے ۔بچپن، لڑکپن ، جوانی، ادھیڑ عمری اور آخر میں بڑھاپا ،سب سے خوف ناک بہروپ ،جسے دیکھ کر لوگ عبرت پکڑتے ہیں ۔سلوٹ زدہ چہرہ ،جسے آئینہ کے سوا کوئی جی بھر کے دیکھنا گوارا نہیں کرتا ۔عالمِ پیری میں انسان راستے کے پتھر سے زیادہ بے وقعت ہو جاتا ہے۔خزاں رسیدہ خشک و زرد برگِ آوارہ کی مانند بھٹکتا ہے ۔ضعیفی کی ہوا نے اس کے لئے کون سا ٹھکانہ مختص کیا ہوتا ہے، وہ نہیں جانتا ۔اسے تو بس ہوا کے رحم وکرم پر رہنا ہوتا ہے اور پھر ایک تنہا کہن سال آدمی جس کا جیون ساتھی بچھڑ گیاہو ،گویا آدھے وجود کے ساتھ زندہ ہوتا ہے ،آدھی دھڑکنیں، آدھی سانسیں اور ادھوری نظر، ادھوری باتیں سب کچھ نصف ہوتا ہے ۔ اگر کچھ مکمل ہوتا ہے تو صرف یادیں، قدم قدم پربچھی ہوئی یادیں۔ ہزار یادوں کی ایک یادیارِ خوش خصال ۔۔۔ روزینہ کی یاد!
یادوں کا بوجھ بھی انسان کو تھکا دیتا ہے ۔ روزی نے اس کا چہرہ پڑھا۔ہاں۔۔شاید۔۔
”تم نے لفظ نہیں دیا”اس نے لرزاں ہاتھ سے بہ مشکل پانی کا گھونٹ حلق میں اتارا۔۔روزی نے ایک لفظ ڈائری پر لکھ کراُس کے آگے کھسکا دی ۔”س۔۔ا۔د۔ا۔ی ”۔
اس نے سر ہلاتے ہوئے آہستہ سے کہا: ”ہاں بہت گہری ”اداسی” وہ سچ مچ اداس تھا ۔ایسی یخ اداسی میں وہ اپنی بیوی کے پہلو میں کسی نونہال کی مانند سمٹ جایا کرتا تھا ۔
”سر آپ کہیں توکافی اور لے آؤں؟”نوجوان ویٹر نے مؤدبانہ انداز میں مسکرا کردوبارہ آرڈر طلب کیا۔ تو جیسے اسے دھیان آیا کہ وہ تو اپنے مہمان کی مہمان نوازی کرنا بھول ہی گیا تھا ۔اس نے روزی کی جانب دیکھا اور پھر اسے اچانک ویٹر کی مداخلت کھلنے لگی :”جاؤ،کچھ نہیں چاہیے جاؤ”ویٹراسی مسکراہٹ کے ساتھ واپس چلا گیا۔
اس نے روزی پر نگاہیں جما دیں ۔اس کا سانس، دل کی دھڑکن سے کوسوں دور ہونے لگا۔روزی نے ایک ادا سے اپنی زلفوں کو چہرے سے ہٹاتے ہوئے ہلکا سا نقرئی قہقہ لگایا تو جیسے وہ واپس اپنے آپ میں آیا:”ایسے کیا دیکھ رہے ہیں پروفیسر صاحب؟”
”و۔چ۔ل” اس سے قلم تھامنامحال ہوا جا رہا تھااس نے عجلت میں لفظ لکھا۔
”چلو؟کہاں چلیں”؟ روزی کی کجراری آنکھیں مسکرائیں ۔”ے۔ب۔ا۔ت۔ب ”۔اس کی معصوم آنکھوں میں بے بسی کے آثار تھے ”ہاں بہت بے تاب ہوں۔۔”اس کا حلق سوکھنے لگا۔
”سب ٹھیک ہو جائے گا”روزی کے لبوں پر معنی خیز مسکان ناچنے لگی۔
”خدا کے لیے اسی وقت چلو”۔اس پر اضطراب حاوی ہو رہا تھا ۔اس نے پلکیں بھینچ کر جب دوبارہ کھولیں تو سامنے روزی کی جگہ اسے اپنی بیوی دکھائی دی۔”روزینہ” اس کے ہونٹوں پر نام کپکپایا۔
جب طویل تنہائی کے لق و دق صحرا میں کسی پیارے کی کمی پیاس کی مانند محسوس ہوتی ہے تو احساسِ تنہائی قوتِ مدافعت پر حملہ آور ہوتا ہے۔ انسان ذہنی دبا ؤ کا شکار ہوکر پریشانی، مایوسی اور افسردگی میں گھرتا چلا جاتا ہے۔ نفسیاتی عوارض میں بہ تدریج اضافہ ہونے لگتا ہے ۔وہ خود کو سماج سے کاٹ کر اپنی علیحدہ دنیا بسا لیتا ہے ۔اسے زندگی سے دلچسپی نہیں رہتی ،خود کو دنیا میں بے گانہ محسوس کرتا ہے اور راہِ فرار چاہتا ہے ۔اخیر وقت میں یہی تو ہوتا ہے کہ پہلے انسان اپنی اہمیت کھوتا ہے اور پھر خود کھو جاتا ہے۔
”تو آخر آپ نے بوجھ ہی لیا ۔۔اچھا بتائیے میں کون ہوں؟”روزینہ دوبارہ روزی میں بدل گئی اور اپنے ہاتھوں کو اس کے قریب کر لیاگویا کھیل کا آخری منظر ختم ہونے کو تھا ۔۔اس کی دھندلی آنکھوں کی کسی کنج گلی میں وصالِ یار کا دیا ٹمٹما نے لگا۔اس نے قلم اٹھا کر شکستہ حروف میں لفظ لکھ کر ڈائری آگے کھسکا دی اور روزی کے ہاتھ تھام کر آہستہ سے ان پر اپنا سر رکھ دیا۔
کھڑکی کے کانچ پر بارش کی بوندیں تالیوں کی طرح بجنے لگیں گویا پردہ گرا دیا گیا۔
کچھ دیر بعد وہی ویٹر دوبارہ آیا اور” سر، سر ”پکارتا رہالیکن وہ ابدی نیند سو چکا تھا۔
جب ایمبولینس اس کا بے جان وجودلے کر روانہ ہوگئی تو ویٹر نے منیجر کو وہ چھوٹی سی ڈائری لا کر دی جس میں بے تحاشابے ترتیب الفاظ درج تھے۔
ڈائری کاآخری لفظ ”م-و-ت ” تھا۔ -

دانہ پانی — قسط نمبر ۶
سجناں ولوں خط آیا کیویں کھولاں دس
کدھرے ایہہ نہ لکھیا ہووے تیری میری بس
مراد نے بندوق چلانے کے لئے گھوڑا دبانے کی کوشش کی تھی۔ وہ نہیں دبا۔ اُس کی نظر موتیا کی گردن پر رُک گئی تھیجہاں اُس کی بندوق کی نالی تھی۔ اُس کی دودھیا حسین صراحی دارگردن کے اس گڑھے میں وہ چند دن پہلے تک پانی بھی حلق سے گزرتے دیکھ لیتا تھا۔ اب اُسے گولی ماردیتا تو اُس کا اُسی حلق سے ابلتا خون کیسے دیکھتا اور خون دیکھنے کی ہمت کر بھی لیتا تو اُسے تڑپتا کیسے دیکھتا۔ اور تڑپتا دیکھنے کے لئے دل پتھر کر بھی لیتا تو موتیا کو مرتا کیسے دیکھ لیتا۔
اُس کا دل چاہا کہ وہ بھی بھاگ جاتی، بالکل سعید بزدل کی طرح۔ پر وہ تو بھاگی بھی نہیں تھی، وہیں کھڑی تھی، اُس کے سامنے۔ وہ بے وفا تھی اور ڈھیٹ بھی تھی یا پھر اُس کو یہ گھمنڈ تھا کہ وہ اُسے مار نہیں سکتا۔ اگر وہ گھمنڈ تھا تو ٹھیک تھا۔
اُس نے گولی نہیں چلائی تھی،بندوق کی نالی نیچے کرلی تھی۔ وہ نہ بھی کرتا تو بھی موتیا کو پتا تھا وہ اُسے مار نہیں سکتا تھا۔ پر اُس نے شک بھی کیسے کرلیااُس پر۔ موتیا کو موت سے کہاں خوف آیا تھا،اُس ”شک” نے لرزہ طاری کیا تھا اُس پر جو پیار کرنے والوں کے درمیان تو کبھی آتا ہی نہیں تھا۔
” جا موتیا! تجھے دل سے اُتار دیا میں نے۔”
مراد نے بندوق کی نال ہٹاتے ہوئے اُس سے کہا تھا اور کسی نے جیسے موتیا کے دل میں گولی ماری تھی۔
” ایک بار تو نے جان بچائی تھی میری، آج اسی کے طفیل جان بخش دی میں نے تیری۔ بس اب تو میری نہیں رہی۔ جا جس کے ساتھ چاہے جا۔ زندہ رہ کے مر جا میرے لئے۔” مراد رُکا نہیں تھا، نہ اُس کا چہرہ دیکھنے کے لئے نہ اُس کا رونا اور بلکنا دیکھنے کے لئے۔ وہ بس پلٹا تھا اور تیز قدموں سے درختوں کے اُس جھنڈ سے نکل گیا تھا اور اپنے گھوڑے پر بیٹھ کر وہ رُکے بغیر سرپٹ گھوڑا بھگاتے حویلی کی طرف چلا گیا تھا اور موتیا وہیں گڑی رہ گئی تھی۔
” جا موتیا! تجھے دل سے اُتار دیا میں نے۔”
اُس کا جملہ کسی گولی کی طرح بار بار اُس کے وجود کو آکر لگ رہا تھا اور اُن لفظوں نے اُ س کے پورے وجود کو چھلنی کردیا تھا۔ جو پیار اُس نے مراد سے کیا تھا، ویسا تو کسی کے ساتھ نہیں کیا تھا۔ دنوں اور ہفتوں میں اندھا پیار۔ ایسا پیار تو رب کے لئے ہوتا ہے۔ ہر کوئی بندہ رب کی تسبیح کرتے کرتے پیار کا کلمہ پڑھنے لگتاہے اور جب بندے کا کلمہ پڑھا جانے لگے تو پھر ٹھوکر تو لگتی ہے۔موتیا کو بھی لگی تھی پر وہ سمجھ نہیں پائی تھی کہ کیوں لگی تھی۔
”جو مجھے مار نہیں سکتا وہ مجھے چھوڑ کیسے سکتاہے؟”
پتا نہیں کتنی دیر وہاں بُت بنے کھڑے رہنے کے بعد موتیا نے سانس لینے کی جیسے پہلی کوشش کی تھی اور سانس لینے کی اُس کوشش میں اُس کا پورا وجود بے حال ہوا تھا۔ پتا نہیں وہ سانپ کہا ں تھا جس نے خواب میں اُس کو کاٹنا تھااور اُس نے مرجانا تھا۔ وہاں کھڑے کھڑے اُسے اپنا خواب یادآیا اور وہ سانپ بھی۔ وہاں درختوں کے جھنڈ میں نیم تاریکی میں اُس نے زمین پر کسی چیز کو ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی۔ وہ آجاتا اُسے ڈس لیتا وہ مرجاتی اور بس اُس کی تکلیف تو ختم ہوجاتی جو مراد کے ایک جملے نے اُسے دی تھی۔
چاند کی چاندنی بھی وہیں تھی، مہکتی، سرسراتی، ہوا میں بسی آم کے بور کی خوشبو بھی پر اب موتیا کو وہاں کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ وہ جھنڈ سے اندھوں کی طرح چلتے ہوئے باہر آئی تھی۔ نہ اُس نے پگڈنڈی پر بکھری اُن چوڑیوں کو دیکھا تھا، نہ ہوا کی وجہ سے زمین پر ادھر سے اُدھر جاتے اپنے دوپٹے کو جس کو اگلا کوئی جھونکا کھیتوں میں اُڑ ا کر پتا نہیں کہاں سے کہاں پہنچادینے والا تھا۔
اُس نے سعید کو تلاش نہیں کیا تھا، اُس نے بتول کو بھی نہیں ڈھونڈا تھا۔ مراد کے علاوہ اس وقت اُسے کچھ بھی نہیں سوجھ رہا تھا اور مراد وہاں نہیں تھا۔
…٭…
وہ جس وقت حویلی واپس پہنچا تھا اُس وقت تاجور برآمدے میں جلے پاؤں کی بلّی کی طرح ٹہل رہی تھی۔ مراد کو آتا دیکھ کرجیسے اُ س کی جان میں جان آئی تھی۔ وہ گھوڑے کو باہر چھوڑ کر نہیں آیا تھا، اندر صحن میں لے آیا تھا۔ بندوق ہاتھ میں لئے وہ گھوڑے سے اُترا تھا۔ ماں سے نظریں ملائے بغیر وہ برآمدے میں کھڑی ماں کی طرف گیا تھا اور بندوق سمیت گھٹنوں کے بل اُس کے قدموں میں گرگیا تھا۔ تاجور کا دل ایک لمحہ کے لئے پتّے کی طرح لرزا تھا۔ وہ کسی کو واقعی قتل نہ کر آیا ہو۔اُس کو اندیشہ ہوا۔
”آپ جیت گئیں، میں ہارگیا امّی۔ موتیا بے وفا نکلی۔ آپ ماہ نور کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہیں میری، جب چاہیں کردیں۔ موتیا مرگئی میرے لئے۔”
اُس نے تاجور کے پیر پکڑ کر کہا تھا اور تاجور کے جلتے وجود پر اتنے ہفتوں بعد جیسے ٹھنڈا پھاہا رکھا تھا۔ ارے یہ تو وہی مراد تھا۔ اُس کا پیارا، جان قربان کرنے والا نورِ نظر۔ بھٹک گیا تھا اور اب سیدھے راستے پر بھی آگیا ہے۔ تاجور نے اُسے اُٹھا کر سینے سے لگایا تھا۔ اُس کا منہ اور ماتھا چوما تھا۔ چند گھنٹے پہلے جانے والے اور واپس آنے والے مراد کا چہرہ ایک جیسا نہیں تھا۔ اُس کی آنکھوں اور چہرے سے چمک اور خوشی غائب ہوئی تھی۔ پر کیا ہوا؟ وقت گزرے گا دل بہلے گا سب ٹھیک ہوجائے گا۔ چار دن کے پیار کا خمار گہرا ہوتاہے پر ابدی نہیں۔
بندہ بھولنے پر آئے تو رب کو بھول جاتا ہے، یہ تو بس موتیا تھی۔ تاجور اُسے سینے سے لگائے اُسے تھپکتے اور خود کو تسلیاں دیتی رہی۔
اُس نے مراد سے اُس لمحے کچھ بھی نہیں پوچھا تھا۔ وہ کچھ بتانے کے قابل نہیں تھا اور وہ اُسے یہ تکلیف دینا بھی نہیں چاہتی تھی۔وہ اُس سے الگ ہوا، کچھ بھی کہے بغیر اندر چلا گیا۔ وہ بندوق تاجور کے پیروں میں پڑی ہوئی تھی جسے وہ چند گھنٹے پہلے غیض و غضب میں لے کر گیا تھا۔ وہ صرف پیار نہیں ہار کر آیا تھا، اپنی عزت، غیرت سب ہار آیا تھا۔ تاجور نے اُسے اُٹھا لیا۔
اُس نے اپنا بیٹا،اپنا غرور، گھر، فخر سب بچالیا تھا پر پتا نہیں کیا بات تھی، موتیاکے لئے اُس کے دل میں بھڑکنے والی آگ اب بھی ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی وہ اب بھی کچھ مانگ رہی تھی۔ کچھ اور زہر، کچھ اور حسد، نفرت،انتقام، کچھ تو!
…٭…
”بتول! کیا تو باہر ہے؟”
صحن میں پڑی چارپائی پر بیٹھی بتول ماں کی آواز پر ہڑبڑا کر چونکی تھی۔ وہ کنویں سے واپس آکر اندر کمرے میں نہیں گئی تھی، وہیں صحن میں چارپائی بچھا کر بیٹھ گئی تھی۔ اور اب شاید شکوراں نیند میں جاگی تھی۔ اس سے پہلے کہ بتول وہیں سے اُسے آواز دیتی، شکوراں باہر نکل آئی تھی۔
”تجھے آوازیں دے دے کے پاگل ہوگئی ہوں میں۔ کہاں تھی تو؟” شکوراں نے جمائی لیتے ہوئے اپنی بیٹی کو دیکھا جو صحن کے بیچوں بیچ چارپائی پر آلتی پالتی مارے بیٹھی تھی اور اُس کے گلے میں اُس کا دوپٹہ تک نہیں تھا۔
” کچھ نہیں امّاں، یہاں باہر سونے کے لئے لیٹ گئی تھی۔ اندر دم گھٹ رہا تھا میرا۔”
بتول نے ماں سے کہا تھا اور چارپائی سے اُترنے لگی تھی۔
” یہ باہر کا دروازہ کیوں کھلا ہے؟”
شکوراں نے پتا نہیں کیا وہم ہونے پر صحن کا دروازہ دیکھا تھا جو بھڑا ہوا تھا پر اُس کی زنجیر اُتری ہوئی تھی جو بتول لگانا بھول گئی تھی۔ اندر جاتی بتول ٹھٹکی تھی،پھر اُس نے وہیں کھڑے کھڑے ماں سے کہا۔
” تو چڑھانا بھول گئی ہوگی امّاں، دروازہ تو تو ہی بند کرتی ہے۔”
اُس نے سفید جھوٹ بولا تھا۔
”کوئی آیا تو نہیں تھا۔۔۔سعید؟” شکوراں نے ایک لمحہ کے توقف کے بغیر اُس سے پوچھا۔
”وہ دن کو آنے سے پہلے دس بار سوچتاہے، تو رات کا کہہ رہی ہے۔” بتول نے اُس ہی لہجہ میں ماں سے کہا۔
”تُو تو کہیں نہیں گئی؟”
شکوراں کو اب بھی تسلّی نہیں ہوئی تھی۔ پتا نہیں اس بار ماں کے سوال پر بتول کو کیا ہوا تھا ۔ ایک لمحہ کے لئے اُس نے سوچا وہ ماں کو سب بتادے اور پھر اُس ہی لمحہ میں اس نے یہ ارادہ بھی چھوڑدیا۔
”امّاں توکیوں شک کرنے بیٹھ گئی ہے مجھ پر رات کے اس پہر۔ کہیں گئی ہوتی تو تجھے گھر ملتی؟ کہیں سے آئی ہوتی تو بھی آکے صحن میں بیٹھی ہوتی؟ عجیب ہے تو بھی۔”
اُس نے جھلّا کر شکوراں سے کہا تھا اور پھر جیسے اُس کی نظروں سے بچنے کے لئے وہاں سے چلی گئی تھی۔ شکوراں عجیب سی کیفیت میں وہاں کھڑی رہی تھی۔ چاند کی چاندنی اُس کے صحن میں دروازے سے چارپائی اور چارپائی سے اندر کمرے تک جاتے بتول کی چپل کے نشان دکھارہی تھی۔
اُس کی چپل کنویں کے آس پاس کی نم زمین سے گزرنے کے بعد گاؤں کی گلیوں سے ہوتے ہوئے بھی خشک نہیں ہوئی تھی۔ لیپے ہوئے صاف ستھرے صحن میں وہ ہلکے نشان جیسے چاند کو چشمِ دید گواہ بنا بیٹھے تھے اور اب وہ گواہ سارے بھید کھول رہا تھا۔
شکوراں پلکیں جھپکائے بغیر اُن نشانوں کو دیکھتی رہی، اُس نے سینے پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ اُس کی جوان بیٹی بغیر دوپٹے کے رات کے پچھلے پہر کس سے مل کر آئی تھی کہ ماں سے جھوٹ بولنا پڑگیا تھا اُسے۔ شکوراں کی نیند اُڑگئی تھی۔ جوان بیٹیوں کی ماؤں کی نیندیں بڑی کچّی ہوتی ہیں۔ پتا نہیں وہ آج کیسے گہر ی نیندسوگئی تھی۔ اُس نے اپنے آپ کو کوسا پھر وہ چلتی ہوئی اندر کمرے میں آگئی تھی۔
اندر لالٹین کی روشنی میں اُس نے بتول کو اپنی چارپائی پر دوسری طرف منہ کئے لیٹا دیکھا تھا۔ وہ جیسے ماں کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔ شکوراں اپنی چارپائی پر بیٹھ کر اُسے دیکھتی رہی۔
”امّاں! لالٹین بجھادے، مجھے روشنی میں نیند نہیں آرہی۔”
اُس نے شکوراں سے اُس ہی طرح منہ پھیرے ہوئے کہا تھا۔
”تیرا دوپٹہ کہاں ہے بتول؟”
بتول نے جواب میں شکوراں کو کہتے سنا اوروہ لیٹے لیٹے ساکت ہوئی تھی۔
”پتا نہیں ہوگا ادھر ہی کہیں ، اب رات کے اس وقت دوپٹے ڈھونڈنے بیٹھوں میں؟”
بتول نے چند لمحوں کے بعد جھنجھلا کر سیدھا ہوتے ہوئے اُس سے کہا اور پھر اُٹھ کر لالٹین بجھا کر دوبار ہ آکر لیٹ گئی تھی۔
شکوراں اسی طرح چارپائی پر بیٹھی رہی تھی۔ اُس کا دل ریل گاڑی بن گیا تھا، پتہ نہیں کیا کیا ہونے لگا تھا اُسے۔
…٭…
-

دانہ پانی — قسط نمبر ۵
اساں خالی کھوکھے ذات دے
سانوں چنجاں مارن کاں
اسی کچّے کوٹھے عشق دے
ساڈی دُھپ بنے نہ چھاں
(ہماری ذات خالی کھوکھے جیسی ہے
اور ہمیں کوّے چونچ مارتے رہتے ہیں
ہمارا پیار بھی کچے کوٹھے جیسا ہے
جہاں نہ دھوپ آتی ہے نہ چھاؤں)
تاجور نے زندگی میں ویسی رات کبھی نہیں گزاری تھی۔ رات بھاری ہونا اُس نے صرف سُنا تھا پر وہ ہوتی کیا تھی، وہ اُس نے اب جانا تھا۔ ایک ہی دن میں وہ لکھ سے ککھ ہوگئی تھی۔ بغاوت پہلے بیٹا کررہا تھا، اب شوہر بھی کرنے لگا تھا۔تاجور کے سر کا تاج، اُس کی اکلوتی اولاد کی زندگی کا فیصلہ، اُس کی مرضی کے بغیر کرنے جارہا تھا اور کیا بے حیثیتی سی بے حیثیتی تھی کہ تاجور سے اُس نے پوچھا تک نہ تھا۔ چوہدری شجاع اُس رات تاجور کے دل سے اُتر گیا تھا۔ و ہ اب بس اُس کا شوہر تھا جس کے ساتھ اُس نے مقابلہ کر کے جینا تھا۔
موتیا اُس کے لئے پہلے چڑیل تھی، اب بھوت بن گئی تھی۔ اُس کا اپنا باپ، شوہر، بیٹا تینوں اُس بھوت کی انگلیوں پر ناچ رہے تھے یا کم از کم اُس کو اُس رات یہی لگ رہا تھا۔ وہ اُس پر جادو ٹونے کرواسکتی تو جی بھر کے جادو ٹونے کرواتی! پر اُس کے پاس جادو ٹونوں کابھی وقت نہیں رہا تھا۔ وہ چند دنوں میں اُس کی حویلی میں، اُس کے تخت و تاج کو جیسے چھین لینے کے لئے آنا چاہتی تھی۔ کوئی تاجور کو اُس ذہنی کیفیت کے ساتھ کچھ بھی نہیں سمجھا سکتا تھا اور شاید سارا مسئلہ ہی یہیں سے پیدا ہورہا تھا۔
حویلی میں اُس رات ہر ایک سورہا تھا اور جاگ رہی تھی تو صرف تاجور، جو ننگے پاؤں ایک برآمدے سے دوسرے برآمدے، ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں پھر رہی تھی، یوں جیسے جلے پاؤں کی بلّی ہو یا کوئی غضب ناک شیر،جو بھوکا ہو اور آخری لمحے میں کوئی اُس کے منہ سے شکار چھین کر غائب ہوگیا ہو۔
باہر گاؤں کی گلیوں میں کُتّے بھونک رہے تھے اور بھونکتے ہی جارہے تھے۔ اُن کا بھونکنا تاجور کو اُس وقت اور مشتعل کررہا تھا۔ اُسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ اُس پر ہنس رہے ہوں ، جیسے پورے گاؤں کی عورتیںہنستیں جب حویلی میں موتیا اُس کی بہو بن کر آتی۔ اُسے کچھ کرنا تھا۔ کوئی توڑ، کوئی اُپائے، اور جو بھی کرنا تھا، فوری طور پر کرنا تھا۔
تاجور چلتے چلتے مراد کے کمرے میں پہنچ گئی تھی جس کا دروازہ کُھلا تھا اور بستر پر اُس کابیٹا گہری نیند سورہا تھا۔ وہ کمرے کے دروازے میں کھڑے کھڑے مراد کو دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پر کُھلی کھڑکی سے چاندنی جیسے اپنا فسانہ لکھ رہی تھی۔ تاجور کی نظر اُس کے چہرے سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی۔ جو غصّہ اُسے چوہدری شجاع پر آیا تھا، وہ مراد پر آتا ہی نہیں تھا۔ مراد کا سارا غصّہ موتیا لے جاتی تھی۔ اُس کا بیٹا بھولا تھا جسے ایک کمّی کمین نے پھنسا لیا تھا۔ ہر ماں کی طرح اُس نے بھی خود کو یہی تسلّی دی تھی۔ وہ اُس کا نافرمان ہوگیا تھا۔ یہ ماننے کے لئے تاجور میں جگرا نہیں تھا۔ اولاد کا بھٹک جانا تو گوارا ہوتا ہے، نافرمان ہوجانا برداشت نہیں ہوتا۔ وہاں کھڑے کھڑے تاجور نے اُس پر قُل پڑھ کر پھونکے تھے، آیت الکرسی پڑھ کر پھونکی تھی ۔جو جو وہ پڑھ کر پھونک سکتی تھی اُس نے پھونکا تھا۔
اُسے یقین تھا وہ ہر چیز کے شر سے محفوظ رہے گاسوائے موتیا کے اور اُس کے لئے تاجور کو کچھ اور کرنا تھا۔
…٭…
نیند اُس رات موتیا کو بھی نہیں آئی تھی۔ خوشی کیا خوشی تھی۔ اُس نے جو خواب دیکھا تھا، وہ معجزوں کی طرح سچّا ثابت ہونے لگا تھا۔
اُس نے تو مراد کو صرف چاہا تھا، مانگنے کی جرأت تو وہ کبھی کر ہی نہیں سکی۔ وہ لکیر جو اُس کے اور مراد کے خاندان کے درمیان کھنچی ہوئی تھی،اُسے پھلانگنے کا سوچنا بھی جیسے کُفر تھا موتیا کے لئے۔
ماں باپ نے چیزوں کی چاہ کرنا تو سکھایا تھا اُسے پر کسی چیز کو چھیننا اور چوری کرنا نہیں۔ باقی رہ گیا پیار تو وہ کوئی ویزہ اور لائسنس نہیں ہوتا، نہ اُس کے لئے پاسپورٹ بنتاہے، نہ شناختی کارڈ، نہ انگوٹھا لگتا ہے، نہ دستخط ہوتے ہیں۔ وہ بس ہوجاتاہے اور موتیا کو بھی مراد سے ہوگیا تھا اور اُس پیارمیں نہ کوئی حرص تھی نہ ہوس۔ وہ موتیا کے پھول جیسا سُچا پیار تھا ویساہی دودھیا، ویسا ہی پاک ۔ مزاروں پر لوگ گلاب ڈالتے ہیں، موتیا ہمیشہ ہاتھوں اور گلے میں ہی ڈالا جاتاہے۔ گلاب حُسن کے لئے ہوتا ہے اور موتیا خوشبو میں اُس پر بازی لے جاتاہے۔
پر گامو اور اللہ وسائی کی موتیا حُسن میں گلاب پر بھی سبقت لے گئی تھی۔ وہ نام کی موتیا تھی اور حُسن میں گلاب اور اُس رات بھی گلاب کے حُسن والی موتیا، زمین پر گھٹنے ٹیکے ہی بیٹھی ہوئی تھی۔ اُسے اپنی خوشی سے ڈر لگ رہا تھا اور اپنی قسمت پر یقین نہیں آرہا تھا۔
نعمتوں پر ساری عمر اُس نے اپنے ماں باپ کی طرح شکر ہی کیا تھا پر جو نعمت اب اُسے ملنے والی تھی، وہ تو اُس کی اوقات، حیثیت، اُس کی جھولی، اُس کے دعا کے لئے اُٹھے ہاتھوں سے بہت اوپر اور آگے کی شے تھی۔ یہ اُسے کیسے مل سکتی تھی اور کیوں مل سکتی تھی؟ اُس نے ایسا کیا ہی کیا تھا کہ وہ ”مراد” پاتی۔ موتیا کو رتی برابر بھی شائبہ نہیں تھا کہ وہ اُس کے ماں باپ کی نیکیوں کا اجر تھا پر وہ اپنے آپ کو اس اجر کے قابل بھی نہیں سمجھتی تھی۔
وہ اُس کے کوٹھے کی کچی چھت تھی جس پر وہ دو زانو بیٹھی اُس چاند کو دیکھ رہی تھی جو اُس کے اور چوہدری مراد کے چہرے کو ایک ہی چاندنی سے دیکھ رہا تھا اور وہ نور جیسی چاندنی، موتیا کے چہرے پر ویسا ہی فسانہ لکھ رہی تھی جیسا اُس وقت سوئے ہوئے مراد کے چہرے پر لکھ رہی تھی۔ بالکل اسی وقت اللہ وسائی لکڑی کی سیڑھی پر چڑھتی، موتیا کو ڈھونڈتی کوٹھے پر آئی تھی اورآخری سیڑھی پر کھڑی، وہ سیڑھی کا سرا پکڑے بس اپنی اُس نور والی بیٹی کے چہرے کو دیکھتی ہی رہ گئی۔
وہ اُس وقت سے اپنی اس اولاد کا چہرہ دیکھ کر سحر زدہ ہوتی آئی تھی جب اُس نے پہلی بار اُسے پیدا ہونے کے بعد دیکھا تھا اور اُس نے پہلی نظر اُس پر ڈالتے ہی اُسے اللہ کی امان میں دیا تھا۔
”میری دھی کا کبھی بال بھی بیکا نہ ہو۔ کبھی کوئی دُکھ درد اُس کے دروازے کیا اُس کی گلی سے بھی نہ گزرے۔ اُس کا دل مومن کادل ہو، اُس کی زبان مرہم کی تاثیر رکھتی ہو۔ اُس کا دل دکُھانے والا غارت، اُس کو رُلانے والا مٹّی ہوجائے۔”
اللہ وسائی نے تتلاتے ہوئے اُس کا ماتھا چوم کر اُسے دعا نہیں دی تھی،جیسے اُس کے گرد اپنی کالی زبان سے حصار کھینچ دیا تھا۔ چاند کی چاندنی میں اپنی بیٹی موتیا کا چہرہ دیکھتے ہوئے اللہ وسائی نے ایک بارپھر وہی دہرانا شروع کیا تھا جو وہ ہر بار اُس کا چہرہ دیکھنے پر دُہراتی تھی۔ وہی دعائیں، وہی اللہ کی امان اور وہی حصار۔
وہ کمّی کمین اللہ وسائی اپنی نسل بچانے کے لئے جو کرسکتی تھی، کررہی تھی۔ کاش تاجور اُس کے لفظ سُن لیتی تو جھوک جیون کی تاریخ اور مستقبل دونوں اور ہوتے۔
…٭…
-

اگر صنم خدا ہوتا — فہیم اسلم
اندھیروں کے سفر میںدور سے نظر آنے والی روشنی ۔۔۔۔اور گہرا ئیوں میں گرتے ہوئے دل کی بلند دھڑکنیں ، اُداسیوں میں کہیں دور سے آنے والی گونج ۔۔۔۔ اور تنہائی کی وحشت میں آنکھوں میں دبے ہوئے آنسو۔ کس لمحے میں اتنی سکت ہے کہ وہ بے سکت ہو جائے، کس خواہش کو سرِزندگی مرنے کی آرزو ہے۔ کس بند آنکھ میں زہر اگلتے سپنے سہنے کی ہمت ہے اور کھلی آنکھ میں کوئی زہر بھی کیسے بھر دے۔ دل کا سچ افسانہ ہے اور زبان کا سچ آج قتل۔۔۔۔ کچھ باتیں سوچ سے باہر ہو جاتی ہیں اور کچھ سوچیں باتوں کے بس میں نہیں رہتیں بالکل اسی طرح جیسے بارش سے برسنے والی بوند اور سگار کا دھواں یا پھر پھول کی مہکتی خوشبو۔
میری زندگی کے کچھ دن میری زندگی کا حیرت کدہ ہیں اور میری زندگی کے کئی سال کچھ بھی نہیں۔ بہت سی راتیں مجھے یاد نہیں مگر کچھ دن ایسے ہیں کہ اب شاید ان کی شام نہ ہو ۔۔۔۔ میں اپنے انصاف کے ترازو کو کئی سال تک متوازن نہ کر سکا۔۔۔۔ اونچ نیچ تو پلڑوں کی تھی مگر بھٹکنا تو مجھے ہی پڑا۔۔۔۔ یہ صبح شام تو رسمِ کائنات تھی مگر منزل کی تشنگی تو میری بڑھ گئی۔۔۔۔ میں ایک ہی نکتہ کے گرد اتنا گھوما کہ زمانہ مچل گیا۔۔۔۔ کئی سال صدیوں کے اعتبار سے میں نے بہار کی آرزو میں گزارے۔۔۔۔ کئی خوشیاں چاہت کے اعتبار سے میں نے گم کر دیں۔۔۔۔ کئی فیصلے قسمت کے اعتبار سے میں نے منظور کئے۔ صبح ہونے سے پہلے رات کی کڑی آزمائش صبر آزما تھی۔۔۔۔ اب زندگی میرے ساتھ ہے، اب پھولوں کی پتیاں میرے ہاتھوں قتل نہیں ہوتیں۔
میں نے بچپن سے ہی خدا سے اچھے دوستوں کو مانگا، میں صبح ہی سے چاندنی کی تلاش میں تھا، وقت تو تھا مگر زندگی نہیں تھی میرے پاس۔۔۔۔ جیسے خوشیاں تو تھیں مگر مقدر نہیں تھا میرے پاس۔۔یہی تو میری ناکامی تھی۔ میری زندگی نے کئی رخ تبدیل کئے۔مقدر کو میں بالکل اسی طرح الزام دیا کرتا تھا جیسے جلتے پاؤں تپتی دوپہر کو۔ کولہو کے بیل نے اپنے دائرے میں اتنے چکر کاٹے مگر رہا وہ ایک ہی جگہ۔۔۔۔ ساری زندگی ایک ہی مرکز کے گر دگھومنا کیسا ہو گا۔۔۔۔ مگر میں تو اس سے بھی بے بس تھا، وہ تو گھومتا رہا اور میں ایک ہی جگہ کھڑا قسمت کو کوستا رہا۔۔۔۔ کیسا مقدر تھا میرا بھی یا میں نے خود کر لیا تھا؟اس وقت زندگی کی ابتدا میں کس طرح مقدر نے میری پیروی کی۔۔۔ میں نے بہت سوچا بہت کوشش کی مگر کچھ سمجھ نہ پایا اور نتیجہ تھا مقدر کو الزام دیتے ہوئے میرے اشعار۔ دل کا لاوا جب بہ نکلا اور خود کو کھوکھلا محسوس کیا تو پھر جان گیا کہ جلتے پاؤں کا تپتی دوپہر کو کوسنا کتنا غلط ہے۔
تقدیر ہمارے ساتھ اکثر اس طرح نہیں کھیلتی جس طرح ہم سمجھتے ہیں ۔ ہم اپنی ناکامیوں اور مایوس دھڑکنوں کو تقدیر کے سپرد کر کے خود کو ضمیر کی شرمندگی سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔۔اور آخر کار قسمت کا فلسفہ میں نے کچھ اس طرح سے بدل دیا کہ جو خدا کی مدد سے بوئے گا وہ خدا کی مدد سے کاٹے گا۔۔۔۔ بات تو سیدھی تھی مگر تجربہ نیا۔
میں نے غالب کی طرح ہر تیز رو کو اپنا راہبر سمجھا کیوںکہ مجھے منزل تو نظر آتی تھی مگر میں راستہ نہیں جانتا تھا یا پھر میں راہبر کو جانتا نہ تھا۔ہر شمع مجھے طورِسینا میں جلتی دکھائی دی۔۔۔۔ ہر چراغ کی میں نے سورج سے برابری کی۔۔۔ ہر کنواں مجھے سمندر سے گہرا لگا۔۔۔۔ ہر دل مجھے کعبہ لگا۔۔۔۔ اور پھر ہر شمع بجھ گئی،سمندروں سے میرا ناتا ٹوٹ گیا اور کعبہ کا طواف میرے بس میں نہ رہا۔مندر اور کلیسا میں بھگدڑ مچ گئی۔ گماں پر بنائے مضبوط سہارے خود میرے کندھوں کا بوجھ بن گئے۔ اوپربادلوں کی نظر آنے والی مضبوطی دھواں نکلی۔ معلم طالب نکلے اور ستارے وہم۔۔۔ ۔۔۔۔
آ دھا راستہ میری منزل نہ تھا اور منزل کا راستہ نظر نہ آتا تھا۔ زندگی ارادوں کی اوٹ میں چھپتی جا رہی تھی۔ جب رات صبح کے اعتبار سے طویل ہو گئی۔۔۔ تو میں نے جان لیا کہ جب کسی کے گھر کی چھت اس کے قد سے نیچی رہ جائے تو پھر اسے چاہیے کہ پوری دنیا کو اپنا مسکن بنا لے۔۔۔۔ اب راستہ بدل لینا ہی مجھے سود مند نظر آیا۔ اس راستے کی تلاش شروع کی جس میں منزل دھندلی نہ ہو۔ کئی سال میں نے بھٹکنے کے اعتبار سے تلاش جاری رکھی، گو ایک ہی منزل کو نئے راستے میں تلاش کر نا ایسا لگا جیسے صحرا میں گم مسافر کو صدیوں کے بعد پانی مل گیا ہو۔
میں نے ایک سہارا لیا منزل تک پہنچنے کا۔۔۔ مجاز کا سہارا۔۔۔ محبت کا سہارا۔ اس کی اور اپنی خیالی دنیا میں میں نے کعبہ کے گرد اتنے طواف کئے کہ شاید میں کبھی نہ کر سکتا۔۔۔ اس دنیا میں میں نے آسمان کے رستے کو جان لیا۔۔۔میں یہ نہیں کہتا کہ اس دنیا کا سحر ہی ایسا تھا ہاں مگر حقیقت کو جھٹلانا بھی میرے بس میں نہیں۔۔۔اس دنیا کا ہر لمحہ میرا رہبر بنا اور بالآخر میں نے وہ تمام اصول اس سے ملے توازن کے توسط سے سیکھے، میں بہت مطمئن ہوں ۔۔۔۔ میرا شمار اب ”ہما” کی فہرست میں ہونے لگا ہے۔ میں اس کے نظر کرم کو کیسے بھول جاؤں۔ اس کے احساسات اس کی چاہتیں جو صرف میرے لئے ہیں میں نہیں بھلا پاؤں گا۔۔۔
میں اس تک پہنچنے کے لئے ہر راہ سے گزروں گا۔۔۔۔ چاہے مجھے راہ کی تعریف ہی کیوں نہ بدلنا پڑے۔۔۔۔ اور اس سے پہلے کے میں کوئی نیا دین اکبری پیش کرتا خدائے بلندوبالا کی پاک ذات نے مجھے دین الٰہی کا پابند کر دیا مگر ہجر اور وصل کی کمان نے مجھے تیر بنا رکھا ہے ۔۔۔۔ میرے دل کی گھٹن ۔۔۔۔ میرے سانسوں کی رکتی آہٹ۔۔۔۔ مجھ کو بے بس کر رہی ہے۔
دل و دماغ کی خالی سر زمیںکس با دِ نسیم سے مسرور ہے۔ یہ کس کی عبادت کا موسم آن پڑا ہے کہ اب دشت میں بھٹک جانا آسان ہے کہ اب بحر کی گہرائی میرے آنسو سے کم ہے۔
اور اگر صنم خداہوتا تو آج ساری دنیا خدا سے محروم ہو چکی ہوتی۔ میری آنکھوں کے سوا ہر طرف اندھیرا ہوتا۔۔۔۔ میری محفل کے سوا ہر سو مزار ہوتے۔
-

تبدیلی — ثناء شبیر سندھو
بس نے مجھے گاؤں کے اسٹاپ پر اُتارا ۔میں نے اپنا سفری بیگ اُٹھایا اور اپنے گاؤں کی فضا کو محسوس کرتے ہوئے ایک لمبا اور گہراسانس لیا۔ ایک اپنائیت تھی اُس فضا میں۔۔ مانوسیت تھی۔۔ محبت تھی۔۔۔ایک منٹ۔۔ کچھ الگ سا بھی محسوس ہو ا تھا مجھے۔۔کچھ غیر معمولی سے محسوسات ۔۔۔میں سر جھٹک کربے اختیار مسکرا دیا۔ آج پانچ سال بعد میں کویت سے واپس اپنے گاؤں لوٹا تھااور میں نے اپنی آمد کے بارے میں کسی کو کچھ بتایا بھی نہ تھا۔ سڑک پار کرکے گاؤں کی طرف جانے والے راستے پہ قدم رکھ دیے لیکن میں اپنے احساسات کو سمجھ نہیں پارہا تھا۔ مجھے لگا میں بہت پرجوش ہوں جب کہ دوسری جانب میرے جوش اور ہیجان پر گھبراہٹ غالب تھی۔ ملی جلی کیفیت میں گھرا یونہی اپنی سوچوں میں گم قبرستان کے نزدیک پہنچ گیا جہاں میرے پاؤں سست پڑ گئے۔
قبرستان کے چھوٹے سے لوہے کے دروازے کے سامنے یونہی کچھ دیر کو رک گیا۔ اندر کچھ لوگ اپنے عزیزوں کی قبروں پر فاتحہ پڑھ رہے تھے۔ کچھ بچے بھی ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔ ہمارے گاؤں کا قبرستان آبادی کے ساتھ ہی تھا اس لئے بچے بلا خوف وجھجک وہاں گھومتے پھرتے تھے۔ کچھ عرصہ پہلے تک جب قبرستان کا زیادہ حصہ خالی تھا تو بچے وہاں کرکٹ بھی کھیل لیا کرتے تھے۔لیکن اب اُس جگہ بھی قبریں بن چکی تھیں۔
گہراسانس لیتے ہوئے میں نے اپناسفر دوبارہ شروع کیا اور چلتے چلتے اپنے گاؤں میں موجود سب سے بڑے بوہڑ کے درخت کے پاس پہنچ گیا۔ارے یہ کیا؟ بوہڑ کا آدھا درخت کٹ چکا تھا۔ جہاں پہلے وسیع و عریض میدان ہوا کرتا تھا وہاں اب مختلف قسم کے چھوٹے بڑے پکے گھر بن چکے تھے۔ ۔یہ منظر میری آنکھوں کو بالکل نہ بھایا۔ میرے بچپن کے دن جس قطعہ زمین پر کنچے ، کرکٹ اور فٹ بال کھیلتے گزرے تھے ،آج وہ کسی کی ملکیت بن چکا تھا۔
وہاں ایک عالیشان مکان کھڑا تھا۔ میں سست قدموں سے آگے بڑھا جہاں بوہڑ کے باقی بچے کھچے آدھے درخت کے نیچے ایک چارپائی بچھی تھی اور اُ س پر بیٹھا ایک بوڑھا وجود سوچوں میں گم حقے کے کش لگا رہا تھا۔میں یونہی چلتا ہوا اُس چارپائی کے پاس پہنچا ۔باباجی نے حقہ منہ میں لئے نگاہیں اُٹھا کر میری طرف دیکھا۔ اُن کی آنکھوں میں واضح الجھن تھی۔اُنہوں نے حقہ چھوڑ کر ہاتھوں سے چھجہ بناتے ہوئے دوبارہ مجھے دیکھ کر پہچاننے کی کوشش کی۔ میں ہلکا سا مسکرایا اور پاس ہی چارپائی پر بیٹھ گیا۔
”باباجی یہ بوہڑ کا درخت کیسے کٹ گیا۔۔اور یہ سب گھر۔” میری آواز میں دُکھ نمایاں تھا۔
باباجی بھی ہلکا سا مسکرادیئے۔ ان کے چہرے کی جھریوں پر اُداسی سی پھیل گئی ۔
”پتر لگتا ہے تو کہیں باہر سے آیا ہے۔۔۔ تجھے نہیں آنا چاہئے تھا۔۔” انہوں نے مجھے پہچاننے کا ارادہ ترک کر کے حقے کا کش لگایا۔
” بابا جی یہ میرا پنڈ ہے۔۔ میرا گاؤں ہے۔۔ میرا بچپن گزرا ہے اس بوہڑ کے نیچے کھیلتے اور وہاں۔۔ جہاں آج یہ گھر بسے ہیں ۔۔ وہاں ہم گرمیوں کی تپتی دوپہروں میں بھی بھاگ بھاگ کر نہیں تھکتے تھے۔۔۔۔” میں نے دُکھی لہجے میں کہا ۔
”جانتا ہوں۔۔ میں تجھے پہچان نہیں پایا لیکن تیرا دکھ پہچان لیا میں نے بچہ۔۔اسی لئے تو کہا کہ تجھے نہیں آنا چاہئے تھا۔۔” حقے کی گڑگڑاہٹ میں اِضافہ ہوا۔
”یہ گاؤں میری پہچان ہے۔۔ اس مٹی سے میری شناخت ہے۔۔ یہاں میرے اپنے بستے ہیں۔۔ ایسے کیسے نہیں آتا۔۔ اپنا گھر تو نہیں چھوڑا جاتا نا بابا جی۔۔ ” میں نے جوتے کی نوک سے مٹی کریدتے ہوئے جواب دیا۔
”یہ بھی عجیب بات ہے۔۔ جو یہاں رہتے ہیں انہیں تو کوئی لحاظ نہیں رہا ان سب باتوں کا۔۔ اور تو۔۔ ” بابا جی طنزیہ مسکرائے۔
”میرا بچپن بھی انہی گلیوں میں بیتا ہے پتر۔۔ کتنا زور لگایا ہم سب یاروں نے کہ یہاں گھر نہ بنیں۔۔ یہ بوہڑ کا درخت جو میرے بچپن کا سنگی ہے۔۔ نہ کٹے ۔۔ میری چھایا مجھ سے نہ چھنے۔۔۔ لیکن وقت کا تقاضا ہے پتر کیا کر سکتے ہیں۔۔تبدیلی۔۔تبدیلی کا رولا ہے آج کل۔۔ یہاں بھی لوگ تبدیل ہورہے ہیں۔۔۔ ”انہوں نے اپنے تہ بند پربیٹھی مکھیوں کو ہاتھ سے اُڑایا۔
”تبدیلی۔۔۔” میں بڑبڑایا۔
”جا گھر جا پتر ۔۔ تیری ماں تیری راہ دیکھ رہی ہوگی۔۔” بابا جی نے شفقت بھری نظروں سے مجھے دیکھ کر کہا۔
”ہاں۔۔ اماں۔۔۔ابا۔۔۔ میری گڑیا سی بہن صفیہ۔۔۔ اور۔۔ اور وہ۔۔۔” میں پرجوش ہوتاایک دم کھڑا ہوا ۔
”اچھا بابا جی اللہ حافظ۔۔ ” میں نے بیگ پھر سے اُٹھا لیا۔
”چنگا پترجیتا رہ۔۔” بابا جی نے ہاتھ اُٹھا کر کہا۔
میں ایک اُداس اور آزردہ نظر بوہڑکے بوڑھے اور نامکمل وجود پر ڈالتا ہوا آگے بڑھ گیا۔
” وہ کیسی ہوگی۔۔۔ کیا اُسے میرا انتظار ہوگا۔۔ مجھے اچانک دیکھے گی تو کیا کرے گی ۔۔ ”میں اپنے آپ میں گم مسکرایا۔
”اپنا دوپٹہ منہ میں دے کر شرما شرما کر دیکھے گی اور پھر بھاگ جائے گی اور کیا۔۔۔” میں نے سر جھٹکا۔
وہ میرے چاچا کی بیٹی تھی اور میری بچپن کی منگ ۔۔۔ہمارے گھرآس پاس ہی تھے۔ وہ بہت شرمیلی تھی۔ مجھے یاد ہے جب چھے سال پہلے ہماری بات پکی ہوئی تھی ،اُس دن اُس کی سرمہ بھری آنکھیں شرم کے بوجھ سے کیسے جھکی ہوئی تھیں ۔میرے دیکھنے پر وہ کیسے گھبرا کر فوراََ غائب ہوجایا کرتی تھی۔ہماری منگنی کے بعد ایک سال جو میں نے گاؤں میں گزارا وہ اسی لکا چھپی کے کھیل میں گزرا تھا۔ میں چاچا کے گھر دن میں دس دس چکر لگا تا تھا کہ کب اُسے ایک نظر دیکھ پاؤں، اُس سے بات کر پاؤں لیکن وہ تو گویا میری قدموں کی آہٹ بھانپ کر ہی کمرے میں گھس جاتی ۔کئی دفعہ مجھے صفیہ کو کہہ کر اُسے دھوکے سے بلوانا پڑتا اور اُس دوران بھی وہ بس رسی تڑا کر بھاگنے کے چکروں میں رہتی تھی۔
”حسین پتر!!!” میں اُسی کے خیالوں میں گم گھر کے قریب پہنچ چکا تھا اور گھر کے سامنے والی دُکان پر اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے ابا نے مجھے بے یقینی سے دیکھا اور خوشی سے اپناآپ سنبھالتے آگے بڑھے۔میں تیزی سے آگے بڑھا اور اُن کے گلے لگ گیا۔
”پتر۔۔تو نے بتایا ہی نہیں۔۔ ہم تجھے لینے آجاتے شہر۔۔ ایسے کیسے آگیا۔۔” وہ میرا ماتھا چومتے ہوئے بولے۔
”بس ابا۔۔ میں نے سوچا بغیر بتائے ہی جاتا ہوں سب خوش ہوجائیں گے۔۔” میں نے مسکرا کر جواب دیا۔
”حسین بھرا۔۔۔” یہ کاشی تھا میرے چچا زاد اور”اُس ‘ ‘کا بھائی۔۔۔
”کاشی تو؟یار تو کتنا بڑا ہوگیا ہے۔۔” میں اُس کے اپنے کندھے تک پہنچتے قدکو دیکھ کر حیران ہوا۔جب میں کویت گیا تھا تو وہ پانچویں کا طالب ِ علم اور ایک کمزور مریل سا لڑکاتھا۔
”بس بھائی۔۔۔” کاشی جھینپ کر بولا۔
”چلو ۔۔چلو گھر۔۔ تیری ماں تجھے دیکھے گی توخوشی سے پاگل ہوجائے گی۔۔ روز کہتی تھی حسین کو دیکھے اتنے سال ہوگئے۔۔” ابا خوشی سے بولے۔۔۔کاشی نے فوراََ آگے بڑھ کر میرا بیگ اُٹھا لیا۔ ہم تینوں گھر کی جانب بڑھے۔
گھر میں داخل ہوتے ہی میری نظر برآمدے میں ایک طرف بنے چھوٹے سے باورچی خانے اور اُس کے آگے رکھے مٹی کے چولہے پر پڑھی۔۔چولہے پر کوئی ہانڈی پک رہی تھی اور اماں چو لہے میں جلنے والی لکڑیوں کو اوپر نیچے کر رہی تھیں اور ساتھ ہی پھونکیں مار تی جاتیں۔ میری طرف اماں کی پشت تھی۔
”تائی اماں۔۔ دیکھوتو۔۔” کاشی خوشی سے چلایا۔ اماں نے مڑ کر دیکھا اور اپنی آنکھیں مل مل کر میری طرف دیکھنے لگی۔
”نہ مل اتنی آنکھیں ،تیرا پتر ہی آیا ہے۔۔” ابا نے خوشی سے نہال ہوتے ہوئے کہا۔
”حسین۔۔میرا پتر حسین آیا ہے۔۔ماں صدقے جائے۔۔ ” اماں میری طرف اور میں اماں کی طرف تیزی سے بڑھا۔
اماں نے مجھے دبوچ کر سینے سے بھینچ لیا۔ میں اُن کے وجود کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں محسوس کرنے لگا ۔۔میری آنکھیں بھیگ گئیں۔۔
”تو نے بتایا کیوں نہیں کہ تو آرہا ہے ۔۔ ” اماں نے مجھے گھورا۔
”بس اماں ،پھر تیری یہ خوشی کیسے دیکھتا۔” میں ہنس دیا۔
”چل کاشی جا بھائی کے لئے مالٹے رنگ کی بوتل لے آ۔۔” اماں نے پاس کھڑے دانت نکالتے کاشی کو بھگایا۔
”ارے اماں بوتل کی کیا ضرورت ہے۔۔ میں کوئی مہمان ہوں۔۔” ہم لوگ آگے بڑھ کر آنگن میں بچھی چارپائیوں پر بیٹھ گئے۔
”چل رہنے دے۔۔ مجھے جیسے پتانہیں کہ تجھے وہ والی بوتل کتنی پسند ہے۔۔”اماں نے میرے کندھے پر پیار سے تھپکی لگائی۔
”صفیہ کہاں ہے اماں۔۔” میں نے اِدھراُدھر دیکھتے ہوئے کہا۔
”صفیہ کو میں نے تیرے چاچا کے گھر جاتے دیکھا تھا کہہ رہی تھی کوثر سے کوئی کام ہے۔۔”ابا نے خوش دلی سے جواب دیا۔”اُس’ ‘کے نام پر اماں نے معنی خیز نظروں سے مجھے دیکھا۔ میں جھینپ گیا۔
”اچھا پھر میں بھی چا چاجی سے مل آؤں اماں۔۔” میں نے بے تابی سے کہا ۔
-

ساگ — عنیقہ محمّد بیگ
وہ ساگ کا تڑکا تیار کرتے ہوئے مسکرائی…. اور پھر منہ ہی منہ میں بڑبڑائی!!! ”ایمان آج میرا پکایا ہوا ساگ تمہارے چہرے سے شرافت کا نقاب اتارڈالے گا، اویس کو میری ہر بات پر یقین آجائے گا۔” اور تڑکا ساگ پر پھیلا دیا …. آج سے پہلے اس نے اتنی محنت سے کبھی ساگ نہیں پکایا تھا… کیوں کہ اس کی نند ایمان کو ساگ پسند نہیں تھا… شادی کے کچھ دنوں بعد ہی اویس نے اپنی چھوٹی بہن کی پسند ناپسند اسے بتادی… کیوں کہ وہ گھر کے خرچ میں برابر کی شریک کار تھی ۔
”تو کیا…. ساگ کبھی نہیں پکے گا؟” اس کا موڈ آف ہوگیا۔ ”نہیں…. اب ایسا بھی نہیں!!…. البتہ میں اور ایمان پسند نہیں کرتے …. میں پھر بھی کبھی کبھار کھالیتا ہو…. مگر ایمان نہیں کھاسکتی اور ایسے میں وہ آفس سے تھک ہار کر گھر آئے گی… تو کیا کھائے گی!” بڑا بھائی ہونے کے ناطے وہ اپنی چھوٹی بہن کے لئے فکر مند تھا ۔ایسی بہن جس نے اویس کو کبھی کسی چیز کے لیے پریشان نہیں کیا تھا… والدین کی وفات کے بعد اس نے ملازمت کرلی اور اپنے بھائی کی ہر معاملے میں مددگار بن گئی ۔
اویس نے اپنی شادی کے بعد اس کے لیے بھی رشتے تلاش کیے…. لیکن جانے اللہ کو کیا منظور تھا…. کہیں کوئی بات نہ بن سکی اور ایمان نے بھی کبھی کسی سے شکوہ نہ کیا…. مگر دوسری طرف اس کی بھابھی ارم کو اس سے بلاوجہ ہی اتنے شکوے تھے کہ اویس کی شادی شدہ زندگی مشکلات کا شکارہونے لگی…
ارم کو ایمان کا وجود خوامخوا ہی کھٹکنے لگا..وہ اسے اپنے گھر میں نہیں دیکھنا چاہتی تھی ۔ ایمان جانتی تھی.کہ اس کی بھابھی اسے پسند نہیں کرتی۔ مگر وہ اپنے بھائی سے اتنی محبت کرتی تھی کہ بھابھی کی نفرت اسے نظرنہ آتی تھی۔
”ٹھیک ہے! کبھی ساگ نہیں بناؤں گی….” اس کے چہرے پر خفگی نمایاں تھی۔” ارم! بچی مت بنو… تمھارا جو دل کرتا ہے کرو میں نے تمہیں کب منع کیا ہے؟” اس نے بیوی کا ہاتھ تھام لیا… اور کرتا بھی کیا ۔بہن کے ساتھ ساتھ بیوی کو بھی خوش رکھنا چاہتا تھا… مگر ارم تھی کہ خوش ہونے کے بجائے خفا خفا ہی رہتی۔ جس سے گھر کا ماحول نا خوش گوار رہتا..
ایمان نے گھر کے کاموں میں مداخلت کرنا چھوڑدی تھی اور اوپر ی منزل پررہنے لگی ۔
”بچی میں نہ بنوں…ہاں اورآپ کی بہن نے تو بچی بننے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ عمر تیس کی…. اور عقل سمجھ دس سال کی بچی جیسی ۔”
”آہستہ بولو… ارم! کیوں ہر وقت اس کے پیچھے پڑی رہتی ہو۔آخر اس نے تمہارا کیا بگاڑا ہے ؟ جس کی وجہ سے تم اس کی جان نہیں چھوڑتی”…. اس نے بھی غصے سے پوچھا۔
”میں اس کی جان نہیں چھوڑرہی… یا وہ ہماری؟…. آخر کب تک بیٹھی رہے گی اس گھر میں …. شادی کیوں نہیں کرتی…. کہیں…. کہیں…. کچھ ایسا تو نہیں… جو آپ نہیں سمجھ رہے۔” اس نے سوچتے سوچتے حیرانی ظاہر کی۔
”کیا مطلب ہے تمہارا؟” وہ اس کو غصے سے گھورنے لگا۔
”میرا مطلب ہے…. کہ کسی سے محبت وغیرہ !!۔” اس نے دبی آواز میں جواب دیا۔
خبردار! جو میری بہن کے بارے میں ایسا سوچا…. تمہاری بہن جیسی نہیں ہے وہ جو سب کی عزت رُسوا کرکے گھر چھوڑ کر بھاگ جائے۔”
”یہی سننا باقی رہ گیا تھا…. دیں اور طعنے! ہاں میری بہن بری تھی بہت بری، بس آپ کی بہن بڑی پارسا ہے، باقی سب برے ہیں !” وہ رونے لگی… اس کے آنسو ہمیشہ کام کرجاتے اور وہ پسپائی اختیار کر جاتا۔
اس نے ساگ بھون لیا تھا… اور پھر ہری مرچیں دھوکر کاٹنے لگیں۔ ”ایمان تمہاری وجہ سے میری ہر خوشی کڑوی ہوجاتی ہے۔ اب دیکھنا میں کیسے تمہاری زندگی کاسچ سب کے سامنے لاتی ہوں۔” اس نے ساگ کے اوپر ہری مرچیں ڈال دیں… ساگ نئی نویلی دلہن کی طرح سجا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔
”اویس… اویس…! سچ… یقین کریں پہلے وہ تھوڑا سا سالن … ایک روٹی لے کر اوپر چلی جاتی تھی… مگر پچھلے ایک ماہ سے دو روٹیاں… اور بہت زیادہ سالن لے کر جارہی ہے۔”
”ارم …. وہ اس گھر کی عزت ہے… جیسے تم!! وہ تمہاری بھی بہن جیسی ہے… اللہ سے ڈرو…. وہ کبھی بھی مجھے شرمندہ نہیں کرسکتی۔”اویس نے اس کی بات سمجھتے ہوئے کہا۔
”اچھا… اگر ایسا کچھ نہ ہوا تو… تو…. آپ بے شک مجھے گھر سے نکال دیجیے گا۔”ارم نے ایک اور تیر چلایا۔
”توبہ…. ارم! کیسی باتیں کرتی ہو… میں بھلا تمہارے بغیر جی سکوں گا۔” اس نے دونوں ہاتھ تھام کر اسے اپنی محبت کا احساس دلایا مگر وہ شوہر کی محبت کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی دھن میں بولتی گئی۔ ”اگر سچ میں اس کی زندگی میں کوئی لڑکا نہیں… تو پھر اس نے حسنین شاہ سے شادی کرنے پر کیوں اعتراض کیا تھا؟” اس بات پر وہ بھی سوچنے لگا ”سچ اویس…. وہ آپ کو بیوقوف بنارہی ہے…. اور پھر اوپر جاکر رہنے کی کیا تک ہے… کمرے تو نیچے بھی ہیں…”
”صاف… صاف کہو… تم کیا کہنا چاہتی ہو؟” اس کی آنکھیں غصے سے لال ہوگئیں۔
”چھوڑیں… کچھ نہیں…” وہ منہ پھیرکر بیٹھ گئی۔
”بولو… اب بول کیوں نہیں رہی۔” اس نے غصے سے پوچھا۔
”اویس..لگتا ہے رات کو ہماری چھت پر کوئی آتا ہے!”… اس نے ڈرتے ڈرتے بتایا۔
”کون…؟؟ … اور کب سے… تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟” اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔
”یہ تو میں نہیں جانتی… کیوں کہ وہ سیڑھیوں کا دروازہ بند کردیتی ہے… مگر میں نے کئی دفعہ آوازیں سے سنی ہیں۔”
”اچھا… تو… تو… وہ حیدر خبیث ہوگا… آخر کار اس نے اپنا کام کر دکھایا۔”
”کون حیدر؟”… وہ جیسے حیرانی سے بولی۔
”وہی… حیدر… جو محلے کی ہر لڑکی کو خوب صورت خواب دکھاکر ان کی زندگیوں سے کھیلتا ہے۔” اویس کے لہجہ میں کڑواہٹ گھل گئی ۔
”وہ بدمعاش جو گلی کے نکڑ پر آوارہ لڑکوں کے ساتھ بیٹھتا ہے۔؟” ارم نے تجسس سے پوچھا۔
”ہاں… ہاں ۔۔وہی….!!… مگر ایمان تو اتنی سمجھ دار ہے… تو کیسے وہ اور حیدر… یقین نہیں آرہا”۔ اس نے پھر سے ٹھنڈے دماغ سے سوچنا شروع کردیا….
مگر ارم اسے مزید تپا گئی جو آگ پر تیل ڈالنے کا کام چھوڑ نہیں رہی تھی۔
”یاد آیا… اس دن جب میںایمان کے ساتھ کلینک پر گئی تھی تو وہ ایمان کو دیکھ دیکھ کر مسکرارہا تھابلکہ اس نے پیچھا بھی کیا تھا۔”
”کیا؟ اس کی اتنی جرأت؟ میںاس کا وہ حال کروں گا کہ پورا محلہ دیکھے گا”۔
”اویس تحمل سے کام لیں۔جرأت ایمان نے دکھائی ہے… تبھی تو اس نے پیچھا کیا تھا… اور پھر پورے محلے کے سامنے ….. اس نے یہ ثابت کردیا کہ ایمان اور اس کا چکر ہے… تو؟ … …. کتنی بے عزتی ہوگی… آپ کی اس خاندان کی… اور ہمارے بچوں پر اس کا کیا اثر پڑے گا۔” اویس نے گھبراکر اسے دیکھا۔ -

شب گزیدہ — زید عفّان
شام ڈھل چکی تھی۔
سرد موسم میںیہاں شام ڈھلتے ہی سناٹا چھا جاتا ۔ شہر سے کچھ دور یہ ایک چھوٹا سا پہاڑی گاؤں تھا جہاں کچھ ہموار قطعۂ زمین اور چھوٹی چھوٹی ڈھلانوں پر گھر بنے ہوئے تھے۔
کہیں کہیں کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنسان اور نیم تاریک راستوں کو زندگی کی نوید دیتیں تھیں۔ گھروں کے باہر لگے اکا دکا بلب اندھیرے کا نوحہ پڑھتے محسوس ہوتے۔ نئے لوگوں کے لیے یہ ماحول بے حد پراسرار یت کا حامل مگراس علاقے کے مکین یہاں کی ہر اونچ نیچ سے آشنا تھے۔
کچی پکی سڑکیں جن پر پانی جمع تھا، محلے کی معاشی خستہ حالی کا منہ کا بولتا ثبوت تھیں۔
گھروں کی ٹیڑھی میڑھی دیواروں میں موجود دراڑیں اس حالتِ زار کو مزید اُجاگر کرنے کا باعث تھیں۔تمام گھر تقریباً ایک جیسے خستہ حال تھے اور اونچے نیچے ان گھروں میں بسنے والے شعور سے ناآشناافراد بھی تقریباً ایک جیسے مزاج کے حامل تھے ۔
ایک گھر سے اٹھنے والی آوازیں محلے کے در و دیوار کوہلا رہی تھیں۔
”مارو سالے کو۔۔!”ایک آواز۔
گالیوں اور کوسنوں کی گونج میں سُنائی دینے والی دوسری آوازیں، اس کو پڑنے والے ہاتھ، پیر ، گھونسے ، لاتیں اور ڈنڈے تھے۔
”گھر میں گھسنے کی ہمت کیسے ہوئی ۔ ماں بہنیں نہیں ہیں اس کے گھر میں۔۔”ایک اور آواز۔
”اتنا مارو کہ آئندہ ایسی حرکت کا سوچ بھی نہ سکے۔”ایک دوسری نوجوان آواز جس کا ہر جملہ اول آخر گالی کے ساتھ تھا۔
محلے کے تمام مرد اپنی ذمے داری پوری کرنے پہنچ چکے تھے۔ عورتیں زبانی جمع خرچ سے اس نیکی کے کام میں پورا پورا حصہ ڈال رہی تھیں۔ لڑکے کے ہر طرف اشرف المخلوقات جمع تھی اور اسے اس کے غیر انسانی فعل کی سزا دے رہی تھی۔
عورتوں میں چہ می گوئیاں جاری تھیں۔ وہ ایک دوسرے سے اصل واقعہ جاننا چاہ رہی تھیں۔
”ارے مجھے موت کیوں نہ آگئی یہ دن دیکھنے سے پہلے۔”ایک عورت نے سینہ پیٹا۔
”شادا ںسورہی تھی اچانک اس کی چیخ سن کر کمرے میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ لڑکے نے شادا ں پر سے رضائی اٹھاکر پرے جھٹکی ہے۔”چشم دید گواہ عورت نے کہا۔
”بچی تو مارے خوف کے بے ہوش ہوگئی ہے۔”ایک دوسری ہمدرد عورت نے تاسف سے کہا۔
”میرے بیٹے کو مت مارو وہ بے قصور ہے۔”
لڑکے کے باپ کو کسی نے اس انہونی کا بتادیا تھااوروہ دور ہی سے چلاتا آرہا تھا۔
”پکڑو اسے بھی مارو۔”کئی آوازیں بلند ہوئیں۔اس کے باپ کی آواز بھی لاٹھی ، ڈنڈے اور گھونسوں کے شور میں دب میں گئی۔
”ہوا کیا ہے؟کچھ تو پتا چلے۔ اللہ کے واسطے میرے بیٹے کو مت مارو۔” اس کا باپ رحم کی بھیک مانگ رہا تھا۔ مگر وہاں اس کی سننے والا کوئی نہ تھا۔کچھ لوگ باپ کو پکڑ کر الگ لے گئے۔
”تمہارے بچے بھی ایسے ہی مریں گے۔”وہ دہائیاں دینے لگا۔
باپ کا درد تھا جو منہ سے خون تھوکتے ہوئے نکل رہا تھا۔مار کھانے والا پندرہ سولہ سال کا نوجوان تھا جس کی ایک آنکھ سوج کر نیلی پڑ چکی تھی۔ کان اور ناک سے خون بہ رہا تھا۔ ملگجے کپڑوں پر جگہ جگہ خون کے دھبے اس کے حلیے کو مزید خستہ اور وحشت ناک بنا رہے تھے ۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا مگر خوف اور درد کی شدت سے آواز اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔
”حجام کو بلاؤ۔۔۔ اس کے سر اور بھنووں کے بال منڈواؤ۔”محلے کے ایک سرکردہ بزرگ نے جوشیلے لہجے میں کہا، جو شدت جذبات سے کانپ بھی رہے تھے۔ ساتھ ساتھ ایک آدھ لات بھی لڑکے کو رسید کرتے جاتے۔
حجام آگیا۔ تمام محلے والے جب اس لڑکے کی خدمت سے تھک کر ہٹ چکے تواس نیم مردہ کے بال مونڈھ دیے گئے۔
رات ظلمت کی سیاہ چادر اوڑھے اس گھر میں اتری تھی۔ اس کا گواہ واحد چھوٹا سا بلب تھا۔ جس کی کمزور سی روشنی سے بننے والے مہیب سایوں کی درندگی لڑکے کو کھائے جارہی تھی۔
حجام اب تک بال مونڈھ ہی چکا تھا۔ اس کی غیرت نے جوش مارا تو دو چار ہاتھ اس نے بھی رسید کردیے۔ ایک بار پھر اسے مارنے کا عمل شروع ہوچکا تھا۔ لڑکا بے سدھ پڑا تھا۔
”شاداں کو ہوش آیا؟”عورتوں میں سے پھر کسی نے پوچھا۔
”ابھی تک نہیں آیا۔”
لڑکے کا باپ بے بسی کی تصویر بنا دور ہی سے لختِ جگر کا خونِ جگر دیکھ رہا تھا۔ محلے کے چند بڑے ، اس کے اردگرد کھڑے اظہارِ خیال فرما رہے تھے ۔ ”ماں باپ بچوں کی تربیت ہی ٹھیک سے نہیں کرتے۔”ایک شخص نے نفرت سے اس کے باپ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
”اس کے باپ نے بھی جوانی میں ایسے ہی کام کیے ہوں گے ۔”دوسرے شخص نے مزید غلاظت انڈیلی۔
”ایسے لوگوں کی نسل ہی خراب ہوتی ہے۔ انہی لوگوں کی وجہ سے دن بہ دن معاشرہ خراب ہوتا جا رہا ہے۔”
”ایک ہمارے بچے ہیں۔۔ مجال ہے جو کہیں آنکھ اٹھا کر دیکھ ہی لیں۔”
”ایک یہ بھوکے ننگے جنہیں ہر چیز کی ہوس کھائے جاتی ہے۔ بچے پالے نہیں جاتے اور لائن لگادیتے ہیں۔” عظمت کے ایک مینارنے نخوت سے لڑکے کے باپ کو دیکھا۔
لڑکے کے باپ کا چہرہ غصے اور شرمندگی سے سرخ اور ڈاڑھی آنسوؤں سے تر تھی۔ چہرے پر شدید کرب کے آثار تھے۔
اس کی اٹکی ہوئی سانسوں کے درمیان چند الفاظ نکلے:
”غریب کی بددعا سے بچو۔ تم لوگ عظیم ہونا۔۔ میرے بیٹے کا قصور کا تو بتاؤ۔۔ وہ مرجائے گا اسے مت مارو۔!!””تمہیں اللہ کا واسطہ۔”
اچانک بھیڑ سے آواز بلند ہوئی کہ لڑکے نے دم توڑ دیاہے ۔
”ہوش آگیا ہے۔۔ شادا ںکو ہوش آگیا ہے۔” دوسری آواز اُبھری۔
شادا ںنے ہوش میں آتے ہی خوف زدہ انداز سے پوچھا۔
”وہ لڑکا کہاں گیا جو سانپ کو جھٹکنے کے لیے رضائی جھاڑ رہا تھا؟”
لڑکا چلاگیا تھا وہاں ،جہاں سے اس کی واپسی محلے والوں کی تمام تر شرمندگی کے باوجود ممکن نہ تھی۔ اسے بڑھ بڑھ کر کاندھا دیتے محلے کے تمام لوگ سوگ وارتھے ۔عظمت کے سب مینارے ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے۔ لڑکے کے باپ کا بوڑھا وجود ڈھے چکا تھا۔
”ارے صاحب ہیرا تھا، ہیرا۔۔۔!”ایک صاحب لڑکے کے باپ سے گویا ہوئے: ”خدا ایسی اولاد سب کو دے۔”
اس رات گھر کے مکینوں نے سانپ کو ڈھونڈنے کی تمام تر کوشش کی مگر سانپ تھا جو مل کے نہ دیا۔۔ اور اس دن کے بعد اس علاقے سے سانپ کی بدولت لاشیں اٹھنے لگیں۔ -

داستانِ حیات — علی فاروق
(داستانِ شبِ غم اور قصہ روزِ درد، اُس مظلوم مخلوق کا جسے ”طالبِ علم” کہتے ہیں……)
اپنی پیدائش کے چند لمحات بعد ہی وہ بے چارہ اس بات کا ماتم کر تانظر آتا ہے کہ وہ عاقبت نااندیشوں کے کس جہان میں پھنس گیا۔ بڑوں کی محفل میں ایک جانب اعلانِ شاہی صادر ہوتا ہے: ”ہمارا بیٹا ڈاکٹر بنے گا”دوسری صدا آتی ہے” انجینئر بنے گا” (انسان بنانے کا کبھی کسی کو خیال ہی نہیں آیا) بس اس کی کم بختی شروع ہو جاتی ہے۔
والدین کیا جانیں اس لمحے کی بے چارگی! جب گرم کمبل، حسین نیند اور سہانے خواب، اچانک ایک دھاڑ سے ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں: ”بیٹا! اٹھوسکول نہیں جانا”۔ جتنی گالیاں (اور وہ بھی پنجابی میں) موجدِ تعلیم جدید کو دینے کا اُس وقت دل چاہتا ہے وہ بس وہی جانتا ہے۔ دادی اماں کی کہانی والی پریوں کے ساتھ ابھی بچہ بے چارہ تصوراتی محلات میں گھوم رہا ہوتا ہے، مولوی صاحب کی دھاڑ سن کر ہڑ بڑا کر اُٹھ بیٹھتا ہے۔
10 کلو وزن والے بچے پر 20کلو کتابیں لاد دی جاتی ہیں (آج تک یہ معمہ حل نہیں ہو سکا کہ اگر گدھے پر کتابوں کا انبار لاد دیا جائے تو وہ ”استاد” ہونے کا دعویٰ کیوں نہیں کرتا… حالاں کہ آج کل ہمارے سیاست دان ایسے اداروں سے بھی ڈگریاں لے لیتے ہیں، جن کا قیام سو سال بعد ہوتا ہے، اور پھر فخریہ طور پر ‘ڈال سے ڈاکٹر’ کہلا کر خوش ہوتے ہیں)… ہائے وہ رِقت انگیز مناظر!! ! جب باپ، بچے کو سکول کے گیٹ سے اندر داخل کرتا بلکہ زبردستی دھکیلتا ہے اور وہ بچہ ایسے بے جان قدم اُٹھاتا مڑ مڑ کر ظالم کو دیکھتا ہے جیسے پھانسی گھاٹ کی جانب جا رہا ہو ۔ اس کی امید کا سہارا hopping best ….. for next time ہی ہوتا ہے۔
چھٹی کی گھنٹی سنتے ہی جو دِلی سکون اور ذہنی اطمینان حاصل ہوتا ہے، گھر آتے ہی ماں جی کے اس اعلان سے سمندر کی جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے: ”تمہارے پاپا نے تمہارے لیے نیا ٹیوٹر مقرر کیا ہے۔ آج سے عصر تا عشا تم گھر میں پڑھائی کیا کرو گے۔”
”اگر کبھی ٹی وی پر پسندیدہ کارٹون لگے ہوں تو ریموٹ فوراً سے پیشتر ایسے جھپٹ لیا جاتا ہے، جیسے حکمران عوام سے جینے کا حق چھینتے ہیں اور ساتھ ہی ڈانٹتے ہوئے کہا جاتا ہے: ”چلو اُٹھو!! پڑھو جاکر ، تمہارے امتحان سر پر ہیں”… (پتانہیں یہ امتحان ہی کیوں سر پر ہوتے ہیں؟ کوئی ہیروں سے سجا تاج کیوں نہیں ہوتا…؟؟)
سارے بڑے (والدین، اساتذہ اور گلی محلوں میں ہوا کے ساتھ اُڑنے والے لفافوں کی طرح بکثرت پائے جانے والے دانشور) فریب کا ایسا لولی پوپ بچے کے منہ میں گھسیڑتے کہ وہ آخر وقت سمجھ ہی نہیں پاتا کہ اس کے ساتھ گیم کیا کھیلی گئی۔ ”بیٹا! یہ سکول کے چند سال پڑھ لو، کالج میں تو پھر عیش ہی عیش ہو گا…… محنت کر لو کالج میں ایڈمیشن ہو گیا تو موجیں ہی کرو گے”۔
پھر کالج یونی ورسٹی کے زمانے میں یہ ہدایت ہوتی کہ اب یہ آخری سٹیج ہے تمہاری سٹڈیز کی، اس کو بھی اچھا ہونا چاہیے، پروفیشنل لائف میں تو مزے ہی مزے ہوں گے……” (ہر دور کے اینڈ پہ ان کے ”عیش” کے وعدے کو تازہ دم کرنے کی بات کی جائے تو …… مٹی پائو جی…… رات گئی، بات گئی!!)
ایک طالب علم جس دور کے بارے میں سہانے خواب دیکھتاہے۔ اب وہ شروع ہوتا ہے تعلیمی سفر کے اختتام پر اور ”جن گھر والوں کا ہمیشہ کھاتے رہے” ان کو کھلانے کے لیے ہاتھ پائوں مارنے شروع کرنے سے… اب جناب صاحب کے پاس ڈگری ہے…… اعلیٰ تعلیم …… اور اپنے تمام کوائف اٹھا کر مطلوبہ ملازمت ڈھونڈنے کے لیے اتنی جگہوں کے دھکے کھاتا ہے کہ اسے بعض دفعہ وہ چند کاغذات بھی پہاڑ سے زیادہ وزنی محسوس ہوتے ہیں۔
اس سارے دور میں کھوجتی نگاہیں، ذومعنی اشارے اور مثالی ”حسن سلوک” بعض رشتہ داروں کی جانب سے تحفے میں ملتاہے وہ بھی زبردست ہے……
”بیٹاابھی تک جاب ہی نہیں ملی … وہ اسلم صاحب کا بیٹا بھی تو اسی یونی ورسٹی سے پڑھا ہے، وہ کب سے اتنی اچھی پوسٹ پر بیٹھا ہے……” پھر سرگوشی کرتے ہوئے ”رزلٹ تو ٹھیک آیا اس میں تو کوئی مسئلہ نہیں!” ہاہاہاہا۔
(بس چچا جان ایک بات بھول گئے کہ اسلم صاحب کے چچا ایک بڑی انڈسٹری کے چیئرمین ہیں)
”میں تو شاہ صاحب سے پہلے ہی کہتا تھا کہ کاروبار میں ڈال دو چھوکرے کو، کیا رکھا ہے انگریزی پڑھائیوں میں!!! خوفِ خدا باقیہے نا مخلوق سے شرم …… اپنے ہمسائے کو ہی دیکھ لو، کہاں پہنچ گیا ہے اس کا کاروبار……”ایک ہمسائے کی کا جلتی پر تیل ڈالنے کا کام۔
”ہاتھ کا کاری گر ہوتا تو باہر ہی چلا جاتا… (چاہے وہاں جا کر ٹیکسی چلانا پڑتی) …… آپ نے تو ایسے ہی اتنی رقم ضائع کر دی اس پر…” ایک رشتہ دار کی جلی کٹی۔
پر ان سب سے زیادہ تکلیف دہ موقع وہ ہوتا ہے جب ماں کہتی ہے کہ بیٹا …… فارغ بیٹھے ہو تو ذرا یہ ”مٹر” ہی چھیل دو…… مشین کی سوئی میں ”دھاگا” ڈال دو…… ”جالے” ہی اتار دو …… اور بابا کہتے ہیں بیٹا …… ”کال” نہیں آئی کہیں سے !!!!!خالی کیوں بیٹھے ہو تو کار ہی صاف کر دو۔”
ان حالات کے بعد اقبال کے شاہین کو زندہ رہنے کے لیے اقبال کے ہی تجویز کردہ نسخے پر عمل کرنا پڑے گا ……… بہ قول شاعر مشرق علامہ اقبال:
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر