Tag: fawad khan

  • عکس — قسط نمبر ۳

    ایبک اس شیول مرر کے سامنے کھڑا اپنا ریکٹ گھماتے گھماتے رک گیا تھا۔ یہ آئینے میں ابھرنے والا ایک عکس تھا جس نے اسے روکا تھا اور وہ یہ نہیں جانتا تھاوہ چہرہ ساری عمر ہر بار سامنے آنے پر اسی طرح اسے فریز کر دیا کرے گا۔ اس نے چڑیا کو پہلی بار اسی آئینے میں دیکھا تھا لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ چڑیا پچھلے کئی دنوں سے اسے کئی بار دیکھ چکی تھی… ٹینس کورٹ پر صاحب کے ساتھ ٹینس کھیلتے… لان میں صاحب کی بیٹی اور اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ کھیلتے… Frisbeeپکڑنے میں ناکامی پر اپنے چھوٹے بہن بھائی پر چلاتے اور خفا ہوتے ہوئے… وہ صاحب کے گھرآئے ہوئے مہمان تھے اور صاحب کے گھر ویک اینڈ پر مہمانوں اور ان کے ساتھ ان کے بچوں کا آنا کوئی انوکھی بات نہیں تھی مگر یہ صاحب کے ہاں لمبی چھٹیاں گزارنے کے لیے آئے ہوئے مہمان تھے۔




    صاحب کے گھر کا سناٹا ان تین بہن بھائیوں کی سرگرمیوں سے ٹوٹنے لگا تھا جن میں سے ایک ایبک سب سے بڑا تھا۔ آٹھ سالہ وہ بچہ اپنے قدوقامت سے دس سال کا لگتا تھا… وہ جب بھی گھر سے باہر نظر آتا اس کے ہاتھ میں زیادہ تر ٹینس ریکٹ ہی ہوتا جسے وہ بے مقصد گھماتا ، ٹینس شاٹس کی پریکٹس کرتا رہتا… کبھی کبھار اس کی چھ سالہ بہن اس کے ساتھ ٹینس کھیلتی لیکن وہ کسی اعتبار سے ایبک کا مقابلہ نہیں کر پاتی تھی۔ وہ جسمانی طور پر بہت مضبوط تھا… لڑکا تھا… بہن سے عمر میں دو سال بڑا تھا… اور تکنیک کے اعتبار سے بہت Soundتھا… اور پانچ سال کی عمر سے ٹینس ریکٹ اٹھائے ہوئے تھا۔ ٹینس جیسے ان کا خاندانی کھیل تھا، ان کی ننھیالی اور ددھیالی فیملی میں کوئی ایسا نہیں تھا جو ٹینس نہ کھیلتا ہو… مگر ان میں سے کسی میں بھی ٹینس کے لیے ایبک جیسا پیشن نہیں تھا… وہ سوئمنگ کرتا تھا یا پھر ٹینس کھیلتا تھا اور اس گھر میں آنے کے ایک ہفتے میں ہی چڑیا یہ جان چکی تھی۔
    ایبک کے آنے کے بعد صاحب باقاعدگی سے شام کے وقت اس کے ساتھ لان ٹینس کھیلا کرتے کبھی کبھار ایبک کی ممی، بہن بھائی اور صاحب کی بیوی اور بیٹی بھی وہاں موجود ہوتے لیکن عام طور پر صرف صاحب اور ایبک ہی کھیل رہے ہوتے اور صاحب مسلسل ایبک کو ہدایات دے رہے ہوتے۔ ایبک صاحب سے کبھی جیت نہیں پاتا تھا لیکن کبھی کبھار وہ کوئی اچھا شاٹ مار دیتا اور صاحب اس شاٹ کو Missکر دیتے اور تب کورٹ میں فاتحانہ انداز میں چلانے والا صرف ایبک نہیں ہوتا تھا کسی پودے یا درخت کے پیچھے چھپی ہوئی چڑیا بھی اتنی ہی مسرور ہوتی تھی اور اس کے سات بونے بھی… وہ آٹھوں اس کے اس اتفاقی شاٹ کو بھی اس طرح سلیبریٹ کرتے جیسے وہ ایک پوائنٹ نہیں میچ جیت گیا ہو۔ ایبک چڑیا کو کیوں اچھا لگا تھا؟ اس وقت اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ Aweمیں تھی۔ اس وقت تک وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اس کا ہم عمر تھا… اس کے لیے متاثر ہونے کے لیے یہ کافی تھا کہ وہ ٹینس کھیلتا تھا اور بہت اچھی کھیلتا تھا اور جب وہ فریز لی پھینکتا تھا تو کوئی نوکر بھی اس کو نہیں پکڑ پاتا تھا۔ وہ ان تین بچوں کا سردار تھا جو اس وقت اس گھر میں تھے اور وہ جس طرح ان تینوں بچوں کو کنٹرول کرتا تھا۔ وہ کہیں سے بھی ایک آٹھ سالہ بچہ نہیں لگتا تھا۔
    چڑیا ، صاحب کے ریکٹ کو دیکھ کر ہمیشہ فیسینیٹ ہوتی تھی لیکن وہ کبھی خواہش کے باوجود اس ریکٹ کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکی تھی۔ اس کے ساتھ کھیلنا تو خیر بہت دور کی بات تھی۔ اس وقت تک اسے وہ ٹینس ریکٹ بہت ہلکی پھلکی کوئی چیز لگتا تھا کیونکہ اس نے صاحب کو اسے ایک ہلکی پھلکی چیز ہی کی طرح اٹھائے اور کھیلتے ہوئے دیکھا تھا۔ اسے اندازہ تک نہیں تھا کہ وہ اس ریکٹ کو موقع مل جانے پر اٹھا کر گھما بھی نہیں سکے گی۔
    ایبک اپنا ریکٹ اکثر لان میں چھوڑ کر چلا جاتا تھا اور موقع ہونے کے باوجود چڑیا اس ریکٹ کے قریب جانے کی ہمت بھی نہیں کر پاتی تھی۔ اسے خوف ہوتا تھا کہ ایبک کسی بھی وقت نمودار ہو سکتا تھا اور چند بار واقعی ایسا ہوا تھا کہ وہ ہمت کر کے اس ٹیبل کے پاس جانے کی تیاری کر رہی ہوتی جہاں ایبک اپنا ریکٹ چھوڑ کر گیا تھا اور ایبک کھانے پینے کی کوئی چیز لیے یک دم دوبارہ لان میں آ جاتا۔ وہ ہمیشہ اتنے دبے قدموں میں آتا تھا کہ چڑیا اس سے خائف رہنے لگی تھی اسے لاشعوری طور پر یہ یقین ہو گیا تھا کہ وہ جب بھی اس کے ریکٹ کو پکڑنے کے لیے اس ٹیبل کے پاس جائے گی۔ ایبک وہاں آ جائے گا۔
    وہ اب پہلے کی طرح کیاریوں میں سے ٹینس بالز بھی نہیں نکال پاتی تھی کیونکہ ایبک کھیل ختم ہونے کے بعد تمام بالز خود ڈھونڈ کر ٹینس بالز کے ڈبے میں بالز پوری کر کے ہی لان سے روانہ ہوتا۔ اس نے چڑیا کی زندگی کی ایک سب سے پسندیدہ سرگرمی چھین لی تھی لیکن اس کے باوجود چڑیا کو ایبک اچھا لگتا تھا۔ وہ اکیلے ٹینس شاٹس کی پریکٹس کرتے ہوئے کورٹ پر خود ہی اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا… چڑیا اور اس کے سات بونے اس کی ان خود کلامیوں سے محظوظ ہوتے رہتے۔ چڑیا نے پہلی بار اپنے علاوہ کسی دوسرے کو خود سے گفتگو کا شوقین پایا تھا اور ایبک کے لیے اس کی پسندیدگی میں کچھ اور اضافہ ہو گیا تھا۔ کبھی کبھار اس کی باتیں سنتے ہوئے اس کا دل چاہتا وہ ان کی باتوں کا جواب دے اور وہ دیتی بھی لیکن سرگوشی میں اپنے بونوں کو۔ لیکن ایبک کی وہ ساری باتیں، جھلاہٹیں، خود کلامیاں چڑیا کے لیے جیسے ایک شاندار تفریح تھی۔ وہ اس کی Vocabularyبڑھا رہا تھا… ایبک کے منہ سے سننے والا ہر نیا لفظ وہ خیر دین کے سامنے رکھ دیتی تھی اور ان میں سے زیادہ تر لفظ خیر دین کے لیے بھی نئے تھے۔ چڑیا خیر دین کو یہ نہیں بتاتی تھی کہ اس نے وہ لفظ کہاں سنا تھا لیکن وہ خیر دین کی لاعلمی اور کم علمی کو کسی اعتراض کے بغیر قبول کر لیتی تھی۔




    بعض دفعہ ایبک کو اپنے بہن بھائیوں یا اکیلے کھیلتے ہوئے دیکھ کر چڑیا کا بے تحاشا دل چاہتا تھا کہ وہ خود بھی اس کے ساتھ جا کر کھیلنے لگے۔ ایبک کی اچھالی ہوئی ہوا میں اڑتی ہوئی اس فریز بی کو جسے کوئی پکڑ نہیں پاتا وہ پکڑ لے۔ ایبک کی ٹینس Serve کو وہ دوسرے کورٹ سے اتنی ہی طاقت کے ساتھ Return کرے جس قوت سے وہ پھینکی گئی تھی اور اسے یقین تھا وہ ایسا کر سکتی تھی۔ ایک بچے کی معصومیت اور خوش فہمی اسے یہ بتا ہی نہیں پا رہے تھے کہ کھیل کھیلنے اور اچھا کھیلنے کے لیے صرف خواہش اور موقع نہیں Skillکی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ٹینس کا وہ ریکٹ جسے ایبک بڑی آسانی سے گھماتا اور ہلاتا نظر آتا تھا اس کے پیچھے Will نہیں Skill تھی۔ اس کے تین سالوں کا تجربہ تھا۔ فریز بی کی وہ ڈسک تھی جو ہوا میں تیرتی کسی کے ہاتھ نہیں آتی تھی۔ وہ اس کے ہاتھ سے بھی اسی طرح چھوٹ کر گرتی جس طرح دوسروں کے ہاتھوں سے… لیکن بچے آدھی زندگی اور آدھی خواہشات خوابوں اور فینٹسی میں پوری کرتے ہیں… نہ نپولین کی ڈکشنری میں ناممکن کا لفظ تھا نہ اس کی زندگی میں ہوتا ہے… اور چڑیا کے ساتھ تو سات دوست بونے بھی تھے۔
    ”نانا جب میں بڑی ہو جاؤں گی تو میں ٹینس کی پلیئر بنوں گی۔” ایبک کے آنے کے چند دنوں کے بعد ایک دن چڑیا نے خیر دین سے ریکٹ کی فرمائش کرتے ہوئے اسے اپنے کیئریئر میں تبدیلی کا عندیہ دیا۔
    ”نہیں بیٹا، لڑکیاں ٹینس نہیں کھیلتیں۔” خیر دین نے فوراً اسے ٹوکا۔
    ”ٹی وی پر تو کھیلتی ہیں… وہ جو ومبلڈن ہوتا ہے۔” چڑیا نے پی ٹی وی پر دیکھے جانے والے کسی میچ اور ٹورنامنٹ کی اسے یاد دلائی۔
    ”ہاں پر وہ تو انگریزوں کے ملک میں ہوتا ہے اور انگریز عورتیں کھیلتی ہیں۔” خیر دین جواب دیتے ہوئے صاحب کی بیوی اور اب ایبک کی ممی کو بھول گیا تھا چڑیا نہیں، اس نے خیر دین کو یاد دلانے میں دیر نہیں کی۔
    ”بیٹا وہ صاحب لوگ ہیں، وہ کھیل سکتے ہیں ہم نہیں کھیل سکتے۔” خیر دین نے بے اختیار گہری سانس لیتے ہوئے اس سے کہا۔ چڑیا کو اب بار بار صاحب اور اپنی کلاس کا فرق سمجھانا اور بتانا خیر دین کو بڑا مشکل لگتا تھا۔ خاص طور پر اس لیے کیونکہ ساری عمر وہ چڑیا کے سامنے ایک ”بڑا آدمی” بنا رہا تھا اور اب اس بڑے آدمی کو اس بچی کے سامنے یہ خول اتارنا پڑ رہا تھا اور یہ آسان نہیں تھا مگر اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ وہ اسے اپنی استطاعت سے بڑھ کر کھلا پلا رہا تھا۔ اسے انگلش میڈیم اسکول بھی بھیج رہا تھا۔ اس انگلش میڈیم اسکول میں جہاں اس جیسا آدمی اپنی اولاد کو بھیجنے کے صرف خواب دیکھ سکتا تھا لیکن اس کے باوجود وہ چڑیا کے پاؤں زمین پر بھی رکھنا چاہتا تھا۔ اس کو پرواز سے روکنا چاہتا تھا۔
    ”بہت سارے کام صاحب لوگ کر سکتے ہیں لیکن ہم نہیں…” چڑیا کو اس فلاسفی کی سمجھ آئی تھی یا نہیں لیکن یہ ایک جملہ اس نے کسی طوطے کی طرح اپنے سسٹم میں بغیر بحث کے فیڈ کیا تھا۔




  • عکس — قسط نمبر ۲

    وہ اس اسٹینڈنگ مرر کے سامنے کھڑی چند لمحوں کے لیے جیسے فریز ہو گئی تھی۔ خیر دین ہمیشہ اسے نصیحت کیا کرتا تھا۔
    ”بیٹا۔ شام کے بعد کبھی گھر میں لگے آئینوں کے سامنے مت جانا اور خاص طور پر برآمدے میں پڑے اس بڑے آئینے کے سامنے۔” چڑیا، خیر دین کی نصیحت پر کچھ حیران ہو گئی تھی۔
    ”پر کیوں نانا؟”
    ”کہتے ہیں شام کے بعد وہ آئینے دیکھنے آتے ہیں۔” خیر دین نے کچھ اٹک کر اسے بتایا۔ چڑیا نے وہ کا حدوداربہ نہیں پوچھا تھا۔ وہ جانتی تھی، وہ کون تھے؟ اس کا چہرہ خوشی اور جوش سے سرخ پڑ گیا تھا۔ خیر دین کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ اپنی احتیاطوں میں اس نے چڑیا کو جیسے خزانے کی کنجی دے دی تھی۔ تو بالآخر اب سارے گھر میں ماری، ماری پھرنے کے بجائے اسے صرف شام کے بعد گھر میں لگے ہوئے آئینوں کے آس پاس رہنا تھا۔ چڑیا نے دل ہی دل میں اپنی نئی حکمت عملی طے کی۔
    نانا آپ نے کبھی ان آئینوں میں ان کو دیکھا؟” چڑیا نے جیسے بڑی احتیاط کے عالم میں سرگوشی کی۔ خیر دین نے اسے سمجھا دیا تھا کہ بار بار ان کا نام نہیں لینا چاہیے ورنہ وہ ناراض ہو سکتے ہیں تو چڑیا اب اکیلے میں بھی ان کو بونا نہیں کہتی تھی البتہ ان بونوں کے نام لینے میں اسے تامل نہیں ہوتا تھا۔




    ”نہیں، میں نے تو نہیں دیکھا لیکن گھر میں رہنے والے دوسرے نوکروں نے دیکھا ہے… خاص طور پر وہ باہر والے بڑے آئینے میں۔” خیر دین روانی میں بتاتا گیا۔ چڑیا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اسی وقت چڑیا کی طرح اڑتے ہوئے ان آئینوں کے اردگرد منڈلانے لگے۔
    اگلے دن ڈی سی ہاؤس میں آتے ہی چڑیا نے سب سے پہلے گھر کے آئینے گننے شروع کر دئیے تھے۔ بیرونی آئینے کے علاوہ گھر کے مرکزی ہال، اندرونی برآمدے اور چند دوسرے کمروں میں ملا کر پانچ چھوٹے بڑے آئینے تھے۔ کچھ کمرے جو بند تھے وہ وہاں کے آئینے نہیں گن سکتی تھی اور ان میں سے صرف ایک آئینہ تھا جو چڑیا شام کے بعد آسانی سے دیکھ سکتی تھی اور وہ مرکزی دروازے کے باہر برآمدے میں لگا… شیول اسٹینڈنگ مرر تھا۔ اس آئینے نے سات آٹھ سال کی اس بچی کو پہلے کبھی اس طرح فیسینیٹ نہیں کیا تھا جس طرح اب کرنے لگا تھا۔ وہ دن میں بھی کئی بار اب اس آئینے کے پاس جانے لگی تھی۔ کئی بار آئینے کے سامنے کھڑی وہ اس کے اکھڑے ہوئے پینٹ بیکنگ میں کنٹا، منٹا، شنٹو، ڈیڈو، ٹوفو، ٹوکو، کیٹو کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتی رہتی… بعض دفعہ گلیکسی کے ستاروں کی شکل کی طرح وہ بھی اس پینٹ میں ان سات بونوں کو کسی نہ کسی حد تک ڈھونڈ ہی لیتی… اور بعض دفعہ وہ اسے حرکت کرتے بھی نظر آتے صرف اسٹیٹک نہیں… لیکن پھر بھی اس کا لاشعور کہیں نہ کہیں اس سے کہہ رہا تھا کہ جو وہ آئینے میں پہچان رہی ہے وہ غیر مرئی نہیں ہے… وہ ویسا پراسرار اور مافوق الفطرت نہیں تھا جتنا گھر میں خودبخود حرکت کرنے والی چیزیں جو اب اس کے لیے para normal چیز نہیں رہی تھی۔ وہ ان حرکت کرنے والی چیزوں کے تعاقب میں جاتی تھی، تجسس اور اشتیاق کے عالم میں… خیر دین کی طرح آیات نہیں پھونکتی تھی… بلکہ کئی دفعہ اس حرکت کرنے والی چیز کو بعد میں بھی الٹ پلٹ کر دیکھتی رہتی یوں جیسے وہ اس نظر نہ آنے والے بونے کی کوئی نشانی اس چیز پر دیکھنا چاہتی تھی جو اسے حرکت دیتا رہا تھا۔ اسے کبھی کچھ نظر نہیں آیا تھا… کیونکہ وہ یہ طے نہیں کر پائی تھی کہ آخر وہ ان گلاسوں، پلیٹوں اور دوسری چیزوں پر دیکھنا چاہتی تھی… کوئی بڑا شاید ان چیزوں پر فنگر پرنٹس تلاش کرتا کوئی دوسرا نشان یا پھر کوئی بالوں کا ٹکڑا… چڑیا ان بونوں کے کپڑوں، جوتوں اور پہنی ہوئی دوسری چیزوں کا کوئی حصہ دیکھنا چاہتی تھی… ان کی رنگین پُھندنے والی ٹوپی کے کوئی دھاگے، ان کے رنگین رومال ، کوئی سونے یا چاندی کا سکہ… کوئی بٹن… یا کوئی ایسی چیز جسے وہ اپنے پاس فخریہ طور پر رکھ سکے اور پھر سب کو دکھا سکے۔
    لیکن دن گزرتے گئے اور اسے وہاں کوئی بونا نظر نہیں آیا اور جب وہ انتظار اور امید ختم کر بیٹھی تب یک دم اس شام اسے باہر برآمدے میں لگے آئینے میں پہلی بار کچھ نظر آیا تھا۔ وہ اس شام خیر دین اور گھر کے دوسرے ملازمین کے ساتھ نئے ڈپٹی کمشنر کے انتظار میں گھر کے باہر کھڑی تھی۔ نیا ڈپٹی کمشنر اس گھر میں منتقل ہونے سے پہلے اس گھر کا جائزہ لینے کے لیے اس شام وہاں آنے والا تھا اور خیر دین اس کے اصرار پر اسے بھی وہاں ساتھ لے آیا تھا۔ وہ خود دوسرے ملازمین کے ساتھ گپ شپ لگانے لگا اور چڑیا ہمیشہ کی طرح سامنے والے لان میں بیٹھی ہوئی بلیوں کے ساتھ کھیلنے لگی۔ ان بلیوں کے ساتھ دوڑتے بھاگتے وہ پسینے سے شرابور ہو گئی تھی اور کسی بلی کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ہی وہ لان سے ڈرائیو وے اور وہاں سے برآمدے میں آئی تھی اور برآمدے میں آتے ہی بلی کو بھول کر وہ اس آئینے کی طرف آئی تھی۔ شام ہو رہی تھی، پھولی ہوئی سانس اور پسینے سے شرابور وہ آ کر آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ وہ اس وقت آئینے میں اپنے بال اور چہرہ صاف کرنا چاہتی تھی لیکن اس نے آئنے میں کچھ دیکھا تھا۔ ایک نظر میں وہ اسے اپنا وہم لگا تھا لیکن وہاں آئینے میں کچھ تھا… کوئی کھڑا تھا… وہاں کسی کا عکس تھا… بہت چھوٹے سے قد کا کوئی…
    اس سے پہلے کہ وہ غور کر پاتی خیر دین نے اسے آواز دی تھی۔ ڈپٹی کمشنر کی گاڑی گھر کے اندر داخل ہو رہی تھی۔ تمام ملازمین مستعد ہو گئے تھے۔ چڑیا نے خیر دین کی آواز پر لاشعوری طور پر ایک لمحے کے لیے پلٹ کر دیکھا پھر وہ دوبارہ گردن موڑ کر اس آئینے کو دیکھا… وہاں اب وہ نہیں تھا… جو اسے نظر آیا تھا… سیاہ رنگت والا ایک بے حد چھوٹے قد اور بڑی بڑی موٹی آنکھوں اور سرخ موٹے ہونٹوں والا ایک آدمی… جو اسے دیکھ رہا تھا… نظریں جمائے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے… وہ بے حد بدصورت تھا… اور ایک لمحے کے لیے چڑیا کا جسم پتے کی طرح کانپا تھا۔ اس نے زندگی میں اس جسامت کا کوئی انسان پہلی بار دیکھا تھا… لیکن اس کا تجسس غائب نہیں ہوا تھا… خوف اور تجسس… لیکن اس کے نظر ہٹاتے ہی وہ آئینے سے غائب ہو گیا تھا… اور اب جب وہ دوبارہ آئینے کو دیکھ رہی تھی تو وہ وہاں نہیں تھا… آئینے پر برآمدے میں جلنے والی روشنیوں کا عکس پڑ رہا تھا۔ چڑیا چند قدم اور آگے بڑھ آئی یوں جیسے وہ آئینہ کوئی دیوار تھا جس کے پار و ہ دیکھنا چاہتی تھی… وہاں اس آئینے میں اب اس کا اپنا عکس تھا… اپنے چہرے اور آنکھوں کی حیرانی کے ساتھ… اس کے ذہن نے اس آدمی کو بونا نہیں سمجھا تھا… بونے ایسے نہیں ہو سکتے تھے… وہ کیوٹ، شرارتی ، رنگین کپڑوں اور معصوم چہروں والی مخلوق تھی چڑیا کے ذہن میں… اور آئینے میں نظر آنے والے آدمی کا سیاہ جسم کسی ریچھ کے جسم کی طرح بالوں سے ڈھکا ہوا تھا صرف اس کا چہرہ تھا جو نسبتاً صاف تھا۔
    ایک لمحے کے لیے اس نے آنکھیں بند کیں پھر آہستہ آہستہ آنکھیں کھولتے ہوئے اس نے دوبارہ آئینے کو دیکھا اور اس بار اس کی آنکھیں ایک بار پھر حیرانی کے عالم میں کھلی تھیں۔
    آئینے میں اب ایک بے حد خوبرو، دراز قد آدمی کا عکس تھا جو برآمدے میں داخل ہو رہا تھا۔ چڑیا نے حیرانی سے آئینے کو دیکھا۔ وہ ٹھگنا، بدصورت آدمی اتنا خوبصورت اور لمبا کیسے ہو گیا تھا…؟ وہ ایک لمحے کے لیے حیران ہوئی… پھر اس نے اس آدمی کے پیچھے خیر دین اور دوسرے لوگوں کا عکس دیکھا اور وہ جیسے کرنٹ کھا کر حال میں واپس آئی تھی۔ وہ نیا ڈپٹی کمشنر تھا۔
    ”سر یہ میری نواسی ہے۔” چڑیا نے پلٹ کر دیکھا۔ نیا ڈپٹی کمشنر اور باقی تمام لوگ اب اس کے سامنے تھے اور خیر دین بڑے عاجزانہ انداز میں ڈپٹی کمشنر سے اس کا تعارف کروا رہا تھا جو پہلے ہی اسے دیکھ رہا تھا۔ چڑیا نے خیر دین کے تعارف پر سلام کرتے ہوئے پُراعتماد انداز میں آپنا ہاتھ اس ڈپٹی کمشنر کی طرف بڑھایا تھا جس نے کچھ دلچسپی سے اسے دیکھا۔ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس سے ہاتھ ملایا پھر خیر دین سے کہا۔
    ”ہاں۔ عابد نے بتایا تھا مجھے۔” وہ کہتے ہوئے اندرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ چڑیا نے ایک لمحے کے لیے ان تمام لوگوں کو اندر جاتے ہوئے دیکھا پھر وہ دوبارہ پلٹ کر اس آئینے کو دیکھنے لگی جس میں اس نے آج ایک بونا دیکھا تھا لیکن وہ اسے پہچان نہیں پائی تھی۔
    …٭٭…




  • باغی — قسط نمبر ۳ — شاذیہ خان

    فوزیہ ہاتھ میں گوہر کی ایڈورٹائزنگ ایجنسی کا پتا لیے بس سے نیچے اتری اور ایک راہ گیر کو پرچی دکھاتے ہوئے ایڈریس دریافت کیا۔ راہ گیر نے اسے ناصرف پتا سمجھایا بلکہ اسے یہ بھی بتا دیا کہ اس طرف کون سی بس جائے گی۔فوزیہ نے بس کے بجائے رکشہ پہ جانا زیادہ مناسب سمجھا۔تھوڑی ہی دیر بعد رکشے والے نے بآسانی اسے گوہر کی ایڈورٹائزنگ ایجنسی تک پہنچا دیا۔ فوزیہ کرایہ ادا کرکے رکشے سے اتری اوربلڈنگ کے اندر چلی گئی جہاں ایک چوکیدار نے اس سے پوچھا کہ میڈم آپ نے کہاں جانا ہے؟جب فوزیہ نے اسے میڈیا ٹیک ایڈ ایجنسی کا بتایا تو اس نے فوزیہ کو بتایا کہ یہ دفتر پانچویں فلور پر ہے۔فوزیہ نے اس کی بات سن کر سر ہلایا اور لفٹ کی طرف بڑھ گئی۔
    پانچویں فلور پر لفٹ سے باہر نکل کر وہ ایک دفتر کے سامنے پہنچی جہاں میڈیا ٹیک ایڈورٹائزنگ کمپنی کا نام لکھا ہوا تھا۔ فوزیہ نے رُک کر پرچی پر لکھا نام دوبارہ پڑھا۔ اسی وقت بند دروازہ کھلااور ایک آدمی باہر نکلاتو وہ اندرگھس گئی۔ سامنے ریسپشنسٹ کسی سے فون پر بات کررہی تھی۔ اُس نے فوزیہ کو دیکھ کر فون رکھا اور مسکرا کر پوچھا۔
    ” جی میم!کیا میں آپ کی کوئی مدد کر سکتی ہوں؟” فوزیہ نے پرچی اس کے ہاتھ میں تھما دی۔ ریسپشنسٹ نے پرچی پر نظر ڈ الی اور پوچھا۔
    ” آپ کو گوہر صاحب سے ملنا ہے؟”
    ”جی ہاں۔”فوزیہ نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
    ریسپشنسٹ نے فون ملایااور فوزیہ سے اس کا نام پوچھا۔
    ” فوزیہ بتول،انہوں نے مجھے آج کا ٹائم دیا تھا۔”فوزیہ نے قدرے رک رک کر جواب دیا۔





    ” سر آپ سے کوئی مس فوزیہ بتول ملنے آئی ہیں۔ ”ریسپشنسٹ نے کہا اور پھر اوکے سر کہہ کر فون بند کر دیا۔
    فون رکھنے کے بعد اس نے فوزیہ سے کمرے میں جانے کا کہا، فوزیہ ”شکریہ” کہہ کر کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
    فوزیہ کمرے میں داخل ہوئی تو سامنے ایک پینتیس سالہ درمیانی عمر کا عیار سا شخص لیپ ٹاپ پربیٹھا تھا جو اسے اندر داخل ہوتے دیکھ کر کرسی سے کھڑا ہوگیا۔ فوزیہ خاموشی سے آگے بڑھی، ہاتھ میں پکڑا پرس میز پر رکھا اورگوہر کو سلام جھاڑ دیا۔
    ”السلام علیکم جی میں فوزیہ بتول۔”
    ”جی جی ! ویلکم۔” گوہرنے خوش اخلاقی سے کہااور ایک کرسی کی طرف بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ”میں آپ ہی کا انتظار کررہا تھا،آیئے بیٹھیے۔”
    ”کیا آپ گوہر صاحب ہیں اور آپ ہی نے مجھے فون کیا تھا؟”فوزیہ کے لہجے میں شبہ تھا۔
    ”جی جی میں نے ہی آپ کو فون کیا تھا۔ باقی باتیں بعد میں،پہلے یہ بتائیں کیا لیں گی چائے، کافی یا…؟” گوہر نے مسکرا کر انٹرکام کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”جی رہنے دیں۔” فوزیہ نے تھوڑا جھجکتے ہوئے جواب دیا۔
    ”ارے نہیں،ایسے اچھا نہیں لگتا۔”گوہر نے اس کی جھجک محسوس کی اور کہاپھراصرار کرتے ہوئے انٹرکام کان سے لگا لیا۔”آپ پہلی بار آئی ہیں ایسے کیسے جانے دیں،آپ کو کچھ نہ کچھ تو لینا پڑے گا۔”
    ” جی پھر کافی منگوا لیں۔” فوزیہ نے کچھ سوچ کر جواب دیا۔
    ”بلیک یا وِد ملک؟”گوہر نے پوچھا۔
    ”جی؟” فوزیہ اس کی بات پر تھوڑا بوکھلا گئی اس نے تو کبھی کافی نہیں پی تھی اب بلیک یا ملک والی کا کیا جواب دیتی۔
    ” میرا مطلب ہے بلیک کافی پیتی ہیں یا ملک والی۔”گوہر نے سمجھاتے ہوئے پوچھا۔
    ” جیسی آپ پئیں۔” فوزیہ کے لہجے میں اب بھی ہچکچاہٹ تھی۔
    ”میں تو بلیک کافی پسند کرتا ہوں۔”گوہرنے ہنستے ہوئے کہا۔
    ” میں بھی وہی پی لوں گی۔” فوزیہ نے فوراً کہا۔
    ” کافی تابع دار قسم کی خاتون ہیں آپ۔” گوہر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھل رہی تھی۔
    انٹرکام پر کافی کا آرڈر دینے کے بعد گوہر نے دوبارہ بات شروع کی۔
    ” ویسے اچھا ہوا آپ آگئیں ورنہ آج ہی یہ ایڈ کسی اور کے نصیب میں چلا جاتا۔ کافی دن تو آپ نے رابطہ ہی نہ کیا۔ ”
    ” جی میرے گھر کے کچھ مسائل تھے۔” فوزیہ نے سر جھکاتے ہوئے ہوئے جواب دیا۔
    ” مسائل؟کیسے مسائل؟”گوہر نے پوچھا۔
    ” جی میرے میاں اجازت نہیں دے رہے تھے۔”فوزیہ نے تھوڑا جھجکتے ہوئے بتایا۔
    ” آپ شادی شدہ ہیں؟”گوہر نے آنکھیں پھاڑتے ہوئے حیرانی سے پوچھا۔





    ”جی میرا ایک بیٹا بھی ہے۔”وہ شرمندگی سے بولی۔
    ”لیکن جب آپ نے اپنی تصاویر کے ساتھ انفارمیشن لکھی تھی اس میں تو سنگل شو کیا تھا۔”
    ”جی اس وقت تک میری شادی نہیں ہوئی تھی۔”فوزیہ نے گڑبڑا کرجواب دیا۔
    ” دیکھیں مس فوزیہ بتول!یہ فیلڈ ینگ لڑکیوں کے لیے ہے۔یہاں نوجوان اور غیرشادی شدہ لڑکیاں ہی کام یاب ہیں، آپ کیسے چلیں گی یہاں؟” گوہر کرسی کی پشت سے کمر لگاتے ہوئے بولا۔
    ”وہی تو آپ کو بتانا چاہ رہی ہوں کہ میری میاں سے علیحدگی ہوچکی ہے۔ وہ اجازت نہیں دے رہے تھے اور مجھے ہر حال میں اس فیلڈ میں آنا تھا۔” فوزیہ نے فوراً بات بنائی۔
    ” اوہ اچھا اچھا! ایسے میں کہنا تو نہیں چاہیے مگر اگر آپ واقعی اس فیلڈ میں نام کمانا چاہتی ہیں تو یہ آپ کے حق میں بہت اچھا ہوا۔” گوہر نے قدرے سکون کا سانس لیا۔
    اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی اورچپڑاسی کافی لے کر آگیا اور دونوں کے آگے کافی کپ رکھ دیے۔ گوہر نے ہاتھ کے اشارے سے اصرار کرتے ہوئے اسے کپ اُٹھانے کا کہا۔
    ”فوزیہ! کافی لیجیے ،ہمارے آفس کی کافی بہت پسند کی جاتی ہے ۔”
    فوزیہ نے کپ اٹھایا اور پہلے ہی سپ پر اس نے منہ بنا کر کافی چھوڑ دی۔ گوہر نے فوراً پوچھا۔
    ”کیا ہوا؟”
    ناسمجھی کے انداز میں فوزیہ نے منہ بنایااور بولی۔”اتنی کڑوی۔”
    ”لیکن کافی تو کڑوی ہی ہوتی ہے۔” گوہر نے حیرانی سے جواب دیا۔
    ” ہاں لیکن یہ تو بہت ہی کڑوی ہے۔”فوزیہ نے بھی جیسے بات بنائی۔
    ” چلیں یہ آپ رہنے دیں ،میں چائے منگواتا ہوں آپ کے لیے۔” گوہر نے اس کے آگے سے کپ اٹھاتے ہوئے کہا۔
    ” نہیں نہیں رہنے دیں، مجھے ابھی کچھ نہیں پینا۔ آپ پلیز مجھے بتائیں کہ کرنا کیا ہے؟کس اشتہار کے لیے آپ نے مجھے بلایاہے؟” فوزیہ نے ہاتھ کے اشارے سے روکتے ہوئے کہا۔
    ” جی وہ بھی بات ہو جائے گی، پہلے تو مجھے لگ رہا ہے کہ آپ کا پورٹ فولیو دوبارہ بنوانا پڑے گا اور آپ کو تھوڑا مین ٹین بھی کرنا پڑے گا۔ اپنے اوپر توجہ دیں۔ اس ایک سال میں آپ کا وزن کافی بڑھ گیا ہے۔”گوہر نے اس کے خدوخال پرنظریں جماتے ہوئے جواب دیا۔
    ”جی وہ بس بچے کے بعد …لیکن میں جلد کم کرلوں گی،آپ فکر نہ کریں۔” فوزیہ کے لہجے میں شرمندگی چھپی ہوئی تھی۔
    ” خیر ہم آپ کو ساری سہولیات دیں گے، پہلے تو یہ بتائیں آپ ٹھہری کہاں ہیں؟ ”گوہر نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
    ”وہ بس میں ابھی…”فوزیہ سے کوئی جواب نہ بن پایا۔
    ” اچھا خیر اس کا انتظام بھی ہو جاتا ہے۔ ہمارا ایک گیسٹ ہاؤس ہے،میں ڈرائیور سے کہتا ہوں کہ آپ کو وہاں چھوڑ آئے،اب آپ ہماری ذمہ داری ہیں۔ بہت جلد آپ ہمارے ادارے سے ایک روشن ستارے کی طرح چمکیں گی مس فوزیہ۔”گوہر نے اسے تسلی دی۔
    ” جی بہت شکریہ آپ میراخواب پورا کررہے ہیں۔ ” فوزیہ تشکر آمیز لہجے میں بولی۔
    ”مس فوزیہ بس آپ ہمارے خواب پورے کریں ہم آپ کے پورے کریں گے۔ زندگی دراصل کچھ لو،کچھ دو ہی کا نام ہے۔”
    فوزیہ گوہر کی یہ بات سمجھ تو نہ سکی لیکن محض جی کہہ کر مسکرا دی۔
    ٭…٭…٭





    گوہر سے رخصت ہونے کے بعد ڈرائیور اسے گیسٹ ہاؤس لے آیا۔ وہ کمرے میں داخل ہوئی جہاں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔اس نے کمرے کی ایک ایک چیز کا غور سے جائزہ لیا۔ LCDکے پاس جاکر اس پر ہاتھ پھیرا اوراس کے بٹن دبانے کی کوشش کی لیکن کام یاب نہیں ہوئی تو ساتھ آئے ملازم سے پوچھا۔
    ”یہ چلتا کیوں نہیں، کیا خراب ہے؟ ”
    ”جی نہیں میم یہ ریموٹ سے چلے گا۔”ملازم نے طنز آمیز مسکراہٹ سے جواب دیا اورپاس پڑا ریموٹ اٹھا کر اُسے تھمادیا۔
    ” ہاں ہاں مجھے پتا ہے۔” فوزیہ نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا اورریموٹ پر لگے بٹن دبائے لیکن اسکرین روشن نہ ہوئی تو اس نے دوبارہ ملازم کی طرف دیکھا تو ملازم نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے ریموٹ تھام لیا اور ٹی وی چلادیا۔
    ”میم اس بٹن کو دبانے سے آپ چینل چینج کرسکتی ہیں۔” ملازم ایک بٹن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا،ساتھ ہی وہ بڑی عجیب سی نظروں سے فوزیہ کو دیکھ رہا تھا۔
    ”ہاں ہاں مجھے پتا ہے۔” فوزیہ نے منہ بناتے ہوئے کہا اورپھر غور سے اپنی جانب دیکھتے ہوئے ملازم کو ڈانٹا۔”کیا گھور کر دیکھ رہے ہو؟کبھی کوئی لڑکی دیکھی نہیں؟ ”
    ”کچھ نہیں جی معاف کردیں،کسی اور چیز کی ضرورت ہے تو بتا دیں۔” ملازم یوں پکڑے جانے پر گھبرا گیا اور ہکلا کر جواب دیا۔
    ” نہیں، اب تم جاؤ۔”فوزیہ نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا۔
    ملازم ڈانٹ کھانے کے بعدسر جھکائے باہر نکل گیا۔ فوزیہ نے چپل ایک طرف اتاری اور صوفے پر پھیل کر بیٹھ گئی۔ ریموٹ ہاتھ میں لے لیا اور چینل بدل بدل کر دیکھنے لگی۔ ایک چینل پر ایک بچے کی فلم آرہی تھی۔اس کا چینل بدلتا ہاتھ اپنی جگہ ٹھہر سا گیا۔ وہ دل جمعی سے دیکھنے لگی۔ اس کے بیٹے کی عمر کا ایک ہنستا ہوا بچہ تھا جسے دیکھ کر اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں اور اسے اپنا بیٹایاد آنے لگا۔نہ جانے اس وقت منا کس کے پاس ہوگا،اسے کون سنبھال رہا ہوگا۔
    ٭…٭…٭
    ماجدشدید رو رہا تھا اور عابد اسے سنبھالتے سنبھالتے خود پریشان ہوگیا تھا،لیکن وہ کسی صورت چپ ہی نہیں ہو رہاتھا۔ اتنے میں اس کی ماں فیڈر بنا کر لائی تو عابد نے بچہ ماں کی گود میں ڈال دیا۔
    دادی نے منہ بناتے ہوئے بچے کے منہ میں فیڈر ٹھونسی اور بولی۔
    ”تو نے کیوں روک لیا اِسے، لے جارہی تھی تو لے جانے دیتا۔”
    ”اماں یہ میرا بیٹا ہے، میرے پاس ہی رہے گا۔”عابد غصے سے بولا۔
    ”تو سنبھالے گا کون اسے؟ میری بوڑھی ہڈیوں میں اتنا دم نہیں۔ تو نے بھی بس کچھ سوچے سمجھے بغیر تین بول سنا دیے۔” ماں نے بھی غصے سے جواب دیا۔
    ” تو نے دیکھا نہیں کتنی بدتمیزی کررہی تھی،اور تو فکر نہ کر آ جائے گی۔”عابد نے ماں کو تسلی دی۔
    ” عابد پتا تو کر ابھی تک اس کے گھر سے کسی نے رابطہ ہی نہیں کیا۔”عابد کی ماں کے لہجے میں تجسس تھا۔
    ” کرلیں گے رابطہ بھی، جلدی کیا ہے۔ ابھی تو ایک دن ہی ہوا ہے۔ پلٹ کر واپس گھر ہی آئے گی، اس نے جانا کہاں ہے؟اس کے گھر والے بھی اُسے نہیں رکھیں گے۔”عابد نے اپنی ماں کو قائل کرتے ہوئے کہا۔
    ”لیکن دیکھ اب ذرا لگامیں کھینچ کر رکھنا ۔تواُسے بہت ڈھیل دے دیتا ہے جب ہی تیرے سر پر ناچتی ہے۔”ماں نے اسے نصیحت کی۔
    ”تو فکر ہی نہ کر ،ایسی چٹیا پکڑ کر رکھوں گا کہ یاد رکھے گی۔ زیادہ ہی دماغ خراب ہوگیا ہے اُس کا۔”عابد نے ماں کی بات سن کر غصے سے جواب دیا۔
    ” چل تو آج راجدہ کو بتا جا کر ،اُسے کہہ کہ اماں نے بلایا ہے۔اس سے مشورہ کرتی ہوں کہ جب تک وہ واپس نہیں آتی اس کا کیا کریں۔ میری بوڑھی ہڈیوں میں اتنادم نہیں۔آکر راجدہ ہی اسے سنبھال لے۔” ماں نے پریشانی سے کہا۔
    ”ٹھیک ہے اماں میں جاکر راجدہ سے بات کرتاہوں تب تک تو سنبھال اسے۔”یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ کی نند اور اس کی ساس بیٹھی آپس میں باتیں کررہی تھیں۔راجدہ کی گود میں عابد کا بیٹا تھا اور وہ اُسے پیار سے گلے لگائے ہوئے تھی۔ فوزیہ کی نند بچے کو پیار کرتے ہوئے بولی۔
    ” فوزیہ کتنی سنگ دل ہے ،اتنا پیارا بیٹا چھوڑ کر چلی گئی۔ ویسے اماں جھگڑا ہوا کس بات پر تھا؟”
    ” ویسے تو کم بخت کا جھگڑا روز ہی کسی نہ کسی بات پر ہوتا تھا، لیکن کل تو ضد کررہی تھی کہ مجھے اشتہاروں میں کام کرنا ہے، لیکن تیرے بھائی نے انکار کردیا۔” فوزیہ کی ساس نے نفرت سے جواب دیا۔
    فوزیہ کی نند یہ بات سن کر گال پیٹنے لگی۔
    ”توبہ توبہ !ویسے کتنی آوارہ ہے، شریفوں والی زندگی چھوڑ کر گندی عورتوں والے کام کرنا چاہتی ہے۔”
    ”بس بدنصیب ہوتی ہیں کچھ عورتیں۔ وہ توبہت ہی آوارہ تھی۔ نہ جانے تیرے بھائی کو کیا پسند آیا اس میں۔زبان دیکھو گز بھر کی،ذرا ذرا سی بات پر لڑنے کو تیار۔ بھئی اب اگر منہ چلائے گی تو پٹے گی بھی۔” فوزیہ کی ساس سر پر ہاتھ مارتے ہوئے تاسف سے بولیں۔
    ” او چھوڑ اماں، گھر بسانے والی عورتیں ایسی نہیں ہوتیں۔ اس نے گھر بسانا ہی نہیں۔” فوزیہ کی نند نے نفرت سے فوزیہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔
    ” لیکن اپنابچہ تو کوئی نہیں چھوڑتااس طرح ؟اس بچے کی خاطر وہ واپس آئے گی۔پہلے بھی آگئی تھی،لیکن اب تو بہت دھڑلے سے گئی ہے۔”فوزیہ کی ساس نے فکر سے سر ہلایا۔
    ”تو نے کہا بھائی سے کہ پتا لے کر آئے؟”فوزیہ کی نند تشویش سے بولی۔
    ” ہاں آج جائے گاوہ پتا کرنے، دیکھ کیا کہتے ہیں وہ لوگ۔” فوزیہ کی ساس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”کہنا کیا ہے اماں،پہلے کی طرح بھیج دیں گے بیٹی کو، انہوں نے کون سا بٹھانا ہے اسے۔” فوزیہ کی نند نے بے پروائی سے کہا۔
    ان دونوں کی باتوں کے دوران ماجدنے پھر رونا شروع کردیاجسے راجدہ تھپک تھپک کر سلانے کی کوشش کررہی تھی لیکن وہ کسی صورت قابو نہیں آرہا تھا۔
    ”کتنی بدنصیب ماں ہے، اللہ نے اتنا خوب صورت بیٹا دیا، گھر دیا اور وہ آوارہ پھر رہی ہے۔ اس لڑکی کے چلن تو پہلے ہی ٹھیک نہ تھے، شادی کے بعد تو اور بھی پر نکل آئے۔”فوزیہ کی نند کے لہجے میں فوزیہ کے لیے نفرت ہی نفرت تھی۔
    ”چل تو اس کو دیکھ میں کچھ اور کام کرلوں۔”فوزیہ کی ساس جیسے اس بات سے اکتا گئی تھی، وہ اُٹھی اور دوسرے کمرے کی طرف چلی گئی۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ کی ماں بہت ہی بھیانک اور عجیب سا خواب دیکھ کر گھبرا کر اُٹھ بیٹھی اور امام بخش کو جھنجھوڑا۔ وہ بھی آنکھیں ملتا ہوا اُٹھ بیٹھا۔
    ”خیر ہے بھاگ بھری تو کیوں اُٹھ کر بیٹھ گئی؟”
    ”فوزیہ کے ابا!میں نے فوزیہ کے بارے میں ایک بڑا بُرا خواب دیکھا ہے ۔”ماں نے پریشانی سے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
    ” کیسا خواب؟ ” امام بخش حیرانی سے بولا۔
    ”وہ بہت پریشان ہے، رو رہی ہے، کہہ رہی ہے اماں مجھے معاف کردے۔” ماں نے پریشان لہجے میں کہا۔
    ”او! رہن دے وہ مر جائے گی لیکن تجھ سے یا مجھ سے کبھی معافی نہیں مانگے گی۔” امام بخش نے ہاتھ جھٹک کر جواب دیا۔
    ” نہیں میں ٹھیک کہہ رہی ہوں، وہ رو رہی تھی۔”فوزیہ کی ماں نے اپنی بات پر اصرار کیا۔
    ”چل رہن دے، سو جا ابھی صبح دیکھیں گے۔” امام بخش نے دوبارہ بے پروائی سے چارپائی پر کروٹ لی۔
    ” فوزیہ کے ابا بات سُن ۔” ماں نے پاس آکر بڑے مان سے کہا۔
    ”ہاں بول کیا بات ہے؟”اُس نے کروٹ بدل کر پوچھا۔
    ” کل تو فوزیہ کی طرف جا خبر لے کر آ اُس کی وہ ٹھیک تو ہے؟”ماں نے بہت اصرار سے کہا۔
    ” دیکھ میں ہاتھ جوڑ رہا ہوں، اس کے بارے میں مجھ سے کوئی بات مت کر میں بالکل نہیں جاؤں گااور تو بھی خاموشی سے بیٹھی رہ اپنی جگہ۔”وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا اور غصے سے بولا۔
    ” تو کتنا بے درد ہے؟ تجھے ذرا اپنی بیٹی کا خیال نہیں آتا؟” فوزیہ کی ماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے جسے اس نے اپنے دوپٹے سے پونچھا۔
    ” دیکھ اس نے بھی تو کبھی ہمارا خیال نہیں کیا اور تو اس وقت اس کی ساری باتیں چھوڑ اور سو جا۔ نہ جانے رات کو بیٹی کی کیسی محبت جاگ گئی کہ تو نے میری نیند بھی خراب کردی۔ ”امام بخش نے یہ کہہ کر کروٹ لی،ماں نے بھی دوسری طرف منہ کر لیا ۔اس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ ایک میگزین کے لیے فوٹو شوٹ کروا کر کرسی پر بیٹھی تھی اور دوسرے شوٹ کا انتظار کر رہی تھی کہ اس کی ماں کا فون آ گیا۔
    فوزیہ نے فون نمبر دیکھ کر پہلے کچھ سوچا اور پھرکال ریسیو کر لی۔دوسری طرف ماں کی آواز سن کر بولی۔
    ”ہاں اماں بول کیا بات ہے؟ ”
    ”فوزیہ میں نے بہت بُرا خواب دیکھا ہے تو ٹھیک تو ہے اور تو ہے کہاں؟”ماں نے پریشان ہوکر کہا۔
    ”ہاں اماں میں بالکل ٹھیک ہوں اور اس وقت شہر میں ہوں۔” فوزیہ نے بے پروائی سے جواب دیا۔
    ”کیوں شہر میں کیوں تو اپنے گھر میں نہیں ہے؟” ماں اس کی بات سن کر حیران رہ گئی۔
    ” اماں اس نے پھر مجھے طلاق دے دی تھی۔” فوزیہ نے قدرے توقف کے بعد جواب دیا۔
    ماں کو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آیا، وہ اپنے گال پیٹنے لگی۔
    ” ہائے وے میرے ربا تو کیا کہہ رہی ہے فوزیہ؟”
    ”ہاں اماں دیکھ میرااب ایسے اس کے ساتھ رہنا حرام تھا۔ میں چھوڑ آئی اُسے۔” فوزیہ نے کندھے اچکائے۔
    ”تو کیسی باتیں کررہی ہے فوزیہ؟ اپنے سر کے سائیں کو چھوڑ دیا؟”ماں نے تشویش سے کہا۔
    ” اماں اس نے مجھے مارا تھا، طلاق دینا تو جیسے کھیل بنالیا تھا۔ اسے میں چھوڑ آئی ہوں۔” فوزیہ نے اپنی بات میں وزن پیدا کرتے ہوئے کہا۔
    ”ہائے فوزیہ تو نے اپنے بچے کا بھی نہیں سوچا،کیسے پلے گی وہ ننھی سی جان۔” فوزیہ کی ماں نے تاسف سے پوچھا۔
    بچے کے نام پر فوزیہ کے لہجے میں تھوڑی اُداسی اتر آئی۔”بچہ بھی تو اُسی کا ہے اور پھر ہے بھی لڑکا، لڑکے تو پل ہی جاتے ہیں اماں۔”
    ”تو کتنی سنگ دل ہوگئی ہے فوزیہ۔ تجھے اپنے بچے پر ذرا ترس نہیں آرہا۔”ماں نے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔
    ”بالکل ترس آرہا ہے اماں، مگر تو سوچ اس کا باپ کیا چاہتا ہے؟ بات بات پر طلاق دے دیتا ہے۔دوسری شادی کا خیال ہے اس کا، کتنا عرصہ چلتا یہ سلسلہ۔پھر اس نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا کہ وہ مجھے کام کرنے دے گا اب مکر گیا ہے اور اماں سچ بولوں اس نے اپنی ماں کی جھوٹی قسم کھائی تھی جو شخص اپنی ماں کے نام کی جھوٹی قسم کھا لے اس کا کیا اعتبار۔”فوزیہ نے کرسی پر پہلو بدلتے ہوئے ماں کو جواب دیا۔
    ” تو چھوڑ سب باتوں کو ،یہ بتا تو اس وقت کہاں ہے؟ تیرا باپ تجھے لینے آرہا ہے۔”فوزیہ کی ماں نے غصے سے پوچھا۔
    ” اماں بتا دوں گی وقت آنے پر، مگرابھی مت پوچھ۔ ” فوزیہ نے بے پروائی سے کہا۔
    ”کیوں نہ پوچھوں، تو واپس آ بس اسی وقت۔”فوزیہ کی ماں نے اصرار کیا۔
    ” میں نے ابھی واپس بالکل نہیں آنا،تو زبردستی مت کر۔” فوزیہ نے غصے سے جواب دیا۔
    اسی دوران سپاٹ بوائے نے اُسے پکارا۔”مس فوزیہ آپ کا شوٹ ریڈی ہے۔ touching وغیرہ کروالیں۔”
    ”اچھا اماں میں فون بند کررہی ہوں۔ ضروری کام ہے،خدا حافظ۔” فوزیہ نے ماں سے جان چھڑائی۔
    ٭…٭…٭
    شوٹ کروانے کے بعد فوزیہ گوہر کے کمرے میں آگئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی پوٹلی تھیجس میں کچھ زیوراتتھے جو وہ اسے بیچنا چاہتی تھی۔
    ”یہ رکھ لیں۔”فوزیہ نے زیورات گوہر کے آگے رکھتے ہوئے کہا۔
    ” یہ کیا ہے؟”گوہر نے پوٹلی کو کھولتے ہوئے دیکھا۔
    ” مجھے تھوڑے پیسوں کی ضرورت تھی میں نے سوچا انہیں بیچ دوں۔”فوزیہ نے ہچکچاہٹ سے کہا۔
    گوہر نے پوٹلی میں سے زیورات نکال کر دیکھے،پھر انہیں دوبارہ پوٹلی میں بند کر کے اس کی طرف بڑھا دیے۔
    ”تمہیں کتنے پیسوں کی ضرورت ہے؟”اس نے فوزیہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جیسے اُسے جانچا۔
    ”یہی تھوڑے بہت مل جاتے بس، ضرورت پڑ جاتی ہے۔”فوزیہ نے جھجکتے ہوئے کہا۔
    گوہر نے دراز سے پانچ پانچ ہزار کے چند نوٹ نکال کر اس کی جانب بڑھا دیے۔




  • باغی – قسط نمبر ۲ – شاذیہ خان

    آج کافی دن کے بعد فوزیہ عابد کی دکان میں کھڑی چیزیں دیکھ رہی تھی۔اب گاہ بہ گاہ وہ اس کی دکان میں آتی رہتی اور عابد کبھی تحفتاً اسے کوئی نہ کوئی شے دے دیتا۔وہ اپنے ہاتھوں میں کیوٹکس لگا کر چیک کررہی تھی۔ کاؤنٹر کے دوسری جانب عابد بھی کن انکھیوں سے اُسے میگزین کے صفحات پلٹتے دیکھ رہا تھاجس میں ریمپ پر ماڈلز کیٹ واک کرتی نظر آرہی تھیں۔ وہ میگزین کا ایک ایک صفحہ پلٹتی رہی اورپھر اچانک ایک صفحے پر میڈم نور جہاں کی ایک تصویر دیکھ کر رُک گئی۔ اس کی آنکھوں میں بہت سی ننھی ننھی خواہشیں چمکنے لگیں۔عابد اس کی آنکھوں میں چمکتے جگنو دیکھ کر حیران رہ گیا جب فوزیہ نے اس سے کہا۔
    ”ہائے اللہ! میری کتنی بڑی حسرت ہے کہ میں بھی میڈم کی طرح ایک مشہور سنگر بنوں اور ان ماڈلز کی طرح نظر آؤں۔”
    ”تو یہ کیا مشکل ہے ،تو بھی ایساکرسکتی ہے۔” عابد کندھے اُچکاتے ہوئے بولا۔
    ”پر یہاں رہ کر کیسے کرسکتی ہوں؟” فوزیہ نے منہ بناتے ہوئے پوچھا۔
    ”میں کروا سکتا ہوں بلکہ تیری ہر خواہش پوری کرسکتا ہوں۔”عابد نے اسے ایک خواب دکھایا تو اس نے بے ساختہ پوچھا۔
    ”تو قسم کھا کہ تو سچ کہہ رہا ہے؟”اپنی اتنی بڑی خواہش پورا ہونے کا خواب کتنا دلکش تھا۔ بے ساختہ اس نے عابد سے قسم کھانے کا کہا ساتھ ہی ہاتھ بھی پکڑ لیا،وہ جذباتی ہوگئی تھی۔
    ”تیری قسم یہ کون سی مشکل بات ہے۔” عابد نے پیار بھرے لہجے میں کہا۔
    فوزیہ نے ایک دم اُس کا ہاتھ پکڑ تولیا تھا لیکن احساس ہوتے ہی فوراً چھوڑ بھی دیا۔
    ”تو مجھے یہ سارے کپڑے لے کر دے گا؟ سچ کہہ رہا ہے نا، مجھے گانا بھی سکھائے گا اور میں ٹی وی پر بھی آؤں گی۔”کچھ توقف کے بعد اس نے آنکھوں میں جگنو بھر کے پوچھا۔
    ”بالکل سچ، میں تیرے دل کی ہر خواہش پوری کروں گا۔ بس تو ایک بار میرے گھر آجا۔” عابد نے مسکراتے ہوئے اسے یقین دلایا۔
    ”تو پھر بھیج نہ اپنی ماں کو میرے گھر۔”تھوڑا رک کر شرماتے ہوئے بولی۔
    ”اماں سے بات تو کی ہے میں نے،وہ جلد ہی تیرے گھر آتی ہیں مگر دیکھ تو نے مکرنا نہیں۔” عابد نے تھوڑا سوچ کر کہا۔
    ”نہیں مکرتی تیری قسم۔” فوزیہ نے آنکھوں میں خوشی کے ڈھیر سارے دیے بھر کر کہا اور پھر سامنے رکھے میگزین کے صفحات محویت سے دیکھنے لگی۔
    ”دوچار دوسرے میگزین بھی ہیں،لے جا تجھے پسند ہیں نا، بلکہ یہ بھی لے جا۔” عابد نے کاؤنٹر کے نیچے سے میگزین اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
    ”واقعی لے جاؤں؟”فوزیہ نے خوش ہو کر پوچھا۔
    ”لے جا،تجھ سے اچھے ہیں کیا؟” یہ کہتے ہوئے سارے میگزین ایک شاپر میں ڈال کر اسے پکڑا دیے، فوزیہ جلدی سے میگزین دوپٹے کے پلو میں چھپاتی دکان سے نکل گئی۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ نے سب کے سونے کے بعدچپ چاپ اپنی چارپائی کی چادر کے نیچے چھپائے میگزین نکالے اور نیم درازہو کرفیشن میگزین کے صفحے اُلٹنے لگی۔اچانک ایک خوب صورت کم عمر ماڈل گرل کی تصویر دیکھ کر وہ رک گئی جو بغیر آستینوں کی ایک چھوٹی سی شرٹ پہنے مُسکرا رہی تھی۔ فوزیہ اس تصویر پر انگلیاں پھیرنے لگی اور خود کو اس ماڈل کی جگہ محسوس کررہی تھی کہ اچانک عقب سے اُس کی بہن نازیہ اُس کے سر پر آکھڑی ہوئی۔اس نے آدھے کپڑوں میں ملبوس ماڈل کی تصویر دیکھ کر زور سے چیخ ماری اورمنہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے پھٹی پھٹی آنکھوں سے میگزین کو دیکھنے لگی۔
    ”شرم کر فوزیہ!یہ تو کہاں سے لائی ہے؟” فوزیہ نے اُٹھ کر دروازہ بند کیااور منہ پر انگلی رکھ کر نازیہ کو چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
    ”آہستہ بول، ایسا کیا ہے اس میں جو تیری آنکھیں پھیل رہی ہیں؟”فوزیہ نے سرگوشی میں بہن کو ڈانٹا۔
    ”ہائے اللہ!ذرا شرم ہے تجھ کو؟ کیسی کیسی تصویریں دیکھ رہی ہے۔” نازیہ نے آنکھیں پھاڑ کر میگزین کی تصویر کی طرف اشارہ کیا۔
    فوزیہ نے میگزین کے صفحات پلٹتے ہوئے بہن کو دکھائے اور پوچھا۔
    ”اس میں شرم کی کیا بات ہے بھلا؟ دیکھ تو کتنے خوب صورت کپڑے پہنے ہوئے ہیں، تو ان کی کمر دیکھ کیسی پتلی ہے چیتے کی طرح۔”
    ”انہیں شرم نہیں آتی پوری دنیا میں اپنی کمر اور جسم کی نمائش کرتے۔” نازیہ منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔
    ”تو یہ سب باتیں چھوڑ باجی،ان کے جسم دیکھ۔کتنی ورزش کرتی ہیں خوب صورت نظر آنے کے لیے۔ خود کو اور مجھے دیکھ، اتنا خوب صورت ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں ہے ہمارے پاس۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہم خود ڈھل جاتے ہیں، تو اپنی طرف دیکھ کتنی خوب صورت تھی۔ تیرے میاں اور بچوں نے چند سالوں میں خون چوس کے رکھ دیا تیرا۔اپنی عمر سے کئی گنا بڑی نظر آرہی ہے تو۔”
    ”ہاں فوزیہ تو ٹھیک کہہ رہی ہے۔ شادی کے بعد کیا ملا مجھے، گالیاں، ٹھوکریں اور دھتکار۔” یہ کہتے ہوئے نازیہ کی آنکھوں میں نمی بھر آئی۔
    ” تو اپنے لیے سوچ باجی۔ صرف اپنے لیے، اگر تو آج اپنے لیے نہیں سوچے گی تو کوئی تیرے بارے میں نہیں سوچے گا۔”فوزیہ نے اسے حوصلہ دیا۔
    ”مگر یہ کیسے ہو سکتا ہے فوزیہ؟سب لوگ کتنا برا بھلا کہتے ہیں ایسی ماڈلز کو…”نازیہ نے میگزین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
    ”کہنے دے، ان سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تجھ پر بھی نہیں پڑے گا۔” فوزیہ کسی زمانہ شناس کی طرح بولتی گئی۔ ”اپنی زندگی جی باجی، اپنی زندگی۔ کوئی کسی کو خوش نہیں دیکھ سکتا، ہمیں خود کو خوش رکھنا چاہیے۔ اس کمینے پر تیرے رونے یا غم زدہ رہنے سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا، لیکن اگر تو خوش رہے گی، تو وہ جل جل کر مر جائے گا۔”
    ”کہہ تو تو صحیح رہی ہے فوزیہ۔”نازیہ اُس کے فلسفے سے کچھ کچھ قائل ہورہی تھی۔
    فوزیہ پھر اُسے کسی دانش مند کی طرح سمجھانے لگی۔
    ”باجی تو مجھ سے وعدہ کر اپنے آپ پر محنت کرے گی، خود کو سجا سنوار کر رکھے گی،تیرا میاں نہ تیرے قدموں میں آکر گرے، تو میرا نام بدل دینا۔”
    ”توبہ توبہ کیسی باتیں کررہی ہے تو۔” نازیہ نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا۔
    ”لو اس میں توبہ کی کیا بات ہے۔ میرا میاں ایسا ہوتا تو کب کی چھوڑ کر آجاتی میں۔تو تو خود مار کھاتی ہے شوق ہے تجھے بہت۔جب تک وہ تجھے پھینٹی نہ لگائے، دھکے دے کر گھر سے نہ نکالے تیری روٹی ہضم نہیں ہوتی۔” فوزیہ نے منہ بناتے ہوئے اسے جھاڑا۔
    ”کیا کروں مجبوری ہے فوزیہ۔” نازیہ منہ لٹکا کر بولی۔
    ”ایسی مجبوری پر لعنت بھیج، چھوڑ دے اُسے۔” فوزیہ نے حقارت سے کہا۔
    ”تو میرے بچوں کا کیا ہوگا؟”نازیہ نے بے بسی سے پوچھا۔
    ”پل جائیں گے بچے بھی، تو بس ایک بار سوچ اپنے لیے۔” فوزیہ نے اس کا حوصلہ بڑھایا۔
    نازیہ اس کی باتیں سن کر خلامیں گھورنے لگی۔اسے فوزیہ کی باتوں کے بعد خود سے ہمدردی ہونے لگی تھی۔وہ اپنے بارے میں سوچ رہی تھی لیکن یہ صرف سوچ تھی وہ ہمت کہاں سے لاتی جو فوزیہ کے پاس تھی۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ کی ماں صحن میں بیٹھی برتن دھو رہی تھی کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ اس نے اُٹھ کر دروازہ کھولاتو سامنے عابد کی ماں کھڑی تھی۔سلام دُعاکے بعد وہ اندر آگئی۔فوزیہ کی ماں نے چارپائی بچھائی تو اس نے تنقیدی نظروں سے گھر کا جائزہ لیا۔ فوزیہ کی ماں نے اسے چارپائی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔عابد کی ماں نے اِدھر اُدھر حقارت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بُرا سا منہ بنا کرکہا۔
    ”وہ سامنے والی کاسمیٹکس کی دکان میرے بیٹے عابد کی ہے۔ کچھ مہینے ہوئے دبئی سے آیا ہے، میرا بڑا بیٹا بھی دبئی میں ہی ہوتا ہے۔”
    ”ہاں جی میں جانتی ہوں لیکن…” فوزیہ کی ماں اس کی بات سن کر تذبذب کا شکار ہوگئی۔
    ”یہ میں اس لیے بتا رہی ہوں کہ میرے بیٹے نے مجھے تمہارے گھرتیری بیٹی کے رشتے کے لیے بھیجا ہے۔” فوزیہ کی ماں نے پاس کھڑی منی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھایا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھاپھر حیرت سے پوچھا۔
    ”میری بیٹی کے رشتے کے لیے؟ مگر یہ تو ابھی بہت چھوٹی ہے ۔”
    عابد کی ماں نے حیرانی سے مُنی کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ”اس کا نام فوزیہ ہے؟”
    ”فوزیہ کی تو بات پکی ہوگئی ہے، پورے محلے میں مٹھائی بانٹی تھی۔” فوزیہ کی ماں نے حیرت سے کہا۔
    ”لیکن میرا بیٹا چاہتا ہے کہ…” عابد کی ماں نے مزید کچھ کہنے کی کوشش کی مگر فوزیہ کی ماں نے اسے وہیں روک دیا۔
    ”بس بہن تم جانتی ہو زبان دینا کیا ہوتا ہے، زبان دی ہے ہم نے۔ پہلے بات کرتی تو میں خوش نصیبی سمجھتی لیکن اب تو ہم شادی کی تیاریاں کررہے ہیں۔”
    ”تو بہن اس شادی کے لیے پہلے بیٹی کو تو راضی کر لے، وہ میرے بیٹے کو کہہ رہی ہے کہ رشتہ بھیجو۔ اسی کے کہنے پر تو میں اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر آئی ہوں۔”عابد کی ماں نے تپے ہوئے لہجے میں کہا۔
    ”کیا کہہ رہی ہو تم، تمہیں شرم نہیں آرہی میری بیٹی کا نام لیتے ہوئے؟” یہ کہتے ہوئے وہ غصے سے کھڑی ہو گئی۔
    ”شرم تو اپنی بیٹی کو دلاؤ جو غیرمردوں پرڈورے ڈالتی پھرتی ہے۔” عابد کی ماں نے الٹا اسے شرم دلائی اور کھڑی ہو گئی،پھر دروازے کی جانب جاتے ہوئے کہا۔ ”کس کس کا منہ توڑو گی، پورا محلہ باتیں بنائے گا ابھی تو…”
    فوزیہ کی ماں نے ہاتھ اُٹھا کرلڑتے ہوئے کہا۔ ”جاجا،دیکھا ہے میں نے۔”
    عابد کی ماں بڑ بڑاتی، بکتی جھکتی دروازے سے باہر نکل گئی۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ کی ماں رحیم کے کمرے میں رحیم سے بات کر رہی تھی کہ فوزیہ کے کان میں اپنا نام پڑا تو وہ دروازے پر ہی رک کر دونوں کی باتیں سننے لگی۔
    ”دیکھ رحیم جتنی جلدی ہوسکے بہن کو گھر سے رخصت کردے، اس سے پہلے کہ کوئی بڑا فتنہ کھڑا ہوجائے۔”فوزیہ کی ماں بیٹے سے بہت پریشانی سے کہہ رہی تھی۔
    ”میں بھی یہی کہہ رہا ہوں اماں، آ تو رہے ہیں وہ رسم کرنے، ہم تاریخ طے کردیتے ہیں۔” رحیم نے کہا۔
    فوزیہ کی ماں کے چہرے پر پریشانی عیاں تھی۔وہ اس سے بھی زیادہ تیزی سے بولی۔
    ”بس تو کہہ دے ان سے کہ جلد از جلد ڈولی اٹھوا کر لے جائیں، پتا نہیں کہاں کہاں سے رشتے آرہے ہیں اس کے لیے۔” ماں نے کہا۔
    ”میں نے اسما سے بات کی ہے،وہ کہے گی اپنی ماں سے تو فکر نہ کر۔میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ وہ جلد از جلد اپنے گھر رخصت ہو جائے۔” رحیم نے ماں کو تسلی دیتے ہوئے جواب دیا اورکمرے سے نکل گیا۔فوزیہ دروازے کے پیچھے ہوگئی اور بھائی کے جاتے ہی کمرے میں گھس گئی۔
    ”اماں یہ جوتو کررہی ہے،یہ ٹھیک نہیں ہے۔”فوزیہ نے غصے سے لال پیلاہوتے ہوئے ماں سے کہا۔
    ”اور تو جو کررہی ہے وہ ٹھیک ہے؟ کس لفنگے سے تیری دوستی ہے جو اس نے اپنا رشتہ بھیجا ہے۔ تجھے معلوم نہیں کہ تیری بات طے ہوگئی ہے بے شرم۔ جان سے مار دوں گی۔”ماں نے اس کی بات سن کر چوٹی پکڑ کر جھٹکا دیا۔
    فوزیہ نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا اور بے خوفی سے جواب دیا۔
    ”تو کر لے جو کرنا ہے اماں، میں بھی وہ کروں گی جو چاہوں گی۔ میں اُس لفنگے سے شادی نہیں کروں گی، بتا دیا میں نے۔”
    ”یہ تو اپنے باپ کو بتا جا کر۔”ماں نے جھٹکا دے کر اس کی چوٹی چھوڑتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں ہاں بتا دوں گی، کر لوں گی ابا سے بھی بات، لیکن یہ جو تو بھائی اور بھابی کے ساتھ مل کر سازشیں کررہی ہے ان سے باز آجا۔”فوزیہ نے کہا۔
    ” اری مردود! تجھے یہ سازشیں لگ رہی ہیں۔ تیرا بیڑا غرق ہو۔” ماں غصے سے بولی۔
    ”دیتی رہو بددعائیں۔ اماں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، میں نے جو کرنا ہے کرکے رہوں گی،روتی رہنا۔ ” فوزیہ منہ بنا کر ماں کو باتیں سنا کرکمرے سے نکل گئی۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ مُنی کا ہاتھ تھامے ایک پگ ڈنڈی سے تیز تیز گزر رہی تھی کہ اچانک ساجد نے اپنا نیا رکشہ اس کے پاس لا کرروکا۔وہ گڑبڑا کرایک دم پیچھے ہٹی ۔ نہ ہٹتی تو رکشے سے ٹکر ضرور ہوجاتی۔ اسے بہت غصہ آیا۔ اس نے ساجد کو دیکھا جو اپنی خبیثانہ مسکراہٹ کے ساتھ فوزیہ کو دیکھ کر سوچ رہا تھا۔ ساجد نے دل ہی دل میں کہاآج دل کی بات کرکے رہوں گا، گھر جاتا ہوں تو لفٹ ہی نہیں کراتی سالی، کمرے میں گھس جاتی ہے۔
    ”نظر نہیں آتا تجھے؟”فوزیہ اُسے دیکھ کرغصے سے بولی ۔
    ”تیرے سوا اب کچھ نظر نہیں آتا فوزیہ۔کبھی ہم سے بھی بات کرلیا کر، گھر میں تو موقع ہی نہیں ملتا۔ تیرا ہونے والا شوہر ہوں، چل کہیں باہر چلتے ہیں۔”
    فوزیہ نے انگلی اُٹھا کر غصے سے گھورتے ہوئے کہا ۔
    ”تیرا دماغ تو ٹھیک ہے، اپنی اوقات میں رہ۔”
    ”کیوں، کیا ہوا میری اوقات تو وہی ہے، لگتا ہے تو اپنی اوقات بھول گئی ہے۔” ساجد نے طنزیہ انداز میں جواب دیا۔
    فوزیہ پہلے تو اس کی بات سن کر کھڑی رہی کہ کیا جواب دے پھر ہاتھ ہلاتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔
    ”میں راستے میں بھونکنے والے کتوں کو پتھر نہیں مارتی بولتا رہ۔مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ”
    ساجد نے یہ سن کررکشے سے چھلانگ لگائی اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔وہ تیزی سے پلٹی،ایک نظر اپنے ہاتھ پر اور دوسری اس کے چہرے پر ڈالی اور بپھری ہوئی شیرنی کی طرح زور دار تھپڑ ساجد کے منہ پر دے مارا۔
    ”میں نے صحیح کہا تھا نا تو اپنی اوقات بھول گیا ہے۔ فوزیہ بتول نام ہے میرا، ایسی ویسی نہ سمجھنا۔ گاؤں میں مٹھائی بانٹ دینے سے یہ نہ سمجھنا کہ میں تیری بیوی بن گئی ہوں اور تو زبردستی کرسکتا ہے۔” یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گئی اور ساجد ہکا بکا اس کی شکل دیکھتا رہ گیا۔
    اس کا ایک ہاتھ ابھی تک اپنے گال پر تھا۔
    ”دیکھ لوں گا فوزیہ بتول تجھے بھی، ایک بار تو گھر تو آ، ساری اڑیاں نکال دوں گا تیری، بہت ناز ہے نہ تجھے اپنے حسن پر۔تو نے تھپڑ میرے منہ پر نہیں اپنے مستقبل پر مارا ہے یاد رکھنا۔” ساجد بُڑبُڑایا۔
    ٭…٭…٭
    مُنی بھاگی بھاگی کمرے میں آئی اور سوئی ہوئی فوزیہ کو جھنجھوڑنے لگی، پھر گھبرائی ہوئی آواز میں چیخ کربولی۔
    ”باجی اُٹھ جا، باجی اُٹھ جا۔” فوزیہ ہڑ بڑا کر آنکھیں ملتی ہوئی اُٹھ بیٹھی۔
    ”اللہ خیر مُنی کیا ہوگیا؟”
    ”ابھی اماں اور ابا کی باتیں سن کر آئی ہوں۔”منی نے گھبرائی ہوئی آواز میں کہا۔” باجی! اماں کہہ رہی تھیں کہ اس جمعے کو تیری رسم نہیں بلکہ نکاح ہوگا۔” فوزیہ مُنی کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کھڑی ہوگئی۔اس کے چہرے پر منی کی بات سن کر شدید کرب ابھر آیا اوروہ سوچنے لگی ماں تو بہت پچھتائے گی ،سچی بہت پچھتائے گی۔فوزیہ سے جھگڑا مول لیا ہے تو نے،اپنی بیٹی سے! اب بھگتتی رہنا۔
    ٭…٭…٭
    امام بخش گھر داخل ہوااورہینڈپمپ چلا کر پانی نکالنے لگا،پھرمنہ ہاتھ دھو کر چارپائی پر بیٹھ گیا۔فوزیہ نے کھانے کی ٹرے چار پائی پر رکھی اور خودبھی ایک کونے پر ٹک گئی۔
    ”تیری ماں کہاں ہے؟”امام بخش نے اپنے سر پر بندھے رومال سے منہ پونچھا اور فوزیہ سے پوچھا۔
    ”وہ چودھری صاحب کی حویلی گئی ہے۔ انہوں نے بلایا تھا، کوئی کام تھا اُن کو۔” فوزیہ نے پانی کاگلاس ٹرے میں رکھتے ہوئے جواب دیا۔
    امام بخش نے بسم اللہ پڑھ کر نوالہ منہ میں رکھا ۔ فوزیہ نے حوصلہ جمع کرکے باپ سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔
    ”ابا تجھ سے ایک بات کرنی تھی۔”
    امام بخش جلدی جلدی نوالے منہ میں رکھتے ہوئے بولا۔”ہاں بول؟ آج بڑی بھوک لگی ہے۔صُبح سے اب روٹی نصیب ہوئی ہے۔”
    ”ابا میں نے اس لفنگے سے شادی نہیں کرنی،تو بس مجھے پڑھنے دے۔ میں اپنا خرچہ خود اٹھا لوں گی، تو فکر نہ کر۔”فوزیہ نے ہمت کر کے کہا۔
    امام بخش نے کھانا چھوڑ کر اُس کی بات سنی ،پھر غصے سے جواب دیا۔
    ”او بس کر دے،تیرے بعد ایک بوجھ اور باقی ہے مجھ پر،یہ ختم ہوگا تو وہ اتاروں گا۔”
    ”ابا میں تجھ پر بوجھ نہیں، میں پراندے وغیرہ بنا کر اپنا خرچہ خود اُٹھا لیتی ہوں، میں وعدہ کرتی ہوں تجھے کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔” فوزیہ نے گڑگڑا کر کہا۔
    امام بخش نے ہاتھ میں پکڑا نوالہ دوبارہ پلیٹ میں رکھا اورغصے سے بولا۔
    ”اب توہمیں اپنی کمائی کا طعنہ بھی دینے لگی ہے۔ ویسے ہی سب مجھے نازیہ کی وجہ سے طعنے دیتے ہیں، وہ بھی تیری بے وقوفیوں کی وجہ سے بھاگ بھاگ کر گھر بیٹھ جاتی ہے۔”
    ”ابا اس کے شوہر نے اسے نکالا ہے، وہ خود بھاگ کر نہیں آئی۔”فوزیہ تن کربولی۔





    ” تو بھڑکاتی ہے اسے اس کے میاں کے خلاف، تو وہ بولتی ہے نا۔آخر مرد کب تک برداشت کرے۔” امام بخش چارپائی سے کھڑا ہوگیا اور منہ میں پانی ڈال کر کلی کی۔
    فوزیہ باپ کے سامنے تن کر کھڑی ہوگئی۔ ”ابا تو بات کہاں سے کہاں لے جارہا ہے۔ میں تجھ سے اپنی بات کررہی ہوں اور تو نازیہ…”
    امام بخش نے نہایت غصے سے اسے جھڑک دیا۔
    ” نازیہ کو تو نے خراب کیا ہے۔ تیری باتوں سے پورے خاندان بلکہ گاؤں میں میرا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ توجتنی جلد اپنے گھر کی ہو جائے بہتر ہے۔”
    فوزیہ حیرت سے نگاہیں پھاڑ کر جیسے اُسے دھچکا لگا ہو۔
    ”میں نے ایسا کیا کردیا کہ تیرا سر شرم سے جھک گیا ابا؟”
    ”بس چھوڑ دے ساری باتیں، میں اب زیادہ دیر تجھے گھر نہیں بٹھا سکتا۔”
    ”ابا تو جانتا ہے وہ کیسا ہے؟” فوزیہ نے دکھی انداز میں کہا۔
    ”ہاں ہاں سب ٹھیک ہو جاتے ہیں شادی کے بعد، چل جا اندر مجھ سے کوئی بات نہ کر۔” امام بخش نے غصے سے کہا۔
    ”ابا تو ایک بار…”فوزیہ نے زچ ہو کر کہا اور پاؤں پٹختی ہوئی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ عابد کی دکان پر گئی جہاں وہ اپنے کام میں مصروف تھا۔ اُسے دیکھ کر بھی عابد کام میں مصروف رہا۔اسے ایک نظر اُٹھا کر بھی نہیں دیکھا جیسے جتا رہا ہو کہ وہ اُس سے ناراض ہے۔ فوزیہ نے اس کی آنکھوں کے آگے ہاتھ ہلایاجیسے اسے منانا چاہ رہی ہو۔
    ”ناراض ہے مجھ سے؟”
    ”ناراض تو نہیں بس تیری وجہ سے روز اماں سے باتیں سنتا ہوں۔” عابدنے منہ بناتے ہوئے جواب دیا۔
    ”اچھا چھوڑ سب باتیں، تو حل بتا اب کرنا کیا ہے؟ وقت بہت کم ہے ہمارے پاس۔” فوزیہ صلح کے انداز میں بولی۔
    ”تو اپنے ماں باپ کو راضی کر، اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔”عابدنے اُسے سمجھایا۔
    ”اور اگر وہ راضی نہ ہوئے تو کیا میرے ساتھ بھاگ کر شادی کرے گا؟”
    عابد نے حیرانی سے اس کی بات سنی۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا جواب دے۔
    ایک لمحے کے لیے عابد فوزیہ کی دیدہ دلیری پر حیران رہ گیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دے۔ وہ تذبذب کا شکار تھا۔ آخر اس کے منہ سے یہی نکلا۔
    ”بھاگ کر؟”
    ” کیا سوچ رہا ہے؟ بس اتنی سی بات پر تیرا دم نکل گیا؟ویسے تو بڑی محبت جتاتا تھا۔” فوزیہ نے اسے شرم دلائی۔
    ”میں تیار ہوں، بالکل تیار ہوں پر ایک بار تو کوشش تو کر انہیں منانے کی،شاید وہ مان جائیں۔”عابد ایک دم جوش میں آگیا۔
    ”میں نے ساری کوششیں کر لی ہیں پاگلا، وہ نہیں مانتے۔اسی لیے تجھے کہہ رہی ہوں۔تو راضی ہے تو بھاگ چلتے ہیں۔”فوزیہ نے اس کی بات پر مایوسی سے کہا۔
    ”دیکھ شادی تو میں نے تجھ سے ہی کرنی ہے،لیکن تو کوشش کر گھر والے مان جائیں۔”عابد نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔وہ دراصل تھوڑا سیدھا راستہ نکالنا چاہتا تھا تا کہ بات خراب نہ ہو۔
    فوزیہ نے بڑے غور سے اس کا چہرہ دیکھا جیسے کچھ ٹٹول رہی ہو۔
    ”اچھا چل میں تیرے کہنے پر آخری کوشش کر لیتی ہوں۔اماں کو بتا دیتی ہوں کہ میں نے عابد سے شادی کرنی ہے۔اگر وہ مان گئی تو ٹھیک ورنہ…”
    ”ہاں انہیں سیدھا سیدھا بتا تیری خواہش پر میری ماں تیرے گھر آئی تھی،اب وہ بھی ہاں کر دیں۔”عابد نے اسے رستہ دکھایا۔وہ جانتا تھا کہ فوزیہ کی ماں کبھی راضی نہیں ہوگی لیکن ایک کوشش کر کے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں تھا۔
    ”چل دیکھتی ہوں، تیری خاطر یہ بھی کر لیتی ہوں،مگر مجھے امید نہیں ہے کہ وہ مانے گی۔” فوزیہ قدرے مایوسی سے بولی اور پھیکی سی مسکراہٹ سے عابد کی طرف دیکھاجو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
    ٭…٭…٭





    گھر میں اس کی شادی کی تیاریاں شروع ہوگئی تھیں۔سب ہی خوش تھے صحن میں منی ڈھولکی بجاتے ہوئے نور جہاں کا گانا بھی گا رہی تھی۔جب فوزیہ گھر میں داخل ہوئی تو منی گلا پھاڑ کر بے سُری آواز میں”ماہی آوے گا میں پُھلاں نال دھرتی سجانواں گی”گانے کی کوشش کر رہی تھی۔
    ”او بس کردے منی، گلا مت پھاڑ۔پہلے ہی سر میں بہت درد ہے۔”فوزیہ نے اسے ڈانٹ کر کہا۔
    ”باجی تیری شادی کی خوشی میں ساتھ والی سے ڈھولکی مانگ کر لائی ہوں،آ جا مل کر بجاتے ہیں۔” منی نے ڈانٹ کا برا مانے بغیر فوزیہ کو بھی دعوت دی۔
    ”بکواس بند کر میرے سر میں درد ہورہا ہے۔ ”فوزیہ نے غصے سے اسے دیکھا اور بولی۔
    ابھی فوزیہ کی بات ختم ہی ہوئی تھی کہ اماں کمرے میں داخل ہو گئی اور آتے ہی اس پر چڑھ دوڑی۔
    ”تو یہ بتا کہ کہاں گئی تھی؟ آدھے گھنٹے کا کہہ کر دو گھنٹے لگا کر آئی ہے۔تیری بھابی بھی پوچھ رہی تھی۔”
    ”وہ کون ہوتی ہے پوچھنے والی؟” فوزیہ تلملاتے ہوئے بولی۔
    ”بس کر دے اپنی بکواس،اب تو اس کے بھائی کے گھر جانے والی ہے۔”ماں نے اسے زور سے ڈانٹا۔
    ”ابھی گئی تو نہیں نا، جب جاؤں گی تب رعب ڈال مجھ پر۔رعب میں تو میں اپنے باپ کے بھی نہیں آتی۔”فوزیہ نے منہ بسورتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا۔
    ”سدھر جا فوزیہ ورنہ سر پکڑ کر روئے گی۔” ماں نے اسے سمجھایا۔
    ”فوزیہ کمرے میں جاتے ہوئے رکی اور طنزیہ انداز میں ماں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”بس تو بددعائیں دیتی رہنا،سر پکڑ کر روئیں میرے دشمن۔”
    ” ہاںہاں بددعادے مجھے فوزیہ،منہ بھرکے بددعا دے۔توکب سے اپنادشمن سمجھ رہی ہے مجھے؟”ماں روہانسی ہو کر بولی۔
    ”جب سے تو نے دشمنوں والے ہتھیار استعمال کیے ہیں۔”فوزیہ نے چلاتے ہوئے جواب دیا۔
    ” اچھا بابا معاف کر دے مجھے،مت لڑ اب،چل جا اندر۔”ماں نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے۔
    ”تو ہمیشہ مجھے ہی چپ کروایا کر اماں۔میں چپ ہو گئی نا تو اسی طرح منہ سے کچھ بلوانے کے لیے ہاتھ جوڑے گی۔”فوزیہ نے کہا۔
    ”تو چپ تو کر کے دکھا تب مانوں گی،توتو ابھی بھی مسلسل منہ چلا رہی ہے۔”ماں نے بھی اسی کے لہجے میں جواب دیا۔
    ”ٹھیک ہے پھر،آج سے فوزیہ بتول چپ ہے،کچھ نہیں بولے گی،حتیٰ کہ تو نکاح کے لیے بھی بلوا کر دیکھ۔مولوی کے سامنے انکار کروں گی۔” فوزیہ نے نہایت غصے سے دھمکی دیتے ہوئے کہا۔
    ”اللہ تیرا بیڑا غرق کرے فوزیہ، تجھے کسی کی آئی آ جائے،تو مر جائے۔ماں باپ کی عزت کا جنازہ نکالنے والی کا جنازہ اٹھے۔”ماں نے منہ پر دوپٹا ڈال کر اسے کوسنے دینے شروع کردیئے۔
    ”ہاں ہاں دو بددعائیں، دل بھر کر دو۔میرے مرنے پر ترسو گی میری شکل کو۔”فوزیہ نے منہ بناتے ہوئے ماں کو دیکھا اور دھمکی دیتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی۔
    ٭…٭…٭





    آج ساجد بہت خوش تھا کیوں کہ اس کے دل کی مراد پوری ہورہی تھی پورے گاؤں کے لڑکوں میں اس کی دھاک بیٹھ گئی تھی کہ گاؤں کی سب سے خوب صورت لڑکی سے اس کی شادی ہورہی تھی۔وہ دلہا بن کر بارات لے کر فوزیہ کے گھر آیا تھا۔صحن میں خوب چہل پہل تھی۔فوزیہ کے گھر والے اسے سادگی سے رخصت کرنا چاہتے تھے۔ رحیم نے ادھار لے کر کھانے کا انتظام کیا تھا کیوں کہ اُسے اپنی سسرال میں اپنی دھاک بھی بٹھانی تھی،خالی خولی بہن تو نہیں بھیج سکتا تھا۔ عورتوں والے حصے میں ساجد کی ماں بڑے طمطراق سے بیٹھی تھی۔اس کے انداز میں بھی بڑا غرور تھا جسے فوزیہ کے گھر والے بھی محسوس کررہے تھے۔ اسما بھی خوش خوش اِدھر اُدھر انتظامات میں مصروف تھی کہ کچھ بھی ہو بھائی کی دلی خواہش تو پوری ہوگئی۔
    ”مولوی صاحب آ گئے۔”اتنے میں کسی نے آواز لگائی تو باراتیوں اور گھر والوں میں بھگدڑ مچ گئی۔
    ایک مولوی صاحب ہاتھ میں نکاح رجسٹر تھامے اند رداخل ہوئے۔انہیں خاص اہتمام سے بٹھادیا گیا۔
    ”مولوی صاحب بسم اللہ، نکاح شروع کرو۔” رحیم نے کہا۔
    نکاح شروع کیا گیا لیکن کسی کو نہیں معلوم تھا کہ جس سے نکاح پڑھایا جانا تھا وہ دلہن تو گھر میں موجود ہی نہیں،اور جب پتا چلا تو رحیم کے ساتھ ساتھ ساجد اور دوسرے لوگ باہر کی طرف بھاگے۔گھر میں موجود سب ہی لوگ جانتے تھے کہ وہ سیدھی کہاں گئی ہوگی۔
    ٭…٭…٭
    رحیم،ساجد اور چند دوسرے لوگ عابد کی دکان پر پہنچ گئے۔وہ پہلے ہی اداس اور دُکھی سا بیٹھا کچھ سوچ رہا تھا۔ ان سب کو اندر داخل ہوتے دیکھ کر گڑبڑا گیا۔
    ”او بتا اوئے کہاں ہے میری بہن؟تو نے رشتہ بھیجا تھا نا ہمارے گھر؟” رحیم نے غصّے سے کاؤنٹر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔
    ”مجھے کیا پتا تیری بہن کا۔میں نے تو نہیں بھگایا اسے۔” عابد نے گھبراتے ہوئے جواب دیا۔رحیم نے اس کا گریبان پکڑ لیا اور ساجد نے ایک زوردار تھپڑا مارا۔
    ”اوئے سچ سچ بتا دے ،اس سے پہلے کہ تجھے پولیس کے حوالے کر دیں۔وہ میری منگ ہے،میں تجھے چھوڑوں گا نہیں۔”ساجد نے چلاتے ہوئے اس کا گلا پکڑ لیا۔
    ”اسے پولیس کے حوالے نہ کرو،میں تو کہتا ہوں چودھری صاحب کے پاس لے چلو وہ خود ہی اس سے قبول کر وا لیں گے۔”ایک آدمی نے مشورہ دیتے ہوئے کہا،سب لوگوں نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی اور عابد کو گھسیٹنے لگے۔
    ”اوئے مجھے دکان تو بند کر لینے دو،چلتا ہوں تمہارے ساتھ۔ چودھری صاحب خود فیصلہ کر لیں گے۔”عابد نے گریبان چھڑاتے ہوئے چیخ کر کہا۔
    ساجد نے اُسے ایک اور زوردار تھپڑ مارا اور گھسیٹتے ہوئے بولا۔
    ”بھاڑ میں گئی تیری دکان،ہماری زندگی داؤ پر لگی ہے اور تجھے دکان کی پڑی ہے۔”
    ”اسے چودھری صاحب کے پاس لے چلو فوراً ، وہاں دو تھپڑ پڑیں گے تو یہ خود ہی بول پڑے گا۔”
    رحیم نے عابد کو حقارت سے دیکھتے ہوئے کہا اورمشتعل ہجوم اسے گاؤں کی گلیوں میں گھسیٹتا ہوا چودھری صاحب کی حویلی کی طرف روانہ ہو گیا۔
    چودھری صاحب کی حویلی میں لوگوں کا جم غفیر جمع تھا۔بھانت بھانت کی خلقت میںرنگ برنگی آوازیں آرہی تھیں۔ فوزیہ کا پورا خاندان اور گاؤں کے سارے مرد وہاں موجود تھے۔انہی مردوں میں فوزیہ کا باپ امام بخش بھی شامل تھا۔اس نے چودھری صاحب کے سامنے آکر ہاتھ جوڑے اور گڑگڑاتے ہوئے بولا۔
    ”چودھری صاحب! اس آدمی نے میری بیٹی بھگائی ہے،ہم آپ کے پاس فیصلہ لینے آئے ہیں۔”
    چودھری صاحب نے تحمل سے اس کی بات سنی اور ایک انکشاف کرتے ہوئے کہا۔
    ”اوئے اس نے تیری بیٹی نہیں بھگائی،وہ میرے پاس ہے۔تم اس بچی کے ساتھ زبردستی کیوں کر رہے ہو؟”چودھری نے امام بخش کو ڈانٹا۔اسی دوران فوزیہ بھی چودھری صاحب کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔
    ”سُن!تو بچی کی شادی زبردستی نہیں کر سکتا،اگر وہ نہیں چاہتی تو کیوں زبردستی کر رہا ہے؟”
    امام بخش ہاتھ جوڑتے ہوئے بہت نرمی سے بولا۔





    ”چودھری صاحب! میں غریب آدمی ہوں،اس کے علاوہ ایک اور بیٹی بھی ہے بیاہنے والی، برادری سے رشتہ اچھا تھا تو سوچا رخصت کر دوں،مگر یہ …”اس نے منہ میں آئی گالی کو زبان کے نیچے روکا۔
    ”تجھے پتا ہے ہمارے مذہب میں لڑکی کی مرضی کے بغیر شادی کرنا جرم ہے؟”چودھری اس کا انداز دیکھ کر غصے سے بولا۔
    امام بخش نے فوزیہ کی طرف دیکھ کر کہا۔
    ”چودھری صاحب معافی چاہتا ہوں،اگر اس کی مرضی کا انتظار کروں تو شاید کبھی شادی نہ ہو اور مجھے اس کے بعد ایک اور بیٹی بیاہنی ہے۔”
    فوزیہ نے کچھ کہنا چاہا مگر چودھری صاحب نے اسے ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا اورخودفوزیہ کی جگہ جواب دیا۔
    ”دیکھ امام بخش!بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں اور ان کے دکھ درد بھی سانجھے۔تواپنی اس بیٹی کو تو اب بھول جا،اب یہ ہمارے پاس ہے اور ہماری ذمہ داری ہے۔ اس کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کر سکتا۔”
    چودھری صاحب کی یہ بات سن کر،رحیم نے ساجد کے آنکھ کے اشارے پر آگے بڑھ کر دلیری سے کہا۔
    ”لیکن چودھری صاحب جس کے ساتھ اس کی شادی ہو رہی ہے سارے گاؤں میں اس کی بڑی بدنامی ہوگی۔”
    ”اوئے تو چپ کرزن مرید! تجھے اپنی بہن کی نہیں اپنے سالے کی فکر ہے جس کی بدنامی پورے گاؤں میں مشہورہے ۔”چودھری صاحب نے گرجتے ہوئے اسے ڈانٹا۔
    ”لیکن چودھری صاحب…”امام بخش نے کچھ کہنے کی کوشش کی،چودھری نے ہاتھ اُٹھا کر اس کی بات کاٹ دی۔
    ”لیکن ویکن کچھ نہیں، میں نے کہہ دیا لڑکی نے ہماری حویلی میں پناہ لی ہے۔اس لیے جب تک وہ خود نہیں چاہے گی ہم نہیں بھیج سکتے بلکہ لڑکی بھی موجود ہے تم خود پوچھ لو۔بتا فوزیہ تو کیا چاہتی ہے؟”
    فوزیہ نے منہ سے کچھ بولے بِنا محض نفی میں سر ہلا دیا۔
    امام بخش نے بیٹی کا ردعمل دیکھااور وہ کچھ دیر سوچتا رہا،پھر چودھری صاحب کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہنے لگا۔
    ”چودھری صاحب تسی ساڈے مائی باپ او،تہاڈا فیصلہ ساڈا فیصلہ ہے۔”
    ”لیکن ابا سارا گاؤں کیا کہے گا؟”رحیم اس فیصلے سے راضی نہیں تھا،آگے بڑھ کر باپ سے خفگی سے بولا۔
    امام بخش نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اورجھڑک کر بولا۔
    ”کوئی نہیں ہوتی بدنامی،چودھری صاحب کا فیصلہ ہے یہ اور چودھری صاحب کے آگے گاؤں والے کچھ نہیں کہیں گے،تو گھرچل اب۔”
    فوزیہ نے فاتحانہ انداز میں مسکراتے ہوئے بھائی کو دیکھا اور وہ اسے غصے سے گھورتا ہوا باہر نکل گیا۔اس کے باہر نکلنے کے بعد فوزیہ نے اسی انداز میں ساجد پر نظر ڈالی جس کے چہرے پر بھی ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ اُسے معلوم تھا پورے گاؤں نے اُسے نکو بنادینا ہے۔ وہ اُسے گھورتا ہوا باہر نکل گیا۔
    ٭…٭…٭





    اپنے گھر پہنچ کر اسما ماں سے لپٹ کر زور زور سے رو پڑی،سب گھر والوں کے چہروں پر اداسی اور بے عزتی کے آثار تھے۔ساجد نے ایک غصیلی نظر رحیم پر ڈالی۔اسما روتے روتے بولی۔
    ”اماں! پورے گاؤں میں بدنامی ہوئی ہے ہماری،میرے ویر کی برات لوٹ گئی بغیر دلہن کے۔”
    ”تو بھی واپس نہیں جائے گی اب،تب انہیں پتا چلے گا کہ بے عزتی کیا ہوتی ہے۔”اسما کی ماں غصے سے کھڑی ہوئی اورجواب دیا۔
    اسما رحیم کی طر ف دیکھ کر بلبلائی اور ماں سے کہا۔”لیکن اماں اس میں میرا کیا قصور،میرے بچوں کا کیا قصور،بدلہ لینا ہے تو اس کمینی سے لو جس کی وجہ سے بدنامی ہوئی ہے۔”
    رحیم نے بیوی کی طرف دیکھ کر ہاں میں ہاں ملائی اور ساس سے پوچھا۔
    ”اس میں میرا اور اسما کا کیا قصور؟ تم لوگ رشتہ لائے ہم نے قبول کیا،پھر ماں باپ کو منا لیا،اب وہ کمینی بھاگ گئی تو ہم کیوں بھگتیں؟”
    ساجد نے خاموشی سے ساری بات سنی اور غصے سے اپنے بہنوئی کو ڈانٹا۔
    ”تو چپ رہ،تجھ سے ایک بہن قابو نہ ہوسکی۔تو جانتا تھا کہ وہ کیسی ہے،اس نے بتا بھی دیا تھا کہ وہ گھر سے بھاگ جائے گی،تو نے اس پر پابندی کیوں نہ لگائی؟نظر کیوں نہ رکھی؟ ”





    ”تو تو اس بات کا بدلہ اپنی بہن سے لے گا؟حالاں کہ ہم دونوں کا اس میں کوئی قصور نہیں۔” رحیم نے پریشانی سے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنی بات کی وضاحت کی۔ساجد نے غصّے سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
    اسما نے بھائی کے غصے کو دیکھا تو ساجد کے پاس جا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو اس نے اسما کا ہاتھ بھی جھٹک دیا۔وہ انتہائی غصے میں تھا لیکن اسما نے بھی ہمت نہ ہاری اور کہنے لگی۔
    ”تجھے اپنی بے عزتی کا بدلہ لینا ہے تو فوزیہ سے لے،بس یہ سوچ کہ وہ واپس آئے گی تو کیا کرے گا؟”
    ساجد چارپائی پر بیٹھ گیا اور بولا۔
    ”او رہن دے تو اپنے مشورے،دیکھ لیا میں نے تجھے۔بھائی کی خاطر اپنا گھر نہیں چھوڑ سکتی؟”
    ”غصہ نہ کر،میں تیری خاطر جان بھی دے سکتی ہوں،مگر تو ذرا عقل استعمال کر۔جس کی وجہ سے ہم سب اذیت میں ہیں اسے کوئی سزا دے۔میرے گھر بیٹھنے سے اس کی خوشی ہوگی پاگل کہ اس کی راہ کا روڑا ہٹ گیا۔”اسما اسے سمجھاتے ہوئے بولی۔
    اسما کی بات سن کر اس کی ماں نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔”کہہ تو ٹھیک رہی ہے،اس طرح تو اس کے دل کو ٹھنڈ پر جائے گی۔”
    ”وہ گھر آجائے تو پھر دیکھنا میں اس کا کیا حال کرتا ہوں،سب دیکھیں گے۔بے غیرت، بے شرم نے ہم سب کے سر جھکا دیے۔” رحیم فوزیہ کا ذکر کرتے ہوئے آگ بگولا ہوا، اس کی آنکھوں میں نفرت کی چنگاریاں چمک رہی تھیں۔
    ”ہاں میں جانتا ہوں کہ تو کتنا مرد ہے،پہلے تو سنبھالی نہیں گئی اور اب باتیں بنا رہا ہے۔خیر توکچھ نہ کر،میں خود ہی دیکھ لوں گا۔”ساجد نے رحیم کی مردانگی پر چوٹ پر کرتے ہوئے کہا اور کندھے پر پڑا رومال جھاڑ کر باہر نکل گیا۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ چودھری صاحب کے گھر بہت خوش تھی۔دن بھر چودھرانی اور ان کی بہو کے کام کرتی اور چودھری صاحب کے آنے کے بعد ان کے لیے چائے وغیرہ کی ذمہ داری بھی اس نے اٹھالی تھی۔ وہ دل سے دونوں کی قدر کرتی تھی اور جانتی تھی کہ اگر ان دونوں نے اس کا ساتھ نہ دیا ہوتا تو وہ اس وقت ساجد کی بیوی بن کر اس کی باتیں سن رہی ہوتی۔ کبھی کبھی اسے اماں اور ابا خاص طور پر منا یاد آتا لیکن اس نے دل سخت کرلیا تھا کہ اگر انہیں فکر نہیں میری تو میں کیوں کروں۔
    ایک دن فوزیہ حویلی کے صحن میں بیٹھی تھی کہ چودھرانی وہاں آئی اور اپنے چند پرانے جوڑے اس کے آگے رکھتے ہوئے کہا۔
    ”یہ لے،انہیں صحیح کر کے پہن لینا۔پتا نہیں تجھے کب تک یہاں رہنا ہے۔”




  • باغی – قسط نمبر ۱ – شاذیہ خان

    گاؤں کی سب سے الہڑ،بے باک اور منہ پھٹ مٹیار فوزیہ بتول تھی جو کسی کو خاطر میں نہ لاتی،جس راستے سے گزرتی نوجوان اپنا دل راہ میں بچھائے اس کی ایک نظر کو ترستے لیکن وہ کسی کو گھاس نہ ڈالتی بلکہ اکثر کو تو بے بھاؤ کی سُننی پڑتیں۔ میٹرک تک تو اس کے باپ نے جیسے تیسے اُسے سرکاری اسکول میںپڑھا دیا تھا لیکن آگے پڑھنے کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی جس کے لیے وہ خود کوشش کرتی کہ پراندے بناکر کچھ نہ کچھ جمع کرلے لیکن چھوٹے بھائی سے اتنا پیار تھا کہ اپنے لیے جمع کیے ہوئے پیسوں سے اس کی فیس ادا کر دیتی یا کتابیں وغیرہ خرید کر دے دیتی۔وہ منے سے پیار بھی بہت کرتی تھی۔ روزانہ اس کے ہاتھ میں خرچ کے پیسے تھماتی اور تاکید کرتی کہ پڑھ لکھ کر گھر کا بڑا مرد بن تاکہ باپ کا بوجھ کچھ کم ہوسکے۔بڑے بھائی رحیم نے تو اپنی اوقات دکھادی تھی۔ شادی کے بعد پورا زن مرید بن گیا تھا۔جورو کا غلام ہر کام بیوی سے پوچھ کرکرتا، اس کی وجہ سے بہن اور ماں سے جھگڑا کرتا۔ فوزیہ چوں کہ منہ پھٹ تھی اس لیے رحیم اورفوزیہ کی آپس میںبالکل نہ بنتی۔ رحیم کی بیوی اسما کو بھی فوزیہ سے اللہ واسطے کا بیر تھا۔ فوزیہ چوں کہ بھائی بھابی کی جی حضوری نہیں کرتی تھی اس لیے روزانہ کسی نہ کسی بات پر بہن بھائی میں تکرار ہوتی۔ تین بہنوں دو بھائیوںمیں فوزیہ کا نمبر تیسرا تھا ۔ بڑا بھائی رحیم پھر نازیہ ، فوزیہ، مُنی اور مُنا۔
    مُنابہن بھائیوں میںسب سے چھوٹا تھا لیکن فوزیہ سے اس کی بہت بنتی تھی۔وہ خیال بھی تو بہت رکھتی تھی اس کی پڑھائی کا، اس کے کپڑوں کا اسی لیے منا اپنی ہر ضرورت باپ کے بہ جائے بہن سے ہی کہتا تھا۔روزانہ اسکول بھیجتے وقت فوزیہ اسے ایک کالا ٹیکا لگانا نہ بھولتی۔ اس کا خیال تھا کہ منابہن بھائیوں میں سب سے خوب صورت ہے اور اسے جلد نظر لگ جاتی ہے۔





    آج بھی اسکول بھیجتے وقت فوزیہ نے چھوٹے بھائی کو کانوں کے پیچھے کالا ٹیکا لگایا اور گالوں پر ایک زور دار پیار کیا جسے مُنے نے منہ بناتے ہوئے صاف کیا۔
    ”اوہو باجی!”
    ”نظر نہ لگے میرے ویر کو،کتنا سوہنا لگ رہا ہے۔” اس نے یہ کہتے ہوئے ایک پیار بھری نگاہ بھائی پر ڈالی اور بیگ اس کے کندھے پر ڈالا۔”باجی! اب میں جاؤں؟”منے نے بڑے معصومانہ انداز میں پوچھا۔
    ”ہاں ہاں چل، تو نکل اسکول لگنے والا ہوگا مگر دیکھ سنبھل کر جانا اور راستے میں کسی سے بات نہ کرنا، تو بھی ہر کسی سے بات کرنے کھڑا ہو جاتا ہے۔” گیارہ سالہ منے نے اس کی بات سمجھ کر سر ہلایا اور بولا۔
    ”باجی تو فکر نہ کر،یہ بات تو مجھے روز سمجھاتی ہے۔”
    ”اور تو روز بھول جاتا ہے۔ ہر کسی سے بات کرنے کھڑا ہو جاتا ہے۔”فوزیہ نے بھی اس کے سر پر ایک چپت لگاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”توبہ میری باجی،اب نہیں کرتاایسی غلطی۔”وہ کان پکڑتے ہوئے بولا۔
    ”دیکھ مُنے غلطی کرلیا کر مگر گناہ کبھی نہ کرنا۔” وہ معصومانہ انداز میں بولی اور اس کے ساتھ چلتی ہوئی کمرے سے نکل آئی۔
    ”دیکھ مُنے غلطی کی معافی ہے گناہ کی معافی نہیں۔”اس نے سمجھایا اورپھر اس کے پیچھے چل پڑی،منے نے منہ بنایا۔
    ”کیا مطلب باجی؟ ” اس نے ناسمجھنے والے انداز میں پوچھا۔
    ”چل چل تو اب نکل،تجھے دیر ہورہی ہے ۔باقی باتیں بعد میں۔”
    وہ دونوں باتیں کرتے اب صحن تک آگئے تھے۔
    ”تو یہیں رک، دروازے پر مت آنا،میرے دوست مجھے چھیڑتے ہیں۔”
    ”ارے ایسے کیسے؟ میں تجھے دروازے تک چھوڑنے آؤں گی ۔چل میرے ساتھ،اور تیرے دوست کیوں چھیڑتے ہیں؟” اس نے حیرانی سے پوچھا۔
    ”وہ کہتے ہیں تو اتنا بڑا ہوگیا اور تیری بہن تیرا ہاتھ تھام کر دروازے تک چھوڑنے آتی ہے۔” وہ ڈر ڈر کر بولا۔
    ”ایک جھانپڑ دوں گی تجھے اور تیرے دوستوں کو،سب مذاق وزاق بھول جائے گاتجھے بھی اور تیرے دوستوں کو بھی۔” اس نے مصنوعی غصہ دکھایا۔
    ”باجی خرچا تو دے اسکول کا۔” دروازے پر کھڑے ہوکر منے نے فوزیہ سے کہا تو اس نے پلو میںبندھے نوٹ نکالے اور دس کا نوٹ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہنے لگی۔
    ”ہاں جب تو خرچہ مانگتا ہے تب تو تیرے دوست کچھ نہیں کہتے مگر بہن کی انگلی پکڑکر دروازے تک آنے پر باتیں بناتے ہیں۔” منا نوٹ پکڑ کر خوشی خوشی گلی میں بھاگ نکلا اور وہ دور تک اسے جاتا دیکھتی رہی کہ اچانک پیچھے سے ماں کی آواز آئی۔
    ”او ری فوزیہ! نی دروازے پر ہی کھڑی رہے گی یا اندر آکر کچھ کام وغیرہ بھی دیکھے گی۔”وہ منہ بناکر ماں کے پاس آگئی۔
    ”کیا تھا اماں ، تُو مجھے بھی پڑھا دیتی۔” اس نے صحن میں پڑی چارپائی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں… پڑھا کر تجھے تیر سے تلوار کردیتی۔پہلے ہی دیدہ ہوائی ہے تیرا،چل کپڑے دھو۔” ماں نے بہت خفگی سے بڑ بڑاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”فوزیہ کپڑے دھو… فوزیہ جھاڑو لگا… فوزیہ روٹی پکا… فوزیہ جوتے اُٹھا۔کتاب چھپوا کر دے دو ان ساری باتوں کی۔”یہ کہتے ہوئے وہ اندرونی کمرے کی طرف چلی گئی۔
    ”جوتے کھائے گی جس گھر میں جائے گی۔” ماں نے اُسے اندر جاتے دیکھ کرکہا۔
    اندر جاتی ہوئی فوزیہ نے اس کی بات سن کر مڑ کرجواب دیا۔
    ”جوتے ایسے ہی کھاؤں گی؟دو آگے سے بھی ٹکاؤں گی۔” ماں نے اس کی بات سن کر چارپائی کے پاس پڑا جوتا اُٹھا کر پوری قوت سے اس کی طرف اُچھالا اور وہ چلائی۔
    ”اماں جوتی نہ ماریں۔”یہ کہہ کر اس نے دوڑ لگا دی۔
    ٭…٭…٭





    ساجد کی ماں صحن موجودہ گائے کے اپلوں کو ایک کونے میں بنی چھوٹی سی کٹیا میں ڈھیری کی صورت جما رہی تھی تا کہ بہ وقت ضرورت کام آسکے۔ ساتھ ساتھ غصے سے اس کی بُڑبُڑاہٹ بھی جاری تھی۔ اتنے میں ساجد صحن میں مسواک کرتا داخل ہوا اور ٹیڑھی نظر سے غصے میں بڑبڑاتی ماں کو دیکھااور اس کے پاس آگیا۔
    آج اس نے دل میں پورا ارادہ کرلیا تھا کہ اپنی اور فوزیہ کی شادی کی بات کرکے رہے گا۔ حالاں کہ وہ جانتا تھا ماں فوزیہ کو سخت ناپسند کرتی ہے۔اسما سے لڑائی میں اکثر فوزیہ کی ہی جیت ہوتی اور اسما کی ماں کا بس نہیں چلتا تھا کہ اس کی چلتی زبان پرسیمنٹ ڈلوا کر پکا پکا ہی بند کروادے۔اس کا دل بُرا کرنے میں اسما کا بھی بہت ہاتھ تھا جو ہر دوسرے دن گھر آکر فوزیہ کی زبان درازی کے جھوٹے سچے قصے دل سے گھڑ کر سناتی،لیکن ساجد پر اس کی کسی بات کا کوئی اثر نہ ہوتا کیوں کہ وہ تو فوزیہ کو کب سے دل میں بسائے اس کے خواب دیکھ رہا تھا۔اُدھرفوزیہ اُسے سخت ناپسند کرتی تھی۔اسے لوفروں کی طرح باتیں کرتا ساجد ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ وہ ذرا ذرا سی بات پر فری ہونے کی کوشش کرتا اورفوزیہ اکثر اسے جھاڑ دیا کرتی۔ ساجد کا خیال تھا کہ شادی سے پہلے ہر لڑکی یوں ہی نخرے دکھاتی ہے،شادی ہوجائے گی تو وہ بھی ٹھیک ہوجائے گی۔ اسی لیے آج اس نے اپنی ماں سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔
    ”اماں مجھے ایک بات کرنی ہے تجھ سے۔”
    ماں نے اپلے ڈھیری کی طرف پھینکتے ہوئے ہاتھ جھاڑتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اورپوچھا۔
    ”ہاں بول… تو کب سے پوچھ پوچھ کر بات کرنے لگا۔”وہ حیران ہوئی۔
    ”توبس میری شادی کرا دے۔”وہ ایک نادان بچے کی طرح مچلتے ہوئے بولا جسے اپنا کوئی من پسند کھلونا چاہیے تھا۔
    ”یہ صبح سویرے شادی کا بھوت کہاں سے چمٹ گیا تجھے؟” ماں نے خفگی سے پوچھا۔
    ”صبح سویرے کی کیا بات ہے؟کیا میں تجھ سے کہتا نہیں رہا شادی کا؟”ساجداسی انداز میں مسواک چباتے ہوئے بولا۔
    ”ٹک کر کوئی کام تو کر لے چار دن۔دو کمرے ڈال دے پکّے،پھر ہو جائے گی شادی بھی۔”ماںنے اس کی ہٹ دھرمی کو بچوں کی ضد سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔
    ”تیری ایسی ہی باتوں کی وجہ سے مجھے غصہ آتا ہے تجھ پر۔”وہ منہ بناتے ہوئے بولا۔
    ”کہاں کروں رشتہ بتا؟ کون دے تجھے لڑکی؟”وہ خفگی سے بولی۔
    ”کیوں؟ تیرے بیٹے کو انکار کرنے کی جرأت کس میں ہے؟ پر ماںمیں نے شادی فوزیہ سے ہی کرنی ہے۔” وہ بچوں کی طرح ضد کرتے ہوئے بولا۔
    ”فٹے منہ تیرا… نہ تیری شکل اچھی ہے، نہ تیری بات۔ماں کے مقابلے میں لا رہا ہے اس چڑیل کو۔” ماں نے غصے سے پلٹ کر دیکھا۔
    ”اماں اسے چڑیل مت کہہ۔” ساجد نے منہ بنایا۔
    ”خبردار! میرے سامنے آئندہ اس کا نام بھی لیا تونے اپنی زبان سے۔یہ نہیں ہوسکتا،سن لے صاف صاف۔”
    ”تو بس ٹھیک ہے تو بھی بھول جا اپنے بیٹے کے سہرے کے پھول کھلانے کاخیال۔ میں نے بھی شادی نہیں کرنی۔” وہ غصے سے دروازے سے نکل گیا۔
    ”او ساجد!او ساجد سن تو، رک تو صحیح۔” ساجد کی ماں پریشانی سے چلاتی رہ گئی۔
    ٭…٭…٭





    امام بخش آج صبح ہی مرغی دے کر گیا تھا کہ شام کو کسی دوست نے آنا ہے گھر بھی صاف کرلینا اور اچھی سی مرغی بھی پکا لینا۔ اسی لیے مُنی فوزیہ کے ساتھ مل کر اپنے اور فوزیہ کے مشترکہ کمرے کی چارپائیوں پر بچھی چادریں جھاڑ کر دوبارہ بچھا رہی تھی۔کمرے میں پڑا ایک چھوٹا سا بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی بھی آن تھا اور فوزیہ کی نظریں کام کرتے ہوئے بار بار بے چینی سے ٹی وی پر پڑ رہی تھیںجیسے اسے کسی پروگرام کاانتظار ہو۔ ٹی وی پر جمی نظروں کی وجہ سے وہ ٹھیک طرح سے بستر پر چادر نہیں ڈال پاتی، جس کا ایک سرا مُنی نے اور ایک سرا اس نے پکڑا ہوا تھا۔ مُنی جھنجھلا سی گئی ۔
    ”باجی ، بستر ٹھیک کرلو، پھر دیکھ لینا ٹی وی۔” ٹی وی اسکرین پر ایک فیشن شو میں ماڈلز ریمپ پر کیٹ واک کررہی تھیں جو فوزیہ کی پوری توجہ اپنی جانب مبذول کروائے ہوئے تھیں۔
    ”ٹھیک توکردیاہے بستر،اور کیا کروں؟صبح سے لے کر شام تک بس یہی کام تو رہتا ہے۔صفائی کرو، گند ڈالو، پھر صفائی کرو ، پھر گند ڈالو۔یہ جو امیروں کے گھر ہوتے ہیں، پتا نہیں یہ ہر وقت کیسے صاف ستھرے رہتے ہیں؟” اس نے یہ کہتے ہوئے حسرت سے ٹی وی کی جانب دیکھا جس پر بریک میں کسی ڈرامے کا پرومو چل رہا تھا جس میں گھر والے ایک خوب صورت ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے تھے۔ مُنی کی پوری توجہ ابھی بستر ٹھیک کرنے پر ہی تھی۔
    ”سن باجی آج مرغی پکنی ہے ہمارے گھر۔”مُنی نے اس کی توجہ ہٹانے کے لیے اپنے طور پر ایک بڑا انکشاف کیا۔
    ”اچھا! کون لایا ہے مرغی؟”تکیہ جھاڑتے ہوئے فوزیہ نے بھی اشتیاق سے پوچھا۔
    ”ابّا لایا ہے۔”مُنی بے پروائی سے بولی۔
    ”آج تو جمعہ بھی نہیں، پھر آج کس خوشی میں مرغی پکارہے ہیں؟” فوزیہ نے قدرے تشویش سے پوچھا۔
    ”اباکا کوئی دوست آرہا ہے ساتھ والے گاؤں سے،اپنے بیٹے کے ساتھ۔”مُنی نے اسی بے پروائی سے جواب دیا۔
    ”وہ جوابا سے نائیوں کا کام سیکھنے آیا تھا؟” فوزیہ نے بُرا سا منہ بناتے ہوئے مُنی کو یاد دلایا۔
    ”مجھے کیا پتا!” مُنی نے کندھے اچکاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”مجھے پتا ہے، یہ وہی ہوگا اور ابا اگر اس کے لیے مرغی پکارہا ہے نا تو یاد رکھ مُنی!اباکی نیت خراب ہے۔” فوزیہ انتہائی خفگی سے بولی۔
    ”کیا مطلب؟” مُنی نے حیرانی سے پوچھا۔
    ”وہ اس کمینے کو میرے گلے ڈالنے کی کوشش کرے گا، پر فوزیہ بتول مر کر بھی اس سے شادی نہ کرے۔”فوزیہ انتہائی بگڑے ہوئے انداز میں بولی۔
    ”ہاں ہاں اور تو چوہدریوں کی بہو بننے کے خواب دیکھ رہی ہے۔ بھول جا باجی وہ بہت بڑے لوگ ہیں۔”مُنی ہنستے ہوئے دوسرے کمرے میں جاتے ہوئے بولی۔
    ”ہائے! بن ہی جاتی اگر چوہدرانی جی اپنے بیٹے کا رشتہ کہیں اورنہ طے کردیتی ۔”اس نے گہرا سانس لیتے ہوئے جواب دیا اور پھر کسی خیال میں گم ہو گئی اور ٹھنڈی سانس لے کر چارپائی پر بیٹھ گئی او رمیڈم کا گیت گنگنانے لگی۔
    ”میں تیرے سنگ کیسے چلوں ساجنا
    تو سمندر ہے میں ساحلوں کی ہوا!”
    ٭…٭…٭
    دوپہر کا وقت تھا اور شدید دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ فوزیہ کا باپ امام بخش درخت کے نیچے اپنی دکان لگائے ایک گاہک کی شیو بنارہا تھا۔پاس ہی دو گاہک بیٹھے ایک اخبار ہاتھ میں لیے خبریںپڑھنے سے زیادہ اس میں موجود اشتہارات پر تبصرے کر رہے تھے اور ان کا تبصرہ بھی زیادہ تر ان ماڈلز پر تھا جو کسی بھی اشتہار میں موجود تھیں، ان کی زیادہ تر باتیں سرگوشیوں میں تھیں۔ اڑتی اڑاتی کوئی بات آس پاس بیٹھے گاہکوں اور امام بخش کے کانوں تک بھی پہنچ جاتی تو وہ اس میں جواباً اپنا حصہ ضرور ڈالتے۔
    تب ہی ایک گاہک اخبار پر موجود تصویر دیکھ کر بآواز بلند بولا۔
    ”توبہ توبہ!آج کل کی عورتیں کتنی بے حیا ہوگئی ہیں۔” وہ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولا۔
    ”میں تو ان کے باپ بھائیوں کے بارے میں سوچ کر حیران ہوتا ہوں، کیسے بے غیرت لوگ ہیں؟ ایسی حرکتوں پر کچھ بھی نہیں کہتے۔”ساتھ بیٹھے دوسرے گاہک نے بھی لقمہ دینا ضروری سمجھا۔
    ”بے غیرتی تو اس کو لگے جسے عورت کی کمائی کھانے کی عادت نہ ہو۔ یہ عورتیں جب کما کما کر گھر کے مردوں کو کھلاتی ہیںتو ان کی غیرت تو افیم پی کر سوجاتی ہے۔”حجامت بناتے ہوئے امام بخش نے دونوں کی طرف دیکھ کر طنزیہ کہا۔
    ”اچھا تو صفحہ تو پلٹ،گھنٹے سے بکواس کرے جارہا ہے اور دیکھے بھی جارہا ہے۔کوئی اور خبر بھی تو دیکھ۔”ایک گاہک نے اخبار کا صفحہ پلٹنے کے لیے ٹہوکا دیا۔
    ”تو نے بھی سارا دن بس ادھر بیٹھ کر اخبارہی پڑھناہوتا ہے یا کچھ کام دھندا بھی کرے گا؟” امام بخش نے اپنا ہاتھ روک کر گاہک کو جھڑکا۔
    ”ہاں ہاںکروں گا، کیوں نہیں کروں گا۔جب کام ملے گا تو ضرورکروں گا۔”پہلا گاہک اپنی صفائی میں بولا۔
    ”او سدھر جا!کل تیری بیوی چودھری صاحب کے گھر جاکر تیری شکایت کررہی تھی۔” امام بخش ہنستے ہوئے بولا۔
    ”اسے بیماری ہے میری شکایتیں کرنے کی۔کھیت میں چار گھنٹے کام کیا کرلیتی ہے، مجھے تو ہڈحرام اور کام چور ہی سمجھنے لگی ہے۔” گاہک منہ بناتے ہوئے غصے سے بولا۔
    ”ساری عورتیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔مجال ہے آدمی کو فارغ بیٹھا دیکھ کر برداشت کرلیں۔ایک میری بیوی ہے اس کی کمائی کے رونے ہی ختم نہیں ہوتے۔اُسے ہر وقت یہی شک رہتا ہے کہ میںپتا نہیں اپنی کمائی کس کو دے آیاہوں۔” دوسرا گاہک منہ بناتے ہوئے بولا۔
    ”میں تو اس حق میں ہی نہیں ہوں کہ لڑکیوں کو گھر سے نکالا جائے۔ بس دسویں تک پڑھاؤ اور اگلے گھر کا کردو۔ باقی اللہ اللہ خیرصلّا،کوئی گورنر تھوڑی لگ جانا ہے عورتوں نے۔”پہلے گاہک نے منہ بناتے ہوئے جواب دیا۔
    شیو ختم کرتے ہوئے امام بخش نے جواب دیا۔ ”اور اگر کوئی لگ گئی نا تو سب سے پہلے وہ ان سارے مردوں کو ہی جیل میں ڈالے گی۔” اس بات پر وہ سب قہقہہ مار کر ہنسے لیکن پہلا گاہک کھسیانا ہوکر امام بخش کی طر ف دیکھنے لگاجیسے کوئی جواب نہ بن رہا ہو۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ اور فاطمہ چودھرانی کے گھر سے ان کے بیٹے کی شادی کے جوڑے پیک کروا کر آرہی تھیں کہ گلی کی نکڑ پر زور زور سے کسی عورت کے چیخنے کی آواز سنائی دی وہ دونوں ٹھہر گئیں۔
    ایک آدمی اپنی بیوی کا ہاتھ گھسیٹتا ہوا زبردستی کھینچتا چلا جارہا تھا۔گلی کی نکڑ پر کھڑی فوزیہ اورفاطمہ یہ منظر دیکھ کر چند لمحے ٹھٹک گئیں۔
    ”آئند ہ گھر سے نکلی تو تیری ٹانگیں توڑ دوں گا میں۔تو کیا سمجھتی تھی کہ تیرے ماں باپ کے گھر سے لا نہیں سکتا تھا میں؟ چوہے کی طرح چھپ کر بیٹھ جائے گی۔گھر چل،وہ حشر کروں گا کہ یاد رکھے گی۔” وہ آدمی زور زور سے چیخ رہا تھا۔ گاؤں کی گلی عورتوں، مردوں اور بچوں سے بھری ہوئی تھی اور سب یہ سارا تماشا دیکھ کر خاموش کھڑے تھے۔کسی میں ہمت نہ ہوئی کہ آگے بڑھ کر اس آدمی کا ہاتھ پکڑتا۔ وہ آدمی اپنی بیوی کو گھسیٹتا ہوا ان کے سامنے سے گذر گیا۔
    ”دل کرتا ہے جوتا اٹھاؤں،اور ابھی گنجا کردوں اسے۔”فوزیہ نے غصے سے دانت کچکچا کر کہا۔
    ”وہ تو تب کرو نا جب پہلے ہی گنجا نہ ہو۔”فاطمہ نے منہ بناتے ہوئے اس کی ٹنڈ پر طنز کیا۔
    ”کتے بلیوں والی زندگی ہے اس گاؤں کی عورتوں کی۔ دیکھو سب کیسے کھی کھی کر کے ہنس رہی ہیں۔ کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ ہاتھ ہی پکڑ لے اس کا۔” فوزیہ غصے سے منہ بناتے ہوئے سب عورتوں کی طرف ہاتھ اٹھا کر بولی۔
    ”ہاتھ تو کوئی عورت تب پکڑے جب وہ خود نہ پٹتی ہو۔ان کے اپنے گھروں میں روز یہی سب ہوتا ہے، لیکن حرام خور مردوں کو بھی تو دیکھو کوئی آگے بڑھ کر نہیں بولا۔”فاطمہ نے طنز کیا۔
    ”چل نی چھوڑ،ان کے تو عذاب ہی نہیں ختم ہوتے،گھر چلتے ہیں۔”یہ کہہ کر فاطمہ نے فوزیہ کا ہاتھ گھسیٹا اور آگے بڑھ گئی لیکن فوزیہ پلٹ پلٹ کر دیکھتی رہی۔اس کے چہرے پر تاسف کا احساس تھا۔
    ٭…٭…٭
    گاؤں میں چودھری صاحب کے بیٹے کی شادی کی تقریب تھی اس لیے ہر گھر میں خوشی تھی،یوں لگتا تھا کہ ان کے اپنے گھر کی شادی ہے۔چودھری صاحب بہت دیالو طبیعت کے تھے،آج تو پورا گاؤں ان کی حویلی میں موجود تھا کیوں کہ سب کو پتا تھا کہ پورے گاؤں کے غریبوں کے لیے آج دیگوں کے منہ کھول دیے جائیں گے۔ قورمہ اور بریانی کبھی کبھارتوپیٹ بھر کر ملتا تھا،اس لیے آج کوئی بھی یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتا تھا۔فوزیہ بھی خوب تیاری کے ساتھ پہنچی ہوئی تھی اور سب سکھیوں کے ساتھ مل کرکر ہلہ گلہ کر رہی تھی۔ بینڈ باجے والے بھی آئے ہوئے تھے جو مختلف گانوں کی دھنیں بجا رہے تھے۔ مردانے میں بھی رونق تھی لیکن یہاں زنانے میں کھلے صحن میں لڑکیوں بالیوں نے رونق لگائی ہوئی تھی جسے دیکھ دیکھ کر چودھرانی خوش ہورہی تھیں۔
    فوزیہ سب کے درمیان ڈھول لے کر بیٹھی اور میڈم نور جہاں کا کوئی گانا گا رہی تھی۔ آواز کہیں کہیں بے سُری سی ہو جاتی مگر چودھرانی کے پاس کھڑی عورتیں فوزیہ کی تعریف کرتی ہوئی خوش ہورہی تھیں ۔محفل میں موجود ایک شخص اس کی تعریفوں سے جل کر راکھ ہورہا تھااور وہ تھی اسما جو ان دونوں کے ساتھ آئی تھی اور اب پچھتارہی تھی۔
    ”جہاں فوزیہ پہنچ جائے بس میلا لگ جاتا ہے،گاؤں بھر میں رونق لگائے رکھتی ہے۔”ایک عورت نے کہا۔
    ”صحیح کہہ رہی ہیں باجی۔اس کو ناچنے گانے کا شوق ہی بہت ہے،ہر شادی میں پہنچ جاتی ہے۔”محلے کی ہی دوسری عورت نے مُسکراتے ہوئے جواب دیا۔
    ”اے فوزیہ!یہ گانا رہنے دے۔مسرت نذیر کا کوئی شادی والا گانا گا۔”پاس بیٹھی ایک لڑکی نے فوزیہ سے کہا۔