Tag: fawad khan

  • امربیل — قسط نمبر ۱۱

    امربیل — قسط نمبر ۱۱

    علیزہ کچھ دیر بستر میں لیٹی رہی۔ دروازے کے باہر اب بالکل بھی آواز نہیں تھی’ پھر اسے دور ایک گاڑی کے اسٹارٹ ہونے کی آواز آئی۔ وہ جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔
    ”کیا عمر واقعی جوڈتھ کو لے کر جا رہا ہے؟” وہ ششدر تھی۔
    تیزی سے اٹھ کر اس نے دروازہ کھولااور لاؤنج میں آئی۔ وہاں نانو کے علاوہ اب واقعی کوئی نہیں تھا۔
    ”نانو! عمر کہاں گیا؟” اس نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    ”وہ جوڈتھ کے ساتھ چلا گیا۔” نانو نے اخبار کا صفحہ پلٹتے ہوئے کہا۔
    ”کیوں…؟” وہ تقریباً چلائی’ نانو نے حیرانی سے اسے دیکھا۔ ”تم خود ہی تو یہ چاہتی تھی۔”
    ”میں کب یہ چاہتی تھی؟” وہ مایوسی سے ان کے پاس صوفہ پر بیٹھ گئی۔
    ”تم نے عمر سے یہ نہیں کہا کہ تمہیں جوڈتھ کا آنا برا لگا ہے؟”
    ”نہیں میں نے ایسا تو کچھ بھی نہیں کہا۔”
    ”عمر نے خو دمجھ سے یہی کہا تھا کہ تمہیں جوڈتھ کا آنا اچھا نہیں لگا۔”
    علیزہ کی شرمندگی میں اضافہ ہوا۔ ”نہیں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔”
    ”اگر ایسی بات نہیں تھی تو پھر یہاں بیٹھنا چاہئے تھا۔ جوڈتھ اور عمر کو کمپنی دینی چاہئے تھی۔”




    ”نانو! مجھے نیند آرہی تھی بس’ میں اس لئے… مگر آپ نے عمر کو روکا کیوں نہیں… آپ کو روکنا چاہئے تھا۔” وہ اب روہانسی ہو رہی تھی۔
    ”میں نے روکا تھا مگر جب اس نے تمہاری ناپسندیدگی کا بتایا تو پھر میں کچھ نہیں کہہ سکی۔”
    علیزہ کچھ بھی کہے بغیر صوفے پر لیٹ گئی اوراس نے نانو کی گود میں چہرہ چھپا لیا۔ اس کی اداسی اور شرمندگی یک دم بہت بڑھ گئی تھی نانو نے اخبار رکھ دیا۔
    ”وہ شام کو دوبارہ آئے گا۔ تم اس سے ایکسیکیوز کر لینا۔ اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔” نانو نے اس کا سر تھپکتے ہوئے کہا۔
    علیزہ نے بے اختیار سر اٹھا کر انہیں دیکھا۔ ”وہ واپس اسپین نہیں گیا؟”
    ”نہیں بھئی’ اسپین کیسے جا سکتا ہے، وہ تو دوبارہ فلائٹ وغیرہ دیکھ کر سیٹ بک کروائے گا۔ تب ہی جا سکے گا۔ ابھی تو ڈرائیور اسے اور جوڈتھ کو کسی ہوٹل چھوڑنے گیا ہے۔”
    علیزہ نے اطمینان کا سانس لیا۔ ”وہ آئے گا تو میں اس سے ایکسکیوز کر لوں گی۔ اور پھر اس سے کہوں گی کہ وہ جوڈتھ کو یہاں لے آئے۔ ٹھیک ہے نانو؟” علیزہ نے نانو سے اپنی بات پر رائے لی۔
    ”ہاں ٹھیک ہے تمہارے بار ے میں بہت فکر مند ہو رہا تھا، کہہ رہا تھا کہ تم بہت کمزور ہو گئی ہو۔ میں تمہیں کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھاؤں… میں نے اس سے کہا ایساآپریشن کی وجہ سے ہے۔ پھر یہ جو تمہیں بخار ہو جاتا ہے۔ تمہیں اپنا خیال رکھنا چاہئے۔” نانو اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔ مگر علیزہ کا دھیان کہیں اور اٹکا ہوا تھا۔
    ”نانو! آپ کو جوڈتھ کیسی لگی ہے؟” اس نے کچھ دیر سوچتے رہنے کے بعد نانو سے پوچھا۔
    ”جوڈتھ؟ بہت اچھی ہے وہ … تم کیوں پوچھ رہی ہو؟”
    ”بس ایسے ہی۔ وہ کہہ رہی تھی کہ وہ پچھلے دس سال سے عمر کی فرینڈ ہے مگر عمر نے پہلے کبھی اس کا ذکر ہی نہیں کیا۔”
    نانو نے لاپروائی سے کندھے اچکا دیئے۔ ”ہاں اس نے پہلے کبھی ذکر نہیں کیا مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ہر بات تو وہ نہیں بتا سکتا، ویسے بھی وہ کس کس کے بارے میں بتائے۔ اس کے دوست بہت زیادہ ہیں۔”
    ”مگر اس کو جوڈتھ کے بارے میں بتانا چاہئے تھا، باقی فرینڈز کا بھی تو نام لیتا رہتا ہے۔” علیزہ نے اصرار کیا۔
    ”وہ آئے گا تو اس سے پوچھ لینا کہ اس نے جوڈتھ کا ذکر کیوں نہیں کیا۔” نانو نے بات کا موضوع بدلنے کی کوشش کی مگر وہ کامیاب نہیں ہوئیں۔
    ”آپ کو پتا ہے وہ جوڈتھ کو ساتھ لے کر اسپین گیا ہوا تھا؟”
    ”ہاں۔۔۔” نانو نے ایک لفظی جواب دیا۔ علیزہ خاموشی سے ان کا چہرہ دیکھتی رہی۔
    ”اس نے فون پر یہ بھی نہیں بتایا۔ بس یہی کہا کہ وہ کچھ فرینڈز کے ساتھ اسپین میں ہے۔ اس کو بتانا چاہئے تھا نا؟” علیزہ نے ایک بار پھر ان کی حمایت چاہی۔ ” میں کہہ رہی ہوں ناکہ وہ آئے گا تو تم اس سے یہ سب کچھ پوچھ لینا۔ تم مجھے یہ بتاؤ کہ چکن کارن سوپ بنواؤں تمہارے لئے۔” نانو نے ایک بار پھر بات کا موضوع بدل دیا۔
    ”پتا نہیں… جو مرضی کریں۔” علیزہ نے ان کی بات میں دلچسپی نہیں لی۔
    ”ٹھیک ہے۔ بنوا لیتی ہوں مگر تم پی ضرور لینا۔ یہ نہ ہو کہ پرسوں کی طرح پھر رکھ چھوڑو۔”
    علیزہ نے کچھ نہیں کہا وہ ایک بار پھر کسی سوچ میں مصروف تھی۔
    ”نانو! جوڈتھ عمر کی بیسٹ فرینڈ ہے۔ ہے نا…؟” نانو نے ایک گہرا سانس لیا۔
    ”تم کیوں اتنا پریشان ہو رہی ہو، دونوں کے بارے میں۔ فرض کرو اگر وہ اس کی بیسٹ فرینڈ ہے تو بھی کیا فرق پڑتا ہے۔” نانو نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے نرم آواز میں اس سے کہا۔
    ”مجھے لگتا ہے ، وہ مجھ سے زیادہ اس کی دوست ہے۔” اس کی بہت ہلکی آواز میں کہا گیا جملہ ان تک پہنچ گیا۔
    ”وہ دس سال سے اس کے ساتھ ہے… دونوں اسکول میں اکٹھے رہے بعد میں ایک ہی یونیورسٹی میں گئے۔ پھر ہم عمر بھی ہیں۔ ظاہر ہے عمر کی اس کے ساتھ زیادہ اچھی اور بہتر انڈر اسٹینڈنگ ہے۔”
    ان کی وضاحت علیزہ کو بری لگی۔”میرے ساتھ اس کی Affiliationیا انڈر اسٹینڈنگ نہیں ہے؟”
    ”تمہارے ساتھ اس کا تعلق اور طرح کا ہے۔ تم اس کی کزن ہو۔ ظاہر ہے تمہیں وہ اس طرح سے ٹریٹ کرتا ہے۔”
    ”مگر وہ مجھے بھی اپنا دوست کہتا ہے۔ اس نے کہا تھا میں اس کی بیسٹ فرینڈ ہوں۔” علیزہ نے بے تابی سے کہا۔
    ”تمہاری اور اس کی دوستی کو ابھی بہت تھوڑا وقت ہوا ہے۔”
    ”اس کا مطلب ہے کہ وہ میری پروا نہیں کرتا؟” اس نے برق رفتاری سے نتیجہ اخذکیا۔
    ”میں نے یہ کب کہا؟ پروا کرتا ہے تو تمہارے لئے اسپین سے واپس آگیا ہے۔ مگر جوڈتھ کے ساتھ اس کی دوستی زیادہ گہری ہے، اور شاید دوستی نہیں ہے۔”
    ”دوستی نہیں ہے۔ تو پھر کیا ہے؟” علیزہ نے کچھ الجھتے ہوئے پوچھا۔
    ”میرا خیال ہے وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور ہو سکتا ہے بہت جلد شادی کر لیں۔” نانو نے جیسے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
    علیزہ کچھ اور کہہ نہیں سکی۔
    ٭٭٭
    عمر شام کو وہاں آیا تھ امگر اس بار وہ اکیلا تھا جوڈتھ اس کے ساتھ نہیں تھی۔ علیزہ پہلے ہی لاؤنج میں بیٹھی اس کی منتظر تھی۔ اس نے علیزہ کو دیکھتے ہی بڑی شگفتگی سے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا۔
    ”دیکھ لو علیزہ ! اب میں بالکل اکیلا ہوں۔ میرے ساتھ کوئی نہیں ہے۔” علیزہ خاموش رہی۔
    وہ علیزہ کے پاس صوفہ پر آکر بیٹھ گیا اور اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا ایک بیگ اس کے سامنے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔
    ”میں تمہارے لئے کچھ چیزیں لایا ہوں، دیکھ لو۔”
    وہ اب کرسٹی کو اس کی گود سے لے رہا تھا، علیزہ نے بیگ کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا۔
    ”میں نے آپ سے یہ تو نہیں کہا تھا کہ آپ چلے جائیں۔” اس کی بات کے جواب میں اس نے سنجیدگی سے کہا۔ عمر نے کرسٹی کو اپنی گود میں بٹھاتے ہوئے اسے دیکھا اور اطمینان سے کہا۔
    ”ہاں کہا تو نہیں تھا مگر تمہیں جوڈتھ کا آنا اچھا نہیں لگا تھا” وہ اب کرسٹی کے سر پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔
    ”نہیں ایسا نہیں تھا۔” علیزہ نے جھوٹ بولا۔
    عمر اسے دیکھ کر مسکرایا اور ایک بار پھر کرسٹی کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ وہ اس کے جواب کا انتظار کر تی رہی لیکن جب اس نے کچھ نہیں کہا تو علیزہ نے ایک بار پھر اسے متوجہ کیا۔
    ”میں نے آپ سے کچھ کہا ہے؟”
    "Aleeza! your face has a tell-tale quality.” (علیزہ تمہارا چہرہ سب کہانی کہہ دیتا ہے) وہ اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
    ”یہ سب کچھ بتا دیتا ہے، تمہاری پسندیدگی ناپسندیدگی، تم کچھ بھی چھپا نہیں سکتیں۔ تمہاری رائے تمہارے احساسات، سب کچھ تمہارے چہرے پر آجاتے ہیں۔ میں کیا کوئی بھی تمہارا چہرہ پڑھ سکتا ہے، جیسے اس وقت تمہارا چہرہ کہہ رہا ہے کہ تم جھوٹ بول رہی ہو۔ جہاں تک میری صبح کی ریڈنگ کی بات ہے تو وہ بھی غلط نہیں تھی۔ صرف میں نے ہی نہیں جوڈتھ نے بھی یہی محسوس کیا تھا، کہ تم اس کے آنے پر خوش نہیں ہو۔ اس لئے پھر ہم نے یہی طے کیا کہ ہوٹل چلے جائیں۔”
    کرسٹی اب عمر کی شرٹ کے ساتھ اپنا سر رگڑ رہی تھی۔ علیزہ یک دم ناراض ہو گئی۔
    ”جوڈتھ نے آپ سے میرے بارے میں کوئی غلط بات کہی ہو گی۔ وہ جان بوجھ کر چاہتی ہے کہ آپ میرے بارے میں برا سوچیں۔”
    ”اس نے مجھ سے تمہارے بارے میں کوئی بری بات نہیں کی اور نہ ہی وہ یہ چاہتی ہے کہ میں تمہارے بارے میں برا سوچوں۔ اس نے تمہارے بارے میں مجھ سے کہا تھا۔”
    "Aleeza is a pretty girl, I liked her.”
    علیزہ چند لمحوں تک کچھ بھی نہیں کہہ پائی۔ ”لیکن انہوں نے آپ سے یہ کیوں کہا کہ مجھے ان کا آنا اچھا نہیں لگا۔ وہ آپ تو یہ کہتی ہیں کہ وہ مجھے پسند کرتی ہیں، مگر میرے بارے میں کہتی ہیں کہ میں انہیں پسند نہیں کرتی۔”
    ”She is very crafty” (وہ بہت چالاک ہے)
    عمر نے اسے دیکھا، اس بار واضح طور پر اس کے چہرے پر ناپسندیدگی تھی۔
    ”جوڈی میری دوست ہے اور میں یہ کبھی پسند نہیں کروں گا کہ کوئی میرے دوستوں کے بارے میں فضول تبصرہ کرے۔”
    علیزہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا پھر وہ روہانسی ہو گئی، اس نے ایک جھٹکے سے کرسٹی کو عمر کی گود سے کھینچ لیا۔ عمر نے چند لمحوں کے اندر اس کی آنکھوں کو موٹے موٹے آنسوؤں سے بھرتے دیکھا
    اور پھر وہ پاؤں پٹختے ہوئے کچھ کہے بغیر لاؤنج سے چلی گئی۔ عمر اس کے پیچھے نہیں آیا۔ وہ خاموشی سے لاؤنج کی کھڑکیوں سے اسے لان میں جاتا دیکھتا رہا۔
    وہ آدھا گھنٹہ لان میں بیٹھ کر روتی رہی پھر ملازم اسے چائے کے لئے بلانے آیا۔
    ”مجھے نہیں پینی۔۔۔” اس نے صاف انکار کر دیا۔
    وہ جانتی تھی ملازم اندر جا کر اس کا جواب ایسے ہی پہنچا دے گا اور اسے توقع تھی کہ عمر یا نانومیں سے کوئی خود اسے لینے آئے گا یا پھر ملازم کو دوبارہ بھیجا جائے گا۔ ایسا نہیں ہوا، ملازم دوبارہ آیا نہ ہی عمر یا نانو میں سے کوئی اسے بلانے آیا وہ اور دل گرفتہ ہوئی۔ اس کے آنسو آہستہ آہستہ خود ہی تھم گئے۔
    شام کچھ اور ڈھلی اور لان میں تاریکی اترنے لگی، مگر وہ وہیں بیٹھی رہی۔ بالآخر اس نے عمر کو پورٹیکو میں نکلتے دیکھا وہ بے اختیار خوش ہوئی اس کا خیال تھا کہ وہ اسے منانے کے لئے آیا تھا۔ مگر ایسا نہیں تھا عمر لان کی طرف دیکھے بغیر پورٹیکو میں کھڑی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ علیزہ کو جیسے کرنٹ لگا۔
    ”کیا وہ واپس جا رہا ہے، مگر اس نے تو رات کا کھانا بھی نہیں کھایا۔”
    وہ بے چین ہو گئی…اسے توقع تھی کہ وہ رات کے کھانے تک رکے گا مگر… کرسٹی لان میں پھر رہی تھی، عمر کو لاؤنج سے باہر نکلتے دیکھ کر وہ بھاگتی ہوئی اس کی طرف گئی۔ عمر نے گاڑی کے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا ہی تھا جب وہ اس کے قریب پہنچ گئی اور اس کی ٹانگوں سے اپنا جسم رگڑنے لگی۔ علیزہ نے عمر کو رکتے دیکھا اس نے جھک کر کرسٹی کو گود میں اٹھا لیا پھر علیزہ نے اسے پلٹتے دیکھا۔ وہ اب لان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ پھر علیزہ نے اسے اپنی جانب آتے دیکھا۔ اس کے قریب آنے پر علیزہ نے اپنی ناراضی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پوچھا۔




  • امربیل — قسط نمبر ۱۰

    امربیل — قسط نمبر ۱۰

    اس سے ہونے والی اس لمبی چوڑی گفتگو کے چوتھے دن عمر امریکہ چلا گیا۔ علیزہ نے اس بار پہلی دفعہ اس کے جانے کو سنجیدگی سے لیا تھا۔
    وہ اس کی باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ اپنی زندگی کو نارمل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ نانا اور نانو نے اس سے پچھلے کچھ ہفتوں میں ہونے والے واقعات کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ان کے لئے شاید اتنا ہی کافی تھا کہ وہ دوبارہ کالج جانے لگی ہے، اس کی خود ساختہ قید تنہائی ختم ہوگئی تھی اور شہلا ایک بار پھر سے اس کی زندگی کا حصہ بن گئی تھی۔ اس کے ٹیسٹ پہلے کی طرح اچھے ہونے لگے تھے۔ مگر اس کی پہلی والی سنجیدگی اور کم گوئی ابھی بھی برقرار تھی۔
    عمر نے واپس جانے کے ایک ہفتے بعد انہیں فون کیا تھا۔ نانو سے بات کرنے کے بعد اس نے علیزہ سے بھی بات کی۔ علیزہ کو وہ پہلے سے زیادہ پر جوش اور خوش لگا تھا۔
    ”یار! میں تمہیں بہت مس کر رہا ہوں۔” اس نے ہمیشہ والی بے تکلفی کے ساتھ علیزہ کی آواز سنتے ہی کہا۔
    علیزہ اس کی بات پر بچوں کی طرح خوش ہوئی۔ ”میں بھی آپ کو بہت مس کر رہی ہوں۔” اس نے جواباً کہا۔
    ”یہ تو بڑی حیران کن بات ہے کہ علیزہ سکندر جیسی ہستی ہمیں مس کر رہی ہیں واپس آجاؤں؟” اس کی آواز میں شوخی تھی۔




    ”آجائیں۔” علیزہ اس کے انداز سے محظوظ ہوئی۔
    ”آجاؤں گا مگر ابھی نہیں۔ ابھی میں اسپین جا رہا ہوں۔”
    ”کیوں؟”
    ”بس ویسے ہی سیرو غیرہ کے لئے، کچھ دوستوں کے ساتھ جا رہا ہوں۔” اس نے اطلاع دی۔
    ”واپس کب آئیں گے؟”
    ”پاکستان یا امریکہ؟” عمر نے پوچھا۔
    ”پاکستان۔” ”چند ماہ تک۔”
    ”آپ نے کہا تھا۔ میں سیشنز کروانا شروع کردوں تو آپ جلدی آجائیں گے۔” علیزہ نے اسے یاد دلایا۔
    ”ہاں مجھے یاد ہے، تم باقاعدگی سے سیشنز کے لئے جا رہی ہو؟”
    ”ہاں پھر آپ کب آئیں گے؟” علیزہ نے ایک بار پھر بے تابی سے پوچھا۔
    ”پتا نہیں۔ دراصل مجھے کچھ کام بھی ہے لیکن پھر بھی میں وعدہ کرتا ہوں، جلدی آجاؤں گا۔” عمر نے اسے مطمئن کرنے کی کوشش کی۔ وہ مطمئن ہوئی یا نہیں مگر اس نے عمر سے مزید اصرار نہیں کیا۔ اسے یقین تھا وہ جلدی واپس آجائے گا۔
    ***
    اسے میگزین جوائن کئے تین ماہ ہو گئے تھے، اور یہ تین ماہ اس کے لئے بہت اچھے ثابت نہیں ہوئے تھے۔ وہ جرنلزم کے بارے میں جو خواب لے کر اس میگزین میں گئی تھی۔ وہ پہلے ہفتے ہی ختم ہو گئے جب اسے کچھ غیر ملکی میگزین یہ کہہ کر دیئے گئے کہ اسے ان میں سے شوبزنس کی خبریں منتخب کرنی ہیں۔ وہ کچھ ہکا بکا ہو کر سارا دن وہ میگزینز دیکھتی رہی۔ شہلا اس دن آفس نہیں آئی۔ علیزہ نے گھر واپس جاتے ہی اسے فون کیا۔
    ”کیا ہوا بھئی؟ اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہو؟” شہلا نے اس کی آواز سے فوراً اندازہ لگایا کہ وہ کسی وجہ سے پریشان ہے۔ علیزہ نے اسے ساری تفصیل بتا دی۔
    ”تو پھر؟ ”شہلا نے اس کی ساری باتیں سننے کے بعد بڑے اطمینان سے پوچھا۔
    ”تو پھر کیا مطلب ہے تمہارا؟”
    ”میرا مطلب ہے کہ تم کیوں پریشان ہو اس سب سے؟”
    ”میں پریشان کیوں ہوں؟” میں اس لئے پریشان ہوں کیونکہ یہ وہ کام تو نہیں ہے جس کے لئے میں وہاں گئی ہوں۔” علیزہ اس کی بات پر حیران ہوتے ہوئے بولی۔
    ”آپ کس لئے گئی ہیں وہاں؟”
    ”کوئی تخلیقی اور چیلنجنگ کام کرنے، غیر ملکی میگزینز سے خبریں چننے نہیں گئی۔ ہم کیا کریں گے وہاں باہر کی خبریں غیر ملکی ماڈلز کے فیشن شوٹس کی کاپی کرتے ہیں بس فرق یہ ہوتا ہے کہ ماڈل اپنی ہوتی ہے اور فوٹو گرافر بھی۔ میک اپ اور ہیر اسٹائل تک ان ہی جیسا ہوتا ہے یہ کیا چیز ہے جو ہم اپنے لوگوں کو دے رہے ہیں، تفریح۔” وہ واقعی اکتائی ہوئی تھی۔
    ”ابھی تو جانا شروع کیا ہے وہاں۔ اتنی جلدی کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہئے۔ ابھی تو ہمیں جرنلزم کی الف ب کا بھی پتا نہیں ہے۔ تھوڑا عرصہ وہاں کام کریں گے تو کچھ پتا چلے گا۔ کچھ تجربہ ہو گا تو ہم لوگ ٹرینڈز بدل بھی سکتے ہیں۔” شہلا نے اسے مطمئن کرنے کی کوشش کی۔
    ”ہم ٹرینڈ بدل سکتے ہیں؟ کیا ٹرینڈ بدل سکتے ہیں؟ غیر ملکی میگزینز میں سے چوری کی جانے والی خبریں اور آرٹیکلز روک سکتے ہیں۔ یا اپنے فوٹو گرافر کو اوریجنل شوٹ کے لئے مجبورکر سکتے ہیں۔” وہ اب بھی اتنی ہی مایوس تھی۔
    ”تم جاب چھوڑنا چاہتی ہو؟” شہلا نے مزید کچھ کہے بغیر اس سے براہ راست پوچھا۔
    ”پتا نہیں میں کنفیوزڈ ہوں۔”
    ”کنفیوز کیوں ہو، اگر یہ سب تمہیں پسند نہیں ہے تو جاب چھوڑ دو کچھ اور کر لو۔” شہلا نے اسے کھٹ سے مشورہ دیا۔
    ”اور کیا کروں؟”




  • امربیل — قسط نمبر ۸

    امربیل — قسط نمبر ۸

    "تمہارا جہانگیر کے ساتھ کوئی جھگڑا ہے؟” اس شام لان میں چائے پیتے ہوئے باتوں کے دوران اچانک لئیق انکل نے اس سے پوچھا۔
    عمر چونکا ”نہیں۔” اس نے بڑے نارمل انداز میں کہا۔
    ”اچھا!” لئیق انکل نے حیرت کا اظہار کیا۔ ”جہانگیر تو کہہ رہا تھا کہ تم آج کل اس سے کچھ ناراض ہو۔ تم دونوں کے درمیان کوئی بات وات نہیں ہوتی؟”
    لئیق انکل نے چائے کے سپ لیتے ہوئے بڑے جتانے والے انداز میں کہا۔
    ”نہیں، بات تو ہوجاتی ہے مگر کوئی خوشگوار انداز میں نہیں ہوتی۔” عمر نے بڑی لاپروائی سے کہا۔
    ”اچھا! کیوں؟” لئیق انکل نے خاصی بے نیازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوچھا۔
    عمر نے ایک گہری نظر ان پر ڈالی۔ ”پاپا خوشگوار انداز میں کسی خوبصورت عورت سے ہی بات کرتے ہیں۔ یا پھر کسی سیاست دان سے۔”
    لئیق انکل نے بے اختیار قہقہہ لگایا۔ عمر اسی طرح بے تاثر چہرے سے انہیں دیکھتا رہا۔ بمشکل اپنی ہنسی روکتے ہوئے انہوں نے کہا۔ ”you have a very good sense of humour” (تمہاری حس مزاح بہت اچھی ہے) مگر اس طرح کی بات جہانگیر کے سامنے مت کرنا۔”
    ”ورنہ وہ چوتھی شادی کرلیں گے۔ ہے نا۔۔۔” عمر نے لاپروائی سے کہہ کر ایک بار پھر چائے پینا شروع کردیا۔
    ”اسی قسم کی باتیں تم جہانگیر سے کرتے ہو، اسی لیے تو وہ اتنا پریشان رہتا ہے۔”
    ”ایکسکیوزمی! پاپا میری وجہ سے پریشان نہیں ہوتے۔ وہ اپنے علاوہ کسی دوسرے کے بارے میں پریشان ہوتے ہیں نہ ہی کسی دوسرے کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں۔”
    عمر نے چائے کا کپ سامنے پڑی ہوئی میز پر رکھ دیا۔
    ”عمر! جہانگیر کے بارے میں اتنا بدگمان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ تمہاری بہت پروا کرتا ہے۔ تم اس کے بیٹے ہو۔ وہ تمہارے رویے کی وجہ سے بہت فکر مند رہتا ہے۔” لئیق انکل یکدم سنجیدہ ہوگئے۔
    ”اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ میں ان کی اولاد ہوں یا ان کا بیٹا ہوں۔”




    ”کیوں فرق نہیں پڑتا… تم جہانگیر سے پوچھو، کتنی اہمیت ہے اس کے نزدیک تمہاری۔”
    ”میں ان کی اکلوتی اولاد نہیں ہوں۔ دوسری بیوی سے بھی ان کی اولاد ہے اور اب۔ اب تیسری سے بھی ہوجائے گی۔” اس کے لہجے میں تلخی تھی۔
    ”مگر تم اس کے سب سے بڑے بیٹے ہو۔ تمہاری اور اس کی بہت اچھی انڈراسٹینڈنگ ہونی چاہیے ورنہ آگے چل کر اور پرابلمز ہوں گی۔”
    عمر نے غور سے ان کا چہرہ دیکھا۔ ”کیا مطلب! آگے چل کر کیا پرابلمز ہوں گی؟” عمر نے کچھ الجھ کر کہا۔
    ”وہ تمہارے مستقبل کے بارے میں بہت کچھ پلان کرتا رہتا ہے۔ کل کو جب تمہاری شادی کے بارے میں اگر وہ کوئی فیصلہ کرنا چاہے گا تو اس طرح کے ٹکراؤ کی صورت میں پرابلم ہوگا۔”
    لئیق انکل نے اتنے نارمل انداز میں یہ بات کہی کہ وہ ان کا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔
    ”میں آپ کی بات نہیں سمجھا ہوں۔ آپ کس کی شادی کی بات کر رہے ہیں؟” اس نے سرد آواز میں کہا۔
    ”تمہاری شادی کے بارے میں؟”
    ”میری شادی کے بارے میں پاپا کچھ طے کیوں کریں گے؟”
    ”وہ تمہارا باپ ہے۔”
    ”تو۔۔۔”
    ”عمر! تمہیں شادی۔۔۔”
    اس نے یکدم لئیق انکل کی بات کاٹ دی۔ ”انکل! آپ مجھ سے جو کچھ بھی کہنا چاہتے ہیں، صاف صاف کہیں۔ کیا پاپا نے میری شادی کے بارے میں آپ سے کچھ کہا ہے؟” وہ جیسے بات کی تہہ تک پہنچ گیا تھا۔
    لئیق انکل کچھ دیر اس کا چہرہ دیکھتے رہے۔ ”شادی تو نہیں! ہاں البتہ وہ تمہاری انگیجمنٹ ضرور کرنا چاہتا ہے۔”
    ”کس سے؟”
    ”یہ میں نہیں جانتا۔”
    ”بہت خوب، بہر حال آپ پاپا کو بتا دیں کہ مجھے شادی نہیں کرنا نہ آج نہ ہی آئندہ کبھی اور جس سے وہ میری انگیجمنٹ کرنا چاہتے ہیں اس سے خود شادی کرلیں۔” اس کی آواز میں تلخی تھی۔
    ”یار! تم خواہ مخواہ ناراض ہو رہے ہو، میں نے تو ویسے ہی بات کی تھی ایک… اس نے کون سا کچھ طے کرلیا ہے۔”
    تم مجھے یہ بتاؤ کہ صفدر مقصود کے ساتھ کیسی ملاقات رہی تمہاری؟”
    لئیق انکل نے یکدم بات کا موضوع بدلتے ہوئے سائیکالوجسٹ کا نام لیا۔
    ”میں نے پاپا سے پہلے بھی کہا تھا، مجھے کسی سائیکالوجسٹ کے ساتھ سٹنگ کی ضرورت نہیں ہے۔ میرے لیے یہ سائیکالوجیکل ٹیسٹ ایک کیک واک ہے۔ مجھے صفدر مقصود جیسے لوگوں کی گائیڈنس کی ضرورت نہیں ہے۔”
    ”کسی بھی چیز کو اتنا سرسری نہیں لینا چاہیے۔ بعض دفعہ یہ نقصان دہ بھی ہوتا ہے۔ صفدر مقصود نے ہی بعد میں تمہارا انٹرویو کرنا ہے۔ اس لیے جو کچھ وہ بتاتا ہے، اسے غور سے سنا کرو۔” لئیق انکل نے اسے سنجیدگی سے سمجھایا۔




  • امربیل — قسط نمبر ۷

    امربیل — قسط نمبر ۷

    ”میں نے سوچا شاید تم زارا سے ملتے ہوگے۔”
    علیزہ اگلی شام اپنے کمرے سے نکل کر لاؤنج کی طرف آرہی تھی، جب اس نے لاؤنج میں نانو کو عمر سے کہتے سنا تھا۔ وہ ٹھٹھک گئی۔
    رات کو عمر کے کمرے میں جانے کے بعد وہ بھی کھانا کھا کر اپنے کمرے میں آگئی تھی… بہت دیر تک وہ عمر کے بارے میں سوچتی رہی پھر آہستہ آہستہ نیند نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔
    آج صبح عمر ناشتے کی میز پر نہیں تھا۔ کالج سے واپس آنے پر اس نے لنچ پر بھی موجود نہیں پایا۔ ”سر میں کچھ درد ہے اس کے… آرام کر رہا ہے۔” اس کے پوچھنے پر نانو نے کہا تھا۔




    علیزہ کچھ بے چین ہوگئی۔ ”کیا زیادہ درد ہے؟”
    ”پتا نہیں… کچھ بتایا نہیں کہہ رہا تھا کہ سوؤں گا تو ٹھیک ہو جاؤں گا۔” نانو نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
    ”آپ کو پوچھنا چاہیے تھا!” اس نے بے ساختہ کہا۔ ”موسم تبدیل ہو رہا ہے اسی کی وجہ سے اس کی طبیعت خراب ہوگئی ہوگی۔” نانو نے اس کی بات پر زیادہ دھیان نہیں دیا تھا۔
    وہ کچھ دیر تک انہیں دیکھتے رہنے کے بعد اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی۔
    عمرکے لئے اس کے دل میں موجود ہمدردی میں یک دم اضافہ ہوا تھا۔ پڑھائی کے دوران بھی وہ بدستور عمر کے بارے میں سوچتی رہی۔
    اور اب جب وہ تین گھنٹے بعد شام کی چائے کیلئے نکلی تھی تو وہ لاؤنج میں موجود تھا۔
    ”نہیں، آپ نے غلط سوچا۔ میں ممی سے نہیں ملتا ہوں۔”
    وہ کافی کا مگ ہاتھ میں لیے مدھم آواز میں نانو سے کہہ رہا تھا۔
    ”کیوں؟” نانو کے سوال پر عمر نے چند لمحے خاموشی سے ان کے چہرے کو دیکھا تھا۔
    ”کبھی طلب محسوس نہیں ہوئی۔” اس کا لہجہ بہت عجیب تھا۔
    ”والدین اور اولاد ایک دوسرے کیلئے طلب نہیں ضرورت ہوتے ہیں۔” نانو نے اسے جھڑکتے ہوئے کہا تھا۔
    ”ہماری کلاس میں پیرنٹس اور اولاد ایک دوسرے کیلئے طلب ہوتے ہیں نہ ہی ضرورت ،بلکہ چیزوں کی طرح ہوتے ہیں… جب اولاد کو ضرورت پڑے تو وہ ماں باپ کو استعمال کرلے اور جب ماں باپ کو ضرورت پڑے تو وہ اولاد کو استعمال کرلیں۔” علیزہ نے اس کی مذاق اڑاتی ہوئی ہنسی سنی تھی۔ وہ کوریڈور میں جہاں کھڑی تھی، وہاں سے اس کی پشت نظر آرہی تھی۔ وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکتی تھی مگر اس کی آواز سے وہ اندازہ کرسکتی تھی کہ وہ طنز کر رہا تھا۔
    ”اس طرح مت کہو۔” نانو نے اسے جیسے روکنے کی کوشش کی تھی۔
    ”سچ کہہ رہا ہوں گرینی! جیسے میں یہ مگ استعمال کر رہا ہوں نا میرے اور اس مگ کے درمیان اتنا ہی گہرا رشتہ ہے جتنا میرا اپنے ماں باپ کے ساتھ اور میرے ماں باپ کے نزدیک بھی میری اہمیت کافی کے اس گرم مگ جتنی ہی ہوگی جو ضرورت کے وقت ان کے کام آجائے۔” اس کا لہجہ پہلے سے زیادہ تلخ تھا۔
    علیزہ کوشش کے باوجود اندر داخل نہیں ہوسکی۔
    ”پتا نہیں، میرا اندر جانا ٹھیک ہے یا نہیں؟” وہ وہیں کھڑی سوچنے لگی۔
    ”تم زارا سے مل لیا کرو۔” نانو کی آواز میں اس بار ہمدردی جھلکی تھی۔
    ”کیوں؟” عمر کا لہجہ بہت تیکھا تھا۔ ”ا ب ایسا کیا ہوگیا ہے کہ میں ان سے مل لیا کروں؟”
    ”وہ تمہاری ماں ہے۔”
    ”تو میں کیا کروں؟”
    ”تم بچپن میں بہت اٹیچ تھے اس کے ساتھ۔”
    ”ہوسکتا ہے۔”
    ”جھوٹ مت بولو عمر!”
    ”میں جھوٹ نہیں بول رہا ہوں۔ میں واقعی انہیں مس نہیں کرتا بلکہ میں کبھی بھی کسی کو بھی مس نہیں کرسکتا۔” اس کی آواز میں بے حد سنجیدگی تھی۔
    ”مگر زارا تم سے ملنا چاہتی ہے۔ بہت محبت کرتی ہے وہ تم سے بار بار تمہاری باتیں کر رہی تھی۔ مجھے بتا رہی تھی کہ تمہیں اس نے سوات میں دیکھا تھا۔ پھر تمہیں ٹریس آؤٹ کرنے کی کوشش کی مگر تم ہوٹل سے چیک آؤٹ کرگئے۔ پھر اس نے اندازہ لگایا کہ تم یہیں ہوگے میرے پاس اور وہ سیدھی تمہارے پیچھے لاہور آگئی۔” نانو اب تفصیل سے بتا رہی تھیں۔
    ”بڑا کارنامہ کیا مجھے ڈھونڈ کر۔” اس نے عمر کو بڑبڑاتے سنا تھا۔
    ”وہ اپنی فیملی کو وہیں سوات میں چھوڑ کر صرف تمہارے لیے یہاں آئی تھی۔” نانو نے جیسے اسے جتایا۔
    ”نہ آتیں… اپنی فیملی کے ساتھ ہی رہتیں… انجوائے کرتیں۔”
    ”وہ صرف تمہارے لیے یہاں آئی تھیں… مجھے بتا رہی تھی کہ تمہیں بہت مس کرتی ہے۔”
    ”مس کرتی ہیں تو یہ ان کی غلطی ہے نہ کیا کریں… بے اولاد تو نہیں ہیں۔ دوسرے بیٹے ہیں نا پاس… پھر میرے لیے یہ ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟” اس کے لہجے میں بے زاری تھی۔




  • امربیل — قسط نمبر ۶

    امربیل — قسط نمبر ۶

    ”ان این جی اوز کے آفس کینٹ کے علاقہ میں ہیں اور ظاہر ہے یہ تو ناممکن ہے کہ آرمی کے علاقے میں ہونے والی ایسی سرگرمیاں آرمی کی ایجنسیز سے خفیہ ہوں مگر وہ بھی صرف رپورٹس دے دیتے ہیں… کچھ کر نہیں سکتے۔”
    وہاں اس عمارت کے بڑے کمرے میں سب لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے اسے عمر کی بات بے اختیار یاد آئی۔ وہ لوگ لاہور سے سیدھا اس گاؤں میں جانے کے بجائے پہلے اس این جی او کے آفس میں گئے جو شہر کے اندر کینٹ کے علاقے میں ایک خاصی بڑی کوٹھی میں واقع تھا، عمر کی ایک بات سچ ثابت ہوگئی تھی۔ وہاں انہیں اس این جی او کی طرف سے اپنے کام اور آفس کی دوسری سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی جانی تھی۔ اس وقت وہ چائے اور اسنیکس سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور علیزہ کو یہ دیکھ کر خاصی حیرت ہوئی کہ اس نسبتاً قدامت پسند علاقے میں بھی لڑکیوں کی ایک بڑی تعداداس این جی او کیلئے کام کر رہی تھی جو خاصی حیران کن بات تھی آفس کی عمارت کا ایک جائزہ لیتے ہوئے اسے قدم قدم پر حیرانی ہوئی تھی۔ عمارت میں موجود سہولتیں نہ صرف بے حد جدید تھیں۔ بلکہ خاصی وافر تھیں۔ اندر موجود کمپیوٹر اور فیکس مشینوں سے لے کر باہر موجود گاڑیوں کے ماڈلز تک یہ ظاہر کر رہے تھے کہ روپے کا خاصی فراوانی سے استعمال کیا جارہا ہے۔
    ”این جی او اگر واقعی دیہی علاقوں میں ریفارمز اور سوشل ڈیویلپمنٹ کیلئے کام کر رہی ہیں تو پھر ان کے آفسز بھی ان ہی گاؤں وغیرہ میں ہونے چاہئیں تاکہ وہ لوگوں کے ساتھ مسلسل اور بہتر رابطہ میں رہیں مگر کسی بھی این جی او کا آفس تم گاؤں کے اندر نہیں دیکھو گی۔ سارے آفسر شہر کے سب سے مہنگے اور محفوظ علاقے میں خاصے گم نام اور خفیہ رکھے گئے ہیں اگر ان کا کام لوگوں کی بہتری ہی ہے تو پھر انہیں تو لوگوں کے ساتھ رابطے زیادہ بڑھانے چاہئیں اپنے آفسزکو ایسی جگہوں پر رکھنا چاہیے جہاں زیادہ سے زیادہ لوگ ان کے نام سے واقف ہوں، ان کے پاس آسکیں مگر ایسا نہیں ہے شہر کے اردگرد گاؤں کے لوگ ان کے نام سے بہت آشنا ہیں مگر شہر میں اگر تم کینٹ کے علاقے میں بھی کھڑے ہو کر کسی سے کسی بھی این جی او کا نام بتا کر آفس کا پتا پوچھو تو وہ بے خبر ہوگا اگر انہیں کچھ لیک آؤٹ ہوجانے کا خطرہ نہیں ہے تو یہ لوگوں کو کھلے عام اپنے آفس میں کیوں آنے نہیں دیتیں۔ انٹرنیشنل میڈیا تو دھوم مچا رہا ہے ان کے کارناموں کی مگر مقامی اخبارات تک ان کے کام اور نام سے بے خبر ہیں۔” اسے عمر کے الزامات یاد آرہے تھے۔
    چائے اور دوسرے لوازمات سے فارغ ہونے کے بعد انہیں اس این جی او کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے بریفنگ دینی شروع کی۔ ”جب ہم نے اس علاقے میں کام شروع کیا تھا اس وقت یہ پورا علاقہ ہر طرح سے پسماندہ تھا… یہاں زندگی کی بنیادی سہولیات تک نہیں تھیں صرف تیس فیصد بچے اسکول جاتے تھے اور پرائمری میں ڈراپ آؤٹ ریٹ بہت زیادہ تھا، اور وہ بہت سے مہلک امراض کا شکار ہو تے تھے۔ عورتوں کی حالت تو اس سے بھی زیادہ خراب تھی۔ ڈرگز کا استعمال بھی اس علاقے میں بہت زیادہ تھا۔”
    وہ اب دوسرا ”Version” سن رہی تھی۔ ”اس علاقے میں موجود فیکٹریاں بانڈڈ لیبر کروا رہی تھیں۔ دیہاتی علاقے سے زمیندار زبردستی فیکٹریز کے مالکان کے مطالبے پر کام کیلئے لوگوں کو بھجواتے تھے۔ جو اجرت ان لوگوں کو دی جاتی تھی اسے سن کر آپ کو شاک لگے گا مگر لوگ کام کرنے پر اس لیے مجبور تھے کہ خواندگی کی شرح بہت کم تھی اور بے روزگاری بہت زیادہ تھی۔ بنیادی طور پر یہ زرعی علاقہ تھا مگر لوگوں نے اپنی زرخیز زمینیں فیکٹریز کی تعمیر کیلئے بیچنا شروع کردیں۔ اس سے یہ ہوا کہ اس علاقے میں کاشت کاری بہت کم ہوگئی۔ ایک بڑے علاقے میں ٹینریز بن گئیں اور ٹینریز سے نکلنے والے آلودہ پانی نے اس علاقے کی زرخیزی پر منفی اثرات مرتب کیے لوگوں کو نہ صرف مالی طور پر بہت سے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ بہت سے جلدی امراض بھی ان علاقوں میں پھیل گئے دوسرے لفظوں میں یا مختصراً آپ یہ سمجھ لیں کہ اس علاقے میں زیادہ استحصال ہو رہا تھا۔”
    وہ بہت غور سے اس شخص کی باتیں سن رہی تھی۔
    ”پھر سب سے پہلے ہم نے اس علاقے میں کام شروع کیا۔ آپ اندازہ نہیں کرسکتے کہ یہ کتنا مشکل کام تھا بلکہ شاید یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ یہ ایک ہر کولین ٹاسک تھا، شروع شروع میں ہم جہاں جاتے تھے ہم سے تعاون نہیں کیا جاتا تھا بعض جگہوں پر تو ہمارے ممبرز پر حملے بھی کیے گئے۔ ہم پر دباؤ ڈالا گیا۔ مختلف فیکٹریز کی طرف سے کہ ہم یہ کام نہ کریں انہیں خوف تھا وہاں لوگوں میں شعور آئے گا تو ان کا بزنس ٹھپ ہوجائے گا اور یہ خوف بالکل درست تھا جن حالات اور شرائط پر وہ لوگ کام کررہے تھے شعور حاصل کرنے پر سب سے پہلے وہ ان فیکٹریز کیلئے کام کرنا ہی چھوڑتے، ہماری ثابت قدمی نے ایک طرف تو ان علاقوں کے لوگوں میں ہم پر اعتماد بڑھایا بلکہ دوسری طرف ہمیں دیکھ کر بہت سی دوسری این جی اوز بھی میدان میں آگئیں ایک پورا نیٹ ورک قائم ہوگیا۔”




    اگر اسے عمر کی باتوں میں سچائی نظر آئی تھی تو اس شخص کے لہجے میں بھی وہ کوئی فریب ڈھونڈنے میں ناکام رہی اس کی الجھن بڑھ گئی تھی ”اپنی sense of Judgement۔” اسے عمر کی بات یاد آئی، مگر اسے استعمال کیسے کرتے ہیں اس نے سوچا تھا۔
    ”ہم لوگ گروپس بنا بنا کر سارا دن ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں اور دوسرے تیسرے گاؤں پھرتے رہتے ہمیں ایک ایک گھر جانا پڑا۔ وہاں سارے کوائف اکٹھے کرنے پڑے۔ گھر میں افراد کی تعداد کتنی ہے۔، ان میں عورتیں کتنی ہیں اور ان کی عمریں کیا ہیں، مرد کتنے ہیں اور کس عمر کے ہیں، بچوں کی تعداد کیا ہے اور کس عمر کے ہیں، گھر میں کام کرنے والے افراد کی تعداد کیا ہے؟ اور وہ کس کام سے منسلک ہیں۔ ان کی آمدنی کتنی ہے گھر میں کون سی سہولتیں ہیں، کیا بچے اسکول جاتے ہیں۔ گھر میں خواندہ افراد کتنے ہیں؟ یہ سب کچھ جاننے کیلئے ہمیں بڑے پاپڑ بیلنے پڑے کیونکہ لوگ ہمیں شک کی نظر سے دیکھتے تھے اور معلومات چھپاتے تھے یا غلط معلومات دیتے تھے یا پھر بات ہی نہیں کرتے تھے ہمیں ان معلومات کی ضرورت اس لیے تھی تاکہ ہم ان لوگوں کے مسائل حل کرنے کیلئے کوئی پراپر پلاننگ کرسکتے۔”
    اس کے الجھے ہوئے ذہن میں اب کچھ اور گونج رہا تھا۔
    ”این جی اوزجب یہاں آئیں تو انہوں نے دیہی اصلاحات اور سوشل ڈویلپمنٹ کا نام لے کر حقائق اور اعداد و شمار اکٹھے کرنے شروع کردیئے۔ کس علاقے میں کس عمر تک کے بچے کام کر رہے ہیں؟ فٹ بال انڈسٹری سے منسلک عورتوں کی تعداد کیا ہے۔ بانڈڈ لیبر کی اجرتوں کا ریٹ کتنا ہے؟ ان لوگوں کو کس طرح کی سہولیات میسر ہیں؟ یہ سارا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے ”اور اب دیکھئے گا علیزہ بی بی آئندہ چند سالوں میں چائلڈ لیبر اور بانڈڈ لیبر کے حوالے سے ان ہی علاقوں کے متعلق انٹرنیشنل میڈیا خاصا شور مچائے گا۔ کچھ پابندیاں بھی لگائی جائیں گی۔” اس نے اپنے ذہن سے عمر کی آواز جھٹکتے ہوئے دوبارہ اس شخص کی آواز پر توجہ دینی شروع کی۔
    ”ظاہر ہے یہ لوگ کسی آدمی کو تو گھر کے اندر آنے نہیں دیتے اس لیے ہمیں لڑکیوں کی ضرورت تھی جو یہ کام کرسکیں، اسی لیے آپ لوگ دیکھیں گے کہ اس علاقے میں کام کرنے والی ساری این جی اوز کے ساتھ لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد وابستہ ہے۔”
    ”ہم دو دو لوگوں کا ایک گروپ بناتے تھے جو ایک لڑکی اور لڑکے پر مشتمل ہوتا تھا، یہ لوگ اپنے مخصوص علاقے میں جاتے اور خود کو بہن بھائی ظاہر کرتے اس علاقے کے امام مسجد سے رابطہ کرتے پھر اس کے ذریعے سے باقی لوگوں سے واقفیت حاصل کرتے۔ لڑکیوں کا گھر کے اندر آنا جانا شروع ہوتا، وہ ان کی ضرورت کی چھوٹی موٹی چیزیں ساتھ لے جاتے دوائیاں، صابن، خشک دودھ، بسکٹ اور اسی قسم کی چھوٹی موٹی دوسری چیزیں آہستہ آہستہ وہ لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے لگے اور پھر کوائف اکٹھے کرنا کافی آسان ہوگیا۔ معلومات حاصل کرنے کے بعد دوسرا مرحلہ تھا کہ ان لوگوں تک اپنی بات پہنچائی جائے اور انہیں ان باتوں کو ماننے کیلئے قابل کیا جائے۔ یہ کام زیادہ مشکل تھا مگر بہرحال کسی نہ کسی طرح ہم نے یہ کام بھی شروع کردیا۔
    ہمارے چار بنیادی مقاصد تھے، چائلڈ اور بانڈڈ لیبر کا خاتمہ، بچوں کیلئے تعلیم کی فراہمی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان علاقوں میں روزگار کے بہتر مواقع اور بہتر اجرت کی فراہمی اوراس کے علاوہ بھی کچھ اور چیزیں تھیں جو ہم کرنا چاہتے تھے مگر وہ اتنی اہمیت کے حامل نہیں تھے۔
    ہم اس علاقے اور وہاں کے رہنے والوں کی زندگیوں میں کیا تبدیلیاں لے کر آئے ہیں یہ آپ تب ہی جان پائیں گے جب آپ خود وہاں جائیں گے لوگوں سے باتیں کریں گے اور ان تبدیلیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے ہمیں یہ دعویٰ نہیں ہے کہ ہم نے سب کچھ تبدیل کردیا ہے ظاہر ہے ہم ابھی بھی کام کر رہے ہیں اور تبدیلی ایک مسلسل عمل کا نام ہے لیکن ہم نے ایک اہم کام کا آغاز ضرور کیا ہے اور شاید جتنی بہتری این جی اوز وہاں لائی ہیں اتنی کوئی حکومت بھی نہیں لاسکتی تھی۔”
    شہلا نے اسے کہنی مار کر متوجہ کیا ”کیا تمہیں اب بھی ان پر شک ہے؟”
    ”کیا تمہیں شک ہے؟” اس نے جواباً پوچھا۔
    ”پتا نہیں میں تو بہت ہی کنفیوزڈ ہوں۔ ایک طرف عمر کی باتیں۔ دوسری طرف یہ لوگ… ابھی تو میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔” شہلا بھی اسی کی طرح الجھی ہوئی تھی۔
    ”ابھی تو یہ سب کچھ زبانی بتارہے ہیں جب ہم گاؤں میں جاکر رہیں گے تب ہی ہمیں اندازہ ہوسکے گا کہ کیا یہ واقعی سچ بول رہے ہیں یا پھر یہ واقعی کوئی جھوٹ ہے۔” اس نے شہلا سے کہا۔
    وہ آدمی ایک بار پھر بولنا شروع کرچکا تھا اب وہ اپنی این جی اوز کے بارے میں معلومات فراہم کر رہا تھا اور اس کی کارکردگی کے حوالے سے کچھ حقائق پیش کر رہا تھا۔ سب لوگ بے حد سنجیدگی سے اس کی باتیں سننے میں مصروف تھے۔
    پہلی بار علیزہ کو اندازہ ہوا کہ سچ اور جھوٹ کو پہچاننا کتنا مشکل کام ہے۔ Sense of Judgement ہر بندے کے پاس ہوتی ہے اور اگر ہو بھی تو ضروری نہیں کہ اس کو استعمال کرنے کی صلاحیت بھی سب ہی کے پاس ہو۔ کم از کم اس کیلئے تو یہ سب بہت مشکل تھا۔
    ”اگر عمر کے پاس ٹھوس اعتراضات تھے تو اس چیز کی ان کے پاس بھی کمی نہیں ہے اگر وہ لاجک کی بات کرتا ہے تو یہ شخص بھی ہر چیز کو منطقی بنا کر ہی پیش کر رہا ہے اگر عمر کی بات میں سچائی نظر آئی تھی تو جھوٹا تو یہ آدمی بھی نہیں لگ رہا تھا پھر میں یہ کیسے طے کروں کہ کون صحیح اور کون غلط ہے۔”
    وہ جتنا سوچ رہی تھی اتنا ہی الجھتی جارہی تھی۔
    ***




  • امربیل — قسط نمبر ۵

    امربیل — قسط نمبر ۵

    ”موڈ ٹھیک ہوگیا تمہارے کزن کا؟” شہلا نے ساتھ چلتے چلتے اچانک علیزہ سے پوچھا۔
    ”ہاں۔” وہ ہلکے سے مسکرائی۔
    ”چلو شکر ہے کم از کم تمہارے چہرے پر بارہ بجے والی مستقل کیفیت سے تو چھٹکارا ملا۔” علیزہ اس کی بات پر کچھ جھینپ گئی۔
    ”کیا مطلب؟”
    ”کچھ نہیں یار! میں تو بس یہ کہہ رہی ہوں کہ اب پہلے کی طرح تمہارے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنے کو مل جایا کرے گی جو کئی دن سے غائب تھی۔”
    ”ایسی کوئی بات نہیں ہے۔”
    ”ایسی ہی بات ہے۔ عمر کا موڈ صحیح، تمہارا موڈ صحیح۔ عمر کا موڈ خراب تمہارا موڈ خراب۔”
    ”تم غلط کہہ رہی ہو شہلا۔” اس نے جیسے احتجاج کیا تھا۔
    ”کاش کہ یہ بات واقعی غلط ہوتی مگر ایسا نہیں ہے علیزہ سکندر! آپ مجھے دھوکہ نہیں دے سکتیں۔” اس نے ہینڈ بیگ میں سے کینو نکال کر ساتھ چلتے ہوئے چھیلنا شروع کردیا۔
    ”میں اس کی وجہ سے پریشان تھی مگر۔۔۔”
    شہلا نے اس کی بات کاٹ دی۔”تمہیں میرے سامنے کوئی وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
    I know you inside out”




    اس نے قاش منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔ علیزہ کچھ دیر خاموشی سے اس کے ساتھ چلتی رہی پھر اس نے کچھ مدھم آواز میں کہا۔
    ”میری اس کے ساتھ بہت اچھی انڈر اسٹینڈنگ ہے۔”
    ”صرف انڈراسٹینڈنگ ہونے سے کوئی کسی کیلئے اس طرح پریشان نہیں ہوتا۔”
    وہ صاف گوئی کا ہرا گلا پچھلا ریکارڈ توڑنے پر تلی ہوئی تھی۔
    ”وہ میرا دوست ہے۔”
    ”نہیں! معاملہ دوستی کی حدود سے کافی آگے بڑھ چکا ہے۔”
    ”شہلا! میں۔۔۔”
    شہلا نے کچھ تنک کر اس کی بات کاٹ دی۔ ”تم ڈرتی کیوں ہو، یہ مان لینے سے کہ تم اس سے محبت کرتی ہو۔”
    ”ایسا نہیں ہے۔”
    ”ایسا ہی ہے بلکہ سو فیصد ایسا ہی ہے۔”
    ”اچھا ٹھیک ہے پھر اس سے کیا ہوتا ہے؟”
    ”بہت کچھ ہوتا ہے… علیزہ بی بی! آپ کا پرابلم یہ ہے کہ آپ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے یہ سمجھ لیتی ہیں کہ ساری دنیا اسی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے۔ آپ کو اس سے محبت ہے تو آپ جاکر اس سے کہیں کہ آپ اس سے محبت فرما رہی ہیں۔ وہ بھی خاموش محبت۔”
    ”اس سے کیا ہوگا؟”
    ”اس سے یہ ہوگا کہ یا تو عمر صاحب بھی آپ سے اپنی محبت کا اقرار کرلیں گے یا پھر یہ ہوگا جس کا زیادہ امکان ہے کہ وہ آپ کا دماغ درست کردیں گے۔ کم از کم پھر آپ اس محبت کے چکر سے تو نکل آئیں گی۔”
    علیزہ نے کچھ رنجیدگی سے اسے دیکھا۔ ”مجھے اس سے کچھ بھی نہیں چاہیے۔”
    ”کیا مطلب! تم نہیں چاہتیں کہ وہ تم سے اپنی محبت کا اظہار کرے اور شادی کرے؟” شہلا نے کچھ حیران ہوتے ہوئے اسے دیکھا۔
    ”نہیں۔”
    ”تو پھر۔”
    ”میں بس یہ چاہتی ہوں کہ وہ ٹھیک رہے، پریشان نہ ہو، بس وہ خوش رہے۔”
    ”چاہے اس کی زندگی میں کوئی علیزہ سکندر نہ ہو۔”
    ”چاہے اس کی زندگی میں، میں نہ ہوں۔”
    ”میں تمہیں سمجھ نہیں پائی۔ تم آخر چاہتی کیا ہو۔ مجھے جو چیز اچھی لگے میں چاہتی ہوں وہ مجھے مل جائے۔ میرے Possession میں ہو اور تم… تم عمر سے محبت کرتی ہو تو اس کا اقرار نہیں کرتیں۔ اقرار کرتی ہو تو اسے حاصل کرنا نہیں چاہتیں اور میں سوچتی ہوں کہ اگر تم اس کو حاصل کرلو گی تو پھر تم اسے پاس رکھنا نہیں چاہو گی، ہے نا؟” شہلا کا لہجہ مذاق اڑانے والا تھا۔
    ”کسی چیز کو صرف میری محبت میرے پاس نہیں لاسکتی۔ میں اپنے پیرنٹس سے بھی بہت محبت کرتی ہوں۔ میری محبت انہیں اکٹھا نہیں رکھ سکی نہ انہیں میرے پاس رکھ سکی ہے۔ عمر سے محبت کروں گی تو کیا ہوگا۔ کیا وہ میرا ہوجائے گا؟”




  • امربیل — قسط نمبر ۴

    امربیل — قسط نمبر ۴

    ”عمر کے بارے میں کیا بات کر رہے تھے؟”
    وہ بھی کچھ فکر مند ہو گئی تھی۔ نانو اب بہت الجھی ہو ئی لگ رہی تھیں۔
    ”پتا نہیں اب کیا پرابلم ہے؟”
    نانو بڑبڑائی تھیں۔
    ”انکل جہانگیر کل پاکستان آئیں گے؟”
    اس نے اس بار سوال بدل دیاتھا۔
    ”نہیں ! پاکستان تو وہ دو دن پہلے ہی آچکا ہے!”
    ”انہوں نے آپ کو پہلے انفارم کیوں نہیں کیا؟”
    ”پتہ نہیں !”
    ”ملنے بھی نہیں آئے؟”
    ”اب میں کیا کر سکتی ہوں۔ اس کی مرضی ہے۔”
    ”پہلے تو سیدھا یہیں آیا کرتے تھے۔”
    ”پہلے تو بات ہی اور تھی۔ پہلے تو تمہارے نانا کی وجہ سے وہ سیدھا یہیں آیا کرتا تھا۔ اب جب سے ان کی ڈیتھ ہوئی ہے جہانگیر بہت لاپرواہ ہو گیا ہے۔”
    ”انکل لاہور میں ہی ہیں؟”
    ”پتا نہیں۔ یہ میں نے نہیں پوچھا۔ ہو سکتا ہے، لاہور میں ہی ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ابھی کراچی میں ہو۔”
    ”کل کس وقت آرہے ہیں؟”
    ”کہہ رہا تھا کہ شام کو آئے گا۔”
    ”آپ نے ان سے پوچھا کہ یہاں کتنے دن رہیں گے؟”
    ”تم بے وقوف ہو علیزہ ! بھلا میں یہ کیسے پوچھ سکتی تھی۔ وہ سوچتا ماں کو پہلے ہی اس کی واپسی کی فکر پڑ گئی ہے۔”
    علیزہ کا چہرہ خفت سے تھوڑا سرخ ہو گیاتھا۔
    ”نہیں ، میرا یہ مطلب نہیں تھا ، میں تو اس لئے پوچھنا چاہ رہی تھی تاکہ ان کا کمرہ اسی طرح سیٹ کر سکوں۔رہیں گے تو یہیں نا؟”
    ”ہاں، کہہ تو یہی رہا ہے کہ یہیں رہے گا مجھ سے کہہ رہا تھا کہ عمر کو اس کی آمد کے بارے میں کچھ نہ بتاؤں۔ میں نے کہا کہ عمر تو یہاں ہے ہی نہیں۔ کہنے لگا کہ پھر بھی اسے میرے آنے کی اطلاع نہیں ہونی چاہئے۔”
    ”انکل جہانگیر نے ایسا کیوں کہا؟”
    علیزہ کچھ حیران ہوئی تھی۔
    ”آخر عمر سے وہ اپنی آمد کیوں چھپانا چاہ رہے ہیں؟”
    ”یہ تو میری بھی سمجھ میں نہیں آیا۔”
    ”پتا نہیں انکل جہانگیر اور عمر کا اتنا جھگڑا کیوں ہوتا رہتا ہے؟”
    ”دونوں غصہ ور ہیں۔ دونوں ہی اپنی منوانے والے ہیں۔ پھر جھگڑا نہیں ہو گا تو اور کیا ہو گا۔ بہرحال تم جہانگیر کے لئے بھی کمرہ تیار کروا دو۔”
    ”نانو انکل اکیلے آرہے ہیں؟”
    ”ہاں ! اکیلا ہی آ رہا ہے۔”
    نانو اٹھ کر کچن کی طرف چلی گئی تھیں۔
    علیزہ کچھ دیر خاموشی سے وہاں بیٹھی کچھ سوچتی رہی پھر اٹھ کر عمر کے کمرے کی طرف آگئی تھی۔ کمرے میں عمر کے کلون کی مہک ابھی تک موجود تھی۔ وہ کچھ سوچتے ہوئے اسٹڈی ٹیبل کی طرف گئی تھی، وہاں عمر کا وہ اسکیچ موجود نہیں تھاجو اس نے کل وہاں رکھا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ عمر وہ اسکیچ دیکھ چکاتھا۔ اسے نامعلوم سی خوشی ہوئی تھی۔ وہ واپس مڑنے کو تھی جب اس کی نظر اسٹڈی ٹیبل کے پاس پڑی ویسٹ پیپر باسکٹ پر پڑی تھی۔ اس میں صرف ایک مڑا تڑا کاغذ پڑا ہوا تھا اور وہ اس کاغذ کو ہاتھ لگائے بغیر بھی جانتی تھی کہ وہ کونسا کاغذ تھا۔
    ٭٭٭




  • امربیل — قسط نمبر ۳

    امربیل — قسط نمبر ۳

    اگلے دن یونیورسٹی میں اس کا دل نہیں لگا تھا۔ گھر واپس آتے ہی وہ سیدھا کچن میں گئی۔
    ”نانو رات کے لئے کیا پکوا رہی ہیں!”
    ” کوئی خاص چیز کھا نے کو دل چاہ رہا ہے؟”
    نانو نے مسکراتے ہوئے پوچھاتھا۔
    ”نہیں ! میں اپنے لئے نہیں عمر کے لئے پوچھ رہی ہوں۔ اس کے لئے کیا بنوا رہی ہیں۔”
    نانو کرسی پر بیٹھی ملازم سے فریزر صاف کروا رہی تھیں۔ انہوں نے کچھ حیرانی سے دیکھاتھا۔




    ”عمر کے لئے تو کچھ بھی نہیں بنوارہی۔”
    ”کیوں نانو ؟”
    وہ کچھ حیران رہ گئی۔
    ”آپ کو یاد ہے نا کہ وہ رات کو آ رہا ہے؟”
    ”ہاں ، مجھے یاد ہے ، وہ دو بجے کی فلائٹ سے یہاں آئے گا۔ پہنچتے پہنچتے اسے تین بج جائیں گے ظاہر ہے کہ اس وقت تو وہ کھانا نہیں کھائے گا، سیدھا سونے کے لئے چلا جائے گا۔”
    ”پھر بھی نانو! فرض کریں اس نے کھانا نہ کھا یا ہوا تو؟”
    ”یہ فرض کرنے والی بات ہے ہی نہیں ، وہ رات کا کھانا یقیناً فلائیٹ میں ہی کھائے گا۔ تم جانتی ہو کہ کھانے کے معاملہ میں وہ کتنا باقاعدہ ہے۔”
    ”پھر بھی نانو! بھوک کا کیا ہے۔ وہ تو کسی بھی وقت لگ سکتی ہے، اگر اس نے کچھ کھا نے کے لئے مانگ لیا؟”
    ”بعض دفعہ تم حماقت کی حد کر دیتی ہوعلیزہ! اس طرح بات کر رہی ہو جیسے گھر میں کھانے کے لئے کچھ ہو ہی نا۔ تمہیں پتہ ہے ہر وقت فریج میں دو، تین ڈشز ضرور ہوتی ہیں۔ بھوکا نہیں سو ئے گاوہ۔”
    علیزہ کچھ شرمندہ سی ہو گئی تھی۔
    ”البتہ کل کے لئے میں کافی ڈشز بنوا رہی ہوں، تم دیکھ لینا بلکہ خود بھی خانساماں سے کہہ دینا ، اگر کوئی خاص چیز وہ بھو ل جائے تو۔”
    وہ اب دوبارہ ملازم کی طرف متوجہ ہو چکی تھیں۔
    ”میں دیکھ لوں گی ، آپ فکر نہ کریں۔”
    وہ کچن سے باہر آگئی تھی، لاؤنج کی گھڑی تین بجا رہی تھی۔
    ”اور وہ رات کے تین بجے گھر پہنچے گا۔ ابھی پورے بارہ گھنٹے باقی ہیں اور مجھے ان بارہ گھنٹوں میں کیا کرنا چاہئے ؟”
    اس نے سوچنے کی کوشش کی تھی۔
    اپنے کمرے میں جاکر رات کو پہننے کے لئے کپڑے دیکھنے شروع کر دئیے تھے۔ پھر ایک لباس اس نے منتخب کر ہی لیاتھا ایک خیال آنے پر وہ واپس کچن میں آگئی تھی۔
    ”نانو ! عمر ڈرائیور کو پہچانے گاکیسے ؟ یہ ڈرائیور تو نیا ہے اور ڈرائیور بھی عمر کو نہیں پہچانتا!”
    ”میں نے ڈرائیور کو عمر کی تصویر دکھا دی تھی۔ مزید احتیاط کے طور پر میں نے اسے کارڈ پر عمر کا نام لکھ دیا ہے۔ عمر کارڈ اس کے پاس دیکھ کر خود ہی آ جائے گا۔”
    ”ہاں ! یہ ٹھیک ہے۔”
    وہ مطمئن ہو کر واپس اپنے کمرے میں آگئی تھی۔
    رات کا کھانا اس نے نانو کے ساتھ آٹھ بجے کھالیا۔ پہلی بار کلاک کو بار بار دیکھتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ وقت کو پر نہیں لگتے بلکہ بعض دفعہ وقت بالکل رک بھی جاتا ہے۔ اس کی تیز رفتاری ہی صبر آزما نہیں ہوتی ۔بعض دفعہ اس کی سست رفتاری بھی تکلیف دہ ہوتی ہے۔
    ”نانو، آپ ڈرائیور کو کتنے بجے بھیجیں گی ؟”
    کھانے سے فارغ ہو کر علیزہ نے پوچھاتھا۔
    ”ایک بجے۔”
    ”آپ عمر کا انتظار کریں گی؟”
    ”ظاہر ہے ،مجھے تو ویسے بھی رات کو نیند نہیں آتی مگر تم چاہو تو جا کر سو جاؤ۔”
    ”نہیں نانو ! میں بھی انتظار کروں گی۔”
    ”تمہیں صبح یونیورسٹی جانا ہے۔”
    نانو نے اسے یاد دلایا۔
    ”ہاں ! مجھے پتہ ہے لیکن کچھ نہیں ہوگا۔”




  • امربیل — قسط نمبر ۱

    امربیل — قسط نمبر ۱

    مجھے یہ کہنا ہے

    بعض کہانیاں لکھتے ہوئے آپ کو ایک مستقل خلش کا احساس ہوتا رہتا ہے کیونکہ آپ جانتے ہیں، یہ کہانی کہیں کوئی تبدیلی نہیں لائے گی۔ امربیل بھی ایک ایسی ہی کہانی ہے جسے لکھتے ہوئے میں اسی احساس سے دوچار ہوں پھر بھی میں اس کہانی کو اس لئے لکھ رہی ہوں تاکہ آپ لوگ زندگی کے ایک اور پہلو کو جان سکیں۔ ان لوگوں کے دلوں اور ذہنوں پرایک نظر ڈال سکیں۔ جو پاکستان کے قیام کے بعد سے اس ملک کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں۔ اچھے طریقے سے یا برے طریقے سے۔ بہرحال وہ اس ملک کو چلا رہے ہیں اور خود وہ اپنی زندگیوں میں کس ابنارمیلٹی کا شکار ہیں۔ امربیل میں آپ یہی دیکھ پائیں گے۔
    اس ناول کو پڑھتے ہوئے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہ کوئی سیاسی ناول نہیں ہے، نہ ہی یہ کوئی تاریخی اور معاشرتی ناول ہے۔ یہ خواہش اور چاہ کا ناول ہے یا پھر سو دو زیاں کا۔ بعض دفعہ ساری زندگی گزارنے کے بعد بھی ہم یہ جان نہیں پاتے کہ ہمیں آخر زندگی میں کس چیز کی ضرورت تھی… کسی چیز کی ضرورت تھی بھی یا نہیں اور بعض دفعہ زندگی کے آخری لمحات میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ جس چیز کو ہم نے زندگی کا حاصل بنا رکھا تھا، اس چیز کے بغیر زندگی زیادہ اچھی گزر سکتی تھی۔ امربیل کے کردار بھی آپ کو آگہی کے اسی عذاب سے گزرتے نظر آئیں گے۔
    میں نے اس ناول میں کرداروں کی بھیڑ اکٹھی نہیں کی۔ صرف چند لوگ ہیں جو پہلے اپنے ارد گرد انسانی رشتوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور بعد میں صرف انسانوں کی … جو کوشش انہوں نے کبھی نہیں کی، وہ اپنے آپ کو تلاش کرنے کی ہے۔
    بنیادی طور پر امربیل ان ناولوں میں سے ایک ہے جو صرف ایک کردار کے لئے لکھا گیا اور یہ ایک ہی کردار کا ناول ہے۔ اب وہ کردار کس کا ہے… یہ آپ کو خود معلوم کرنا ہو گا۔ ہاں میں یہ دعویٰ کر سکتی ہوں کہ آپ اس کردار سے چاہنے کے باوجود بھی نفرت نہیں کر پائیں گے۔ حقیقت میں بھی آپ ایسے کرداروں کے ساتھ ایسی ہی محبت میں گرفتار رہتے ہیں اور … اور… یہی آپ کی غلطی ہے۔
    آئیے غلطی دہرائیں۔




    کوئی چھاؤں ہو
    جسے چھاؤں کہنے میں
    دوپہر کا گمان نہ ہو
    کوئی شام ہو
    جسے شام کہنے میں شب کا کوئی نشان نہ ہو
    کوئی وصل ہو
    جسے وصل کہنے میں ہجر رت کا دھواں نہ ہو
    کوئی لفظ ہو
    جسے لکھنے پڑھنے کی چاہ میں
    کبھی اک لمحہ گراں نہ ہو
    یہ کہاں ہوا ہے کہ ہم تمہیں
    کبھی اپنے دل سے پکارنے کی سعی کریں
    وہیں آرزو بے اماں نہ ہو۔
    وہیں موسمِ غمِ جاں نہ ہو

    عمیرہ احمد




  • عکس — قسط نمبر ۱۶ (آخری قسط)

    ”کیا دیکھ رہی ہیں آپ اس آئینے میں؟” مثال نے کچھ تجسس آمیز انداز میں عکس سے پوچھا جو اس Cheval mirror کے سامنے کھڑی اس آئینے کے فریم کو اپنی انگلیوں سے غیر محسوس انداز میں یوں چھو رہی تھی جیسے اس کے ہونے کا احساس چاہتی ہو… فریم پر موجود بار بار کی جانے والی پالش بھی اب اس کی بوسیدگی اور خستگی کو چھپانے میں ناکام ہورہی تھی۔
    فریم کو چھوتے ہوئے اس پر موجود گرد کو اپنی پوروں کو آپس میں رگڑ کر محسوس کرتے ہوئے وہ مثال کی بات پر مسکرائی تھی۔
    ”میں اس آئینے میں تاریخ دیکھ رہی ہوں۔”
    ”کیسی تاریخ؟” مثال کا تجسس کچھ اور بڑھا۔
    ”اپنی زندگی کی تاریخ… اپنا ماضی… اس ماضی سے جڑے چہرے…” اس نے فریم سے اپنا ہاتھ ہٹاتے ہوئے آئینے میں جھلکتے اپنے عکس کو ایک بار پھر دیکھا پھر اپنے برابر میں کھڑی مثال پر ایک مسکراتی ہوئی نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”اچھا… ممی بھی اس آئینے کے سامنے اسی طرح فریز ہو گئی تھیں جس طرح آپ ہوئی ہیں… میں نے ان سے بھی پوچھا تھا کہ وہ اس میں کیا دیکھ رہی ہیں؟” مثال نے اسی دلچسپی سے اس آئینے پر نظر دوڑاتے ہوئے آئینے میں نظر آتی ہوئی عکس سے نظریں ملاتے ہوئے کہا۔
    ”کیا کہا انہوں نے؟” عکس نے اس بار پلٹ کر مثال کو دیکھا۔




    ”انہوں نے کہا وہ اس آئینے میں مستقبل کو دیکھ رہی ہیں۔ آنے والے دنوں کا عکس جو اس میں کہیں چھپا ہے… عجیب بات ہے ناں… آپ اس میں ماضی دیکھ رہی ہیں… ممی مستقبل… مجھے کیا دیکھنا چاہیے… حال؟” مثال نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا۔ عکس اس کی بات پر مسکرا دی پھر اس نے پلٹ کر دوبارہ آئینے کو دیکھا۔
    ”میرا بچپن اس آئینے کے ساتھ گزرا ہے… میرا، شہربانو اور شیردل تینوں کا بچپن دیکھا ہے اس نے۔”
    ”ممی آپ بھول رہی ہیں۔ میرا، طغرل اور باذل کا بچپن بھی تو دیکھا ہے اس نے۔” مثال نے اسے ٹوکا۔
    ”ہاں اورتم بھول رہی ہو کہ توران کا بچپن بھی تو دیکھ رہا ہے یہ۔” اس نے مثال کو جیسے یاد دلایا۔
    ”اوہ ہاں… یہ آئینہ تو واقعی ہماری فیملی heritage کا ایک حصہ بن گیا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے اسے یہاں نہیں ہمارے خاندانی گھر میں ہونا چاہیے۔”
    ”آئیڈیا برا نہیں ہے لیکن سرکاری ملکیت ہے یہ۔” عکس نے کہا۔
    ”ممی میں اور ابراہیم گھر کو renovate کرنے والے ہیں… فرنیچر بھی بدلا جائے گا اور کاٹھ کباڑ میں یہ آئینہ بھی نکالنے والے ہیں ہم… بہت زیادہ پرانا اور outdated ہو گیا ہے یہ۔” مثال نے اس کے ساتھ جیسے اپنا پلان شیئر کیا۔
    ”کیوں… ابھی تو ٹھیک ہے یہ۔” عکس نے اعتراض کیا۔
    ”ممی ٹھیک نہیں ہے… کم از کم سو سال پرانا ہو گیا ہے یہ… میں اور ابراہیم تو حیران تھے اس بات پر کہ آخر اب تک ٹکا کیسے ہوا ہے یہ… کسی آفیسر یا اس کی وائف نے ہٹایا کیوں نہیں اسے یہاں سے… نانا، نانی سے لے کر آپ اور پاپا تک کسی کو بھی اسے یہاں سے ہٹانے کا خیال نہیں آیا۔” وہ کچھ حیرانی سے کہہ رہی تھی۔ عکس نے ایک پراسرار مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
    ”میں نے تمہیں بتایا ہے ناں یہ ہماری زندگیوں کا حصہ رہا ہے… اس میں ہم لوگ اپنا، اپنا عکس دیکھتے رہے ہیں… اپنی اپنی زندگیاں بنانے یا بگاڑنے والے چہروں کا عکس۔” مثال کو لگا عکس بات کرتے کرتے جیسے کچھ سنجیدہ ہوئی تھی۔
    ”آپ نے اس میں کوئی ایسا چہرہ دیکھا جس نے آپ کی زندگی بگاڑی ہو؟” مثال نے دلچسپی سے کچھ سوچے سمجھے بغیر اپنی طرف سے ایک معمول کا سوال کیا تھا۔ اس سوال نے عکس کو کچھ دیر کے لیے ہلنے نہیں دیا۔ اس کے لیے اس سوال کا جواب بہت مشکل تھا۔ وہ ہاں کہتی اور مثال اس سے اس شخص کا نام پوچھتی… وہ جھوٹ جو اسے بعد میں بولنا تھا وہ شاید پہلے ہی بول دینا چاہیے تھا۔
    ”آپ کیا سوچ رہی ہیں؟” مثال نے اسے دوبارہ مخاطب کیا۔ عکس نے چونک کر اسے دیکھا۔
    ”میں نے اس چہرے کو اپنی زندگی بگاڑنے نہیں دی۔” وہ عکس کی بات پر تجسس آمیز انداز میں مسکرائی۔
    ”یعنی آپ نے بھی اس آئینے میں کوئی ایسا چہرہ دیکھا تھا؟” وہ اب جیسے زور دینے والے انداز میں بولی تھی۔ ”آپ کو پتا ہے ہم لوگوں نے اس گھر کے بارے میں بھی ملازموں سے بہت عجیب و غریب باتیں سنی ہیں۔ پاپا اور آپ یہاں نہ رہ چکے ہوتے تو میں اور ابراہیم تو کبھی یہاں نہ رہتے۔” وہ اب عکس کو بتا رہی تھی وہ دلچسپی سے سننے لگی۔ ”آپ نے کبھی اس گھر کے بارے میں کچھ سنا تھا؟” مثال نے اب عکس سے ڈائریکٹ پوچھا۔
    ”مثلاً کیا؟” عکس نے دھیمی آواز میں اس سے نظر ملائے بغیر کہا۔ یہ جاننے کے باوجود کہ مثال نے اس گھر کے بارے میں کیا سنا ہو گا۔
    ”بہت ساری باتیں کہہ رہے ہیں ملازم لیکن سب سے عجیب و غریب بات یہ ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ اس گھر میں جو کپل بھی رہتا ہے ان کا break up ہو جاتا ہے… کتنی خوفناک بات ہے ناں ممی… میں تو ڈر ہی گئی یہ سن کے لیکن ابراہیم کو بالکل یقین نہیں ہے ایسی باتوں پہ… آپ یقین کرتی ہیں ایسی باتوں پہ؟” اس نے عکس کو دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں۔” عکس نے بلاتوقف کہا۔ مثال نے ایک کھسیانی مسکراہٹ کے ساتھ عکس کو دیکھا۔
    ”مجھے پتا تھا، آپ کہاں یقین کرنے والی ہیں ایسی باتوں پہ۔ ابراہیم بھی آپ ہی کی مثال دیتا ہے کہ ممی کو دیکھو وہ کتنی بار Serve کر چکی ہیں اس شہر میں۔ اگر ایسا کچھ ہوتا تو ان پر بھی کوئی effect ہوتا… لیکن وہ تو ہمیشہ گھر جوڑنے والی رہی ہیں۔ ان کو تو ہمیشہ فائدہ ہی ہوا ہے اس گھر میں… ہے ناں ممی؟” اس نے بات کے آخر میں استفہامی انداز میں عکس سے پوچھا۔ وہ مسکرا دی۔ پھر وہ آہستہ قدموں کے ساتھ برآمدے سے باہر نکل آئی۔ مثال بھی اس کے ساتھ باہر آگئی تھی۔ وہ دونوں اب ساتھ چلتے ہوئے گھر کے بالکل سامنے موجود لان میں آگئی تھیں۔ عکس نے لان میں پہنچ کر پلٹ کر روپہلی دھوپ میں روشن اس قدیم گھر کو دیکھا۔ مثال بھی اس کی نظروں کے تعاقب میں اس گھر کو دیکھنے لگی۔ عکس نے چند لمحے اس گھر کو دیکھتے رہنے کے بعد کہنا شروع کیا۔
    ”اس گھر میں اور زندگی میں کوئی فرق نہیں ہے… کم از کم میرے نزدیک… اس گھر میں داخل ہونا جیسے دنیا میں آنے کے برابر ہے… دنیا میں کچھ اچھے لوگ ملتے ہیں، کچھ برے لوگ… اچھوں کی اچھائی بھی زندگی بدل سکتی ہے، بروں کی برائی بھی… پر جگہوں میں کچھ نہیں ہوتا۔ جو بھی کچھ ہوتا ہے وہاں بسنے والے انسانوں کی وجہ سے ہوتا ہے… تمہیں سمجھ آرہی ہے میری بات؟” عکس نے گردن موڑ کے برابر کھڑی مثال کو دیکھا۔ وہ جواباً مسکرا دی۔
    ”سمجھنے کی کوشش کررہی ہوں۔” عکس بھی اس کی بات پر مسکرائی۔ پھر وہ دوبارہ گھر کو دیکھنے لگی۔
    ”گھروں میں کچھ نہیں ہوتا، وہ انسانوں کو جوڑنے یا توڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، وہ بس اینٹوں، سیمنٹ، سریے اور لکڑی کی ایک عمارت کے علاوہ کچھ نہیں ہوتے… ان کے اندر آکر رہنے والے انسان اپنی سوچ، عمل اور رویوں سے اپنی زندگی بناتے یا بگاڑتے ہیں۔” مثال بہت سنجیدگی سے عکس کی بات سن رہی تھی وہ ہمیشہ اس کی بات اسی سنجیدگی اور انہماک سے سنا کرتی تھی، عکس مراد علی اس کا آئیڈیل تھی۔ وہ ہمیشہ اس جیسا بننا چاہتی تھی۔ لیکن ہر بار وہ یہ اعتراف کرتی تھی کہ ان جیسا بننا بہت مشکل کام تھا۔ کم از کم مثال شیردل کے لیے… یا کسی کے لیے بھی۔ مثال نے زندگی میں عکس مراد علی جیسی کوئی شخصیت نہیں دیکھی تھی اوراسے فخر تھا وہ ”شخصیت” اس کی زندگی کا حصہ تھی، اس کی ماں تھی۔
    ”میں اس گھر کے ایک کوارٹر میں پیدا ہوئی تھی۔ وہ کوارٹر اب وہاں ہے بھی نہیں۔” عکس نے دوبارہ کہنا شروع کیا۔ ”میں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کوارٹر سے باہر نکل کے میں کبھی اس گھر میں آکے رہوں گی… اس گھر میں اپنی ماں اور نانا کے ساتھ آیا کرتی تھی۔ وہ دونوں کام کرتے تھے یہاں… یہاں پوسٹ ہونے والے آفیسرز اور ان کی فیملیز کی خدمت کیا کرتے تھے… میں اس back ground کے ساتھ اس گھر میں آئی تھی پھر اس گھر میں رہنے والے ایک کپل نے مجھے اچھی تعلیم دلوانے کے میرے نانا کے خواب کو پورا کرنے میں ان کی مدد کی۔ اس گھر میں میری زندگی کی بنیادیں ہیں۔ وہ بنیادیں جن پر آج میری زندگی کی عمارت کھڑی ہے… یہاں پر میں اپنے بہترین دوست اور جیون ساتھی سے ملی۔ یہاں میری پہلی اولاد ہوئی… میری زندگی کے بہت سارے Milestones اس گھر سے وابستہ ہیں۔”
    ”آپ کے لیے تو یہ گھر بڑا Lucky رہا ہے پھر۔” مثال نے مرعوب انداز میں کہا۔ عکس اس کی بات پہ ہنس پڑی اور اس نے اس طرح مسکراتے ہوئے اس گھر کو دوبارہ دیکھا پھر کہا۔
    ”اس گھر میں، میں نے اپنے باپ کو کھویا، اپنی زندگی کے سب سے قیمتی اثاثے، اپنے نانا کو کھویا… یہاں میں اپنے بچپن میں Child abuse کا شکار ہوئی… بہت ذلت اور بے عزتی کی حالت میں اپنی فیملی کے ساتھ دھکے دے کے نکالی گئی۔ میرے کیریئر میں واحد معطلی بھی اسی گھر میں ہوئی۔” عکس نے مسکراتے ہوئے مثال کو دیکھا۔ وہ اب الجھی ہوئی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ ”اب تم سوچ رہی ہو گی کہ نہیں، یہ گھر تو میرے لیے بہت Unlucky ثابت ہوا۔” مثال کچھ بے بسی سے مسکرائی تھی۔ ”میں نے تم سے کہا ناں، گھروں میں کچھ نہیں ہوتا۔ انسان نے چوٹ کھا کے گرنا ہے یا تکلیف سہتے ہوئے بھی کھڑے رہنا ہے؟ یہ فیصلہ اس کی ہمت کرتی ہے، گھر نہیں۔” عکس نے مسکراتے ہوئے اس سے کہا۔
    ”لیکن ممی اس گھر کے ملازم کہتے ہیں کہ یہاں انہوں نے بونے دیکھے ہیں، اور ہم نے بھی کچھ عجیب عجیب آوازیں اور چیزیں experience کی ہیں۔” مثال کی بات پہ عکس مسکرائی اور اس نے کہا۔
    ”میں بھی بچپن میں یہاں بہت عجیب چیزیں دیکھتی تھی۔” مثال اس کے اس غیر متوقع جملے پر کچھ حیران ہوئی پھر اسی حیرانی سے کہا۔
    ”اوہ، رئیلی ممی۔” عکس مثال کو دیکھنے لگی۔
    ”ہاں۔”پھر اس نے مدھم آواز میں کہا۔
    ”آپ نے کبھی یہاں بونے دیکھے؟” مثال نے بڑے تجسس سے پوچھا۔ اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے عکس کی آنکھوں کے سامنے پتا نہیں کیا کچھ گزر کرچلا گیا تھا۔ وہ سارے Mental Block چند لمحوں کے لیے جیسے بالکل بیکار ہو کے رہ گئے تھے، جس سے اس نے اپنی زندگی کی اس سیاہ ترین رات کو چھپایا ہوا تھا۔
    ”آپ خاموش کیوں ہیں ممی؟” مثال نے اسے خاموش دیکھ کے جیسے اس کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی، عکس نے چونک کر اسے دیکھا۔
    ”بتائیں ناں، آپ نے کبھی اس گھر میں بونے دیکھے؟”
    ”ہاں۔” عکس نے مدھم آواز میں کہا۔ مثال یکدم excited ہوئی۔
    ”Oh my God… آپ نے واقعی بونے دیکھے؟” عکس نے سرہلایا۔ اس نے اسی انداز میں عکس سے پوچھا۔ کتنے بونے دیکھے؟”
    ”ایک۔” عکس نے مدھم آواز میں کہا۔ مثال نے ایک بار پھر excited انداز میں کہا۔ ”wow! وہ بونا دیکھنے میں کیسا تھا؟ آپ کو ڈر لگا اس سے؟ اس نے آپ سے کچھ کہا…؟ کچھ کیا؟” مثال نے جیسے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی تھی۔
    عکس نے ایک گہری سانس لی۔
    اتنے بہت سارے سوالوں کا جواب اور وہ بھی اس کے بچپن کے اس تکلیف دہ واقعے کے بارے میں جس کو سوچنا زخموں پر پاؤں رکھ کر گزرنے جیسا تھا۔
    ”آپ کو اس کی شکل یاد نہیں آرہی؟” مثال نے اسے خاموش دیکھ کر کریدا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھ کر مسکرا دی۔ وہ جیسے اسے سوال کا جواب نہ دینے کا موقع دے رہی تھی۔
    ”بعض چہرے انسان چاہے تو بھی نہیں بھول سکتا۔” اس نے مدھم آواز میں کہنا شروع کیا۔”وہ بونا بہت خوب صورت تھا… اچھی شکل صورت کا …انسانی شکل صورت اور وجود … بہت دراز قد…”