Tag: fawad khan

  • عکس — قسط نمبر ۱۵

    طغرل نے اس آئینے میں پہلے اپنے آپ کو دیکھا پھر اپنے عقب میں آئے شیردل اور عکس کو دیکھا۔ اسے وہاں رکے دیکھ کر شیردل بھی وہاں چند لمحوں کے لیے رک گیا تھا۔ عکس نے پلٹ کر ایک بار پھر باذل کا ہاتھ پکڑ لیا جس نے بڑی مہارت سے گاڑی سے نکل کر یہاں برآمدے میں آنے تک چند قدموں کے فاصلے میں دو بار اس سے اپنا ہاتھ چھڑایا تھا۔ اس پر قابو پانا صرف اسی کا کمال تھا۔
    ”تمہیں پتا ہے میں نے تمہاری ممی کو پہلی بار کہاں دیکھا تھا؟” عکس نے آئینے کے سامنے کھڑے شیردل کو طغرل سے کہتے سنا۔
    ”کہاں پاپا؟” طغرل نے بڑی دلچسپی سے گردن موڑ کرباپ کو دیکھا۔
    ”اسی مرر میں۔” عکس کی نظریں آئینے میں شیردل سے ملی تھیں۔ ان آنکھوں میں شیردل کو حیرانی نظر آئی۔ وہ مسکرایا تھا اور وہ حیرانی پل بھر میں ایک کھلکھلاہٹ میں بدل گئی تھی۔ عکس ہنس پڑی تھی۔ اسے یاد آگیا تھا شیردل ٹھیک کہہ رہا تھا۔ اس نے پہلی بار اسے اسی آئینے میں دیکھا تھا جب وہ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر ٹینس شاٹس کی پریکٹس کرتا تھا اور وہ برآمدے کے ایک ستون کے پیچھے چھپی اسے دیکھتی رہتی تھی… کسی میکانیکی انداز میں اس نے بے اختیار گردن موڑ کر اس ستون کو دیکھا تھا۔ ستون اب بھی وہیں تھا لیکن اس کے گرد وہ بیل نہیں تھی شاید نمی کے اثرات کو روکنے کے لیے ان تمام بیلوں کو ستونوں اور دیواروں سے کاٹ کر الگ کر دیا گیا تھا جو کئی سال پہلے اس گھر کی شناخت تھیں۔ عکس نے بے اختیار ایک گہری سانس لی۔ گھر بہت بدل گیا تھا۔ اس کے باوجود وہ اس کی ایک، ایک چیز کو آج بھی آنکھیں بند کیے چھو کر بھی پہچان سکتی تھی۔ وقت زندگی کو کس طرح بہا کر لے جاتا ہے کہ انسان خود بھی اسے روکنے بیٹھے تو روک نہ سکے… گزر جانے والے لمحوں کو گننے بیٹھے تو گنتی بھول جائے۔




    ”آپ مذاق کررہے ہیں۔” نو سالہ طغرل نے پہلے الجھ کر پھر ہنس کر اسی آئینے میں دیکھتے ہوئے شیردل سے کہا۔ اس کے تبصرے نے عکس کی توجہ ایک بار پھر اپنی طرف کھینچ لی۔
    ”کیوں؟” شیردل نے طغرل سے پوچھا۔
    ”ممی اس مرر میں کیسے ہو سکتی ہیں؟” طغرل نے جیسے اپنی بے یقینی کی وضاحت کی۔
    ”دیکھو ابھی ہیں یا نہیں؟” شیردل نے اس کی وضاحت کے جواب میں آئینے میں نظر آتی عکس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اطمینان سے پوچھا۔ طغرل نے آئینے میں عکس کو دیکھا۔ باپ ٹھیک کہہ رہا تھا۔ وہ واقعی آئینے میں تھی۔ طغرل الجھا پھر ہنس پڑا۔
    ”پاپا یہ تو ان کا reflection ہے۔” اس نے جیسے شیردل کی کم علمی بتائی۔
    ”یعنی عکس ہے۔” شیردل نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    عکس تب تک ان کے قریب آچکی تھی۔ اس نے شیردل کے کندھے کو ہولے سے چھوتے ہوئے کہا۔ ”تم بس کر دو اب… کب تک اس بے چارے کو تنگ کرتے رہو گے۔ ذرا اسے سنبھالو تو پھر پتا چلے۔” اس نے باذل کا ہاتھ شیردل کے ہاتھ میں دے دیا۔
    شیردل نے ایک نظر سات سالہ باذل کو دیکھا پھر جیسے کچھ احتجاجی انداز میں عکس سے کہا۔ ”تم ہمیشہ مجھے مشکل چیلنج دیتی ہو۔”
    ”تم ہر آسان چیلنج کو بھی مشکل بنا لیتے ہو اپنے لیے۔” وہ اطمینان سے کہتے ہوئے آگے بڑھ آئی تھی۔ آج اس آئینے کے سامنے کھڑے اس نے اس آئینے میں اپنے شوہر اور بچوں کے علاوہ کسی اور چیز کو کھوجنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ وہ تلاش کئی سال پہلے ہی ختم ہو گئی تھی۔
    ”پاپا! آپ کیا مجھے اٹھا سکتے ہیں؟” شیردل کے ساتھ اندرونی دروازے کی طرف جاتے ہوئے باذل کے قدم تھمے اور اس نے بڑی معصومیت سے شیردل سے پوچھا۔
    ”میں اٹھا سکتا ہوں لیکن اٹھاؤں گا نہیں۔” شیردل نے جواباً ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
    ”ممی اٹھا سکتی ہیں مجھے۔” باذل نے جیسے باپ کی مردانگی کو چیلنج دیا جسے شیردل نے انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ نظرانداز کیا۔ عکس بڑی خاموشی کے ساتھ باپ بیٹے کی گفتگو سنتے ہوئے اندر کی جانب بڑھتی رہی۔
    ”تمہاری ممی اس گھر میں dwarfs (بونے) دیکھا کرتی تھیں جب وہ چھوٹی تھیں۔” شیردل نے چلتے چلتے یک دم جیسے کچھ یاد آنے پر طغرل کو بتایا۔
    ”Really mummy?۔” طغرل چلتے چلتے بے یقینی کے عالم میں رک کر عکس کو دیکھنے لگا۔ وہ بھی ٹھٹک گئی تھی اس کے چہرے پر ایک رنگ سا آکر گزر گیا تھا۔
    ”dwarfs… بونے… آئینہ…” شیردل نے اسے کیا یاد دلا دیا تھا۔ اسے وہ سات ساتھی بونے بھی یاد آگئے تھے۔ اس کے تصوراتی دوست… لیکن جس برق رفتاری سے وہ یاد آئے تھے اسی برق رفتاری سے ان کے حلیے، حرکتیں اور نام یاد نہیں آئے تھے… اس میں وقت لگا تھا… اس میں اگلے دو دن لگ گئے تھے۔
    ”پاپا مذاق کر رہے تھے۔” عکس نے مدھم انداز میں طغرل کی حیران آنکھوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا۔ شیردل نے گردن پلٹ کر جیسے پرحیرت نظروں سے اسے دیکھا۔
    ”میں مذاق کررہا ہوں؟ تم نے خود ہی تو مجھے بتایا تھا ایک بار کہ تم نے یہاں…” عکس نے اس کی بات کاٹ دی۔
    ”بچپن کی بات تھی وہ اور بچپن میں انسان کو پتا نہیں کیا کیا وہم ہوتے رہتے ہیں۔” وہ بڑی سہولت سے کہہ کر آگے بڑھ گئی تھی۔ شیردل نے کچھ حیرانی سے اسے جاتے دیکھا۔
    ”پاپا، ممی نے really dwarfs دیکھے تھے یہاں؟” طغرل کا تجسس کم نہیں ہوا تھا۔
    ”اپنی ممی سے پوچھنا، وہ آپ کو بتائیں گی۔” شیردل بھی اسے ٹالتے ہوئے آگے بڑھ گیا تھا۔
    ……٭……
    اس گھر میں عکس مراد علی کی وہ دوسری پوسٹنگ تھی۔ پورے دس سال کے بعد… لیکن اس بار وہ وہاں کمشنر کی حیثیت سے آئی تھی۔ اس شہر کو ڈویژن کا درجہ حاصل ہو جانے کے بعد وہاں تعینات ہونے والی پہلی کمشنر… کمشنر کی رہائش گاہ زیرتعمیر تھی اور اس کے زیرتعمیر ہونے کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر کی سرکاری رہائش گاہ کو وقتی طورپر کمشنر ہاؤس کا سرکاری درجہ دے دیا گیا تھا۔ گھر میں سامان کی شفٹنگ کا کام پہلے ہی مکمل ہو چکا تھا لیکن یہ کام شیردل کی نگرانی میں ہوا تھا۔ وہ آج پوسٹ ہونے کے بعد پہلی بار اس گھر میں آئی تھی اور عجیب بات یہ تھی کہ دس سال پہلے ہونے والی یہاں اپنی پہلی پوسٹنگ کی طرح وہ آج اس طرح جذباتی نہیں ہوئی تھی نہ ہی اتنی ایکسائیٹڈ تھی… شاید اس لیے کیونکہ اس کے نانا اس کے ساتھ نہیں تھے۔ اس بار وہ ایک قلعہ فتح کرنے وہاں نہیں آئی تھی۔
    اس گھر کے ہال کمرے میں داخل ہوتے ہوئے عکس مراد علی نے عجیب سی اداسی محسوس کی۔ نانا اسے ایک بار پھر بری طرح یاد آنے لگے تھے۔ وہ آج ایک بار پھر اسے اس گھر میں کمشنر کے طور پر آتے دیکھتے تو بے حد خوش ہوتے۔ بہت سارے خواب صرف ان کے تھے اس کے حوالے سے… جو صرف وہ دیکھتے تھے اور ان کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد عکس مراد علی کے نزدیک کامیابی کا مفہوم وہ نہیں رہا تھا جو نانا کی زندگی میں تھا۔
    ہال کمرے میں کھڑی ان در و دیوار کو اداسی سے دیکھتے ہوئے وہ یک دم چونکی تھی۔ شیردل نے اس کے کندھوں کے گرد اپنا بازو پھیلایا تھا۔ وہ اب اس کے بالکل قریب کھڑا تھا۔ اس لمس میں عجیب دلگیری تھی، کچھ کہے اور سنے بغیر بھی جیسے دنیا جہان کی گفتگوتھی… ہر مرہم بننے والا پھایا محسوس ہونے والا لفظ…
    ساری عمر وہ دونوں ایک دوسرے کی خاموشی کو اسی طرح پڑھتے رہے… لفظوں کے بغیر… اداسی کو بیرومیٹر کی طرح بھانپ لیتے تھے اور خفگی کو راڈار کی طرح… اب بھی ایسا ہی ہوا تھا۔
    عکس مراد علی نے ایبک شیردل کے چہرے کو گردن موڑ کر دیکھا۔ اس نے اس کی نظریں محسوس کرتے ہی جیسے بڑی حیرانی سے اس سے کہا۔
    ”کیا ہوا؟”
    ”کچھ نہیں۔” وہ مسکرا دی۔ اس نے اس کے گال پر نظر آنے والے پلک کے ایک بال کو انگلیوں کی پوروں کی غیر محسوس حرکت سے ہٹایا تھا۔ زندگی میں ایسا جیون ساتھی بہت خوش قسمت عورتوں کے حصے میں آتا تھا۔ عکس مراد علی نے وہاں کھڑے چند لمحوں کے لیے جیسے عجیب تعجب سے سوچا۔ اس گھر میں اپنا بچپن گزارتے ہوئے اس نے جتنی بھی خواہشیں کبھی کی تھیں وہ تمام پوری ہوئی تھیں اور اس بات کا ادراک اسے عجیب وقت پر ہوا تھا۔ یہ گھر خوش قسمتی اور بدقسمتی کا عجیب امتزاج لیے ہوئے تھا اس کے لیے۔
    ……٭……
    شرمین اور فاروق نے شہربانو کو ائرپورٹ پر ریسیو کیا تھا لیکن دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔ شہربانو نے بے حد تھکے ہوئے انداز میں مثال کو ماں کو پکڑا دیا تھا۔ وہ مثال کو بہلانے پھسلانے یا ڈرانے کسی بھی چیز میں پورا راستہ کامیاب نہیں ہوئی تھی اور اب شرمین کی صورت میں اسے جیسے کچھ دیر کے لیے اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے ایک اور کندھا مل گیا تھا لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ مثال شرمین سے بھی بہلنے والی نہیں تھی۔ ایک بچے کے طور پر بھی وہ صورت حال کی سنگینی کو بھانپ گئی تھی۔ وہ چند ہفتے پہلے والی مثال نہیں تھی جو خوشی خوشی امریکا اپنی نانی اور نانا کے پاس چھٹیاں گزارنے آئی تھی اور ائرپورٹ سے لے کر گھر تک شرمین کو پتا نہیں کیا کیا قصے سناتی رہی تھی۔ اس بار مثال، شرمین کی بے تحاشا کوششوں کے باوجود صرف اس ایک جملے کے سوا کچھ بولنے پر تیار نہیں تھی کہ اسے پاپا کے پاس جانا ہے۔ وہ پاپ کو مس کررہی تھی۔ فاروق خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرتے رہے تھے۔ شہربانو ان کے برابر والی سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے آنکھیں بند کیے اس خوفناک خواب کے بارے میں سوچتی رہی تھی جو اس نے حقیقت میں دیکھا تھا۔ عقبی نشست میں شرمین، مثال کو لیے بیٹھی کسی طرح اس کو بہلانے کی کوششوں میں مصروف تھیں اور ہر بار اس کے منہ سے نکلنے والے جملے شہربانو کے اعصاب پر جیسے ہتھوڑوں کی طرح برس رہے تھے۔ وہ مثال کو اپنی ”ساری فیملی” سمجھ کر سمیٹ لائی تھی اور مثال کی ساری فیملی سمٹ کر جیسے شیردل کی ذات پر آکر ٹھہر گئی تھی… تو وہ… خود وہ شہربانو کہاں کھڑی تھی۔
    اگلے دو دن شہربانو اور شرمین کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی لیکن شرمین اسے یہ ضرور بتاتی رہی تھیں کہ پاکستان سے کس کس کا کتنی کتنی بار فون آیا تھا اور امریکا میں ان کے کس کس رشتے دار نے شیردل کی فیملی کے دباؤ پر ان سے رابطہ کیا تھا۔ شہربانو نے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کا تھا۔ وہ جیسے عجیب گم صم سی حالت میں تھی۔ عجیب سوتی جاگتی کیفیت جس میں وہ اپنی زندگی کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو بار بار رکھ کر جوڑنے کی کوشش میں ہلکان ہوتی جارہی تھی کہ شاید کسی طرح وہ اس سارے معمے کا کوئی حل، کوئی شکل نکال پاتی… ہر بار وہ ناکام رہی۔ مثال کی حالت اب بھی ویسی ہی تھی صرف اب اگر کوئی فرق پڑا تھا تو یہ کہ وہ ہر وقت روتی نہیں رہتی تھی لیکن وہ بھی شہربانو کی طرح کوئی کھلونا پکڑے کسی کونے میں بیٹھی رہتی پھر یک دم کسی بات پر ضد شروع کر دیتی اور پھر کتنی کتنی دیر بیٹھ کر روتی رہتی۔ شہربانو عجیب میکانیکی انداز میں اسے روتا دیکھتی رہتی۔ اسے کبھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ مثال کے اس طرح رونے کو اتنی سردمہری کے ساتھ نظرانداز کر سکتی تھی، اس کی چیخ و پکار کے سامنے اس طرح بے حس ہو سکتی تھی لیکن وہ ہو گئی تھی۔ انسان بعض دفعہ اپنی ذات کے بہت سے پہلوؤں سے اس وقت آگاہ ہوتا ہے جب دوسرے اسے دیکھ لیتے ہیں۔ ان کا اس سے واسطہ پڑ جاتا ہے وہ اس پر بات کرنے لگتے ہیں اور تب انسان جیسے شاک کے عالم میں اپنی ذات کے اس پہلو کو دیکھتا ہے۔ حیران ہوتا ہے… میں یہ کیسے کر سکتا ہوں؟ میں ایسا کس طرح ہو سکتا ہوں؟ لیکن سارا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ سوال بہت سارے ہوتے ہیں جواب نہیں… جواب بس ایک ہوتا ہے… اور وہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا… شہربانو کو بھی نہیں مل پارہا تھا۔
    ”اب تم کیا کرنا چاہتی ہو؟” دو دن کے بعد بالآخر شرمین نے ایک رات اس سے اس موضوع پر بات کی۔ وہ کچن صاف کررہی تھیں اور وہ کچن کاؤنٹر کے سامنے پڑے اسٹول پر کافی کا مگ لیے بیٹھی تھی۔
    ”پتانہیں۔” شرمین کو پتا تھا وہ کیا کہے گی۔ وہ بھی اس کے قریب کاؤنٹر کے دوسری طرف اسٹول پر آکر بیٹھ گئیں۔
    ”تم شیردل کے ساتھ رہنا چاہتی ہو؟” انہوں نے بالآخر ایک لمبی خاموشی کے بعد کہا۔
    ”نہیں۔” جواب کسی توقف کے بغیر آیا تھا۔
    ”divorce چاہتی ہو؟” شرمین نے اگلا سوال کیا۔
    ”شاید۔” جواب اس بار بھی جلدی آیا تھا لیکن الجھن لیے ہوئے تھا اور الجھن کیوں تھی، شہربانو کے پاس اس بات کا بھی جواب نہیں تھا۔




  • عکس — قسط نمبر ۱۴

    اس آئینے نے کئی سال پہلے کی طرح آج بھی شہربانو کی نظر کو خود سے ہٹنے نہیں دیا… گزر جانے نہیں دیا۔ وہ آئینے کے سامنے رک گئی، وقت نے اس آئینے پر اپنے نشانات بڑھا دیے تھے… ہلکی سی بوسیدگی، چند داغ، کئی نئی لکیریں، آب و تاب کھوئی ہوئی چمک، بجھی ہوئی رنگت… وقت نے ایسے ہی بہت سے نشانات اس کے اپنے وجود اور اس چہرے پربھی چھوڑے تھے جس کا عکس آئینے میں دیکھنے پر شناخت کرتے ہوئے اسے چند لمحے لگے تھے۔
    وہ آئینے میں خود کو دن میں کئی بار دیکھتی تھی… لیکن اس آئینے میں نظر آنے والا عکس اس نے کئی سال بعد دیکھا تھا… ایک نظر اس نے خود کو دیکھا پھر اپنے عقب میں نمودار ہونے والے مرد کو… شیردل کو… آئینے میں دونوں کی نظریں لمحے بھر کے لیے ایک دوسرے سے ملی تھیں پھر دونوں نے ہی ایک دوسرے سے نظریں چرا لیں۔ وہ پچھلے کئی سالوں سے ایک دوسرے سے اسی طرح نظریں چراتے ہوئے ہی پھر رہے تھے۔ آئینے میں ایک لمحے کے لیے جیسے ان کی زندگی جھلکی تھی… وہ زندگی جو وہ ایک دوسرے کے ساتھ گزار رہے تھے… کئی سال سے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ… اور ایک دوسرے سے کئی صدیوں کے فاصلے پر… ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار… اور اس محبت کو کائی کی طرح اپنے وجود سے نوچتے ہوئے۔
    شیردل اس کے پاس سے گزر کر کھلے ہوئے اندرونی دروازے سے اندر چلا گیا تھا۔ شہربانو نے سر اٹھا کر ایک گہرا سانس لیتے ہوئے ایک بار پھر اس آئینے کو اور اس گھر کو دیکھا۔
    زندگی میں اس گھر سے زیادہ نفرت اسے کبھی کسی دوسری جگہ سے نہیں ہوئی تھی… نفرت شاید ایک بہت معمولی لفظ تھا اپنے ان احساسات کو بیان کرنے کے لیے جو وہ اس گھر کے لیے رکھتی تھی… وہاں کی ایک ایک چیز کے لیے رکھتی تھی… اگر کوئی اسے کبھی کہتا کہ دنیا میں وہ کون سی ایک جگہ تھی جسے وہ آگ لگا کر بھسم کر دینا چاہتی تھی تو شہربانو اس گھر کا نام لیتی… اور اس تمام نفرت کے باوجود شہربانو وہاں آنے اور وہاں رہنے پر مجبور تھی۔ کیونکہ وہ اس گھر کی ملکہ تھی۔
    ……٭……




    بختیار شیردل نے اپنے کوٹ کی جیب سے ایک لفافہ نکالا اور اسے خیردین کے سامنے پڑی سینٹر ٹیبل پر رکھ دیا۔ چند لمحوں کے لیے بات کا آغاز کرنے کے لیے لفظ ڈھونڈتے ہوئے انہیں بھی دانتوں پسینے آگئے تھے۔ زندگی میں پہلی بار وہ کسی کے پاس معذرت کرنے کے لیے پہنچے تھے اور جس چیز کی معذرت وہ کرنا چاہتے تھے اس کا ذکر بھی زبان پر لاتے ہوئے وہ منوں بوجھ کے نیچے دب رہے تھے۔ وہ طبقاتی فرق پر یقین رکھتے تھے لیکن بے ضمیری پر نہیں۔ ان کے برابرمیں بیٹھی ہوئی منزہ نے ایک بار بھی خیردین کی طرف نہیں دیکھا تھا وہ بس بے تاثر چہرے کے ساتھ نظریں جھکائے اپنی کلائی میں موجود رولیکس گھڑی پر انگلیاں پھیرتی رہی۔ بختیارشیردل کو اسے خیردین کے پاس معذرت کے لیے چلنے پر تیار کرنے کے لیے زندگی میں پہلی بار بہت سخت لفظوں کا استعمال کرنا پڑا تھا اور ان لفظوں نے منزہ کی خفگی کو جیسے بڑھا دیا تھا۔ شوہر کے غصے نے انہیں ہتھیار ڈالنے اور ان کی بات ماننے پر مجبور کر دیا تھا لیکن وہ دل میں موجود کدورت کو ختم نہیں کر سکی تھی۔ بختیارشیردل جیسے ایک چور کو اس گھر میں اس مالک کے سامنے لے آئے تھے جس کے گھر میں ڈاکا ڈالا گیا تھا۔
    ”آپ کچھ لیں گے؟” غیر متوقع طور پر گفتگو کا آغاز خیردین نے کیا تھا۔ وہ شاید ان کی مشکل بھانپ گیا تھا۔
    ”نہیں کچھ نہیں… thank you۔” بختیار نے بڑی شائستگی کے ساتھ انکار کیا۔ خیردین نے ان کے انکار کے باوجود کارنر ٹیبل پر پڑا انٹرکام کا ریسیور اٹھا کر ملازم سے چائے کے لیے کہا اور پھر ریسیور رکھ دیا۔ ہتک کی کوئی انتہا تھی جو منزہ اس وقت وہاں خیردین کے سامنے بیٹھے ہوئے محسوس کررہی تھی۔ وہ اسی گھر میں ایک مہینہ اس کی اور اس کے بچوں کی خدمت کرتا رہا تھا۔ اس کے کپڑوں کو استری کرنے سے لے کر اس کے جوتے صاف کرنے تک… صبح اس کو بیڈ ٹی پہنچانے سے لے کر آدھی رات کو کسی بھی وقت طلب کیے جانے پر حاضر ہو جانے تک… اور اس کی کبھی جرأت نہیں ہوئی تھی کہ وہ اس کے سامنے بیٹھ سکے… وہ ہاتھ باندھ کر آتا تھا، ہاتھ باندھ کر کھڑا رہتا تھا اور اسی طرح ہاتھ باندھے سر جھکائے چلا جایا کرتا تھا اور اب وہ ان کے لیے اس گھر کے اس صوفے پر بیٹھ کر چائے آرڈر کر رہا تھا جہاں پر میزبان بیٹھا کرتا تھا اور اب وہ ان کے ساتھ انہی برتنوں میں چائے پیے گا جن برتنوں میں وہ پئیں گے اور یہ سب اس کے اس احمق شوہر کی وجہ سے ہورہا تھا جو 21 گریڈ کا ایک سیکریٹری ہوتے ہوئے 18 گریڈ کی ایک ڈپٹی کمشنر کے گھر اپنے ضمیر کی چبھن مٹانے آیا تھا۔
    ”idiot۔” اس نے دل ہی دل میں اپنے شوہر کو کوسا۔ وہاں خیردین کے برابر بیٹھنا منزہ کے لیے جیسے کوئلوں کی انگیٹھی پر بیٹھنے کے برابر تھا۔ اتنے سال اپنے بھائی کی جس عزت کو بچانے کے لیے وہ کامیاب جدوجہد کرتی آرہی تھی وہ آج بیچ چوراہے نیلام ہونے چلی تھی اور اس کا سارا کریڈٹ اس کے ”باضمیر” شوہر اور الو کے پٹھے بیٹے کو جاتا تھا۔
    ”میں اپنی فیملی کی طرف سے شہباز حسین سے ہونے والی ساری غلطیوں کے لیے معذرت کرنے آیا ہوں۔” بختیار نے بالآخر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا۔ ”شہباز اب اس دنیا میں نہیں ہے ورنہ میں اسے ساتھ لے کر آپ کے پاس آتا۔ اس نے جو کچھ بھی آپ کے اور آپ کی نواسی کے ساتھ کیا وہ کسی بھی لحاظ سے کسی اچھے انسان کا رویہ نہیں ہو سکتا۔ میں اس کے طرزعمل کے لیے آپ سے کتنا شرمندہ ہوں آپ کو اندازہ بھی نہیں ہے۔” آنسو خیردین کی آنکھوں میں ہمیشہ کی طرح ایک لمحہ میں امڈ آئے تھے۔ اسے بختیار شیردل سے اتنے کھلے لفظوں میں اس گفتگو کی امید نہیں تھی۔ وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ آج کی ملاقات کس لیے ہورہی تھی۔ ایبک شیردل کے والدین اگر اس سے ملنے آرہے تھے تو کس لیے آرہے تھے… اس نے بہت سے اندازے لگانے کی کوشش کی تھی لیکن اس کے کسی اندازے میں شہباز حسین نہیں آیا تھا اور اب اتنے سالوں بعد منزہ کو دیکھنے پر اور بختیار کے منہ سے اسی قصے کا ذکر سننے پر وہ جیسے بری طرح دل گرفتہ ہوا تھا۔ وہ بختیار شیردل سے اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب کے بعد بھی دو تین سرکاری فنکشنز میں ایبک شیردل کے ساتھ مل چکا تھا لیکن وہ منزہ سے پہلی بار مل رہا تھا۔ بختیار کی گفتگو سنتے ہوئے اس کا ذہن ابھی بھی یہ ماننے پر تیار نہیں ہورہا تھا کہ چڑیا اس سے ایبک شیردل کے بارے میں اتنا بڑا راز چھپا سکتی تھی… کیا وہ بھی اسی کی طرح اس خاندان کی شناخت سے بے خبر تھی؟ اس نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور تبھی بختیار نے اس کیس کا ذکر شروع کر دیا۔ خیردین کو کرنٹ لگا تھا تو اس کا یہ اندازہ بھی غلط ثابت ہوا تھا وہ جانتی تھی ایبک شیردل کون تھا اور اس نے پھر بھی خیردین کو کبھی اس کے بارے میں نہیں بتایا… کیوں؟ خیردین کو زندگی میں پہلی بار اپنی چڑیا سے گلہ ہوا تھا۔
    ……٭……
    شیردل اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔ وہ شہربانو سے ان دو سوالوں کی ان الفاظ میں توقع نہیں کررہا تھا۔ نہ وہ عکس کا ذکر اس انداز میں سننے کی امید رکھے ہوئے تھا۔
    شہربانو کو اس کی اس خاموشی سے خنجر کی کاٹ جیسی تکلیف ہوئی جو ان دو سوالوں کے جواب میں اسے شیردل سے ملی تھی۔ سارے خدشات، ساری بدگمانیوں، سارے گلے شکووں کے باوجود بھی کہیں نہ کہیں اسے بھی جیسے ایک عجیب سی امید تھی کہ وہ بے ساختہ انکار کرے گا، تردید کرے گا… اس نے ایسا تو کچھ نہیں پوچھا تھا اس سے کہ اس کے سامنے کھائی آجاتی۔ شیردل کی خاموشی نے اس کے اندر کے شور کو یک دم اور بڑھا دیا تھا۔
    ”مجھے اندازہ نہیں تھا کہ جواب اتنا مشکل ہے تمہارے لیے۔” شہربانو نے عجیب شکست خوردگی کے ساتھ اس کے چہرے سے نظریں ہٹائیں۔ شکست اس کے غصے کو عجیب طرح سے بھڑکانے لگی تھی۔
    ”احمقانہ باتوں اورسوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے میرے پاس۔” شیردل نے بالآخر جیسے اپنے حواس پر قابو پاتے ہوئے اس سے کہا۔
    ”احمقانہ؟” وہ تلخی سے ہنس پڑی۔ ”شیردل تم اپنے دل سے پوچھو کہ تمہیں یہ سوال احمقانہ لگا ہے؟” اس نے عجیب چیلنج کرنے والے انداز میں اس سے کہا۔
    ”ہاں مجھے لگا ہے۔ اسی لیے کہا ہے تم سے…” شیردل نے بڑی خفگی کے ساتھ اس سے کہا۔ ”ہم کیس کو ڈسکس کررہے تھے… میرے اور عکس کے حوالے سے کوئی ڈسکشن نہیں ہورہی تھی۔”
    ”یہ کیس تمہاری وجہ سے شروع ہوا ہے۔ تمہارے اورعکس کے اس تعلق کی وجہ سے شروع ہوا ہے جس پر تم بات نہیں کرنا چاہتے۔ اس ساری کہانی میں یہ تیسرا اینگل نہ ہوتا تو یہ کیس بھی کورٹ میں نہ ہوتا۔” شہربانو نے بے حد تلخی سے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔




  • عکس — قسط نمبر ۱۳

    چند لمحے پہلے آئینے میں نظر آنے والے اپنے عکس کو اس بار اس نے خیردین کی آنکھوں میں منعکس ہوتے دیکھا تھا۔
    ایک سرخ اور سنہرے کامدار دوپٹے کے ہالے میں دلہن کا روپ لیے چمکتا ہوا اس کا چہرہ… ماتھے کے بیچوں بیچ تاج کی طرح ٹکا اس کے لباس کے ہم رنگ سرخ پتھروں سے مرصع بیضوی شکل کا ایک ٹیکا… اس کے کانوں میں ہلکورے لیتے لمبے لمبے جھمکے جن کے نچلے حصے پر لٹکتے سرخ باریک موتی اس کی قمیص کے گہرے گول گلے سے ہمیشہ کی طرح نمایاں کالر بون کو گردن کے ذرا سے خم پر چومنے لگتے تھے اور اس کی باریک صراحی دار گردن کے گرد موجود سرخ پتھروں کا وہ نیکلس جس کا نیچے کو نکلا ہوا سنہری بیضوی حصہ اس کی سرخ قمیص کے سرے کو چھو رہا تھا۔ وہ آئینے میں اپنے شفاف اور واضح اس عکس کو دیکھ کر مبہوت نہیں ہوئی تھی۔ خیردین کی آنکھوں میں اپنے دھند لائے ہوئے عکس کو دیکھ کر ہوگئی تھی۔ وہ اپنے نانا کی آنکھوں کی نمی میں ہلکورے لے رہی تھی یا شاید وہ اس کی اپنی آنکھوں کی نمی تھی جس نے خیردین کی آنکھوں کی نمی میں دھند لاتے اس کے عکس کو کچھ اور دھند لا کر دیا تھا۔




    لیکن خیردین اور وہ پھر بھی ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ آنکھوں میں نمی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ کے ساتھ… بے یقینی کے ایک عجیب سے جہاں میں پہنچے ہوئے۔
    اس کے چہرے سے بالا خر نظریں پہلے خیردین نے ہی ہٹائی تھیں۔ وہ اپنی چڑیا کو اپنی نظر لگنے سے بھی بچانا چاہتا تھا۔ یہ اس کا وہ روپ تھا جس کو دیکھنے کے لیے وہ کئی سالوں سے متمنی تھا اور آج اس روپ میں چڑیا کو دیکھتے ہوئے اس کا دل عجیب سی خوشی اور طمانیت کے ساتھ ساتھ بڑی عجیب سی کسک محسوس کرنے لگا تھا۔ اس کی چڑیا کو اپنا جیون ساتھی مل گیا تھا وہ اس کے ساتھ اب ایک نئے سفر پر اڑجانے والی تھی۔
    عکس نے خیردین کو خود سے نظریں چراتے ہوئے آگے بڑھتے اور اسے اپنے ساتھ لپٹاتے دیکھا۔ وہ جذباتی نہیں تھی لیکن وہ اس لمحے رودی تھی۔
    وہ چند منٹ پہلے بیوٹی پارلر سے نکاح کی اس سادہ تقریب میں شرکت کے لیے پہنچی تھی جو اسی گھر کے لان میں منعقد کی گئی تھی اور دروازے پر اس کا استقبال خیردین نے ہی کیا تھا۔ وہ چڑیا کے چند گھنٹے پہلے پارلر جانے کے بعد سے وہاں مہمانوں کا استقبال کرتا وہاں سے ہلا نہیں تھا۔ اسے اپنی چڑیا کی واپسی کا انتظار تھا۔ دلہن کے روپ میں اس پر پہلی نظر ڈالنے کی بے قراری… خیردین کی نظریں مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے اور انہیں پائیں باغ کی طرف بھیجتے ہوئے بھی گیٹ پر جمی رہی تھیں۔
    اور اب جب وہ گھر کے اندرونی دروازے کے سامنے گھر کے اندر جانے کے لیے اپنی چند دوستوں کے ساتھ کھڑی تھی تو خیردین کا دل عجیب طرح سے بوجھل تھا۔ وہ عام لڑکی نہیں تھی نہ خیردین نے اسے عام طرح سے پالا تھا پھر بھی وہ ایک لڑکی تھی اور خیردین کا دل ویسے ہی اندیشوں اور خدشات سے دوچار تھا جیسے اندیشے کوئی بھی باپ اپنی بیٹی کو ایک انجان آدمی کے ساتھ ایک انجان سفر پر رخصت کرتے ہوئے رکھتا…چاہے وہ انجان آدمی جیون ساتھی ہی کیوں نہ ہوتا۔ چاہے وہ انجان سفر زندگی کا سفر ہی کیوں نہیں ہوتا۔
    خیردین نے اسے کندھوں سے تھامے ہوئے اس کے جھکے ہوئے سر کو پھر ماتھے کو چوما ،عکس نے ایک بار پھر سر اٹھا کر اپنے نانا کو دیکھا وہ کتنی خوب صورت لگ رہی تھی اس نے خیردین کی آنکھوں میں دیکھ لیا تھا۔ وہ اس کے لیے کیا دعائیں کررہا تھا وہ اس کے ساکت ہونٹ سے بھی سن سکتی تھی۔ عکس مراد علی نے اپنی ساری زندگی میں ایسا مرد کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ شفیق تھا، رہبر تھا، دوست تھا، غم خوار تھا، اس پر جان چھڑکنے والا تھا اوروہ اس کے لیے اپنی انا اور عزت کو ہر بار کی طرح اس بار بھی کہیں بہت پیچھے رکھ آیا تھا۔ ایسا کون ملے گا اسے جو اسے خیردین کی طرح چاہے گا… کبھی کوئی نہیں مل سکتا، کوئی اس جیسا ہو ہی نہیں سکتا ،کوئی اس کے لیے اپنے دل میں ویسی غیر مشروط محبت رکھ ہی نہیں سکتا۔ چڑیا نے اپنے نانا کی آنکھوں میںیہ سب پڑھا تھا۔ کھلی کتاب کی طرح جس کا ایک ایک لفظ خود بول رہا تھا۔
    بنا کچھ کہے اس نے خیردین کا ہاتھ تھام لیاتھا۔ اس ہاتھ کے لمس میں وہ تشکر جھلک رہا تھاجو عکس کے دل میں تھا اور جو اس کے نرم ہاتھ کی سخت گرفت میں تھا۔
    ”میں تمہارے بغیر بہت اداس ہوجاؤں گا چڑیا۔”خیردین نے اپنی نم آنکھیں صاف کرتے ہوئے اس سے کہا۔
    ”نانا میں آپ کی زندگی سے کہیں جاؤں گی تو اداس ہوں گے نا آپ۔ میں کہیں نہیں جارہی ، میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہی رہوں گی۔” خیردین رنجیدگی سے اس کی تسلی سنتے ہوئے مسکرادیا تھا۔ وہ اسے بچوں کی طرح بہلا رہی تھی۔
    ”رک کیوں گئیں؟” خیردین نے اسے گھر کے اندرونی دروازے میں رکتے دیکھ کر کہا۔
    ”نہیں… ایسے ہی۔” وہ چونکی تھی اور اس نے اپنے ان سات ساتھیوں سے نظریں ہٹا لی تھیں جو ایک بار پھر اس کا استقبال کرنے کے لیے وہاں موجود تھے اور جنہیں وہ ہمیشہ اس گھر میں داخل ہوتے ہوئے کہیں نہ کہیں دیکھتی رہی تھی۔ وہ سات اس کی زندگی کے اس نئے سفر پر اسے رخصت کرنے کے لیے ایک بار پھر وہاں موجود تھے۔
    ٹوفو اس کے رو پہلی چوڑی دار پاجامے کی چوڑیوں کے ساتھ لٹکا اپنا توازن برقرار رکھنے کی جدو جہد میں مصروف تھا۔ کنٹا اس کی پینسل ہیل والے جوتے کے اسٹرپ سے چپکا اس کے پیروں پر بنے مہندی کے نقش ونگار پر غور فرمانے میں مصروف تھا۔ منٹا ایک باجا پکڑے گھر کی دہلیز پر ادھر سے ادھر جاتے ہوئے اسے بجانے میں لگا تھا۔ ڈیڈو اچھل اچھل کر اس کے ٹخنوں تک پہنچتی سرخ قمیص کے سنہری کامدار دامن کو پکڑنے کی کوشش میں لگا تھا۔ ٹوکو اس کے زمین تک لٹکنے والے دوپٹے کے پلو سے لٹکا ہوا تھا اور کٹو اور ٹنٹو خوشی سے بے قابو سر پر سالگرہ والی نوکدار لمبی ٹوپیاں پہنے پھر کی کی طرح گول گول گھومتے چکراتے پھر رہے تھے۔ وہ سب اس کی خوشیوں کو سیلیبریٹ کررہے تھے۔ چڑیا نے اس غیر مرئی دنیا کو مسکراتے ہوئے دیکھا جو صرف اسے نظر آتی تھی اور جہاں کی ملکہ وہ تھی۔
    ایلس آج اپنے اس ونڈر لینڈ کو چھوڑ کر اپنے جیون ساتھی کے ساتھ ایک نئے ونڈر لینڈ کو آباد کرنے جارہی تھی۔
    ……٭……
    ان دونوں نے بہت دور سے ایک دوسرے کو دیکھ لیا تھا۔ شیردل چند لمحے پہلے ہی ہاسپٹل کے اس کوریڈور میں داخل ہوا تھا جہاں خیردین کا کمرا تھا اور عکس ابھی ابھی ہاسپٹل سے کسی کام کے لیے باہر نکل رہی تھی۔ شیردل کو آتے دیکھ کر وہ ٹھٹک گئی تھی۔ بہت دور سے بھی دونوں نے ایک دوسرے کو ایک خیرمقدمی مسکراہٹ دی تھی۔
    ”کب آئے؟” عکس نے اس کے قریب آنے پر علیک سلیک کرتے ہوئے اس سے پوچھا۔
    ”ابھی، ابھی۔” شیردل نے جواب دیتے ہوئے اس کے چہرے کو جیسے کھوجنے کی کوشش کی، وہ ہمیشہ کی طرح ناکام رہا تھا۔ وہاں ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے علاوہ اسے کچھ نہیں ملا تھا۔ ایک انتہائی اطمینان بھری مسکراہٹ جس میں کسی قسم کا کوئی اضطراب نہیں تھا۔
    ”کیا ضرورت تھی اتنی جلدی یہاں آنے کی؟ ریسٹ کرتے… کل پرسوں آجاتے یا فون پر حال پوچھ لیتے۔” عکس نے اسے کہا۔
    ”انکل کیسے ہیں؟” شیردل نے اس کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اس سے پوچھا۔
    ”اللہ کا شکر ہے پہلے سے بہت بہتر ہیں۔” عکس نے جواباً کہا۔ ”تمہاری فلائٹ کیسی رہی؟”
    ”ٹھیک تھی، تم نے مجھے اپنی suspensionکے بارے میں نہیں بتایا۔” شیردل نے چھوٹتے ہی وہ سوال کیا جو ہاسپٹل تک آنے کے پورے راستے میں اسے پریشان کرتا رہا تھا۔ وہ ایک لمحے کے لیے ٹھٹکی پھر اس نے اسی اطمینان سے کہا۔
    ”کیا بتاتی؟”ایک لمحے کے لیے اس کے سوال نے شیردل کو لاجواب کیا۔
    ”انفارم کرتیں مجھے، کل میری اور تمہاری بات ہوئی ہے تم نے ذکر تک نہیں کیا۔” وہ بات کرتے کرتے شکایت کرگیا۔
    ”فائدہ کیا ہوتا؟” اس کا اطمینان برقرار تھا۔
    نقصان بھی کوئی نہیں تھا۔” شیردل نے جتایا۔
    ”میں نے نہیں بتایا تو بھی پتا تو چل ہی گیا نا تمہیں… ایسا کوئی راز تو نہیں تھا کہ پتا نہ چلتا۔ نانا سے ملوگے؟” اس نے اس کی شکایت کو بے پروائی سے نظر انداز کرتے ہوئے اس سے پوچھا۔
    ”ہاں۔” شیردل نے مختصراً کہا اور قدم آگے بڑھادیے۔ عکس بھی اس کے ساتھ واپس پلٹ گئی تھی۔
    ”suspensionکیوں ہوئی؟” شیردل نے ساتھ چلتے ہوئے اس سے پوچھا، وہ گردن موڑ کر اس کو دیکھتے ہوئے مسکرائی۔
    ”پوری چارج شیٹ سناؤں یا صرف بنیادی وجہ بتاؤں؟” اس کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا جس سے شیردل پر گھڑوں پانی پڑا تھا۔
    ”میں نے تمہیں منع کیا تھا۔” شیردل نے اس سے نظریں چراتے ہوئے خفگی سے کہا۔ ”اسی سب سے بچانا چاہتا تھا تمہیں، اسی سب سے بچانے کے لیے وارن کررہا تھا تمہیں۔”
    ”میں نے تم سے کوئی شکایت کی ہے؟” اس نے شیردل کی بات بڑے تحمل سے کاٹ دی تھی۔ ”اب تمہیں پتا چلا میں نے تمہیں کیوں نہیں بتایا تھا اپنی سسپینشن کے بارے میں۔”
    ”تم اپنا سروس ریکارڈ خراب کررہی ہو عکس۔” شیردل چلتے چلتے رک گیا تھا۔
    ”شیردل وہ میرا مسئلہ ہے تم اس کے بارے میں پریشان نہ ہو۔ مجھے چارج کیا گیا ہے میں انہیں explanation دے لوں گی۔ اور میرے لیے یہ سب غیر متوقع نہیں ہے۔ جس دن میں نے کیس فائل کیا تھا مجھے اندازہ تھا کہ میں کون سا پینڈورہ باکس کھولنے جارہی ہوں۔ اس لیے تم پریشان مت ہو۔ تم اپنی فیملی اور اپنے انکل کو defend کرو… مجھے کیس لڑنے کے لیے جو کرنا پڑا میں وہ کروں گی لیکن ہم پھر بھی دوست رہیں گے۔ وہ اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔ زندگی میں پہلی بار اسے عکس مراد علی بے وقوف لگی تھی۔
    ”تم عقل سے پیدل ہو۔” وہ کہے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔
    ”اچھا؟”وہ بے اختیار ہنس دی تھی۔
    ”تم اتنا آسان سمجھ رہی ہو یہ سب کچھ… تمہارا خیال ہے کہ تمہیں اگر suspend کیا گیا ہے تو پھر تمہاری explanationلے کرتم سے معذرت کرتے ہوئے تمہیں بحال کردیا جائے گا۔” وہ طنزیہ انداز میں کہہ رہا تھا۔
    ”شیردل میں کیس واپس نہیں لوں گی اور اب تو بالکل بھی نہیں۔ تم نانا کی عیادت کرنا چاہتے ہو یا ویسے ہی واپس جانا چاہتے ہو؟” اس نے شیردل کی بات کاٹ کر اسے دو ٹوک انداز میں کہا۔
    ”جہنم میں جاؤ تم۔” شیردل اس کے جملے پر بری طرح جھنجلایا… وہ دوبارہ قدم اٹھاتے ہوئے مسکرائی۔
    ”میں وہاں سے گزر کر آئی ہوں۔ دوبارہ بھی جانا پڑا تو باہر نکلنے کا راستہ جانتی ہوں۔” اس کا اطمینان قا بل داد تھا اوروہ داد دیتا اگر کیس اس کے اپنے خلاف نہ ہوا ہوتا۔
    ”اور اب نانا سے میری suspension کا قصہ لے کر مت بیٹھنا۔” اس نے ساتھ چلتے ہوئے اسے ہدایت کی۔
    ”انہیں کچھ بتانا ہوتا تو سب سے پہلے اس کیس کے بارے میں بتاتا۔” وہ ساتھ چلتے ہوئے خفگی سے بولا۔
    ”عقل مند ہوگئے ہو۔” وہ داد نہیں تھی راز کو راز رکھے رکھنے کی ترغیب تھی اور شیردل یہ بات جانتا تھا۔
    خیردین بستر پہ لیٹے ہوئے دروازے میں داخل ہوتے شیردل کو دیکھ کر مدھم انداز میں ہلکا سا مسکرایا تھا۔ شیردل بھی جواباً مسکرایا۔ وہ عکس کے پیچھے کمرے میں داخل ہوا تھا اور اس سے کچھ بات کرتے کرتے وہ خیردین کے بستر کے قریب آگیا۔ خیردین پر ذرا سا جھکتے ہوئے اس نے خیردین کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے بڑی نرم آواز میں آس سے پوچھا۔
    ”آپ کی طبیعت اب کیسی ہے انکل؟” خیردین مسکرایا تھا۔




  • عکس — قسط نمبر ۱۲

    عکس نے گاڑی سے اترتے ہوئے سر اٹھا کر اس آئینے کو دیکھا جو اس گھر کے برآمدے میں دروازے کے پاس رکھا تھا اور جس میں اس وقت شیر دل اور شہر بانو کی پشت نظر آرہی تھی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے وہ کمشنر اوراس کی بیوی کا استقبال کررہے تھے جن کی گاڑی اس وقت پورچ میں داخلی برآمدے کے بالکل سامنے کھڑی تھی۔ خود اس کی گاڑی پورچ کی چھت سے باہر تھی۔وہ وہاں سے اس آئینے کو دیکھ سکتی تھی اور وہ وہاں سے بھی شیر دل اور شہر بانو کو بھی دیکھ سکتی تھی۔ ایک گہری سانس لے کر اس نے دل کی دھڑکن پر قابو پایا تھا۔ دوسری گہری سانس میں اس نے اپنے دماغ سے وہ سب غائب کرنے کی کوشش کی تھی جس کی کرچیاں اس گھرکے سامنے بیرونی سڑک پر سامان کے ایک ڈھیر پر اپنی ماں کے ساتھ گزاری ہوئی ایک رات سے یہاں اندر تک چپے چپے پر بکھری ہوئی تھیں۔




    سب کچھ غائب ہونا شروع ہوگیا تھا۔ وہ ایک عام سرکاری رہائش گاہ تھی اب اس کے لیے۔ ایسی درجنوں عمارتوں میں وہ جاچکی تھی رہ چکی تھی۔ اس گھر میں بھی اس کے لیے کچھ غیر معمولی نہیں تھا… ایک عام پرانی لیکن شاندار عمارت۔ ویسی ہی ایک تقریب جو وہ کئی دفعہ اٹینڈ کرتی آئی تھی۔ ایک پرانی طرز کا پورچ اور داخلی دروازے کے پاس ایک پرانا آئینہ… ایک سرسری نگاہ میں اس مینٹل بلاک کے ساتھ اس نے صرف یہ دیکھا تھا… کسی بھی چیز پر نظر جمائے بغیر ہر چیز سے نظریں چراتے ہوئے۔ لوگ… جگہ نہیں… باتیں… چیزیں نہیں…میں کوئی تکلیف دہ یاد ذہن میں نہیں لاؤں گی۔ میں ماضی کی کسی چیز کے بارے میں سوچ ہی نہیں رہی۔ میرا کل کا ورک شیڈول کیا ہے؟ یہاں سے ڈنر کے بعد کیا کیا کام کرنے ہیں میں نے؟ وہ اپنے ذہن کو مسلسل بھٹکارہی تھی ،بڑی کامیابی کے ساتھ۔ ایک کے بعد ایک رکاوٹ کو عبور کررہی تھی، جب تک اس نے شہر بانو اور شیر دل کو اکٹھا نہیں دیکھ لیا تھا۔ وہ شہر بانو کو تصویروں میں دیکھ چکی تھی ۔وہ اسے چند فنگشنز میں شیر دل کے ساتھ دور سے دیکھ چکی تھی لیکن وہ آج پہلی بار اسے اتنے قریب سے دیکھنے والی تھی، اس سے ملنے والی تھی…اس بار بی ڈول سے جو اس کے بچپن کی چندcinations faمیں سے ایک تھی اور جو اس کی زندگی میں سیاہ ترین باب کا اضافہ کرنے والے شخص سے منسلک تھی… اورجو اس شخص کی زندگی کا حصہ تھی جس سے اس نے شدید محبت کی تھی ۔
    آئینے میں نظرآتے اس عکس سے نظریں ہٹاتے ہوئے عکس مراد علی نے جیسے خود کو سنبھالنے کی ایک اور کوشش کرتے ہوئے لمحے بھر کے لیے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا جہاں سے ہلکی ہلکی بوندا باندی ہورہی تھی… وہ برسات جو اس کی آنکھوں سے نہیں برس پارہی تھی وہ کہیں اور سے برسنا شروع ہوگئی تھی اس نے ڈرائیور سے کچھ بات کرنے کی کوشش کی تھی جو اس کے لیے دروازہ کھولنے کے لیے باہر آیا تھا۔ خود کو سنبھالنے کے لیے وہ ہر چیز کا سہارا لے رہی تھی۔
    پانی کی ہلکی سی پھوار نے اس کے چہرے، بالوں اور لباس کو ذرا سا نم کیا اور برآمدے میں کمشنر اور اس کی بیوی کا استقبال کرتے ہوئے شیر دل نے بالکل اس لمحے گردن موڑ کر اس کو دیکھا تھا۔ وہ سیاہ موتیوں سے ایمبرائیڈڈز ایک فٹنگ والا سیاہ شیفون کا لباس پہنے ہوئے تھی جو اس کے متناسب جسم کو کچھ اور بھی متناسب کررہا تھا۔ عام طور پر کھلے رہنے والے گھنے سیاہ بال اس وقت ایک سیاہ نیٹ میں ڈھیلے جوڑے کی شکل میں اس کی گردن کے پیچھے سمٹے اس کی پتلی اور لمبی گردن کو نمایاں کیے ہوئے تھے۔ دائیں کندھے پر اسٹول کی شکل میں تہ شدہ دوپٹاڈالے وہ بائیں ہاتھ میں ایک بہت چھوٹا اور خوب صورت سیاہ پرس پکڑے ہوئے تھی۔ شیر دل نے اس سے نظریں ہٹائیں۔ مشکل کام تھا یہ اور اس نے مشکل سے ہی کیا تھا۔ وہ کمشنر اور ان کی فیملی کے ساتھ آئی تھی۔ کمشنر اور ان کی بیوی گاڑی سے اتر کر اندر جانے کے بجائے چند لمحوں کے لیے وہیں برآمدے میں رک گئے تھے۔ کمشنر کا استقبال کرنے کے بعد شیر دل برآمدے سے نکل کر اس کی گاڑی کی طرف بڑھ آیا تھا۔ عکس کی طرف جاتے ہوئے غیر محسوس انداز میں اس نے اپنی جیب میں پڑا ٹشو پیپر ٹٹولا تھا۔ اس کی یہ بے اختیاری شہر بانو نے نوٹس کی تھی جس کے برابر سے وہ یک دم ہٹا تھا۔ اس نے کمشنر کی گاڑی کے پورچ سے ہٹ جانے اور عکس کی گاڑی کے آگے آنے کا بھی انتظار نہیں کیا تھا۔ وہ یہ نہیں دیکھ پائی تھی کہ عکس کے گاڑی سے نکل آنے پر وہ اس کا استقبال کرنے چلا گیا تھا۔ وہ دور جاتے شیر دل سے نظریں ہٹانا چاہتی تھی لیکن وہ ہٹا نہیں پائی تھی۔ کمشنر کی بیوی سے بات کرتے ہوئے بھی وہ عجیب بے چین انداز میں شیر دل کو لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے اس گاڑی کی طرف بڑھتے دیکھتی رہی تھی جہاں اس کی طرف پشت کیے ڈرائیور سے بات کرتے ہوئے عکس مراد علی کو اس نے ایک عجیب سے اضطراب کے ساتھ دیکھا تھا۔
    ڈرائیور سے بات کرتے ہوئے عکس جب تک پلٹی شیر دل اس کے سامنے کھڑا تھا۔ دونوں بے اختیار ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے ۔عکس نے اس سے نظر چرائی… خود کو سنبھالا… پھر اسے دیکھا… وہ بہت بارایک دوسرے کے اتنے ہی قریب آکر کھڑے ہوچکے تھے… بہت بارایک دوسرے کے بالمقابل اتنے ہی فاصلے پر کھڑے ایک دوسرے کی آنکھوں میں یونہی جھانکتے بھی رہے تھے… اور عکس مراد علی نے کبھی ان آنکھوں میں پہچان کی کوئی جھلک نہیں دیکھی تھی… نہ چڑیا کے لیے… نہ اس سترہ سالہ عکس مراد علی کے لیے جو ایک انٹر کالجیٹ کے مقابلے میں ایبک شیر دل کا نام ہی سن کر بدک گئی تھی۔ جس نے اپنے کیرئیر کے بد ترین تقریری مقابلے میں اسٹیج پر روسٹرم کے پیچھے کھڑے ایک ایک لمحہ اس خوف میں گزارہ تھا کہ وہ ابھی…ابھی چڑیا کو پہچان لے گا… اور وہ یہ کیوں نہ سوچتی کہ وہ اسے پہچان لے گا۔ چڑیا کی زندگی کے آٹھ سال ایبک شیر دل کے بارے میں سوچتے گزرے تھے۔ آٹھ سال گزر جانے کے بعد بھی اگر کوئی اس سے ایبک کا حلیہ پوچھتا تو وہ سیکنڈز میں اس کے حلیے کی ڈیٹیل بتادیتی۔ اس کے نین نقش سے لے کر اس کے زیر استعمال ا سنیکرز اورا سپورٹس وئیر کے لیبلز اور برانڈز تک اسے یاد تھے۔ وہ ایبک کے ساتھ گزارے ہوئے ان چند ہفتوں کو اپنے ذہن کی ڈائری کی انٹریز کی طرح پڑھ سکتی تھی… ایبک کا ایک ایک جملہ… ایک ایک بات… پھر اگر وہ یہ سوچ رہی تھی کہ وہ بھی ایبک کو اسی طرح یاد ہوگی تو یہ زیادہ بڑی خوش فہمی نہیں تھی۔ آٹھ سال اتنا طویل عرصہ نہیں ہوتا کہ ایبک اس کے چہرے کے نقوش میں کوئی یاد کھوج نہیں پاتا… لیکن ایبک شیر دل اسے نہیں پہچانتا تھا۔ وہ نام سے اسے نہیں پہچان سکتا تھا کیونکہ خیر دین اسے چڑیا کہتا تھا یا پھر فاطمہ… اس کے نام کا دوسرا حصہ جس سے وہ چڑیا کے بعد جانی اور پہچانی جاتی تھی… عکس کے نام سے وہ اسکول کے علاوہ اور کہیں نہیں پکاری جاتی تھی۔ نہ گھر میں نہ خاندان میں… فاطمہ اس کے نام کا وہ حصہ تھا جس کا اضافہ اس کی پیدائش کے بعد اس کے خاندان کے افراد کے عکس نام سے اسے پکارنے میں دقت کے بعد کیا گیا تھا۔ خیر دین نے اس کا نام بڑے شوق سے رکھا تھا لیکن چند ہفتوں میں ہی اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ اس نام کو اس کے خاندان اور گاؤں والے کبھی بھی صحیح تلفظ سے ادا نہیں کرسکتے تھے۔ خیر دین نے چڑیا کا نام نہیں بدلا صرف اس میں فاطمہ کا اضافہ کردیا لیکن وہ اسکول ،کالج میں عکس مراد علی کے طور پر ہی جانی جاتی رہی۔ ایبک بھی خیر دین کی طرح اسے عکس یا فاطمہ کے بجائے چڑیا ہی کہتا رہا تھا۔ چڑیا کو پھر بھی خوش فہمی تھی وہ عکس کا لفظ سنتے ہی چڑیا تک پہنچ جائے گا، وہ اس کے چہرے پر ایک نظر ڈالتے ہی اسے پہچاننے لگے گا۔ یہ پہچا ن چڑیا کو کبھی خوف زدہ نہ کرتی اگر اس رات اس نے ایبک کو وہاںریلنگ کے پاس کھڑے چلاتے نہ دیکھ لیا ہوتا۔خوف اور دہشت کے عالم میں بھی ایبک کے سامنے بے لباسی کا احساس چڑیا کو گاڑ دینے کے لیے کافی تھا۔ اس کی چیخوں نے چڑیا کی جان بچائی تھی مگر ان آٹھ سالوں میں بہت بار چڑیا اس ایک نظر سے نادم رہی جو اس نے ایبک کو خود پر ڈالتے دیکھی تھی… وہ جس حالت میں ایبک کے سامنے آئی تھی وہ اس حالت میں کبھی بھی اس کے سامنے آنا نہیں چاہتی تھی۔ اور اسے جیسے خوف بھی یہی تھا کہ وہ اسے پہچانے گا تو اس بے لباسی کے حوالے سے اس ایک رات کے حوالے سے پہچانے گا… ان چند شاندار ہفتوں میں اکٹھے گزارے ہوئے یادگار وقت کے حوالے سے نہیں۔
    اس تقریری مقابلے کے بعد بھی اسے یقین تھاایبک کو اگر فوری طور پر وہ یاد نہیں آئی ہوگی تو گھر جا کر یاد آجاتی… چند دنوں کے بعد یاد آجاتی… اور کچھ نہیں تو کم از کم چڑیا کا چہرہ اس کے نظروں میں بھی اٹک جاتا۔
    اس کی یہ خوش فہمی اکیڈمی میں دو ر ہوگئی تھی۔ عکس مراد علی کے حوالے سے ایبک شیر دل کی کسی قسم کی کوئی یادداشت نہیں تھی… اسے شروع میں یقین نہیں آیا کہ وہ واقعی اسے یاد نہیں تھی۔ کئی ہفتے وہ اسے اگنور کرتی رہی صرف اسی ایک خدشے کے تحت کہ وہ اب اسے ضرور پہچان لے گا… اگر چڑیا کا چہرہ نہ پہچان سکا تو کم از کم سات آٹھ سال پہلے ہونے والے اس تقریری مقابلے کی تو کوئی میموری ہوگئی اس کے پاس…
    اورجب عکس مراد علی کو با لا خر یہ یقین آیا کہ ایبک شیر دل کو اس کے حوالے سے” کچھ بھی” یاد نہیں تھا تو وہ ہل کر رہ گئی تھی… شاک کی ایک عجیب سی کیفیت تھی جس سے وہ دوچار ہوئی تھی۔ ایبک شیر دل کمزور یاد داشت کا مالک نہیں تھا کم از کم عکس کو اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں تھا اس کے باوجود اس کا یاد نہ رہنا صرف ایک چیز کا اظہار تھا… چڑیا ایبک کے لیے ٹائم پا س تھی… وہ اس کے لیے وہ اہمیت نہیں رکھتی تھی جو ایبک اس کے لیے رکھتا تھا…اور کیوں اہمیت رکھتی آخر وہ ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھنے والے ایک کم عمر بچے کے لیے جس کے پاس کزنز اور دوستوں کا ایک جم غفیر تھا جو اسی کی طرح کے سوشل سیٹ اپ سے تعلق رکھتے تھے۔ چڑیا ایک چھوٹے شہر میں آکر بوریت سے بچنے کے لیے ڈھونڈی جانے والی ایک ساتھی ہوسکتی تھی لیکن وہ اس کی وہ دوست نہیں ہوسکتی تھی جسے اس نے واپس ایجی سن اپنے جیسے دوستوں میں جا کر مس کیا ہو… وہ چڑیا کے بچپن کی بہترین چیزوں میں سے ایک تھا لیکن چڑیا ایبک کے لیے ایک بہترین یاد کیسے ہوسکتی تھی۔ بڑے سالوں بعد عکس مراد علی نے بیٹھ کر جذباتیت کی گرد جھاڑ کر اپنے اور ایبک کے تعلق کو دیکھا تھا اور عجیب سی ندامت اور رنجیدگی ہوئی تھی اسے۔
    ایبک شیردل ،عکس مراد علی کو اس تقریری مقابلے کے حوالے سے بھی یاد نہیں رکھ پایا تھا… اسے اپنی شکل و صورت کے حوالے سے کوئی خوش فہمی کبھی نہیں رہی تھی لیکن وہ یہ ضرور جانتی تھی کہ مرد اسے اگنور نہیں کرسکتے، وہ کم از کم اتنے معمولی خدوخال کی مالک نہیں تھی کہ ایبک اسے یاد بھی نہ رکھتا… اور یہاں اسے اہم سمجھنے کا سوال بھی نہیں تھا یہاں بات صرف یاد رکھنے کی تھی… صرف اور صرف یادداشت کا حصہ رکھنے کی… عکس مراد علی وہ بھی نہیں تھی۔
    ”زندگی میں ہارنے والوں کو بہت کم لوگ یاد رکھتے ہیں… ہار انسان کے غیر معمولی چہرے کو بھی معمولی بنادیتی ہے اور جیت معمولی شکل کو غیر معمولی ۔”عکس مرادعلی نے اس گتھی کو خیر دین سے حل کروانے کی کوشش کی تھی۔
    ”میرے ساتھ اکیڈمی میں ایک لڑکا ہے نانا… سات آٹھ سال پہلے ایک انٹر کالجیٹ مقابلے میں اس نے مجھے ہر ا کر وہ مقابلہ جیتا تھا لیکن میں حیران ہوں کہ اسے میں یاد تک نہیں حالانکہ وہ مجھے یاد ہے۔” اس نے خیر دین کو ایبک شیر دل کانام لیے بغیر اپنا مسئلہ بتایا۔ مجھے لگتا ہے وہ دکھاوا کررہا ہے مجھے نہ پہچاننے کا ورنہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اسے میں یاد ہی نہ ہوں۔” عکس نے اپنا اندازہ بھی اس کے ساتھ شیئر کیا۔
    ”لوگ ہارنے والوں کے چہروں اور ناموں پر غور نہیں کرتے چڑیا۔ تم نے تو دوسری ،تیسری پوزیشن بھی نہیں لی اس مقابلے میں… پھر تمہیں وہ کس حوالے سے یاد رکھتا… ہارنے والے تو بہت سے ہوتے ہیں۔ ” کیا تلخ حقیقت تھی جو خیر دین نے مصری کی ڈلی کی طرح توڑ کر چڑیا کے سامنے رکھ دی تھی۔ ایبک شیر دل عام شخص تھا اس کی نفسیات بھی عام شخص جیسی ہی تھی… جیت اور جیتنے والوں کو یاد رکھنے کی کوشش …ہار اور ہارنے والوں کو بھول جانے کی… وہ اوپر دیکھنے کا عادی تھا نیچے نہیں۔
    زندگی میں ایک اور سبق عکس مراد علی نے اس دن حاصل کیا تھا۔ وہ زندگی میں ان تمام لوگوں کے چہروں اور ناموں پر بھی غور کرے گی جنہیں وہ زندگی میں ہرائے گی۔ وہ زندگی میں خود کبھی عکس مراد علی جیسے حریف کا سامنا نہیں چاہتی تھی جو یک دم کسی dark horse کی طرح ایک دن اس کے سامنے آکر کھڑا ہوجائے اور اسے اس کے بارے میں کچھ بھی پتا نہ ہوتا۔
    بلیک ڈنر سوٹ کے ساتھ ایک سرخ striped ٹائی لگائے، سلور کف لنکس اور ٹائی پر ایک کرسٹل کی ٹائی پن لگائے وہ اپنے اس حلیے میں اس کے سامنے کھڑا تھا جو اس کی ایک وجہ شہرت تھی۔ اکیڈمی میں کوئی اور کامنراپنی ڈریسنگ سینس میں شیر دل کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا۔ عکس مراد علی نے اتنے سالوں کی سروس میں بھی شیر دل سے زیادہ خوش لباس مرد نہیں دیکھا۔
    عکس نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ ستائشی نظروں سے شیر دل کو دیکھا ہوا کے ایک جھونکے نے شیر دل کی ٹائی کو اڑایا۔ عکس کی نظر بھٹکی، اس کی ٹائی کو اڑنے سے روک دینے کی خواہش کو اس نے اتنی ہی بے اختیاری کے ساتھ دبایا جس طرح وہ ابھری تھی۔
    دونوں کے درمیان اب خیر مقدمی کلمات کا تبادلہ ہورہا تھا۔ وہی رسمی جملے… اور وہی ان کہے مفہوم… وہ ہمیشہ کی طرح اس کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے بات کررہا تھا اور وہ کبھی بھی اس کے چہرے سے اس کے دل تک نہیں پہنچ پایا تھا۔ وہ اسے راستے میں ہی بھٹکا دیتی تھی… ہمیشہ بڑی کامیابی کے ساتھ… عکس نے سوچا اس کے چہرے پر نظریں جمائے شیر دل کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہورہا تھا کہ اس کے چہرے پر موجود کون سی شے کس کو ماند کررہی تھی۔ اس کے کانوں کی لوؤں میں دمکتے سفید موتیوں کے studs اس کی شفاف چمکدار سیاہ آئی لائنر سے سجی آنکھوں کو یا سرخ لپ اسٹک سے رنگے ہونٹوں سے جھلکتی دودھیا دانتوں کی قطار کو جو اس کی مسکراہٹ کو اور بھی دلکش کررہی تھی۔ بارش کی پھوار کے ننھے ننھے قطرے اوس کے قطروں کی طرح اس کے بالوں اور چہرے پر چمک رہے تھے۔ ایک لمحے کے لیے شیر دل کا دل چاہا وہ ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے صاف کردے… صرف ایک لمحے کے لیے… پھر اس نے نظر چرائی تھی… جیب سے ایک ٹشو نکال کر غیر محسوس انداز میں عکس کی طرف بڑھاتے ہوئے اس نے کہا۔
    ”تم نے بڑا رسک لیا۔” عکس نے وہ ٹشو تھام کر اسی غیر محسوس انداز میں اپنا چہرہ اور سر تھپتھپاتے ہوئے کچھ حیرانی سے اس سے پوچھا۔
    ”کیا؟” وہ دونوں اب ساتھ چل رہے تھے۔
    ”بارش میں گاڑی سے نکل آئیں۔” قدم بڑھاتے ہوئے شیر دل نے اس سے کچھ سنجیدگی سے کہا۔
    ”تو؟” وہ الجھی۔
    ”اگر میک اپ بہہ جاتا تو؟” اس بار شیر دل کے ہونٹوں اور آنکھوں میں شرارت لہرائی تھی۔ یہ جاننے کے باوجود کہ وہ ایک سیاہ آئی لائنر اور لپ اسٹک کے علاوہ شاید ہی کچھ اور لگائے ہوئے تھی۔
    ”ہاں رسک تو تھا۔ میک اپ صاف ہوجاتا تو تم اس سے زیادہ گھورتے مجھے… جتنا ابھی گھوررہے تھے۔” عکس نے ہاتھ میں پکڑے ٹشو کو بڑی نفاست سے لپیٹ کر پرس میں بے نیاز ی سے رکھتے ہوئے کہا۔جواب بھی ویسا ہی آیا تھا جیسا سوال کیا گیا تھا۔ اسے دیکھے بغیر شیر دل نے بے اختیار سر جھکا کر اپنی مسکراہٹ چھپائی۔ وہ اس کی اس حس مزاح کی عادی تھی۔ اسے دیکھ کر شیر دل کے لیے خاموش رہنا اور کسی نہ کسی بات پر کوئی کوئی نہ کوئی پھڑکتا ہوا تبصرہ نہ کرنا ناممکن تھا۔ وہ بچپن سے اس کی عادی تھی۔ ایبک شیر دل کے پاس بچپن میں بھی احمقانہ باتوں کا ڈھیر ہوتا تھا اور ڈھیر کا مطلب ڈھیر ہی ہوتا تھا اور وہ ہر احمقانہ بات بے حد سنجیدگی سے کرتا تھا۔ چڑیا اس کے ان چند قریبی ساتھیوں میں سے ایک ثابت ہوئی تھی جو بہت جلد ہی یہ سمجھ گئی تھی کہ وہ ساری باتیں کم از کم ایبک کے لیے احمقانہ نہیں تھیں۔ وہ انہیں بڑی سنجیدگی سے کرتا تھا… اور چڑیا دوسرے بچوں کے بر عکس بڑی سنجیدگی سے انہیں سن لیا کرتی تھی… اس کی یہ عادت اب بھی قائم تھی۔
    وہ اب باقی لوگوں کے قریب پہنچ چکے تھے۔ شیر دل اسے جواباً کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ کمشنر کی بیوی کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے شہر بانو عکس کے استقبال کے لیے کچھ آگے بڑھ آئی تھی۔ دونوں نے بیک وقت ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔
    ”شہر بانو …عکس مراد علی۔” چند لفظوں میں شیر دل نے باری باری دونوں کو ایک دوسرے سے متعارف کروایا۔ دونوں ناموں کے ساتھ کوئی سیاق وسباق نہیں تھا پھر بھی دونوں ایک دوسرے کو اس سے کہیں زیادہ جانتی تھیں جتنا شیر دل نے ان کا تعارف کروایا تھا۔سفید شیفون کے کلیوں والے کرتے اور چوڑی دار پاجامے میں شہر بانو ایک باربی ڈول لگ رہی تھی۔ عکس اس کے لیے کوئی اور تشبیہ نہیں ڈھونڈ سکی تھی۔ وہ آج بھی اس کی بار بی ڈول تھی۔ ڈاکٹر فرح کی بیٹی کے پاس موجود وہ گڑیا جو اسے ہمیشہ للچایا کرتی تھی اور اس جیسی گڑیا خرید نے کے لیے اس نے خیر دین سے بہت اصرار کیا تھا۔
    خیر دین اسے لے لے کر بازاروں میں کھلونوں کی دکانوں پر باربی ڈول کی تلاش میں پھرتا رہا تھا۔ جو سستی نقل دکانوں پر مل رہی تھی وہ چڑیا کو پسند نہیں آرہی تھی وہ اصل اور نقل کا فرق بتا نہیں سکتی تھی لیکن سمجھتی ضرور تھی اور جو اصلی باربی ڈول اسے چند دکانوں میں نظر آئی تھی اس کی قیمت اتنی تھی کہ خیر دین اسے چڑیا کو دکھا سکتا تھا دلوا نہیں سکتا تھا ۔کئی دن بازاروں کی خاک چھاننے کے بعد با لآخر چڑیا کو پتا چل گیا تھا کہ باربی ڈول اس کی استطاعت اور اوقات سے باہر کی چیز تھی اور اس کے لیے ضد یا اصرار کرنا خیر دین کو تکلیف اور شرمندگی کے علاوہ کچھ نہ دیتا۔ اس نے باربی ڈول کی فرمائش ختم کردی تھی مگر وہ اس کے حواس پر سوار رہی تھی۔ تین سالہ شہر بانو پر پہلی نظر میں بھی اسے خوب صورت ایوننگ گاؤن والی وہ باربی ڈول ہی یاد آئی تھی۔ اس کے صرف بال سنہری نہیں تھے مگرا س کی خوب صورتی ،ناز نخرہ ،لباس سب اسی باربی ڈول جیسا تھا جو اس کے لیے untouchable تھی۔
    اتنے سالوں بعد شہر بانو کو دیکھتے ہوئے عکس مراد علی کو آج بھی بار بی ڈول ہی یاد آئی تھی۔ دودھیا رنگت، سیاہ لمبی خمدار آنکھیں، ننھی سی نوک والی تیکھی ناک اور بے حد باریک مسکراتے ہونٹ… عکس کے ہونٹوں پر موجود مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئی تھی اس کو دیکھ کر… اسے آج بھی اس پر ویسا ہی پیار آیا تھا جیسا اس کو پہلی بار دیکھ کر آیا تھا۔ اس کا دل آج بھی اس کی طرف سے اسی طرح ہمکا تھا جس طرح پہلی بار اسے دیکھ کر ہمک کر اس کی طرف گیا تھا۔ شیر دل کو اس سے زیادہ پرفیکٹ لڑکی نہیں مل سکتی تھی۔ وہ واقعی صرف شیر دل کے ساتھ سجتی تھی۔ اس کی طرف بڑھتے ہوئے عکس نے سوچا تھا۔ شیر دل کے ذہن میں سب سے پہلے شہر بانو کے حوالے سے اس طرح کا خیال ڈالنے والی بھی وہی تھی۔
    ”میرا خیال ہے وہ تم سے محبت کرتی ہے۔” اس نے فون پر شیر دل سے شہر بانو کے حوالے سے کوئی قصہ سننے کے بعد کہا تھا۔ وہ جواباً ہنسا تھا۔
    ”یہ کون سی نئی بات ہے جو تم مجھے بتارہی ہو، میں جانتا ہوں وہ مجھ سے محبت کرتی ہے… مجھ پر مرتی ہے۔” اس نے آخری جملہ بڑے اعتماد سے بڑے جتانے والے انداز میں کہا تھا۔”کوئی پہلی لڑکی تو نہیں ہے وہ جسے مجھ سے محبت ہوگئی ہو…”
    مسٹر شیخ چلی تم اگر شیخیاں بگھارنا بند کرو تو میں کچھ کہوں۔” عکس نے اس کی بات کاٹتے ہوئے اسے ٹوکا۔”تم سے زندگی میں پہلی بار کوئی اچھی لڑکی محبت کررہی ہے۔”
    ” now that’s not fair ” شیر دل نے اس کی بات کاٹ کر احتجاج کیا۔”تم یہ کیسے کہہ سکتی ہو… تمہیں کیا پتا مجھ پر کون کون مرتا…” عکس نے اس کی بات کاٹی۔
    ”تم تقریر کرنے کے بجائے ان لڑکیوں کے ناموں کی ایک لسٹ بنالو جو تم پر مرنے کا شرف حاصل کرچکی ہیں… ہوسکے تو تصویریں بھی لگالینا ساتھ… تصویریں تو ہوں گی نا ہر لڑکی کی تمہارے پاس؟ عکس نے اسے بظاہر بڑی سنجیدگی سے مشورہ دیتے ہوئے کہا یوں جیسے دونوں اکیڈمی میں کوئی سینڈ پکیٹ رپورٹ تیار کرنے کے بارے میں suggestion پر تبادلہ خیال کررہے تھے۔




  • عکس — قسط نمبر ۱۰

    آئینے میں ابھرنے والے عکس نے چڑیا کو روک لیا تھا۔ کسی پرانے ،مہربان واقف حال، غمگسار دوست کی طرح اس کے دل اور قدموں دونوں پر بیک وقت کمند ڈالی تھی… ایسا دوست جس نے اس گھر میں اس کی زندگی کے بہترین دن اور بد ترین رات دیکھی تھی۔
    چڑیا بہت دیر تک نم آنکھوں کے ساتھ اس آئینے میں عکس کو دیکھتی رہی۔ آخری بار اس نے یہاں کھڑے ہو کر اس آئینے میں ایک پنک فراک والی ایک ریشمی سیاہ بالوں والی سانولی چمکدار آنکھوں والی ایک پری کو دیکھا تھا وہ اس حادثے سے ایک شام پہلے کی بات تھی۔ اس دن اس نے اپنا دودھ کا تیسرا دانت گنوایا تھا اور اس آئینے میں وہ اور ایبک ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے ہنس ہنس کر بے حال ہوگئے تھے۔ وہ جانتی تھی ایبک اس کے دانت کا خلا دیکھ دیکھ کر ہنس رہا تھا لیکن وہ ایبک کو اس طرح ہنستا دیکھ کر اپنے دانتوں کی مضحکہ خیز حالت بھول گئی تھی۔




    اس آئینے میں وہ بونوں کو ڈھونڈا کرتی تھی۔ آج اس نے اس آئینے میں اپنے بچپن کو کھوجنے کی کوشش کی تھی۔ آئینہ اب اسے ایک سفید کوٹ کالر ڈ اے لائن لانگ شرٹ، سیاہ چوڑی دار پاجامہ اور سیاہ جیکٹ میں ملبوس بے حد اسمارٹ اور ویل ڈریسڈ لڑکی دکھا رہا تھا جس کے کانوں کے ڈائمنڈاسٹٹذاو ر سفید شرٹ کے کھلے کالرز سے بہت نمایاں طور پر ابھری ہوئی کالر بون کے درمیان سنہری زنجیر میں چمکتا ایک ڈائمنڈ پینڈنٹ کسی بھی پرائس ٹیگ کے بغیربھی اس کے متمول ہونے کا اعلان کررہا تھا۔ اس عکس میں اس سستے پنک فراک اور کسی ریڑھی سے دو روپے میں ملنے والے ایک اتنے ہی سستے تتلیوں والے پنک ہیر بینڈ والی اس آٹھ سالہ بچی کو ڈھونڈنا مشکل تھا۔ صرف وہ تھی جو اس ” عکس”میں ”چڑیا” کو کھوج رہی تھی اور کھوج پارہی تھی ۔ صرف وہ تھی جو اس آئینے میں وہ دیکھ رہی تھی جو دوسرا کوئی بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔
    اس آئینے میں اس نے وہ بونا دیکھا تھا جسے دیکھنے کی تمنا میں وہ گھنٹوں اس میں جھانکتی رہتی تھی اور پہلی بار وہ بونا نظر آجانے پر وہ خوف سے فریز ہوگئی تھی۔ وہ اس کی بد صورتی سے ڈر گئی تھی۔ زندگی نے اسے سکھایا تھا کہ ظاہری بد صورتی خوف کھانے والی شے نہیں ہوتی ۔یہ انسان کے اندر کی بد صورتی ہوتی ہے جس سے ڈرنا چاہیے۔ اس آئینے میں اسی دن اس نے انسان نام کا ایک بے حد خوب صورت بونا بھی دیکھا تھا جس سے خوف اور گھن نام کی کوئی شے اسے محسوس نہیں ہوئی تھی لیکن اس کے باوجود اس بونے نے اس کی زندگی تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ زندگی میں بعض ولن ہیرو کی شکل میں اور بعض ہیرو ولن کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں لیکن ہم ان کی شناخت بہت دیر سے کر پاتے ہیں۔
    چڑیا نے اس آئینے میں نظر آنے والے اس بد صورت بونے کو اس گھر میں دوبار دیکھا تھا۔ ایک بار اس آئینے میں جب وہ اسے دیکھ کر خوف کے عالم میں ہل بھی نہیں سکی تھی اور دوسری بار اس بونے نے کسی اور کو فریز کر کے…
    چڑیا نے یک دم آئینے سے نظر ہٹائی تھی۔ وہ سات بونے یک دم اتنے سالوں کے بعد اسے اپنے پاس اپنے گھر میں دیکھ کر خوشی سے جیسے پاگل ہوگئے تھے کنٹا اس ہیل والے بند جوتے پر چھلانگ مار کر چڑھا تھا اور اس کی پنڈلی سے لپٹ گیا تھا۔ وہ اپنی خوشی کا اظہار ہمیشہ ایسے ہی کرتا تھا۔ منٹا اچھل کر اس کی جیکٹ کی آستین سے لٹک گیا تھا۔ اسے ہمیشہ اس طرح جھولنے میں مزہ آتا تھا۔ سب سے موٹا بونا ٹوکو اپنے تھر تھراتے ہوئے پیٹ کے ساتھ اور پھولے سانس کے ساتھ اس کے ارد گرد ناچتا پھر رہا تھا۔ آنکھیں گھمانے والا کٹو خوشی سے بے حال اپنی ہی جگہ دروازے کی دہلیز پر پھرکی کی طرح ایک ہی جگہ گھومتا جارہا تھا۔ ٹنٹو نے اس کے دوسرے جوتے پر چڑھنے کی کوشش میں چھینک چھینک کر خود کو بے حال کرلیا تھا۔ ٹوفو بھاگتے ہوئے اپنی عینک کہیں گرا بیٹھا تھا اور اپنے بازو پھیلائے چڑیا کو ڈھونڈنے کی کوشش میں ادھر ادھر چیزوں سے ٹکراتا پھررہا تھا… اور چڑیا کا فیورٹ ڈیڈو وہ بس اس کے پیروں میں کھڑا بچوں کی طرح بلک بلک کر روتا ہی جارہا تھا… سب کچھ وہیں تھا جہاں وہ چھوڑ کر گئی تھی یا اسے جانا پڑا تھا… ایلس اپنے ونڈرلینڈ میں لوٹ آئی تھی۔
    ……٭……




    وہ ایبک کی بات پر اس کے قریب سے گزرتے گزرتے جیسے واپس لوٹ آئی تھی۔ اس کی اطلاع نے فاطمہ کو جیسے اسی طرح حیران کیا تھا۔
    ”آنٹی مجھ سے کیوں ملنا چاہتی ہیں؟” اس نے کالج کے کاریڈور کی دیوار سے ٹکے ایبک کو دیکھتے ہوئے کہا۔ وہ خلاف توقع بہت سنجیدہ تھا۔
    ”یہ تو تمہیں ممی ہی بتاسکتی ہیں، مجھے تو انہوں نے صرف تمہیں یہ میسج دینے کے لیے کہا تھا۔” فاطمہ کچھ دیر الجھی ہوئی نظروں سے اسے دیکھتی رہی۔ اس کے اور ایبک کے درمیان اتنی سی بات بھی کئی دنوں کے بعد ہورہی تھی۔ وہ کالج میں ایبک کو مکمل طور پرنظر انداز کیے ہوئے تھی اور اس کی اس کوشش نے ایبک کو جیسے بری طرح زچ کردیا تھا اور اب یک دم وہ اس کے سامنے یہ مطالبہ لے کر آگیا تھا کہ مسز سلطان اس سے ملنا چاہتی تھیں۔
    الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ وہ اگلے دن مسز سلطان کے آفس میں آئی تھی ۔وہ ہمیشہ کی طرح اس سے انتہائی گرم جوشی اور شفقت کے ساتھ ملی تھیں۔
    ”کتنے دن ہوگئے تم سے ملاقات ہوئے… میں نے کئی بار ایبک سے تمہارے بارے میں پوچھا لیکن اس نے کہا تم اس سے کچھ خفا ہو۔” وہ اپنے آفس میں اپنے ٹیبل سے اپنی فائلز سمیٹتے ہوئے بولیں۔ چند لمحوں کے لیے فاطمہ کو عجیب سی شرمندگی ہوئی۔ اسے بالکل توقع نہیں تھی کہ ایبک اپنی ماں سے اس کی خفگی کو اتنے کھلے طریقے سے شیئر کرے گا۔
    ”نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔” وہ گڑ بڑا کر صفائی دینے والے انداز میں بولی۔
    ”تو پھر تم دونوں نے کمبائنڈ اسٹڈی کیوں بند کردی… آپس میں ملنا جلنا کیوں چھوڑ دیا؟ ایبک تمہارے اس رویے کی وجہ سے بے حد اپ سیٹ ہے اور اسی وجہ سے میں نے سوچا کہ میں تم سے خود بات کروں۔” فاطمہ کو بڑی مشکل ہوئی مسز سلطان کے سوالوں کا جواب ڈھونڈنے میں ۔وہ کبھی مسز سلطان سے اپنے اور ایبک کے تعلق کا اعتراف نہیں کرسکتی تھی۔ خاص طور پر اب جب ایبک کی زندگی میں اس کی فیملی کی منتخب کردہ ایک اور لڑکی آچکی تھی لیکن اس کی مشکل کو مسز سلطان نے خود ہی حل کردیا تھا۔
    ”ایبک تمہیں بہت پسند کرتا ہے اور یہ پسندیدگی ایک کلاس فیلو اور دوست کی حیثیت سے نہیں ہے۔” فاطمہ نے چونک کر انہیں دیکھا۔ جو آخری شے وہ مسز سلطان سے توقع کرسکتی تھی وہ بات تھی جو انہوں نے ابھی کی تھی۔




    ”ایبک نے مجھ سے اس پسندیدگی کو کبھی نہیں چھپایا لیکن کچھ فیملی پرابلمزایسی ہوگئیں کہ ایبک کی بات طے کرنی پڑی مجھے… لیکن بیٹا ہم لوگ کوشش کررہے ہیں کہ خوش اسلوبی کے ساتھ یہ معاملہ ختم ہوجائے۔ ایبک اور میری بھتیجی میں کسی قسم کی کوئی compatability نہیں ہے اگر فیملی کا معاملہ نہیں ہوتا تو یہ رشتہ بہت پہلے ختم کردیتی میں کیونکہ مجھے اپنے بچوں کی خوشی سے بڑھ کر کوئی چیز عزیز نہیں ہے لیکن بس فیملی کی کچھ مجبوریاں ہیں جن کی وجہ سے یہ رشتہ لٹک ہی گیا ہے۔” فاطمہ بے یقینی کے عالم میں مسز سلطان کی باتیں سن رہی تھی۔ آسمان اس کے سر پر گر جاتا تو اسے اس قدر شاک نہیں پہنچتا جتنا ابھی پہنچ رہا تھا۔ مسز سلطان اس کے اور ایبک کے بارے میں پہلے ہی سارے اندازے اور قیاس لگائے بیٹھی تھیں جو سو فی صد ٹھیک تھے اور اب وہ اسے اس پچھتاوے سے آگاہ کررہی تھیں جو اس رشتے کی صورت میں انہیں ہوا تھا۔
    ”بیٹا میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ تم اور ایبک اپنی دوستی پہلے کی طرح رکھو، اکٹھے پڑھو… ساتھ گھومو پھرو جیسے پہلے تھے۔ میں تمہیں یقین دلارہی ہوں کہ ہاؤس جاب ختم ہونے تک یہ معاملہ ختم ہوجائے گا۔ میں ایبک کی شادی وہیں کروں گی جہاں وہ چاہتا ہے اور میں جانتی ہوں کہ وہ کہاں شادی کرنا چاہتا ہے۔” انہوں نے آخری جملہ بے حد معنی خیز انداز میں کہا۔ ایک عجیب اچنبھے کے عالم میں فاطمہ اس دن ان کے آفس سے اٹھ کر آئی تھی۔ مسز سلطان نے اسے صرف یہی نہیں کہا تھا۔ انہوں نے اس سے اور بھی بہت سی باتیں کی تھیں۔ بہت ساری یقین دہانیاں ،خوش گمانیاں، بہت ساری تسلیاں اور آخر میں بار بار ایک ہی ریکویسٹ کہ وہ ایبک کے ساتھ کمبائنڈ اسٹڈیز جاری رکھے۔ وہ اس کی عدم توجہی کی وجہ سے اپنی اسٹڈیز پر فوکس نہیں کرپارہا تھا اور مسز سلطان کے لیے یہ بہت تکلیف دہ اور ناقابل برداشت بات تھی خاص طور پر اس صورت میں جب وہ ایبک کو آگے اسپیشلائزیشن کے لیے باہر بجھوانے کا ارادہ رکھتی تھیں۔




  • عکس — قسط نمبر ۹

    اس آئینے نے کئی سال پہلے کی طرح آج بھی اس کی نظر کو خود سے ہٹنے نہیں دیا… گزر جانے نہیں دیا۔ وہ آئینے کے سامنے رک گئی۔ وقت نے اس آئینے پر اپنے نشانات بڑھا دیے تھے۔ ہلکی سی بوسیدگی، چند داغ، کئی نئی لکیریں، آب و تاب کھوتی چمک، بجھی ہوئی رنگت۔ وقت نے ایسے ہی بہت سارے نشان اس کے اپنے وجود اور اس کے چہرے پر چھوڑے تھے جس کا عکس آئینے میں دیکھنے پر شناخت کرتے ہوئے اسے چند لمحے لگے تھے۔
    وہ آئینے میں خود کو دن میں کئی بار دیکھتی تھی… لیکن اس آئینے میں نظر آنے والا عکس اس نے کئی سال بعد دیکھا تھا۔ ایک نظر اس نے خود کو دیکھا پھر اپنے عقب میں نمودار ہونے والے مرد کو۔ آئینے میں دونوں کی نظریں لمحے بھر کے لیے ایک دوسرے سے ملی تھیں پھر دونوں ہی نے ایک دوسرے سے آنکھیں چرا لی تھیں۔ وہ پچھلے کئی سالوں سے ایک دوسرے سے اسی طرح آنکھیں چراتے ہوئے ہی پھر رہے تھے۔ آئینے میں ایک لمحے کے لیے جیسے ان کی زندگی جھلکی تھی۔وہ زندگی جو وہ ایک دوسرے کے ساتھ گزار رہے تھے… کئی سال سے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ… اور ایک دوسرے سے کئی صدیوں کے فاصلے پر… ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار… اور اس محبت کو کائی کی طرح اپنے وجود سے نوچتے ہوئے۔
    وہ اس کے پاس سے گزر کر کھلے ہوئے اندرونی دروازے سے اندرچلا گیا تھا۔ اس نے سر اٹھا کر ایک گہری سانس لیتے ہوئے ایک بار پھر اس آئینے کو اور اس گھر کو دیکھا… زندگی میں اس گھر سے زیادہ نفرت اسے کبھی کسی دوسری جگہ سے نہیں ہوئی تھی۔ نفرت شاید ایک بہت معمولی لفظ تھا اپنے ان احساسات کو بیان کرنے کے لیے جو وہ اس گھر کے لیے رکھتی تھی، وہاں کی ایک ایک چیز کے لیے رکھتی تھی، اگر کوئی اسے کبھی کہتا کہ دنیا میں وہ کون سی ایک جگہ ہے جسے وہ آگ لگا کر بھسم کر دینا چاہتی تھی تو وہ اس گھر کا نام دیتی… اور اس تمام نفرت کے باوجود وہ وہاں آنے اور وہاں رہنے پر مجبور تھی کیونکہ وہ اس گھر کی ”ملکہ” تھی۔
    ……٭……




    ”ایک گھر میں صرف ایک ملکہ ہوتی ہے۔ بادشاہ کے محل میں ایک سے زیادہ ہوتی ہوں گی اور تم بادشاہ نہیں ہو۔” شہربانو نے اطمینان سے شیردل سے کہا۔
    ”تم imagine کرو۔” شیردل اس کی بات پر مسکرایا لیکن اس نے پھر بھی اپنے سوال کے جواب کے لیے اصرار کیا تھا۔
    ”تم اپنے گھر میں میری جگہ ایک اور عورت لے آؤ گے؟ اپنی زندگی میں سے مجھے نکال کر کسی دوسری عورت کو شامل کر لو گے؟ یہimpossible ہے۔” شہربانو نے اسی انداز میں کہا۔ شیردل اسی انداز میں مسکرا دیا تھا۔ شہربانو اب بھی اس کے سینے پر بچوں کی طرح سر رکھے لیٹی ہوئی تھی۔ شیردل نے اس کے گرد اپنے بازوؤں کے حصار کو توڑتے ہوئے ایک ہاتھ سے بہت نرمی سے اس کے بالوں کو سمیٹنا شروع کر دیا۔
    ”ایک بات کی مجھے سمجھ نہیں آتی۔” شہربانو نے چند لمحوں کی خاموشی کے بعد یک دم اس سے کہا۔ شیردل ٹھٹکا۔
    ”کس بات کی؟” اس نے شہربانو کے بالوں کو سمیٹنا جاری رکھتے ہوئے کہا۔
    ”یہ مردوں کو بیویوں سے آخر یہ سوال کرنے کا شوق کیوں ہوتا ہے۔” شیردل بے اختیار ہنسا تھا۔
    ”اپنے آپشنز چیک کرتے رہنا کوئی غلط بات تو نہیں۔” اس نے برجستگی سے کہا۔
    ”مذاق نہیں کر رہی میں۔” شہربانو سنجیدہ تھی۔ ”ویسے اگر تم شادی کرتے دوسری… تو کس سے کرتے؟” شہربانو کو پتا نہیں کیا خیال آیا تھا۔
    ”Hmm…” شیردل نے بے اختیار گہری سانس لی۔
    ‘‘Interesting question”۔وہ ایک لمحے کے لیے سوچنے لگا تھا یا کم از کم شہربانو کو لگا۔ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ شیردل کو اس سوال کا جواب سوچنے کی ضرورت تک نہیں تھی۔
    ”عکس سے؟” شیردل کے ذہن کی اسکرین پر اس کا چہرہ آیا اور شہربانو کی زبان پر اس کا نام۔
    شیردل اس عجیب اور بے وقت کی غیر متوقع ٹیلی پیتھی پر جیسے دم بخود ہوا تھا اور اس کی خاموشی نے شہربانو کو عجیب انداز میں مضطرب کیا تھا۔ شیردل کے سینے پر سر ٹکائے اس نے یک دم چہرہ سیدھا کر لیا تھا۔ بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگائے نیم دراز شیردل جانتا تھا وہ کیا کرنے والی تھی۔
    ”That’s quite a silly statement” اس نے شہربانو کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا تھا۔
    Statement”نہیں ہے it’s just a wild guess۔” شہربانو نے شیردل کی آنکھوں اور چہرے کو پھر کسی مائیکرو اسکوپ کی طرح پڑھنے کی کوشش کی۔
    ”تم کو سونا نہیں ہے؟” شیردل نے اسی طرح اس کو موضوع سے ہٹانے کی کوشش کی تھی جس طرح وہ ہمیشہ کرتا تھا لیکن آج وہ ہمیشہ کی طرح کامیاب نہیں ہوا تھا۔
    ”تم بتاؤنا۔” شہربانو نے اصرار کیا۔ وہ اب شیردل کے سینے پر اپنی کہنیاں ٹکائے ہوئے تھی۔
    ”دنیا کے سمجھدار مرد ایک شادی کرتے ہیں… بے وقوف دو کرتے ہیں… اور خوش قسمت ایک بھی نہیں۔” اس نے اطمینان سے کہا۔
    ”تم سمجھدار ہو لیکن خوش قسمت نہیں لیکن…” شیردل نے اس کو بات مکمل کرنے نہیں دی۔
    ”یار میں نے بہت غلط سوال کر لیا تم سے… چھوڑو اب اسے… ہر مرد کو بڑی fantasy ہوتی ہے دوسری شادی کی… اور کوئی بات نہیں۔” شیردل ایک بار پھر اسے الجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔
    ”تم ویسے عکس کو بہت پسند کرتے ہو۔” شہربانو نے اس کی کوشش پر پانی ڈالا۔
    ”کوئی بھی کر سکتا ہے۔” شیردل نے نظر ملائے بغیر وال کلاک پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”کوئی بھی مرد۔” شہربانو نے جیسے اسے کچھ جتایا۔
    ”ہاں کوئی بھی مرد۔” شیردل نے اس کے اندازے اور مشاہدے کو جھٹلایا نہیں تھا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کچھ سوچنے لگی۔ شیردل نے جیسے اس کی سوچوں کو پڑھنے کی کوشش کی تھی۔ وہ کامیاب نہیں ہوا۔ وہ ایک عورت کی سوچ تھی۔ شہربانو نے مزید بحث کیے بغیر اس کے سینے پر دوبارہ سر ٹکا دیا۔ شیردل نے اس مائیکرو اسکوپ کے سامنے سے ہٹ جانے پر جیسے شکر ادا کیا تھا۔
    جہاز کی سیٹ پر بیٹھے ایک فلم دیکھتے ہوئے پتا نہیں شہربانو کو شیردل اور اپنی یہ گفتگو کیوں یاد آئی تھی۔ کوئی خدشہ… کوئی خوف… کوئی سائرن نہیں بجا تھا۔ شیردل پر اسے ایسا ہی اندھا اعتماد تھا۔ ان دونوں کو دور ہوئے صرف چندگھنٹے گزرے تھے۔ اور وہ ان تمام گھنٹوں میں شیردل کے علاوہ اور کسی چیز کے بارے میں نہیں سوچ رہی تھی۔ وہ اس وقت کیا کر رہا ہو گا؟ کہاں ہو گا؟ کچھ کھا رہا ہو گا۔ شیردل کی روٹین اس کی فنگر ٹپس پر تھی اور سیکڑوں میل دور اور ہزاروں فٹ کی بلندی پر بھی شیردل جیسے اس کے سامنے چل پھر رہا تھا۔ وہ شادی کے اتنے سالوں بعد بھی شیردل کے بارے میں جیسے جاگتے میں خواب دیکھنے کی عادی تھی بالکل اسی طرح جیسے وہ شیردل سے شادی سے پہلے اس کے بارے میں سوچتی تھی۔
    ”ممی، پاپا کہاں ہیں؟” اس کی سوچوں کاتسلسل مثال کے سوال پر ٹوٹا تھا۔ اس کے برابر کی سیٹ پر وہ ابھی ابھی نیند سے ہڑبڑا کر اٹھی تھی اور اس نے آنکھیں کھولتے ہی شیردل کو تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔ شہربانو نے ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔ یہ مثال کی پرانی عادت تھی، وہ نیند سے جاگتے ہی سب سے پہلے شیردل کو ڈھونڈتی تھی۔ یہ اس کی بھی عادت تھی، وہ بھی اپنے باپ کی زندگی میں اس کے ساتھ رہتے ہوئے آنکھ کھلتے ہی سب سے پہلا سوال اپنے باپ کے بارے میں ہی کرتی تھی۔ مثال کو تھپکتے ہوئے اس نے پچھلے کئی گھنٹوں میں بلاشبہ کوئی دسویں بار مثال کو شیردل کا محل وقوع بتانے اور سمجھانے کی کوشش کی اور یہ بھی کہ وہ ان کے ساتھ کیوں نہیں آسکا۔
    ”Can you tell him that Misal is missing her?” ۔مثال نے اس کی بات سننے کے بعد یک دم اس سے کہا۔
    ”I would definitely do that”شہربانو نے اسے مزید تھپکا۔
    ”Mummy is also missing him”۔ شہربانو نے بھی اس کے ساتھ شیئرنگ کی۔
    ”لیکن آپ میرے جتنا تو miss نہیں کرتیں انہیں۔” مثال نے فوراً اعتراض کیا۔ شہربانو مسکرا دی۔ وہ جانتی تھی مثال باپ کے بارے میں اسی طرح پوزیسو تھی جس طرح باپ اس کے بارے میں تھا۔
    ”ہاں تمہارے جتنا تو miss نہیں کرتی میں تمہارے پاپا کو۔” شہربانو نے جیسے اسے یقین دلایا۔ مثال بے اختیار کچھ مطمئن ہو گئی۔
    ”سو جاؤ۔” شہربانو نے اسے دوبارہ سلانے کے لیے سیٹ کی پشت سے ٹکایا۔ مثال نے مطمئن انداز میں اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے آنکھیں بند کر لیں۔ شہربانو اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔ وہ اب تک اس کی اور شیردل کی زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ تھا… واحد اثاثہ کہنا شاید زیادہ مناسب ہوتا۔ چار سال سے وہ ان دونوں کی زندگی کو بانٹنے والا واحد ساتھی تھا… لیکن اس سال وہ اپنی فیملی میں مزید اضافہ کرنے کی پلاننگ کر رہے تھے۔ مثال کے بہن یا بھائی کے دنیا میں آنے کا اس سے زیادہ موزوں وقت کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا۔
    ……٭……




    عکس مراد علی کے لیے ٹی وی اسکرین پر بار بار گزرنے والے اس ticker کے چلنے کا اس سے زیادہ غیر موزوں، تکلیف دہ اور خطرناک وقت کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا۔ شیردل کو بیڈ روم میں صوفے پر بیٹھے برق رفتاری سے ایک کے بعد ایک کال ملاتے اور متعلقہ افراد سے بات کرتے ہوئے بھی اس کا ٹھیک ٹھیک اندازہ اور احساس تھا۔ رات کے پچھلے پہر بھی ٹی وی پر آنے والی ایک ایسی خبر کا حصہ ہونا ذاتی حیثیت میں جتنا تکلیف دہ تھا پروفیشنلی عکس کے لیے اس سے زیادہ نقصان دہ ہو سکتا تھا۔ پندرہ منٹ کے بعد ٹی وی اسکرین کے نیچے چلنے والے tickers میں سے صرف عکس مراد علی کے حوالے سے چلنے والی خبر غائب ہو گئی تھی… لیکن شیردل کو اندازہ تھا کہ تب تک بھی عکس کے لیے خفت اور رسوائی کا کافی سامان اکٹھا ہو چکا تھا۔
    ”Thank you۔” شیردل کی کال ریسیو کرتے ہی اس نے ہیلوکے بجائے اسے کہا۔
    ”جواد سے بات ہوئی ہے تمہاری؟” شیردل نے اس کے Thank you کو نظرانداز کرتے ہوئے پوچھا۔
    ”نہیں… فون بند ہے اس کا۔” شیردل کواس کی آواز تھکی ہوئی اور بھاری محسوس ہوئی۔ وہ اگلا سوال کرتے کرتے ٹھٹک گیا۔ پتا نہیں اسے کیوں یہ احساس ہوا کہ وہ شاید روئی تھی… یا پھر رو رہی تھی۔
    ”تم تو ٹھیک ہو؟” شیردل بے اختیار ٹینس ہوا تھا۔
    ”ہاں۔” وہ کوئی سوال کرنا چاہتا تھا کہ مگر نہیں کر سکا۔
    ”تم اب سو جاؤ۔” اس نے بے اختیار عکس سے کہا۔




  • عکس — قسط نمبر ۷

    اپنے تنے ہوئے جسم کو حتی الامکان ریلیکس کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اس نے پہلی بار اس آئینے کو دیکھا، وہ اب بھی ویسے ہی وہاں کھڑا تھا۔ اپنے اسی استقبالی، خیرمقدمی انداز میں… اسی غرور اور طنطنے کے ساتھ… اسی پراسراریت میں لپٹے جس نے پہلی بار اسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ برآمدے میں قدم بڑھاتے ہوئے اس نے آئینے پر ایک نظر اور دوڑائی تھی۔




    اس گھر میں اس کی آمد 26 سال بعد ہوئی تھی اور ان 26 سالوں کو اس نے جیسے ایک مونو سیکنڈ میں calculate کر لیا تھا۔ گھر کے اندرونی دروازے کو اس کے انتظار میں کھڑے ملازم نے کھولتے ہوئے اسے سلام کیا تھا۔ اس نے سانس روک کر اس دروازے سے اندر قدم رکھا تھا۔ اس کا ماتحت عملہ اس کے ہمراہ تھا۔ اس کا پی اے اس گھر کی تفصیلات سے اسے آگاہ کر رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے اس کا دل چاہا وہ اسے روک دے۔ اسے اس گھر کے تعارف کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ گھر اس کی یادداشت کا انمٹ حصہ تھا جسے کھرچ کھرچ کر مٹا دینے کی ہر کوشش ناکام رہی تھی۔
    ہال میں پہنچ کر چند لمحوں کے لیے اس کے قدم فریز ہو گئے تھے۔ وہ سیڑھیاں اب اس کے سامنے تھیں۔ سیڑھیاں، چیخیں اور…
    ”وہ وہاں کچن کا دروازہ ہے۔” پی اے کا جملہ اسے جیسے کرنٹ کی طرح لگا تھا جو اسے حال میں واپس لے آیا تھا۔ اس نے چونک کر ان سیڑھیوں سے نظریں ہٹائیں اور پی اے کو دیکھا۔
    ”پانی مل سکتاہے؟” اپنے اعصاب اور حواس پر بیک وقت قابو رکھنے کی کوشش میں اس نے لگاتار بولتے پی اے کو ٹوکا۔ پی اے فوری طورپر اس کی پیاس بجھانے کے انتظامات میں مصروف ہو گیا۔ اسے اپنے گرد جو خاموشی چاہیے تھی وہ چند منٹوں کے لیے ہی سہی لیکن مل گئی تھی۔ جسم میں سے گزرتی خوف کی ایک لہر کو اس نے جیسے خود کو ساکت رکھتے ہوئے earth کیا۔ غیر محسوس انداز میں اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچتے ہوئے اس نے ایک نظر اپنی کلائی پر ڈالی۔ اس کے رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے۔ اسی غیر محسوس انداز میں ہاتھ جھٹکتے اور نظریں چراتے ہوئے اس نے پانی کا وہ گلاس تھاما جو اس کے سامنے ایک ٹرے میں پیش کیا گیا تھا۔ اس نے ایک سانس میں وہ گلاس خالی کیا تھا۔ وہ گھر اسے کس طرح ہیبت زدہ کرنے والا تھا یہ اس کے لیے کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ اس نے وہاں پوسٹ نہ ہونے کی مقدور بھر کوشش کی تھی مگر کامیابی نہیں ہوئی تھی۔ وہ آسیب زدہ گھر 26 سالوں کے بعد جیسے اسے ایک بار پھر اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔
    ”مجھے اس گھر کو ایک نظر دیکھنے دیں۔”پی اے نے اس کے پانی کا گلاس رکھتے ہی دوبارہ بولنا شروع کیا ہی تھا جب کہ اس نے اسے ٹوک دیا اور قدم آگے بڑھا دیے۔ ماتحت عملے نے کچھ حیران نظروں کا تبادلہ کیا لیکن پھر کچھ کہے بغیر اس کے ہمراہ ہو لیے۔
    گھر بہت تبدیل ہو چکا تھا لیکن وہاں موجود پرانی چیزوں میں سے کوئی بھی ایسی نہیں تھی جسے اس نے ایک ہی نظر میں نہ پہچان لیا ہو۔ اسے رہائشی عمارت کا جائزہ لینے میں زیادہ دیر نہیں لگی تھی۔ اس گھر نے اس کی زندگی میں idealاور idealism نام کی چیز کو چھین لیا تھا اور بہت سارے سوال دے دیے تھے جنہیں اس کا دماغ بہت سالوں تک کھوجتا رہا… الجھتا رہا… ناکام ہوتا رہا… اور پھر جب بالآخر اسے جواب ملا تھا تو بے یقینی کی ایک عجیب سی کیفیت نے اگلے کئی سال اسے اپنے حصار میں رکھا اور بے یقینی وہ واحد شے نہیں تھی جو بہت عرصے اس کے ہمراہ رہی تھی… ایک ناقابل بیان اذیت بھی، شرم اور دکھ کا ایک عجیب احساس بھی اور ان تمام احساسات کے درمیان وہ ایک چہرہ بھی جو اپنی آنکھوں میں خوف اور دہشت لیے اسے دیکھ رہاتھا۔ صرف چند سیکنڈز کے لیے ملنے والی وہ نگاہ جس کا تصور بھی اسے ٹھنڈے پسینے دلانے کے لیے کافی تھا۔
    اوپر والے فلور کے تقریباً تمام کمرے لاکڈ تھے۔ اس نے کسی کمرے کو نہیں کھلوایا۔ وہاں اب ایسا کچھ نہیں تھا جسے دیکھنے کی اسے خواہش تھی۔ اس گھر کا ماسٹر بیڈ روم بھی لاکڈ تھا اور صرف وہ واحد کمرا تھا جس کے دروازے کے باہر اس کے قدم چند لمحوں کے لیے فریز ہوئے تھے۔ ایک لمحے کے لیے اس کمرے میں جانے کی شدید خواہش نے اسے آن گھیرا تھا پھر اس نے اسی رفتار سے اس خواہش کو جھٹک دیا تھا۔
    ”باہر چلتے ہیں۔” اس نے جیسے منٹوں میں عمارت کے اندرونی جائزے کو مکمل کرتے ہوئے کہا۔ وہاں اندر کھڑے بہت سی چیزوں اور یادوں کا ایک سیلاب تھا جو اسے بہائے لیے جارہا تھا۔ اس نے اپنے وجود کو غرق ہونے سے بچانے کی جیسے ایک اور کوشش کی تھی۔
    عمارت کے اردگرد موجود لان پہلی نظر میں اسے ویسا ہی لگا تھا… اور دوسری نظر نے اسے وہ خاردار جھاڑیاں، کھوکھلے ہوتے تنے اور سوکھے ہوئے پیڑ پودے دکھانے شروع کر دیے تھے جو بظاہر اس تراش خراش کے دم پر کھڑے تھے جو یقینا اس کی آمد سے ایک دن پہلے کی گئی تھی۔ 26 سال پہلے وہ لان اس حالت میں نہیں تھا… نہ وہ لان نہ وہاں کے درخت اور پودے اور نہ ٹینس کا وہ کورٹ جس پر آخری میچ یقینا سالوں پہلے کھیلا گیا تھا۔ سب کچھ بوسیدہ اور خستہ حال تھا ان تکلیف دہ یادوں کی طرح جو اس کے اندر سرکنڈوں کی طرح سر نکالے ہمہ وقت موجود رہنے کے باوجود ایک لمبے عرصے سے وہ کاٹ اور چبھن کھو چکی تھیں جس نے اس کے بچپن کے ایک بڑے حصے کو بے حد بے رحمی سے لہولہان اور مسخ کیا تھا۔
    ”اس طرف سرونٹ کوارٹرز ہیں۔” پی اے نے اسے کسی رہنمائی کا انتظار کیے بغیر لان کے عقبی حصے میں کسی سدھائے ہوئے جانور کی طرح جاتے ہوئے دیکھ کر کچھ حیرانی کے ساتھ کہا۔ اس کو ڈی سی کے انداز میں اس عمارت کے لیے ایک عجیب سی familiarity (مانوسیت، واقفیت) نظر آرہی تھی۔
    ”پتا ہے۔”اس کے انداز میں واقعی ہی ایک عجیب سی مانوسیت تھی اس گھر کے لیے۔ کوئی اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتا تب بھی اس کے لیے عمارت کے عقبی حصے میں اس جگہ جانا دشوار نہ ہوتا۔ اس کے قدم اب جس رستے پر تھے وہاں اس کی زندگی کی بہترین اور بدترین یادیں بکھری تھیں۔ کچن کے عقبی دروازے سے کئی فرلانگ دور۔ عمارت کے بالکل عقب میں، وہاں اب وہ کوارٹر نہیں تھا۔ چند لمحوں کے لیے اس نے اپنے آپ کو اسی شاک اور بے بسی کی حالت میں پایا جو اس نے 26 سال پہلے اس رات محسوس کی تھی۔
    وہ closure اب بھی نہیں ہوا تھا جس کی خواہش اسے وہاں تک لے آئی تھی۔ وہ آسیب اب بھی اس کے وجود کے اندر ہی رہنے والا تھا۔
    ……٭……




    ہال تالیوں سے گونج رہا تھا۔ ایبک فرنٹ رو میں اس مباحثے کے دوسرے مقررین کے ساتھ بیٹھا اسٹیج کی سیڑھیاں چڑھتی فاطمہ کو دیکھ رہا تھا۔ وہ پہلی بار ایچی سن کی ٹیم میں شامل ہو کر کسی انٹرکالجیٹ مقابلے میں شریک ہونے آیا تھا۔ کنیئرڈ کی ٹیم ہمیشہ سے ہی ایک سخت حریف رہی تھی ان کے لیے… اور ہوم گراؤنڈ اور ہوم کراؤڈ کے اضافی advantage کے ساتھ وہ اس بار کچھ اور بھی deadly ہو سکتی تھی۔ اس کے برابر بیٹھے اس کے ٹیم میٹ اکبر علی نے اسے اسٹیج پر چڑھتی ہوئی فاطمہ کے بارے میں انفارم کرنا شروع کیا۔ وہ کنیئرڈ کالج کا Ace تھی۔ کم سے کم اکبر کی باتوں سے اس نے یہی اندازہ لگایا تھا۔ وہ بہت سے مقابلوں میں اس لڑکی کے ہاتھوں ٹرافی گنوا چکا تھا۔ فلک شگاف تالیوں کی گونج میں اس سے آٹھ دس گز دور اس کے تقریباً بالمقابل اس لڑکی نے روسٹرم سنبھال لیا تھا۔
    ہال میں اب پن ڈراپ سائلنس ہو گئی تھی۔ اس لڑکی پر نظریں جمائے ایبک کے ہونٹوں پر بے اختیار ایک مسکراہٹ رینگی۔ یہ وہ پروٹوکول تھا جو آڈیئنس صرف ایک چیمپئن ڈبیٹر کو دیتا تھا۔ اس لڑکی کی تقریر میں اس کی دلچسپی اور تجسس کچھ اور بڑھ گیا تھا۔ وہ اب روسٹرم پر لگا مائیک ٹھیک کر رہی تھی اور اس وقت پہلی بار ایبک نے اسے نروس محسوس کیا… اور اگر ایسا تھا تو ایک حریف کے طور پر یہ مقابلہ شروع ہونے سے پہلے کی سب سے اچھی خبر تھی۔ وہ اتنا ہی mean تھا جتنا کسی بھی مقابلے کے حریف ایک دوسرے کے لیے ہو سکتے تھے خاص طور پر اس صورت میں جب مدمقابل صنف نازک ہو اوراس کی کامیابی کے قوی امکانات ہوں۔ ایبک کو وہاں نیچے بیٹھے اگر کسی بات کا اندازہ نہیں ہوا تھا تو وہ یہ تھا کہ اس لڑکی کی نروس نیس کی وجہ وہ خود تھا۔وہ اگر اسٹیج سے نیچے بیٹھا اس پر نظریں جمائے اس کی حرکات و سکنات کا جائزہ لینے میں مصروف تھا تو وہ روسٹرم کے سامنے کھڑی اس کو نہ دیکھنے کے باوجود اس کے وجود سے کسی پہاڑ میں دبے آتش فشاں کی طرح باخبر تھی۔
    ایبک نے مباحثے کے آغاز میں چند ہی جملوں کے بعد اسے پہلی بار یک دم خاموش ہوتے دیکھا۔ وہ واضح طور پر تقریر بھولی تھی اور اس سے پہلے کہ وہ غلطی نوٹس ہوتی کنیئرڈ کی ٹیم اور ہال میں بیٹھی آڈیئنس نے تالیاں پیٹنا شروع کر دیا تھا۔ کسی مقرر کی غلطی کو کوراپ کرنے کا سب سے بہترین طریقہ… ایبک اور وہاں بیٹھے دوسرے کالجز کے مقررین میں خوشی کی ایک لہر سی دوڑی تھی۔ تقریر بھولنا اور شروع کے چند سیکنڈز میں ہی بھولنا کسی مقرر کے لیے کتنا demoralising تھا وہ سب جانتے تھے۔ فاطمہ کی تقریر میں سب کا انہماک پہلے ہی تھا۔ اب اشتیاق بھی بڑھ گیا تھا۔




  • عکس — قسط نمبر ۶

    عکس نے گاڑی سے اتر تے ہوئے سر اٹھا کر اس آئینے کو دیکھا جو اس گھر کے برآمدے میں دروازے کے پاس رکھا تھا اور جس میں اس وقت شیر دل اور شہر بانو کی پشت نظر آرہی تھی۔ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے وہ کمشنر اور اس کی بیوی کا استقبال کررہے تھے جن کی گاڑی اس وقت پورچ میں داخلی برآمدے کے بالکل سامنے کھڑی تھی، خود اس کی گاڑی پورچ کی چھت سے باہر تھی۔ نظریں آئینے سے ہٹا کر اس نے ایک لمحے کے لیے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا جہاں سے ہلکی بوندا باندی ہورہی تھی ۔پانی کی ہلکی پھوار نے اس کے چہرے، بالوں اور لباس کو ذرا سا نم کیا اور برآمدے میں کمشنر اور اس کی بیوی سے ملتے ہوئے شیر دل نے بالکل اس لمحے گردن موڑ کر اسے دیکھا تھا۔ وہ سیاہ موتیوں سے ایمبرائڈرڈ ایک فٹنگ والا سیاہ شیفون کا لباس پہنے ہوئے تھی جو اس کے متناسب جسم کو کچھ اور بھی متناسب کررہا تھا۔ عام طور پر کھلے رہنے والے گھنے سیاہ بال اس وقت ایک سیاہ نیٹ میں ڈھیلے جوڑے کی شکل میں اس کی گردن کے پیچھے سمٹے اس کی پتلی اور لمبی گردن کو نمایاں کیے ہوئے تھے۔ دائیں کندھے پر اسٹول کی شکل میں تہ شدہ دوپٹا ڈالے وہ بائیں ہاتھ میں ایک بہت چھوٹا اور خوب صورت سیاہ پرس پکڑے ہوئے تھی۔ شیر دل نے اس سے نظریں ہٹائیں مشکل کام تھا یہ اور اس نے مشکل سے ہی کیا۔ وہ کمشنر اور ان کی فیملی کے ساتھ آئی تھی اس لیے کمشنر اور ان کی بیوی گاڑی سے اتر کر سیدھا اندر جانے کے بجائے چند لمحوں کے لیے وہیں برآمدے میں رک گئے تھے۔ کمشنر کا استقبال کرنے کے بعد شیر دل برآمدے سے نکل کر اس کی گاڑی کی طرف بڑھا۔ اس کی طرف جاتے ہوئے غیر محسوس انداز میں اس نے اپنی جیب میں پڑا ٹشو پیپرٹٹولا تھا۔




    ڈرائیور سے کچھ کہتے ہوئے عکس جب تک پلٹی وہ اس کے سامنے تھا۔ دونوں بے اختیار ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے۔ بلیک ڈنر سوٹ کے ساتھ ایک سرخ Striped ٹائی لگائے، سلور کف لنکس اور ٹائی پر ایک کرسٹل کی ٹائی پن لگائے وہ اپنے اس حلیے میں اس کے سامنے کھڑا تھا جو اس کی ایک وجہ شہرت تھا۔ اکیڈمی میں کوئی اور کامنر اپنی ڈریسنگ سینس میں شیر دل کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا تھا۔ عکس مراد علی نے اپنے اتنے سال کی سروس میں بھی شیر دل سے زیادہ خوش لباس مرد نہیں دیکھا تھا۔
    عکس نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ ستائشی نظروں سے شیر دل کو دیکھا۔ ہوا کے ایک جھونکے نے شیر دل کی ٹائی کو اڑایا۔ عکس کی نظر بھٹکی۔ اس کی ٹائی کو بے اختیار اڑنے سے روک دینے کی خواہش کو اس نے اتنی ہی بے اختیاری کے ساتھ دبایا جس طرح وہ ابھری تھی۔
    دونوں کے درمیان اب خیر مقدمی کلمات کا تبادلہ ہورہا تھا۔ وہی رسمی جملے… اور وہی ان کہے مفہوم… وہ ہمیشہ کی طرح اس کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے بات کررہا تھا۔ اور اس کے چہرے پر نظریں جمائے شیر دل کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہورہا تھا کہ اس کے چہرے پر موجود کون سی شے کس کو ماند کررہی تھی۔ اس کے کانوں کی لوؤں میں دمکتے سفید موتیوں کےstuds اس کی شفاف چمکدار سیاہ آئی لائنز سے سجی آنکھوں کو یا اس کی آنکھیں سرخ لپ اسٹک سے رنگے ہونٹوں سے چھلکتی دودھیا دانتوں کی قطار کو جو اس کی مسکراہٹ کو اور بھی دلکش کررہی تھی۔ بارش کی پھوار کے ننھے ننھے قطرے اوس کے قطروں کی طرح اس کے بالوں اور چہرے پر چمک رہے تھے۔ ایک لمحے کے لیے شیر دل کا دل چاہا وہ ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے صاف کردے… صرف ایک لمحے کے لیے پھر اس نے نظر چرائی تھی…جیب سے ایک ٹشو نکال کر غیر محسوس انداز میں عکس کی طرف بڑھاتے ہوئے شیر دل نے کہا۔
    ”تم نے بڑا رسک لیا۔” عکس نے کسی سوال کے بغیر وہ ٹشو تھام کر اسی غیر محسوس انداز میں چہرہ اور سر تھپتھپاتے ہوئے کچھ حیرانی سے اس سے پوچھا۔
    ”کیا؟ ”وہ دونوں اب ساتھ چل رہے تھے۔
    ”بارش میں گاڑی سے نکل آئیں۔” قدم بڑھاتے ہوئے شیر دل نے کچھ سنجیدگی سے کہا۔
    ”تو؟” وہ الجھی۔
    ”اگر میک اپ بہہ جاتا تو؟”اس بار شیر دل کے ہونٹوں اور آنکھوں میں شرارت لہرائی تھی یہ جاننے کے باوجود کہ وہ ایک سیاہ آئی لائنز اور لپ اسٹک کے سوا شاید ہی کچھ لگائے ہوئے تھی۔
    ”ہاں رسک تو تھا، میک اپ صاف ہوجاتا تو تم اس سے زیادہ گھورتے مجھے… جتنا ابھی گھوررہے تھے۔” عکس نے ہاتھ میں پکڑے ٹشو کوبڑی نفاست سے لپیٹ کر پرس میں بے نیازی سے رکھتے ہوئے کہا۔جواب ویسا ہی آیا تھا جیسا سوال کیا تھا۔ اسے دیکھے بغیر شیر دل نے بے اختیار سر جھکا کر اپنی مسکراہٹ چھپائی۔ وہ باقی لوگوں کے قریب پہنچ چکے تھے اور وہ اسے جواباً کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔
    کمشنر کی بیوی کے ساتھ بات کرتی شہر بانو عکس کے استقبال کے لیے چند قدم آگے بڑھ آئی تھی۔




    ”شہر بانو… ”عکس مراد علی…” ایک لفظ میں شیر دل نے باری باری دونوں کو ایک دوسرے سے متعارف کروایا۔ دونوں ناموں کے ساتھ کوئی سیاق و سباق نہیں تھا پھر بھی دونوں ایک دوسرے کو اس سے کہیں زیادہ جانتی تھیں جتنا شیر دل نے ان کاتعارف کروایا تھا۔
    سفید شیفون کے کلیوں والے کرتے اور چوڑی دار پاجامے میں شہر بانو ایک باربی ڈول لگ رہی تھی۔دودھیا رنگت، سیاہ لمبی خمدار پلکیں، ننھی سی نوک والی تیکھی ناک اور بے حد باریک مسکراتے ہونٹ۔ عکس کے ہونٹوں پر موجود مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئی تھی اس کو دیکھ کر۔ شیر دل کو اس سے زیادہ پرفیکٹ لڑکی نہیں مل سکتی تھی۔ وہ واقعی صرف شیر دل کے ساتھ سجتی تھی۔ اس کی طرف بڑھتے ہوئے عکس نے سوچا تھا۔
    شہر بانو نے اس سے پہلے عکس مراد علی کا نام سنا تھا یا اس کو شیر دل کی گروپ فوٹو گرافس میں دیکھا تھا۔ جہاں وہ لاکھ غور کرنے کے باجود بھی اس کی شکل وصورت اور حلیے میں وہ خاص چیز کھوجنے میں ناکام رہی تھی جو اس کے ذہن میں کسی خدشے یا اندیشے کو جنم دیتی لیکن آج اس پر پہلی نظر ڈالتے ہی وہ عکس مراد علی سے بری طرح خائف ہوئی کیوں ہوئی؟ یہ اسے کئی دن سمجھ نہیں آیا۔ نہ اسے شیر دل سے کوئی خدشہ تھا نہ عکس مراد علی اس حسن وجمال کی مالک تھی جس سے اسے کوئی احساس کمتری ہونے لگتا لیکن اس کے باوجود اسے یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ عکس مراد علی کو نظر انداز کرنا بے حد مشکل تھا اور اس کو پسند نہ کرنا اس سے بھی زیادہ دشوار۔
    بر آمدے کی انٹرنس پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے وہ دونوں شہر بانو کو کسی فوٹو فریم کا حصہ لگے تھے۔ ایک پرفیکٹ پکچر، دراز قد، اٹریکٹو، پراعتماد، اسمارٹ… سیاہ لباس میں ملبوس وہ ایک ایسا کپل لگے تھے جو گھر سے نکلتے ہوئے پرفیکٹ میچنگ کر کے آئے تھے۔کوئی بھی ایک نظر میں دیکھ لیتا کہ عکس کے ہونٹوں کی لپ اسٹک کا رنگ شیر دل کی ٹائی کے رنگ کا ایک حصہ لگ رہا تھا… شہر بانو نے بھی نوٹس کیا تھا۔ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے کسی رشتے اور تعلق کے بغیر بھی ان دونوں کی باڈی لینگویج میں ایک عجیب کیمسٹری تھی۔ ایک عجیب سا ربط اور تعلق جس کو نہ چھپانے کی کوشش تھی نہ دکھانے کی…لیکن پھر بھی وہ چھپ چھپ کر دِکھ رہا تھا۔ شہر بانو الجھی ٹھٹکی… اور پھر چاہنے کے باوجود وہ عکس سے ویسی گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کرسکی جو وہ دوسرے مہمانوں کے ساتھ کررہی تھی۔ وہ نپے تلے انداز میں عکس کی طرف بڑھی تھی اور عکس نے بھی مصافحے کے لیے اس کا ہاتھ گرم جوشی پر اسی احتیاط سے پکڑا تھا جس کے ساتھ وہ بڑھایا گیا تھا۔ شہر بانو نے اس کے ہاتھ کے لمس کی حدت اور نرمی کو بیک وقت محسوس کیا۔دونوں کی نظریں ملیں۔
    ”آپ کیسی ہیں؟” اس نے عکس کو کہتے سنا۔ اس کی آواز کی ملائمت نے شہر بانو کے وجود کی سرد مہری کو عجیب انداز میں پگھلایا۔
    ‘‘I am fine. How are you ”اس نے جواباً اپنی مسکراہٹ کو کچھ گرم جوش کرنے کی کوشش کی۔
    ‘‘I am good too ”عکس نے جواباً ایک دھیمی مسکراہٹ کے
    ساتھ کہا۔ شیر دل اب کمشنر کے ساتھ اندر جارہا تھا۔ شہر بانو نے ایک عجیب سا اطمینان محسوس کیا اس فوٹو فریم کے ایک حصے کو ہٹتے دیکھ کر۔
    ”شیر دل سے بہت سنا ہے میں نے آپ کے بارے میں ۔” عکس نے شہر بانو سے کہا۔




  • عکس — قسط نمبر ۵

    اس اسٹینڈنگ مرر میں اپنے عکس پر پہلی نظر ڈالتے ہی اس نے اپنی یادداشت کے سارے خانوں کو جسم سے اترے ہوئے لباس کی جیبوں کی طرح کھنگالنا اور جھاڑنا شروع کردیا تھا۔ کتنے سال بعد اس نے اس مرر کو دیکھا تھا اور اس مرر میں کیا کیا دیکھا تھا۔




    آئینہ اتنے سالوں کے بعد آج بھی وہیں کا وہیں کھڑا تھا۔ کم آب و تاب کے ساتھ لیکن اسی وقار کے ساتھ جس کے ساتھ اس نے اسے پہلی بار دیکھا تھا۔گھر کا ایکسٹیرئر مکمل طور پر بدل چکا تھا۔ وہ آئینہ جیسے کسی شہزادی کا رومال تھا جسے وہ پھاڑ کر پھٹنے اور غائب ہونے سے پہلے شہزادے کی رہنمائی کے لیے باہر چھوڑ گئی تھی۔ واحد سراغ … ہر ہر بھید تک لے جانے اور اسے پانے والا۔ چند لمحوں کے لیے اس آئینے کو دیکھتے ہوئے اسے یوں لگا تھا جیسے وہ بھی تب ہی وہاں سے ہٹے گا۔ غائب ہوگا جب حضرت سلیمان کے عصا کی طرح اسے بھی کھڑے کھڑے دیمک لگ جائے گی، پھر ایک دن وہ برادے کے ایک ڈھیر اور آئینے سے شیشے کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں میں تبدیل ہو کر وہاں سے ہٹادیا جاتا۔ پتا نہیں وہاں کھڑا وہ کس کس کا عکس دیکھتا اور دکھاتا رہا تھا۔ وہ نم آنکھوں کے ساتھ اس آئینے میں نظر آتی عمارت کے بیرونی حصے کے عکس کو دیکھنے لگی۔ انگلیوں کی پوروں پر اس نے جیسے وہ سال گنے تھے جب وہ آخری بار اس گھر سے گئی تھی۔ وہ گھر جو اس کی زندگی کا خوب صورت ترین اور سیاہ ترین باب تھا۔ وہ گھر جس سے زیادہ محبت اور نفرت اسے کبھی کسی جگہ سے نہیں ہوئی تھی لیکن وہ گھر جو وہاں آکر بسنے والے انسانوں کے تمام احساسات سے بے نیاز آج بھی اسی تمکنت سے وہاں کھڑا تھا۔
    اور پھر آئینے میں اپنے اور اس گھر کے عکس کے درمیان اس نے یک دم کسی کو نمودار ہوتے دیکھا۔ وہ نم آنکھوں کے ساتھ بے اختیار مسکرائی۔ اس نے زندگی میں اس مرد کے علاوہ صرف ایک مرد کو …وہ آگے کچھ سوچ نہیں پائی، وہ اب اس کے عقب میں کھڑا اس کے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھے اس کو آئینے میں دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا
    ”You look lovely ”وہ بے ساختہ ہنس پڑی۔
    ”Thank you for flattering me”اس نے جواباً کہا۔ وہ اس کے عکس پر نظر جمائے ہوئے بے اختیار مسکرایا۔ گہری، گرم جوش، بہت کچھ یاد دلادینے والی آنکھیں… بے حد باریک ہونٹوں پر آنے اور کھیلنے والی بے ساختہ اور خمدار مسکراہٹ… اور یہ مسکراہٹ کیا کیا طوفان نہیں اٹھادیتی تھی۔ کون کون سی قیامت تھی جو بپا نہیں کردیتی تھی۔
    ”You are more than welcome” اس نے ذرا ساہنس کر اس کی بات پر جیسے کسی ندامت کا اظہار کیے بغیر دھڑلے سے کہا۔
    ”تمہیں پتا ہے میں پہلی بار اس گھر میں کب آئی تھی؟” اس نے آئینے میں اس کے عکس کے عقب میں موجود عمارت پر ایک نظر ڈالتے ہوئے مدھم آواز میں کہا۔ وہ اب بھی اس کے کندھے پر اسی طرح دونوں ہاتھ جمائے ،ٹکائے کھڑا تھا۔وہ اس کے ہاتھوں کا دباؤ محسوس کررہی تھی، نرم ،سہارا دیتا ہوا دباؤ۔ چند لمحوں کے لیے جیسے اس کا دل اس سے لپٹ جانے کو چاہا تھا۔
    ”جب…” اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن آواز حلق سے نہیں نکل سکی۔ آنسوؤں کے ایک ریلے نے اس کی قوت گویائی اور بینائی دونوں کو بیک وقت مفلوج کیا تھا۔ یادیں تھیں… درد کے آبلے تھے جو گرم پانی کے چشموں کی سطح پر ابھرنے والے بلبلوں کی طرح پھٹنے لگے تھے۔ کندھوں پر ٹکے وہ دونوں ہاتھ سرعت سے بازوؤں پر آئے پھر انہوں نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔ وہ حصار جس نے زندگی میں کبھی اس کو اکیلا نہیں چھوڑا تھا، وہ حصار جواس کے لیے ایک عطا تھا کسی کا تحفہ۔ اس کے بازوؤں کے حصار میں روتے ہوئے اس کی سمجھ میں نہیں آیا وہ کون سے کانٹے پہلے نکال کر اس کو دکھائے… وہ جو پاؤں میں تھے یا وہ جو دل میں تھے۔ سمجھ میں یہ بھی نہیں آرہا تھا کہ وہ جو یاد کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ اس کو دوبارہ بھلانے کے لیے وہ کیا کرے گی۔
    اس گھر کے برآمدے میں لگا وہ آئینہ، شہزادی تک پہنچانے والا واحد سراغ، اب جیسے شہزادے کو اس کے پاس لے آیا تھا، پہاڑ کی اس کھوہ میں جہاں ایک شہزادی کو کئی سال پہلے گہری نیند سلادیاگیا تھا۔
    ……٭……




    شیر دل نے اس کو کاریڈور میں داخل ہوتے ہی بہت دور سے دیکھ لیا تھا۔ وہ کمشنر آفس کے میٹنگ روم کے داخلی دروازے پر کھڑی اپنے عملے کے کسی رکن کو ہدایت دینے میں مصروف تھی۔
    چیف کمشنر کے ساتھ ڈویژن کے تمام ڈی سیز کی دس بجے ہونے والی میٹنگ کا انتظام اس کی ذمے داری تھی۔ شیر دل کے ہونٹوں پر بے ساختہ ایک مسکراہٹ رینگی تھی اور ایسا کیوں تھا وہ کبھی سمجھ نہیں پایاتھا۔
    عکس مراد علی کو اپنے سامنے پاکر اسے ہمیشہ خوشی ہوتی تھی یا پھر غصہ آتا تھا لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ وہ بے تاثر رہ پایا ہو… خوشی کا وہ حال ہوتا تھا کہ وہ بہت دن تک اس کے ٹرانس سے باہر نہیں نکل پاتا تھا… اور غصہ سمندر کی ایک شوریدہ لہر کی طرح آکر گزر جاتا تھا۔
    ایمرلڈگرین لانگ شرٹ میں سیاہ چوڑی دار پاجامے اور دوپٹے میں کندھوں سے کافی نیچے تک جاتے اسٹیپس میں کٹے ہوئے گھنے سیاہ بالوں کو وہ اب بھی بات کرتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں جھٹک رہی تھی۔ وہ اس کو کئی سالوں بعد دیکھ رہا تھا لیکن شیر دل کو کم از کم دور سے اس میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوا تھا۔ اس نے اپنے سامنے کھڑے شخص کے ساتھ بات کرتے کرتے اپنا رخ موڑا تھا اور تب اس نے بھی شیر دل کو دیکھ لیا تھا۔ ایک لمحے کے لیے شیر دل نے اس کو بھی بات کرتے کرتے ٹھٹکتے دیکھا پھر اس کے ہونٹوں پر بھی ایک مسکراہٹ آئی تھی۔ نظروں اور مسکراہٹوں کے تبادلے کے بعد اس نے عملے کے اس فرد کو کچھ آخری ہدایات دیں۔ شیر دل کے اس کے قریب پہنچتے پہنچتے اس کا عملہ وہاں سے رخصت ہوچکا تھا۔ اس کے بالمقابل جا کر کھڑے ہوتے ہوئے شیر دل کا دل بے اختیار مچلا تھا کہ وہ اپنے عقب میں آنے والے اپنے اسٹاف کو وہاں سے رخصت کردے… کم سے کم چند لمحوں کے لیے۔ عکس کو دیکھ کراس کے دل میں ہر قسم کی احمقانہ اور بچگانہ خواہشات پیدا ہوتی رہتی تھیں اور یہ ہمیشہ سے تھا۔ ہاں پہلے کبھی اس نے اپنی ان تمام خواہشات کو احمقانہ اور بچگانہ کا لیبل نہیں لگا یا تھا، اب لگانے لگا تھا۔ یہ کام وہ نہ کرتا تو وہ کرتی جو اس سے تین فٹ کے فاصلے پر اس کے سامنے کھڑی اپنی سیاہ، چمکدار، شفاف، گہری آنکھوں اور بے حدجان لیوا مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔
    ”ہیلو!اس کے خیر مقدمی کلمات کے آغاز سے پہلے ہی شیر دل نے کہا تھا۔
    ”سر آپ کیسے ہیں؟
    ”I am good آپ کیسی ہیں میم؟”
    ”I am fine too، آپ کا سفر ٹھیک رہا؟”
    ”جی، چیف آچکے ہیں؟”
    ”وہ بس راستے میں ہیں، دس منٹ میں پہنچ جائیں گے۔” کمشنر آفس میں کھڑے ادھر سے ادھر جاتے ہوئے انتظامی عملے کے بیچ میں وہ ایک دوسرے سے یہی کہہ سکتے تھے جو کہہ رہے تھے… فارمل انداز اور کلمات۔ صرف ان کی مسکراہٹ اور آنکھیں تھیں جو ایک دوسرے کو وہ پہنچارہی تھیں جو ان کے احساسات تھے۔ صرف چند منٹ وہ وہاں کھڑا رہا تھا پھر میٹنگ روم میں چلا گیا تھا، اس کے پاس سے نہ ہلنے کی خواہش کے باوجود…
    میٹنگ ٹھیک وقت پر شروع ہوئی تھی۔ شیر دل کمشنر کے بائیں جانب میز کی پہلی کرسی پر تھا اور وہ اس کے بالمقابل کمشنر کے داہنی جانب پہلی سیٹ پر براجمان تھی۔ اور اس سیٹنگ ارینجمنٹ سے شیر دل کو کم از کم یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کے لیے ٹیبل کے سرے پر بیٹھے ہوئے کمشنر اور میٹنگ پر توجہ مرکوز رکھنا آج کافی مشکل ثابت ہونے والا تھا اور ایسا ہی ہوا تھا… وہ بار بار بھٹک رہا تھا، اسے دیکھتے اور سنتے ہوئے۔ وہ اب بھی اسی طرح بات کررہی تھی جس طرح ہمیشہ کرتی تھی۔ نپا تلا انداز، تول کر بولنے کی عادت، بے حد ٹھہراؤ والا دھیما، ملائم لہجہ اور بے حد شستہ اور مدلل گفتگو۔




  • عکس — قسط نمبر ۴

    اس نے اسٹینڈنگ مرر میں اپنے آپ کو دیکھا، اپنے خوبصورت بالوں کو دیکھا، اپنے بے حد نازک گولائی میں پھولے ہوئے پنک فراک کو ذرا گھوم کر دیکھا پھر اس نے بے حد فخریہ انداز میں چند قدم پیچھے کھڑی چڑیا کو دیکھا جو بے حد ستائشی نظروں سے اس ساڑھے تین سالہ باربی ڈول کو دیکھ رہی تھی۔یہ وہ نام تھا جس سے وہ اس کو پکارتی تھی اور یہی وہ نام تھا جو اس نے پہلی بار اسے دیکھتے ہی دے دیا تھا۔ اس کے تمام ساتھی بونوں کو بھی باربی ڈول سے اتنا ہی عشق تھا جتنا چڑیا کو اور وہ بھی اس کو پہلی بار دیکھتے ہی اس پر اسی طرح فریفتہ ہوئے تھے جس طرح چڑیا کو دیکھ کر ہوئی تھی۔
    ”میں اچھی لگ رہی ہوں؟” اب باربی ڈول چڑیا سے پوچھ رہی تھی۔




    ”بہت، بہت، بہت، بہت اچھی اور پیاری۔” چڑیا نے دونوں ہاتھ پھیلا کر اس کی خوبصور تی اور ستائش کی جیسے پیمائش پیش کی۔ باربی ڈول کا رنگ سرخ ہوا، اس نے ناک کو ہلکا سا دائیں طرف سکیڑ کر اپنے ہونٹوں کو بھینچ کر جیسے اپنی خوشی اور مسکراہٹ کو ایک ساتھ چھپانے کی کوشش کی۔
    ”میں تمہاری پونی کر دوں؟” چڑیا نے باربی ڈول کے بکھرے ہوئے سیاہ ریشمی بالوں کو نرمی سے چھوتے ہوئے پوچھا۔ باربی ڈول سر ہلاتی فوراً پونی بنوانے پر تیار ہو گئی تھی۔ چڑیا نے اپنے بالوں سے ربڑ بینڈ اتارا اور آئینے کے سامنے باربی ڈول کے عقب میں جا کر بڑے انہماک سے اس کی پونی بنانے لگی۔ ان دونوں کے اس تعلق کا آغاز باربی ڈول کے اس کے اسکول میں ایڈمیشن کے ساتھ ہوا تھا۔
    چڑیا کلاس مانیٹر تھی اور وہ اس دن اپنی کلاس سے کسی کام سے باہر نکلی تھی جب اس نے مانیٹسوری کے لنچ بریک کے دوران پلے ایریا کے سامنے سے گزرتے ہوئے باربی ڈول کو وہاں لنچ باکس ہاتھ میں پکڑے see saw پر جھولتے دو بچوں کے پاس کھڑے دیکھا۔ چند لمحوں کے لیے چڑیا کو جیسے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آیا تھا۔ وہ باربی ڈول جس کے بالوں کو چھونے اور جس کے ساتھ بات کرنے اور کھیلنے کی خواہش میں وہ کئی بار ڈی سی ہاؤس میں لان کے اس حصے میں منع کرنے کے باوجود جاتی رہتی تھی جہاں وہ اپنی ماں اور کبھی کبھار باپ کے ساتھ بھی شام کو کھیلنے کے لیے نکلتی تھی۔ باربی ڈول کے قریب جا کر اس سے کچھ کہنے کی ہمت اسے کبھی نہیں ہوئی تھی لیکن دور سے بہت باران دونوں کے درمیان خاموش نظروں اور مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ وہ اس گھر کے مستقل رہائشی دو واحد بچے تھے۔ یہ ممکن نہیں تھا کہ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں تجسس کا شکار نہ ہوتے اور ایک دوسرے کو مستقل طور پر اگنور کر پاتے۔ چڑیا فرینڈلی تھی، باربی ڈول نہیں تھی۔ وہ اپنے ماں باپ کی طرح بہت مہذب اور سلجھی ہوئی ہونے کے باوجود بے حد ریزورڈ تھی۔ پتا نہیں یہ طبعاً تھا یا اس کے ماں باپ نے اسے بھی کچھ ہدایات دی تھیں۔ چڑیا سوچتی رہتی تھی لیکن کچھ اندازہ نہیں کر سکی تھی اور اب وہی باربی ڈول اس سے چند گز کے فاصلے پر کھڑی تھی۔ چڑیا کے لیے کیسے یہ ممکن تھا کہ وہ اسے اگنور کر کے گزر جاتی۔ اگر اس کا بس چلتا تو وہ شاید باربی ڈول کو بھی اپنے ہی اسکول میں دیکھ کر خوشی سے چھلانگیں لگاتی۔
    ”ہیلو۔” وہ ایکسائٹمنٹ کے باوجود کچھ ڈرتی جھجکتی باربی ڈول کے پاس پہنچ گئی تھی اور ہیلو کا چھوٹا سا لفظ کہنے کے لیے اسے پتا نہیں کتنی ہمت کرنی پڑی تھی۔ باربی ڈول نے چونک کر گردن گھما کر اسے دیکھا اور پھر اس نے بھی اسی برق رفتاری سے چڑیا کا چہرہ پہچانا تھا جس طرح چڑیا نے اس کا… وہ چڑیا کو فراموش کر بھی کیسے سکتی تھی۔ وہ گھر میں اس کے لیے دلچسپ چیزوں میں سے ایک تھی۔ لان میں کھیلتے اچانک کسی پھولدار جھاڑی یا پودے کی شاخ کے درمیان سے جھانکتا ہوا پرتجسس آنکھوں والا ایک معصوم چہرہ، کبھی راہداری کی کھڑکیوں میں یک دم نمودار ہونے والی وہ روشن شرارتی آنکھیں جو باربی ڈول کے ساتھ اس کی ماں یا باپ کو دیکھ کر اسی طرح جھپاکے سے غائب ہو جاتی تھیں۔ بہت دفعہ پودوں سے جھانکتی چڑیا کو دیکھ کر وہ ٹھٹکی تھی… اپنے کھلونوں کے ساتھ لان میں کھیلتے یا سائیکل چلاتے ہوئے اور شروع شروع میں وہ اپنی ممی کو چڑیا کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش بھی کرتی تھی لیکن وہ اس کوشش میں ہمیشہ ناکام رہی۔ وہ جب تک اپنی ممی کو اس پودے یا جھاڑی کی طرف متوجہ کر پاتی جہاں اس نے چڑیا کو دیکھا تھا چڑیا وہاں سے غائب ہو چکی ہوتی۔
    ”ممی وہاں ایک Girl ہے۔” اس نے پہلی بار چڑیا کو دیکھنے پر فٹ بال کو کک لگاتے لگاتے رک کر اپنی ماں کو اشارے سے بتایا تھا لیکن جب تک وہ اس پودے کی ان شاخوں کو دوبارہ فوکس کر پاتی جن میں سے اسے چڑیا کا چہرہ نظر آیا تھا، چڑیا غائب ہو چکی تھی۔ اس کی ماں نے چند لمحوں کے لیے چونک کر اس پودے کو دیکھا پھر پوچھا۔
    ”کہاں؟”




    ”وہاں… پر وہ اب نہیں ہے۔” وہ اب فٹ بال کھیلنا بھول گئی تھی۔
    ”ہاں وہی بچی ہو گی جو اس دن ملنے آئی تھی… وہی بچی تھی کیا؟” اس کی ممی نے کسی خاص حیرت اور تعجب کے اظہار کے بغیر کہا۔ ”وہ جو ہمارے کک کے ساتھ آئی تھی۔” باربی ڈول نے ماں کے سوال پر اتنا غور نہیں کیا تھا نہ ہی اس نے اس بچی کے خدوخال کو ذہن میں لانے کی کوشش کی جسے اس نے کک کے ساتھ ملاقات میں دیکھا تھا۔ اسے زیادہ تجسس اس بات پر تھا کہ وہ اس پودے کے پیچھے سے اچانک کیسے غائب ہو گئی تھی اور کہاں غائب ہو گئی تھی۔ یہ چڑیا سے اس کے تعارف کا آغاز تھا اور پھر جیسے یہ ایک معمول ہو گیا تھا۔ اس نے کئی بار چڑیا کو پودوں کے پیچھے چھپے ہوئے دیکھا تھا۔ شروع شروع میں وہ ایکسائٹڈ ہو کر اپنی ممی کو بتانے کی کوشش کرتی تھی لیکن آہستہ آہستہ اسے اندازہ ہو گیا کہ اس کی ایسی ہر کوشش کے دوران چڑیا غائب ہو جاتی تھی اور اس کی ممی کو بھی لان کی جھاڑیوں اور پودوں میں چھپی ہوئی کسی بچی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ پھر اس نے اپنا یہ معمول بہت جلد بدل لیا تھا اب وہ لان میں کھیلنے کے لیے داخل ہوتے ہی دور تک پھیلے ہوئے پودوں اور جھاڑیوں میں چڑیا کی تلاش شروع کر دیتی تھی اور اکثر بڑی آسانی سے اسے ڈھونڈ لیتی تھی پھر وہ اپنی ماں کو کچھ بھی کہے بغیر اس طرح کھیل میں مصروف رہتی اور وقتاً فوقتاً کھیل سے دھیان ہٹا کر چڑیا کو بھی دیکھتی رہتی۔
    چڑیا نے اب پہلے کی طرح غائب ہونا بند کر دیا تھا۔ خاموش نظروں کا تبادلہ آہستہ آہستہ مسکراہٹوں کے تبادلے میں بدلنے لگا تھا۔ اگر کچھ نہیں ٹوٹا تھا تو ان دونوں کے بیچ خاموشی نہیں ٹوٹی تھی۔ ڈی سی کی بیوی لان میں کرسی پر بیٹھی یا تو کوئی کتاب پڑھتی رہتی یا پھر پینٹنگ کرتی رہتی اوروہ لان میں سائیکل چلاتے یا فٹ بال کھیلتے ہوئے دور پودوں میں چھپی چڑیا کو دیکھ کر مسکراتی رہتی۔ کبھی کبھار وہ سائیکل چلاتے چلاتے جان بوجھ کر چڑیا کے بہت قریب سے ہو کر گزرتی اور کبھی وہ کھیلتے ہوئے جان بوجھ کر پودے کے قریب بال پھینک دیتی جہاں چڑیا چھپی ہوتی، یہ جیسے چڑیا کو کھیل کی دعوت دینے کی ایک غیر ارادی کوشش تھی جسے چڑیا نے کبھی قبول نہیں کیا تھا، وہ یہ جرأت کر ہی نہیں سکتی تھی کہ لان میں صاحب یا ان کی بیوی کی موجودگی میں وہ باہر نکل آتی۔ خیر دین نے اسے سختی سے منع کیا تھا، وہ ایک بچگانہ تجسس کی وجہ سے وہاں آ تو جاتی تھی لیکن وہ یہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی وجہ سے کبھی اس کے نانا کو ڈانٹ پڑے۔ اس نے بہت بار مختلف آفیسرز کے ہاتھوں اپنے نانا کو ڈانٹ کھاتے دیکھا تھا اور یہ اسے کبھی بھی اچھا نہیں لگا تھا اگرچہ خیر دین ہر بار ایسے کسی موقع پر ا سکی موجودگی پر بعد میں اسے بٹھا کر اپنے صاحب کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
    ”دیکھو چڑیا جب غلطی ہوتی ہے تو ڈانٹ پڑتی ہے اور نہ ہر ڈانٹنے والا برا ہوتا ہے نہ ہی ہر ڈانٹ۔”
    ”پر نانا… آپ کی زیادہ غلطی تو نہیں تھی۔” وہ اپنا نانا کا دفاع کرتی۔
    ”تھوڑی تھی پر تھی تو سہی نا… اب اگر صاحب غلطی پر کسی کو بھی نہ ڈانٹا کرے تو ہر ایک کام خراب کرنا شروع کر دے گا۔” چڑیا خیر دین کی بات پر سر ہلا دیتی لیکن اس کے باوجود خیر دین جانتا تھا کہ وہ خیر دین کو پڑنے والی کسی ڈانٹ پر بہت ناخوش ہوتی تھی۔
    ”ہیلو۔” باربی ڈول نے جواباً مسکرا کر کہا تھا۔ اسکول میں پہلے دن وہ پہلا شناسا چہرہ تھا جو اسے نظر آیا تھا۔ اس کا بس چلتا تو وہ چڑیا سے لپٹ ہی جاتی۔
    ”تم یہاں اسٹڈی کے لیے آئی ہو؟” چڑیا اس کے ہیلو پر مسکرائی تھی، باربی ڈول نے سر ہلایا۔
    ”ممی پاپا کے ساتھ آئی ہو؟” باربی ڈول کا سر ایک بار پھر ہلا لیکن ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آئے تھے۔ اسے یک دم یاد آ گیا تھا کہ اس کے ممی پاپا اسے صبح وہاں چھوڑ گئے تھے اور وہ وہاں اکیلی تھی۔ چڑیا اس کے آنسو دیکھ کر جیسے تڑپ اٹھی تھی۔
    ”رونا نہیں باربی ڈول۔ اچھے بچے تو نہیں روتے نا۔” اس نے آگے بڑھ کر باربی ڈول کے گالوں پر لڑھکتے آنسو پہلے اپنے ہاتھوں سے پونچھے پھر اپنے فراک کی جیب سے رومال نکال کر اس سے باربی ڈول کا چہرہ صاف کیا۔