Tag: Ary digital

  • خود غرض — ماہ وش طالب

    وہ ایک وسیع قبرستان تھا اور قبروں کا حجم غیرمعمولی حد تک چھوٹا تھا۔ قبروں کے ارد گرد اور درمیان میں خود روجھاڑیوں نے اُسے مزید پراسرار بنا دیا تھا جیسے آدم زاد کو یہاں سے گزرے مدت بیت گئی ہو۔ قبرستان کے دائیں جانب ذرا فاصلے پر خستہ حال گرجا گھر تھا جس کے عین وسط میں استادہ دیو قامت جامن کا درخت کسی اور دیس کی کہانیاں سنا رہا تھا۔ سوکھے پتوں سے سرکتی تیز ہوا خاموش فضا میں ارتعاش پیدا کر رہی تھی اور دور کہیں وقفے وقفے سے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں تھرا دینے والی تھیں۔ ایک جگہ چار پانچ قبریں جو ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر تھیں اُن میں سے ایک نسبتاً بڑی قبر کے سرہانے ایک عورت بیٹھی گریہ و زاری کررہی تھی۔ وہ غلیظ بدبو دار عورت جسے روتے دیکھ کر حیرت ہو رہی تھی۔ پھر ایک سیاہ بلی دم ہلاتی قبرستان میں داخل ہوئی اور دوسری لحد کے سرے پر جاکر بیٹھ گئی۔ بلی کی چمکتی سبز آنکھوں سے وحشت ٹپک رہی تھی۔ نہ جانے اچانک کیا ہوا کہ منظر بدل گیا اور قبرستان کی جگہ کسی کھلے میدان نے لے لی جس کے احاطے میں بے شمار سبزیاں اور خوش رنگ پھول کھلے تھے۔ پھر اچانک اس باغیچہ نما جگہ پر کچھ بچے جن میں دو آٹھ سالہ لڑکیاں اور تین نو دس سال کے لڑکے تھے، نمودار ہوئے۔
    اونچ نیچ کا پہاڑ
    سات موتیوں کا ہار
    پانچ بچے گول دائرہ بناکر کھڑے تھے اور انہی میں سے ایک نسبتاً لمبا اوردبلا بچہ انگلی کے اشارے سے سب کو پگا رہا تھا۔ پھر منظر بدلا۔ وہی خوش شکل اور خوش لباس بچے اس چوکور سے احاطے میں مسکراتے دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں طرف بھاگ رہے تھے۔ منظر نے ایک اور رنگ بدلا۔ اب وہی بچے چھپن چھپائی کھیل رہے تھے اور میدان کے وسط میں بنے ایک پختہ کمرے کے کونوں سے ظاہر ہو ہوکر ایک دوسرے کو ہا ہا کر رہے تھے۔ وہ کمرا باہر سے زنگ آلود تالے سے مقفل تھا جس کا لوہے کا دروازہ بھی اپنا اصل رنگ کھو چکا تھا۔ اچانک اسی منظر میں ایک دبلی پتلی خاتون ظاہر ہوئی۔ اس نے کالے رنگ کا چغہ پہن رکھا تھا۔ گہرے رنگ سے غلاظت ٹپکتی تھی اور گلے میں تین چارنارنجی، ہرے اور سیاہ رنگ کے منکے لٹک رہے تھے۔ چغے کا گلا اتنا گہرا تھا کہ ڈھلکتی چھاتیاں بھی نظرآتی تھیں۔ اس کے ہاتھوں میں ایک دو مومی لفافے تھے۔ جیسے ہی وہ عورت کیاریوں سے راستہ بناتی دروازے تک پہنچی، بچے سہم کر احاطے سے نکلنے لگے۔ اب وہ ڈراؤنی عورت گریبان کے ساتھ چِپکی پوٹلی سے چابی نکالنے لگی۔ کچھ لمحوں بعد جھٹکے سے دروازہ کھلا۔ اس عورت کے اندر آنے سے لے کر کمرے میں نانی کے پاس بیٹھنے تک میرے ذہن میں یہ کھٹ پٹ چلتی رہی کہ میں نے اسے کہیں دیکھا ہے۔ مگر کہاں ؟ یہ سوچنے کی اتنی ضرورت بھی نہ تھی اور نہ ہی وقت تھا کہ ابھی نائمہ کو سوال نامہ بھی بنا کر دینا تھا۔ ایک ہفتے بعد اس کے دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات شروع ہونے والے تھے۔ سو اسی لیے میں شام کو اسے لے کر بیٹھ جاتی۔ کچھ دیر پہلے داخلی دروازے پر دستک ہوئی اور دروازہ میں نے ہی کھولا تھا۔




    ”تمہاری نانی ہے گھر پر؟” جب وہ بولی تو مجھے گمان ہوا یہ لہجہ پہلے بھی کہیں سن رکھا ہے۔
    اس کی بولی اس علاقے سے میل نہ کھاتی تھی۔ خیر نانی کے ”کون ہے” پکارنے پر میں نے اسے اندر آنے کا راستہ دیا اور خود ساتھ والے کمرے میں چلی گئی جہاں نائمہ جنرل سائنس کے رٹے لگا رہی تھی۔ میرے بے حد اصرار بلکہ سمجھانے کے باوجود اس کوڑھ مغز نے آگے بائیو نہ رکھی تھی۔ کچھ نانا بھی زور زبردستی کے قائل نہ تھے لہٰذا میں بھی زیادہ دلائل نہ دے سکی تھی۔
    نائمہ میری چھوٹی کزن اور ماموں کی بیٹی تھی۔ ماموں کے انتقال کے بعد ممانی نے اپنی بیٹی کو چھوڑ کر دوسری شادی رچانے میں زیادہ دیر نہیں لگائی تھی۔ لہٰذا پہلے میں اور پھر نائمہ اپنے نانا نانی کے سہارے خود ان ہی کا سہارا بن گئے تھے۔ بات کتنی عجیب تھی نا، پر تھی تو سہی کیا کریں ۔ سرد آہ خارج کرکے میں نے نائمہ کی کتاب اور کاپی گھٹنوں پر رکھ لی۔
    سردی کے باوجود آج فضا میں گھٹن گھٹن محسوس ہوتی تھی۔ نہ کھل کر دھوپ لگتی تھی نہ ہی دھند نے غلاف چڑھائے ہوئے تھے۔ نانا اس وقت اپنے دوست کے یہاں گئے تھے اور نانی تخت والے کمرے میں اون سلائیاں سنبھالے نجی ٹی وی چینل پر انتہائی فضول ڈراما دیکھنے میں مصروف تھیں۔ اس گرد آلود فضا کی زد میں آنے سے خود کو بچانے کے لیے میں نے بھی فی الفور کڑک چائے کا ایک کپ تیار کیا اور کمرے کی کھڑکی سے کھلے صحن میں جھانکنے لگی۔ آج چھٹی تھی لہٰذا بہرام کوسوچنے کے لیے میرے پاس فراغت ہی فراغت تھی۔ یہ الگ بات کہ مصروفیت کے انتہائی لمحات میں بھی اس کاخیال کسی نیورون کی طرح میرے ذہن میں زندہ رہتا تھا۔
    ”اب یہ بہرام کون تھا؟”
    ماسٹرز مکمل کرنے کے بعد مجھے نجی ادارے سے منسلک ہوئے دو ماہ ہی ہوئے تھے۔ جب ایک خوش شکل اور خوش اطوار لڑکا ہماری کمپنی میں آیا۔ مجھ سمیت میری کولیگز بھی خوش گوار حیرت میں مبتلا ہوئے بنا نہ رہ سکیں کہ مجسمہ سازی جیسی فیلڈ کا رُخ زیادہ تر گاؤں دیہات کے دبو اورکسی حد تک بدذوق لڑکے ہی کرتے تھے۔ پھر میٹنگ میں ابتدائی تعارف کے دوران معلوم ہوا کہ موصوف نا صرف اس شعبے کے ڈگری ہولڈر ہیں بلکہ دو تین آن لائن اضافی کورسز بھی کر رکھے ہیں۔ اپنی ساتھیوں کے سامنے کیے گئے میرے اس تبصرے میں حسد کی ذرا سی بو تھی۔ پھر جب گاہ بہ گاہ انہیں بہرام نامی شہزادے کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے دیکھتی تو حلق تک کڑوا ہوجاتا کہ ایک تو خوب صورت اوپر سے اتنا ایٹی ٹیوڈ، اپنے کام سے کام رکھنے والا، محنتی اور ذمہ دار۔ بات اتنی غیر معمولی تو نہ تھی پر وہ مجھے یعنی قمروش آفاقی کو بھی نظرانداز کرتا رہا۔ یہ بات کسی صورت ہضم ہونے میں نہیں آرہی تھی کہ جسے ایک دنیا تو نہیں مگر زمانہ طالبِ علمی میں ایک دو ہم جماعت اور حالیہ نوکری کے دوران بھی اسی ریشو سے کولیگ چاہنے لگے تھے۔ اسے یہ بہرام نامی شہزادہ کیوں نہ دیکھ سکا۔ اس کا نام بھی تو اس کی شخصیت کے بالکل مترادف تھا ۔ میرے ساتھ بھی تو یہی معاملہ ہوا۔ خود کو بے پروا، بے نیاز ظاہر کرتے کرتے نہ جانے کب اور کیسے وہ میرے دل پر قابض ہوگیا۔ شاید تب، جب پہلی بار سب کی مداخلت کے باوجود اسے سپورٹ کرنے پر وہ بہ طورِ خاص میرا شکریہ ادا کرنے میرے کیبن میں آیا تھا اور مجھے کافی کی پیشکش کی تھی یا شاید تب جب نانا کی طبیعت خراب ہوجانے پر مجھے ایمرجنسی چھٹی لینی پڑی تھی تو اس نے ناصرف میری درخوست منظور کروالی بلکہ میری طرف سے اس دن کا سارا کام بھی ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کو جمع کروا دیا۔ مگر میں اس کی منظورِ نظر کیوں کر ٹھہری؟ شاید اس کی طرف بھی ایسے ہی کچھ واقعات ذمہ دار ٹھہرے ہوں گے۔
    گو کہنے کو یہ تعلق ضرورت کی بنیاد پر قائم ہوا تھا مگر شاید اس خوبصورت ناریل کے پانی کی طرح تازہ دم کردینے والے جذبے کو یوں ہی قائم ہونا تھا۔ یوں بھی گزرتے وقت کے ساتھ احساس اور اعتبار ایسے بیل بوٹے اس محبت کو مزید دلکش تو بناہی رہے تھے۔ بہرام فطرتاً تنہائی پسند تھا، اس بات کا اندازہ بھی مجھ سمیت دیگر اسٹاف کو اچھی طرح ہوگیا۔ جب وہ دو ٹوک انداز میں کولیگز کے ساتھ لنچ یا آؤٹنگ میں جانے سے انکار کردیتا۔ اسے اپنے گرد جمگھٹا بالکل پسند نہ تھا۔ یہ بات بھی سچ تھی کہ وہ میرے ساتھ چلتے۔ اس ڈیڑھ سالہ ریلشن شپ میں بھی بہ مشکل تین بار ہی ڈنر پر گیا تھا۔ اسے جو بات کرنی ہوتی، خاص یا عام، وہ سب کے سامنے میرے کیبن میں آتا تھا۔ کوئی پوچھتا تو ڈنکے کی چوٹ پر اعتراف کرتا کہ قمروش آفاقی اس کی زندگی میں بے حد اہم مقام رکھتی ہے۔ یہ خیال ہی کتنا مغرور کردینے والا ہے نا کہ دنیا ہے اس کے پیچھے، لیکن وہ میرے پیچھے۔ چہرے پر آئی لٹوں کو کانوں کے پیچھے اڑستے ہوئے میں نے چائے کی چسکی بھری تھی۔
    ٭…٭…٭
    ہفتے بھر بعد وہ خاتون پھر نانی کے تخت پر براجمان تھی۔ گہرا رنگ، دبلا سراپا مگر بڑی بڑی آنکھیں جنہیں سرمے کی سلائیوں سے خوب بھرا گیا تھا۔ آج پھر اسے دیکھ کر ذہن میں ایک شبیہہ لہرائی مگر دھند میں لپٹی ہوئی اتنی دھندلی کہ نانی کے کہنے پر جب تک میں نے چائے بنا کر ان کے سامنے پیش کی تو وہ بھی شاید چینی کی طرح گھل کر غائب ہوچکی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے کمرے میں ٹھہرنے تک بہ جائے اس کے وہ براہِ راست مجھ سے کچھ پوچھتی، عجیب سی نظروں سے وہ میرا جائزہ لیتی رہی۔ نائمہ کا ایوننگ شفٹ کا پرچہ تھا لہٰذا وہ بھی گھر پر نہ تھی کہ اس سے کچھ کہہ سن لیتی لیکن میرے دل میں خواہش ابھری کہ میں دوبارہ کبھی اس عورت کو نہ دیکھوں۔ مگر کچھ دعائیں شاید قبولیت کے درجے پر فائز ہونے کے لیے نہیں نکلتیں یا یوں کہنا چاہیے کہ کچھ دعائیں ٹھیک نشانے پر نہیں لگتیں۔ وہ آر پار ہو کر آپ کو کسی نہ کسی صورت کم یا زیادہ فائدہ تو دے جاتی ہیں مگر نشانہ چوک جانے کا دکھ بہرحال رہتا ہے۔ مجھے دفتر سے آئے کچھ وقت ہی گزرا تھا لہٰذا تازہ دم ہونے کی غرض سے غسل خانے چلی گئی۔
    ٭…٭…٭




  • لبِ بام — باذلہ سردار

    ناجیہ صبح صبح نجویٰ کے کمرے میں آئیں۔ ایک پیار بھری نظرسے سوئی ہوئی نجویٰ کو دیکھا۔ اُس کے ماتھے پے بوسا دیا۔ وہ ہمیشہ نجویٰ کو ایسے ہی جگایا کرتی تھیں۔ ماں کی محبت ایسی ہی ہوتی ہے۔ بے لوث بے غرض۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی انہوں نے کاسنی رنگ کے پردے کھڑکی سے سرکا دیے تھے اور نجویٰ اُٹھ کے مسکراتی ہوئی ماں کے گلے لگ گئی تھی۔
    ”نجویٰ میری جان نماز پڑھ کے نیچے آجانااکٹھے ناشتا کریں گے اور اپنے لیے نیک نصیب کی دعا ضرور کرنا۔”نجویٰ نے ا ثبات میں سر ہلادیا، ناجیہ یہ سب کہہ کے نیچے چلی گئیں۔
    نجویٰ نے اپنا دُوپٹا اُٹھایا،وضو کیا اور فجر کی نماز ادا کی۔ پھر جائے نماز پے بیٹھے ہوئے دُعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے۔
    ” اے میرے پیارے ربّ تو دلوں کے حال جانتا ہے، تجھ سے کوئی بات چھپی ہوئی نہیں ہے۔ میرا ظاہر،باطن سب عیاں ہے۔ میری اُمیدیں، اُمنگیں بھی تیری پاک ذات کے سامنے ہیں۔ تیری قدرت سے بڑا کچھ نہیں ہے۔ میں تیری نادان سی بندی ہوں۔ میرے تو نام کا مطلب ہی محبت کی چاہ کرنا ہے۔ مجھے اگر ایک ایسے انسان کی محبت میں مبتلا کیا ہے، تو اُس میں بھی تیری مصلحت ہو گی۔ اُسے میرا نصیب بنا دے ۔آمین ثم آمین۔”
    دعا ختم کرنے کے بعد نجویٰ نے دونوں ہاتھوں پے پھونک مار کے اپنے شفاف چہرے پے پھیرے اور حسبِ معمول اپنا سیل فون دیکھا اُس کی اسکرین پے مجتبیٰ کا میسج چمک رہا تھا۔
    Good Morning Beautiful
    وہ مُسکرائی اور میسج ٹا ئپ کیا۔
    ”تمہیں کیسے پتا کہ میں Beautiful ہوں۔ہمیشہ یہی کہتے ہو۔”
    کچھ لمحے گزرنے کے بعد میسج آیا۔





    ” میری Imaginations بہت Strong ہیں۔ میں تخیل کی نظروںسے دیکھ سکتا ہوں کہ تم کتنی خوبصورت ہو۔ جب صبح تم اٹھتی ہو اور اپنے بکھرے بال سمیٹتی ہو گی، تو جیسے رات کی تاریکی دن کی سفیدی میں گُم ہو جاتی ہے اور اندھیرا چھٹ جاتا ہے۔ تمہارا چہرہ بھی زلفوں کو سمیٹنے سے اور حسین ہو جاتا ہو گا۔”
    نجویٰ مسکرائی اور میسج کیا۔
    ”مجھے ایک شعر تو بھیج دو روز کی طرح خوبصورت سا۔ ویسے تو باتیں بھی شاعرانہ کرتے ہو گماں ہوتا ہے کہ مجھے دیکھا ہے تم نے”
    دوسری طرف سے پیغام آیا۔
    کیا پتا دیکھا ہو؟ناٹی سمائلی سے میسج موبائل کی اسکرین پے چمکا تھا۔
    آج ہم نے تمام حُسن ِبہار ایک برگِ گُلاب میں دیکھا
    فُرصتِ موسم نِشاط نہ پوُچھ جیسے اِک خواب، خواب میں دیکھا
    ”خوش اب! ہے نا خوبصورت ”مجتبیٰ نے کہا۔
    نجویٰ مُسکرائی زیرِلب شعر دہرایااور میسج ٹائپ کیا۔
    ”شکریہ جناب۔”
    دوسری طرف سے میسج آیا۔
    ”My Pleasure Lady”
    ”اچھا پھر بات ہو گی مجھے کالج جانا ہے اللہ حافظ۔” نجویٰ نے مجتبیٰ کو میسج کیا اور فون رکھ کے شاور لینے چلی گئی۔ وہ ہمیشہ ایسے ہی کرتی تھی پہلے شاعری کی فرمائش کرتی پھرمجتبیٰ کا شکریہ ادا کرتی۔
    نجویٰ نے شاور لیا ،اپنے بال تولیے سے خشک کیے، یونیفارم پہنا، آنکھوں میں کاجل لگایا۔ اُس کی آنکھیں بہت خوبصورت تھیں موٹی موٹی کالی آنکھیں۔ پلکیں بہت گھنی اور لمبی تھیں وہ کبھی پلکیں جھکاتی کبھی اُٹھاتی اور آئینہ دیکھتے ہوئے اس کے چہرے پے مُسکراہٹ آجاتی۔ وہ روزبہت اہتمام سے تیار ہوتی تھی حالاں کہ ابھی اٹھارہ برس کی بھی نہیں ہوئی تھی اور پڑھتی بھی گورنمنٹ کالج میں تھی۔ اکثر گورنمنٹ کالج میں لڑکیاں سادگی سے رہتی ہیں، لیکن نجویٰ بہت شوخ چنچل سی لڑکی تھی اور ہمیشہ ہلکی سی چین جس پے اُس کا نام کنندہ تھا ،نازک سی بالیاں، ایک عقیق سے جڑی ہوئی پیاری سی انگوٹھی اور گولائی میں سفید نگوں سے جڑی ہوئی سلور گھڑی پہنی ہوتی تھی۔ وہ ان سب چیزوں کے بغیر خود کو ادھورا تصور کرتی تھی اس لیے ہمیشہ پہنتی تھی۔
    اچھے سے تیار ہو کے نجویٰ گنگناتے ہوئے آہستگی سے سیڑھیاں اُترتے نیچے ڈرائنگ روم میں آئی وہاں میجر مدثر اخبار پڑھ رہے تھے۔ نجویٰ نے میجر صاحب کے گلے لگتے ہوئے بلند آواز میں سلام لیا۔
    ”السلام علیکم پاپا جان !”
    ”وعلیکم السلام! میری چندا تیار ہوگئی؟” میجر مدثر نے مسکراتے ہوئے شفقت سے پوچھا۔نجویٰ نے معصومیت سے جواب دیا۔
    ”آپ کی پڑھائی کے کیا حالات ہیں؟ تیاری کہاں تک پہنچی؟” میجر صاحب نے ناشتا کرتے ہوئے نجویٰ سے پوچھا۔”
    نجویٰ نے چہکتے ہوئے جواب دیا۔
    ”First Class”
    ”That’s great”میجر صاحب نے خوشی سے جواب دیا۔
    نجویٰ میجر صاحب اور ناجیہ کی اکلوتی اولاد تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ نجویٰ آرمی جوائن کرے یا پھر ڈاکٹر بنے، لیکن نجویٰ کو ادب،شعر وشاعری اورپینٹنگز سے لگاؤ تھا۔ اس کے علاوہ اُسے باغبانی کا بھی بہت شوق تھا۔ اُس نے میجر صاحب سے کہہ کہ اپنی پسند کے پھول گھر کے باغیچے میں لگوائے تھے۔ سفید اور سُرخ پھول اُسے بہت پسند تھے۔
    میجر صاحب کو اپنی پڑھائی سے مطمئن کر کے نجویٰ نے اُن سے مخاطب ہو کے کہا:
    ”پاپا کالج کا ٹا ئم ہوگیا ہے چلیں مجھے ڈراپ کر دیں۔”
    میجر صاحب نے چائے کا کپ رکھا۔ گاڑی کی چابی اُٹھائی اور گیراج سے گاڑی باہر نکالنے کے لیے چلے گئے۔ نجویٰ نے ناجیہ بیگم کو اللہ حافظ کہا۔ ماں نے بیٹی کا ماتھا چومااور کہا۔
    ”خیر سے جاؤ میری جان اللہ کے حوالے۔”
    نجویٰ کھکھلا کے ہنس پڑی اور کہا۔
    ”ماما میں محاذ پے جنگ لڑنے تھوڑی جا رہی ہوں جو آپ اتنی فکر کر رہی ہیں۔”
    ”بیٹا تمہیں کیا پتا کہ ماں کا پیار کیا ہوتا ہے۔ وہ اپنی اولاد کو لے کے کتنی ڈری ہوتی ہے اور پھر اولاد بھی تمہارے جیسی جسے اتنی دعاؤں کے بعد پایا ہو ۔تم تو رحمت کے ساتھ نعمت بھی ہو ہمارے لیے۔”
    ناجیہ بیگم نے آنکھوںمیں نمی چہرے پے مُسکراہٹ لاتے پیار سے بیٹی کو دیکھتے ہوئے کہا۔
    اتنے میں دونوں کو ہارن کی آواز سُنائی دی۔ نجویٰ ماں سے مل کے دوڑتی ہوئی گاڑی میں جاکے بیٹھ گئی۔
    ”چلیں پاپا۔”




  • غضنفر کریم — ارم سرفراز

    غضنفر کریم — ارم سرفراز

    امریکی ریاست کولوراڈو کے شہر ڈینور میں صبح کے نو بجے تھے جب دروازے کی گھنٹی ُْبجی۔ طاہرہ افتخار تینوں بچوں کو اسکول ڈراپ کرنے اورحسن کو ناشتا دینے کے بعد اب فریزر کے سامنے کھڑی سوچ رہی تھی کہ اس دن کیا پکایا جائے۔ گھنٹی کی آواز پر دونوں چونکے۔
    ”کسی نے آنا تھا کیا اِس وقت؟ ”حسن نے طاہرہ کی طرف دیکھا ۔
    ”نہیں۔” طاہرہ نے جلدی سے فریزر بند کیا اور دروازے کی طرف گئی ۔ گھنٹی اس وقت تک دوسری مرتبہ بج چکی تھی۔ طاہرہ نے peephole سے جھانکا اور بری طرح چونکی۔ وہ تیزی سے کچن کی طرف گئی ۔
    ”باہر پولیس کھڑی ہے ، حسن ۔” اس کی آواز میں پریشانی تھی ۔
    ”کیا؟ ” حسن اچھلا اور اسی تیزی سے دروازے کی طرف بڑھا۔
    ”گڈ مارننگ ۔ ” اس کے دروازہ کھولنے پر باہر کھڑے مرد اور عورت پولیس آفیسرز نے مسکرا کر اسے greetکیا ۔
    ”میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں آفیسرز؟ ” حسن نے بھی مسکرا کران سے ہاتھ ملایا گو کہ اندر سے اس کا دل ڈوبا جا رہا تھا۔ اس طرح اچانک پولیس کا دروازے پر آنا کوئی خوش آئند بات نہ تھی۔ طاہرہ بھی دھڑکتے دل سے دروازے کی اوٹ سے سن رہی تھی ۔
    ”میرا نام Detective وارنر ہے اور یہ میری پارٹنر Detective فرے ہیں۔” مرد افسر نے اپنا تعارف کروایا اور دونوں نے حسب ضابطہ اپنے بیج نکال کر حسن کو دکھائے۔
    ”ہم یہاں کے لوکل پولیس سٹیشن سے آئے ہیں اور آپ سے کچھ سوالات پوچھنا چاہتے ہیں۔”
    ”کیا آپ کا نام حسن افتخار ہے؟” ڈی ٹیکٹو فرے نے اپنے ہاتھ میں موجود کچھ کاغذوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا ۔
    ”جی ہاں۔” حسن نے سر ہلایا۔ اس کے دماغ میں تیزی سے وہ سب تدابیر اور اصلاحات دوڑ رہی تھیں جن کے اوپر عمل کرنے کی تاکید مسلمانوں کو دروازے پر اچانک اس طرح پولیس کے آنے پر کی گئی تھی ۔ امریکاکی موجودہ فضا میں مسلمانوں کو چوکس رہنے اور اچانک نمودار ہونے والی پولیس سے صحیح طریقے سے بات چیت کرنے کی خاص ہدایات تھیں ۔
    ”کیا کوئی پرابلم ہے ڈی ٹیکٹو ؟” حسن نے محتاط لہجے میں سوال کیا ۔




    ”کیا آپ لوگوں سے گفتگو مجھے اپنے لائر کی موجودگی میں کرنی چاہیے؟” دونوں ڈی ٹیکٹو اس بات پر مسکرائے۔
    ”اپنے لائر کو بلانا یا نہ بلانا آپ کا اپنا فیصلہ اور قانونی حق ہے، مسٹر افتخار ، لیکن میرے خیال میں یہ ضروری نہیں ہے۔ ”ڈی ٹیکٹو وارنر کا لہجہ دوستانہ تھا۔
    ”ہم صرف روٹین کے کچھ سوالات کرنا چاہتے ہیں۔ آپ لوگ کسی ڈائریکٹ انویسٹی گیشن کا حصّہ نہیں ہیں۔” یہ سن کر حسن اور طاہرہ کی سانس کچھ بحال ہوئی۔
    ”کیا ہمیں اندر آنے کی اجازت ہے؟” ڈی ٹیکٹو فرے نے پوچھا۔
    ”جی ہاں، ضرور۔” حسن افتخار نے انہیں خوش دلی سے اندر آنے کی اجازت دی۔ دونوں ڈی ٹیکٹو اندر داخل ہو گئے۔ حسن نے طاہرہ کا بھی ان سے تعارف کروایا ۔ حسن افتخار اور طاہرہ افتخار کا صاف ستھرا ور خوبصورتی سے آراستہ گھر مہمانوں پر ہمیشہ ایک خوشگوار تاثر چھوڑتا تھا۔ لیونگ روم میں آنے تک گھر کے ہر طرف دوڑتی دونوں ڈی ٹیکٹو کی نظریں بظاہر سرسری تھیں، لیکن اس سرسری پن میں بھی پیشہ ورانہ گہرائی اور زیرک پن تھا ۔ دونوں ڈی ٹیکٹو نے نوٹ کیا کہ گھر کے مکینوں کو اپنے ملک سے کافی لگاؤ تھا ۔ دیواروں پر لگی پینٹنگز میں بھی پاکستان کے دیہاتی مناظر کی عکاسی کی گئی تھی ۔ پاکستانی آرائشی اشیا کے علاوہ چنیوٹ کے کوفی ٹیبلز اور ہاتھ کے بنے ایریا رگز بھی مکینوں کی خوش ذوقی کا منہ بولتا ثبوت تھے۔
    ”ہم لوگ اصل میں آپ کے محلے میں کسی پاکستانی نژاد آدمی کی تلاش میں ہیں۔ ”ڈی ٹیکٹو وارنر نے بیٹھنے کے بعد اپنی آمد کا مقصد بیان کیا۔
    ”اسی لیے ہم اس محلے میں موجود پاکستانی فیملیز سے بات کر رہے ہیں ۔ شاید آپ ہماری کچھ مدد کر سکیں ۔ اس آدمی کا نام غضنفر کریم ہے ۔ کیا آپ یا آپ کی بیگم اس نام کے آدمی کو جانتے ہیں؟”
    دونوں ڈی ٹیکٹو کا انداز رسمی سا تھا، لیکن ان کی تیز اور مستعد نظریں حسن اور طاہرہ کی ہر جنبش پر تھیں۔
    ”غضنفر کریم ؟” حسن افتخار نے حیرت سے دونوں ڈی ٹیکٹو کی طرف دیکھا۔
    ”میں نے تو یہ نام بھی پہلے نہیں سنا۔”
    ”ذرا سوچ کر بتائیے؟” ڈی ٹیکٹو فرے نے غور سے اس کی طرف دیکھا۔
    ”کیا یہ نام واقعی آپ کے لیے نیا ہے؟”
    ”جی ہاں ۔ ” حسن افتخار نے سر ہلایا۔
    ”یہ نام واقعی ہمارے لیے نیا ہے۔ ہم اس علاقے میں پچھلے دس سال سے رہ رہے ہیں اور یہاں موجود ساری پاکستانی فیملیز کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔”
    ”ہو سکتا ہے آپ کی وائف نے اس آدمی کے بارے میں سنا ہو؟” ڈی ٹیکٹو وارنر نے پوچھا۔ تینوں کی نظریں طاہرہ افتخار کی طرف اٹھیں ۔
    ”جی نہیں۔ ” طاہرہ افتخار نے نفی میں سر ہلایا۔
    ”میں اس نام کے کسی آدمی کو نہیں جانتی۔” اس کالہجہ پراعتماد لیکن چہرہ ہر رنگ سے عاری اور لٹھے کے مانند سفید تھا۔ ڈی ٹیکٹو فرے نے اپنے دل میں ہمدردی محسوس کی۔ ان دونوں کی آمد سے حسن افتخار سے زیادہ طاہرہ افتخار خوفزدہ لگ رہی تھی۔ طاہرہ کے جواب پر دونوں ڈی ٹیکٹو کے درمیان نظروں کا خاموش تبادلہ ہوا ۔ ڈی ٹیکٹو وارنر نے گہری سانس لی ۔
    ”دیکھیے مسٹر افتخار ، ہمیں امید ہے کہ آپ ہم سے غلط بیانی سے کام نہیں لے رہے۔ ”ڈی ٹیکٹو کی آواز میں ہلکی سی سختی در آئی تھی۔
    ”کیونکہ جوابات میں ہلکی سی بھی غلط بیانی آپ کو انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا قصوروار ٹھہراتی ہے۔”
    ”ڈی ٹیکٹو، میں آپ لوگوں سے جھوٹ نہیں بول رہا۔ ” حسن افتخار اب سخت پریشان ہو رہا تھا ۔ بیٹھے بٹھائے مصیبت گلے پڑ رہی تھی۔ موجودہ دور پولیس والوں کو دور سے سلام کرنے کا تھا ، نہ کہ ان کی نظروں میں آنے کا۔
    ”میں نے یہ نام اپنی زندگی میں کبھی نہیں سنا۔ ویسے یہ آدمی ہے کون؟ کیا کیا ہے اس نے ؟ کیا یہ خطرناک ہے ؟”اس کی آواز میں دبا دبا غصہ اور جھنجلاہٹ دونوں ڈی ٹیکٹوز کے تیز کانوں سے چھپا نہیں تھا۔صاف ظاہر تھا کہ مسٹر حسن افتخار کے مزاج کا نقطہ کھولاؤ بے انتہا کم تھا۔
    ”غضنفر کریم کو روایتی تعریف میں خطرناک نہیں کہہ سکتے ۔ ”ڈی ٹیکٹو وارنر نے وضاحت کی۔




  • لفاظی — نعمان اسحاق

    کھٹکے کی آواز سے داروغہ کی آنکھ کھل گئی۔ اس سے پہلے کہ وہ اس کھٹکے کو اپنے وسوسے سے تعبیر کرتا، اپنی گھاس پھونس اور گارے کے لیپ سے تیار شدہ جھونپڑ کی کچی کھڑکی سے اس نے ایک ہیولے کو مینار کی سیڑھیاں چڑھتے دیکھا۔
    مینارِ خاموشی… یہ کوئی عام مینار نہ تھا۔ آبادی کے لوگوں کی زندگی کا آخری پڑائو۔جب روح اور جسم کا تعلق منقطع ہو جاتا، روح پرواز کر جاتی اور فضا میں بے رنگ سی تحلیل ہوجاتی۔جسم کو آگ کے سپرد نہ کیا جاتا کہ آگ جسم کو راکھ کر دے گی اور یہ راکھ فضا کو آلو دہ کرے گی۔مٹی کے سپرد نہ کیا جاتاکہ مٹی کو بھی صاف رکھنا ہے۔پانی کے حوالے بھی نہ کیا جاتاکہ پانی زندگی ہے۔بے روح جسم کا پانی میں کیا کام۔
    چنانچہ مردہ اجسام کو اس پیالہ نما کھوکھلی عمارت میں لایا جاتا۔سیڑھیا ں جو عمارت کی اور جاتیں۔ اور گول پیالہ جس میں نعشوں کو ترتیب سے رکھا جاتا۔ مردہ جسم پڑے ہوتے اور گدھوں کی چاندی ہو جاتی۔وہ سیر ہو کر کھاتے رہتے۔ اور جب گوشت نہ رہتا اور صرف استخوانی ڈھانچہ بچ جاتاتو اس ڈھانچے کو پیالے کے وسط میں موجود کنویں میں دھکیل دیا جاتا، کہ فانی انسان کا یہی انجام ہے۔
    یوں تو مشہور تھا کہ مینار ِ خاموشی پر سفید روحوں کا قبضہ ہے۔ سفید جبہ پہنے روحیں رات کے پچھلے پہر اور کبھی کبھار خاموش دوپہروں کو مینار پر اترتی ہیںاور ان خاموش مردوں سے ہم کلام ہوتی ہیں۔ مگر داروغہ جانتا تھا کہ یہ سب بے پرکی ہے۔شہر والوں نے کہانیاں گھڑ لی ہیں۔ ایسا کچھ نہیں۔ سفید روحوں کا وجود ہے اور نہ کبھی ان کی مینارِ خاموشی پر آمد ہوئی ہے۔
    ہیولا سیڑھیاں چڑھتا مینار کی بلندی تک جا پہنچا۔صبح دم کسی ذی روح کا یوں مینار پر آنا چہ معنی ندارد۔
    ہاتھ میں بانس سنبھالے وہ جھونپڑی سے باہر نکلا او رمینار کی سیڑھیاں چڑھنے لگا۔
    سیڑھیاں چڑھتا وہ مینار کے اند ر داخل ہوا۔اور وہ جو توقع کر رہا تھا کہ کوئی دیوانہ سفلی عمل کے لیے مینار میں آیا ہو گا، ایسا کچھ نہ تھا بلکہ ایک نو جوان ادھ کھائے مردہ اجسا م کے درمیان لیٹا تھا۔سانسوں کی زیروبم اس کے زندہ ہونے کی اطلاع دیتی۔
    داروغہ ہڈیوں اور کھوپڑیوں کا خیال کرتا نوجوان کے پاس چلا آیا۔
    نوجوان بانکا سجیلا تھا۔ اپنے شہر کا باسی تھا۔داروغہ کو نقوش جانے پہچانے لگے۔ مگر کس گھر کا چشم و چراغ تھا ، اسے یاد نہ آیا۔
    ”اے جوان! یہاں کیا کرتے ہو؟” داروغہ نے قدرے سخت لہجے میں پو چھا۔
    نوجوان جو آنکھیں موندے لیٹا تھا ، نے دھیمے سے آنکھیں کھولیں۔داروغہ کو دیکھااور دیکھتا ہی رہا۔
    ”کیا تم سفید روح ہو؟ مردوں کی ہمراز سہیلی۔” نوجوان نے پوچھا۔
    ” نہیں پاگل لڑکے! میں مینار کا داروغہ ہوں اور تم یہاں کیا کرتے ہو؟” داروغہ کا لہجہ پہلے سے زیادہ کھردرا تھا۔
    ” داروغہ جائو ، آرام کرو۔ مردوں کے ساتھ باتیں نہیں کی جاتیں۔” لڑکے کی آواز بوجھل تھی۔ مگر وہ نشے کے زیرِ اثر نہ لگتا۔وہ اب دوبارہ سے آنکھیں موندے لیٹا تھا۔ اور خود کو مردہ قرار دے رہا تھا۔
    داروغہ بانس کی پچھلی نوک لڑکے کی ران میں چبھونے لگا۔
    ”دیوانے لڑکے اٹھو! مْردے خود سے نہیں آتے۔ کندھوں پر لاد کر لائے جاتے ہیں۔وہ بے بس ہوتے ہیں۔باتیں نہیں کرتے۔”
    ”شہر کے لوگ مجھے کندھے پر نہیں لادتے مگرمیں بے بس ہوں۔ میں زندہ نہیں مردوں میں سے ہوں ۔مجھے یہاں لیٹے رہنے دو۔بھور سمے گدھ آئیں گے ، میرا گوشت کھائیں گے اور اپنا پیٹ بھریں گے۔” لڑکے کی آوازمیں نمی گھلنے لگی۔ داروغہ کا دل نرم پڑنے لگا۔
    ” تمہیں کیا غم ہے کہ اس جوانی میں تم زندگی سے منہ موڑ کر موت کی باتیں کرتے ہو؟مرغ اور بٹیر بھون کر کھانے کی بجائے خود کو گدھوں کا شکم بھرنے کے لیے پیش کرتے ہو۔کیا غم ہے جوان؟”جوان چپ چاپ لیٹا رہا۔داروغہ کو اس کے چہرے پر پیلاہٹ بکھرتی محسوس ہوتی۔
    ” زندگی کا سب سے بڑا غم، محبت کا غم!”داروغہ نے لڑکے کو کہتے سنا۔
    ” مجھے اپنا غم بتائو۔ ہو سکتا ہے کہ میں تمہارے کام آئوں۔مگر یہاں نہیں ، میرے جھونپڑ میں آئو۔اس مینا ر میں ہر کسی نے آنا ہے مگر اپنے مقرر کردہ وقت پر۔ میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا وقت دور ہے۔اُٹھو شاباش! میرے پیچھے پیچھے آئو۔”
    ”زیبا لڑکی نہیں حور ہے ۔میں اس سے محبت کرتا ہوں۔یہ محبت بھی کیا چیزہے ۔حاصل اور محصول کے کلیے کے بغیر محبت مکمل نہیں اور نا مکمل محبت زندگی سے اچاٹ کر دیتی ہے ۔”وہ لڑکا کہے جاتا۔
    ”پہلے اپنے بارے میں بتاؤ۔”داروغہ نے لڑکے کو ٹوکا۔
    ”میں عبدل ہوں ۔لکڑہارے کا بیٹا ۔”جوان نے اپنا تعارف کرایا ۔شہر بھر میں صرف تین تو لکڑہارے تھے۔لڑکے نے بتایا تو جھٹ سے داروغہ کے ذہن میں ایک لکڑ ہارے سے اس کی مشابہت آگئی ۔یقینا وہ اس ناٹے قد کے لکڑہارے کا بیٹا تھا جسے ایک روز ایک رحم دل پری سنہری کلہاڑا دے گئی تھی۔
    ”کیا تم نقرہ کے بیٹے ہو ؟وہ سنہری کلہاڑے والا لکڑہارا۔”داروغہ نے پوچھا ۔عبدل اثبات میںسرہلانے لگا۔
    ”ہاں! میں اسی دیانتدار لکڑہارے کا بیٹا ہوں جس کا کلہاڑا دریا میں گر گیا تھا اور ایک پری نے اسے سونے اور چاندی کے کلہاڑے دکھائے تھے مگر میرے ایماندار باپ نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا تھا کہ یہ اس کے نہیں ۔پری نے انعام میں وہ چاندی اور سونے کے کلہاڑے میرے باپ کو دیے اور میرا باپ ان کلہاڑوں کو آج بھی محض سجاوٹ کے لیے دیوار پر ٹانگے رکھتا ہے ۔اگر بازار میں اس کے دام لگواتا تو شاید ہمارے حالا ت اتنے برے نہ ہوتے ۔اور نہ زیبا کا باپ ہماری غربت کی وجہ سے مجھے اپنی بیٹی دینے سے انکار کرتا۔”
    ”کیا تمہیں دو وقت کا کھانا میسر نہیں ؟”داروغہ نے پوچھا ۔
    ”میسر ہے ۔”
    ”تو پھر اپنے حالات کو برا مت کہو جوان ۔قدرت کے خزانے میں سے اس مٹی کی مورت کا حصہ محض دو وقت کی روٹی ہے اور بالآخر اس مورت نے مینارِخاموشی کی اونچائیوں میں گدھ کی خوراک ہی بننا ہے۔”
    ”تو پھر آپ نے مجھے اس مینار میں کیوں نہیں لیٹے رہنے دیا ۔کیوں مجھے یہاں لائے ۔”عبدل کا لہجہ تیز ہونے لگا۔ قبل اس کے کہ داروغہ کوئی منطقی جواب دیتا، عبدل کہنے لگا ۔
    ”زمانہ بدل گیا ہے ۔لوگ اب محض دو وقت کی روٹی پر اکتفا نہیںکرتے ۔وہ سونا چاندی کی خواہش کرتے ہیں ۔یہ گھاس تنکوں کے جھونپڑ ۔”کہتے ہوئے عبدل پاؤں کے انگوٹھے سے فرش کو رگیدنے لگا۔
    ”فرش مت اکھاڑو۔”داروغہ نے جلدی سے اسے ٹوکا۔


  • جنگی وردی کا قیدی — نجیب محفوظ — مترجم محمود رحیم

    جنگی وردی کا قیدی — نجیب محفوظ — مترجم محمود رحیم

    ڈگا ڈگ کے اسٹیشن پر جب گاڑیوں کی آمد کا وقت قریب ہوتا تو سگریٹ فروش گاہشا وہاں ہمیشہ سب سے پہلے آپہنچتا۔ وہ ٹھیک سمجھا کہ اسٹیشن اس کی سب سے بڑی منافع بخش مارکیٹ ہے۔ وہ اپنی چھوٹی چھوٹی تجربہ کار آنکھوں سے گاہکوں کو تلاش کرتا ہوا نہایت چستی سے پلیٹ فارم پر چلتا۔
    گاہشا سے اس کے کام کے متعلق اگر پوچھا جاتا تو اچھی خاصی لعنت بھیجتا کیونکہ بہت سے اور لوگوں کی طرح وہ بھی اپنی زندگی سے بیزار اور اپنے بخت سے ناخوش تھا۔ اگر وہ انتخاب کی آزادی رکھتا تو شاید کسی رئیس کا ڈرائیور ہونے کو ترجیح دیتا تاکہ قیمتی لباس پہن سکتا، اعلیٰ طعام کھاسکتا اور گرمی اور سردی کے موسم میں عالی شان مقامات پر اس کا مصاحب ہوتا۔
    پیٹ کی خاطر تگ و دو کے مقابلے میں اس نے ایک ایسے کام کو ترجیح دی جو اس کی کایا پلٹ دیتا اور اسے خوش رکھتا، تاہم اس کام کو ترجیح دینے اور اس قدر چاہنے میں اس کے اپنے خاص اسباب تھے جن کا آغاز اس دن ہوا جب اس نے ایک مقامی معمر آدمی کے ڈرائیور الغور کو معمر کی ملازمہ بنادیہ کے راستے میں کھڑے ہوکر نہایت جرأت اور خود اعتمادی کے ساتھ اس سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ ایک بار جب جوش مسرت میں الغور مضطر بانہ اپنے دونوں ہاتھ چلا رہا تھا، تو گاہشا نے ایک دفعہ اس سے یہ بھی سنا کہ اس نے بنادیہ کو کہا ہے کہ وہ جلد ہی اس کے لیے انگوٹھی لے کر لوٹے گا۔ اس کے بعد گاہشا نے دیکھا کہ وہ لڑکی الغور کی طرف دیکھ کر بہ تکلف مسکرائی اور اپنے چہرے سے حجاب کا کونا ہٹایا جیسے کہ اسے درست کر رہی ہو حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ اس نے تیل میں لپڑے اپنے کالے سیاہ بالوں کی نمائش کی تھی۔ جب گاہشا نے یہ سب کچھ دیکھا تو اس کے دل میں ایک آگ سی لگ گئی۔
    اس نے محسوس کیا کہ رشک اسے اندر ہی اندر بیدردی سے کھائے جارہا ہے۔ اس کی سیاہ آنکھیں اس کے تمام درد و کرب کا باعث بن گئیں۔ وہ اس کے پیچھے چند قدم چلتا۔ کبھی کبھار اسے گلی میں جاتے دیکھ کر اس کے رستے میں ہولیتا۔ آخرکار جب اس نے تنگ رستے پر اسے جالیا تو وہ سب کچھ کہہ ڈالا جو کہ الغور نے اسے انگوٹھی دینے کے بارے میں کہا تھا، مگر وہ منہ بناتے ہوئے ایک طرف کو ہوگئی۔
    ”اگر تم اپنے پاؤں کے لیے کوئی کھڑاؤں خرید لیتے تو یہ بات زیادہ معقول ہوئی۔”
    وہ حقارت سے بولی۔
    گاہشا اپنے لمبے لمبے پاؤں غور سے دیکھتا جو ایسے لگتے جیسے بالکل اونٹ کے ہوں۔ اس نے اپنی میلی کچیلی عبا اور سرکی گرد آلود ٹوپی کو گھورا۔
    ”تو اسی سبب سے میں اتنا ذلیل ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میرا مقدر ایسا ہے۔”
    وہ اپنے آپ کو کوسنے لگا۔





    اس نے الغور کی ملازمت پر رشک کیا جو اسے بہت پسند تھی، تاہم امیدیں اسے اپنا کام جاری رکھنے سے روک نہ سکیں اور اس نے پکی دھن سے پھر اپنا دھندا شروع کردیا۔ اسے معلوم تھا کہ اس کی تمنائیں خوابوں ہی میں پوری ہوسکتی تھیں۔
    اس دوپہر وہ اپنا خوانچہ اٹھائے اسٹیشن کی طرف روانہ ہوگیا اور گاڑی کی آمد کا انتظار کرنے لگ۔ اس نے افق کی سمت نگاہ کی اور گاڑی کو دھوئیں کے ایک بادل کی طرح دور سے آتے دیکھا۔ گاڑی قریب سے قریب تر آتی گئی اور اس کے مختلف حصے زیادہ صاف دکھائی دینے لگے۔ شور بلند سے بلند تر ہوتا گیا اور بالاآخر گاڑی اسٹیشن پر آکر مکمل طور پر رک گئی۔ گاہشا جلدی جلدی پرہجوم ڈبوں کی جانب لپکا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ دروازوں پر مسلح گارڈ تھے اور اجنبی سے چہرے بے بسی اور حیرانی کے ساتھ کھڑکیوں میں سے جھانک رہے تھے جب لوگوں نے گاڑی کے متعلق استفسار کیا تو انہیں بتایا گیا کہ یہ اطالوی جنگی قیدی ہیں جو بے شمار تعداد میں دشمن کے ہاتھ لگے ہیں اور اس وقت جنگی کیمپوں میں منتقل کیے جارہے ہیں۔
    گاہشا وہاں حیرت زدہ کھڑا مٹی سے اٹے ہوئے چہروں کا جائزہ لینے لگا۔ وہ دل گرفتہ ہونے لگا۔ جب اسے احساس ہوا کہ یہ لوگ جن کے زرد چہروں سے مایوسی اور مفلسی جھلکتی ہے، سگریٹ نوشی کی اپنی شدید خواہش اس سے پوری نہ کرپائیں گے۔ کھا جانے والی آنکھوں سے خوانچے کو دیکھتے ہوئے اس نے انہیں تاڑ لیا اور پھر غصے اور حقارت آمیز ہنسی سے ان پر نگاہ ڈالی۔ وہ پلٹ کر اپنی راہ لینے ہی والا تھا، جب اس نے یورپی لہجے کی عربی زبان میں کسی کو اپنے اوپر چلاتے ہوئے سنا۔ اس نے آدمی کو مشکوک نگاہ سے دیکھا اور پھر اپنی شہادت کی انگلی کو انگوٹھے کے ساتھ رگڑتے ہوئے جتایا کہ اسے پیسوں کی بھی ضرورت ہے۔ سپاہی اس کا مطلب سمجھ گیا اور ہاں کے سے انداز میں اپنا سر ہلایا۔ گاہشا محتاط طریقے سے آگے بڑھا اور سپاہی کی دسترس سے دور خاصے فاصلے پر کھڑا ہوگیا۔
    ”یہ رہے میرے پیسے!”
    سپاہی نے نہایت خاموشی سے اپنی جیکٹ اتاری اور اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔
    گاہشا حیران ہوا اور پیلے بٹنوں والی خاکی جیکٹ و تمنا کے ملے جلے جذبات سے دیکھنے لگا۔ اس کا دل دھک دھک کررہا تھا مگر وہ بھی کوئی بھولا یا بیوقوف نہ تھا۔ اس نے اپنے جذبات کو خاصا چھپایا جو اسے اطالوی کی حرص کا شکار بناسکتے تھے۔ اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس نے سگریٹوں کا ایک ڈبہ نکالا اور جیکٹ لینے کے سے انداز میں اپنا بازو دراز کیا جس پر سپاہی ناخوش ہوا۔
    ”جیکٹ کے عوض بس ایک ڈبہ؟ مجھے دس ڈبے دو۔”
    سپاہی نے ناراض ہوتے ہوئے شور مچایا۔
    اس پر گاہشا چونکا اور ذرا پیچھے ہٹ گیا۔ اس کی تمنا قدرے مرجھا گئی۔ وہ دوبارہ پلٹنے ہی والا تھا کہ سپاہی بلند آواز سے کہنے لگا:
    ”مجھے معقول تعداد میں ڈبے دو، نو یا دس۔”
    نوجوان گاہشانے ڈھٹائی سے سرہلا دیا۔
    ”چلو سات سہی۔”
    سپاہی کی آواز آئی۔
    گاہشا نے دوبارہ اپنا سر ہلایا اور یوں ظاہر کیا جیسے وہ چلے جانے کا ارادہ کررہا ہے۔ سپاہی بولا کہ:
    ”میں چھے میں راضی ہوں۔”
    پھر وہ پانچ پر آگیا۔ گاہشا ہاتھ کے اشارے سے اسے مایوسی کا عندیہ دیتے ہوئے ایک نشست کی طرف آیا اور وہاں بیٹھ گیا۔
    ”ادھر آؤ، چلو چار ہی منظور ہیں مجھے!”
    دیوانہ سپاہی چلایا۔ گاہشا نے کوئی توجہ نہ دی اور صرف دکھانے کے لیے کہ وہ اس صورت حال سے کس قدر غیر متعلق ہے، اس نے ایک سگریٹ سلگایا اور نہایت سکون سے دھواں چھوڑنے لگا۔ سپاہی شدید غصے میں آگیا اور مکمل طور پر بے قابو ہو گیا۔ ایسے لگتا تھا جیسے سگریٹ کا حصول اس کے جینے کا واحد مقصد تھا۔ وہ اپنا مطالبہ پہلے تین اور پھر دو ڈبوں تک لے آیا۔
    گاہشا اپنی نشست پر جما رہا۔ اس کے جذبے اس کے اندر تپ رہے تھے اور جیکٹ کی تمنا اسے چرکے لگا رہی تھی۔ اس وقت بھی اس نے اپنے آپ پر قابو رکھا۔ جب سپاہی دو ڈبوں پر آیا تو گاہشا نے غیرارادی طور پر خفیف سی جنبش کی جسے سپاہی بھی بھانپ گیا۔
    ”آؤ بھی!”
    سپاہی نے اس کی طرف اپنی جیکٹ اچھالتے ہوئے کہا۔ گاہشانے دیکھا کہ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اٹھے، ٹرین تک جائے، جیکٹ پکڑے اور دو ڈبے سپاہی کو تھما دے۔ اس نے بے پایاں مسرت و اطمینان سے جیکٹ پر نگاہ ڈالی۔ اس کے ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ ظاہر ہوئی۔ اس نے اپنا خوانچہ ایک جگہ پر رکھا، جیکٹ پہنی اور بٹن بند کیے۔ جیکٹ اس کے بدن پر بہت بڑی تھی مگر اس نے اس کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا۔ وہ اپنے آپ پر بہت فخر اور خوشی محسوس کررہا تھا۔
    اس نے اپنا خوانچہ اٹھایا اور فاخرانہ مسرت سے پلیٹ فارم کے ساتھ ساتھ چل پڑا۔ وہ چشم تصور سے، حجاب اوڑھے ہوئے بنا دیہ کی تصویر دیکھ رہا تھا۔
    ”کاش وہ اس وقت مجھے دیکھ سکتی۔”
    وہ زیر لب بولا۔
    ”ہاں حقیقتاً اب وہ مجھ سے گریز نہیں کرے گی یا حقارت سے منہ نہیں پھیرے گی۔ اب الغور بھی مجھ میں کوئی ایسی کمی نہ پاسکے گا جس کی بنا پر وہ شیخی بگھار سکے۔”
    معاً اس کو یاد آیا کہ الغور صرف جیکٹ نہیں بلکہ مکمل سوٹ پہنتا ہے۔ اس نے لمحہ سوچا کہ اب وہ ایک پتلون کیسے حاصل کرسکتا ہے؟ اور پھر جنگی قیدیوں کے سروں کی جانب معنی خیز نظروں سے دیکھا جو کھڑکیوں میں سے باہر نکلے ہوئے تھے۔ تمنا ایک بار پھر اس کے دل میں مچل اٹھی اور پرسکون ہوتے ہوتے اس نے جو شیلا ہونا شروع کردیا۔ وہ گاڑی کی سمت دوڑ پڑا۔
    ”سگریٹ، سگریٹ… ایک پتلون کے بدلے میں ایک ڈبہ!”
    وہ سرعت سے پکارنے لگا۔ اس نے مکرر اور سہ مکرر آواز لگائی۔
    اسے خدشہ ہوا کہ سپاہی اس کا مطلب نہیں سمجھ پائے۔ لہٰذا اس نے پہنی ہوئی جیکٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سگریٹوں کا ایک ڈبہ دکھایا جس نے مطلوبہ تاثر پیدا کیا۔ ایک سپاہی نے لمحہ بھر بھی ترددنہ کیا اور اپنی جیکٹ اتارنی شروع کردی۔ گاہشا اس کی جانب تیزی سے لپکا اور اسے رکنے کو کہا۔ اس نے اس کی پتلون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کیا چاہتا ہے؟ اس پر سپاہی نے اپنے کندھے مچکائے گویا اسے اپنی پتلون کی کوئی خاص پروا نہ تھی۔ سو اس نے اپنی پتلون اتار دی اور لین دین مکمل ہوگیا۔ گاہشا نے اس کے قریب کھڑے کھڑے نہایت سرخوشی کے عالم میں پتلون پکڑی۔ وہ اپنی سیٹ پر واپس گیا اور پتلون پہننے لگا۔ ایک منٹ سے بھی کم وقفے میں فارغ ہوکر وہ مکمل اطالوی سپاہی بن گیا۔
    ”کیا اب بھی کوئی کمی ہے؟”
    اسے استعجاب ہوا۔
    بدقسمتی سے قیدیوں نے اپنے سر ترکی ٹوپیوں سے نہیں ڈھکے ہوئے تھے، مگر ان کے پیروں میں جوتے ضرور تھے۔ اسے جوتے بھی درکار تھے تاکہ وہ الغور کی برابری کرسکے جو اس کی زندگی اجاڑ رہا تھا۔ اس نے اپنا خوانچہ پھر اٹھایا اور جلدی جلدی ٹرین کی طرف چل دیا۔
    ”سگریٹ… جوتوں کے جوڑے کے عوض ایک ڈبہ!”
    وہ زور زور سے چلانے لگا۔ اس نے اپنی بات سمجھانے کے لیے اسی طرح کے اشارے کیے جس طرح کے وہ پہلے کر چکا تھا۔ مگر قبل اس کے کہ اسے نیا خیردار ملتا، گاڑی کی روانگی کی سیٹی بج گئی۔ اس پر گارڈ کے کام میں ایک برق رفتاری سی پیدا ہوگئی۔ اسٹیشن کے کچھ حصے اندھیرے میں ڈوبنے لگے اور رات کے پرندے ہوا میں پھڑ پھڑانے لگے۔
    گاہشا اپنی آنکھوں میں اداسی اور غصہ لیے دل برداشتہ کھڑا تھا۔ جونہی گاڑی کو حرکت ہوئی، اگلی بوگی میں بیٹھے ایک گارڈ نے اسے دیکھ لیا جو بڑے غضب میں دکھائی دے رہا تھا اور اس سے پہلے انگریزی اور پھر اطالوی میں برس پڑا۔
    ”اوقیدی کے بچے! فوراً گاڑی کے اندر آ!”
    وہ گارڈ چلایا۔
    گاہشا کچھ نہ سمجھا جو وہ کہہ رہا تھا اور اسے ایسے لگا جیسے وہ شخص اپنی بھڑاس نکال رہا تھا، سو اس نے گارڈ کی نقل اتارنی شروع کردی اور اس کا منہ چڑانے لگا۔ اسے اطمینان تھا کہ گارڈ اتنی دور ہے کہ اسے پکڑ نہیں سکتا۔ گاڑی جب دور ہونے لگی تو گارڈ اس پر پھر چلایا:
    ”گاڑی میں سوار ہوجاؤ… میں تمہیں تنبیہ کرتا ہوں کہ فوراً گاڑی میں آجاؤ!”
    گارڈ چیخا۔
    گاہشا نے حقارت سے اپنے ہونٹ بھینچے اور گارڈ کی طرف سے رخ موڑ لیا۔ وہ رخصت ہونے والا تھا کہ گارڈ نے دھمکی کے سے انداز میں اپنی مٹھی بند کی اور پھر رائفل کا رخ نوجوان کی طرف کرکے گولی داغ دی۔ بہرا کردینے والا ایک فائر گونجا اور اس کے پیچھے درد کی ایک چیخ۔ گاہشا جہاں کھڑا تھا، وہیں اس کا وجود مصلوب ہوگیا۔ خوانچہ اس کے ہاتھ سے گر پڑا، سگریٹوں اور ماچسوں کے ڈبے پلیٹ فارم پر بکھر گئے۔
    گاہشا منہ کے بل لڑھک گیا کہ وہ اب ایک بے جان لاشہ تھا۔
    ٭…٭…٭




  • دیوانی — عطیہ خالد

    دیوانی — عطیہ خالد

    ”معطر دیوانی ہو گئی۔” بات صرف گھر سے نہیں نکلی تھی بلکہ کوٹھے چڑھ گئی تھی۔بہ ظاہر افسوس اور ہمدردی کے رنگ میں دُہرا یا جانے والا جملہ ‘معطر دیوانی ہو گئی، کسی قدر لذید اور چٹخارے دار تھا۔یہ تو کوئی ان ہمسایوں اور رشتہ داروں سے پوچھتا جن کا اٹھتے بیٹھتے آج کل یہ ‘جملہ’دہرانا کام تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”معطر صادق ولد صادق احمد آپ کو اپنا نکاح ہمراہ حزیم شاہد ولد شاہد احمد ایک لاکھ روپیہ مہر معجل سکہ رائج الوقت قبول ہے۔”
    ”قبول ہے، قبول ہے،قبول ہے۔”
    دن رات کی بے شمار ساعتوں میں لاتعداد مرتبہ اس خوبصورت قبولیت کا اقرار ہوتا ہے۔بس ایک دھن ،ایک سمت،صرف ایک خیال،ایک لگن… یہ عشق ہے۔سربستہ راز عشق۔
    کہنیوں تک سرخ و سبز چوڑیاں پہنے،بیلے اور موتیے کے گجرے سجائے، مہندی رچائے،سرخ لہنگا،سنہری اوڑھنی،زیورات اور حیاکے بار سے جھکی ہوئی معطر۔
    ٭…٭…٭
    ”ہمارا رب ایک ہے،ہماراخالق،ہمارا رازق ،ہمارا مالک،ہمارا حقیقی رشتہ اسی سے ہے۔ ہماری روحوں کا پیوند اسی سے ہے۔”
    ”باقی سب فانی۔دوام بس اس کی ذات کو ہے۔”قاعدے کا پہلا نقطہ پڑھاتے ہوئے دادی نے پہلا سبق دیا تھا معطر کو۔گھور سیاہ آنکھوں کوپھیلائے حیرانی سے معطر نے یہ سبق سنا اور دل و دماغ میں بٹھا لیا۔ دادی اٹھتے بیٹھتے یہ بات معطر کے کانوں میں ڈالتی تھیں۔وہ جانتی تھیں کہ کچی عمر کا نقش بڑا پائیدار ہوتا ہے۔حرف بہ حرف کندہ ہو جاتا ہے اس عمر میں۔ معطر دو بھائیوں سے بڑ ی تھی۔ دادی کی لاڈلی۔ صادق حسین کپڑوں کی مل میں سپر وائزر تھے۔بیوی اور ماں دونوں جی بھر کے سگھڑ تھیں۔ گزر بسر اچھی ہو جاتی تھی۔
    معطر اسکول جانے لگی تھی۔ نیلی قمیص سفید شلوار میں بالوں کی کس کس کر دو چوٹیاں بنائے اپنی بڑی بڑی حیران آنکھوں سے دنیا کو دیکھتی،اپنے ہم عمر بچوں سے با لکل مختلف نظر آتی تھی۔ یوں جیسے اس کے ننھے سے وجود میں کوئی بوڑھا وجود قید ہو۔اسے دوسری بچیوں کی طرح کھلونوں،گڑیوں سے کھیلنے سے بالکل رغبت نہ تھی۔اس کو تو بس اپنی دادی کی صحبت میں مزہ آتا تھا۔دادی کی کہی ہوئی باتوں کو دل ہی دل میں دہراتی معطر نے ان کے پیچھے پیچھے گھومتے ہوئے بہت جلد وہ سارے کام سیکھ لیے تھے جو وہ کرتی تھیں۔
    ٭…٭…٭




    حنا و عطر کی خوشبوؤں میں بس رہا ہے اس کا صندلیں وجود،سیاہ آنکھوں پر گھنی پلکوں کی باڑھ لرز رہی ہے،سرخ یاقوت سے لب کپکپا رہے ہیں۔کسی نے گھونگٹ آگے تک کھینچ دیا۔
    ”معطر صادق بنت صادق احمد آپ کو اپنا نکاح حزیم شاہد ولد شاہد احمد سے قبول ہے؟”
    خوب صورت سعید ساعت ہے۔ نہ جانے کیوں یہ لوگ دیر کر رہے ہیں ۔ہلکی ہلکی آوازیں ماحول سے مختلف کیوں ہیں؟ سب کچھ طے ہے۔ایجاب و قبول بھی ہو چکا۔ کب ابا اس کا ہاتھ حزیم کے ہاتھ میںتھمائیں گے۔ وہ بھی کتنا بے قرار ہو گا دل ہی دل میں۔ مسکراہٹ جدا نہیں ہوتی معطر کے لبوں سے۔
    ”اے دیوانی!کب سے آوازیں دے رہی ہوں ۔چھت پر سے اتارکر لے آکپڑے۔تیرے ابا آنے والے ہیں۔”
    ”معطر ہے میرا نا م دادی دیوانی نہیں ۔لا رہی ہوں کپڑے۔”
    ”اے ہاں مجھے کیوں بھولے گا تیرا نام۔میں نے ہی تو رکھا تھا۔” ان کی آواز لرز گئی۔ گہری سانس بھر کر آنگن میں چلی آئیں۔جہاں صادق احمد آکر بیٹھ چکے تھے۔
    ٭…٭…٭
    آنگن میں بچھی چارپائیوں پر پنکھے کے آگے پہلی چارپائی پر معطر سورہی تھی۔ وہ سوتے میں بھی مسکرا رہی تھی۔
    سب کے سو جانے کی تسلی کر کے دادی بولیں۔ ”صادق احمد معطر کی بے چینی دیکھی نہیں جاتی۔”
    ”جی اماں!” وہ ٹھنڈی سانس کھینچ کر چپ ہو رہے تھے۔
    ”تم کچھ کرو اس کے لیے۔ کیا ساری عمر اس ناہنجار کے نام پر بٹھائے رکھو گے۔ ایک بار شادی ہو جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ابھی بھی خرابی کہاں ہے۔بس!”ان کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔
    ”اماں آپ معطر کی فکر چھوڑ کیوں نہیں دیتیں۔آپ ہی کی فکروں نے یہ دن دکھایا ہے۔” فاطمہ سوئی نہیں تھی۔
    ”تم خاموش رہو فاطمہ۔” صادق احمد نے انہیں ٹوک دیا۔
    ”کیوں خاموش رہوں۔غلط کہتی ہوں؟”نہ اماں پوتے کی محبت میں اندھی ہو کر میری بچی کے کانوں میں بچپن سے یہ بات ڈالتیں نہ یوں میری بچی دیوانی ہوتی۔”غم و غصے سے فاطمہ کی آواز رندھی ہوئی تھی۔
    دادی کا قصور اتنا تھا کہ دادی نے ”ایک اللہ ہمارا حقیقی دوست” کا سبق پڑھانے کے ساتھ ساتھ معطر کو سمجھا دیا تھا کہ اس دنیا میں اس کا نا خدا حزیم شاہد ہے جو کہ معطر کے تایا کا بیٹا تھا۔دو ہی بھائی تھے صادق احمد اور شاہد احمد۔صادق احمد چھوٹے تھے ان کے تین بچے تھے۔فراز،ارسلان اور معطر۔ بڑے شاہد احمد کا ایک ہی بیٹا تھا ”حزیم احمد” معطر کی پیدائش پر تایا اور دادی دونوں نے کہہ دیا تھا کہ معطر ‘حزیم’ کی دولہن بنے گی۔ معطر نے جہاں دادی کی دیگر باتوں کو دل و دماغ میں بٹھایا وہاں حزیم کی دولہن بننے کی بات بھی اپنے دل کے نہاں خانوں میں گاڑلی تھی۔
    حزیم نے ایم بی اے مکمل کر نے کے بعد آسڑیلیا جانے کا فیصلہ کیا تو دونوں گھروں نے معطر اور اس کے نکاح کا پرو گرام بنالیا۔سب سے بڑھ کر دادی کی خواہش تھی کہ حزیم نکاح کے بعد آسٹریلیا جائے۔چند دنوں میں نکاح کی تیاری کر لی گئی اور وہ سعید اور روپہلی سی ساعت سات اکتوبر کی شام معطر کے آنگن میں اتر آئی۔
    ایجاب و قبول کے بعد حزیم نے دادی کو بلا کر کہا کہ وہ چاہتا ہے کہ نکاح کے ساتھ رخصتی بھی کر دی جائے۔ بات کوئی ایسی نا جائز نہ تھی مگر پریشان کن ضرور تھی۔ معطر کے والدین نے اس حوالے سے کوئی تیاری نہیں کی ہوئی تھی۔ لیکن حزیم نے رخصتی پر بے حد اصرار کیا تو صادق احمد کو غصہ آگیا۔ انہوں نے انکا ر کر دیا۔ بات دونوں کے والدین سے نکل کر دیگر مدعو رشتہ داروں میں پھیل گئی۔ بیشتر نے یہی مشورہ دیا کہ ساتھ ہی رخصتی کر دی جائے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ مگر صادق احمد تیار نہ ہوئے۔ بات نے سنگین صورت اختیار کرلی۔ صادق احمد نے اس کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا اور جہاں انا ڈیرے ڈال لے وہاں سے خوشی اور امید اٹھ جاتی ہے۔معطر کی امی فاطمہ نے معاملہ فہمی سے کام لیتے ہوئے صادق احمد کو بہت سمجھایا کہ نکاح ہو چکا ہے اب رخصتی کر دینی چاہیے۔ اب معطر حزیم کی بیوی ہے وہ اس کو ساتھ لے جانے کا اختیار رکھتا ہے۔ رخصتی کی الگ تقریب ایک معاشرتی تقریب ضرور ہے لیکن شرعی لحاظ سے اصل چیز نکاح ہی ہے۔لیکن صادق احمد کی ‘نہ’ ‘ہاں’ میں نہیں بدلی۔ مدعو مہمانوں نے بھی سمجھانے کی بہت کوشش کی، لیکن صادق احمدنے اپنی ضد نہ چھوڑی تو دوسری طرف حزیم بھی اڑا رہا کہ وہ رخصتی آج کروائے گا یا کبھی نہیں۔
    روپہلی شام نے تاریک اوڑھنی اوڑھ لی۔ رنگ،خوشبو،گیت سب خاموش ہو گئے۔دو مردوں کی ناعاقبت اندیش ضد سے ایک معصوم لڑکی کی زندگی کے سارے رنگ اڑ گئے۔ حزیم اور اس کے گھر والے بد دل ہو کر لوٹ گئے۔ حیران حیران معطر نے دادی کے کہنے پر زیور اتار دیے، کپڑ ے بدل لیے مگر اس کا ذہن اس حادثے کو قبول نہ کر سکا۔نہ وہ روئی ،نہ چلائی ،نہ کوئی شکوہ کیا نہ شکایت کی۔بس اس کی روح اس ساعت میں قید ہو گئی۔ وہ اپنی دنیا میں مگن ہو گئی جس میں اس کا دولہا،اس کا حزیم اس کے ساتھ تھا۔
    دادی کہتیں، معطر آٹا گوندھ دو۔وہ آٹا گوندھتی مسکرائے جاتی۔دادی پراٹھے بنانے کو کہتیں وہ گرم خستہ پراٹھے اتارتی چلی جاتی،یہاں تک کہ ان کو کہنا پڑتا۔ ”بس کردو معطر سب نے ناشتا کر لیااب یہ پراٹھا تم لے لو۔”
    وہ اپنا پراٹھا لے کر بیٹھتی تو جیسے سامنے موجود وجود سے زیر لب باتیں کیے جاتی۔ اماں کی آواز واپس کھینچ لاتی تو دوسرے کام میں منہمک ہو جاتی۔
    معطر کی سب سنگی،ساتھی بیاہی گئیں۔بچوں والیاں ہو گئیں۔ دونوں چھوٹے بھائیوں کی بھی شادیاں ہو گئیں۔ دولہنیں گھر آگئیں لیکن معطر کو کوئی فرق نہ پڑا۔ بڑے فراز کے گھر پلوٹھی کا بیٹا ہوا، تو جیسے معطر کے ہاتھ کھلونا آگیا۔ دن رات اسے اٹھائے، زیر لب باتیں کیے جاتی۔ بچے کی ماں کو دھڑ کا لگا رہتا دیوانی کہیں گرانہ دے،کہیں کچھ کر نہ بیٹھے مگر وہ بڑی سمجھ داری سے اسے سنبھالتی۔دھیرے دھیرے خود کلامی بڑھ رہی تھی۔گلی محلے والے، گھر والے ،رشتہ دار اور دور دراز رہنے والے سبھی رشتہ داروں کو خبر ہو گئی کہ معطر دیوانی ہو گئی ہے۔اپنے آپ سے باتیں کرتی ہے۔ہمارے معاشرے میں تو ایسی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی ہے ۔لوگوں کے ہاتھ بات کا نیا موضوع تھا۔
    ٭…٭…٭




  • آخری کیس — اعتزاز سلیم وصلی

    آخری کیس — اعتزاز سلیم وصلی

    ایف آئی اے کی سائبر کرائم برانچ کے انچارج اس وقت میری ”عزت افزائی” کرنے میں مصروف تھے۔ میں خاموش کھڑا سر جھکائے سنتا رہا ا ور وہ بدستور اس نیک کام میں لگے ہوئے تھے۔
    ”شاہ زیب تم اس برانچ میں غلطی سے آ گئے ہو اور کس گدھے نے تمہیں مشورہ دیا تھا کہ سائبر کرائم سیل میں آ جاؤ۔”مجھے یاد تھا، جب میں ایف آئی اے میں تھاتب جناب نے ہی مجھے سائبر کرائم سیل کا نہ صرف مشورہ دیا بلکہ خاص طور پر میری سفارش کرکے مجھے اس سیل میں لے آئے تھے مگر اب انہیں یاد کروا کے اپنی اس بے عزتی میں ممکنہ طور پر اضافہ ہی کروا سکتا تھا اس لیے خاموش رہا۔
    ”پچھلے ایک ماہ میں تمہیں تین کیس سونپے گئے۔ پہلے کیس میں جناب نے مجرم کو پکڑا مگر ثبوت اکٹھے نہیں کر سکے ۔ دوسرے کیس میں پتا ہی نہیں چلا کہ ہیکر کس ملک کا تھا اور تیسرے کیس میں جو آپ نے کمال دکھایا ،وہ یقینا یاد ہو گا؟”سعید صاحب کے حافظے پر مجھے رشک آتا تھا۔ انہیں میری بے عزتی والے کیس مجھ سے زیادہ یاد تھے کیوں کہ انہوں نے ہی میری بے عزتی کی ہوتی تھی۔
    ”نہیں سر ،مجھے بھول گیا۔” میں نے بے بسی سے ان کی طرف دیکھا۔
    ”اس کیس میں جناب نے لڑکی کو ہی گناہ گار قرار دے دیا تھااور الزام یہ لگایا کہ لڑکی نے بلیک میلر کو و یڈیو دی ہی کیوں جس سے بلیک میلر اسے بلیک میل کر سکا۔”ان کی نیلی آنکھیں مجھے گھور رہی تھیں اور میں آنکھوں میں بھرے غصے کو محسوس کرنے کے بہ جائے یہ سوچ رہا تھا کہ سر کی آنکھیں کچھ کچھ ایشوریہ رائے سے ملتی ہیں۔
    ”شاہ زیب صاحب!”انہوں نے ہاتھ میرے آگے لہرایا۔
    ”کہاں کھو گئے؟”
    ”کہیں نہیں سر۔”میں نے چونک کر ان کی آنکھوں سے نظریں ہٹائیں۔
    ”تو جواب دیں میری بات کا۔”




    ”سر پہلے دو کیسز کی وضاحت میں دے چکا ہوں۔مجرم کے خلاف ثبوت نامکمل تھے اس لیے تین سال قید کی بجائے صرف کچھ جرمانہ ہی ہوا اور دوسرے کیس کی انویسٹی گیشن آپ نے خود کی تھی۔ بینکوں سے پیسے چرانے والا ہیکر پاکستانی ہی تھا، مگر ہمارے گرفتار کرنے سے پہلے بھاگ گیا۔تیسرے کیس کی وضاحت اب دیتا ہوں بلکہ کچھ دکھاتا ہوں۔” یہ کہتے ہوئے میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور اپنا سیل فون نکال کر فیس بک آن کی۔یہاں ایک پیج پر آکر میری انگلیاں رک گئیں۔
    ”یہ دیکھیں سر! وہ لڑکی جو اس دن بلیک میلر کی وجہ سے یہاں آئی تھی اس کا اپنا پیج ہے اور اب تک اس پیج کی بیس سے زائد رپورٹس آ چکی ہیں جن میں یہ شکایت کی گئی ہے کہ لڑکی اپنی اخلاق سے گری ہوئی ویڈیو اپ لوڈ کررہی ہے۔آئی ٹی سیل والے اس پیج کو بلاک کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں ۔سر میں نے تب بھی آپ کو بتایا تھا کہ یہ لڑکی صرف شہرت کے لیے ہمارے پاس آئی ہے کیوں کہ سائبر کیسز پر میڈیا کی نظر جمی ہوتی ہے اور پانچ منٹ کے اندر اس لڑکی کو بیس نیوز چینل نے اپنے شوز میں شرکت کرنے کی دعوت دی تھی۔” میں نے انہیں مزید تفصیل بتائی۔ان کے چہرے کے تاثرات میں نرمی دکھائی دی۔
    ”بہرحال آپ ابھی تک ناکام ہی ہوئے ہیں ہمارے سیل میں۔اب میں مزید ناکامی برداشت نہیں کروں گا۔ آپ کے پاس جتنے کیس ہیں جلد از جلد حل کریں۔ اب آپ جا سکتے ہیں۔” دوسرے الفاظ میں انہوں نے مجھے نظروں کے سامنے سے دفع ہو جانے کا کہہ دیا تھا۔میں نے واپس اپنے روم میں آکر ٹھنڈا پانی پیا اور بے عزتی ہضم کی۔اس وقت میرے دماغ میں سوچیں یوسین بولٹ بنی ہوئی تھیں۔
    ٭…٭…٭
    ایف آئی اے جوائن کرنا میرا خواب نہیں تھا۔ ماں باپ کی ایک ایکسیڈنٹ میں موت کے بعد چچی اور چچانے مجھے پالا ۔ ان کاایک ہی بیٹا تھا۔ شہریار جس سے میری کبھی نہیں بنی۔ مجھ سے دو سال بڑا تھا اور جب بھی موقع ملتا اپنا باکسنگ کا شوق مجھ پر پورا کرتا۔ زندگی کے پہلے پندرہ سال شہریار کے اس شوق کی وجہ سے میرا ناک اکثر پھولا رہتا تھا اور چہرے پر بھی چند نشان لازمی ہوتے۔پندرہ سال بعد مجھے پتا چلا کہ شہریار کو بھی مارا جا سکتا ہے۔ وہ اس طرح کے انگلش فلم دیکھنے کے بعد اچانک شہریار نے مجھ پر حملہ کردیا اور دو تین سخت ہاتھ مارے، مگر اچانک مجھے بھی ہیرو والا جوش چڑھا اور میں نے بھی اچھل کر اسے فلائنگ کک ماری جس کے نتیجے میں اس کے منہ سے خون جاری ہو گیا۔ چچی نے اس رات پانی والے پائپ سے مجھے اس طرح مارا کہ میں ساری رات سو نہ سکا۔ اس رات مجھے یقین ہو گیا کہ چچا چچی کے گھر میری اہمیت تب ہی ہے جب میں کچھ کروں گا اس گھر کے لیے۔ شہریار ان کا بیٹا تھا اور اس کو مارنا میرا جرم۔ اس رات امی ابو کی بھی یاد آتی رہی۔ وقت نے اُر ڑان بھری۔ ہم بڑے ہوگئے مگر ہماری کبھی دوستی نہ ہو سکی۔ ایک عجیب طرح کی نفرت ہمیں ایک دوسرے سے تھی۔ چچی اور چچا اپنی سگی اولاد کے حق میں ہوتے اور میں ہر بار مجرم ٹھہرایا جاتا۔میں اور شہریار نے کمپیوٹر میں ماسٹرز کیا تھا۔ وہ ملک سے باہر چلا گیا۔ چچا اور چچی صرف تین ماہ کے وقفے سے مجھ سے بچھڑ گئے۔چچا کو پھیپھڑوں کا کینسرہوگیا اور چچی دل کی مریضہ تھیں۔ اس دوران شہریار صرف چند دن کے لیے آیا اور دوبارہ جرمنی چلاگیا۔ میرے روکنے کے باوجود وہ نہیں رکا۔ میں ملازمت کی تلاش میں تھا کہ اچانک ایف آئی اے میں جابز آئیں اور میں نے اپلائی کردیا۔خوش قسمتی سے مجھے سلیکٹ کر لیا گیا۔ ابھی ایف آئی اے میں ایک سال ہوا تھا کہ سائبر کرائم سیل میں انچارج صاحب کی سفارش پر مجھے بھیج دیا گیا۔ ان دنوں سائبر کرائم سیل نیا نیا بنا تھا اور بہت کم کیس آتے تھے۔ہم سارا دن فارغ بیٹھ کر فیس بک، واٹس ایپ، سنیپ چیٹ اور ٹوئٹر پر مذہبی فرقہ واریت پھیلانے والے پیجز بلاک کیا کرتے تھے۔صرف دوسال میں پاکستان میں سوشل میڈیا کے یوزرز نے طوفان مچا دیا۔ چند لاکھ لوگوں سے اچانک ہی یہ تعداد چوالیس ملین ہوگئی۔ تعداد کے ساتھ حسب توقع جرائم میں اضافہ ہو گیا۔ اس سال تقریباً سات ہزار کیس ہمارے سیل کو حل کرنا پڑے۔ میرا کام بلیک میلنگ کا نشانہ بننے والی لڑکیاں اور ہیکرز کا سراغ لگانا تھا۔شروع میں مجھے کامیابی ملی مگر مسئلہ تب بنا جب مجھے اپنی نیچر کے خلاف کام کرنا پڑا۔یہ کام لڑکیوں سے مل کر ان کے بلیک میلنگ کے قصے سننا تھا۔یہاں ہر روز ایک نئی کہانی میری منتظر ہوتی۔ پتا نہیں ہمارے ملک میں کیا مسئلہ ہے کہ نوجوان نسل عجیب راستے پر چل پڑی ہے۔ تسکین اور لذت کے حصول کے لیے، گھر سے آزاد یہ لوگ سارا دن فیس بک اور ٹوئٹر پر مخالف جنس کے پیچھے ہوتے ہیں۔ اخلاق سے گری ہوئی ویڈیو کالز، پکس اور وڈیوز… اور بریک اپ ہونے کے بعد یہ چیزیں مختلف ویب سائٹس کو بیچ دی جاتیں جس سے لڑکی کی بدنامی ہوتی۔ مجھے غصہ تب چڑھتا جب کوئی ایسی لڑکی جو پہلے ایسے الٹے سیدھے کام کر چکی ہو ،میرے پاس آکرروتی کہ:
    ”ہائے جی میں تو ‘مشوم’تھی اس شکاری نے مجھے جال میں پھنسا لیا۔” ایسی ‘مشوم’کو شرم دلانے کیلئے بار بار کہتا۔
    ”تمہیں شرم نہیں آئی؟ تمہارے ساتھ تمہارے ماں باپ، تمہارے بھائیوں کی عزت ہے اور تم ایسے کام کرتی ہو۔” اسی وجہ سے میں ناکام ہو گیا۔ لڑکیاں میرے غصے کی وجہ سے اعتبار کم کرتیں اور پوری تفصیل نہ بتاتیں جس کی وجہ سے کیس حل نہ ہو پاتا۔میں مجبور تھا مجھے لڑکا لڑکی برابرکے قصوروار لگتے تھے مگر لڑکے کو سزادی جاتی اور لڑکی کو میڈیا والے سر پر بٹھا لیتے اور ساتھ میں یہ ہیڈ لائنز ہوتیں۔
    ”بہادر لڑکی کا کارنامہ،فیس بک پرلڑکیوں کو بلیک میل کرنے والا پکڑا گیا۔”اور ہر طرف اس بہادر کی ”واہ واہ” ہو جاتی۔ شاید میں جلد سائبر کرائم سے نکالا جاتا اگروہ کیس نہ آتا تو۔
    ٭…٭…٭
    چچا اور چچی کی وفات کے بعد میں نے وہ گھر چھوڑ دیا تھا اور ایف آئی اے کے دفتر کے قریب ہی ایک نئی تعمیر شدہ بلڈنگ میں فلیٹ خرید کر اُس میں رہنے لگا۔ شہریار سے میرا رابطہ نہیں تھا، مگر گھر چھوڑتے وقت میں نے اسے کال کی کہ یہ گھربیچ کر رقم اسے بھیج دیتا ہوں مگر اس نے انکار کردیا اور کہا۔
    ”گھر امی ابو کی نشانی ہے مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں۔ رہنے دو۔ ”میرا شادی کا کوئی پروگرام نہیں تھا بلکہ میں خود کو ذمہ داری سے دور ایک آزاد شخص سمجھتا تھا۔ عمر کی دوڑ اٹھائیس کے ہندسہ عبور کرکے انتیس کے قریب تھی۔ اس دن میں شام کے وقت آفس سے واپس آیا اور کپڑے بدل کر اپنے لیے چائے بنا رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے دروازہ کھولا تو سامنے نقاب پوش ایک لڑکی کھڑی تھی۔ تھوڑی سی حیرت ہوئی کیوں کہ یہ شہر کا پوش ایریا تھا یہاں نقاب جیسی چیزیں کم ہی نظر آتی تھیں۔
    ”جی فرمائیں؟”چہرہ تو میں دیکھ نہیں سکتا تھا البتہ آنکھیں میرے لیے اجنبی تھیں۔
    ”شاہ زیب صاحب آپ ہیں؟سائبر کرائم سیل والے؟”اس نے پوچھا۔
    ”بدقسمتی سے۔”میری آہ نکلی۔
    ”سر مجھے آپ سے کام ہے بہت ضروری۔”
    ”جی اندر آجائیں۔” میں نے اسے راستہ دیا۔وہ اندر آگئی۔ چال ڈھال سے وہ کسی مڈل کلاس کی لگتی تھی۔ وہ بیٹھی تو میں نے اس سے چائے پوچھی مگر اس نے انکار کردیا۔میں نے کچن میں جاکر اپنا کپ اٹھایا اورواپس آکر اسے بولنے کا اشارہ کیا۔
    ”میرا نام صائمہ ہے اور میں یہاں سے اٹھارہ کلومیٹر دور ایک محلے میں رہتی ہوں۔میں تین دن سے ایک ایسے شخص کو ڈھونڈ رہی تھی جو میرا مسئلہ سمجھے اور اسے حل کرے۔”
    ”تو آپ کی یہ نظرِکرم مجھ پر کیوں پڑی؟”میں نے اس کی بات کاٹی۔ اس نے گھورتی نظروں سے مجھے دیکھا۔
    ”میں سائبر کرائم سیل میں شکایت درج کروا کر اپنا تماشا نہیں بنوانا چاہتی۔ وہاں میڈیا والے میرے جیسے کیس ڈھونڈ تے پھر رہے ہیں۔” اس کی بات تقریباًسچ تھی۔
    ”لیکن میں کوئی پرائیویٹ جاسوس نہیں ،اسی سیل کا ملازم ہوں۔ اگر آپ وہاں رپورٹ نہیں کریں گی تو میں کیس کیسے حل کر پاؤں گا؟”
    ”پلیز آپ میری پوری بات سن لیں۔” اس نے منت آمیز لہجے میں مجھے کہا اور میرے چپ ہونے پر دوبارہ شروع ہوں گئی۔
    ”میرا نکاح میرے کزن اسد سے ہو چکا ہے۔ ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی ۔میرے ابو امام مسجد ہیں اور بہت سخت ہیں۔ یہ سیل فون مجھے میرے اسی کزن اسد نے لے دیا تھا ورنہ ابو ایسی چیزیں استعمال نہیں کر نے دیتے۔ اسی نے میرا فیس بک اکاؤنٹ بنایا۔ تقریباًایک ماہ پہلے ایک لڑکی کی فرینڈ ریکویسٹ آئی۔ میں نے قبول کی تواس کے میسج شروع ہو گئے۔مجھے شک ہوا کہ وہ لڑکا ہے مگر اس نے ایک دو وائس کلپ بھیج کر میرا شک دور کردیا۔ اس دوران اس نے مجھے اپنی تصویریں بھیجیں اور مجھے بھی کہا کہ میں بھی بھیجوں۔میں اس پر اعتبار کرتی تھی اور ویسے بھی میری حقیقی زندگی کچھ بورنگ تھی۔ جب سے بی اے کیا ہے میرا گھر سے نکلنا بند ہو چکا ہے۔ ایسے میں فیس بک ہی میرے لیے تفریح کا ذریعہ ہے جہاں طرح طرح کے لوگ اور طرح طرح کی باتیں۔ میں اسے دوست سمجھتی تھی اور میں نے اپنی تصویریں بھیج دیں۔ دو ہفتے پہلے اس نے وہی تصویریں مجھے دکھائیں تو میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ پھر اُس نے مجھ سے پیسے مانگے۔ ساتھ میں دھمکی دی کہ اگر میں نے کسی کو بتایا یا پیسے نہ دیے تو وہ میری تصویریں سب کو دکھا دے گی۔”بات کرتے کرتے اس کی آواز بھرا گئی اور آنکھوں میں نمی آگئی۔اس نے نقاب اتار دیا۔وہ صاف رنگت کی مالک ایک قبول صورت لڑکی تھی۔
    ”اب تک وہ مجھ سے دس ہزار روپے لے چکی ہے۔ یہ وہ پیسے تھے جو میں کئی سال سے اکٹھے کررہی ہوں۔ میں فضول خرچ نہیں اس لیے جو پیسے بھی جیب خرچ ملیں، سنبھال کر رکھ لیتی ہوں۔ میں اپنے خاندان میں کسی کو نہیں بتا سکتی۔ اگر اس نے تصویریں ابو یا اسد کو دکھا دیں تو مجھے جان سے مار ڈالیں گے ۔وہ سب کچھ جانتی ہے میرے بارے میں۔ میں آپ کے پاس چھپ کر یہاں آئی ہوں۔”اس کی بات ختم ہوئی۔
    ”آپ کو میرا پتا کیسے چلا؟”
    ”میں سیل میں شکایت درج کروانا چاہتی تھی مگر میڈیا کے ڈر سے خاموش رہی۔دو دن پہلے میں پکاارادہ کرکے وہاں آئی توآپ کو باہر نکلتے دیکھا۔ میں نے چوکیدار سے آپ کے بارے میں پوچھا، تو اس نے بتایا کہ آپ سیل میں ہیں۔ نہ جانے کیوں آپ پر اعتبار کرنے کا دل کیا اس لیے یہاں چلی آئی۔”اس کی بات سن کر میری ہنسی چھوٹ گئی۔میں سیل کا ناکام ترین انویسٹی گیٹر تھا اور وہ مجھ پر اعتبار کرکے چلی آئی۔مجھے ہنستے دیکھ کر وہ سٹپٹا گئی۔
    ”چلیں مجھے اپنی وہ تصویریں دکھائیں اور ساری چیٹ جو اس کے ساتھ کی ہے وہ بھی۔”
    ”تصویریں میں نہیں دکھا سکتی۔ چیٹ آپ پڑھ لیں۔”اس نے نظریں جھکا لیں۔
    ”دیکھیں مس اگر آپ پوری بات نہیں بتائیں گی، تو میں کیس حل نہیں کر سکوں گا۔ ویسے بھی مجھے اس کام کو خفیہ رکھنا ہے، تو آئی ٹی والوں کو ملوث نہیں کر سکوں گا۔”
    ”میں نے تو تصویریں سادہ سی دی تھیں اس نے پتا نہیں انہیں کیسے برہنہ کردیا۔” وہ شرمندہ لہجے میں بولی اور اپنے سیل فون نکال کرمجھے دیا۔ سب سے پہلے میں نے وہ تصویریں دیکھیں جو اس نے دی تھیں۔ یہ واقعی عام سی تصویریں تھیں مگر جب اس نے وہ تصویریں دکھائیں جس سے بلیک میلر اسے بلیک میل کررہی تھی تو میں حیران رہ گیا۔ یہ کسی ماہر کاکام تھا اور تصویریں اس طرح کامیاب ایڈٹ کی جاچکی تھیں کہ چند لمحوں کے لیے مجھے بھی شک پڑ گیا۔ یہاں یہ تصویریں فحش تھیں۔لڑکی واقعی مشکل میں تھی۔میں نے ایڈٹ کی ہوئی تصویریں اپنے موبائل میں بھیج کر کچھ ویب سائٹس سے انہیں چیک کیا تو فوٹو ایڈیٹر کے کمال کھل کر سامنے آگئے۔میں یہ کر سکتا تھا کیوں کہ میں نے کمپیوٹر میں ماسٹرز کیا تھا، لیکن لڑکی کا خاندان کبھی یقین نہ کرتا۔اس کے بعد میں نے ساری چیٹ پڑھی۔دوسری لڑکی کی تصویریں جعلی اور گوگل سے حاصل کی گئی تھیں جب کہ وائس کلپ بھی وائس چینجر کا کمال تھا۔چند منٹ میں ہی مجھے پتا چل گیا کہ سامنے والی بلیک میلر لڑکی نہیں بلکہ لڑکا ہے۔یہی بات جب میں نے اس لڑکی کو بتائی تو اس کا رنگ زردپڑ گیا۔اس نے لبوں پر زبان پھیری اور ہکلائی۔
    ”وہ…کک کچھ کرے گا تو نہیں؟”
    ”جو کچھ کرنا تھا وہ تو کر لیا اب کیا کہتا ہے؟”
    ”بیس ہزار اور مانگ رہا ہے اور میرے پاس نہیں ہیں اب۔” اس کی آواز میں لرزش تھی۔
    ”میں اسے ٹریس کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔تمہارے پاس کتنا وقت ہے ؟کب تک گھر سے باہر رہ سکتی ہو؟”
    ”میں خالہ کے گھر آئی ہوں یہاں پاس ہی۔ دو تین گھنٹے مزید رک سکتی ہوں۔” اس نے جواب دیا۔میں نے”اوکے”کہہ کر اپنا لیپ ٹاپ اٹھایا اور اس اکاؤنٹ کو ٹریس کرنے کی کوشش کرنے لگا۔”سدرہ خان”کے نام سے بنا یہ اکاؤنٹ صاف جعلی معلوم ہوتا تھا۔ یہ صائمہ کی معصومیت تھی جو دھوکا کھا گئی۔ اس اکاؤنٹ پر مکمل پرائیویسی لگی تھی مگر یہ پرائیویسی توڑنا میرے لیے مشکل نہ تھا۔ میں نے چند سیکنڈ میں ہی اس کا ای میل نکال لیا مگر ای میل ایڈریس دیکھ کر مجھے مایوسی ہوئی۔ یہ بھی ایک عارضی ای میل تھا جو پندرہ منٹ بعد ہی ختم ہو جاتا ہے۔یعنی پندرہ منٹ کے لیے اسے آن لائن استعمال کیا جاسکتا ہے مگر جیسے ہی لاگ آؤٹ کریں یہ خودبہ خود ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے کسی قسم کے نمبر یا ای میل کی رجسٹریشن ضروری نہیں ہوتی۔ محفوظ فیک آئی ڈی بنانے کے لیے یہ آسان راستہ تھا جس میں فیس بک سے اکاؤنٹ بناتے وقت ویری فائی کے لیے استعمال کرکے ختم کیا جا سکتا تھا۔اس کی لوکیشن نکالنا ناممکن کام تھا۔ اس کے بعد میں موبائل کی آئی پی ایڈریس کی کوشش میں لگ گیا، مگر یہاں بھی ناکامی ہوئی۔ بلیک میلر میری توقع سے زیادہ چالاک تھا۔ صائمہ میرے چہرے پر مایوسی دیکھ رہی تھی۔
    ”اس نے پیسے کس طریقے سے حاصل کیے ہیں؟”
    ”دو موبائل نمبر دیے ہیں۔ان کے اکاؤنٹ میں بھیج دیے میں نے۔”اس نے دونوں موبائل نمبر مجھے لکھوائے۔میں نے سائبر کرائم برانچ کے ایک دوست کو کال کی اور اسے دونوں نمبر لکھوا کر ان کی لوکیشن ٹریس کروانے کا کہا۔اس دوران صائمہ اجازت لے کر گھر چلی گئی۔اس کا نمبر اورایڈریس میں نے لے لیا تھا۔اس رات میں بارہ بجے تک اس بلیک میلر کو ٹریس کرنے کی کوشش کرتا رہا مگر ناکامی ہوئی۔ نہ جانے کیوں میرا دل کررہا تھا اس لڑکی کو اکیلا نہ چھوڑوں اس کے لیے کچھ کروں کیوں کہ وہ گناہ گار نہیں تھی بلکہ بے وقوف بنی تھی۔ انسان تنہائی سے گھبرا کر جو راہ فرار اختیار کرتا ہے اگر وہاں بھی پناہ نہ ملے تو جینا یقینامشکل ہو جاتا ہے۔ایسا ہی کچھ صائمہ کے ساتھ ہوا تھا۔
    ٭…٭…٭




  • اسرار — عمارہ جہاں

    اسرار — عمارہ جہاں

    خوشبو کبھی ٹھہر نہیں سکتی۔ وہ لمحہ بہ لمحہ بے چینی سے گھومتی پھیلتی رہتی ہے کیوں کہ اس کی کوکھ میں ایک اسرار ہوتا ہے اور وہ اس اسرار کا پردہ رکھنے کی کوشش میں ہلکان ہوئے جاتی ہے، پھیلتی جاتی ہے اور آواز کی طرح ہوا کے شانہ بہ شانہ چلتی رہتی ہے۔ کیا خوشبو چھپائی جا سکتی ہے؟ کیا آواز دبائی جا سکتی ہے؟ بے شک ہر کردار اپنا اختتام اپنے اعمال کے قلم سے خود لکھتا ہے۔
    ٭…٭…٭
    دہلیز پھلانگنے کی پہلی بنیاد ثما نے رکھی۔ پانچ پھولوں کے درمیان وہ بھی ایک پھول تھی، لیکن کیکر کاپھول۔ بے تحاشا کانٹوں کے ساتھ۔ابا تو گڑ کے بنے تھے تھوڑے سخت لیکن میٹھے، میٹھے۔
    دنیا اپنے خیالات کی لیپا پوتی کرنے میںمصروف ہوتی۔ وہ ہنس کر کہتے۔ میری بیٹیاں ہی بیٹوں جیسی ہیں۔ فرط انبساط سے اُن کا چہرہ سرخ ہو جاتا۔ چند ایک نے تو دوسری شادی کی ترغیب بھی دی۔ ابا اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے رہے۔
    ثما سب سے چھوٹی تھی اور نین نقش جس طرح سب سے الگ تھے ،اسی طرح مزاجاً بھی مختلف تھی۔ بھوری آنکھیں، لمبی مڑی ہوئی پلکوں سے سجی ،سرخ و سپید رنگت،پتلے ہونٹ، گھنگریالے بال، خاموش بیٹھی رہتی تو اس پر گڑیا کا گمان ہوتا۔
    گڑیا جو چابی لگانے سے گھوم گھوم کر بولنے لگ جاتی ہے۔ تو ابا کی گڑیا میں بھی ایک خرابی تھی۔ بنا چابی کے بولے نہ بولے ،بنا اجازت کوئی کچھ کہے تو بے داغ پیشانی شکنوں سے بھر جاتی۔ کچھ خودسر تھی، کچھ ابا کے لاڈ نے بگاڑ دیا تھا ۔چھوٹی عمر میں جب باہر نکلتی تو لوگ اسے پری کہہ کر بلاتے ۔آہستہ آہستہ ارد گرد کے جاننے والے اس کا اصلی نام بھی بھول گئے ۔ اب وہ پری تھی تو پر کیوں نہ نکلتے !
    جیسے جیسے بڑی ہوتی گئی، پر نکلتے گئے۔ اسے اپنے پورے گھر میں واحد چیز جو پسند تھی وہ صنوبر کا درخت تھا، جو داخلی دروازے کے ساتھ ایک شان سے کھڑا تھا۔ ثما بچپن سے اسے ایسے ہی دیکھتی آئی تھی۔ وہی شان اور وہی استقامت، اپنی مخصوص خوشبو کے ساتھ یوں اپنے شاخیں پھیلائے رکھتا جیسے ثما کو اپنے پروں میں چھپانا چاہتاہو ۔ثما کو بھی وہ بے حد پسند تھا۔وہ اکثر رات کو اس کے نیچے بیٹھ جایا کرتی۔ اس کی خوشبو سے اسے عشق تھا۔ ثماکے ساتھ خوشبو گھر بھر میں گھومتی رہتی ،وہ اس کے گرد طواف میں رہتی تھی۔ پر صنوبر کے پہلو میں زنگ آلود دروازے سے اسے سخت نفرت تھی۔کیونکہ وہ ہر آنے جانے والے پر پورا منہ پھاڑ کے شور مچاتا تھا، جیسے سب کو بتانا چاہتا ہے کہ کون آیا اورکون گیا۔
    وہ راز رکھنے کا قائل نہ تھا۔ آنے جانے والوں پر کڑی نظر رکھتا ،ذرا جو کوئی دھیرے سے گھر میں داخل ہونا چاہتا، وہ چھنگاڑ ،چھنگاڑ کر اپنے کواڑ کو غصے سے پٹخ، پٹخ کر پورے محلے کو بتا دیتا۔ یوں ثما کو داخلی دروازے کی آواز سے نفرت تھی۔ وہ ان نفرت اور محبت کے دوسانچوں کے درمیان بڑی ہو گئی ،اتنی بڑی کہ اڑنے ہی لگی۔
    بات بات پر اسے اپنے گھر، ماحول اور حالات پر اعتراضات ہونے لگتے۔ اماں سمجھاتے سمجھاتے چڑ گئی۔ ابا ہمیشہ اسے بہلاتے رہتے۔
    ٭…٭…٭





    پری سنتے سنتے اس نے آخر ایک دن سچ مچ اڑنے کی ٹھان لی۔ پتا نہیں کون دیو اُسے اڑا کے لے گیا بلکہ اڑا کے کیا لے گیا۔ پری خود چلی گئی۔ اس رات پورے اہتمام کے ساتھ، اس نے ایک دن پہلے دروازے کی چٹخنی کو تیل میں بھگویا تاکہ رات کو شور نہ کرسکے ۔ وہ ہکا بکا اسے دیکھتا رہ گیا۔
    رات کوجب ساری دنیا چپ تھی ۔دروازہ بھی چپ تھا تب وہ دھیرے سے نکل گئی اور کیا پتا اس وقت لمحات نے دن سے منتیں بھی کی ہوں گی۔ دن سے کہا ہوگا:
    ”رک جا۔ رک جا ورنہ… ہمیشہ کے لیے رات آئے گی۔” سب بے کار رہا۔ صحن میں گھومتی صنوبر کی خوشبو اس کے پیروں پر لوٹنے لگی، لیکن اسے پروا کہاں تھی۔
    زنگ آلود کواڑ شرم سے کٹ کر رہ گئے، جب منہ اندھیرے ایک قدم لرزتا ہوا باہر نکلا اور اندر کے مکینوں کو کالی بجھنگ دنیا میں چھوڑ گیا۔ہو سکتا ہے اس سے پہلے سروں پر پگڑیاں ایک شان سے ہوں، سر اٹھانے والے زیادہ ہوں ،سر جھکانے والے کم۔
    وہ دہلیز ….وہ ہمیشہ کھٹ کھٹ کرتی اس رات خاموش چٹخنی…وہ روشنی کو نگلتی اندھیری رات… اماں کے لیے بعد میں یہ سب ایک خواب بن گیا، ایک بھیانک خواب۔ کون تھا وہ جو ان کے گھر میں نقب لگا گیا؟
    اب یہ سوال بے معنی تھا۔ جب بیٹیاں ہوں تو ماں کو سوتے میں آنکھیں اور کان کھلے رکھنے چاہئیں اور اماں ایک دن سر درد کی گولی کھا کے سو گئی ۔بس ثما نکل لی اسی رات!
    ثما جاتے جاتے بہنوں کی خوشیوں پر تالا لگا گئی۔ پیچھے رہ جانے والی چار بہنیں ایک ایک کر کے ایک سال کے اندر گھر سے نکلتی گئیں۔ چند لوگوں کی موجودگی میں منتشر ہو گئیں۔ اماں کو ان کا خوف پلک جھپکنے نہ دیتا ۔رات کو اٹھ اٹھ کر دروازے کی چٹخنی دیکھتی۔ اب بیٹیوں کا کمرا بند تھا ،چٹخنی سے نہیں تالے سے۔ صبح سات بجے اماں پہلے مرغیوں کا ڈربا کھولتی پھر ان کا کمرا۔ ایک دن اس کمرے سے تالا اٹھایا گیا، جب آخری بیٹی روبا بھی بیاہ کر چلی گئی ۔
    بہت دور ……کیسے لوگ!
    کہاں کے !!
    کون!!!
    کوئی سوال نہیں،اماں نے دہلیز کی عزت رکھی ،قرآن کے سائے میں رکھا ،دروازے کے باہر تک ساتھ گئے واپس آکر چٹخنی چڑھا دی۔
    اور اماں کہتی:”ثما تو بچپن سے بہنوں کے ہاتھ سے چھین کر کھاتی تھی۔ مجھے کیا پتا تھا ان کی خوشیاں بھی چھین کر کھائے گی۔”
    ٭…٭…٭
    مٹی کے سیلن زدہ کمرے میں اماں روز دروازے کو دیکھ کر ساکت رہ جاتی ۔ سیلن زدہ گھر روز بہ روز ڈھنے والا ہوتا جا رہا تھا اور اس کے ساتھ اماں ابا بھی۔ بالوں میں وقت نے چاندی کی تاریں بچھا دیں۔بوڑھے ہو گئے دونوں، لیکن معمول ایک رہا۔ سورج جب جاتے جاتے وقت کے ماتھے پر رات کا ٹیکا لگا جاتا ہے تب…تب وہ دونوں دروازے کی چٹخنی بند کر دیتے ۔ صنوبر کی خوشبو سے معطر اس گھر میں غم کا، دکھ کا دھواں تھا۔ ثما جاتے جاتے عزت کے مزار پر جلتا آخری دیا بھی بجھا گئی تھی۔ اسے پتا تک نہ تھا بلکہ اسے کیا کسی بھی بیٹی کو پتا نہیں ہوتا کہ جب وہ لرزتے قدموں سے ہمیشہ کے لیے چوری چھپے دہلیز پھلانگتی ہے تو اس کے پیچھے دبے پاؤں ”عزت” بھی چلی جا رہی ہوتی ہے اور پھر ایک رات اور ایک دن کے اندر اماں ابا دونوں چلے گئے ۔
    صبح اماں اور شام کو ابا۔ ویران کواڑ ایک دوسرے سے لپٹ کر روئے۔ کیاری میں موتیے کے پھول خوشبو سے ناراض ہو گئے۔ بیٹیوں میں صرف روبا پہنچ گئی اور سپردخاک کر دیا ۔ اماں کو باغی پری کا غم لے گیا اور ابا کو اماں کا غم۔ ابا تو دنیاداری میں کبھی بھولے سے بھی ثما کا نام نہ لیتے،لیکن وقت گواہ ہے اماں کی زبان پر وقت نزع ایک ہی لفظ ”ثما” تھا اورجس کے پاؤں تلے جنت ہو اس کے وجود کا کیا عالم ہوگا !یہ اولاد تب تک نہیں جان سکتی جب تک اُن کی اولاد نہ ہو۔
    ٭…٭…٭
    تیسرے دین ویران گھر میں دیوار کے ساتھ لگی چارپائی کی گانٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے روبا نے سوچا۔ ثما! اس گھر کی ہوا بھی تمہیں بد دعا دیتی ہے جا خوش رہ۔ ٹھہری ہوا نے وقت سے پوچھا۔ تم نے سنا ہے؟ وقت دور اندیش تھا ،چپ چاپ آگے بڑھ گیا۔
    ٭…٭…٭
    وہ ٹی وی لاؤنج میں صوفے پر لیٹی ہوئی تھی۔ اس نے آنکھوں پر کھیرے کے قتلے رکھے ہوئے تھے ۔ بیل کی آواز پر ملازمہ کو آواز دی۔
    ”نوراں!شہیر آگئے ہیں دیکھ لو۔ ”
    شہیر کو اندر آتے دیکھ کر وہ طمانیت سے مسکرا دی۔ بے شک گھر چھوڑ کر آنا مشکل تھا، لیکن اس کے حق میں وہ فیصلہ سب سے بہتر رہا تھا۔ کہیں دور ماضی کے کواڑ کھلے ۔ اماں ابا کا سونا، رات کا پچھلا پہر۔ اس کا زنگ آلود کواڑ کھولنا، باہر کھڑا شہیر مرزا۔ پھر شہیر کے ساتھ یہ گھر۔ وقت کسی کا غلام نہیں ہوتا۔وہ آگے بڑھتا گیا۔
    پھر دو بچے،روحا اورحسن کے قد ان کے قد سے اوپر تھے۔ اب تو وہ دونوں بال ڈائی کرنے لگے تھے ۔ اس نے سر جھٹک کر سوچا۔ ہونہہ میں کیا سوچنے لگی ہوں ۔
    ٭…٭…٭
    کئی دنوں سے اسے ایئر فریشنر کی خوشگوارخوشبو میں ایک دھیمی خوشبو آتی تھی اور پھر آہستہ آہستہ اپنی لپیٹ میں لے لیتی ۔ ۔ وہ بلیو لیڈی ،شیلیز ،شی ہر طرح کے پرفیومز چھڑک کر دیکھتی ،خوشبو بڑھتی جاتی۔ ہاں وہ صنوبر کی خوشبو!اماں کے گھر میں دالان والے صنوبر کی خوشبو زندہ وجود دھار چکی تھی اور اب اس کے کلیجے پر لپٹ جاتی، گلے کا ہار بن جاتی ۔ وہ لاکھ سر جھٹکتی، ناک سکیڑ لیتی لیکن وہ مستقل مزاج تھی اور بے حد تھی۔ تبھی تو اسے ڈھونڈتے گھومتے اس کے گھردوسرے فلور میں اس کے بیڈ روم تک پہنچ جاتی۔ پہلے پہل یہ خواب لمحوں کا تھا، جھونکاآتا گزر جاتا، پھر وہ خوشبو اس سے لپٹنے لگی۔ اوّلین ساعتوں میں خوشبو کا طواف اس نے اپنا وہم سمجھا، لیکن بعد میں وہ خوشبو ہر خوشبو پر حاوی ہو گئی۔ البتہ بچوں اور شہیر کے لیے یہ وہم ہی رہا، انہیں کبھی کوئی خوشبو نہیں آئی۔
    ٭…٭…٭
    اور خوشبو کو آئے ایک ہفتہ ہی ہو گیا تھا کہ اس کے گھر کا گیٹ چرخ چرخ کرنے لگا۔
    ”شہیر! یہ مین گیٹ شور کرتا ہے۔ تیسرے دن اس نے کہہ دیا۔ اوہ کم آن ثما !ایسا کچھ نہیں،یہ کوئی پرانی کٹیا نہیں۔”
    ویسے تم بوڑھی ہوتی جا رہی ہو ۔ وہ مسکرایا۔ وہ خاموش رہ گئی۔ روزبہ روز آواز بڑھتی گئی۔ اب تو مین گیٹ دہاڑنے لگا تھا۔ گیٹ سے طرح طرح کی آوازیں نکلتیں۔ اسے یوں لگتا جیسے وہ دونوں کواڑ کھولے ماتم کرتا ہے اور کرتا رہتا ہے جب تک وہ جھنجھلا کر کانوں پر ہاتھ نہ رکھ لیتی۔ رات کو اس کا بیٹا حسن دو بجے واپس آتا۔ چوکیدار گیٹ کھولتا ،دروازہ چیخ اٹھتا۔ وہ نیند سے اٹھ جاتی۔
    گیٹ اب اونچی آواز میں دہاڑنے لگا تھا،پھر اس کی آواز بھی صنوبر کے خوشبو کی طرح ہر آواز پر حاوی ہو گئی۔ میں پاگل ہونے لگی ہو ں۔ کبھی کبھی تنہائی میں وہ گھبرانے لگتی۔ پارٹیز، فرینڈ سرکل بڑھانا۔ فنکشنز…اس نے زیادہ وقت باہر گزارنا شروع کیا۔
    ٭…٭…٭
    صبح وہ اٹھی تو خوشبو غائب تھی ۔ اس نے ایک دومنٹ ٹھہر کر کچھ محسوس کرنے کی کوشش کی، لیکن ناکام رہی۔ شہیر آفس چلے گئے اورگیٹ کی آواز بھی نہیں آئی۔ چند لمحے الجھن سے سوچنے کے بعد وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ ایک عرصے سے ذہن پر بوجھ بنی آواز اور خوشبو سے آج چھٹکارا مل گیا تھا۔ واش بیسن پر جھک کر پانی کے دو تین چھینٹے اپنے منہ پر مارے۔ خوشگورایت کے احساس کے ساتھ ساتھ ہوش حواس بیدار ہوتے ہی اس کے ذہن میں جھماکا ہوا۔وہ آگہی کا لمحہ تھا۔اسرار سے پردہ اٹھایا گیا اور کس نے اٹھایا بھلا؟
    برسوں اس کے اندر کہیں ماضی کے کیاری میں دبی صنوبر کی خوشبو اب پھنکارنے لگی تھی ۔ آواز نے پہلے ناگ کا روپ دھار لیا اور اب پھن اٹھائے کھڑا چرخ چرخ کر رہا تھا۔ وہ دوڑتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی، لاؤنج میں ملازمہ ڈسٹنگ کر رہی تھی۔ اسے یوں بھاگتے دیکھ کر وہ پریشان ہو گئی۔
    ”کیا ہوا باجی؟ ”وہ ان سنی کرتی آگے بڑھی اور دھڑام سے دروازہ کھول دیا ،کمرا بکھرا پڑا تھا۔ ملازمہ آگے بڑھی۔
    ”یہ چھوٹی باجی نے کیا حال کر دیا ہے کمرے کا؟”
    ”باجی جی! یہ کیا ہے ؟” ملازمہ نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا پیڈ کا صفحہ اٹھا کر اس کی طرف بڑھایا۔ وہ یوں پیچھے ہٹی جیسے موت کا پروانہ ہو ۔
    پیچھے ہٹتے ہٹتے اسے آج آواز اور خوشبو کا اسرار سمجھ آگیا تھا۔
    ”روحا بھاگ گئی گھر سے … ”
    اس کے اندر سے آواز آئی۔
    ”کیا میں اب دنیا کے سامنے جا سکوں گی؟”
    اندر گہرا سکوت تھا۔
    ہوا خاموش وقت کی طرف دیکھ رہی تھی۔وقت ہمیشہ کی طرح دور اندیش تھا آگے تو بڑھ رہا تھا لیکن بہت سستی سے۔
    ٭…٭…٭




  • فیس بکی شہزادہ — کوثر ناز

    یوں تو کوئی بھی فیس بکی محبت کو پسند کی نگاہ سے نہیں دیکھتا اور اگر اس کی مخالفت کرنے کی بات کی جائے تو ہم بھی ارسطو اور خلیل جبران کو کہیںپیچھے چھوڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
    جب آپ کی کوئی سکھی انباکس میں آکر محبت کا رونا روئے، اپنے دنوں کو حسین اور راتوں کو سہانی کہے، توعورتوں والی مخصوص رگ ہر لڑکی و عورت کے اندر پھڑپھڑانے لگتی ہے۔ تجسس پیٹ میں مروڑ ڈال دیتا ہے اور یہی نہیں بلکہ ایک آدھ عشقیہ چاہے بے وزن شاعری سے مزین پوسٹ آپ کسی دوست کی دیکھ لیں،تو من میں کھلبلی شروع ہوجاتی ہے کہ بھئی ضرور کہیں کوئی چاند چڑھایاجارہا ہے اور اگر اسٹیٹس ہو اداس و غمگین فروری مارچ میں بھی دسمبرو جنوری کی سی شاعری کا، تو اندازہ از خود لگالیا جاتا ہے کہ بھئی یہاں چاند گرہن لگا ہوا ہے۔
    خیر سو باتوں کی چند باتیں یہ کہ فیس بکی محبت کے ہم چاہے لاکھ مخالف ہوں، لیکن سہیلی کا دل جو شہزادے میں اٹکا، توان کے غم میں شریک ہونے سے ہم بھی خود کو نہ بچا سکے۔ سہیلی کیا ”لنگوٹی یارنی” ہی کہہ لیں کہ بچپن سے ایک ساتھ کھیلے، اسکول ، کالج ساتھ پڑھے۔ ہاں البتہ اپنی اپنی ذاتیات کو چھپائے دوستی کا تعلق برقرار رکھا لیکن پھر ہماری سکھی کے سر پر حب محبت آن پڑی، تو ہم سے رجوع کرتے ہی بنی اور ہم ٹھہرے سدا کے ہم درد۔ فوراً سے پیشتر والدہ ماجدہ والے جذبات جاگے اور ان کے دل کے حال و احوال پر کبھی افسوس کرتے، تو کبھی حیران ہوتے اور آخر میں ان کی روداد سن کر ہم نے بھی فیصلہ کرہی لیا کہ اب جو بھی ہو سہیلی کو یوں تڑپنے کے لیے تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ اس سلسلے میں چاہے باہر کی تھوڑی سی ہوا ہمیں ہی کیوں نہ کھانی پڑے۔
    ارے… کیا کہا؟ پوری کہانی تو سنیے میاں و بیوی معذرت کہنے کا مطلب ہے کہ خاتون یا جو بھی آپ ہیں کہ بات کچھ یوں ہے کہ فیس بک پر اُنہیں بھی سچی محبت مل جایا کرتی ہے جنہیں بازار میں کوئی خراب خربوزہ تک نہ دے، لیکن بندہ جب ‘ پیج’ کا ایڈمن ہو، تو اسے خصوصی توجہ اپنے آپ مل جایا کرتی ہے۔ فیس بک کی دنیا میں پیج ایڈمن یا گروپ ایڈمن کی محبوبہ کی وہی اہمیت ہوتی ہے جو حقیقی زندگی میںفوجی کی بیوی کی یعنی کہ خاص الخاص شخصیت۔
    تو بس بھئی یہاں پیج ایڈمن عرف شہزادہ نے دوست کے کومنٹ پر مسلسل ‘لو ‘ ری ایکٹ کرنا شروع کیا، تو یہاں دوست کے دل کی گھنٹی بج گئی۔ بجتے بجتے آواز مین گیٹ تک پہنچی اور شہر دل کا دروازہ ازخود کھل گیا۔ پھر وہ مکان محبت ڈھونڈ کر محترمہ کے کمرا دل میں گدی نشین ہو بیٹھے۔ کہنے کا مطلب ہے کہ فیس بکی شہزادے سے سیدھی بادشاہِ دل تک کی ترقی مل گئی۔
    محبت شروع ہوئی تو پیج ایڈمن پر دل ہارے بیٹھی کئی سو حسیناؤں کی حس بیدار ہوئی تو کسی نے اسے فوراً سے پیشتر جذبہ ہم دردی کے تحت بھابی تسلیم کرلیا، تو کچھ جذباتی ہوکر پیج چھوڑ گئیں جب کہ درمیان والی کبھی بھابی کے کومنٹ کو لائک کرکے بھائی کی توجہ سمیٹتی کہ وقت پڑنے پر شہزادے کے دل کی مرہم پٹی کرسکیں اور پھر خاتون اوّل یعنی کہ بھئی پیج ایڈمن کی محبوبہ ہونے کا درجہ پاسکیں۔ کیا کہا ایسا نہیں ہوتا؟
    آپ ذرا ادبی قسم کے میاں و بیوی مطلب خواتین و حضرات ہیں۔ ورنہ تو میری بات سے مکمل اتفاق کرتے، لیکن ایک مثال تو یہاں یہ بھی دی جاسکتی ہے کہ کسی ایسے حضرت کو لیجیے جسے ہم دردی بٹورنے کا شوق ہو اور پھر مرنے مرانے کی باتیں بھی کرتا ہو، تو پھر وہاں خواتین کی ہم دردیاں دیکھیں۔ ہر خاتون و دوشیزہ انہیں غمِ بیکراں کے سمندر سے نکالنے کو بے تاب نظر آئے گی ( اس بات سے بے خبر کہ حضرات سمندر عشق میں غوطے لگانے کا کئی سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔)
    خیر اس سب سے الگ ہم فیس بکی محبت کے پروان چڑھنے پر بھی کسی دوراہے کا شکار نہیں!
    محبت سہیلی کے دل میں جڑ پکڑنے لگی، تو غیر مردوں کو ایڈ کرنا تو دور سہیلی کے لیے ان کا کومنٹ لائک کرنا بھی ممنوع ٹھہرا۔ دوسرے معنوں میںآئی ایس آئی کا ایسا ایجنٹ ان کے پیچھے لگ گیا جو چوبیس گھنٹے ان کی چوکیداری کرتا رہتا۔ ساتھ ہی فیس بکی خدا کے طور پر اس کی آئی ڈی کا کرتا دھرتا بھی بن گیا۔ ہمیں علم ہوا، تو شکر کا کلمہ پڑھا کہ اپنی کوئی تصویر محترمہ کو فیس بک کے ذریعے ارسال نہیں کی تھی۔خیر ان کی محبت کی شدتیں بڑھیں، تو بات میسجز، واٹس اپ اور فون کالز سے آگے بڑھ کر ملاقات تک آپہنچی ۔ ملاقات کی سبیل ہمارے ذریعے نکل سکتی تھی سو انہیں ہمیں یاد کرتے ہی بنی۔ ہم مرتے کیا نہ کرتے کہ مصداق اگلے ہفتے کا پلان ترتیب دے بیٹھے اور وہ اپنے بلیچ، فیشل وغیرہ پر دن رات صرف کرنے لگیں۔ ایک روز عورتوں کے حمام خانے ( پارلر) میں بھی ہو آئیں۔
    متوقع ملاقات کے روز ہم بس میں بیٹھے شہر کے مشہور ترین پارک میں جا پہنچے اور شہزادے صاحب کے انتظار میں نگاہیں داخلی دروازے پر جما دیں۔ دل کی دھڑکنیں آسمان سے باتیں کررہی تھیں، چہرے پر قوس قزاح کے رنگ بکھرے ہوئے تھے، مسکراہٹ تھی کہ ایک پل کے لیے ہونٹوں سے جدا ہی نہ ہورہی تھی اور ہم نقاب لگائے ان کی چوکیداری پر معمور ہوگئے کہ تب ہی ایک طرف سے ایک ہینگر ہوا کے دوش پر ہلتا ہلتا ہماری طرف آتا دکھائی دیا، تو دوست کی تمام تر حسیں بیدار ہوتے دیکھ کر ہم بھی چوکنا ہو بیٹھے۔ اتنا تو علم تھا کہ شہزادے صاحب انتہائی نازک طبیعت کے انسان ہیں، لیکن کس قسم کے ہوں گے کیا علم تھا؟ ہمیں لگا کہ یہ جو خاصا اسمارٹ سا بندہ کلف زدہ اکڑی شرٹ اور نئی نویلی پینٹ کے سہارے چلا آرہا ہے وہ آگے گزر جائے گا، لیکن جب دوست کے نزدیک آکر رکا، تو ہم نے صدمے سے سہیلی کے چہرے کا طواف کیا اور جس کے بعد اندازہ ہوگیا کہ وہ ‘ سویٹ سیلفی’ کے خالقوں سمیت ان کے پرکھوں تک کو گالیوں سے نواز رہی ہوگی کیوں کہ ان کا ردعمل بھی ہم سے کچھ مختلف نہیں تھا۔ وہ حیران سی اس کلف زدہ شخص کو دیکھتی رہی جو سویٹ سیلفی کے استعمال سے دھوکے دے کر حسن کے قصیدے سن سن کے ہوا میں اڑ رہا تھا اور آج زمین پر آنے کے بعد وہ آدھا جسم ہوا میںہی چھوڑ آیا تھا۔ بہ قول شہزادے صاحب کے کہ وہ پچھلے دنوں اس قدر بیمار ہوئے کہ اب آدھے رہ گئے ہیں۔ ساتھ ہی دوائیوں نے ان کا رنگ کچھ سیاہی مائل کردیا ہے۔
    اتنے میں بھی گزارا ہوجاتا، اگر وہ گفتگو کرنے کے فن سے آشنا ہوتے۔ سہیلی کو سمجھنے میں ذرا دیر نہ لگی کہ جن پوسٹس کو پڑھ پڑھ کر وہ پھولی نہ سماتی تھیں اوردوسرے پیجز پڑھ پڑھ کر ہنستی تھی کہ ان کے محبت نامے دنیا اپنے اپنے بگڑے کام سنوارنے کے لیے استعمال کیا کرتی ہے۔ ان کے خالق ابھی تک گمنام ہی ہیں! وہ نہ جانے کیا کیا باتیں کررہا تھا، لیکن ہماری سہیلی تھی کہ اپنی ازلی شرمیلی فطرت کے باعث ان کی جانب نگاہ اٹھا کر نہ دیکھ پارہی تھی، لیکن ان کے چہرے کے زاویوں سے اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ وہ گھڑی کی ٹک ٹک سے کچھ زیادہ مطمئن نہیں ہے۔ وہ بھی ہماری طرح چھے فٹ کے قد سمیت مکمل ہیرو کے خواب دیکھا کرتی تھی اور شہزادہ گلفام کو دیکھ کر تمام تر خوابوں کے شرمندہ تعبیر کرنے کی تدبیر ناکام نظر آئی تو آنکھوں سے خواب از خود اڑ گئے۔
    ملنے کی جس قدر جلدی تھی۔ واپسی بھی اتنی ہی افراتفری میں ہوئی۔ محترم شہزادے نے بہت اصرار کیا کہ کسی ٹو اور تھری اسٹار کیفے سے ایک کپ کافی یاپھر کسی اچھی جگہ سے آئس کریم ہی کھا لی جائے لیکن سہیلی کی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ دل کے ساتھ پیٹ بھی بھرچکا ہے۔
    خواتین و حضرات واپسی کے سفر پر ہم دونوں نے ہی رنجیدہ و سنجیدہ ہوتے ہوئے ایک ایک فیصلہ کرلیا… سہیلی نے نئی سم مع نیا اکاونٹ بنانے کا فیصلہ کیا جب کہ ہم نے پھوپھی کے بیٹے کے آئے ہوئے رشتے کو قبول کرنے کا جاں گسل کام سر انجام دیا۔
    ویسے آپ کا کیا خیال ہے؟ تجربہ کیا کہتا ہے آپ کا؟
    ٭…٭…٭




  • محبتیں ہمارے عہد کی — ثناء شبیر سندھو

    محبتیں ہمارے عہد کی — ثناء شبیر سندھو

    ”یہ جو کہتے ہیں اورنگزیب ٹوپیاں بیچ کر گزارہ کرتا تھا، یہ سب کہانیاں گھڑی ہوتی ہیں۔” قمر صاحب کی آواز کانوں پر ہتھوڑے کی طرح برس رہی تھی۔ شزا نے اپنی جماہی کو بہ مشکل روکتے ہوئے پہلے سر کی طرف اور پھر زویا کو دیکھا۔ اس کا دھیان نوٹ بک پر کم اور ہاتھ میں پکڑے موبائل پر زیادہ تھا۔
    ”یار یہ سر کب جائیں گے؟” اُس نے اکتاہٹ سے نوٹ بک کے کونے پر لکھ کر زویا کو کہنی ماری۔
    ”کک… کیا…” زویا ہڑبڑا گئی۔
    ”کیا ہورہا ہے؟” سر نے اسی دوران اُسے پکڑ لیا تھا۔
    ”کچھ نہیں سر…” زویا نے فوراً موبائل بیگ میں پھینکا۔
    ”تو کیا بتا رہا تھا میں۔” انہوں نے اسے گھور کر پوچھا۔ شزا نے ہنسی دبائی۔
    ”سر وہ… جہانزیب کی بات ہورہی تھی…” وہ گڑ بڑائی۔ کلاس میں زبردست قہقہہ لگا تھا۔
    ”اور یہ جہانزیب کون ہے؟” قمر صاحب کے غیظ و غضب میں اضافہ ہوا۔ شزا نے شرمندگی سے سر کو دیکھا اور انگلیاں مروڑنے لگی۔
    ”بیٹا… اپنے اندر کا شور کم کریں۔” انہوں نے اسے غصے سے دیکھتے ہوئے تحمل سے کہا۔
    ”جی سر…” وہ منمنائی۔
    ”اندر کا شور کم ہوگا، تو باہر کی چیزیں سنائی دیں گی بچہ۔” انہوں نے مزید طنز کیا۔
    ”یس سر۔”زویا نے سر ہلایا۔
    بیٹھو … اور ہاں یہ اورنگزیب تھا۔” انہوں نے بالآخر اس کی جان بخشی کی۔ وہ فوراً بیٹھ گئی اور شزا کو مسکراتے دیکھ کر غصے سے گھورا۔
    ”تم مجھے بتا نہیں سکتی تھی۔” شزا کو کہنی مارتے ہوئے اس نے دانت پیسے۔
    ”کیا…؟ مثلاً کیا کہ سر تمہیں اُٹھانے والے ہیں؟ یا تمہیں نوٹس کررہے ہیں؟” شزا نے دبی آواز میں جواب دیا۔
    ”مرو تم…” وہ سر کو وائٹ بورڈ کی جانب جاتا دیکھ کر انہیں یوں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگی جیسے آنکھوں سے ہی سنے گی۔
    ٭…٭…٭





    ”توبہ ہے یونیورسٹی ہے کہ کوئی اسکول… یہ سر باجوہ تو نہ انہیں کسی اسکول میں ہیڈ ماسٹر ہونا چاہیے تھا۔” زویا نے کلاس ختم ہونے کے بعد کاریڈور میں آکر کتابیں اور بیگ پھینکتے ہوئے غصے سے کہا۔
    ”سیریسلی یار! پوچھنے ہی بیٹھ جاتے ہیں کہ کیا پڑھایا۔” شزا نے اکتاہٹ سے کہا۔
    ”رکو ذرا statusہی اپ ڈیٹ کردیتی ہوں۔” زویا نے اپنے اسمارٹ فون پر انگلیاں چلائیں اور فیس بک کھولی۔
    ”کیا لکھو گی…؟” شزا نے اسے گھورا۔
    ”سوچنے دو… ہاں…” وہ کچھ دیر سوچ کر سیدھی ہوئی۔
    "uff…this history feeling bored with shiza Javed.”
    اس نے شزا کو ٹیگ کیا۔
    ”کہیں سر قمر ہی نہ پڑھ لیں۔” شزا کو فکر ستائی۔
    ”چل ہٹ… میری فرینڈ لسٹ میں تھوڑی ہیں وہ۔” زویا نے ناک سے مکھی اُڑائی۔
    ”لیکن…” شزا نے اسے ڈرتے ڈرتے دیکھا۔
    ”لیکن کیا…” زویا بیگ میں کچھ ڈھونڈنے لگی۔
    ”میں نے کل ہی انہیں ایڈ کیا ہے۔” شزا نے بے چارگی سے بتایا۔
    ”واٹ…” زویا چیخی۔ دماغ ٹھیک ہے تیرا، بے وقوف لڑکی پہلے نہیں پھوٹ سکتی تھی؟ ستر دفعہ بولا ہے کہ پرائیویسی سیٹنگ چیک کرو اور ٹیگ اپروو کرنے کے بعد الاؤ کیا کرو، لیکن نہیں محترمہ کو لوگوں کو بتانا ہے کہ وہ کتنی مشہور ہیں اور کتنے لوگ انہیں ٹیگ کرتے ہیں۔” زویا دانت پیستے ہوئے تیزی سے موبائل پر انگلیاں چلانے لگی۔
    ”جلدی ڈیلیٹ کرو ورنہ کل کلاس میں چھترول کریں گے۔” شزا نے اُس پر جھکتے ہوئے منمنا کر کہا۔
    ”پیچھے دفع ہو۔ وہی کررہی ہوں۔” زویا نے فیس بک کھولی۔
    ”ہائے کھل گیا شکر ہے۔ کسی نے ابھی دیکھا تو نہیں؟” شزا نے ناخن چباتے ہوئے زویا کو دیکھا۔
    ”گاڈ…” زویا کی نظریں اسکرین پر جم کر رہ گئیں۔
    ”کیا ہوا…” شزا نے گھبرا کر پوچھا۔
    ”تو دیکھ مرلے۔” زویا نے موبائل اس کے سامنے کیا جہاں باجوہ صاحب کی طرف سے لائیک کا نوٹیفکیشن جگمگا رہا تھا۔ شزا نے آنکھیں پٹپٹا کر دوبارہ دیکھا کہ شاید سکرین پر لکھا بدل جائے پھر ڈرتے ڈرتے زویا کو دیکھا جو کٹ گھنی بلی بنی تھی۔
    ”ہیلو Peeps” نور نے poutبنا کر دونوں کو گزیٹ کیا جو سر جوڑے موبائل پر نہ جانے کیا دیکھ رہی تھیں۔ اس نے بیگ سائیڈ پر رکھا اور اِن کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئی۔
    ”کیا تکلیف ہے نور؟” شزا نے اس پر چڑھائی کی۔
    ”کیا دیکھ رہی ہو تم لوگ؟” اس نے تجسس سے پوچھا۔
    ”تمہارا دولہا۔” زویا نے دانت کچکچائے۔
    ”ہائے۔” نور نے انگلیاں مروڑ کر شرمانے کی ایکٹنگ کی۔
    ”مجھے بھی تو دکھا دو۔” اُس نے شرما کر کہا۔
    ”بکواس بند کرو اور یہ بتاؤ اتنی لیٹ کیوں آئی ہو۔ یہ صبح صبح مغلوں کا جغرافیہ پھانکنے کو ہم ہی ملتے ہیں باجوہ صاحب کو۔” زویا کا غصہ کسی طور کم نہ ہوا تھا۔
    ”یار بھائی کی کھٹکارا بائیک پھر سے خراب ہوگئی تھی۔” نور نے آنکھیں مٹکا کر بتایا۔
    ”چلو… تیرے پاس اور کوئی بہانہ نہیں ہے کیا۔”شزا نے دھپ لگائی۔
    ”لو مجھے کیا ضرورت ہے جھوٹ بولنے کی۔” نور نے برا مانتے ہوئے کہا۔
    ”اب یہ سرکس بند کرو اور اٹھو ابھی اسائنمنٹ کے پرنٹس لینے ہیں اور بائنڈنگ بھی کروانی ہے۔” زویا نے کتابیں اٹھائیں اور کپڑے جھاڑتے ہوئے کھڑی ہوگئی۔
    ”ارے ہاں مجھے تو بھول ہی گیا تھا۔” شزا نے سر پر ہاتھ مارا۔ تینوں نے اپنی چیزیں اٹھائیں اور کیفے کی اور چل دیں۔
    ٭…٭…٭
    شزا، نور اور زویا تینوں یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹرز کررہی تھیں۔ تینوں بی اے سے ساتھ تھیں اور ایک دوسرے کی بہترین دوست بھی۔ بی اے کے بعد انہوں نے سوشیالوجی میں اکٹھے ہی ایڈمیشن لے لیا۔ تینوں سوشل میڈیا کی دلدادہ تھیں۔ خاص طور پر زویا کو تو ہر چیز فیس بک پر اپ ڈیٹ کیے بغیر چین ہی نہیں آتا تھا۔ اپنی ہر آؤٹنگ اور hangout کو پوسٹ کرنا اس کا شوق تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”امی دیکھا آپ نے۔” زویا نے چیخ ماری۔
    ”کیا ہوا اب۔” نجمہ نے استری والے کپڑوں کو پانی لگاتے ہوئے بے زاری سے اسے گھورا۔
    ”دیکھ لیں آپ اپنے بھتیجے کی حرکتیں۔” زویا نے موبائل دوسرے ہاتھ میں پکڑا۔
    ”تمہاری حرکتیں نہ دیکھوں پہلے؟ کام تم سے کچھ ہوتا نہیں ہر وقت موبائل کی ماں بنی رہتی ہو۔ کہا ہے کپڑوں کو پانی لگا دو وہ بھی محترمہ سے نہیں لگا۔” نجمہ نے اُلٹا اس کی کلاس لے لی۔
    ”افوہ امی… میرے پیچھے پڑی رہیں بس مجھے نہیں پسند یہ کام۔” اس نے اُٹھ کر بیٹھتے ہوئے شاہانہ پن سے کہا۔
    ”تمہیں پسند کیا ہے آخر؟” نجمہ نے دانت پیسے۔
    ”میری بات تو سن لیں آپ… ذیشان بھائی آئے ہوئے ہیں دبئی سے ایک ہفتہ ہوگیا، لیکن آپ کو ملنے نہیں آئے۔” زویا نے آنکھیں مٹکا مٹکا کر بتایا اور کن انکھیوں سے ماں کا ری ایکشن دیکھنے کی کوشش کی۔
    ”تمہیں کیسے پتا؟” نجمہ کے ہاتھ پکڑا پر ڈھیلے ہوگئے۔
    ”یہ دیکھیں چیک ان کیا ہوا ہے لاہور کا۔ اپنی بہن کے ساتھ کھانے پر گئے تھے۔ اتنا نہ ہوا ہم سے بھی پوچھ لیتے۔” زویا نے ماں کو متوجہ پاکر چھلانگ ماری۔ نجمہ کے پاس آکر اسے تصویریں دکھانے لگی۔
    ”بڑا ہی بے دید ہے۔ باپ کی طرح سامنے کیسے پھپھو پھپھو کرتا ہے اور ایک شہر میں ہوتے ہوئے بھی ملنے کی توفیق نہ ہوئی۔” نجمہ خفگی سے بولیں۔
    ”اور کیا… ان کو لگتا ہے ہمیں پتا ہی نہیں چلے گا۔” زویا نے بال جھٹکے۔
    ”یہ فیس بک پر کیا سب پتا چل جاتا ہے۔” نجمہ نے معصومیت سے پوچھا۔
    ”ہاں امی آج کل تو لوگ کام بعد میں کرتے ہیں اور فیس بک پر لگاتے ہیں۔” زویا نے مزید روشنی ڈالی۔
    ”چلو بند کرو اس کو بلکہ یہ کپڑے اٹھاؤ اور آئرن اسٹینڈ پر رکھو۔” نجمہ کا دل کام سے اچاٹ ہوگیاتھا۔
    ”کیا ہوا اب آپ کو…” زویا نے آنکھیں گھمائیں۔
    ”دکھ ہورہا ہے مجھے۔ میں کون سا اس سے رقمیں مانگ لیتی ہوں یا پیسے… صرف مل کر جانے میں بھی اس کو تکلیف ہے۔ پال پوس کر میں نے بڑا کیا ہے اسے۔ ماں کو تو کبھی ٹی وی سے ہی نہ فرصت ملی۔” نجمہ کا لہجہ غمگین تھا۔
    چلیں چھوڑیں امی، ہمیں کیا۔ ہم کون سا مرے جارہے ہیں۔زور زبردستی بھی تو نہیں کرسکتے۔” زویا نے نجمہ کا کندھا تھپکتے ہوئے تسلی دی، تو نجمہ نے بھی سر ہلا دیا۔
    ٭…٭…٭
    گرلز، گڈ نیوز…” نور بھاگتی ہوئی شزا اور زویا کے پاس آئی۔
    ”واٹ…؟” زویا نے بے زاری سے مڑ کر پوچھا۔
    ”باجوہ صاحب نہیں آئے آج۔” نور تالی بجا کر اُچھلی۔
    ”واہ… شکر ہے۔” شزا نے شکر ادا کیا۔
    ”چلو کیفے چل کر چائے پیتے ہیں۔” زویا نے بیگ اٹھایا۔
    ”توبہ میں تو سوچ سوچ کر ہی بے ہوش ہوئی جارہی تھی کہ کہیں…” شزا خوشی سے بولتی ہوئی مڑی تو سامنے ہی ہاتھ میں ڈائری اور دوسرے ہاتھ میں گلاسز پکڑے باجوہ صاحب کھڑے تھے۔
    ”س…س…سر…” شزا نے ہکلا کر کہا۔ نور اور زویا نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ زویا نے نور کو قتل کرنے کا اشارہ کیا۔
    ”سر میں ایک ہی ”س” آتا ہے۔ باجوہ صاحب نے سنجیدگی سے کہا۔
    ”سر ہم آپ ہی کا انتظار کررہے تھے ایک اسائنمنٹ…”
    ”میرا انتظار؟ کس لیے؟ اوہ بور ہونے کے لیے؟” انہوں اپنے سوالوں کے خود ہی جواب دیے۔ تینوں پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔
    ”سر وہ… ایکچوئلی ایسے ہی ہم بیٹھے تھے تو…” زویا نے بات بنانے کی کوشش کی۔
    ”سر وہ تو آپ کے پیریڈ کے بعد پوسٹ کیا تھا۔” شزا نے فوراً لب کشائی کی۔
    ”اچھا…” سر نے لمبا سا اچھا کہا۔
    ”اور وہ جو ہسٹری کی بات ہورہی تھی؟” سر نے معصومیت سے پوچھا۔
    شزا نے زویا کو دانت کچکچا کر دیکھا۔
    ”سوری سر… ہمارا مقصد آپ کو ہرٹ کرنا نہیں تھا۔” بالآخر نور نے معافی مانگنے کا سوچا۔
    ”ارے آپ کیوں سوری کررہی ہیں آپ تو اس پوسٹ پر taggedبھی نہیں تھیں۔” سر نے گویا سارے بدلے آج ہی پورے کرلیے تھے۔
    ”سوری سر…” زویا نے تھوک نگلتے ہوئے کہا۔
    ”کلاس میں چلیں۔” وہ تینوں کو گھورتے ہوئے لیکچر ہال کی طرف بڑھ گئے۔
    ”زویا کمینی، مروا دیا تم نے۔” شزا نے زویا کے بازو میں ناخن چبھوئے۔
    ”پیچھے مرو… میں نے کہا تھا سر کو ایڈ کرکے بیٹھ جاؤ۔ پھر تم نے taggedپوسٹس بھی کھلی چھوڑی ہوئی ہیں۔” زویا نے الٹا اسے قصور وار ٹھہرایا۔
    ”اوکے lets more peeps” نور نے گہری سانس بھری۔
    ”تم…” زویا خونخوار نگاہوں سے اسے دیکھتی اس کی طرف بڑھی۔
    ”میں نے کیا کیا اب…” نور آگے بھاگی۔
    ”تم نے کہا سر آج نہیں آنے والے۔” زویا پھنکاری۔
    ”مجھے تو آلو، مم…میرا مطلب ہے شعیب نے بتایا تھا۔” نور نے سی آر کا نام لیا۔
    ”تم اور تمہارا Information saurced” شزا نے ناک سے مکھی اڑائی۔
    ”چلو اب… سر ہماری راہ دیکھ رہے ہوں گے۔” زویا نے چبا چبا کر غصیلے انداز میں کہا۔ اس کے انداز پر شزا اور نور کی ہنسی چھوٹ گئی۔ تینوں ہنستے ہوئے آگے بڑھ گئیں۔
    ٭…٭…٭
    تم ابھی تک جاگ رہی ہو۔” اس اچانک چنگھاڑ پر شزا کے ہاتھ سے موبائل گرتے گرتے بچا۔
    ”افوہ بجو ڈرا ہی دیا آپ نے۔” شزا نے سینے پر ہاتھ رکھا۔
    ”شزا شرم کرو صبح کے تین بج رہے ہیں۔ ہر وقت منہ اٹھا کر اس موبائل میں گھسی رہتی ہو اور کوئی کام نہیں تمہیں۔”
    شرمین نے اپنا تکیہ سیدھا کرتے ہوئے آڑھے ہاتھوں لیا۔ وہ واش روم جانے کے لیے اُٹھی تھی۔ جب اس نے شزا کو موبائل کے ساتھ مصروف دیکھا۔
    ”اچھا… سونے لگی ہوں۔” شزا نے کروٹ بدلی اور موبائل کی برائٹ نس کم کردی۔ مبادا شرمین پھر سے شروع ہو جائے۔
    ”شہزاد بھائی…” شزا نے فون لاک کرتے کرتے کہیں نام پڑھا اور اس کے نام پر کلک کرکے پروفائل کھول لیا۔
    ٭…٭…٭