Tag: Alif Kitab

  • رات کو دیکھوں!

    رات کو دیکھوں!

    رات کو دیکھوں!
    صوبیہ اطہر

    رات کو دیکھوں، جی للچائے
    کوئی تارا ہاتھ میں آئے

    امی بولیں بیٹے پیارے
    تم بھی تو ہو میرے تارے

    پُھولے گال، چمکتی آنکھیں
    خُوش بو، خُوش بو، مہکی سانسیں

    ننھے منّے پیارے پیارے
    ربّ نے بنائے کتنے سارے

    ٹِم ٹِم کرتے پیارے تارے
    دیکھو ربّ کی قدرت سارے

    ٭…٭…٭

  • ہمیں اُن سے عقیدت ہے

    ہمیں اُن سے عقیدت ہے

    ہمیں اُن سے عقیدت ہے
    نوشین فاطمہ عبدالحق

    ہے خوش قسمت وہ وادی جس کا مکہ نام ہے بچو!
    وہاں کا ذرّہ ذرہ قابلِ اکرام ہے بچو!
    اسی وادی میں پیدائش ہوئی حضرت محمدۖ کی
    انہی کی تو بدولت مذہب اسلام ہے بچو!

    خدائے برتر و بالا کا ہے انعام یہ ہم پر
    حضورِ پاک کی امّت میں ہیں ہم، ہوں سلام اُن پر
    سب ان کی عظمتوں کے معترف، انسان، جن، پتھر
    جو لائے ہم تلک وہ رب کا ہی پیغام ہے بچو!

    ہمیں اُن سے محبت ہے ہمیں اُن سے عقیدت ہے
    انہی کے نام سے گل ہیں، گلوں میں رنگ و نگہت ہے
    انہی کی سنتوں پر چلنے کا انعام جنت ہے
    ہر اک سنت کو زندہ رکھنا اپنا کام ہے بچو!

    مشکل الفاظ:

    قابلِ اکرام عزت کے قابل

    برتروبالا عظمت والا

    معترف تعریف کرنے والا

    نگہت خوش بو

  • میرے آسماں سے ذرا پرے — مونا نقوی

    میرے آسماں سے ذرا پرے — مونا نقوی

    ”محبت کے دل میں اترنے کا کوئی خاص موسم نہیں ہوتا کہ وہ آئے اور اپنی روپہلی کرنوں سے کسی وجود کا احاطہ کر کے اسے دل کش زنجیر میں جکڑ لے ۔محبت تو کبھی بھی، کسی بھی لمحے صحیفہ ٔ نور کے مانند دلوں میں اترتی اور دل کو اس الوہی جذبے سے آشنا کرکے، راتوں کی نیندیں اُڑا کے اور جاگتی آنکھوں میں حسیں سپنے سجا دیتی ہے۔ یہ دل کا سکون لوٹ کر بھی ایک الگ ہی قرار اور احساس سے آشنا کرتی ہے۔ عظام تم کیا جانو محبت اور اِس کے خوب صورت فلسفے کو ۔” وہ محبت کی حسین وادیوں میں ٹہلتی کسی خوب صورت خیال میں کھوئی اپنا فلسفہ جھاڑ رہی تھی۔
    ”مت بھولو وریشہ، تم جس محبت کے جذبے کے زیرِ اثر خوب صورت الفاظ میں فلسفۂ محبت جھاڑ رہی ہو، اس جذبے سے تمہیں آشنا کروانے کاسہر اما بہ دولت عظام حیدر کو جاتا ہے۔” وہ اپنا کالر درست کرتے ہوئے گویا ہوا۔
    ”ورنہ تم بھی اِس دنیا کی وہی عام سی لڑکی رہتیں، جو چاہے جانے کے خواب دیکھتی تو ہے مگر کبھی انہیں حقیقت بنتے نہیں دیکھ پاتی۔” وہ وریشہ کی خوب صورت آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
    ”مانتی ہوں، مجھے ایک عام سی لڑکی سے خاص تمہاری محبت نے بنایا ہے اور میں ہمیشہ خاص رہنا چاہتی ہوں۔ تمہاری نظر میں بھی اور دنیا کی نظروں میں بھی۔” اس کی آنکھوں میں خوف اور لہجے میں التجا تھی۔ اسے کھونے کا خوف تو خود کو نہ کھونے کی التجا کرتی وہ نگاہیں آج بھی عظام کے ذہن پرنقش تھیں۔ وہ لہجہ آج بھی اس کی سماعتوں میں گونجتا تھا۔
    ”عظام اور وریشہ اک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں ۔ جدائی نام کی کوئی چیز کبھی بھی ہم دونوں کے درمیان نہیں آ سکتی۔”
    عظام کے پر اعتماد لہجے میں بلا کا یقین تھا اور اسی شب وریشہ کا دل اس یقین پر ایمان لے آیا تھا۔ نیچے عظام کی خالہ زاد کی مہندی کے فنکشن سے فراغت کے بعد سب رشتہ دار خوش گپیوں میں مصروف تھے اور چھت پر عظام اور وریشہ مستقبل کے سہانے خواب بُن رہے تھے۔ دور آسمان پر چمکتا چودھویں کا چاند دونوں کو محبت کے عہدو پیماں کرتا دیکھ ان کی بلائیں لے رہا تھا تو چمکتے ستارے مبارک باد اور سلامتی کی دُعائوں کے سندیسے بھیج رہے تھے۔
    ٭…٭…٭




    وہ آج بھی بے بسی کی تصویر بنی اپنے شوہر کو اپنی آنکھوں کے سامنے بے وفائی کرتے دیکھ رہی تھی لیکن ہمیشہ کی طرح مہر برلب تھی۔ وہ جانتی تھی کہ ارمغان کا روز روز اپنی نئی گرل فرینڈز کو گھر لے آنا اور رات گئے بے مقصد گفت گو کرتے رہنا اور پھر ان آزاد ماحول کی پروردہ لڑکیوں کو گھر تک چھوڑنے جانا محض اسے دکھ اور تکلیف پہنچانے کے سوا کچھ نہیں تھا ۔وہ اس کے چہرے پر چھانے والی اُداسی اور آنکھوں میں اترنے والی نمی سے محظوظ ہوتا تھا۔ وہ نا چاہتے ہوئے بھی اُداس ہو جاتی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل کر اس کے رخساروں پر بہنے لگتے۔ بعض اوقات وہ تنگ آکر علیحدگی کا فیصلہ کرتی مگر ارمغان کے چبھتے نشتر جیسے الفاظ اس کی زبان بند کروا دیتے۔
    ”احسان مانو میرا جو تم جیسی بدنامی کی پوٹلی کو میں نے قبول کر لیا۔ یا د رکھو، میں نے چھوڑ دیا تو تم کہیں کی نہیں رہو گی۔ گھر والے تو ڈیڑھ سال سے ملنے تک نہیں آئے تمہیں، ان کے علاوہ بھی کوئی ٹھکانہ ہے جہاں رہ سکو تم؟ اگر بنا چکی ہو تو بتا دو، میں ابھی گھر بدر کرنے کو تیار ہوں تمہیں ۔” ا س کے پاس ارمغان کی کسی بات کا جواب نہیں ہوتا۔ وہ یہ سوچ کر چپ رہتی کہ اگر ارمغان نے اسے چھوڑ دیا تو وہ کہاں جائے گی۔ وہ خاموشی سے لب سیے پلٹ آتی۔
    ٭…٭…٭
    ”زندگی کا ہر لمحہ جو تمہارے بن گزرتا ہے، اس لمحے کی روداد نہ پوچھو وریشہ، ایسا لگتا ہے جیسے موت و حیات کے بیچ لٹک رہا ہوں۔” وریشہ آج کافی دنوں بعد عظام کے گھر آئی تھی اور وہ موقع ملتے ہی دلِ بے تاب کے قصے سنانے بیٹھ گیا تھا۔
    ”اُف عظام! تم بھی نا بات بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہو کہ جھوٹ زیادہ اور حقیقت کم ہی لگتی ہے۔” وریشہ اس کی بات سنتے ہی ہلکا سا ہنستے ہوئے بولی۔
    ”قسم سے اک لفظ جھوٹ نہیں کہتا وریشہ!” وہ جھٹ سے اس کے سامنے بیٹھ کر اس کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھتے ہوئے بولا:
    ”محسوس کرو، اس دل کی دھڑکن کی ہر لے میں تمہارا نام لیتا ہے میرا دل ۔تم میری سانسوں کے چلنے کا سبب ہو ۔اگر تم دور ہوئیں تو دل کے بند ہونے سے پہلے ہی میری سانسیں رک جائیں گی۔” وریشہ نے اس کے ہونٹوں پر تڑپ کر ہاتھ رکھا۔
    ”حالت تو وریشہ کی بھی تم سے کم نہیں، تمہاری یہ باتیں خوف زدہ کر دیتی ہیں مجھے۔ یا تو تم خود پاگل ہو جائو گے یا مجھے کر دو گے۔”
    ”محبت کبھی انسان کو پاگل نہیں ہونے دیتی وریشہ مگر یہ سچ ہے کہ محبت پاگل پن کا دوسرا نام ہے۔ کسی کا دیوانہ ہو کر ہوش و خرد کہاں کچھ سمجھنے اور دیکھنے کے قابل رہتے ہیں؟”
    ”عظام! مجھے ڈر لگتا ہے تمہاری محبت سے ، تمہاری باتوں سے۔” وہ خوف زدہ نظروں سے اُسے دیکھ رہی تھی جو اس کاہاتھ تھامے عجیب و غریب باتیں کر رہا تھا۔ وریشہ، عظام کی پھوپھی زاد تھی۔ دونوں میں پسندیدگی تو لڑکپن میں قدم رکھتے ہی ہو گئی تھی، مگر اظہارِ محبت کرنے میں انہیں چھے سال لگ گئے۔
    ٭…٭…٭
    ”آپ کو یہ جاب کیوں چاہیے وریشہ؟”
    ”ذہنی سکون کے لیے سر۔”اولڈ ایج ہوم کے مالک نے وریشہ سے سوال کیا، تو اس نے فوراً جواب دیا۔
    ”آپ کو واقعی لگتا ہے اِس جاب سے آپ کو ذہنی سکون ملے گا؟” اس کے جواب پر بے ساختہ پوچھا گیا۔
    ”جی سر!بزرگوں کی خدمت سے، ان کا خیال رکھ کر اور ان کی دعائوں سے لگتا ہے مجھے واقعی ذہنی سکون ملے گا۔” وریشہ نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
    ”جب کہ مجھے لگتا ہے اِن بزرگوں کے قریب رہ کر، ان کی زندگی کی کہانیاں سن کر آپ کو دکھ اور تکلیف کے سوا کچھ نہ ملے گا۔”
    ”آپ بس مجھے یہ جاب دے دیں سر، مجھے ذہنی سکون ہی ملے گا۔ میں اُن کے دُکھ بانٹ کر اپنے غم اور دکھ بھول جائوں گی۔ ” اس کے لہجے میں التجا در آئی۔ اپنے حالات سے فرار اسے یہاں جاب کرنے میں ہی نظر آرہا تھا۔
    ”اوکے وریشہ! آپ ابھی سے جوائن کر سکتی ہیں۔” ریحان احمر نے خوش دلی سے کہا، تو وریشہ کااُداس چہرہ اک دم کھل اٹھا۔ ریحان نے آج پہلی بار گہرے سیاہ بادلوں کے پیچھے سے چاند کو نمودار ہوتے دیکھا تھا۔
    ٭…٭…٭
    وہ ایک وفادار اور فرض شناس بیوی کی طرح اپنے تمام فرائض ادا کر رہی تھی۔ ارمغان کی ہر چھوٹی بڑی ضرورت تن دہی سے پورا کرتی۔ ارمغان کو کبھی بھی گھریلو کام میں اُس سے شکایت نہیں ہوئی تھی۔ صبح ارمغان کے اٹھنے سے پہلے ہی وہ اس کی ضرورت کی ہر چیز تیار رکھتی۔ اس کے تیار ہونے سے پہلے ہی وہ ناشتا ٹیبل پر لگا چکی ہوتی۔ وہ خاموشی سے ناشتا کرتا اور وہ ہر روز ہی اس کے منہ سے تعریف کے چند کلمات سننے کی منتظر رہتی لیکن وہ بنا کچھ کہے اُٹھ جاتا۔ وہ سرد آہ بھر کر اسے جاتا دیکھتی رہ جاتی۔وہ اپنی قسمت کے اِس فیصلے پر شکوہ کناں نہیں تھی بلکہ وہ صبر کے گھونٹ پیتے ہوئے شکر سے زندگی گزار رہی تھی۔
    ٭…٭…٭
    اولڈ ایج ہوم میں وریشہ کا دل لگ گیا تھا۔ اس کی بے قرار زندگی میں ایک ٹھہرائو آگیا تھا۔ بزرگوں کے سایۂ شفقت اور ان کی دعائوں نے اسے نیا حوصلہ بخشا تھا۔ وہ بہت محبت اور توجہ سے ہر ایک کی بات سنتی۔ ان کی کہانیاں اسے کبھی مغموم کر دیتیں تو کبھی جینے کے نئے گر سکھاتیں مگر پھر بھی اس کے اندر کا خالی پن گھر لوٹتے ہی اس کے دل میں براجمان ہو جاتا۔ اُداسیوں کے کُہر زدہ ماحول سے وہ جتنا نکلنے کی کوشش کرتی، اتنا ہی اسے اپنے چاروں طرف گہرا ہوتے پاتی۔ وہ کسی ایسے سرے کی تلاش میں تھی جسے پکڑ کر اِس ماحول سے باہر نکل سکے، مگر فی الحال ایسا کوئی سرا اسے دستیاب نہیں تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”خود کو بہت بڑا تیس مار خان سمجھتے ہو؟ تمہارا کیا خیال ہے کہ تم ہمارے گھر اور ہمارے بزنس پر بھی قبضہ کر لو گے؟” عظام کو اس سے پہلے میں نے ایسے غصہ کی حالت میں نہیں دیکھا تھا۔ بس دست و گریباں ہونا باقی تھا، مگر اُس نے خود پر کنٹرول رکھا۔
    ”میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ تم کیا اول فول بک رہے ہو۔ کہنا کیا چاہ رہے ہو تم؟” ارمغان نے سمجھ نہ آنے والے انداز میں اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”اتنے بھی ”چھنے کاکے” نہیں ہو تم جو سمجھ نہیں آ رہی۔ جب دیکھو اِس گھر میں موصوف کے گن گائے جارہے ہیں اور یہ بھولی صورت پوچھ رہی ہے کہ کیا کہنا چاہ رہے ہو تم۔” عظام کو فائنل ائیر میں سپلی آنے پر چھوٹے ماموں سے اچھی خاصی ڈانٹ پڑی تھی اور وہ اپنا سارا غصہ ارمغان پر اتار رہا تھا اور کیوں نہ اتارتا؟ ماموں نے ارمغان کی قابلیت اور ذہانت کی تعریف میں زمین وآسمان کے قلابے جو ملا دیے تھے ۔ یہ بات عظام کو ہمیشہ کی طرح ہضم نہیں ہو رہی تھی۔
    ”قسم سے میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا، تم بد گمانی سے کام مت لو ۔”ارمغان نے اپنے ازلی پُرسکون اندازمیں کہا۔
    ”خوب سمجھتا ہوں میں اِس معصوم صورت کے پیچھے ایک عیار انسان چھپا بیٹھا ہے۔” عظام کا غصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ میرے روکنے کے باوجود وہ ارمغان کو بے نقط سنائے جا رہا تھا اور وہ میرے سامنے اس کے رویے کی وجہ سے شرمندگی محسوس کر رہا تھا۔
    ”عظام کیا کروں ایسا کہ تمہاری بد گمانی دور ہو جائے ۔ تمہارا دل صاف ہو جائیمیری طرف سے۔” وہ روہانسا ہو گیا ۔ نہ جانے کیوں اس کی آنکھوں میں نمی تیرتے دیکھ کر میرا دل دکھنے لگا تھا۔
    ”اِس گھر سے چلے جائو، اب مجھ سے مزید برداشت نہیں ہوتا تمہارا وجود ۔” عظام نفرت سے کہتا ہوا باہر نکل گیا۔ ارمغان کی نیلی آنکھوں میں نمی در آئی تھی۔
    ”بہت غلط کرتا ہے عظام آپ کے ساتھ۔” میرے پاس اسے ہم دردی میں کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔
    ”عادت ہوگئی ہے مجھے یہ سب سننے کی۔ آپ دکھی نہ ہوں ۔آج کون سا پہلی بار ہوا ہے آپ کے سامنے۔”
    ”آپ بہت اچھیہیں ارمغان۔ کبھی حوصلہ نہ ہارئیے گا۔ کوئی بھی مشکل ہو، بس ثابت قدم رہیے گا۔”
    وہ اثبات میں سرہلا کر باہر نکل گیا اور میں اس مضبوط انسان کو جاتا دیکھتی رہ گئی جس کا حوصلہ چٹان جیسا تھا جسے وقت کی کوئی بھی تیز آندھی گرا نہیں سکی تھی۔
    ٭…٭…٭
    مریم آپی شادی کے بعد آج پہلی مرتبہ ایک ہفتہ رہنے کے لیے آئی تھیں۔ سب کزنز ان کے پاس جمع تھے۔
    ”بس میں نے سوچ لیا ، سب کی شادی جلد کروا کے ہی دم لوں گی۔”
    ”بھئی کیوں؟ آخر ہم معصوموں کی آزادی سے کیوں خوامخواہ کا بیر ہو نے لگا آپ کو؟” عظام کے بڑے بھائی اسجد جھٹ سے بولے۔
    ”کیوں کہ اس گھر کی اکلوتی بیٹی کے بیاہ کر چلے جانے سے اِس گھر میں بیٹی کی کمی جو ہو گئی ہے۔ چچی جان سے کہہ دیا ہے میں نے، تین بیٹیاں جلد آئیں گی اِس گھر میں اور انہوں نے رشتہ ڈھونڈنے کی ذمے داری بھی مجھے سونپی ہے۔” انہوں نے اپنی طرف اشارہ کر کے اتراتے ہوئے کہا۔
    ”مجھے تو منظور ہے۔آپ کی چوائس ویسے بھی بہت اچھی ہے مریم آپی۔” عظام جھٹ سے اٹھ کے مریم آپی کے پاس بیٹھ گیا۔
    ”پہلے تو اسجد بھائی کی باری ہے، مریم آپی اِن کے لیے کوئی لڑکی نظر میںرکھیے۔” میں نے عظام کی بات کے جواب میں فوراً کہا تو میری بات سن کے عظام بد مزہ ہوتے ہوئے بولا۔
    ”آپی! اسلام میں کہیں شرط نہیں کہ پہلے بڑے کی شادی ہو۔” عظام مجھے منہ چڑا کر بولا۔
    ”اسلام میں نہیں لکھا مگر زمانے کادستور یہی ہے کہ پہلے بڑے بھائی کی شادی ہو اور پھر چھوٹے کی۔”مریم آپی بھی اسے تنگ کرنے کے موڈمیں تھیں۔ مجھے دیکھ کر آنکھ دبا کے بولیں، تو عظام کھڑکی کے پاس جا کر کھڑاہوگیا۔
    ”آپی پہلے بتائیں اسجد بھائی کے ساتھ کیسی لڑکی جچے گی؟”میں نے شرارت سے اسجد بھائی کو دیکھ کر کہا جن کے کان کھڑے ہو چکے تھے۔
    ”اِس کے ساتھ کوئی فضول خرچ اور ماڈرن سی لڑکی سوٹ کرے گی ۔جیسا یہ خود ہے، ویسی ہی لڑکی ہونی چاہیے۔ بس گھومنے پھرنے اور شاپنگ کرنے کی شوقین۔”
    ”واہ واہ! آپی ایسا ہو جائے تو سونے پہ سہاگا ہے۔ مجھے بھی کوئی روک ٹوک اور خرچوں کے لیے رونے والی شریکِ حیات کی خواہش نہیں۔”اسجد بھائی جھٹ سے بولے۔
    ”السلام علیکم آپی۔” ارمغان آفس سے آنے کے بعد سیدھا مریم آپی سے ملنے چلا آیا۔ آج بھی وہ تھری پیس سکائی بلیو سوٹ میں ہمیشہ کی طرح غضب ڈھا رہا تھا۔ اسے دیکھتے ہی عظام کا منہ بن گیا۔
    ”وعلیکم السلام میرے شہزادے بھائی۔” مریم آپی نے محبت پاش نظروں سے ارمغان کو دیکھتے ہوئے نہایت خوش دلی سے جواب دیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس ہی بیڈ پر بٹھا لیا۔
    ”اور میرے ساتھ کون جچے گی؟ کیسی بھابی لانا چاہیں گی آپ میری بیوی کی صورت میں؟” عظام میرے بگڑتے تیوروں سے محظو ظ ہوتے ہو ئے بولا۔
    ”اُف پھوٹ گئی اُس کی قسمت جو تمہاری بیوی بنے گی۔” آپی نے اپنا الٹا ہاتھ پیشانی پر مارتے ہوئے کہا، تو سب کی ہنسی چھوٹ گئی۔
    ”اب ایسی بھی بات نہیں، بہت کیئرنگ اور محبت کرنے والا شوہر ہوں گا میں۔”عظام نے مصنوعی خفگی سے کہا۔
    ”بالکل! مگر اس کے ساتھ ساتھ تمہارے نخرے…” مریم آپی نے نخرے کی”ے” کو لمبا کھینچا تو عظام میرے قریب بیٹھتے ہوئے آہستہ سے بولا:
    ”بہ خوشی اٹھا لے گی میرے نخرے ۔”میں نے مسکرا کے سر جھکا لیا۔




  • برسات

    برسات

    برسات
    اسماعیل میرٹھی

    وہ دیکھو اُٹھی کالی کالی گھٹا

    ہے چاروں طرف چھانے والی گھٹا
    گھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہُوئی

    ہوا میں بھی اِک سنسناہٹ ہُوئی
    گھٹا آن مِینہہ جو برسا گئی

    تو بے جان مِٹّی میں جان آگئی
    زمِیں سبزے سے لہلہانے لگی

    کِسانوں کی محنت ٹِھکانے لگی
    جڑی بُوٹِیاں، پیڑ آئے نِکل

    عجب بیل پتّے، عجب پُھول پھل
    ہر اک پیڑ کا اِک نیا ڈھنگ ہے

    ہر اِک پُھول کا اِک نیا رنگ ہے
    یہ دو دِن میں کیا ماجرا ہوگیا

    کہ جنگل کا جنگل ہرا ہوگیا
    جہاں کل تھا میدان چٹیَل پڑا

    وہاں آج ہے گھاس کا بَن گھڑا
    ہزاروں پُھدکنے لگے جانور
    نِکل آئے گویا کہ مِٹّی کے پَر

    ٭…٭…٭

  • چلتا جا تُو الف نگر میں!

    چلتا جا تُو الف نگر میں!

    چلتا جا تُو الف نگر میں!
    ضیاء اللہ محسن

    چاند چکوری ہوتا بھیّا

    تارے ہوتے گول
    سورج چاچو لمبے ہوتے

    کھمبے گول مٹول
    چُوں چُوں چڑیا چارہ کھاتی

    ٹھک ٹھک بجتا ڈھول
    کہاں ہے ممکن؟ کیسے ممکن؟

    پیارے بھیّا بول
    چلتا جا تُو الف نگر کے بند دروازے کھول
    بول بول تُو من کی باتیں بول
    ہر ایک چیز سہانی ہے

    کیا دلچسپ کہانی ہے
    شانی، مانی بچے ہیں

    اور بچوں کی نانی ہے
    عینک والا اُلّو ہے

    توتلا تیتر تانی ہے
    جگ مگ جَو جَو جگنو بھیّا

    ثمر کی گڑیا ثانی ہے
    بی بی بطخو بڑی سیانی، بات کرے انمول
    بول بول تُو من کی باتیں بول

  • رنگ ریز — قرۃ العین خرم ہاشمی

    ”دنیا میں ایسا کوئی رنگ نہیں بنا ، جو شالارنگ والا کے ہاتھوں میں آکر کھلا نہ ہو ! بابو جمیل میں ایسا رنگ رنگتا ہوں کہ کپڑا خود بھی اپنی قسمت پہ نازاں ہوتا ہے ! اس شہر میں ، مجھ سے زیادہ رنگوں کی صحیح پہچان کسی کو بھی نہیں ہے !”




    شالا رنگ والے نے ہمیشہ کی طرح بہت مان اور فخر سے دعوی کیا ۔جمیل احمد نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا اور اسے کام سمجھانے لگا ۔ وہ پچھلے کئی سالوں سے اپنی ذاتی اور چھوٹی سی بوتیک کا کام لے کر اس کے پاس آ رہا تھا اور وہ جانتا تھا کہ شالا رنگ والے کی بات اتنی غلط بھی نہیں ہے ۔ اس پرانی گلی میں کوئی بھی ایسا رنگ ریز نہیں تھا جو اس کی طرح کا کپڑا رنگتا ہو ۔شالا رنگ والے کے رنگ بہت پکے اور منفرد ہوتے تھے ۔ جمیل احمد نے جب نیا نیا بوتیک کا کام شروع کیا تھا تو اس وقت اس کے پاس بہت محدود بجٹ تھا اور اسی محدود بجٹ میں اس نے گاہک کو بہتر سے بہتر کام مہیا کرنا تھا تاکہ وہ مارکیٹ میں اپنی اچھی ساکھ بنا سکے ۔ اسی لئے ،اس نے دریا کے پل کے پاس آباد ، شہر کے سب سے پرانے بازار کا انتخاب کیا اور بہت تلاش کے بعد بالاخر اسے شالا رنگ والا مل ہی گیا۔پرانی گلی کے سب سے آخر والے کونے میں ٹین کی چھت کے نیچے ،چائے والے کھوکھے کے سامنے وہ بیٹھتا تھا۔ آج سے چھ ، سات سال پہلے وہ تیس کے لگ بھگ تھا۔ سانولا رنگ ،دراز قد، متناسب جسم کے ساتھ وہ اچھی شخصیت کا مالک تھا ۔ نخرہ اس میں بہت تھا ، اپنے ہنر پہ نازاں ، اپنی مرضی کا دام لینے والا اور اپنی مرضی سے کام کرنے والا ۔۔۔۔!
    مگر یہ بھی ضرور تھا کہ اپنا کام بہت دل لگا کر اور ایمانداری سے کرتا تھا ۔خواتین کی عادت ہوتی ہے ، ہر بات میں اعتراض کرنے اور نقص نکالنے کی ، مگر شالا رنگ والا کسی کی نہیں سنتا تھا ۔اگر کوئی نئی آنے والی عورت اس کے زیادہ دام پہ اعتراض کرتے ہوئے کہتی کہ
    ” پورے بازار میں ایک ہی دام مقر ر ہے مگر تمہارے دام سب سے الگ اور زیادہ ہیں !”
    ” پھر آپ کہیں اور سے کام کروا لیں ۔۔! میں اپنے دام کم نہیں کرتا ہوں ۔۔۔!”
    وہ لاپروائی سے کہہ کر اپنے کام میں لگ جاتا ۔کچھ عورتیں تو یہ سن کر چلی جاتیں مگر زیادہ تر اس کی مستقل گاہک تھیں ۔ جو اسکے مزاج سے بہت اچھی طرح واقف تھیں ۔اس لئے سر کھپائی کرنے کے بجائے ، اپنے کام سے کام رکھتی تھیں ۔ شالا رنگ والا ایک بار جس بات پہ بگڑ جاتا ، پھر اسے سمجھانا یا منانا بہت مشکل ہوتا تھا ۔ اس کے رنگوں کی طرح ، اس کی ضد بھی بہت پکی تھی !اپنے بہت پرانے گاہکوں کے ساتھ اس کا مزاج زیادہ تر خوشگوار ہی رہتا تھا ۔ کیونکہ وہ اسے اور اس کے مزاج کو سمجھ کر بات کرتے تھے ۔ اگر شالا رنگ والا کسی سے بہت ہنس ہنس کر بات کر رہا ہو تا تھا تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ آج اس کا موڈ بہت خوشگوار ہے پھر وہ بات بہ بات قہقہ لگاتا تھا ، ہنستے ہوئے اس کے سفید دانت بہت واضح نظر آنے لگتے تھے ۔ مگر اس کے بہت سے ہم عصر اس بات کو غلط رنگ دے کر بیان کرتے کیونکہ وہ اس کے کام اور تھڑے کے سامنے لگے رش سے بہت جلتے تھے اور اسی حسد میں کہتے ؛




    ” اس کے پاس زیادہ خواتین اسی لئے جاتی ہیں کہ وہ انھیں اپنی باتوں میں لگا لینے کا ماہر ہے ! پہلے پہل نخرے دکھاتا ہے اور پھر اپنے مرضی کے دام طے کرتے ہی ، اس کا مزاج بدل جاتا ہے ۔ اب ظاہر سی بات ہے اس طرح ہنس ہنس کر باتیں کرے گا تو سب شہید کی مکھیوں کی طرح اس کے گر د جمع ہی ہوں گی نا!”
    یہ باتیں وہ حریف کرتے تھے جن کے پاس دکان تو بہت بڑی تھی مگر کام بہت کم تھا ۔ جبکہ شالا رنگ والا ایک چھوٹے سے تھڑے پہ ،اپنا کاروبار چمکائے بیٹھا تھا ۔جمیل احمد کو بھی اس کا نخرہ اور غرور نہیں بھایا تھا مگر جمیل احمد کا ، شالارنگ والے کے مزاج سے زیادہ اپنے کام سے مطلب تھا ۔ وہ جس طرح کا کام چاہتا تھا ، وہ شالا رنگ والے سے بہتر کوئی اور نہیں کر سکتا تھا ۔ شالا رنگ والے کے دام اس کی مرضی کے مطابق ہی طے ہوتے تھے مگر جتنا اچھا وہ کام کرتا تھا ، جمیل احمد کو اس کے بتائے دام زیادہ نہیں لگتے تھے ۔ اسی لئے جمیل احمد بہت کچھ دیکھ کر نظرانداز کر دیتا تھا ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جمیل احمد او راس میں ایک انجانا سا تعلق بن گیا تھا۔ جمیل احمد کو یاد ہے کہ آج سے پانچ سال پہلے اس کی شادی ہوئی تھی تو وہ کس طرح تیار ہو کر کام پر آتا تھا ۔ تیل لگا کر اچھی طرح کنگھی کئے ہوئے بال ، صاف ستھرے کپڑے پہنے ، ہر وقت ہلکی سی گنگناہٹ اور ہونٹوں پہ مسکراہٹ رقصاں رہتی تھی جیسے ساون کے دنوں میں ہلکی سی کن من جاری رہتی ہے ۔ جمیل احمد اپنے کام کی وجہ سے زیادہ تر اس کے پاس آیا ہی رہتا تھا اور کافی وقت وہاں گزارتا تھا ۔ اس لئے اب وہ اکثر ادھر ، اُدھر کی باتیں بھی کر لیتے تھے ۔
    ” تم اتنا کماتے ہو ! کسی اچھی سے جگہ کیوں نہیں چلے جاتے ! ” جمیل احمد نے ایک بار عورتوں کے بے پناہ رش میں پڑنے والے دھکوں سے گھبرا کر کہا ۔
    ”بابو جمیل سوچا تو بہت بار مگر وہ کیا ہے کہ !” شالا رنگ والا اپنے کالے اور گھنے بالوں میںہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔
    ”مجھے یاد ہے آج بھی ۔۔۔!!!” اس نے بڑی سی کڑاہی میں گرم پانی میں گھلا رنگ نالی میں الٹایا اور برتن کوپانی سے کھنگال کر ، اس میں صاف پانی ڈالا اور اس کے گرم ہونے کا انتظار کرتے ہوئے کہنے لگا ۔
    ”جب میں نے پہلی بار اپنے ابا کے ساتھ ضد کر کے اس پرانی گلی آیا تھا ۔ تب بھی یہ اسی طرح ہی گنجان و آباد علاقہ تھا۔ میں شاید تب سات یا آٹھ سال کا تھا ۔ ابا نے مجھے اپنے پاس رکھے ٹین کے پرانے ڈبے پہ بیٹھا یا اور گاہکوں کے ساتھ مصروف ہوگئے ۔میں دن بھر اپنے باپ کو مختلف قسم کے لوگوں کے ساتھ رنگوں کے صحیح انتخاب اور امتزاج کے لئے الجھتے دیکھتا رہا ۔ ابا کو اپنے پیسوں سے زیادہ ، لوگوں کے کام کی فکر ہوتی تھی کہ سب کچھ بہترین اور گاہک کی مرضی کے مطابق ہو ۔ ابا نے بھی اپنا کام اسی جگہ سے شروع کیا تھا ۔ وہ اکیلے کام کرتے تھے۔ دن بھر رنگوں کی ڈبیوں کو کھولتے اور بند کرتے رہتے ۔ رات گئے تک یہ سلسلہ چلتا رہتا ۔ میں جو پہلے کچھ دن خاموشی سے سب دیکھتا رہا ۔ بعد میں چھوٹے چھوٹے کاموں میں ابا کی مدد کر وانے لگا ۔ اماں کہتی تھیں کہ ابھی میری عمر نہیں ہے ان رنگوں میں رنگنے کی ! مگر اباکا ماننا تھا کہ ” ہنر سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی ! یہ ایک رنگ ساز کا بیٹا ہے ، اسے رنگوں کو برتنے کا سلیقہ آنا چائیے ۔”
    شالا رنگ والا ، بولنے پہ آتا تو رکتا ہی نہیں تھا ۔ وہ بہت باتونی تھا اس لئے کہ اس کی باتوں میں لفظ ” میں ” بار بار آتا تھا اور اسے اس لفظ سے بہت محبت تھی ، اس لئے کہ اسے اپنی ذات کے بت کو پوجنے کی عادت تھی ۔۔۔۔ ! اپنے ماضی کا ذکر تو خاموش ہونٹوں کو بھی خودکلامی کے رس میں بھگو دیتا ہے ، وہ تو پھر رنگوں میں سانس لینے والا ، زندہ دل آدمی تھا ۔
    ” بس بابو جمیل! اباکی یہ بات دماغ میں ایسی بیٹھی کہ پھر سکول جا کر بھی دل نہیں لگا ۔ بمشکل آٹھ جماعتیں پاس کی اور ابا کے ساتھ کام سنبھال لیا پھر ابا تو گزر گیا مگر اپنی سب ذمہ داریاں اور فکریں میرے کندھے پہ ڈال گیا۔ بس شکر ہے بہت سا کڑا وقت تو گزر گیا ہے ، جو رہ گیا ہے وہ بھی گزر جائے گا !”




  • دادی جان نے دال پکائی

    دادی جان نے دال پکائی

    نویں انعام یافتہ نظم
    دادی جان نے دال پکائی
    سارہ قیوم

    دادی جان نے دال پکائی
    امی، ابو، آپا، بھائی
    ناک بھوں سب نے چڑھائی
    دادی جان نے دال پکائی

    کاش بنائی ہوتی چُوری
    کُنا، بھاجی، حلوہ، پوری
    گھر میں ہوتا کوئی حلوائی
    دادی جان نے دال پکائی

    نہ کوئی زردہ نہ کوئی کھیر
    نہ فالودہ اور پنیر
    نہ کوئی پائے، نہ کوئی پائی
    دادی جان نے دال پکائی

    مزے کی ہوگئی ایسی دال
    ٹپکی سب کی اس پر رال
    اتنے میں موٹی ہمسائی
    بھاگی دوڑی اندر آئی

    ساری دال ہماری کھائی
    میرے اللہ تیری دہائی

  • جواز — امایہ خان

    ”میں بہت جلد واپس آئوں گی۔” نہایت گرم جوشی سے الوداع کہتے ہوئے اس نے بیپ سے رخصت لی۔ اپنے ریستوران کے مالک گرومیل کو اس نے پہلے ہی مطلع کردیا تھا۔ پیزیریا انٹیکا (pizzeria antica)، اٹلی کے شہر بریشیا کے شمال میں واقع تھا اور اسے وہاں ویٹر کی ملازمت کرتے تین ماہ ہوگئے تھے۔ اس مختصر سی مدت میں ہی اس نے اپنی خوش اخلاقی اور زندہ دلی سے سب گاہکوں کو اپنا گرویدہ بنالیا تھا۔ اسی لیے گرومیل ملتانی اس سے بے حد خوش تھا۔ وہ دوسری ایشیائی عورتوں کی طرح مردوں سے ہچکچاتی نہیں تھی بلکہ مسلمان ہونے کے باوجود مغربی لباس پہنتی اور ان ہی کے اطوار اپنائے ہوئے تھی۔ اطالوی زبان پر اُسے مکمل عبور تھا جس کی اہم ترین وجہ شاید بیپ تیمپینی سے دیرینہ تعلقات تھے۔




    گرومیل کئی بار کام ختم ہونے کے بعد اسے تیمپینی کے ساتھ جاتے دیکھ چکا تھا۔ وہ تیمپینی باشندہ تھا۔ پیشے کے لحاظ سے ترکھان اور اس کی عمر پینتیس برس تھی۔ اُس نے موقع دیکھ کر ایک دوبار سمجھانا چاہا۔
    ” تم ابھی کم عمر ہو، کسی بیس اکیس سال کے لڑکے سے دوستی کیوں نہیں کرتیں؟” جس پر وہ خوش دلی سے مسکرا کر بولی:
    ”میں نے اس کی عمر دیکھ کر محبت نہیں کی۔” گرومیل اس جواب پر محض کندھے اُچکا کر رہ جاتا۔ ظاہر ہے وہ اپنی زندگی کے فیصلوں میں آزادی تھی۔ جب اس کے ماں باپ نہیں روک سکے، تو وہ کیا کرسکتا تھا؟ اس کے بعد ملتانی نے کبھی ایسا کوئی سوال نہیں کیا، یہ جاننے کے بعد بھی کہ وہ مستقل طور پر تیمپینی کے گھر منتقل ہوگئی ہے، وہ کچھ نہیں بولا تھا۔
    اس شام تین دن کی رخصت لے کر وہ اس کے ریستوران سے نکلی اور پیدل چلتی ہوئی بیپ کے اپارٹمنٹ تک پہنچی تو وہ اسے دروازے پر ہی مل گیا۔ دو چار اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد وہ جلد واپسی کا وعدہ کرتی وہاں سے روانہ ہوگئی۔ بیپ کو اس نے بتایا تھا کہ فرانس سے کچھ رشتہ دار ملنے کے لیے آئے ہیں اور اس کا باپ چاہتا ہے وہ خود ان کے لائے ہوئے تحائف وصول کرے ، اس لیے وہ جارہی تھی۔ اپنے والدین اور رشتہ داروں سے مل کر اسے کل شام تک واپس آجانا تھا۔ اپنی چھٹی کا تیسرا دن وہ صرف بیپ کے ساتھ گزارتی مگر ایسا نہ ہوا۔
    دوسرا اور پھر تیسرا دن بھی یونہی گزر گیا، اس کی کوئی خیر خبر نہ آئی۔ عموماً بیپ اس سے ان دنوں میں خود سے رابطہ نہیں کرتا تھا جب وہ اپنے والدین کے ساتھ ہوتی تھی، لیکن اب مجبوری تھی۔ وہ اس کے لیے مزید فکر مند تب ہوا جب لاکھ کوشش کے باوجود بھی موبائل پر اس سے رابطہ نہ ہوسکا۔ اس کا فون مسلسل آف تھا۔
    چوتھے دن کا سورج غروب ہوتے ساتھ ہی بیپ کا صبر جواب دے گیا۔ اس نے پولیزیا میں شکایت درج کی جنہوں نے ابتدائی تفتیش کے بعد carbeneria کو حنا کی گمشدگی کی اطلاع کردی۔ انہیں شک تھا کہ بیپ کی لِٹل ڈول کو اس کے باپ نے کہیں غائب کردیا ہے۔
    ٭…٭…٭




    ”باجی مجھے بس دو منٹ بات کرنی ہے صفیہ سے، مجھے گوجرانوالہ کا یہ نمبرملادیں۔”
    اس کی منت بھرے انداز میں کی گئی درخواست کو رد کرنا رباب کے لیے آسان نہیں تھا، مگر پھر بھی اس نے کہا۔
    ”تمہارا شوہر پھر چلائے گا یہاں آکر، اسی لیے دلاور نے منع کیا ہے کہ میں تمہاری کوئی مدد نہ کروں۔”
    ”اچھا! تو پھر یہ بیلنس ڈلوادیں فون میں۔” اس نے ڈوپٹے کے پلّو میں بندھے چند مڑے تڑے نوٹ اور سِکے نکال کر اس کے سامنے میز پر رکھ دیے۔ رباب کو اچھی طرح اندازہ تھا کہ بشریٰ نے یہ معمولی رقم بھی کس مشکل سے جمع کی ہوگی، اس کا دل پسیج گیا۔
    ”رہنے دو، آئو بات کروادیتی ہوں۔”
    ”شکریہ جی! لیکن بتایئے گا نہیں آپ دلاور بھائی کو، سلیم کو پتا لگا، تو میری ہڈی پسلی ایک کر دے گا۔”
    ”ٹھیک ہے! نہیں بتائوں گی لیکن جلدی بات ختم کرنا۔” رباب نے ریسیور کان سے لگا کر اس کے ہاتھ سے پرچہ لیا اور نمبر ملانے لگی۔ کال ملا کر دینے کے بعد وہ خود وہاں سے ہٹ گئی۔ دس منٹ بعد جب وہ واپس آئی تو منظر حسبِ توقع ہی تھا۔ بشریٰ ہمیشہ کی طرح دوپٹے میں منہ چھپا کر رو رہی تھی۔
    ”مجھے بھی لے جا اماں، یہاں نئیں رہنا… مینوں لے جا۔” اپنی بیٹی کی وہی پرانی گردان سن کر بشریٰ کے آنسو بہے چلے جارہے تھے۔ رباب کو بہ یک وقت دونوں ماں بیٹی پر غصہ بھی آیا اور ترس بھی۔
    ”بس فون ملانے کا شوق ہے، بات تو کرتی نہیں ہے بیٹی سے۔” وہ بڑبڑاتی ہوئی بشریٰ کے نزدیک آئی جو آہستگی سے ریسیور واپس رکھ رہی تھی۔
    ”کیا ہوا؟ بات کیوں نہیں کی؟”
    ”کرلی جی!” بشریٰ نے ہاتھ کی پشت سے آنسو پونچھے اور جانے کے لیے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
    ”بہت مہربانی جی! اللہ آپ کو جزا دے۔” اُس نے جاتے ہوئے کہا اور رباب اُس کی دعا پر محض سرہلا کر رہ گئی۔
    ٭…٭…٭
    ”وائی ال انفرنو” (go to hell)” فلورا نے حقارت سے گھورتے ہوئے اسے جہنم میں جانے کا مشورہ دیا اور وہ ڈھٹائی سے مسکراتا اپنی میز کی جانب بڑھ گیا، جیسے بس یہی سننے کے لیے کھڑا ہو۔ چار سال میں اسے اب اتنی اطالوی زبان تو سمجھ آنے لگی تھی مگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا تھا۔ کچھ دن پہلے ہی اس نے پرانے ریستوران سے دھکے دے کر نکالے جانے کے بعد یہاں آنا شروع کردیا تھا۔ تب سے اس کا معمول تھا کہ ریستوران میں داخل ہوتے ہی فلورا کے پاس کائونٹر پر جاکر اسے چھیڑتا۔
    ”میں تمہارے ساتھ رات گزارنا پسند کروں گا…”vogho dormise con teاس فقرے کو بھی وہ کئی دنوں کی لگاتار محنت کے بعد یاد کرپایا تھا۔ وہ اسکول کے زمانے سے ہی سبق یاد کرنے میں بڑا ”ماٹھا تھا۔” تب ہی تنگ آکر چوتھی کے بعد ماسٹر صاحب اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے گھر چھوڑ آئے تھے۔ جس کے بعد اس نے ابا کے ساتھ باڑے پر وقت دینا شروع کردیا۔ ابا کے پاس چھے بھینسیں تھیں۔ ان کا دودھ گائوں کے گھر گھر پہنچایا جاتا، وہ بھی ابا کے ساتھ لگ گیا۔ ابا تو ویسے بھی اس کی پڑھائی کے حق میں نہ تھا۔ یہ تو بے چارے اسکول ماسٹر صاحب کا شوق تھا جو زبردستی بچوں کو پکڑ پکڑ کر پڑھنے بٹھاتے۔ انہوں نے کتنے ہی بچوں کو پڑھا یا لیکن سلیم نے ایسا زچ کیا کہ خود ہی تنگ آکر گھر چھوڑ آئے۔
    میلان پہنچ کر کئی مواقع پر اسے اپنی تعلیم سے عدم توجہی پر پچھتاوا ہوا۔ اگر وہ ٹوٹی پھوٹی انگریزی ہی بول پاتا تو شاید اسے ایسی مشکل پیش نہ آتی۔ اَسّی نوے کی دہائی سے اٹلی کی حکومت کی آسان پالیسیوں کی بہ دولت سینکڑوں پاکستانی روزگار کے حصول کی خاطر اپنا وطن چھوڑ کر آتے رہے تھے۔ سلیم بھی اپنی تمام تر نالائقیوں کے باوجود کام حاصل کرنے میں کام یاب ہوگیا۔ فیکٹریوں میں زیادہ تر سِکھ سپروائزر تھے جن سے مشینوں کا کام سمجھنا مشکل نہ تھا۔ تکلیف تو رہائش، کھانے پینے اور ملنے جلنے میں تھی۔
    میلان میں کچھ عرصہ گزار کر اب وہ بھی دیگر پاکستانیوں کی دیکھا دیکھی بریشیا شفٹ ہوگیا تھا۔ یہاں جنوبی ایشیا سے آئے مسلمانوں کی تعداد روز بہ روز بڑھ رہی تھی۔ زیادہ تر کا تعلق غریب اور ان پڑھ طبقے سے تھا اور غیر قانونی طریقے سے آئے پاکستانیوں کو بھی قدرے کم معاوضے پر کام مل جاتا تھا۔ ملازمت دینے میں بہت فیاض مگر عزت دار شہری کی حیثیت سے انہیں تسلیم کرنے میں اطالوی معاشرہ نہایت تنگ دل ثابت ہوا۔
    دن رات گدھوں کی طرح کام میں مصروف رہنے کے بعد بدبودار پسینے میں شرابور، گندے کپڑوں میں ملبوس مزدوروں کا ریستوران میں گھس آنا میلان کے نازک طبع شہریوں کو بے حد گراں گزرتا تھا۔ حال تو بریشیا میں بھی کم و بیش یہی تھا۔ مقامی لوگ ان سے کراہت محسوس کرتے لیکن زیادہ تر خوف کھاتے تھے، اسی لیے میل جو ل بڑھانے سے گریز کرتے تھے۔ ویسے ہی ان کے پاس تفریح کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے۔ نائٹ لائف انجوائے کرنے کے لیے زیادہ تر کے پاس فاضل رقم نہ ہوتی اور جن کے پاس ہوتی ان کے انداز و اطوار دیکھ کر کوئی گھاس بھی نہیں ڈالتا تھا۔
    سلیم یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ فلورا کبھی اثبات میں جواب نہیں دے گی۔ اس کے باوجود وہ محض تنگ کرنے کے لیے یہ فقرہ اسے بلاناغہ سنایا کرتا۔ پہلے پہل تو اس کے ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں بولے گئے اطالوی فقرے کو فلورا سمجھ ہی نہ پائی اور اسے نظر انداز کردیا، مگر جب ہر روز ریستوران کا چکر لگانا اور خاص طور پر فلورا کے نزدیک آکر یہ جملہ کہنا اس کا معمول بن گیا تب اسے توجہ دینا پڑی اور جب اُسے سمجھ آیا کہ سلیم اُسے رات گزارنے کی پیشکش کررہا ہے تو وہ غصے میں آگ بگولا ہوگئی۔ مجبوری یہ تھی کہ ویٹرس کی حیثیت سے اسے ریستوران میں آئے گاہکوں سے بدلحاظی کی اجازت نہ تھی۔ تنگ آکر اس نے ریستوران کے مالک سے شکایت کردی جس نے اسے خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ یعقوب، جو کچن میں صفائی ستھرائی پر مامور تھا، کو بلوا کر سلیم کو دھمکی دی گئی کہ اگلی بار معمولی سی شکایت پر اسے فی الفور ہراساں کرنے کے الزام میں پولیزیا کے حوالے کردیا جائے گا۔ یعقوب نے نہایت واضح الفاظ میں اسے وہاں آنے سے ہی منع کردیا جس کے بعد سلیم نے دوبارہ اس ریستوران کا رُخ نہیں کیا، وہ کہیں اور جانے لگا۔
    ٭…٭…٭




  • چچا غالب طلبا کی نظر سے — عائشہ تنویر

    چچا غالب کو کون نہیں جانتا؟ ادب کا ذوق تو ہر ایک کو نہیں ہوتا، لیکن اردو لازمی پڑھنے والوں کے لئے بھی غالب وہ چچا ہیں جو ہر وقت بھتیجے، بھتیجیوں کی جان کے درپے رہتے ہیں۔
    میٹرک میں ان کے خطوط، اسلوب، شاعری کی تشریح پر جان کھپائی تو، اور آگے جا کر ان کی شاعری کے حسنِ بیان و خواص کو بھی سراہا۔ یہ غالب ہی ہیں جنہوں نے کتنے فیل ہونے والوں کو بچایا ہے اور پاس ہونے والوں کو فیل کرایا ہے۔




    سچ تو یہ ہے کہ طلبا تو پھر طلبا ہی ہوتے ہیں، لیکن اردو ادب کے نقاد بھی غالب کے لئے متضاد آرار رکھتے ہیں۔ کوئی ان کی نثر کا قائل ہے، تو کوئی ان کی شاعری کا دلدادہ ہے۔ نیرنگ خیال کے تو کیا ہی کہنے مگر کوئی ہم سے پوچھے تو ہم تو غالب کی پسند کو پسند کرتے ہیں۔ جی ہاں! آم جن کے بارے میں غالب اور ہماری رائے یکساں ہے کہ "آم ہوں اور بے حد ہوں”
    عموماً سائنس کے طلبا جو محض کسی خاص پیشے میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، چچا غالب ان کے لئے کسی خوف سے کم نہیں، قصور اس میں چچا کا بھی نہیں کہ طلبا ہی دھیان سارا اپنے ان مضامین پر دیتے ہیں جن کا امتحان ہونا ہو اور لازمی مضامین میں دلچسپی نہیں رکھتے اور یہاں غالب کی انا کے کیا کہنے، بے توجہی تو انہیں گوارا نہیں۔ اپنی ذات کا غرور تو ان کا خاصہ ہے کہ خود فرماتے ہیں:
    ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
    کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور
    جب خود شناسی کا یہ عالم ہو تو طلبا پر وہ کیوں کر رحم کریں گے؟ سو نمبر کم کروا کر طلبا کا دل دکھاتے ہیں۔ اسی لئے طلبا غالب سے خائف ہی رہتے ہیں۔
    ویسے یہ بات تو ہمارے والدین اور اساتذہ کے سوچنے کی ہے کہ ایک طرف ہمیں عاجزی کا سبق دیتے ہیں، عشق معشوقی سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں تو دوسری جانب غالب پڑھاتے ہیں جو خود فرماتے ہیں:
    عشق نے غالب نکما کر دیا
    ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
    سو اگر ہماری نئی نسل کا پسندیدہ مشغلہ عشق و عاشقی ہو، تو ان سے کیا شکوہ؟ ابھی تو یہ شکر ہے کہ غالب کے اشعار طلبہ کو من و عن سمجھ ہی نہیں آتے اور بہت سے معنی و مفہوم کے مبہم رہ جانے کے سبب وہ محبوب کے پیچھے غالب کی طرح خوار نہیں ہوتے، بلکہ "ایک جائے گا تو دوسرا آئے گا” کے قائل ہیں۔
    کچھ دن پہلے ہمارا ایک محفل میں جانا ہوا۔ وہاں چند طلبا بیٹھے خدا جانے غالب کے اشعار کی گہرائی میں اترنا چاہتے تھے یا اس سے انتقام لینا چاہتے تھے، ہم جان نہ سکے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ ان کی تشریحات اتنی "گہری” تھی کہ شعر خود اس میں ڈوب کر مر گیا۔
    چند تشریحات آپ کو بھی سناتے ہیں، کیا معلوم آپ کو امتحان میں ضرورت پڑ جائے۔
    شعر عرض کیا:
    کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
    ہائے اس زود پشیمان کا پشیمان ہونا




    اب خوب صحت کے حامل ایک طالب علم کے، جن کی جسامت دیکھ کر قتل تو دور کی بات انہیں گھورتے بھی ڈر لگے، بولنا شروع ہوئے.
    ” دراصل شاعر اس شعر میں اس بلی جیسے قاتل کی حالتِ زار پر روشنی ڈال رہے ہیں، جو نو سو چوہے کھا کر حج کو چلی تھی۔ اب قاتل صاحب بھی جب ایک بندے کو قتل کرنے پہنچے تو وہ باتوں میں ماہر تھا۔ اس نے قاتل کو سیدھی راہ دکھانے کو یوں دل پذیر تقریر کی کہ قاتل کو بھی اپنی عاقبت سنوارنے کا خیال آیا لیکن اس نے اپنے آخری شکار کو کہا:
    "جناب باتیں آپ کی ساری درست ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میں تو آپ کے قتل کا ایڈوانس لے کر رنگ والے کو دے بھی چکا، نیا گھر بس تیار ہے، تھوڑی بہت آرائش باقی ہے.اب ایڈوانس واپس تو کر نہیں سکتا تو آپ کو تو مرنا پڑے گا۔ آئندہ کے لئے میں توبہ کرتا ہوں۔ پکا وعدہ کہ آپ کی آخری خواہش کا احترام کیا جائے گا۔”
    اب مقتول میاں اپنی حالت زار پر خوب روئے کہ کیا ہوتا اگر قاتل نے ایڈوانس نہ کھایا ہوتا، یا ان کے محبوب نے ہی یہ کام اس قاتل کا گھر مکمل ہونے کے بعد اسے سونپا ہوتا۔ کچھ تو بچت کی راہ نکل آتی۔ اب تو مرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ساری محنت اور تقریر رائیگاں گئی۔
    ہائے تیری پشیمانی میرے کسی کام کی نہیں۔
    ابھی ہم ان پہلوان کی تشریح کی تشریح ہی کر رہے تھے کہ ان کا دوسرا ساتھی بولا:
    "میں تو یہ کہتا ہوں کہ آخر لوگ اس طور تحقیق کیوں نہیں کرتے کہ غالب کی موت طبعی نہ تھی۔ دھمکیاں تو عرصے سے مل رہی تھیں۔ آخر ایک دن ایک با ذوق نے عقیدت رکھنے کے باوجود پاپی پیٹ کے لئے ان کی جان لے لی۔”
    ان صاحب کا تعلق یقینا کراچی سے تھا اور ارادہ بھی پولیس میں جانے کا تھا، تب ہی تو شعر سے تفتیش کا آغاز کیا۔
    ان کی بات سُن کر ہم غالب کے دور کے امن و امان کے مسائل کے بارے میں سوچ ہی رہے تھے کہ کسی ٹی وی پروگرام کے شوقین نے بروقت مداخلت کی۔
    "ارے چھوڑو یار، تم شبیر سے پوچھ لو، کوئی جانے نہ جانے شبیر تو جانتا ہو گا ناں، اس کی معلومات غضب کی ہیں، تم ذرا مجھے اس دوسرے شعر کے معنی سمجھاؤ۔
    آہ کو چاہئے اک عمر اثر ہونے تک
    کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک
    "ہممم!!!”
    بہت دیر سوچ بچار کے بعد ایک عاشق گویا ہوئے:
    "دراصل تم اس بات کو یوں لو کہ اب دلی وِلّی کو تو ہم جانتے نہیں، لیکن سر نے کہا تھا غالب کی شاعری زمان ومکان سے آزاد ہے۔”




  • ہڑپہ اور موہنجو دڑو کی کہانی

    ہڑپہ اور موہنجو دڑو کی کہانی

    ہڑپہ اور موہنجو دڑو کی کہانی
    کہانی بڑی پرانی!
    سمیع اللہ حامد۔ بحرین

    اِدھر آؤ بچو! کہانی سنو!
    کہانی ہماری زبانی سنو!

    کہانی یہ ماضی کی سوغات ہے
    یہ صدیوں پرانی ملاقات ہے

    کنارے پہ راوی کے اِک ملک تھا
    اور آباد و خوش حال، اچھا بھلا

    بنے تھے ہر اِک سمت پکے مکاں
    سرِ شام اُٹھتا تھا جن سے دھواں

    وہاں منڈیاں اور بازار تھے
    کساں تھے، جولاہے تھے، کمہار تھے

    بنے تھے فِصیلوں پہ کچھ دَمدمے
    کہ جلتے تھے شب بھر وہاں قمقمے

    وہاں کا جو تھا بادشاہ دوستو!
    وہ رکھتا تھا سب پر نگاہ دوستو!

    ہری رُوپا تھا اُس کی بیٹی کا نام
    کِیا کرتی تھی سلطنت کے وہ کام

    وہ شہزادی قدرت کا اظہار تھی
    وہ حُسن و ذہانت کا شہکار تھی

    رعایا تھی خوش اُن سے بے انتہا
    وہ کرتے تھے جاں اپنی اُن پر فدا

    کہیں دُور بہتا تھا دریا ”سواں”
    وہاں کا تھا شہزادہ موہن جہاں
    تھا شہزادہ موہن بہت خُوبرو
    نہایت بہادر، بڑا جنگ جُو

    یونہی ایک دن اُس نے یہ ٹھان لی
    کروں کیوں نہ میں سیر ہر ملک کی

    اجازت جو گھر والوں سے مل گئی
    تو موہن کے دل کی کلی کِھل گئی

    کہا اُس کی امّی نے بیٹے مرے!
    سپاہی بھی کچھ ساتھ ہوں گے ترے

    کمر بستہ سب تھے سفر کے لیے
    پھر اِک دن سفر پر سبھی چل پڑے

    تھکن سے وہ گرتے سنبھلتے رہے
    مگر سب مسلسل ہی چلتے رہے

    اسی طرح سیّاحوں کے بھیس میں
    وہ پہنچے ہری روپا کے دیس میں

    وہیں اک سرائے میں رہنے لگے
    ہے اچھی جگہ، سب یہ کہنے لگے

    کبھی گھومنے جاتے گُل زار میں
    کبھی پھرتے دن بھر وہ بازار میں

    وہ دولت بھی لے آئے تھے ساتھ ہی
    سبھی نے خریداری جی بھر کے کی

    انھوں نے خریدے کچھ اوزار بھی
    لیے سیپیوں سے بنے ہار بھی

    سبھی نے خریدیں نئی کنگھیاں
    جو ہاتھی کے دانتوں سے بنتی تھیں واں
    ہر اِک نے پسندیدہ محفل چُنی
    کچھ اپنی سنائی، کچھ اُن کی سنی

    نہ جانے خبر کس طرح اُڑ گئی
    کہ موہن نہیں عام سا آدمی

    وہ جو دور بہتا ہے دریا ”سواں”
    وہاں کا ہے شہزادہ موہن جہاں

    خبر جب یہی بادشاہ کو ملی
    تو فوراً ہی دوڑائے دو ایلچی

    محل میں پھر اُس نے بلایا انھیں
    مزے دار کھانا کھلایا انھیں

    سبھی نے پھر اُن سے ملاقات کی
    انھی سب میں رُوپا بھی موجود تھی

    چلا اُن کی باتوں کا اِک سلسلہ
    تو رُوپا نے بھی اِس میں حصہ لیا

    جو موہن سے رُوپا نے کی بات چیت
    لگا اُس کو جیسے وہ گاتی ہو گیت

    کِیا دل میں موہن نے اِک فیصلہ
    قریب آکے پھر بادشاہ سے کہا

    اگر آپ کی ہو اجازت حضور!
    تو رُوپا کو دلہن بناؤں ضرور

    سبھی کو پسند آئی موہن کی ذات
    ہوئی پکی یوں اُن کے رشتے کی بات

    رہے اُس جگہ کچھ دن آرام سے
    تھی آزادی سب کو ہر اِک کام سے
    محل ہی میں سب نے گزارے وہ دن
    تھے سوچوں سے بھی بڑھ کے پیارے وہ دن

    جدائی جو گھر کی ستانے لگی
    وطن کی انھیں یاد آنے لگی

    پھر اِک دن وہ رختِ سفر باندھ کر
    چلے، کیونکہ لمبا تھا اُن کا سفر

    لیے سب نے جب خوب آنسو بہا
    تو موہن نے فوراً ہی اُن سے کہا

    میں واپس نہ آئوں، مری کیا مجال
    کریں گے یہ شادی ہم اگلے ہی سال

    مسافت تھی اُن کی بہت ہی طویل
    سفر اُن کو درپیش تھا چھے سو میل

    اکہتر دنوں میں وہ پہنچے وطن
    تھکاوٹ سے تھے چُور اُن کے بدن

    جو آئے ملاقات کرنے سبھی
    سنی پھر کہانی ہری رُوپا کی

    وہ موہن کی منگنی پہ خوش ہو گئے
    خیالوں میں شادی کے وہ کھو گئے

    مگر باپ نے یہ کِیا فیصلہ
    میں خود جائوں گا لے کے اِک قافلہ

    کِیا بادشاہ نے جو عزمِ سفر
    تو ہنستی تھی اُس پر قضا و قدر

    ہری رُوپا کے دیس پہنچا وہ جب
    وہاں اُس نے نظّارے دیکھے عجب

    کہ وہ سب تھے خوش حال بے انتہا
    ملا تھا انھیں مال بے انتہا
    بہت خوش ہوئے اُن کی آمد سے لوگ
    انہیں کیا پتا تھا کہ کل ہو گا سوگ

    رہے اُن کے مہمان خانے میں وہ
    معزز تھے کیونکہ زمانے میں وہ

    ہوئی بادشاہ کی جو نیّت خراب
    تو حملے کا اُس نے کیا اِرتکاب

    مکینوں کو تلواروں پر دھر لیا
    نہتوں کو بھی قتل اُس نے کِیا

    ہری رُوپا کے والد اور والدہ
    نہ تھی اُن کے بچنے کی کوئی جگہ

    غرض خون اُس نے بہایا بہت
    ڈرایا بہت اور ستایا بہت

    جو دریائے راوی نے دیکھا ستم
    تو غصے میں وہ آگیا ایک دم

    بہاؤ کا رُخ اُس نے موڑا اِدھر
    جہاں پر تھا واقع ہری کا نگر

    درختوں کو ٹیلوں کو ڈھاتا ہوا
    پرانی فصیلیں گِراتا ہوا

    وہ داخل ہوا اُس طرح شہر میں
    کہ طغیانی تھی اُس کی ہر لہر میں

    تھی رفتار اُس کی بہت تند و تیز
    درندہ ہو جیسے کوئی خون ریز

    وہ آبادیوں کو کچلتا گیا
    ہر اِک شے کو گویا نگلتا گیا
    جہاں تھے کبھی کچے پکے مکاں
    وہاں اب تھا ہر سمت پانی رواں

    جو موہن کو پہنچی یہی داستاں
    تو لُٹ ہی گیا اُس کے دل کا جہاں

    وہ گھبرا کے دریا ”سواں” پر گیا
    بالآخر وہیں ڈوب کر مر گیا

    خفا ہو گیا واں بھی دریا سواں
    تو دہرائی اُس نے وہی داستاں

    پھنسا ملک موہن کا گرداب میں
    ہوا غرق سارا ہی سیلاب میں

    یہ دونوں وطن مٹ گئے اِس طرح
    کہ موجود تھے ہی نہیں جس طرح

    سنو پیارے بچو! سناتا ہوں میں
    کہانی کا مقصد بتاتا ہوں میں

    ہڑپہ جسے آج کہتے ہیں سب
    ہری رُوپا لڑکی ہے اِس کا سبب

    وطن تھا جو موہن کا اے دوستو!
    اُسے کہتے ہیں اب موہنجو دڑو

    ہُوا ساتھیو! اب یہ قصّہ تمام
    کہ دنیا کو حاصل نہیں ہے دوام

    کوئی بھی ہمیشہ نہ رہ پائے گا
    کسی روز حامد بھی مر جائے گا

    یہ دنیا بھی کیا ہے، فقط خار و خس
    ہے اللہ بس اور باقی ہَوس
    ٭…٭…٭

    مشکل الفاظ
    1۔ فِصیلیں (دیواریں)
    2۔ دمدمے (مورچے)
    3۔ خوبرو (خوبصورت)
    4۔ رختِ سفر (سفر کا سامان)
    5۔ ارتکاب (غلط کام)
    6۔ طغیانی (سیلاب)
    7۔ خون ریز (خون بہانے والا)
    8۔ دوام (ہمیشہ)
    9۔ خاروخس (کانٹے اور گھاس)
    نوٹ
    پیارے دوستو! اس ”نظم کہانی” کو غور سے پڑھیں اور پوری کہانی کو اپنے ذہن میں دہرا کر اس کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیں۔