آئیں مل کر سارے بچے
کام کریں اب اچھے اچھے
مل جل کر تم رہنا سیکھو
بن جاؤ تم سچے بچے
لڑنا اچھی بات نہیں ہے
لڑتے نہیں ہیں اچھے بچے
کہنا بڑوں کا ہر دم مانو
بن جاؤ گے اچھے بچے

چج دوآب کی لوک کہانی
مور پنکھ
محمد ندیم اختر
بچوں کے ادیبوں پر تحقیقی میگزین ”سہ ماہی ادبِ اطفال” کے منتظم اور مدیر جناب ندیم اختر لیہ میں پیدا ہوئے۔ دورانِ تعلیم بچوں کے لیے کہانیاں لکھنے کا آغاز کیا، گزشتہ 22 سال سے ادب سے وابستہ ہیں، مختلف رسائل میں قلمی جوہر دکھائے، نمایاں خوبی یہ کہ بچوں کے ادب کی ترویج و اشاعت میں انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ تین کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ الف نگر کے لیے یہ ان کی پہلی کاوش ہے۔
کہتے ہیں چج دو آب میں مور پنکھ نام کا ایک بچہ رہتا تھا۔ وہ بہترین بانسری بجاتا تھا۔ اس کی بانسری سن کر لوگ سر دھنتے رہ جاتے۔ مور پنکھ اکثر اپنے ماں باپ سے چج دو آب (دریائے جہلم اور چناب کا درمیانی علاقہ) کے رہن سہن کے بارے میں پوچھتا، اس کے اماں باوا بتاتے کہ پتر تُو یہ جس سوکھے دریا کو دیکھ رہا ہے، اصل میں یہ دریائے چناب ہے، جو کبھی روانی سے بہتا تھا۔
وہ سامنے والے درختوں کے نیچے کشتیوں کا پتن (کشتی کھڑی کرنے کی جگہ) ہوتا تھا جہاں سے ہم سب بستی والے کشتی میں بیٹھ کر دریا پار کرتے تھے۔ اس دریا میں بہار کے موسم میں مور پنکھ آیا کرتے تھے، بہت خوب صورت پرندہ تھا۔ اب تو نجانے کہاں گئے وہ ”مور پنکھ” کبھی دیکھے ہی نہیں۔
”بابا! یہاں مور پنکھ اب کیوں نہیں آتے؟” ایک دن ننھے مور پنکھ نے اپنے باوا سے پوچھا۔
”پتر! مور پنکھ پانی کی سرزمین پر اترتے ہیں، وہ یہاں دریا پر آتے تھے لیکن جب دریا خشک ہو گیا تو وہ بھی آنا بند ہوگئے۔ شہر کے لوگ جو انہیں دیکھنے آتے تھے انہوں نے بھی آنا بند کر دیا۔ ملتان کے نواب یا مظفرگڑھ کے بڑے زمیندار اور ان کے بچے اپنی بگھیوں پر کشتیوں کے پتن تک آتے، ملاح انہیں کشتیوں پر اس کنارے لاتے اور اُن کی مہمان نوازی کرتے۔ وہ سارا سارا دن یہاں رہتے، اُن کے لیے مچھلی پکتی تھی۔
جب انہوں نے دیکھا کہ دریا میں اب اتنا پانی نہیں آتا اور نہ ہی ”مور پنکھ” آتے ہیں تو شہر کے لوگوں نے ہماری اِس بستی میں آنا چھوڑ دیا۔” باوا حشمت نے اُسے مکمل تفصیل بتائی۔
”چلو خیر ہے ابّا! مور پنکھ نہیں آتے تو کیا ہوا؟ میں بھی مور پنکھ ہی ہوں نا!”
وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
”پتر !تمہارے دادا حضور بخش نے بڑی محنت سے ایک کشتی بنائی تھی، جب اُن کے بازوئوں میں طاقت تو کشتی کا چپو میرے حوالے کر دیا گیا۔ میں ان شہروالوں کو پتن سے یہاں لاتا تھا ، مجھے سب لوگ جانتے تھے اور مور پنکھ پرندے بھی مجھ سے مانوس تھے کیوں کہ میں راتوں کو پانی میں اتر کر ان کے لیے ”دیے”جلایاکرتا تھا ، وہ دریا سے مچھلی پکڑتے اور پانی میں تیرتے تھے پھر ایک دن ایک انگریز افسر آیا تھا، اُسے کہتے سنا کہ یہ پرندہ کہیں دور برف کی وادی سائبریا سے اُڑان بھرتا ہے اور سردیاں نکل جانے پر دوبارہ چلا جاتا ہے۔”
”ابّا! کیا دریا اب خشک ہی رہے گا؟” مور پنکھ کچھ پریشان ہوگیا تھا۔
”ربّ کرے یہ دوبارہ آباد ہو پھر مور پنکھ بھی لوٹ آئیں گے اور یہاں کی وہ پہلے والی رونق بھی۔” باواحشمت نے ایک آہ بھر کر کہا۔
”ابّا! آپ نے میرا نام مور پنکھ کیوں رکھا؟” اس کے ننھے دماغ نے سوال کیا۔
”پتر! جب دیکھا کہ اب مور پنکھ یہاں کبھی نہیں آئیں گے تو ہم مایوس ہوگئے اور پھر اِس دوران تم پیدا ہوئے تو اس پرندے کی یاد میں ہم نے تمہارا نام ”مور پنکھ” رکھ دیا۔” ابّا نے پیار سے بتایا۔
مور پنکھ سر ہلاتا، بانسری بجاتا، اپنی بکریوں کو دریا کنارے چراگاہ پر لے گیا۔ ساتھ وہ اپنے باوا کی باتوں کو یاد کرتا ۔ ایک دن وہ اپنے باوا کے ساتھ ”مولتان” (ملتان کا پرانانام) گیا۔ وہ لوگ بوہڑ گیٹ کے اندر داخل ہوئے تو راستے میں اسے تصویروں والی ایک کتاب ملی جو پھٹی ہوئی تھی ۔ اس نے جھٹ سے اٹھا لی۔
گھر آکر اس نے کتاب دیکھی تو حیران رہ گیا۔ اس میں دریا، کشتی اور کنارے پر پھول دار باغیچے تھے جہاں بہت سے لوگ گھومتے نظر آئے۔ تصویر میں لگ رہا تھا کہ لوگ کشتی میں بیٹھنے کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس سے اگلے صفحے پر لوگوں سے بھری کشتی دریا کے وسط میں تھی اور ملّاح چپو چلا رہا تھا۔
مور پنکھ کو یہ تصویریں بہت خوب صورت لگیں۔ اس نے کتاب کا اگلا ورق دیکھا تو وہاں دریا کنارے ایک کچی دکان نظر آئی جہاں مچھلیوں کا ڈھیر پڑا تھا۔ اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔ کتنے دن ہو گئے اس نے مچھلی نہیں کھائی تھی۔ ابھی انہی خیالوں میں گم تھا کہ اس کے ہاتھ سے کسی نے کتاب پکڑ لی۔ وہ اس کی امّاں تھی۔
”پتر مور پنکھ! یہ کیا ہے ؟” اماں کتاب دیکھنے لگی۔
”اماں! کتنی خوب صورت تصویریں ہیں، کیا ہمارا دریائے چناب ایسا ہی خوب صورت ہوتا تھا؟” مور پنکھ نے اماں سے پوچھا۔
”ہاں پتر! جس طرح ان تصویروں میں دریا کے اندر پانی ہے، ایسے ہی ہمارے ”دریا بادشاہ” میں پانی ہوتا تھا اور اس کے کنارے سر سبز گھاس کی چادر ہوا کرتی تھی۔ تیرے باوا کی کشتی اس گھاس والے کنارے کے ساتھ آ کر کھڑی ہوتی تھی۔” امّاں نے بڑی حسرت سے تصویریں دیکھ کر اسے بتایا۔
”اماں! اگر میں اس کنارے پر درخت لگا لوں اور بازار سے مچھلی لا کر یہاں فروخت کروں، ساتھ ساتھ پھولوں والی کیاریاں بھی بنا لوں تو کیا لوگ دوبارہ یہاں آئیں گے؟” مور پنکھ نے معصومیت سے پوچھا۔
”ہاں، کیوں نہیں پتر!” امّاں مسکرا دی۔
”تو پھر آپ باوا سے بات کریں نا!” مور پنکھ نے اماں سے درخواست کی۔
”ٹھیک ہے، شام کو ہم تمہارے باوا سے بات کریں گے۔” امی نے مور پنکھ سے وعدہ کیا۔ پھر شام کے وقت وہ سب صحن میں بیٹھے تھے۔ مور پنکھ کی اماں بولی:
”مور پنکھ کے باوا! میں نے ایک منصوبہ سوچا ہے۔”
”بھلا وہ کیا منصوبہ ہے؟” باوا نے پوچھا۔
”گھر میں جو اتنی بکریاں ہیں، ان میں سے اگر تین بکریاں بیچ دی جائیں تو ہمیں مور پنکھ کی خواہش پوری کرنے کے لیے پیسے مل سکتے ہیں۔” اماں نے مکمل تفصیل سے منصوبہ بتایا۔
”ہاں یہ ہو سکتا ہے، میں نے کبھی اس بارے میں سوچا ہی نہیں کہ ان بکریوں سے ہم اپنے مور پنکھ کی خوشی خرید سکتے ہیں۔” باوا نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔
”اور ہاں! وہ اللہ وسایا کی زمین ہے نا! جو آدھی دریا برد ہو چکی ہے۔ اس سے بات کرتا ہوں، اگر وہ مان گیا تو ہم وہاں مچھلی کا کام شر وع کریں گے۔ ہم آنے والے بدھ کو قریبی قصبے میں لگنے والی مویشی منڈی میں اپنی بکریاں بیچ دیں گے۔ شہر میں ایک مچھلی فروش میرا واقف ہے۔ اس سے بات کروں گا کہ وہ فارم کی مچھلی ہمیں فراہم کر سکے۔ یوں لوگ دریا کی سیر کرنے آئیں گے البتہ انہیں پیارا پرندہ ”مو ر پنکھ ”نظر نہیں آئے گا۔” باوا کی آوا ز میں غم تھا۔
”میں ہوں نا مور پنکھ بابا!” مور پنکھ نے ہنس کر کہاتو سب مسکرا دیے۔
…٭…
اس دن مور پنکھ بہت خوش تھا کہ اب وہ دریا کنارے درخت لگائے گا۔ کنارے پر کھڑی اپنے باوا کی کشتی کو نیا رنگ کرے گا۔ کیاریاں بنا کر گھاس لگائے گا، پھر مور پنکھ اور اس کے باوا نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کام شروع کر دیا۔ جب انہوں نے دریا کنارے درخت لگائے، کشتی کو رنگ کیا اور کیاریوں میں گھا س لگائی تو ان کی بستی کے ساتھ ساتھ قریبی بستیوں میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی کہ باوا حشمت دریا کنارے مچھلی پکانے کا کام شروع کررہا ہے پھر واقعی دو ہفتے کی مسلسل محنت کے بعد وہ شہر سے مچھلی لانے کے قابل ہو گئے۔
…٭…
صبح انہوں نے شہر جاناتھا مگر رات کو آسمان پر گہر ے بادل چھاگئے۔ یوں لگتا تھا کہ ساون اب کھل کے برسے گا۔ ساری رات بادل گرجتے رہے۔ صبح ہوتے ہی بادلوں نے برسنا شروع کیا۔ مسلسل کئی گھنٹے تک بارش ہوتی رہی۔ اماں اور باوا حشمت دعائیں مانگ رہے تھے۔ کچے گھر کے صحن کی ایک دیوار بھی گر گئی۔ آسمان پر ابھی بھی بادل تھے۔ یہ مون سون کا آغاز تھا۔ انہیں خبر تھی کہ مون سون میں برسات تو ہوتی ہے لیکن جتنی بارش اس دن ہوئی، پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ کھیتوں میں گھٹنوں تک پانی کھڑا ہو گیا۔ بستی کے سارے لوگ اپنے گھر وں میں دبکے رہے۔ مور پنکھ اور اس کے باوا اسی وجہ سے بازار نہ جاسکے۔
اگلے دن دریا چناب میں اونچے درجے کا سیلاب آگیا، علاقے میں سرکار کا نمائندہ اعلان کررہا تھا کہ اس بار خطرہ زیادہ ہے، سب لوگ محفوظ جگہوں پر منتقل ہوجائیں۔ یہ خبر سنتے ہی پوری بستی کی طرح مور پنکھ اور اس کے اماں باوا نے بھی پوٹلی میں کچھ کپڑے باندھے اور اپنی بکریاں لے کر بستی والوں کے ساتھ کسی محفوظ جگہ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔
وہ آدھی رات کا وقت تھا جب سیلابی ریلا ان کی بستی تک پہنچا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پانی دریا سے نکل کر بستی میں داخل ہوگیا۔ صبح تک پانی کی سطح چھے فٹ تک پہنچ چکی تھی۔ بستی سے باہر ایک اونچے ٹیلے تک پانی کی چادر تھی اور ٹیلے کے ساتھ جو گھر نشیبی سطح پر تھے، پانی ان کی چھتوں کے اوپر سے گزر رہا تھا۔ اس طرح دریائے چناب میں سیلاب کا سلسلہ ایک ہفتہ تک جاری رہا۔ اس دوران مور پنکھ اور اس کے گھر والے قریبی قصبے میں چلے گئے جہاں انہیں تین وقت کا کھانا دیا جاتا تھا۔ کوئی ایک ماہ بعد جب علاقے میں پانی کی سطح کم ہونا شروع ہوئی تو وہ اپنے گھروں کی جانب لوٹے۔
جب وہ اپنی بستی میں پہنچے تو ان کے گھر کی جگہ مٹی کا ڈھیر پڑا تھا۔ باقی بستی کی طرح ان کا گھر بھی پانی کے کسی ریلے میں بہہ گیا تھا۔ گھر کا سامان بھی اجڑ گیا تھا۔ جو بکریاں وہ اپنے ساتھ لے گئے تھے، وہ دورانِ سیلاب وبا پھیلنے سے مر گئی تھیں۔ گھر کی جگہ مٹی کا ڈھیر دیکھ کر اماں اور باوا دونوں دہاڑیں مار کر رونے لگے۔ ان کو روتا دیکھ کر مور پنکھ سے بھی نہ رہا گیا۔ انہیں چپ کرانے والا کوئی نہ تھا۔ مور پنکھ اپنی اماں کی گو د میں چھوٹے بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہا تھا۔
”اماں اب کیا کریں گے؟” اس نے پوچھا۔
”پتر! چپ کر، ہم دریا ئی لوگ ہیں، ہماری قسمت میں یہی سب کچھ ہے اگر ”دریا بادشاہ” خشک ہو جائے تو ہم برباد ہوتے ہیں اور اگر اس میں پانی آ جائے تو بھی ہم ہی مارے جاتے ہیں۔” اماں نے ہچکیاں لیتے ہوئے کہا۔
داستان سنانے والے کہتے ہیں کہ اس رات مور پنکھ اور اس کے امّاں باوا اپنے گھر کے ملبے پر چٹائی بچھا کر سوئے۔ آدھی رات کو کہیں سے بانسری کی آوا ز آئی، رات کے اس پہر بانسری کی آواز میں ایک خاص درد تھا۔
پھر صبح لوگوں نے دیکھا کہ وہ تینوں مٹی کے ڈھیر پر مردہ پائے گئے ۔ آج تک یہ معما حل نہ ہوسکا کہ آدھی رات تک بانسری بجانے والا مور پنکھ اوراس کے گھر والے کیسے موت کے منہ میں چلے گئے؟
کچھ لوگوں نے کہا کہ رات کوئی سانپ انہیں ڈس گیا، کوئی کچھ کہتا اور کوئی کچھ! البتہ مور پنکھ کی بانسری اتنی سریلی تھی کہ پوری بستی کو جاتے جاتے درد دے گئی ۔ ان کی موت کی خبر دوسری بستیوں تک بھی جا پہنچی، یوں آہستہ آہستہ اس بستی کو ”مور پنکھ والی بستی ”کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔
آج بھی اگر آپ دریائے چنا ب کے اس کنارے پر بستی دوآنہ بہادر کے راستے بستی مکو جمال سے گزریں تو چاچا خیرو کا بیٹا اپنے باپ اور دادا سے سنی سنائی ”مور پنکھ” بستی کی یہ کہانی دہراتا ہے۔ اس کی آواز میں جو درد ہے ، وہ شاید وہیں جاکر سننے والا ہی محسوس کرسکے۔
٭…٭…٭

کشمیری لوک کہانی
مہرالنسا اور سبز پری
مدیحہ شاہد
آخر کیا راز تھا کہ روز بہ روز اس میں تبدیلی آرہی تھی؟
کئی صدیاں پہلے کشمیر کی سر سبز وادی میں ایک چھوٹی سی لڑکی اپنے والد اور سوتیلی ماں کے ساتھ رہتی تھی۔ اُس کا نام مہرالنسا تھا۔ اُس کی سوتیلی ماں حاسد اور ظالم تھی۔ اُس کے والد کسان تھے اور سارا دِن کھیتوں میں کام کرتے۔ وہ بھی اُس کی سوتیلی ماں کی بدزبانی سے ڈرتے تھے۔ سوتیلی ماں مہرالنسا سے گھر کے سارے کام کرواتی اور اُسے رات کا بچا کھانا دیتی۔ بعض دفعہ تو مہرالنسا کو فاقے بھی کرنے پڑتے۔ گھر پر سوتیلی ماں کی حکومت تھی۔ مہرالنسا سارا دن خاموشی سے کاموں میں مصروف رہتی۔
ایک دن مہرالنسا بکریاں چراتے ہوئے اپنے علاقے سے ذرا دور نِکل آئی۔ دریائے نیلم کے کنارے گھنا جنگل آباد تھا جہاں سے گزرتے ہوئے اچانک اُس نے ایک نسوانی آواز سُنی۔
”سنو اچھی لڑکی! کیا تم میری مدد کرسکتی ہو؟”
مہرالنسا نے چونک کر آواز کے تعاقب میں دیکھا، تو ذرا فاصلے پر جھاڑیوں میں اُسے سبز آنکھوں والی حسین و جمیل پری نظر آئی جس کا ایک پر کانٹوں میں پھنس گیا تھا اور وہ کوشش کے باوجود نکال نہیں پا رہی تھی۔ اُس کے چہرے پر تکلیف کے آثار تھے۔ مہرالنسا خوب صورت پری کو اِس حالت میں دیکھ کر حیران رہ گئی۔ وہ بے حد رحم دل اور نیک لڑکی تھی۔ اُس نے پری کے قریب آکر پوچھا:
”آپ کون ہیں؟” پری نے اپنی سبز چمکتی آنکھیں اُٹھا کر اُسے دیکھا، اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
”میں پرستان سے آئی ہوں۔ میرا نام سبز پری ہے۔ یہاں سے گزرتے ہوئے میرا ایک پر کانٹوں میں پھنس گیا ہے۔ کیا تم میرے پَر کو کانٹوں سے نکال سکتی ہو؟”
یہ سن کر مہرالنسا احتیاط سے کانٹوں کے درمیان چلتے ہوئے سبز پری کے پاس آئی پھر اس نے نرمی سے اُس کا پَر کانٹوں سے نکالا۔ سبز پری کو کچھ آرام ملا مگر وہ تھوڑی زخمی تھی۔
مہرالنسا اُسے دریا کے کنارے بٹھا کر بھاگتے ہوئے گھر آئی۔ صَد شکر کہ اُس کی سوتیلی ماں گھر نہیں تھی۔ وہ اپنے کسی رشتہ دار کے ہاں گئی ہوئی تھی۔ وہ مرہم اور نیم گرم پانی لے کر واپس پری کے پاس پہنچی۔ مہرالنسا نے نیم گرم پانی سے سبز پری کا زخم صاف کیا اور اُس پر مرہم لگایا۔ پری اب خود کو بہتر محسوس کرنے لگی۔ اب وہ اُڑ کر پرستان جاسکتی تھی۔ وہ مہرالنسا سے بے حد خوش ہوئی۔
اُس نے مہرالنسا سے کہا: ”تم ایک اچھی اور نیک لڑکی ہو۔ تم نے میری مدد کی، بتاؤ تمہیں کیا چاہیے؟”
”مجھے کھانا چاہیے۔” مہرالنسا نے مدھم آواز میں جواب دیا۔
یہ سُن کر پری چند لمحوں کے لیے ساکت رہ گئی۔ اُس نے معصوم مہرالنسا کا دُکھ اپنے دل میں محسوس کیا۔ پھر کچھ دیر خاموشی کے بعد اُس نے اپنے بالوں میں لگا گلابی پھول اُتار کر اُس کے ہاتھ پر رکھا۔
”یہ پھول میری طرف سے تحفہ ہے۔ جب تم اِس پھول کو سبزیوں پر رکھو گی تو وہ پک کر تمہارے سامنے آجائیں گی اور تم انہیں کھا کر اپنا پیٹ بھر سکو گی۔ جب تم اِسے گندم یا اناج پر رکھو گی تو تمہارے لیے پکی ہوئی روٹیاں آجائیں گی۔ جب تم اِسے پھلوں پر رکھو گی تو پھلوں کا شربت تیار ہو جائے گا اور تم سیر ہوکر پی سکو گی۔”
مہرالنسا غور سے پھول کو دیکھنے لگی۔ وہ جادو کا پھول بے حد خوب صورت تھا۔ مہرالنسا بکریاں چرانے جاتی تو واپسی پر جنگل اور کھیت سے اناج، سبزی اور پھل توڑ کر اپنی چادر میں چُھپا گھر لے آتی۔ رات کو جب سب لوگ سو جاتے تو وہ پری کی ہدایت پر عمل کرکے مزے مزے کے کھانے کھاتی پھر سو جاتی۔
اُس کی صحت روز بہ روز نکھرنے لگی۔ سوتیلی ماں حیران ہوتی کہ یہ تو سب کا بچا ہوا کھانا کھاتی ہے اور بعض دفعہ تو اسے بھوکے پیٹ ہی سونا پڑتا ہے پھر بھی یہ روز بہ روزحسِین ہوتی جارہی ہے۔ آخر راز کیا ہے؟ اُس نے اِس بات کا پتا لگانے کی بہت کوشش کی مگر اُسے کامیابی نہ ہوسکی۔ وقت گزرتا رہا یہاں تک مہرالنسا اٹھارہ برس کی ہوگئی۔ دور دور تک اُس کے حُسن کے چرچے پھیل گئے۔
ایک دن گاؤں کے زمین دار کا بیٹا گھوڑے پر سوار جنگل میں شکار کھیلنے گیا۔ اس نے دریا کے کنارے مہرالنسا کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ اِتنی خوب صورت لڑکی اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔
وہ مہرالنسا کا تعاقب کرتے ہوئے اس کے گھر پہنچا اور اگلے ہی دن اُس کے والدین مہرالنسا کا ہاتھ مانگنے اس کے گھر چلے آئے۔
مہرالنسا کا باپ بہت خوش تھا کہ اُس کی بیٹی کا اِتنا اچھا رشتہ آیا ہے۔ اس نے فوراً ہاں کردی۔ سوتیلی ماں پیچ و تاب کھا کر رہ گئی۔ وہ اب بوڑھی ہوچکی تھی۔ وہ چاہنے کے باوجود بھی مہرالنسا کی شادی نہ رُکوا سکی۔
مہرالنسا کی شادی دھوم دھام سے زمین دار کے بیٹے سے ہوگئی۔ سارے گاؤں والوں نے جشن منایا۔ اُس کی شادی میں سبز پری نے بھی شرکت کی۔ مہرالنسا اپنے دولہا کے سنگ خوشی خوشی رخصت ہوگئی۔
٭…٭…٭

بلتستانی لوک کہانی
ماس جنالی
محمد عثمان طفیل
محمد عثمان طفیل 1984ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ بی ایس سی کے بعد لاہور چلے آئے اور ایک ادبی جریدے سے منسلک ہوگئے۔ اس کے بعد اخبار طلبہ، مجلة الاساتذہ اور روضہ الاطفال کے مدیر رہے۔ بچوں کی علمی، ادبی اور تربیتی سرگرمیوں میں بھرپور دل چسپی لیتے ہیں۔ مختلف ادروں سے بیس سے زائد کتب شائع ہوچکی ہیں۔ آج کل لاہور میں مقیم ہیں اور ایک تعلیمی ادارے کی نصابی کتب کی تیاری کا کام بخوبی سرانجام دے رہے ہیں۔ الف نگر کے لیے قلمی تعاون اور مشاورت میں خصوصی شفقت فرماتے ہیں۔
”مومو…! مومو…!”
عبداللہ یوگوی نے ماتھے پر آئے پسینے کو صاف کیا اور آواز کی سمت دیکھا۔ اس کا بھانجا بلتی زبان میں ماموں، ماموں کہتا ہوا اُس کی طرف آ رہا تھا۔
” اللہ خیر کرے۔” اس نے دل ہی دل میں سوچا پھر کندھے پر ٹکائی ”کدال” اور ہاتھ میں پکڑا ”پھاوڑا ”زمین پر رکھ دیا۔
”چی سونگس جولے؟” (کیا ہوا؟)
بھانجے کے قریب پہنچتے ہی عبداللہ یوگوی نے پریشانی سے پوچھا۔ اس کے بھانجے نے بولنے کی کوشش کی مگر پھولی سانسوں کے سبب یہ ممکن نہ سکا۔ اس نے ہانپتے ہانپتے ایک جانب اشارہ کیا۔ عبداللہ نے دیکھا تو یوں لگا جیسے دور کہیں لوگوں کا ہجوم سا ہو۔غور کرنے پر اُسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ سب اِسی طرف آ رہے ہیں۔ وہ غلط نہیں تھا، ہجوم اُسی کی جانب بڑھ رہا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے منظر واضح ہونا شروع ہوا اور لوگوں کے چہرے نظر آنے لگے۔
”ان میں تو نیت قبول حیات کاکا خیل بھی موجود ہیں۔” عبداللہ بڑبڑایا۔ نیت قبول حیات ضلع غذِر کے حاکم تھے۔ ان کے ساتھ بہت سے مقامی نوجوان تھے جنہوں نے عبداللہ ہی کی طرح کدا لیں اور پھاوڑے اٹھا رکھے تھے۔ کچھ ہی دیر بعد اس کے دل میں اُبھرتے تمام سوالوں کے جواب مل گئے۔ اپنے حاکم کی ہدایت پر اس نے دیگر نوجوانوں سے مل کر ایک بڑے میدان کو ہموار کرنے کا کام شروع کردیا۔
…٭…
”آہ میرے مولا!” عبداللہ یوگوی نے کدال زمین پر ماری اور مٹی کے ڈھیر پر بیٹھ گیا۔ وہ سطح سمندر سے ساڑھے بارہ ہزار فٹ کی بلندی پر موجود تھا مگر اس کے باوجود پسینا پانی کی طرح بہہ رہا تھا۔ یہ معاملہ صرف اسی کے ساتھ نہیں بلکہ اس کے تمام ساتھی پسینے سے بھیگے ہوئے تھے۔ اس نے کچھ دیر سانس درست کیا اور پھر سے کام میں جت گیا۔ گھنٹے دنوں میں اور دن ہفتوں میں ڈھلتے رہے۔ ان کے حاکم نیت قبول حیات مسلسل اُن کی حوصلہ افزائی میں مصروف تھے۔ بالآخر وہ وقت آیا کہ لگ بھگ 56 میٹر چوڑا اور 200 میٹر لمبا زمین کا ٹکڑا بالکل ہموار ہوگیا۔ یہ کوئی آسان کام نہ تھا لیکن انسانی ہمت و حوصلے نے اسے آسان بنا دیا۔
نیت قبول حیات کو کام مکمل ہونے کی اطلاع ملی تو وہ بھاگم بھاگ وہاں پہنچے۔ انہوں نے ایک نظر اس میدان کودیکھا اور تصور ہی تصورمیں برطانوی پولیٹیکل ایجنٹ ”ایولین ہے کوب” کا چہرہ دیکھا جو اس میدان کو دیکھ کر خوشی سے چمک اٹھے گا۔ چند دن بعد جب تمام تیاریاں مکمل ہوگئیں تو ”ای ایچ کوب” نے اس میدان کا دورہ کیا۔ کام اس کی توقع سے بھی بڑھ کر شان دار ہوا تھا۔ اس نے نیت قبول حیات کو بہت اعلیٰ انعام کی پیش کش کی۔ بھلا ایسے کام انعامات کی لالچ میں کب مکمل ہوتے ہیں۔ نیت قبول حیات تو اپنے آباء و اجداد بالخصوص علی شیر خان انچن سے متعلق سوچ رہا تھا جس نے یہ سارا علاقہ فتح کرکے پہلی بار یہاں ”ماس جنالی” بنایا اور ”چوگان” جیسے کھیل کا آغاز کیا۔ سوچتے سوچتے اس کے ذہن میں نہ جانے کیا آیا کہ اس نے ای ایچ کوب سے ایک انوکھی فرمائش کی۔
”بس آپ یہ کام کروا دیں، میں اسے ہی اپنا انعام سمجھوں گا۔”
ای ایچ کوب کچھ لمحے ہچکچایا اور پھر بولا: ”ٹھیک ہے۔ تمہاری خواہش پر ایسا ہی ہو گا۔”
…٭…
سیٹی بجی اور کئی گھوڑے ہنہناتے ہوئے ”پڑنجو” (پولو والی گیند) کی طرف لپکے۔ شانزے نے بھی جلدی سے اپنے عربی گھوڑے کو ایڑلگائی۔ گھوڑے نے کچھ اَڑی کی اور پھر سوار کے حکم پر دوڑ پڑا۔ یہ گھوڑا اس کے لالہ کا تھا۔ شانزے اپنے سرخ و سپید لالہ کو اس سرمئی گھوڑے کو دوڑاتا ہوا دیکھتی تو ماشاء اللہ ماشاء اللہ کا ورد کرنے لگتی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ لالہ گھوڑے کی شان بڑھا رہے ہیں یا گھوڑا لالہ کی۔
لالہ جانتے تھے کہ شانزے کو گھڑ سواری کا بہت شوق ہے۔ انہوں نے خود اُسے ایک بہترین گھڑ سوار بنایا تھا۔ اس وقت بھی شانزے ہاتھ میں ایک لمبی سی ہاکی تھامے گھوڑا دوڑا رہی تھی۔ وہ ہر صورت میں ”پڑنجو” حاصل کرنا چاہتی تھی لیکن ایسا ہو نہیں پارہا تھا۔ دوسری ٹیم کے کھلاڑی مسلسل ایک دوسرے کی طرف پڑنجو پھینک رہے تھے۔ اس سے پہلے کہ وہ گول کرنے میں کامیاب ہوجاتے، شانزے کی ٹیم کے ایک کھلاڑی نے پڑنجو چھین لی۔ اگلے ہی لمحے پڑنجو شانزے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ شانزے نے بڑی مہارت سے اُسے روکا اور آگے بڑھا دیا۔
وہ اس وقت ”ماس جنالی” کے تاریخی میدان میں موجود تھی۔ ”چوگان” اپنے عروج پر تھا اور ان کا مقابلہ چترال کی بے حد ماہر ٹیم سے تھا۔ شانزے بلتستانی ٹیم کا حصہ تھی اور اس وقت وہ اپنے لالہ کے گھوڑے پر سوار تھی۔ یہ خیال آتے ہی کہ وہ لالہ کی بجائے خود ٹیم کا حصہ ہے، شانزے چونک سی گئی۔وقت اچانک ٹھہر گیا اور اُسے لگا کہ شندور کا میدان بلند ہوتے ہوتے بادلوں کے ساتھ تیرنے لگا ہے۔ گھوڑے دوڑنے کے بجائے اُڑنے لگے تھے اور پڑنجو کو بھی پر لگ چکے تھے۔ وہ بڑی پھرتی سے مخالف ٹیم کے سب کھلاڑیوں کو پیچھے چھوڑتی آگے بڑھ رہی تھی۔ گول کے قریب پہنچ کر اُس نے ہاکی فضا میں بلند کی اور بس یہی وہ لمحہ تھا جب اس کا توازن بگڑ گیا۔ ایک ہلکی سی چیخ کے ساتھ شانزے گھوڑے سے نیچے آگری۔نیچے زمین تو تھی نہیں، اسے لگا کہ وہ نیچے ہی نیچے گرتی جا رہی ہے۔
…٭…

منگھو پیر
دلشاد نسیم
میرے ننھے منے دوستو! ان کا اصل نام خواجہ حسن سخی سلطان ہے لیکن منگھو پیر کے نام سے مشہور ہوئے اور اسی نام سے وہ علاقہ مشہور ہے۔
منگھو پیر کی درگاہ کراچی کے شمال مغرب میں واقع پہاڑی پر ہے۔ خواجہ حسن سخی سلطان المعروف منگھوپیر کے آباء و اجداد گیارہویں صدی میں برصغیر آئے تھے۔ روایت ہے کہ چھے سات سو سال قبل صوفی بزرگ بابا فرید گنج شکر ایک قافلے کے ہمراہ حج کے لیے جا رہے تھے کہ اس وقت کے بدنام زمانہ ڈاکو منگھووسا نے مسافروں کو لوٹنے کی کوشش کی مگر بابافرید کے حسن و سلوک سے متاثر ہوکر اس نے اسلام قبول کیا اور گناہوں سے توبہ کر لی۔ اس کے بعد اسی منگھو وسا نے اللہ کی راہ میں خود کو وقف کردیا۔
مقامی لوگ کہتے ہیں کہ منگھوپیر کے دربار کے نزدیک بہنے والے چشمے سے جلدی امراض کا علاج ہوتا ہے یعنی اگر کسی کو جلد کے مسائل ہیں تو وہ منگھو پیر احاطے کے قریب بہنے والے چشمے کے پانی سے نہائے، اللہ کے حکم سے ٹھیک ہو جائے گا۔ ماہرین کے مطابق اس چشمے کے پانی میں قدرتی طور پر گندھک موجود ہے جو جلدی امراض کو دور کرنے کے کام آتا ہے۔
آج بھی زائرین اس چشمے کے پانی سے غسل کرتے ہیں۔ ہر سال 8 ذوالحجہ کو ہزاروں عقیدت مند سلطان سخی منگھوپیر کا عرس مناتے ہیں۔ وہاں ساون کے مہینے سے پہلے میلہ منعقد ہوتا ہے جسے ”شیدی میلہ” کہتے ہیں۔ یہاں صدیوں پرانے تالاب میں مگر مچھ پائے جاتے ہیں۔ شیدی کراچی شہر کے قدیم باشندے ہیں۔ وہ صدیوں سے اس مزار کے عقیدت مند ہیں۔ ان کا طرزِ زندگی افریقی باشندوں سے ملتا جلتا ہے۔ ان کے بزرگ برسوں پہلے افریقہ سے ہجرت کرکے یہاں آباد ہوئے تھے۔ شکل و صورت میں بھی یہ افریقی ہی لگتے ہیں۔
میلے میں آنے والے عقیدت مند جلوس کی شکل میں ڈھول بجاتے ہیں۔ جانور ذبح کرتے اور پھر ان جانوروں کا گوشت مگرمچھوں کو کھلا دیتے ہیں۔
عرس اور شیدی میلے کے موقع پر تالاب میں موجود مگرمچھ عوام کی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔ ان مگرمچھوں سے کئی دل چسپ اور حیرت انگیز روایات منسوب ہیں۔ 19 ویں صدی کی تحریروں میں مزار کا ذکر ملتا ہے۔ مگرمچھوں کی ہزاروں سال پرانی باقیات بھی ملتی ہیں۔ کئی عقیدت مندوں کے مطابق مگرمچھوں نے ان پھولوں سے جنم لیا جو منگھوپیر بابا نے تالاب میں پھینکے تھے۔
کچھ لوگوں کے مطابق یہ جوئیں تھیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ منگھو بابا ان مگرمچھوں پر سواری کرتے تھے۔ گو یہاں کبھی مگرمچھوں کے حملے کا کوئی واقعہ نہیں ہوا پھر بھی مجاور حضرات عقیدت مندوں کو خبردار رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مگرمچھ انسانوں سے مانوس ہیں اور پیٹ بھرنے کے لیے زائرین کی دی گئی خوراک پر انحصار کرتے ہیں اور ان میں خود سے شکار کر کے کھانے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔
کراچی میں آج یہ پہاڑی علاقہ منگھوپیر کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ ان کے احاطے کے قریب بہنے والا چشمہ برسوں سے اپنے زائرین کو سیراب کررہا ہے۔
٭…٭…٭

کراچی کی لوک کہانی
مائی کی روشنی
فرزانہ روحی اسلم
فرزانہ روحی اسلم نے 1980ء میں روزنامہ جنگ سے لکھنے کا آغاز کیا۔ پاکستان بھر کے بچوں کے رسائل میں لکھ چکی ہیں۔ کراچی سے تعلق اور پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کررکھا ہے۔ درجنوں ایوارڈز اپنے نام کرچکی ہیں۔ کہانیوں کا ایک مجموعہ ”صندل کا درخت” لاہور سے شائع ہوا، افسانہ نگاری کے علاوہ نظم بھی لکھتی رہی ہیں۔
برسوں پرانی بات ہے۔ ”مائی” نامی ایک عورت کا خاندان سمندر کنارے آباد تھا۔ کچا گھر مٹی اور لکڑی سے بنا ہوا تھاجب کہ دروازے پر کپڑے کا پردہ تان دیا گیا تھا۔ اصل نام تو اس کا معلوم نہیں، البتہ سب اسے مائی کہتے تھے۔ وہ سب ماہی گیر تھے۔ مچھلیاں پکڑتے، بیچتے اور کھاتے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دنیا نہیں دیکھی تھی۔ اُن کے بچے سمندر کنارے مٹی کے گھروندے بناتے یا پھر سیپیوں سے کھیلتے۔ کھیل ہی کھیل میں وہ جال بُننا اور مچھلیاں پکڑنا بھی سیکھ جاتے۔
اُس دن مائی نے گھر کے کام کاج صبح سویرے ہی ختم کرلیے تھے۔ا ب اسے دوپہر کا انتظار تھا کہ اس کا شوہر مچھلیاں پکڑ لائے تو وہ انہیں پکائے۔ آج اُس کے بچوں نے چاول کھانے کی فرمائش کی تھی۔ لہٰذا اُس نے پہلے ہی چاول اُبال لیے اور اب کونڈی میں نمک، مرچ لہسن اور زیرہ کوٹ کر مچھلی کا مسالا تیار کر رہی تھی۔ اتنے میں اُس کا شوہر دو بڑی مچھلیاں لے کر آگیا۔ اس نے نہایت مہارت سے مچھلیوں کو کاٹا، صاف کیا اور مسالا لگا کر انہیں تل دیا۔ اُبلے چاولوں کے ساتھ لذیذ مچھلی کھا کر سب آرام کی غرض سے لیٹ گئے۔شام کے وقت اس کے شوہر کو دوبارہ سمندر کنارے جانا تھا۔ بچوں نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ وہ بھی سمندر کا نظارہ کریں گے۔ چناں چہ مائی بھی اپنے بچوں کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو گئی۔
ایسا نظارہ انہوںنے پہلے کم ہی دیکھا تھا۔ بہت سارے لوگ سمندر دیکھنے آئے ہوئے تھے۔ مائی اور اس کے بچوں کو بہت اچھا لگا اور وہ اُجلے کپڑوں والے صاف ستھرے لوگوں اور ان کے گول مٹول بچوں کو دیکھ کر خوش ہوتے رہے۔ تاہم مائی کی خو شی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ وہ جہاں کھڑی تھی وہاں سے کچھ فاصلے پرکوئی عورت چِلّا رہی تھی۔ اُس کا خاندان جس کشتی میں سوار تھا شاید وہ اُلٹ گئی تھی۔ ساحل پہ کھڑے مچھیرے اُس جانب بھاگنے لگے جد ھر سے آواز آرہی تھی۔ مائی بھی تیزی سے اُس جانب لپکی۔ اس کی آنکھوں نے دور کچھ لوگوں کوڈوبتے دیکھا۔ وہ مدد کے لیے پکار رہے تھے۔ ڈوبتا ابھرتا سر اور پانی کی سطح سے اوپر ایک ہاتھ دیکھ کر مائی پریشان ہوگئی۔ کچھ لوگ اسے بچانے کے لیے پانی میں ا تر کر دور جا چکے تھے اور اب شا ید وہ بھی پانی کے تھپیڑوں کا مقابلہ کر رہے تھے۔ بہت سے مچھیرے پانی میں کودے او ر تیرتے ہوئے ایک ایک شخص کو کھینچ کر کنارے تک لانے لگے۔
کشتی کے قریب وہ ڈوبنے والا لڑکا پانی میں بہت دور جا چکا تھا۔ اب بھی اس کا ہاتھ کسی لمحے دکھائی دے رہا تھا۔مائی چلائی: ”اسے بچائو،جلدی کرو۔” لیکن وہ دور تھا، کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ اتنی دور گہرے سمندر میں جائے۔ مائی نے اپنے شوہر کا بازو پکڑتے ہوئے کہا:”تم جائو جلدی کرو ،زندگی بچائو۔”
”وہ بہت دور چلا گیا ہے، اب اسے بچانا بہت مشکل ہے۔” اس کے شوہر نے جواب دیا۔
”مگر وہ ابھی ڈوبا نہیں ہے۔”یہ کہتے ہوئے مائی نے اپنی اوڑھنی کنارے پر پھینکی اور سمندر میں کود گئی۔ یہ دیکھتے ہی اس کے شوہر نے بھی اس کے پیچھے چھلانگ لگا دی اور اسے آواز دینے لگا، مگر مائی دلیری سے سمندری لہروںکا مقابلہ کرتی آگے بڑھتی چلی جا رہی تھی۔اس پرایک ہی دھن سوار تھی کہ ”زندگی بچانی ہے۔”
جلد ہی مائی نے اس ہاتھ کو جا لیا جسے اس نے ساحل پر سے دیکھا تھا۔ اس کا شوہر اور دیگر مچھیرے بھی وہاں تک آ پہنچے۔ مائی اس ہاتھ کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ اسے واپسی مشکل لگنے لگی، پھر بھی وہ ہمت ہارنے کو تیار نہیں تھی۔ اس نے موجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے دور سے ایک کشتی کو دیکھا۔ اس نے کچھ کہنا چاہا مگر آواز حلق میں گھٹ کر ہی رہ گئی۔ پھر بھی وہ پانی کی مخالف سمت بڑھتی رہی۔
”اسے بچائو، جلدی کرو۔” وہ دوبارہ چلّائی۔ اس کی حوصلہ مند آواز نے لہروں کو ہارنے پر مجبور کردیا۔ کشتی اب اس کے بالکل قریب تھی۔ مچھیروں نے انہیں جلد ہی گھسیٹ کر کشتی میں ڈال لیا اور ان کے پیٹ سے پانی نکالنے لگے۔ جب مائی کے حواس بحال ہوئے تواس نے خود کو ساحل پر دیکھا، اسے فوری طور پر مطب پہنچایا گیا۔ وہ بہت تھک گئی تھی اور زخمی بھی تھی، مگر ایک زندگی کے بچ جانے پر خوشی اس کے چہرے سے پھوٹ رہی تھی۔
”آج ایک زندگی بچ گئی ورنہ رات بھر سمندر کنارے سوگ ہوتا،ہمارے گھروں میں دیے بجھا دیے جاتے۔” وہ بڑ بڑائی۔
مائی کو اندھیرا پسند نہ تھا۔ اسے روشنی اچھی لگتی تھی۔زندگی بچانے کی خوشی میں رات بھر گائوں میں چراغاں ہوا۔ لوگ مائی کو مبارک باد دینے آتے رہے۔ دور دور تک مائی کی ہمت اور بہادری کے چرچے ہونے لگے۔ رفتہ رفتہ اس کے گائوں کا نام اسی کے نام سے ”مائی کولاچی ” پکارا جانے لگا۔ جس کا مطلب ہے ”مائی کی روشنی” یہ نام اس گائوں کو اتنا راس آیا کہ یہاں برکتیں نازل ہونے لگیں۔ مچھیروں کو سمندر سے ڈھیروں مچھلیاں ہاتھ آنے لگیں۔ ان کا کاروبار ترقی کرنے لگا۔ مچھلیوں کا کاروبار پھیلا تو مزید آسانیاں مہیا ہونے لگیں۔ سڑکیں بن گئیں اور جب سڑک بن جائے تو آمد و رفت بھی بڑھ جاتی ہے جس سے بڑے پیمانے پر کاروبار شروع ہوجاتا ہے۔ مائی کو لاچی میں بھی یہی ہوا۔
مچھلیوں کی پوری دنیا میں سپلائی شروع ہوگئی۔ روز گار کے دروازے کھلے تو دیگر شہروں سے بھی روزگار کی تلاش میں مائی کولاچی آنا شروع ہوئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وقت نے پلٹا کھایا اور گائوں ایک شہر بن کر جگمگانے لگا ۔”مائی کولاچی” روشنیوں کا شہر کہلانے لگا جس کی سڑکیں اور عمارتیں رات کو روشنی بکھیرنے لگیں، برقی قمقمے جلنے بجھنے لگے۔شہر کی شہرت دور دور تک پھیلنے لگی۔دنیا بھر سے تاجروںنے یہاں آنا شروع کیا۔ شہر کی جگمگا ہٹ دیکھنے دور دراز سے لوگ کشاں کشاں آنے لگے۔ ترقی کے ساتھ ساتھ اس شہر کا نام بھی بدلتا گیا۔ کولاچی، کلاچی، کرانچی اور پھرکراچی ہوگیا۔
یہاں کے باشندوں نے نئے نئے کام کیے، سوچنے والوںنے نئی نئی باتیں سوچیں، یوں شہر کی ترقی کو چار چاند لگ گئے، مگر وہ اس مائی کی زندگی سے محبت اور بہادری کو فراموش نہ کرسکے۔ یہ جو رات گئے کراچی کی عمارتیں ،سڑکیںاور سائن بورڈ روشن رہتے ہیں۔ یہ دراصل” مائی کولاچی ”کی ہمت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔جب تک کراچی روشن رہے گا مائی کی یاد تازہ رہے گی۔ کراچی کی تاریخ کے اوراق پلٹنے والوں کو مائی کولاچی کا ذکر سنہری حروف سے لکھا دکھائی دیتا رہے گا۔

سرائیکی لوک کہانی
جیونی اور چور
اختر عباس
اختر عباس ملک کے ممتاز تربیت کار ، ماسٹر ٹرینر اور ایچ آرکنسلٹنٹ ہیں ۔ ماہنامہ ہمقدم، اردو ڈائجسٹ، قومی ڈائجسٹ اور بچوں کے رسالے ماہنامہ پھول کے مدیر رہے اور ایڈیٹر بھیا کے نام سے شہرت پائی۔ ان کی 35کتابوں کی سات لاکھ سے زائد کاپیاں فروخت ہوچکی ہیں ۔ اس کے علاوہ 70ہزار طلبہ و طالبات کے لیے منی بک سیریز کی پانچ کتابیں جنہیں HAI نے گورنمنٹ آف آزاد جموں کشمیر کے لیے ساڑھے تین لاکھ کی تعداد میں شائع کیا۔ پاکستان میںبچوں کے ادب کا سب سے بڑا ایوارڈ یوبی ایل لٹریری ایکسی لینس بھی حاصل کر چکے ہیں۔ ”الف نگر ” کے لوک کہانی نمبر کے لیے انہوں نے خصوصی طور پر ”سرائیکی وسیب لوک کہانی” لکھی ہے۔
سچ تو یہی ہے کہ لوک داستانوں کا کوئی سال ، مہینہ اور دن نہیں ہوتا، میں نے یہ داستان جنوبی پنجاب کے شہر نور پور نورنگا میں سنی۔ اس کا آغاز مبارک پور سے ہوا اور اختتام آج تک نہ ہوسکا۔ بتایا جاتا ہے کہ مبارک پور نامی قصبہ ریاست بہاولپور کے تیسرے نواب محمد مبارک خان عباسی نے 1757ء میں آباد کیا۔
یوں کہہ لیجیے کہ یہ لوک داستان 1757 ء اور 1762 کے درمیانی برسوں میں وجود میں آئی ، البتہ میں نے 1976ء میں اس وقت سنی جب ساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔
مبارک پور جانے والی سڑک پر مُجی کی دودھ ملائی والی دکان تھی۔ تب وہاں دہی کا رواج نہیں تھا ۔ ہم وہاں سے روزانہ ملائی خریدنے جاتے اور گرم تنوری روٹی کے ساتھ کھایا کرتے تھے ۔ ہمارے اسکول کا کارِخاص فیض محمد تھا ۔جوخود کو دادپوترا کہلواتا تھا ۔ وہ اس علاقے کا رہائشی تھا اور اسی نے یہ داستان پہلی بار مزے لے لے کر سنائی دوسری اور تیسری بار کے راوی الگ الگہیں۔
مبارک پور کی بستی میں مبارک نام کا ایک معمولی سا کسان رہتا تھا۔ چند ایکڑ زمین اس کی کل کائنات تھی جس میں وہ کاشت کاری کرتا۔ا یک بھینس اور دو تین بکریاں مبارک کے گھر کی رونق تھیں۔ بارہ چودہ سال کی ایک بیٹی تھی… جیونی!
سبھی اسے امّاں جیونی کہہ کر بلاتے (اس علاقے میں بچی کو اماں کہتے ہیں، بوڑھی عورت کو نہیں) اس کی اصل والدہ کون تھی، زندہ بھی تھی یا مرچکی تھی۔اس کا کسی کو علم نہیں، جیونی کا ایک ماموں تھا رحیم بخش داد پوترا، وہ کسان تھا یا دکان دار یہ بھی واضح نہیں مگر اتنا علم ہے کہ وہ جیونی کا سگا ماموں نہ تھا۔ جیونی کے گھر وہ باقاعدگی سے آتا اور عام طور پر دن چڑھے اس وقت آتا جب جیونی کھانے کی تیاری کر رہی ہوتی۔ ہانڈی چولھے پر رکھ کر وہ آٹا گوندھ رہی ہوتی۔ مبارک بخش بھی دوپہر کو عین اسی وقت گھر آتا جب جیونی کھانا پکا کر گرم گرم روٹیاں چنگیر میں رکھ چکی ہوتی۔ کبھی وہ پہلی روٹی پکنے تک اور کبھی دوسری روٹی کے توے سے اترنے تک گھر پہنچتا۔
قصبہ بے شک تاریخی تھا مگر رقبے میں چھوٹا اور وسائل اور آمدنی کے حساب سے تو کافی چھوٹا تھا۔ اس لیے مکینوں کی زندگی بہت آسان نہ تھی۔ سبھی سرائیکی بولتے۔ اس میٹھے لہجے کی زبان کی مٹھاس سے زندگی کی تلخیوں اور تلخ یادوں کو سینے سے لگائے جی رہے تھے کہ جب اچانک بستی میں وارداتیں ہونے لگیں۔ آغاز چھوٹی چھوٹی چوریوں سے ہوا۔ لوگ یہی سمجھتے کہ وہ اپنی گم شدہ چیز کہیں رکھ کر بھول گئے ہوں گے۔ پھر جب بڑی بڑی وارداتیں ہونے لگیں تو اس مسئلے نے سنگین شکل اختیار کرلی۔ وہاں پولیس اور فوج کا روایتی انتظام تھا اور نہ ہی کوئی اہم سرکاری افسر داد رسی کے لیے تعینات تھا۔
بستی مبارک پور کے سیانے ہر دوسرے تیسرے دن شام کو جمع ہوتے اور چوری کی وارداتوں کی تازہ خبریں اور پرانے تبصرے سنتے۔ باہم مشورے سے یہی طے ہوا کہ اوّل تو گھروں کے دروازے لگائے جائیں اور انہیں اندر سے بند کیا جائے، دوم یہ کہ دیواریں بنوا لی جائیں مگر چور بھی گھر کا بھیدی اور بستی کا باسی تھا، وہ ان سبھی دائو پیچ کو سنتا اور ان کا توڑ نکال لیتا۔ ایسے ہی کئی ہفتے مہینے گزر گئے چور پکڑا گیا نہ چوری روکی جاسکی۔
اچھی خاصی پرسکون بستی میں بے سکونی اور بے چینی کسی وبا کی طرح پھیل گئی اور اس سے بچنے کی راہ نہیں مل رہی تھی۔ اس دوران سیانوں نے بڑی مہارت سے طے کیا کہ جس روز چور پکڑا گیا، سب مل کر اس کی ٹھکائی کریں اور اس کا بازو اور ٹانگ اُلٹے رخ سے کاٹ دی جائے گی، یعنی دایاں بازو اوربائیں ٹانگ کاٹنی ہوگی اور بایاں بازو تو دائیں ٹانگ ہوگی۔ اتنی بڑی سزا اور سخت فیصلے بھی چور کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ بن سکے۔
پھر ایک دن وہ معاملہ ہوگیا جس نے اس بستی کے رہنے والوں کے ساتھ جیونی اور مبارک بخش کو بھی لوک داستان کا حصہ بنادیا ۔ مبارک بخش اپنے معمول کے مطابق دوپہر کے وقت گھر جا رہا تھا۔ جب اس نے دور سے اپنا دروازہ کھلا پایا۔ اس کادل دھک سے رہ گیا ۔اچھے زمانے تھے بچوں کی عزت اور اغوا کا خطرہ پریشانی کا باعث نہ بنتا تھا ۔ البتہ سامان کی چوری تکلیف پہنچاتی ، بڑی مشکل سے دمڑی دمڑی جوڑ کر گھر کی چیزیں جمع ہوتیں تھیں۔ مبارک بخش جونہی گھر داخل ہوا ایک ادھیڑ عمر آدمی کو سرجھکائے بیٹھے پایا۔ اس نے وہیں سے للکارا۔
”ہاں بھئی کیہڑا ہیں۔” (ہاں بھئی کون ہو؟)
اُس نے دھیما سا جواب دیا جو مبارک کے پلّے نہ پڑا ۔ وہ اس کے قریب ہوا، اپنا سوال دہرایا ۔ ساتھ میں مزید جملے کا اضافہ کیا۔
”کینویں بیٹھیں ایں؟” (کیسے بیٹھے ہو؟) اس نے سر نہیں اٹھایا اور بولا: ”ہک گل نے اٹھن دے قابل ای کائی نئیں چھڈے۔” (ایک بات نے اٹھنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا)
”کیا مطلب ہے تیڈا بھرا ، سدھی گل چا کر۔” (او بھائی میرے پہیلیاں نہ بھجوائو سیدھی بات کرو) اس آدمی نے ٹھنڈی آہ بھری ، منہ اوپر اٹھایا اور بولا:
”آیا تو میں چوری کرنے تھا، مگر تمہاری بیٹی کے ایک جملے نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا۔”
مبارک بخش نے دائیں بائیں دیکھا، کوئی دیکھ تو نہیں رہا پھر اس آدمی کا بازو پکڑ ااور اندر لے گیا ۔ دروازہ زور سے بند کیا۔ اسی اثنامیں اندر سے آواز آئی:
”ماما سائیں! کتھاں رہ گئے وے ،اندر آونجو۔” (ماموں آپ کہاں رہ گئے، اندر آجائیں) چور نے مبارک کو بتایا کہ چند منٹ پہلے جب میں چوری کی نیت سے گھوم رہا تھا، توتمہارے گھر کا دروازہ کھلا دیکھا، اندر داخل ہونے لگا تو اس کے پٹ سے ٹکر ا گیا۔ اسی لمحے اندر سے آواز آئی:”ماما !سائیں آجاؤ، روٹی پک رہی اے۔”
مجھے یوں لگا جسے کسی نے جلتا ہوا انگارہ مرے کانوں میں رکھ دیا ہو ۔ وہ ایک چور کو ماما سائیں کہہ رہی تھی اور کیا کوئی ماموں اپنی بیٹی کے گھر چوری کرتا ہے؟”
لوک داستان سنانے والے یہ بتانے سے آج بھی قاصر ہیں کہ چور کا کیابنا؟
ہاں یہ بتاتے ہیں کہ اسے جیونی اور اس کے ابّا نے معاف کردیا۔ چور انہی کی برادری کا تھا۔ جیونی کی صرف ایک بات اس کے :باپ کی سمجھ میں آگئی کہ
”بابا سائیں !کون آدھا ہے ایہو چور اے، کیں نئی ڈیٹھا؟ ”(کون کہے گا یہ چور ہے ، کسی نے نہیں دیکھا)
”بات دل کو لگتی ہے کہ جب ماموں گھر آئے تو پھر چور نہ ہوا نا!”جیونی کے باپ نے سوچا۔
مبارک پور بستی کا نام شاید جیونی کے ابا مبارک کے نام پر ہی رکھا گیا ہو۔ وہ چور تو کبھی پکڑا نہ جاسکا، ہاں البتہ اس کے بعد چوری کی کوئی واردات نہ ہوئی۔ کہتے ہیں جیونی کے گھر دوپہر کے کھانے کے وقت اکثر ایک مہمان اور بھی آجایا کرتا تھا۔ لوک داستان والے اس کا نام بتانے سے آج تک قاصر ہیں، میں بھلا کیسے بتا سکتا ہوں۔
٭…٭…٭