Tag: لوک کہانی

  • ہینگنی اور ولیدنی | تھل کی لوک کہانی

    ہینگنی اور ولیدنی | تھل کی لوک کہانی

    تھل کی لوک کہانی
    ہینگنی اور ولیدنی
    سارہ قیوم

    سارہ قیوم صاحبہ نے ایک لمبے عرصے بعد 2016ء میں دوبارہ لکھنے کا آغاز کیا۔ ادب کی کئی اصناف میں قلم کے جوہر دکھائے، جن میں بچوں کی کہانیاں، نظمیں، مزاح، بڑوں کے لیے ناول، طنز و مزاح اور ڈرامے شامل ہیں۔ ایکسپریس چینل پر ان کا ایک عدد ڈرامہ بھی نشر ہوچکا ہے۔ شعبہ تدریس سے منسلک ہیں، اس لیے جدید تقاضوں کے
    مطابق بچوں کے ادب میں روایت اور جدت کے امتزاج سے بخوبی واقف ہیں۔ انگلش اور اردو دونوں زبانوں میں بے شمار کہانیاں شائع ہوچکی ہیں۔

    ایک اونٹ اور گیدڑ کی دوستی ہوگئی۔ گیدڑ اونٹ کو بڑا جان کر ماموں کہتا اور اس کی محبت کا دم بھرنے لگا۔ اونٹ بھی گیدڑ سے شفقت سے پیش آنے لگا۔
    ایک مرتبہ کچھ ایسا موسم بدلا کہ کئی مہینوں تک بارش نہ ہوئی۔ جب فصل باڑی نہ ہوئی تو کھانے کو کچھ نہ رہا۔ دریا کے اُس پار ایک گاؤں آباد تھا جہاں کے کھیت ہرے بھرے تھے۔ ان کھیتوں کے مالک کسان دریا سے پانی لاکر کھیتوں کو دیتے تھے لہٰذا فصلیں ہری بھری تھیں۔ اونٹ اور گیدڑ روزانہ للچائی نظروں سے ان ہرے بھرے کھیتوں کو دیکھتے اور بارش کی دعائیں مانگا کرتے۔
    ایک دن گیدڑ نے اونٹ سے کہا: ”ماما جی! اب تو بھوکے رہ رہ کر پیٹ پسلیوں سے جالگا ہے۔ بارش ہونے کی کوئی امید نہیں، میری مانو تو دریا پار گاؤں میں چلتے ہیں اور کچھ پیٹ پوجا کرتے ہیں۔”
    اونٹ بولا: ”ٹھیک کہتے ہو بیٹا! گو کہ یہ اچھی بات نہیں کہ کسی دوسرے کی اجازت کے بغیر اس کی چیز لی جائے لیکن مجبوری ہے، یہاں رہے تو فاقوں مرجائیں گے۔”
    طے پایا کہ اونٹ چوں کہ قد میں لمبا ہے، لہٰذا وہ گیدڑ کو اپنی پیٹھ پر بٹھا کر دریا پار کرا دے گا۔ دونوں کسی کھیت میں گھس کر پیٹ بھریں گے اور فوراً واپس آجائیں گے۔ شام ہوتے ہی دونوں نے دریا پار کیا اور گاؤں میں داخل ہوئے۔ کسان اس وقت کھیتوں سے گھر واپس جارہے تھے۔
    اونٹ اور گیدڑ ان کی نظروں سے بچنے کے لیے درختوں کے ایک جھنڈ میں چھپ گئے۔ انہیں اندھیرا ہونے کا انتظار کرنا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ اگر کھیتوں میں چوری کرتے پکڑے گئے تو کسان خوب پیٹیں گے۔ جونہی رات ہوئی اور کھیتوں میں سناٹا چھا گیا تو وہ دونوں خربوزوں کے ایک کھیت میں گھس گئے۔ موٹے موٹے میٹھے خربوزے دیکھ کر ان کے منہ میں پانی بھر آیا اور وہ ندیدوں کی طرح خربوزے کھانے میں جُت گئے۔ گیدڑ کا پیٹ چھوٹا تھا، چار پانچ خربوزے کھا کر ہی بھر گیا۔ پیٹ بھرا تو اُسے شرارت سوجھی۔ اونٹ سے کہنے لگا: ”ماما جی مجھے تو ہینگنی آئی ہے۔”
    اونٹ گھبرا کر بولا: ”میری تو ابھی ڈاڑھ بھی گیلی نہیں ہوئی، تُو ہینگنی کو روک کے رکھ، میں پیٹ بھر کر کھالوں، پھر ہینگ لینا۔”
    گیدڑ نے کہا: ”ماما جی ذرا جلدی کرو، بڑی زور کی ہینگنی آئی ہے۔ آپ کی خاطر چار پانچ منٹ کے لیے رُک سکتا ہوں، اس سے زیادہ نہیں۔”
    اونٹ جلدی جلدی خربوزے کھانے لگا لیکن اس کا پیٹ بڑا تھا، اتنی جلدی کہاں بھر سکتا تھا۔ وہ ابھی چند خربوزے ہی کھا پایا تھا کہ گیدڑ نے ہینگنا شروع کردیا۔
    ”بیٹا! میری خاطر تھوڑی دیر رک جاؤ۔” اونٹ پریشانی سے بولا۔
    ”ماما جی! اب تو ہینگنی گلے تک آپہنچی ہے، وہ مزید نہیں رک سکتا۔”
    یہ کہہ کر اس نے منہ آسمان کی طرف اٹھایا اور تیز آواز میں ہووووو کرنے لگا۔ اونٹ گھبرا کر بھاگا لیکن گیدڑ کی آواز سے کسان بیدار ہوچکا تھا۔ لمبا تڑنگا اونٹ اسے دور ہی سے نظر آگیا۔ وہ ڈنڈا لے کر اس کے پیچھے لپکا۔ گیدڑ تو مزے سے کھیتوں میں چھپ گیا جبکہ اونٹ کسان کے ہتھے چڑھ گیا۔ کسان نے ڈنڈے سے اس کی خوب مرمت کی۔
    بے چارہ اونٹ رات بھر دریا کے کنارے ایک درخت کے نیچے پڑا رہا اور چوٹوں کے درد سے کراہتا رہا۔ صبح ہوئی تو گیدڑ بھی اس سے آملا۔ وہ ساری رات کھیت میں خربوزے کھاکھا کر خوب سیر ہوچکا تھا۔
    ”چل بیٹا اب گھر چلیں۔” اونٹ نے مختصر سی بات کی مگر گیدڑ سے اس کی شرارت کے بارے میں کچھ نہ کہا۔
    گیدڑ مزے سے اونٹ پر چڑھ بیٹھا اور اونٹ دریا میں اتر گیا۔ دریا میں ایک جگہ پانی گہرا تھا۔ اونٹ سیدھا اس جگہ پر پہنچ کر رک گیا۔
    ”کیا بات ہے ماما جی، رک کیوں گئے؟” گیدڑ نے پوچھا۔
    ”کیا بتاؤں، بڑے زور کی ولیدنی آئی ہے۔” اونٹ نے کہا۔
    اب تو گیدڑ بڑا گھبرایا۔ اس نے منت بھرے لہجے میں کہا: ”ماما جی! خدا کا واسطہ کچھ دیر کے لیے ولیدنی روکو۔ ہم دریا کے بیچوں بیچ کھڑے ہیں۔ آپ ولیدنی کرو گے تو ہم ڈوب جائیں گے۔”
    اونٹ نے کہا: ”میں مجبور ہوں، اتنے زور کی ولیدنی آئی ہے کہ روک نہیں سکتا۔ تم سے بہتر یہ بات کون سمجھ سکتا ہے کہ جب ہینگنی اور ولیدنی آجائیں تو روکے نہیں رکتیں۔”
    گیدڑ سمجھ گیا کہ اونٹ اصل میں اسے شرارت کی سزا دے رہا ہے۔ اس نے جوٹھان لی ہے۔ اب بِن کیے نہ ٹلے گا۔ اس نے اونٹ سے التجا کی:
    ”اچھا ماما جی! ولیدنی آئی ہے تو ضرور کرو، لیکن ایک مہربانی کردو کہ مجھے پیٹھ سے اتار کر اپنے منہ میں داب لو تاکہ میں ڈوبنے سے بچ جاؤں، جب تم ولید نے لگو تو منہ اوپر اٹھا لینا۔”
    اونٹ نے دل میں سوچا: ”شاباش بیٹا! یہی تو میں چاہتا تھا۔”
    اس نے گیدڑ کو منہ میں دبایا اور اُسے خوب غوطے دیے۔ گہرے پانی میں ڈبکیاں کھانے سے گیدڑ کو دن میں تارے نظر آگئے۔ برا حال ہوا تو لگا دہائی دینے، ”ہائے مار ڈالا، ماما جی! آپ تو کہتے تھے ولیدنی آئی ہے، یہ کیا کررہے ہو؟”
    اونٹ نے مسکرا کر کہا: ”ہاں بیٹا! ولیدنی آئی ضرور ہے مگر منہ میں۔”
    یہ کہہ کر اس نے گیدڑ کو پانچ میں پٹخ دیا۔ یوں شرارتی گیدڑ کو اس کی شرارت کی خوب سزا ملی۔
    ٭…٭…٭

  • ہندکو لوک کہانی(سنی سنائی)

    ہندکو لوک کہانی(سنی سنائی)

    ہندکو لوک کہانی(سنی سنائی)
    گونگلو میاں اور سات چور

    محمد احمد جواد

     

    پرانے وقتوں کی بات ہے، رام پور گاؤں میں ”گونگلو ” نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔ اس کا باپ مر چکا تھا جب کہ ماں بیٹا چھوٹے سے گھر میں زندگی بسر کر رہے تھے۔ اس کا اصل نام حمید تھا مگر گورا چٹا اور گول مٹول ہونے کی وجہ سے گاؤں والے اسے ”گونگلو میاں” پکارتے تھے۔ وہ سیدھا سادہ نوجوان تھا۔
    گونگلو سارا دن گھر فارغ بیٹھا رہتا۔ ایک دن ماں نے اسے کہا: ”اتنے بڑے ہو گئے ہو، ہر وقت بے کار پڑے رہتے ہو، جاؤ اور کچھ کما کر لاؤ۔” ماں کی بات سن کر گونگلو میاںنے جوش سے انگڑائی لی اور دو روٹیاں رومال میں باندھ کر گھر سے نکل پڑا۔
    گونگلو میاں کی قسمت بڑی اچھی تھی۔اس کا ہر کام قدرتی طور پر آسان ہو جاتا تھا۔ سر پر روٹیاں رکھے، وہ سڑک پر جا رہا تھا کہ اسے کچھ لوگ نظر آئے۔ وہ اپنا بیل تلاش کررہے تھے۔ انہوں نے گونگلو میاں کو دیکھا تو اس کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”گونگلو میاں! ہمارا بیل گم ہو گیا ہے۔ آپ دعا کرو کہ بیل مل جائے۔”
    گونگلو میاں نے بات سن کر جواب دیا: ”اِدھر دیکھو، اُدھر دیکھو، بیل مل جائے گا۔” انہوں نے اِدھر اُدھر دیکھا تو بیل کھیتوں سے چرتا ہوا نکل رہا تھا۔ وہ بہت خوش ہوئے اورخوشی میں گونگلو میاں کو انعام دیا۔ گونگلو میاں انعام لیے گھر داخل ہوئے تو ماں اسے دیکھ کر بڑی خوش ہوئی۔ گونگلو میاں کی چہار سُو مشہوری ہو گئی کہ وہ درویش ہے اور لوگوں کی گم شدہ چیزیں انہیں ڈھونڈ دیتا ہے۔
    کچھ دنوں بعد گونگلو میاں گھر سے دوبارہ نکلے۔ اس بار چلتے ہوئے اُسے ایک بوڑھا آدمی ملا۔ بوڑھے نے گونگلو میاں کو روکا اور کہا: ”گونگلو میاں! میری بیٹی کی سونے کی انگوٹھی گم ہو گئی ہے۔آپ دعا کروہمیں انگوٹھی مل جائے۔” گونگلو میاں دل میں کہنے لگے: ”میں درویش تو ہوں نہیں جو انگوٹھی ڈھونڈ نکالوں؟ چلو کچھ نہ کچھ تو کرتا ہوں۔” یہ سوچ کر گونگلو میاں نے بوڑھے آدمی سے کہا: ”بڑے میاں! لنگر پکاؤ، آپ بھی کھاؤ اور مجھے بھی کھلاؤ، انگوٹھی مل جائے گی۔”
    بوڑھے کی بیٹی لنگر کے لیے چاول نکالنے لگی تو چاولوں میں سے انگوٹھی نکل آئی۔ بوڑھا بڑا خوش ہوا۔ اس نے گونگلو میاں کو ڈھیر سارا انعام دیا۔ گونگلو کے وارے نیارے ہوگئے۔ وہ خوشی خوشی گھر لوٹ آیا۔
    کچھ عرصے بعد بادشاہ کے محل میں چوری ہو گئی۔ شہزادی کا قیمتی ہار کوئی چور لے گیا تھا، بہت تلاش کے بعد بھی چوروں کا سراغ نہ ملا۔ آخر بادشاہ نے گونگلو میاں کو دربار میں بلابھیجا اور کہا: ”گونگلو میاں! شہزادی کا قیمتی ہار چوری ہو گیا ہے، ہار ڈھونڈ کر دو، نہیں تو سزا ملے گی۔” گھونگلو میاں نے وضاحت کرتے ہوئے جواب دیا: ”بادشاہ سلامت! مَیں درویش تو ہوں نہیں جو ہار ڈھونڈ لاؤں۔ میری کرامت ایسے ہی مشہور ہو گئی ہے۔” بادشاہ نے گونگلو میاں سے کہا: ”مجھے بس گم شدہ ہار چاہیے۔” گونگلو چپ ہو گیا اور بات کو ختم کرتے ہوئے کہنے لگا:”چلو! کچھ نہ کچھ تو کرتے ہیں۔ آپ مجھے سات دنوں کی مہلت دیں۔” مہلت لے کر وہ گھر آگیا۔
    گونگلو اگلے روز جنگل میں نکل گیا۔ وہاں جا کر اس نے آواز لگائی: ”ایک تو آگیا، باقی رہ گئے چھے وہ بھی آجائیں گے۔” وہ اپنی مہلت ختم ہونے کے دن گننے لگا۔ گونگلو میاں کو علم نہ ہوا کہ قریب چور کھڑا اس کی باتیں سن رہا ہے۔ چور سمجھاشاید گونگلو اس کی بات کررہا ہے۔ وہ اپنے ساتھی چوروں کو بتانے کے لیے بھاگم بھاگ ان کے پاس پہنچا اور پریشان صورت بناکرکہنے لگا: ”گونگلو میاں کو پتا چل گیا ہے کہ محل سے چوری ہم نے کی ہے۔ اب ہماری خیر نہیں ہے۔” باقی چوراسے حیرت سے دیکھنے لگے۔ اگلے روز اس بات کی تصدیق کے لیے دوسرا چور پہلے چور کے ساتھ گیا۔دونوں وہاں پہنچے تو حسبِ معمول گونگلو میاں کی اُونچی اُونچی آواز سنائی دے رہی تھی۔
    ”پہلے کے ساتھ آج دوسرا بھی چلا آیا، باقی رہ گئے چھے۔ وہ بھی جلد ہی آ رہے ہیں۔” گونگلو نے کہا تو چوروں کے کان کھڑے ہو گئے۔ وہ بھاگم بھاگ اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچے اور انہیں ساری حقیقت بتائی۔ باقی چورو ں نے بھی ایک ایک کر کے یہی عمل دہرایا۔ روز جتنے چور آتے، گونگلو ان کی تعداد بول کر کہتا۔ اتنے آگئے اورباقی اتنے رہ گئے۔ وہ بھی جلد ہی آجائیں گے۔ آخر ساتویں روز چوروں کا سردار خود معاملہ دیکھنے وہاں آیا۔ باقی چور بھی اس کے ہمراہ تھے۔
    وہاں پہنچ کرسارے چور درخت کی اوٹ میں چھپ گئے اور کان لگا کر سننے لگے۔ گونگلو میاں اپنی مستی میں آلتی پالتی مار کر بیٹھے تھے۔جیسے ہی سردار وہا ں آیا، گونگلو بلند آواز سے بولا: ”لوجی! آج ساتوں کے ساتوں آ گئے۔ اب جو ہو گا وہ کل دربارہی میں دیکھا جائے گا۔” گونگلو اپنی سزا کے بارے میں کہہ رہا تھا۔ اس کی مہلت کے ساتوں دن گزر گئے تھے اور اس نے ابھی تک چورنہیں ڈھونڈے تھے۔ درختوں کی اوٹ میں چھپے چوروں نے اندازہ لگایا گویا گونگلو میاں نے انہیں ڈھونڈ لیا ہے۔ اب وہ پکڑے گئے ہیں۔ یہ سوچ کر سارے چور پریشان ہوگئے۔
    انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اب کیا کریں۔ طے پایا کہ گونگلو میاں کو کچھ دے دلا کرباشاہ کی سزا سے بچا جائے۔ جان ہے تو جہان ہے۔مشورہ کر کے سارے بھاگم بھاگ گونگلو میاں کے پاس آئے۔ ڈر اورخوف کے مارے چور اُس کے پاؤں میں گر پڑے اور چوری تسلیم کرتے ہوئے بولے: ”گونگلو میاں! چوری ہم نے ہی کی ہے ۔ ہم آپ کو چور ی کا ہار اور ساتھ ڈھیر سارا مال دیتے ہیں۔آپ بس ہمیں بادشاہ سے بچا لیں۔” چوروں نے ہار اور دوسرا سامان گونگلو میاں کے حوالے کیا اور خودکہیں بھاگ نکلے۔
    اگلے روز ہار مل جانے پر بادشاہ بڑا خوش ہوا۔اس نے گونگلو میاں کو ڈھیر سارا انعام دیا اور اسے اپنا مصاحبِ خاص بنا لیا۔
    ٭…٭…٭

  • لوک کہانی | دُوسری ترکیب

    لوک کہانی | دُوسری ترکیب

    لوک کہانی
    دُوسری ترکیب
    نذیر انبالوی

    جناب نذیر انبالوی کا اصل نام نذیر الحسن ہے۔ لاہور میں پیدا ہوئے۔ پاکستان میں بچوں کے ادب کی تاریخ ان کے نام کے بغیر نامکمل ہے۔ اسّی کی دہائی سے لکھنے کا آغاز کیا اور آج تک بغیر کسی تعطل کے مسلسل ان کا قلم بچوں کی ذہنی تربیت کا کام سرانجام دے رہا ہے۔ 70 کے قریب کتابوں کے مصنف ہیں۔ ماہنامہ تعلیم و تربیت کے مدیر رہے۔ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے مختلف جماعتوں کی اُردو کی کتابیں انہی کی محنت کا ثمر ہیں۔ الف نگر میگزین میں قارئین ان کی خاص کہانیوں سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں۔

    تنال نے گود میں بچھڑا اُٹھا رکھا تھا اور دوسرے ہاتھ میں گائے کی رسی تھی۔ صحن میں اس کی بیوی چارپائی پر بیٹھی سبزی بنا رہی تھی۔
    ”نیک بخت! اللہ نے ہماری سن لی ہے، یہ گائے اوراِس کا دودھ ہمارا ہے، خوب دودھ پیو۔” تنال نے بچھڑے کو صحن میں چھوڑ کر گائے کو تھپکی دیتے ہوئے کہا۔
    ”بات کچھ سمجھ میں آئی نہیں۔” بیوی نے پہلے بچھڑے اور پھر گائے کو دیکھتے ہوئے تنال سے کہا۔
    ”بادشاہ سلامت نے اپنے خاص نوکروں کو ایک گائے اور اُس کا بچھڑا دیا ہے، جو کوئی بھی بچھڑے کو گائے کا دودھ پلا کر صحت مند کرے گا اُسے خصوصی انعام ملے گا۔” تنال نے تفصیلی بتائی۔
    ”اچھا تو یہ بات ہے، بھئی سارا دودھ تو بچھڑا پی جائے گا پھر یہ دودھ ہمارا کیسے ہوا؟” بیوی کو فکر مند دیکھ کر تنال نے نہایت اطمینان سے کہا:
    ”تم دیکھتی جاؤ میں کیا کرتا ہوں، بس تم دودھ پیو اور جان بناؤ۔”
    پھر دونوں روز ہی گائے کا دودھ پینے لگے اور جو بچ جاتا، تو رشتہ داروں کو بھیج دیتے۔ دودھ نہ ملنے کے باعث بچھڑا قد میں بڑھا اور نہ ہی صحت مند ہوسکا۔ گھر میں جو روٹی پکتی وہ بہ مشکل بچھڑے کو کھانے کو ملتی۔ گائے کا دودھ پیتے پیتے تنال ہٹا کٹا ہوگیا اور اُس کی بیوی بھی خاصی صحت مند ہوگئی تھی۔ انہیں اُس وقت فکر لاحق ہوئی جب کچھ عرصے بعد بادشاہ نے ملازموں کو اپنے اپنے بچھڑوں سمیت دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا تھا۔ تنال نے ایک ترکیب سوچ رکھی تھی۔ دربار میں جانے سے قبل اُس نے اس ترکیب کو عملی جامہ پہنایا۔ اُس نے ایک برتن میں دودھ کو خوب گرم کیا۔ پھر وہ برتن بچھڑے کے سامنے رکھا، تو بچھڑا جیسے ہی دودھ پینے لگا، گرم دودھ سے اُس کا منہ جل گیا۔ وہ خوب چیخا چلّایا اور بے قرار ہوکر اِدھر اُدھر بھاگنے لگا۔ آخر بچھڑا ایک طرف خاموش ہوکر بیٹھ گیا۔
    اگلے دن تنال بچھڑا لے کر دربار پہنچا، تو بادشاہ نے بچھڑا دیکھ کر کہا:
    ”یہ تو پہلے سے بھی کمزور ہوگیا، لگتا ہے تم اس کے حصے کا دودھ پیتے رہے ہو۔”
    ”حضور! ایسی بات نہیں، بلکہ اسے دودھ پسند ہی نہیں ہے، میں نے جب بھی اس کے سامنے دودھ رکھا اِس نے پیا ہی نہیں۔” تنال نے صفائی پیش کی۔
    ”ابھی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاتا ہے۔” بادشاہ سلامت نے تنال کو گھورتے ہوئے کہا۔
    پھر بادشاہ کے حکم پر ایک برتن میں دودھ لایا گیا۔ بادشاہ سلامت نے جلاد کو حکم دیا کہ اگر تنال کا جرم ثابت ہوجائے تو اس کی گردن اُڑا دینا۔ دودھ کا برتن بچھڑے کے سامنے رکھا گیا۔ بچھڑا تو پہلے ہی گرم دودھ سے خوف زدہ تھا۔ جیسے ہی اُس کے سامنے دودھ رکھا گیا اُس نے آنکھ اٹھا کر بھی اُسے نہ دیکھا۔ بادشاہ کو کیا معلوم تھا کہ بچھڑا دودھ کیوں نہیں پی رہا۔ یوں تنال کی ترکیب کام یاب ہوگئی۔ وہ دل ہی دل میں بے حد خوش تھا۔
    بادشاہ نے اپنے وزیر کی طرف دیکھا۔ وزیر نے بادشاہ کی آنکھوں میں چھپے سوال کو جانچ لیا تھا۔ اُس نے آگے بڑھ کر بچھڑے کو قابو کرلیا۔ وزیر نے بچھڑے کے منہ کو بہ غور دیکھا تو فوراً بولا:
    ”حضور! تنال نے جھوٹ بولا ہے کہ بچھڑے کو دودھ پسند نہیں، وہ دودھ کیسے پیے گا، اس کا تو منہ برُی طرح جلا ہوا ہے۔”
    ”بچھڑے کا منہ جلا ہوا ہے؟” بادشاہ نے دہرایا۔
    ”جی بادشاہ سلامت! بچھڑے کا منہ جلا ہوا ہے۔” وزیر نے تنال کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ بادشاہ تنال کو گھورنے لگا۔
    ”وہ… وہ… سرکار میری بیوی نے دودھ گرم کرکے پتیلی میں رکھا ہی تھا کہ بچھڑے نے اُس میں منہ ڈال لیا۔” تنال کے چہرے کی رنگت زرد ہورہی تھی۔
    ”سچ سچ بتاؤ ورنہ جلاد ہمارے حکم کا منتظر ہے۔” بادشاہ چلّایا۔

    ”مم… میں… میں جھوٹ نہیں بول رہا، سرکار رحم کیجیے۔ آپ رحم کرنے والے ہیں، میں بچھڑے کو حکیم صاحب کے پاس لے جاتا ہوں، یہ ٹھیک ہوجائے گا۔” تنال کی کسی بات کا بادشاہ سلامت کو اعتبار نہیں تھا۔ تنال چوں کہ بادشاہ کا پرانا ملازم تھا۔ اس لیے بادشاہ کو اس پر رحم آگیا۔ چناں چہ بچھڑا اور گائے واپس لے کر اُسے ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔ تنال کو کیا خبر تھی کہ گائے کا دودھ پینے کی اُسے اتنی کڑی سزا ملے گی۔ وہ منہ لٹکائے گھر داخل ہوا، تو بیوی کے سوال کرنے پر اُس نے ساری بات بتا دی۔
    ”چلو تمہاری جان تو بچ گئی ہے، جان ہے تو جہان ہے، اب گھر کا نظام کیسے چلے گا؟ جاؤ کوئی ملازمت تلاش کرو۔”
    بیوی کی بات سن کر تنال نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
    ”ایک ترکیب ہے میرے ذہن میں۔”
    ”پھر ایک ترکیب؟ تمہاری پہلی ترکیب تو ناکام ہوگئی۔”
    ”میری یہ ترکیب ناکام نہیں ہوگی، ابھی اور اسی وقت دُوسری ترکیب کو عملی شکل دیتا ہوں۔” تنال نے یہ کہہ کر زور زور سے چلّانا شروع کردیا۔ شور سن کر پڑوسی اس کے گھر آگئے۔
    ”میرے پیٹ میں شدید درد ہے، میرا زندہ رہنا مشکل ہے، مجھے بادشاہ سلامت کے پاس لے جاؤ، میں بچ نہیں پاؤں گا۔” تنال کی آہ و بکا سن کر پڑوسی اُسے بادشاہ کے دربار لے گئے۔ اُس کی یہ حالت دیکھ کر بادشاہ سلامت کو بھی ترس آگیا۔ تنال نے روتے ہوئے کہا۔
    ”سرکار! میرا آخری وقت ہے، میں آپ کے سامنے وصیّت لکھوانا چاہتا ہوں، میرے گھر میں دو صندوق ہیں۔ وہ اپنی تحویل میں لے لیں، میں مر گیا تو ڈاکو صندوق میں رکھی دولت لوٹ لیں گے۔ آپ دونوں صندوق لے لیں اور میری بیوی کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کر دیں۔”
    بادشاہ چوں کہ رحم دل تھا، اُس نے تنال کی بات مان لی۔ بادشاہ نے سپاہی بھیج کر تنال کے گھر سے تالے لگے صندوق محل میں منگوا لیے۔ شاہی طبیب نے تنال کا معائنہ کیا، درد ہوتا تو ٹھیک ہوتا۔ چالاک اور لالچی تنال تو جھوٹ موٹ درد کا بہانہ بنا رہا تھا۔ بیوی برابر اس کا ساتھ دے رہی تھی۔ شاہی طبیب کے علاج سے تنال کو افاقہ ہوگیا، تو بادشاہ سلامت نے اُسے دربارہ میں بلایا اور صندوقوں میں رکھی دولت کے بارے میں سوال کیا۔ تنال تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔ بادشاہ یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ صندوقوں میں اشرفیوں کے ساتھ کتنے ہیرے جواہرات ہیں۔ جب صندوقوں کے تالے توڑے گئے تو بادشاہ اُن میں پتھر دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ تنال کی چالاکی جان گیا تھا۔
    تنال اپنی دُوسری ترکیب کے تحت قاضی کی عدالت میں انصاف کے لیے فریاد کررہا تھا۔ بادشاہ کو قاضی نے عدالت میں طلب کرلیا۔ بادشاہ نے سزا سے بچنے کے لیے صندوق اشرفیوں اور ہیرے جواہرات سے بھر کر تنال کے حوالے کردیے۔ یہی تو تنال چاہتا تھا۔ اُس کی دُوسری ترکیب کامیاب ہوگئی تھی۔ اشرفیوں سے بھرے صندوقوں کو حاصل کرکے تنال کے پاؤں زمین پر نہ ٹکتے تھے۔ وہ اپنی کام یابی پر بے حد خوش تھا۔ اب اُسے کہیں ملازمت کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ عقل مند کہتے ہیں کہ دولت جیسے حاصل کی جاتی ہے ویسے ہی چلی بھی جاتی ہے، یہی کچھ تنال کے ساتھ ہوا۔ ایک رات ڈاکو آئے اور دونوں صندوق اٹھا کر لے گئے۔ دولت جاتے ہی تنال کا دماغ اُلٹ گیا۔ اب وہ گلیوں اور بازاروں میں ہر وقت یہی کہتا پھرتا ہے۔ ”دُوسری ترکیب، دُوسری ترکیب” یہ کہتے ہوئے وہ کبھی ہنستا ہے اور کبھی رونے لگتا۔ دولت کا تعاقب کرنے والوں کا یہی انجام ہوتا ہے۔ صدیوں سے براہوی لوگ آج بھی تنال کو لالچی آدمی کی حیثیت سے جانتے ہیں۔
    ٭…٭…٭

  • لوک کہانی | دُلّے کی وار

    لوک کہانی | دُلّے کی وار

    لوک کہانی
    دُلّے کی وار
    شازیہ ستار نایاب

    شازیہ ستار نایاب کا تعلق لاہور سے ہے۔ سیاسیات میں ماسٹرز کررکھا ہے۔ بچپن سے لکھنے کا آغاز کیا۔ پھول، نونہال، الف کتاب، کرن اور آنچل جیسے رسائل کے لیے لکھا۔ کچھ تعطل کے بعد 2016ء سے دوبارہ لکھنے کا آغاز کیا۔ الف نگر کے لیے مستقل لکھ رہی ہیں۔ بچوں اور بڑوں کے لیے بہت سی کہانیاں اور مضامین ان کے کریڈٹ پر ہیں۔

    ”زہراں کے ابّا! اس سال توزہراں کی شادی نہیں ہو سکتی۔” حمیدہ بی بی نے مایوسی کے عالم میں کہا۔
    ”ہاں ایسا ہی لگتا ہے نیک بخت! سوچا تھا اس بار فصل اچھی ہوئی ہے تو آرام سے دھی رانی کی شادی کر دیں گے مگر حکومتی کارندے اتنا زیادہ لگان لے گئے کہ کچھ بچا ہی نہیں۔” دینو نے مایوسی سے کہا۔
    ”میں تو لڑکے کی ماں کو شادی کی تاریخ لینے کا کہہ آئی تھی۔” حمیدہ روہانسی ہوئی۔
    دینو ابھی اسے تسلی دینے کے لیے الفاظ سوچ ہی رہا تھا کہ کپڑے کی ایک تھیلی اس کے قدموں میں آگری، اس کے ساتھ ہی دروازے پر دستک ہوئی۔ دینو نے ایک نظر تھیلی پر ڈالی پھر آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا۔
    ”سلام چاچا!” آنے والے نے کہا۔
    ”اوئے دُلّا بھٹی… یہ تھیلی تُو نے پھینکی ہے؟”
    ”ہاں! اوپر خدا ہے اور نیچے عبداللہ بھٹی۔ جب تک زندہ ہوں کسی بہن، بیٹی کا بیاہ نہیں رک سکتا۔ یہ اشرفیاں رکھ اور بیٹی بیاہنے کی تیاری کر۔” عبداللہ بھٹی نے کہا۔
    ”جیتا رہ میرا پتر! ہم غریبوں کا بھی خدا کے بعد تُو ہی سہارا ہے۔” دینو نے بے اختیار دعا دی اور عبداللہ بھٹی کو گلے لگا لیا۔
    ”رب سوہنا تجھے گرم ہوا سے بچائے۔ تجھے میری عمر بھی لگ جائے، تو نے ہم پہ بڑا احسان کیا ہے۔” حمیدہ بی بی نے خوش ہوکر کہا۔
    ”کوئی احسان نہیں ہے میرا۔ یہ تمہارا ہی پیسہ ہے جو مغلیہ حکومت لگان کے نام پر لے جاتی ہے۔ یہ مغل حکمران ہمیں اپنا غلام بنانا چاہتے ہیں اور غلامی میرے باپ دادا نے کبھی قبول نہیں کی تو میں کیسے کر لوں؟” عبداللہ بھٹی کی آنکھوں میں خون اُتر آیا۔ اپنے باپ اور دادا کے چہرے اُس کی نگاہوں میں گھوم گئے۔
    ”چلتا ہوں چاچا! بیاہ پر آؤں گا۔”
    ”ضرور پتر! رب راکھا۔” دینو نے کہا۔
    ”رب راکھا۔” عبداللہ بھٹی نے کہا اور گھوڑے کو ایڑ لگا دی۔
    عبداللہ تو چلا گیا لیکن بوڑھے دینو کی نگاہوں کے سامنے ماضی کا منظر گھوم گیا، جب ساندل بار (پنڈی بھٹیاں کا قریبی علاقہ) میں صدیوں سے بھٹی خاندان کی حکومت تھی۔ تب مغلوں نے ہندوستان پر حملہ کیا تو اسی علاقے کو اپنی گزر گاہ بنایا۔ مغل لشکر یہاں لوٹ مار کرتے فصلوں اور چرا گاہوں کو اجاڑتے چلے گئے۔ مزاحمت کرنے والوں کو قتل کردیتے، کھڑی فصلوں کو آگ لگا دیتے۔ ایسی صورت حال یہاں کے لوگوں کے لیے نا قابل برداشت تھی۔ پھر لوگ لگان (ٹیکس) کے ظالمانہ قوانین سے بھی تنگ تھے۔ تب سردار ساندل بھٹی نے اپنے جوان منظم کر کے مغلیہ تسلط کے خلاف علمِ بغاوت بلند کردیا۔ ساندل بھٹی کا بیٹا فرید بھٹی بھی اس کے ساتھ تھا۔ اکبر بادشاہ نے ان کے خلاف لشکر کشی کی اور قلعہ فرید تباہ کرکے دونوں کو گرفتار کیا اور اس کے بعد انہیں پھانسی دے دی۔ جب عبداللہ جوان ہوا تو اسے اُس کے باپ دادا کی شہادت کے متعلق بتایا گیا۔ وہ بھی اپنے باپ اور دادا کی طرح بہادر تھا۔ آزادی سے محبت اس کے لہو میں دوڑ رہی تھی۔

    پنڈی بھٹیاں کے قریبی گاؤں کوٹ نکہ میں ایک بڑا ظالم زمیندار رہا کرتا تھا۔ تمام لوگ اُس کے ڈر سے کانپتے تھے۔ ایک دفعہ کسی غریب ہندو مُول چند کی خوب صورت لڑکی سُندر مندریے پر اُس کی نگاہ پڑ گئی ۔ زمیندار نے لڑکی کے باپ سے اُس کا ہاتھ مانگا۔ مُول چند خوف کے مارے انکار نہ کرسکتا تھا مگر غیر مذہب میں وہ لڑکی بیاہنے کے لیے تیار نہ تھا۔ چناں چہ وہ بھاگ کر پنڈی بھٹیاں میں دُلّا بھٹی کے پاس آگیا اور سارا ماجرا سنایا۔ ایک منصوبہ بندی کے تحت دُلّا بھٹی نے مُول چند کو کہا کہ وہ زمیندار کو بیٹی کے رشتہ کے لیے ہاں کرکے تاریخ مقرر کردے۔
    مُول چند نے ایسا ہی کیا۔ دوسری طرف دُلاّ بھٹی نے سانگلہ میں اپنے ایک ہندو دوست کے لڑکے سے سُندر مندریے کا رشتہ طے کردیا اور اُسے شادی کی وہی تاریخ دی جو مُول چند نے کوٹ نکہ کے زمیندار کو دی تھی۔ زمیندار کی برات سج دھج کر مُول چند کے دروازے تک پہنچی ہی تھی کہ اُدھر دُلاّ بھٹی دوسری برات لے کر آگیا۔ دُلّا بھٹی کے شیر جوانوں نے زمیندار کو بڑی مضبوطی سے پکڑ کر نیچے گرا لیا اور اُوپر سے جُوتے برسانے شروع کردیے۔ وہ بھی یوں کہ جیسے بادلوں میں بجلی کڑکتی ہے۔ معافی مانگنے پر زمیندار کی خلاصی ہوئی اور اسے سندر مندریے کو بیٹی کہنا پڑا۔ اس کے بعد سُندر مندریے کی شادی ہندو لڑکے سے کردی گئی اور شادی کی رسم میں دُلّا بھٹی خود سُندر مندریے کے باپ کی حیثیت سے شریک ہوا۔ اس واقعہ کے بعد دُلاّ بھٹی مظلوم عوام کا لیڈر بن گیا۔
    ہندوستان میں اس وقت تک شہنشاہ اکبر ایک نئے دین ”دینِ الٰہی” کی بنیاد رکھ چکا تھا جسے مسلمانوں نے سخت نا پسند کیا۔ دینِ الٰہی کی نا پسندیدگی، آزادی کی تڑپ اور مظلوم کسانوں پر ظلم کے خلاف آواز اٹھانے پر بے شمار لوگ عبداللہ بھٹی کے گرد اکٹھے ہو گئے۔ ارد گرد کی ریاستوں کے حاکم بھی اُس کے ساتھ مل گئے۔ والد فرید بھٹی اور دادا ساندل بھٹی کے بعد عبداللہ بھٹی ساندل بار کی سرحدوں کو وسیع کرتا چلا گیا۔
    عبداللہ بھٹی کی بڑھتی ہوئی طاقت شہنشاہ اکبر کے لیے مستقل خطرہ بن گئی تھی۔ مغربی پنجاب کے لوگ اس کے ساتھ تھے۔ وہ مغلیہ افواج کو لوٹتا اور مال غریبوں میں تقسیم کر دیتا۔ وہ شاہی نوابوں کے لیے ایک مسئلہ بن گیا۔ اس کی وجہ سے مغلیہ سلطنت کے دبدبے میں کمی آرہی تھی۔ چناں چہ شہنشاہ اکبر اعظم کو خود لاہور آنا پڑا۔ دوسری طرف عبداللہ بھٹی کو بھی مغلیہ حکومت کے اقدامات کی خبر ہو گئی۔ وہ بھی اُن کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو گیا۔
    ایک دن عبداللہ کو اطلاع ملی کہ ساندل بار کے شمالی علاقے میں ایک قافلہ مغلوں کے لیے رسد لے کر جا رہا ہے۔ عبداللہ بھٹی اور اس کے ساتھی تیزی سے سفر کرتے ہوئے رسد کے قافلے تک پہنچ گئے۔ قافلہ تھکا ہوا تھا۔ عبداللہ اور اس کے ساتھیوں نے بارہ ہزار کی نفری کے اس قافلے پر اتنی شدت سے حملہ کیا کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے تتر بتر ہوگیا۔ قافلے کے سردار کا سر کاٹ کر عبداللہ بھٹی نے اکبر بادشاہ کے درباری اور ایک بااثر شخص کو اس پیغام کے ساتھ بھیجا کہ یہ بادشاہ کے لیے دُلّا بھٹی کی طرف سے تحفہ ہے۔ اگر ساندل بار میں لگان کے لیے کسی کو بھیجا یا کو ئی رسد کا قافلہ بغیر اجازت یہاں سے گزرا تو اس کا بھی یہی حشر ہو گا۔
    یہ پیغام پا کر بادشاہ غصے میں آگ بگولا ہو گیا اور بولا: ”کون سورما ہے جو ا س کو ہمارے دربار میں پیش کرے۔” اس وقت کے

  • گوادر کی لوک کہانی (سنی سنائی)

    گوادر کی لوک کہانی (سنی سنائی)

    گوادر کی لوک کہانی (سنی سنائی)
    انوکھا جزیرہ
    مصباح ناز

    جہلم سے تعلق رکھنے والی مصباح ناز نے بی کام کررکھا ہے۔ لکھنے پڑھنے کا جنون بچپن ہی سے تھا۔ پہلی کہانی 2018ء میں الف کتاب پورٹل پر شائع ہوئی۔ اس سے مزید لکھنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ بچوں کے لیے ”انوکھا جزیرہ” یقینا ان کے روشن ادبی مستقبل کی نوید ہے۔
    آج کل پاکستان کے ساحلی شہر گوادر کے پوری دنیا میں چرچے ہیں۔ برسوں سے اس شہر میں رہنے والے ماہی گیر جانتے ہیں کہ یہاں سمندر کے بیچوں بیچ کئی چھوٹے چھوٹے جزیرے موجود ہیں۔ اسی علاقے کی ایک لوک داستان جسے آج بھی مقامی لوگ بڑے دل چسپ انداز میں سناتے ہیںکہ برسوں پہلے یہاں ساحل کے پاس جوہن دار نام کا ایک مچھیرا رہتا تھا۔ وہ اپنی گزر بسر کے لیے جال بُنتا، مچھلیاں پکڑتا، پھر انہیں بیچ کر پیسے کماتا تھا۔
    ایک روز جوہن دار نے دوسرے مچھیروںکے ہمراہ گہرے سمندر میں جال لگانے کا فیصلہ کیا، چناں چہ وہ سبھی ایک کشتی میں سوار ہوئے پھر کچھ دیر بعد کشتی سمندر کی لہروں پر سفر کرتی ہوئی گہرے پانی کی طرف جانے لگی ۔چلتے چلتے وہ بہت دور پہنچ گئے۔ہر طرف پانی ہی پانی تھا ۔کشتی میں اس وقت جوہن دار سمیت پانچ لوگ سوار تھے ۔سیر کرتے اور مچھلیاں پکڑتے شام کا وقت ہوا تو اچانک ایک مچھیرے نے بتایا کہ کھانے پینے کا سامان ختم ہونے والا ہے۔
    ”اوہ ! اب کیا ہوگا؟میرے خیا ل میں ہمیں واپس چلنا چاہیے ۔”دوسرے مچھیرے نے کہا۔ اچانک جوہن دار چِلّااُٹھا:’دوستو! سامنے دیکھو ،وہ کیا ہے ؟”
    سب نے گہرے پانی کی طرف نگاہ دوڑائی تو انہیں ایک نشان سا نظر آیا ۔ شایدسامنے کو ئی چھوٹا سا جزیرہ تھا۔
    ”میرے خیال میں ہمیں اسی طرف چلنا چاہیے۔” یہ کہہ کر جوہن دار نے کشتی کا رخ جزیرے کی جانب کردیا ۔وہاں پہنچتے ہی جوہن دار نے دوستوں کی مدد سے کشتی کا لنگر ڈال دیا۔ اس جزیرے پر پہلے کبھی اِن کا گزر نہیں ہوا تھا۔اسی لیے وہ ذرا محتاط اندا ز میںقدم اٹھاتے آگے بڑھنے لگے۔ ابھی انہوں نے جزیرے پر کھانے پینے کے سامان کی تلاش شروع ہی کی تھی کہ اچانک وہاں عجیب شکلوں والے کچھ لوگ آئے اورانہیں زبردستی پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔
    جوہن اورباقی مچھیرے اس ناگہانی آفت سے گھبرا گئے ۔ان کی آنکھیں بند کرکے انہیں ایک ویران جگہ پر لے جایا گیا۔کچھ دیر بعدوہ سبھی ایک غار میں قید تھے۔ جب ان کی آنکھوں سے پٹی ہٹائی گئی تو خود کو اس خوف ناک جگہ پردیکھ کر وہ پریشان ہوگئے۔ سامنے اونچی جگہ پر ڈرائونی شکل والاایک آدمی بیٹھا تھا۔ اس کا نام نپکو تھا۔ نپکو اپنا تازہ شکار دیکھ کرہولے سے مسکرا رہا تھا۔
    ”تم کون لوگ ہو ؟اور ہم سے کیا چاہتے ہو؟” جوہن دار نے گھبرا کر پوچھا۔

    ”یہ جزیرہ ہمارا ہے اور ہماری اجازت کے بغیر یہاں کوئی پرندہ بھی پَر نہیں مار سکتا، تم لوگوں نے ہم سے پوچھے بغیر یہاں کشتی کیوں روکی؟ اسی لیے میرے آدمی تمہیں یہاں لے آئے ہیں۔” نپکو نے رعب دار آواز میں کہا۔
    ”مگر ہمیں معلوم نہ تھا،آپ اگر ہمیں معاف کردوتو ہم فوراََ یہاں سے چلے جاتے ہیں۔” جوہن نے درخواست کی لیکن نپکو نہ مانا ،وہ بہت بے رحم اور ظالم جادوگر تھا۔ اس نے فوراً کوئی منتر پڑھا پھر جوہن کے سوا باقی تمام مچھیروں کو مٹی کا پتلا بنا دیا۔ یہ دیکھ کر جوہن مزیدخوف زدہ ہوگیا۔ نپکواب جوہن سے مخاطب ہوا:
    ”سنو!تم مجھے بہادر لگتے ہو، میرے پاس تمہارے لیے ایک کام ہے، اگر تم نے میرا وہ کام کردیا تو میں تمہارے دوستوں کو پھر سے اصل صورت میں لے آئوں گا،صرف یہی نہیں،بلکہ تم لوگو ںکو آزاد بھی کردوں گا۔” نپکو نے کہا۔
    ”اوہ!کیسا کام؟” جوہن دار نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔
    ”ہمارے دیوتا کو تمہارے دیس کے ایک درویش عامل نے مٹی کا پتلا بنا دیا ہے، دیوتا ہمیں ایک مفید قسم کا جادو سکھا رہے تھے مگر عامل کو یہ بات پسند نہیں آئی۔ اس نے اپنے عمل سے ہمارے دیوتا کو مٹی کا بنا دیا۔کئی سال بعد وہ عامل مرگیا اور مرتے وقت اس نے یہ سارا عمل اپنی بیٹی کو سکھا دیا تھا ۔ اب اس کی بیٹی یہ سب کچھ جانتی ہے۔ اگر تم اُسے اغوا کرکے یہاں لے آئو تو وہ ہمارے دیوتا کو ٹھیک کرسکتی ہے۔” نپکو نے تفصیل بتائی۔
    جوہن کے پاس اپنے دوست مچھیروں کی زندگی بچانے کا کوئی اور راستہ نہ تھا، اسی لیے وہ مان گیا۔ مشن پر جانے سے پہلے نپکو نے جوہن کو ایک جادوئی ہار دیا۔
    ”لو،یہ رکھ لو، اگرتم یہ ہار کسی طرح عامل کی بیٹی کے گلے میں پہنا دو، تو وہ اسی وقت تمہاری قید میںآجائے گی۔” نپکو نے اسے ہار دیتے ہوئے کہا۔
    جوہن ہار لیے سفر پر روانہ ہوگیا۔ چلتے چلتے وہ اس بستی میں پہنچ گیا جہاں عامل کی بیٹی رہتی تھی۔ اس نے لوگوں سے اُس عامل کے گھر کا پتا پوچھا اور کچھ ہی دیر بعد اپنی منزل پر پہنچ گیا۔ دروازے پر دستک دی تو ایک لڑکی نے دروازہ کھولا۔ سامنے ایک مسافر کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئی۔ اس سے پہلے کہ وہ جوہن سے کچھ پوچھتی ،وہ خود ہی بول پڑا:
    ”اے نیک دل لڑکی !میں مسافر ہوں اورسفر کرکے کافی تھک گیا ہوں۔مجھے پینے کے لیے پانی چاہیے۔” جوہن کی معصوم شکل پر لڑکی کو رحم آیا۔ اس نے جوہن کو دروازے پر ہی رکنے کاکہا اور تھوڑی دیر بعد اس کے لیے پانی لے آئی۔
    ”نام کیا ہے تمہارا ؟” لڑکی نے اس سے پوچھا۔
    ”جوہن… جوہن نام ہے میرا، یہ ساتھ والے شہر سے آیا ہوں۔”
    ”کیا کرنے آئے یہاں؟” لڑکی نے سپاٹ لہجے میںپوچھا۔
    ”تت… تاجر ہوں۔” جوہن نے فوراََ بات بنائی۔