Tag: الف کہانی

  • ”استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ) | آغازِ سفر | باب ۱

    ”استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ) | آغازِ سفر | باب ۱

    تحریر:مدیحہ شاہد
    ”استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ)
    آغازِ سفر
    باب1
    سوشل ورک کا شوق اور خدمت ِ خلق کا جذبہ مجھے بین الاقوامی این جی او انر ویل کلب کے قریب لے آیا۔ مجھے یہ کلب جوائن کئے ہوئے چند دن ہی ہوئے تھے کہ ڈسٹرکٹ چیئرمین 341 کے سالانہ وزٹ کی خبریں ملنے لگیں۔
    یاسمین مشتاق جن کا تعلق جھنگ سے تھا انرویل کلب 2018-2019 کی چیئرمین تھیں۔ ان کے شوہر چوہدری مشتاق روٹری کلب کے گورنر تھے اور خود وہ کئی سالوں سے اس این جی او سے وابستہ تھیں۔
    میں چونکہ کلب کی نئی ممبر تھی تو مجھے کلب کی سرگرمیوں اورچارٹر کے متعلق زیادہ علم نہیں تھا۔
    کسی نئی جگہ پر جاکر ایڈجسٹ ہوناا ور نئے دوست بنانا میرے لئے ہمیشہ سے ہی مشکل رہا ہے۔ میں نے اپنے تیئں کوشش کی کہ کلب کی سرگرمیوں میں خاطر خواہ حصہ لے سکوں اور وہ دوست بناسکوں جو دوسروں کے فیس بک پروفائل میں نظر آتے ہیں۔ میری زندگی میں دوست بنانے کی جستجو اک طویل جستجو تھی۔ میں نے خوشی خوشی اس کلب کو جوائن کیا۔
    سب ممبران سے تھوڑا بہت تعارف ہوا۔ کئی لوگوں نے میرے ٹی وی ڈرامے دیکھ رکھے تھے اور مجھے میرے کام کے حوالے سے جانتے تھے۔ مجھے اس کلب میں سب نے خوش آمدید کیا۔ دیگر سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سال میں ایک بار ہر کلب میں چیئرمین کے وزٹ کا انعقاد کیا جاتا ہے اور اس وزٹ میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ نئے ممبران کو کلب کی پِن بھی لگائی جاتی ہے۔
    ہمارے کلب نے اوائل مارچ کے دنوں میں سروز کلب لاہور میں ایک دعوت کا اہتمام کیا۔ چیئرمین یاسمین مشتاق جھنگ سے تشریف لائیں۔ نیلے لباس میں ملبوس پھولوں کے گلدستے تھامے وہ سب سے خوشدلی سے ملیں۔ مجھے وہاں علم ہوا کہ وہ اپریل میں کلب کا سالانہ انٹرنیشنل ٹرپ لے کر ترکی جارہی ہیں۔ اس مقصد کے تحت لوگ اپنے اپنے نام لکھوا رہے تھے۔ میں فوراً اُس طرف متوجہ ہوگئی۔
    ”ترکی!”
    میری آنکھیں چمکنے لگیں۔
    دل میں چھپی برسوں پرانی خواہش نے آنکھ کھولی۔ استنبول ، توپ کاپی محل، بُرصا، قونیہ، انقرہ، خلافت ِ عثمانیہ کے تاریخی مقامات ، مساجد، نیلے پانی کا سمندر اور بے شمار جگہیں یاد آئیں۔ میں ترکی کے تاریخی ڈرامے ذوق و شوق سے دیکھتی تھی۔ مجھے وہاں کی ثقافت ، کلچر ، روایات اور آرکیٹیکچر بہت پسند تھا۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مجھے ترکی سے بے حد محبت تھی۔ ترکی کے بارے میں پڑھ پڑھ کر مجھے وہاں کی سیر کا بے حد شوق تھا مگر گھر داری میں کئی سال ایسے مصروف رہی کہ اس خواہش کوپورا کرنے کی فرصت نہ ملی۔ گھر، بچے، ذمہ داریاں، بچوں کے سکول، ان کی پڑھائی اور کہانیاں، ڈرامے لکھنے میں ایسی مصروف رہی کہ کبھی کسی باہر کے ملک جانے کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا۔
    اب جو اس ٹرپ کے بارے میں سنا تو دل کو سمجھانا مشکل ہوگیا۔ وہ ایک انقلابی لمحہ تھا۔
    ”میں بھی ترکی جانا چاہتی ہوں۔”
    میں نے ایک لمحے میں یہ فیصلہ کرلیا۔
    جن لوگوں کو ہمسائے کے گھر جانے کی فرصت نہ ہو ان کے لئے کسی فارن ٹرپ پر جانا انہونی ہی تو تھی۔ مگر میں نے مصروفیات کی گٹھری کو ایک طرف رکھ دیا۔ دل میں کسی چیز کی لگن ہو تو فیصلے لمحوں میں ہوجایا کرتے ہیں۔
    ”گھر والوں سے مشورہ کرلیں، آپ کے بچے بھی چھوٹے ہیں۔ اس ٹرپ کا پیکیج ایک لاکھ پینسٹھ ہزار ہے، اپنا بجٹ بھی دیکھ لیں۔ یہ فیصلے سوچ سمجھ کر کرنے پڑتے ہیں۔ ہر پہلو کو دیکھنا پڑتاہے۔”کسی نے آہستہ آواز میں سنجیدگی سے کہا۔
    ”میں سب Manage کرلوں گی۔ آپ میرا نام بھی لکھ لیں۔ میں بھی ترکی جانا چاہتی ہوں۔”
    میں نے حتمی انداز میں اعتماد سے کہا۔ سوچ بچار، نظرثانی جیسی فلسفیانہ باتیں کہیں پیچھے رہ گئیں۔
    اس لمحے مجھے فیصلہ کرنے کی قوت کا ادراک ہوا۔ انسان کے دل و دماغ میں بہت سی قوتیں ہوتی ہیں جس کا اسے خود بھی اندازہ نہیں ہوتا۔
    ”ہاں ضرور چلیں۔ میں آپ کو ترکی گروپ میں شامل کرلیتی ہوں۔ آپ ٹریول ایجنٹ سے بات بھی کرلیجئے گا وہ آپ کو ٹریول پلان بھی بھیج دیں گے۔”
    یاسمین مشتاق نے خوشدلی سے کہا۔
    وہ خوش اخلاق اور خوش مزاج شخصیت کی مالک تھیں۔ ترکی جانے کی خوشی اور ایکسائیٹمنٹ اتنی زیادہ تھی کہ میں نے جوش وولولے کے ساتھ اپنا نام لکھوا دیا اور ترکی گروپ میں شامل ہوگئی۔
    میں خوشی خوشی گھر آئی اور گھر والوں کو یہ اہم اطلاع دی جسے سن کر ہر کوئی حیرت زدہ رہ گیا۔ گھر والوں کو کس طرح راضی کیا یہ ایک الگ کہانی ہے۔ میں نے ٹریول ایجنٹ سے بات چیت کر لی اور ایڈوانس بھی جمع کروا دیا۔ پاسپورٹ میرے پرس میں ہی پڑا تھا۔ اس پاسپورٹ کی کہانی بھی حیرت انگیز تھی۔ کچھ عرصہ قبل میں نے زی انڈیا کے لئے ایک ڈرامہ لکھا تھا جس کی میٹنگ کے سلسلے میں مجھے اور مصباح شفیق کو دبئی جانا تھا مگر میرا پاسپورٹ نہیں بنا ہوا تھا کہ کبھی پاسپورٹ بنانے کا خیال ہی نہیں آیا تھا۔ پھر مجھے ارجنٹ پاسپورٹ بنوانا پڑا مگر میٹنگ دو دن بعد ہی تھی تو مصباح اکیلی ہی دبئی چلی گئی۔ میں باربار پاسپورٹ دیکھ کر آہ بھرتی۔ پاسپورٹ تو بن گیا مگر دبئی کا ٹؤر نکل گیا۔ اس بات کا غم مہینوں دل میں رہا مگر اب غم کے خوشی میں بدلنے کا وقت تھا۔
    جب انسان پہلی بار کسی فارن ٹرپ پر جارہا ہوتا ہے تو بچوں کی طرح ایکسائیٹڈ ہوتا ہے۔ میں نے ٹرپ کا پلان پڑھا۔ استنبول، انقرہ، قونیہ اور کپاڈوکیہ کے اہم مقامات کی تصاویر بار بار انٹرنیٹ پر دیکھتی رہتی۔ نئے کپڑے سلوائے، بہترین سوٹ کیس خریدا، جیولری ، جوتے، پرس نیز خوب شاپنگ کی۔ ہاں بھئی عمر کتنی بھی منزلیں طے کرلے، خواتین کا دل ہمیشہ ٹین ایجر ہی رہتاہے۔
    خیر 24 اگست کو ہم سعودی ایئرلائنز کے ذریعے ترکی کے لئے روانہ ہوئے۔ جہاز میں بیٹھ کر دل ذرا خوفزدہ ہوگیا۔ میں پہلی بار جہاز میں تب بیٹھی تھی جب میں بارہ سال کی تھی۔ ابا جان سعودی عرب سے واپس آئے تھے اور ان کی پوسٹنگ ملیر کینٹ کراچی ہوئی تھی۔ ہم لاہور سے کراچی جہاز میں گئے تھے۔ پھر شادی کے بعد میاں کی پوسٹنگ بہاولپور رہی تو میں اپنے بیٹے علی کے ساتھ بہاولپور سے پنڈی اور پنڈی سے بہاولپور جہاز میںآیا جایا کرتی اور سارے کینٹ میں جہازوں میں سفر کرنے والی خاتون مشہور ہوگئی تھی مگر پھر بھی اب جہاز میں بیٹھ کر دل خوفزدہ ہوگیا۔ خوف کا تعلق عمر سے نہیں وِل پاور سے ہوتا ہے۔ خیر میں نے اپنی ہمت بندھائی اور خود کو حوصلہ دیا۔ میرے دائیں جانب خالدہ سعید اور بائیں جانب یاسمین مشتاق بیٹھی تھیں۔ سائیڈ والی سیٹ پر رفعت اور عبدالستار صاحب بیٹھے تھے۔

    ایئر پورٹ پر اچانک کچھ ایسے واقعات رونما ہوگئے تھے کہ جن کی وجہ سے بہت سے مسافر اپ سیٹ تھے۔ مسز شہناز سردار کے دو پاسپورٹ تھے وہ ایک پاسپورٹ لائیں دوسرا نہ لاسکیں اور بورڈنگ کلوز ہوگئی۔ وہ اور ان کے میاں جہاز میں سوار نہ ہوسکے۔ عائشہ عمران کے میاں بھی کسی وجہ سے جہاز میں سوار نہ ہوسکے۔ وہ اپنی بہن مہوش کے ساتھ بیٹھی تھیں اور مسلسل رو رہی تھیں۔
    ”حوصلے سے کام لیں، نہ روئیں۔”
    ارد گرد بیٹھے لوگوں نے ہمدردی سے سمجھایا مگر ان کا غم کم نہ ہوا۔
    ”گھر سے نکلتے وقت ہم دونوں کتنے خوش تھے کہ ترکی جارہے ہیں۔ کئی دنوں سے خوشی خوشی تیاریاں کررہے تھے۔ مگر میں جہاز میں سوار ہوگئی اور وہ وہیں ایئرپورٹ پر رہ گئے ۔
    ” میرا دل رو رہا تھا۔”
    وہ آنسو بہاتے ہوئے رقت آمیز انداز میں بولیں۔
    ”آپ پریشان نہ ہوں۔ وہ بھی جلد آجائیں گے۔”
    لوگوں نے تسلی دی سب مسافر ان کے غم میں برابر کے شریک تھے۔
    سب مسافر خوشی خوشی جہاز میں سوار ہوگئے، میرے میاں کے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا!”
    وہ پھر رونے لگیں۔ آہیں اور سسکیاں گونجنے لگیں۔
    ”آپ کی شادی کو کتنا عرصہ گزرا ہے؟”
    کسی نے پوچھا۔
    ”اٹھارہ سال۔”
    انہوں نے جواب دیا۔
    ”آپ کے بچے ہیں؟”
    کسی نے سوال کیا۔
    ”میرے چھ بچے ہیں۔”
    وہ اسی انداز میں بولیں۔
    ”پھر بھی محبت کا یہ عالم ہے!”
    کسی نے بے ساختہ کہا۔
    ”محبت عمر، وقت ، سال، مہینے نہیں دیکھتی۔ اس کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔ وقت سے نہیں۔”
    کسی نے فلسفیانہ انداز میں کہا۔
    مہوش اور ان کے شوہر فیصل عائشہ عمران کو تسلیاں اور دلاسے دیتے رہے۔ مشتاق صاحب بھی سمجھاتے رہے کہ فکر نہ کریں۔ عمران صاحب اگلی فلائٹ سے ترکی پہنچ جائیں گے مگران کے دل کو تسلی نہ ملی اور وہ آنسو بہاتی رہیں۔”
    ”سفر کے دوران اکثر ایسے واقعات ہوجایا کرتے ہیں، فکر نہ کریں سب ٹھیک ہوجائے گا۔”
    سب نے ہمدردی کا اظہار کیا۔
    یاسمین مشتاق نے بھی اپنے آنسو صاف کئے۔
    ”آپ کیوں رو رہی ہیں؟”
    میں نے حیرت سے پوچھا۔
    ”میرے میاں نے ایئرپورٹ سٹاف کی بہت منت سماجت کی کہ تھوڑا انتظار کرلیں۔ عمران صاحب کا پاسپورٹ غلطی سے ٹریول ایجنسی کے دفتر میں رہ گیا تھا۔ وہاں سے ایئرپورٹ پہنچنے میں آدھا گھنٹہ مزید لگنا تھا مگر ایئرپورٹ سٹاف نے بورڈنگ کلوز کردی۔ اپنے علاقے میں میرے میاں کا بہت رعب ہے۔ انہوں نے کبھی کسی شخص کی اتنی منت سماجت نہیں کی مگر آج میری وجہ سے انہیں لوگوں سے اتنی ریکوئیسٹ کرنی پڑی۔ اس با ت کا مجھے بہت افسوس ہے۔ وہ اپنے کئی اہم کام چھوڑ کر میرے ساتھ اس ٹرپ پر آئے ہیں اور میری وجہ سے انہیں لوگوں سے ریکویسٹ کرنی پڑی جس کا مجھے بہت دکھ ہے۔ ”
    انہوں نے آنکھ کے کنارے صاف کرتے ہوئے مدھم آواز میں کہا۔

  • جنت سے ایک خط | شہید برہان وانی بنامِ پاکستان

    جنت سے ایک خط | شہید برہان وانی بنامِ پاکستان

    جنت سے ایک خط
    شہید برہان وانی بنامِ پاکستان
    نفیسہ عبدالرزاق

    میرے پاکستانی بھائیوں!
    السلام علیکم!
    آج میں آپ سے پہلی بار مخاطب ہوں۔ پاکستان کا نام ہم کشمیریوں کے لئے کوئی نیا نہیں ہے، ہم جہاں پیدا ہوتے ہی آزادی کے نعرے سنتے ہیں وہیں پاکستان کا نام بھی سنتے ہیں۔ میں آج آپ کو اپنی داستان سنانا چاہتا ہو تھوڑی بہت تو آپ جان ہی چکے ہوںگے میرے شہید ہونے کے بعد۔ میں پھر سے اسے دُہراتا ہوں جب پندرہ برس کی عمر میں اپنے بھائی کے ساتھ جاتے ہوئے قابض بھارتی فوج نے ہمیں بلاوجہ تذلیل کا نشانہ بنایا تب شاید پہلی بار غلامی کا مجھے بے پناہ احساس ہوا اس تذلیل نے ایک پل چین نہ لینے دیا اور میں برہان جو اپنی جماعت میں ہمیشہ اول رہتا تھا میرے آگے ایک روشن مستقبل تھا مگر مجھے غلامی سے نفرت ہے سو اسی غلامی کو آزادی میں بدلنے کے لئے میں گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ بہت سے مشکل پڑائو آئے میں رکا نہیں چلتا ہی گیا، بہت سے مقامی مجاہدین کی طرح میں نے بھی پاکستان کی طرف دیکھنے سے گریز کیا، اپنے زور بازو اور اللہ کی مدد کے سہارے میں کم وقت میں کشمیر کے ہر گھر کا ہر دل عزیز بن گیا۔ دشمن کو ناکوں چنے چبوائے مگر آزادی کی روشن صبح ابھی دور تھی ۔ بائیس سال کی عمر میں شہادت کا پروانہ آپہنچا یہ وہ عمر ہوتی ہے، جس میں ہر نوجوان اپنا کیریئر پلان کرتا ہے مگر مجھے کوئی افسوس نہیں، میں نہیں تو کیا ہوا ہماری آنے والی نسلیں ضرور آزاد فضائوں میں سانس لیں گی ( اِن شاء اللہ)۔ خیر،میری آج خاص طور پر آپ سب سے مخاطب ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ میرے جنازے کو سبز ہلالی پرچم میں لپیٹا گیا مجھے اس پرچم سے بے حد اُنسیت محسوس ہوئی مجھے لگا میرے بعد میرا کشمیر تنہا نہیں ہوگا پاکستانی ہر بار کی طرح آگے آئیںگے مگر یہ کیا میرے جانے کے بعد جنت نظیر وادی میں ہنگامے پھوٹ پڑے ”ہر گھر سے برہان نکلے گا”کے نعرے گونجے اور ساتھ میں وردی والے دہشت گرد بغیر کسی تخصیص کے گولیاں برسانے لگے اور ان چاردنوں میں بہت سے برہان سبز پرچم میں لپٹے مجھ سے آ ملے۔
    میں اُن کی طرف آس و امید سے دیکھتا رہا کہ وہ مجھے بتائیں گے پاکستانیوں نے بھارتی ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کی ہے ان کو منہ توڑ جواب دیا ہے کیوںکہ غلام تو ہم ہیں آپ تو آزاد قوم ہیں اور آزاد قومیں خود مختار ہوتی ہیں وہ مل کر جابر کو للکار سکتی ہیں مگر میرے یہ شہید بھائی تو کوئی اور داستان سُنا رہے تھے آپ لوگ تو بہت مصروف ہیں آپ کے پاس وقت نہیں کہ ہمارے بارے میں جانیں، آواز بلند کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ جب آپ کی مصروفیات کی بابت دریافت کیا تو معلوم ہوا عید کے دن ہیں اس لیے سینما میں بھارتی فلمیں لگی ہیں اور یہی آپ کی مصروفیات ہیں۔ یقین کیجیے یہ سُن کر دل لہو لہو ہوگیا۔ آپ کو ہمارا کتنا خیال ہے نا کہ سینما میں جا کر بھارت کو کروڑوں کا بزنس دیتے ہیں، جس سے وہ ہتھیار بنا کر ہمارے سینوں پر وار کر کے ہمیں شہید کرتے ہیں اور ہمیں ڈائریکٹ جنت کا ٹکٹ تھماتے ہیں۔
    جنت تو ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے تو آپ کی بدولت ہمارے لیے جنت کا رستہ بہت آسان ہوجاتا ہے۔ صرف میڈیا نہیں آپ تو پور پوردشمنکے جال میں قید ہوتے جا رہے ہیں، جس کی قید سے ہم آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ فلمیں اور ڈرامے آپ اُن کے دیکھتے ہیں سارا سارا دن گانے آپ ان کے سنتے ہیں پھر مارکیٹ جا کر ان ہی کی پراڈکٹس خریدتے ہیں پھر کہتے ہیں کیا کریں میڈیا یہی دکھاتا ہے آپ ایک بار بائیکاٹ کر کے تو دیکھیں پھر میڈیا وہی دیکھائے گا جو آپ دیکھنا چاہتے ہیں اپ ان کی چیزیں چھوڑ کر ایک بار اپنی چیزیں طلب تو کریں پھر کیسے وہ زبردستی آپ کو دشمنوں کی چیزیں تھمادیں گے۔
    ارے ہاں! یہاں پہنچ کر میری ملاقات قائد اعظم محمد علی جناح سے بھی ہوئی میرے اور دوسرے آنے والے ساتھیوں کے ذریعے انہیں آپ کے حالات معلوم ہوئے بہت اُداس ہوئے کہنے لگے: ”میری قوم کو کیا ہوگیا؟ انہیں جس کی غلامی سے آزاد کروایا تھا آج ذہنی طور پر اسی کے غلام بنے بیٹھے ہیں۔ کتنی قربانیاں! کتنی قربانیاں! آہ…کیوں بھول گئے کہ شہیدوں کے لہو سے سینچا تھا اس گلزار کو۔ اگر انہیں کے رسم و رواج پر چلنا تھا تو وہ سب لہو رائیگاں گیا نا برہان! پھر کیوں ان کشمیریوں کے لئے اپنی جوانی، اپنا مستقبل سب چھوڑ کر اس راہ کا انتخاب کرلیا یہ بھی کچھ مختلف نہیں ہیں۔ نہیں رہتی میری قوم کو یاد قربانیاں۔”

  • مدیر سے پوچھیں | پرویز بلگرامی

    مدیر سے پوچھیں | پرویز بلگرامی

    مدیر سے پوچھیں
    پرویز بلگرامی

    ٭ اپنی کہانی کے بارے میں بتائیں، آپ اس فیلڈ میں کب سے ہیں؟ کیسے آنا ہوا اس فیلڈ میں؟

    پرویز بلگرامی: جہاں تک لکھنے کا سوال ہے تو کم عمری سے لکھنا شروع کر دیا تھا لیکن چھپنے کی ابتدا روزنامہ جنگ کے نونہال لیگ یعنی بچوں کے صفحہ سے ہوئی پھرماہنامہ چاند میں لکھا.لیکن جب پروفشنلی لکھنے کا آغاز کیا تو ڈائجسٹوں کے دفاتر میں آنا جانا بڑھ گیا۔اسی دوران میں شمیم نوید صاحب سے قربت بڑھی اور ان کے مشورے پر سچی کہانیاں جوائن کر لیا۔اس وقت وہ اس پرچے کے مدیر تھے ۔لیکن کچھ ہی عرصہ بعد میں نے سچی کہانیاں چھوڑ دیااور پھر سے فری لانسنگ کرنے لگا۔شمیم نوید کے بعد سلیم فاروقی صاحب سچی کہانیاں کے مدیر بنے تو میں دوبارہ سے سچی کہانیاں میں آگیا۔اس وقت سچی کہانیاں ۔دوشیزہ کی ٹیم میں تمام لوگ کو آپریٹیو تھے۔سیما غزل تھیں۔مصطفیٰ ہاشمی تھے۔دانش دیروی تھے ۔سلیم آزر تھے۔ثمینہ یاسمین تھیں۔خوب وقت گزرا۔1994میں سلیم فاروقی سچی کہانیاں چھوڑ گئے تو میں نے ادارت سنبھال لی۔تب سے 2008 تک سچی کہانیاں کو سجاتا سنوارتا رہا پھر جاسوسی ڈائجسٹ پبلیکشن کے ماہ نامہ سرگزشت میں آگیا۔تب سے یہیں ہوں۔

     

    ٭ ایک مہینے میں آپ کو اوسطاً کتنے مسودے موصول ہوتے ہیں؟ اور آپ کا تحریروں کی چناؤ کا کیا معیار ہوتاہے؟

    پرویز بلگرامی : سچی کہانیاں میں نئے مصنفین کو اولیت دی جاتی تھی۔وہاں کام کا مزہ ہی کچھ اور تھا۔نئے مصنفین کا آئیڈیا لے کر ہم لوگ کہانیاں لکھ دیتے تھے اور اسے شائع کیا جاتا اسی مصنف کے نام سے جس کی وجہ سے پرچے کی خریداری بھی بڑھتی اور نئے لکھنے والے کو حوصلہ بھی ملتا۔وہاں جو لوگ لکھتے تھے ان سے باضابطہ خط و کتابت کیا کرتا تھا۔انہیں ان کی کہانیوں کی خامیاں بتاتا۔لکھنے کا انداز سمجھاتا یہی وجہ ہے کہ سچی کہانیاں سے شروعات کرنے والوں میں سے کچھ اب نامور بن چکے ہیں۔اپنی شناخت بنا چکے ہیں۔لیکن سرگزشت ذرا تیڑھا پرچہ ہے۔اس میں لکھنے کے لیے مصنف کا مطالعہ وسیع ہونا ضروری ہے کیونکہ سرگزشت انفورمیٹیو میگزین ہے۔لیکن اس کا ایک حصہ ایسا ہے جس میں نئے مصنف لکھ سکتے ہیں۔جن کی کہانیاں آتی ہیں اور اس میں کوئی ہلکی پھلکی خامی نظر آتی ہے تو مصنف کو اطلاع دے دیتا ہوں کہ اپنی کہانی کو اپنے مسودے سے ملا کر دیکھیں کہ کون کون سی تبدیلی ہوئی ہے پھر بلا جھجک پوچھ لیں کہ وہ تبدیلی کیوں کی ہے۔جو لوگ فون کرتے ہیں ان کو جواب دیتا بھی ہوں اور کہانیوں کے سلسلے میں مشورے بھی دیتا ہوں۔در اصل یہ طریقہ شمیم نوید کا تھا اور پھر سلیم فاروقی نے اختیار کیا ۔ اپنے دو سینئر کو جس راہ پر چلتے دیکھا اسی راستے پر میں بھی چلنے لگا۔یہی وجہ ہے کہ نئے مصنفین مجھ سے بہت زیادہ قریب ہیں۔میں پابندی سے ہر نئے لکھنے والے کو تاکید کرتا رہتا ہوں کہ وہ جملوں کی بندش پر خصوصی توجہ دیں۔جس طرح دریا کی لہریں اٹھتی ہیں اسی طرح جملوں میں روانی رہنا چاہیے تا کہ پڑھنے والے کو لطف آئے۔پھر کہانی کو آگے بڑھانے کا صحیح انداز اپنائیں ۔معروف مصنفین کی تحریر کو بہ نظر غور دیکھیں کہ وہ کہانی کو کس طرح آگے بڑھا رہے ہیں۔وہی انداز اپنائیں ۔خاص کر تجسس پیدا کرنے کی ضرور کوشش کریں تا کہ قاری اگلا صفحہ ضرور پڑھے۔جملوں کی ساخت آسان رکھیں تا کہ ایک کم پڑھا لکھا بھی بہ آسانی سمجھ لے کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔کہانی آہستہ آہستہ اٹھائیں اور پرت پرت کھولیں۔نہ زیادہ سست رکھیں اور نہ بہت تیز بھگائیں۔کہانی کو آگے بڑھانے کی رفتار پر مکمل کنٹرول رکھیں۔اختتام ایسا ہو کہ قاری چونک جائے لیکن غیر فطرتی نہ لگے۔

     

    ٭ہ کون سی چند چیزیں ہیں جن کا خیال ایک نئے لکھنے والے کو اپنا کام آپ کو بھیجتے ہوئے رکھنا چاہیے؟

    پرویز بلگرامی :مصنفین کو کہانی بھیجنے کے پہلے کم سے کم تین بار ضرور پڑھنا چاہیے۔اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ کہانی لکھ کر ایک طرف رکھ دیں پھر دوسری کہانی شروع کر دیں۔اسے مکمل کر کے الگ رکھ دیں اور تیسری کہانی شروع کر دیں۔اسے مکمل کر کے پہلی کہانی کو پڑھیں۔اس طرح اس کہانی کی خامیاں سامنے آتی جائیں گی۔اسے ایڈیٹ کر کے الگ رکھ دیں اور دوسری کو پڑھیں۔اس کی خامی درست کر کے تیسری کو نکال لیں۔اسے درست کرنے کے بعد پھر پہلی کہانی کو پڑھیں۔اگر ایک کہانی کو آپ نے تین بار پڑھ کر درست کر لیا تو یقینا وہ کہانی خامیوں سے بہت حد تک مبرا ہو جائے گی۔ہر نئے مصنف کو ابتدا میں اس طریقہ کو ضرور اپنا نا چاہیے۔لیکن لکھنے والے کو زیادہ سے زیادہ پڑھنا چاہیے۔اگر وہ دن بھر میں اس کام کو دس گھنٹے دیتا ہے تو اسے لکھنے کے لیے صرف دوگھنٹے صرف کرنا چاہیے۔اس سے اسے لکھنے کے لیے مواد بھی ملے گا اور جملوں کو برتنے کا صحیح انداز بھی علم میں آتا جائے گا۔
    ٭بطور مدیر کیا آپ ایسے موضوعات پر کام کرتے ہیں جو risky ہوں؟
    پرویز بلگرامی : ادارتی کام ہوتا ہی رسکی ہے۔ذرا سی نظر چوکی اور غلط مواد چھپ گیا۔خود میرے ساتھ ایک بار ہو چکا ہے۔لکھنے والا خاصہ تجربے کار۔منجھا ہوا لکھاری۔ایک ایسا مضمون لکھ گیا جس پر محکمے حرکت میں آگئے۔بعد میں اس مضمون کو پڑھا تو سر پیٹ لیا اس لیے کہ اس میں کئی ایسی باتیں تھیں جو پرنٹ نہیں ہونا چاہیے تھا۔مصنف سے سوال کیا تو اس نے جواب دیا کہ یہ معلومات نیٹ سے لیا ہے۔نیٹ پر سچ کے علاوہ جھوٹ بھی بھرا پڑا ہے۔سچ اور جھوٹ کی اگر مدیر کو پرکھ نہ ہو تو ایسی باتیںہوجانا تعجب خیز نہیں۔ویسے نئے تجربے کے لیے رسک لینا ضروری ہے۔جس مدیر کے اندر نیا کچھ کرنے کی امنگ نہ ہو اس کا پرچہ لکیر کا فقیر ہوتا ہے۔

    ٭ نئے موضوعات پر کام کرنے کے لیے زیادہ موزوں کون ہوتا ہے؟ نئے رائٹرز یا پرانے رائٹرز؟

    پرویز بلگرامی: پرانے لکھاری نسبتاً بہتر انداز میں نئے موضوع کو برت سکتے ہیں۔نئے لکھاری کے جملوں بے ساختگی نہیں ہوتی۔بے ساختگی تجربے سے آتی ہے۔پرانے لکھاری الفاظ کا صحیح استعمال کرتے ہیں۔مثلاً نیا لکھاری لکھے گا” چچا جان کی شیو بڑھ آئی تھی۔”جب کے پرانا لکھاری لکھے گا”شیو نہ کرنے کی وجہ سے ایسا لگ رہا تھا کہ چچا جان کے گالوں پر چیونٹیوں کے انڈے سینکڑوں کی تعداد میں بکھرے ہوئے ہیں۔” اس سے سطر بھی بڑھی اور پڑھنے والے کو جملے کے بڑے ہونے کا اندازہ بھی نہیں ہوا۔

     

    ٭نئے لکھنے والوں میں آپ کی رائے میں کون ہے جو اچھا کام کررہا ہے؟

    پرویز بلگرامی: ڈائجسٹوں میں جن کی تحریریں چھپ رہی ہیں ان نئے مصنفیں میں ناصر ملک ۔ندیم اقبال۔محمد فاروق انجم۔ڈاکٹرعبدالرب بھٹی کے علاوہ بھی چار پانچ مصنف بہت اچھا لکھ رہے ہیں۔

     

    ٭ دنیا بھر کے لکھنے والوں میں آپ کا پسندیدہ رائٹر کون ہے؟

    پرویز بلگرامی :دنیا بھر کے رائٹرز میں کسی ایک یا دو کا نام لینا میرے خیال سے صحیح نہیں ہے۔اس لیے کہ ہر رائٹر کا ایک دو کام ہی ایسا ہوتا ہے جو اس کی پہچان بن جاتا ہے۔اگر پسندیدگی کی نظر سے دیکھوں تو مجھے جاپانی مصنف جیرو اکاگاوا کے جتنے ترجمے پڑھے ہیں سب پسند آئے ہیں۔زبردست مسٹری ۔اسی طرح بنگلہ کے نہار رنجن گپت۔امریکا کے اسٹیفن کنگ پسند آئے ہیں۔لیکن جب ہم اردو کی طرف آتے ہیں تو ابن صفی پر سوئی رک جاتی ہے۔لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ مجھے آگ کا دریا یا علی پور کا ایلی پسند نہیں آیا۔در اصل ہر ایک کی پسند ایک خاص نکتے کے گرد گردش کرتی ہے۔ورنہ تو اردو میں جتنے اچھے ناول لکھے گئے ہیں اس کی مثال مشکل ہے کیونکہ عالمی زبانوں میں سب سے نئی زبان اردو ہی ہے۔چائنیز جاپانی فرنچ جرمن انگلش کے مقابلے میں اردو کی عمر بہت کم ہے لیکن فیکشن رائٹنگ میں اردو کسی بھی طرح پیچھے نہیں ہے ۔

     

    ٭ آپ کی پسندیدہ صنف کون سی ہے؟

    پرویز بلگرامی: کہانیوں کی ہر صنف پڑھنے میں اچھی لگتی ہے جہاں تک لکھنے کا تعلق ہے تو میں نے ہر قسم کی کہانیاں لکھی ہیں۔رومانی۔خوفناک۔تھرل سسپنس لیکن جہاں تک ڈوب کر لکھنے کا تعلق ہے مجھے ہارر لکھنے میں زیادہ مزہ آتا ہے مزے کی بات یہ ہے کہ تھریل زیادہ لکھا ہے۔لیکن جب چھاپنے کی بات آتی ہے تو میں معاشرتی مسائل کی کہانیاں پرچے میں شامل کرنے پر زور دیتا ہوں۔کیونکہ عام قاری اپنے مسائل کو پڑھنا پسند کرتا ہے۔بشرطیکہ لکھنے والا پیش کرنے کا فن جانتا ہو۔
    ٭ کہانی کی کون سی ایسی صنف ہے جو آپ کو غیر دلچسپ لگتی ہے؟
    پرویز بلگرامی : مجھے ایسی کہانیاں بالکل پسند نہیں جن میں انسانی نفسیات کے نام پر جنس زبردستی ڈالی جائے یا اوچھے جملے لکھ کر قاری کو بھٹکانے کی کوشش کی جائے۔منٹو کے پاس الفاظ کا ذخیرہ تھا۔وہ کہانی کو الفاظ سے ملفوف کر کے پیش کرتے تھے لیکن تسکینی انداز میں نہیں بلکہ نشتر بنا کریہی وجہ ہے کہ میں جنس زدہ کہانیوں کو فوراً رد کر دیتا ہوں۔
    ٭ آپ نے اب تک ماشااللہ بہت کام کیا ہے، کوئی ایسا پراجیکٹ جو آپ کے دل کے بہت قریب ہو؟
    پرویز بلگرامی : مجھے اپنے دو ناول کا پلاٹ بہت پسند ہے ”جرمِ مسلماں” اور ” دوسرا جنم”لیکن یہ بھی خود سے شکواہ ہے کہ میں جس انداز میں وہ دونوں ناول لکھنا چاہتا تھالکھ نہیں پایا کیونکہ جس ڈائجسٹ میں وہ کہانی قسط وار چھپ رہی تھی اس کے ریڈر میں جیسا چاہتا تھا اس انداز میں اسے پسند نہیں کرتے۔مجبورا پرچے کے قارئین کو ذہن میں رکھ کر لکھنا پڑا۔اپنے دل کی اس چبھن کو مٹانے کے لیے میں ان دونوں ناول کو دوبارہ لکھوں گا۔ایک اور طویل کہانی” میری منزل میرا رستہ”اور سرگزشت کے ١٩٩١ کے کسی شمارے میں بعنوان ”ایک کہانی”کا پلاٹ مجھے

  • مدیر سے پوچھیں | علی عمران سے ملاقات

    مدیر سے پوچھیں | علی عمران سے ملاقات

    مدیر سے پوچھیں
    علی عمران سے ملاقات

    علی عمران کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں مشہور سٹِ کام سیریلز ‘نادانیاں’، ‘بلبلے’ کے مصنف کے طور پر تو سب انہیں جانتے ہی ہیں لیکن اس کے علاوہ وہ اے آر وائی ڈیجیٹل میں بہ طور کونٹینٹ ہیڈ اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ اس ماہ مدیر سے پوچھیں کے سلسلے میں ہمارا انتخاب ہیں علی عمران۔
    ٭ کچھ اپنے بارے میں بتائیں؟ ہمارے قارئین جاننا چاہتے ہیں کہ آپ نے لکھنا کب شروع کیا؟
    علی عمران: میں نے اپنا کام ریڈیو پاکستان سے زمانۂ طالب علمی میں شروع کیا تھا ، وہاں ایک پروگرام ہوا کرتا تھا ‘بزمِ طلبہ’، اس میں لکھنے اور پڑھنے والے آیا کرتے تھے، میری شروعات وہاں سے ہوئی تھیں، چوں کہ آرٹس کونسل پڑوس میں ہی تھا تو پیدل چل کروہاں جایا کرتا تھا، اس زمانے میں وہاں سٹریٹ تھیٹر ہوا کرتا تھا میں اپنے ریڈیو کے کچھ دوستوں کے ساتھ وہاں گیا۔ بزمِ طلبہ کے تھیٹر کی ایک ٹیم تھی جس نے وہاں پر تھیٹر کیا اور ہم وہ دیکھنے گئے ۔مجھے بڑا متاثر کیا اس پلے نے اور ان ساری چیزوں نے اس کے ساتھ ہی اس چیز نے مجھے اعتماد بھی دیا کہ میں لکھ بھی سکتا ہوں، یہ کوئی اتنی مشکل چیز بھی نہیں ہے۔ پھر میں نے ایک تھیٹر پلے لکھا، جس گروپ کے لئے لکھا تھا انہوں نے اس کو اچھا ڈائریکٹ نہیں کیا، میں نے سوچا کہ یہ خود ڈائریکٹ کرنا چاہیے تو پھر ہم نے ایک چھوٹا سا تھیٹر گروپ بنایا میزان کے نام سے، اس زمانے میں لڑکیاں تھیٹرمیں بہت کم آتی تھیں خاص طور پر سنجیدہ تھیٹر میں، تو ہمارے ایک دوست کہتے تھے یار شادیاں کرو اور اپنی بیویوں سے کام کرواؤ( قہقہہ) بہرحال اس گروپ سے ہم نے ایک پلے کیا، خود لکھا، خود ڈائریکٹ کیا خود ہی ایکٹ بھی کیااور مزے کی بات ہے دیکھا بھی خود ہے (مسکراتے ہوئے)۔ لیکن اس کا اپنا نشہ تھا، کہتے ہیں کہ تھیٹر کا نشہ کوکین کے نشے سے زیادہ خطرناک ہے۔ کوکین کا نشہ ہم نے کبھی کیا نہیں ، تو پھر وہ ایک نشہ لگ گیا اور بڑی برُی لت لگ گئی ( مسکراتے ہوئے) ہم گھنٹوں آرٹس کونسل کے چبوترے پر بیٹھا کرتے تھے۔ ٹیلی ویژن میں بہت بعد میں آیا ہمارے ایک بہت اچھے رائٹر ہیں فصیح باری خان، ان سے میری واقفیت تھی ، ان سے میں نے درخواست کی کہ اگر ٹیلی ویژن کے لئے کوئی کام مل سکے، اس زمانے میں ایک پروڈکشن ہاؤس تھا BMN پروڈکشن میمونہ صدیقی کا ان کے پاس انہوں نے بھیجا، میںنے ان کے لئے ایک ٹیلی فلم لکھی، وہ آج تک بنی نہیں لیکن مجھے اس کے پیسے مل گئے تھے (مسکراتے ہوئے) اور اس کے جب پیسے ملیں تو مجھے لگا کہ یار یہ تو اچھا کام ہے تو میں باقی سب جو کام کررہا تھا اپنی زندگی میں وہ چھوڑ کر اس ہی طرف آگیا۔میں نے سوشیالوجی میں ماسٹرز کیا تھا ، نفسیات کا علم تھا، ادب سے تو خیر شروع سے ہی لگاؤ تھا ، لکھتا بھی تھا، ریڈیو نے وہ خوف دور کیا، اس کے بعدتھیٹر نے بہت سکھایا، اور پھر ٹیلی ویژن ایک بالکل الگ میڈیم تھا۔
    ٭ ایک مہینے میں اوسطاً کتنے مسودے اور آئیڈیاز آپ کے پاس آجاتے ہیں اور آپ کا سلیکشن کا طریقہ کار کیا ہے؟
    علی عمران: جس چینل میں میں بیٹھا ہوں اس کی اپنی requirement ہے اور اس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم چیزوں کو سلیکٹ کرتے ہیں ، ایسا نہیں ہے کہ ہم ہر کہانی اس وجہ سے نہیں کرپاتے کہ وہ سکرپٹ اچھا نہیں ہے یا کہانی اچھی نہیں ہے، کئی بار ہم وہ اس وجہ سے نہیں کرپاتے کہ وہ ہمارے چینل کی requirement سے match نہیں کررہی ہوتی۔ بہت اچھے اور خوبصورت سکرپٹس ہوتے ہیں جو ہم کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کرپاتے ہیں کیوں کہ ہمیں تھوڑا محتاط ہونا پڑتا ہے اور آپ نے مہینے کی بات کی ہے تو وہ تو میں نہیں بتا پاؤں گا لیکن ہمیں روزانہ کی بنیاد پر تقریباً چالیس، پچاس نئے مسودے مل رہے ہوتے ہیں ، اچھی خاصی تعداد ہوتی ہے۔
    ٭ کیا آپ riskier themes پر کام کرتے ہیں؟یا پھر جو آپ کا چینل پروفائل ہے اس ہی کو مدِنظر رکھتے ہوئے کام کرتے ہیں؟
    علی عمران: دونوں چیزیں ہوتی ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ٹیلی ویژن لوگوں کا مزاج بناتا ہے ۔میں جب سے یہاں ہوں میری کوشش ہوتی ہے کہ چینل کی جو requirement ہے اس کو feed کیا جائے اس کے علاوہ میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ساتھ ساتھ ہم ایسا کونٹینٹ بھی بناتے جائیں جو لوگوں کو دوسرے طریقے سے کہانی سننے اور دیکھنے کا بھی عادی بنائے ۔ ہم نے ایشوز پر کہانیاں بہت کی ہیں، ہم نے controvercial taboos پر بھی کام کیا ہے، صرف روتی دھوتی عورتوں پر کام نہیں کیا ۔

    ٭ آپ کے خیال میں نئے آئیڈیاز پر کام کرنے کے لیے کون سے رائٹرز زیادہ موزوں ہیں؟ نئے رائٹرز یا سینئر اور منجھے ہوئے؟
    علی عمران: دیکھیں دونوں کے اپنے pros and cons ہیں، دونوں کی اپنی اچھائی اور کمی ہوتی ہیں۔ نئے لکھنے والوں کے پاس انرجی بہت زیادہ ہوتی ہے، passion بہت ہوتا ہے ان میں، ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کچھ ہٹ کر کام کیا جائے۔ جہاں تک پرانے رائٹرز کا تجربہ بہت count کرتا ہے ان کو سکرپٹ کی تکنیک کا پتا ہوتا ہے، ان کے ساتھ کام کرنے میں وہ دقّت نہیں ہوتی جو نئے رائٹرزکے ساتھ کام کرنے پر ہوتی ہے ،اگر آپ ہمارا پورا اردو ادب اٹھا کر پڑھ لیجیے، تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ کہانیاں کم و پیش ایک ہی جیسی ہوتی ہیں، ان کا اسلوب انہیں مختلف بناتا ہے، مجھے مغربی ادب کی کہانیاں بہت اپیل کرتی ہیں وہاں پر انسانی نفسیات پر اور آج کے انسان پر کہانیاں ہوتی ہیں جس پر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کام نہیں ہوپایا ہے ۔ نئے رائٹرز بھی اچھا لکھ رہے ہیں، پرانے رائٹرز بھی اچھا لکھ رہے ہیں، کچھ پرانے رائٹرز ہیں، جو اچھا نہیں لکھ رہے، کچھ نئے رائٹرز ہیں جو اچھا نہیں لکھ رہے۔ یہ کرتے کی وِدّیا ہے جو کرنے سے آتی ہے۔
    ٭ ابھی جو آپ نے بات کی پاپولرفکشن کی، ہمارے ملک میں دو طبقے بنے ہیں، ایک ادب اور ایک فکشن۔ ادب والے فکشن رائٹر کو کچھ سمجھتے نہیں ہیں، آپ کے خیال میں یہ درست ہے؟
    علی عمران: ہر آدمی کا اپنا ایک نظریہ ہے، اپنی ایک سوچ ہے ، لیکن مجھے یہ لگتا ہے کہ ہر قسم کی سوچ کو اظہارکا موقع دینا چاہیے۔ اگر ایک آدمی اپنے ڈھب سے کہانی سنانا چاہتا ہے تو اس کو سنانے کا موقع ضرور دیں،یہ فرق ہمیشہ سے رہا ہے، میں اس چیز کا حامی ہوں کہ ہر طرح کا کام سامنے آنا چاہیے۔
    ٭ نئے لکھنے والوں میں کچھ ایسے نام جن کا کام آپ کو زیادہ بہتر لگا ہو؟
    علی عمران: بہت سارے ہیں، نئے رائٹرز میں مجھے لگتا ہے کہ بہت پوٹینشل ہے، اور ہمارے پاس زیادہ تر نئے رائٹرز کام کررہے ہیں ۔ ہر رائٹر میں کچھ نہ کچھ خصوصیت ہوتی ہے ، کچھ کا سکرین پلے بہت اچھا ہوتا ہے، کچھ کے مکالمے اچھے ہوتے ہیں، کچھ کو کہانی کہنا بہت اچھی آتی ہے ۔ہر رائٹر میں کوئی نہ کوئی خاص بات ہوتی ہے، میں تو بڑا پراُمید ہوں، مجھے بڑی خوش آئند بات لگتی ہے، میری بس ایک درخواست ہوتی ہے کہ جو لکھ رہے ہیں اس کو ایمان داری سے لکھیں، جو لکھا ہے اس کو پڑھیں ضرور اور اس کو بار بار چھلنی سے گزاریں۔
    ٭ آپ نے ابھی کہا کہ زمانۂ طالب علمی سے آپ کا لکھنے پڑھنے کا شوق رہا ہے، تو کون سا ایسا ادیب ہے جس کی تحریریں آپ کو بہت اچھی لگتی ہیں؟
    علی عمران: لکھنے کا تو بہت بعد میں ہی شوق ہوا، پہلے پڑھنے کا شوق تھا اور بہت شوق تھا۔ ہماری یونیورسٹی کے زمانے میں یہ ہوتا تھا کہ آپ خواتین کو متاثر کرنے کے لئے اشعار سنایا کرتے تھے ، ہمارے زمانے کی لڑکیاں بھی اشعار سے بڑا متاثر ہوتی تھیں، ہم نے مختلف شعراء کے اشعار سنانا شروع کردیے ، بعد میں ہم پکڑے گئے کہ یہ کسی اور کے شعر تھے، اس احساسِ شرمندگی نے مجبور کیا کہ اب کچھ لکھا بھی جائے(قہقہہ) جہاں تک ایک ادیب کی بات ہے تو ایک کا نام لینا مشکل ہے۔بہت سارے ہیں ، اگر برِصغیر کی بات کی جائے تو سعادت حسن منٹو، احمد ندیم قاسمی صاحب، گلزار صاحب، ممتاز مفتی صاحب ، عبداللہ حسین اور اگر آپ بین الاقوامی ادب کی بات کریں تو چیخوف ہیں۔
    ٭ کون سا writing genre کا آپ کو بہت پسند ہے؟
    علی عمران: مجھے نفسیاتی کہانیاں ہمیشہ سے پسند آئی ہیں اور ٹیلی ویژن کے اعتبار سے اگر پوچھا جائے تو مجھے رومانی کہانیاں پسند آتی ہیں۔
    ٭ کون سا writing genre جو آپ کو انتہائی غیر دلچسپ لگتا ہو؟
    علی عمران: آپ اگر یقین کریں گے تو میں بتادیتا ہوں مزاح (قہقہہ) میں سچی بات بتاؤں تو مجھے کامیڈی لکھنے میں بھی زیادہ مزہ نہیں آتا۔ میں بہت بے دلی سے لکھ کر اپنے ڈائریکٹر کو دے دیتا ہوں کہ بھائی جو سمجھ آئے اس کو شوٹ کردینا، اور وہ بہت اچھا نکل آتا ہے ، تو وہ مجھے کہتے ہیں کہ آپ بے دلی سے ہی لکھا کریں، دل سے لکھیں گے تو رزلٹ اچھا نہیں آئے گا (قہقہہ)
    ٭ آپ کو نہیں لگتا کہ بلبلے بہت زیادہ طویل ہوگیا ہے اس کو اب بند ہوجانا چاہیے؟
    علی عمران: دیکھیں اگر آپ میری پسند ناپسند پر جائیں گے تو اس وقت ٹیلی ویژن پر چلنے والے آدھے سے زیادہ ڈرامے بند ہوجائیں گے ( مسکراتے ہوئے) میں نے کہا نا کہ چینل کی بھی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں اور ایسا ہرگز نہیں ہے کہ چینل ڈھیٹ بن کر بیٹھا ہوا ہے ، مجھے آج بھی بہت لوگ ملتے ہیں جو بلبلے دیکھتے ہیں اور باقاعدگی سے دیکھتے ہیں۔ میرا ماننا یہ ضرور ہے کہ اس کی مقبولیت کم ہوئی ہے۔ یقینی طور پر ایک چیز اگر اتنی طویل ہوگی تو ایک وقت آئے گا کہ لوگ اس کو گھر کا سامان سمجھنے لگتے ہیں۔
    ٭ آپ نے کامیڈی کے علاوہ سنجیدہ بھی لکھا ہے؟
    علی عمران: میں نے شروعات سنجیدہ کام سے ہی کی۔ اب بدقسمتی ہے کہ لوگوں کو اس کے حوالے سے زیادہ پتا نہیں (قہقہہ) میں تو مزاح لکھتا ہی نہیں تھا ، نہ ہی لکھنا چاہتا تھا۔ میں نے کامیڈی کبھی نہیں لکھی، تھیٹر میں ڈارک کامیڈی تھوڑی بہت لکھی اور شاید وہی چیز میرے کام آگئی۔ ایک سیریل آتا تھا میں اور تم جو اظفرکرتے تھے،اس کے رائٹر کے ساتھ کچھ مسئلہ ہوگیا تو اظفر میرے پاس آگئے اور کہنے لگے کہ علی بھائی آپ نے یہ لکھنا ہے ، میں نے کہا یار مجھے تو کامیڈی نہیں لکھنا آتا، تو انہوں نے کہا یار اتنا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، میرے ساتھ بیٹھ جاؤ یوں کرو، یہ کرو، اور ایسے کرلیتے ہیں، اور واقعی اظفر نے بڑا آسان کردیا۔
    ٭ آپ کے اب تک کے کیے گئے پراجیکٹ میں کون سا پراجیکٹ ہے جو آپ کو بہت پسند ہے؟
    علی عمران: میں نے شروع میں ایک شارٹ پلے کیا تھا، خاموشی کے نام سے جس میں فیصل قریشی اور ثانیہ سعید تھے اور عمران پٹیل اس کے ڈائریکٹر تھے، وہ پلے مجھے بہت پسند تھا۔ دوسرا میرا ایک سیریل تھا خراشیں، سیفی حسن نے ڈائریکٹ کیا تھا وہ بھی مجھے بہت پسند ہے۔ پھر فہد مصطفیٰ نے ایک سیریز شروع کی تھی ‘اور پھر’ کے نام سے اس کے میں نے پلے لکھے تھے۔ کامیڈی میں مجھے جو پسند ہے وہ نادانیاں ہیں، اور بلبلے۔۔اب تو نہیں لیکن شروع میں بہت پسند تھا(مسکراتے ہوئے)
    ٭ مقابلے کے باقی ایڈیٹرز میں کون سے ایسے ہیں جن کا کام آپ کو بہتر لگتا ہے؟

  • سیاہ اور سفید کے درمیان

    سیاہ اور سفید کے درمیان

    ناول

    ”سیاہ اور سفید کے درمیان ”

    تحریر: نائلہ عرفان

    Surah Al-Baqarah
    (Ayat 286)
    ”خدا کسی شخص کو اُس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔اُس کوثواب بھی اُسی کا ملے گاجو ارادہ سے کرے اور اُس پر عذاب بھی اُسی کا ہو گا جوارادہ سے کرے۔ اے رب ہمارے نہ پکڑ ہم کو اگر ہم بھولیں یا چُوکیں۔ اے رب ہمارے اور نہ رکھ ہم پر بوجھ بھاری جیسا رکھا تھا ہم سے اگلے لوگوں پر ۔ اے رب ہمارے اور نہ اُٹھوا ہم سے وہ بوجھ کہ جس کی ہم کو طاقت نہیں اور درگزر کر ہم سے اور بخش ہم کو اور رحم کر ہم پر تو ہی ہمارا رب ہے ۔ مدد کر ہماری کافروں پر” ۔
    (سورہ البقرہ آیت 286)

    ”A journey of a thousand miles begins with a single step”
    میلوں کی مسافت پہلا قدم اُٹھانے سے ہی طے ہوتی ہے۔

    سید مظہر حسین مرحوم کے انتقال کو آج سوا مہینے پورا ہوا قُل دسواں اور چہلم سب ہی پورے اہتمام سے منائے گئے ۔رشتے دار عموماََدن رات کا کھانا بھیجوایا کر تے جب کہ پرُ لطف ناشتے کا اہتمام محلے داروں نے سنبھالا ہوا تھا۔ایک روز تو مختلف شہروں سے آئے مظہر صاحب کے بہن بھائیوں نے رات کو ہی سو چ لیا کہ صبح اُٹھ کر تندوری نان بمعہ لیاقت سفید مکھن منگوالی جائیں جو کہ کو ئٹہ کی خاص سوغات سمجھی جا تی ہے ۔ساتھ میں دودھ والے سے تازہ دودھ لے کر دودھ پتی چائے بھی چڑھ گئی ۔ابھی ناشتے کا پہلا دور اختتام پذیر نہیں ہوا تھا کہ ڈاکٹر شاہ زمان کے گھر سے گرماگرم ناشتے کی ایک اور بڑی ٹرے آگئی ۔دو مختلف طرح کے آملیٹ،گھر کے بنے دس پندرہ پراٹھے ،تازہ ڈبل روٹی ،چھوٹی بلیوبینڈ مکھن کی ٹکیہ ،جیم اور شہد کی دو شیشیا ں اور چائے کے دو فل سائز تھرماس ۔ سب کی آنکھیں ناشتے کی اس ٹرے کو دیکھ کر کُھلی کی کُھلی رہ گئیں پھر تقریباََ سبھی نے پچھلے ناشتے کو کو صاف کر کے اگلے نا شتے کا باقاعدہ آغاز کیا۔ غم زدہ حلیمہ بھابھی اگرچہ عدّت میں تھیں مگرگھر والی ہونے کے ناطے ہر آئے گئے کا خیال رکھنا اُن کا فرض ٹھہرا پہلے انہوں نے شکرئیے کے ساتھ ناشتے کی ٹرے وصول کی ۔بعد میں بچے کُچے نا شتے کو سمیٹ کر دُرناز )برتن دھونے والی ادھیڑ عمر خاتون( کے حوالے کیا ۔پھر اپنا تیرھواں سپارہ کھول کر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے پڑھنے بیٹھ گئیں ۔رات کو بھی بڑی ذمہ داری سے انہوں نے ڈاکٹر صاحب کے تمام برتنوں میں دیگ کا کھانا بھرا پھر گرم جوش شکریہ ادا کر نے کی خصوصی تاکید کے ساتھ ٹرے واپس بھیجوادی۔
    سوئم کی قر آن خوانی کا انتظام عورتوں کا گھر پر اور مردو ںکے لیے سامنے خالی پلاٹ پر کیا گیا تھا۔مظہر صاحب کے گھر کے بالکل سامنے سحر این جی او (NGO)کا دفتر ہے ۔دفتر کے ساتھ والے پلاٹ پرمالک پلاٹ سے پوچھ کر چار دیواری کھڑی کر دی ۔سکیورٹی (security)کیمرہ ‘ رات بھر آدھی گلی کو روشن رکھنے والی پاور فل اسٹریٹ لائٹ بھی لگوادی گئی اور گیٹ پر چوکیدار بیٹھا دیا ۔اس طرح نہ صرف دفتر والوں کو ایک بہترین پارکنگ لاٹ مل گیا ۔بلکہ گلی کی سکیورٹی کا بھی خاطر خواہ انتظام ہو گیا ۔این جی او (NGO)میں ہر وقت لوگوں کے آنے جانے سے ایک رونق سی لگی رہتی ۔بہر حال جب حلیمہ اور شیراز نے سوئم کا دن مُقررکرلیا تو محلے میں اطلا ع بھیجوا دی گئی ۔کوئٹہ کے لوگوں میں خلوص کا تناسب بڑے شہروں کی نسبت کچھ زیادہ ہی ہے۔بس تو پھر کیا تھا محلے کا ایک لڑکا دوڑ کر این جی او (NGO)کے چوکیدار کے پاس گیا اور اُس سے پارکنگ لاٹ رسمِ قُل کے لیے مانگ لیا۔واضح رہے کہ یہ وہی چوکیدار ہے ۔جس سے مظہر صاحب کی اپنی پوری زندگی ٹھنی رہی ۔جب بھی گھر سے نکلتے اِسے کسی نہ کسی بات پر ضرور ہی رگڑتے جیسے کبھی کہتے کہ ”تمہارا لوگ جب بھی لاٹ سے گاڑی نکالتا ہے ‘ہمارے تھڑے پر ضرور چڑھاتا ہے ‘کبھی ٹوٹ گیا ۔تو میں نے مالک کے پاس لڑنے پہنچ جانا ہے "یا پھر کہتے” تمہارے دفتر میں ہر وقت لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے ۔ پوری گلی میں شور وغُل ڈال رکھا ہے” شیراز نے دبّی زبان میں کئی مرتبہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ”ابّا !اوّل تو ہمارا تھڑا خا صا مضبوط سیمنٹ کا بنا ہوا ہے ۔شیشے کا نہیں کہ ذرا سا گاڑی چڑ ھنے پر ٹوٹ جائے ۔دوسرا یہ کہ یہاں سے نکلنے کا اور راستہ بھی نہے ۔تیسرا یہ کہ اِن لوگوں سے ہماری ہمسائے داری ہے اور چوکیدار ایک غریب شریف آدمی ہے ۔آپ ہر وقت اُس کا پیچھا نہ پکڑا کرئیں "مگر مرحوم کچھ پیدائشی برہمی کا شکا ر تھے ،سوچھوٹی چھوٹی باتوں پر فساد کھڑا کر ناطبیعت میں رچ بس گیا تھا۔ کف افسوس کیا خبر تھی کہ ایک روز اِسی لاٹ پر اُن کی رسمِ قُل ہوگی اوریہی این جی او (NGO)والے انتظام کریںگے۔
    خیر شیراز اکثر آتے جاتے چوکیدار کے ہاتھ پر کبھی ہزار ‘پانچ سو رکھ دیتا ۔اس غریب چوکیدار نے حق ہمسایہ گیری ادا کرتے ہوئے ”لشتم چشتم این جی او (NGO)کے مالک کو فون کر کے اجازت طلب کی اور پھر انتظامات میں بھی خوب آگے آگے رہا ۔حتی کہ ہرے پھول دار ٹینٹ کو روشن رکھنے کے لیے جو دو بڑے بڑے بلب لگوئے گئے تھے اُن کا کنکشن بھی سامنے مظہر صاحب کے گھر سے لینے کے بجائے ساتھ موجود این جی اوکے دفتر سے دے ڈالا ۔سوئم کے لیے چکن کڑاہی ،مٹن پلائو اور میٹھے چاولوں کی جو تین دیگیں آئیں وہ بھی اُسی نے دیگ والے کے ساتھ مل کر گدھے گاڑی سے اُتروائیں اور پلاٹ کے سامنے خالی سڑک پر رکھ وادیں۔اسی لئے حاضرینِ محفل اس چھوٹی سی زندگی میں آپ سب کے ساتھ بھلے رہئے کوئی پتہ نہیںکہ کوئی کب کہاں اور کس طرح آپ کا بھلا کر جاتا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جب سب نے مل کر کئی کلام پاک اور سینکڑوں مرتبہ سورةیسٰین پڑھ ڈالی تو حلیمہ نے حافظ سلیمہ مندوخیل سے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے پرُسوز دُعا کی التماس کی ۔۔۔۔کافی دیر تک اللہ سبحان وتعالی کے آگے عاجزی سے گڑگڑ انے اور توبہ استغفار کرنے کے بعد انھوں نے کٹے ہوئے موسمی پھلوں ودیگر پکوانوں کی سوخ پھول دار خوان سے دھکی پلیٹوں پر فاتحہ دے ڈالی۔اس طویل روح پُرور رتقریب کے اختتام تک حلیمہ بھابھی اس قدر تھک چکی تھیں کہ صوفے پر کچھ دیر کے لیے یہ کہہ کر بیٹھ گئیں کہ خدارا اب مجھے نہ اُٹھانا کیونکہ اب اگر اُٹھی تو ڈر ہے کہ چکرا کر کہیں گر ہی نہ پڑوں ۔
    دراصل اللہ نے مظہر حسین اور حلیمہ مظہر کو صرف دو ہی اولادیں دی ہیں ۔عائلہ مظہر اور شیراز مظہر۔ عائلہ توشادی کر کے امریکہ چلی گئی تو اُس کا آنا جانا ہوا مشکل ۔بچا شیراز تو وہ بیچارہ باہر کا انتظام سنبھا لے کہ اندر کا؟ لہٰذا اندرونِ خانہ کی تمام تر ذمہ داری آئی حلیمہ بھابھی کے کندھوں پر۔ اب انھیں کبھی سفید چادروں کے لیے آواز پڑتی تو کبھی کسی کو جائے نماز یںدرکار ہوتیںعین سوئم کی قران خوانی کے درمیان ڈرائنگ روم کے بیرونی دروازے کے پاس والے کونے سے آواز آئی بھابی !اگر بتیاں کہاں ہیں ؟اِن کے بغیر قرآن خوانی کا بھلا کیا مزہ ”
    لو بھلا بتائو یہ قرآن خوانی مرحوم کی روح کو بخشوانے کے لیے رکھوائی ہے یا تمہارے مزے کے لیے۔ یہ آواز عطرت پھوپھو کی تھی ۔مسز عطر ت عثمان مظہر صاحب کے دس بہن بھائیوں میں سے ساتویں نمبر پر ہیں۔خاتون جس محفل میں جاتیں کچھ الگ ہی نظر آتیں وجہ چہرے پر تنا شکنوں کا منفرد جال شکنوں کی ترتیب کچھ اس پرکارہے ماتھے پر لمبائی کے رُخ چار اور چوڑائی کے رُخ چھ ، دونوں آنکھوں کے گرد بے تحاشہ چھوٹی چھوٹی لکیریں اور سب سے واضح ناک کے سرے سے لیکر ہونٹوں کے کناروں تک آتی اسمائل لائنز،(حالانکہ کے مسکرانے سے اُن کا دور کا بھی واستہ نہیں تھا )جب بھی وہ منہ ٹیڑھا کر کے بو لتیںتو وہ کچھ اور بھی واضح ہو جاتیں ۔پچھلے سال جب وہ ا پنی ڈاکٹر بیٹی کو امتحان دِلوانے لندن لیکر گئیں تو اپنی کاسموٹولوجسٹ بھابھی سے زبر دستی مفت میں بوٹوکس کے انجکشنز لگوالئے اور فلرز بھی ڈلوالئے ۔

    جس سے چہرہ تو سچی بات ہے جیسے پہلے تھا ویسا ہی رہا ۔بھابھی نے کون سا دل سے یہ کام کیا تھا۔بس جان ہی چھڑوائی تھی اپنی مگر وہ خود کو پچپن کے بجائے پینتیس 35))کا سمجھنے لگیں ۔دماغ کے فطور اور لہجے کے غرور میں گراقدرِ اضافہ ہوا کہ ناخن کچھ مزید لمبے ہوگئے لپ اسٹک ،نیل پالش شیڈ کچھ دوہرا گہرا اور انگوٹھیا ںدوسے چار ہوگئیں ۔یہ عطرت پھوپھو ہی تھیں جنھوں نے بھرے مجمع میں جب عورتیںمنہ کھول کھول کر حلیمہ بھابھی کی خدمت گزاری کے گُن گارہی تھیں ۔تو جل کر کہہ دیا کہ "بھئی ! ہمیں کیا پتہ کہ خدمت کی بھی ہے یا نہیں ہم تو سب دوربیٹھے تھے اپنے اپنے گھروں میں۔ میں تو آخیرتک فون کرتی رہی کہ ذراکی ذرا بھائی کی آواز ہی سنُ لو ں مگر کبھی جواب ملتا کہ اّبا ابھی سو رہے ہیں ۔کبھی یہ کہ اُن کی کنڈیشن ایسی نہیں ہے کہ ابھی بات کر سکیں ”
    اپنے سے فقط ڈیڑ ھ دو سال چھوٹی بہن کے بے تُکے پن پربڑی سعدیہ پھوپھو نے خوب ہی بُرا محسوس کیا۔ساتواں سپارہ جو ابھی صرف نصف ہی پڑھا تھا انگلی رکھ کر بند کیا ۔عینک ناک کی ٹپ پر ٹکائی اور پہلے اُسے خوب غور سے دیکھا پھر ٹھوک کر بولئیں ۔”تم نے بالکل صحیح کہا بھلا دوربیٹھے ہوئوں کو یہاں کے باسیوںکی کُلفتوں کا کیا اندازہ ؟ہم توبھئی دو قدم کے فاصلے پر رہتے ہیں ۔لہذا پَل پَل کی خبر ہے کہ پچھلے دو سال سے حلیمہ بھابھی اور شیراز نے کس طرح مظہر بھائی کی خدمت کے لیے اپنا دن اور رات ایک کیا ہوا تھا۔مظہر بھائی پچھلے تیس سالوں سے زیا بیطس کے مریض تھے ۔دوسال پہلے گُردوںنے جواب دے دیا اور بہنا !ڈالیسیز Dialysis))کے مریض کی دیکھ بھال کرنا کو ئی بچو ں کا کھیل نہیں ہے۔آخر کے چند مہینوں میں ہیپاٹائٹس (hepatitis)ہوگیا ۔چہرے کا رنگ کالا سیاہ، جسم پر سیاہ دھّبے مرحوم پیشاب اور پوٹی بھی ڈائیپر(Diaper)میں کر رہے تھے اتنے لہیم شہیم آدمی کے پیمپر(pamper) بدلنا بھی ہر بار ایک مرحلہ ہوتا ۔اوپر سے بھائی کا چِڑچِڑاپن اور کنجوسی اپنے عروج پر تھی اپنے علاج پر بھی جیب سے ایک ٹکا خرچ کرنے کو تیار نہ تھے ۔ایک منٹ کیسی باہر والے اٹینڈئنٹ Attendent))نے ٹِک کر نہ دیا ۔خود ہی ماں بیٹا کبھی اُن کی اُلٹیا ں صاف کرتے تو کبھی مالش کر رہے ہیں ،جسم داب رہے ہیں ۔سچ پوچھوتو اِن دونوں نے اپنی جنت اسی دنیا میں کمالی میں خود اِس بات کی سب سے بڑی گواہ ہوں ۔مگر تم کیا جانو!تم تو خیر سے دور بیٹھی تھیںاپنے گھرمیں "سعدیہ پھوپھو نے اپنی بات ختم کر کے ٹیولپ ٹشو Tulip tissue ))کا پاکٹ سائز پیک اپنے پرس سے نکالا ۔اس میں سے دوخوشبودار سفید ٹشو باہر کھینچے اور بھیگی بھیگی آنکھوں کو خوب رگڑ کر صاف کرنے لگئیں ۔بڑی بہن کے اِس تفصیلی بیان کے بعد عطرت پھوپھو اپنا سا مُنہ لے کر رہ گئیں ہاتھ میں کب سے پکڑی سورةیسٰین کچھ غصے میں اور کچھ وجّدمیں آکر جھوم جھوم کر پڑھنی شروع کر دی ۔سعدیہ پھوپھو اگر چے قرآن خوانی کے درمیا ن باتیں کرنا معیوب خیا ل کر تی تھیں ۔مگر اِس وقت یہ وضاحت دینا بے حد ضروری تھا ۔
    پہلے ہی عائلہ کی عدم موجودگی پہ گھر کے ملازمین سے لے کر ہر آئے گئے نے خوب ہی سوال اُٹھائے ہیں کہ عائلہ اب تک کیوں نہیںآئی؟؟ پہلے باپ کی دو سالہ بیماری میں نہیں آئی اب تدفین پہ بھی غائب ہے !!حلیمہ بھابھی سمجھا سمجھا تھک گئیں کہ امریکہ کوئی پاکستان میں نہیں رکھا ہوا۔پی آئی اے(PIA)کی براہِ راست پرواز بھی امریکہ سے آنا اب بند ہو چکی ہے ۔اگر باپ کی اطلاع ملتے ہی اِسے ٹیکٹس کسی طرح مل بھی جاتے توکنیکٹنگ Connecting))فلائٹ لے کر یہاں کوئٹہ آتے کم از کم دو دن تو لگ ہی جانے تھے اور مظہر صاحب کی تدفین اتنی دیر روکی نہیں جاسکتی تھی۔باڈی اِس حال میں ہی نہیں تھی پھر باہر والوں کی اپنی زندگی کے ہزار ہاں جھمیلے ہیں ۔ہمیں اُس سے کوئی شِکایت نہیں ہے۔آجائے گی وہ اپنی سہولت سے لیکن اللہ کی اِس زمیں پہ جتنے اُبھار اور گھاٹیاں ہیں ۔اِس سے کہیں زیادہ اُبھار اور گھاٹیا ں انسان دماغ پہ موجود ہیں ۔جہاں پراَن گنت سوچیں اُبھر تی پھسلتی رہتی ہیں ،سومولا کی زمین پر ربسنے والے اپنی قیاس آرئیوں سے باز نہیں آتے ۔
    دراصل عائلہ مظہر نے شادی اپنی مرضی سے کی تھی شروع شروع میں تو باپ بیٹی میں خاصی ٹھنی رہی۔مگر امریکہ جانے کے بعد بھی وہ ہرسال ماں باپ سے ملنے آیا کرتی تھی ۔بلکہ ایک مرتبہ ایان کا کوئی طویل پرجیکٹ جاپان میں چل رہا تھا تو عائلہ کوئی سال بھر کے لیے دونوں بچوں کے ساتھ ماں باپ کے پاس پاکستان آگئی تھی۔اِس موقع پر بھی خاندان بھر میں خوب چہ میگوئیاں ہوئیں کہ یقینا میاں بیوی کی علیحدگی ہو گئی ہے۔ آگیا ہو گا کسی گوری کے چکر میں تو بھیج دیاعائلہ کو واپس خیر عائلہ کچھ عرصہ رہ کر چار سالہ سلیمان اور دو سالہ مُحمد کے ساتھ ور جینا (virginia)واپس چلی گئی اور ایسی گئی کہ اب دو ڈھائی سال ہونے کو آئے اُس کا کوئی نام ونشان نہیں ہے۔
    "سعدیہ باجی !یہ اپنی عائلہ نظر نہیں آرہی اِس روز میں تد فین میں آئی تھی تو بھی ملاقات نہیں ہوئی مانا کہ باپ کا غم ہے مگر ایسا بھی کیا کہ بندہ آنے جانے والے مہمانوں سے پُرسہ بھی نہ لے سکے "عائلہ کی بابت خالصتاً ٹھوہ لینے والے انداز میں پوچھنے والی یہ مظہر حسین کے ماموں زاد بھائی کی بیوہ بیگم طاہرہ نسیم تھیں صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ بن رہی ہیں اندر سے خوب ہی جانئے ہیں کہ عا ئلہ یہاں موجود نہیں ہے ۔
    بہر کیف اُن کے اِس سوال پرسعدیہ پھوپھو کا پانی کے جگ کی طرف بڑھتا ہاتھ تھم سا گیا ۔”طاہرہ بھابھی !عائلہ تو نہیں آئی شاید کچھ ٹھہر کر آنے کا ارادہ ہے ”
    ” اچھی بہن !سچ کہو یعنی کہ اب بھی نہیں آئی اللہ جانے کیا معاملہ رہا ہو گا ۔ویسے بھی اپنی عائلہ کی یہ love marriage)) ہے ۔ مظہر بھائی اِس رشتے کے شروع سے ہی خلاف تھے کیا پتہ سسر اور داماد میں کب سے سرد جنگ چل رہی ہو جس کا بدلہ اُس نے عائلہ کو مظہر بھائی کی بیماری نہ میں بھیج کر لیا ہو”انہوں نے مانوقیاس کے سمندر میں ساری کشتیاں ڈبو دئیں ۔اگر آپ نے کبھی پمپکن پیچ(pumpkin patch)کی پھولے پھولے گالوں والی خوب گول مٹول اور گوری چٹّی گڑیاں دیکھی ہوں تو اِس لائن کی وہ گڑیا جو بارہ تیرہ سال کی بچیوں کے لیے ہوتی ہے وہ لے آئیں ۔اُسے پاکستان کے کیسی بہترین برانڈ کے کپڑے پہنا کر سر پر دوپٹہ اُوڑھا دیں اور شکل کی ساری معصومیت سرے سے غائب کر دئیں تو ہوبہو نسیم بھابھی بن جاتی ہیں ۔پہنا اُوڑھنا اِن کا شروع سے ہی بہت اچھا رہا ہے اور کیوں نہ ہو ؟دونوں بیٹے خوب اچھا کمارہے ہیں ۔ایک تو کینڈا میں ہے اور دوسرا کوئٹہ میں کوئی لیب شیب چلا رہا ہے جس طرح کی وہ ٹیڑھی ماں تھیں اولاد خود بخود ہی سیدھی رہتی شرافت سے دونوں بیٹے انھیں خوب اچھا پاکٹ منی دیتے ہیںجو بہو پاس تھی شریف خاندان کی قبول صورت مگر کم پڑ ھی لکھی لڑکی تھی جیسے وہ اہتمام سے اپنے ایم ایس سی پاس بیٹے کے لیے بیاہ کر لئیں تھی ۔اب پائوں کے انگوٹھے تلے ایسا دبارکھا ہے کہ اپنے میکے جانا تو درکنار گھر کے دروازے تک اُن کی اجازت کے بغیر نہیں جاسکتی تھی ۔بھلے گھر میں بے چاری کا دم گھٹا جا رہا ہو ۔
    "اچھی بہن!بس اب کیا بتائوں کہ آخری دونوں میں بھیا مرحوم کی شریانوں کی حالت اِس قدر نازک ہوگئی تھی کہ مزید ڈائی لیسیسزDialysis))ممکن نہیںرہا تھا ۔”انہوں نے سعدیہ پھوپھو کے قریب کھسک کر قدرے راز داری سے کہا انداز ایسا تھا کہ جیسے وہ مرحوم کی تیمار داری کے لیے روزانہ آتی رہی ہوں اور سعدیہ پھوپھو کبھی کبھار حالانکہ حقیقت اِس کے بالکل برعکس تھی ۔وہ خود مرحوم کی طویل بیماری میں صرف ایک آدھ بار ہی خبر گیری کے لیے آسکیں تھیں۔
    ”ڈاکٹر نے صاف جواب دے دیا تھا ،دماغ پر اثر ہونے لگا تو سارا سارا دن عجیب وغریب آوازیں نکالتے رہتے۔کیسی پل چین نہیں تھا یوں لگتا کہ موت کا فرشتہ نظر وں کے سامنے ہر وقت موجود ہو مگر تف ہے بھئی آج کل کی اولاد پر کہ ایسے کڑے وقت میں بھی ماں باپ کی دل جوئی کو نہ آسکے۔
    نہ تو عائلہ اُمید سے ہے نہ اس کے بچے شیرخوار ہیں کہ اتنا لمبا سفر ممکن نہ ہو .عائلہ تو گوروں کے دیس میں جا کر بالکل انہی کی طرح سوچنے لگی ہے کہ اپنے شیڈول کے مطابق آنا جانا ہے ماں باپ بھلے اِس کے بچوں کی صورتوں کو ترستے رہیں "وہ کچھ اور آگے کھسک کر مزید گویا ہوئیں۔
    ”ویسے میں اس کے بچوںسے مل چکی ہوں پہلے دونوں ہی عجیب چڑچڑے سے تھے ۔ہر وقت ماں کا پلو پکڑے ہر آئے گئے کو نوچتے کھسوٹتے رہتے ،بولتے ولتے اُس وقت تو کچھ خاص نہ تھے لگتا ہے کہ عائلہ نے کوئی خاص تمیز نہیں سیکھائی ۔امریکہ کے بجائے کسی چک کی پیداوار لگ رہے تھے ۔اب اپنے خرم (اُن کا چھوٹا بیٹا )کے بچوں کو ہی دیکھ لو ‘میں نے پالنے میں ہی آداب سلام کی تمیز سیکھادی تھی ورنہ آتا جاتا تو اُن کی ماں کو بھی کچھ خاص نہیں ہے۔آپ کی بھابی صاحبہ کیا بتا رہی ہیںکہ صاحبزادی کب تک آئیں گی ؟ کوئی اور موقع ہوتا تو شاید سعدیہ پھوپھو عائلہ کی صفائی ضرور پیش کرتیں مگر اُن کا دل اِس بارعائلہ سے خوب ہی کھٹا ہو ا تھا ۔اگر چے اپنے ہاتھوں کی پالی بچی تھی دلِ ودماغ یہ مانے کو تیار نہیں تھا مگر حالات کچھ یہی خبر دے رہے تھے کہ عائلہ بدل گئی ہے بہت دُکھی دل سے گویا ہوئیں کہ "اُن سے تو ہم نے پوچھنا چھوڑ دیا ہے ہر ایک کو یہی کہتی پھر تی ہیں کہ باہر والوں کے اپنے سومسلے مسائل ہوتے ہیں جن کا اندازہ ہم پاکستان میں بیٹھ کر نہیں لگا سکتے ۔میرا بھائی تو آخیر تک سب سے پوچھتا رہا کہ عائلہ آگئی کیا ؟میرے سیلمان اور محمد کہا ں ہیں ؟پھر اُن کے معصوم چہرے دیکھنے کی حسرت لیئے لحد میں اُتر گیا بد قسمتی اُس کی بھی کہ باپ کا آخری دیدار نہ کر سکی البتہ حلیمہ بھابھی نے میت کو قبرستان لے جانے سے پہلے پانچ منٹ کے لیے فیس ٹائم پر دیکھایاضرور تھا ۔اُس کے رونے کی ہلکی سی آواز تو میں نے بھی سُنی تھی ۔یہ رونا تو اب عمر بھر کا ہے ۔کچھ بھی کر لو ماں باپ کہاں واپس آتے ہیں ”
    سعدیہ پھوپھوکی بات سنُ کر نسیم بھابھی نے اثبات میں خوب زور سے سر ہلایا پھر اپنے سوجے ہوئے پیر سمیٹ کر اُٹھنے لگ گئیں ۔
    "اچھا اب میں چلوں گی پیر نیچے بیٹھنے سے اور سوج گئے ہیں گھر جا کر اِن کا ذرا مساج کروں تو کچھ سکون آئے ”نسیم بھابھی خود بھی زیابیطس کی مریضہ تھیں مگر پرہیز بالکل بھی نہ کر تیں لہذاکبھی پیر سوجتے تو کبھی چہرہ لیکن اِس کے باوجود بھی خاصی سوشل خاتون تھیں ۔جہاں بھی جاتیں دس پندرہ منٹوں میں مقررہ ہدف پورا کر لیتیں ۔دوسروں کے دل آپس میں کھٹے کر کے خود مطمئن سی جیے جا رہی تھیں ۔
    ”ارے نسیم بھابھی !ذرا روکئیے تو دُعا میں شریک ہو کر ‘دو لقمے کھا کر چلی جائیے گا ۔”سعدیہ پھوپھو نے اُن کا ہاتھ پکڑ کر روکا۔ ”اچھی بہن !کھانا تو میں باہرکا کھاتی نہیں ہو ں مگر دُعا میں شرکت لازمی کرو نگی بس میں ذرا لطیف )ڈرائیور)کو فون کر دوں کہ وہ پندرہ منٹ باہر میرانتظار کرے ”نسیم بھابھی نے اپنے کوچ (coach)کے شولڈر بیگ سے آئی فون نکالا اور ڈرائیورکو نمبر ملا کر ہدایت دینے لگ گئیں تو سعدیہ پھوپھو بھی کچن میں ایک نظر ڈالنے کے خیال سے اُٹھ کھڑی ہوئیں ۔

  • مدیر سے پوچھیں | سائرہ غلام نبی

    مدیر سے پوچھیں
    سائرہ غلام نبی

    سائرہ غلام نبی کا نام ڈائجسٹ اور ڈرامہ انڈسٹری میں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ڈائجسٹ پڑھنے والے قارئین ان کے نام سے بہ خوبی واقف ہیں۔ سائرہ نے خواتین اور شعاع ڈائجسٹ سے اپنے ادارتی سفر کا آغاز کیا تھا، اور آج کل وہ MD Productions (ہم ٹی وی نیٹ ورک) میں بہ حیثیتہیڈ آف کانٹنٹ اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں، اس ماہ ہمارے لیے ”مدیر سے پوچھیں“ کے سیکشن کے لیے سائرہ سے بہتر انتخاب کوئی نہ تھا۔

    ٭ آپ اس فیلڈ میں کتنے عرصے سے ہیں؟ اور اس فیلڈ میں آپ کی آمد کس طرح ہوئی؟
    سائرہ: اب تو بہت پرانی بات ہوگئی، بیس سال میں نے خواتین ڈائجسٹ میں کام کیا اور پانچ سال مجھے ایم ڈی پروڈکشن میں ہوگئے ہیں، سٹوڈنٹ لائف سے ہی میں نے کام شروع کردیا تھا،لکھنے کا سفر میرا بہت پہلے سے ہی جاری تھا، ساتویں،آٹھویں کلاس سے جب پڑھنا آیا تھوڑی سمجھ اور شعور بیدار ہونا شروع ہوا تو کتابوں سے رغبت پیدا ہوئی، اور بے تحاشہ ہوئی، کہانیوں کی دنیا بہت اچھی لگتی تھی۔ویسے بھی بچے تھے تو اتنی زیادہ سہولتیں نہیں تھیں، یہ سارا کچھ اس طرح سے نہیں تھا، بہت مختلف منظر نامہ تھا، ہماری ایک دنیا تھی چھوٹی سی بہت ہی چھوٹی سی،جس میں ایک PTV تھا اور دوسری کتابیں تھیں اور کتابیں بھی اتنی فراوانی سے نہیں ملا کرتی تھیں، کتابوں کا حصول بھی ہمارے لیے بہت مشکل تھا۔ زیادہ تر لوگوں کے گھروں میں اخبار، ماہانہ ڈائجسٹ اور ہفت روزہ میگزین آیا کرتے تھے، اور ان میں سے کچھ سیاسی جرائد تھے، ہماری دوستیں،پڑوس، احباب، کزنز اور انکل سب ان رسائل اور جرائد میں دلچسپی لیا کرتے تھے،پڑھے لکھے لوگ ان جرائد میں لکھا بھی کرتے تھے، اس وقت کہانی لکھنا ایک بہت بڑی fantasy ہوا کرتی تھی۔ باہر کی دنیا سے رابطے پیدا کرنے کے کوئی ذرائع نہیں تھے، ہم اس حرفوں اور کتابوں کے ذریعہ ہی اپنا رابطہ بحال کرتے تھے۔میں ماسٹرز کررہی تھی، پیپرز چل رہے تھے اور ان دنوں ریڈیو پاکستان میں پروگرام بھی کیا کرتی تھی، آنا جانا لگا رہتا تھاتو کسی نے بتایا کہ ڈان میں اشتہار آیا ہے خواتین ڈائجسٹ والوں کی طرف سے سب ایڈیٹر کی پوسٹ کے لیے، میں سن کر گھبرا گئی، میں نے دل میں سوچا کہ وہ بہت ہی قابل اور اہل لوگوں کی پوسٹ ہوگی، میں وہاں پر جانے کے لیے بالکل آمادہ نہیں تھی، لیکن میری دوست نے کہا کہ تم وہاں پر جاؤ، میں اس کے کہنے پر چلی گئی۔ وہاں پر محمود ریاض صاحب نے میرا انٹرویو کیا۔ اور میں آپ کو ایک مزے کی بات بتاؤں،اس سے پہلے میں نے خواتین ڈائجسٹ کا کوئی شمارہ کبھی پڑھا ہی نہیں تھا(قہقہہ)۔ بس دیکھا تھا لیکن خواتین ڈائجسٹ کی کہانیوں کو کچھ زیادہ پسند نہیں کرتی تھی، مجھے لگتا تھا کہ یہ بہت زیادہ خوابوں کی دنیا میں رہنے والی باتیں ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا اس طرح کی fantasy world اور رومانس کی دنیا سے تعلق نہیں تھا، مجھے ادبی کتابوں اور ناولز پڑھنے کا چسکا لگ گیا تھا، ادبی افسانے پڑھا کرتی تھی اور ا ن ہی کو ادب سمجھا کرتی تھی۔مجھ سے محمود ریاض صاحب نے پوچھا آپ نے کسی افسانہ نگار کو پڑھا ہے تو میں نے اپنے پسندیدہ افسا نہ نگار غلام عباس اور بیدی وغیرہ کا نام لیا۔ پھر انہوں نے دوبارہ پوچھا آپ نے کبھی ہمارا ڈائجسٹ پڑھا ہے، میں نے ان سے کہا ہاں دیکھا ہے، انٹرویو دے کر میں گھر چلی گئی تھی، اور مجھے اندازہ تھا کہ مجھے نہیں رکھا جائے گا، گھر پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد مجھے خواتین ڈائجسٹ سے فون آیا کہ آپ کل سے جوائن کرلیں۔ میرے لیے بہت ہی سرپرائزنگ تھا۔ اس کے اگلے دن میں یونیورسٹی گئی کیوں کہ اس وقت تک میری پہلی اور آخری محبت تو یونیورسٹی ہی تھی(مسکراتے ہوئے)۔وہاں پر دوستیں تھیں، ایک ادبی سرکل تھا، ہم اخبار نکالا کرتے تھے، اس وقت مجھے وہ دنیا چھوڑنا بہت مشکل لگ رہا تھا لیکن ساتھ ہی مجھے پریکٹیکل لائف میں آنے کا موقع مل رہا تھا۔میرے ذہن میں ہمیشہ سے جاب کرنے کا ارادہ تھا، کیوں کہ مجھے کتابیں اور تحقیق سے بہت دلچسپی تھی تو میرا ارادہ تھا کہ میں ایم فل کروں گی لیکن پھر میں ایم فل کر ہی نہیں سکی۔ اگلے دن سے میں نے خواتین ڈائجسٹ جوائن کرلیا اور وہاں پر میری فل ٹائم جاب تھی۔ اس کے بعد میں سوچتی رہ گئی، اس وقت میرے ٹیچرز اور دوستوں کا یہی خیال تھا کہ مجھے اپنی تعلیم کو آگے جاری رکھنا چاہیے۔

    ٭ آپ کے پاس ایک مہینے میں اوسطاً کتنے مسودے آجاتے ہیں؟ اور آپ لوگوں کا selection process کیا ہے؟
    سائرہ: ہمارے پاس اس طرح کا کوئی حساب تو نہیں جس سے ہم یہ بات نکال سکیں کہ ہمارے پاس ایک ماہ میں اوسطاً کتنی تحریریں آتی ہیں، لیکن ہمارے پاس روزانہ کی بنیاد پر کچھ نہ کچھ آتا رہتا ہے، روز ہی لوگ اپنے ideas لے کر خود بھی آرہے ہوتے ہیں، اور فون پر بھی رابطے میں رہتے ہیں۔ مطلب صبح آنکھ کھلنے سے رات آنکھ بند ہونے تک ہم بس کہانیاں ہی سنتے رہتے ہیں (قہقہہ)اور ایک ایک شخص تین تین، چار چار کہانیاں سنا رہا ہوتا ہے۔ اچھا مزے کی بات یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں سکرپٹ لکھنا بہت آسان کام ہے، یہاں پر چوکیدار، مالی اور کچن میں کام کرنے والا، سب کا یہی خیال ہے کہ وہ ڈرامہ لکھ سکتا ہے اور سب اپنی اپنی کہانیاں لے کر ہمارے پاس آجاتے ہیں (قہقہہ)۔ کوئی فریش آئیڈیا لے کر آتا ہے تو ہمیں بہت خوشی ہوتی ہے، لیکن آپ جانتے ہیں کہ صرف آئیڈیئے پر کہانی نہیں چلتی، جب تک اس آئیڈیا کو صفحات پر منتقل نہ کیا جائے، وہ آئیڈیا کسی کام کا نہیں ہوتا، لیکن ہم رائٹرز کے ساتھ ہوتے ہیں، ان کو لے کر چلتے ہیں۔
    ٭ وہ کون سی چند چیزیں ہیں جن کا خیال ایک نئے لکھنے والے کو اپنا مسودہ آپ کے پاس بھیجتے وقت رکھنا چاہیے؟
    سائرہ: سب سے پہلے تو جو ڈرامہ لکھنا چاہتا ہے، وہ اگر آج فیصلہ کرتا ہے کہ مجھے رائٹر بننا ہے، تو وہ فیصلے کا وقت غلط ہوتا ہے۔ جو رائٹر ہوتا ہے اس کو یہ فیصلہ بیس سال پہلے کرنا چاہیے کیوں کہ یہ صرف لکھنے کا عمل نہیں ہے، لکھنا ایک مسلسل پریکٹس کا نام ہے، اور جب تک آپ کو اپنے خیالات، جذبات اور احساسات کو صفحہئ قرطاس پر منتقل کرنے کا ہنر نہیں آئے گا تو بات نہیں بنے گی۔ آپ کو بہت زیادہ پڑھنے کی عادت ہونی چاہیے،الفاظ آپ کے لیے مانوس ہو، الفاظ کو برتنے کا سلیقہ آنا چاہیے، اور ہر طرح کی صورت حال میں آپ کے اند ر judgement کا ایک element ہونا چاہیے۔ آپ لوگوں کو، چیزوں کو اور ان کے معاملات کو judge کرسکیں۔آپ کا مشاہدہ ایک عام آدمی سے بے پناہ زیادہ ہونا چاہیے، اور پھر اس کے ساتھ خدا نے اگر آپ کے اندر کہانی بننے کی صلاحیت رکھی ہے توصرف اس صلاحیت پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے، اس ہیرے کو تراشنا ہوگا۔گائیک اگر صرف اچھی آواز لے کر پیدا ہوجائے تو وہ گائیک نہیں بن سکتا، جب تک وہ روزانہ کی بنیاد پر ریاض نہ کرے، لکھنے کا عمل بھی ایسا ہے کہ اس میں جتنی بھی محنت کی جائے، آپ کی تحریر میں نکھار آئے گا اور تاثر پیدا ہو گا۔
    ٭ آپ کے خیال میں جو لوگ اچانک اُٹھ کر کہتے ہیں کہ میں اچھا لکھ سکتا ہوں / لکھ سکتی ہوں آپ کے نزدیک یہ خام خیالی نہیں ہے؟ کیوں کہ میرے نزدیک پڑھنا ایک الگ چیز ہوتی ہے اور لکھنا الگ چیز ہوتی ہے۔اگر کسی بندے کے اندر یہ capability نہیں ہے پھر بھی وہ چاہے تو کیا اس کے اندر یہ چیز پیدا ہوسکتی ہے؟
    سائرہ: یہ خدا کا عطیہ ہوتا ہے۔ لکھنے کی صلاحیت خدا کی طرف سے ہوتی ہے لیکن اس صلاحیت کو نکھارنا بہت ضروری ہے، صرف محض پڑھ کر یا یہ سوچ کر کہ میں نے اردو ادب میں ماسٹرز کیا ہوا ہے، لکھنا شروع کردیں تو کوئی ڈگری آپ کو رائٹر نہیں بنا سکتی۔
    ٭ کیا آپ riskier themes پر کام کرتی ہیں؟
    سائرہ: کوشش تو کرتے ہیں لیکن چوں کہ یہ عوامی میڈیم ہے تو ہم مختلف بات کو بھی سہل انداز میں سے کہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم چینل نے کئی issue basedڈرامے کیے ہیں،آج کل آپ اُڈاری دیکھ رہے ہیں لیکن اس میں ہم نے دلچسپی کا عنصر ایسا رکھا ہے کہ لوگ کڑوی حقیقتوں کو دیکھنے پر آمادہ ہو۔ بس بات کا ڈھنگ آنا چاہیے۔

    ٭ نئے آئیڈیاز پر کام کرنے کے لیے آپ کے خیال میں بہتر طریقے سے کون سے رائٹرز کام کررہے ہیں؟ سینئر رائٹرز یا جونیئر رائٹرز؟
    سائرہ: سب سے پہلے تو میں ایک بات کہوں کہ آئیڈیا کوئی نیا نہیں ہوتا، کہانی کوئی نئی نہیں ہوتی، کہانی ان ہی کرداروں کے درمیان گھوم رہی ہے جو روزِ ازل سے ہے، ایک مرکزی کردار ایک عورت ایک مرد۔ ان کے درمیان ایک تیسرا کردار جو اُن کی دنیا کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے جیسے آدم اور حوا کی جس مین ان کے پیچھے شیطان، پھر ہابیل اور قابیل کی کہانی، ایک قتل کی کہانی۔ لیکن اس کہانی کو میں کس طرح بیان کروں گی، آپ کس طرح بیان کریں گے، یہ اسلوب ہوتا ہے جو کہانی کو مختلف بناتا ہے اور جس کی زندگی پر جتنی نظر ہوتی ہے، وہ اس طرح سے زندگی کی layers سے کچھ نہ کچھ نکالتا ہے۔آپ ایک طرف سے دیکھ رہے ہیں، میں ایک طرف سے دیکھ رہی ہوں۔ زندگی تو ایک ہی ہے، سیب کی طرح، ایک قاش آپ نکال رہے ہو، ایک میں نکال رہی ہوں۔ ہوسکتا ہے جو قاش آپ نکالیں وہ سڑا ہوا ہو، ہوسکتا ہے جو میں نکال رہی ہوں، وہ بہتر ہو۔ زاویہئ نظر مختلف ہوسکتا ہے، اسلوب مختلف ہوسکتا ہے۔ جو لوگ کامیاب ہیں، وہ قسمت کی بنیاد پر کامیاب نہیں ہیں، اپنی محنت اور قابلیت کی بنیاد پر کامیاب ہیں۔جن کو پڑھنے والے قارئین ملے ہوئے ہیں تو وہ بھی قسمت کی وجہ سے نہیں ملے، ایک دفعہ قسمت یاوری کرے گی لیکن بار بار نہیں کرے گی۔ ان کو خدا نے صلاحیت دی، انہوں نے اپنی صلاحیت کو پالش کیا، اس کو نکھارا، اور وہ مسلسل اپنے آپ کو آگے لے کر آرہے ہیں اور اپنی کہانیاں لکھ رہے ہیں چاہے وہ ڈائجسٹ میں ہو یا ڈرامہ انڈسٹری میں، اور کام ان ہی کا اوپر آرہا ہے، جو محنت کرتے ہیں۔

  • سعی

    سعی

    سحر ساجد

    وہ عجیب کیفیت میں تھی….. ناک کے نتھنوں سے، سانس کے نام پر خارج ہونے والی ہوا تپش لیے ہوئے تھی۔ وہ کہاں تھی، آسمان پر یا زمین پر؟ وہ اپنے وجود کو کسی سطح پر محسوس نہیں کرپارہی تھی۔ سر جس قدر بھاری تھا، وجود اسی قدر ہلکا۔ ذہن کسی ایک سوچ پر مرتکز نہیں ہوپارہا تھا۔ اس کے وجود پر ایک نظر ڈالو تو سانس کا اتار چڑھاؤ واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا تھا۔ لمبے ادھ کھلے بال، کچھ شانوں پر، کچھ سینے پر اُلجھے، پریشان اور بے ترتیب بکھرے ہوئے تھے۔ خلافِ معمول دوپٹہ گلے میں، کہ ان کے ہاں گھر میں بھی دوپٹہ سر پر لیا جاتا تھا۔ دونوں بازو سیدھے پہلو میں گرے …… ہاتھ کی مٹھیاں سختی سے بند کیں۔ لاؤنج کے کنارے پر کھڑی اک اک چیز کو دیکھے جارہی تھی لیکن نہیں جانتی تھی کہ کیوں دیکھے جارہی تھی۔
    فیصلہ سخت تھا جو اس نے کرلیا تھا اور اس فیصلے کی یاد آتے ہی اس نے دائیں ہاتھ کی مٹھی کچھ اور سختی سے بھینچی تھی۔ ہونٹ لرزے اور آنکھ کے کنارے پر اک قطرہ آکر جم سا گیا تھا۔ دل پر جیسے کسی نے خنجر کا وار کیا تھا۔ لرزتے ہونٹوں کے ساتھ اس نے حلق سے نیچے کچھ اتارا تھا اور اس کی نظر ان چیزوں پر کسی آوارہ بد روح کی طرح بھٹکتی تھی ”آپی!….“
    اچانک لاؤنج کے کسی گوشے سے آواز ابھری تھی۔ وہ بُری طرح سے ڈری اور سہم کر آواز کی سمت دیکھا تھا لیکن اس کاارادہ دائیں ہاتھ کی مٹھی کو کمر کے پیچھے چھپانے کا تھا۔”آپی۔ دیکھیں میرا بے بلیڈ۔“

    اسے بھائی کی آواز کسی باز گشت کی طرح محسوس ہوئی تھی۔ اس نے دھندلی آنکھوں سے بھائی کو دیکھا جو لٹو سے کھیل رہا تھا۔ وہ کسی بے جان وجود کی مانند بھائی کی طرف بڑھی تھی۔ وہ نیچے قالین پر بیٹھا میز پر اپنا لٹو گھمارہا تھا اور وہ اس کے پیچھے موجود صوفے پر جاکر بیٹھی تھی۔ دونوں ہاتھوں کی بند مٹھیاں اب اس کے دائیں بائیں سختی سے صوفے پر جمی تھیں اور وہ اپنے بھائی کو دیکھے ہی چلی جا رہی تھی۔ اس کے بھائی نے بٹن دبایا، لٹو میز کی سطح سے ٹکرایا۔ وہ چونک کر آواز کی سمت متوجہ ہوئی۔ لٹو اب گھوم رہا تھا گول، گول اور تیزی سے…. اس کے بھائی نے مڑ کر اس کا گھٹنا ہلاکر اس سے کچھ کہا تھا۔ کیا؟ وہ محض آواز کااِک احساس ہی محسوس کرپائی تھی۔ لٹو گھوم رہا تھا گول گول اور پھر گھومتے گھومتے وہ یک دم بڑا ہوتا گیا۔ ہوتا گیا، ہوتا ہی چلاگیا۔ لٹو اتنا بڑا ہوگیا کہ وہاں موجود ہر چیز پر حاوی ہوچکا تھا۔ وہ ڈر کے مارے صوفے کی پشت سے ٹکرانے کے سے انداز میں جالگی تھی۔ لٹو ا س کے عین سامنے گھومے چلاجارہا تھا۔ وہ نظریں لٹو کیگھومتی دھاریو ں سے ہٹانا چاہتی تھی لیکن سر کو حرکت نہیں دے پارہی تھی۔ نظر گھوم رہی تھی، سر چکرارہا تھا اور اب اسے متلی محسوس ہورہی تھی، اتنی کہ پیٹ میں شدید بل پڑا۔ وہ بے اختیار آگے کو جھکی۔ اسے زور کی ابکائی آئی تھی۔ وہ سانس لینے کو سیدھی ہوئی اور پیروں تلے سے جیسے زمینیک دم نکلی ہو۔ لٹو عین اس کی آنکھوں کے سامنے ہوا میں معلق گھومے جارہا تھا۔ گھبراہٹ کا احساس شدید تھا۔ وہ ہانپتے ہوئے، کف بہتے منہ کے ساتھ، بری طرح سے خوف زدہ ہوکر اس لٹو کو دیکھتی جارہی تھی۔
    ’آپی۔ آپی!“ اس کا بھائی شانہ ہلارہا تھا لیکن وہ متوجہ نہ تھی۔ وہ متوجہ ہو بھی کیسے سکتی تھی۔
    تنفس کی بگڑی رفتار کے ساتھ وہ خوفزدہ سی لٹو کو دیکھے جارہی تھی۔
    ”مور، مور“ اس کا بھائی ماں کو بلانے بھاگا تھا اور ماں کے آنے تک وہ بے حد گھبراچکی تھی۔ اتنی خوف زدہ ہوچکی تھی کہ اس نے دائیں ہاتھ کی مٹھی کھولی اور اس میں موجود زہریلی گولیاں پھانک لیں۔ اچانک وہاں سناٹا چھاگیا تھا، اتنا کہ جیسے کائنات کی ہر متحرک چیز حالت قرار میں آچکی ہو…. وہاں اب کوئی لٹو نہ تھا۔ وہ بے یقینی سے کھڑی ہوئی لڑکھڑائی اور پھر اوندھے منہ گرگئی اور گرتے ہی تکلیف کی اک لہر، دھماکے کی صورت اس کے وجود سے آن ٹکرائی تھی۔ شدید دباؤ، اندھیرا،گھٹن، پیاس، حلق سوکھ رہا تھا اور وہ تڑپ رہی تھی لیکن کمال کی بات یہ کہ وہ خود ہی اپنے تڑپتے وجود کو ذرا فاصلے پر کھڑی دیکھ رہی تھی۔ وہ محسوس کرسکتی تھی کہ اسے کتنی تکلیف ہورہی تھی۔ وہاں زمین پر اس کا تڑپتا جسم تھا اور وہ دور بس، بہتی آنکھوں کے ساتھ کھڑی خود کو بے بسی سے تڑپتا دیکھ رہی تھی اور میز پر لٹو آہستہ ہوتے ہوتے بالکل ساکت ہوگیا تھا۔
    ٭٭٭٭
    یہ انگور کے باغوں کی سرزمین تھی۔ اس کے خاندان والے پتھریلے پہاڑوں کے درمیان بستے اور اک سخت زندگی گزارتے تھے۔ یہ قلعہ سیف اللہ تھا اور وہ اس کی ہونہار بیٹی جاناں کاکڑ۔ اونچی نیچی گھاٹیوں پر جب چلتی تو یوں محسوس ہوتا تھا گویا جنگل میں کسی ہرنی نے کلانچ بھری ہو۔ تعلیم حاصل کرنے کا اتنا شوق تھا کہ اس کی اماں کہتی تھیں۔ ”جاناں پاگل تو نیند میں بھی اسکول کا سبق دہراتی رہتی ہے۔“

    اور ہاں وہ اتنی ہی پاگل تھی۔ جنونی تھی۔ اسے پڑھنا تھا بہت سارا۔ ڈھیر سارا۔ اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھا دیکھنا تھا۔ ڈاکٹر جاناں کاکڑ۔ ڈاکٹر۔ ڈاکٹر جاناں کاکڑ۔ قلعہ سیف اللہ، قبائل کی آماج گاہ تھا۔ جہاں روایات کی سختی سے پابندی کی جاتی تھی۔ وہ ساتویں جماعت میں تھی تب سے برقعہ پہن کر اسکول جاتی تھی۔ برقعے کے اوپر کالی چادر کے نقاب سے محض اس کی ایک آنکھ ہی نظر آیا کرتی تھی۔ وہ قلعہ سیف اللہ کی ان چندخوش نصیب لڑکیوں میں سے تھی جو پرائمری سے اوپر تعلیم حاصل کررہی تھیں۔ جاناں وہ طالبہ تھی جس نے اپنا ہر امتحان نمایاں درجے میں پاس کیا تھا۔ وہ برف زاروں میں پل کر بڑی ہوئی تھی لیکن خواہش، اک چنگاری کی صورت، طلب بن کر سینے میں بھڑکتی تھی۔ وہ خوش تھی، مگن تھی اور سمجھتی تھی کہ زندگی کا سفر اسی طرح کامیابی و کامرانی سے طے ہوتا چلا جائے گا۔ وہ امتحان پر امتحان پاس کرتی چلی جائے گی اور پھر…… پھر وہ دن ضرور آئے گا کہ جب وہ اسکالرز گاؤن پہنے اپنی Ph.D کی ڈگری وصول کرے گی۔ خوشی سے چیختے ہوئے اسکالرز کیپ کو ہوا میں اچھالے گی اور کوئی نامعلوم فوٹوگرافر اس کی آنکھ کی خوشی، اس کی ہنسی، اس کے چہرے کا جوش، طمانیت سب اک لمحے میں قید کرکے اسے زندہ جاوید بناڈالے گا۔ ہاں …… وہ ایسا ہی سوچتی تھی…… ایسا ہی سمجھتی تھی۔
    جب اس نے میٹرک میں پوزیشن حاصل کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ وہ اتنی خوش تھی اتنی کہ لگتا تھا کہ بس اب خوشی سے مر ہی جائے گی۔ وہ۔ وہ جاناں کاکڑ۔ اک پسماندہ علاقے کی گورنمنٹ اسکول کی طالبہ، اُسی جاناں کاکڑ نے میٹرک میں ٹاپ کیا تھا۔ ٹاپ۔ یہ پہلی بڑی کامیابی تھی۔ پہلی بڑی کامیابی اور اتنی بڑی خوشی جو اُسے مار بھی ڈالتی تو غم نہ تھا۔ لیکن اسے تو جینا تھا۔ بہت سارا ایک لمبی زندگی گزارنی تھی کیوں کہ اسے تو پڑھنا تھا۔ ڈھیر سارا۔ اتنا زیادہ کہ اس کے نام کے ساتھ لکھا جاتا… ڈاکٹر جاناں کاکڑ……
    ٭٭٭٭

  • باجی ارشاد

    باجی ارشاد

    باجی ارشاد
    سارہ قیوم

     

    باجی ارشاد سویرے سویرے سارے کام سے فارغ ہو کر نیا جوڑا خرید لائی اور دوپہر کو ٹرک کے نیچے آکر مر گئی۔
    ویسے تو بڑی جی دار تھی جی! باجی ارشاد۔ پچھلے سال اس کی ابو جی سے لڑائی ہوئی تو اس نے دودھ والا بڑا دیگچہ اٹھا کر ابوجی کو دے مارا۔ ابو جی گر پڑا اور امی جی ہائے ہائے کرتی ویسے ہی اس کے اوپر گر گئی۔ ہم ساری دیورانیاں، جیٹھانیاں دل ہی دل میں بڑی خوش ہوئیں۔ بھائی اکرم گھر آیا تو باجی ارشاد سے بڑا لڑا۔ مار مار کر نیل ڈال دیئے پر وہ صلح کو نہ مانی۔ کہتی تھی صلح کروں گی تو خود کروں گی تیری مار سے نہیں کروں گی اور جب صلح کی تو ایسے ہی نہیں کی۔ پوری ایک کلو مٹھائی منگا کر بانٹی پھر صلح کی۔ ایسی عقل مند اور بہادر تھی باجی ارشاد، لیکن جب مری تو منٹوں سیکنڈوں میں ہی مر گئی۔ ذرا حوصلہ نہ کیا۔ ہائے باجی ارشاد تو نے ذرا نہ سوچا کہ کس پہ غصے نکالے گا بھائی اکرم تیرے پیچھے اور کیا کریں گے تیرے بغیر تیرے چھوٹے چھوٹے وکرم، ولیم اور سونیا۔ آپ کو تو پتا ہی ہے جی! یہ آج کل کے بچے بھلا رہتے ہیں ماؤں کے بغیر؟
    چار گھروں کا کام کرتی تھی۔ جب میری نئی نئی شادی ہوئی تو مجھے بھی ساتھ لے جاتی تھی۔ میں اس کے ساتھ صفائی کرا دیتی یا کپڑے دھلوا دیتی۔ لیکن جب میری طبیعت خراب ہو گئی تو میں نے جانا چھوڑ دیا۔ ساری جیٹھانیوں میں سے باجی ارشاد ہی میرا سب سے زیادہ خیال رکھتی تھی جی۔ باجی حمیدہ تو اتنی سست تھی کہ پورے دن میں صرف ایک گھر کا کام کرتی۔ بولتی تو کوئی اس کی بات ہی نہ سنتا۔ دو منٹ کی بات گھنٹے میں کرتی۔ کسی کے پاس اتنا ٹائم ہی نہیں تھا اور باجی بلقیس تو پرلے درجے کی بدتمیز تھی۔ ہر وقت گندے گندے مذاق کر کے ہنستی رہتی اور نت نئے فیشن کرتی رہتی۔ ہم سب میں کالی تھی پر مہرون لپ اسٹک سے کم تو لگاتی ہی نہیں تھی۔ باجی ارشاد سب سے اچھی تھی۔ تھی تو چھوٹی سی، یہ اس کرسی سے ذرا ہی اونچی ہو گی اور کانے جیسی پتلی پر تھی بڑی پھرتیلی۔ چار گھروں میں جھاڑو پوچا کرتی۔ اپنے گھر کا کام کرتی اور جب مجھے اُلٹیاں آتی تھیں تو وہی سنبھالتی تھی۔ میری تو بچی بھی اس نے پیدا کرائی جی۔ جب میرا ٹائم آیا تو میرا میاں گیا دائی کو بلانے۔ دائی مرن جوگی اپنی بیٹی کے گھر گئی ہوئی تھی۔ ادھر میری حالت خراب۔ جب اینڈ ہونے والا ہوا تو باجی ارشاد سامنے بیٹھ گئی اور لو جی باجی ارشاد نے کڑی جمالی۔ نام بھی اسی نے رکھا۔ روزی۔
    باجی ارشاد بڑی خدا پرست تھی۔ اتوار کے اتوار چرچ جا کر نماز پڑھتی اور گیت گاتی۔ ہائے ہائے گاتی بڑا اچھا تھی۔ اصغر لفنگے کے ویاہ پہ اس نے بڑی ڈھولکی بجائی اور ٹپے گائے۔ درزی والا ٹپہ تو سب نے فرمائش کر کے بار بار سنا: اک چولا درزی دا، نہ سانوں گھر ملیا نہ ماہیا مرضی دا۔

    بھائی اکرم نے سنا تو اسے بڑا مارا۔ کہنے لگا اب میں نے نہیں رکھنی، کا گت ہی دینا ہے۔ خیر بھائی اکرم کی تو عادت ہے۔ جس روز باجی ارشاد فوت ہوئی ہے اس سے ایک دن پہلے بھی تو اس نے یہی کیا تھا۔ باجی ارشاد کے بھائی کی منگنی تھی۔ اس نے نیا سوٹ خریدنے کے لیے پیسے مانگے تھے۔ بس جی مارکُٹ کے گھر سے چلا گیا اور کہہ گیا کہ اب نہیں رکھنی۔ کاگت ہی دنیا ہے۔ پہلے تو باجی ارشاد منہ لپیٹ کر پڑی روتی رہی پھر اٹھ کر کام پہ چلی گئی۔ واپسی پر بڑی خوش خوش آئی۔ باجیوں سے پیسے مانگ کر لائی تھی۔ اگلے دن سویرے سویرے سارے کام سے فارغ ہو کر نیا جوڑا خرید لائی۔ دوپہر کو بھائی اکرم کے ساتھ سائیکل پہ بیٹھ کر ماں کے گھر کو نکلی۔ لال بتی پر گاڑیاں رکیں، پیچھے سے ٹرک نے آکر کھڑی سائیکل کو ٹکر مار دی۔ باجی ارشاد سڑک پر گر پڑی اور ٹرک اس کے سر پر چڑھ گیا۔ دوسرا سانس نہ لیا بے چاری نے۔ خونم خون گھر آئی تو ہمیں یقین ہی نہ آیا۔ جنازے پہ اتنا ملک تھا کہ گلی تنگ پڑ گئی۔ جنازہ لے کے ہم پہلے باجی روحی کے گھر گئے۔ وہ بے چاری رو پڑی اور ہزار روپیہ نکال کے باجی ارشاد کی ہتھیلی پر رکھا۔ دو گھر چھوڑ کر بریگیڈئر صاحب کا گھر تھا پر وہ بڑا ڈاہڈا آدمی تھا اس لئے ہم نے اس کے گھر کی گھنٹی نہ بجائی۔ بعد میں پتا چلا لفنگا اصغر دوپہر کو ہی اسے اطلاع دے کر دو ہزار روپے لے آیا تھا۔ آپے ہی کھا پی گیا۔

  • بیگم شرف النساء

    بیگم شرف النساء
      خالد محی الدین

     

    شرف النسا بیگم ناظم لاہور خواب عبدالصمد خاں کی دوسری بیوی اور اِس کے دوسرے فرزند نواب عبداللہ خاں کی والدہ تھی۔ نواب صاحب کی پہلی بیوی بیگم جان ہی نے محلہ بیگم پورہ کی بنیاد رکھی۔ بیگم شرف النسا متقی پرہیزگار اور عبادت گزار خاتون تھی۔ خداداد صلاحیتیں اُس کے وقار میں مزید اضافہ کرچکی تھیں۔ تلوار زنی میں وہ مردوں کو پیچھے چھوڑتی تھیں۔ اُن کا مقبرہ اور تزئین کاری اُن کی شاندار انجینئرنگ اور فنکارانہ صلاحیتوں کا غماز ہے جو انہوں نے اپنی زندگی میں تعمیر کرایا اگر انہیں مغلوں کی آخری انجینئر خاتون کہا جائے تو غلط نہ ہوگا دونوں بیگمات الگ الگ محلوں میں مقیم تھیں۔ اپنے محل کے ایک گوشے میں شرف النسا بیگم نے خواتین کی درس و تدریس کا سلسلہ جاری کررکھا تھا۔ وہ موت کو یاد رکھنے کے لیے خاص ترغیب دیتیں اور مرنے سے قبل اپنا مقبرہ تیار کرنا اِسی بات کی تصدیق کرتا ہے۔ نواب زکریا خاں بیگم جان کا چہیتا اور عبدالصمد خاں کا لاڈلا بیٹا تھا۔ زکریا خاں کو بھی لاہور کا ناظم بننے کا شرف حاصل ہوا۔
    عبدالصمد خاں اور نواب کا زکریا خاں کے تانے بانے بیگم شرف النسا سے کچھ اس طرح ملے ہوئے ہیں کہ اِن کا احوال بیان کیے بنا معاملہ ادھورا رہ جاتا ہے۔ بندہ بیراگی ایک سکھ سردار جو ظلم و بربریت میں ہلاکو خاں اور چنگیز خاں کو بھی پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ اُس کا ذکر بھی آپ کو انہی کی داستان میں ملے گا۔ شرف النسا بیگم سلطنت کے معاملات میں عبدالصمد خاں کی معاون رہیں۔ ان کے مشوروں سے نواب عبدالصمد خاں نے شان دار فتوحات اپنے نام کیں۔
    جی ٹی روڈ انجینئرنگ یونیورسٹی سے ملحق علاقہ بیگم پورہ مغلیہ دور کی عمارتوں اور نامی گرامی ہستیوں کی آما جگاہ میرے بچپن کی بہت سی یادیں اس علاقے سے وابستہ ہیں کیوں کہ میرے تایا جان کا گھر بیگم پورہ میں تھا اور میں اکثر اُن کے ہاں جاتا رہتا۔ کھیل کُود کے دوران ہم بچے اکثر مغلیہ دور کی عمارتوں، باغات، محلات اور مقابر میں چھپن چھپائی کھیلتے۔ اُن دنوں آبادی برائے نام تھی اور یہ عمارتیں گردش دوراں کے باوجود اُسی طمطراق سے استادہ تھیں۔ مجھے یاد ہے میں جس عجیب دہشت کی عمارت کو دیکھ کر حیران ہوا تھا وہ بلند وبالا ایک مقبرہ تھا جس پر سرو کے بوٹے بنے ہوئے تھے۔ لحد تک جانے کے لیے سیڑھی استعمال کی جاتی تھی اور جس باغ میں یہ مقبرہ واقع تھا اُس کی شادابی اور خوبصورتی دیکھنے کے لائق تھی۔ ایک تالاب بھی اس باغ کا حصہ تھا۔

    میں جب بھی کوئی مغلیہ کی دور کی عمارت یا کسی ہستی کی کھوج میں نکلتا ہوں تو مطلوبہ جگہ پہنچ کر گردوپیش کے مناظر مجھے دل گرفتہ کردیتے ہیں۔ اِس نشست میں میرا ہدف شرف النساء بیگم کا مقبرہ تھا۔ جی ٹی روڈ پر لب سڑک واقع گلابی باغ کے درودیوار اُسی شان و شوکت سے استادہ ہیں جس کے عقب میں دائی رنگا کا شاندار مقبرہ الٰہی کسمپرسی کی منہ بولتی تصویر ہے۔ اس سے ملحق علاقہ بیگم پورہ کے نام سے منسوب ہے۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں نے وہاں سب کچھ بدلا بدلا محسوس کیا۔
    حضرت ایشاں کا بلند اور دیوہیکل مقبرہ اُن کے عقیدت مندوں کے باعث اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔ باقی اکثر یادگاریں محکمہ آثار قدیمہ کی غفلت یا ملی بھگت کے باعث اپنا وجود کھوچکی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ سکھوں کو مسلمانوں سے خدا واسطے کا بیر تھا، لیکن درحقیقت انہوں نے یہ اُکھیڑ پچھاڑ محض اینٹیں حاصل کرنے کے لیے گیں یہ سمجھ لیں بیگم پورہ میںانہیں اینٹوں کی کان مل گئی تھی۔ شرف النسا بیگم کا مقبرہ بھی اُن سے محفوظ نہ رہا۔
    سکھوں کو یہی گمان گزرا کہ اس بلند مقبرے میں ضرور کوئی خزانہ دفن ہے۔ اسی لالچ میں انہوں نے کُھدائی شروع کی تو ایک تلوار، قرآن مجید کا نسخہ اور مکین کے سوا اُن کے ہاتھ کچھ نہ لگا۔ تلوار اپنے ساتھ لے گئے اور قرآن کے ساتھ نہ جانے انہوں نے کیا سلوک کیا۔ یہ وہی تلوار تھی جو شرف النسا بیگم ہر وقت اپنے پاس رکھتی تھیں اور اُن کے وصیت کے مطابق اُن کی میت کے ساتھ ہی دفن کی گئی۔ بعد میں انگریزوں نے مقبرے کی تعمیر و مرمت کروائی۔
    شرف النسا بیگم کا مقبرہ بھی اپنی بلندی اور جسامت کے باعث باقی شہزادیوں کے مقابر سے منفرد ہے۔ یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ لاہور میں مغل دور کی یہ آخری عمارت تھی جسے شرف النسا بیگم نے اپنی زندگی ہی میں تعمیر کرایا تھا۔

  • اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں ۔ احمد فراز ۔ شاعری

    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں ۔ احمد فراز ۔ شاعری

    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں ۔ احمد فراز



    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
    جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

    ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
    یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

    غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو
    نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

    تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
    دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں

    آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر
    کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں

    اب نہ وہ میں نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فرازؔ
    جیسے دو شخص تمنا کے سرابوں میں ملیں