Tag: سلسلہ وار ناول

  • ایک معمولی آدمی کی محبت ۔ افسانہ


    ایک معمولی آدمی کی محبت
     محمدجمیل اختر
    وہ ایک ادھوری زندگی گزار رہا تھا ، بعض لوگ ساری عمر زندہ رہنے کے باوجود مکمل زندگی نہیں گزار پاتے۔ مکمل زندگی بہت کم لوگوں کونصیب ہوتی ہے ۔
    اُس کے باپ نورزمان نے دوشادیاں کررکھی تھیں۔ دونوں بیویاں سارا دن آپس میں لڑتی رہتیں ۔ نورزمان جب گھر آتا اور بیویوں کو لڑتے دیکھتا تو وہ بھی اس میدانِ جنگ میں کود پڑتا، کسی کے حصے میںاُس کا بھاری ہاتھ آتا تو کسی کے حصے میں اُس کا بھاری جوتا۔ دونوں بیویاںایک دوسرے کوکوسنے دیتے ہوئے اپنے اپنے بچوں کوسمیٹتی ہوئی اپنے کمروں جا کر دبک جاتیں۔ جن بچوںکی وجہ سے عموماً لڑائی ہوتی تھی، نورزمان انہیں بھی مارنا اپنا فرض سمجھتا تھا اُسے اپنے باپ سے ڈر لگنے لگا تھا۔ اُسے لگتا کہ اُس کے باپ کو اُس سے ذرا بھی محبت نہیں، ورنہ وہ اتنی بے دردی سے انہیں کبھی نہ مارتا۔ ایسے پرتشدد ماحول میں کسی کا حساس دل کے ساتھ پیدا ہوجانا ناقابلِ تلافی جرم ہے۔ جس کی سزا تمام عُمر بھگتنا پڑتی ہے۔
     دانش بھی یہ سزا بھگت رہا تھا۔ اندر ہی اندر اُس کی یہ خواہش تھی کہ کوئی اُس سے بھی محبت کرے، کوئی کہے کہ دانش تم کتنے اچھے ہو کتنے لیکن اُسے تو کبھی کسی نے محبت سے نہیں پکارا تھا ۔ وہ گاوں کی نہر کے کنارے بیٹھ کر اکثر سوچتا رہتا تھا کہ کاش وہ کوئی پرندہ ہوتا پرندے ایک ساتھ اڑتے ہیں، ایک ساتھ دانہ چگتے ہیں تو پرندوں کو یقینا آپس میں ایک دوسرے سے بے پناہ محبت ہوتی ہوگی، تبھی تو وہ ایک ساتھ ایک قطار میں اڑتے ہیں۔ کاش! وہ ایک پرندہ ہوتا، اِس تنہائی کا احساس اُس کے اندر دن بہ دن شدید تر ہوتا جارہا تھا۔
    اپنے باپ کی مار سے بچنے کے لیے اُس نے کتابوں میں پناہ لے لی۔ وہ دن رات پڑھتا رہتا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ پڑھائی میں بہت تیز ہوگیا۔ ایف اے کرنے کے بعد وہ محکمہ ¿ ڈاک لاہورمیں جونیئر کلرک بھرتی ہوگیا اور اُس نے گاﺅں کو خیرآباد کہہ دیا۔لاہور میں اُس نے ایک کرائے کا مکان لے لیا جس کی اوپری منزل پر اُس کا مالک مکان منصور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔
     ایک عمر تک وہ اس خواہش میں مارا مارا پھرتا رہا کہ اُس سے کسی کو محبت ہوجائے اورکوئی پاگلوں کی طرح دیونہ وار اُس سے محبت کرے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بہت سی آنکھوں میں اُس نے اِس امید سے جھانکا کہ شاید اِن میں اُس کاعکس ہولیکن ایسا کبھی ہوا نہیں۔ وہ ایک معمولی آدمی تھا، ایک معمولی جونیئر کلرک جوپورا دن فائلوں کے بوجھ تلے دبا رہتا، سارا دن ٹھک ٹھک ٹھک ٹائپنگ کرکے افسر کے آگے کاغذات لے کر جاتا ہوا معمولی سا آدمی ، جس کا لکھا ہوا کاغذ صاحب ایک بار دیکھتے اور نخوت سے اس کی طرف اچھالتے ہوئے کہتے:“
    ”یہ ٹھیک نہیں ہے تم اس میں ایسے یہ تبدیلی کرو۔“اور جب وہ یوں کر کے بھی لے آتا تھا تو پھر صاحب کہتے:
    ” میں نے تو یوں نہیں کہا تھا، تمہارے پاس الفاظ کا ذخیرہ کم ہے، اپنی Vocabulary بڑھاﺅ،تھوڑی محنت کرو اور اِس درخواست کو پھر سے لکھو ۔“
     وہ پھر چلا جاتا۔ ڈکشنری سے نئے نئے الفاظ چن کرٹھک ٹھک ٹھک کرتا نئے سرے سے درخواست ٹائپ کرتا، لیکن اکثر ہی جب وہ درخواست پھر سے ٹائپ کرکے لاتا تو صاحب کا گھر جانے کا وقت ہوجاتا۔شام کو وہ ٹینس کھیلتے تھے سو جلدی گھر چلے جاتے کیوں کہ وہ صاحب تھے، لیکن ایک جونیئر کلرک ان سے سوال نہیں کرسکتاتھا، اور جاتے ہوئے صاحب اُس سے یہ ضرور کہتے کہ سارا دن تم سے ایک صفحہ نہیں لکھا جاتا، اگر اِسی طرح کام چوری کرتے رہے تو تمہارا کچھ کرنا پڑے گا۔وہ چوں کہ معمولی آدمی تھا لہٰذا معذرت ہی کرتا رہ جاتا کہ آئندہ وہ کوشش کرے گا کہ کام بہتر طریقے سے کرسکے اور یہ اُس کا روز کا معمول تھا ۔
    ایسے میں دفتر کا کوئی ساتھی جب اپنی محبت کا کوئی قصہ سناتا تو اُسے لگتا کہ یہ سب جھوٹ ہے، ایسا بھلا کیسے ممکن ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو کوئی اُس سے بھی محبت کرتا۔
    اُس کے کمرے میں ہرطرف کتابیں ہی کتابیں تھیں۔ وہ اب ناولز پڑھ پڑھ کر اکتا گیا تھا۔ اُسے یہ سب کہانیاں جھوٹ لگنے لگی تھیں، ایسے ہی جیسے اُسے اپنے ساتھی اہل کاروں کی باتیں جھوٹ لگتی تھیں۔ نہ اُس سے کسی کو محبت ہوئی تھی اور نہ ایسے جذبات اُس کے اندر کسی کے لیے پیدا ہوئے تھے۔ اب وہ صرف فلسفے کی کتابیں پڑھتا تھا۔
    اپنے مالک مکان منصور صاحب سے اُس کی معمولی سلام دعا تھی لیکن پھر ایک ایسا واقعہ ہوا کہ یہ منصور صاحب کے گھر کا فرد ہی سمجھا جانے لگا۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک شام یہ دفتر سے گھر آ رہا تھا۔ ابھی وہ گلی کی نکڑ پر ہی تھا کہ اُس نے دیکھا کہ اُس کے گھر کے باہر لوگوں کا ہجوم ہے۔ وہ پریشانی میں دوڑتا ہوا وہاں پہنچا تو معلوم ہوا کہ منصور صاحب کا چھ سالہ اکلوتا بیٹا گلی میں کھیل رہا تھا کہ کوئی موٹر بائیک والا ٹکر مار کر اسے بھاگ گیا ہے۔ بچے کی ٹانگ سے خون بہہ رہا تھااور منصور صاحب اپنی دکان سے ابھی گھر پر نہیں آئے تھے۔ وہ بھاگ کرٹیکسی پکڑ لایا اور بچے کو ہسپتال پہنچایا ، او نیگیٹو خون کی ضرورت پڑی تو وہ بھی اس نے دے دیا کہ اُس کا بلڈ گروپ یہی تھا۔ قصہ ¿ مختصر کہ جب منصور صاحب ہسپتال پہنچے تو بچے کی حالت سنبھل چکی تھی۔ منصور صاحب کو بھابھی ثانیہ نے جب دانش صاحب کی رحم دلی کے بارے بتایا تو انہوں اٹھ کر دانش کو گلے سے لگایا کہ بھائی میں تمہارا یہ احسان عمر بھر نہیں اتار سکتا، آج سے تم میرے بھائی جیسے ہو۔ اُس دن کے بعد جب وہ شام کو گھر آتا تو ثانیہ بھابی بچوں کے ہاتھ ان کے لیے کھانا بھیج دیتیں ، کبھی کبھار منصور صاحب ہاتھ پکڑ کر لے جاتے کہ آئیں جناب! ایک کپ چائے ساتھ میں پیتے ہیں۔ اب اُس کی تنہائی کچھ کم ہوئی تھی لیکن رات کو کوئی شاعری کی کتاب پڑھتے ہوئے جب وہ کوئی شعر گنگناتاتو تنہائی کا احساس شدید ہوجاتا اور اُسے محسوس ہوتا کہ وہ گاوں میں نہر کنارے بیٹھا ہے اور پرندوں کو دیکھتے ہوئے سوچ رہا ہے کہ کاش وہ بھی کوئی پرندہ ہوتا ۔آخر اُس سے کوئی کب محبت کرے گا؟
    ایک شام جب وہ دفتر کی ٹھک ٹھک سے اکتا کر گھر واپس آیا تو اوپر سے منصور بھائی کہ آواز آئی:
    ” بھائی اوپر آئیے! چائے بھی پیجئے اور کچھ مہمانوں سے مل بھی لیجیے ،انہیں بھی آپ کی طرح کتابیں پڑھنے کا بہت شوق ہے “
     جب وہ اوپر گیا تو معلوم ہوا کہ ثانیہ بھابھی کی چھوٹی بہن بہاول پورسے یہاں چھٹیاں گزارنے آئی ہوئی ہیں۔

  • بھوک – سو لفظی کہانی

    بھوک – سو لفظی کہانی

    سو لفظی کہانی

    بھوک

    سیدہ رابعہ غرشین

    ماہا کے پیٹ میں روز درد رہتا تھا۔ ٹیچر دوائی دے کر ڈاکٹر کے پاس جانے کی تلقین کرتی… مگر اگلے دن پھر وہ درد سے رو رہی ہوتی…

    آج میں نے اسے اپنے ساتھ لنچ کرنے کی پیشکش کی۔

    امی کے ہاتھ کا بل والا پراٹھا دیکھ کر اس کی آنکھیں چمک اٹھیں، مگر اپنا بھرم قائم رکھنے کے لیے کھانے سے انکار کردیا۔

    بہت اصرار کرکے میں اسے کھانے پر راضی کیا۔

    معمول سے ہٹ کر ایک کام ہوا تھا آج… اس کے پیٹ میں درد نہیں ہوا۔

    تب مجھے پتا چلا یہ درد پیٹ کا نہیں بھوک کا درد تھا۔

    ٭…٭…٭

     
  • ایڈوانس بکنگ – سو لفظی کہانی

    سو لفظی کہانی

    ایڈوانس بکنگ

    محمد فیصل علی

     

    ”میں نے کار روکی، بزرگ شکریہ ادا کر کے بیٹھ گئے۔

    ”آپ کا تعارف؟”

    ”ریٹائرڈ فوجی ہوں، ایک سیٹھ کے ہاں کام کرتا ہوں،

    ادھر ”بچوں” کو عید ملنے آیا ہوں۔”

    ”ایڈریس بتائیں؟” میں گھر تک چھوڑ دیتا ہوں۔

    انہوں نے پتہ بتایا… کار ایک بڑی کوٹھی کے سامنے جا رکی۔

    مجھے پانی پلانے کے لیے روکا گیا۔ کچھ دیر بعد ایک نوجوان فون پر بات کرتے ہوئے نمودار ہوئے:

    ”ابا جی آئے ہوئے ہیں، عید کے بعد رش بہت ہوتا ہے نا… ان کی ٹکٹ ایڈوانس بک کر لیں… ہاں ہاں عید کے دوسرے روز صبح آٹھ بجے کی، اوکے۔”

    ٭…٭…٭

     
  • اَب سمجھا امی! ۔ سو لفظی کہانی

    اَب سمجھا امی! ۔ سو لفظی کہانی

    سو لفظی کہانی

    اَب سمجھا امی!

    ابن آس محمد

    نو بھائی تھے ہم… ایک بہن… ابو مزدور… جتنا کماتے کم پڑتا۔

    امی پڑھی لکھی تھیں نہ ابو… مگر ہمیں پڑھاتے تھے۔

    اچھے کپڑے نہ ابو پہنتے نہ امی… ہمیں پہناتے تھے۔

    نہ عید مناتے… نہ بقر عید… ہماری عید بنا دیتے۔

    جیسے تیسے کرکے… رات کو ایک ہنڈیا پکتی… ہم مزے سے کھاتے…

    اور امی… بچی ہوئی روٹی دیگچی میں لگا لگا کر کھاتیں۔ کبھی اُن کی یہ حرکت سمجھ میں نہیں آئی۔

    پھر ایک رات… بے روزگاری کے دِنوں میں۔

    اپنی پڑھی لکھی بیوی کو دیگچی میں کھاتے دیکھا۔

    سب سمجھ گیا… اور رو پڑا۔ شکریہ امی…!!!

    ٭…٭…٭

  • آؤ ناشتہ کرلو ۔ بچوں کی کہانیاں

    آؤ ناشتہ کرلو ۔ بچوں کی کہانیاں

    آؤ ناشتہ کرلو

    سارہ قیوم

    پیارے بچو! یہ کہانی ہے چڑیا کے ایک چھوٹے سے بچے کی۔

    امی چڑیا اور ابو چڑے کا ایک منّا سا بیٹا تھا۔ اس کا نام تھا چُنو چِیا۔ وہ بڑا اچھا بچہ تھا۔سکول جاتا ،اپنا ہوم ورک کرتا اور شام کو وقت پر سوجاتا۔ بس اس میں ایک خرابی تھی۔ وہ ناشتہ نہیں کرتا تھا۔

    ”چُنو چِیا” امی آواز دیتیں”آؤ ناشتہ کرلو” چُنو چِیا امی کی پکار سنتے ہی اپنا بستہ اٹھاتا اور یہ جا وہ جا۔

    ابو چڑا روز اس کے لئے نت نئی مزے مزے کی چیزیں لاتے۔ کبھی گندم کے دانے تو کبھی چاول کے دانے۔ کبھی موٹی مکھیاں تو کبھی رس بھرے کیچوے۔ لیکن چُنو چِیا کچھ بھی نہ کھاتا۔ نہ دودھ پیتا نہ ہی روٹی کھاتا۔ بھوکا پیاسا سکول چلا جاتا۔ ایک دن چُنو چِیا صبح سویرے اٹھا۔ 

    ”چُنو چِیا بیٹے!” امی نے پکارا: ”آؤ ناشتہ کرلو۔”

    چُنو چِیا نے جلدی سے اپنابستہ اٹھایا اور سکول کو روانہ ہوگیا۔ بستہ بھاری تھا اور چُنو چِیا منا سا۔ راستہ لمبا تھا اور پیٹ خالی۔اڑتے اڑتے چُنو چِیا کو چکر آنے لگے۔ اس کے پر تھک گئے اور اڑنا مشکل ہوگیا۔ تھوڑی دیر آرام کرنے کے لئے وہ ایک جھاڑی پر بیٹھ گیا۔ اس جھاڑی کے نیچے ایک موٹا سا باگڑ بِلّا لیٹا تھا۔ اس نے جو ایک چڑیا کا بچہ دیکھا تو اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔

    ”آہا۔” اس نے دل میں سوچا: ”چڑیا کے بچے کا نرم نرم گوشت کھانے کا کتنا مزا آئے گا۔”

    باگڑ بِلّا جھاڑی سے نکل آیا۔چُنو چِیا کی نظر اس پر پڑی تو اس نے گھبرا کر اڑ جانا چاہا لیکن اتنی زور کا چکر آیا کہ وہ جھاڑی سے نیچے گر پڑا۔ اتفاق سے اس وقت اوپر سے مینا خالہ اڑتے ہوئے گزررہی تھیں۔ ان کی نظر جو نیچے پڑی تو کیا دیکھتی ہیں کہ باگڑ بِلّا چُنو چِیا پر حملہ کرنے ہی والا ہے۔ 

    انہوں نے وہیں سے ڈبکی لگائی۔ عین جس وقت باگڑ بِلّے نے چُنو چِیا پر حملہ کیا، مینا خالہ چُنو چِیا کو اپنے پنجوں میں دبوچ کر اُڑ گئیں۔ باگڑ بِلّے کے ہاتھ میں صرف چُنو چِیا کا بستہ آیا۔مینا خالہ چُنو چِیا کو سیدھی ڈاکٹر طوطے کے پاس لے کر گئیں۔ ڈاکٹر طوطے نے چُنو چِیا کا معائنہ کیا اور کہا: ”یہ تو بہت کمزور ہے، ناشتہ نہیں کرتا کیا؟” اگلے دن امی چڑیا اور ابو چڑا سوکر اٹھے تو چُنو چِیا بستر میں نہیں تھا۔ ”ارے!” انہوں نے گھبرا کر کہا: ”چُنو چِیا کہاں گیا؟”اتنے میں باورچی خانے سے چُنو چِیا کی آواز آئی: ”امی ابو چُنو” چِیا پکاررہا تھا ”آئو ناشتہ کر لو۔”

     

  • چار موسم – حصّہ دوم – الف نگر

    چار موسم – حصّہ دوم – الف نگر

    چار موسم

    حصّہ دوم

    سارہ قیوم

    نیک دل بُڑھیا کے گھر کے ساتھ ایک بہت بد مزاج بُڑھیا رہتی تھی۔ سب لوگ اُس سے بہت تنگ تھے۔ وہ ہر وقت اپنے پوتوں پوتیوں کو ڈانٹتی رہتی اور گاؤں والوں سے لڑتی رہتی۔ اُس بڑھیا نے اپنی ہمسائی کے گھر دولت کی ریل پیل دیکھی تو حسد سے جل بُھن گئی۔ فوراً نیک دل بُڑھیا کے گھر جا پہنچی اور لگی سوالات کرنے: ”یہ دولت کہاں سے آئی؟ کس نے دی؟ کیوں دی؟”

    نیک دل بُڑھیا خوش دِلی سے سارے سوالوں کے جواب دیے گئی۔ اُس نے بدمزاج بُڑھیا کو جنگل میں ملنے والے چار موسموں کے بارے میں بتایا۔

    ”بھئی اُنہوں نے مجھ سے کچھ سوال پوچھے۔” نیک دل بڑھیا نے کہا: ”بس میں نے اُن سوالوں کے سچ سچ جواب دیے اور اُنہوں نے مجھے یہ دولت تحفے میں دے دی۔” بد مزاج بُڑھیا اسی وقت اٹھی اور جنگل کو چل پڑی۔ دل میں کہتی جاتی تھی: ”میں بھی چار موسموں سے ملوں گی اور اُن کے سوالوں کے جواب دے کر خوب دولت حاصل کروں گی۔” وہ جنگل میں جاکر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئی۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ سفید بالوں والا بُڈّھا آگیا۔ اُس نے بُڑھیا سے پوچھا: ”سردی کا موسم کیسا ہوتا ہے؟”

    بد مزاج بُڑھیا تنک کر بولی: ”بھائی! میں تو سچی بات کہوں گی، بہت ہی برا موسم ہے۔ سردی میں ٹھنڈ سے ہڈیاں تک جم جاتی ہیں۔ نزلہ، زکام، کھانسی، بخار۔ اُف! سو بیماریاں لاتا ہے جاڑا۔ سچ پوچھو تو سردی کا موسم تو ہونا ہی نہیں چاہیے۔”

    بُڈّھے نے اپنی سرد آنکھوں سے بُڑھیا کو گُھورا اور چلا گیا۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ پھولوں والی لڑکی آئی۔ اُس نے پوچھا:

    ”بڑی امّاں، بہار کا موسم کیسا لگتا ہے آپ کو؟” بڑھیانے بے زاری سے کہا: ”بھئی بڑا ہی عجیب موسم ہے۔ مجھے تو سمجھ نہیں آتی ہر کوئی بہار کی تعریف کیوں کرتا ہے؟ پُھولوں کی خوش بُو سے چھینکیں آنے لگتی ہیں۔ بھنورے اور شہد کی مکھیاں بِھنبھناتی پِھرتی ہیں۔ بہت ہی فضول موسم ہے۔” لڑکی اُداس ہوکر چلی گئی۔ فوراً ہی وہاں چمکتے دمکتے بھڑکیلے کپڑے پہنے عورت آن پہنچی اور بڑھیا سے بولی:

    ”بڑی بی! گرمی کا موسم کیسا ہوتا ہے؟”

    بد مزاج بُڑھیا غصہ سے بولی: ”اے لڑکی! کیا چھمّک چھلّو بنی گُھوم رہی ہو؟ کتنے فضول کپڑے پہن رکھے ہیں تم نے۔ بھئی گرمی کے موسم کے بارے میں کون نہیں جانتا کہ کتنا برا موسم ہے؟ جس چیز کو ہاتھ لگاؤ گرم! سر سے لے کر پاؤں تک پسینہ بہتا ہے۔ ہر وقت بس پنکھا ہی جھلتے رہو۔ میں تو کہتی ہوں گرمی کا موسم تو ہونا ہی نہیں چاہیے۔” بھڑکیلے کپڑوں والی عورت نے غصے سے بُڑھیا کو گُھورا اور چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد وہاں غمگین چہرے والا گنجا آدمی آیا۔ اُس نے بُڑھیا سے پوچھا: ”امّاں خزاں کا موسم کیسا ہوتا ہے؟” بڑھیا بولی: ”اے میاں گنجے! خزاں سے برا تو موسم ہی کوئی نہیں۔ سارے درخت پتے جھاڑ کر ٹِنڈ مِنڈ ہوجاتے ہیں۔ جہاں جاؤ وہاں سُوکھے پتے پیروں میں آتے ہیں۔ اِدھر صفائی کرو، اُدھر پھر سے گند پڑجاتا ہے۔ کیا فائدہ خزاں کا؟ یہ موسم تو ہونا ہی نہیں چاہیے۔”

    اِسی وقت چاروں موسم نکل کر سامنے آکھڑے ہوئے بُڑھیا کو ایک گٹھڑی دیتے ہوئے کہا: ”بڑی بی! آپ نے ہمارے سوالوں کے جواب دیئے۔ یہ رہا آپ کا تحفہ…!” بُڑھیا نے خوشی خوشی گٹھڑی اُٹھائی اور اپنے گھر آگئی۔ گھر آکر جب اُس نے گٹھڑی کھولی تو اس سے بے شمار کیڑے مکوڑے، سانپ، بچّھو اور چھپکلیاں نکل کر اُس کے گھر میں پھیل گئے۔ بُڑھیا چیخنے چلاّنے لگی اور موسموں کو کوسنے لگی لیکن اب کیا ہوسکتا تھا۔ بُڑھیا نے اپنی بدمزاجی کا پھل پا لیا تھا۔

    ٭…٭…٭

     

  • چار موسم ۔ حِصّہ  اول ۔ الف نگر

    چار موسم ۔ حِصّہ  اول ۔ الف نگر

    چار موسم

    حِصّہ  اول

    سارہ قیوم

    کسی گاؤں میں ایک نیک دل، سب کی مدد کرنے والی اور ہمیشہ خوش رہنے اور رکھنے والی بُڑھیا رہتی تھی۔ اُس کا ایک غریب بیٹا تھا جس کے بچے ہر وقت دادی کے ساتھ چمٹے رہتے اور نت نئی فرمائشیں کرتے رہتے۔

    ایک بچے نے فرمائش کی: ”دادی اماں! مجھے میٹھا پراٹھا بنا دو۔”

    دوسرا بولا: ”مجھے کھیر بنا دو۔”

    تیسرا ضد کرنے لگا: ”میں تو مرغی کھاؤں گا۔”

    اور اُن کی دیکھا دیکھی باقی بچے بھی ضد کرنے لگے۔ نیک دل بُڑھیا بہت دکھی ہوئی:

    ”ارے میرے بچو!” اُس نے غمگین ہوکر کہا: ”میرے پاس تو کچھ بھی نہیں، تمہاری فرمائشیں کہاں سے پوری کروں؟”

    اُداس ہو کر بُڑھیا جنگل کی طرف چلی گئی اور تھک کر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئی۔ اچانک وہاں ٹھنڈ ہوئی اور درخت کے پیچھے سے سفید بالوں، لمبی داڑھی، سفید لباس والا بوڑھا آدمی نکل آیا۔ نیک دل بُڑھیا نے اُسے سلام کیا۔ بوڑھے آدمی نے اپنی سرد آنکھوں سے اُسے دیکھا اور کہا: ”میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔”

    بُڑھیا بولی: ”ضرور پوچھیے۔”

    بوڑھے آدمی نے پوچھا: ”جاڑا کیسا موسم ہے؟”

    ”ارے واہ کیا بات ہے جاڑے کی۔” بُڑھیا نے خوش ہوکر کہا: ”بہت ہی اچھا موسم ہے۔ سردیوں میں گرم گرم چائے پینے کا کتنا مزا آتا ہے اور رضائی میں بیٹھ کر مونگ پھلی، اخروٹ اور بادام کھانا اچھا لگتا ہے۔ جب میں بچوں کو آگ کے گرد اکٹھا کرکے کہانی سناتی ہوں تو مجھے اتنی خوشی ہوتی ہے کہ مت پوچھو۔” بوڑھا یہ سن کر بہت خوش ہوا۔ اُس نے بڑھیا کو سلام کیا اور چلا گیا۔

    تھوڑی دیر بعد خوش بُو سے جنگل مہک اٹھا اور ایک بہت پیاری لڑکی ہرے رنگ کا لباس اور پھولوں کے زیورات پہنے پھولوں کی ٹوکری لیے بُڑھیا کے سامنے آئی۔

    ”سلام امّاں!” اُس نے نیک دل بُڑھیا سے کہا: ”ایک بات تو بتائیے، یہ بہار کا موسم کیسا ہوتا ہے؟”

    بُڑھیا خوشی سے کِھل اٹھی اور چہک کر بولی: ”بہار کا موسم تو میری جان ہے۔ نہ گرمی نہ سردی، درختوں پر نئے پتے آتے ہیں۔ ہر طرف پُھول ہی پُھول کِھل اُٹھتے ہیں۔ بڑی پیاری ہوا چلنے لگتی ہے۔ بہار تو بہت ہی خوب صورت موسم ہے۔”

    لڑکی شکریہ ادا کرکے گئی تو وہاں ایک عورت تیز پیلے رنگ کے لباس میں سامنے آگئی اور پوچھا۔ ”اے اماں! یہ تو بتاؤ گرمی کا موسم کیسا ہوتا ہے؟”

    گرمی کی وجہ سے بُڑھیا نے ہاتھ سے پنکھا جھلتے ہوئے کہا: ”بہت اچھا موسم ہوتا ہے بیٹی! ہم ٹھنڈا ٹھنڈا شربت پیتے ہیں۔ آئس کریم کھاتے ہیں۔ گرمی اپنے ساتھ کتنے مزے دار پھل لاتی ہے۔ آم، تربوز، آڑو اور آلو بخارہ۔ ارے واہ واہ! کیا بات ہے گرمی کی۔”

    وہ سلام کرکے چلی گئی تو ایک گنجا، غمگین شکل والا آدمی بھورے رنگ کے کپڑے پہنے درختوں کے پتے گراتا ہوا وہاں آن پہنچا۔ وہ قریب آکر بولا: ”بڑی بی! آپ کو خزاں کا موسم کیسا لگتا ہے؟”

    بڑھیا نے سمجھ داری سے کہا: ”خزاں بڑا فائدہ مند موسم ہے۔ سب پرانے پتے جھڑ جاتے ہیں تاکہ نئے پتے نکل سکیں۔ لوگوں کو گرمیوں کے کپڑے رکھنے اور کمبل لحاف نکالنے کا وقت مل جاتا ہے۔ بھئی بہت اچھا ہے موسمِ خزاں۔”

    اِس کے بعد وہ چاروں نکل کر سامنے آگئے اور بڑھیا سے کہا: ”امّاں! ہم چار موسم ہیں۔ یہ سفید بالوں والا جاڑا ہے۔ پھولوں والی لڑکی بہار، یہ عورت گرمی اور میں خزاں ہوں۔ آج ہم میں جھگڑا ہوگیا کہ کون سا موسم سب سے اچھا ہے۔ پھر ہمیں آپ آتی دکھائی دیں۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ آپ سے پوچھا جائے۔ آپ نے ہمیں ہماری اتنی خوبیاں بتائیں۔ ہمیں پتا چل گیا کہ سارے ہی موسم اچھے ہوتے ہیں۔ آپ کی باتوں سے ہم بہت خوش ہوئے۔ اب آپ ہماری طرف سے کچھ تحفے قبول فرمائیے۔”

    موسموں نے نیک دل بُڑھیا کو بڑا سا صندوق دیا۔ بُڑھیا شکریہ ادا کرکے خوشی خوشی واپس چلی آئی۔ صندوق میں اتنے ہیرے، جواہرات اور موتی تھے کہ اُن کو بیچ کر اب وہ بچوں کی سب

    فرمائشیں پوری کرسکتی تھی۔

     

  • بلوچستان کی لوک کہانی ۔ سُنہری برتن ۔ لوک کہانی

    بلوچستان کی لوک کہانی

    سُنہری برتن

    ساجدہ غلام محمد

    جنوبی پنجاب کے ضلع لیہ میں پیدا ہونے والی ساجدہ غلام محمد آج کل مانچسٹر (انگلینڈ) میں اپنی فیملی کے ساتھ مقیم ہیں۔ اس صدی کے اوائل سے انہوں نے لکھنے کا آغاز بچوں کے رسائل سے کیا۔ ماہنامہ پھول میں ایک عرصہ تک اپنی بہن ڈاکٹر زاہدہ پروین کے کے ساتھ قلم کے جوہر دکھاتی رہیں۔ بڑوں کے لیے بھی خوب لکھا۔ فکشن ان کا پسندیدہ میدان ہے۔ ”زندگی اک تشنگی” ان کا مقبول ناول جس کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں، تقریباً سو کے قریب کہانیاں بچوں کے مختلف رسائل میں چھپ چکی ہیں۔ الف نگر اور الف کتاب کے لیے مستقل لکھنے والوں میں ان کا نام شامل ہے۔

    صدیوں پرانی بات ہے، بلوچستان میں دریائے بولان کے کنارے ایک بہت بڑا شہر آباد تھا۔ اُس شہر کا اصل نام تو نہ جانے کیا ہوگا، لیکن آج کے زمانے میں اسے ‘مہر گڑھ’ کہا جاتا ہے۔

    مہر گڑھ میں ایک نو سال کا بچہ فنامہ اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کے والدبہت مہارت سے لوہے کے اوزار بناتے اور لوگ اُن سے یہ اوزار خریدتے تھے۔ انہوں نے فنامہ کو بھی مٹی کا ایک خوب صورت سا بیل بنا کر دیا جس سے وہ سارا دن کھیلتا رہتا۔

    ایک دن اچانک فنامہ کے والد بیمار ہوئے اور کچھ ہی روز بعد دنیا سے رخصت ہوگئے۔ فنامہ تو ابھی چھوٹا تھا اور اس کی والدہ کو بھی علم نہ تھا کہ اوزار کیسے بنائے جاتے ہیں۔ رفتہ رفتہ گھر میں کھانے پینے کا سامان ختم ہونے لگا۔ نوبت یہاں تک آپہنچی کہ اُن کے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ بچا۔

    ”ہمیں بھوک لگی ہے لیکن کھانے کو کچھ نہیں، میں ایسا کرتا ہوں کہ اپنا یہ کھلونا بیل بیچ دیتا ہوں۔” فنامہ نے اداسی سے سوچا اور چپکے سے کھلونا بیل اپنے کپڑوں میں چھپا کر گھر سے نکل گیا۔ اس کی ماں کو اس بات کا علم نہ ہوا۔

    ”میرا بیل خریدلو، بہت خوب صورت ہے۔” فنامہ نے بازار میں کھڑے ہو کر آواز لگائی لیکن کسی نے توجہ نہ دی۔

    ”یہ میرے والد نے خاص طور پر میرے لیے بنایا تھا، پکی مٹی کا ہے۔ مجھے پیسوں کی ضرورت ہے، یہ بیل خرید لو!” وہ آواز لگاتا رہا۔

    ”یہ ہمارے کس کام کا؟” لوگ اس کے پاس رک کر کچھ دیر کھلونے کو دیکھتے پھر آگے بڑھ جاتے۔ صبح سے شام ہوگئی لیکن کسی نے بھی کھلونا بیل نہ خریدا۔ فنامہ نے بہت دکھی دل سے اپنا کھلونا اٹھایا اور اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔

    ”اے لڑکے! بات سنو۔” اچانک کسی نے اُسے بلایا۔ فنامہ نے سر اُٹھا کر دیکھا تو ایک بڑھیا درخت کے نیچے کھڑی تھی۔

    ”جی امّاں جی!” فنامہ نے بڑھیا کے قریب جاکرنرمی سے پوچھا۔

    ”میں نے اپنی نواسی کے لیے موٹی سیپیوںوالا بہت پیارا سا ہار بنایا تھا۔ اب اُسے دینے جا رہی تھی کہ راستے میں وہ ٹوٹ گیا۔ میری نظر کمزور ہے، مجھے تو تھوڑی سی سیپیاں نظر آئیں جو میں نے اُٹھا لیں۔ اگر تم میری مدد کر سکو تو بہت مہربانی ہوگی۔” فنامہ کا دل چاہا کہ بڑھیا کو انکار کر دے۔

    ”میں بھی تو صبح سے بازار میں کھڑا رہا، کسی نے میری مدد نہیں کی، میں کیوں اس کی مدد کروں؟” اس کے دل میںخیال آیا، لیکن پھر فوراََ ہی اُسے اپنے والد کا جملہ یاد آگیا: ”ہمیشہ دوسروں کی مدد کرنا، کبھی کسی کو انکار مت کرنا۔” فنامہ نے دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ بڑھیا کو دیکھا۔

    ”ٹھیک ہے، باقی کے سیپ میں آپ کو ڈھونڈ دیتا ہوں۔” فنامہ درخت کے آس پاس زمین پر سیپیاں چننے لگا۔ کچھ ہی دیر میں اس نے سیپیاں چُن کر بڑھیا کی طرف بڑھائیں۔

    ”یہ لیں، میں نے ساری سیپیاں اُٹھا لی ہیں۔” فنامہ نے بڑھیا سے کہا۔

    ”بیٹا! تمہارا بہت بہت شکریہ! تم بہت اچھے بچے ہو۔ تم نے میری مدد کی، اس کے بدلے میں تمہیں ایک تحفہ دیتی ہوں۔” بڑھیا نے سیپیاںتھام کر کالے رنگ کی تھیلی سے سنہری رنگ کا ایک گول سا برتن نکال کرفنامہ کی جانب بڑھایا جس پر نقش و نگار کے ساتھ اُونٹ کی تصویر بنی ہوئی تھی۔

    ”امّاں جی! میرے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں، تو اِس برتن کا میں کیا کروں گا؟” فنامہ نے حیرت سے کہا۔

    ”اسی لیے تو میں یہ برتن دے رہی ہوں، یہ ایک جادُوئی برتن ہے۔ جب بھی تمہیں بھوک لگے، تم برتن کو اپنے دونوں ہاتھوں سے ڈھانپ کرچار بار گہری سانس لینا، اس برتن میں تمہارا من پسند کھانا آ جائے گا۔” فنامہ کو بڑھیا کی بات سن کر بڑی حیرت ہوئی۔

    ”کیا واقعی؟ ایسا ہو سکتا ہے؟” اُس نے پوچھا۔

    ”بالکل ایسا ہی ہو گا، بس شرط یہ ہے کہ اس دوران جو بھی ضرورت مند تمہارے گھر آئے، تم اُسے بھی کھانا۔ اب یہ برتن پکڑو، مجھے دیر ہورہی ہے۔” اتنا کہہ کر بڑھیا لاٹھی ٹیکتی ہوئی ایک جانب چل دی۔

    فنامہ ایک ہاتھ میں برتن اور دوسرے ہاتھ میں اپنا کھلونا بیل تھامے گھر پہنچا تو ماں کو اپنا منتظر پایا۔ وہ بہت پریشان تھی، فنامہ نے آگے بڑھ کر فوراً ساری بات ماں کو بتادی۔

    ”چلو! تجربہ کر کے دیکھتے ہیں، اگر برتن میںکھانا نہ آیا تو اِسے پھینک دیں گے یا بیچ دیں گے۔” ماں نے کہا تو فنامہ نے برتن کو فرش پر رکھ کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اُس کے منہ کو ڈھانپا اور چار بار گہری سانس لی۔ یکایک کمرے میں مزے دار سی خوش بو پھیل گئی۔ فنامہ نے جلدی سے ہاتھ ہٹائے تو برتن کے اندر اس کا من پسند کھانا آچکا تھا۔ ماں بیٹے نے حیرت اور خوشی سے کھانا کھایا اور تھوڑا سا کھانا چڑیا کو ڈال دیا جس نے ان کے گھر درخت پر گھونسلا بنا رکھا تھا۔

    اب اُن کے دن آرام سے گزرنے لگے۔ کھانے کی کوئی فکر نہیں تھی۔ جب بھی بھوک لگتی، فنامہ برتن کو ہاتھوں سے ڈھانپ کر چار بار گہری سانس لیتا تو فوراََ ہی برتن میں کھانا آجاتا۔ یہ اتفاق تھا یا کچھ اور جب بھی ایسا کچھ ہوتا تو اُن کے گھر کوئی نہ کوئی پرندہ یا جانور ضرور آ جاتا اور فنامہ اسے بھی کھانا ڈال دیتا۔ وہ بڑھیا کی بات کو بھولا نہیں تھا۔ لوگ حیران ہوتے کہ فنامہ یا اُس کی ماں کچھ کام تو کرتے نہیں، لیکن ان کا گزارا کیسے ہو رہا ہے؟

    دن یوں ہی گزرتے گئے۔ اب فنامہ نے بھی اوزار بنانا سیکھ لیے تھے۔ اگرچہ ابھی زیادہ مہارت نہ تھی لیکن وہ محنت سے کام کرتا تھا۔

    ایک دن فنامہ کام سے واپس آیا تو بہت تھکا ہوا تھا۔ بھوک بھی بہت زیادہ تھی۔ اُس نے سنہری برتن نکالا اور ہاتھوں سے ڈھانپ کر چار بار گہری سانس لی۔ برتن میں کھانا تیار تھا۔ فنامہ مسکراتے ہوئے ابھی کھانے ہی لگا تھا کہ ایک بلی آگئی۔

    ”میاؤں!” بلی نے اپنی آمد کی اطلاع دی۔

    ”آ جاؤ آجاؤ، بہت کھانا پڑا ہے۔” فنامہ نے اس کی طرف دیکھا تو بلی تیزی سے چھلانگ لگا کر اُس کے پاس آنے لگی لیکن وہ دیوار پر توازن برقرار نہ رکھ پائی اور جب اِدھر اُدھر پاؤں مارے تو اس کی دُم فنامہ کے کھلونے سے ٹکرا گئی۔ کھلونا بیل اونچائی سے گرا اور ٹکڑوں میں بکھر گیا۔ فنامہ نے غصے سے اپنے پسندیدہ کھلونے کے ٹکڑوں کو دیکھا۔

    ”اوہ! یہ کیا کر دیا تم نے؟” وہ غصے سے چِلّایا پھر اُس نے بلی کو کھانا دینے کے بجائے ایک پتھر زور سے اس کی طرف پھینکا جو بلی کے سر پر لگا۔ وہ بے چاری ”چیاؤں” کرتی ہوئی وہاں سے بھاگ نکلی۔

    ”میرا پسندیدہ کھلونا توڑ دیا!” فنامہ نے افسوس اور غصے سے کھلونے کے ٹکڑے اُٹھائے اور برتن کے قریب لا کر زمین پر رکھ دیے۔ اُس کا ارادہ تھا کہ کھانا کھانے کے بعد انہیں دوبارہ جوڑنے کی کوشش کرے گا۔ اب کھانا لینے کے لیے اُس نے برتن میں ہاتھ ڈالا لیکن یہ کیا! برتن تو خالی تھا! فنامہ نے گھبرا کر دونوں ہاتھ برتن کے منہ پر رکھ کر چار بار گہری سانس لی اور دوبارہ برتن میں جھانکا۔ وہ ابھی بھی خالی تھا۔ فنامہ کا غصہ پریشانی میں بدل گیا۔ اس نے بلی کو کھانا دینے کے بجائے اسے پتھر مار کر بھگایا تھا، اس لیے برتن کا جادُو بھی ختم ہو گیا تھا۔

    فنامہ اور اُس کی ماں کچھ دن تو کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح برتن کا جادُوئی اثر واپس آ جائے لیکن بے سود۔انہوں نے اِسے بیچنے کی بھی کوشش کی لیکن کسی نے نہ خریدا۔ آخر تنگ آ کر انہوں نے اسے دریا کے کنارے پھینک دیا اور خود محنت کر کے گزر بسر کرنے لگے۔ 

    قارئین! صدیوں تک وہ جادوئی برتن وہیں دریا کنارے پڑا رہا۔ رفتہ رفتہ اسے ریت اور مٹی نے ڈھانپ لیا۔ کچھ سال بعد آنے والے سیلاب نے اسے دنیا کی نظروں سے اوجھل کر دیا۔ کئی صدیاں گزر گئیں۔ آج سے کچھ عرصہ قبل ماہرینِ آثارِقدیمہ نے مہر گڑھ کی باقیات کو دریافت کیا تو انہیں یہ برتن بھی ملا جو اس وقت صوبہ بلوچستان کے ضلع کچھی میں ”مہر گڑھ میوزیم” میںمہر گڑھ کی باقیات کے ساتھ رکھا ہوا ہے۔کیا خبر کسی دن اُس میں جادُوئی طاقت لوٹ آئے۔

    ٭…٭…٭

  • پشتون لوک ادب سے ماخوذ ۔ تورا بان دیو ۔ لوک کہانی

    پشتون لوک ادب سے ماخوذ ۔ تورا بان دیو ۔ لوک کہانی

    پشتون لوک ادب سے ماخوذ

    تورا بان دیو

    گلِ ارباب

    مشہور کردار ”تورا بان دیو” کی دل چسپ کہانی!

    اونچے پہاڑوں اور سر سبز درختوں کے جھنڈ میں موجود اس بستی میں آج خوف اور دہشت کا راج تھا۔ مائیں ننھے منے بچوں کو سینے سے لگائے سلانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ بوڑھے اور جوان مرد اپنے ہاتھوں میں لکڑی کے ڈنڈے پکڑے سنہری پہاڑ سے نکلتے سفید دھوئیں کو دیکھ رہے تھے۔ تورا بان دیو ہر مہینے کی چودہ تاریخ کو اسی دھوئیں میں سے نکل کر بستی میں آتا تھا۔ جب وہ آدم بُو آدم بُو کرتا بستی کے گھروں میں جھانکتا تب ماؤں کے دل سینے میں یوں پھڑپھڑانے لگتے جیسے بلی کے پنجوں میں کبوتر پھڑپھڑاتا ہے۔

    تورا بان دیو کا جسم پہاڑ جیسا مضبوط اور قد شاہ بلوط کے پیڑ جتنا اونچا تھا۔ اُس کے دانت بہت لمبے اور سفید تھے لیکن ان پر سرخ دھبے صاف نظر آتے تھے۔ آج بھی وہ پہاڑوں سے نکلا اور اب بستی کے ہر گھر میں جھانکتے ہوئے آدم بُو آدم بُو کرتا اپنے شکار کی تلاش میں تھا۔

    کنال، گوتم اور اشوک یہ تینوں بھائی دیوار کے ساتھ چپکے ہوئے تھے۔ ظالم دیو نے دیکھا تینوں بہت صحت مند ہیں تو اس نے ہاتھ بڑھا کر اُنہیں اٹھا لیا اور اپنے دانت کچکچاتے ہوئے واپس ہونے لگا۔ تینوں بچے چیخ رہے تھے۔ بستی کے لوگ گھروں سے نکل کر ان کے ماں باپ کو تسلی دینے لگے۔ بچوں کے والدین نے بہت شور مچایا۔ پتھروں اور ڈنڈوں سے دیو کو مارنے کی کوشش کی، لیکن اس کے بھاری وجود پر صرف اتنا اثر ہوا جتنا انسان کے کان پر جوں رینگنے کا ہوتا ہے۔ وہ قہقہے لگاتا ہوا تینوں بھائیوں کو گردن سے پکڑ کر پہاڑوں میں چلا گیا۔

    تینوں میں کنال بہت بہادر، گوتم چالاک اور اشوک بہت خوب صورت تھا، لیکن اُن کی خوب صورتی چالاکی اور بہادری اس وقت کسی کام کی نہ تھی۔ انہیں اپنی موت سامنے نظر آ رہی تھی۔ تورا بان دیو نے انہیں ایک بڑے کمرے میں قید کر دیا۔ اسی کمرے میں نمک مرچ کی بڑی بڑی بوریاں بھی پڑی ہوئی تھیں۔

    ”ہاہاہا… کل دوپہر کو میں تمہاے اوپر نمک، مرچ، مسالا چھڑک کر ایک ایک کو کچا چبا جاؤں گا۔ گوتم اور اشوک سہم کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے، جب کہ کنال بہادری سے سینہ تان کر تورا بان کو گھور رہا تھا۔

    دیو ہنستا ہوا باہر نکلا تو تینوں سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ ”تم لوگ فکر نہ کرو ہم اس ظالم دیو کی قید سے رہائی پا لیں گے۔” کنال نے کہا تو گوتم اور اشوک بھی سوچنے لگے کہ یہاں سے کیسے نکلا جائے؟

    اسی وقت بھاری جادوئی دروازہ کھلا اور ایک سنہرے بالوں والی خوب صورت لڑکی تین نوکروں کے ساتھ اندر آگئی۔ اُن کے ہاتھوں میں طرح طرح کے کھانوں کے تھال تھے۔

    ”میں اس محل کی شہزادی ہوں، میرا نام تانیا ہے۔ تورا بان دیو میرا مالک ہے۔ یہ کھانا اس لیے ہے کہ تم لوگ اسے کھا کر میرے مالک کی خوراک بننے کے لیے کچھ اور بھی صحت مند ہوجائو۔” شہزادی کی آواز بہت میٹھی لیکن بات بہت کڑوی تھی۔ چالاک گوتم نے اک منصوبہ بنا کر اُس سے پوچھا: ”اے پیاری شہزادی! آپ کا مالک تو اتنا بد صورت اور خطرناک شکل و صورت والا ہے جب کہ آپ پریوں کی ملکہ لگتی ہو۔”

    وہ خوش ہوکر بولی: ”ہاں اے اجنبی لڑکے! یہ سچ ہے لیکن اُس نے مجھے پالا ہے۔ وہ میرے باپ کو قتل کر کے مجھے اور میری ماں جینا پری کو زبردستی محل سے اٹھا لایا تھا پھر وہ میری ماں کو شادی کے لیے مجبور کرتا رہا۔ میری ماں نے اپنے شوہر، محل، ماں باپ اور سہیلیوں کے غم میں موت کو گلے لگا لیا۔ تب تورا بان دیو نے میری پرورش بہت سخت انداز میں کی اور میری خوب صورتی دیکھ کر مجھے اس محل کی شہزادی بنا دیا۔” شہزادی کی داستان سن کر گوتم نے جلدی سے پوچھا: ”شہزادی صاحبہ! کیا آپ کو محل سے نکلنے کی اجازت ہے؟” شہزادی تانیا کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ روتے ہوئے بولی:

    ”اے اجنبی لڑکے! میں جب سے یہاں آئی ہوں آج تک اس محل سے باہر نہیں نکلی۔ محل کی دیواریں فلک بوس ہیں اور میں کمزور سی لڑکی۔” شہزادی اُداس ہوگئی تھی ۔ ”اچھا اب زیادہ باتیں نہ کرو اور کھانا کھا لو ورنہ مالک مجھ سے ناراض ہو کر سزا دیں گے۔” یہ کہہ کر شہزادی اور اس کے نوکر واپس چلے گئے۔

    وہ تینوں بھائی سر جوڑے باہر نکلنے کے منصوبے بنا رہے تھے کہ دو کنیزیں ہاتھوں میں پھلوں اور میٹھے کے تھا ل لے کر حاضر ہوگئیں۔ انہیں دیکھ کر خوب صورت بھائی اشوک نے چالاک بھائی گوتم کے اشارے پر رونا شروع کردیا اور باقی دو اسے تسلی دینے لگے۔

    ”مجھے اس خوب صورت شہزادی کی یاد ستا رہی ہے جو تورا بان دیو کی خاص شہزادی ہے۔ میں نے اتنی حسِین شہزادی زندگی میں نہیں دیکھی۔” کنیزوں نے واپس جا کر سارا ماجرا شہزادی تانیا کو سنا دیا۔ شہزادی بہت متاثر ہوئی اور تورا بان دیو کی نظروں سے چھپ کر رات کو اُن سے ملنے آگئی۔

    اشوک نے خوشی کا اظہار کیا تو شہزادی اُداس ہوکر بولی: ”اے اجنبی آدم زاد! مجھے افسوس ہے کہ تم لوگ میرے مالک کی خوراک بننے والے ہو، تم سے پہلے بھی ہر مہینے صحت مند اور خوب صورت آدم زاد میرے مالک کی خوراک بنے ہیں، لیکن کبھی اتنا دکھ نہیں ہوا جتنا آج ہو رہا ہے۔”

    گوتم نے کہا: ”اے خوب صورت شہزادی! میرے پاس ایک منصوبہ ہے۔ اگر تم ہمارا ساتھ دو تو سب کی جان بچ سکتی ہے اور ہم تمہیں بھی اس محل سے رہا کرا سکتے ہیں۔” شہزادی کچھ دیر سوچ کر اُن کی مدد کے لیے راضی ہوگئی لیکن اس نے تینوں بھائیوں کو بتایا کہ تورا بان دیو کو مارنا اُن کے بس کی بات نہیں ہے کیوں کہ اس کی جان ایک طوطے میں ہے۔ وہ طوطا سات سمندر پار تورا بان کے خفیہ محل میں بند ہے۔ البتہ اس وقت تم سب کو اس قید سے نجات تورا بان کو گرا دینے سے بھی مل سکتی ہے، کیوں کہ یہ اتنا بھاری بھرکم ہے کہ اگر ایک دفعہ زمین پر گر گیا تو پھر اُٹھ نہیں سکتا، ایک بار یہاں سے نکلو پھر میں تم لوگوں کو اس طوطے تک پہنچنے کا طریقہ بتا دوں گی۔” تینوں بہت خوش تھے کہ زندگی بچنے کی امید پیدا ہوگئی ہے ۔

    دوسری صبح شہزادی نے اپنی کنیزوں سے کہا: ”تورابان مالک اس بار آدم زاد کو کچا نہیں کھائیں گے بلکہ مکھن میں تل کر کھانا چاہتے ہیں۔ اس لیے مکھن کی چاٹیاں قید خانے میں رکھوا دو۔” انہوں نے حکم کی تعمیل کی ۔

    دوپہر کو جب تورا بان دیو بھوک سے بے تاب ہو کر تہ خانے میں داخل ہوا تو گوتم نے چالاکی دکھاتے ہوئے چاٹی سے مکھن نکال کر زمین پر گرا دیا۔ مکھن سے تورا بان کا پاؤں پھسلا اور وہ دھڑام سے زمین پر گر گیا۔ دیو کے گرتے ہی سارا محل یوں ہلنے لگا جیسے بھونچال آگیا ہو ۔

    تورا بان کی آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے، لیکن اس سے پہلے کہ یہ شعلے انہیں جلاتے، بہادر کنال چلّایا: ”جلدی کرو۔” پھر تینوں بھائیوں نے قریب پڑی بوریوں سے نمک اور مرچوں کی مٹھیاں بھر بھر کر اُس کی آنکھوں میں ڈالنا شروع کر دیں۔ دیو اتنا بھاری تھا کہ اسے زمین سے اٹھانے کے لیے بہت سارے جنّوں کو بلانا ضروری تھا۔ اس نے اپنی آنکھوں کی تکلیف سے تڑپ کر غلاموں اور کنیزوں کو پکارنا شروع کر دیا، لیکن وہ سب اس ظالم سے اتنا تنگ تھے کہ کوئی اس کی مدد کو نہ آیا۔ بہادر کنال نے کہا: ”اے ظالم دیو: تم انسانوں پر ظلم کرتے رہے ہو اور جنات بھی تم سے تنگ ہیں۔ تمہاری سزا یہ ہے کہ اس قید خانے میں بند رہو اور بھوکے پیاسے تڑپ تڑپ کر مر جاؤ۔”

    دیو نے قہقہہ لگا کر کہا: ”اے بے وقوف آدم زادو! تم لوگ مجھے کسی صورت نہیں مار سکتے، جب تک کہ اس طوطے کو نہ مارو گے جس میں میری جان ہے۔”

    تینوں بھائیوں نے یک زبان ہو کر عزم کیا کہ ہم تمہاری جان اس طوطے سے ضرور نکالیں گے اور ہماری مدد ہمارا مالک کرے گا۔”

    تورا بان دیو کے زمین پر گرنے سے اس کے جادو کا محل ٹوٹ کر بکھرنے لگا تھا۔ شہزادی تانیا نے کنیزوں اور غلاموں کو آزاد کر دیا اور خود خوب صورت بھائی اشوک کا ہاتھ پکڑ کر آدم زادوں کی دنیا کی جانب روانہ ہوگئی ۔

    ٭…٭…٭

  • وہ کون تھا؟ ۔ نانگا پربت کی لوک کہانی

    وہ کون تھا؟ ۔ نانگا پربت کی لوک کہانی

    نانگا پربت کی لوک کہانی

    وہ کون تھا؟

    زرین قمر

    ”یہ کہانی زیادہ پرانی نہیں، لیکن پھر بھی اسے کئی سال بیت چکے ہیں۔ ان دنوں ہوائی جہاز اتنے عام تھے نہ جدید۔ بلتستان میں کوہ پیمائی کے لیے ہندوستان کے اندر اور باہر سے چند لوگ وادی میں پہنچے۔ وہ نانگا پربت کی چوٹی پر جانا چاہتے تھے۔ تمام حفاظتی سامان سے لیس وہ اپنے استاد کے ساتھ وادی سے روانہ ہوئے جہاں سے پہاڑ پر چڑھائی کا مرحلہ شروع ہونا تھا۔

    پہاڑوں پر جگہ جگہ برف جمی ہوئی تھی۔ سب اسکاؤٹس اپنے استاد شیر دل کے ساتھ کوہ پیمائی کرتے ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں جنگلی درخت خاصی تعداد میں تھے اور وہاں پہاڑوں سے بہ کر آنے والی ندی گزر رہی تھی۔ وہ کئی گھنٹے چلنے کے بعد کچھ تھکن محسوس کرنے لگے۔ چناں چہ کچھ دیر آرام کی غرض سے اسی جگہ بیٹھ گئے۔ اچانک شیر دل کی نظر دور ایک وجود پر پڑی جو برف میں دھنسا ہوا تھا۔

    ”تم سب رکو، میں ابھی آتا ہوں۔” استاد شیر دل جلدی سے اس طرف لپکا۔ اس نے قریب پہنچ کر برف میں دھنسے اس انسانی وجود کو چُھوا جو زندہ تھا پھر ڈرتے ڈرتے اسے مخاطب کیا:

    ”تم… تم کون ہو؟” شیر دل کو دیکھ کر وہ اجنبی اُٹھ بیٹھا۔ اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔ اس کا خاکی لباس جگہ جگہ سے پھٹا ہوا تھا۔

    ”اے دوست! تم کون ہو؟” شیر دل نے ایک بار پھر پوچھا۔ وہ اجنبی اب خالی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔

    ”میرا خیال ہے تم کوہ پیما نہیں ہو؟ کیا راستہ بھول گئے ہو؟” شیر دل نے اس کے چہرے سے برف کے ذرّات ہٹاتے ہوئے پوچھا۔

    ”مم… میرا خیال بھی یہی ہے، یہ کون سی جگہ ہے؟” اجنبی نے یوں کہا جیسے وہ نیند میں بول رہا ہو۔

    ”ہم اس وقت نانگا پربت پر ہیں اور اس قاتل پہاڑ (Killer Mountain) کو عبور کرنا چاہتے ہیں۔” شیر دل نے کہا۔

    ”کلر ماؤنٹین؟” اجنبی نے یوں دہرایا جیسے کچھ یاد کرنے کی کوشش کررہا۔

    ”ویسے تم یہاں کیا کررہے تھے؟ اور برف میں کیسے پھنس گئے؟” شیر دل نے اجنبی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔

    ”مجھے کچھ پتا نہیں۔” اجنبی نے جواب دیا۔

    ”اوہ! کیا تم اکیلے ہو؟” شیر دل نے دوبارہ پوچھا۔

    ”شاید… شاید میں اکیلا ہی ہوں۔” اُس نے مبہم سا جواب دیا۔ اس بار اُس کی نظریں اسکاؤٹس کے گروپ پر تھیں جو ندی سے اپنے ترماس میں پانی بھرتے ہوئے آپس میں مذاق کررہے تھے۔

    ”تمہارے پاس کھانے پینے کو کچھ ہے؟” شیر دل نے پوچھا۔

    ”نہیں، کچھ نہیں ہے۔” اس نے مختصر جواب دیا جس پر شیر دل کو حیرت ہوئی۔

    ”تمہارا نام کیا ہے؟” شیر دل نے پوچھا۔

    ”احمد علی… احمد علی اوستم ہے میرا نام۔” اس نے جواب دیا۔

    ”اوستم! میرا نام شیر دل ہے۔ تمہاری طبیعت مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی، تم چاہو تو ہمارے ساتھ چل سکتے ہو۔” شیر دل نے اسے پیشکش کی۔

    ”تم کہاں جارہے ہو؟” اوستم نے پوچھا۔

    ”ہم اس چوٹی کو سر کرنے آئے ہیں، اگر تم ہمارے ساتھ چلو تو ہم تمہیں اس پہاڑ کے دوسری جانب بنے رینجر اسٹیشن تک چھوڑ سکتے ہیں۔” شیر دل کو اس کی حالت پر ترس آرہا تھا۔

    ”ہم وہاں کب تک پہنچیں گے؟” اوستم نے پوچھا۔

    ”کل سہ پہر تک۔” شیر دل نے مسکراتے ہوئے کہا تو اوستم لاچارگی سے اُسے دیکھنے لگا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ شہری آبادی یہاں سے کتنی دور ہے اور بغیر خوراک کے کب تک گزارا کرسکے گا۔

    ”ٹھیک ہے۔” اس نے کچھ دیر سوچنے کے بعد مجبوراً منہ کھولا۔

    ”چلو… آگے چلتے ہیں۔” شیر دل نے اُسے ساتھ لیا اور اپنے ساتھیوں سے جا ملا۔ اب سبھی اونچی چٹانوں پر آگے بڑھنے لگے۔ اوستم بھی ان کے پیچھے پیچھے تھا۔ اس کے ذہن میں بار بار کلر ماؤنٹین، کلر ماؤٹین کے الفاظ گونج رہے تھے اور وہ بار بار ہلکی آواز میں انہیں دہرا رہا تھا۔ شیر دل کا پورا دھیان اس کی طرف تھا۔

    کچھ دور چلنے کے بعد وہ دو پہاڑیوں کے درمیان تنگ سے راستے میں داخل ہوگئے۔ اب پہاڑیوں پر جمی برف کی تہ موٹی ہوتی جارہی تھی۔ پائن کے اونچے اونچے درخت سر اٹھائے کھڑے تھے۔ ہوا میں خنکی بڑھ گئی تھی۔ کئی گھنٹے مسلسل چلنے کے بعد شیر دل نے اسکاؤٹس کو رکنے کا اشارہ کیا۔

    ”آپ سبھی لوگ تھوڑی دیر آرام کر لیں کیوں کہ یہاں سے آگے کئی بل دار پگڈنڈیاں ہیں۔ راستہ دشوارہو گا۔”

    ”اوکے سر!” ایک اسکاؤٹ نے جواب دیا۔ پھر وہ اپنے تھرماس اور بوتلوں سے پانی پینے لگے تھے۔

    ”بہت زیادہ پانی مت پیو، تمہارے پیٹ میں مروڑ شروع ہوجائیں گے۔” شیر دل نے انہیں تنبیہہ کی۔

    بے تحاشا سرد موسم کے باوجود شیر دل کے ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھر آئے۔ یہ دیکھ کر اوستم نے اپنی جیب سے نیلے رنگ کا رومال نکالا اور خاموشی سے اس کی طرف بڑھایا۔

    ”میرا خیال ہے میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور کوہ پیمائی اب مجھے تھکا دیتی ہے۔” شیر دل نے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا پھر اس نے شکریہ کہہ کر رومال واپس اوستم کو دے دیا۔ کچھ لمحوں بعد شیردل نے ایک گھونٹ پانی پیا اور تھرماس اوستم کی طرف بڑھایا لیکن اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔ شیر دل نے نوٹ کیا کہ اسے پیاس محسوس ہوئی اور نہ وہ تھکا ہوا لگ رہا تھا، البتہ بیمار ضرور تھا۔

    ”کیا تم تھکے نہیں ہو؟” شیر دل نے حیرت سے پوچھا۔

    ”میں ٹھیک ہوں۔” اوستم نے کہا۔

    ”اس کا مطلب ہے تم مجھ سے بہتر ہو، دراصل میں نے ان اسکاؤٹس کے ساتھ خاصی کوہ پیمائی کی ہے، اسی لیے تھک گیا ہوں۔” شیر دل نے ہنستے ہوئے کہا پھر وہ دوبارہ اوستم کو مخاطب کرنے لگا:

    ”سنو! تم نے کبھی کوہ پیمائی کی ہے؟” اس نے ایک پتھر پر بیٹھتے ہوئے کہا تو اوستم کچھ یاد کرنے کی کوشش کرنے لگا۔

    ”مجھے یاد پڑتا ہے کہ میری بیوی اور ایک بچہ تھا۔” اُس نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا تو سب حیران رہ گئے۔

    ”ہم اس بچے کا نام محمد علی رکھنے والے تھے۔” اس نے پھر کہا۔

    ”رکھنے والے تھے؟ کیا مطلب؟” شیر دل نے مزید حیرت سے پوچھا۔

    ”جب وہ پیدا ہوا تو میں اُن کے ساتھ نہیں تھا۔” اوستم کے لہجے میں دکھ اور مایوسی تھی۔ اس نے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا جیسے کسی دردناک حادثے کو یاد کررہا ہو۔

    ”اوستم… اوستم سنو!” شیر دل نے اسے پکارا لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کی بے چینی برقرار تھی۔

    ”اوستم! سنو میں تم سے بات کررہا ہوں۔” شیر دل نے اپنا ہاتھ اس کے چہرے کے سامنے لہراتے ہوئے کہا۔ تمام کوہ پیما اُس کی حالت دیکھ کر دائرے کی صورت میں اس کے اردگرد جمع ہوگئے۔

    ”میں ٹھیک ہوں۔” اچانک اوستم نے کہا۔

    ”مجھے لگ رہا ہے جیسے تم میری بات سن ہی نہیں رہے، تمہارے چہرے پر ایسے عجیب تاثرات ہیں جو میں نے پہلے کبھی کسی شخص کے چہرے پر نہیں دیکھے۔” شیر دل نے کہا۔

    ”میں اب بالکل ٹھیک ہوں۔” اوستم نے ایک بار پھر مختصر جواب دیا۔

    ”چلو! آگے چلتے ہیں۔” شیر دل نے اسکاؤٹس کو اشارہ کیا۔

    ایک گھنٹے تک وہ پہاڑ پر چڑھتے رہے اور اچانک تیز ہوائیں چلنے لگیں۔ ان میں اتنی تیزی تھی کہ برفیلی چٹانوں پر قدم جمانا مشکل تھا۔ کئی بار وہ لوگ پھسلے لیکن ان سب نے اپنی کمر کے گرد رسی باندھی ہوئی تھی اور ہاتھوں میں پہاڑ پر چڑھنے کے لیے استعمال ہونے والی کلہاڑیاں تھیں۔ بڑی بڑی لوہے کی کیلیں ان کی کمر کے گرد لٹک رہی تھیں جنہیں وہ ضرورت کے وقت استعمال کرتے تھے۔ برف باری شروع ہوئی تو تیز ہوا کے جھکّڑ چلنے لگے۔

    ”اندھیرا ہونے سے پہلے ہمیں محفوظ جگہ پر رکنا ہوگا لیکن دور دور تک کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں رکا جاسکے۔” شیر دل نے اطراف پر نظر دوڑائی ہر طرف برف پوش پہاڑیاں اور بادل نظر آرہے تھے۔

    اچانک شیر دل کا پاؤں پھسلا اور وہ تیزی سے کئی فٹ تک نیچے گرتا چلا گیا۔ موت اس کی آنکھوں کے سامنے ناچ رہی تھی۔

    ”بب… بچاؤ… مم… میں گررہا ہوں۔” شیر دل کے منہ سے نکلا ہی تھا کہ اچانک کسی نے اسے مضبوطی سے پکڑ لیا۔ شیر دل نے سر گھما کر دیکھا، وہ اوستم تھا۔ اس نے شیر دل کو اوپر کھینچ لیا۔ حواس ذرا بحال ہوئے تو شیر دل کو یاد آیا کہ اوستم تو اس کے ساتھ تھا۔ وہ اتنی جلدی اس تک کیسے پہنچ گیا؟ یہ سوچتے ہوئے وہ ایک پتھر پر بیٹھ گیا، پھر اندھیرا پھیلنے تک اوستم انہیں ایک ایسے غار تک لے گیا جو برف پوش پہاڑی پر واقع تھا۔ وہ رات انہوں نے اس غار میں گزاری۔

    ”تم صبح سے ہمارے ساتھ ہو ابھی تک کچھ نہیں کھایا، پہلے ہی کمزور ہو کچھ کھالو۔” ایک سینئر اسکاؤٹ نے احمد علی اوستم سے کہا۔

    ”مجھے بھوک نہیں ہے۔” اس نے مختصر بات کی۔

    صبح صادق ہوتے ہی انہوں نے دوبارہ کوہ پیمائی شروع کردی۔ اب وہ چوٹی کے خاصے قریب پہنچ گئے تھے۔

    ”ہم چوٹی سر کرنے کے بعد ہی دم لیں گے۔” شیر دل نے اپنے ساتھیوں سے کہا تو ان کا جوش اور ولولہ مزید بڑھ گیا۔ ایک گھنٹے بعد وہ چوٹی پر پہنچ چکے تھے۔

    شیر دل نے نیچے نظر دوڑائی، دور پہاڑوں کے دامن میں اسے شوگران کی وادی نظر آئی۔ ان کا راستہ پہاڑیوں کے گرد چکر کھاتا ہوا نیچے جارہا تھا۔ کچھ ہی نیچے آنے کے بعد، اوستم نے راستے کے بائیں جانب چھوٹے سے برف کے میدان کی طرف دیکھا جہاں جگہ جگہ ہلکی دھات کی شیٹیں برف میں دبی تھیں۔ ان کے جو حصے باہر تھے وہ دھوپ میں چمک رہے تھے۔

    ”وہ کیا ہے؟” اوستم نے پوچھا۔

    ”یہ کسی پرانے جہاز کے ٹکڑے ہیں، کیا تم ان کے بارے میں نہیں جانتے؟” شیر دل نے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔

    ”یہ جہاز بہت سال پہلے ایک برفانی طوفان میں گر گیا تھا۔ اس وقت جہازوں میں راڈار نہیں ہوتے تھے۔”

    ”یہ کیسے کریش ہوا؟” اوستم نے مزید پوچھا۔

    ”اس کا پائلٹ بہت اونچی پرواز کر رہا تھا۔ شدید طوفان کی وجہ سے اُسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا چناں چہ جہاز پہاڑی سے ٹکرا گیا۔” شیر دل نے کہا پھر وہ ان دھاتی ٹکڑوں کی طرف بڑھنے لگے۔

    ”میں جب بھی اس پہاڑی پر چڑھتا ہوں تو یہ اپنی جگہ سے کچھ ہلے ہوتے ہیں لیکن میرے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔” شیر دل نے بتایا۔ اب وہ چکر دار راستے سے گزرتے ہوئے ان دھاتی ٹکڑوں تک آگئے تو ان کی نظر جہاز کے اس حصے پر پڑی جس میں انجن تھا۔ وہ جہاز بس دو افراد کے بیٹھنے کے لیے ہی تھا۔

    ”کیا کوئی زندہ بھی بچا تھا؟” کچھ دیر بعد اوستم نے سوال کیا۔

    ”نہیں، وہ دونوں مر گئے تھے ان کی باقیات پہاڑی پر بکھر گئی تھیں۔”

    اوستم اپنا سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا جیسے اس کی طبیعت خراب ہوگئی ہو۔

    ”دیکھو! ہم تقریباً پہنچ چکے ہیں بس تھوڑی دیر کا سفر ہے۔” شیر دل نے اسے حوصلہ دیا۔ مگر وہ خاموشی سے بیٹھا رہا۔

    ”اوستم! کیا ہوا؟ رک کیوں گئے؟” شیر دل اب اس کے قریب آکر پوچھنے لگا جیسے ہی اس نے اوستم کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ ایک دم تڑپ اٹھا۔

    ”کیا ہے؟ جاؤ تم لوگ… مجھے نہیں جانا تمہارے ساتھ۔” غصے سے اُس کی آنکھیں لال ہورہی تھیں۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ رو رہا ہو۔ یہ دیکھ کر شیر دل گھبرا گیا، وہ ذرا سا پیچھے ہٹ کر حیرانی سے اوستم کو دیکھنے لگا۔

    ”مجھے تنہا چھوڑ دو۔” اوستم نے زور سے کہا تو شیر دل جھٹ سے پیچھے ہٹ گیا پھر وہ بوجھل قدموں سے اسکاؤٹس کے پاس جاپہنچا۔

    سفر کرتے کرتے وہ سب چوٹی کے عین اوپر والے حصے پر پہنچ چکے تھے۔ خوشی سے انہوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا۔ مبارک باد دی پھر شیر دل تمام اسکاؤٹس کو لے کر رینجر کیمپ میں چلا گیا۔ کیمپ کے انچارج نے ان کا استقبال کیا۔ خیرو عافیت دریافت کرنے کے بعد شیر دل نے ذرا جھجکتے ہوئے اوستم کا ذکر چھیڑ دیا۔

    ”اوہ! تمہیں کہاں ملا؟” کیپٹن نے اس سے دریافت کیا۔

    ”وہ وہاں پہاڑی کے مغربی سلسلے سے کچھ ہی فاصلے پر تھا۔” شیر دل نے کہا۔ 

    ”اچھا! تم میرے سوالوں کا جواب دو، کیا وہ تیس سال کا لگتا ہے؟”

    ”ہاں، بالکل لگتا ہے۔”

    ”اس کا قد چھے فٹ اور خاکی وردی پہنی ہوئی ہے؟”

    ”ہاں!” شیر دل کے لہجے میں حیرت تھی کیوں کہ اس نے کیپٹن کو اوستم کا حلیہ نہیں بتایا تھا۔

    ”اس کے بال کالے، رنگ گورا اور آنکھیں نیلی ہیں؟” کیپٹن نے پوچھا۔

    ”اوہ! بالکل ایسا ہی ہے۔”

    ”وہ بولتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے نیند میں ہو؟”

    ”ہاں، ایسا ہی ہے جیسے وہ برسوں سے بیمار ہو۔”

    ”بس پھر… وہ کبھی کیمپ میں نہیں آئے گا۔” کیپٹن نے مسکرا کر کہا۔

    ”اوہ! وہ… وہ ہے کون؟” شیر دل اور اس کے ساتھی حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ ۔

    ”اس ٹوٹے ہوئے جہاز کا پائلٹ۔” کیپٹن نے بتایا اور تھوڑی دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔

    ”میں لوگوں کے بتانے پر کئی بار وہاں گیا ہوں لیکن وہ مجھے کبھی نظر نہیں آیا، اس کا تعلق ریسکیو ٹیم سے تھا وہ کوہ پیمائی کرنے والوں کی جانیں بچاتا تھا۔ ایک دن کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم برف میں پھنس گئی۔ اوستم نے بچانے کی بہت کوشش کی مگر طوفان شدید تھا۔ وہ ٹیم کو نہ بچا سکا بلکہ خود بھی اسی طوفان کی نذر ہوگیا۔ اس کا جہاز کہیں برف میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔” کیپٹن نے افسردگی سے تفصیل بتائی۔

    ”اوہ! حیران کن…” شیر دل کو دھچکا لگا اور وہ سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا۔ اس کے ساتھی بھی مارے حیرت کے کیپٹن کو دیکھ رہے تھے۔ بلتستان کے باسی آج بھی یہ کہانی سناتے ہیں۔ کہتے ہیں کئی سال گزرنے کے بعد آج بھی اوستم برف میں پھنسنے والوں کو مشکل سے نکالتا ہے۔ آج بھی وہ کسی سائے کی طرح نانگا پربت کے دیس میں نظر آتا ہے۔

    ٭…٭…٭