Tag: الف کتاب

  • شریکِ حیات قسط ۸

    شریکِ حیات قسط ۸

    شریکِ حیات قسط ۸

     باب ہشتم

    وہی ان ہونی جو ہونی سے ذرا پہلے ہوجاتی ہے۔

    اور پھر صورت حال آپ کے سامنے الٹے تختے کی طرح آجاتی ہے، بچھ جاتی ہے، نہیں پتا چلتا کہ دھرتی اُلٹ گئی یا پھر آسمان بدل گیا یا پھر چاند سو گیا۔

    روشنی بجھ گئی ہے رات کی یا پھر سویرا نہیں ہوا۔ دھرتی گول گھوم گئی ہے یا پھر مرکز نہیں رہا۔

    سب پلٹ جاتا ہے۔کھیل پلٹ جاتا ہے۔تختہ الٹ جاتا ہے۔چابی گھما دی جاتی ہے۔

    چابی ہی گھما دی گئی تھی، اسٹیج پر جیسے کٹھ پتیلوں کے کردار تیزی سے بدلتے گئے۔

    جو جس کا اصل کردار ہو اسے سونپا گیا۔ تیزی سے جیسے چیزوں کا ملمع اُترنے لگا یا پھر ارادوں کا روپ بدل گیا۔

    جو بھی ہوا، حیات گردش میں آگئی۔

    ایک دن کی شام نے بس لمحے کا کھیل کھیلا تھا۔

    سواری الٹی، سمجھو زندگی پلٹ گئی، ہاتھ سے اسٹیرئنگ چھوٹا، مانو اختیارات گئے سفر کے، ایک دھکا لگا۔

    حادثہ، جو جان دار کو بے جان کردے۔

    حادثہ، جو چلنے والے کو معذور کر دے۔

    حادثہ، وہی جس سے پناہ مانگی جاتی ہے۔

    حادثہ، جسے عام زبان میں ان ہونی کہا جاتا ہے۔

    اور سارنگ کے ساتھ وہی انہونی ہوئی تھی جس دن وہ سواری سے سڑک پر نہ آسکا۔

    جس دن اس سے اختیار چھوٹا۔

    جس دن معمولی سی بے احتیاطی نے اسے کچل دیا اور اس کے ساتھ وہ ہوگیا۔

    جسے عام فہم زبان میں لوگ بُرا کہتے ہیں۔اس کے ساتھ برا ہوگیا۔

    ایک روڈ ایکسڈنٹ نے زندگی کی شکل بگاڑ دی، وہ بدل نہ سکا۔

    کہتے ہیں تعلقات پنیری کی طرح ہوتے ہیں۔ پودا لگاتے ہیں، بیج اُگاتے ہیں، پھر انہیں پانی آپس کا پیار دیتا ہے۔ خوب صورت محبت کرتی ہے اور جڑ بھروسہ مضبوط کرتی ہے۔

    وہ سوچتی رہی ہم نے شاید پنیری ہی لگائی تھی اور ہم اسے پروان نہ چڑھا سکے۔

    ایک تعلق جس کی بنیاد خاندانی دباؤ تھا۔

    ایک تعلق جس کی بنیاد کمزوری تھی، مجبوری تھی اور اس تعلق کو دیکھا جائے تو صرف مجبوری اور کمزوری نے ہی جوڑے رکھا تھا۔

    جب کمزوری اور مجبوری ختم ہوجاتی ہے تب تعلق بے جوڑ سا بے معنی سا دکھنے لگتا ہے۔

    جب پیار اور بھروسے کی بات آتی ہے تو سب کچھ بھر بھری مٹی کی طرح ڈھے جاتا ہے۔

    صرف اور صرف سوال اٹھتے ہیں۔

    اور وہ سوال بے جواب ہی مر جاتے یا دبا دیے جاتے ہیں۔ تعلق پھر اسی نہج پر آکھڑا تھا، یعنی جہاں سے دنیائیں دو ہوجاتی ہیں۔ جہاں سے زنجیر کاہُک کھلنے لگتا ہے۔ احساس کی زنجیر ٹوٹنے لگتی ہے اور بکھرنے تک کا وقفہ ہوتا ہے۔

    اس نے پھر سے اسی ہمت کو جمع کرکے کہا تھا۔ ”سارنگ اب وقت آگیا ہے شاید، مجھے اب چلے جانا چاہیے۔ ایک وہ وقت تھا جب آپ پر فرائض تھے۔ آپ نے مکمل کیے بہادری سے، میں اپنی باری کھیلے بغیر ہی جارہی تھی۔مجھے تقدیر نے پھر روک دیا۔اس بار میرا امتحان تھا۔میں پاس ہوئی یا فیل، یہ آپ جانتے ہیںیا میرا اللہ جانتا ہے،بس میں بھاگی نہیں میدان چھوڑ کر،بس میں نے رستہ پکڑ لیا، میں لوٹ گئی۔میرے لیے انہیں رستوں کے دروازے اب دوبارہ کھل گئے ہیں،مجھے بلاتے ہیں، شاید مجھے اب جانا ہے۔ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔آپ دوبارہ اپنے مقام پر آگئے ہیں۔سب کچھ وہی ہے سارنگ،تکلیف دہ وقت گزر چکا ہے۔ مشکل ہی تھا مگر گزر گیا۔ وہی گھر، کھڑکی، دروازہ، وہی رستہ، وہی لوگ۔” اسے لگا چابی گھومنا رُک چکی ہے۔ وہ شل ہوکر تھکن سے گرنے کے سے انداز میں بیٹھ گئی تھی۔

    ”میں تھک چکی ہوں۔” یہ دبی آواز میں کہا گیا جملہ تھا جو سارنگ کے کانوں نے سن لیا اور اس کی آنکھ کے گوشے میں، ایک بے نام سا رشک،ایک آنسو جو دل کی خاموشی ٹوٹنے پر آنکھوں میں آجاتا ہے۔ وہی آنسو بے وجہ سا یا بہت وجہ سا پل، لمحے، بھروسے اور محبتیں، دوست اور لوگ؟ سب سوال۔

    اس نے سوچا شیبا سے جاکر پوچھے یا پھر سندھیا سے،مگر وہ پہلا سوال خود سے کر بیٹھا تھا۔اسی لیے خطا کھا گیا۔

    پتّا ایک بار اس کے سامنے پھینکا گیا تھا۔چال اسے چلنی تھی۔جوابی پتّا اسے پھینکنا تھا۔

    گیند قسمت نے ایک بار پھر اس کی جیب میں ڈال دی تھی۔

    پھینکنے پر چھکّا ہوتا تو بھی مار پڑتی۔

    آؤٹ کرتا تو جیت اس کی۔ گیند ایک ہی تھی اور باری آخری۔ سارا کھیل بدل جانا تھا۔ میدان منتظر تھا۔

    ٭…٭…٭

  • شریکِ حیات قسط ۷

    شریکِ حیات قسط ۷

    شریکِ حیات قسط ۷

    باب ہفتم

    نیلے آسمان سے سفیدی غروب تک گھٹ جاتی تھی۔

    یہ ستاروں کی آمد کے اوقات تھے۔

    جب دھیرے دھیرے زمین والوں کی نظر کے کھیل سے اوجھل آنکھ بچاتے کھیل نچاتے، ستارے ایک ساتھ ہی نمودار ہونے لگتے تھے۔

    یہ وقت تھا گرمیوں کے زوال کا۔

    یا پھر موسم کی آنکھ مچولی کا کہ دن میں فصلیں پکاتا سورج گرمی کے شرارے ایسے زمین پر پھینکتا جیسے سرکس باز، تماش گر منہ میں تیل چھڑک کر آگ کے شرارے منہ سے نکالتا ہو۔

    اور غروب تک ایسے ہوجاتاجیسا زمین پر آگ کی یہ ہولی کبھی نہ چلی ہو۔ یہ درمیانہ موسم ناچتا کھیلتا، تیز ہوا کے جھکڑ چلاتا، جھومتا جھامتا ہوائوں پر کھیلتا غروب کے بعد آنے والی رات کی چادر بچھاکر ہر اک گرماہٹ کو ٹھنڈا کردیتا تھا۔

    ایسے میں دیہات کے سادہ لوح لوگ، آدمی، عورتیں، بچے اس وقت صحنوں میں چارپائیاں ڈالے مٹی سے لیپ کیے صحنوں میںچارپائیوں پر طویل تکیے رکھ کر سو لیتے۔ دن کی تھکن کو گھٹانے کی کوشش میں کھیت، کھلیان، پڑوس، محلہ کھیتی، کھلیان، کمہار، لوہار، زر، زمیندار سب کی کچہریاںسجنے لگتیں۔

    صحنوں میں عورتیں بیٹھیں گیت گنگناتیں یا بھرت، کڑھائی، کپڑا، سلائی،دھلائی، بُنائی، مال مویشیوں کے چارے باڑے کا انتظام ہوتا پھر چولہے پھونکتے رات کا دال دلیہ ساگ روٹی مکئی مکھن چاول گڑشیرہ بنانے بیٹھتیں۔ ساتھ کچے چولہے کے گرد کچی اینٹوں سے بنی چوکی پر دو تین چار عورتیں چوکڑا مارے کوئی پیاز چھیلتے، کوئی چولہے میں لکڑیاں جھونکتے، کوئی سبزی ساگ صاف کرتے، کوئی چاول چنتے ہوئے باتیں کرتی رہتیں۔ اور اسی طرح سندھو اورسوہائی اماں کی نظر سے ہٹ کر کانوں میں پھسپھساتے ہنستے ہنساتے پیاز، مٹر، گوبھی، پالک، دال، دلیہ، ساگ، چاول پکاتے، ہنڈیا چڑھاتے بہت سی باتیں کرتیں یعنی آج کی نئی کہانی کیا ہے؟

    سندھو جو نت نئی کتابی کہانیاں پڑھ ڈالتی سوہائی کو فیض یاب کردیتی اور اسی طرح آج بھی ہوا۔

    ”تجھے پتا ہے سوہائی سارنگ اور سندھو والی کُل ملا کے پنج کہانیاں ہیں۔

    پہلی میں سارنگ بت تراش اور سندھو دیوی۔

    سارنگ کے ہاتھ کاٹ لیے جاتے ہیں۔ سندھو دیوی کی قربانی ہوجاتی ہے۔ کہتے ہیں نا کہ سندھو سارنگ نے نہیں ملنا۔

    دوسری داستان، سارنگ بنا گھڑ سوار اور سندھو ہائے سوہائی مت پوچھ دونوں کے بیچ کی وہی جدائی، وہی مات۔

    آخری سندھو سارنگ وہ جب پاکستان آزاد ہوا۔

    سندھو رہ گئی زمین کے اک ٹکڑ پرہند میں اور سارنگ رہ گیا پاکستان۔دونوں کے بیچ لمبی سرحد۔

    پہاڑ ،پربت۔

    سندھو افسردہ۔

    پر سندھو تُو اور ادا سارنگ جو مل گئے ۔سوہائی کہتی۔ 

    مگر سندھو کی آنکھوں میں اداسی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کچھ۔ کچھ ایسا جو سوہائی کبھی نہ سمجھ سکتی۔ وہ بھلا اسے کیا سمجھاتی کہ پگلی یہ ملنا بھی کوئی ملنا ہے۔ وہ یہ سب سوچتی ہی رہ جاتی کہتی کچھ نا۔

    ٭…٭…٭

  • شریکِ حیات قسط ۵

    شریکِ حیات قسط ۵

    شریکِ حیات قسط ۵

    باب پنجم 

     

    کسی نے سنا؟

    مولا بخش مر گیا۔

    اس کے مرنے کا یقین کون کرے گا؟

    چارپائی پر خاموش پڑا بے فکر سا وجود، ہلکا پھلکا سا، کوئی فکر نہ فاقہ۔

    اوہ مولا بخش تو اپنی ساری فکریں یہاں ہی چھوڑ گیا۔

    اب کہنے سننے کو کچھ نہ تھا۔ کہا نہ تھا کہ بندہ خاک ہے، ایک دن خاک میں مل جانا ہے۔مٹی کو مٹی میں دفن ہونے دے۔

    ”سبھاگی اب دل بجھ گیا ہے۔تیرا مولا بخش تھک گیا ہے۔” چار چھ دن پہلے بخارمیں تپتے وجود پرجب اس نے ہاتھ رکھا تومولا بخش کا جسم تپ رہا تھا۔

    ”لگتا ہے بخار تیرے سر چڑھ گیا ہے سندھیا کے ابا۔ سٹھیا گیا ہے تو، دماغ پھر گیا ہے تیرا، کیا اُلٹی سیدھی ہانکے جا رہا ہے۔” وہ بگڑاُٹھی۔

    ”اب نہ بگڑیں، نہ کاوڑ جیں (خفا ہونا) نہ بُرا بھلا کہیں۔ اپنے سارے نخرے اپنے مولا بخش تک رکھیں مگر خوش رہیں۔”

    ”توچریا ہو گیا ہے مولا بخش۔ مت ماری گئی ہے تیری۔”

    ” او مت نہیں مری میری سندھو کی ماں۔ دعا کر مت کبھی نہ مرے، مت مرنے سے پہلے مولا بخش مر جائے۔ ”

    ”اللہ نہ کرے مولا بخش۔ بس بھی کردے۔”

    ”تجھے پتا ہے سندھو کی ماں! مٹی کا پتلا جب زمین پر چل چل کر تھک جاتا ہے، جب اُسے دانہ اُگانے کی سکت نہ رہے تو سمجھو دانہ پانی ختم ہوا، اُٹھ گیا۔ کبھی ایسا نہ ہوا کہ کھیتوں کے کاموں سے بے زار ہوا،جی چرایا یا یہ کہا کہ تھک گیا ہوں۔”

    پہلی بار کہا تولمحہ بھرکے لیے توسبھاگی نے بھی بھری آنکھوں سے دیکھتے ہی دل تھام لیا۔” ایسا نہ کہو مولا بخش تو ایسا سوچ بھی کیسے سکتا ہے؟سندھو کی خوشیاں کون دیکھے گا بھلا ؟چریا ہواہے کیا؟ ”

    ”چریا نہیں سیاٹا ہوں۔ تیرا مولا بخش سیاٹا ہے۔ او سبھاگی دیکھ، مٹی کو مٹی سے بڑا قرار آتا ہے۔ تیرا مولا بخش راج کرے گا، وہاں سکھی رہے گا۔پھر دیکھ زمین کے اندر کھیتی کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، بغیر کھیتی کے اناج دیتی ہے۔ وہاں شاید اناج کی بھی حاجت اور ضرورت نہ ہو۔”

    ”دیکھ تو نے آج مجھے رُلا دیا۔ اپنی سبھاگی کو رُلا دیا ہے تو نے۔” اُٹھ کر جیجی کے پاس گئی۔ ”جیجی ماں کوئی دم درود؟ کوئی تسبیح صلوٰة مولا بخش سٹھیا گیا ہے۔ بخار سر چڑھ گیا ہے، الٹی سیدھی ہانکے جا رہا ہے۔ چپ ہی نہیں ہوتا ۔”

    جیجی اٹھ کر مولا بخش کے کمرے تک آئیں، سر پہ ہاتھ رکھا۔ ”بخار تو اب کم ہے اس کا۔”

    ”لے تو کیا گالھ کر رہا ہے مولا بخش، سبھاگی کو رلایا ہو اہے آج تو نے۔”

    ”جیجی ماںگود میں سر رکھنے دے پھر بتاتا ہوں۔”

    جیجی ماں نے گود میں پناہ دی۔ مولا بخش نے سر ٹیکا۔

    ”او دیکھ جیجی ماں!

    دنیا کے سارے مرد روکھے۔

    ساری مائیاں سوکھیں۔

    شوہر سارے نکمے۔

    بیویاں سگھڑ سوہنڑیں۔

    مولا بخش کوجا سبھاگی چاندی۔”

    ”اس کی باتوں کا اعتبار نہ کریں جیجی ماں۔یہ پل میں کچھ تو پل میں کچھ کہتا ہے۔”

    ”یہ کہہ کیا رہا تھا تو ہی بتا دے۔”

    مولا بخش نے آنکھوں کے اشارے سے اُسے کچھ کہنے سے روکا۔ یہ نہیں کہ مولابخش کا ڈر تھا بلکہ بات ہی ایسی تھی، جو وہ منہ سے نہیں کہہ سکتی تھی۔کہتے ہوئے سو دفعہ ڈرتی تھی۔ کبھی کہتے ہیں منہ کا کہا بھی سُن لیا جاتا ہے۔

    وہ چپ ہو گئی خاموش رہی کچھ نہ بولی۔جیجی کو تسلی ہوئی کہ چلو بخار تھا جو ہلکا ہو گیا ہے۔ اب سب ٹھیک ہے۔

    سب ٹھیک ہے کا کھیل کس قدر جان لیوا ہوتا ہے کبھی کبھار۔ وہ جب انسان سب ٹھیک ہے اپنی زبان سے کہتا ہے اور دل و دماغ نفی کرتے ہیں تو لگ پتا جاتا ہے۔

    دھڑکا لگ جاتا ہے اور پھر تب تک لگا رہتا ہے، جب تک ہاتھ دھڑکن پر رہے۔

    ٭…٭…٭

  • شریکِ حیات قسط ۴

    شریکِ حیات قسط ۴

    شریکِ حیات قسط ۴

     باب چہارم

    ”سارنگ سندھ میںمحبوب کو کہتے ہیں۔” بڑا مان تھا اُس کے لہجے میں۔

    ”تمہیں خوشی ہوتی ہو گی بڑا خوب صورت سا سمبل ہے۔”

    ”مجھے محبوب بننے سے زیادہ ایک کامیاب انسان بننے کی جستجو ہے۔” اس کا لہجہ بہت سادہ تھا۔

    ”تم نے محبوب ہونے کا ذائقہ چکھا نہیں اس لیے کہہ رہے ہو۔” جواب میں کسک کا احساس تھا۔

    وہ فراز سلیم تھا، جنوبی پنجاب سے اس کا تعلق تھا۔ وہ بھی اسپیشلائزیشن کے لیے آیاتھا۔

    مگر اسے بھی اسپیشلائزیشن سے زیادہ موسیقی میں دل چسپی تھی۔ گائیک بننا اس کا خواب تھا، مگر اس کے گلے کے سُر نے اس کی اس خواہش کا گلا بُری طرح سے گھونٹ دیا تھا۔اس کے بعد اسے طبلہ بجانے میں دل چسپی محسوس ہوئی تو اس نے طبلہ بجانے کی باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی۔ وہ ڈرم بھی بہت اچھا بجاتا تھا۔

    کل کے کنسرٹ میں وہ بھی شریک تھا، جو اپنی خواہش کی ناکامی کے بعد ماں کی خواہش پر ڈاکٹر بن کر اسپیشلائزیشن کرنے یہاں آیاتھا اور پہلے ہی سمسٹر میں بُری طرح سے پھنس گیا تھا۔یہی ٹینشن تھی جس نے اس کی راتوں کی نیند اُڑا دی تھی اور وہ ایک رات کو بہار کرنے کے لیے سارنگ کے ساتھ کنسرٹ کا حصہ بن گیا تھا اور سارنگ کی بجائی بانسری اور گائیک کے لفظ جیسے اس کے دل پر اثر کر رہے تھے۔

    جب مائیک تھامنے سے پہلے سنگر نے سارنگ کی طرف دھن چھیڑنے کا اشارہ کیا۔سب سے پہلی دُھن بانسری کی دُھن تھی اور کیا لَے تھی جیسے دل ہچکولے کھاتا ہوا تھر کے ریگستان میں سہج سہج کر چلتے ہوئے اونٹوں کی چالوں جیسا ہو جائے۔

    بات سسی کے بھنبھور سے شروع ہوئی تھی۔سسی جسے عام سندھی میں سسوئی کہا جاتا تھا۔ وہ سسی جو بھنبھور کی رہنے والی تھی۔گیت میں سسی کا درد شاعر نے پوری طرح سمو دیا تھا۔ گیت آواز، سر، لے، دھن اور ساز کے ساتھ بجتا ہوا سماعتوں میں ایک جادو جگا گیا، لوک داستانی رنگ چڑھ گیا۔

    دوسرے دن شام ڈھلے ٹریننگ سینٹر سے چھٹی ہونے کے بعد وہ پورا گروپ فراز سلیم، سارنگ، پوجا، صنم اور شیبا سمیت کیفے کے باہر بیرونی پارک میں کل کے گیت، سر اور کہانی پر بات کر رہا تھا۔ جب بات سسی کے بھنبھور سے شروع ہو کر سارنگ کے محبوب پر ختم ہو گئی۔

    اور کبھی وہیں سے شروع ہونی تھی۔

    ٭…٭…٭

  • پائلو کوئلو – شاہکار سے پہلے

    پائلو کوئلو – شاہکار سے پہلے


    پائلو کوئلو(Paulo Coelho)

    ۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ کیمروں کی فلیش لائٹس اور ریفلیکٹرز کی نیلی ڈسکو سٹائل چمک کے بغیر پائلو کائلو کے قدم اٹھنے سے بیزار ہو جائیں ،رپورٹرز اور پاپا رازیوں کے ہجوم کے بغیر اس کا سانس دوبھر ہونے لگے، انٹرویوز، سیلفیاں اور آٹوگراف اس کے لیے زندگی کی اہم ترین خوشیاں بن جائیں اور وہ ایک عام انسان کی طرح عام بے نیاز لوگوں میں ا ک بے نیازی کے ساتھ چل نہ سکے۔ ا س مشہورِ زمانہ لکھاری کی زندگی میں وہ وقت بھی آتا ہے جب وہ اندھیرے کمرے میں تنہایوں کو دُکھڑے سناتا ہے۔ تاریک راتوں کو مدھم مدھم روشنی دینے والی موم بتیوںکے ساتھ سلگتا ہے۔ آنسوﺅں سے گیلے کاغذ پر کالے حروف اور غمزدہ لمحے اتارتا ہے اور پلکیں سوکھ جانے کے بعد سورج کی اوّلینشعاﺅں کے ساتھ خود سے نئے عزم اور نئے حوصلوں کے وعدے کرتا اور ہر آنے والے دن اپنی محنت اور اپنی جنگ کا دوبارہ صفر سے آغاز کرتا ہے۔
    پائلو کوئلو کی زندگی بھی کوپاکبانا(Copacabana beach) کے ساحل کی سمت کھلنے والی کھڑکیوں والے مہنگے اور پرتعیش فلیٹ سے پہلے Rio de Janeiro کے ایک مڈل کلاس علاقے کے مڈل کلاس گھرانے کے ناکام سپوت کی کہانی تھی۔ایک ایسا ناکام بیٹااور بے کار انسان جو نہ تو اپنے اساتذہ سے توصیف سمیٹ سکا اور نہ ہی والدین کی پلکوں پر اترنے والے خوابوں کا بوجھ اپنی پوروں سے اٹھا سکا۔ ایسا عام انسان جو اپنے اندر ایک مضطرب روح ،ایک بے چین وجود کی شناخت کے سفر پر تھا اور سفر بھی ایسا جو لمبا بھی تھا کٹھن بھی اور پرآسیب بھی۔لیکن برسوں کی دھوپ سر پر کاٹنے، صدیوں کا بوجھ کندھوں پر اٹھا لینے کے بعد جب یہی مضطرب روح منظرعام پر آئی تو نہ صرف شہرت کی تمام حدیں پار کر گئی بلکہ ہزاروں لوگوں کو خواب دینے ، نئی دنیائیں دریافت کرنے کی تحریک دینے اور تعمیر کے اسباق سکھانے لگی۔ دنیا بھر میں دوسو ملین سے زیادہ بکنے والے کتابوں اور سٹرسٹھ (67)زبانوں میں ترجمہ ہونے والے ناول الکیمسٹ(The Alchemist) کا مصنف جس کے لفظوں سے ہزاروں لاکھوں لوگ روزانہ سونے سے پہلے زندگی اور معاشرے کے ہاتھوں اپنی کچلی روحوں کو تسلی دیتے، اپنے ماضی کو دفن کرنے اور نئی صبح کو روشن کرنے کا عزم کرتے ہیں، اسی کا نام پائلو کوئلو ہے۔
    اپنی پیدائش سے ہی بدقسمتی کا شکار پائلو کوئلو نے اپنے پہلے سانس کے ساتھ ہی زندگی کی سختیوں اور مصائب سے لڑنے کی ہمت پکڑ لی تھی۔اسی لیے جب غمزدہ باپ اور آنسو بہاتی ماں اس نوزائیدہ بچے کے کفن دفن کی تیاری کر رہے تھے تو وہ انگڑائیاں لیتا اٹھ بیٹھا۔ اپنے پست قد کے ساتھ بلندیوں کے لیے لڑنے والا پائلو آخر اپنے ریگزاروں، پتھریلی مسافتوں اور نم راتوں سے گزر کر اپنے ہنر کی معراج پر پہنچ گیا۔
    پتلی ٹانگوں اور بڑے سر کے ساتھ بدصورت دکھائی دینے والا بچہ پائلو ابتدائی عمر سے ہی غیر مقبول ثابت ہوا۔ اس میں صنف مخالف کو متوجہ کرنے کی کوئی صلاحیت نہ تھی، دوستوں میں دھاک بٹھانے کو ہمت تھی نہ بہادری ۔ والدین کا لاڈلا بننے کی روایت پسندی نہ تھی۔ ا یسے میں خود کو خوش رکھنے اور دوستو ں کو متاثر کرنے کا ایک ہی ذریعہ تھا اس کے پاس، اس کی کتابیں اور مطالعہ۔۔ بچپن سے ہی مطالعہ کے شوقین پائلو کائلو نے سکول کے دور سے ہی آنکھوں کی پتلیوں پر لکھاری بننے کا ایک خواب ،ایک جذبہ بُن لیا تھا ۔ سکول کی نصابی قابلیت والدین کی تمام تر کوشش کے باوجود وہ آسانی سے حاصل نہ کر سکا۔سکول کے ریکارڈ میں ہمیشہ آخری نمبر پر رہنے والا اور ہر وقت سکول سے نکالے جانے کے خوف میں مبتلا رہنے والا نوجوان جب ایک دن تخلیقی شاعری کے ایک مقابلے میں اپنے سکول میں پہلے نمبر پر آتا ہے تو اس کی آنکھوں کو ایک نیا خواب ملتا ہے۔ ایک ایسا راستہ جس پر اس کے لیے تالیاں بج سکتی ہیں، وہ انعامات جیت سکتا ہے۔ ناکامیوں سے نکل کر کامیابی کا مزا چکھ سکتا ہے۔ اس پر آشکار ہوتا ہے کہ اسی سمت اس کی طبیعت کا میلان اور رجحان ہے۔۔ جلد از جلد والدین کو یہ خوش خبری دینے ، خوابوں کی اونچی اڑان اور لکھاری بننے کا خواب سنانے کی چاہ لیے وہ سکول سے نکلنے والے پہلے طلبا میں سے تھا۔اس کے ہاتھ جیسے قارون کا خزانہ لگا تھا ۔

  • احمد فراز ۔ انہیں ہم یاد کرتے ہیں

    احمد فراز ۔ انہیں ہم یاد کرتے ہیں

    انہیں ہم یاد کرتے ہیں

    احمد فراز

    احمد فراز

    5/5

    احمد فراز وہ رومانی، مقبول عام، سادہ لفظوں میں زندگی کا اظہار کرنے والا انسان ہے، جو اردو جاننے، پڑھنے اور بولنے والے دل و دماغ سے ایک مرتبہ تو ضرور گزرا ہو گا۔ ایک ایسی آواز ہیں کہ جو خاموش ہو بھی گئی تو ختم نہیں ہو سکتی، جس کو اردو پڑھنے اردو جاننے والے، محبت کرنے والے،اور اس محبت کے اظہار کے لیے ردھم کو ڈھونڈنے والے ، ہمیشہ سنیں گے اور سمجھیں گے۔اردو شاعری دہلی کے اردو بولنے والے خاندانوں کے گھر کی باندی رہی لیکن اردو کی مقبولیت اور پاکستان کی قومی زبان بننے کے ساتھ ،اردو شاعری ان لوگوں نے بھی کی جن کی پہلی زبان اردو نہ تھی،جن میں فیض احمد فیض اور علامہ اقبال کا نام نمایاں ہے۔ احمد فراز کی بھی پہلی زبان اردو کے بجائے پشتو تھی۔ انہیں شاعرانہ مزاج اور شاعری دونوں ورثے میں ملے تھے۔ والد صاحب فارسی میں شعر کہتے تھے، اور اہل کتاب میں سے تھے۔ احمد فراز کا بھی کہنا تھا کہ انہیں شعر اردو میں ہی کہنا پسند تھا، حالاں کہ مادری زبان پشتو تھی، اور والد فارسی کے گرویدہ۔ جب شعر کہنا شروع کیا تو اردو اچھی طرح جاننے اور لکھنے کے باوجو داردو بولنا آسان نہ تھا۔ نام ’سید احمد شاہ‘ تھا اور تخلص ’فراز‘ لکھتے تھے۔ بچپن ایک لحاظ سے غیر معمولی تھا کہ دادا کی قبر پر مزار تھا، اور وہاں خواہشوں کے دھاگے باندھنے، نا آسودہ دلوں کی،نا مکمل خواہشوں اور زیارتوںکے لیے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوتا تھا۔ شاعری کا آغاز ایک بیت بازی کا مقا بلہ جیتنے کے لیے کیا تھا اور جیتنا اس سے تھا، جس کے سامنے ایک نویں کلاس کے ٹین ایجر کا دل ہارا ہوا تھا، ایک کلاس سینئر تھی اور خاندانوں کے رابطے کی وجہ سے گھر آنا جانا تھا۔اس نے ایک دن بیت بازی کا طریقہ سمجھایا اور مستقبل کے شاعر کو مقابلی کی دعوت دی، جو کہ بڑے شوق سے قبول کی گئی تھی لیکن جب بھی شعر یاد کر کے جاتے تو کم پڑ جاتے اور دل جس سے مقابلہ جیتنے کو بے چین تھا، وہ جیت جاتی۔ خیر مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا، اور پھر شعر خود بنانے لگے۔جب شعر کہنے با قا عدہ شروع کیے تو اپنی شاعری اپنی والدہ کو سونپی کہ والد صاحب کو دکھا دیں کہ اگر کوئی کمی بیشی ہو تو دور ہو جائے اور اصلاح کی جتنی بھی گنجائش ہو وہ کی جا سکے۔چند دن تو گھر میں خاموشی رہی اور ہزار وسوسوں نے آگھیرا لیکن چند دن بعد والد نے بلایا اور ہلکی پھلکی ڈانٹ پلائی کہ’ عشق و معشوقی کی شاعری کرتے ہو؟ شرم نہیں آتی۔“
    1951ءکی بات ہے جب ایک مشاعرے میں شرکت کی اور وہاں زیڈ۔اے ۔ بی آئے ہوئے تھے ، جو کہ اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل کنٹرولر آف پاکستان براڈ کاسٹنگ سروسز تھے۔ کسی سینئر کے گھر ایک ادبی محفل تھی جسے مشاعرے کا نام دیا گیا تھا۔’احمد فراز‘ نے غزل پڑھی تو بخاری صاحب کی طرف سے دوسری غزل کی فرمائش کی گئی۔ غزل سننے کے بعد کہا’ فراز بیٹا جب بھی تمہیں کام کرنے کا خیال آیا تو ریڈیو پاکستان کے دروازے کھلے ہیں‘۔ ابھی شاید ارادہ تو نہ تھا کیوں کہ تعلیم ابھی جاری تھی ، لیکن گھر میں پڑے ایک گل دان نے راستے یوں تبدیل کیے کہ ایک گلدان ٹوٹا والد نے تھوڑا بہت جھاڑا اور حساس شاعر اور غیرت مند پٹھان نے سوچا اب نہیں رہنا یہاں۔ سو ریڈیو پاکستان کی آفر یاد تھی۔ وہاں رابطہ کیا اور فورا µ نوکری کے لیے بلاوے کا خط آ گیا۔سو فرسٹ ائیر بھی چھوڑ دیا اور گھر بھی ۔ یہ ریڈیو پاکستان کا وہ وقت تھا، جب ابھی ریڈیو پاکستان ٹینٹوں میں آباد تھا۔بلڈنگ کہیں جاکر بہت بعد میں بنی تھی۔
    کسی جذباتی لمحے میں گھر اور ماں کو تو چھوڑا تھا لیکن رات ماں کو یاد کرتے گزرتی اور دن کام کرتے ۔ اسی روٹین سے تھک کر ایک دن آفس میں گئے اورکہا یا تو میرا استعفیٰ لے لیں یا پھر ٹرانسفر کر دیں۔ پشاور ٹرانسفر ہو گئی اور گھر کا سکھ اور ماں کی محبت پھر سے میسر آئی۔
    پھر تعلیم کا سلسلہ بھی چل نکلا ۔ایڈورڈ کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد پشاور یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا۔

  • شریکِ حیات قسط ۳

    شریکِ حیات قسط ۳

    شریکِ حیات قسط ۳

    باب سوم

     

    زندگی میں وہ سب نہیں ہوتا جو ہم چاہتے ہیں۔ اگر ہوتا ہے تو کم از کم اس طرح نہیں ہوتا جس طرح ہم چاہتے ہیںاور وہ سب ہوجاتا ہے جو ہم نہیں چاہتے۔

    وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔ ”سندھیا تم کیا چاہتی ہو؟”

    ”مجھے نہیں پتا ادا سارنگ، مگر کم از کم یہ سب نہیں جو ہورہا ہے۔ اچھا نہیں لگ رہا مجھے یہ سب،بہت برا لگ رہا ہے۔”

    اسے معلوم تھا وہ کنفیوزڈ ہے، سہمی ہوئی ہے اور فکر مند ہے۔ وہ اسے ایسی صورتِ حال میں مضبوط دیکھنا چاہتا تھا حالاںکہ اسے معلوم تھا وہ کس قدر کمزور اور معصوم سی لڑکی ہے۔ اس کے حوالے سے گھر بھر میں باتیں ہورہی تھیں۔ایک کے بعد ایک ایشو چل رہا تھا۔ ایسے میں اس کا سہما ہوا رہنا کوئی معمولی بات نہ تھی۔

    پورے دو دن خاموشی کی نظر ہوگئے تھے۔

    ایسا لگ رہا تھا جیسے گھر میںراقاص گھوم گیا ہو ۔ مائوں نے بچوں کو ڈرانے کے لیے جو خیالی بھوت کہانیاں بنائیں تھیں، راقاص بھی ان ہی میں سے کسی ایک کہانی کا کردار تھا جسے بدشگونی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

    گھر میں مایوسی پھیلی کام بگڑنے لگے، یا مایوسی حد درجہ بڑھ گئی تو سمجھو گھر میں راقاص گھوم گیا۔

    سبھاگی ایسے وقتوں میں شور شرابے سے کام لے لیتی تھی اور جیجی افسردہ ہوجاتیں۔ حسن بخش غصہ اور مولابخش کو چپ لگ جاتی تھی۔اسے چپ کیا لگتی مانو گھر میں راقاص گھوم جاتا۔ بیٹی کا رشتہ بہ مشکل طے ہوا اور ہوکر سوالیہ نشان بن گیا کتنی بڑی بات تھی۔

    بیٹیوں سے نہیں ان کے نصیبوں سے ڈر لگتا ہے۔اسے جیجی کی بات یاد آگئی۔

    نصیب اس قدر مہنگا کیوں ہوتا ہے کہ اسے پیسے سے بھی نہیں خریدا جاسکتا۔ پیسے سے خریدا جاتا تو میں خود کو بیچ کر سندھو کا نصیب خرید لیتاوہ مایوس تھا،افسردہ تھا۔

    حسن بپھرا ہوا تھا۔ صادق کی خوب آئو بھگت کی تھی فون پر۔ اس نے فون بند کرکے رکھا ہوا تھا۔ حیدرآباد جارہا تھا تو جیجی نے روک دیا کہ جاکر تماشا نہ لگا شہر میں، کچھ دن ٹھہر جا کرتے ہیں۔ تب تک بھرائی آگئی روتی پیٹتی کہ بیٹے نے بغیر بتائے شادی کر رکھی تھی، وہ کیا کرسکتی تھی۔مگر اب گھر کی بات ہے، خاندان بھر میں پتا لگ گیا ہے کہ سندھیا کو صادق کی پوتی (دوپٹہ اوڑھنی) پہنائی ہے۔ ونی اور بنی (لڑکی اور فصل) عزت والا نہیں چھوڑتا۔ تم سندھیا میرے بل بوتے پر دو، عیش کرے گی۔ گائوں میں گھر کی مالکن بن کر رہے گی۔چابی تو اس کے پاس رہے گی نا۔ وہ موئی شبراتن کب تک، کہاں رہتی ہیں ایسی لڑکیاں گھر بسا کر۔مجھے تو میری سندھیا عزیز ہے۔

  • شریکِ حیات – قسط ۲

    شریکِ حیات – قسط ۲

    شریکِ حیات . قسط ۲

    باب دوم

    جتنا مشکل سوال تھا، اس سے کہیں زیادہ مشکل جواب لے کر آیا۔

    کتنا مشکل ہوتاہے کسی کو یہ یقین دلاناکہ وہ سچ بول رہا ہے۔ کسی کو چھوڑنے سے پہلے یہ جھوٹ کہنا کہ چھوڑ کر نہیں جائوںگا ہمیشہ تمہارے پاس رہوں گا۔

    اسے بھی یہی مشکل پیش آئی جب اس نے اپنے باپ کا ہاتھ پکڑ کر کہا:”میں باہر جائوںگا مگر کچھ عرصے کے لیے ، صرف کام کے لیے جارہا ہوں ابا۔”

    ”چھوڑنے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ ہی تو ہوتا ہے ۔تو یہاں رہ کر بھی کام کرسکتا ہے سارنگ، تجھے پتا ہے نا سب کو کس قدر تیرا انتظار تھا۔ سب تیرے لیے ترسے ہوئے تھے اور پھر گوٹھ کو تیری کتنی ضرورت ہے۔” وہ جو سوچ رہے تھے وہ سب کچھ سا رنگ سے کہنا چاہتے تھے مگر مجبور تھے۔ 

    سارنگ کی ہلکی مسکراہٹ اب بھی تفکر میں نہ بدلتی تو کب بدلتی۔ ” فیصلوں سے پہلے سوچا جاتا ہے، تم نے یہ فیصلہ کرنے سے پہلے سوچا نہیں ۔”

    ”میں نے بہت سوچ کر یہ فیصلہ کیا ہے ابا سائیں اپنے اور آپ سب کے لیے۔”

    ”ہمارے مستقبل کے لیے ہم سب کے لیے۔جہاں اتنی ساری محنتیں کی ہیں، یہاں تک تو آگیا ہوں نا آپ کی دعا سے۔” 

    ”بہت لمبا انتظار سارنگ۔ بہت انتظار کیا ہے ہم سب نے پر اب نہیں۔ اب ڈسپنسری بسا،اپنے گوٹھ کی خدمت کر، اپنے لوگوں کو دیکھ۔ دیکھ کیسے سارے آس لگائے بیٹھے ہیں اور پھر ہم، ہم سب جوتارے گن گن کر راتیں کاٹتے ہیں تیرے لیے۔ ایک دفعہ پھر سے یہ انتظار بڑا اوکھا ہوجائے گا، اوّلاہوجائے گا۔”

    سارنگ کی چپ کو چپ لگ گئی تھی، اک خاموشی روح کے ساتھ جڑ گئی۔ ابا کا لہجہ دیوار بن گیا تھا سخت دیوار!

    اپنے لوگ، اُن کی محبتیں، ڈسپنسری، یہ سب اپنی جگہ، مگر ابا تھا، جس کا حکم ٹالنا دشوار تھا۔

    چاچا نے سارنگ کے چہرے کو دیکھا اور چہرے پہ چھائی دھند کو دیکھا۔ 

    دھند میں گم ہوتی ہوئی امید کو دیکھا، جب اس کی آنکھیں کچھ مرجھائیں تو وہ اپنی چارپائی سے اٹھا، چائے کی پیالی رکھ دی اور اس کے برابر آکھڑا ہوا۔

    ”سارنگ تو جائے گا،تو ضرور جائے گا۔ تو جو چاہتا ہے وہ کر، تجھے جو صحیح لگتا ہے، وہ ضروری ہی ہوگا۔”

    حسن بخش نے خفگی اور احتجاجی انداز میں مولابخش کو دیکھا اور بولا۔ ”بغیر صلاح مشورے کے تونے کب سے فیصلوں پر مہر لگانا شروع کردی ہے؟” حسن بخش کے لہجے میں غصہ تھا۔

    ”اوبھا! او ادا!ٹھنڈا ہو،ادھر آ۔” کندھے پر بازو پھیلا کے اپنے ساتھ لگایا۔

    ”بہتے پانی کو روکا نہیں جاتا میاں۔ رستہ دیا جاتا ہے۔اسے روک نہیں، اسے رستہ دے۔وہ تیرے ہی کنارے آلگے گا۔” آہستہ سے اُکسایا۔

    ”او نہیں مولابخش۔ یار بڑا انتظار کیا ہے میں نے اب بہت مشکل ہے۔”

    ”اب کچھ مشکل نہیں ہے بھائو، مشکل تب تھا۔”

    ”اب تو آسان ہے،اب سارنگ ہمارے سامنے ڈاکٹر بن کر آیا ہے۔”

    سارنگ نے سستی سے چائے اپنی ٹرے میں رکھ دی، ایک طرف ابا کی ضد اور دوسری طرف اس کا مستقبل تھا۔ سمجھ نہ آیا ابا کو مستقبل بنائے یا مستقبل کو ابا۔ ابھی یہ نہیں معلوم تھا کہ ابا مستقبل بن سکتا ہے یامستقبل ابا۔ دونوں کا اگر ٹکرائو ہو تو بڑا مشکل وقت آجائے گااور دونوں کا ٹکرائو ہونا ہی تھا۔

    مولابخش حسن کو اپنے ساتھ لگاکر آگے بڑھ گیا۔ غالباً وہ خفا ہوکر کمرے کی طرف جانے لگا تھا۔ ”او دیکھ بھائو حسن۔ ہماری خوشی تھی اسے ڈاکٹر بنانا اور اس نے ہماری خوشی پر اپنی جان مٹا دی۔اب اس کی خوشی ہے باہر جانا، تو جان لگادے پر انکار نہ کر۔

  • شریکِ حیات أ قسط ۱

    شریکِ حیات أ قسط ۱

    شریکِ حیات أ قسط ۱

    باب اوّل

    خواب دیکھنے کی عمر کچی ہوتی ہے۔

    سندھیا تو کتنی پیاری ہے!

    جو کھڑکی میں بیٹھ کر اپنے کبوتروں کے پر گنتی ہے، پنجرہ کھول دیتی ہے، کبوتر اڑ جاتے ہیں ایک آواز کے ساتھ۔

    مرغیوں کا ڈربہ کھول دیتی ہے، وہ صحن بھر میں پھرتی ہیں، ٹاں ٹاں کرتی ہوئی، تم سے پیار کرتی ہیں، تمہیں اپنی ماں سمجھتی ہیں۔

    ہائے تم کتنی اچھی ہو۔ پریوں کی کہانیاں پڑھتی ہو اور پیارے پیارے خواب دیکھتی ہو۔

    کھڑکی میں بیٹھ کر اپنے شہزادے کا انتظار کرتی ہو۔سندھیا تم تو سچ میں رانی ہو۔

    تیرے لیے شہزادہ آئے گا دور سے۔

    ”پیاری سندھیا !تم کتنی اچھی ہو۔” کھڑکی میں بیٹھی چڑیا کہتی ہے اور پیاری سندھیا کے چہرے پر گلابیاں بکھر جاتی ہیں ۔ 

    ٭…٭…٭

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۷

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۷

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۷

    قصہ آئیلویُولُو کا

    آٹھویں رات:

    شہرزاد نے اپنی سحربیانی اور شیریں زبانی سے سات راتوں تک تو خدا خدا کر کے قتل سے جان بچائی۔ جب آٹھویں رات آئی تو شاہِ کیواں جاہ کو آداب بجا لائی اور یوں سلسلہ سخن کو شروع کیا کہ راویانِ طلیق اللسان نے بیان کیا ہے کہ حسن بدرالدین کو بدقسمتی اور خوبی طالع نے زار زار رلایا اور دیر تک پھوٹ پھوٹ کر رونا آیا۔ آخر کہا، لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ وہ قادرِ مطلق ہے اور اس کے مرضی کے بغیر کسی کو کوئی قدرت حاصل نہیں۔ میں نے لاکھ جتن کیے کہ احوالِ مراد داستانِ جگر خراش لوگوں کو سناؤں، اپنی مصیبت کا کوئی حل پاؤں مگر کسی نے میری بات نہ سنی۔ سب بے سود ہے، انجام مراد و کشود کا بہر نوع مفقود ہے۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ یہیں زندگانی گزاروں اور جنابِ باری کا شکر بجا لاؤں کہ بے شک اس زمانہء دہشت خیز میں پہنچایا پر ملک الموت سے نہ ملوایا۔ اب صابر شاکر رہوں اور مردانہ وار زندگی کی مشکلوں کا مقابلہ کروں۔ ہمت مرداں مددِ خدا۔

    خود سے یہ عہد کر کے حسن بدرالدین اس گھر میں رہنے لگا۔ وہ گھر جہاں محبت کرنے والی نانی تھی، ایک مسکین مرنجاں مرنج ماموں تھا، ایک بد مزاج و ترش کلام ممانی تھی۔ شعلہ رخسار و گلعذار زلیخا تھی اور بھولا بھالا منا تھا۔ ان سب پر سوا ممانی کا پچھلے شوہر سے بیٹا، غصہ ور اور ہتھ چھٹ بنا تھا۔ یہ انسان تو ویسے ہی تھے جیسے سب انسان ہوتے ہیں لیکن زندگی ویسی نہ تھی جیسی زمانہ ازل سے انسان گزارتا آیا ہے۔ قدم قدم پر جادو کے کرشمے تھے، نئی نئی چیزیں تھیں، ان کے نئے نئے نام تھے، عجب تعجب خیز کام تھے۔ اچانک بجلیاں جل اٹھتی تھیں، بیٹھے بیٹھے گل ہو جاتی تھیں اور گھر والے واپڈا نامی کسی شخص کو کوسنے لگتے تھے۔ دیوار پر لگے چوکھٹے میں ہر وقت کوئی نہ کوئی ہنگامہ بپا رہتا تھا۔ نانی جان فرمائش کرتیں۔ ’’ٹی۔ وی لگاؤ۔‘‘ اور چوکھٹا، آئینہ جہاں نما بن جاتا۔ کبھی پریاں رقص کرتیں تو کبھی پیرانِ فرتوت، عجب کرتوت، لڑتے جھگڑتے نظر آتے۔ ہر چھوٹا بڑا اپنی اپنی تختیاں اٹھائے پھرتا جسے وہ فون کہتے تھے۔ اس عجوبہ روزگار تختی پر بیٹھے بٹھائے کوئی دورہ پڑتا تھا اور گھنٹیاں بجنے لگتی تھیں۔ ادھر گھنٹی بجی، ادھر اسے کان سے لگایا اور مصروف گفتگو ہوئے۔ حسن کا فون بھی بجتا تھا مگر وہ ڈر کر اسے چھپا دیتا تھا، ہاتھ میں نہ لیتا تھا۔ یہ اور ایسی کئی اور چیزیں تھیں جن کی وجہ سے حسن حیران و بے قرار ہوتا تھا اور مثلِ زلف پریشان روزگار ہوتا تھا۔
    پہلا جھٹکا اسے اس وقت لگا جب معلوم ہوا کہ جمعہ کو چھٹی نہیں ہوتی، اتوار کی چھٹی کا رواج ہے۔ حسن حیران ہوا اور کہا لاحول ولا قوۃ ! یہ مسلمانوں کا راج ہے؟ دوسرا جھٹکا تب لگا جب معلوم ہوا کہ اب ملک کا نام ہندوستان نہیں پاکستان ہے۔ حسن کو یہ نام پسند آیا، مگر یہ راز سمجھ میں نہ آیا۔ تیسرا اور سب سے بڑا جھٹکا اسے تب لگا جب چھٹی کے روز ممانی نے اسے حکم دیا کہ مارکیٹ سے انڈے ڈبل روٹی لے آئے۔ یہ کہہ کر ایک کاغذ کا نیلے رنگ کا ٹکڑا اس کے ہاتھ میں تھمایا، اسے پھاٹک کا رستہ دکھایا۔ حسن گھبرایا اور بولا ’’یہ کیا ماجرا ہے؟ یہ مارکیٹ کیا بلا ہے؟ اس کاغذ کے ٹکڑے کا میں کیا کروں؟ کچھ رقم دیجئے کہ جا کر انڈے لاؤں۔‘‘
    یہ سن کر ممانی ناراض ہوئی اور بولی۔ ’’میرا تیرا کوئی مذاق نہیں۔ سیدھی طرح جاتا ہے یا اتاروں جوتی؟‘‘
    ناچار حسن بدرالدین وہاں سے بہ دل اندوہ گیں خستہ و حزیں نکل کھڑا ہوا اور سراسیمہ و پریشان سڑک پر چلنے لگا۔
    اچانک پیچھے سے آواز آئی۔ ’’حسن بھائی حسن بھائی رکیں۔‘‘ مڑا تو دیکھا منا بھاگتا ہوا آرہا ہے۔ وہ حسن کے قریب آیا اور پھولی سانس کے ساتھ بولا۔ ’’میں نے بھی مارکیٹ جانا ہے۔ آج میچ ہے میرا، بال نہیں ہے۔‘‘ یہ کہہ کر حسن کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔