Tag: الف کتاب

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۶

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۶

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۶

    چھٹی رات:

    چھٹی رات آئی تو شہرزاد نے کہانی یوں سنائی کہ حسن بدر الدین نے خود کو ایف سی کالج میں چار درویشوں کی مجلس میں پایا تھا، انہوں نے حسن کو سفوف نشہ آمیز پلایا تھا۔ لیکن پھر چوتھے درویش نے اپنی کہانی سنائی اور حسن کے ہوش و حواس نے سکندری دکھائی۔ گزرا زمانہ یاد آیا، حسن بدر الدین بہت پچھتایا۔ سگریٹ پھینک دی اور زار زار رویا۔ بقیہ درویش، کہ اب نشے میں تھے، اس کے ساتھ مل کر روئے، آخر ایک درویش قلندر نے کہا۔ ’’وہ سب تو ٹھیک ہے، لیکن ذرا اس سگریٹ کے پیسے دیتے جاؤ۔‘‘
    حسن نے آنسو پونچھے اور کہا۔ ’’دولت پیسہ سب غرقاب ہوا، میں خانہ خراب ہوا۔ اب درہم و دینار کیا اور روپیہ پیسہ کیا، میرے پا س پھوٹی کوڑی نہیں ۔ مفلس و بے زرہوں، یہاں ہوں پر دربدر ہوں۔‘‘
    اس پر درویش نے تیوری چڑھائی، چشم خشم دکھائی اور بولا۔ ’’پیسے نہیں تھے تو پہلے کہنا تھا، سگریٹ پینے کیوں بیٹھ گیا؟ خیر ہم یاروں کے یار ہیں۔ ادھار کرسکتے ہیں۔ کل پانچ سو روپے لادینا۔ اور ہاں، آئندہ پیسے نہ ہوئے تو مال نہیں ملے گا۔‘‘
    حسن ناراض ہوا اور بولا۔ ’’بے وقوف کسی اور کو بنانا۔ کیا سونا پیس کر دیا تھا اس نلکی میں؟ اور سونا بھی دیا تھا تو کیا؟ ایک روپیہ تولہ سونا تو میں اپنے ہاتھوں سے خریدتاآیا ہوں۔ اب زیادہ سے زیادہ پانچ روپیہ تولہ ہو گیا ہوگا۔ تم پانچ سو روپے کس چیز کے لیتے ہو؟ اگر دوستی روپے پیسے پر ہی ہے تو ایسی دوستی کو دور سے سلام ہے۔ یہ محبت برائے نام ہے۔‘‘
    چوتھے درویش نے خوش ہوکر باقی درویشوں سے پوچھا۔ ’’آج کیا پلایا ہے اس کو؟ بالکل ٹن ہوگیا ہے۔ مجھے بھی دو، میں بھی ٹرائی کروں۔‘‘
    نعیم نے فکر مند ہوکر کہا۔ ’’آج صبح سے ہی ایسی باتیں کررہا ہے۔ لگتا ہے گھر سے ہی کوئی سستا نشہ کرکے آیا تھا۔‘‘ پھر حسن سے بولا۔ ’’دیکھ بھائی، مفت خوری کا کوئی سین نہیں ہے یہاں۔ پیسے لے کے آیا کر، خود بھی پیا کر، ہمیں بھی پلایا کر۔‘‘
    ان کی یہ گفتگو سنی تو ان کی صحبت سے حسن کی طبیعت نفور ہوئی، پچھلی پاس داشت ومحبت سب کافور ہوئی۔ اچھل کرکھڑا ہوا اور ناراض ہوکر بولا۔ ’’بس میں سمجھا، تم سب مطلب کے یارہو، بے حد شریر قلندرانِ چہار ہو۔ ایسی دوستی سے خدا بچائے۔ اب بندہ روانہ ہوتا ہے، دیوانگی سے ہاتھ چھڑا، فرزانہ ہوتا ہے۔‘‘
    یہ کہہ کرپاؤں پٹختا وہاں سے چلا۔ نعیم اٹھ کر اس کے پیچھے دوڑا اور اس کا بازو پکڑ کر بولا۔
    ’’ٹھہر، میں چھوڑ آتا ہوں۔ پچھلی دفعہ بھی چار سگریٹیں پی کر گیا تھا اور ایکسیڈنٹ کرا بیٹھا تھا۔ موٹر سائیکل ٹوٹل ہوگئی تھی۔ اب ویگن میں جائے گا تو اس حال میں کسی بس کے نیچے آجائے گا۔‘‘
    حسن نے بازو چھڑانے کی کوشش کی مگر اس نے زور سے پکڑ لیا اور گھسیٹ کر لے گیا۔
    تھوڑی دیر بعد حسن بدر الدین نعیم کے ساتھ ایک لوہے کے ویسے ہی گھوڑے پر سوار سڑک پر رواں دواں تھا جیسا گھر میں ماموں نے چلایا تھا۔ ویسے ہی بے شمار گھوڑے اور چرخے اور بغیر گھوڑے کی گاڑیاں سڑک پر چلتی تھیں۔ ان کے شور سے کان پر پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ دھوئیں اور گرد و غبار کا عجب حال تھا، سانس لینا محال تھا ۔ مصیبت میں گرفتار تھا، زندگی کشتی تھی اور یہ منجدھار تھا۔
    خدا خدا کرکے راستہ کٹا اور نعیم حسن بدر الدین کو ماڈل ٹاؤن کے اس مکان کے پھاٹک پر اتار کر پھٹ پھٹ کرتا چلا گیا۔ حسن اندر آیا تو نانی کو گھر کے بڑے کمرے میں بیٹھا پایا۔ اکیلی بیٹھی مٹر چھیلتی تھی۔ حسن پاس جا بیٹھا اور ادب سے سلا م کیا۔ نانی نے واری صدقے ہوکر جواب دیا۔ پھر کہنے لگی۔ ’’آج جلدی آگیا میرے چاند۔ آج پڑھائی نہیں کرنی تھی دوستوں کے ساتھ؟‘‘ پھر جواب کا انتظارکئے بغیر بولی ۔ ’’سارا دن تیری فکر رہی۔ وہ کمبخت بنّا، ہاتھ ٹوٹیں اس کے، اس زور سے مارا تھا میرے لعل کو کہ مجھے لگا چوٹ تجھے نہیں مجھے لگی ہے۔‘‘
    اس شفقت و محبت سے حسن کا دل بھر آیا۔ بے اختیار ہوکر اس نے نانی کی گود میں سررکھ دیا۔ نانی پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی۔ بلائیں لینے لگی۔
    حسن نے پوچھا۔ ’’یہ بنّے بھائی کون ہیں؟‘‘

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۵

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۵

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۵

     

    چھٹی رات قصہ چہار درویش: عروسِ پری چہرہ و پری رُو، نسرینِ تن و قوسِ اَبرُو ملکہء شہرزاد یوں داستاں سرا ہوئی کہ اے سلطانِ جم مرتبہ، قدرِ قدرت، سنجر منزلت، کہانی حسن بدرالدین کی نے یہ موڑ لیا تھا کہ شہرِ مینو سواد لاہور کے ایک مقام بنامِ ایف سی کالج میں حسن بدر الدین کو قسمت نے پہنچایا تھا اور وہاں اس نے ایک سنسنان باغ بنامِ بوٹینکل گارڈن میں خود کو چار قلندر درویشوں کی مجلس میں پایا تھا۔ وہاں انہوں نے کسی سفوف کی بھری نلکی سلگا کر حسن کے منہ سے لگائی تھی، آتشِ شوق بھڑکائی تھی۔ اس کے کش لگانے سے ایسا سرور ہوا کہ رنج و غم دور ہوا۔ حسن نے سوچا خدائی نعمت ملی، دن کیا ہے، روزِ عید ہے۔ یہ جگہ خانہء امید ہے۔ اس راح روح ، کیمیا ئے فتوح کی دو تین مزید نلکیاں مل جائیں تو دنیا باغِ ارم بن جائے گی۔ ان چار درویشوں کی محبت نے اس کے دل میں جگہ پائی اور حسن بدر الدین کی خوب بن آئی۔پوچھا ’’تم کون ہو اور کہاں سے آتے ہو؟ یہاں کیونکر آنا ہوا اور کہاں جاتے ہو؟ مجھ سے اپنا سب حال بیان کرو اورکُل راز عیاں کرو، کہ تم مجھے دل و جان سے زیادہ عزیز ہو۔ اتنی ہی دیر میں معلوم ہوگیا کہ خوش سلیقہ و باتمیز ہو۔‘‘ یہ محبت بھری تقریر سن کر پہلے درویش نے جو حسن کے دائیں ہاتھ بیٹھا تھا اور جس کی چگی داڑھی کے بال سوئیوں کی طرح کھڑے تھے، ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بولا:’’ہم میں سے ہر ایک کی ایک ایک کہانی ہے ۔ایسی عجیب و غریب کہ پہلے کبھی دیکھی نہ سنی۔ تمہارا اصرار ہے تو سناتے ہیں۔ وقت اچھا کٹ جائے گا۔ ویسے بھی میرے موبائل کی بیٹری لو ہے۔ اب کرنے کو کچھ نہیں۔ تو لو سنو میری کہانی۔‘‘

    درد بھری کہانی، پہلے درویش کی زبانی:

    پہلے درویش نے اپنی داستان یوں سنائی کہ میں ایک کلرک کا بیٹا ہوں۔ اللہ کی طرف سے آئے تو بندہ جھیل جائے، جو انسان خود اپنے اوپر مصیبت ڈالے تو ا س کا کیا علاج؟ اللہ کی طر ف سے سات پشتوں نے غربت کے علاوہ کسی چیز کا منہ نہ دیکھا تھا لیکن قسمت نے موقع دیا اور میرے ابو سرکاری محکمے میں کلرک لگ گئے۔ لیکن ابو کو ایمانداری کی لاعلاج بیماری لگ گئی۔ جس گھر میں ہن برسن سکتا تھا، وہاں برسات کے موسم میں چھت ٹپکنے کے علاوہ کچھ نہ برسا۔ سونے پر سہاگہ، میرے ماں باپ نے مجھے انجینئر بنانے کا خواب دیکھنا شروع کردیا۔ میں اور میری بہن دو ہی اولادیں تھیں لہٰذا سب ارمانوں کا نشانہ میں ہی بنا۔ بہن کو سرکاری سکول میں ڈالا گیا اور مجھے انگریزی سکول میں۔ میرے خرچے پورے کرنے کے لئے میری ماں نے لوگوں کے گھروں میں کام کرنا شروع کردیا۔ اٹھتے بیٹھتے مجھے یہ سننے کو ملتا تھا کہ یہ ساری محنت و مشقت ا س لیے کی جارہی ہے تاکہ میں انجینئر بنوں اور نہ صر ف خاندان کا نام روشن ہو بلکہ سارے دکھ دلدردور ہوں اور بہن کی اچھی سی جگہ شادی ہوسکے۔ اور میں ؟ اب آپ سے کیا چھپانا یارو، مجھے انجینئرنگ میں خاک دلچسپی نہیں۔ انٹرسٹ ہے تو صرف ایک چیز میں: کھانااور صرف کھانا۔۔۔پکانا، پیش کرنا، سجانا، کھانا۔۔۔ مجھے کھانے سے متعلق ہر چیز سے عشق ہے۔ اپنے باپ سے چھپ کر تین محلے چھوڑ کر ایک تندو پر نوکری کرلی۔ گرمیوں کی چھٹیاں تھیں، میں مزے سے تندور جاتا ، روٹیاں لگاتا اور وہاں کھانا پکتے دیکھتاا ور سیکھتا۔ ایک دن میرے باپ نے مجھے دیکھ لیا۔ اس دن میرا باپ بہت رویا۔ ماں بھی روئی، بہن بھی روئی۔ صرف میں نہیں رویا۔ میں نے ماں باپ سے صاف کہہ دیا کہ مجھے کمپیوٹروں سے نفرت ہے اور کھانے سے عشق۔ میں کمپیوٹر انجینئر نہیں شیف بننا چاہتا ہوں۔ صدمے سے میرے باپ کو ہارٹ اٹیک ہوگیا ۔ وہ دن اور آج کا دن میں ان کے سامنے کھانا پکانے کا نام نہیں لیتا۔ ویسے یوٹیوب پر میں نے بہت سے کوکنگ چینل سبسکرائب کررکھے ہیں۔لیکن انہیں دیکھ دیکھ کربس آہیں بھرتا ہوں اور کڑھتا ہوں۔ زبردستی کی انجینئرنگ گلے پڑی ہے ، نہ رکھی جاتی ہے نہ چھوڑی جاتی ہے۔ مزے کی با ت یہ کہ میری بہن کمپیوٹروں کی دیوانی ہے لیکن اس کو زبردستی کھانے پکانے پر لگایا جاتا ہے کہ آگے کام آئے گا۔ وہ میری سب کتابیں پڑھتی ہے ، میری اسائنمنٹس وہی بناکر دیتی ہے۔ اسی کی وجہ سے میں اب تک پاس ہوتا آیا ہوں۔ لیکن میرا دل مر گیا ہے۔ جب یہ سوچتا ہوں کہ ساری زندگی کمپیوٹر کے آگے بیٹھ کر گزارنی پڑے گی تو خودکشی کرنے کو دل چاہتا ہے۔ پھر اپنے بوڑھے باپ اور بیمار ماں کا خیال آتا ہے تو رک جاتا ہوں۔ بس دوستو! اس غم کو بھلانے کے لئے ڈرگزلیتا ہوں۔ پھر یہ غم ستاتا ہے کہ ان ڈرگز کا خرچہ میری ماں اپنی ہڈیاں توڑ کر دے رہی ہے تو خود سے نفرت ہونے لگتی ہے۔ اس دکھ کو بھلانے کے لئے مزید ڈرگز لیتا ہوں۔ اور یوں یہ شیطانی چکر چلتا رہتا ہے جس میں میں پھنس گیا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ مردِ درویش رونے لگا، طنابِ ضبط کھونے لگا۔ بصد دقت آنسو پونچھے، اپنی نلکی کا آخری کش لگایا اور کہا۔ ’’یار ایک سگریٹ اور دینا۔‘‘پھر دوسرے درویش کی طرف اشارہ کرکے کہا۔ ’’اب تم اپنی داستان سناؤ۔‘‘

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۴

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۴

    الف لیلہ دو ہزار اٹھارہ داستان ‘‘ 

    چوتھی رات

    دیکھنا حسن بدر الدین کا جادو کے کرشمے اور ملنا صغیر و کبیر سے: 

    چوتھی رات ہوئی تو بادشاہ شہرزاد کے پاس آیا اور حکم دیا کہ کل کی کہانی کا بقیہ حصہ ہم کو سناؤ اور دو گھڑی ہمارا دل بہلاؤ۔ وہ رشکِ پری بہ صد نازِ دلبری بولی کہ بادشاہ کی خوشی ہرطرح منظور ہے۔ ہم اس میں راضی ہیں جو مرضیءحضور ہے۔ خدا جہاں پناہ کو خضروالیاس کی عمر عطا فرمائے اور دشمنوں کی ایک تدبیر نہ چلنے پائے۔
    نہ کیوں ہو تیرے دستور العمل سے شادماں عالم
    کرم کرنا تیری عادت، جفا سے تجھ کو بیزاری
    مقابل میں ترے خواہانِ زینت ہواگر دشمن
    کرے زخموں سے تیری تیغ اس کے تن پہ گلکاری
    اس تقریرِ خوشامدانہ کے بعد شہرزاد یوں گلفشاں ہوئی، زمزہ سنج بیاں ہوئی کہ جب وہ مردِ مسلمان، خوش آواز و خوش الحان حسن بدر الدین کے گلے لگ کے زارزار رونے لگا، اشکوں سے منہ دھونے لگا تو حسن کا دل جو پہلے ہی رنج والم سے معمور تھا، مزید بھر آیا اور وہ بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ بہت دیر تک دونوں روتے رہے۔ جب گریہ وزاری اور آہ و بے قراری سے دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہوا تو حسن نے پوچھا۔ ’’آپ کون ہیں اور زار زار کیوں روتے ہیں؟ کیا میری طرح آپ کے بھی نصیب سوتے ہیں؟‘‘
    یہ سن کر اس مردِ خوش گلو نے سرد آہ بھری اور کہا ۔’’کیا پوچھتے ہو بیٹا۔ یہ تو وہ سوال ہے جو میں آج تک خود سے پوچھتا آیا ہوں۔ میں کون ہوں، کہاں ہوں ، جہاں ہوں وہاں کیوں ہوں۔ بلھیا کی جاناں میں کون؟‘‘
    یہ تقریرِ دلپذیر سن کر حسن مزید چکرایا، کچھ سمجھ نہ پایا۔ اس مردِ مسلمان نے جو حسن کے چہرے پر ایک رنگ آتے ایک جاتے دیکھا تو ہمدردی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پوچھا۔ ’’خیر، مجھے چھوڑو اپنی سناؤ ۔ سب خیر تو ہے۔ اتنی رات گئے کیوں جاگتے ہو؟ کیا آج پھر ممانی نے کچھ کہہ دیا؟‘‘
    حسن نے بصدِ عاجزی اپنا حال عرض کیا اور کہا۔ ’’ایک زنِ مکارہ کہ ساحرہ بدانجام تھی، نے میرے باپ کو بزورِ جادو بکرابنایا، ملکِ عدم کو پہنچایا۔ مجھے زمانے کی گردش میں پھینکا اور میں یہاں آن پہنچا۔ اب کیونکر یہاں سے جاؤں کہ بستہ ء تقدیر ہوں۔ سلسلہ ء قضا میں اسیر ہوں۔ یہ بڑی طویل کہانی ہے، خلاصہ یہ کہ موت کی مہمانی ہے۔‘‘
    وہ مردِ بزرگ غور سے حسن کی داستان سنتا تھا، بولا ’’اچھا اچھا، کالج میں ڈرامہ کررہے ہو؟ خوب، بہت خوب ۔ اچھے ڈائیلاگ ہیں۔ کس کی تحریر ہے؟ آغا حشر؟ چلو اسی بہانے کچھ کتابیں ادب کی پڑھوگے۔ ذہن وسیع ہوگا۔ آج کل کتابوں کو کون پوچھتا ہے۔ دن بھر دکان پر بیٹھا مکھیاں مارتا ہوں اور کتابوں سے گرد جھاڑتا ہوں۔ افسوس کیسے کیسے گوہرِ نایاب گاہکوں کے انتظار میں بوسیدہ ہورہے ہیں۔‘‘
    یہ کہہ کر وہ مردِ پیر آبدیدہ ہوا، اپنی خوش کلامی سے حسن کا پسندیدہ ہوا۔ حسن بدر الدین کہ سودا گر بچہ تھا، دکان کا نا م سن کر کان کھڑے ہوئے، پوچھا۔ ’’کتابوں کی دکان ہے آپ کی؟‘‘
    وہ بولا۔ ’’لیجیے سنیے اب افسانہء فرصت مجھ سے۔
    آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا
    ٹھیک کہتے ہو۔ کتابیں نہیں کہنا چاہیے۔ زروجواہرہیں، لعل و گوہر ہیں، بزرگوں کے نسخے ہیں۔ لیکن کوئی ان کا قدر دان نہیں۔ بِکری نہ ہونے کے برابر ہے۔ اوپر سے مہنگائی ہے کہ بڑھتی جاتی ہے۔ بجلی کا بل اس مہینے اتنا آیا ہے کہ سوچتا ہوں بجلی کٹوادوں۔ آج سارا دن واپڈا کے دفتر کے چکر لگاتا رہا ہوں۔ رشوت مانگتے۔۔۔‘‘ ابھی یہ تقریر جاری تھی کہ یکایک کمرہ روشنیوں سے جگمگا اٹھا ۔ وہ مردِ خوش آوا ز بولا۔ ’’لو آ گئی محترمہ لائٹ۔ لو بیٹا اب اپنے ماموں کو اجازت دو۔ تم بھی جاکر سوجاؤ، صبح کالج جانا ہوگا۔ ‘‘

  • سوئ بار

    سوئ بار

    سوئِ بار
    (افسانہ)
    میمونہ صدف

    ٹھنڈی وڈاں گاو ¿ں کے رشک خان کی پوتی گاو ¿ں کی اونچی نیچی پگڈنڈیوں پہ اچھلتی کودتی زمین کی دراڑوں کو دیکھتی جاتی ہے ۔ گہری اور بڑی دراڑیں جنھوں نے زمین کو اندر تک چیر ڈالا تھا۔ اماں بتاتی تھی کہ یہ دراڑیں برسوں پہلے تب پڑی تھیں جب اس علاقے میں شدید بھونچال آیا تھا ، آبادی کی آبادی تلپٹ ہوگئی تھی ۔
    ”اماں بھونچال کیسے آتا ہے؟“ اس کی آٹھ جماعتیں پڑھی ماں بتاتی کہ جب زیرِ زمین پلٹیں سرکتی ہیں تو بھونچال آتا ہے ، زمین ہچکولے کھانے لگتی ہے اور دادا ایسے میں ٹھنڈی آہیں بھرتے کہا کرتے تھے کہ جب زمین پہ بوجھ بڑھ جاتا ہے، تو زمین اس بوجھ کو اتار پھینکنے کو انگڑائیاں لیتی ہے ۔ اس کا ننھا ذہن سوچتا کہ زمین پر آخر کس شے کا بوجھ ہے ؟ انسانوں اور ڈھورڈنگروں کایا شہرکی بڑی بڑی عمارتوں کا ؟
    دادا کہتے تھے ۔ ” جب حضرت انسان حد سے تجاوز کرنے لگتا ہے تو پہاڑ دھرتی بنانے والے کے حضور گزارش کرتے ہیں کہ ایک حکم دیں اور وہ سرک جائیں ، ہوا بھی سوال بن کر کھڑی ہو جاتی ہے کہ آیا وہ سب اڑا لے جائے ، پانی چاہتا ہے کہ وہ سب بہا لے جائے لیکن قدرت خاموش رہتی ہے ۔بنانے والا حکم نہیں دیتا ، مہلت دیتا ہے۔۔ تبھی آدم شیر ہوتا ہے ۔تباہ ہو کر بھی اصلاح نہیں کرتا ، پچھتاتا نہیں ہے۔ سوال کرتا ہے ، اکڑتا ہے اور پھر سے وہی دہراتا ہے ۔“
    رشک خان کی پوتی ناسمجھی سے بس اثبات میں سر ہلا دیتی ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ دادا کیسی باتیں کرتے ہیں اور رشک خان ماضی میں کھو جاتا جہاں برسوں پہلے زمین کو سرکنے کا حکم جاری ہو ا تھا ۔
    ٭….٭….٭
    ٹھنڈی وڈاں گاو ¿ں میں ایک ہی بات زبانِ زد عام تھی کہ زمان خان کے اِکو اِک پتر کا ضمیر بگڑ گیا ۔ شہر بھیجا تھا پڑھنے کو ، عقل مت سیکھنے کو، افسر بن کر لوٹنے کو ۔ مگر کچھ نہ بنا بس ناخلف بن گیا ، ناشدنی، نافرجام۔ اب اسے انہی القابات سے نوازا جاتا ۔ کبھی و ہ جو باپ کی نیک نامی کا باعث بنا، اب بدنامی کا باعث بن رہا تھا۔ پہلے گاو ¿ں والے اسے سر آنکھوں پر بٹھاتے، اب سب اسے آنکھیں دکھاتے ۔ وہ جو قابل ِ مثال رہا تھا۔
    ”دیکھ شیر گل جیسا بن۔ کتنا لائق نکلا ۔ پورے گاو ¿ں کیا آس پاس کے گاو ¿ں میں بھی کوئی اس جیسا نہیں ۔“ اب بھی قابلِ مثال ہی تھا ۔
    ”خبردار جو شیر گل سا وتیرہ اپنایا۔ ناعاقبت اندیش۔ ہماری سات پیڑھیوں میں اس سا کوئی نہیں نکلا۔“
    تو وہ جو شیر گل تھا اس کے باپ دادا اور تایا کا اس گاو ¿ں میں دیگر لوگوں کی طرح ایک ہی کاروبار تھا ۔ مہاجن ، جو مجبوروں کو قرض دیا کرتے اور سود سمیت وصول کیا کرتے ۔ آس پاس کی دکانوں پر بھی یہ نہیں تو کم و بیش اسی قسم کاکاروبار عام تھا ۔ کوئی سرحد پار سے غیر قانونی اسلحہ منگوا کر دکانوں کی زینت بنا رہا ہے ، تو کوئی پوست کی کاشت سے کما رہا ہے ۔ سب حلال اور باعثِ برکت مانا جاتا ۔کالا دھن سفید سمجھ کر وصولا اور بیچا جاتا۔ اسی مال سے صدقہ کیا جاتا ، خیرات کی جاتی، زکوة دی جاتی۔ وہاں کوئی قاعدہ قانون نہ تھاکہ ان کے اپنے قاعدے اپنے قانو ن تھے اور صدیوںسے ایسا ہی چلا آرہا تھا ۔
    شیر گل جب شہر سے آتا نجانے کس کس کو ایسے کاروبار سے جڑا پاتا ، اندر کہیں سے برا مناتا لیکن ظاہر نہ کرتا ۔ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہی سہی پر کوئی درجہ تو تھا ۔جب رہا نہ گیا تو ایک روز بول پڑا ۔
    ”کاکا یہ کام چھوڑ دو ۔ یہ سارا سود ہے ۔ خدا اور اس کے رسولﷺ کے خلاف اعلان جنگ، یہ آمدن حرام ہے۔ “ زمان خان سکتے میں آگیا ۔ یہ کون سی زبان تھی جو وہ بول رہا تھا ۔ کون سا فتویٰ وہ جاری کر رہا تھا۔
    ”کون کہتا ہے کہ آمدن حرام ہے ؟“
    ”وہ قرض جو نفع لے کر آئے حلا ل کیسے ہو سکتا ہے؟“ زمان خان کا جوان بیٹے پر ہاتھ اٹھ گیا تھا۔
    ”اسی کمائی سے تیرے دادا نے ہمیں پالا اور اسی کمائی سے ہم اپنی نسل کو پال رہے ہیں ۔ اب یہ حرام ہوگئی۔ پاپ چڑھ گیا۔“ وہ انیس سالہ شیر گل کو مارتا رہا اور وہ مار کھاتا رہا ۔ جب وہ مار مار کر ہانپنے لگا تو اس نے شیر گل کے منہ پر تھوک دیا۔
    ”باپ دادا کو حرام خور کہتا ہے۔ شہر اس لیے بھیجا تجھے؟“ شیر گل نے اپنا منہ آستین سے پونچھ ڈالا پھر بھی مو ¿دب کھڑا رہا ۔
    ”شہر حق اور سچ کی تلاش میں بھیجا تھا نا۔ اب جب حق اور سچ کی بات کرتا ہوں، تو سب سے بڑا جھوٹا بھی میں ہوں اور باطل بھی میں۔“
    ”سائنس پڑھنے کو بھیجا تھا، تو ہمیں مذہب پڑھا رہا ہے۔“
    ”سائنس پڑھنا اور مذہب پڑھنا ایک برابر ہے ۔ سچ ہے ۔“
    ”کہاں سے آیا تیرا یہ سچ؟“ زمان خان دہاڑا تھا۔ پہلے کبھی دہاڑا نہیں تھا مگر اب اس سے کم پر بات نہ بن رہی تھی ۔
    ”آسمانوں سے اترا ہے ۔“ وہ نظریں جھکائے کھڑا رہا ۔مو ¿دب بنا رہا۔
    ”نافرمان ہے تو، خمیدہ آگیا تجھ میں ، میری تربیت میں۔ کیا تجھے دکھتا نہیں کہ سب اسی کاروبار سے کما رہے ہیں ، کتنی برکت ہے اس میں ؟“
    ”حرام میں کبھی برکت نہیں ہوتی۔ تبھی یہاں کی عوام کبھی خوشحال نہیں ہوتی ۔“
    ”سب غلط ہیں کیا؟“ اس نے کف اڑایا۔
    ”جو یہ کرتے ہیں وہ غلط ہیں۔“
    ”ایک تو سچا ہے؟“ نخوت سے دیکھا گیا۔
    ”جو یہ نہیں کرتے سب سچے ہیں۔“ ادب سے جواب آیا۔
    ”مردود ہو گیا ہے تو۔“ زمان خان اکلوتے بیٹے کا ماتم منانے کو سر پیٹنے لگا تھا۔
    بات پھیلتے پھیلتے ٹھنڈی وڈاں تو کیا آس پاس کے چھوٹے دیہات تک جا پہنچی تھی۔ سو اب پنجایت بٹھائی گئی۔
    ”تو ہمارے کاروبار کو حرام کہنے والا کون ہوتا ہے؟“ سب گاو ¿ں والے بیٹھے تھے ۔ وہاں ایک ہی عاصی کھڑا تھا ۔ انیس سالہ جوان شیر گل۔
    ”میری کیا مجال۔ یہ تو خدا اور اس کا رسول ﷺ کہتے ہیں ۔“
    ”تجھے کیا خدا نے خود کہا یا فرشتے بھجوائے؟“ بڑا زمیندار ٹھنکا تھا ۔
    ” کلام بھیجا گیا ہے وہاں لکھا ہے سب۔ وہاں درج ہے سب ۔“ وہ سر جھکائے ، ہاتھ باندھے کھڑا تھا ۔
    سب کی تیوریاں چڑھیں۔

  • بیلینس شیٹ ۔ مکمل ناول

    بیلینس شیٹ ۔ مکمل ناول

    بیلنس شیٹ
    (novelette)
    نشاءوقار
    ”ایکسکیوزمی آر یو کھنک؟“ امتیاز سپر مارکیٹ میں مہینہ بھر کی گروسری کی شاپنگ کرکے میں بل کی ادائیگی کرنے قطار میں کھڑی اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی کہ پیچھے سے آنے والی کچھ اجنبی کچھ شناسا آواز پر میں نے چونک کر دیکھا۔
    ”یس آئی ایم!“ میں نے سوالیہ نظروں سے اپنے سامنے کھڑی کالے عبایہ اور کالے ہی اسکارف کا نقاب پہنے خاتون سے پوچھا جو ہاتھوں میں کالے دستانے اور پاو ¿ں میں کالے موزے پہنے ہوئے تھیں۔ دیکھنے سے صاف لگ رہا تھا کہ خاتون شرعی پردہ کرتی ہیں۔
    ”میں شبی فاطمہ! سر شاہ خالد کے کوچنگ سینٹر میں بی۔ کام کی کلاسز میں ہم ساتھ ہوتے تھے شریف آباد والے کیمپس میں۔ یاد آیا کچھ؟“ خاتون نے تفصیل سے اپنا تعارف کرایا اور میں نے حیرانی سے اسے دیکھتے ہوئے اپنی ٹرالی آگے بڑھائی۔
    ”کیا ہوا؟ پہچانا نہیں؟“ میری حیرانی کو اجنبیت سمجھتے ہوئے وہ ایک دم سے نارمل ہوگئی۔
    ”ارے نہیں یار پہچان لیا؟ “ میرے اتنا کہنے پر اس نے آگے بڑھ کر مجھے گلے لگالیا۔
    ”بس تمہاری ظاہری حالت کی وجہ سے تمہیں پہچاننے میں مجھے تھوڑی دقت ہوئی۔“ میں چاہ کر بھی اپنی حیرانی اس سے چھپا نہ پائی جسے اس نے کمال مہارت سے نظر انداز کر دیا ۔اس دوران ہم دونوں اپنے بل ادا کرکے سپر مارکیٹ کے باہر آکر کھڑے ہوگئے۔ اتنے میں علی جو گاڑی میں بچوں کے ساتھ بیٹھے میرا انتظار کر رہے تھے، مجھے دیکھ کر گاڑی میرے نزدیک لے آئے۔
    ”علی! ان سے ملیں، یہ میری کوچنگ فرینڈ شبی فاطمہ ہیں اور فاطمہ، یہ میرے شوہر علی مرتضیٰ ہیں۔“ میں نے علی اور فاطمہ کا تعارف کرایا۔ رسمی سی علیک سلیک کے بعد فاطمہ گاڑی میں میرے بچوں کی طرف اشتیاق سے دیکھنے لگی۔
    ”یہ تمہارے بچے ہیں کھنک ؟“



    ”جی جناب الحمدللہ! چلو بچو خالہ سے شیک ہینڈ کرو۔ ماشاءاللہ سے اللہ نے مجھے چار بچوں سے نوازا ہے۔ بڑے دونوں اپنی دادی کے پاس ہیں۔ چھوٹوں کو لے کر ہم لوگ شاپنگ پر آگئے۔“ میں نے بچوں کا تعارف کراتے ہوئے فاطمہ کو جواب دیا۔ اس دوران علی ٹرالی کا سارا سامان گاڑی میں منتقل کرچکے تھے اور خشمگیں نگاہوں سے مجھے گھور رہے تھے کیونکہ پیچھے سے آنے والی گاڑیاں مسلسل ہارن دے رہی تھیں۔ ایک تو اتوار اوپر سے مہینے کی شروع تاریخیں جس کی وجہ سے سپر مارکیٹ آنے والوں کا ہجوم اپنے عروج پر تھا۔
    ”یہ میرا موبائل نمبر ہے مجھ سے رابطے میں رہنا۔“ فاطمہ نے مجھے گاڑی میں بیٹھتا دیکھ کر جلدی سے مارکیٹ کے اداشدہ بل پر اپنا موبائل نمبر لکھ کر مجھ سے کہا اور تیزی سے پیچھے ہٹ گئی تاکہ علی گاڑی آگے بڑھالے کیونکہ پیچھے سے آنے والی گاڑیوں کے ہارن مسلسل بج رہے تھے۔ گاڑی تھوڑی سی آگے بڑھی تو میں نے بیک مرر سے دیکھا کے سفید کلر کی نیو ماڈل کرولا میں ایک آدمی اس کی ٹرالی کا سامان رکھ رہا تھا۔ حلیے سے وہ ادھیڑ عمر کا شخص ڈرائیور لگ رہا تھا جب تک وہ میری نظروں سے اوجھل نہیں ہوگئی میں تب تک بیک مرر سے اسے دیکھتی رہی۔ اس دوران وہ گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کر اس میں بیٹھ چکی تھی۔ اس کی ظاہری اور مالی حالت کے علاوہ اس کا بات کرنے کا انداز اور لب و لہجہ اس فاطمہ سے یکسر مختلف تھا جسے میں جانتی تھی۔
    ”مما! دیکھیے بھائی جان مجھے ٹیبلیٹ نہیں دے رہے۔ کب سے اکیلے اکیلے گیم کھیل رہے ہیں اب میری ٹرن ہے۔ مجھے دلوائیے بھائی جان سے ٹیبلیٹ۔“ میری سب سے چھوٹی بیٹی مناہل نے روتے ہوئے مجھے اپنی جانب متوجہ کیا تو میں جو ابھی تک فاطمہ کے بارے میں سوچ رہی تھی، اُس کیفیت سے نکل کر سب سے پہلے اس پیپر کو اپنے پرس کی پاکٹ میں سنبھال کر رکھا۔
    ”یحییٰ! نہیں تنگ کرو چھوٹی بہن کو اب اس کی ٹرن ہے اسے دو ٹیبلیٹ۔“ میں نے دونوں بچوں میں جھگڑا نمٹایا اور علی کی طرف متوجہ ہوگئی جو حسب عادت کراچی کے بے ہنگم ٹریفک اور غیر ذمہ داری سے گاڑی ڈرائیو کرتے لوگوں کی وجہ سے غصّے میں لال پیلے ہورہے تھے۔” کراچی میں اگر آپ کو ڈرائیونگ کرنی ہے تو اپنی گاڑی احتیاط سے چلانے کے ساتھ ساتھ آس پاس چلتی گاڑیوں کو بھی بچانا ہے۔ سارے جہاں میں لوگ ڈرائیونگ کے دوران اپنی جان کی فکر کرتے ہیں اور یہاں اپنے علاوہ آس پاس کے لوگوں کی جان کی فکربھی آپ کو ہی کرنا پڑتی ہے ۔“ علی حسب عادت جب تک گھر نہیں
    آگئے مستقل بڑبڑاتے رہے۔ باپ کو غصّے میں دیکھ کر بچے دبک کر بیٹھے رہے اور میرے دماغ سے بھی فاطمہ وقتی طور پر محو ہوگئی۔

  • فیصلہ

    فیصلہ

    قتل کیس پر مبنی ایک سبق آموز سچ بیانی
    فیصلہ
    محمد ظہیر شیخ
    راج نگرکے تھانیدار کی بدقسمتی کہ ہر دوسرے تیسرے دن کوئی نہ کوئی ایسی خبر ملتی کہ مجبوراً پولیس کو پہنچنا پڑتا تھا۔ چھوٹے موٹے واقعات اپنی جگہ تھے کہ اطلاع ملی کہ راجہ شہباز کے بیٹے کو قتل کر دیا گیا ہے۔ گاﺅں کی بات تھی جنگل کی آگ کے مانند پورے علاقے میں فوری طور پر پھیل گئی۔
    ٭….٭….٭
    راج نگر یوں تو گاﺅں ہی تھا، مگر اس کی آبادی اور رقبہ کسی چھوٹے شہر سے کم نہ تھا۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ایک حلقے کی سیٹ حاصل کرنے کے لیے تمام متعلقہ امیدواروں کی توجہ کا مرکز راج نگر ہوتا تھا۔ یوں تو راج نگر کی آبادی کا بڑا حصہ راجپوت خاندان پر مشتمل تھا، مگر اس کے باوجود کم ازکم چھے سات مختلف برادریوں کے لوگ بھی اسی گاﺅں کے باسی تھے۔ ساری برادریوں کے ہوتے ہوئے بھی راجپوتوں کو اکثریت حاصل تھی۔ اس لیے کسی قسم کے سماجی یا سیاسی فیصلے کرنے میں ان کے پاس جملہ حقوق محفوظ تھے اور کسی برادری کے کسی فرد کی مجال نہ تھی کہ ان کے فیصلوں پر احتجاج یا نافرمانی کرے۔ باقی لوگ تو اللہ اللہ کرکے اور مصلحت کے تحت جی حضوری کرکے وقت گزار رہے تھے مگر جب سامنے اپنا ہی خون آجاتا تو بات بڑی دور تک چلی جاتی۔ اپنوں سے محبت تو ہوتی ہے، مگر جب وہی ادشمنی پر اتر آتے ہیں تو قیامت کا سماں ہوتا ہے۔
    راجہ عامر بچپن ہی سے بہت نازک طبیعت واقع ہوا تھا۔ اسکول کے لڑکے اکثر اسے لیڈی، لیڈی کہہ کر چھیڑتے تھے۔ اسے خود بھی کبھی کبھی احساس ہوتا تھا کہ وہ جس گاﺅں اور فیملی سے تعلق رکھتا ہے وہاں تو حاکم رہا جاتا ہے ، مگر وہ الگ طبیعت رکھتا تھا ۔ گاﺅں میں کوئی بھی شادی بیاہ یا کسی بھی قسم کی تقریب میں شامل ہونا اسے باعثِ شرم محسوس ہوتا تھا۔ لڑائی جھگڑا کرنا تو درکنار وہ کسی ایسی جگہ جانا بھی ناپسند کرتا تھا جہاں اس قسم کی کسی بات کا اندیشہ ہو۔ اسکول سے کالج پہنچا تو مسیں بھیگی اور نوجوانی سے جوانی کا سفر طے ہوا، مگر طبیعت کی وہ شادابی برقرار رہی۔ گھر والے تو ایک طرف گاﺅں والے بھی حیرت زدہ تھے کہ یہ کیسا راجپوت ہے جو ہر ایک سے مسکرا کر ملتا ہے اور گریبان بھی کھلا نہیں رکھتا۔ باقی برادریوں کے تمام افراد اس کی دل سے عزت کرتے تھے مگر اپنی برادری میں وہ کم حیثیت شمار ہوتا تھا ۔ وہ ایسا پھول تھا جو صرف دکھائی دینے کے لیے تھا، مگر پھول کانٹوں کے بغیر ہو یہ کیسے ممکن ہے۔ اسی لیے اس کے ساتھ بھی ایک زہریلا کانٹا تھا، اس کا بڑا بھائی ناصر……..
    عامر شبنم تھا تو ناصر شعلہ، دونوں بھائیوں کی آپس میں گاڑھی چھنتی تھی۔ ہر کام مل جل کر کرتے، ہر راز ایک کا دوسرے کو پتا ہوتا تھا۔ کھانا پینا اور کھیلنا حتیٰ کہ سونے کا کمرا بھی کا مشترکہ تھا، مگر جب بات آتی لڑائی جھگڑے کی تو عامر بھیگی بلی اور ناصر بھیڑیا بن جاتا تھا۔ ناصر بلا کا لڑاکا تھا۔ گھر والوں کی روک ٹوک نہ ہونے کے باعث وہ ہر پھڈے میں پیش پیش ہوتا تھا۔ اس کے والد راجہ دلاور ایک سرکاری کالج کے پرنسپل تھے، گھر میں دولت کی ریل پیل تھی۔ عیاش پرست گھرانہ تھا۔ مکان کی تعمیر کے علاوہ جو کچھ کمایا جاتا عیش و عشرت میں اڑا دیا جاتا۔ گزر بسر اچھے سے ہو رہی تھی اور کیا چاہیے تھا۔ مستقبل کی فکر اس لیے بھی نہیں تھی کہ چار پانچ سال بعد ریٹائرمنٹ کی رقم سے کاروبار کرنے کا ارادہ تھا۔ اسی لیے کسی بھی پھڈے کی صورت میں فوری طور پر ناصر کو مکھن کے بال کی مانند بچا لیا جاتا۔ زیادہ باز پرس نہ کی جاتی کیونکہ یہی ایک ہتھیار تھا جس کی بدولت وہ برادری ہر سو حاوی تھی۔ ناصر، عامر کو اکثر طنز کا نشانہ بناتا مگر عامر ٹس سے مس نہ ہوتا۔ وہ اکثر کہتا ”دیکھ عامرے! یہ جو طاقت ہے نا یہ مرد کی شان ہوتی ہے ۔ اگر انسان اس سے محروم ہو جائے یا جان بوجھ کر اسے زنگ لگا دے تو پھر مرد اور خواجہ سرا میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔“
    ”ہوں! تو اس کو تم مردانگی کہتے ہو۔“ وہ مسکراتے ہوئے سادہ سے انداز میں کہتا۔
    ”اگر مظلوموں کو دبانے کو، ان کا حق چھین لینے کو اور اپنے سے کمزور لوگوں کو پیٹنے کو تم مردانگی سمجھتے ہو تو میں ایسی مردانگی پر سو بار لعنت بھیجتا ہوں۔“
    ”ایک دن آئے گا جب میری بات تمہاری سمجھ میں آجائے گی ۔ جب تمہیں احساس ہوگا کہ ہر چیز تمنا اور محبت سے نہیں ملتی، کچھ حقوق ایسے ہوتے ہیں جو چھیننے پڑتے ہیں ۔ پھر تم میرے پاس آﺅ گے اپنا ہیجڑا پن لے کر……
    ”دیکھنا ایک دن تمہیں میری باتیں یاد آئیں گی عامرے۔“وہ میٹھی ڈانٹ پلاتے ہوئے عامر سے کہتا اور پھر ایک دن عامر کو اس کی بات سمجھ آگئی۔ وہ پریشان تھا کہ اپنی مشکل کیسے ناصر سے بیان کرے۔ اسے بیان کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑی کیونکہ ناصر نے اس کی حالت سے خود ہی اندازہ لگا لیا کہ کوئی گڑ بڑ ہے۔ عامر اپنی کتب لیے بیٹھا تھا کہ ناصر اس کے پاس پہنچ گیا۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو ناصر زیر لب مسکرا رہا تھا ۔ اسے معلوم تھا کہ اب اس کی خیر نہیں سب کچھ ناصر کے گوش گزار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا ۔
    ٭….٭….٭