Tag: الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸

  • استنبول سے انقرہ تک  (سفرنامہ)  | باب2

    استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب2

    تحریر:مدیحہ شاہد

    ”استنبول سے انقرہ تک ”  (سفرنامہ)

    توپ کاپی محل اور قیمتی خزانے

     2باب

    صبح سویرے ہم تیار ہوکر ناشتہ کرنے ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں پہنچے جہاں بڑی رونق تھی اور خوبصورت برتنوں میں ناشتے کے لوازمات سجے تھے۔ شہد، دلیہ، ابلے ، انڈے، بریڈ، مکھن، آملیٹ، پنیر، زینون، کارن فلیکس، بغیر دودھ والی چائے، کافی، جوس اور دیگر ڈشز پورے اہتمام کے ساتھ سرو کی گئی تھیں۔ لوگوں کی باتوں کی آواز کے ساتھ برتنوں کی کھنک بھی گونج رہی تھی۔
    ناشتہ کرنے کے بعد ہم بس میں سوار ہوکر توپ کاپی محل کی طرف روانہ ہوئے۔ ٹاکسم اسکوائر سے توپ کاپی محل کافی فاصلے پر تھا۔ صبح صبح موسم بے حد خوشگوار تھا۔ میں بس کی سیٹ پر بیٹھی کھڑکی کے پار نظر آتے نظارے دیکھنے میں محو تھی۔ ترکی آکر جو چیز واضع نظر آتی ہے۔ وہ وہاں کی صفائی ہے۔ سڑکیں، مکانات، گلیاں سب صاف ستھری تھیں۔ دکانیں سجی ہوئی تھی۔ ہر چیز میں اک خاص قسم کا نظم و ضبط نظر آتا ہے۔ جسے دیکھنے والے بے اختیار سراہتے ہیں۔
    حیرت کی بات تھی کہ بس جس راستے سے بھی گزرتی، دور سے اک مسجد نظر آتی رہتی جو شاید بلندی پر واقع تھی۔
    کچھ دیر بعد بس محل سے ذرا فاصلے پر سڑک کے کنارے رُکی اور ہم پرجوش انداز میں بس سے اُترے۔ صبح کے اجالوں میں ہلکی دھوپ چمک رہی تھی۔ محل بلندی کی طرف تھا۔ وہاں سے ہم پیدل ہی محل کی جانب چلے۔ محل دیکھنے کی ایکسائٹمنٹ اتنی تھی کہ جذبات پر قابو پانا مشکل تھا۔ ہم لوگ آپس میں باتیں کرتے ہوئے محل کی جانب چلتے جارہے تھے۔ صبح کی تازگی میں اک پرلطف سی رونق ہوتی ہے۔
    کچھ دور چلنے کے بعد سامنے مضبوط، عالی شان اور شاندار محل نظر آیا جس کے صدر دروازے والی دیوار پر سنہری حروف سے پہلا کلمہ لکھا ہوا تھا۔
    لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔
    اسلام کا پہلا کلمہ اسلام کا پہلا بنیادی رکن ہے۔ اسلام کی بنیاد ہے۔ مسلمانوں کا دل ہے۔ صرف زبان ہی نہیں، مسلمان کا دل بھی کلمہ گو ہوتا ہے۔ یہ کلمہ بہشت کی کنجی ہے، عالم اسلام کی اساس ہے۔ مسلمان کا قیمتی اثاثہ ہے۔ اللہ رب العزت کے سوا اور کوئی عبادت کے لائق نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، یہ دنیا، کائنات، زمین، آسمان، ہر چیز اللہ کی ہے۔اللہ اور رسول اللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہی ہدایت کا راستہ ہے۔ پہلا کلمہ طیبہ دنیا اور کائنات کا قیمتی خزانہ ہے۔ بادشاہت اور حکمرانی صرف اللہ رب العزت کے لئے ہے۔ وہی معبود ہے، وہی بادشاہ ہے، وہی حکمران ہے، اللہ ہر شے پر قادر ہے، تخت اُسی کا ہے، بادشاہی اُسی کی ہے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے اسی کا ہے۔ وہ ہی ہر شے پر قادر ہے۔ یہ دنیا، کائنات اور جو کچھ بھی ہے اُسی کی ملکیت ہے۔ باقی سب خالی ہے۔
    محل کے اونچے میناروں پر دھوپ دمک رہی تھی اور بلندی پر ترکی کا پرچم لہرا رہا تھا۔
    توپ کاپی محل فن تعمیر کا باکمال شاہکار ہے۔
    میں توپ کاپی محل کے سامنے کھڑی تھی۔
    خوش، حیران اور ایکسائیٹڈ۔۔۔ یوں جیسے انسان کی کوئی قیمتی خواہش اچانک پوری ہوجائے۔
    ترکی کے ڈراموں نے پاکستان میں مقبولیت حاصل کی تو میں بھی سارے کام نپٹا کر ٹرکش ڈرامے ذوق و شوق سے دیکھتی تھی، اور پھر یہ شوق جنون بن گیا۔
    اکثر میرا بیٹا علی اپنے پاپا کو شکایت لگاتا کہ مما ٹی وی پر ڈرامے دیکھ رہی ہیں اور مجھے کارٹون نہیں دیکھنے دے رہیں، علی کے پاپا اس شکایت پر بالائی منزل سے سیڑھیاں پھلانگتے بھاگے آتے کہ یہ کیا گھر میں ہر وقت ٹرکش ڈرامے لگے رہتے ہیں اور اب تو بچے بھی شکایتیں کرنے لگے ہیں۔ یہ بات نہیں تھی کہ مجھے ترکی ڈراموں کے اداکار، سیٹ ، ملبوسات یا ڈراموں کی کہانی پسند تھی۔ بات تو یہ تھی کہ دل چپکے چپکے استنبول اور توپ کاپی محل کے عشق میں گرفتار ہوگیا تھا۔
    اس وقت میں نے سوچا نہ تھا کہ ایک دن میں بھی ٹی وی ڈرامے لکھوں گی اور میرے تحریر کردہ ڈرامے بھی اسی طرح ٹی وی پر ٹیلی کاسٹ ہوں گے جنہیں لوگ دیکھیں گے، سراہیں گے اور ایک دن میں بھی کوئی مشہور شخصیت بن جائوں گی، لوگوں کو انٹرویوز دوں گی۔ بھلا یہ کب سوچا تھا میں نے ۔ مگر ہم نے کب کیا کام کرنے ہوتے ہیں یہ اللہ طے کرتا ہے۔ یہ اللہ کے فیصلے ہوتے ہیں۔ انسان کے دل میں کچھ ایسی خواہشات ہوتی ہیں۔ جن سے صرف رب واقف ہوتا ہے۔
    مجھے استنبول آنے اور توپ کاپی محل دیکھنے کی خواہش تھی۔ آج میں استنبول کی سڑک پر توپ کاپی محل کے سامنے کھڑی تھی۔
    انسانوں کو اپنی خواہشات بتانے کا کوئی فائدہ نہیں، اپنی خواہشات کی تکمیل کی دعائیں رب سے مانگنی چاہیے کہ وہی بادشاہ ہے، معبود ہے، حکمران ہے اور عطا کرنے والا ہے۔
    محل کے صدر دروازے کے اوپر دیوار پر لکھا گیا کلمہ اک پیغام تھا۔
    محل کے سامنے بہت سے لوگ قطاروں میں کھڑے تھے۔ وہاں سیاحوں کا رش تھا مگر اک خاص ڈسپلن بھی نظر آرہا تھا۔ مختلف ملکوں اور قوموں کے لوگ اس محل کو دیکھنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔
    میں پرجوش انداز میں خوشی سے معمور دل کے ساتھ اس محل کو دیکھتی رہی پھر مجھے زارش نظر آیا۔
    ”زارش ! اس محل کے سامنے میری تصویر بنادینا۔”
    میں نے زارش سے کہا اور محل کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ ٹرپ پر اچھی تصویریں بنانے والا بندہ مل جائے تو ٹرپ کا مزہ دوبالا ہوجاتا ہے۔ زارش نے کئی تصاویر بنائیں اور وہ ایک ماہر فوٹو گرافر تھا۔ پھر ہم سب محل میں داخل ہونے کے لئے قطار میں کھڑے ہوگئے۔ میرے ساتھ فرح توقیر، نورین مان، نگہت، عذرا فہیم، صباحت ، زارش، نوشین ، ان کے میاں، لئیق انکل اور ان کی بیگم صوفیہ اور دیگر لوگ تھے۔ وہاں سکول کے بچوں کا ٹرپ بھی آیا ہوا تھا۔ استاد بچوں کی قطار کے ساتھ کھڑے تھے۔ نا وہ بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کررہے تھے اور نا چیخ چلا رہے تھے۔ ان کا رعب ان کے انداز اور ان کی آنکھوں میں تھا۔
    بچوں میں بے حد اعتماد تھا۔ وہ ہنستے مسکراتے ہوئے آپس میں باتیں کررہے تھے۔ ترکی کے لوگ خوش رہنے کے فارمولے سے واقف تھے۔ وہ خود بھی خوش رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی خوش رہنے دیتے ہیں۔ اس (Personality trait) نے ہمیں حیران کیا۔ خوشی کا فارمولا یہی ہے کہ آپ دوسروں کی خوشی کا خیال رکھیں۔
    میں نے اسکارف والی سلجھی ہوئی اک لڑکی کو سیلفی اسٹک سے تصویریں بناتے دیکھا جو اپنے والدین کے ساتھ کھڑی تھی اور فوٹو گرافری میں منہمک تھی۔ میں دھیرے سے اس کے قریب آگئی ۔ ایک جیسی دلچسپیاں اور شوق لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آتے ہیں۔
    اس لڑکی نے مسکراتے ہوئے اپنے بارے میں بتایا۔
    میرا نام فضہ ہے اور میں اپنے والدین کے ساتھ اسلام آباد سے آئی ہوں۔ یہ میری والدہ طلعت اور یہ میرے والد امتیاز ہیں۔ مجھے سیاحت کا شو ق ہے اور ہم مختلف ممالک میں اکثر سیاحت کی غرض سے آتے جاتے رہتے ہیں۔”
    اس نے سُریلی آواز میں کہا۔ اس کے ساتھ اس کے والدین بھی کھڑے تھے۔
    ”میری بھی تصویر کھینچ دیں۔ میں اکثر سیاحتی مقامات پر گئی ہوں۔ مگر مجھے اچھی تصویریں کھینچنے والے لوگ نہیں ملتے۔ کبھی تصویریں اچھی نہیں آتیں تو کبھی فوکس صحیح نہیں ہوتا۔”
    میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ”آپ میرے ساتھ آجائیں۔”

  • ”استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ) | آغازِ سفر | باب ۱

    ”استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ) | آغازِ سفر | باب ۱

    تحریر:مدیحہ شاہد
    ”استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ)
    آغازِ سفر
    باب1
    سوشل ورک کا شوق اور خدمت ِ خلق کا جذبہ مجھے بین الاقوامی این جی او انر ویل کلب کے قریب لے آیا۔ مجھے یہ کلب جوائن کئے ہوئے چند دن ہی ہوئے تھے کہ ڈسٹرکٹ چیئرمین 341 کے سالانہ وزٹ کی خبریں ملنے لگیں۔
    یاسمین مشتاق جن کا تعلق جھنگ سے تھا انرویل کلب 2018-2019 کی چیئرمین تھیں۔ ان کے شوہر چوہدری مشتاق روٹری کلب کے گورنر تھے اور خود وہ کئی سالوں سے اس این جی او سے وابستہ تھیں۔
    میں چونکہ کلب کی نئی ممبر تھی تو مجھے کلب کی سرگرمیوں اورچارٹر کے متعلق زیادہ علم نہیں تھا۔
    کسی نئی جگہ پر جاکر ایڈجسٹ ہوناا ور نئے دوست بنانا میرے لئے ہمیشہ سے ہی مشکل رہا ہے۔ میں نے اپنے تیئں کوشش کی کہ کلب کی سرگرمیوں میں خاطر خواہ حصہ لے سکوں اور وہ دوست بناسکوں جو دوسروں کے فیس بک پروفائل میں نظر آتے ہیں۔ میری زندگی میں دوست بنانے کی جستجو اک طویل جستجو تھی۔ میں نے خوشی خوشی اس کلب کو جوائن کیا۔
    سب ممبران سے تھوڑا بہت تعارف ہوا۔ کئی لوگوں نے میرے ٹی وی ڈرامے دیکھ رکھے تھے اور مجھے میرے کام کے حوالے سے جانتے تھے۔ مجھے اس کلب میں سب نے خوش آمدید کیا۔ دیگر سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سال میں ایک بار ہر کلب میں چیئرمین کے وزٹ کا انعقاد کیا جاتا ہے اور اس وزٹ میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ نئے ممبران کو کلب کی پِن بھی لگائی جاتی ہے۔
    ہمارے کلب نے اوائل مارچ کے دنوں میں سروز کلب لاہور میں ایک دعوت کا اہتمام کیا۔ چیئرمین یاسمین مشتاق جھنگ سے تشریف لائیں۔ نیلے لباس میں ملبوس پھولوں کے گلدستے تھامے وہ سب سے خوشدلی سے ملیں۔ مجھے وہاں علم ہوا کہ وہ اپریل میں کلب کا سالانہ انٹرنیشنل ٹرپ لے کر ترکی جارہی ہیں۔ اس مقصد کے تحت لوگ اپنے اپنے نام لکھوا رہے تھے۔ میں فوراً اُس طرف متوجہ ہوگئی۔
    ”ترکی!”
    میری آنکھیں چمکنے لگیں۔
    دل میں چھپی برسوں پرانی خواہش نے آنکھ کھولی۔ استنبول ، توپ کاپی محل، بُرصا، قونیہ، انقرہ، خلافت ِ عثمانیہ کے تاریخی مقامات ، مساجد، نیلے پانی کا سمندر اور بے شمار جگہیں یاد آئیں۔ میں ترکی کے تاریخی ڈرامے ذوق و شوق سے دیکھتی تھی۔ مجھے وہاں کی ثقافت ، کلچر ، روایات اور آرکیٹیکچر بہت پسند تھا۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مجھے ترکی سے بے حد محبت تھی۔ ترکی کے بارے میں پڑھ پڑھ کر مجھے وہاں کی سیر کا بے حد شوق تھا مگر گھر داری میں کئی سال ایسے مصروف رہی کہ اس خواہش کوپورا کرنے کی فرصت نہ ملی۔ گھر، بچے، ذمہ داریاں، بچوں کے سکول، ان کی پڑھائی اور کہانیاں، ڈرامے لکھنے میں ایسی مصروف رہی کہ کبھی کسی باہر کے ملک جانے کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا۔
    اب جو اس ٹرپ کے بارے میں سنا تو دل کو سمجھانا مشکل ہوگیا۔ وہ ایک انقلابی لمحہ تھا۔
    ”میں بھی ترکی جانا چاہتی ہوں۔”
    میں نے ایک لمحے میں یہ فیصلہ کرلیا۔
    جن لوگوں کو ہمسائے کے گھر جانے کی فرصت نہ ہو ان کے لئے کسی فارن ٹرپ پر جانا انہونی ہی تو تھی۔ مگر میں نے مصروفیات کی گٹھری کو ایک طرف رکھ دیا۔ دل میں کسی چیز کی لگن ہو تو فیصلے لمحوں میں ہوجایا کرتے ہیں۔
    ”گھر والوں سے مشورہ کرلیں، آپ کے بچے بھی چھوٹے ہیں۔ اس ٹرپ کا پیکیج ایک لاکھ پینسٹھ ہزار ہے، اپنا بجٹ بھی دیکھ لیں۔ یہ فیصلے سوچ سمجھ کر کرنے پڑتے ہیں۔ ہر پہلو کو دیکھنا پڑتاہے۔”کسی نے آہستہ آواز میں سنجیدگی سے کہا۔
    ”میں سب Manage کرلوں گی۔ آپ میرا نام بھی لکھ لیں۔ میں بھی ترکی جانا چاہتی ہوں۔”
    میں نے حتمی انداز میں اعتماد سے کہا۔ سوچ بچار، نظرثانی جیسی فلسفیانہ باتیں کہیں پیچھے رہ گئیں۔
    اس لمحے مجھے فیصلہ کرنے کی قوت کا ادراک ہوا۔ انسان کے دل و دماغ میں بہت سی قوتیں ہوتی ہیں جس کا اسے خود بھی اندازہ نہیں ہوتا۔
    ”ہاں ضرور چلیں۔ میں آپ کو ترکی گروپ میں شامل کرلیتی ہوں۔ آپ ٹریول ایجنٹ سے بات بھی کرلیجئے گا وہ آپ کو ٹریول پلان بھی بھیج دیں گے۔”
    یاسمین مشتاق نے خوشدلی سے کہا۔
    وہ خوش اخلاق اور خوش مزاج شخصیت کی مالک تھیں۔ ترکی جانے کی خوشی اور ایکسائیٹمنٹ اتنی زیادہ تھی کہ میں نے جوش وولولے کے ساتھ اپنا نام لکھوا دیا اور ترکی گروپ میں شامل ہوگئی۔
    میں خوشی خوشی گھر آئی اور گھر والوں کو یہ اہم اطلاع دی جسے سن کر ہر کوئی حیرت زدہ رہ گیا۔ گھر والوں کو کس طرح راضی کیا یہ ایک الگ کہانی ہے۔ میں نے ٹریول ایجنٹ سے بات چیت کر لی اور ایڈوانس بھی جمع کروا دیا۔ پاسپورٹ میرے پرس میں ہی پڑا تھا۔ اس پاسپورٹ کی کہانی بھی حیرت انگیز تھی۔ کچھ عرصہ قبل میں نے زی انڈیا کے لئے ایک ڈرامہ لکھا تھا جس کی میٹنگ کے سلسلے میں مجھے اور مصباح شفیق کو دبئی جانا تھا مگر میرا پاسپورٹ نہیں بنا ہوا تھا کہ کبھی پاسپورٹ بنانے کا خیال ہی نہیں آیا تھا۔ پھر مجھے ارجنٹ پاسپورٹ بنوانا پڑا مگر میٹنگ دو دن بعد ہی تھی تو مصباح اکیلی ہی دبئی چلی گئی۔ میں باربار پاسپورٹ دیکھ کر آہ بھرتی۔ پاسپورٹ تو بن گیا مگر دبئی کا ٹؤر نکل گیا۔ اس بات کا غم مہینوں دل میں رہا مگر اب غم کے خوشی میں بدلنے کا وقت تھا۔
    جب انسان پہلی بار کسی فارن ٹرپ پر جارہا ہوتا ہے تو بچوں کی طرح ایکسائیٹڈ ہوتا ہے۔ میں نے ٹرپ کا پلان پڑھا۔ استنبول، انقرہ، قونیہ اور کپاڈوکیہ کے اہم مقامات کی تصاویر بار بار انٹرنیٹ پر دیکھتی رہتی۔ نئے کپڑے سلوائے، بہترین سوٹ کیس خریدا، جیولری ، جوتے، پرس نیز خوب شاپنگ کی۔ ہاں بھئی عمر کتنی بھی منزلیں طے کرلے، خواتین کا دل ہمیشہ ٹین ایجر ہی رہتاہے۔
    خیر 24 اگست کو ہم سعودی ایئرلائنز کے ذریعے ترکی کے لئے روانہ ہوئے۔ جہاز میں بیٹھ کر دل ذرا خوفزدہ ہوگیا۔ میں پہلی بار جہاز میں تب بیٹھی تھی جب میں بارہ سال کی تھی۔ ابا جان سعودی عرب سے واپس آئے تھے اور ان کی پوسٹنگ ملیر کینٹ کراچی ہوئی تھی۔ ہم لاہور سے کراچی جہاز میں گئے تھے۔ پھر شادی کے بعد میاں کی پوسٹنگ بہاولپور رہی تو میں اپنے بیٹے علی کے ساتھ بہاولپور سے پنڈی اور پنڈی سے بہاولپور جہاز میںآیا جایا کرتی اور سارے کینٹ میں جہازوں میں سفر کرنے والی خاتون مشہور ہوگئی تھی مگر پھر بھی اب جہاز میں بیٹھ کر دل خوفزدہ ہوگیا۔ خوف کا تعلق عمر سے نہیں وِل پاور سے ہوتا ہے۔ خیر میں نے اپنی ہمت بندھائی اور خود کو حوصلہ دیا۔ میرے دائیں جانب خالدہ سعید اور بائیں جانب یاسمین مشتاق بیٹھی تھیں۔ سائیڈ والی سیٹ پر رفعت اور عبدالستار صاحب بیٹھے تھے۔

    ایئر پورٹ پر اچانک کچھ ایسے واقعات رونما ہوگئے تھے کہ جن کی وجہ سے بہت سے مسافر اپ سیٹ تھے۔ مسز شہناز سردار کے دو پاسپورٹ تھے وہ ایک پاسپورٹ لائیں دوسرا نہ لاسکیں اور بورڈنگ کلوز ہوگئی۔ وہ اور ان کے میاں جہاز میں سوار نہ ہوسکے۔ عائشہ عمران کے میاں بھی کسی وجہ سے جہاز میں سوار نہ ہوسکے۔ وہ اپنی بہن مہوش کے ساتھ بیٹھی تھیں اور مسلسل رو رہی تھیں۔
    ”حوصلے سے کام لیں، نہ روئیں۔”
    ارد گرد بیٹھے لوگوں نے ہمدردی سے سمجھایا مگر ان کا غم کم نہ ہوا۔
    ”گھر سے نکلتے وقت ہم دونوں کتنے خوش تھے کہ ترکی جارہے ہیں۔ کئی دنوں سے خوشی خوشی تیاریاں کررہے تھے۔ مگر میں جہاز میں سوار ہوگئی اور وہ وہیں ایئرپورٹ پر رہ گئے ۔
    ” میرا دل رو رہا تھا۔”
    وہ آنسو بہاتے ہوئے رقت آمیز انداز میں بولیں۔
    ”آپ پریشان نہ ہوں۔ وہ بھی جلد آجائیں گے۔”
    لوگوں نے تسلی دی سب مسافر ان کے غم میں برابر کے شریک تھے۔
    سب مسافر خوشی خوشی جہاز میں سوار ہوگئے، میرے میاں کے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا!”
    وہ پھر رونے لگیں۔ آہیں اور سسکیاں گونجنے لگیں۔
    ”آپ کی شادی کو کتنا عرصہ گزرا ہے؟”
    کسی نے پوچھا۔
    ”اٹھارہ سال۔”
    انہوں نے جواب دیا۔
    ”آپ کے بچے ہیں؟”
    کسی نے سوال کیا۔
    ”میرے چھ بچے ہیں۔”
    وہ اسی انداز میں بولیں۔
    ”پھر بھی محبت کا یہ عالم ہے!”
    کسی نے بے ساختہ کہا۔
    ”محبت عمر، وقت ، سال، مہینے نہیں دیکھتی۔ اس کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔ وقت سے نہیں۔”
    کسی نے فلسفیانہ انداز میں کہا۔
    مہوش اور ان کے شوہر فیصل عائشہ عمران کو تسلیاں اور دلاسے دیتے رہے۔ مشتاق صاحب بھی سمجھاتے رہے کہ فکر نہ کریں۔ عمران صاحب اگلی فلائٹ سے ترکی پہنچ جائیں گے مگران کے دل کو تسلی نہ ملی اور وہ آنسو بہاتی رہیں۔”
    ”سفر کے دوران اکثر ایسے واقعات ہوجایا کرتے ہیں، فکر نہ کریں سب ٹھیک ہوجائے گا۔”
    سب نے ہمدردی کا اظہار کیا۔
    یاسمین مشتاق نے بھی اپنے آنسو صاف کئے۔
    ”آپ کیوں رو رہی ہیں؟”
    میں نے حیرت سے پوچھا۔
    ”میرے میاں نے ایئرپورٹ سٹاف کی بہت منت سماجت کی کہ تھوڑا انتظار کرلیں۔ عمران صاحب کا پاسپورٹ غلطی سے ٹریول ایجنسی کے دفتر میں رہ گیا تھا۔ وہاں سے ایئرپورٹ پہنچنے میں آدھا گھنٹہ مزید لگنا تھا مگر ایئرپورٹ سٹاف نے بورڈنگ کلوز کردی۔ اپنے علاقے میں میرے میاں کا بہت رعب ہے۔ انہوں نے کبھی کسی شخص کی اتنی منت سماجت نہیں کی مگر آج میری وجہ سے انہیں لوگوں سے اتنی ریکوئیسٹ کرنی پڑی۔ اس با ت کا مجھے بہت افسوس ہے۔ وہ اپنے کئی اہم کام چھوڑ کر میرے ساتھ اس ٹرپ پر آئے ہیں اور میری وجہ سے انہیں لوگوں سے ریکویسٹ کرنی پڑی جس کا مجھے بہت دکھ ہے۔ ”
    انہوں نے آنکھ کے کنارے صاف کرتے ہوئے مدھم آواز میں کہا۔

  • جنت سے ایک خط | شہید برہان وانی بنامِ پاکستان

    جنت سے ایک خط | شہید برہان وانی بنامِ پاکستان

    جنت سے ایک خط
    شہید برہان وانی بنامِ پاکستان
    نفیسہ عبدالرزاق

    میرے پاکستانی بھائیوں!
    السلام علیکم!
    آج میں آپ سے پہلی بار مخاطب ہوں۔ پاکستان کا نام ہم کشمیریوں کے لئے کوئی نیا نہیں ہے، ہم جہاں پیدا ہوتے ہی آزادی کے نعرے سنتے ہیں وہیں پاکستان کا نام بھی سنتے ہیں۔ میں آج آپ کو اپنی داستان سنانا چاہتا ہو تھوڑی بہت تو آپ جان ہی چکے ہوںگے میرے شہید ہونے کے بعد۔ میں پھر سے اسے دُہراتا ہوں جب پندرہ برس کی عمر میں اپنے بھائی کے ساتھ جاتے ہوئے قابض بھارتی فوج نے ہمیں بلاوجہ تذلیل کا نشانہ بنایا تب شاید پہلی بار غلامی کا مجھے بے پناہ احساس ہوا اس تذلیل نے ایک پل چین نہ لینے دیا اور میں برہان جو اپنی جماعت میں ہمیشہ اول رہتا تھا میرے آگے ایک روشن مستقبل تھا مگر مجھے غلامی سے نفرت ہے سو اسی غلامی کو آزادی میں بدلنے کے لئے میں گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ بہت سے مشکل پڑائو آئے میں رکا نہیں چلتا ہی گیا، بہت سے مقامی مجاہدین کی طرح میں نے بھی پاکستان کی طرف دیکھنے سے گریز کیا، اپنے زور بازو اور اللہ کی مدد کے سہارے میں کم وقت میں کشمیر کے ہر گھر کا ہر دل عزیز بن گیا۔ دشمن کو ناکوں چنے چبوائے مگر آزادی کی روشن صبح ابھی دور تھی ۔ بائیس سال کی عمر میں شہادت کا پروانہ آپہنچا یہ وہ عمر ہوتی ہے، جس میں ہر نوجوان اپنا کیریئر پلان کرتا ہے مگر مجھے کوئی افسوس نہیں، میں نہیں تو کیا ہوا ہماری آنے والی نسلیں ضرور آزاد فضائوں میں سانس لیں گی ( اِن شاء اللہ)۔ خیر،میری آج خاص طور پر آپ سب سے مخاطب ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ میرے جنازے کو سبز ہلالی پرچم میں لپیٹا گیا مجھے اس پرچم سے بے حد اُنسیت محسوس ہوئی مجھے لگا میرے بعد میرا کشمیر تنہا نہیں ہوگا پاکستانی ہر بار کی طرح آگے آئیںگے مگر یہ کیا میرے جانے کے بعد جنت نظیر وادی میں ہنگامے پھوٹ پڑے ”ہر گھر سے برہان نکلے گا”کے نعرے گونجے اور ساتھ میں وردی والے دہشت گرد بغیر کسی تخصیص کے گولیاں برسانے لگے اور ان چاردنوں میں بہت سے برہان سبز پرچم میں لپٹے مجھ سے آ ملے۔
    میں اُن کی طرف آس و امید سے دیکھتا رہا کہ وہ مجھے بتائیں گے پاکستانیوں نے بھارتی ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کی ہے ان کو منہ توڑ جواب دیا ہے کیوںکہ غلام تو ہم ہیں آپ تو آزاد قوم ہیں اور آزاد قومیں خود مختار ہوتی ہیں وہ مل کر جابر کو للکار سکتی ہیں مگر میرے یہ شہید بھائی تو کوئی اور داستان سُنا رہے تھے آپ لوگ تو بہت مصروف ہیں آپ کے پاس وقت نہیں کہ ہمارے بارے میں جانیں، آواز بلند کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ جب آپ کی مصروفیات کی بابت دریافت کیا تو معلوم ہوا عید کے دن ہیں اس لیے سینما میں بھارتی فلمیں لگی ہیں اور یہی آپ کی مصروفیات ہیں۔ یقین کیجیے یہ سُن کر دل لہو لہو ہوگیا۔ آپ کو ہمارا کتنا خیال ہے نا کہ سینما میں جا کر بھارت کو کروڑوں کا بزنس دیتے ہیں، جس سے وہ ہتھیار بنا کر ہمارے سینوں پر وار کر کے ہمیں شہید کرتے ہیں اور ہمیں ڈائریکٹ جنت کا ٹکٹ تھماتے ہیں۔
    جنت تو ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے تو آپ کی بدولت ہمارے لیے جنت کا رستہ بہت آسان ہوجاتا ہے۔ صرف میڈیا نہیں آپ تو پور پوردشمنکے جال میں قید ہوتے جا رہے ہیں، جس کی قید سے ہم آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ فلمیں اور ڈرامے آپ اُن کے دیکھتے ہیں سارا سارا دن گانے آپ ان کے سنتے ہیں پھر مارکیٹ جا کر ان ہی کی پراڈکٹس خریدتے ہیں پھر کہتے ہیں کیا کریں میڈیا یہی دکھاتا ہے آپ ایک بار بائیکاٹ کر کے تو دیکھیں پھر میڈیا وہی دیکھائے گا جو آپ دیکھنا چاہتے ہیں اپ ان کی چیزیں چھوڑ کر ایک بار اپنی چیزیں طلب تو کریں پھر کیسے وہ زبردستی آپ کو دشمنوں کی چیزیں تھمادیں گے۔
    ارے ہاں! یہاں پہنچ کر میری ملاقات قائد اعظم محمد علی جناح سے بھی ہوئی میرے اور دوسرے آنے والے ساتھیوں کے ذریعے انہیں آپ کے حالات معلوم ہوئے بہت اُداس ہوئے کہنے لگے: ”میری قوم کو کیا ہوگیا؟ انہیں جس کی غلامی سے آزاد کروایا تھا آج ذہنی طور پر اسی کے غلام بنے بیٹھے ہیں۔ کتنی قربانیاں! کتنی قربانیاں! آہ…کیوں بھول گئے کہ شہیدوں کے لہو سے سینچا تھا اس گلزار کو۔ اگر انہیں کے رسم و رواج پر چلنا تھا تو وہ سب لہو رائیگاں گیا نا برہان! پھر کیوں ان کشمیریوں کے لئے اپنی جوانی، اپنا مستقبل سب چھوڑ کر اس راہ کا انتخاب کرلیا یہ بھی کچھ مختلف نہیں ہیں۔ نہیں رہتی میری قوم کو یاد قربانیاں۔”

  • مدیر سے پوچھیں | پرویز بلگرامی

    مدیر سے پوچھیں | پرویز بلگرامی

    مدیر سے پوچھیں
    پرویز بلگرامی

    ٭ اپنی کہانی کے بارے میں بتائیں، آپ اس فیلڈ میں کب سے ہیں؟ کیسے آنا ہوا اس فیلڈ میں؟

    پرویز بلگرامی: جہاں تک لکھنے کا سوال ہے تو کم عمری سے لکھنا شروع کر دیا تھا لیکن چھپنے کی ابتدا روزنامہ جنگ کے نونہال لیگ یعنی بچوں کے صفحہ سے ہوئی پھرماہنامہ چاند میں لکھا.لیکن جب پروفشنلی لکھنے کا آغاز کیا تو ڈائجسٹوں کے دفاتر میں آنا جانا بڑھ گیا۔اسی دوران میں شمیم نوید صاحب سے قربت بڑھی اور ان کے مشورے پر سچی کہانیاں جوائن کر لیا۔اس وقت وہ اس پرچے کے مدیر تھے ۔لیکن کچھ ہی عرصہ بعد میں نے سچی کہانیاں چھوڑ دیااور پھر سے فری لانسنگ کرنے لگا۔شمیم نوید کے بعد سلیم فاروقی صاحب سچی کہانیاں کے مدیر بنے تو میں دوبارہ سے سچی کہانیاں میں آگیا۔اس وقت سچی کہانیاں ۔دوشیزہ کی ٹیم میں تمام لوگ کو آپریٹیو تھے۔سیما غزل تھیں۔مصطفیٰ ہاشمی تھے۔دانش دیروی تھے ۔سلیم آزر تھے۔ثمینہ یاسمین تھیں۔خوب وقت گزرا۔1994میں سلیم فاروقی سچی کہانیاں چھوڑ گئے تو میں نے ادارت سنبھال لی۔تب سے 2008 تک سچی کہانیاں کو سجاتا سنوارتا رہا پھر جاسوسی ڈائجسٹ پبلیکشن کے ماہ نامہ سرگزشت میں آگیا۔تب سے یہیں ہوں۔

     

    ٭ ایک مہینے میں آپ کو اوسطاً کتنے مسودے موصول ہوتے ہیں؟ اور آپ کا تحریروں کی چناؤ کا کیا معیار ہوتاہے؟

    پرویز بلگرامی : سچی کہانیاں میں نئے مصنفین کو اولیت دی جاتی تھی۔وہاں کام کا مزہ ہی کچھ اور تھا۔نئے مصنفین کا آئیڈیا لے کر ہم لوگ کہانیاں لکھ دیتے تھے اور اسے شائع کیا جاتا اسی مصنف کے نام سے جس کی وجہ سے پرچے کی خریداری بھی بڑھتی اور نئے لکھنے والے کو حوصلہ بھی ملتا۔وہاں جو لوگ لکھتے تھے ان سے باضابطہ خط و کتابت کیا کرتا تھا۔انہیں ان کی کہانیوں کی خامیاں بتاتا۔لکھنے کا انداز سمجھاتا یہی وجہ ہے کہ سچی کہانیاں سے شروعات کرنے والوں میں سے کچھ اب نامور بن چکے ہیں۔اپنی شناخت بنا چکے ہیں۔لیکن سرگزشت ذرا تیڑھا پرچہ ہے۔اس میں لکھنے کے لیے مصنف کا مطالعہ وسیع ہونا ضروری ہے کیونکہ سرگزشت انفورمیٹیو میگزین ہے۔لیکن اس کا ایک حصہ ایسا ہے جس میں نئے مصنف لکھ سکتے ہیں۔جن کی کہانیاں آتی ہیں اور اس میں کوئی ہلکی پھلکی خامی نظر آتی ہے تو مصنف کو اطلاع دے دیتا ہوں کہ اپنی کہانی کو اپنے مسودے سے ملا کر دیکھیں کہ کون کون سی تبدیلی ہوئی ہے پھر بلا جھجک پوچھ لیں کہ وہ تبدیلی کیوں کی ہے۔جو لوگ فون کرتے ہیں ان کو جواب دیتا بھی ہوں اور کہانیوں کے سلسلے میں مشورے بھی دیتا ہوں۔در اصل یہ طریقہ شمیم نوید کا تھا اور پھر سلیم فاروقی نے اختیار کیا ۔ اپنے دو سینئر کو جس راہ پر چلتے دیکھا اسی راستے پر میں بھی چلنے لگا۔یہی وجہ ہے کہ نئے مصنفین مجھ سے بہت زیادہ قریب ہیں۔میں پابندی سے ہر نئے لکھنے والے کو تاکید کرتا رہتا ہوں کہ وہ جملوں کی بندش پر خصوصی توجہ دیں۔جس طرح دریا کی لہریں اٹھتی ہیں اسی طرح جملوں میں روانی رہنا چاہیے تا کہ پڑھنے والے کو لطف آئے۔پھر کہانی کو آگے بڑھانے کا صحیح انداز اپنائیں ۔معروف مصنفین کی تحریر کو بہ نظر غور دیکھیں کہ وہ کہانی کو کس طرح آگے بڑھا رہے ہیں۔وہی انداز اپنائیں ۔خاص کر تجسس پیدا کرنے کی ضرور کوشش کریں تا کہ قاری اگلا صفحہ ضرور پڑھے۔جملوں کی ساخت آسان رکھیں تا کہ ایک کم پڑھا لکھا بھی بہ آسانی سمجھ لے کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔کہانی آہستہ آہستہ اٹھائیں اور پرت پرت کھولیں۔نہ زیادہ سست رکھیں اور نہ بہت تیز بھگائیں۔کہانی کو آگے بڑھانے کی رفتار پر مکمل کنٹرول رکھیں۔اختتام ایسا ہو کہ قاری چونک جائے لیکن غیر فطرتی نہ لگے۔

     

    ٭ہ کون سی چند چیزیں ہیں جن کا خیال ایک نئے لکھنے والے کو اپنا کام آپ کو بھیجتے ہوئے رکھنا چاہیے؟

    پرویز بلگرامی :مصنفین کو کہانی بھیجنے کے پہلے کم سے کم تین بار ضرور پڑھنا چاہیے۔اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ کہانی لکھ کر ایک طرف رکھ دیں پھر دوسری کہانی شروع کر دیں۔اسے مکمل کر کے الگ رکھ دیں اور تیسری کہانی شروع کر دیں۔اسے مکمل کر کے پہلی کہانی کو پڑھیں۔اس طرح اس کہانی کی خامیاں سامنے آتی جائیں گی۔اسے ایڈیٹ کر کے الگ رکھ دیں اور دوسری کو پڑھیں۔اس کی خامی درست کر کے تیسری کو نکال لیں۔اسے درست کرنے کے بعد پھر پہلی کہانی کو پڑھیں۔اگر ایک کہانی کو آپ نے تین بار پڑھ کر درست کر لیا تو یقینا وہ کہانی خامیوں سے بہت حد تک مبرا ہو جائے گی۔ہر نئے مصنف کو ابتدا میں اس طریقہ کو ضرور اپنا نا چاہیے۔لیکن لکھنے والے کو زیادہ سے زیادہ پڑھنا چاہیے۔اگر وہ دن بھر میں اس کام کو دس گھنٹے دیتا ہے تو اسے لکھنے کے لیے صرف دوگھنٹے صرف کرنا چاہیے۔اس سے اسے لکھنے کے لیے مواد بھی ملے گا اور جملوں کو برتنے کا صحیح انداز بھی علم میں آتا جائے گا۔
    ٭بطور مدیر کیا آپ ایسے موضوعات پر کام کرتے ہیں جو risky ہوں؟
    پرویز بلگرامی : ادارتی کام ہوتا ہی رسکی ہے۔ذرا سی نظر چوکی اور غلط مواد چھپ گیا۔خود میرے ساتھ ایک بار ہو چکا ہے۔لکھنے والا خاصہ تجربے کار۔منجھا ہوا لکھاری۔ایک ایسا مضمون لکھ گیا جس پر محکمے حرکت میں آگئے۔بعد میں اس مضمون کو پڑھا تو سر پیٹ لیا اس لیے کہ اس میں کئی ایسی باتیں تھیں جو پرنٹ نہیں ہونا چاہیے تھا۔مصنف سے سوال کیا تو اس نے جواب دیا کہ یہ معلومات نیٹ سے لیا ہے۔نیٹ پر سچ کے علاوہ جھوٹ بھی بھرا پڑا ہے۔سچ اور جھوٹ کی اگر مدیر کو پرکھ نہ ہو تو ایسی باتیںہوجانا تعجب خیز نہیں۔ویسے نئے تجربے کے لیے رسک لینا ضروری ہے۔جس مدیر کے اندر نیا کچھ کرنے کی امنگ نہ ہو اس کا پرچہ لکیر کا فقیر ہوتا ہے۔

    ٭ نئے موضوعات پر کام کرنے کے لیے زیادہ موزوں کون ہوتا ہے؟ نئے رائٹرز یا پرانے رائٹرز؟

    پرویز بلگرامی: پرانے لکھاری نسبتاً بہتر انداز میں نئے موضوع کو برت سکتے ہیں۔نئے لکھاری کے جملوں بے ساختگی نہیں ہوتی۔بے ساختگی تجربے سے آتی ہے۔پرانے لکھاری الفاظ کا صحیح استعمال کرتے ہیں۔مثلاً نیا لکھاری لکھے گا” چچا جان کی شیو بڑھ آئی تھی۔”جب کے پرانا لکھاری لکھے گا”شیو نہ کرنے کی وجہ سے ایسا لگ رہا تھا کہ چچا جان کے گالوں پر چیونٹیوں کے انڈے سینکڑوں کی تعداد میں بکھرے ہوئے ہیں۔” اس سے سطر بھی بڑھی اور پڑھنے والے کو جملے کے بڑے ہونے کا اندازہ بھی نہیں ہوا۔

     

    ٭نئے لکھنے والوں میں آپ کی رائے میں کون ہے جو اچھا کام کررہا ہے؟

    پرویز بلگرامی: ڈائجسٹوں میں جن کی تحریریں چھپ رہی ہیں ان نئے مصنفیں میں ناصر ملک ۔ندیم اقبال۔محمد فاروق انجم۔ڈاکٹرعبدالرب بھٹی کے علاوہ بھی چار پانچ مصنف بہت اچھا لکھ رہے ہیں۔

     

    ٭ دنیا بھر کے لکھنے والوں میں آپ کا پسندیدہ رائٹر کون ہے؟

    پرویز بلگرامی :دنیا بھر کے رائٹرز میں کسی ایک یا دو کا نام لینا میرے خیال سے صحیح نہیں ہے۔اس لیے کہ ہر رائٹر کا ایک دو کام ہی ایسا ہوتا ہے جو اس کی پہچان بن جاتا ہے۔اگر پسندیدگی کی نظر سے دیکھوں تو مجھے جاپانی مصنف جیرو اکاگاوا کے جتنے ترجمے پڑھے ہیں سب پسند آئے ہیں۔زبردست مسٹری ۔اسی طرح بنگلہ کے نہار رنجن گپت۔امریکا کے اسٹیفن کنگ پسند آئے ہیں۔لیکن جب ہم اردو کی طرف آتے ہیں تو ابن صفی پر سوئی رک جاتی ہے۔لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ مجھے آگ کا دریا یا علی پور کا ایلی پسند نہیں آیا۔در اصل ہر ایک کی پسند ایک خاص نکتے کے گرد گردش کرتی ہے۔ورنہ تو اردو میں جتنے اچھے ناول لکھے گئے ہیں اس کی مثال مشکل ہے کیونکہ عالمی زبانوں میں سب سے نئی زبان اردو ہی ہے۔چائنیز جاپانی فرنچ جرمن انگلش کے مقابلے میں اردو کی عمر بہت کم ہے لیکن فیکشن رائٹنگ میں اردو کسی بھی طرح پیچھے نہیں ہے ۔

     

    ٭ آپ کی پسندیدہ صنف کون سی ہے؟

    پرویز بلگرامی: کہانیوں کی ہر صنف پڑھنے میں اچھی لگتی ہے جہاں تک لکھنے کا تعلق ہے تو میں نے ہر قسم کی کہانیاں لکھی ہیں۔رومانی۔خوفناک۔تھرل سسپنس لیکن جہاں تک ڈوب کر لکھنے کا تعلق ہے مجھے ہارر لکھنے میں زیادہ مزہ آتا ہے مزے کی بات یہ ہے کہ تھریل زیادہ لکھا ہے۔لیکن جب چھاپنے کی بات آتی ہے تو میں معاشرتی مسائل کی کہانیاں پرچے میں شامل کرنے پر زور دیتا ہوں۔کیونکہ عام قاری اپنے مسائل کو پڑھنا پسند کرتا ہے۔بشرطیکہ لکھنے والا پیش کرنے کا فن جانتا ہو۔
    ٭ کہانی کی کون سی ایسی صنف ہے جو آپ کو غیر دلچسپ لگتی ہے؟
    پرویز بلگرامی : مجھے ایسی کہانیاں بالکل پسند نہیں جن میں انسانی نفسیات کے نام پر جنس زبردستی ڈالی جائے یا اوچھے جملے لکھ کر قاری کو بھٹکانے کی کوشش کی جائے۔منٹو کے پاس الفاظ کا ذخیرہ تھا۔وہ کہانی کو الفاظ سے ملفوف کر کے پیش کرتے تھے لیکن تسکینی انداز میں نہیں بلکہ نشتر بنا کریہی وجہ ہے کہ میں جنس زدہ کہانیوں کو فوراً رد کر دیتا ہوں۔
    ٭ آپ نے اب تک ماشااللہ بہت کام کیا ہے، کوئی ایسا پراجیکٹ جو آپ کے دل کے بہت قریب ہو؟
    پرویز بلگرامی : مجھے اپنے دو ناول کا پلاٹ بہت پسند ہے ”جرمِ مسلماں” اور ” دوسرا جنم”لیکن یہ بھی خود سے شکواہ ہے کہ میں جس انداز میں وہ دونوں ناول لکھنا چاہتا تھالکھ نہیں پایا کیونکہ جس ڈائجسٹ میں وہ کہانی قسط وار چھپ رہی تھی اس کے ریڈر میں جیسا چاہتا تھا اس انداز میں اسے پسند نہیں کرتے۔مجبورا پرچے کے قارئین کو ذہن میں رکھ کر لکھنا پڑا۔اپنے دل کی اس چبھن کو مٹانے کے لیے میں ان دونوں ناول کو دوبارہ لکھوں گا۔ایک اور طویل کہانی” میری منزل میرا رستہ”اور سرگزشت کے ١٩٩١ کے کسی شمارے میں بعنوان ”ایک کہانی”کا پلاٹ مجھے

  • مدیر سے پوچھیں | علی عمران سے ملاقات

    مدیر سے پوچھیں | علی عمران سے ملاقات

    مدیر سے پوچھیں
    علی عمران سے ملاقات

    علی عمران کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں مشہور سٹِ کام سیریلز ‘نادانیاں’، ‘بلبلے’ کے مصنف کے طور پر تو سب انہیں جانتے ہی ہیں لیکن اس کے علاوہ وہ اے آر وائی ڈیجیٹل میں بہ طور کونٹینٹ ہیڈ اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ اس ماہ مدیر سے پوچھیں کے سلسلے میں ہمارا انتخاب ہیں علی عمران۔
    ٭ کچھ اپنے بارے میں بتائیں؟ ہمارے قارئین جاننا چاہتے ہیں کہ آپ نے لکھنا کب شروع کیا؟
    علی عمران: میں نے اپنا کام ریڈیو پاکستان سے زمانۂ طالب علمی میں شروع کیا تھا ، وہاں ایک پروگرام ہوا کرتا تھا ‘بزمِ طلبہ’، اس میں لکھنے اور پڑھنے والے آیا کرتے تھے، میری شروعات وہاں سے ہوئی تھیں، چوں کہ آرٹس کونسل پڑوس میں ہی تھا تو پیدل چل کروہاں جایا کرتا تھا، اس زمانے میں وہاں سٹریٹ تھیٹر ہوا کرتا تھا میں اپنے ریڈیو کے کچھ دوستوں کے ساتھ وہاں گیا۔ بزمِ طلبہ کے تھیٹر کی ایک ٹیم تھی جس نے وہاں پر تھیٹر کیا اور ہم وہ دیکھنے گئے ۔مجھے بڑا متاثر کیا اس پلے نے اور ان ساری چیزوں نے اس کے ساتھ ہی اس چیز نے مجھے اعتماد بھی دیا کہ میں لکھ بھی سکتا ہوں، یہ کوئی اتنی مشکل چیز بھی نہیں ہے۔ پھر میں نے ایک تھیٹر پلے لکھا، جس گروپ کے لئے لکھا تھا انہوں نے اس کو اچھا ڈائریکٹ نہیں کیا، میں نے سوچا کہ یہ خود ڈائریکٹ کرنا چاہیے تو پھر ہم نے ایک چھوٹا سا تھیٹر گروپ بنایا میزان کے نام سے، اس زمانے میں لڑکیاں تھیٹرمیں بہت کم آتی تھیں خاص طور پر سنجیدہ تھیٹر میں، تو ہمارے ایک دوست کہتے تھے یار شادیاں کرو اور اپنی بیویوں سے کام کرواؤ( قہقہہ) بہرحال اس گروپ سے ہم نے ایک پلے کیا، خود لکھا، خود ڈائریکٹ کیا خود ہی ایکٹ بھی کیااور مزے کی بات ہے دیکھا بھی خود ہے (مسکراتے ہوئے)۔ لیکن اس کا اپنا نشہ تھا، کہتے ہیں کہ تھیٹر کا نشہ کوکین کے نشے سے زیادہ خطرناک ہے۔ کوکین کا نشہ ہم نے کبھی کیا نہیں ، تو پھر وہ ایک نشہ لگ گیا اور بڑی برُی لت لگ گئی ( مسکراتے ہوئے) ہم گھنٹوں آرٹس کونسل کے چبوترے پر بیٹھا کرتے تھے۔ ٹیلی ویژن میں بہت بعد میں آیا ہمارے ایک بہت اچھے رائٹر ہیں فصیح باری خان، ان سے میری واقفیت تھی ، ان سے میں نے درخواست کی کہ اگر ٹیلی ویژن کے لئے کوئی کام مل سکے، اس زمانے میں ایک پروڈکشن ہاؤس تھا BMN پروڈکشن میمونہ صدیقی کا ان کے پاس انہوں نے بھیجا، میںنے ان کے لئے ایک ٹیلی فلم لکھی، وہ آج تک بنی نہیں لیکن مجھے اس کے پیسے مل گئے تھے (مسکراتے ہوئے) اور اس کے جب پیسے ملیں تو مجھے لگا کہ یار یہ تو اچھا کام ہے تو میں باقی سب جو کام کررہا تھا اپنی زندگی میں وہ چھوڑ کر اس ہی طرف آگیا۔میں نے سوشیالوجی میں ماسٹرز کیا تھا ، نفسیات کا علم تھا، ادب سے تو خیر شروع سے ہی لگاؤ تھا ، لکھتا بھی تھا، ریڈیو نے وہ خوف دور کیا، اس کے بعدتھیٹر نے بہت سکھایا، اور پھر ٹیلی ویژن ایک بالکل الگ میڈیم تھا۔
    ٭ ایک مہینے میں اوسطاً کتنے مسودے اور آئیڈیاز آپ کے پاس آجاتے ہیں اور آپ کا سلیکشن کا طریقہ کار کیا ہے؟
    علی عمران: جس چینل میں میں بیٹھا ہوں اس کی اپنی requirement ہے اور اس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم چیزوں کو سلیکٹ کرتے ہیں ، ایسا نہیں ہے کہ ہم ہر کہانی اس وجہ سے نہیں کرپاتے کہ وہ سکرپٹ اچھا نہیں ہے یا کہانی اچھی نہیں ہے، کئی بار ہم وہ اس وجہ سے نہیں کرپاتے کہ وہ ہمارے چینل کی requirement سے match نہیں کررہی ہوتی۔ بہت اچھے اور خوبصورت سکرپٹس ہوتے ہیں جو ہم کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کرپاتے ہیں کیوں کہ ہمیں تھوڑا محتاط ہونا پڑتا ہے اور آپ نے مہینے کی بات کی ہے تو وہ تو میں نہیں بتا پاؤں گا لیکن ہمیں روزانہ کی بنیاد پر تقریباً چالیس، پچاس نئے مسودے مل رہے ہوتے ہیں ، اچھی خاصی تعداد ہوتی ہے۔
    ٭ کیا آپ riskier themes پر کام کرتے ہیں؟یا پھر جو آپ کا چینل پروفائل ہے اس ہی کو مدِنظر رکھتے ہوئے کام کرتے ہیں؟
    علی عمران: دونوں چیزیں ہوتی ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ٹیلی ویژن لوگوں کا مزاج بناتا ہے ۔میں جب سے یہاں ہوں میری کوشش ہوتی ہے کہ چینل کی جو requirement ہے اس کو feed کیا جائے اس کے علاوہ میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ساتھ ساتھ ہم ایسا کونٹینٹ بھی بناتے جائیں جو لوگوں کو دوسرے طریقے سے کہانی سننے اور دیکھنے کا بھی عادی بنائے ۔ ہم نے ایشوز پر کہانیاں بہت کی ہیں، ہم نے controvercial taboos پر بھی کام کیا ہے، صرف روتی دھوتی عورتوں پر کام نہیں کیا ۔

    ٭ آپ کے خیال میں نئے آئیڈیاز پر کام کرنے کے لیے کون سے رائٹرز زیادہ موزوں ہیں؟ نئے رائٹرز یا سینئر اور منجھے ہوئے؟
    علی عمران: دیکھیں دونوں کے اپنے pros and cons ہیں، دونوں کی اپنی اچھائی اور کمی ہوتی ہیں۔ نئے لکھنے والوں کے پاس انرجی بہت زیادہ ہوتی ہے، passion بہت ہوتا ہے ان میں، ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کچھ ہٹ کر کام کیا جائے۔ جہاں تک پرانے رائٹرز کا تجربہ بہت count کرتا ہے ان کو سکرپٹ کی تکنیک کا پتا ہوتا ہے، ان کے ساتھ کام کرنے میں وہ دقّت نہیں ہوتی جو نئے رائٹرزکے ساتھ کام کرنے پر ہوتی ہے ،اگر آپ ہمارا پورا اردو ادب اٹھا کر پڑھ لیجیے، تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ کہانیاں کم و پیش ایک ہی جیسی ہوتی ہیں، ان کا اسلوب انہیں مختلف بناتا ہے، مجھے مغربی ادب کی کہانیاں بہت اپیل کرتی ہیں وہاں پر انسانی نفسیات پر اور آج کے انسان پر کہانیاں ہوتی ہیں جس پر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کام نہیں ہوپایا ہے ۔ نئے رائٹرز بھی اچھا لکھ رہے ہیں، پرانے رائٹرز بھی اچھا لکھ رہے ہیں، کچھ پرانے رائٹرز ہیں، جو اچھا نہیں لکھ رہے، کچھ نئے رائٹرز ہیں جو اچھا نہیں لکھ رہے۔ یہ کرتے کی وِدّیا ہے جو کرنے سے آتی ہے۔
    ٭ ابھی جو آپ نے بات کی پاپولرفکشن کی، ہمارے ملک میں دو طبقے بنے ہیں، ایک ادب اور ایک فکشن۔ ادب والے فکشن رائٹر کو کچھ سمجھتے نہیں ہیں، آپ کے خیال میں یہ درست ہے؟
    علی عمران: ہر آدمی کا اپنا ایک نظریہ ہے، اپنی ایک سوچ ہے ، لیکن مجھے یہ لگتا ہے کہ ہر قسم کی سوچ کو اظہارکا موقع دینا چاہیے۔ اگر ایک آدمی اپنے ڈھب سے کہانی سنانا چاہتا ہے تو اس کو سنانے کا موقع ضرور دیں،یہ فرق ہمیشہ سے رہا ہے، میں اس چیز کا حامی ہوں کہ ہر طرح کا کام سامنے آنا چاہیے۔
    ٭ نئے لکھنے والوں میں کچھ ایسے نام جن کا کام آپ کو زیادہ بہتر لگا ہو؟
    علی عمران: بہت سارے ہیں، نئے رائٹرز میں مجھے لگتا ہے کہ بہت پوٹینشل ہے، اور ہمارے پاس زیادہ تر نئے رائٹرز کام کررہے ہیں ۔ ہر رائٹر میں کچھ نہ کچھ خصوصیت ہوتی ہے ، کچھ کا سکرین پلے بہت اچھا ہوتا ہے، کچھ کے مکالمے اچھے ہوتے ہیں، کچھ کو کہانی کہنا بہت اچھی آتی ہے ۔ہر رائٹر میں کوئی نہ کوئی خاص بات ہوتی ہے، میں تو بڑا پراُمید ہوں، مجھے بڑی خوش آئند بات لگتی ہے، میری بس ایک درخواست ہوتی ہے کہ جو لکھ رہے ہیں اس کو ایمان داری سے لکھیں، جو لکھا ہے اس کو پڑھیں ضرور اور اس کو بار بار چھلنی سے گزاریں۔
    ٭ آپ نے ابھی کہا کہ زمانۂ طالب علمی سے آپ کا لکھنے پڑھنے کا شوق رہا ہے، تو کون سا ایسا ادیب ہے جس کی تحریریں آپ کو بہت اچھی لگتی ہیں؟
    علی عمران: لکھنے کا تو بہت بعد میں ہی شوق ہوا، پہلے پڑھنے کا شوق تھا اور بہت شوق تھا۔ ہماری یونیورسٹی کے زمانے میں یہ ہوتا تھا کہ آپ خواتین کو متاثر کرنے کے لئے اشعار سنایا کرتے تھے ، ہمارے زمانے کی لڑکیاں بھی اشعار سے بڑا متاثر ہوتی تھیں، ہم نے مختلف شعراء کے اشعار سنانا شروع کردیے ، بعد میں ہم پکڑے گئے کہ یہ کسی اور کے شعر تھے، اس احساسِ شرمندگی نے مجبور کیا کہ اب کچھ لکھا بھی جائے(قہقہہ) جہاں تک ایک ادیب کی بات ہے تو ایک کا نام لینا مشکل ہے۔بہت سارے ہیں ، اگر برِصغیر کی بات کی جائے تو سعادت حسن منٹو، احمد ندیم قاسمی صاحب، گلزار صاحب، ممتاز مفتی صاحب ، عبداللہ حسین اور اگر آپ بین الاقوامی ادب کی بات کریں تو چیخوف ہیں۔
    ٭ کون سا writing genre کا آپ کو بہت پسند ہے؟
    علی عمران: مجھے نفسیاتی کہانیاں ہمیشہ سے پسند آئی ہیں اور ٹیلی ویژن کے اعتبار سے اگر پوچھا جائے تو مجھے رومانی کہانیاں پسند آتی ہیں۔
    ٭ کون سا writing genre جو آپ کو انتہائی غیر دلچسپ لگتا ہو؟
    علی عمران: آپ اگر یقین کریں گے تو میں بتادیتا ہوں مزاح (قہقہہ) میں سچی بات بتاؤں تو مجھے کامیڈی لکھنے میں بھی زیادہ مزہ نہیں آتا۔ میں بہت بے دلی سے لکھ کر اپنے ڈائریکٹر کو دے دیتا ہوں کہ بھائی جو سمجھ آئے اس کو شوٹ کردینا، اور وہ بہت اچھا نکل آتا ہے ، تو وہ مجھے کہتے ہیں کہ آپ بے دلی سے ہی لکھا کریں، دل سے لکھیں گے تو رزلٹ اچھا نہیں آئے گا (قہقہہ)
    ٭ آپ کو نہیں لگتا کہ بلبلے بہت زیادہ طویل ہوگیا ہے اس کو اب بند ہوجانا چاہیے؟
    علی عمران: دیکھیں اگر آپ میری پسند ناپسند پر جائیں گے تو اس وقت ٹیلی ویژن پر چلنے والے آدھے سے زیادہ ڈرامے بند ہوجائیں گے ( مسکراتے ہوئے) میں نے کہا نا کہ چینل کی بھی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں اور ایسا ہرگز نہیں ہے کہ چینل ڈھیٹ بن کر بیٹھا ہوا ہے ، مجھے آج بھی بہت لوگ ملتے ہیں جو بلبلے دیکھتے ہیں اور باقاعدگی سے دیکھتے ہیں۔ میرا ماننا یہ ضرور ہے کہ اس کی مقبولیت کم ہوئی ہے۔ یقینی طور پر ایک چیز اگر اتنی طویل ہوگی تو ایک وقت آئے گا کہ لوگ اس کو گھر کا سامان سمجھنے لگتے ہیں۔
    ٭ آپ نے کامیڈی کے علاوہ سنجیدہ بھی لکھا ہے؟
    علی عمران: میں نے شروعات سنجیدہ کام سے ہی کی۔ اب بدقسمتی ہے کہ لوگوں کو اس کے حوالے سے زیادہ پتا نہیں (قہقہہ) میں تو مزاح لکھتا ہی نہیں تھا ، نہ ہی لکھنا چاہتا تھا۔ میں نے کامیڈی کبھی نہیں لکھی، تھیٹر میں ڈارک کامیڈی تھوڑی بہت لکھی اور شاید وہی چیز میرے کام آگئی۔ ایک سیریل آتا تھا میں اور تم جو اظفرکرتے تھے،اس کے رائٹر کے ساتھ کچھ مسئلہ ہوگیا تو اظفر میرے پاس آگئے اور کہنے لگے کہ علی بھائی آپ نے یہ لکھنا ہے ، میں نے کہا یار مجھے تو کامیڈی نہیں لکھنا آتا، تو انہوں نے کہا یار اتنا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، میرے ساتھ بیٹھ جاؤ یوں کرو، یہ کرو، اور ایسے کرلیتے ہیں، اور واقعی اظفر نے بڑا آسان کردیا۔
    ٭ آپ کے اب تک کے کیے گئے پراجیکٹ میں کون سا پراجیکٹ ہے جو آپ کو بہت پسند ہے؟
    علی عمران: میں نے شروع میں ایک شارٹ پلے کیا تھا، خاموشی کے نام سے جس میں فیصل قریشی اور ثانیہ سعید تھے اور عمران پٹیل اس کے ڈائریکٹر تھے، وہ پلے مجھے بہت پسند تھا۔ دوسرا میرا ایک سیریل تھا خراشیں، سیفی حسن نے ڈائریکٹ کیا تھا وہ بھی مجھے بہت پسند ہے۔ پھر فہد مصطفیٰ نے ایک سیریز شروع کی تھی ‘اور پھر’ کے نام سے اس کے میں نے پلے لکھے تھے۔ کامیڈی میں مجھے جو پسند ہے وہ نادانیاں ہیں، اور بلبلے۔۔اب تو نہیں لیکن شروع میں بہت پسند تھا(مسکراتے ہوئے)
    ٭ مقابلے کے باقی ایڈیٹرز میں کون سے ایسے ہیں جن کا کام آپ کو بہتر لگتا ہے؟

  • سیاہ اور سفید کے درمیان

    سیاہ اور سفید کے درمیان

    ناول

    ”سیاہ اور سفید کے درمیان ”

    تحریر: نائلہ عرفان

    Surah Al-Baqarah
    (Ayat 286)
    ”خدا کسی شخص کو اُس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔اُس کوثواب بھی اُسی کا ملے گاجو ارادہ سے کرے اور اُس پر عذاب بھی اُسی کا ہو گا جوارادہ سے کرے۔ اے رب ہمارے نہ پکڑ ہم کو اگر ہم بھولیں یا چُوکیں۔ اے رب ہمارے اور نہ رکھ ہم پر بوجھ بھاری جیسا رکھا تھا ہم سے اگلے لوگوں پر ۔ اے رب ہمارے اور نہ اُٹھوا ہم سے وہ بوجھ کہ جس کی ہم کو طاقت نہیں اور درگزر کر ہم سے اور بخش ہم کو اور رحم کر ہم پر تو ہی ہمارا رب ہے ۔ مدد کر ہماری کافروں پر” ۔
    (سورہ البقرہ آیت 286)

    ”A journey of a thousand miles begins with a single step”
    میلوں کی مسافت پہلا قدم اُٹھانے سے ہی طے ہوتی ہے۔

    سید مظہر حسین مرحوم کے انتقال کو آج سوا مہینے پورا ہوا قُل دسواں اور چہلم سب ہی پورے اہتمام سے منائے گئے ۔رشتے دار عموماََدن رات کا کھانا بھیجوایا کر تے جب کہ پرُ لطف ناشتے کا اہتمام محلے داروں نے سنبھالا ہوا تھا۔ایک روز تو مختلف شہروں سے آئے مظہر صاحب کے بہن بھائیوں نے رات کو ہی سو چ لیا کہ صبح اُٹھ کر تندوری نان بمعہ لیاقت سفید مکھن منگوالی جائیں جو کہ کو ئٹہ کی خاص سوغات سمجھی جا تی ہے ۔ساتھ میں دودھ والے سے تازہ دودھ لے کر دودھ پتی چائے بھی چڑھ گئی ۔ابھی ناشتے کا پہلا دور اختتام پذیر نہیں ہوا تھا کہ ڈاکٹر شاہ زمان کے گھر سے گرماگرم ناشتے کی ایک اور بڑی ٹرے آگئی ۔دو مختلف طرح کے آملیٹ،گھر کے بنے دس پندرہ پراٹھے ،تازہ ڈبل روٹی ،چھوٹی بلیوبینڈ مکھن کی ٹکیہ ،جیم اور شہد کی دو شیشیا ں اور چائے کے دو فل سائز تھرماس ۔ سب کی آنکھیں ناشتے کی اس ٹرے کو دیکھ کر کُھلی کی کُھلی رہ گئیں پھر تقریباََ سبھی نے پچھلے ناشتے کو کو صاف کر کے اگلے نا شتے کا باقاعدہ آغاز کیا۔ غم زدہ حلیمہ بھابھی اگرچہ عدّت میں تھیں مگرگھر والی ہونے کے ناطے ہر آئے گئے کا خیال رکھنا اُن کا فرض ٹھہرا پہلے انہوں نے شکرئیے کے ساتھ ناشتے کی ٹرے وصول کی ۔بعد میں بچے کُچے نا شتے کو سمیٹ کر دُرناز )برتن دھونے والی ادھیڑ عمر خاتون( کے حوالے کیا ۔پھر اپنا تیرھواں سپارہ کھول کر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے پڑھنے بیٹھ گئیں ۔رات کو بھی بڑی ذمہ داری سے انہوں نے ڈاکٹر صاحب کے تمام برتنوں میں دیگ کا کھانا بھرا پھر گرم جوش شکریہ ادا کر نے کی خصوصی تاکید کے ساتھ ٹرے واپس بھیجوادی۔
    سوئم کی قر آن خوانی کا انتظام عورتوں کا گھر پر اور مردو ںکے لیے سامنے خالی پلاٹ پر کیا گیا تھا۔مظہر صاحب کے گھر کے بالکل سامنے سحر این جی او (NGO)کا دفتر ہے ۔دفتر کے ساتھ والے پلاٹ پرمالک پلاٹ سے پوچھ کر چار دیواری کھڑی کر دی ۔سکیورٹی (security)کیمرہ ‘ رات بھر آدھی گلی کو روشن رکھنے والی پاور فل اسٹریٹ لائٹ بھی لگوادی گئی اور گیٹ پر چوکیدار بیٹھا دیا ۔اس طرح نہ صرف دفتر والوں کو ایک بہترین پارکنگ لاٹ مل گیا ۔بلکہ گلی کی سکیورٹی کا بھی خاطر خواہ انتظام ہو گیا ۔این جی او (NGO)میں ہر وقت لوگوں کے آنے جانے سے ایک رونق سی لگی رہتی ۔بہر حال جب حلیمہ اور شیراز نے سوئم کا دن مُقررکرلیا تو محلے میں اطلا ع بھیجوا دی گئی ۔کوئٹہ کے لوگوں میں خلوص کا تناسب بڑے شہروں کی نسبت کچھ زیادہ ہی ہے۔بس تو پھر کیا تھا محلے کا ایک لڑکا دوڑ کر این جی او (NGO)کے چوکیدار کے پاس گیا اور اُس سے پارکنگ لاٹ رسمِ قُل کے لیے مانگ لیا۔واضح رہے کہ یہ وہی چوکیدار ہے ۔جس سے مظہر صاحب کی اپنی پوری زندگی ٹھنی رہی ۔جب بھی گھر سے نکلتے اِسے کسی نہ کسی بات پر ضرور ہی رگڑتے جیسے کبھی کہتے کہ ”تمہارا لوگ جب بھی لاٹ سے گاڑی نکالتا ہے ‘ہمارے تھڑے پر ضرور چڑھاتا ہے ‘کبھی ٹوٹ گیا ۔تو میں نے مالک کے پاس لڑنے پہنچ جانا ہے "یا پھر کہتے” تمہارے دفتر میں ہر وقت لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے ۔ پوری گلی میں شور وغُل ڈال رکھا ہے” شیراز نے دبّی زبان میں کئی مرتبہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ”ابّا !اوّل تو ہمارا تھڑا خا صا مضبوط سیمنٹ کا بنا ہوا ہے ۔شیشے کا نہیں کہ ذرا سا گاڑی چڑ ھنے پر ٹوٹ جائے ۔دوسرا یہ کہ یہاں سے نکلنے کا اور راستہ بھی نہے ۔تیسرا یہ کہ اِن لوگوں سے ہماری ہمسائے داری ہے اور چوکیدار ایک غریب شریف آدمی ہے ۔آپ ہر وقت اُس کا پیچھا نہ پکڑا کرئیں "مگر مرحوم کچھ پیدائشی برہمی کا شکا ر تھے ،سوچھوٹی چھوٹی باتوں پر فساد کھڑا کر ناطبیعت میں رچ بس گیا تھا۔ کف افسوس کیا خبر تھی کہ ایک روز اِسی لاٹ پر اُن کی رسمِ قُل ہوگی اوریہی این جی او (NGO)والے انتظام کریںگے۔
    خیر شیراز اکثر آتے جاتے چوکیدار کے ہاتھ پر کبھی ہزار ‘پانچ سو رکھ دیتا ۔اس غریب چوکیدار نے حق ہمسایہ گیری ادا کرتے ہوئے ”لشتم چشتم این جی او (NGO)کے مالک کو فون کر کے اجازت طلب کی اور پھر انتظامات میں بھی خوب آگے آگے رہا ۔حتی کہ ہرے پھول دار ٹینٹ کو روشن رکھنے کے لیے جو دو بڑے بڑے بلب لگوئے گئے تھے اُن کا کنکشن بھی سامنے مظہر صاحب کے گھر سے لینے کے بجائے ساتھ موجود این جی اوکے دفتر سے دے ڈالا ۔سوئم کے لیے چکن کڑاہی ،مٹن پلائو اور میٹھے چاولوں کی جو تین دیگیں آئیں وہ بھی اُسی نے دیگ والے کے ساتھ مل کر گدھے گاڑی سے اُتروائیں اور پلاٹ کے سامنے خالی سڑک پر رکھ وادیں۔اسی لئے حاضرینِ محفل اس چھوٹی سی زندگی میں آپ سب کے ساتھ بھلے رہئے کوئی پتہ نہیںکہ کوئی کب کہاں اور کس طرح آپ کا بھلا کر جاتا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جب سب نے مل کر کئی کلام پاک اور سینکڑوں مرتبہ سورةیسٰین پڑھ ڈالی تو حلیمہ نے حافظ سلیمہ مندوخیل سے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے پرُسوز دُعا کی التماس کی ۔۔۔۔کافی دیر تک اللہ سبحان وتعالی کے آگے عاجزی سے گڑگڑ انے اور توبہ استغفار کرنے کے بعد انھوں نے کٹے ہوئے موسمی پھلوں ودیگر پکوانوں کی سوخ پھول دار خوان سے دھکی پلیٹوں پر فاتحہ دے ڈالی۔اس طویل روح پُرور رتقریب کے اختتام تک حلیمہ بھابھی اس قدر تھک چکی تھیں کہ صوفے پر کچھ دیر کے لیے یہ کہہ کر بیٹھ گئیں کہ خدارا اب مجھے نہ اُٹھانا کیونکہ اب اگر اُٹھی تو ڈر ہے کہ چکرا کر کہیں گر ہی نہ پڑوں ۔
    دراصل اللہ نے مظہر حسین اور حلیمہ مظہر کو صرف دو ہی اولادیں دی ہیں ۔عائلہ مظہر اور شیراز مظہر۔ عائلہ توشادی کر کے امریکہ چلی گئی تو اُس کا آنا جانا ہوا مشکل ۔بچا شیراز تو وہ بیچارہ باہر کا انتظام سنبھا لے کہ اندر کا؟ لہٰذا اندرونِ خانہ کی تمام تر ذمہ داری آئی حلیمہ بھابھی کے کندھوں پر۔ اب انھیں کبھی سفید چادروں کے لیے آواز پڑتی تو کبھی کسی کو جائے نماز یںدرکار ہوتیںعین سوئم کی قران خوانی کے درمیان ڈرائنگ روم کے بیرونی دروازے کے پاس والے کونے سے آواز آئی بھابی !اگر بتیاں کہاں ہیں ؟اِن کے بغیر قرآن خوانی کا بھلا کیا مزہ ”
    لو بھلا بتائو یہ قرآن خوانی مرحوم کی روح کو بخشوانے کے لیے رکھوائی ہے یا تمہارے مزے کے لیے۔ یہ آواز عطرت پھوپھو کی تھی ۔مسز عطر ت عثمان مظہر صاحب کے دس بہن بھائیوں میں سے ساتویں نمبر پر ہیں۔خاتون جس محفل میں جاتیں کچھ الگ ہی نظر آتیں وجہ چہرے پر تنا شکنوں کا منفرد جال شکنوں کی ترتیب کچھ اس پرکارہے ماتھے پر لمبائی کے رُخ چار اور چوڑائی کے رُخ چھ ، دونوں آنکھوں کے گرد بے تحاشہ چھوٹی چھوٹی لکیریں اور سب سے واضح ناک کے سرے سے لیکر ہونٹوں کے کناروں تک آتی اسمائل لائنز،(حالانکہ کے مسکرانے سے اُن کا دور کا بھی واستہ نہیں تھا )جب بھی وہ منہ ٹیڑھا کر کے بو لتیںتو وہ کچھ اور بھی واضح ہو جاتیں ۔پچھلے سال جب وہ ا پنی ڈاکٹر بیٹی کو امتحان دِلوانے لندن لیکر گئیں تو اپنی کاسموٹولوجسٹ بھابھی سے زبر دستی مفت میں بوٹوکس کے انجکشنز لگوالئے اور فلرز بھی ڈلوالئے ۔

    جس سے چہرہ تو سچی بات ہے جیسے پہلے تھا ویسا ہی رہا ۔بھابھی نے کون سا دل سے یہ کام کیا تھا۔بس جان ہی چھڑوائی تھی اپنی مگر وہ خود کو پچپن کے بجائے پینتیس 35))کا سمجھنے لگیں ۔دماغ کے فطور اور لہجے کے غرور میں گراقدرِ اضافہ ہوا کہ ناخن کچھ مزید لمبے ہوگئے لپ اسٹک ،نیل پالش شیڈ کچھ دوہرا گہرا اور انگوٹھیا ںدوسے چار ہوگئیں ۔یہ عطرت پھوپھو ہی تھیں جنھوں نے بھرے مجمع میں جب عورتیںمنہ کھول کھول کر حلیمہ بھابھی کی خدمت گزاری کے گُن گارہی تھیں ۔تو جل کر کہہ دیا کہ "بھئی ! ہمیں کیا پتہ کہ خدمت کی بھی ہے یا نہیں ہم تو سب دوربیٹھے تھے اپنے اپنے گھروں میں۔ میں تو آخیرتک فون کرتی رہی کہ ذراکی ذرا بھائی کی آواز ہی سنُ لو ں مگر کبھی جواب ملتا کہ اّبا ابھی سو رہے ہیں ۔کبھی یہ کہ اُن کی کنڈیشن ایسی نہیں ہے کہ ابھی بات کر سکیں ”
    اپنے سے فقط ڈیڑ ھ دو سال چھوٹی بہن کے بے تُکے پن پربڑی سعدیہ پھوپھو نے خوب ہی بُرا محسوس کیا۔ساتواں سپارہ جو ابھی صرف نصف ہی پڑھا تھا انگلی رکھ کر بند کیا ۔عینک ناک کی ٹپ پر ٹکائی اور پہلے اُسے خوب غور سے دیکھا پھر ٹھوک کر بولئیں ۔”تم نے بالکل صحیح کہا بھلا دوربیٹھے ہوئوں کو یہاں کے باسیوںکی کُلفتوں کا کیا اندازہ ؟ہم توبھئی دو قدم کے فاصلے پر رہتے ہیں ۔لہذا پَل پَل کی خبر ہے کہ پچھلے دو سال سے حلیمہ بھابھی اور شیراز نے کس طرح مظہر بھائی کی خدمت کے لیے اپنا دن اور رات ایک کیا ہوا تھا۔مظہر بھائی پچھلے تیس سالوں سے زیا بیطس کے مریض تھے ۔دوسال پہلے گُردوںنے جواب دے دیا اور بہنا !ڈالیسیز Dialysis))کے مریض کی دیکھ بھال کرنا کو ئی بچو ں کا کھیل نہیں ہے۔آخر کے چند مہینوں میں ہیپاٹائٹس (hepatitis)ہوگیا ۔چہرے کا رنگ کالا سیاہ، جسم پر سیاہ دھّبے مرحوم پیشاب اور پوٹی بھی ڈائیپر(Diaper)میں کر رہے تھے اتنے لہیم شہیم آدمی کے پیمپر(pamper) بدلنا بھی ہر بار ایک مرحلہ ہوتا ۔اوپر سے بھائی کا چِڑچِڑاپن اور کنجوسی اپنے عروج پر تھی اپنے علاج پر بھی جیب سے ایک ٹکا خرچ کرنے کو تیار نہ تھے ۔ایک منٹ کیسی باہر والے اٹینڈئنٹ Attendent))نے ٹِک کر نہ دیا ۔خود ہی ماں بیٹا کبھی اُن کی اُلٹیا ں صاف کرتے تو کبھی مالش کر رہے ہیں ،جسم داب رہے ہیں ۔سچ پوچھوتو اِن دونوں نے اپنی جنت اسی دنیا میں کمالی میں خود اِس بات کی سب سے بڑی گواہ ہوں ۔مگر تم کیا جانو!تم تو خیر سے دور بیٹھی تھیںاپنے گھرمیں "سعدیہ پھوپھو نے اپنی بات ختم کر کے ٹیولپ ٹشو Tulip tissue ))کا پاکٹ سائز پیک اپنے پرس سے نکالا ۔اس میں سے دوخوشبودار سفید ٹشو باہر کھینچے اور بھیگی بھیگی آنکھوں کو خوب رگڑ کر صاف کرنے لگئیں ۔بڑی بہن کے اِس تفصیلی بیان کے بعد عطرت پھوپھو اپنا سا مُنہ لے کر رہ گئیں ہاتھ میں کب سے پکڑی سورةیسٰین کچھ غصے میں اور کچھ وجّدمیں آکر جھوم جھوم کر پڑھنی شروع کر دی ۔سعدیہ پھوپھو اگر چے قرآن خوانی کے درمیا ن باتیں کرنا معیوب خیا ل کر تی تھیں ۔مگر اِس وقت یہ وضاحت دینا بے حد ضروری تھا ۔
    پہلے ہی عائلہ کی عدم موجودگی پہ گھر کے ملازمین سے لے کر ہر آئے گئے نے خوب ہی سوال اُٹھائے ہیں کہ عائلہ اب تک کیوں نہیںآئی؟؟ پہلے باپ کی دو سالہ بیماری میں نہیں آئی اب تدفین پہ بھی غائب ہے !!حلیمہ بھابھی سمجھا سمجھا تھک گئیں کہ امریکہ کوئی پاکستان میں نہیں رکھا ہوا۔پی آئی اے(PIA)کی براہِ راست پرواز بھی امریکہ سے آنا اب بند ہو چکی ہے ۔اگر باپ کی اطلاع ملتے ہی اِسے ٹیکٹس کسی طرح مل بھی جاتے توکنیکٹنگ Connecting))فلائٹ لے کر یہاں کوئٹہ آتے کم از کم دو دن تو لگ ہی جانے تھے اور مظہر صاحب کی تدفین اتنی دیر روکی نہیں جاسکتی تھی۔باڈی اِس حال میں ہی نہیں تھی پھر باہر والوں کی اپنی زندگی کے ہزار ہاں جھمیلے ہیں ۔ہمیں اُس سے کوئی شِکایت نہیں ہے۔آجائے گی وہ اپنی سہولت سے لیکن اللہ کی اِس زمیں پہ جتنے اُبھار اور گھاٹیاں ہیں ۔اِس سے کہیں زیادہ اُبھار اور گھاٹیا ں انسان دماغ پہ موجود ہیں ۔جہاں پراَن گنت سوچیں اُبھر تی پھسلتی رہتی ہیں ،سومولا کی زمین پر ربسنے والے اپنی قیاس آرئیوں سے باز نہیں آتے ۔
    دراصل عائلہ مظہر نے شادی اپنی مرضی سے کی تھی شروع شروع میں تو باپ بیٹی میں خاصی ٹھنی رہی۔مگر امریکہ جانے کے بعد بھی وہ ہرسال ماں باپ سے ملنے آیا کرتی تھی ۔بلکہ ایک مرتبہ ایان کا کوئی طویل پرجیکٹ جاپان میں چل رہا تھا تو عائلہ کوئی سال بھر کے لیے دونوں بچوں کے ساتھ ماں باپ کے پاس پاکستان آگئی تھی۔اِس موقع پر بھی خاندان بھر میں خوب چہ میگوئیاں ہوئیں کہ یقینا میاں بیوی کی علیحدگی ہو گئی ہے۔ آگیا ہو گا کسی گوری کے چکر میں تو بھیج دیاعائلہ کو واپس خیر عائلہ کچھ عرصہ رہ کر چار سالہ سلیمان اور دو سالہ مُحمد کے ساتھ ور جینا (virginia)واپس چلی گئی اور ایسی گئی کہ اب دو ڈھائی سال ہونے کو آئے اُس کا کوئی نام ونشان نہیں ہے۔
    "سعدیہ باجی !یہ اپنی عائلہ نظر نہیں آرہی اِس روز میں تد فین میں آئی تھی تو بھی ملاقات نہیں ہوئی مانا کہ باپ کا غم ہے مگر ایسا بھی کیا کہ بندہ آنے جانے والے مہمانوں سے پُرسہ بھی نہ لے سکے "عائلہ کی بابت خالصتاً ٹھوہ لینے والے انداز میں پوچھنے والی یہ مظہر حسین کے ماموں زاد بھائی کی بیوہ بیگم طاہرہ نسیم تھیں صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ بن رہی ہیں اندر سے خوب ہی جانئے ہیں کہ عا ئلہ یہاں موجود نہیں ہے ۔
    بہر کیف اُن کے اِس سوال پرسعدیہ پھوپھو کا پانی کے جگ کی طرف بڑھتا ہاتھ تھم سا گیا ۔”طاہرہ بھابھی !عائلہ تو نہیں آئی شاید کچھ ٹھہر کر آنے کا ارادہ ہے ”
    ” اچھی بہن !سچ کہو یعنی کہ اب بھی نہیں آئی اللہ جانے کیا معاملہ رہا ہو گا ۔ویسے بھی اپنی عائلہ کی یہ love marriage)) ہے ۔ مظہر بھائی اِس رشتے کے شروع سے ہی خلاف تھے کیا پتہ سسر اور داماد میں کب سے سرد جنگ چل رہی ہو جس کا بدلہ اُس نے عائلہ کو مظہر بھائی کی بیماری نہ میں بھیج کر لیا ہو”انہوں نے مانوقیاس کے سمندر میں ساری کشتیاں ڈبو دئیں ۔اگر آپ نے کبھی پمپکن پیچ(pumpkin patch)کی پھولے پھولے گالوں والی خوب گول مٹول اور گوری چٹّی گڑیاں دیکھی ہوں تو اِس لائن کی وہ گڑیا جو بارہ تیرہ سال کی بچیوں کے لیے ہوتی ہے وہ لے آئیں ۔اُسے پاکستان کے کیسی بہترین برانڈ کے کپڑے پہنا کر سر پر دوپٹہ اُوڑھا دیں اور شکل کی ساری معصومیت سرے سے غائب کر دئیں تو ہوبہو نسیم بھابھی بن جاتی ہیں ۔پہنا اُوڑھنا اِن کا شروع سے ہی بہت اچھا رہا ہے اور کیوں نہ ہو ؟دونوں بیٹے خوب اچھا کمارہے ہیں ۔ایک تو کینڈا میں ہے اور دوسرا کوئٹہ میں کوئی لیب شیب چلا رہا ہے جس طرح کی وہ ٹیڑھی ماں تھیں اولاد خود بخود ہی سیدھی رہتی شرافت سے دونوں بیٹے انھیں خوب اچھا پاکٹ منی دیتے ہیںجو بہو پاس تھی شریف خاندان کی قبول صورت مگر کم پڑ ھی لکھی لڑکی تھی جیسے وہ اہتمام سے اپنے ایم ایس سی پاس بیٹے کے لیے بیاہ کر لئیں تھی ۔اب پائوں کے انگوٹھے تلے ایسا دبارکھا ہے کہ اپنے میکے جانا تو درکنار گھر کے دروازے تک اُن کی اجازت کے بغیر نہیں جاسکتی تھی ۔بھلے گھر میں بے چاری کا دم گھٹا جا رہا ہو ۔
    "اچھی بہن!بس اب کیا بتائوں کہ آخری دونوں میں بھیا مرحوم کی شریانوں کی حالت اِس قدر نازک ہوگئی تھی کہ مزید ڈائی لیسیسزDialysis))ممکن نہیںرہا تھا ۔”انہوں نے سعدیہ پھوپھو کے قریب کھسک کر قدرے راز داری سے کہا انداز ایسا تھا کہ جیسے وہ مرحوم کی تیمار داری کے لیے روزانہ آتی رہی ہوں اور سعدیہ پھوپھو کبھی کبھار حالانکہ حقیقت اِس کے بالکل برعکس تھی ۔وہ خود مرحوم کی طویل بیماری میں صرف ایک آدھ بار ہی خبر گیری کے لیے آسکیں تھیں۔
    ”ڈاکٹر نے صاف جواب دے دیا تھا ،دماغ پر اثر ہونے لگا تو سارا سارا دن عجیب وغریب آوازیں نکالتے رہتے۔کیسی پل چین نہیں تھا یوں لگتا کہ موت کا فرشتہ نظر وں کے سامنے ہر وقت موجود ہو مگر تف ہے بھئی آج کل کی اولاد پر کہ ایسے کڑے وقت میں بھی ماں باپ کی دل جوئی کو نہ آسکے۔
    نہ تو عائلہ اُمید سے ہے نہ اس کے بچے شیرخوار ہیں کہ اتنا لمبا سفر ممکن نہ ہو .عائلہ تو گوروں کے دیس میں جا کر بالکل انہی کی طرح سوچنے لگی ہے کہ اپنے شیڈول کے مطابق آنا جانا ہے ماں باپ بھلے اِس کے بچوں کی صورتوں کو ترستے رہیں "وہ کچھ اور آگے کھسک کر مزید گویا ہوئیں۔
    ”ویسے میں اس کے بچوںسے مل چکی ہوں پہلے دونوں ہی عجیب چڑچڑے سے تھے ۔ہر وقت ماں کا پلو پکڑے ہر آئے گئے کو نوچتے کھسوٹتے رہتے ،بولتے ولتے اُس وقت تو کچھ خاص نہ تھے لگتا ہے کہ عائلہ نے کوئی خاص تمیز نہیں سیکھائی ۔امریکہ کے بجائے کسی چک کی پیداوار لگ رہے تھے ۔اب اپنے خرم (اُن کا چھوٹا بیٹا )کے بچوں کو ہی دیکھ لو ‘میں نے پالنے میں ہی آداب سلام کی تمیز سیکھادی تھی ورنہ آتا جاتا تو اُن کی ماں کو بھی کچھ خاص نہیں ہے۔آپ کی بھابی صاحبہ کیا بتا رہی ہیںکہ صاحبزادی کب تک آئیں گی ؟ کوئی اور موقع ہوتا تو شاید سعدیہ پھوپھو عائلہ کی صفائی ضرور پیش کرتیں مگر اُن کا دل اِس بارعائلہ سے خوب ہی کھٹا ہو ا تھا ۔اگر چے اپنے ہاتھوں کی پالی بچی تھی دلِ ودماغ یہ مانے کو تیار نہیں تھا مگر حالات کچھ یہی خبر دے رہے تھے کہ عائلہ بدل گئی ہے بہت دُکھی دل سے گویا ہوئیں کہ "اُن سے تو ہم نے پوچھنا چھوڑ دیا ہے ہر ایک کو یہی کہتی پھر تی ہیں کہ باہر والوں کے اپنے سومسلے مسائل ہوتے ہیں جن کا اندازہ ہم پاکستان میں بیٹھ کر نہیں لگا سکتے ۔میرا بھائی تو آخیر تک سب سے پوچھتا رہا کہ عائلہ آگئی کیا ؟میرے سیلمان اور محمد کہا ں ہیں ؟پھر اُن کے معصوم چہرے دیکھنے کی حسرت لیئے لحد میں اُتر گیا بد قسمتی اُس کی بھی کہ باپ کا آخری دیدار نہ کر سکی البتہ حلیمہ بھابھی نے میت کو قبرستان لے جانے سے پہلے پانچ منٹ کے لیے فیس ٹائم پر دیکھایاضرور تھا ۔اُس کے رونے کی ہلکی سی آواز تو میں نے بھی سُنی تھی ۔یہ رونا تو اب عمر بھر کا ہے ۔کچھ بھی کر لو ماں باپ کہاں واپس آتے ہیں ”
    سعدیہ پھوپھوکی بات سنُ کر نسیم بھابھی نے اثبات میں خوب زور سے سر ہلایا پھر اپنے سوجے ہوئے پیر سمیٹ کر اُٹھنے لگ گئیں ۔
    "اچھا اب میں چلوں گی پیر نیچے بیٹھنے سے اور سوج گئے ہیں گھر جا کر اِن کا ذرا مساج کروں تو کچھ سکون آئے ”نسیم بھابھی خود بھی زیابیطس کی مریضہ تھیں مگر پرہیز بالکل بھی نہ کر تیں لہذاکبھی پیر سوجتے تو کبھی چہرہ لیکن اِس کے باوجود بھی خاصی سوشل خاتون تھیں ۔جہاں بھی جاتیں دس پندرہ منٹوں میں مقررہ ہدف پورا کر لیتیں ۔دوسروں کے دل آپس میں کھٹے کر کے خود مطمئن سی جیے جا رہی تھیں ۔
    ”ارے نسیم بھابھی !ذرا روکئیے تو دُعا میں شریک ہو کر ‘دو لقمے کھا کر چلی جائیے گا ۔”سعدیہ پھوپھو نے اُن کا ہاتھ پکڑ کر روکا۔ ”اچھی بہن !کھانا تو میں باہرکا کھاتی نہیں ہو ں مگر دُعا میں شرکت لازمی کرو نگی بس میں ذرا لطیف )ڈرائیور)کو فون کر دوں کہ وہ پندرہ منٹ باہر میرانتظار کرے ”نسیم بھابھی نے اپنے کوچ (coach)کے شولڈر بیگ سے آئی فون نکالا اور ڈرائیورکو نمبر ملا کر ہدایت دینے لگ گئیں تو سعدیہ پھوپھو بھی کچن میں ایک نظر ڈالنے کے خیال سے اُٹھ کھڑی ہوئیں ۔

  • عبداللہ – دوسری اور آخری قسط

    عبداللہ – دوسری اور آخری قسط

    عجیب بات ہے کہ مجھے آیا اچھی نہیں لگتی تھی مگر اس کی بیٹی اچھی لگنے لگی تھی۔
    آمنہ۔۔۔
    آمنہ فرمان ۔۔۔
    آمنہ ۔۔۔عبداللہ
    آمنہ عبداللہ
    میں بھی یہ کیا بچوں جیسی حرکتیں کر رہا ہوں ۔کسی نے دیکھ لیا تو ہنسے گا مجھ پر ۔ چلو لائن لگا دیتا ہوں اس کانام۔ کاٹ دیتا ہوں آخری لائن کو ۔
    کیا کروں چاہ کر بھی میں اس کا نام کاٹ نہیں پا رہا ۔میں بھی ناں ۔۔۔ مجھے لگتا ہے میرا دماغ خراب ہو گیا ہے ۔ ابھی تو مجھے اپنی بہن کو ڈھونڈنا ہے ، اس کے لیے اچھا سا لڑکا تلاش کرنا ہے ، اس کے ہاتھ پیلے کرنے ہیں ۔ پھر اپنے بارے میں سوچوں گا ۔ابھی تو بہت سے کام باقی ہیں ۔ یہ آمنہ خواہ مخواہ چلی آئی میری زندگی میں ۔ آئندہ نہیں سوچنا اس کے بارے میں ۔
    میں نے دل میں تہیہ کیا۔
    ٭٭٭٭٭
    ”تم ۔۔۔تم ۔۔۔حیثیت کیا ہے تمہاری۔تمہاری اتنی جرات بھی کیسے ہوئی کہ تم ایسی بات کرو۔ تم ایک نوکر ۔۔۔ایک مالی ۔۔ایک دو ٹکے کے ۔۔۔تم ۔”
    وہ آنکھیں بند کرتا تو غصے کے ساتھ چلاتی ہوئی آئمہ جہانگیر اس کے سامنے آجاتی ۔ وہ آنکھیں کھولتا تو اس کو اس کی حدیں جتاتی ہوئی آئمہ جہانگیر سامنے آ کھڑی ہوتی۔
    ”چراغ دین ۔۔اسے بتاؤ کہ ایک نوکر کی حد کیا ہے ۔”
    وہ بہت مضبوط تھا ،لیکن ٹوٹ رہا تھا ۔
    بہت بار اس نے سوچا کہ وہ یہاں سے چلا جائے ، آئمہ جہانگیر کی دنیا میں اس کے لیے کوئی جگہ نہ تھی، اس کی کوئی ضرورت نہ تھی۔مگر جس گلاب کی اس نے آب یاری کی تھی،اسے یونہی چھوڑ کر چلے جانا دشوار ہوا ۔وہ اسے پھول دار دیکھنا چاہتا تھا ، بھلے اس کے کانٹے اسے گھائل کرتے تھے ۔
    شادی کے دن قریب آ رہے تھے ۔عورتوں جیسی چال والا ڈیزا ئنر دلہن اور دلہا کے ملبوسات ، دلہن دلہا کے ماں باپ ،دلہا کی بہن اور دلہن کی سہیلیوں کے ڈریسز کے بارے میں مشورے دینے اور ہدایات لینے چلا آتا، مردوں جیسے حُلیے والی ویڈنگ پلانراپنی ٹیم کے ساتھ گھر کا سروے کرنے چلی آتی۔ برائیڈل شاور کے لیے ہال اور مہندی کے ایونٹ کے لیے لان منتخب کیا تھا اس نے۔
    ”یہ اس طرف اسٹیج بنے گا ۔کچھ پودے کٹوانے پڑیں گے آپ کو ۔” اس نے اپنے اپنے چھوٹے چھوٹے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے ایک طرف اشارہ کیا ۔ارم جہانگیر نے سر ہلا دیا تھا ۔
    اس نے تڑپ کر اس گلابی گلاب کے پودے کی طرف دیکھا جس کی ٹہنی اس نے اپنے ہاتھوں سے لگائی تھی اور جس میں لگی ہرے رنگ کی ننھی ننھی کلیاں اشارہ دیتی تھیں کہ اب اس پہ پھولوں کی بہار آنے ہی والی ہے ۔
    ٭٭٭٭٭



    ”آپ نے مجھے میری ماں سے ملوایا ۔ میں آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھول سکتی۔” آمنہ فرمان اکثر کہتی تھی اور میں مُسکرا دیتا تھا ۔ میں نے بھلا کیا احسان کیا تھا ۔بس آیا کو اس کی بیٹی سے ملوایا یہ سوچ کر کہ کوئی تو بچھڑا اپنے سے ملے ۔
    جب وہ میری زیادہ احسان مند ہونے لگتی تو میں کہتا ۔
    ”تم نے احسان ہی اتارنا ہے ناں تو دعا کرو کہ میری بہن مجھے مل جائے ۔ ”
    وہ اسی وقت ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے لگتی ۔ میں بس اسے دیکھ کر رہ جاتا ۔بہت خالص تھی وہ ۔مجھے ڈر تھا کہ کہیں یہ لڑکی میری راہ نہ کھوٹی کر ڈالے۔
    غلط بات تھی ناں کہ میں نے حفصہ کے لیے انکار کیا تھا اور اب آمنہ کی طرف مائل ہونے لگا تھا۔ واقعی سچ کہتے ہیں دل بڑ ا ہی شہ زور ہوتا ہے ۔ دماغ پہ قابو پا لیتا ہے ۔ میں جو دل میں پکا عہد کرتا تھا کہ اب آمنہ کو نہیں سوچنا ، اس کو دیکھتے ہی ہر عہد بھول بیٹھتا ۔ دل اپنی منوا کر چھوڑتا ۔
    ہم نے تھوڑے ہی عرصے میں بہت سی باتیں شیئر کی تھیں ۔ میں اپنی بہن کی باتیں کرتا اور وہ مجھے اپنے گھاؤ دکھاتی ۔
    عجیب بات ہے کہ کسی کے پاس رشتے نہیں ہوتے،تو وہ تنہا ہوتا ہے ، کسی کے پاس بہت سے رشتے ہوتے ہیں پھر بھی وہ تنہا ہوتا ہے ۔ کوئی یتیم مسکین ہوتا ہے کیو ں کہ اس کے ماں باپ نہیں ہوتے اور کوئی ماں باپ کے ہوتے ہوئے بھی یتیم مسکین ہوتا ہے ۔
    میری محرومیاں کسی حد تک مٹنے لگی تھیں ۔ میں یتیم خانے میں رہا اور آمنہ اپنے گھر میں۔ میرے ماں باپ حیات نہ تھے ، اس کے ماں باپ اسی دنیا میں تھے ۔ پھر بھی میں آمنہ سے زیادہ بہتر حالات میں رہا ۔ میں اب اللہ کا شکر ادا کرنے لگا تھا ۔
    ہمارے بیچ کوئی اقرار نہ ہوا تھا ، کوئی وعدے نہ ہوئے تھے ۔ پھر بھی خود کو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ایک ہی راہ پہ چلتے ہوئے دکھائی دیتے تھے ۔
    میرا ماسٹرز ہو گیا تو ایک نجی بینک میں کیشئر ہوگیا ۔ ہفتہ اور اتوار کے دن میں بیگم شاہ جہاں کے گھر بھی جاتا تھا بچوں کو ریاضی پڑھانے ، ہفتے بھر میں انہیں ریاضی میں جو بھی مسئلہ پیش آیا ہوتا ، میں انہیں سمجھاتا ۔ کبھی کبھی آمنہ بھی آتی تھی آیا سے ملنے ۔ جس دن وہ آتی ، اس دن میں بات بے بات مسکراتا اور شاید باتیں بھی زیادہ کرتا ۔ بیگم شاہ جہاں نے میری چوری پکڑ لی تھی۔ ایک ہفتے بچوں کو پڑھا کر ان میں ٹافیاں بانٹ کر میں بیگم شاہ جہاں کے پاس آبیٹھا ۔ وہ باہر لان میں بیٹھی بانو قدسیہ کی ”راہ رواں ” پڑھ رہی تھیں ۔ان سے باتیں کرتے ہوئے میری نگاہیں ادھر اُدھر بھٹک رہی تھیں ۔
    ”آمنہ نہیں آئی آج ۔ ”
    ان کی نظریں کتاب پر تھیں اور آبزرو مجھے کر رہی تھیں ۔چالاک۔۔۔
    میں شرما گیا تھا ۔ وہ بھی ہنس دی تھیں ۔
    ”کروں پھر آیا سے بات ؟”کتاب کا ورق پلٹتے ہوئے انہوں نے پوچھا۔
    ”نن ۔۔نہیں ابھی نہیں ۔” میں نے فوراً انہیں منع کیا ۔
    ”کیوں ؟” انہوں نے کتاب سے نظر ہٹا کر تیکھی نظر سے مجھے دیکھا ۔
    ”ابھی مجھے اپنی بہن کو تلاش کرنا ہے ، اس کی شادی کرنی ہے ۔ پھر ۔۔۔۔”
    ”تم سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہو ۔ ” انہوں نے افسردہ سے لہجے میں کہا ۔ مجھے ان کی افسردگی اچھی نہیں لگی۔
    ٭٭٭٭٭



    دن گزرتے رہے ،شادی کی تیاریاں ہوتی رہیں ۔وہ ہنستی مسکراتی شاداب چہرہ لیے ہاتھوں میں شاپنگ بیگز لیے اس کے پاس سے گزرتی رہی۔پھر ایک دن جانے کیا ہوا کہ اس گلاب جیسی لڑکی کی چمکتی آنکھوں میں آنسو بھر گئے ، مُسکراتا مطمئن چہرہ یک دم ماتمی لگنے لگا۔اس کے رخساروں کے گلابی گلاب مرجھا گئے اور وہاں زرد گلاب اگ آئے ۔
    ”شادی رک گئی ہے ، بی بی کے سسرال والوں کو پتا چل گیا ہے ۔”ملازموں کے بیچ ہونے والی گفت گو کچھ اس کے کانوں میں بھی پڑی تو وہ دل تھام کر رہ گیا ۔اس رات بھی اس کے سجدے طویل رہے۔
    یہ دو دن بعد کی بات ہے جب آئمہ پچھلی سیڑھیوں پہ بیٹھی تھی۔ اس نے چہرہ گھٹنوں میں چھپا رکھا تھا اور اس کا جسم یوں ہچکولے کھا رہا تھا جیسے وہ رورہی ہو۔
    وہ اپنی حیثیت جانتا تھا پھر بھی خود کو روک نہ پایا اور اس کے قریب چلا آیا۔
    ”سنو۔” اس نے آہٹ پا کر سر اٹھایا تھا ۔اس کی سرخ سوجی ہوئی آنکھیں دیکھ کر وہ ٹھہر نہ پایا اور جانے لگا تھا جب آئمہ نے پکارا تھا ۔وہ رک گیا ۔
    ”کیا نام ہے تمہارا۔”
    اس گھر میں مالکوں کے بیچ وہ مالی کے نام سے جانا جاتا تھا ۔آج وہ اس سے اس کا نام پوچھ رہی تھی۔ کچھ دیر کے لیے وہ خود بھی اپنا نام بھول گیا ،پھر یاد آنے پہ بولنا چاہا تو زبان تالو سے جڑی رہ گئی۔
    ”میں نے تمہیں تمہاری حیثیت یاد دلائی تھی ناں ،آج مجھے اپنی حیثیت پتا چل گئی ہے ۔”آنسو پلکوں کی باڑھ پھلانگ کر آئے اور ذرد گلابوں کو آب یار کر گئے۔
    وہ گلابی گلابوں کا کاشت کار تھا ۔ان زرد گلابوں کو دیکھ نہ پایا اور منہ موڑ لیا ۔
    ”مٹی کے اس ذرّے سے بھی زیادہ حقیر اور کم تر ہوں میں ۔” اس نے پاس پڑے گملے سے مٹی کی مٹھی بھری اور اپنے اوپر اُڑا دی۔
    ”اس ۔۔۔اس پودے سے بھی زیادہ بے حیثیت ہوں میں ۔” اس نے گملے سے پودا اکھاڑ ڈالا تھا ۔”اس کی تو جڑیں اس کے ساتھ ہیں ۔اور میری جڑیں ۔۔۔میری جڑیں ۔۔جانے کدھر ہیں۔”
    اس کو اپنا کوئی ہوش نہ تھا۔اس کو ایک ساتھ دو دو چوٹیں لگیں تھیں ۔ شادی کا ختم ہونا تو شاید برداشت ہو جاتا مگر ۔۔۔مگر اپنا بے شناخت ہونا موت تھا ۔ وہ مر رہی تھی۔ اسے اپنی شناخت چاہیے تھی۔ محبت کے بنا رہا جا سکتا ہے مگر شناخت کے بنا۔۔۔ہر گز نہیں ۔
    وہ وہاں رک نہ پایا اور اپنے کمرے میں چلا آیا۔ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔
    اگلے دن وہ گھر سے غائب رہا تھا ۔
    ٭٭٭٭٭



    میں بیگم شاہ جہاں سے ناراض ہو گیا تھا ، بات ہی انہوں نے ایسی کی تھی۔
    مجھے کہیں سے پتا چلا تھا کہ جس شخص نے میری بہن کو گود لیاتھا ، اس نام کا ایک شخص کراچی میں رہتا ہے ۔ میں کراچی چل پڑاتھا ۔ دنیا میں ایک نام کے کئی انسان۔ وہ بھی کوئی اور ہی نکلا تھا ۔ میں نے مایوس ہو کر واپسی کا ارادہ کیا ۔ میں جس ہوٹل میں ٹھہر ا تھا ، وہاں سے بیگ اٹھا کر باہر نکلا ،ابھی راستے میں ہی تھا کہ ایک دھماکہ ہوا اور ہر طرف چیخم چاخ ، آہ وبکامچ گئی ۔ میں ٹیکسی سے نکل کر لوگوں کی طرف بھاگا ۔ ہر طرف بھگڈر مچی ہوئی تھی ۔ کچھ ایسے تھے جو اپنے آپ کو بھول کر زخمیوں کی طرف بھاگے تھے ۔ میں بھی ان کے ساتھ مل کر زخمیوں کو فرسٹ ایڈ پہنچانے کی کوشش کرنے لگا ۔ ایمبولینسز آنے کے بعد زخمیوں کو روانہ کر کے میں بھی اسپتال پہنچا ۔ وہاں خون کی بوتل دی ۔اس دوران میں اپنے موبائل اور بیگ کی طرف سے بالکل غافل تھا ۔بعد میں معلوم چلا کہ میرا بیگ ٹیکسی میں ہی رہ گیا تھا ہاتھ میں پکڑا موبائل جانے کہاں گر گیا تھا۔ اصل میں مجھے اس وقت کسی شے کا ہوش نہ تھا ، دھیان صرف آہ و بکا کرتے زخمیوں کی طرف تھا۔
    اگلے دن میں واپسی کے لیے روانہ ہو گیا ۔ایک دن بعد لاہور پہنچا تو بینک کا ایک کولیگ جو میرے ساتھ ہی فلیٹ میں رہتا تھا ، ا س نے بتایا کہ بیگم شاہ جہاں میری طرف سے بہت پریشان ہیں ۔وہ کل فلیٹ پر آئی تھیں اور اب کل سے مسلسل اسے فون کر کے میرے بارے میں پوچھ رہی ہیں ۔
    ”اوہ۔” مجھے شرمند گی ہوئی ۔ مجھے انہیں کال کر کے اپنی خیریت کی اطلاع دے دینی چاہیے تھی۔ بم بلاسٹ کی خبر سُن کر وہ پریشان ہوئی ہوں گی۔ اس وقت مجھے یہ سوچ کر خوشی بھی ہوئی کہ اگر میں مر جاؤں تو کوئی تو ہے جو روئے گا اور میری تدفین لاوارث ہو کر نہیں ہو گی۔
    میں منہ ہاتھ دھو کر کپڑے تبدیل کر کے بیگم شاہ جہاں سے ملنے آگیا ۔
    ”کہاں ، کہاں تھے تم ؟” جیسے ہی میں کمرے میں پہنچا ،بیگم شاہجہاںاپنی جگہ سے اٹھ کر تیزی کے ساتھ میری طرف بڑھیں ۔
    ”کراچی۔”
    ”کیوں ؟”
    ”بتایا تو تھا کہ تلاش میں ۔۔۔۔”
    ”کس کی تلاش ۔۔۔” بیگم شاہ جہاں میری بات کاٹ کر غصے سے بولیں ۔ ”کس کی تلاش میں اتنے پاگل اتنے دیوانے ہوئے پھرتے ہو تم؟” میں نظریں نیچی کیے کھڑا رہا ۔”کس کی تلاش میں اپنا آپ بھولے بیٹھے ہو تم ۔اس کی ۔۔۔اس کی جو تمہیں پہچانے گی بھی نہیں ۔”
    میں نے تڑپ کربیگم شاہ جہاں کی طرف دیکھا ۔
    ”وہ پہچانے گی مجھے ، بھائی ہوں میں اس کا ۔۔ آپ کو یاد نہیں ، وہ میرے بغیر کچھ کھاتی نہ تھی ، میرے بغیر کھیلتی نہ تھی ، میرے بغیر ۔۔۔۔”
    ”تمہیں کیا لگتا ہے ۔ انیس سال بعد بھی وہ تمہارے بغیر کچھ کھاتی نہ ہوگی ، تمہارے بغیر کھیلتی نہ ہو گی ، تمہارے بغیر جیتی نہ ہوگی۔” پتا نہیں وہ اتنا سفاک کیوں ہو رہی تھیں۔
    ”نہیں ۔۔۔ لیکن ۔۔۔”
    ”یہ دیوانگی چھوڑ دو عبداللہ ۔ نہیں ہو تم بھائی اس کے ۔ کان کھول کر سن لو نہیں ہو تم بھائی اس کے۔”
    ”آپ نے یہ رشتہ بنایا آپ ہی مکر رہی ہیں ۔” مجھے ان کے انداز پہ دکھ ہو رہا تھا ۔
    ”ہاں ، میں اقرار کرتی ہوں کہ میں نے یہ رشتہ بنایا ،وہ میری سب سے بڑی بیوقوفی تھی۔”
    ”مگر یہ میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہے ۔ دولت ہے ۔”
    ”تم سمجھتے کیوں نہیں عبداللہ۔۔۔ اس کی اپنی دنیا ہے ۔”
    ”مگر میری تو دنیا وہی ہے ۔”


  • عبداللہ – قسط نمبر ۰۱

    عبداللہ – قسط نمبر ۰۱

    وہ گونگا نہیں تھا۔ گونگے تو ہمہ وقت ”آں آں، غوں غوں ” کر کے اپنے ہاتھوں کو زور زور سے حرکت دے کر دوسرے کو متوجہ کرنے کی ،کچھ کہنے کی ،کچھ بتانے یا پھر کسی کو کچھ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ اس نے کبھی ایسی کوئی کوشش نہ کی۔ وہ ہر وقت نظریں جھکائے اپنے کام میں مصروف نظر آتا۔اس کے علاوہ وہ بولتا ہے ارم جہانگیر او رخانساماں بھی اس کے گواہ تھے ۔ارم جہانگیر کو اس نے نوکری کے لیے انٹرویو دیا تھا اور خانساماں اس کے ساتھ کمرہ شئر کرتا تھا ۔
    لوگوں کا خیال تھا کہ اس کے ہاتھ سے لگی کوئی بھی چیز سرسبز ہو جاتی تھی اگر وہ ریت میں ،پتھر میں کوئی بیج کوئی سوکھی ٹہنی بھی لگا دے تو چند دن میں نئی کونپلیں پھوٹ اٹھتی تھیں ۔دو کنال کی اس کوٹھی کو اس نے گل و گلزار کر دیا تھا ۔دنیا بھر کے مہنگے ترین پودے جو پچھلے مالی کی غفلت کی نظر ہو کر بے دم پڑے تھے ، اس کی توجہ سے دنوں میں جھوم اٹھے۔یوں تو وہ ہر پودے، ہر درخت، ہر پھول اور ہر پتے سے ما ں جیسا سلوک کرتا تھا مگر گلاب اس کی آنکھ کا تارا تھا۔یہ وہ لاڈلا بچہ تھا جو اپنی کسی خاص خصوصیت کی وجہ سے زیادہ لاڈ پا لیتا ہے ۔
    جہانگیر عثمان کی کوٹھی کے چہار اطراف پھیلے لان میں امریکن پرائیڈ ، ریڈ پیس اور سینڈریلا جیسے عام گارڈن روزز سے لے کر دنیا کا مہنگا ترین گلاب جولیٹ روز بھی تھا اور جب سے وہ آیا تھا اس نے گلابی گلابوں کا پورا قطعہ کاشت کر ڈالا تھا ۔ اس دن وہ گلاب کے پودے کی ٹہنی ہی زمین میں لگا رہا تھا جب اسے وہ دکھائی دی تھی۔
    وہ وہی تھی۔۔۔ہاں وہی تھی ۔
    جسے ایک نظر دیکھنے کے لیے وہ دشت دشت کا سیاح ہوا ۔جس کی آواز سننے کے لیے وہ شہر شہرکا مسافر ہوا۔
    وہ اپنی جگہ بت بنا اسے دیکھتا چلا گیا ۔
    سرمئی رنگ کی ڈھیلی ڈھالی سی شرٹ ٹراؤزر کے ساتھ واک شوز میں وہ شاید صبح کی سیر کا ارادہ رکھتی تھی۔اونچی پونی ٹیل سے بال نکل نکل کر چہرے پہ بکھرے ہوئے تھے ۔ وہ چیونگم چبا رہی تھی جس کی وجہ سے اس کی پونی ٹیل ہلکورے لے رہی تھی۔اس کے ہاتھ میں موبائل تھا اور کانوں میں ائیر فونز۔ دوسرے ہاتھ میںسفید بالوں والے ننھے سے کتے کی چین تھی جو اس سے آگے آگے بھاگ رہا تھا ۔مگر وہ یہ سب نہیں دیکھ رہا تھا ۔وہ تو ۔۔۔وہ تو بس اسے دیکھ رہا تھا ۔
    وہ بے نیازی کے ساتھ چلی آرہی تھی، جب ہی اس کی نظربت بنے شخص پر پڑی، جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
    صبح کی ڈیوٹی والا چوکیدار اسے دیکھ کر بھاگتا چلا آیا تھا۔
    ”سلام۔” اس نے ہاتھ ماتھے تک لے جا کر بی بی کو سلام کیا ،اس نے ہلکا سا سر ہلا کر جواب دیا۔” آپ آگئیں بی بی۔پڑھائی پوری ہو گئی آپ کی ؟” وہ جوش سے پوچھ رہا تھا ۔اس نے اس سوال کا جواب دینا ضروری نہ سمجھا اور پھر اس شخص کی طرف دیکھا جو اب بھی اسے تک رہا تھا ۔
    ”مالی ہے ۔” چوکیدار نے بی بی کی نظروں کے تعاقب میں دیکھ کر تعارف کروایا ۔
    ”ماما بھی جانے کیسے کیسے لوگ رکھ لیتی ہیں ۔۔۔ ال مینرڈ ۔۔۔” وہ بڑبڑاتی ہوئی گیٹ سے باہر نکل گئی تھی۔
    نگاہ سے اوجھل ہو جانے کے بعد وہ جسے ہو ش میں آیا تھااور اسے سمجھ آئی کہ یہ وہ نہیں جس کو ایک نگاہ نظر دیکھنے، منہ سے ایک لفظ سننے کے لیے اس نے ایک عمر کاٹ دی۔
    یہ وہ نہیںتھی ۔یہ تو آئمہ جہانگیر تھی جہانگیر عثمان کی اکلو تی بیٹی۔
    ٭٭٭٭٭



    سنا ہے کہ ہر گھر میں ایک ماں ہوتی ہے ، ایک باپ ہوتا ہے ، بہن بھائی ہوتے ہیں ۔اکثر گھروں میں دادا ،دادی اور نانا نانی جیسے بزرگ بھی ہوتے ہیں اور کئی گھروں میں چاچا، تایا اور ان کے بیوی بچے بھی ہوتے ہیں ۔پھوپھو ،خالہ اور ماموں کا ذکر بھی سنا تھا ۔ مگر میں نے جس گھر میں آنکھ کھولی وہاں کوئی ماں نہ تھی، جو گود میں لے کر لوریاں سناتی اور پیار سے تھپکتے ہوئے سلاتی۔ویسے تو میں خاصا معصوم بچہ تھا ۔خواہ مخواہ روتا نہیں، ضد نہیں کرتا تھا پھر بھی اگر کبھی نزلہ زکام یا بخار ہوتا یا پھر بھی چوٹ لگ جاتی اور تو میں روتا ،ایک کرخت چہرے والی عورت تھپڑ لگاتی اور میں لوری سنے بنا ہی سو جاتا ۔اس گھر میں کوئی باپ نہ تھا، جو کندھے پہ بٹھا تا ، ننھی ننھی فرمائشیں پوری کرتا ۔جس کی میں انگلی پکڑ کر چلتا۔ یہاں جو مرد تھا وہ لال آنکھوں سے یوں گھورتا کہ میں دس گز دور ہی کھڑا رہ جاتا ۔اس کی انگلی پکڑنا ،اس کے کندھے پہ بیٹھنا یا اس سے کوئی فرمائش کرناکسی جرات مند کا کام ہو سکتا تھا اور میں بھلا ایسا شجاع کہاں ۔
    نانا نانی، دادا دادی جیسے کردار بھی شاید کسی اور سیارے پہ ہوتے ہوں یا شاعروں اورکہانی نگاروں کا تخیل ہوں کیوںکہ میں نے نظموںاور کہانیوں میں تو ان کے بارے میں پڑھا تھا مگر اس گھر میں روئی کے گالوں جیسے بالوں والی ،کہانیاں سناتی کوئی نانی نہ تھی، کھانستا ہوا، لاٹھی ٹیک ٹیک کر چلتا ہوا کوئی دادا نہ تھا ۔مجھے ان تمام نادیدہ رشتوں سے عشق تھا ۔میں سوچتا تھا ،میں بھی کہانیاں لکھوں گا ۔ان کہانیوں میں ایک گھر ہو گا جہاں یہ سب مریخی،مشتری رشتے بستے ہوں گے ۔
    پھر یوں ہوا کہ ایک معجزہ ہوا ۔مجھے چاند، مریخ اور عطارد کی کہانیاں لکھنے کی ضرورت نہ پڑی۔ میں سات سال کا تھا جب وہ میری زندگی میں آئی اور مجھے اس وقت معلوم ہوا کہ کہانی کار اور شاعر کے تصورات کوئی ایسے ماورائی بھی نہیں ہوتے ۔ گھر اور گھر میں بسنے والے تمام رشتے زمینی ہی ہیں ۔
    ٭٭٭٭
    آج پھر ریحانہ پروین اپنے آپ کو بیچ کر آئی تھی۔
    ماں کی بیماری تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی۔دوائیں تھیں کہ مہنگی سے مہنگی ترین ہوتی جا رہی تھیں۔ جس گھر میں جھاڑو پوچا کرنے اور کپڑے دھونے جاتی تھی وہ تو مہینے کے مہینے اتنی رقم ہاتھ میں پکڑاتے، جس سے ماں کی ہفتہ بھر کی دوا ہی بہ مشکل آ پاتی۔ پیٹ بھرنے کے لیے مٹی ، بل بھرنے کے لیے اخبار کے کاغذ سے کام نہ چلتا تھا ۔اسے سب بیچنا پڑا تھا ۔پہلے اپنی انگوٹھی ،پھر چوڑی اور اس کے بعد گھر کا باقی سامان۔
    اب جب گھر میں بیچنے کو کچھ اور باقی نہ بچا تھا ایسے میں اسے ایک ہی راہ سجھائی دی کہ اپنا مول لگا لے ۔گہنے ،برتن ،پلنگ اور الماری تو بکنے کے بعد واپس نہ ملے تھے ۔خود توچند گھنٹے بعد ہاتھ میں چھوٹے گوشت ،موسمی پھل اور ماں کی دوا کی تھیلی لیے گھر لوٹ آتی تھی ناں ۔مگر جانے اس دن کیا ہوتا تھا کہ ماں پہ یخنی اثر کرتی نہ ہی دوا۔ بے بسی کی مورت بنی اس کی صورت دیکھتی رہتی۔آنکھوں سے پانی رستا رہتا ۔
    ”آنکھوں والا ڈاکٹر اتوار کو بیٹھے گا تو تیری آنکھیں بھی چیک کرواؤں گی۔”
    کہتے ہوئے آواز بھاری سی ہو جاتی اور نگاہیں فرش پہ ،دیوار پہ اور کبھی چھت پہ رینگنے لگتیں ۔
    جس رات ماں مری ،اس دن تواس کی طبیعت قدرے بہتر تھی ۔ہاں ریحانہ پروین کی اپنی طبیعت خراب تھی۔ماں کے پیر دابتے دابتے اچانک اُلٹی آ گئی تھی پھر نقاہت محسوس ہونے لگی اور رنگ پیلا پڑنے لگا ۔
    اماں نے اس کا چہرہ دیکھا تھا ۔آنکھوں سے پانی زیادہ بہنے لگا تھا ۔اس دفعہ ماں سے پکا وعدہ کیا کہ اتوار کو آنکھوں کا ڈاکٹر بیٹھے گا تو صبح جا کرہی ٹوکن لے گی مگر اس کی نوبت ہی نہ آئی ۔ماں اسی رات مرگئی۔
    ٭٪٭٪٭٪٭٪٭



    آنگن میں بیٹھے بچے ایک دوسرے کو ٹہوکا دیتے ،سامنے اشارہ کرتے پھر منہ پہ ہاتھ یا کاپی رکھ کر ہنستے ۔کالی شرٹ والے لڑکے کو اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کا موقع مل گیا تھا، وہ کھڑے ہو کر بھنگڑا ڈالنے لگا تھا ۔یہ انٹرٹینمنٹ شو شاید جاری رہتا اگر سرخ رنگ کے پھول دار لباس والی لڑکی کی لڑائی نیلے رنگ کی فراک والی لڑکی کے ساتھ نہ ہوجاتی۔
    آمنہ فرمان ہنگامے پہ ہڑبڑا کر جاگ اُٹھی۔صورتِ حال کو سمجھنے میں اسے چند سیکنڈ لگے پھر کرسی سے اُٹھ کر دونوں بچیوں کو چھڑوایا، جو غالبً ایک دوسرے کے بال نوچنے کے عالمی مقابلے میں حصہ لے رہی تھیں۔اس نے بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر ترتیب کے ساتھ چٹائی پہ بٹھایا ۔ دونوں جنگ جو بچیوں کو الگ الگ قطار میں بیٹھنے کا حکم دیتی ہوئی تپائی پہ پڑی کاپیاں چیک کرنے لگی۔
    ”باجی ! میری امی کہتی ہیں کہ تم ندا کے ساتھ نہ بیٹھا کرو ۔” ابھی ایک کاپی بھی چیک نہ ہوئی تھی ،جب عرضی لیے نینا سامنے آ کھڑی ہوئی۔
    ”جاؤ ۔۔۔تم وہاں جا کر اریبہ کے پاس بیٹھ جاؤ ۔” اس نے جمائی روکنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک طرف اشارہ کر کے اس کا مسئلہ حل کیا۔
    ”باجی ! یہ دیکھیں مجھے نبیل نے کیا دیا ہے ۔”
    کالی شرٹ والے بچے کو ٹیسٹ بنا کر دینے لگی توسونیا اُٹھ کر آگئی۔ اس نے رازداری کے ساتھ ایک کاغذ اس کی طرف بڑھایا تھا ۔جسے کھولتے ہی اس کا سر گھوم گیا ۔
    ”آئی لو یو سونیا ۔”
    ”نبیل تم کل اپنی امی کو لے کر آنا ۔”
    اس نے کڑے لہجے میں نبیل کو حکم جاری کیا ۔نبیل کا تو رنگ پیلا ہونا تھا ،سو ہوا ۔اس کا اپنا حال بھی خراب ہوا ۔
    ”سونیا کی ماں کو معلوم ہوا تو وہ تو اٹھا لے گی اسے ٹیوشن سے ۔پانچ سو روپے کا نقصان ۔” حالات بچوں کی حرکتوں پہ کڑھنے کا وقت نہ دیتے تھے۔ اسے اپنی روزی کی فکر ستانے لگی تھی ۔”اور جو بچوں میں سے کسی نے گھر جا کر بتا دیا کہ مس پڑھاتے پڑھاتے سو جاتی ہیں تو ۔۔۔تو اگر کسی نے اپنا بچہ اٹھا لیا ٹیوشن سے تو۔۔۔نہیں ۔” اس کا سر نفی میں ہلا۔ اتنے بڑے بڑے نقصان وہ افورڈ نہ کر سکتی تھی۔ وہ اٹھی اور غسل خانے کے باہر لگے بیسن پر آ کر منہ پر پانی کے چھینٹے مارنے لگی۔
    آٹھ بجے بچے گئے تو وہ اٹھ کر باورچی خانے میں آ گئی۔دال چاول پکانے کے دوران اس نے اسکول سے لائے ہوئے کاپیوں کے ڈھیر کو بھی چیک کرنا تھا ۔آٹے والے کنستر پر رکھے ڈائجسٹ کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اس نے یہ کام بھی نپٹایا ۔دادی کو کھانا اور دوا دی ۔ ان کے سونے کے بعد نماز ادا کی ،صبح کے لیے کپڑے استری کیے اور اپنی کتابیں کھول لیں ۔دو دن بعد بی اے کے امتحانات شروع ہونے والے تھے ۔وہ سونا چاہتی تھی ،بھر پور نیند لینا چاہتی تھی۔صحت اور تازگی کے لیے ضروری تھا مگر وقت اجازت نہ دیتا تھا ۔
    وقت بھر پور نیند کے لیے نکلے یا نہ نکلے ،چچی کے لیے ضرور نکالنا تھا ۔وہ رافعہ کو لیے آ گئی تھیں ۔
    ”اس کو ریاضی مشکل لگتا ہے ۔ایک مشق کروا دو ۔”
    اس نے بارہا چچی سے کہا تھا کہ ٹیوشن والے ٹائم پہ رافعہ کو بھیج دیا کریں ۔ ثنا اس کی ہم جماعت تھی۔ وہ دونوں کو ایک ساتھ پڑھا دیا کرے تا کہ اس کے وقت کی بچت ہو جائے۔مگر چچی کو اس کے وقت سے کیا لینا دینا ۔
    ”اتنے بچوں میں دل گھبراتا ہے رافعہ کا ۔”
    ”ٹیوشن والے نو بچوں میں دل گھبراتا ہے ،کلا س کے تیس بچوں میں تو ہارٹ فیل ہو سکتا ہے پھر اسکول بھی نہیں بھیجنا چاہیے ۔” وہ محض کڑھ کر رہ جاتی تھی، ان کے منہ پہ کہہ نہ سکتی تھی۔ ان کو کچھ کہنے کا مقصد گھر میں کئی دن کا ہنگامہ ۔ویسے چچا اور تایا کو ایک کمرے کے اس گھر میں پڑی بوڑھی ماں اور یتیموں جیسی بھتیجی کا حال احوال پوچھنے کا وقت ملے نہ ملے ،اس موقع پر ضرور مل جاتا تھا ۔ تایا سمجھانے چلے آتے ،چچا طعنہ زنی کرنے چلے آتے ۔
    امتحانات کے دنوں میں یہ بیرونی آمدورفت اور بدمزگی اس کے حق میں نہ تھی اس لیے رافعہ کو ریاضی کی مشق سمجھانے لگی۔اس کے جانے کے بعد اس نے پھر اپنی کتاب کھول لی ۔ اس کا ارادہ تھا کہ دو گھنٹے پڑھنے کے بعد ڈائجسٹ سے قسط وار ناول کی قسط بھی پڑھ لے گی ۔مگر ڈائجسٹ اس کے سرہانے پڑا کا پڑا رہ گیا اور اس کی آنکھیں نیند سے بند ہوتی گئیں ۔
    نیند میں جانے سے پہلے جو آخری خیال تھا ،وہ اس شخص کا تھا جس کا نام عبداللہ تھا ۔
    آج اسے گئے ہوئے تین سو دس دن ہو گئے ۔
    ٭٭٭٭٭

  • چھوٹی سی زندگی

    چھوٹی سی زندگی

    چھوٹی سی زندگی
    امایہ خان
    خود کو پانی کی سطح پر تیرتے دیکھ کر مجھے یقین ہو گیاکہ دنیا کی ساری عورتیں مر چکی ہیں۔
    جانے کتنا وقت گزر چکا ہے ،کتنا اور گزرے گا۔ مجھے بار بار اپنی ماں کا خیال آرہا ہے ،جو ہمیشہ مجھے کمزوراور دبلی پتلی دیکھ کر فکرمند ہوتی تھی۔ آج مجھے دیکھے …اے کاش! وہ آج تو مجھے دیکھ لے…میرا جسم،میرے رخسار کیسے پھولے ہوئے ہیں۔
    آخری بار میری ماں نے مجھے تب دیکھا تھا، جب ابّا اپنے ایک دوست کی شادی میں ہم سب کو لے کر آئے۔میں نے گلابی رنگ کا ریشمی جوڑا پہنا اور امّی سے بہت ضد کرکے ان کے موتیوں والے چھوٹے چھوٹے جھمکے بھی مانگ لئے۔ایک تو جانے کہاں گر گیا…دوسرا ابھی تک موجود ہے پر اس کے بھی کچھ موتی علیحدہ ہو چکے ہیں۔امّی نے دینے سے پہلے کہا بھی تھا:”تم گم کر دوگی’ ‘اور میں نے وعدہ کیا تھا کہ ایسا نہیں ہوگا۔مجھے کیا پتا تھا میں خود گم ہو جائوں گی ۔
    سارا وقت میںامی، ابا اور میری چھوٹی بہن ہم سب ساتھ ساتھ رہے۔مجھے شادیوں میں لوگوں کی بھیڑ سے بہت خوف آتا تھا۔میں شروع سے بہت ڈرپوک تھی ۔ کبھی اپنی امی سے دور نہیں جاتی تھی۔کسی کی ذرا سی اونچی آوازپر سہم جاتی۔غصّے میں سب کے چہرے بہت خوف ناک ہو جاتے ہیں …بہت بدصورت۔ایسے وقت ہمیشہ میں آنکھوں پر ہاتھ رکھ کے انہیں سختی سے بند کر لیتی تھی۔



    مگروہ چہرہ میں کبھی نہیں بھول سکتی…اُف…وہ آدمی ابا جیسا تھا…اونچا لمبا…ڈاڑھی والا…پچھلی میزوں پر بیروںسے کھانا لگواتے ہو ئے اس کی نظر مجھ پر پڑی اور پھروہ عجیب انداز میں مسکرایا۔میں جلدی سے امی کی اوٹ میں ہو گئی ۔کچھ دیر بعد میں نے گردن نکال کر اس کی جانب دیکھا ،وہ تب بھی میری ہی جانب دیکھ رہا تھا…نظر ملتے ہی اس نے مجھے پچکار کر قریب آنے کا اشارہ دیا …مگر میں امی کے پاس ہی بیٹھی رہی اور میں نے اُسے نظرانداز کر دیا۔
    کھانا لگاتو امی میرا ہاتھ پکڑ کر اٹھیں اور میز تک آگئیں۔سب کچھ میری پسند کا تھا ۔امی نے میری پلیٹ بھر کر مجھے پکڑائی اور میں پھر سے اپنی کرسی پر آکر بیٹھ گئی۔کھانا بہت مزے دار تھا ، ہم سب کو بہت مزا آیا۔میٹھے میں کھیر اور گلاب جامن تھی ۔امّی سب کے لئے کھیر ڈال کر لائیں مگر مجھے گلاب جامن کھانی تھی ۔میں نے امّی سے کہا تو بولیں :”بعد میں ،پہلے کھیر ختم کرو”۔
    میںچپ چاپ کھیر ختم کرنے لگی ۔اتنے میں ابا نے گھڑی دیکھ کر امی کو چلنے کا اشارہ کیا کہ گیارہ بج چکے ہیںبس گھر چلتے ہیں ۔
    امّی ”جی اچھا ”کہہ کر برقع پہننے لگیں اور میں نے للچا کر اس میز کی جانب دیکھا جہاں بڑی پرات میں گلاب جامنیں رکھی تھیں۔امی چلنے کو تیا ر تھیں،ابا تو گیٹ کے پاس پہنچ بھی گئے تھے ۔امی نے میری چھوٹی بہن کا ہاتھ پکڑا اور مجھے آواز دی :”پاکیزہ …چلو گھر چلیں”۔
    میں کرسی سے اُتر کر ان کے پاس آکھڑی ہوئی۔گیٹ کی جانب بڑھتے ہوئے امی ایک رشتے دار خاتون کو الوداع کہنے کے لئے رکیںاور میں تیزی سے بھاگ کر گلاب جامن لینے میز کی طرف چلی گئی۔بس دو لمحے ہی تو درکار تھے مجھے اور میں مٹھائی لے کر واپس آ جاتی ۔
    جیسے ہی میں نے پرات سے گلاب جامن اُٹھائی،اُسی آدمی نے جھٹ سے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔



    وہ پیار سے بولا:”اور مٹھائی کھائو گی گڑیا؟…آئو میرے ساتھ…. میں تمہیں ٹشو پیپر بھی دے دوں تاکہ تمہارے ہاتھ اور کپڑے خراب نہ ہوں ”۔
    میں نے مڑ کرامی کی طرف دیکھا وہ ابھی تک ان خاتون سے باتوں میں مصروف تھیں اور یقینامیری غیر موجودگی سے بے خبر بھی ۔میں خاموشی سے اس آدمی کے ساتھ چل دی ،گلاب جامن سے شیرا ٹپک رہا تھا اور میں اپنے کپڑے خراب ہونے سے بچانا چاہتی تھی ۔پانی کا کولر ہال کی دیوار کے ساتھ رکھا تھا ٹشو پیپر بھی وہیں تھے ،پر وہ آدمی رُکا نہیں ،مجھے لے کر وہ پچھلے دروازے سے باہر نکل گیا ۔
    میں نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی تو اس نے مجھے سختی سے ڈانٹتے ہوئے گود میں اُٹھا لیا۔میں کسمسائی تو اس نے گالی دی ،اس کا چہرہ اس قدر خوف ناک ہو گیا تھاکہ میں نے ڈر کر آنکھیں بند کر لیں اور گلاب جامن میرے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر جا گری ،”میری مٹھائی….”میں نے زمین کی طرف اشارہ کیا اور رونے لگی۔اس وقت اس نے میرے منہ پر زور سے تھپڑ مارا اور بھاگنے لگا۔
    مجھے گود میں اٹھائے وہ ہال کے پچھلے حصے میں جا نکلا ،یہاں اندھیرابھی بہت تھا۔مجھے ٹھیک سے کچھ نظر ہی نہیں آرہا تھا ۔ایک کوٹھڑی کے سامنے رُک کر وہ اس کا دروازہ کھولنے لگا ۔اس کے تھپڑ سے میرے گال جل رہے تھے پر مجھے امی ابا کے پاس جانا تھا :”مجھے چھوڑ دو …. چھوڑو….” میں نے چیخنا چاہا۔ لیکن اس نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ کر سختی سے بند کیا اور دھکا دیتے ہوئے کوٹھڑی کے اندر داخل ہو گیا۔یہاں ٹوٹی پھوٹی کرسیوں کے درمیان اس نے مجھے زور سے فرش پر پھینکا اور مڑ کر دروازے کی کنڈی چڑھا دی ۔ میں نے پھر سے رونا شروع کر دیا ”امی …مجھے امّی کے پاس جانا ہے ”میرے پاس آکر میرے منہ کو سختی سے بند کرتے ہوئے اس نے مجھے چت لٹا دیا۔
    ”چپ کر کمینی …بند کر آواز ..ورنہ گلا گھونٹ دوں گا ۔”

    مجھے سانس نہیں آرہا تھا ٹھیک سے ۔۔۔میںچیخنا چاہتی تھی ،”امی ۔۔۔ابا”۔مجھے پکارنا تھا…انہیں تو پتا بھی نہیں تھا کہ میں اس کے پاس ہوں …..یہ آدمی ….جو میرا منہ بند کر کے میرے گھٹنوں پر بیٹھ گیا تھا …مجھے لگا میری ساری ہڈیاں ٹوٹ جا ئیں گی …سخت فرش پر میرا جسم رگڑ کھائے جا رہا تھا ۔ میں نے پہلے کبھی اتنا درد محسوس نہیں کیا تھا۔
    چڑیا گھر میں ایک بندر نے پاپ کارن کھلانے کی کوشش میں میرے ہاتھ پر کاٹا تب بھی نہیں ۔
    اسکول میںکھیلتے ہوئے جھولے سے نیچے گری تب بھی نہیں ……
    مجھے کبھی ایسا درد نہیں ہوا ….میری آواز حلق میں پھنس گئی اور وہ آدمی مسلسل مجھے کھا رہا تھا ….دانتوں سے….. بھنبھوڑ رہا تھا ۔
    مجھے یاد نہیں کب میری آنکھیں بند ہوئیں…. پر جب کھلیں تو دیکھا میری شلوار میرے منہ پر کس کے بندھی تھی …میرے ہاتھ بھی بندھے تھے میرے جالی کے دوپٹے سے ….
    میری آنکھ کیوں کھلی …؟



    کیوں کہ مجھے درد ہورہا تھا،اتنا زیادہ میں کیسے بتائوں ..میری امی بھی نہیں تھیں میرے پاس ۔
    وہ آدمی جانے کہاں چلا گیا …میں ہل بھی نہیں پا رہی تھی ۔پھر میرے پیٹ کے نچلے حصے میں درد کی ایک شدید لہر اُٹھی اور میری آنکھیں بند ہو گئیں۔
    نہیں معلوم میں کتنی دیر بے ہوش پڑی رہی ۔
    دن نکل آیا تھا پھر بھی اس کوٹھڑی میں روشنی بہت کم تھی ۔میں نے دھیرے دھیرے آنکھیں کھولیں تو وہ آدمی قریب ہی بیٹھا بے پروا اندازسگریٹ پیتا نظر آیا، میں نظر بچا کرآہستہ آہستہ پیچھے کھسکنے لگی تو اس نے چونک کر میری طرف دیکھا ….جیسے ڈر گیا ہومیںبھاگ نہ جاؤں ۔
    میں بھی ڈر گئی تھی ،وہ جلدی سے اُٹھا اور میری گردن دبوچ لی اور بولا:”تو سب کو بتا دے گی میں نے تیرے ساتھ کیا کیا ہے”۔
    یہ کہتے ہوئے وہ میرا گلا گھونٹنے لگا ۔منہ پہلے ہی سختی سے بندھا تھا ۔میری آنکھیں اُبل کر باہر آگئیں….اور یونہی ….آخری سانس تک..اُس مکروہ انسان کا چہرہ …میری آنکھوں کے سامنے رہا ….نہ امی ، نہ ابا اور نہ ہی چھوٹی بہن جو مجھ سے تین سال چھوٹی تھی ، کوئی نہ تھا اس وقت …ہاں….میں چھے سال کی ہوں…بلکہ تھی۔

  • داستانِ حیات

    داستانِ حیات

    داستانِ حیات
    علی فاروق
    (داستانِ شبِ غم اور قصہ روزِ درد، اُس مظلوم مخلوق کا جسے ”طالبِ علم” کہتے ہیں……)
    اپنی پیدائش کے چند لمحات بعد ہی وہ بے چارہ اس بات کا ماتم کر تانظر آتا ہے کہ وہ عاقبت نااندیشوں کے کس جہان میں پھنس گیا۔ بڑوں کی محفل میں ایک جانب اعلانِ شاہی صادر ہوتا ہے: ”ہمارا بیٹا ڈاکٹر بنے گا”دوسری صدا آتی ہے” انجینئر بنے گا” (انسان بنانے کا کبھی کسی کو خیال ہی نہیں آیا) بس اس کی کم بختی شروع ہو جاتی ہے۔
    والدین کیا جانیں اس لمحے کی بے چارگی! جب گرم کمبل، حسین نیند اور سہانے خواب، اچانک ایک دھاڑ سے ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں: ”بیٹا! اٹھوسکول نہیں جانا”۔ جتنی گالیاں (اور وہ بھی پنجابی میں) موجدِ تعلیم جدید کو دینے کا اُس وقت دل چاہتا ہے وہ بس وہی جانتا ہے۔ دادی اماں کی کہانی والی پریوں کے ساتھ ابھی بچہ بے چارہ تصوراتی محلات میں گھوم رہا ہوتا ہے، مولوی صاحب کی دھاڑ سن کر ہڑ بڑا کر اُٹھ بیٹھتا ہے۔
    10 کلو وزن والے بچے پر 20کلو کتابیں لاد دی جاتی ہیں (آج تک یہ معمہ حل نہیں ہو سکا کہ اگر گدھے پر کتابوں کا انبار لاد دیا جائے تو وہ ”استاد” ہونے کا دعویٰ کیوں نہیں کرتا… حالاں کہ آج کل ہمارے سیاست دان ایسے اداروں سے بھی ڈگریاں لے لیتے ہیں، جن کا قیام سو سال بعد ہوتا ہے، اور پھر فخریہ طور پر ‘ڈال سے ڈاکٹر’ کہلا کر خوش ہوتے ہیں)… ہائے وہ رِقت انگیز مناظر!! ! جب باپ، بچے کو سکول کے گیٹ سے اندر داخل کرتا بلکہ زبردستی دھکیلتا ہے اور وہ بچہ ایسے بے جان قدم اُٹھاتا مڑ مڑ کر ظالم کو دیکھتا ہے جیسے پھانسی گھاٹ کی جانب جا رہا ہو ۔ اس کی امید کا سہارا hopping best ….. for next time ہی ہوتا ہے۔
    چھٹی کی گھنٹی سنتے ہی جو دِلی سکون اور ذہنی اطمینان حاصل ہوتا ہے، گھر آتے ہی ماں جی کے اس اعلان سے سمندر کی جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے: ”تمہارے پاپا نے تمہارے لیے نیا ٹیوٹر مقرر کیا ہے۔ آج سے عصر تا عشا تم گھر میں پڑھائی کیا کرو گے۔”


    ”اگر کبھی ٹی وی پر پسندیدہ کارٹون لگے ہوں تو ریموٹ فوراً سے پیشتر ایسے جھپٹ لیا جاتا ہے، جیسے حکمران عوام سے جینے کا حق چھینتے ہیں اور ساتھ ہی ڈانٹتے ہوئے کہا جاتا ہے: ”چلو اُٹھو!! پڑھو جاکر ، تمہارے امتحان سر پر ہیں”… (پتانہیں یہ امتحان ہی کیوں سر پر ہوتے ہیں؟ کوئی ہیروں سے سجا تاج کیوں نہیں ہوتا…؟؟)
    سارے بڑے (والدین، اساتذہ اور گلی محلوں میں ہوا کے ساتھ اُڑنے والے لفافوں کی طرح بکثرت پائے جانے والے دانشور) فریب کا ایسا لولی پوپ بچے کے منہ میں گھسیڑتے کہ وہ آخر وقت سمجھ ہی نہیں پاتا کہ اس کے ساتھ گیم کیا کھیلی گئی۔ ”بیٹا! یہ سکول کے چند سال پڑھ لو، کالج میں تو پھر عیش ہی عیش ہو گا…… محنت کر لو کالج میں ایڈمیشن ہو گیا تو موجیں ہی کرو گے”۔
    پھر کالج یونی ورسٹی کے زمانے میں یہ ہدایت ہوتی کہ اب یہ آخری سٹیج ہے تمہاری سٹڈیز کی، اس کو بھی اچھا ہونا چاہیے، پروفیشنل لائف میں تو مزے ہی مزے ہوں گے……” (ہر دور کے اینڈ پہ ان کے ”عیش” کے وعدے کو تازہ دم کرنے کی بات کی جائے تو …… مٹی پائو جی…… رات گئی، بات گئی!!)
    ایک طالب علم جس دور کے بارے میں سہانے خواب دیکھتاہے۔ اب وہ شروع ہوتا ہے تعلیمی سفر کے اختتام پر اور ”جن گھر والوں کا ہمیشہ کھاتے رہے” ان کو کھلانے کے لیے ہاتھ پائوں مارنے شروع کرنے سے… اب جناب صاحب کے پاس ڈگری ہے…… اعلیٰ تعلیم …… اور اپنے تمام کوائف اٹھا کر مطلوبہ ملازمت ڈھونڈنے کے لیے اتنی جگہوں کے دھکے کھاتا ہے کہ اسے بعض دفعہ وہ چند کاغذات بھی پہاڑ سے زیادہ وزنی محسوس ہوتے ہیں۔
    اس سارے دور میں کھوجتی نگاہیں، ذومعنی اشارے اور مثالی ”حسن سلوک” بعض رشتہ داروں کی جانب سے تحفے میں ملتاہے وہ بھی زبردست ہے……
    ”بیٹاابھی تک جاب ہی نہیں ملی … وہ اسلم صاحب کا بیٹا بھی تو اسی یونی ورسٹی سے پڑھا ہے، وہ کب سے اتنی اچھی پوسٹ پر بیٹھا ہے……” پھر سرگوشی کرتے ہوئے ”رزلٹ تو ٹھیک آیا اس میں تو کوئی مسئلہ نہیں!” ہاہاہاہا۔
    (بس چچا جان ایک بات بھول گئے کہ اسلم صاحب کے چچا ایک بڑی انڈسٹری کے چیئرمین ہیں)


    ”میں تو شاہ صاحب سے پہلے ہی کہتا تھا کہ کاروبار میں ڈال دو چھوکرے کو، کیا رکھا ہے انگریزی پڑھائیوں میں!!! خوفِ خدا باقیہے نا مخلوق سے شرم …… اپنے ہمسائے کو ہی دیکھ لو، کہاں پہنچ گیا ہے اس کا کاروبار……”ایک ہمسائے کی کا جلتی پر تیل ڈالنے کا کام۔
    ”ہاتھ کا کاری گر ہوتا تو باہر ہی چلا جاتا… (چاہے وہاں جا کر ٹیکسی چلانا پڑتی) …… آپ نے تو ایسے ہی اتنی رقم ضائع کر دی اس پر…” ایک رشتہ دار کی جلی کٹی۔
    پر ان سب سے زیادہ تکلیف دہ موقع وہ ہوتا ہے جب ماں کہتی ہے کہ بیٹا …… فارغ بیٹھے ہو تو ذرا یہ ”مٹر” ہی چھیل دو…… مشین کی سوئی میں ”دھاگا” ڈال دو…… ”جالے” ہی اتار دو …… اور بابا کہتے ہیں بیٹا …… ”کال” نہیں آئی کہیں سے !!!!!خالی کیوں بیٹھے ہو تو کار ہی صاف کر دو۔”
    ان حالات کے بعد اقبال کے شاہین کو زندہ رہنے کے لیے اقبال کے ہی تجویز کردہ نسخے پر عمل کرنا پڑے گا ……… بہ قول شاعر مشرق علامہ اقبال:
    تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر