Tag: اشتیاق احمد

  • خواہشوں کے پھیر ۔ افسانہ

    خواہشوں کے پھیر
    حمیرا فضا

    ”رات میرے سپنے میں پری آئی تھی ،سفید جھالر کے فراک والی پری۔اُس کے ہاتھ میں سبز رنگ کی جالی دار ٹوکری تھی اور اُس میں ڈھیر سارے سرخ گلاب کے پھول رکھے تھے۔“بانو نے ایک سرسری نظر چمکتی آنکھوں اور لال گالوں پر ڈالی۔
    ”پتا ہے بانو؟ اُس نے مجھے ایک پھول دیا،مگر صبح ہوتے ہی وہ کہیں غائب ہو گیا۔شاید سپنے میں رہ گیا ہے ۔ وہ پھول مجھے پھر مل جائے گا نا بانو؟“ رنگ بہ رنگ دھاگوں کی گوٹیوں سے کھیلتی وہ یک دم بے تاب ہوئی۔
    ”ہاں ہاں مل جائے گا۔“سلائی مشین پر انہماک سے کپڑے سیتی بانو نے اُس کی جانب امید کی ایک اور گوٹی اُچھالی۔
    ”تجھے ایک اور بات بتاﺅں بانو ؟“بانو نے چلتا ہاتھ روک کر اُسے تجسس بھری نگاہ سے دیکھا۔چھوٹی چھوٹی بھوری آنکھوں کی سپیاں، ارمانوں کے سمندر میں ڈوب رہی تھیں ۔
    ”ہمارے اسکول کی پچھلی طرف جو پیپل کا بڑا درخت ہے، وہاں سے کچّی سڑک ایک پکی سڑک کی طرف جاتی ہے ۔جہاں ایک بازار ہے، پرانا بازار،مگر ادھر ہر شے نئی ملتی ہے بانو ۔ وہاں مجھے ایک لمبے بالوں والی گڑیا ملی۔بڑی منت کی امّاں کی، مگر اُس نے خریدا تو سجُّو کا جوتا۔“اُس نے تپتے ہوئے دھاگوں کی گوٹیاں مشین پر دے ماریں، یوں جیسے چھوٹے چھوٹے پتھر سجُّو کے سر پر برسا رہی ہو۔
    ”ہائے ربّا اِتنا غصہ ؟“بانو نے ادھ سلے کپڑے بکھیرتے ہوئے اُسے بانہوں میں سمیٹا ۔ وہ کچھ دیر سسکتی رہی، پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔نہ جانے اُسے کس بات کا زیادہ دکھ تھا، گڑیا کے کھو جانے کا یا سجُّو کو نیا جوتا ملنے کا۔
    وہ دو بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی ۔اُسے امّاں ابّا سے یہ شکوہ تھا کہ وہ بھائیوں کی نسبت اُس کی خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے غریب اور بھائیوں سے یہ شکایت کہ وہ ماں باپ کا پیار بٹورنے میں اُس سے زیادہ امیر تھے۔اگر اُسے اِرد گرد کوئی اپنا لگتا، تو وہ بس بانو ہی تھی۔جو اُس کی سہیلی بھی تھی اور راہنما بھی۔ عمروں کی گنتی میں چھے سال کا فرق تھا، لیکن دوستی کی کتاب میں محبت برابر تھی۔
    جھالر کے فراک والی پری، سُرخ گلاب، پرانا بازار،نیا جوتا، لمبے بالوں والی گڑیا، رنگ بہ رنگ دھاگوں کی گوٹیاں، معصوم ذہن کی گلیوں میں کچھ دن گتھم گتھا خیالوں کے ہیولے گھومتے رہے۔آخر ایک دن امّاں نے پھیری والے سے اُسے مٹی کا گلّہ لے دیا۔
    ”اِس میں پیسے جمع کرتی جا، کچھ میں بھی ملاﺅ گی اور پھر تجھے گڑیا لے دوں گی۔“امّاں نے اُسے منایا، تو کملائی صورت پر رونق لوٹ آئی۔
    اسکول کے خرچ کے لیے اُسے روز ابّا سے ایک روپیہ ملتا۔چٹ پٹی چیزوں سے اُس کا دل اُٹھنے لگا تھا کیوں کہ میٹھا خواب سامنے تھا۔ وہ پرانے نوٹ پر ننھا ہاتھ پھیر کر روز نئے گلّے میں ڈالتی۔ اپنا پیٹ خالی رکھ کر محبت سے گلّے کا پیٹ بھرتی۔ خواہش کو دل میں پالتے اور گلّے میں پیسے جوڑتے چھے ماہ ہوگئے تھے۔ ابّا بیمار ہوکے گھر بیٹھا، تو اسکول کے راستے ہی بند ہو گئے۔اب سارے گھر کا بوجھ امّاں کے کندھوں پر تھا۔
    ”دیکھ بینا گلّہ توڑ دے،اپنا سپنا توڑ دے ۔“ امّاں کی کانپتی آواز کے پیچھے پری کی مترنم سرگوشی تھی۔
    ”میرے پاس کچھ پیسے ہیں، کچھ تو ملا دے۔ تب ہی تیرے ابّا کی دو چار دن کی دوا آئے گی۔ اُس کی کھانسی سن، میرے دل پر لگتی ہے۔“ ایک طرف امّاں کی روتی ہوئی شکل تھی، تو دوسری جانب گڑیا کا ہنستا ہوا چہرہ۔ اُسے خوب صورت پری پر شدید غصہ آیا۔ خواہش کا پہلا پھول، غربت کی زمین پر گِر کے سوکھ چکا تھا۔
    کچھ روز دل، حسین پری اور بدحال ماں سے خفا رہا، مگر پھر نئے خواب نے دل کو راضی کر لیا۔
    ”بانو رات وہ پھر آئی تھی۔“
    ”کون آئی تھی ؟“سوئی میں دھاگا ڈالتی بانو نے بے دھیانی سے کہا۔
    ”وہی جھالر کے فراک والی ، پیاری سی پری ۔ایک اور پھول دے گئی ہے وہ۔“ بانو ادھوری بات کا مطلب اچھی طرح سمجھ گئی۔
    ”تجھے یاد ہے وہ شبنم کا گلابی غرارہ چولی، جو اُس نے جمیلہ باجی کی مہندی پر پہنا تھا ۔اِس عید پر میں بھی ویسا بناﺅں گی ۔“ وہ مختلف دھاگوں پر انگلیاں پھیر تے ہوئے بولی۔
    ”ہاں ہاں ضرور بنا، تیرے گورے رنگ پر خوب جچے گا، اُس سانولی پر تو اُٹھ ہی نہیں رہا تھا۔“

  • میخیں ۔ افسانہ

    میخیں
    افسانہ
    منیر احمد فردوس

    ”منو پتر! جا بھاگ کے جا، بازار سے تین انچی والی میخیں لے کے آ۔“ بابا نے مجھے پانچ روپے کا نوٹ پکڑاتے ہوئے کہا اور میں پیسے لے کر بازار کی طرف دوڑ پڑا۔
    کئی راتوں سے یہ خواب میری آنکھوں سے چمٹا ہوا تھا اور میں تحیر خیز لمحوں میں جکڑا ہوا تھا کہ بابا کیوں بار بار خواب میں آ کے مجھے میخوں کا کہہ رہے ہیں؟میرے پلے کچھ نہیں پڑ رہا تھا۔ وہ زندہ ہوتے تو پوچھ بھی لیتا مگر انہیں تو فوت ہوئے چند برس بیت گئے تھے۔ بابا ہر دوسرے تیسرے روز خواب میں آ کر بالکل اُسی طرح مجھے میخیں لینے بھیج دیتے جیسے وہ فرنیچر کی دکان پر کام کرتے ہوئے بچپن میں مجھے کہا کرتے تھے:
    ”منو پتر! جا بھاگ کے جا، بازار سے تین انچی والی میخیں لے کے آ۔“
    پہلے تو میں نے خواب پرکوئی خاص توجہ نہ دی مگر ایک رات بابا جب لہو لہان آنکھوں کے ساتھ میری نیندوں میں داخل ہوئے تو میرے اوسان خطا ہو گئے۔ ان کی آنکھوں میں تین انچی والی میخیں اتری ہوئی تھیں اور ان کے ہونٹوں پہ ایک ہی بات جاری تھی:
    ”منو پتر! جا بھاگ کے جا، بازار سے تین انچی والی میخیں لے کے آ۔“
    بابا کی یہ حالت اور خون اُگلتا خواب میرے اعصاب پر ایسا سوار ہوا کہ نیند میری آنکھوں سے رخصت ہو گئی جیسے زندہ وجودکو روح چھوڑ کر چلی جائے۔ میں سوچوں کے جزیرے کی طرف جا نکلا کہ بابا آخر مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہیں؟ بظاہر میری زندگی بہت آسودہ تھی۔ ایسا کوئی دکھ یا پریشانی لاحق نہیں تھی جو مجھے بے خوابی کے جنگلوں میں لا پھینکتی۔ جہاں سے فرار ہونے کے میں سو سو جتن کرتا مگر رتجگوں کے لشکر مجھ پر حملہ آور ہو کر میری نیندوں پر قبضہ کر چکے تھے۔ہر وقت بابا کی خون ٹپکاتی آنکھیں میری نگاہوں میں گھوم جاتیں اور ان کی ایک ہی بات میری سماعتوں میں اودھم مچانے لگتی:
    ”مْنو پتر! جا بھاگ کے جا، بازار سے تین انچی والی میخیں لے کے آ۔“
    پتہ نہیں کیوں یہ بات میرے دل دماغ میں جڑ پکڑ گئی کہ خواب کو نظر انداز کرنے سے بابا مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں اورجاتے وقت میری آنکھوں کے ساحل سے نیند کے سارے سیپ بھی چن کرساتھ لے گئے ہیں۔ بابا کی ناراضی کی گرد سے اٹا میں کئی بار ان کی قبر پر بھی گیا، وہاں بیٹھ کر ان سے اپنی کوتاہی کی معافی مانگی، آنسو بہائے مگر کچھ بھی کام نہ آیا۔ نہ میری آنکھوں میں نیند کی بارش ہوئی اور نہ ہی خوابوں کے راستے بابا پھر مجھ سے ملنے آئے۔ راتیں میری نیند کا راستہ روکے میری آنکھوں میں کھڑی ہو گئی تھیں۔
    آج رات بھی بستر پر بے چینی سے کروٹیں بدلتا میں نیند کا شکار کرنے کے لئے مسلسل جاگ رہا تھا اور رت جگے کی اذیت میرے چہرے پرشکنیں بچھا رہی تھی۔ کمرے میں چاروں طرف بابا کی سرخ آنکھیں تھیں اور ان کا گونجتا ہوا جملہ تھا:
    ”منو پتر! جا بھاگ کے جا، بازار سے تین انچی والی میخیں لے کے آ۔“
    نیند میری حسرت بن کے بابا کو آوازیں دینے لگی کہ صرف ایک بار وہ میرے خواب میں آئیں تو میں بابا سے معافی مانگتے ہوئے پوچھوں کہ بابا! مجھ سے ایسی کیا خطا ہو گئی کہ آپ نے مجھے خوابوں میں بھی دھتکار دیا۔
    میں سوچوں کے انبار میں سے اِس اذیت سے نجات کا راستہ ڈھونڈنے لگا کہ آخر اس خواب کی جڑیں کہاں پیوست ہیں؟ گھنٹوں سوچتے سوچتے اچانک میرے ذہن کے دریچوں سے ایک گلی جھانکنے لگی۔
    ”ارے یہ گلی؟“ میں چونک اٹھا۔یہ تو وہی گلی تھی جہاں میرا بچپن کسی ہریالی بیل کی طرح سے پھیلا ہوا تھا۔ کہیں اس خواب کا تعلق اس گلی سے تو نہیں ہے؟ ایک دم سے مجھے خیال سوجھا اور میں اس خیال کی انگلی تھام کر اس کے ساتھ ہی اڑتا چلا گیا۔ جوں جوں اڑتا گیا، خواب پر سے دھول ہٹتی گئی۔
    ”ہو نہ ہو یہ خواب اسی گلی میں ہی کہیں پڑا ہوا ہے۔“ میرا گمان مجھ سے مخاطب ہوا اورمیں خیالوں کی رتھ میں سوار برسوں کی مسافت لمحہ بھر میں طے کرتا اس گلی میں پہنچ گیا جہاں ہر وقت بابا کا یہ جملہ میری سماعتوں میں بارش کے قطروں کی طرح ٹپکتا رہتا:
    ”منو پتر! جا بھاگ کے جا، بازار سے تین انچی والی میخیں لے کے آ۔“
    وہ گلی میرے ذہن کے پردے پر پوری طرح سے جاگ اٹھی، اس کے ساتھ ہی اچانک اُن دو لال آنکھوں نے مجھے جکڑ لیا جن کے خوف سے میں بچپن میں رضائی کے اندر منہ چھپائے سو جایا کرتا۔ میں وقت کی چالوں پر حیران تھا جس نے میری یادداشتوں سے وہ آنکھیں بالکل ہی مٹا دی تھیں جن کا ایک عرصے تک میری نفسیات پر گہرا اثر رہا مگر اب مجھے یوں لگا جیسے ماضی کی دہلیز سے جھانکتی وہ لال آنکھیں مجھے گھور رہی ہیں جن کی مجھے آج بھی ضرورت ہے۔ جن میں گہری نیندوں کے راز چھپے ہوئے تھے۔ میں اسی لمحے میں ہی ٹھہر گیا۔ وہ گھورتی آنکھیں آہستہ آہستہ میرے وجود میں اترنے لگیں اور مجھ پر وہی بچپن والی کیفیات طاری ہونے لگیں۔ ان سے جھانکتا خوف مجھے دھیرے دھیرے گھیر رہا تھا کہ اچانک بجلی چلی گئی اور اس لمحے نے مجھے گلی سے اٹھا کر کمرے میں لا پھینکا، جس نے اندھیرا اوڑھ لیا تھا۔ میں نے اٹھ کر موم بتی جلائی۔ ٹک ٹک کرتے گھڑیال پر نظر ڈالی تو رات کے تین بج رہے تھے۔ بظاہرتو میں بچپن کے جادوئی لمحوں میں سانس لیتی اس گلی سے لوٹ آیا تھامگر وہ گلی میرے اندر دور دور تک بچھتی چلی گئی جن کے ساتھ جڑے کچھ شناسا چہرے بھی جاگ اٹھے تھے۔ ان میں وہ  لال آنکھیں بھی شامل تھیں جو میرے اندر خوف بویا کرتی تھیں۔برسوں بیت گئے تھے مجھے اس گلی میں قدم رکھے ہوئے، جس نے مجھے پال پوس کر بڑا کیا تھا۔اسے دیکھنے کی شدید خواہش میرے اندرجاگ اٹھی اور صبح میں نے وہاں جانے کا تہیہ کر لیا۔
    میں مدت بعد اس گلی میں کھڑا تھا جہاں چپے چپے پر میری یادوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ میری چاپ سنتے ہی وقت کے دبیز پردوں میں خوابیدہ منظر انگڑائیاں لے کر بیدار ہو گئے،جن میں میری دی ہوئی سانسیں دوڑ رہی تھیں۔ میں جس طرف بھی نگاہ ڈالتا وہاں سے کوئی نہ کوئی منظر مجھے آواز دینے لگتا۔گلی میں بکھری انگنت یادیں میرے دامن سے یوں لپٹ گئیں جیسے وہ برسوں سے میری ہی راہ دیکھ رہی تھیں۔ میں اُن بیتے لمحوں میں اتر کر ایسا کھویا کہ آس پاس سے بے خبر گلی کے ایک ایک حصے کو دیکھتا ہوا عین اس جگہ پر آٹھہرا جہاں بابا کی فرنیچر کی دکان ہوا کرتی تھی اور وہ کام کرتے کرتے اچانک مجھ سے کہہ اٹھتے: 
    ”منو پتر! جا بھاگ کے جا، بازار سے تین انچی والی میخیں لے کے آ۔“ 

  • ایک معمولی آدمی کی محبت ۔ افسانہ


    ایک معمولی آدمی کی محبت
     محمدجمیل اختر
    وہ ایک ادھوری زندگی گزار رہا تھا ، بعض لوگ ساری عمر زندہ رہنے کے باوجود مکمل زندگی نہیں گزار پاتے۔ مکمل زندگی بہت کم لوگوں کونصیب ہوتی ہے ۔
    اُس کے باپ نورزمان نے دوشادیاں کررکھی تھیں۔ دونوں بیویاں سارا دن آپس میں لڑتی رہتیں ۔ نورزمان جب گھر آتا اور بیویوں کو لڑتے دیکھتا تو وہ بھی اس میدانِ جنگ میں کود پڑتا، کسی کے حصے میںاُس کا بھاری ہاتھ آتا تو کسی کے حصے میں اُس کا بھاری جوتا۔ دونوں بیویاںایک دوسرے کوکوسنے دیتے ہوئے اپنے اپنے بچوں کوسمیٹتی ہوئی اپنے کمروں جا کر دبک جاتیں۔ جن بچوںکی وجہ سے عموماً لڑائی ہوتی تھی، نورزمان انہیں بھی مارنا اپنا فرض سمجھتا تھا اُسے اپنے باپ سے ڈر لگنے لگا تھا۔ اُسے لگتا کہ اُس کے باپ کو اُس سے ذرا بھی محبت نہیں، ورنہ وہ اتنی بے دردی سے انہیں کبھی نہ مارتا۔ ایسے پرتشدد ماحول میں کسی کا حساس دل کے ساتھ پیدا ہوجانا ناقابلِ تلافی جرم ہے۔ جس کی سزا تمام عُمر بھگتنا پڑتی ہے۔
     دانش بھی یہ سزا بھگت رہا تھا۔ اندر ہی اندر اُس کی یہ خواہش تھی کہ کوئی اُس سے بھی محبت کرے، کوئی کہے کہ دانش تم کتنے اچھے ہو کتنے لیکن اُسے تو کبھی کسی نے محبت سے نہیں پکارا تھا ۔ وہ گاوں کی نہر کے کنارے بیٹھ کر اکثر سوچتا رہتا تھا کہ کاش وہ کوئی پرندہ ہوتا پرندے ایک ساتھ اڑتے ہیں، ایک ساتھ دانہ چگتے ہیں تو پرندوں کو یقینا آپس میں ایک دوسرے سے بے پناہ محبت ہوتی ہوگی، تبھی تو وہ ایک ساتھ ایک قطار میں اڑتے ہیں۔ کاش! وہ ایک پرندہ ہوتا، اِس تنہائی کا احساس اُس کے اندر دن بہ دن شدید تر ہوتا جارہا تھا۔
    اپنے باپ کی مار سے بچنے کے لیے اُس نے کتابوں میں پناہ لے لی۔ وہ دن رات پڑھتا رہتا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ پڑھائی میں بہت تیز ہوگیا۔ ایف اے کرنے کے بعد وہ محکمہ ¿ ڈاک لاہورمیں جونیئر کلرک بھرتی ہوگیا اور اُس نے گاﺅں کو خیرآباد کہہ دیا۔لاہور میں اُس نے ایک کرائے کا مکان لے لیا جس کی اوپری منزل پر اُس کا مالک مکان منصور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔
     ایک عمر تک وہ اس خواہش میں مارا مارا پھرتا رہا کہ اُس سے کسی کو محبت ہوجائے اورکوئی پاگلوں کی طرح دیونہ وار اُس سے محبت کرے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بہت سی آنکھوں میں اُس نے اِس امید سے جھانکا کہ شاید اِن میں اُس کاعکس ہولیکن ایسا کبھی ہوا نہیں۔ وہ ایک معمولی آدمی تھا، ایک معمولی جونیئر کلرک جوپورا دن فائلوں کے بوجھ تلے دبا رہتا، سارا دن ٹھک ٹھک ٹھک ٹائپنگ کرکے افسر کے آگے کاغذات لے کر جاتا ہوا معمولی سا آدمی ، جس کا لکھا ہوا کاغذ صاحب ایک بار دیکھتے اور نخوت سے اس کی طرف اچھالتے ہوئے کہتے:“
    ”یہ ٹھیک نہیں ہے تم اس میں ایسے یہ تبدیلی کرو۔“اور جب وہ یوں کر کے بھی لے آتا تھا تو پھر صاحب کہتے:
    ” میں نے تو یوں نہیں کہا تھا، تمہارے پاس الفاظ کا ذخیرہ کم ہے، اپنی Vocabulary بڑھاﺅ،تھوڑی محنت کرو اور اِس درخواست کو پھر سے لکھو ۔“
     وہ پھر چلا جاتا۔ ڈکشنری سے نئے نئے الفاظ چن کرٹھک ٹھک ٹھک کرتا نئے سرے سے درخواست ٹائپ کرتا، لیکن اکثر ہی جب وہ درخواست پھر سے ٹائپ کرکے لاتا تو صاحب کا گھر جانے کا وقت ہوجاتا۔شام کو وہ ٹینس کھیلتے تھے سو جلدی گھر چلے جاتے کیوں کہ وہ صاحب تھے، لیکن ایک جونیئر کلرک ان سے سوال نہیں کرسکتاتھا، اور جاتے ہوئے صاحب اُس سے یہ ضرور کہتے کہ سارا دن تم سے ایک صفحہ نہیں لکھا جاتا، اگر اِسی طرح کام چوری کرتے رہے تو تمہارا کچھ کرنا پڑے گا۔وہ چوں کہ معمولی آدمی تھا لہٰذا معذرت ہی کرتا رہ جاتا کہ آئندہ وہ کوشش کرے گا کہ کام بہتر طریقے سے کرسکے اور یہ اُس کا روز کا معمول تھا ۔
    ایسے میں دفتر کا کوئی ساتھی جب اپنی محبت کا کوئی قصہ سناتا تو اُسے لگتا کہ یہ سب جھوٹ ہے، ایسا بھلا کیسے ممکن ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو کوئی اُس سے بھی محبت کرتا۔
    اُس کے کمرے میں ہرطرف کتابیں ہی کتابیں تھیں۔ وہ اب ناولز پڑھ پڑھ کر اکتا گیا تھا۔ اُسے یہ سب کہانیاں جھوٹ لگنے لگی تھیں، ایسے ہی جیسے اُسے اپنے ساتھی اہل کاروں کی باتیں جھوٹ لگتی تھیں۔ نہ اُس سے کسی کو محبت ہوئی تھی اور نہ ایسے جذبات اُس کے اندر کسی کے لیے پیدا ہوئے تھے۔ اب وہ صرف فلسفے کی کتابیں پڑھتا تھا۔
    اپنے مالک مکان منصور صاحب سے اُس کی معمولی سلام دعا تھی لیکن پھر ایک ایسا واقعہ ہوا کہ یہ منصور صاحب کے گھر کا فرد ہی سمجھا جانے لگا۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک شام یہ دفتر سے گھر آ رہا تھا۔ ابھی وہ گلی کی نکڑ پر ہی تھا کہ اُس نے دیکھا کہ اُس کے گھر کے باہر لوگوں کا ہجوم ہے۔ وہ پریشانی میں دوڑتا ہوا وہاں پہنچا تو معلوم ہوا کہ منصور صاحب کا چھ سالہ اکلوتا بیٹا گلی میں کھیل رہا تھا کہ کوئی موٹر بائیک والا ٹکر مار کر اسے بھاگ گیا ہے۔ بچے کی ٹانگ سے خون بہہ رہا تھااور منصور صاحب اپنی دکان سے ابھی گھر پر نہیں آئے تھے۔ وہ بھاگ کرٹیکسی پکڑ لایا اور بچے کو ہسپتال پہنچایا ، او نیگیٹو خون کی ضرورت پڑی تو وہ بھی اس نے دے دیا کہ اُس کا بلڈ گروپ یہی تھا۔ قصہ ¿ مختصر کہ جب منصور صاحب ہسپتال پہنچے تو بچے کی حالت سنبھل چکی تھی۔ منصور صاحب کو بھابھی ثانیہ نے جب دانش صاحب کی رحم دلی کے بارے بتایا تو انہوں اٹھ کر دانش کو گلے سے لگایا کہ بھائی میں تمہارا یہ احسان عمر بھر نہیں اتار سکتا، آج سے تم میرے بھائی جیسے ہو۔ اُس دن کے بعد جب وہ شام کو گھر آتا تو ثانیہ بھابی بچوں کے ہاتھ ان کے لیے کھانا بھیج دیتیں ، کبھی کبھار منصور صاحب ہاتھ پکڑ کر لے جاتے کہ آئیں جناب! ایک کپ چائے ساتھ میں پیتے ہیں۔ اب اُس کی تنہائی کچھ کم ہوئی تھی لیکن رات کو کوئی شاعری کی کتاب پڑھتے ہوئے جب وہ کوئی شعر گنگناتاتو تنہائی کا احساس شدید ہوجاتا اور اُسے محسوس ہوتا کہ وہ گاوں میں نہر کنارے بیٹھا ہے اور پرندوں کو دیکھتے ہوئے سوچ رہا ہے کہ کاش وہ بھی کوئی پرندہ ہوتا ۔آخر اُس سے کوئی کب محبت کرے گا؟
    ایک شام جب وہ دفتر کی ٹھک ٹھک سے اکتا کر گھر واپس آیا تو اوپر سے منصور بھائی کہ آواز آئی:
    ” بھائی اوپر آئیے! چائے بھی پیجئے اور کچھ مہمانوں سے مل بھی لیجیے ،انہیں بھی آپ کی طرح کتابیں پڑھنے کا بہت شوق ہے “
     جب وہ اوپر گیا تو معلوم ہوا کہ ثانیہ بھابھی کی چھوٹی بہن بہاول پورسے یہاں چھٹیاں گزارنے آئی ہوئی ہیں۔

  • بھوک – سو لفظی کہانی

    بھوک – سو لفظی کہانی

    سو لفظی کہانی

    بھوک

    سیدہ رابعہ غرشین

    ماہا کے پیٹ میں روز درد رہتا تھا۔ ٹیچر دوائی دے کر ڈاکٹر کے پاس جانے کی تلقین کرتی… مگر اگلے دن پھر وہ درد سے رو رہی ہوتی…

    آج میں نے اسے اپنے ساتھ لنچ کرنے کی پیشکش کی۔

    امی کے ہاتھ کا بل والا پراٹھا دیکھ کر اس کی آنکھیں چمک اٹھیں، مگر اپنا بھرم قائم رکھنے کے لیے کھانے سے انکار کردیا۔

    بہت اصرار کرکے میں اسے کھانے پر راضی کیا۔

    معمول سے ہٹ کر ایک کام ہوا تھا آج… اس کے پیٹ میں درد نہیں ہوا۔

    تب مجھے پتا چلا یہ درد پیٹ کا نہیں بھوک کا درد تھا۔

    ٭…٭…٭

     
  • ایڈوانس بکنگ – سو لفظی کہانی

    سو لفظی کہانی

    ایڈوانس بکنگ

    محمد فیصل علی

     

    ”میں نے کار روکی، بزرگ شکریہ ادا کر کے بیٹھ گئے۔

    ”آپ کا تعارف؟”

    ”ریٹائرڈ فوجی ہوں، ایک سیٹھ کے ہاں کام کرتا ہوں،

    ادھر ”بچوں” کو عید ملنے آیا ہوں۔”

    ”ایڈریس بتائیں؟” میں گھر تک چھوڑ دیتا ہوں۔

    انہوں نے پتہ بتایا… کار ایک بڑی کوٹھی کے سامنے جا رکی۔

    مجھے پانی پلانے کے لیے روکا گیا۔ کچھ دیر بعد ایک نوجوان فون پر بات کرتے ہوئے نمودار ہوئے:

    ”ابا جی آئے ہوئے ہیں، عید کے بعد رش بہت ہوتا ہے نا… ان کی ٹکٹ ایڈوانس بک کر لیں… ہاں ہاں عید کے دوسرے روز صبح آٹھ بجے کی، اوکے۔”

    ٭…٭…٭

     
  • اَب سمجھا امی! ۔ سو لفظی کہانی

    اَب سمجھا امی! ۔ سو لفظی کہانی

    سو لفظی کہانی

    اَب سمجھا امی!

    ابن آس محمد

    نو بھائی تھے ہم… ایک بہن… ابو مزدور… جتنا کماتے کم پڑتا۔

    امی پڑھی لکھی تھیں نہ ابو… مگر ہمیں پڑھاتے تھے۔

    اچھے کپڑے نہ ابو پہنتے نہ امی… ہمیں پہناتے تھے۔

    نہ عید مناتے… نہ بقر عید… ہماری عید بنا دیتے۔

    جیسے تیسے کرکے… رات کو ایک ہنڈیا پکتی… ہم مزے سے کھاتے…

    اور امی… بچی ہوئی روٹی دیگچی میں لگا لگا کر کھاتیں۔ کبھی اُن کی یہ حرکت سمجھ میں نہیں آئی۔

    پھر ایک رات… بے روزگاری کے دِنوں میں۔

    اپنی پڑھی لکھی بیوی کو دیگچی میں کھاتے دیکھا۔

    سب سمجھ گیا… اور رو پڑا۔ شکریہ امی…!!!

    ٭…٭…٭

  • آؤ ناشتہ کرلو ۔ بچوں کی کہانیاں

    آؤ ناشتہ کرلو ۔ بچوں کی کہانیاں

    آؤ ناشتہ کرلو

    سارہ قیوم

    پیارے بچو! یہ کہانی ہے چڑیا کے ایک چھوٹے سے بچے کی۔

    امی چڑیا اور ابو چڑے کا ایک منّا سا بیٹا تھا۔ اس کا نام تھا چُنو چِیا۔ وہ بڑا اچھا بچہ تھا۔سکول جاتا ،اپنا ہوم ورک کرتا اور شام کو وقت پر سوجاتا۔ بس اس میں ایک خرابی تھی۔ وہ ناشتہ نہیں کرتا تھا۔

    ”چُنو چِیا” امی آواز دیتیں”آؤ ناشتہ کرلو” چُنو چِیا امی کی پکار سنتے ہی اپنا بستہ اٹھاتا اور یہ جا وہ جا۔

    ابو چڑا روز اس کے لئے نت نئی مزے مزے کی چیزیں لاتے۔ کبھی گندم کے دانے تو کبھی چاول کے دانے۔ کبھی موٹی مکھیاں تو کبھی رس بھرے کیچوے۔ لیکن چُنو چِیا کچھ بھی نہ کھاتا۔ نہ دودھ پیتا نہ ہی روٹی کھاتا۔ بھوکا پیاسا سکول چلا جاتا۔ ایک دن چُنو چِیا صبح سویرے اٹھا۔ 

    ”چُنو چِیا بیٹے!” امی نے پکارا: ”آؤ ناشتہ کرلو۔”

    چُنو چِیا نے جلدی سے اپنابستہ اٹھایا اور سکول کو روانہ ہوگیا۔ بستہ بھاری تھا اور چُنو چِیا منا سا۔ راستہ لمبا تھا اور پیٹ خالی۔اڑتے اڑتے چُنو چِیا کو چکر آنے لگے۔ اس کے پر تھک گئے اور اڑنا مشکل ہوگیا۔ تھوڑی دیر آرام کرنے کے لئے وہ ایک جھاڑی پر بیٹھ گیا۔ اس جھاڑی کے نیچے ایک موٹا سا باگڑ بِلّا لیٹا تھا۔ اس نے جو ایک چڑیا کا بچہ دیکھا تو اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔

    ”آہا۔” اس نے دل میں سوچا: ”چڑیا کے بچے کا نرم نرم گوشت کھانے کا کتنا مزا آئے گا۔”

    باگڑ بِلّا جھاڑی سے نکل آیا۔چُنو چِیا کی نظر اس پر پڑی تو اس نے گھبرا کر اڑ جانا چاہا لیکن اتنی زور کا چکر آیا کہ وہ جھاڑی سے نیچے گر پڑا۔ اتفاق سے اس وقت اوپر سے مینا خالہ اڑتے ہوئے گزررہی تھیں۔ ان کی نظر جو نیچے پڑی تو کیا دیکھتی ہیں کہ باگڑ بِلّا چُنو چِیا پر حملہ کرنے ہی والا ہے۔ 

    انہوں نے وہیں سے ڈبکی لگائی۔ عین جس وقت باگڑ بِلّے نے چُنو چِیا پر حملہ کیا، مینا خالہ چُنو چِیا کو اپنے پنجوں میں دبوچ کر اُڑ گئیں۔ باگڑ بِلّے کے ہاتھ میں صرف چُنو چِیا کا بستہ آیا۔مینا خالہ چُنو چِیا کو سیدھی ڈاکٹر طوطے کے پاس لے کر گئیں۔ ڈاکٹر طوطے نے چُنو چِیا کا معائنہ کیا اور کہا: ”یہ تو بہت کمزور ہے، ناشتہ نہیں کرتا کیا؟” اگلے دن امی چڑیا اور ابو چڑا سوکر اٹھے تو چُنو چِیا بستر میں نہیں تھا۔ ”ارے!” انہوں نے گھبرا کر کہا: ”چُنو چِیا کہاں گیا؟”اتنے میں باورچی خانے سے چُنو چِیا کی آواز آئی: ”امی ابو چُنو” چِیا پکاررہا تھا ”آئو ناشتہ کر لو۔”

     

  • چار موسم – حصّہ دوم – الف نگر

    چار موسم – حصّہ دوم – الف نگر

    چار موسم

    حصّہ دوم

    سارہ قیوم

    نیک دل بُڑھیا کے گھر کے ساتھ ایک بہت بد مزاج بُڑھیا رہتی تھی۔ سب لوگ اُس سے بہت تنگ تھے۔ وہ ہر وقت اپنے پوتوں پوتیوں کو ڈانٹتی رہتی اور گاؤں والوں سے لڑتی رہتی۔ اُس بڑھیا نے اپنی ہمسائی کے گھر دولت کی ریل پیل دیکھی تو حسد سے جل بُھن گئی۔ فوراً نیک دل بُڑھیا کے گھر جا پہنچی اور لگی سوالات کرنے: ”یہ دولت کہاں سے آئی؟ کس نے دی؟ کیوں دی؟”

    نیک دل بُڑھیا خوش دِلی سے سارے سوالوں کے جواب دیے گئی۔ اُس نے بدمزاج بُڑھیا کو جنگل میں ملنے والے چار موسموں کے بارے میں بتایا۔

    ”بھئی اُنہوں نے مجھ سے کچھ سوال پوچھے۔” نیک دل بڑھیا نے کہا: ”بس میں نے اُن سوالوں کے سچ سچ جواب دیے اور اُنہوں نے مجھے یہ دولت تحفے میں دے دی۔” بد مزاج بُڑھیا اسی وقت اٹھی اور جنگل کو چل پڑی۔ دل میں کہتی جاتی تھی: ”میں بھی چار موسموں سے ملوں گی اور اُن کے سوالوں کے جواب دے کر خوب دولت حاصل کروں گی۔” وہ جنگل میں جاکر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئی۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ سفید بالوں والا بُڈّھا آگیا۔ اُس نے بُڑھیا سے پوچھا: ”سردی کا موسم کیسا ہوتا ہے؟”

    بد مزاج بُڑھیا تنک کر بولی: ”بھائی! میں تو سچی بات کہوں گی، بہت ہی برا موسم ہے۔ سردی میں ٹھنڈ سے ہڈیاں تک جم جاتی ہیں۔ نزلہ، زکام، کھانسی، بخار۔ اُف! سو بیماریاں لاتا ہے جاڑا۔ سچ پوچھو تو سردی کا موسم تو ہونا ہی نہیں چاہیے۔”

    بُڈّھے نے اپنی سرد آنکھوں سے بُڑھیا کو گُھورا اور چلا گیا۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ پھولوں والی لڑکی آئی۔ اُس نے پوچھا:

    ”بڑی امّاں، بہار کا موسم کیسا لگتا ہے آپ کو؟” بڑھیانے بے زاری سے کہا: ”بھئی بڑا ہی عجیب موسم ہے۔ مجھے تو سمجھ نہیں آتی ہر کوئی بہار کی تعریف کیوں کرتا ہے؟ پُھولوں کی خوش بُو سے چھینکیں آنے لگتی ہیں۔ بھنورے اور شہد کی مکھیاں بِھنبھناتی پِھرتی ہیں۔ بہت ہی فضول موسم ہے۔” لڑکی اُداس ہوکر چلی گئی۔ فوراً ہی وہاں چمکتے دمکتے بھڑکیلے کپڑے پہنے عورت آن پہنچی اور بڑھیا سے بولی:

    ”بڑی بی! گرمی کا موسم کیسا ہوتا ہے؟”

    بد مزاج بُڑھیا غصہ سے بولی: ”اے لڑکی! کیا چھمّک چھلّو بنی گُھوم رہی ہو؟ کتنے فضول کپڑے پہن رکھے ہیں تم نے۔ بھئی گرمی کے موسم کے بارے میں کون نہیں جانتا کہ کتنا برا موسم ہے؟ جس چیز کو ہاتھ لگاؤ گرم! سر سے لے کر پاؤں تک پسینہ بہتا ہے۔ ہر وقت بس پنکھا ہی جھلتے رہو۔ میں تو کہتی ہوں گرمی کا موسم تو ہونا ہی نہیں چاہیے۔” بھڑکیلے کپڑوں والی عورت نے غصے سے بُڑھیا کو گُھورا اور چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد وہاں غمگین چہرے والا گنجا آدمی آیا۔ اُس نے بُڑھیا سے پوچھا: ”امّاں خزاں کا موسم کیسا ہوتا ہے؟” بڑھیا بولی: ”اے میاں گنجے! خزاں سے برا تو موسم ہی کوئی نہیں۔ سارے درخت پتے جھاڑ کر ٹِنڈ مِنڈ ہوجاتے ہیں۔ جہاں جاؤ وہاں سُوکھے پتے پیروں میں آتے ہیں۔ اِدھر صفائی کرو، اُدھر پھر سے گند پڑجاتا ہے۔ کیا فائدہ خزاں کا؟ یہ موسم تو ہونا ہی نہیں چاہیے۔”

    اِسی وقت چاروں موسم نکل کر سامنے آکھڑے ہوئے بُڑھیا کو ایک گٹھڑی دیتے ہوئے کہا: ”بڑی بی! آپ نے ہمارے سوالوں کے جواب دیئے۔ یہ رہا آپ کا تحفہ…!” بُڑھیا نے خوشی خوشی گٹھڑی اُٹھائی اور اپنے گھر آگئی۔ گھر آکر جب اُس نے گٹھڑی کھولی تو اس سے بے شمار کیڑے مکوڑے، سانپ، بچّھو اور چھپکلیاں نکل کر اُس کے گھر میں پھیل گئے۔ بُڑھیا چیخنے چلاّنے لگی اور موسموں کو کوسنے لگی لیکن اب کیا ہوسکتا تھا۔ بُڑھیا نے اپنی بدمزاجی کا پھل پا لیا تھا۔

    ٭…٭…٭

     

  • چار موسم ۔ حِصّہ  اول ۔ الف نگر

    چار موسم ۔ حِصّہ  اول ۔ الف نگر

    چار موسم

    حِصّہ  اول

    سارہ قیوم

    کسی گاؤں میں ایک نیک دل، سب کی مدد کرنے والی اور ہمیشہ خوش رہنے اور رکھنے والی بُڑھیا رہتی تھی۔ اُس کا ایک غریب بیٹا تھا جس کے بچے ہر وقت دادی کے ساتھ چمٹے رہتے اور نت نئی فرمائشیں کرتے رہتے۔

    ایک بچے نے فرمائش کی: ”دادی اماں! مجھے میٹھا پراٹھا بنا دو۔”

    دوسرا بولا: ”مجھے کھیر بنا دو۔”

    تیسرا ضد کرنے لگا: ”میں تو مرغی کھاؤں گا۔”

    اور اُن کی دیکھا دیکھی باقی بچے بھی ضد کرنے لگے۔ نیک دل بُڑھیا بہت دکھی ہوئی:

    ”ارے میرے بچو!” اُس نے غمگین ہوکر کہا: ”میرے پاس تو کچھ بھی نہیں، تمہاری فرمائشیں کہاں سے پوری کروں؟”

    اُداس ہو کر بُڑھیا جنگل کی طرف چلی گئی اور تھک کر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئی۔ اچانک وہاں ٹھنڈ ہوئی اور درخت کے پیچھے سے سفید بالوں، لمبی داڑھی، سفید لباس والا بوڑھا آدمی نکل آیا۔ نیک دل بُڑھیا نے اُسے سلام کیا۔ بوڑھے آدمی نے اپنی سرد آنکھوں سے اُسے دیکھا اور کہا: ”میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔”

    بُڑھیا بولی: ”ضرور پوچھیے۔”

    بوڑھے آدمی نے پوچھا: ”جاڑا کیسا موسم ہے؟”

    ”ارے واہ کیا بات ہے جاڑے کی۔” بُڑھیا نے خوش ہوکر کہا: ”بہت ہی اچھا موسم ہے۔ سردیوں میں گرم گرم چائے پینے کا کتنا مزا آتا ہے اور رضائی میں بیٹھ کر مونگ پھلی، اخروٹ اور بادام کھانا اچھا لگتا ہے۔ جب میں بچوں کو آگ کے گرد اکٹھا کرکے کہانی سناتی ہوں تو مجھے اتنی خوشی ہوتی ہے کہ مت پوچھو۔” بوڑھا یہ سن کر بہت خوش ہوا۔ اُس نے بڑھیا کو سلام کیا اور چلا گیا۔

    تھوڑی دیر بعد خوش بُو سے جنگل مہک اٹھا اور ایک بہت پیاری لڑکی ہرے رنگ کا لباس اور پھولوں کے زیورات پہنے پھولوں کی ٹوکری لیے بُڑھیا کے سامنے آئی۔

    ”سلام امّاں!” اُس نے نیک دل بُڑھیا سے کہا: ”ایک بات تو بتائیے، یہ بہار کا موسم کیسا ہوتا ہے؟”

    بُڑھیا خوشی سے کِھل اٹھی اور چہک کر بولی: ”بہار کا موسم تو میری جان ہے۔ نہ گرمی نہ سردی، درختوں پر نئے پتے آتے ہیں۔ ہر طرف پُھول ہی پُھول کِھل اُٹھتے ہیں۔ بڑی پیاری ہوا چلنے لگتی ہے۔ بہار تو بہت ہی خوب صورت موسم ہے۔”

    لڑکی شکریہ ادا کرکے گئی تو وہاں ایک عورت تیز پیلے رنگ کے لباس میں سامنے آگئی اور پوچھا۔ ”اے اماں! یہ تو بتاؤ گرمی کا موسم کیسا ہوتا ہے؟”

    گرمی کی وجہ سے بُڑھیا نے ہاتھ سے پنکھا جھلتے ہوئے کہا: ”بہت اچھا موسم ہوتا ہے بیٹی! ہم ٹھنڈا ٹھنڈا شربت پیتے ہیں۔ آئس کریم کھاتے ہیں۔ گرمی اپنے ساتھ کتنے مزے دار پھل لاتی ہے۔ آم، تربوز، آڑو اور آلو بخارہ۔ ارے واہ واہ! کیا بات ہے گرمی کی۔”

    وہ سلام کرکے چلی گئی تو ایک گنجا، غمگین شکل والا آدمی بھورے رنگ کے کپڑے پہنے درختوں کے پتے گراتا ہوا وہاں آن پہنچا۔ وہ قریب آکر بولا: ”بڑی بی! آپ کو خزاں کا موسم کیسا لگتا ہے؟”

    بڑھیا نے سمجھ داری سے کہا: ”خزاں بڑا فائدہ مند موسم ہے۔ سب پرانے پتے جھڑ جاتے ہیں تاکہ نئے پتے نکل سکیں۔ لوگوں کو گرمیوں کے کپڑے رکھنے اور کمبل لحاف نکالنے کا وقت مل جاتا ہے۔ بھئی بہت اچھا ہے موسمِ خزاں۔”

    اِس کے بعد وہ چاروں نکل کر سامنے آگئے اور بڑھیا سے کہا: ”امّاں! ہم چار موسم ہیں۔ یہ سفید بالوں والا جاڑا ہے۔ پھولوں والی لڑکی بہار، یہ عورت گرمی اور میں خزاں ہوں۔ آج ہم میں جھگڑا ہوگیا کہ کون سا موسم سب سے اچھا ہے۔ پھر ہمیں آپ آتی دکھائی دیں۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ آپ سے پوچھا جائے۔ آپ نے ہمیں ہماری اتنی خوبیاں بتائیں۔ ہمیں پتا چل گیا کہ سارے ہی موسم اچھے ہوتے ہیں۔ آپ کی باتوں سے ہم بہت خوش ہوئے۔ اب آپ ہماری طرف سے کچھ تحفے قبول فرمائیے۔”

    موسموں نے نیک دل بُڑھیا کو بڑا سا صندوق دیا۔ بُڑھیا شکریہ ادا کرکے خوشی خوشی واپس چلی آئی۔ صندوق میں اتنے ہیرے، جواہرات اور موتی تھے کہ اُن کو بیچ کر اب وہ بچوں کی سب

    فرمائشیں پوری کرسکتی تھی۔

     

  • بلوچستان کی لوک کہانی ۔ سُنہری برتن ۔ لوک کہانی

    بلوچستان کی لوک کہانی

    سُنہری برتن

    ساجدہ غلام محمد

    جنوبی پنجاب کے ضلع لیہ میں پیدا ہونے والی ساجدہ غلام محمد آج کل مانچسٹر (انگلینڈ) میں اپنی فیملی کے ساتھ مقیم ہیں۔ اس صدی کے اوائل سے انہوں نے لکھنے کا آغاز بچوں کے رسائل سے کیا۔ ماہنامہ پھول میں ایک عرصہ تک اپنی بہن ڈاکٹر زاہدہ پروین کے کے ساتھ قلم کے جوہر دکھاتی رہیں۔ بڑوں کے لیے بھی خوب لکھا۔ فکشن ان کا پسندیدہ میدان ہے۔ ”زندگی اک تشنگی” ان کا مقبول ناول جس کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں، تقریباً سو کے قریب کہانیاں بچوں کے مختلف رسائل میں چھپ چکی ہیں۔ الف نگر اور الف کتاب کے لیے مستقل لکھنے والوں میں ان کا نام شامل ہے۔

    صدیوں پرانی بات ہے، بلوچستان میں دریائے بولان کے کنارے ایک بہت بڑا شہر آباد تھا۔ اُس شہر کا اصل نام تو نہ جانے کیا ہوگا، لیکن آج کے زمانے میں اسے ‘مہر گڑھ’ کہا جاتا ہے۔

    مہر گڑھ میں ایک نو سال کا بچہ فنامہ اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کے والدبہت مہارت سے لوہے کے اوزار بناتے اور لوگ اُن سے یہ اوزار خریدتے تھے۔ انہوں نے فنامہ کو بھی مٹی کا ایک خوب صورت سا بیل بنا کر دیا جس سے وہ سارا دن کھیلتا رہتا۔

    ایک دن اچانک فنامہ کے والد بیمار ہوئے اور کچھ ہی روز بعد دنیا سے رخصت ہوگئے۔ فنامہ تو ابھی چھوٹا تھا اور اس کی والدہ کو بھی علم نہ تھا کہ اوزار کیسے بنائے جاتے ہیں۔ رفتہ رفتہ گھر میں کھانے پینے کا سامان ختم ہونے لگا۔ نوبت یہاں تک آپہنچی کہ اُن کے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ بچا۔

    ”ہمیں بھوک لگی ہے لیکن کھانے کو کچھ نہیں، میں ایسا کرتا ہوں کہ اپنا یہ کھلونا بیل بیچ دیتا ہوں۔” فنامہ نے اداسی سے سوچا اور چپکے سے کھلونا بیل اپنے کپڑوں میں چھپا کر گھر سے نکل گیا۔ اس کی ماں کو اس بات کا علم نہ ہوا۔

    ”میرا بیل خریدلو، بہت خوب صورت ہے۔” فنامہ نے بازار میں کھڑے ہو کر آواز لگائی لیکن کسی نے توجہ نہ دی۔

    ”یہ میرے والد نے خاص طور پر میرے لیے بنایا تھا، پکی مٹی کا ہے۔ مجھے پیسوں کی ضرورت ہے، یہ بیل خرید لو!” وہ آواز لگاتا رہا۔

    ”یہ ہمارے کس کام کا؟” لوگ اس کے پاس رک کر کچھ دیر کھلونے کو دیکھتے پھر آگے بڑھ جاتے۔ صبح سے شام ہوگئی لیکن کسی نے بھی کھلونا بیل نہ خریدا۔ فنامہ نے بہت دکھی دل سے اپنا کھلونا اٹھایا اور اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔

    ”اے لڑکے! بات سنو۔” اچانک کسی نے اُسے بلایا۔ فنامہ نے سر اُٹھا کر دیکھا تو ایک بڑھیا درخت کے نیچے کھڑی تھی۔

    ”جی امّاں جی!” فنامہ نے بڑھیا کے قریب جاکرنرمی سے پوچھا۔

    ”میں نے اپنی نواسی کے لیے موٹی سیپیوںوالا بہت پیارا سا ہار بنایا تھا۔ اب اُسے دینے جا رہی تھی کہ راستے میں وہ ٹوٹ گیا۔ میری نظر کمزور ہے، مجھے تو تھوڑی سی سیپیاں نظر آئیں جو میں نے اُٹھا لیں۔ اگر تم میری مدد کر سکو تو بہت مہربانی ہوگی۔” فنامہ کا دل چاہا کہ بڑھیا کو انکار کر دے۔

    ”میں بھی تو صبح سے بازار میں کھڑا رہا، کسی نے میری مدد نہیں کی، میں کیوں اس کی مدد کروں؟” اس کے دل میںخیال آیا، لیکن پھر فوراََ ہی اُسے اپنے والد کا جملہ یاد آگیا: ”ہمیشہ دوسروں کی مدد کرنا، کبھی کسی کو انکار مت کرنا۔” فنامہ نے دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ بڑھیا کو دیکھا۔

    ”ٹھیک ہے، باقی کے سیپ میں آپ کو ڈھونڈ دیتا ہوں۔” فنامہ درخت کے آس پاس زمین پر سیپیاں چننے لگا۔ کچھ ہی دیر میں اس نے سیپیاں چُن کر بڑھیا کی طرف بڑھائیں۔

    ”یہ لیں، میں نے ساری سیپیاں اُٹھا لی ہیں۔” فنامہ نے بڑھیا سے کہا۔

    ”بیٹا! تمہارا بہت بہت شکریہ! تم بہت اچھے بچے ہو۔ تم نے میری مدد کی، اس کے بدلے میں تمہیں ایک تحفہ دیتی ہوں۔” بڑھیا نے سیپیاںتھام کر کالے رنگ کی تھیلی سے سنہری رنگ کا ایک گول سا برتن نکال کرفنامہ کی جانب بڑھایا جس پر نقش و نگار کے ساتھ اُونٹ کی تصویر بنی ہوئی تھی۔

    ”امّاں جی! میرے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں، تو اِس برتن کا میں کیا کروں گا؟” فنامہ نے حیرت سے کہا۔

    ”اسی لیے تو میں یہ برتن دے رہی ہوں، یہ ایک جادُوئی برتن ہے۔ جب بھی تمہیں بھوک لگے، تم برتن کو اپنے دونوں ہاتھوں سے ڈھانپ کرچار بار گہری سانس لینا، اس برتن میں تمہارا من پسند کھانا آ جائے گا۔” فنامہ کو بڑھیا کی بات سن کر بڑی حیرت ہوئی۔

    ”کیا واقعی؟ ایسا ہو سکتا ہے؟” اُس نے پوچھا۔

    ”بالکل ایسا ہی ہو گا، بس شرط یہ ہے کہ اس دوران جو بھی ضرورت مند تمہارے گھر آئے، تم اُسے بھی کھانا۔ اب یہ برتن پکڑو، مجھے دیر ہورہی ہے۔” اتنا کہہ کر بڑھیا لاٹھی ٹیکتی ہوئی ایک جانب چل دی۔

    فنامہ ایک ہاتھ میں برتن اور دوسرے ہاتھ میں اپنا کھلونا بیل تھامے گھر پہنچا تو ماں کو اپنا منتظر پایا۔ وہ بہت پریشان تھی، فنامہ نے آگے بڑھ کر فوراً ساری بات ماں کو بتادی۔

    ”چلو! تجربہ کر کے دیکھتے ہیں، اگر برتن میںکھانا نہ آیا تو اِسے پھینک دیں گے یا بیچ دیں گے۔” ماں نے کہا تو فنامہ نے برتن کو فرش پر رکھ کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اُس کے منہ کو ڈھانپا اور چار بار گہری سانس لی۔ یکایک کمرے میں مزے دار سی خوش بو پھیل گئی۔ فنامہ نے جلدی سے ہاتھ ہٹائے تو برتن کے اندر اس کا من پسند کھانا آچکا تھا۔ ماں بیٹے نے حیرت اور خوشی سے کھانا کھایا اور تھوڑا سا کھانا چڑیا کو ڈال دیا جس نے ان کے گھر درخت پر گھونسلا بنا رکھا تھا۔

    اب اُن کے دن آرام سے گزرنے لگے۔ کھانے کی کوئی فکر نہیں تھی۔ جب بھی بھوک لگتی، فنامہ برتن کو ہاتھوں سے ڈھانپ کر چار بار گہری سانس لیتا تو فوراََ ہی برتن میں کھانا آجاتا۔ یہ اتفاق تھا یا کچھ اور جب بھی ایسا کچھ ہوتا تو اُن کے گھر کوئی نہ کوئی پرندہ یا جانور ضرور آ جاتا اور فنامہ اسے بھی کھانا ڈال دیتا۔ وہ بڑھیا کی بات کو بھولا نہیں تھا۔ لوگ حیران ہوتے کہ فنامہ یا اُس کی ماں کچھ کام تو کرتے نہیں، لیکن ان کا گزارا کیسے ہو رہا ہے؟

    دن یوں ہی گزرتے گئے۔ اب فنامہ نے بھی اوزار بنانا سیکھ لیے تھے۔ اگرچہ ابھی زیادہ مہارت نہ تھی لیکن وہ محنت سے کام کرتا تھا۔

    ایک دن فنامہ کام سے واپس آیا تو بہت تھکا ہوا تھا۔ بھوک بھی بہت زیادہ تھی۔ اُس نے سنہری برتن نکالا اور ہاتھوں سے ڈھانپ کر چار بار گہری سانس لی۔ برتن میں کھانا تیار تھا۔ فنامہ مسکراتے ہوئے ابھی کھانے ہی لگا تھا کہ ایک بلی آگئی۔

    ”میاؤں!” بلی نے اپنی آمد کی اطلاع دی۔

    ”آ جاؤ آجاؤ، بہت کھانا پڑا ہے۔” فنامہ نے اس کی طرف دیکھا تو بلی تیزی سے چھلانگ لگا کر اُس کے پاس آنے لگی لیکن وہ دیوار پر توازن برقرار نہ رکھ پائی اور جب اِدھر اُدھر پاؤں مارے تو اس کی دُم فنامہ کے کھلونے سے ٹکرا گئی۔ کھلونا بیل اونچائی سے گرا اور ٹکڑوں میں بکھر گیا۔ فنامہ نے غصے سے اپنے پسندیدہ کھلونے کے ٹکڑوں کو دیکھا۔

    ”اوہ! یہ کیا کر دیا تم نے؟” وہ غصے سے چِلّایا پھر اُس نے بلی کو کھانا دینے کے بجائے ایک پتھر زور سے اس کی طرف پھینکا جو بلی کے سر پر لگا۔ وہ بے چاری ”چیاؤں” کرتی ہوئی وہاں سے بھاگ نکلی۔

    ”میرا پسندیدہ کھلونا توڑ دیا!” فنامہ نے افسوس اور غصے سے کھلونے کے ٹکڑے اُٹھائے اور برتن کے قریب لا کر زمین پر رکھ دیے۔ اُس کا ارادہ تھا کہ کھانا کھانے کے بعد انہیں دوبارہ جوڑنے کی کوشش کرے گا۔ اب کھانا لینے کے لیے اُس نے برتن میں ہاتھ ڈالا لیکن یہ کیا! برتن تو خالی تھا! فنامہ نے گھبرا کر دونوں ہاتھ برتن کے منہ پر رکھ کر چار بار گہری سانس لی اور دوبارہ برتن میں جھانکا۔ وہ ابھی بھی خالی تھا۔ فنامہ کا غصہ پریشانی میں بدل گیا۔ اس نے بلی کو کھانا دینے کے بجائے اسے پتھر مار کر بھگایا تھا، اس لیے برتن کا جادُو بھی ختم ہو گیا تھا۔

    فنامہ اور اُس کی ماں کچھ دن تو کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح برتن کا جادُوئی اثر واپس آ جائے لیکن بے سود۔انہوں نے اِسے بیچنے کی بھی کوشش کی لیکن کسی نے نہ خریدا۔ آخر تنگ آ کر انہوں نے اسے دریا کے کنارے پھینک دیا اور خود محنت کر کے گزر بسر کرنے لگے۔ 

    قارئین! صدیوں تک وہ جادوئی برتن وہیں دریا کنارے پڑا رہا۔ رفتہ رفتہ اسے ریت اور مٹی نے ڈھانپ لیا۔ کچھ سال بعد آنے والے سیلاب نے اسے دنیا کی نظروں سے اوجھل کر دیا۔ کئی صدیاں گزر گئیں۔ آج سے کچھ عرصہ قبل ماہرینِ آثارِقدیمہ نے مہر گڑھ کی باقیات کو دریافت کیا تو انہیں یہ برتن بھی ملا جو اس وقت صوبہ بلوچستان کے ضلع کچھی میں ”مہر گڑھ میوزیم” میںمہر گڑھ کی باقیات کے ساتھ رکھا ہوا ہے۔کیا خبر کسی دن اُس میں جادُوئی طاقت لوٹ آئے۔

    ٭…٭…٭