Tag: اشتیاق احمد

  • سکرین رائٹرز  ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

    سکرین رائٹرز 

    ایک سکرین رائٹر، سکرین رائٹر اور بس سکرین رائٹر ہی ہوتا ہے۔ کئی سکرین رائٹرز ٹی وی، فلم، مزاج اور ڈرامہ لکھ سکتے ہیں مگر ان میں سے ہر صنف کا مزاج الگ ہوتا ہے۔

    مثال کے طور پر ٹی وی کے لیے مزاج لکھنے والے لکھاری نہ صرف عام طور پر مزاحیہ مزاج رکھتے ہیں بلکہ اپنے کام کی بدولت فلم سازوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں اور بعض اوقات انتہائی دبائو کے عالم میں بھی کام کرنا پڑے تو کر سکتے ہیں۔ سِٹ کام سکرین رائٹنگ یا مزاحیہ ڈرامہ یا سین بنانے میںپورا ایک گروپ متحرک ہوتاہے۔ ایک روایتی سِٹ کام کی تکمیل میں دس بارہ کل وقتی لکھاریوں کی کوششیں شامل ہوتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر لکھاری کے بڑے سے کمرے میں اپنا زیادہ تر وقت گزارتے ہیں۔ جہاں بھانت بھانت کے لوگ مختلف واقعات و گفتگو شیئر کرتے ہیں۔ ہر قسط کے پلاٹ کے ہرہر نقطے کو زیر بحث لاتے ہیں۔ لطائف بازی ہوتی ہے جن سے کہ مزاحیہ سین کشید کیے جاتے ہیں اور سکرپٹ کے ہر ہر سین پر اُس وقت تک بحث ہوتی ہے جب تک کہ وہ شوٹنگ کے لیے تیار نہیں ہو جاتے۔

    سکرین رائٹر کیسے بنتے ہیں؟

    سکرین رائٹر بننے کے لیے سب سے پہلے اپنی تحریری صلاحیتوں کو نکھاریئے اور اس کے ساتھ بطور لکھاری بھی اپنا ایک مضبوط تشخص ابھاریئے۔ یعنی کہ آپ کو لکھاری کے طور پر سنجیدگی سے لیا جائے۔

    آپ کا اوّلین ہدف سکرین رائٹر بننا یا ٹی وی سکرپٹ لکھنا نہیں بلکہ صرف ” لکھنا ” ہونا چاہیے۔ کچھ بھی، کوئی مضمون، شارٹ سٹوری، کہانی، افسانہ یا کچھ بھی لکھیں۔سب سے پہلے اپنی تحریر میں پختگی لائیں۔ جب آپ کو ”لکھنا” آ جائے گا تو پھر آپ مزیدآگے بڑھ سکتے ہیں۔

    یہ ایک صبر آزما مرحلہ ہے جسے صرف ثابت قدمی سے ہی طے کیا جا سکتا ہے۔ لکھنا، لکھنا اور بس لکھنا۔ اپنی ان اوّلین تحریروں کو ایک ناقد کی نظر سے خود پڑھیں، دوسروں کو پڑھائیں اور ان کی آرا کی روشنی میں اس مشق کو مطلوبہ معیار تک جاری رکھیں۔ مشق آخر کار آپ کو پختہ کار بنا دے گی۔

    کچھ لوگ باقاعدہ کسی ادارے سے باقاعدہ ترتیب لینا زیادہ سود مند تصور کرتے ہیں۔ ان میں کالج کورس، فلم سکول پروگرام یا آن لائن رائٹنگ ورکشاپس جیسے رہنمائی دینے والے میڈیاہیں۔ ان اداروں کو جوائن کرنے کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہاں آپ کو ایک مقررہ وقت پر کام کر کے دکھانا ہوتا ہے اور پھر اس کا گریڈ بھی ملتا ہے یا مقابلے بازی کا رجحان ہوتا ہے۔ کسی فلم سکول میں داخلے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہاں آپ کا براہِ راست واسطہ فن کاروں، لکھاریوں اور فلم سازوں سے پڑتا ہے۔ جہاں آپ کام ہوتے دیکھتے اور کئی نئے نئے آئیڈیاز بھی پاتے ہیں۔ اور اگر ایک محنتی ہونے کے ساتھ ساتھ خوش قسمت بھی ہیں تو براہِ راست یہاں ملازمت بھی حاصل کرتے ہیں۔

    سکرین رائٹر سافٹ ویئر

    سکرین رائٹر سافٹ ویئر شوقیہ اور پیشہ ورانہ دونوں اقسام کے سکرین رائٹرز کے لیے یقینا مددگار ثابت ہوتا ہے۔ سکرین رائٹر سافٹ ویئر خریدنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انڈسٹری سٹینڈرڈ کے مطابق بنائے گئے فارمیٹ کے مطابق اپنا سکرپٹ تیار کر سکتے ہیں۔

    ایک بڑی اہم، عجیب اور منفرد بات یہ ہے کہ آدھے گھنٹے کے سِٹ کام، ایک گھنٹے کے سِٹ کام، ایک گھنٹے کا ٹی وی ڈرامہ اور فیچر فلم، ان میں سے ہر ایک کا فارمیٹ الگ ہوتا ہے۔ ان سب کے لیے ایک فارمیٹ کام نہیں دے سکتا۔ اور اس سے بھی انوکھی بات یہ کہ کچھ خاص شوز کے لیے گفتگو کے نکات تحریر کرنے کے لیے فارمیٹ بالکل مختلف ہوتے ہیں۔

    جب آپ اپنا سکرپٹ کسی پروڈیوسر یا ایجنٹ کے ہاتھ میں تھماتے ہیں تو وہ سب سے پہلے یہ دیکھتا ہے کہ اس میں کرداروں کے نام اور مقام کس طرح سے لکھے گئے ہیں، سین کی وضاحت کیسے کی گئی ہے، اور کیا سین میں تسلسل ہے۔ آپ fade out اور jump cut  کے بارے میں کتنا جانتے ہیں؟

    تواپنا پہلا سکرین پلے یا سکرپٹ کسی پروڈیوسر یا ادارے کو بھیجنے تک پوری کوشش کریں کہ ان تمام جزئیات پر آپ کو پورا عبور حاصل ہے۔

  • کامیابسکرپٹ لکھنے کے چھے گُر  ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

    کامیابسکرپٹ لکھنے کے چھے گُر  ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

    کامیابسکرپٹ لکھنے کے چھے گُر 

    (ملین ایئر سکرپٹ رائٹر کے قلم سے)

    ہر گزرتے دن کے ساتھ فلم انڈسٹری میں ایک سے بڑھ کر ایک سکرین رائٹرمنظرِ عام پر آرہا ہے، جن میں سے ہر رائٹر کے خیالات ہر لحاظ سے پختہ اور جامع ہوتے ہیں۔ وہ اپنے خیالات اورتجربات کو قلم کی مدد سے صفحۂ قرطاس پر منتقل کرتا ہے اوراس طرح بہترین سکرپٹ ترتیب پاتا ہے۔ اس کے بعد رائٹر بنا سوچے سمجھے اپنا سکرپٹ اور ون لائنر پروڈیوسرز کو بھیج دیتا ہے جہاں سے وہ سکرپٹ بری طرح رد ہونے کے بعد مصنف کے پاس واپس پہنچتا ہے۔آخرایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس آرٹیکل میں ہم نے اپنے قارئین کو ان ہی وجوہات سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کی بنا پر بہت اچھے اچھے سکرپٹ بھی رد کر دیئے جاتے ہیں۔

    سکرپٹ لکھتے ہوئے اگر ان چھے باتوں کا خیال رکھا جائے تو کوئی بھی پروڈیوسر آپ کا سکرپٹ رد نہیں کر سکتا بہ شرط یہ کہ خیال بھی عمدہ ہو۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ آخر وہ ایسے کون سے اصول ہیں۔

    1۔ اپنی تحریر پر باربار نظرثانی کریں:

     سینما گھر یا ٹی وی سکرین پر جو ڈراما یا فلم آپ بہت شوق سے دیکھتے ہیں، وہ فلمائے جانے سے قبل پروڈیوسرز کی جانب سے بار بار رد ہوتی ہے یا اس کے سکرپٹ میںوقتاً فوقتاً اس قدر تبدیلیاں کی جاتی ہیں کہ ابتدائی مسودے اور فائنل سکرپٹ میں بہت کم مماثلت رہتی ہے۔سکرپٹ فائنل ہونے کے بعد جب شوٹنگ شروع ہوتی ہے تو بعض اوقات ہفتوں اور مہینوں کی محنت کو بری طرح سے رد کر دیا جاتا ہے کیوں کہ جس اداکار نے کام کرنا ہوتا ہے، وہ موجود نہیں ہوتا یا پھر وہ لباس نہیں مل پاتے جو اس نے پہننا ہوتے ہیں۔تو ذہنی طور پر اپنے لکھے ہوئے کو بار بار دوبارہ لکھنے کے لیے تیار رہیں۔ 

    2۔ ذہن میں ایک سٹار کا تصور رکھیں:

    جب بھی آپ اپنی مووی کا سکرپٹ لکھنے لگیں، تو آپ کے ذہن میں مرکزی کردار کے مطابق ایک اداکار لازمی ہونا چاہیے۔ ہوسکتا ہے جس وقت آپ فلم لکھ رہے ہوں،آپ کو ایسا محسوس ہو کہ اس وقت فلمی دنیا میں وہ کردار ادا کرنے کے لئے چودہ کے قریب اداکار ہوں۔ لیکن اس کے باوجود آپ کو اس بات کی مکمل یقین دہانی کرنی چاہیے کہ کیا ان میں سے ایک یا دو اداکار آپ کے سکرین پلے کے لئے بالکل موزوں ہیں ۔

    ہالی ووڈ انڈسٹری میں بننے والی کسی بھی فلم کا بجٹ کم از کم ڈھائی کروڑ ڈالر تک ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی اپنی فلم پر اس قدر خطیر رقم خرچ کررہا ہے، تو اس فلم میں کم از کم ایک اچھا اداکار لازمی ہوناچاہیے۔ اس لیے وہاں سکرپٹ لکھتے ہوئے لکھاریوں کے ذہن میں اکثر ایک نامور ادارکار ہوتا ہے جسے وہ اپنے کردار کے لیے بالکل موزوں سمجھتے ہیں۔ آپ کے سکرپٹ کے لیے کیا کوئی کامیاب اداکار آپ کے ذہن میں ہے؟

    3۔فلم کے روایتی فارمولے کو ترک مت کریں:

    آپ کی فلم کا آئیڈیا بالکل منفردہو نا ضروری ہے، لیکن اس کا فارمولا باقی موویز کی طرح ہی ہونا چاہیے۔ آپ کو ایسا سکرپٹ لکھنا چاہئے جس کی فلم کے تیس سیکنڈ کے ٹریلر سے ہی ناظرین مکمل فلم دیکھنے پر مجبور ہوجائیں اور ایسی تمام فلموں کی ساخت ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔

    فلم کی بنیادی ساخت کچھ ایسی ہوتی ہے کہ سکرپٹ لکھتے ہوئے آپ ایک آدمی کو لیں، اس کو درخت پر چڑھائیں، پتھر ماریں، اور پھر اس کو درخت سے نیچے اتاریں اور آخر میں دوبارہ چڑھا دیں۔

    مثال کے طور پر Die Hard   The Matrix, Casablanca,  ان تینوں فلموں میں ہیروز کو ان کی خواہش کے برعکس حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن آخر میں وہ جیت گئے۔ یہ ایک فلم کا سٹرکچر ہے، جس پر عمل کر کے آپ مشکلات سے بچ سکتے ہیں۔

    4۔ابتدائیہ اختتام سے بھی زیادہ اہم ہے:

    سکرین پلے کے ابتدائی دس صفحات وہ ہیں جو نہ صرف کسی بھی فلم کے ناظرین بلکہ ہالی ووڈ انڈسٹری میں موجود پروڈیوسرز اور اداکاروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اگر آپ کے سکرین پلے کا ابتدائی حصہ مزے دار اور دل چسپ نہیں ہیں تو کوئی آگے کی کہانی نہیں پڑھے گا۔

    ابتدائیہ بالکل اوریجنل ہونے چاہیے تاکہ اس پر بننے والی فلم فوراً ناظرین کی توجہ اپنی طرف مبذول کرواسکے۔ سکرپٹ پڑھنے والوں کی توجہ اختتام سے زیادہ سکرین پلے پر ہوتی ہے۔ اگر آپ کی توجہ اچھی فلموں کے اختتام پر ہے، تو تقریباً تمام فلموں کا اختتامیہ ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔بروس ولز ولن کو ہرادیتا ہے، ہیرو ڈیتھ سٹار کو مار دیتا ہے، لوگ شارک کو ماردیتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔

    5۔مسودے سے زیادہ اہم کہانی بیان کرنا ہے:

    کہانی کوبیان کرنے کا عمل سیکھنے سے زیادہ اہم چیز کوئی نہیں ہوسکتی۔ اگر آپ ایک اچھے سکرین رائٹر بننے جارہے ہیں، تو آپ کو اس کے ساتھ ساتھ ایک اچھا اداکار اور سیلزمین بھی بننا پڑے گا۔ آپ کو کسی پروڈیوسر سے بات کرتے ہوئے دس منٹ کے اندر اندر اپنا آئیڈیا سنانا ہوگا ، اور اس کو اپنا وہ نظریہ دکھانا ہوگا جس سے آپ خود اپنی مووی کو دیکھتے ہیں، اور یہ کہ اس کے اندر آپ کو کیا چیز پسند ہے۔ بعض اوقات یہ مسودے کو پیش کرنے سے بھی زیادہ اہم ہوتا ہے۔

    6۔ جملوں کے لئے زیادہ باریک بین نہ ہوں:

    بہت سے نئے لکھاری اپنے سکرپٹ سے زیادہ توجہ جملوں اور مکالموں پر دیتے ہیں، ان کے نزدیک ان کی فلم کی کامیابی ان کے اچھے جملوں کی مرہونِ منت ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔آپ کے جملے شوٹنگ کے پہلے ہی دن اداکار رد کردیتے ہیں، وہ یا تو اپنی طرف سے ان جملوں کو تبدیل کرتے ہیں یا پھر نئے سرے سے ان کو لکھتے ہیں۔آپ کا سکرپٹ اتنا اچھا اور شاندار ہونا چاہیے کہ ایک کامیاب اداکار اس کو کرنے کے لئے حامی بھر لے لیکن ساتھ ہی آپ کو یہ بھی امید کرنی چاہیے کہ وہ اس فلم میں آپ کے تخلیق کردہ کردار کے اندر رہ کر ایک شاندار اداکاری کا مظاہرہ کرے اور ساتھ ہی نئے جملے بھی لکھے۔فلم میں بنیادی چیز پلاٹ ہوتا ہے نہ کہ مکالمے۔

    دوسری طرف سائنس فکشن اور کچھ دوسری اصناف میںمکالمے بہت اہم ہوتے ہیں کیوں کہ ڈائیلاگز کی مدد ہی سے فلم کے حقائق کا پتہ چلتا ہے، ہاں البتہ مزاح اور ڈرامہ میں آپ اداکاروں کو آزادی دیں تاکہ وہ خود سے اپنا حصہ بھی ڈال سکیں۔ ایک اچھا اداکار اپنے کردار میں خود کو ڈھالتا ہے، اس کی طرح بولنے کا انداز اپناتا ہے اور یہ ایک اچھی چیز ہے۔

    آپ کے نزدیک ان تمام ٹپس میں سے سب سے زیادہ کارآمد کون سی ہے؟

  • کہانی زیادہ ضروری ہے یا کردار؟ ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

    کہانی زیادہ ضروری ہے یا کردار؟

    اعلیٰ پائے کے تمام مصنفین اس بات پر متفق ہیں کہ کہانی کرداروں کی نسبت بہت زیادہ اہم ہوتی ہے۔ اگر پلاٹ اور کہانی کی ڈھانچہ مضبوط نہیں تو صرف دلچسپ اور پر کشش شخصیتوں والے کردار آپ کے ہر سکرپٹ کو مقبولیت نہیں دے پائیں گے۔ مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم کرداروں کو نظر انداز کردیں۔

    دیکھا جائے تو کہانی اور کرداروں کو دو الگ چیزیں تصور کرنا ایک غلطی ہے۔ یہ در اصل دو جسم ایک جان والا معاملہ ہے۔آپ جس کہانی کا بھی معائنہ کرلیں، کردار کہانی کے بغیر کچھ نظر نہیں آئے گا اور کہانی کردار کے بغیر کچھ نہیں لگے گی۔ جب کبھی کوئی کردار مشہور ہوا ہے تو وہ کہانی کے سر پر ہوا ہے اور جب کبھی کسی کہانی کو پذیرائی ملی ہے تو وہ کرداروں کے باعث۔

    کہانی لکھنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ کہانی کے پلاٹ اور تھیم سے آگاہ ہونے کے بعد اپنے کرداروں پر توجہ دیں۔ کہانی لکھنے سے پہلے کرداروں کی مکمل اور تفصیلی بائیوگرافی لکھیں۔ یہ طریقہ کار مشہور مصنفہ جے کے رولنگ کا ہے۔ ہیری پوٹر کا مسودہ لکھنے سے پہلے انہوں نے ہیری پوٹر کی پوری دنیا، کرداروں کا پس منظر، ہر چھوٹے بڑے کردار کی مکمل بیک گرائونڈ سٹوری تخلیق کی۔ یہ طریقہ ء کار وقت لیتا ہے لیکن اس کے نتائج نہایت عمدہ اور ایک باریک بینی سے لکھی ہوئی دلچسپ کہانی کی صورت میں نمودار ہوتے ہیں۔ 

    دوسرا طریقہ ء کار اس کے بالکل بر عکس ہے۔ کچھ مصنفین کے مطابق اس طرح کی چیزیں کہانی کو کرداروں سے بہت دور کردیتی ہیں۔ان کا ماننا ہے کہ ایک لکھاری کہانی لکھنے سے پہلے کرداروں کو دریافت کرے اس سے بہتر ہے کہ وہ کرداروں کوخود ہی کہانی دریافت کرنے دے۔ اس سے نہ صرف کہانی نمایاں مقام لے گی بلکہ کردار خود بخود اس کے نئے نئے موڑ دریافت کرتے رہیں گے۔ عین ممکن ہے کہ اس اپروچ کو استعمال کر کے لکھاری خود اپنی کہانی اور کرداروں کے بارے میں چونک جائیں۔ 

    کیوں کہ دیکھا جائے تو اگر ایک کہانی اپنے لکھاری کو ہی متاثر نہیں کر پاتی تو بہت مشکل ہے کہ وہ اپنے پڑھنے والوں کو متاثر کر سکے ۔

    لیکن اس سے پہلے کہ آپ ان دونوں طریقوں میں سے اپنے لیے ایک منتخب کرنے کا سوچیں، یہ ضرور جان لیں کہ ہر لکھاری ایک الگ انداز اور الگ نظر رکھتا ہے۔ کچھ لکھاری کرداروں پہ تفصیلی کام کر کے ہی کہانی کو آگے بڑھا سکتے ہیں، جب کہ کچھ مصنفین کہانی کے پیچ و خم پر کام کرتے کرداروں کو ثانوی حیثیت دیتے ہیں۔ یہ طریقہ ء کار خاص طور پر مسٹری، سسپنس اور تھرل لکھنے والے مصنفین استعمال کرتے ہیں۔ 

    رومینس، تاریخ، فیملی ڈرامہ، اور ایسی دوسری اقسام کے لیے بہتر ہے کہ پہلے کرداروں پر توجہ دی جائے تا کہ قاری کردار کے جذبات کے ساتھ جڑ سکے۔ 

    اچھی کہانی تخلیق کرنے کے لیے ان تمام پہلوئوں کا بغور جائزہ لے کر، اور اپنی طبیعت کے قدرتی میل کے مطابق فیصلہ کیجیے کہ آپ کے لیے کردار زیادہ اہم ہیں یا کہانی۔

    ٭…٭…٭

  • سکرپٹ، ڈائریکٹر کے حوالے کرنے سے پہلے کچھ ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

    سکرپٹ، ڈائریکٹر کے حوالے کرنے سے پہلے کچھ ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

    سکرپٹ، ڈائریکٹر کے حوالے کرنے سے پہلے کچھ

    احتیاطی اقدامات

    پروڈیوسر ڈائریکٹر ٹونی بل نے دنیائے تحریر یا صحافت سے کچھ ایسے نئے لکھاری دریافت کیے ہیں جو ہالی ووڈ کے بڑے بڑے ناموں پر حاوی ہیں۔ ان میں ٹیرنس (Terrenc Malick)ہے جس نے The Thin Red Lineلکھی، پال (Paul Schoader) جس نے Taxi Driverلکھی، کرٹس (Curtis Hanson) ہے جس نے La Confidential   اور جان پیٹرک  (John Patrick) نے Moonstruck جیسی شہرہ آفاق کہانیاں لکھی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی اس فہرست میں کئی بہت سے نام شامل ہیں کہ جن کا تذکرہ اس بحث کو بہت طویل کر دے گا۔

    بل نے ان نئے لیکن بے حد اچھے لکھاریوں کو جن خصوصیات کی بنا پر منتخب کیا، انہیں سمیٹتے ہوئے انہوں نے بارہ نکات پر مشتمل ایک رہنمائی گائیڈ لائن مرتب کی ہے جو نئے لکھاریوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اپنا سکرپٹ مناسب ہاتھوں میں دینے سے پہلے ان نکات پر عمل ضروری ہے۔

    بل کا کہنا ہے کہ جو لکھاری ان سادہ لیکن بے حد قیمتی آرا کو مدِّنظر نہیں رکھے گا وہ نقصان اُٹھائے گا۔ یہ بے حد بنیادی اصول ہیں جو معمولی ہوتے ہوئے بھی بے حد اہمیت کے حامل ہیں کیوں کہ کسی بھی پروڈیوسر یا ڈائریکٹر کی نظر پہلے انہی خامیوں پر جاتی ہے۔ آپ میں سے اکثر لکھاری ان باتوں میں سے کچھ سے اگرچہ آشنا ہوں گے مگر پھر بھی آپ کی رہنمائی کے لیے 12 اصول دینے جا رہے ہیں کہ سکرپٹ جمع کرانے سے پہلے دیکھ لیں کہ آپ درست سمت میںجا رہے ہیں۔ آپ کا سکرپٹ پسندیدگی کی نظر پائے گا کہ ردی کی ٹوکری کا منہ دیکھے گا۔

    (1)  فینسی فائل کور مت استعمال کریں

    مسودہ فائنل کرنے کے بعد اس کے لیے کوئی سادہ سا فائل کور منتخب کیجیے نہ کہ مرصع و مرقع یا پھول بوٹوں والا اور نہ ہی اس پہ کو ئی عبارت یا دیگر سجاوٹ ہو۔

    یہ بھی خیال رکھیں کہ فائل کور نرم ہو، تاکہ آسانی سے موڑا اور گول کیا جا سکے۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ پروڈیوسر اس مسوّدے کو کسی بھی وقت (کام کے دوران بھی مثلاً چلتے پھرتے یا گاڑی میں یا چائے پیتے ہوئے بھی) آسانی سے ساتھ رکھ سکتا ہے اور گاہ بہ گاہ تحریر پر بھی نظر ڈالتا رہتا ہے۔ اگر فائل کور سخت پلاسٹک کا ہو گا تو مسودہ پڑھنے کے لیے پروڈیوسر کو الگ سے وقت درکار ہو گا۔ جو ممکن نہیں اور اس طرح آپ کا مسودہ نظر انداز ہوتے ہوتے ردی میں شامل ہو جائے گا۔ 

    سفید صفحات پر لکھے کئے مسودے کو تین متوازن جگہوں سے اس طرح پنچ کیجیے کہ صفحات عمدہ طریقے سے قابو میں رہیں۔ پنچ شدہ سوراخوں میں ڈالی گئی ڈوری کو تھوڑا ڈھیلا رکھیں تاکہ ورق آرام سے پلٹا جا سکے۔ مسودے کے شروع میں ایک سادہ صفحے پر آپ خوش خطی سے مسودے کا عنوان اور اپنا نام لکھ سکتے ہیں۔ اس لکھائی کے لیے آپ کالا پن استعمال کیجیے۔

    (2)  کردار اُجاگر نہ کریں

    کبھی بھی یہ کوشش نہ کریں کہ مسودے میں موجود کرداروں سے متعلق تفصیل دیں۔ آپ کا مسودہ پڑھنے پر کردار خود ہی اپنا تعارف کروائیں گے اور بہتر انداز میں کروائیں گے۔ آپ کا یہ عمل آپ کی کوشش پر منفی اثر ڈالے گا۔

    (3)  ٹائٹل پیج سادہ بنایئے

    اپنے مسودے کے ٹائٹل پیج کو زیادہ سے زیادہ سادہ رکھنے کی کوشش کیجئے۔ صفحے کے درمیان میں مسودے کا عنوان لکھئے، صفحے کے نیچے دائیں جانب اپنا نام،رابطہ نمبر اور پتا تحریر کیجیے۔ رابطہ نمبر یا فون نمبر ایک سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر تو آپ کا مسودہ بک چکا ہے تو اسے پروڈویوسر کے حوالے کرنے سے پہلے اس پر تاریخ ڈالئے وگرنہ تاریخ کہیں درج نہ کیجیے۔ کیوں کہ آپ نہیں جانتے کہ مسودے کس رفتار سے ”پرانے” ہوتے چلے جاتے ہیں۔ صفحات پر نمبر بھی نہ ڈالیے۔

    ایک اور اہم بات کہ کبھی بھی پہلی بار کا لکھا ہوا مسودہ آگے نہ بھیجیں۔ ہمیشہ تیسری یا چوتھی بار تحریری دہرائی کے بعد ہی مسودہ بھیجیں تاکہ وہ خوش خط اور اغلاط سے پاک ہو۔ املا یا الفاظ کی غلطیاں بھی تحریر کا تاثرغلط کر ڈالتی ہیں۔

    (4) اداکاروں کا چنائو

    اپنی کہانی یا مسودے کی مناسبت سے اداکاروں کا چنائو آپ کی ذمے داری نہیں۔ ایسا کرنے پر پروڈیوسر یا ڈائریکٹر اسے اپنے کام میں دخل اندازی تصور کریں گے۔ آپ کی کہانی کے کردار، خود اپنے لئے بہتر چنائو کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    (5)  کہانی کا خاکہ

    کبھی بھی اپنی کہانی کا خاکہ یا مختصر تعارف اس کے ساتھ نتھی نہ کیجیے۔ اس طرح آپ کی کہانی کا تعارف پہلے ہی چند سطروں میں ہو جائے گا اور پروڈیوسر آپ کی کہانی پڑھنا گوارا نہ کرے گا۔ پوری کہانی پڑھنے پر ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسی بات اُس کے دل کو لگ جائے جو آپ خاکے میں واضح نہ کر سکے ہوں۔ لہٰذا پروڈیوسر کو گائیڈ لائن نہ دیجئے۔

    (6)  کور لیٹر کو درخواست نہ بنائیں

    کور لیٹر، موٹی ویشن لیٹر یا موٹی ویشنل لیٹر دراصل تعارف ہوتا ہے جو مطلوبہ مقصد کے اظہار کے لئے لکھا جاتا ہے۔ آپ جانتے ہوں گے کہ ملازمت کی درخواست کے ساتھ بھی ایک کور لیٹر درکار ہوتا ہے۔ ویسا ہی یہ کور لیٹر ہے جو مصنف اپنی تحریر کے حوالے سے لکھتا ہے تو بعض مصنف کور لیٹر میں اپنی تحریر کی سفارش کرتے نظر آتے ہیں۔ درخواست گزار ہوتے ہیں کہ ان کہانی میں اگر کوئی غلطی ہو تو صرفِ نظر کر دی جائے اور پلیز اس تحریر کو دھیان سے پڑھا جائے وغیرہ وغیرہ۔

    لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ اس طرح وہ اپنی تحریر کو منظور نہیں بلکہ نامنظور کروانے کا سبب بن رہے ہوتے ہیں۔ کور لیٹر کو ہمیشہ باوقار  انداز میں لکھیں۔

    (7)  تکنیکی اور کیمرے سے متعلق ہدایت سے بھی نہیں

    یہ ڈائریکٹر کا کام ہے جس میں دخل اندازی آپ کا تاثر خراب کر سکتی ہے۔ مسودہ لکھنے کے دوران مختلف مناظر کے ساتھ اس طرح کی ہدایات کہ ”قریب سے دکھائیں”، ”اس زاویئے سے دکھائیں”، ”اس منظر کے دو سین بنائیں” یا اس طرح کی دیگر ہدایات ڈائریکٹر کو بارِ خاطر گزریں گی اور وہ چڑ جائے گا ۔ یوں نادانستگی میں آپ اپنا نقصان خود ہی کر بیٹھیں گے۔ کیوںکہ ہدایت کار کیوں چاہے گا کہ وہ کسی اور سے ہدایات لے؟ لہٰذا آپ سیدھے سادے طریقے سے اپنا مسوّدہ مکمل کیجئے۔ 

    (8)  کرداروں کے لہجے نہ متعین کیجئے

    اپنے مسودے میں ناراضی، حیرانی یا خوشی کے اظہار کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ کے ساتھ یہ مت لکھئے کہ کردار نے اسے کیسے بولنا ہے۔ آواز بلند رکھنی ہے کہ پست یا اگر آپ نے اوہ، افوہ یا وائو جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں تو کردار کو بھی وہی بولنا لازم ہے۔ ایسی شرط باندھنا بالکل غلط ہے۔ ایکٹر کا اپنا ایک انداز ہوتا ہے جس میں وہ بہتر طورپر الفاظ کی ادائی کر سکتا ہے۔

    (9)  مسودے کی مناسب طوالت

    اپنے مسودے کی طوالت 100 صفحات سے کم اور 140 صفحات سے زیادہ نہ ہونے دیں۔ اس میں آپ کوئی چالاکی نہ برتیں کہ ہاتھ کی لکھائی یا فونٹ سائز بڑا کر دیں یا صفحے کا حاشیہ زیادہ چھوڑ کر یا سطروں کے درمیان فاصلہ بڑھاتے یا گھٹاتے ہوئے آپ مطلوبہ صفحات تک اپنی تحریر کو پھیلا دیں، یہ غلط ہے۔ عمومی طور پر ایک فیچر فلم کا مسوّدہ 110 سے 120 صفحات پر مشتمل ہوتا ہے۔ مسوّدے کے ہر صفحے کو سکرین پر ایک منٹ کے برابر تصور کیا  جاتا ہے۔

    (10) اغلاط سے پاک مسودہ

    مسوّدے کو غلطیوں سے مبرا رکھنے کی کوشش کریں۔ انگریزی لکھنے کے دوران تو کمپیوٹرز میں موجود Spell-check پروگرام آپ کے بے حد کام آتا اور غلطیوں کی درستی کرتا چلا جاتا ہے مگر ہاتھ سے لکھنے کی صورت میں آپ کو اُردو اور انگریزی دونوں زبانوں کی صحت کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے، خاص طور سے گرائمر کا۔ آپ کے جملے سبک اور جامع ہونے چاہیں۔ طویل اور غلط سلط جملے پڑھنے والے کو ذہنی کوفت میں مبتلا کرتے ہیں۔

    اپنے مسودے کو بار بار پڑھئے یہاں تک کہ اس کی اغلاط سے پاک بہترین شکل نکل آئے۔ کچھ ایسے پروڈیوسرز بھی ہیں جو سکرپٹ کے پڑھنے کے دوران پہلے صفحات میں چھے سے سات غلطیاں ملنے پر سکرپٹ کو ایک طرف کر دیتے ہیں۔ اس لیے اپنی تحریر کا بار بار جائزہ لیتے ہوئے اسے مکمل طور پر اغلاط سے پاک تحریر بنائیں۔

    (11) مناظر پر نمبر نہ لگائیے

    سکرپٹ میں منظر بندی یا گنتی اس وقت لگائی جاتی ہے جب وہ شوٹنگ کے مراحل میں داخل ہوتا ہے۔ رائٹر کا مسوّدے کے مناظر پر نمبر لگانا مناسب نہیں۔ سین کو نمبر وار ترتیب دینا شوٹنگ کا تقاضا ہوتا ہے کہ جس کی روشنی میں مقامات، شوٹنگ کے مراحل یا بجٹ جیسے معاملات طے کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ کمپیوٹر کا فینسی سافٹ ویئر استعمال کر بھی رہے ہیں تو اس کا نمبرنگ والا آپشن بند کر دیجئے۔

    (12)  عمدہ کاپی کیجئے

    اگر آپ ہاتھ سے لکھے مسوّدے کی کاپی یا نقل بھیجنا چاہیں تو اس کے لیے بے حد عمدہ کارکردگی کے حامل پرنٹر یا فوٹو کاپیئر کا انتخاب کیجئے تاکہ آپ کی نقل صاف اور واضح ہو۔ اس کی سکیننگ بہت واضح اور عمدہ ہو تاکہ مسوّدہ پڑھنے میں کسی قسم کی دشواری نہ آئے۔

    اشاعتی دنیا کے برعکس’ فلمی دنیا میں مسودے کئی مختلف طریقوں سے جمع کرائے جاسکتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں مسودہ بہ ذریعہ ڈاک ارسال کرنے سے کہیں آسان طریقہ ای میل کرنے کا ہے۔

  • کہانی کی چھے منازل ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

    کہانی کی چھے منازل

    اس مضمون میں میں آپ کو رومانی فلموںکی کہانیوں کے ایک ایسے ڈھانچے کے بارے میں بتائوں گا، جو آپ کو اکثر رومینٹک فلموں میں دیکھنے کو ملے گا۔کہانی کا یہ خاکہ یا ڈھانچا آپ کو یہ نہیں سکھاتا کہ آپ کیا کہانی لکھیں؟ یا کیسے لکھیں؟، یہ آپ کو بتاتا ہے کہ وہ کون سے بیٹس، کون سے لمحات اور کہانی کے وہ کون سے اتار چڑھائو ہوتے ہیں، جو ایک رومانی فلم کو کامیاب بناتے ہیں۔لیکن ذہن میںرکھیں  کہ رومینٹک فلم لکھنے کے لیے صرف ایک یہی طریقہ نہیں جو آپ استعمال کر سکتے ہیں، مگر یہ یقینا آپ کے سیکھنے کے عمل کے لیے  ایک اچھا آغاز ہے۔

    چند مشہور فلمیں جن میں کہانی کا یہ طریقۂ کار استعمال کیا گیا، ان میں Titanic، Meet Joe Blackاور The Notebook   وغیرہ شامل ہیں۔ فلموں کی مقبولیت سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ طریقہ کتنا کامیاب اور کارآمد ہے۔اس طریقے کو استعمال کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ آپ کی فلم کا اختتام اداس ہو یا خوش گوار، یہ دونوں طرح کی کہانیوں میں کافی  کارآمد ہے۔

    فلمی  سکرپٹ لکھنے سے پہلے اس طریقۂ کار کے بارے میں جاننے کے  لیے ہوم ورک کے طور پر سب سے پہلے آپ یہ چند فلمیں ضرور دیکھیں۔

    Titanic:  اشرافیہ کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک سترہ سالہ لڑکی کو ایک غریب لیکن مہربان فن کار سے محبت ہو جاتی ہے، جب وہ ایک بد قسمت بحری جہاز، ٹائٹینک ،پر اپنی ماں اور منگیتر کے ساتھ برطانیہ سے امریکا کے سفر پر نکلتی ہے۔ 

    Meet Joe Black:موت ، ایک نوجوان لڑکے کا روپ دھار کر دنیا میں آتی ہے اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک نامور آدمی کو اپنے گائیڈ کے طور پر لے کر اس سے دنیا پر موجود زندگی کے بارے میں سیکھتی ہے، اور اس دوران اسے اپنے گائیڈ کی بیٹی سے محبت ہو جاتی ہے۔

    The Notebook:ایک غریب اور جذبے سے بھرپور لڑکے کو ایک امیر اور نوجوان لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے اور وہ اسے آزادی سے جینے کا ایک احساس دیتا ہے۔لیکن جلد ہی وہ اپنے مالی اور سماجی فرق کی وجہ سے ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں۔

    رومانی کہانیوں کی چھے منازل:

    پہلا ایکٹ)تیس منٹ)

    ابتدائی  تیس منٹوں کا صحیح استعمال کریں ۔ناظرین کو اپنے ہیرو ہیروئن سے ملوانے کے لیے، فلم کے پہلے سین سے دیکھنے والوں کو متوجہ کرنے کے لیے اور وہ نکتہ پیش کرنے کے لیے، جس کی وجہ سے ہیرو ہیروئن کا ملن مشکل یا شاید نا ممکن ہو گا۔

     -1 پہلا سین: فلم کا پہلا سین ایسا رکھیں، جو کہانی کے مرکزی کرداروں کے ساتھ ناظرین کا تعلق فوری طور پر جوڑ دے۔ ان دونوں کی زندگی کی محرومی کیا ہے؟اس محرومی کی وجہ سے ان کی زندگی میں کوئی فرق پڑتا ہے، اگر ہاں، تو کیا؟ کرداروں کو اتنا دل چسپ بنائیں کہ ناظرین ان دو فرضی کرداروں کی زندگی کی محرومی ختم ہونے کی دعائیں مانگنے لگیں!

    -2 آپس کی کشش:یہ وہ منزل ہے جہاں آپ ناظرین کو بتا سکتے ہیں کہ کیسے یہ دو الگ افراد ایک دوسرے کے لیے ایک دم بہترین ہیں، کس طرح یہ دونوں ایک دوسری کی محرومی کو ختم کر سکتے ہیں، لیکن ابھی یہ ایک دوسرے کی طرف مکمل طور پر مائل بھی نہیں ہیں۔آپ کو یہ دکھانا ہے کہ ان کے رشتے کی جڑ کیا ہو گی، اس کی روح کیا ہے، اور کس طرح ایک دوسرے تک آنے اور محبت کرنے کے لیے انہیں اپنی موجودہ شخصیت کو تبدیل کرنا ہو گا۔

    -3  اس مختصر آغاز کا اختتام:

    بیرونی اثر: کہانی کے آغاز کو ختم کرتے ہوئے، آپ اسے درمیانی حصے پر لانے کے لیے تیار ہو جائیں۔ ایک ایسا بیرونی واقعہ دکھائیں جس کی وجہ سے دونوں کردار ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کے لیے مجبور ہو جاتے ہیں۔

    اندرونی اثر:کردار ایسا کون سا قدم اُٹھا رہے ہیں، جس سے ان دونو ں کی ایک دوسرے کی جانب کشش نمایاں ہو رہی ہے؟

    دوسراایکٹ(تیس سے نوے منٹ)

    مرکزی کردار ایک دوسرے کی جانب  متوجہ تو ہو رہے ہیں لیکن ابھی بھی دلوں میں کچھ ڈر ہے، خوف ہے۔ ایک قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

    پِنچ پوائنٹ(Pinch Point): یہ کہانی کے وہ موڑ ہوتے ہیں، جو کرداروں کو ، کہانی کو،اس کی پوری شدت سے آگے نہیں بڑھنے دیتے۔ حرکت اور جمود کے بیچ کی کیفیت۔ یہ پوائنٹس کہانی میں کلائمکس اوردل چسپی کو اور زیادہ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان پوائنٹس کی ذریعے آپ ناظرین کو بتاتے ہیں کہ کردار ایک دوسرے کی طرف بڑھتے بڑھتے کیوں رک جاتے ہیں اور یہ بار بار کا رُکنا ان کے رشتے پر کس طرح اثر انداز ہو رہا ہے۔

    -4 فلم کا انٹرویل:جب تک آپ کی فلم انٹرویل تک پہنچے، اس سے پہلے پہلے ان دو سوالوں کے جواب ناظرین تک ضرور پہنچا دیں:

    دونوں کردار ایک دوسرے سے اپنی وابستگی ثابت کرنے کے لیے ایک دوسرے سے کیا اظہار کرتے ہیں، یا کیا اشارے دیتے ہیں؟

    دونوں کردار کس طرح ابھی تک اپنی اپنی شخصیت اور محرومی کے خول سے باہر نہیں آ سکے (اور اس وجہ سے ان کا رشتہ ضرور ناکام ہو گا؟)

    -5 بحران: یہ کہانی کا وہ حصہ ہے جہاں دونوں کردار اپنی کہانی کے بحران سے پہلی بار کھل کر آمنے سامنے آتے ہیں۔

    بیرونی اثر:کس چیز کا ڈر دونوںیا دونوں میں سے ایک کردار کودوسرے کے طرف سے خوف میں مبتلا کر دیتا ہے، اور اس وجہ سے وہ دوبارہ اپنے خول میں سمٹ جاتے ہیں؟

    اندرونی اثر:کردار(یا کرداروں) کو احساس ہوتا ہے کہ ان کا رشتہ مزید نہیں چل سکتا، اسے ناکام ہی ہونا ہے۔

    تیسراایکٹ(نوے سے ایک سو بیس منٹ)

    کہانی کے اس آخری حصے میںدونوں مرکزی کردار تمام اندرونی اور بیرونی رکاوٹیں عبور کر کے ، اپنے اندر سے سب خوف ختم کر کے ایک دوسرے کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں۔

    -6 کلائمکس: 

    بیرونی واقعہ:کس طرح ان دونوں کے درمیان کی رکاوٹیں اور فرق ایک آخری بار ان کے رشتے کو خطرے میں ڈالتے ہیں؟

    اندرونی اثر:کس طرح دونوں کردار ایک حتمی فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ ہر صورت اپنی باقی زندگی ایک ساتھ گزارنا چاہتے ہیں؟

    کلائمکس کے بعد: یہاں ناظرین کو ایک آخری سین یا چند مکالمات کے ذریعے دکھائیں کہ کس طرح یہ دونوں کردار حقیقتاً ایک دوسرے کے لیے بہترین ہیں۔

     ان چھے منازل کا سفر یہاں ختم ہوتا ہے۔ اگر آپ اس موضوع کو اور تفصیل میں جانچنا اور سیکھنا چاہئیں تو یہ چند فلمیں ضرور دیکھیں ،جو کہانی کی ان چھے منازل کو خوبصورتی سے استعمال کرتی ہیں:

    Atonement

    Silver Linings Playbook

    Pride and Prejudice

    Eternal Sunshine of the Spotless Mind

    Pretty Woman

    500 Days of Summer

    Ghost

    (نوٹ: کمنٹس میں ضرور بتائیں کہ ایک لکھاری کے طور پر آپ نے ان فلموں سے کیا سیکھا؟)

  • شارٹ فلم لکھنے کی جدو جہد ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

    شارٹ فلم لکھنے کی جدو جہد

    مصنفین جانتے ہیں کہ لکھنا ایک عرق ریزی والا کام ہے۔ قاری چند ساعتوں میں جس کتاب یا کہانی کے اچھا یا برا ہونے کا فیصلہ کر دیتا ہے، لکھاری نے اکثر اسے لکھنے کے لیے راتیں کالی کی ہوتی ہیں۔ اور یہ مشکل کام تب اور مشکل ہو جاتا ہے جب بات مختصر تحریر کی آئے۔ اگر آپ تحریر کے شعبے سے ذرا سا بھی شغف رکھتے ہیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ طویل تحریر کے مقابلے میں مختصر تحریر لکھنا زیادہ مشکل ہے، کیوں کہ آپ کے پاس بیان، پس منظر، مکالمے، کردار نگاری، غرض ہر وہ چیز جو تحریر کو گہرائی اور شخصیت دیتی ہے، اسے پوری تفصیل سے لکھنے کی گنجائش کم رہ جاتی ہے۔ 

    ایسا ہی سکرین رائٹنگ کے حوالے سے ہوتا ہے۔ ایک معمول کے دورانیے کی فلم آپ کو تحریر کے ہر شعبے سے انصاف کرنے کی جگہ دیتی ہے، لیکن اچھی شارٹ فلم صرف وہی لکھاری لکھ سکتا ہے جو حقیقتاً تحریر کے ہر زاویے سے واقف ہو اور اس پر عبور رکھتا ہو۔ کہانی کی کشمکش، کردار، عروج اور پھر حل۔۔یہ سب بہترین انداز میں سکرین پر دکھانے کے لیے سکرین رائٹر کے پاس صرف چند صفحات کی جگہ ہوتی ہے۔ 

    اب سوال یہ ہے کہ ان چند صفحات کو پر اثر انداز میں کیسے پیش کیا جا سکتا ہے؟ 

    آئیں اس کا جواب کھوجتے ہیں۔ 

    کہانی کو اثر دینے کے لیے فلم کے مناظر کی ترتیب بدل دیں۔ سینز میں سے تمام مکالموں کو نکال کر ان سینز پر نظر ڈالیں۔ کیا ان سینز سے آپ کے کہانی ناظرین تک پہنچ رہی ہے؟ ان مناظر کو اونچی آواز میں پڑھیں تا کہ آپ انہیں سن سکیں، اور ذہن میں منظر نگاری کر سکیں۔ کیا جو منظر آپ کے ذہن کے پردے پر آ رہا ہے، مضبوط ہے؟

    اپنے مکالموں پر نظر ثانی کریں۔ ایک شارٹ فلم کے سکرپٹ میں بھاری بھرکم ڈائیلاگ بازی کی ضرورت نہیں ہوتی نا ہی وہ اس صنف سے میل کھاتا ہے۔ اپنے مکالموں کو اونچی آواز میں پڑھیں یا ریکارڈ کر کے سنیں۔۔۔اگر وہ آپ کو بھاری محسوس ہو رہے ہیں تو انہیں سکرپٹ سے نکال پھینکیں۔ 

    اگر آپ کو محسوس ہو کہ مکالموں کی کمی آپ کی کہانی کو کمزور کر رہی تو سوچیں کہ مکالمے کی جگہ کیا چیز شامل کر کے آپ فلم بین تک اپنی بات پہنچا سکتے ہیں۔ کردار کو کوئی خاص عادت، کوئی انوکھا انداز، کوئی عام سی حرکت جو حالات کے تناظر میں کچھ الگ دکھے اور دیکھنے والوں تک ایک خاص پیغام پہنچا جائے؟ یہ سب وہ آلے اور ہتھیار ہیں جنہیں استعمال کر کے آپ مکالموں کی کمی پر قابو پا سکتے ہیں۔ 

    لیکن اہم بات یہ بھی ہے کہ جو بھی مکالمے سکرپٹ میں موجود ہوں، وہ انتہائی مضبوط، احساسات سے بھر پور ، اور کرداروں کی اندرونی کیفیت کی مکمل عکاسی کرتے ہوں۔ مختصر، حقیقت سے قریب اور جامع مکالمے کسی بھی شارٹ فلم کی جان ہو تے ہیں۔ آپ کی فلم کس genre ہے، یہ حقیقت بھی آپ کو مکالموں کی تعداد اور معیارکا تعین کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ایک شارٹ فلم جو ”ڈرامہ” کے genre سے تعلق رکھتی ہے، اس کی نسبت ایک ہارر شارٹ فلم کم اور معمول کے مکالموں کو استعمال کر کے بھی بنائی جا سکتی ہے۔ 

    مکالموں اور سینز کے علاوہ ایک اور اہم جز ہے ریسرچ۔ 

    شارٹ فلم پاکستان میں بہت کم بنائی جا رہی ہے۔ اس لیے ہماری سکرین رائٹرز کے لیے اس صنف میں مہارت حاصل کرنے کے لیے ماضی کی شاندار مثالیں موجود نہیں ہیں۔ مشاہدے اور شارٹ فلم کی مثالوں کے لیے آپ کو بین الاقوامی سینما کی مدد لینی ہو گی۔ اور یہ آ پ کے لیے blessing in disguiseثابت ہو گی کیوں کہ بین الاقوامی سینما اس صنف میں کئی دہائیوں کا تجربہ رکھتا ہے۔اور وہاں اس صنف میں آپ کو ہر طرح اور ہر معیار کی شارٹ فلم دیکھنے کو ملے گی۔ اور یہ وسیع body of work   نہ صرف آپ کو مشاہدہ دے گی بلکہ تکنیک کے حوالے سے بھی آ پ کی تربیت کرے گی۔ 

    دوسرے سینماز کی شارٹ فلمز دیکھنے کے علاوہ آپ اپنی طرح کے دوسرے سکرین رائٹرز سے بات کر کے بھی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ آپ کو اندازہ ہوگا کہ ہر سکرین رائٹر کے لیے شارٹ فلم لکھنے کا عمل مختلف ہوتا ہے ، اور یہی فرق آ پ کو اپنی شارٹ فلم کی شخصیت تلاش کرنے اور اسے نکھارنے میں مدد دے گا۔ 

    ہمیں امید ہے یہ چند pointersاس جدو جہد میں آپ کی مدد کریں گے۔ ہمیں اپنے فیڈ بیک سے ضرور آ گاہ کیجیے گا۔

  • سکرین پلے تیار کرنے کے تین طریقے ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

    سکرین پلے تیار کرنے کے تین طریقے

    اگر آپ اپنے ذہن میں اُبھرتی کہانی کو سکرین پلے کی صورت کاغذ پر اتارنے کے خواہاں ہیں لیکن ایسا کرنے کے دوران الجھاؤ کا شکار رہتے ہیں تو یہ مضمون ضرور پڑھیں۔ ایک اچھا سکرپٹ لکھنے کے لیے کسی ایک طریقے پر پابند رہنا ضروری نہیں ہے بلکہ اہم بات یہ ہے کہ جو طریقہ اپنایا جائے اس کا صحیح استعمال بھی کیا جائے ۔

    خیالات کا بہائو:

    بعض او قات آپ کے ذہن میں ایک مبہم آئیڈیا جنم لیتا ہے ۔ چند ادھورے مناظر جنہیں مکمل کرنے کی سعی میں آپ سکرین پلے لکھنے کی ٹھانتے ہیں۔ اس طرح آپ ذہن میں اچانک اُبھرنے والے خیالات کو ایک تواتر سے کاغذ پر منتقل کرتے چلے جاتے ہیں۔اس طریقۂ کار کے تحت سکرپٹ لکھنے کے جہاں بہت سے فائدے ہیں، وہیںچند مسائل بھی ہیںجو آپ کو درپیش آ سکتے ہیں۔

    اس طریقۂ کار کے فوائد:

    ١۔ ا س طرح لکھنے میں چونکہ زیادہ سوچ بچار نہیں کرنی پڑتی لہٰذا کہانی لکھنے کا عمل آسان اور پُر لطف ہو جاتا ہے۔

    ٢۔ آپ پلاٹ،اورذیلی پلاٹ ترتیب دینے کی مشقت سے بچ جاتے ہیں۔

    ٣۔ذہن میںمتواتر اُبھرنے والے خیالات کو قلمبند کرتے ہوئے آپ کی کہانی میں برجستگی جھلکنے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ بعض مکالمے کاغذ پر اتارتے ہوئے آپ خود بھی حیران رہ جاتے ہیں۔

    ٤۔لکھنے کے اس طریقۂ کار پر عمل کرتے ہوئے ذہن میں نت نئے آئیڈیازجنم لیتے ہیںجنہیں نوٹ کر کے آپ آئندہ استعمال میں لا سکتے ہیں۔

    اس طریقۂ کار کے ساتھ منسلک چند مسائل:

    ١۔ اس طرح لکھتے ہوئے چونکہ ذہن میں اُبھرنے والے بے ترتیب خیالات کو الفاظ کی صورت ڈھالا جاتا ہے لہٰذا سکرپٹ مکمل کر لینے کے بعد اس کی کانٹ چھانٹ کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اپنے سکرپٹ کو ختمی شکل دیتے ہوئے غیر ضروری مکالمے اور بے معنی جملے اپنے مسودے سے خارج کر دیں۔

    ٢۔ ہو سکتا ہے کہ اپنے کچھ پسندیدہ سین سکرپٹ سے خارج کرنا آپ کو مشکل لگے۔ لیکن اپنے سکرپٹ کو نکھارنے کے لیے یہ از حد ضروری ہے۔

    ٣۔ممکن ہے کہ کہانی کا بنیادی ڈھانچہ غیر مضبوط رہ جائے۔ 

    ٤۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کہانی تکنیکی لحاظ سے کمزور ہو۔

    اس طریقۂ کار کا استعمال ان لکھاریوں کے لیے زیادہ مفید ہے جن کا ذہن ہر وقت کوئی نہ کوئی کہانی بُننے میں مصروف رہتا ہے۔ 

    تجزیاتی لکھائی:

    کچھ لکھاری باقاعدہ سکرپٹ لکھنے سے پہلے کہانی کو اس کی تمام تر جزئیات کے ساتھ سوچتے ہیں۔پلاٹ کے ساتھ جڑی ہر تفصیل باریکی سے نوٹ کی جاتی ہے ۔ Index Cards, Outlines   حتیٰ کہ Excel sheets وغیرہ استعمال کر کے کہانی کا بہائو اور تفصیلات کی فراہمی تکنیکی طور پر مضبوط کی جاتی ہے۔ اس طرح لکھنے کے بھی فائدے اور نقصانات دونوں ہیں۔

    اس طریقۂ کار کے فوائد:

    ١۔ چونکہ آپ آغاز سے لے کر اختتام تک کی ساری کہانی پلان کر چکے ہوتے ہیں لہٰذا سکرپٹ لکھنے کے لیے زیادہ وقت درکار نہیں ہوتا۔

    ٢۔ پہلے سے کہانی کا خاکہ بنانے کی صورت میں آپ اپنے مسوّدے میں بار بار تبدیلی کرنے کی کوفت سے بچ جاتے ہیں۔

    ٣۔ آپ کا سکرپٹ ایک معیاری سکرین پلے کے تمام تر اجزاء سے مزیّن ہوتا ہے۔

    ٤۔ قلم اُٹھانے سے قبل کہانی سوچنے کی صورت میں آپ سکرپٹ لکھتے ہوئے اپنی پوری توجہ مکالموں کو جاندار بنانے پر صَرف کر سکتے ہیں۔

    اس طریقۂ کار کے ساتھ منسلک چند مسائل:

    ١۔ کہانی کی بُنت اور پھر اس کا ابتدائی خاکہ بنانے میں آپ کو کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

    ٢۔ پلاٹ زبردست ہونے کے باوجود جو چیز کمزور رہ جاتی ہے وہ ہے کردارنگاری ۔

    اس طریقۂ کار کا درست استعمال یہ ہے کہ پہلا مسودہ لکھنے کے دوران کہانی کے پلاٹ پر پوری توجہ دی جائے جبکہ دوسرے مسودے میں کردار نگاری کو بہتر بنایا جائے۔ اسی طرح تیسرے مسودے میں مکالموں پر محنت کریں اور آخری مسودے میں اپنے سکرپٹ کو حتمی شکل دیں۔ 

    ترتیب وار لکھائی: 

    اس طریقہ ء تحریر میں پچھلے دونوں طریقوں کی اچھائیوں کا مرکب شامل ہے۔ اس سے کہانی کو شروع سے ہی ایک مضبوط بنیاد میسر آتی ہے۔ اس طریقے میں ایک بنیادی خیال کو لے کرآگے چلتے ہیں۔ یہی بُنیادی خیال کہانی میں رُونما ہونے والے تمام واقعات کا سبب بنتا ہے۔

     اس طریقۂ کار کے فوائد:

    ١۔سکرپٹ کا پہلا مسوّدہ کافی حد تک مکمل ہوتا ہے لہٰذا اسے حتمی شکل دینے میں زیادہ وقت صَرف نہیں کرنا پڑتا۔

    ٢۔ پہلے سے سوچے گئے بنیادی خیال کے گرد کہانی کے تانے بانے بنتے ہوئے خیالات ایک روانی سے ذہن میں جنم لیتے ہیں جس کی وجہ سے لکھنے میں مزید لُطف آتا ہے۔

    اس طریقۂ کار کے ساتھ منسلک چند مسائل:

    ١۔ یہ طریقہ خاصا وقت طلب ثابت ہو سکتا ہے۔

    ٢۔ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے کرداروں کی شخصیت میں بھی تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ یہ تبدیلی دکھانے کے لیے ہر کردار کے پسِ منظر پر تفصیلی طور پر کام کرنا پڑتا ہے۔

    ایک اچھا سکرین پلے وہ ہوتا ہے جو اپنے پڑھنے والے کو جکڑنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ یہ مضمون ان تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے جنہیں زیرِ استعمال لا کرآپ ایک اچھا سکرین پلے ترتیب دے سکتے ہیں۔ 

  • ناول کو سکرین پلے میں بدلیں ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

    ناول کو سکرین پلے میں بدلیں

    آپ چاہیں مانیں یا نہ مانیں: ناول اور سکرین پلے دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ آپ ایک جنگلی بلّی کا مقابلہ اپنی پالتو بلی کے ساتھ کریں۔۔۔ دونوں ہی بلیاںہیں، لیکن ایک کو آپ پیار کرنا چاہیں گے، اپنے ساتھ بٹھانا چاہیں گے، اور دوسری کو۔۔۔شاید نہیں۔

    ایک تین سو سے چھے سو صفحات کے ناول کو بطور سکرین پلے ماخوذ کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ سکرین رائٹر کو ایک ہی وقت میں اپنے پروڈیوسر، سٹوڈیو میں موجود لوگوں اور پرستاروں کی امیدوں پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کرنی ہوتی ہے۔اس کے علاوہ اس کتاب کے مصنف کی بھی، جو اپنے کام کے حوالے سے بہت زیادہ حساس بھی ہوسکتا ہے۔ایک کامیاب ماخوز فلم تب جنم لیتی ہے جب سکرپٹ رائٹر اور ناول نگار مل کر ، اور تخلیقی سمجھوتوں کے ساتھ ایک پروجیکٹ پر کام کریں۔

    ہالی وڈ اپنے ناول نگاروں میں اس لحاظ سے بری طرح بدنام ہے کہ ہالی وڈ کے سکرین رائٹرزناول کی کہانی پر فلم بناتے بناتے کہانی پوری بدل دیتے ہیں۔۔۔فلم کامیاب ہو گئی تو رائٹر اور سٹوڈیو کے اختلاف ختم، لیکن اگر ناکام ہو گئی تو الزامات کا ایک سلسلہ ہے جو چل پڑتا ہے۔

    یہ سچ ہے کہ ایک مکمل ناول کوکبھی بھی پوری تخلیقی ایمانداری کے ساتھ فلم کے پردے پر منتقل نہیں کیا جا سکتا، دونوں بہت الگ اصناف ہیں۔ اگر آپ ایک ناول نگار ہیں اور آپ کے ناول پر فلم یا ڈرامہ بننے جا رہا ہے تو اپنے آپ کو یاد دلا دیں کہ سکرین پر جو آپ دیکھیں گے وہ ضروری نہیں آپ کے خیال سے مطابقت رکھے۔

    ہیری پوٹر سیریز کی مثال لیجیے۔ ان کتب کے سچے فینز کبھی بھی آپ کو فلموں کی کھلے دل سے تعریف کرتے نظر نہ آئیں گے۔ کچھ اتنے اہم حصے ،کردار اور واقعات کتاب سے سکرین کی اس منتقلی میں تبدیل ہوئے کہ اصل کہانی بدل کر رہ گئی۔لیکن اگر آپ نے پہلے کتابیں نہیں پڑھیں تو فلمیں دیکھ کر یقینا آپ کا کتابیں پڑھنے کا دل چاہے گا۔ اگر آپ فلمیں دیکھنے کے شوقین ہیں تو یہ فلمیں ضرور آپ کی دلچسپی کا باعث بنیں گی۔ ۔۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سٹوڈیو نے ہیری پوٹر سیریز کی تمام فلموں کے لیے جے کے رولنگ اور اپنے سکرین رائٹرز کو ایک ساتھ کام کروایا۔ سکرین رائٹرز ہر اہم تبدیلی کے لیے جے کے رولنگ سے ڈسکس کرتے تا کہ نا تو ناول کی کہانی اور فلم میں بہت تضادات ہوں اور نہ ہی فلم اپنی ساخت کھو دے۔

    ان سمجھوتوں اور ڈسکشنز کا نتیجہ یہ ہے کہ ہیری پوٹر سیریز کی تمام فلمیں، کتابوں سے تضادات کے باوجود، ہالی وڈ تاریخ کی کامیاب ترین فلموں میں سے ہیں۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا آپ کو کتاب کے ساتھ ہمیشہ مخلص رہنا چاہیے؟آپ رہنا بھی چاہیں تو آپ نہیں رہ پائیں گے۔ ناول میں کبھی کبھی پورے چیپٹرز صرف کرداروں کی اندرونی خلش دکھانے کے لیے ہوتی ہیں اور تین گھنٹے کی فلم میں آپ کے پاس اتنا وقت نہیں کہ آپ یہ اندرونی کشمش دکھا سکیں۔اس لیے تبدیلی تو آپ کو کرنی پڑے گی۔ سکرین پلے میں کرداروں کو یا تو کم کردیا جاتا ہے یا پھر ملا دیا جاتا ہے۔کہانی کے مرکزی پلاٹ کے ساتھ بھی کم و پیش یہی کیا جاتا ہے۔ کرداروں کے اندرونی مسائل کو باہر لایا جاتا ہے تاکہ وہ لوگوں پر اپنا تاثر چھوڑ سکیں اور ساتھ ہی ڈرامائی بھی نظر آسکیں۔ یاد رکھیں، ایک ناولسٹ کے پاس اپنی کہانی کے ہر سین ، کردار اور موڑ کو بہت تفصیل اور باریک بینی کے ساتھ کھوجنے کے لیے مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے، لیکن ایک سکرین رائٹر کے پاس یہ آزادی نہیں ہوتی۔ سکرین رائٹر وقت اور ساخت کے ساتھ محدود ہوتا ہے، اور وہ صرف ایک ہی چیز کے ساتھ ایمان دار رہ سکتا ہے، کہانی۔

    ایک سکرپٹ رائٹر کے طور پر یہ سارا کام اس وقت شروع ہوتا ہے، جب آپ کو ماخوذ کرنے کے لئے مواد ملتا ہے۔ جب آپ کے پاس ناول آتا ہے، آپ اس کو دو بار پڑھیں۔ پہلی بار صرف تفریح اور مزے کے لئے پڑھیں۔کیوں کہ، اگر آپ کو وہ کتاب پڑھنے میں مزہ ہی نہیں آئے گا، تو آپ اس کتاب کو وہیں پر رکھ دیں گے۔اگر آپ اس کتاب کو ایک سکرپٹ میں تبدیل کرنے میں خود ہی رضامند نظر نہیں آئیں گے تو ایک ایسا ہی سکرپٹ لکھ سکیں گے جو کسی کو بھی پسند نہیں آئے گا۔

    دوسری بار میں آپ کتاب کو باریک بینی سے پڑھیں، اور کہانی کے ڈرامائی عناصر کو اپنے ذہن میں رکھ کر پڑھیں۔ پڑھنے کے دوران کہانی میں موجود مناظر آپ کے دماغ میں چلنے شروع ہوجائیں۔ آپ کرداروں، مناظر کو تخیل میں دیکھیں ،ان کے نوٹس بنائیں، دوسری بار پڑھنے کے بعد ، ان کو ایک سکرین پلے کی ساخت میں تشکیل دیناشروع کردیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے مائیکل انجیلو نے مجسمہ سازی کے حوالے سے کہا تھا : مجسمہ تو پہلے سے ہی موجود تھا ،اس نے صرف اس پر سے موجود زائد مواد کو ہٹایا تھا۔

    اگر آپ ایک ناول کو ماخوذ کرنے کی ٹھان لیں، تو سب سے زیادہ مشکل اس کی سنیمائی تشکیل ہوتی ہے۔اس مرحلے کے لیے ناول نگار کو ضرور اپنے ساتھ رکھیں۔ کہانی کو جس باریکی سے وہ جانتا ہے آپ نہیں جانتے۔ بار بار کی ڈسکشن سے یقینا کچھ ایسی چیز ضرور سامنے آئے گی جو کتا ب اور فلم دونوں کے ساتھ حد درجہ انصاف کر سکے گی۔

    یاد رکھیں،ناول کو سکرین پلے میں تبدیل کرتے وقت بہت سے لوگوں کی بہت سی امیدیں آپ سے وابستہ ہوتی ہیں۔ بطور سکرین رائٹر، آپ اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکتے کہ آپ ان سب پر۔۔۔یا کم سے کم ان میں سے کسی ایک پر بھی پورا اتر سکیں گے یانہیں۔ جوواحد کام آپ کرسکتے ہیں وہ یہ کہ آپ صرف وہ لکھیں جو کہانی آپ سے لکھوانا چاہ رہی ہے۔

  • ڈرامے پر اِک نظر ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

    ڈرامے پر اِک نظر ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

    ڈرامے پر اِک نظر

    ڈرامہ کیا ہے اور اس کے ذریعے ہم تربیت کیسے کر سکتے ہیں۔ 

    معاشرے کی تربیت ،بچوں کی تربیت اور خود اپنی بھی۔ 

    ڈرامہ ایک طاقتور میڈیم ہے۔ جس زمانے میں ٹی وی یا ریڈیو وغیرہ نہیں تھا۔ اس زمانے میں بھی ایسے ڈرامے اسٹیج کےَ جا تے جن میں اصلاحی پہلو ہوا کرتے تھے۔اس کی مثال اوپیراز ہیں۔ اوپیراز یونان میں دکھاےَ جا تے تھے۔ یہ منظوم ڈرامہ ہوا کرتا ۔ عام طور پر ان کا تھیم مذہبی ہو تا یا کسی بادشاہ کا کوئی کارنامہ ،یا کوئی جنگی داستان بیان کی جا تی تھی۔ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ دنیا میں ڈراموں کی ابتدا اوپیراز سے ہویٔ تھی۔ 

    ایتھینز کے تھیٹر ز میں دکھائے جانے والے ڈراموں کی تین اقسام ہوا کرتی تھیں، المیہ ،طربیہ اور طنزیہ ۔ (یہ باقاعدہ ڈرامے ہوا کرتے ۔ مذہبی تھیٹرز ان کے علاوہ ہوا کرتے تھے) 

    کہا جا تا ہے کہ انسان اپنی پیدائش کے ساتھ ہی ڈرامے کا فن لے کر آیا ہے۔ اس کی ڈائیلاگز ڈلیوری، چہروں کے تاثرات، جذبات کا اظہار، یہ سب کیا ہے۔ یہ سب ڈرامہ ہی تو ہے۔ 

    لفظ ڈرامہ یونانی لغت کا حصہ ہے۔ اس کا مطلب عمل یا حرکت ہے۔ ڈرامے کو ادب کی اصناف میں سب سے قدیم تصور کیا جا تا ہے۔ خیال کیا جا تا ہے کہ دنیا کے پہلے انسان کے ساتھ ہی ڈرامہ وجود میں آگیا ہو گا۔ مشہور جملہ ہے کہ ہم سب دنیا کے اسٹیج پر اداکاروں کی طرح ہیں۔ اپنا اپنا کھیل دکھا کر چلے جائیں گے۔ 

    کسی قسم کے نمائشی ردِ عمل کو بھی ڈرامہ ہی کہا جا تا ہے۔ عام طور پر سننے میں آتا ہے کہ دیکھوتو کیسا ڈرامہ کررہا ہے۔ بیوی رو رہی ہو توروایتی شوہر حضرات کہتے ہیں کہ بس اب ڈرامہ بند کرو، بہت ہو گیا۔ 

    ڈرامہ زندگی کی عملی تصویر ہے۔ اب دیکھیں کہ مختلف مفکروں نے ڈرامے کی کیا تعریف کی ہے:

    افلاطون تمام فنون کو اصل کی نقل کہتا ہے۔ 

     ارسطو کے نزدیک ڈرامہ زندگی کی نقالی ہے۔ 

     سیسرو نے ڈرامے کو زندگی کی نقل ،رسم و رواج کا آئینہ اور سچائی کا عکس کہا ہے۔ سادہ ترین تعریف یہ ہے ”زندگی کے واقعات کو منصوبے کے تحت اسٹیج پر عملی طور پر پیش کرنا ڈرامہ ہے۔ ”

    اس سلسلے میں سنسکرت کے ڈرامہ نگاروں نے ڈرامہ کے جو اصول وضع کیے تھے۔ وہ آج تک چلے آرہے ہیں۔ جیسے:

    ١۔ ڈرامہ کے لےَ ایک کہانی یا پلاٹ ضروری ہے۔  

    ٢۔ ایک اسٹیج جہا ں ڈرامہ کیا جا سکے ۔ 

    ٣۔ موسیقی۔

    ٤۔ رقص ۔ 

     ٥۔ سوانگ (گیٹ اپ ۔ یا میک اپ ) 

     ٦۔ سیٹ ڈیزائین ۔ 

    ٧۔ سامان (پرابس ) 

     ٨۔ کاسٹیوم ۔ 

     یہ سب عناصر آج بھی ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ڈرامے کے لیے تین کرداروں کو لازمی قرر دیا تھا:

     ١۔ نائیک (ہیرو)

    ٢۔ نائیکہ (ہیروئین ) 

    ٣۔ کھل نائیک(ولن ) 

    ہماری کہانیاں کم و بیش آج بھی ان ہی تین مرکزی کرداروں  کے گرد گھومتی ہیں۔ 

     ڈراموں کی قدیم تاریخ بتا تی ہے کہ اوپیرا یعنی منظوم ڈرامے، یونان اور اٹلی میں پرفارم کےَ جاتے تھے۔  

    موجودہ دور میں اس کی مثال آغا حشر کاشمیری کے ڈرامے ہیں۔ جیسا کہ توفیق کس حال میں ہے۔۔۔شیر لوہے کے جال میں ہے۔ 

     ہندوستان کی ایک فلم تھی ،،ہیر رانجھا ،،اس میں راج کمار ہیرو تھا۔ اس کے سارے مکالمے منظوم تھے۔خود میں نے میوزک کی ایک لنکنگ لکھی تھی جو منظوم تھی ۔ جیسے:خالی کمرہ ہے۔ فون کی گھنٹی بج رہی ہے۔ لڑکی بولتی ہوئی داخل ہو تی ہے۔”سارے جہاں  میں شورِ قیامت کےَ بغیر ۔۔رکتا نہیں ہے فون مصیبت کےَ بغیر”۔ 

    ریسیور اٹھا کر ۔”ہیلو ۔  یہ کیسا شور مچایا ہے تم نے آج۔ ۔۔ابا کو سوتے سے اٹھا یا ہے تم نے  اوپیرا ز بھی اسی قسم کے ہوا کرتے تھے۔ 

     اوپیراز کاآغاز ١٦٠٠ عیسوی میں اٹلی میں ہوا تھا۔ 

    ڈرامہ حرکت یا عمل کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں بھی ڈرامہ موجود ہے، یعنی حرکت۔ امیر خسرو کا ایک دوہا سنیں:

    کھیر پکائی جتن سے چرخہ دیا جلا۔۔۔آیا کتا کھا گیا توُ بیٹھی ڈھول بجا۔ لا پانی پلا ۔ 

    اس میں پوری ایک موومنٹ ہے۔ ایک متحرک تصویر بن گئی ہے۔ 

    پوچھا جو میں نے چاند نکلتا ہے کس طرح۔۔۔زلفوں کو رخ پہ ڈال کے جھٹکا دیا کہ یوں۔ ہے نا حرکت۔ 

    یا پھر،،،،ذرا شوخی تو دیکھےَ گا ،لےَ زلفِ خم کدہ کو ہاتھ میں۔۔۔۔میرے پیچھے آےَ دبے دبے مجھے سانپ کہ کر ڈرا دیا۔ 

     ڈرامے کی جڑ تھیٹر سے جڑی ہے۔ شہنشاہیت کے دور میں جب زندگی بہت گھٹی ہوئی ہوتی تھی توجرأت مند لکھنے والوں نے اپنی آواز پہنچانے کے لئے تھیٹر کا سہارا لیا تھا۔ 

    ہر حال میں حق بات کا اظہار کریں گے۔۔۔منبر نہ مل سکا تو سرِ دار کریں گے

    اس زمانے کے بیشتر ڈرامے ضائع ہو چکے ہیں یعنی ہم تک نہیں پہنچے۔ آج کی دنیا صرف چند ناموں سے واقف ہے۔ جن میں سب سے اہم ”سوفو کلیز”ہے ۔طربیہ لکھنے والوں میں ”ارسٹوفینز” تھا۔ ٤٧٢ قبل مسیح اس کے ایک ڈرامے نے اوّل انعام حاصل کیا تھا۔ جی ہاں اس زمانے میں بھی اس قسم کے مقابلے ہوا کرتے تھے!!

    یونانی طربیہ ڈراموں کو بھی تین ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یعنی

    قدیم کامیڈی، وسطی کامیڈی اور جدید کامیڈی۔ 

    یونانی ڈراموں کے مقابل رومی ڈرامے تھے۔ ان کی بھی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی یونانی ڈراموں کی۔ رومن ڈرامے اپنی پیشکش کے لحاظ سے یونانی ڈراموں سے بہت بہتر اور ماڈرن ہوا کرتے۔ یہیں سے ڈراموں کی روایت یورپ اور انگلینڈتک گئی ہے۔ 

    اینڈرونیکس اور نیو وییس روم کے مشہور ڈرامہ نگار ہوا کرتے تھے۔ اور ایک مشہو ڈرامہ رائٹر پلاٹس بھی تھا۔ اس کا زمانہ 205 اور 184 قبل مسیح کا تھا۔ 

    قدیم کے بعد ڈراموں کا وہ دور آتا ہے جسے ہم وسطی کہتے ہیں۔ اس زمانے تک ڈراموں کی روایت پورے یورپ میں پھیل چکی تھی۔ اسی زمانے میں مسٹری تھیٹر کا آغاز ہوا تھا۔ 

    سولہویں اور سترہویں صدی، انگلینڈ میں ڈراموں کے عروج کی صدیاں تھیں۔ کرسٹوفر مارلو، تھامس میڈلٹن اور شیکسپیئر کے ڈرامے اس دور کی بہترین مثال ہیں۔ 

    شیکسپیئر کے ڈرامے ،ہیملٹ،جولیس سیزر اور میکبیتھ وغیرہ اپنی مثال آپ ہیں۔ اس کا ایک ڈرامہ ”مرچنٹ آف وینس ”انسان کی منفی علامت کا شاہ کار ہے۔ 

    انیسویں اور بیسویں صدی میں ڈرامہ اپنے خدوخال  اورپلاٹ کے حوالے سے کمال کو پہنچا۔ ناروے کا ہنرک ازبن، جرمنی کا بریخت، ان کے علاوہ چیخوف، اوجین اونیل،برناڈ شا ،ارتھر ملر وغیرہ ان گنت نام ہیں، جنہوں نے ڈراموں کو عروج تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ 

    اگاتھا کرسٹی کا ایک ڈرامہ پورے تیس برس تک مسلسل اسٹیج ہوتا رہا۔ اس ڈرامے کا نام ”ماؤس ٹریپ” تھا۔

    اس سے اندازہ لگا لیں کہ لوگوں کو ڈرامہ دیکھنے میں کتنی دل چسپی تھی۔ 

    یہ وہ ڈرامہ رائیٹر تھے جو جدید تقاضوں سے باخبر تھے۔ اسی لےَ علامتی ڈرامے لکھے گےَ ۔ سماج کے بے شمار مسائل پر توجہ دی گئی اور ڈرامے، اربابِ اختیار تک اپنی آواز پہنچانے کا ایک مؤثر ذریعہ بن گئے۔

    یونان اور اٹلی کے علاوہ ڈرامے کا ایک اور مرکز بھی تھا، ہندوستان۔ ہندوستانی تھیٹر در اصل سنسکرت کا تھیٹرہے۔ 

    ہندو اساطیرکے مطابق لارڈ شیو،ڈرامے کی تکنیک کو لارڈ وشنو کی عبادت کے لئے استعمال کرتے تھے۔ 

    ان لوگوں نے ڈراموں کو کئی شعبوں میں تقسیم کیا ۔ جس کا ذکر ہو چکا ہے۔ یعنی کاسٹیوم، گیٹ اَپ کہانی وغیرہ۔ 

    کالی داس کی شکنتلا ،راجہ ہریش چندر وغیرہ ایسے ڈرامے ہیں جنہوں نے مغرب کو بھی متاثر کیا۔ اس زمانے میں چین ،جاپان اور کوریا میں بھی  تھیٹر بھی بہت فعال تھا۔ 

    ہندوستان میں ڈراموں کا جدید عہد اور اُردو ڈرامے 

    ہندوستان میں ڈراموں کا جدید عہد بہت طاقت ور رہا۔ ایسے ڈرامے لکھے گےَ جن کے موضوعاتحب الوطنی، انسان کی اپنی شناخت ،روحانیت اور سماج کے دُکھ تھے۔ رابندر ناتھ ٹیگور کو جدید ڈرامہ کے بانیوں میں شمار کیا جا تا ہے۔ انہوں نے بنگالی میں لکھا اور بہت خوب لکھا۔ ان کے ڈرامے،ڈاک گھر اور چترا وغیرہ اپنی مثال آپ ہیں۔ 

    جدید عہد کے بڑے ڈرامہ نگاروں میں گرش کرناڈ،وجے ٹنڈولکر اور ٹنڈانی وغیرہ ہیں۔ 

    اُردو ڈرامے

    اب آجائیں اردو ڈراموں کی طرف:

    ان کی ابتدا ایک طرح سے نواب واجد علی شاہ کی سرپرستی سے ہوتی ہے۔ ان کے ،،رہس ،،کے ڈرامائی تجربات نے امانت لکھنوی سے ،،اندر سبھا ،،جیسا ڈرامہ لکھوایا۔ امانت سے یہ سفر پارسی تھیٹر تک جاتا ہے۔ 

    امانت لکھنوی کے کردار ،،لال دیو اور سبز پری،،ایک عرصے تک علامت کے طور پر استعمال ہوتے رہے۔ 

    امانت لکھنوی کے بعد اُردو ڈرامہ آغا حشر کاشمیری کے پاس چلا گیا ۔ جن کو اُردو کا شیکسپیئر بھی کہا جا تا ہے۔ ان کے ڈرامے ،بے انتہا مقبول ہوئے جیسے صیدِ ہوس ، رستم و سہراب وغیرہ۔ ان کے مکالمے اپنی گھن گرج میں بے مثال ہوا کرتے تھے۔ 

    اُردو ڈراموں نے بہت کم عرصے میں اپنی ساکھ بنا لی تھی کیوں کہ خوش قسمتی سے اس زبان کو ادبی دنیا کے دیو قامت لوگ مل گےَ تھے۔ جیسے ،امتیاز علی تاج،کرشن چندر،منٹو، رفیع پیر ،اوپندر ناتھ اشک،غلام ربانی، پروفیسر مجیب اور بہت سے دوسرے۔ کمال احمد رضوی بھی ان میں شامل تھے۔ ان لوگوں نے نہ صرف طبع زاد ڈرامے لکھے بلکہ ماخوذبھی کیے۔ 

    اب ماڈرن تھیٹر کا دور آیا

    سماجی وسیاسی مسائل پر کمال کے ڈرامے لکھے گئے ۔ لکھنے والوں کی ایک توانا کھیپ سامنے آگئی۔ جیسے :پروفیسر حسن،غلام جیلانی برق ، جے این کوشل، شمیم حنفی، جمیل شیدائی، دانش اقبال، سعید عالم، شاہد انور وغیرہ۔ 

    ہندوستان میں سعید عالم اپنی طنزیہ اور مزاحیہ تحریروں سے پہچانے جاتے ہیں۔ دانش اقبال کا ڈرامہ دارا شکوہ اپنی مثال آپ ہے۔ دانش نے مشہور شاعر ”ساحر لدھیانوی ”کو بھی بہ طورِ کردار تھیٹر کیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے فیض صاحب کے ان خطوط کو بھی اسٹیج پر پیش کیا جو فیض صاحب نے جیل میں لکھے تھے۔ ممبئی کے اقبال نیازی نے اور کتنے جلیانوالا باغ ،،جیسا ڈرامہ لکھا ۔ 

    ہم مغرب کے ڈراموں سے ہوتے ہوےَ ہندوستان کی طرف آئیجہاں سے اُردو ڈراموں کی روایت ہمارے سامنے آئی۔ اب ہم پاکستان کی طرف دیکھتے ہیں۔ 

    پاکستان میں تھیٹر 

    پاکستان میں تھیٹر کی ابتدا پاکستان بنتے ہی ہو گئی تھی۔ 

    اس زمانے میں فرخ نگار اور ان کی بہنوں نے خواتین کے مسائل پر اسٹیج ڈرامے لکھے تھے۔ ابتدا میں سنجیدہ ڈرامے پیش کیے جاتے رہے، اس کے بعد ڈرامے کمرشل ہو گئے۔ 

    مقامی تھیٹر کو زندہ رکھنے کا کا م عمر شریف ،معین آختر ، امان اللہ اور ببو برال جیسے فنکاروں نے انجام دیا۔ یہ عام لوگوں کی دلچسپی اور تفریح طبع کے ایسے ڈرامے ہوا کرتے جن میں ہلکے پھلکے انداز میں سماجی مسائل کی نشان دہی کی جا تی۔

    ہمیں خواجہ معین الدین کو نہیں بھولنا چاہئے جن کے ڈرامے تعلیمِ بالغاں نے ایک دھوم مچا دی تھی۔ اس ڈرامے میں سماجی، سیاسی اور معاشرتی مسائل پر گہرے اور بھر پور طنز کےَ گےَ تھے۔ ان کے دیگر ڈرامے بھی قابلِ ذکر ہیں۔ جیسے لال قلعے سے لالو کھیت، مرزا غالب بندر روڈ پر وغیرہ۔ 

    پھر پاکستان میں سنجیدہ اور تخلیقی ڈراموں کا ایک دور آیا۔ بہت سے گروپس قائم ہوئے جنہوں نے بہترین تھیٹر پیش کئے ۔ ان کی مثال کے طور پر  ایکٹنگ وھیل، بلیک فش وغیرہ پیش کیے جا سکتے ہیں۔ 

    ایک اخبار کی طرف سے پاکستان میں پہلا مزاحیہ ڈراموں کا فیسٹیول بھی پیش کیا گیا، جس میں شائقین کو بہترین ڈرامے دیکھنے کو ملے۔

    سنجیدہ اور ماخوذ ڈراموں کا ایک سنہرا دور آیا، ذہین ترین لوگ اس میں شامل ہوتے گئے۔ ضیاء محی الدین،راحت کاظمی، حسن رضا، عثمان خالد بٹ اور انور مقصود، جنہوں نے پونے چودہ اگست، دھرنا اور سیاچن جیسے ڈرامے لکھے اور پیش کئے۔ اس بہاؤ میں بہت خوبصورت ڈرامے دیکھنے کو ملے۔ جیسے نظام سقہ، بیک ٹو دی فیوچر، کاؤنٹ ٹو دی مانٹی کرسٹو وغیرہ۔ 

     ڈراموں کی اقسام 

    اب ہم اسٹیج سے ہٹ کر ڈراموں کے دوسری اقسام کی طرف آتے ہیں۔ 

    ڈراموں کی چار اقسام ہیں۔ 

    ١۔ تحریری ڈرامے۔ ایسے ڈرامے جنہیں اسٹیج کرنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ ڈرامے صرف پڑھنے کے لئے ہوتے ہیں۔ 

    ٢۔ اسٹیج ڈرامے (ان پر ہم گفتگو کر چکے ہیں ) ۔

     ٣۔ ریڈیا ئی ڈرامے۔ ریڈیو پر پیش کےَ جانے ڈرامے جو صرف سنے جا سکتے ہیں۔

     ٤۔ ٹی وی کے ڈرامے ۔ جن سے ہر ایک واقف ہے۔ 

    ( ڈراموں کی پیشکش کا ایک اور طریقہ اسٹریٹ تھیٹر بھی ہے۔ اس میں کچھ لوگ کہیں بھی کھڑے ہو کر ڈائیلاگز بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان میں اسٹیج ،سیٹ یا پراپس کی ضرورت نہیں ہوتی ۔) 

    پاکستان میں ریڈیائی ڈرامے 

    ایک زمانہ تھا جب ٹی وی ابھی قائم نہیں ہوا تھا، تب ریڈیو کے ڈرامے بہت مقبول ہوا کرتے تھے۔ اسٹوڈیو نمبر نو میں پیش کےَ جانے ڈراموں کا بے چینی سے انتظار رہتا تھا۔ با کمال ادیبوں نے ریڈیو کے لےَ لکھنا شروع کیا۔ ان لکھاریوں میں اشفاق احمد، بانوقدسیہ، ریاض فرشوری، سلیم احمد صاحب، انتظار حسین وغیرہ شامل تھے۔ 

    ریڈیو کے ڈراموں کی تکنیک مختلف ہوا کرتی۔ ان میں مناظر کو جملوں کے ذریعے واضح کیا جاتا۔ ان ڈرامہ نگاروں نے، او ہنری،موپساں کو بھی اپنایا کیا اور وہ بھی اتنی خوبی کے ساتھ کہ ڈرامے اوریجنل معلوم ہوا کرتے۔ ریڈیو کے ڈراموں میں صوتی اثرات کا بڑا کمال ہوا کرتا تھا۔ 

    اس زمانے میں ریڈیو، فنکاروں کی تربیت کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ مکالمہ جات بولنے کی تربیت دی جاتی۔ ا س وقت پاکستان میں ہم جنہیں عظیم آرٹسٹ مانتے ہیں، ان کی تربیت ریڈیو ہی سے ہوئی ہے۔ ان ڈراموں میں اخلاقی اور اصلاحی پہلو کو خاص طور پر مدِّنظر رکھا جاناایسا کوئی ڈرامہ نشر نہ جا تا تھا جو معاشرتی اقدار کے خلاف ہو۔ 

    ریڈیو ڈرامہ نگاروں کے یہ صرف چند نام ہیں ورنہ تو اس زمانے میں ایک سے ایک نابغۂ روزگار شخصیت موجود تھی۔

    ٹی وی کے ڈرامے

    ٹی وی کے قائم ہوتے ہی ڈرامہ صنعت یک دم کئی جست طے کر گئی۔ اب لوگ صرف صوتی تاثرات پر گزارا نہیں کرتے تھے بلکہ مناظر کو آنکھوں سے دیکھ بھی سکتے تھے۔ مستند ادیبوں نے ٹی وی کے لئے ڈرامے لکھے۔ ان میں اشفاق حسین بانو قدسیہ، انتظار حسین، حسینہ معین، انور سجاد، یونس جاوید، مستنصر حسین تارڑ ،سلیم احمد، فاطمہ ثریا بجیا، کمال احمد رضوی جیسے بے مثال لکھاری شامل ہیں۔

    ابتدا کے ڈراموں میں چونکا دینے والے عناصر کم ہو تے تھے، بلکہ ایسی گھریلو کہانیاں پیش کی جاتیں جو زندگی سے وابستہ ہو تی تھیں۔ چونکہ اس زمانے میں زندگی بھی بہت ٹھہری ہوئی اور پُر سکون ہوا کرتی تھی ۔ اسی لئے ڈراموں میں بھی اس کا عکس دکھائی دیتا تھا۔ 

    گلیمر کی وبا نہ ہونے کے برابر تھی۔ ڈرامے زندگی کے قریب ترین ہوا کرتے تھے۔ سیدھے سادے سیٹ ہوتے تھے اور سیدھے سادے لباس لیکن اس سادگی سے قطع نظر فن کاروں کی پر فارمنس اپنی انتہا کو ہوتی تھی۔ 

    تعلیم و تربیت 

    اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم ڈراموں سے تعلیم و تربیت کا کام کیسے لے سکتے ہیں۔ ؟ 

     یہ ایک اہم سوال ہے۔ 

     اس کے کیٔ پہلو ہو سکتے ہیں۔ جیسے :

    ١۔ کہانی کا انتخاب۔ (ایسی کہانیاں جن میں ساس بہو کے جھگڑوں ، دوسری بیوی، بیوی کی موجودگی میں کسی اور سے عشق کا سلسلہ، تشدد، سوتن کی چالیں ،وغیرہ نہ ہوں یا کم ہوں۔ ذرا آج کے ڈراموں کے موضوعات پر نظر ڈالیں۔ ستر فی صد ڈراموں میں عورت غیروں سے عشق کرتی نظر آرہی ہے)( یہ کیا بکواس ہے؟ ستر فیصد ڈراموں میں مرد غیروں سے عشق کرتا نظر آ رہا ہے. کیوں نہیں لکھا جا سکا؟ کیونکہ سچ ہے؟) 

    اسی لئے کہانی کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے۔ 

    عمدہ اور شان دار الفاظ اور مکالمے دیکھنے والوں کی زبان و بیاں کو نکھار دیتے ہیں۔

    ٢۔مکالمے: یہ کسی بھی ڈرامے کا مضبوطی کے لحاظ سے بہت اہم عنصر ہے۔ موجودہ دور میں ایسے عامیانہ قسم کے جملے سننے کو ملتے ہیں کہ افسوس ہو نے لگتا ہے۔ خاص طور پر مزاح کے نام پر۔

    ٣۔ تلفظ اور زبان کی غلطیاں بہت ہوتی ہیں، ان کی درستی پر توجہ نہیں دی جاتی۔حالاںکہ ڈرامے تربیت کرنے ،سکھانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ 

    ان دنوں ہمارے ڈراموں میں ممبئی کے ٹپوریوں کی زبان استعمال کی جانے لگی ہے۔ کیا زیڈ اے بخاری،اسلم اظہر ،آغا ناصر جیسے لوگ ایسی زبان کو برداشت کر پاتے؟ 

    (ڈراموں پر ایک نظر ۔۔منظر امام ) 

  • Cutoffs کیسے بنائیں؟ ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

    Cutoffs کیسے بنائیں؟

    دلشاد نسیم

     

    دوستو! الف کتاب میں پچھلے ماہ ہم نے اپنے لکھاریوں کے ساتھ ون لائنر لکھنے کا طریقہ شیئر کیا تھا۔ ہر چند یہ کوئی بہت بڑی سائنس نہیں ہے مگر پھر بھی جیسے امتحانی پرچہ حل کرنے کے گُر ہوتے ہیں بس اسی طرح ڈرامہ لکھنے کے کچھ آداب ہوتے ہیں۔ جنہیں دھیان میں رکھ کر ڈرامہ لکھا جائے تو ڈرامہ لکھنا بہت آسان کام ہے۔ اسے ہم ڈرامہ نگاری کی تکنیک بھی کہتے ہیں اور یہی تکنیک کسی ڈرامے کو ناول، افسانہ اور ناولٹ سے مختلف بناتی ہے۔ ڈرامے یا سکرپٹ کے ون لائنز کے بارے میں آپ کو پچھلے شمارے میں بتایا گیا تھا اب باری ہے کہ کٹ آفس (cutoffs) کیسے بنائے جائیں؟

    کٹ آفس (cutoffs) جیسا کہ معنی سے ظاہر ہے ”ٹکڑوں میں بانٹنا۔” پہلے ہم اپنی پوری کہانی کو ٹکڑوں میں بانٹتے ہیں۔ اس کے لیے پہلے تو ہمیں یہ سوچنا ہے ہماری کہانی کتنی اقساط پر مشتمل ہے۔ بالفرض چھبیس اقساط کی سیریل ہے تو آپ ذہن میں رکھیں کہ پہلے ہم پانچ پانچ اقساط پر کام کریں گے۔ پہلی پانچ اقساط بہت اہم ہیں کیوں کہ کرداروں کا تعارف بھی انہی اقساط میں ہوتا ہے اور کہانی کی رفتار بھی پتا چلتی ہے۔

    جب آپ نے پہلی پانچ اقساط پر کام شروع کیا تب ہر قسط کی کہانی بنالیں کہ آپ اس میں کیا دکھانا چاہ رہے ہیں اور پھر ہر قسط کا فریز بھی۔ فریز قسط کے آخری سین کو کہتے ہیں۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ ایک ایسا مقام ہے، جو اگلی قسط کے لیے تجسّس چھوڑتا ہے۔

    اب آتے ہیں قسط کے کٹ آف کی طرف، ایک سیریل کی قسط 26سے 30 سین پر مشتمل ہوتی ہے اور ہر سین کی اپنی ایک کہانی ۔ کسی قسط میں غیرضروری بات یا غیر ضروری سین نہیں ہونا چاہئے۔ سین میں وہی بات بیان کی جاتی یا دکھائی جاتی ہے جس کا تعلق دوسرے سین سے پیوستہ ہو یا جس پر بعد میں باقاعدہ ایک سین لکھا جائے۔

    ہر سین کا دوسرا سین سے تعلق بہت ضروری ہے یوں سمجھ لیں سوپ یا سیریل کی ایک قسط ایک مالا ہے اور اس میں سین موتیوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مالا کو اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ ایک موتی بھی نکالنے کی گنجائش نہ ہو، ہر موتی کا دوسرے موتی سے ربط بہت ضروری ہے اور ہر قسط میں رائٹر جو کہنا چاہتا ہے دِکھانا چاہتا ہے وہ بتائے گا۔ مگر ڈرامائی عنصر باقی رہنا بہت ضروری ہے۔

    سین نمبر 1

    مقام: لوکیشن (سب لوکیشن)

    وقت: (دن، رات، صبح، شام)

    کردار: (سین میں موجود تمام کرداروں کے نام)

    (یہاں پر سین کی وضاحت ہو)

    یہ وہ طریقہ ہے جس کو دیکھ کر سین پوری وضاحت سے سامنے آجائے گا۔ اس طرح آپ تمام کے تمام چھبیس سین لکھ کر رکھ لیں۔ سین لکھنے کے بعد فریز لکھیں تاکہ یہ پتا چل سکے کہ قسط اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے۔

     

    Cut