ترجیح – صبا سید– افسانچہ

چشمہ – انعم سجیل – افسانچہ

Written by

in

ترجیح

صبا سید



”باجی! تھوڑی مدد کر دےں۔ بچے کو بکھار (بخار) ہے دوائی کے پیسے نہیں۔“

”جاﺅ بھئی معاف۔۔۔۔۔“ میرے جملے کے اختتام سے پہلے ہی سمیعہ نے جھٹ پچاس کا نوٹ اسے پکڑا دیا۔

”خواہ مخواہ پیسے دیے، ڈرامے ہیں ان کے صرف۔ میں یہاں ہر ہفتے آتی ہوں، اس کے بچے کو ہمیشہ بخار ہوتا ہے؟“ میں نے اسے بتایا۔

”اور تم تو سوشل ورک کرتی ہو، تم تو ان لوگوں کو بہتر جانتی ہوگی۔تم کیسے بے وقوف بن سکتی ہو ایسے لوگوں کے ہاتھوں؟“ مجھے حقیقتاً اس کی بے وقوفی پر حیرانی ہوئی تھی۔

”ہاں جانتی ہوں، مجھے معلوم ہے یہ سب ڈرامہ ہے۔۔۔“اس نے آہستہ سے کہا۔

”مگر میں بے حس ہونے سے زیادہ بے وقوف ہونے کو ترجیح دیتی ہوں۔“



شیئر کریں

Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے