Day: فروری 1، 2024

  • جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے (عالمی افسانہ)

    جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے (عالمی افسانہ)

    چند برس قبل برانیزا میں ایک کٹریہودی رہتا تھا۔ وہ اپنی دانائی، خوفِ خدا اور عقل مندی کے باوجود اپنی حسین بیوی کی وجہ سے زیادہ مشہور تھا۔ اُس کی بیوی پورے برانیزا میں حسن کی دیوی کے نام سے معروف تھی اور کیوں نہ ہوتی وہ اپنے حسنِ بے مثال کی وجہ سے اس لقب کی جائز حق دار تو تھی ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ اُس کی شہرت کی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ ایک ایسے شخص کی بیوی تھی جو یہودی مذہب کے قوانین و ضوابط (تلمود) کا ماہر ہونے کے باوجود اُس ملکہ حسن کا شوہر تھا حالاںکہ ضابطے کے مطابق یہودی فلسفیوں کی بیویاں یا تو بدصورت ہوا کرتی ہیں یا اُن میں کوئی نہ کوئی جسمانی نقص ضرور ہوتا ہے۔
    یہودی قوانین کی کتاب ’’تَلمْود‘‘ ازدواجی پہلوئے زندگی کی کچھ اس طرح سے وضاحت کرتی ہے:
    ’’یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں اور کسی بھی لڑکی یا لڑکے کی پیدائش پر کاتب تقدیر، اُس کے مستقبل کے جیون ساتھی کے نام کا اعلان کر دیتا ہے، لیکن جس طرح ایک اچھا باپ اپنی استعمال کی اچھی چیزیں گھر سے باہر لوگوں کے لیے چھوڑ دیتا ہے اور اپنے اور اپنے بچوں کے لیے خراب چیزیں استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح خداوند تَلمْودی یہودیوں کو ایسی بیویاں عنایت فرماتا جنہیں اور لوگ لینا ہی پسند نہیں کرتے۔‘‘
    بہ ہر کیف ہمارے والے تلمودی کو خداوند نے اِس ضابطے سے مستثنیٰ کر دیا تھا اور اُسے ملکہ حسن سے نواز دیا تھا اور وہ شاید اس استثنا کے ذریعے اپنے اِس ضابطے کو ذرا نرم کر کے اُسے ثابت کرنا چاہتا تھا۔
    اس فلسفی کی بیوی کو یا تو کسی بادشاہ کی ملکہ بن کر اُس کی عزت افزائی کرنی چاہیے تھی یا کسی آرٹ گیلری میں ایک خوب صورت مورتی کی جگہ رونق افروز ہوتی، تو خوب ہوتا۔ خاتون کا قد لانبا تھا اور اُس کا جسم حیران کن حد تک لذتِ نظارہ سے چور تھا۔ اس کے جسم کی مدور اٹھانیں اور منور ڈھلانیں نگاہوں کو خیرہ کر دینے والی تھیں۔ اُس کا چہرہ اِس قدر خوب صورت تھا کہ دیکھنے والا چونک اٹھتا تھا۔ عشرت فشار جسم کے اوپر فسوں بار چہرہ اور چہرے کے گرد گہری سیاہ متوالی لٹوں کا گھیرا جو اُس کے مغرور شانوں تک پھیلا ہوا تھا۔ طویل بھنوئوں سے نیچے ضوریز اور تھکی ہوئی نیم باز بڑی بڑی آنکھیں بادئہ کہنہ سے کہیں زیادہ اثر انگیز تھیں اور ہائے اُس کے ہاتھ! یقینا یہ ہاتھ، ہاتھی دانت سے بنائے گئے ہوں گے۔

    اُسے دیکھ کر ایسے محسوس ہوتا تھا کہ جیسے فطرت نے اُسے حکم رانی کرنے کے لیے خلق کیا ہو۔ وہ اس لیے پیدا کی گئی ہو تاکہ اپنے قدموں میں غلاموں کی قطاریں دیکھے، اُس کا حسن مصور کے مو قلم کا ذریعہ آمدن بنے، مجسمہ ساز اپنا فن اِن نقوش پر آزمائے اور شاعر کے قلم کو موضوع میسر آ سکے، مگر یہ حسینہ کسی سندر اور نادر پھول کے مانند ایک نیم گرم گھر کی زینت بنی ہوئی تھی۔ وہ روزانہ قیمتی فر میں لپٹی ہوئی بیٹھی رہتی اور نیچے بازار میں اپنی خواب ناک نگاہوں کو دوڑاتی رہتی۔
    اُس کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی جب کہ اُس کا شوہر فلسفہ یہود کا عالم ہونے کے ناتے یا تو مطالعے میں غرق رہتا تھا یا عبادت میں اور عبادت سے فراغت کے بعد وہ دوبارہ مطالعہ شروع کر دیتا تھا۔ اُس شخص کا یہ معمول صبحِ صادق سے لے کر رات گئے پر محیط تھا۔
    ایسی صورتِ حال میں اُس کی بیوی کو ’’حُسنِ پردہ نشین‘‘ ہی کہا جاتا تھا چوںکہ وہ امیرزادی تھی اِس لیے اُسے گھر گرہستی کی کوئی فکر نہیں تھی اور گھر کی ہر چیز ایک لگے بندھے راستے پر بڑی آسانی سے رواں دواں تھی۔ یہ معمول ایک ایسے کلاک کی طرح چل رہا تھا۔ جسے ہفتے میں ایک بار چابی دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اُسے کوئی بھی ملنے نہیں آتا تھا اور وہ بھی کسی سے ملنے کبھی نہیں جاتی تھی۔ وہ تو بس بیٹھتی تھی، لیٹتی تھی، خواب دیکھتی تھی یا جمائیاں لیتی رہتی تھی۔
    پھر ایک روز موسم کے تیور خطرناک ہو گئے۔ بادلوں کی دہلا دینے والی گھن گرج اور کڑکتی ہوئی بجلیوں نے اپنا تمام تر غیظ و غضب اْس قصبے پر اُتار ڈالا تھا۔ اُس موسم میں اُس کے گھر کی تمام کھڑکیاں اور دروازے مکمل طور پر کھلے رکھے گئے تاکہ مسیحا اُس کے گھر میں تشریف لا سکیں۔ (ایسے موسم میں یہودی اپنے دروازے کھول دیتے ہیں کیوںکہ اُن کے مطابق مسیحا اِسی موسم میں اُن کے گھر آئیں گے۔) اُس وقت یہودی ملکہ حسن اپنی آرام کرسی میں نیم درازتھی اور اُونی لباس پہننے کے باوجود کپکپا رہی اور سوچ رہی تھی۔ اچانک اُس نے اپنی روشن آنکھیں اپنے شوہر پر مرتکز کر دیں جو تلمود کے مطالعے میں آگے پیچھے ہل رہا تھا۔ اُس نے اپنے شوہر سے استفسار کیا:
    ’’ذرا یہ تو بتائو۔ ہمارے مسیحا پسرِدائود کب تشریف لائیں گے؟‘‘
    فلسفی نے جواب دیا:
    ’’وہ ضرور تشریف لائیں گے، تلمود کے مطابق وہ اُس وقت آئیں گے جب یا تو یہودی مکمل طور پر نیک ہو جائیں گے یا مکمل طور پر گناہ گار ہو چکے ہوں گے۔‘‘
    ملکہ حسن نے اپنی گفت گو جاری رکھتے ہوئے پوچھا:
    ’’کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہودی کبھی مکمل طور پر نیک بھی بن جائیں گے؟‘‘
    ’’میں یہ کیسے جان سکتا ہوں؟‘‘
    ’’تو اس کا مطلب تو یہ ہوا نا کہ مسیحا اُس وقت آئیں گے جب تمام تر بنی اسرائیل گناہوں کی دلدل میں دھنس چکے ہوں گے؟‘‘
    فلسفی نے اپنے کندھے اُچکائے اور ایک ایسی کتاب کی بھول بھلیوں میں دوبارہ غرق ہو گیا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ صرف ایک آدمی اپنے ہوش و حواس کے ساتھ بعد از مطالعہ زندہ رہا تھا۔
    اِس گفت گو کے بعد اُس خوب صورت عورت نے دوبارہ کھڑکی سے برستی ہوئی تیز بارش کو خواب ناک نگاہوں سے دیکھا اور اِس دوران اُس کی دُودھیا انگلیاں لاشعوری طور پر اپنے شان دار فرکے چغے کے ساتھ کھیلتی رہیں۔
    ٭…٭…٭
    ایک روز یہودی فلسفی قریبی قصبے کی جانب گیا ہوا تھا جہاں ایک اہم مذہبی رسم کا فیصلہ درپیش تھا۔ اپنے کمالِعلمی کی بہ دولت اس نے وہ دینی مسئلہ اپنی توقع سے بھی بہت پہلے حل کر لیا اور لوگوں کو اپنے ذہنِ رسا سے فیض پہنچا دیا۔ شیڈول کے مطابق اُس نے اگلے روز گھر لوٹنا تھا، مگر اپنے ایک اہم مشرب فلسفی دوست کے ساتھ اُسی شام کو واپس گھر پہنچ گیا۔ اپنے دوست کے گھر کے باہر ہی وہ بگّھی سے اُتر گیا اور گھر کی جانب پیدل چل پڑا۔
    جب وہ گھر کے سامنے پہنچا، تو ساری کھڑکیاں روشن تھیں اور ایک افسر کا نوکر اُس کے گھر کے سامنے بڑے مزے سے پائپ پی رہا تھا۔ اُسے ذرا بھی حیرت نہ ہوئی بل کہ اُس نے بڑے دوستانہ اور مشتاق لہجے میں اُس سے پوچھا:
    ’’تم یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘
    نوکر نے جواب دیا۔
    ’’بھئی! میں یہاں پر پہرہ دے رہا ہوں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس حسین یہودن کا شوہر غیر متوقع طور پر آ جائے۔‘‘
    ’’واقعی؟ اچھا، ٹھیک ٹھیک پہرہ دینا۔‘‘
    یہ کہتے ہی اُس نے چلے جانے کی اداکاری کی اور گھر کے پیچھے سے باغ والے دروازے سے ہوتا ہوا اندر داخل ہو گیا۔
    جب وہ پہلے کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ اُس کمرے میں دو افراد کے لیے ایک میز بچھائی گئی تھی۔ ایسے لگتا تھا جیسے یہ میز ابھی ابھی خالی کی گئی ہے۔ اُس کی بیوی حسب معمول خواب گاہ کی کھڑکی میں بیٹھی ہوئی تھی، اُسی طرح فرکے کوٹ میں لپٹی ہوئی، لیکن اُس کے رُخسار مشکوک حد تک سرخ تھے اور اُس کی جھیل سی آنکھوں میں پہلے والی اُداسی نہیں تھی بل کہ اُس وقت وہ آنکھیں طمانیت سے بھرپور اور تمسخر سے روشن ہو کر اپنے شوہر پر ٹکی ہوئی تھیں۔ عین اُسی لمحے اُس کاپائوں فرش پر پڑی ہوئی کسی چیز سے ٹکرا گیا اور ایک عجیب سی آواز پیدا ہوئی۔ اْس نے اْسے اٹھایا اور روشنی میں غور سے دیکھنے لگ گیا۔ یہ تو گھڑ سواروں کے جوتوں پر لگنے والے نوک دار کیلوں(مہمیز) کا جوڑا تھا۔
    ’’ابھی ابھی تمہارے ساتھ کون تھا؟‘‘
    یہودی نے پوچھا۔
    یہودیوں کی ملکہ حسن نے نفرت سے اپنے کندھے جھٹکے، مگر کوئی جواب نہ دیا۔
    ’’کیا میں تمہیں بتائوں؟ فوج کا کپتان تمہارے ساتھ تھا۔‘‘
    یہودی نے غصے سے کہا۔
    ’’اور وہ میرے ساتھ یہاں کیوںکر نہ ہوتا؟‘‘
    اْس عورت نے اپنے فرکوٹ کو اپنی سپید انگلیوں سے سہلاتے ہوئے جواب دیا۔
    ’’اے عورت! کیا تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے؟‘‘
    ’’میں اپنے تمام تر ہوش و حواس میں ہوں۔‘‘
    عورت نے جواب دیا اور اُس کے پُرتعیش اور رسیلے ہونٹوں پر مانوس سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ کہنے لگی:
    ’’لیکن کیا مجھ پر یہ واجب نہیں ہے کہ میں بھی گناہ کر کے اپنے حصے کا فرض ادا کروں تاکہ مسیحا جلد از جلد تشریف لائیں اور ہم غریب یہودیوں کو نجات دلائیں۔‘‘
    ٭…٭…٭

  • گونگا ۔۔۔ اسماء ریحان

    گونگا ۔۔۔ اسماء ریحان

    لوگوںکا ایک چھوٹا سا گروہ قبرستان میں جمع تھا۔ کچھ لوگ تدفین میں مصروف تھے اور باقی ٹکڑیوں میں بٹے اِدھر اُدھر قبروں پر بیٹھے گپیں ہانک رہے تھے۔ کچھ ہی دیر میں لوگ تدفین سے فارغ ہو کر اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے اور قبرستان پھر سے ویران نظر آنے لگا۔وہ اپنے گھر کے وسیع احاطے میں کھڑی بوجھل دل کے ساتھ یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی۔
    کچھ ہی دیر میں گھر کے بیرونی دروازے پر دستک ہوئی تو وہ جلدی سے دروازہ کھولنے لپکی۔ باہر اس کا چھوٹا بھائی کھڑا تھا جو جنازے میں شرکت کے لیے گیا تھا۔ اس کی عمر 10سال سے زائد نہ تھی، مگر وہ بھی اس جوان موت پر خاصا افسردہ نظر آ رہا تھا۔ پھر مرنے والا کوئی اور نہیں اس کانہایت قریبی پڑوسی تھا جو اس کے خاندان کے بچوں کے ہمراہ کھیل کر جوان ہوا تھا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی وہ نہایت دکھی دل کے ساتھ تفصیلات بتانے لگا۔ ـ ـ’’باجی گونگے بے چارے کو توکفن بھی پورا نہیں ملا۔ سر ڈھانپتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور پاؤں ڈھانپنے کی کوشش کرتے تو سر ننگا ہو رہا تھا۔ بالآخر اسی طرح اسے سپردِ خاک کر دیا گیا۔ تدفین کا مرحلہ آیا، تو قبر پر رکھنے کے لیے نہ سیمنٹ کی سلیب دستیاب تھیں اور نہ ہی لکڑی کے تختے۔ لہٰذا قریب پڑی خار دار جھاڑیوں سے کام چلایا گیا۔ افسوس، زندگی تو انتہائی غربت میں بسر ہوئی ہی تھی، مگر مرتے وقت آخری رسومات بھی ٹھیک سے ادا نہ ہو سکیں۔‘‘
    گونگا ان کے پڑوسی اللہ دتہ کا بڑا بیٹا تھا۔ اللہ دتہ کے حالات کچھ اچھے نہ تھے۔ وراثت میں ملے زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر کھیتی باڑی کر کے گزربسر کرتا تھا ۔ جن دنوں زمین پر کام زیادہ نہ ہوتا وہ شہر جا کر محنت مزدوری کرتا اور بچوں کا پیٹ پالنے کی کوشش کرتا۔ ابتدا ہی سے اس کا مزاج کچھ ایسا تھا کہ کبھی کسی سے دوستانہ روابط نہ بنا سکا۔ اسی غیر سماجی رویے کی وجہ سے اُس کی شادی بھی دور دراز کے ایک غریب رشتہ دار کی گونگی بیٹی سے ہوئی اور یوں وہ خاموش سے خاموش تر ہوتا چلا گیا۔
    اسے نہیں یاد تھا کہ اس نے کبھی اللہ دتہ کو اپنے بال بچوں، محلے داروں یا دوستوں کے ہمراہ ہنستے کھیلتے یا محض بات چیت ہی کرتے دیکھا ہو۔
    گونگی کافی سمجھ دار واقع ہوئی تھی۔ وہ اپنا گھر بار اچھے سے سنبھالتی اور اڑوس پڑوس والوں اور اپنے سسرالی رشتہ داروں سے ممکنہ حد تک تعلقات ٹھیک رکھنے کی کوشش کرتی۔ اللہ نے چھے بچے بھی دے دیے جن میں سے بڑے تینوں ماں کی طرح قوت سماعت و گویائی سے محروم تھے، مگر چھوٹے تینوں بچے نارمل تھے۔ گھر کی غربت اور حالات کو بہتر بنانے کے حوالے سے شوہر کی تھوڑی کمائی کے باوجود وہ گزر بسر کر رہی تھی۔
    وقت یونہی گزر رہا اور دیکھتے ہی دیکھتے اللہ دتہ کا بڑا بیٹا جسے تمام گاؤں والے گونگا کے نام سے جانتے تھے باپ کے ساتھ مویشیوں کی دیکھ بھال کرنے اور کھیتی باڑی میں اس کا ہاتھ بٹانے کے قابل ہو گیا۔ عمر کے لحاظ سے تو وہ ابھی11 یا 12 سال کا ہی تھا، مگر قدرت نے اسے کچھ خصوصی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ وہ نہایت کم عمری ہی سے مویشیوں کی دیکھ بھال میں باپ کا ہاتھ بٹانے لگا تھا، مگر اب تو اس نے اس کی تمام تر ذمہ داری سنبھال لی۔ فصل کی کاشت اور سمیٹنے سے متعلق بڑے کاموں کے علاوہ وہ تقریباً تمام کام خود کرنے لگا۔ یہی نہیں بلکہ قریبی کسانوں کی زمینوں پر ان کے کام کاج میں ہاتھ بٹا کر کچھ پیسے جمع کیے اور ایک گدھا بھی خرید لیا جس کی مدد سے وہ گھاس لانے اور لے جانے سے لے کر وزن ڈھونے جیسے کام بھی کرنے لگا۔

    اللہ دتہ اس بدلی ہوئی صورت حال سے خوش تھا اور اسی لیے مویشی اور زمینوں کا کام کاج بیٹے کے سپرد کرکے اکثر مزدوری کے لیے شہر چلا جاتا۔ آس پاس کے لوگ بھی اس صورت حال پر خوش اور حیران نظر آتے تھے کہ جس عمر میں ان کے بچے اسکول میں پڑھ رہے تھے، اسی عمر میں ایک غریب کا ننھا بچہ گھر کی ذمہ داریوں کو بہ خوبی سرانجام دینے میں اپنے والدین کا ہاتھ بٹا رہا تھا اور اس میں کسی حد تک کامیاب بھی تھا۔ وہ دوسروں سے مل جل کر اپنا کام نکلوانا اور تھوڑا بہت کام حاصل کرنا جانتا تھا۔ لوگ اسے دیکھ کر کہتے کہ مزید ایک دو سال میں گونگا گھر کے حالات بدل دے گا۔
    پھر ایک روز سانحہ ہو گیا جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔
    گاؤں سے کچھ فاصلے پر ریلوے لائن تھی اور گاؤں کے اکثر لوگوں کی زمینیں اسی ریلوے لائن کے دونوں اطراف تھیں۔ لاہور سے آنے والی ریل گاڑی گلا پھاڑ پھاڑ کر کئی ہارن دینے کے بعد اچانک سے رکی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کے گرد لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ دیکھنے والے حیران و پریشان یہ منظر دیکھ رہے تھے کہ کچھ ہی دیر میں گاؤں میں یہ اطلاع پہنچی کہ گونگا ریل کی زد میں آ گیا ہے۔ سب حیران تھے کہ یہ اچانک کیسے ہو گیا۔ وہ ہمیشہ سے ان زمینوں پر کام کرتا آیا تھا اور ریل بھی ہر روز وہاں سے گزرتی تھی، مگر پہلے تو ایسا کوئی حادثہ نہ ہوا تھا، ماسوائے ان گنے چنے مواقع کے جب قریبی دیہات یا شہر میں سے کسی نے ریل کے سامنے کود کے خود کشی کی کوشش کی۔
    سب کے دل دہل گئے۔ ایک غریب کا نوجوان بیٹا ریل کی زد میں آ گیا تھا۔
    شام تک اطلاع ملی کہ گونگے کی جان تو بچ گئی مگر اس کی بائیں ٹانگ بری طرح زخمی ہوئی تھی، اتنی کہ ہڈی بالکل ننگی ہو گئی اور اس پر سے سارا گوشت ریل کے پہیوں میں آ کر کچلا گیا تھا۔ عینی شاہدین بتا رہے تھے کہ گونگا اپنے کھیت میں کام کر رہا تھا کہ اچانک ریل کے ہارن پر اس کا گدھا بدک کر بھاگا اور ریل کی پٹڑی پر چڑھ گیا۔ گونگا جس نے یہ گدھا اپنے خون پسینے کی کمائی سے خریدا تھااسے بچانے کے لیے اس کے پیچھے بھاگنے لگا۔ ریل گاڑی کا ڈرائیور صورت حال سے پریشان ہو کر ہارن پر ہارن دے رہا تھا، مگر گونگا اس بات سے بے خبر بھاگے چلا جا رہا تھا۔ ڈرائیور نے بریک لگانے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر تیز رفتار ٹرین کا اتنی جلدی رکنا ممکن نہ تھا اور یوںگونگا ریل کی زد میں آ کر زخمی ہو گیا۔ آس پاس کے کھیتوں میں موجود لوگ اسے اٹھا کرسرکاری اسپتال لے گئے جہاں کچھ روز رہنے کے بعد اس کے باقی زخم تو ٹھیک ہو گئے مگر ٹانگ کا زخم مندمل ہونے کا نام نہ لے رہا تھا۔
    ابتدا میں گاؤں کے کچھ متمول افراد نے گونگے کے علاج کے سلسلے میں تھوڑی بہت مالی امداد کی مگر پھر سب اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہو گئے۔ اللہ دتہ کے گھر کے حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئے۔ اچھی اور صحت بخش خوراک تو کجا، ادویات تک کے لیے پیسے نہ تھے۔ گونگی اسپتال میں چکر کاٹنے کے قابل نہ تھی اوراللہ دتہ بیٹے کی دیکھ بھال کرتا یا باقی بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے مزدوری کرتا۔بالآخر ایک روز اسپتال انتظامیہ نے یہ کہہ کر گونگے کو گھر بھیج دیا کہ زخم کو مکھیوں سے بچائیں اور ٹنکچر لگاتے رہیں، خود ہی ٹھیک ہو جائے گا۔
    گونگے کے گھر آنے کی اطلاع ملتے ہی وہ بھی اپنی دادی کے ہمراہ اسے دیکھنے گئی۔ چوں کہ وہ اسپتال میں پڑا پڑا کافی اداس اور کمزور ہو چکا تھا چناں چہ اللہ دتہ کی بیوی نے اسے گھر کے سامنے گندے پانی کے جوہڑ کے کنارے چارپائی ڈال کر اس پر لٹایا ہوا تھا۔ وہ انتہائی کمزور نظر آ رہا تھا گویاکہ ہڈیوں کا ڈھانچہ پڑا ہو۔
    کچھ ہی روز گزرے تھے کہ اس کے بھائی نے بتایا کہ گونگے کی ٹانگ کے زخم میں سنڈیاں پڑ گئی ہیں۔ سارا دن جوہڑ کے کنارے پڑے رہنے سے زخم پر مکھیاں بیٹھتی تھیں جس کے نتیجے میں سنڈیاں پڑ گئیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ خبر پورے گاؤں میں پھیل گئی۔ جس تک بھی یہ اطلاع پہنچتی وہ انتہائی افسوس کا اظہار کرتا ہوا گونگے کے گھر کا رخ کرتا، زخم کو مختلف زاویوں سے دیکھ کر خبر کی تائید کی کوشش کرتا اور اظہار افسوس کر کے واپس چلا آتا۔ وہ بھی اپنی دادی کے ہمراہ ایک بار پھر گونگے کو دیکھنے گئی ۔ وہ پہلے سے بھی زیادہ کمزور ہو چکا اور انتہائی تکلیف میں نظر آ رہا تھا۔ درد و تکلیف کے مارے وہ منہ سے عجیب و غریب آوازیں نکال رہا تھا اور اس کی ماں نہایت افسردہ اس کے قریب بیٹھی ہاتھ کے پنکھے سے اسے ہوا دے رہی تھی۔
    وہ حیران و پریشان کھڑی سوچ رہی تھی کہ کیا یہ وہی گونگا تھا جو بچپن سے ہی انتہائی چست و چالاک اور ہوشیار واقع ہوا تھا۔ بولنے کی صلاحیت نہ ہونے کے باوجود وہ نہ صرف سب کی بات سمجھ جاتا بلکہ ہر کسی کو نہایت اچھے طریقے سے اپنی بات سمجھانا بھی جانتا تھا۔ مزاج کا اکھڑ ہونے کی وجہ سے وہ اڑوس پڑوس کے دوسرے بچوں میں گھُل مل نہیں سکا تھا، مگر بہ وقت ضرورت اپنی بات منوانے کے فن سے آشنا تھا۔ گاؤں کے لوگ اسے دیکھ کر کہا کرتے تھے کہ وہ عنقریب اللہ دتہ کے گھر کے حالات بدل دے گا، مگر کسے خبر تھی کہ وہ ایک دن کسمپرسی کی حالت میں بستر پر پڑا ہو گا کہ اپنی مرضی سے ہِل بھی نہ پاسکے گا۔ وہ دکھی دل اور بوجھل قدموں کے ساتھ گھر آ گئی اور دل ہی دل میں سوچتی رہی کہ کیا پورے گاؤں میں کوئی ایک بھی فرد ایسا نہیں ہے جو ایک غریب کے نوجوان بچے کے علاج میں مدد کر سکے۔
    کچھ ہی دن گزرے تھے کہ مسجد کے اسپیکر سے مولوی صاحب نے گونگے کی موت کی اطلاع دی اور یوں اس کی زندگی اور علاج سے متعلق تمام امیدیں دم توڑ گئیں۔
    کفن دفن کا مرحلہ آیا، تو اللہ دتہ خاموشی سے جا کر جیب میں موجود روپوں سے کفن خرید لایا جو نہ ٹھیک سے اس کا سر ڈھانپ سکا اور نہ پاؤں۔ قبر کی باری آئی تو سلیب یا لکڑی کے تختوں کی جگہ سوکھی جھاڑیوں سے کام چلایا گیا۔ خدا جانے اس روز اللہ دتہ اور اس کی بیوی کے دل پر کیا گزری ہو گی، بہرحال کوئی بھی اس خبر کو سننے کے بعد دکھی ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔
    اگلے روز وہ اپنے بہن بھائیوں کے ہمراہ اسکول جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا تو سامنے گونگے کی ماں کھڑی تھی۔ ہاتھوں میں دو پیالے پکڑ رکھے تھے جن میں چنے اور مکھانے تھے ۔ گونگی نے ایک پیالہ اس کی جانب بڑھا دیا ۔ وہ حیران تھی کہ گونگی گھر گھر جا کر یہ چنے اور مکھانے کیوں بانٹ رہی ہے۔ ابھی کل ہی تو اس کا جوان بیٹا فوت ہوا تھا۔ اس کی والدہ اور دادی نے آگے بڑھ کر گونگی کوگلے سے لگایا اور پاس بٹھا لیا۔ کچھ دیر دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے بعد گونگی خاموش ہوگئی۔ پھر عجیب و غریب درد سے اٹی آوازوں اور اشاروں کی مدد سے سمجھانے لگی کہ گاؤں کے رواج کے مطابق وہ گونگے کے قلوں کے لیے قرض اٹھا کر چنے اور مکھانے خرید کر لائے تھے، مگر گاؤں سے کوئی بھی قلوں میں شرکت کے لیے ان کے ہاں نہیں آیا، اس لیے وہ یہ چیزیں گھر گھر جا کر بانٹ رہی ہے۔
    گونگی کی یہ بات سن کر اس کا کلیجا پھٹ کر رہ گیا۔ کیا کسی غریب کی زندگی اتنی بے وقعت بھی ہو سکتی تھی۔
    ان کا گاؤں روایتی طرز کے غیر ترقی یافتہ دیہات سے کافی مختلف تھا۔ زیادہ تر لوگ تعلیم یافتہ تھے اور اکثر گھروں کے مرد روزگار کے سلسلے میں خلیجی ممالک میں مقیم تھے اور معقول سرمایہ گھروں میں بھیج رہے تھے۔ شاذ و نادر کہیں کسی گھر کی کوئی دیوار کچی نظر آتی وگرنہ سب کھاتے پیتے تھے۔ تعلیم کے حوالے سے بھی حالات کافی خوش آئند تھے۔ گاؤں میں لڑکیوں اور لڑکوں کے علیحدہ علیحدہ مڈل اسکول تھے جہاں تربیت یافتہ اساتذہ موجود تھے۔ مسجد کے مولوی صاحب امامت کے ساتھ ساتھ صبح اسکول میں دینیات کی تعلیم بھی دیتے تھے۔
    خود اس کے اپنے تینوں چچا بیرون ملک مقیم تھے اور اسی لیے گھر کے حالات بہت اچھے تھے۔ اسے حیرت تھی ایسے خوشحال اور مالی طور پر مستحکم لوگوں سے بھرپور گاؤں جس میں اس کے اپنے گھر والے بھی شامل تھے، کسی کو بھی گونگے کی جان بچانے کے لیے اس کے علاج کا خیال کیوں نہ آیا۔ بوڑھے منشی صاحب مسجد و مدرسہ کا انتظام نہایت خوش اسلوبی سے سنبھالتے تھے۔ قبرستان کی زمین اور دوسرے متعلقہ امور میں بھی ان کی بات حرف آخر ہوا کرتی تھی۔ گاؤں کے دیگر اختلافی امور میں بھی ان کے مشوروں کو اہمیت دی جاتی۔ گھر بار اور زمینوں کی تمام ذمہ داریوں کو بیٹوں پر ڈال کر اب انہوں نے اپنی تمام تر توجہ گاؤں کے دیگر معاملات پر مرکوز کر رکھی تھی، مگر انہیں بھی تو گونگے کی علاج کی ذمہ داری اٹھانے یا دوسروں کو اس پر آمادہ کرنے کا خیال نہ آیا۔
    باقی سب تو دُور، اس کے اپنے والد اور چچا، جو لوگوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر خیرات دیتے ، ان میں سے بھی کسی کو گونگے کی زندگی بچانے کا خیال کبھی نہ آیا۔ غرض گاؤں والوں کی بے حسی کی وجہ سے ایک غریب کا ہونہار بچہ تڑپ تڑپ کر دنیا سے رخصت ہو گیا۔
    آج اس واقعہ کو 20 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر وہ آج بھی اس واقعہ کو فراموش نہیں کر پائی۔
    کیا فائدہ اس تعلیم، شعور اور آگاہی کا، بیش بہا دولت اور دنیاوی اثر و رسوخ کا؟ کہ پڑوس میں ایک غریب کا نوجوان بیٹا بستر پر پاؤں رگڑ رگڑ کر مر جائے اور کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگے۔
    ٭…٭…٭