Tag: urdu stories

  • شامو اور بابو | رِدا سلیم

    شامو اور بابو | رِدا سلیم

    شامو اور بابو
    رِدا سلیم

    علی پور کے گاؤں میں دو گھوڑے شامو اور بابو رہتے تھے۔ بابو صحت اور جسامت میں خوب تھا جب کہ شامو بے چارا دبلا پتلا۔ ان دونوں کی آپس میں بہت دوستی تھی۔ ایک دن بابو نے شامو سے کہا:
    ”شامو! تم تو ایک عام نسل کے گھوڑے ہو جب کہ میں خوب صورت اور طاقت ور ہوں۔ میرے چارے میں طرح طرح کے میوے ہوتے ہیں اور تمہاری خوراک صرف گھاس پھوس ہی ہوتی ہے۔ میری ٹانگیں مضبوط اور میرے کُھر مہارت سے کٹے ہوئے ہیں جب کہ تمہارے پاؤں تو مٹی گارے سے لتھڑے رہتے ہیں۔ تم نے میری گردن دیکھی ہے نا! خوب صورت اور ملائم، جب کہ تمہاری گردن بھدی اور کھردری ہے۔ میری کھال ریشم کی طرح چمکتی ہے اور تمہاری پسینے میں شرابور، اب بتاؤ ہم میں کون زیادہ خوب صورت ہے؟” اس بات پر شامو کو سخت غصہ آگیا۔ وہ کہنے لگا: ”بابو! اگر یہی بات ہے تو ہم دوڑ لگا لیتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کون آگے نکلتا ہے۔”
    چناں چہ وہ دونوں اُسی وقت مقابلے کے لیے تیار ہوگئے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ دونوں میدان میں چکر لگائیں گے اور تب تک نہیں رکیں گے جب تک کوئی ایک اپنی ہار تسلیم نہیں کرلیتا۔”
    دونوں نے ایک ساتھ دوڑنا شروع کیا۔ بابو ذرا گردن اکڑا کر دوڑ رہا تھا۔ وہ پہلے تین چار چکر شامو سے آگے رہا لیکن جلد ہی اس کی ہمت جواب دینے لگی۔ شامو نے بابو سے پوچھا ”کیوں بھئی! تھک گئے؟”
    ”ارے! میں تھکا نہیں، بس میرے پاؤں میں ذرا موچ آگئی ہے۔” بابو نے جھوٹ بولا۔
    اگلے چکر کے دوران شامو دوڑتا ہوا بابو سے کافی آگے نکل گیا۔
    ”میرے دوست! کیا تم تھک گئے ہو؟” شامو نے پوچھا۔
    ”نہیں، مجھے کُچھ یاد آگیا۔” بابو کی سانس اُکھڑی ہوئی تھی لیکن وہ مسلسل جھوٹ بول رہا تھا پھر اچانک وہ رک گیا اور زمین پر لیٹ گیا۔
    اِدھر شامو دسواں چکر لگانے گیا تو اُدھر بابو چپکے سے لنگڑاتا ہوا قریبی جھاڑیوں کے پیچھے جاکر گھاس چرنے لگا۔ وہ شامو سے کترا رہا تھا۔ اچانک اس نے آواز لگائی: ”شامو! تم تھوڑی دیر کے لیے آرام کرلو۔”
    ”مجھے آرام کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں تو ابھی دوڑنے کے لیے صرف گرم ہوا ہوں۔ ابھی میں دس چکر مزید لگائوں گا۔” شامو نے جواب دیا۔ اس کی بات سن کر بابو اتنا شرمندہ ہوا کہ آئندہ کبھی اس کے سامنے اپنا سر نہ اٹھا سکا۔

    ٭…٭…٭

  • کہاوت کہانی | مسور کی دال | ضیاء اللہ محسن

    کہاوت کہانی | مسور کی دال | ضیاء اللہ محسن

    کہاوت کہانی
    مسور کی دال
    ضیاء اللہ محسن

    پرانے زمانے میں ہندوستان پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ کھانے پینے کا بہت شوقین تھا اسی لیے اُس نے اپنے محل میں بہت وسیع باورچی خانہ بنارکھا تھا۔ اس باورچی خانے میں بہت سے باورچی نت نئے پکوان بنا کر بادشاہ کو خوش کرتے اور اس سے انعام لیتے۔ مسور کی دال اُن دنوں بہت قیمتی ڈش سمجھی جاتی تھی۔ جیسے آج کل گوشت یا مچھلی پسند کی جاتی ہے۔ بادشاہ کو بھی مسور کی دال بہت پسند تھی۔
    ایک دن بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو باورچی مسور کی دال سب سے اچھی بنائے گا اُسے خاص انعام و کرام سے نوازا جائے گا۔ چناں چہ تمام شاہی باورچیوں نے اچھی سے اچھی دال بنانے کے لیے محنت کی لیکن بادشاہ کو کسی کا ذائقہ پسند نہ آیا۔ انہی دنوں ایران سے ایک باورچی ہندوستان آیا ہوا تھا۔ وہ کھانا بنانے میں بہت ماہر تھا۔ چناں چہ اُسے بھی محل میں دعوت دی گئی تاکہ وہ اپنی قسمت آزمائے۔
    خدا کا کرنا یہ ہوا کہ بادشاہ کو حاذق نامی اس باورچی کی بنائی گئی دال پسند آگئی۔ چناں چہ اُسے انعام و اکرام دے کر شاہی باورچیوں میں شامل کر لیا گیا۔ رفتہ رفتہ یہ باورچی بادشاہ کا خاص اور لاڈلا بن گیا۔ بادشاہ کو جب بھی مسور کی دال کھانا ہوتی تو حاذق ہی کو کہا جاتا۔
    دن یونہی گزرتے گئے۔ ایک دن بادشاہ بیمار پڑگیا۔ اُسے لگا کہ اُس کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔ چناں چہ بادشاہ نے شاہی خاندان کے تمام افراد کو ایک دعوت پر مدعو کیا تاکہ نئے بادشاہ کے نام کے لیے سوچ بچار کی جاسکے۔ چوں کہ بادشاہ کی کوئی اولاد نہ تھی چناں چہ نئے بادشاہ کے لیے کسی قریبی عزیز کا نام دے دیا گیا۔ اِس اعلان کے چند روز بعد بادشاہ کا انتقال ہوگیا۔ اب تختِ شاہی پر نیا بادشاہ بیٹھ چکا تھا لیکن اپنی فطرت میں یہ کچھ تنگ دل اور کنجوس تھا۔
    کچھ روز بعد نئے بادشاہ نے مسور کی دال کھانے کی فرمائش کی۔ چناں چہ حاذق باورچی نے دال تیار کرکے بادشاہ کے دسترخوان پر پیش کی، جسے کھاتے ہی بادشاہ کا منہ بن گیا۔ اُسے دال پسند نہ آئی۔ بادشاہ حاذق پر بگڑتے ہوئے بولا:
    ”اے پردیسی باورچی! کیا تمہیں کھانا پکانا نہیں آتا؟ ہونہہ… کیا ہی بد ذائقہ چیز بنائی ہے۔”
    یہ بات سنتے ہی ایرانی باورچی حاذق نے جواب دیا: ”بادشاہ سلامت! دال تو وہی ہے جو میں پہلے بنایا کرتا تھا البتہ اب کھانے والا منہ بدل گیا ہے۔ ہونہہ… یہ منہ اور مسور کی دال…” یہ کہتے ہوئے حاذق نے محل سے اپنا بوریا بستر سمیٹا اور ایران جانے کی تیاری کرنے لگا۔ اُسے معلوم ہوگیا کہ اب یہاں اِس کی قدر نہیں ہوگی۔
    پیارے بچو! حاذق تو واپس ایران چلا گیا لیکن اُس کا بولا گیا جملہ اتنا مشہور ہوا کہ رفتہ رفتہ وہ کہاوت بن گئی جو آج بھی مشہور ہے۔ یہ منہ اور مسور کی دال۔ آج بھی اگر کوئی آدمی کسی کام یا کسی خدمت کے لائق نہ ہو تو اس کے لیے یہی کہاوت بولی جاتی ہے۔
    ٭…٭…٭

  • گلّو اور لومڑ

    گلّو اور لومڑ

    گلّو اور لومڑ
    عبداللہ اذفر

    کسی چراگاہ میں ایک چالاک لومڑ گھوم رہا تھا۔ وہ بہت بھوکا تھا لیکن اس کے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا۔ اتنے میں وہاں گُلّو آگیا۔ گُلّو ایک چھوٹا اور پیارا سا گھوڑے کا بچہ تھا۔ لومڑ نے سوچا کہ شکار تو بہت اچھا ہے لیکن میں اسے کیسے کھاؤں؟ یہ میرے ہاتھ نہیں آئے گا۔
    کچھ دیر سوچنے کے بعد اس کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ اُس نے سوچا کہ گُلّو کو دھوکا دیا جائے۔ یہ سوچ کر لومڑ چلتے چلتے گُلّو کے پاس آیا اور کہنے لگا:
    ”گُلّو بھائی! اِس چراہ گاہ میں کتنے خوب صورت پھول ہیں۔ تمہیں کسی پھول کی خوش بو سونگھنی ہو تو میرے ساتھ چلو؟”
    گُلّو سمجھ گیا کہ لومڑ اُسے دھوکا دے رہا ہے۔ وہ بولا: ”لومڑ بھائی! اِس وقت مجھے پھولوں کی خوش بو اچھی نہیں لگے گی کیوں کہ میرے پاؤں میں کانٹا چُبھا ہوا ہے۔ مجھے تکلیف ہورہی ہے۔ مہربانی کرکے تم یہ کانٹا نکال دو۔”
    لومڑ بہت خوش ہوا۔ وہ سمجھا کہ گُلّو اُس کی باتوں میں آگیا ہے۔ وہ آگے بڑھا اور کہنے لگا: ”میں تمہارے پاؤں سے کانٹا نکال دیتا ہوں۔ تم ابھی ٹھیک ہوجاؤ گے۔” یہ کہہ کر وہ گُلّو کے پاؤں کے پاس بیٹھ کر کانٹا تلاش کرنے لگا۔
    اچانک گُلّو نے پورے زور سے دولتی لومڑ کے منہ پر دے ماری۔ دولتی لگنے سے لومڑ چکرا کر گِرا۔ اُس کے دانت ہِل گئے اور وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر بھاگ گیا۔ جاتے جاتے وہ آئندہ ایسی حرکت کرنے سے توبہ کر چکا تھا۔

  • غریب لکڑہارا

    غریب لکڑہارا

    غریب لکڑہارا
    احمر بخاطر

    تہران میں حامد نامی ایک بوڑھا لکڑ ہارا اور اس کی بیوی رہتے تھے۔ ایک دن حامد نے جنگل میں پرُانا اور جُھکا ہوا برگد دیکھا۔ حامد نے اُس پر کلہاڑے کا ایک وار کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں دھواں نکلا اور ایک جن حاضر ہوگیا۔
    ”ہو ہو ہو… ہا ہا ہا… اے انسان! برگد پر میرا گھر ہے، تم اسے کیوں گِرا رہے ہو؟” جن نے غصے سے کہا تو حامد کانپتے ہوئے بولا: ”میں غریب اور بوڑھا ہوں۔ اب زیادہ محنت نہیں کرسکتا اس لیے پرانے درخت کو کاٹ رہا تھا۔” حامد کی بات سن کر جن نے کہا: ”اے بوڑھے انسان! تم فکر نہ کرو۔ میں تمہیں ایک جادوئی چکّی دیتا ہوں۔ جب تمہیں کوئی ضرورت ہوتو کہنا: ”چکّی ری چکّی چل پیس” فوراً چکّی سے آٹا نکلنا شروع ہوجائے گا۔ تم وہ آٹا بازار میں بیچ دینا۔” یہ کہہ کر جن نے لکڑ ہارے کو چکّی دی اور اِس بارے میں کسی کو بھی بتانے سے منع کیا۔
    حامد خوشی خوشی گھر روانہ ہوگیا۔ گھر جاتے ہی اس نے چکّی سے کہا: ”چکّی ری چکّی، چل پیس” اچانک چکّی سے آٹا نکلنا شروع ہوگیا۔ حامد نے آٹے کی بوریاں بھریں اور انہیں بیچنے بازار چلا گیا۔ واپسی پر اس نے کھانے کا سامان، کپڑے، جوتے اور بہت سا پھل خریدا پھر وہ روز ایسا کرنے لگا۔
    اُن کے پڑوس میں ایک مچھیرا رہتا تھا۔ اُس نے حامد کو دن بہ دن امیر ہوتے دیکھا تو حیران رہ گیا۔ جلد ہی مچھیرے نے اپنی چالاکی سے جادوئی چکّی کا راز جان لیا۔
    ایک دن مچھیرے نے حامد سے کہا: ”بھائی جی! ایک دن کے لیے مجھے اپنی چکّی ادھار دے دو۔” حامد نے اُسے چکّی دے دی۔ شام کو مچھیرے نے جادوئی چکّی کی بہ جائے حامد کو دوسری چکّی واپس کی۔ جب حامد کو اپنے ساتھ ہونے والے دھوکے کا احساس ہوا تو اُس نے مچھیرے سے اپنی چکّی کے بارے میں پوچھا۔ مچھیرا صاف مُکر گیا اور کہنے لگا: ”بھائی! تم نے مجھے یہی چکی دی تھی۔”
    حامد بے چارا روتا ہوا جن کے پاس گیا اور ساری بات بتائی۔ جن نے اسے ایک جادوئی ڈنڈا تحفے میں دیا۔ اب حامد جلدی سے گھر آیا۔ اُس نے مچھیرے کو اپنے گھر دعوت پر بلایا۔ جب وہ کھانا کھانے گھر آیا تو حامد کہنے لگا: ”بھائی مچھیرے! تم نے میری جو چکّی چھپائی ہے وہ واپس کردو۔” لیکن مچھیرا اِس بار بھی مُکر گیا۔ حامد نے جادوئی ڈنڈے کو حکم دیا: ”مار ڈنڈے مار۔” بس پھر کیا تھا! ڈنڈے نے زور زور سے مچھیرے کے سر پر ضربیں لگانا شروع کردیں۔ وہ چیخنے چلانے لگا۔ ”ہائے مر گیا… اف مر گیا… میں ابھی چکّی واپس کرتا ہوں۔” یہ کہہ کر مچھیرا اپنے گھر کی طرف بھاگا اور اصلی چکّی لاکر حامد کو واپس کردی۔ اپنی جادوئی چکّی دیکھ کر لکڑ ہارا اور اس کی بیوی خوش ہوگئے۔

    ٭…٭…٭

  • بکری اور بھیڑیا

    بکری اور بھیڑیا

    بکری اور بھیڑیا

    عائشہ علوی

    یہ کہانی ہے چینی بکری اور ایک مغرور بھیڑیے کی۔ چینی بکری کے تین پیارے سے بچے تھے۔ سونی، مونی اور ٹونی۔ ایک دن بکری اپنے بچوں کے لیے کھانا ڈھونڈنے نکلی۔ پیچھے سے بھیڑیا آیا اور بکری کے تینوں بچوں کو کھا گیا۔
    گھر واپس آتے ہی چینی بکری نے بچوں کو آواز دی۔ ”سونی، مونی، ٹونی” پر جواب نہ آیا۔ وہ پریشان ہوگئی۔ اس نے اِدھر اُدھر دیکھا تو اسے بھیڑیے کے پیروں کے نشان ملے۔ وہ سب کچھ سمجھ گئی۔ بھیڑیا اس کے تینوں بچوں کو کھا گیا تھا۔
    وہ پھلانگتی ہوئی اس پہاڑ پر جاپہنچی جس کے غار میں بھیڑیا رہتا تھا۔ وہ غار کی چھت پر زور زور سے کُھر مارنے لگی۔ غار کے اندر سے بھیڑیا چلّایا۔ ” کون ہے اوپر جو یہ حرکت کررہا ہے؟”
    ”میں ہوں چینی بکری۔ کیا تم مجھے بتا سکتے ہوکہ میرے سونی مونی اور ٹونی کون کھاگیا ہے؟”
    ”میں نے تمہارے سونی، مونی اور ٹونی کو ہڑپ کر لیا ہے۔” بھیڑیا غرور سے بولا۔
    ”تم بہت ظالم ہو! کل میرے اور تمہارے درمیان لڑائی ہوگی۔” بکری بولی۔
    ”ہاہاہا! ٹھیک ہے میں تمہیں دیکھ لوں گا۔” بھیڑیا قہقہہ لگاتے ہوئے بولا۔
    بکری لوہار کے پاس پہنچ گئی۔ ”ظالم بھیڑیا میرے ننھے بچوں کو کھاگیا ہے۔ تم میری کچھ مدد کرو اور میرے سینگ تیز کردو۔ میں نے بھیڑیے سے لڑنا ہے۔ دیکھو میں تمہارے لیے اُجرت کے طور پر دودھ کا کٹورا لائی ہوں۔”
    لوہار نے بکری کے سینگوں کو تیز کردیا۔ اُس کے سینگ تلوار کی طرح تیز ہوگئے تھے۔ تھوڑی دیر بعد بھیڑیا بھی کنکر اور گارے سے بھرا ہوا ایک پتیلا لوہار کو دیتے ہوئے بولا:
    ”میں اس پتیلے میں تمہارے لیے کھانا لایا ہوں۔ تم میرے دانت تیز کردو۔”
    پتیلے میں کنکر اور گارا دیکھ کر لوہار بھیڑیے کی مکاری سمجھ گیا۔ بھیڑیے نے دانت تیز کرنے کے لیے جو منہ کھولا تو لوہار نے بڑی چالاکی کے ساتھ اس کے دانت اکھاڑ دیے اور وہ یہی سمجھتا رہا کہ اس کے دانت تیز ہورہے ہیں۔
    لوہار بولا: ”تمہارے دانت تیز ہوچکے ہیں۔ اب تم بے فکر ہوکر جائو۔”
    اگلے روز دوپہر کا وقت ہوا تو بھیڑیا اور بکری لڑائی کے لیے آمنے سامنے تیار تھے۔
    ”تم حملہ کرو’۔’ بھیڑے نے چِلّا کر کہا۔
    ”نہیں تم پہلے وار کرو۔” بکری بھی غصے میں بولی۔
    پھر بھیڑیے نے بکری پر منہ کھول کر حملہ کردیا مگر بکری کو کوئی نقصان نہ پہنچا کیونکہ بھیڑیے کے تو دانت ہی نہیں تھے۔ اب بکری کی باری تھی۔ اس نے بھیڑیے پر حملہ کرکے اس کو مار ڈالا اور اس کے پیٹ سے سونی، مونی اور ٹونی کو باہر نکال لیا۔ بکری اپنے بچوں کو دیکھ کر بہت خوش تھی۔
    تب سے اب تک چینی بکری اور اُس کے بچے آرام و سکون سے زندگی گزار رہے ہیں۔
    ٭…٭…٭

  • باز – فریال سید

    باز – فریال سید

    باز
    فریال سید

    "مورے! میں ٹھیک ہو جاؤں گا ناں ؟”
    اس نے بڑی بڑی آنکھوں میں ڈھیروں ا مید سموتے ہوئے اپنی ضعیف ماں کے چہرے پہ یقین کی ایک رمق تلاش کی۔
    "ہاں میرے بچے تم بالکل ٹھیک ہو جائو گے ۔ اللہ بہت بڑا ہے ، وہ کوئی حل نکال لے گا۔ ”
    روشن بی بی نے اپنے چہرے پے مصنوعی خوش امیدی سجاتے ہوئے جنید کو ا مید دلائی ۔
    جنید خان، روشن بی بی کا واحد سہارا، ان کا اکلوتا بیٹا تھا، جو پیدائشی طور پر دل کے عارضے میں مبتلا تھا۔ ا س کے والد کا انتقال جنید کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا ۔ تب سے اب تک روشن بی بی لوگوں کے گھروں میں کام کر کے اپنا گزر بسر کر رہی تھی اور جنید کی تعلیم کا خرچہ اٹھا رہی تھی ۔ تب ہی ایک دن اسکول سے واپسی پر جنید کی طبیعت بگڑ گئی۔ سرکاری ہسپتال پہنچنے پر پتا چلا کہ جنید کی بیماری خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور اگر جلد از جلد آپریشن نہ کیا گیا تو اس کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس آپریشن کے لئے کم سے کم پانچ لاکھ روپے درکار تھے۔
    5لاکھ روپے "جو روشن بی بی نے کبھی خواب میں بھی نہ دیکھے تھے، کجا ا نکا بند و بست کرنا۔
    مگر چودہ سالہ معصوم جنید جس کاسارا بچپن اپنی بیماری سے لڑ لڑ کر گزرا تھا وہ آنکھوں میں مکمل صحت یاب ہونے کا خواب سجائے بیٹھا تھا اور روشن بی بی ا س کی خوش امیدی دیکھ کے صرف ایک بار، ایک کوشش کرنا چاہتی تھیں۔
    تب ہی جنید کو جلدی واپس آنے کا کہہ کر وہ اپنی مالکن کے پاس آگئیں۔ ان سے کوئی خاص امید تو نہ تھی مگر پھر بھی وہ ایک کوشش کرنا چاہتی تھی۔
    مالکن کے گھر تو عجیب جشن کا سماں تھا۔ صاحب اور بیگم صاحبہ مٹھائی بانٹ رہے تھے ۔ خوشی تھی کہ ان کے چہروں سے عیاں تھی ۔ وہ کچھ دیر اور وہیں کھڑی رہتی اگر بیگم صاحبہ کی نظر ا س پر نہ پڑتی۔
    "ارے آؤ آؤ روشن! ادھر کیوں کھڑی ہو؟ آئو تم بھی مٹھائی کھائو۔ دیکھو تمہارے صاحب اپنا کیس جیت گئے۔” جوش سے کہتی بیگم صاحبہ نے روشن کی آنکھوں کے آنسو نہ دیکھے ، ورنہ اِ س طرح مٹھائی نہ تھماتیں۔
    "وہ بی بی جی میں نے کہنا تھا کہ۔۔ وہ جی میرا جنید ہسپتال میں ہے۔ اگر آپ میری تھوڑی مدد کردیتے تو۔۔۔”
    روشن کے لہجے کی کپکپاہٹ اس کی گھبراہٹ کی غماز تھی۔
    ” ہاں! کیوں نہیں۔ بتائو کتنے پیسے چاہئیں تمہیں۔”
    بیگم صاحبہ نے خوش دلی سے کہا تو روشن کی تھوڑی ہمت بندھی ۔
    "وہ جی، اس کے آپریشن کے لیے پانچ لاکھ روپے کی ضرورت ہے اور ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اگر جلدی پیسوں کا بندوبست نہ ہوا تو۔۔۔”
    روشن کی آواز آنسوئوں میں ڈوب گئی اور وہ بات مکمل نہ کر سکی۔ ا س نے ڈرتے ڈرتے نظریں اٹھا کر بیگم صاحبہ کے چہرے کو دیکھنا چاہا تھا۔ آنسوئوں کی دھند کے پار ا سے بیگم صاحبہ کے نقوش سپاٹ ہوتے نظر آئے۔ خوف کی ایک سرد لہر اس کے وجود میں سرائیت کر گئی ۔ جس انکار کا ا سے خوف تھا ، شاید بیگم صاحبہ وہی کرنے والی تھیں ، اور ا س سے آگے وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی ۔
    "ایسا ہے روشن کہ۔۔” بیگم صاحبہ نے ٹانگ پہ ٹانگ رکھتے ہوئے تمہید باندھی۔
    "تمہارے صاحب آج جو یہ ضروری کیس جیتے ہیں، اِس کے لیے ا نھوں نے وکیل کو پانچ لاکھ روپے فیس دی ہے۔ تو۔۔۔” وہ ایک ثانیے کو ر کیں۔
    "تو اگر تم پہلے آجاتی تو شاید کچھ ہو بھی جاتا ، پر اب تو ناممکن ہے۔”
    بیگم صاحبہ نے اپنی انگلی میں موٹے ہیرے کی انگوٹھی گھماتے ہوئے بات مکمل کی اور روشن بی بی کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کے برسے تھے۔ وہ بنا کچھ کہے واپسی کے لیے پلٹی۔
    "اے میرے پاک خدا! اب میں کیا کروں گی ۔ یہ تو نے مجھے کیسی آزمائش میں ڈال دیا ہے؟ میں کہاں سے لائوں پانچ لاکھ؟ کیا کروں میں آخر؟ شاید میں پہلے آجاتی تو بیگم صاحبہ پیسے دے بھی دیتیں، پر اب تو وہ وکیل کو۔۔۔ وکیل!!!”
    روشن بی بی کی آنکھوں میں امید کی لو ٹمٹمائی۔ وہ تیزی سے مڑی اور بیگم صاحبہ تک آئی ۔
    "بیگم صاحبہ! وہ جی ا س وکیل کا پتا مل سکتا ہے؟ آپ کی بڑی مہربانی ہو گی جی ۔ خدا کے لیے۔”
    بیگم صاحبہ نے تھوڑی دیر ا سے ترش نگاہوں سے گھورا ، پھر صاحب سے ایک کارڈ لے کے اس کی طرف بڑھا دیا۔
    خوشی سے نہال ہوتی روشن بی بی نے عجلت میں ان کا شکریہ ادا کیا اور تیزی سے باہر کی طرف بڑھ گئی۔ اس کا ر خ بس اسٹینڈ کی طرف تھا۔ وہاں بس کے انتظار میں کھڑی ایک طالبہ سے کارڈ پہ درج پتے کے بابت پوچھا۔ اس نے خوش دلی سے پتا سمجھایا۔
    روشن بی بی کے دل میں امید اور خوف کے ملے جلے احساسات جاگ رہے تھے جن میں شرمندگی کی آمیزش بھی تھی۔ پہلی دفعہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا نے سے زیادہ ایک خود ار انسان کے لیے اِس دنیا میں کچھ بھی مشکل نہیں۔
    اپنے خیالوں میں گم وہ اپنی منزلِ مقصود پہ پہنچ چکی تھی۔
    کپکپاتے قدموں کے ساتھ ا س صاف ستھرے آفس میں پہلا قدم رکھا تو گارڈ تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔ وہ جانتی تھی اگر ا س نے اپنا مدعا گارڈ کو کہہ سنایا تو اندر کبھی نہ جا پائے گی۔ اِس لئے اسے کارڈ دکھا کر کہا کہ صاحب نے خود بلایا ہے۔
    گارڈ نے پہلے جانچتی نگاہوں سے ا سے دیکھا پھر اندر جانے کی اجازت دے دی ۔ وہ ڈرتے ڈرتے اندر کی طرف بڑھی۔
    کالے سوٹ میں ملبوس کئی نوجوان وہیں اپنے کام میں مصروف بیٹھے تھے ۔ ان میں سے ایک اس کی طرف متوجہ ہوا۔
    "خیر ہے اماں! کس سے ملنا ہے آپ کو؟”
    "وہ بیٹا مجھے اِن صاحب سے ملنا ہے۔”
    روشن بی بی نے ڈرتے ڈرتے ہاتھ میں پکڑا کارڈ ا س تیکھے نین نقش والے نوحوان کی طرف بڑھایا۔
    "ارے اماں آپ کو سر سے ملنا ہے تو یوں کہیں ناں۔ چلیں آجائیں میں ملاتا ہوں آپ کو سر سے۔”
    خوش اخلاقی سے کہتا ہو وہ انہیں اپنے ساتھ لیے اپنے سرکے کمرے تک لے آیا۔ ہلکی سی دستک کے بعد اس نوجوان نے دروازہ کھولا تو سامنے کا منظر واضح تھا۔
    سیاہ سوٹ میں ملبوس ایک پینتیس چھتیس سال کے ایک نوجوان لڑکے نے مسکراتے چہرے کے ساتھ کھڑے ہوکر اس کا استقبال کیا۔ وہ دل ہی دل میں شرمندہ ہوتی ان کے سامنے والی کرسی پہ آکے بیٹھ گئیں۔
    وکیل صاحب نے شائستہ لہجے میں ان کے آنے کی وجہ دریافت کی۔ وکیل صاحب کا پوچھنا تھا کہ روشن بی بی پھوٹ پھوٹ کے رو دی اور اپنی مشکل بیان کر کے مدد مانگی۔ وکیل صاحب ان کو تسلی دیتے ہوئے ان کے ساتھ باہر تک آئے اور جو تیکھے نقش والا نوجوان انہیں کمرے تک لے گیاتھا، اسے مخاطب کرتے ہوئے روشن بی بی کے ساتھ جانے کی ہدایت کی اور پتا کرنے کو کہا کہ آیا روشن بی بی جھوٹ تو نہیں کہہ رہیں؟
    وہ نوجوان روشن بی بی کوساتھ لئے اپنی ہی گاڑی میں ہسپتال تک آیا ۔ وہاں جنید اور ڈاکٹر صاحب سے مل کے جنیدکی ساری معلومات اکٹھی کرکے چلا گیا۔ روشن بی بی کے دل میں خوش امیدی جاگی تھی۔
    جب کہ نوجوان واپس آفس پہنچا اور وکیل صاحب کو ساری معلومات سے آگاہ کیا ۔ وکیل صاحب تھوڑی دیر خاموش بیٹھے رہے، پھراپنی دراز سے آج صبح ہی ملنے والا پانچ لاکھ روپے کا چیک نکالا اور نوجوان کی طرف بڑھا دیا۔ نوجوان نے سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھتے ہوئے چیک تھام لیا۔
    "یہ لے جائو اور ا س اماں کے بیٹے کا آپریشن جلد سے جلد کرانے کے انتظامات کرو۔”
    نوجوان جونیئر وکیل نے حیرانی سے استفسار کیا:
    "لیکن سر یہ آپ کی پہلی بڑی فیس ہے ۔ آپ ایسے کیسے اپنے سارے پیسے۔۔۔”
    اس سے پہلے کہ نوجوان وکیل کی بات مکمل ہوتی، سر نے اپنا ہاتھ ا ٹھا کے اسے مزیدکچھ کہنے سے روک لیا۔
    "زوئے! (پشتو میں بیٹے کو کہتے ہیں) ایسا نہیں کہتے ۔ کیا پتا خدا میرا امتحان لے رہا ہو۔ میں اسے کیا جواب دوں گا؟”
    سر کی بات پہ نوجوان وکیل خاموش ہو گیا۔
    جنید کا آپریشن ہو گیا اور وہ مکمل صحت یاب بھی ہو گیا۔ اپنے پیروں پہ چل کے ایک دن وہ اور روشن بی بی وکیل صاحب کا شکریہ ادا کرنے بھی آئے تھے۔ روشن بی بی انہیں ڈھیروں دعائیں دیتیں، جنید کو ساتھ لئے چلی گئیں لیکن پھر وکیل صاحب کی کامیابیوں کا سلسلہ نہ ر کا۔
    گو کہ یہ پہلا واقعہ نہیں تھا جب وکیل صاحب نے یوں کسی کی مدد کی تھی ۔ اِ س سے پہلے بھی انہوں نے کئی لوگوں کی ایسے ہی مدد کی تھی۔ آفس کے باہر کھڑے ہونے والے خوانچہ فروشوں کے قریب سے صبح جب گزرتے تو جیب میں ہاتھ ڈالتے، جتنے پیسے ہاتھ میں آتے ا نہیں دیتے جاتے۔ اپنے ہی گروپ میں کام کرنے والے جونیئر وکلا کی بھی ہر ضرورت کا خیا ل رکھتے۔ ان کی ہر ممکن مدد کرتے۔ یوں دعائیں اور عزت کماتے کماتے، وکیل صاحب بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر نامزد ہو گئے۔ وہ اپنے مخالف سے بہت نمایاں ووٹ حاصل کرکے جیتے گئے۔ وقت گزرتا گیا۔ وکیل صاحب بی بی اے کے موجودہ صدر سے سابق صدر ہو گئے لیکن ان کی کامیابیوں کا سلسلہ ر کا نہیں۔
    وہ اب سپریم کورٹ کے وکیل تھے۔ جس کیس کے لیے انہیں منتخب کیا جاتا، جیت ا ن کے موکل کے نصیب میں لکھ دی جاتی۔ اتنی عزت، دولت اور شہرت نے بھی ان کی فطرت نہ بدلی۔ بلکہ اب وہ پہلے سے بھی زیادہ لوگوں کی مدد کرنے لگے تھے اور وقت یونہی گزرتا گیا۔
    پھر ایک دن بی بی اے کے موجودہ صدر بلال قاسی کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا ۔
    وکیل صاحب ا س وقت کیسے پیچھے رہتے ۔ اپنے ساتھی وکلا کو اپنے ساتھ لیے ہسپتال پہنچے جہاں پہلے ہی وکلااور میڈیا کا جمِ غفیر موجود تھا۔ وکیل صاحب اور ان کے ساتھی وکلا بلال قاسی صاحب کی میت لینے میں پیش پیش تھے کہ اچانک ہجوم تھوڑا سا بڑھ گیا۔
    وکیل صاحب کے ساتھ ہی اس تیکھے نقش والے نوجوان کو ہجوم نے پیچھے دھکیل دیا تھا۔ انہوں نے ارد گرد نگاہ دوڑائی، باقی سب ہی ساتھی موجود تھے، نہ تھا تو وہ جو ان کا سب سے چہیتا شاگرد اور ساتھی تھا۔ وہ یقینا اسے فون ملاتے اگر میت نکالنے کا شور نہ مچتا۔ وہ سب چھوڑ چھاڑ باقی ہجوم کی طرح بلال قاسی شہید کی میت کی طرف متوجہ ہو گئے اسی اثنا میں ایک زور دار ھماکا ہو گیا ۔ ہر سو بارود کی تیز بو اور دھوئیں کے کالے بادل چھا گئے۔ وکیل صاحب بھی زمین پہ گرے ہوئے تھے۔ انہوں نے آنکھیں کھول کے اطراف کا منظر دیکھنا چاہا مگر۔۔
    ان کی آنکھوں میں مسلسل بہتا خون ہرمنزل کو دھندلا رہا تھا ۔ کانوں میں تیز سیٹی سی بج رہی تھی۔ کچھ لوگ ا ن کی طرف تیزی سے بڑھے تھے اور پھر ا نہیں کسی چیز کا ہوش نہیں رہاتھا۔
    ”تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دھماکہ خودکش تھا ، جس میں وکلا کو نشانہ بنایا گیا ۔ ملک دشمنوں کی ایک اور سازش ، جس میں وکلا بری طرح سے متاثر ہوئے ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق ، دشمن نے سازش کے تحت صدر بلوچستان بار ایسوسی ایشن بلال قاسی کو شہید کیا اور جب وکلا بڑی تعداد میں میت لینے ہسپتال پہنچے تو دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے ا ڑا دیا ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق بھاری جانی نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ ہمارے نمائندے وقاص علی جائے وقوعہ پہ موجود ہیں آئیے جانتے ہیں ان سے زیادہ ترین صورتِ حال:
    ”جی وقاص! اب تک کی اطلاعات کے مطابق تقریباً کتنے جانی نقصان کا خدشہ ہے؟”
    "جی نادیہ میں اس وقت جائے وقوعہ پہ موجود ہوں، یہاں قیامت کا سا منظر ہے ہر طرف انسانی اعضاء بکھرے پڑے ہیں ۔ جائے وقوعہ کودیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بھاری تعداد میں جانی نقصان کا خدشہ ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پینتیس افراد اس افسوس ناک حادثے میں شہیداور ستر زخمی ہوئے ہیں۔”
    "جی وقاص کچھ پتا چل سکا ہے کہ زخمیوں میں کتنوں کی حالت نازک ہے ؟”
    "جی نادیہ اس وقت تو یہ کہنا مشکل ہو گا لیکن ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کی حالت بہت خراب ہے اورا یک زخمی کی شناخت بہ طور باز محمد کاکڑ ،سابق صدر بلوچستان بار ایسوسی ایشن کی جا رہی ہے ۔ بازمحمد کا کڑ جو اپنے ساتھیوں سمیت بلال قاسی کی میت لینے سول ہسپتال آئے تھے اس بدترین دہشت گردی میں شدید زخمی ہوئے ہیں۔ جی نادیہ ۔ ۔”
    "بہت شکریہ وقاص ہمارے ناظرین کو تازہ ترین صورت حال سے اپ ڈیٹ کرنے کا۔”
    ناظرین یہ افسوس ناک مناظر جو آپ اس وقت اپنی ٹی وی سکرینزپردیکھ رہے ہیں یہ کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ہونے والے خودکش دھماکے کے ہیں ۔ جس میں تازہ تر ین اطلاعات کے مطابق پینتیس افراد شہید اور ستر کے قریب زخمی ہیں ۔ زخمیوں میں سابق صدر بی بی اے باز محمدکاکڑبھی شامل ہیں۔”
    آئیے بات کر تے ہیں ایک دفعہ پھر اپنے نمائندے وقاص سے۔
    "جی وقاص! تازہ ترین صورتِ حال سے اپ ڈیٹ کیجئے گا”
    "جی نادیہ! ایک افسوسناک خبر سے آپ کو آگاہ کرتا چلوں کر ہسپتال زرائع کے مطابق سابق صدر بی بی اے اور بلوچستان کے جانے مانے وکیل باز محمد کاکڑ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے ہیں ۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شہدا کی تعداد 50 جبکہ زخمیوں کی تعداد 90 ہوگئی ہے۔ زخمیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے کچھ زخمیوں کو سی ایم ایچ شفٹ کیا جا رہا ہے۔ آئیے بات کرتے ہیں اس واقعے کے عینی شاہد نوجوان سے۔”
    "جی شاہ صاحب! آپ اس دھماکے میں زخمی ہوئے ہیں اور آپ کے بہت سے دوست اور ساتھی وکلا اس واقعے میں شہید ہوئے ہیں ، آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟”
    صحافی نے تیکھے نقوش والے نو جوان کے سامنے مائک کیا ۔ نوجوان ایمبولینس میں لیٹا ہوا تھا ، اس کا ایک بازو اور ایک ٹانگ پٹیوں میں جکڑے ہوئے تھے ۔ رنگت بے حد زرد تھی لیکن چہرے پر بہادری کا ڈیرہ تھا۔
    "جی بس اللہ معاف کرے قیامت تھی جو آکر گزر گئی۔ یہ ایک پری پلینڈ سازش تھی ہمارے خلاف۔ میرے سارے ساتھی شہید ہو گئے اپنے گروپ میں سے میں واحد بچا ہوں ۔ ہمارے سر باز محمد کاکڑ صاحب ایک بہترین انسان تھے ان کی شہادت سے جو خلا۔ ۔ ۔”
    "جی آپ کا بہت بہت شکریہ۔”
    نادیہ جیسا کہ آپ نے عینی شاہد کی باتیں سنی ۔ انہوں نے اس واقعہ کو پری پلینڈ سازش قرار دیا ۔ میں اپنے ناظرین کو بتاتا چلوں کہ کسی عینی شاہد سے سب سے پہلے بات ہمارے چینل نے کی ہے ۔ جی ہاں! ہم نے اپنی روایت قائم رکھتے ہوئے سب سے پہلے آپ کو اس خبر سے آگاہ کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔”
    نمائندہ اب بھی بہت کچھ کہہ رہا تھا یہ سوچے بنا کہ وہ تیکھے نقوش والا عینی شاہد اِ س وقت کیاسوچ رہا ہے اور وہ عینی شاہد نمائندے کی پیٹھ دیکھ کر سوچ رہا تھاکیاواقعی انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہماراباز ، پاکستان کا باز اب نہیں رہا؟
    کیا انہیں اندازہ ہے کہ وہ باز کتنے لوگوں کے لئے مسیحا تھا ؟
    المیہ یہ نہیں کہ کسی نے باز کی شہادت سے ہونے والے نقصان پر افسوس نہیں کیا ، المیہ تو یہ ہے کہ اس دھماکے میں اور ہر دھماکے میں جانے کتنے باز شہید ہوتے ہیں۔ ایسے باز جوسچے پاکستانی اور نیک مسلمان ہوتے ہیں ۔ دشمن ہمیشہ ہمارے بازوں پر ہی حملہ کرتی ہے ۔
    لیکن ہمیں نہ خبر ہوتی ہے نہ فرق پڑتا ہے ۔ ہاں دوسے تین دن افسوس ہوتا ہے۔ ہم احتجاج کرتے ہیں، سوگ مناتے ہیں اور پھر زندگی دوبارہ اپنی ڈگر پر چل پڑتی ہے ۔ فرق صرف تب پڑتا ہے جب ہم یاہمارا کوئی اپنا ایسی د ہشتگردی کی زد میں آتا ہے۔
    وہ نوجوان سوچ رہا تھا کہ کہیں یونہی ہمارے باز شہید ہوتے گئے تو ہمارے ملک میں باز ختم نہ ہوجائیں ۔ پھر اس ملک کے جنیدوں کی امدادکون کرے گا ؟
    وہ تیکھے نقوش والا نوجوان وکیل سوچ رہاتھا اور سوچے جا رہا تھا، کیوں کہ اس حادثے نے ا سکی زندگی میں جو خلا کیا تھا، وہ کبھی پرُ نہیں ہونا تھا۔ یہ سانحہ اس کی زندگی میں ہمیشہ کے لئے آکر ٹھہر چکا تھا۔