Tag: Remove term: afsana

  • اُف یہ گرمی — فہمیدہ غوری

    اُف یہ گرمی — فہمیدہ غوری

    یہ اک گمبھیر موضوع ہے یعنی موسم گرما، تو لکھنے کے لیے بھی کافی سنجیدہ ہونا پڑے گا۔ موسم گرما جو اپنے ساتھ بہت سارے مسائل، بیماریاں اور ٹینشن بھی ساتھ لاتا ہے، ویسے آج کل موسم گرما صرف غریبوں کے لیے ہے۔ گھر میں آئے تو لائٹ نہیں، باہر گئے تو لو کے تھپیڑے پڑتے ہیںاور رات کو مچھر نغمے الگ سناتے ہیں ۔ہائے بے چارہ غریب اور موسمِ گرما۔ اک دوجے کے لیے ہی بنے ہیں۔
    امیر کے لیے تو موسم گرما بھی موسم سرما جیسا ہی ہے۔ ہر طرف ٹھنڈی ہوائیں۔ گاڑی، گھر، آفس، فیکٹری اور بینک میں ہر طرف سے نسیمِ سحر کے پُر لطف جھونکے ہی آتے ہیں۔ تو مطلب یہ کہ موسم گرما پر بس غریبوں کا حق ہے کہ اُنہیں ہی تو جھیلنا ہے یہ موسم۔ اس موسمِ گرما سے ہمیں موسمی پھل بھی یاد آتے ہیں جن میں سرِفہرست ہے گرما، میٹھا میٹھا رسیلا پھل۔ ایک خریدو پورا خاندان رج کے کھائے اور تو اور اس پھل پر تو مہنگائی کا بھی کوئی اثر نہیں ہوتا۔
    آم کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں مگر گرما کی قیمتیں اتنی گرم نہیں۔ اس پھل کا ایک بھائی بند بھی ہے۔ ذائقے میں تو یہ بھی گرما جیسا ہی ہے پر یہ سردا کیوں کہلاتا ہے اس پر ابھی تحقیق باقی ہے۔ تو کہنے کا مطلب ہے کہ گرمی بھی ایک نعمت ہے جس میں ہمیں طرح طرح کے پھل کھانے کو ملتے ہیں جس میں صبر کا پھل بھی شامل ہے جو پاکستانی عوام ”فرسٹ جون” کو کھاتی ہے۔ سمجھے؟ نہیں سمجھے؟ جی بجٹ آنے کہ بعد ہم صبر کا پھل ہی تو کھاتے ہیں۔ اس سال گاڑیاں سستی ہوئی ہیں۔ اب کیا آپ ٹنڈے کی جگہ نسان یا ہونڈا ڈالیں گے ہانڈی میں؟ یا کریلے کے بجائے کرولا قیمہ بنائیں گے؟ خیر قیمے کا تو سوچیے بھی مت۔ ہاں چھٹانک بھر لے کر اس کا چھڑکاؤ کر سکتے ہیں آپ سالن اور گوشت کے بھرپور مزے لے سکتے ہیں۔ ہمارے ذہن میں ایک اور بھی مشورہ ہے کہ گوشت کا عرق اگرمارکیٹ میں لایا جائے تو غریبوں کا کتنا بھلا ہو جائے گا۔ ہے نا زبردست آئیڈیا؟

    ہاں یاد آیا، موبائل بھی تو سستے ہوئے ہیں نا۔ بڑی مہربانی وزیرِ خزانہ صاحب، خدا آپ کا خزانہ بھرا رکھے۔ آپ نے موبائل سستے کر کے بگڑی قوم کو مزید بگڑنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ساری ساری رات موبائل پر لگے رہنے والی قوم اب آپ کو دعائیں ہی دے گی۔ نا انہیں پانامہ کا ہنگامہ یاد ہوگا نہ لنڈن کے فلیٹ، نہ فرانس کے محل نہ دہشت گردی میں ڈوبا ملک، نہ مہنگائی اور نہ ہی لوڈشیڈنگ کا عذاب۔ یاد ہوں گے تو انڈین سونگ، مووی اور ڈرامے۔ بہت اچھا کیا آپ نے (شالا و سدا روے تیرا ویڑا وزیر جی)
    آج ہماری ماسی بہت خوش تھی اور خوشی میں کچھ گنگنارہی تھی۔ ہم نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگی ہاں باجی آج میں بہت خوش ہوں۔ آپ کو تو پتا ہے نہ میرا کاکا بہت چھوٹا ہے اور میں اسے اکیلا چھوڑ کر آتی ہوں۔ میری ساس بہت غصہ کرتی ہے اسے سنبھالنے میں۔ پر اب وہ غصہ نہیں کرے گی۔
    ” وہ کیوں؟” ہم نے تجسس سے پوچھا۔
    ”ارے باجی آپ کو نہیں پتا بجٹ آگیا ہے۔”
    ”ہاں وہ تو آگیا ہے مگر اس میں تم کیوں اتنی خوش ہورہی ہو؟”
    ”باجی جی! اس بار بجٹ میں ڈائپر بھی سستے ہوئے ہیں نا، تو میں اس لیے خوش ہوں کہ میری ساس کو کاکا سنبھالنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔”وہ چہکتی ہوئی بولتی رہی اور ہم اس کی خوشی میں خوش ہوتے رہے۔
    موسمِ گرما میں حکومت نے ایک اور قدم اُٹھایا ہے اور وہ ہے میک اپ پر ٹیکس لگانے کا۔ ہمیں تو خیر اتنا فرق نہیں پڑے گا۔ ہم تو اپنی اماں کی تبت کریم اور ہاشمی کاجل میں ہی خوش ہیں لیکن جو عورتیں صبح سے شام اور شام سے رات میک اپ کرتی ہیں سجنے سنورنے میں ان کا کیا ہوگا وہ بے چاریاں تو رل گئیں نا۔ اب شام کو سیّاں جی آئیں گے تو گھر میں کرینہ کی جگہ ثمینہ اور کترینہ کی بجائے کوئی زرینہ نظر آئے گی تو کیا حال ہوگا ان کا ذرا سوچیے۔
    آج کل سیاسی موسم بھی اچھا خاصا گرم ہے۔ ہر جگہ ہی گرما گرمی ہے۔ ٹی وی کھولو تو لگتا ہے کل ہی دھڑن تختہ ہونے والا ہے۔ بے چارے خان صاحب بھی ایسی کڑکتی دوپہر میں جلسے اور جلسیاں کر کر کے ہلکان ہورہے ہیں۔
    وزیرِاعظم صاحب بھی میدان عمل میں ہیں۔ گرمی کی پروا کیے بغیر کبھی چوں چوں کی ملیاں تو کبھی تربیلا پہنچے ہوئے ہیں۔ گورے گورے مکھ پر بہتے پسینے کی پروا کیے بغیر جوش و جنوں سے ہر آفت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ آفرین ہے ویسے آپ کی ہمت کو، اتنے بڑے آپریشن کے بعد بھی اتنا اسٹیمنا آپ کا ہے۔ ہو سکتا ہے ماشااللہ۔
    اب تو رمضان بھی موسم گرما میں آرہا ہے۔ اللہ سب کے روزے عبادتیں قبول فرمائے، جو تپتی گرمی میں گرین لائن پر پتھر کوٹ رہے ہیں، ان کے بھی اورجو اے سی والے کمروں میں بیٹھ کر دعائیں مانگ رہے ہیںان کے بھی آمین۔
    ویسے دیکھنے میں آیا ہے کہ رمضان میں ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے خاص کر بیسن اور تیل کی، اسی لیے ہمارے تاجر حضرات نے ہماری آسانی کے لیے انتڑیوں سے تیل نکالنے کا آسان طریقہ دریافت کیا ہے۔ ارے ارے! آپ غلط سمجھے، یہ ہماری آپ کی انتڑیوں سے نہیں بلکہ گائے بھینسوں کی انتڑ یوں سے تیل نکالنے کا نیا فارمولا ہے۔ ویسے ہم نے تو سنا ہے لوگ گٹر کی چکنائی سے بھی تیل بنارہے ہیں۔ بس جی کیا کہیں اب ان کو بھی تو بیوی بچوں کا پیٹ پالنا ہے چاہے اس میں کوئی ہاسپٹل پہنچے یا پھر… آگے آپ خود سمجھ جائیے۔
    گرمی میں بیماریاں بھی بہت تیزی سے پھیلتی ہیں اور بہت سے وبائی امراض بھی پھوٹ پڑتے ہیں جیسے کہ ملیریا ۔ ویسے ہم یہاں آپ کی معلومات میں اضافہ کرتے چلیں کہ ملیریا کی بھی کئی قسمیں وجود میں آچکی ہیں۔ جیسا کہ ڈینگی، چکن گونیا وغیرہ وغیرہ۔ کچھ وبائی امراض جسمانی اور کچھ ذہنی بھی ہوتے ہیں اور گرمی میں پھوٹ پھوٹ کر نکلتے ہیں۔ حاجی صاحب روزے سے نماز ادا کر کے دکان جاتے ہیں۔ زرِقلیل کو زرِکثیر میں بدل کر سب فرائض ادا کر کے سکونِ قلب و نظر سے سرفراز ہوتے ہیں کہ اس ماہِ مقدس میں یہی تو غریبوں کا بھلا ہے نا۔ منافع خوری آج کل کوئی برائی نہیں بلکہ کاروبار کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔ مرچوں میں اینٹیں پیس کر ملانا تو کاروباری ٹوٹکا ہے۔ بھائی قیامت میں ان کے ٹوٹے ہوچکے ہوں گے، ابھی تو شیخ صاحب عیش کر لیں۔
    آٹے میں بھوسی اور چاول میں کنکر ملانے والے حاجی صاحب ہر جمعہ سعودی حکومت کے مہمانِ خاص ہوتے ہیں۔ واہ واہ کیا قسمت پائی ہے حاجی صاحب نے قربان جائیں۔ یہ غریب ننگ دھڑنگ سوکھی ماری قوم تو ہے ہی اس قابل اسے کیا خالص چیزیں ہضم ہوں گی۔ اس کا ہاضمہ تو عادی ہے سکرین کے انجکشن لگے پھل کھانے کا، فضلہ ملے پانی سے اگی سبزیوں اور سڑے ہوئے اناج کی روٹی کھانے کا۔ یہ سب کھا کر بھی زندہ ہے تو اسے ایسے ہی جینے دو۔ خالص غذا کھا کر ہاسپٹل پہنچ گئی تو بے چاری غریب قوم یہ بار کیسے اٹھائے گی؟
    اب آتے ہیں گرمی سے بچائو کے طریقوں کی طرف۔ یہ طریقے تو ہماری حکومت کے پاس بھی ہیں۔ اب دیکھیں نا بجلی ہوگی تو پنکھے چلیں گے، پانی ہوگا تو برف جمے گی، کچرا اٹھے گا تو صفائی ہوگی، کارخانے فیکٹریاں چلیں گی تو روزگار ملے گا، تو حکومت نے اس جھنجھٹ ہی سے اس قوم کو آزاد کر دیا ہے۔ نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔ پاکستانی قوم بھی لگتا ہے اب بے حس ہوگئی ہے۔ لوڈشیڈنگ کے خلاف جو ایک ٹائر جلا کر چند سوکھے تن احتجاج کرتے نظر آتے تھے، اب تو وہ بھی نہیں ہیں۔
    آج کل تو ٹی وی پر بھی بہت گرما گرمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ ایک صاحب نے تو پوری قوم کو اپنی باتوں سے نہال نہال کردیا ہے۔ اب شایدیہ قوم جاگ جائے۔ ٹاک شوز میں گرمی اور روزے سے بے حال حضرات فصاحت و بلاغت کے ایسے ایسے دریا بہارہے ہیں کہ کبھی کبھی تو لگتا ہے کے کسی کچی آبادی کے پس ماندہ محلے کی دو پھپے کٹنیاں لڑ رہی ہیں۔ وہ، وہ سنہری الفاظ سننے کو ملتے ہیں جو لکھنے کیا سوچنے کے بھی قابل نہیں ہیں۔
    اب آپ کو گرمی سے بچنے کا ایک نادر ٹوٹکا بتاتی ہوں جو بہت آزمودہ ہے اسے آزما کر آپ گرمی کیا سردی میں بھی دماغی اور ذہنی وبا اور ہر طرح کے امراض سے محفوظ رہیں گے۔ وہ یہ ہے کہ آپ کے گھر میں ٹی وی یا ایل سی ڈی ہے نا تو اس میں ایک بٹن ہوتا ہے آف کا اسے دبائیں اور ہر طرح کی ٹینشن اور بیماریوں سے نجات پائیں۔ یقین کریں اس ٹوٹکے پر عمل کر کے معمولی بیماریاں تو آپ کے پاس پھٹکیں گی بھی نہیںبلکہ ذیابیطس اور بلند فشارِخون سے بھی جان چھوٹ جائے گی ان شااللہ۔

    ٭…٭…٭

  • گلانے — صوفیہ بٹ (قسط نمبر ۲)

    گلانے — صوفیہ بٹ (قسط نمبر ۲)

    ولی کو کھانا وقت پر ملے نہ ملے ، کرکٹ وقت پر ضرور کھیلنی ہے ۔ پڑھنے کو وقت ملے نہ ملے ، کرکٹ کے لیے وقت ضرور نکل آتا تھا ۔ ا می کو بہت چڑ تھی اس کے اس عشق سے ۔ دھوپ اور گرمی میں کھیل کھیل کر رنگ کالا ہو گیا تھا مگر وہ کون سا لڑکی تھا جو پرواہ کرتا ۔ ان دنوں جو ضلع کی تمام تحصیلو ں کے بیچ مقا بلہ ہو رہا تھا تو و ہ کر کٹ کے علا و ہ باقی سب کچھ بھو لا ہو ا تھا ۔
    ”کرکٹ تیری ماں نے امتحان نہیں دینے تیرے۔ ” ا می کا بس نہ چلتا تھا اس کے میچوں کو آگ لگا دیں۔
    ”ماں تو میری آپ ہی ہیں یور میجسٹی ۔ ” وہ جھک کر امی کے قدموں کو چھوتا۔
    ”کرکٹ تو میرا پیشن ہے پیشن ۔ ”
    ”آنے دو نورالحسن کو … بتاتی ہوں صبح سے کتاب کھول کر نہیں دیکھا۔ ”امی نے اسے دھمکاتے ہوئے کہا۔
    ”مقدس چیزوں کو میں ہاتھ سے چھو کر ہی شکتی حاصل کر لیتا ہوں ۔ ” اس نے ایک بار پھر بات مذاق میں اڑائی۔
    وہ نو ر الحسن تھوڑی تھا جو سر جھکا کر ماں کی بات سنتا اور سر جھکا کر جواب دیتا ۔ ا می سوچتی رہتیں کہ یہ نمونہ جانے کس پر چلاگیا ہے۔ یہ تو ایک ماں کی سوچ تھی جو پل بھر میں بدل جاتی ۔ کچھ بھی تھا ، بیٹیوں جیسا سکھ بھی اسی بیٹے نے دیا تھا ۔ کتنا خیال رکھتا تھا وہ ان کا ۔ گھر کے کام کاج میں ان کا ہاتھ بٹاتا ، باہر کے سب کام نپٹاتا ،رات ان کے پیر دبا کر سوتا ۔
    ”بس یہ کرکٹ میں وقت ضائع نہ کیا کرے ۔”وہ نو ر ا لحسن سے شکایت لگاتیں اور وہ مسکراتا رہتا ۔
    وہ بھی چھٹی کا دن تھا ۔ پہلے تو دیر سے جاگا پھر ناشتا کیے بغیر ہی بیٹ ہاتھ میں لیے گھر سے نکل گیا ۔ شدت کی گرمی میں وہ کرکٹ کھیل کر جو واپس لوٹا تو افریقی مردانہ حسن کا شاہ کار لگ رہا تھا ۔ امی نے اسے دیکھتے ہی حکم صادر کیا۔
    ”میرے پاس مت بیٹھنا ۔ پہلے نہا کر آؤ ۔”
    ”امی ! ماں کو تو ہر روپ میں اپنا بچہ پیارا لگتا ہے ۔”وہ فلسفیانہ انداز میں بولا۔
    ”لگتا ہو گا ۔مگر میرے قریب نہا کر آنا ۔” امی نے ہاتھ سے اسے پرے کیا ۔
    ”امی … آپ منہ سے کہیں یا نہ کہیں ، ہیں آپ میری سوتیلی ماں ۔” گلو گیر انداز ڈائیلاگ ادا کر کے باہر نکلا ۔اپنے کمرے میں جاتے ہوئے اس کو گُلانے آئرن اسٹینڈ کے سامنے کیا نظر آئی ، اس نے موقع غنیمت جانا اور اپنی شرٹ اس کے سامنے لا پھینکی ۔
    ”یہ بھی آئرن کر دو۔”
    ” ام آپ کو آپ کا نوکر نظر آتا ؟” گُلانے نے اس کی شرٹ پاس پڑی کرسی پر پھینکی ۔

    ”گُلانے تم مجھے ” تم ”ہی کہہ لیا کرو ۔ یہ آپ کچھ مس فٹ ہی لگتا ہے تمہارے جملوں میں ۔” وہ اس کا مذاق اڑانے کا کوئی موقع ضائع نہ کرتا تھا۔
    ”ام تو آپ کی عزت کرتا ، اب آپ کو عزت راس نئیں …” جان بوجھ کر مسکراتے ہوئے اس نے جملہ ادھورا چھو ڑا ۔
    ”زیادہ باتیں نہ بناؤ … یہ شرٹ استری کر کے دو ۔”وہ یک دم سنجیدگی سے رعب جھاڑتے ہوئے بولا۔
    ”ام نے کوئی تمارا ٹیکہ توڑی اٹایا اے ۔”اس نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
    ”یہ بھی تو استری کر رہی ہو ناں ۔” ولی نے آئرن اسٹینڈ پر بچھے امی کے دوپٹے کی طرف اشارہ کیا ۔
    ”یہ تو امارا پوجی کا سوٹ اے۔” گُلانے نے عقیدت سے دوپٹے کو دیکھا ۔
    ولی کو سخت مایوسی ہوئی ۔ گھر میں چھوٹا ہونے کی وجہ سے اس نے آج تک جو خدمات دی تھیں ، وہ اسے گُلانے کی صورت وصول ہوتی نظر آئیں ۔وہ اس سے چھوٹی تھی۔ اب کوئی تو تھا جس پر وہ رعب ڈال سکتا تھا ، کوئی تو تھا جس سے وہ کام کروا سکتا تھا مگر گُلانے نے اسے مایوس ہی کیا تھا ۔ وہ اس کے رعب میں آتی تھی نہ ہی اس کا کوئی کام کرتی تھی۔ اس کو لگتا تھا کہ یہ سارا امی کا قصور ہے جنہوں نے پہلے دن اسے ماسی بنا کر اس لڑکی کے سامنے پیش کر دیا ، اسی حساب سے اب وہ اسے اہمیت دیتی تھی۔
    ایسا کیا کیا جائے جو یہ لڑکی اسے باس ماننے پر مجبور ہو جائے ۔ابھی وہ لائحہ عمل تیار کر ہی رہاتھا جب اس کی نظر آئرن اسٹینڈ پر پڑی ۔
    ”یہ …یہ کیا …میری شرٹ تم سے استری ہوتی نہیں ۔ بھائی کا کلف لگا سوٹ استری ہو رہا ہے ۔ خوب…”اس نے طنزیہ انداز میں اسے کہا۔
    ”ہاں تو ان کے کپڑے میں استری نہیں کروں گی تو اور کون کرے گا ۔” گُلانے نے نہایت سکون کے ساتھ جواب دیا ۔
    ”کیوں … ان پر اتنی مہربانی کیوں؟” ولی نے مشکوک نظروں سے اسے گھورا۔ ”پرسوں میں نے چائے بنانے کا کہا تو محترمہ کو پڑھائی یاد آ گئی۔ اور بھائی نے ابھی گھر میں قدم رکھا ہی تھا کہ چائے کا کپ لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہو گئیں ۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں ۔” اس کے اندر سہیل وڑائچ نے انگڑائی لی۔
    ” نورا لحسن تو امارا مالک اے۔ اس کے سارے کام کرنا تو گُلانے کا پر ض ( فرض ) اے۔” اس نے اسی اطمینان اور سکون سے کہا۔
    ”واہ جی …کیابات ہے۔ نورا لحسن تو مالک ہے ۔ اور مالک کا بھائی؟”اس نے کمر پر ہاتھ ٹکاتے ہوئے کہا۔
    ”مالک کے بھائی نے امارا پیسہ توڑی دی۔” وہ حساب کتاب پکے رکھتی تھی۔
    ”پیسا؟ ” وہ حیران ہوا تھا ۔
    ”ہاں … پوری تیس ہزار دی نورالحسن نے گل زما ن کو ۔”
    وہ اب متجسس ہوا تھا ۔ بھائی نے کیا کہانی سنائی تھی اور اصل کہانی کیا تھی ۔یہ تو و ہ ا ب جا ن پا یا تھا ۔
    ٭٪٭٪٭٪٭٪٭
    ہانیہ کی طبیعت رات سے کچھ بہتر نہ تھی جس کی وجہ سے آج وہ ڈیپارٹمنٹ نہیں آئی تھی۔ اس کی غیر موجودگی میں نور کو احساس ہوتا تھا کہ وہ اس کے لیے اچھی دوست توہے ہی ، بہترین باڈی گارڈ بھی ہے۔ابھی بھی اس کی کمی کو محسوس کر تے ہو ئے و ہ کلا س ا ٹینڈ کر کے گرلز کامن رو م کی طرف آرہی تھی جب خزیمہ داؤد اس کے سامنے آیا تھا ۔
    ”ہائے نور !”
    اس کی تیوری پر بل پڑے ۔ اس کے حجاب کی وجہ سے خزیمہ کو یہ بل نظر نہ آئے مگر آنکھوں میں یہ تحریر آج بھی نظر آئی تھی ۔
    ”Prohibited”
    اس کو ایک دفعہ پھربچپن کے شوق چڑھے ۔ جستجو اور تجسس کی تو جیسے اسے گڑتی ملی تھی۔
    ”مجھے یہ نوٹس آپ کے ساتھ شیئر کرنے تھے۔ اس میں نیوٹن کی Philosophiae Naturalis Principia Mathematica.سے کچھ پوائنٹس لیے گئے ہیں ۔ آپ تو جانتی ہیں کہ اس بک کی انگلش کاپی بھی ابھی تک دست یاب نہیں ۔ ” اس نے سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق بات شروع کی۔
    ”آپ نے یہ نوٹس باقی کلاس کے ساتھ شیئر کیے ہیں ؟ ” نور نے نوٹس تھامنے کے لیے ہاتھ آگے نہیں بڑھایا تھا ۔
    ”نہیں ۔ ”
    ”پھر مجھ سے بھی شیئر نہ کریں ۔ ”اس نے گرلز کامن روم کی طرف قدم بڑھائے ۔
    ”ایک منٹ نور ۔ ” وہ اس کے ساتھ ساتھ چلا ۔
    ”جی کہیں ۔” اسے رکنا پڑا تھا ۔
    ”میرے بھائی کی شادی ہے ۔ آپ اور ہانیہ آئیں گی تو مجھے خوشی ہو گی۔ میں آپ لوگوں کا کارڈ بھی لے کر آیا ہوں ۔ ”
    ”آپ نے باقی کلاس کو انوائٹ کیا ہے ؟” اس نے روایتی سرد مہری سے پوچھا۔
    ”صرف فرینڈز کو ۔ ”اس نے صاف گوئی سے جواب دیا۔
    ”سوری … آپ اپنا کارڈ ضائع مت کریں ۔ میں آپ کی فرینڈ نہیں ہوں ۔” وہ یہ کہہ کر رکی نہیں تھی ، کامن روم میں چلی گئی ۔خزیمہ بھی ہمت ہارنے والوں میں سے نہ تھا۔ اگلے دن ہانیہ ڈیپارٹمنٹ آئی تو اس نے کارڈ اسے تھما دیا ۔
    ”کون کون سی ڈشز ہوں گی؟” ہانیہ نے شادی کا ذکر سنتے ہی پوچھا ۔اس کی طرف سے ایسا سوال غیر متوقع نہیں تھا ۔ خزیمہ نے ان ڈشز کے نام بھی گنوا دیے جو مینیو میں نہیں تھیں ۔
    ”اچھا لگتا تو نہیں ہے ۔ ” وہ بھی کم استاد نہ تھی۔
    ”کیوں ؟”
    ”تمہاری صحت دیکھ کر تو نہیں لگتا کہ تمہارا تعلق کھاتے پیتے گھرانے سے ہے۔
    ”اور تمہاری صحت دیکھ کر …” باقی جملہ ادھورا چھوڑ دیا گیا ۔ اس وقت دشمنی مول نہیں لی جا سکتی تھی۔ یہی تو وہ کریکٹر تھی جس کا رومانوی داستانوں میں بڑا رول ہوتا ہے ۔ہیروئن کی سہیلی …
    مانا کہ خزیمہ داؤد کو لو اسٹوریز پڑھنے اور دیکھنے کا کوئی شو ق نہ تھا مگر یہ تو قصہ ما ضی تھا ناں ۔
    ٭٪٭٪٭٪٭٪٭
    ”بھائی مجھے تیس ہزار چاہئیں۔”
    نورالحسن نے کتاب سے نظر ہٹا کر انوکھے لاڈلے کی طرف دیکھا۔ چھوٹی موٹی فرمائشیں تو اس کی چلتی رہتی تھیں مگر ایک ساتھ تیس ہزار ۔
    ”کیوں بھئی … ایسی کیا ضرورت پڑ گئی ۔” اس نے مسکرا کر پوچھا ۔
    ”میں نے اپنے لیے کنیز خریدنی ہے ۔”
    ” کنیز ۔ ” وہ حیران ہوا۔
    ”ہاں کنیز… جو میرے اشاروں پر چلے ۔ میرے حکم پر پلک جھپکتے میں چائے بنا لائے ، میرے کپڑے استری کر دے ۔”وہ ٹیپ ریکارڈر کی طرح بولا۔
    ”ایسے کام کنیز نہیں بیوی کرتی ہے ۔” وہ مسکرا کر بولے ۔
    ”نہیں اب وہ دور نہیں رہا، اب تو ایسے کام بیوی کرواتی ہے ۔” اس نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے کہا ۔
    ”اب کنیزوں اور باندیوں کو خریدنے کا دور بھی نہیں رہا ۔” نور الحسن نے اس کی بات کو انجوائے کرتے ہوئے کہا۔
    ”مگر آپ نے تو خریدی۔ ” وہ فوراً بولا تھا ۔
    ”کیا مطلب؟” نو ر الحسن چونکا ۔
    ”ہوں … تو نکلا چھپا رستم … تو نکلا چھپا رستم ۔ ” و لی شرارت سے گنگنانے لگا تھا ۔ نورا لحسن اسے گھورنے لگا۔
    ”بھائی وہ میجر صاحب یاد ہیں جو کچھ عرصہ ہمارے پڑوس میں رہے تھے ۔ وہی… جن کی تین بیویوں سے اولاد نہیں تھی تو پھر وہ پشاور کی طرف کسی گاؤں سے چوتھی بیوی خرید کر لائے تھے پچیس ہزار میں جس کے تین بیٹے ہوئے تھے ۔”
    ”ہاں … یاد ہے ۔ ”نور الحسن پلکیں چھپکے بغیر بولا۔
    ”اس وقت یہ میجر صاحب کا قصہ سن کر مجھے لگتا تھا کہ سیف الملوک والا قصہ سچا ہی ہے ، سرحد میں واقعی پریاں رہتی ہیں جو پچیس ہزار میں مل جاتی ہیں ۔ اب پتا چلا کہ پریوں کے ہاں بھی مہنگائی کا دور ہے ۔ پری پچیس کے بجائے تیس ہزار کی ہو گئی ۔”وہ بنا رکے بولے جارہا تھا۔
    ”کیا مطلب ؟” نور الحسن اب سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔
    ”گُلانے ۔ ” ولی انگلیوں کو نچاتے ہوئے مسکرایا ۔
    ”میں بھی کہوں ، کیوں بھاگ بھاگ آپ کی خدمتیں کرتی ہے وہ ، کیوں ا تنی عقیدت سے کہتی ہے ”امارا مالک اے نور الحسن۔ ” یہاں تو آقا و کنیز کا قصہ ہے ۔ ” اس نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا۔
    ” ولی تم سے یہ سب کس نے کہا ؟” نور الحسن نے سنجیدگی کے ساتھ دریافت کیا ۔
    ”خود گُلانے نے ۔ ” اس کی نظروں میں ابھی بھی شرارت تھی جس سے نور ا لحسن کو الجھن ہو رہی تھی۔
    ”بھائی ! سچی بتائیں یہ پٹھان اپنی بیٹیاں بیچتے ہیں کیا ؟ ”وہ یک دم سنجیدہ ہوگیا تھا۔
    ”میں اس بارے میں شیور نہیں ہوں ۔ افغانستان ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے کچھ قبائل میں ” والوار ” نامی ایک رسم ہے جس کا مطلب ہے ”دلہن کی قیمت” ، جس میں دلہا، دلہن کے ماں باپ کو شادی پر آنے والے اخراجا ت ادا کرتا ہے ۔ ایسا عموماً غریب گھرانوں میں ہوتا ہے ۔ ایسی رسومات ملک کے دوسرے صوبوں میں بھی پریکٹس میں ہیں ۔” نور الحسن اسے بتانے لگا۔
    ”پھر میجر صاحب کی چوتھی بیوی ؟ ”ولی یک دم بولا۔
    ”کچھ ایسے کیسز سامنے آئے ہیں جس میں بیٹیوں کو حقیقتاً بیچا گیا ، مگر اس عمل کو صرف پٹھانوں کے ساتھ یا تمام پٹھانوں سے منسوب کرنا ٹھیک نہیں ۔ بلوچستان میں تو یہاں تک سنا کہ کچھ قبائل میں بیٹی کو تول کر اس کا مول لگایا جاتا ہے ۔ ہے تو افسوس ناک امر مگر حقیقت ہے کہ پورے ملک میں ہی کئی لالچی یا غربت کا شکار مجبور ماں باپ بیٹیوں کا سودا کرتے ہیں ۔” نور الحسن کا لہجہ افسردہ سا ہوا۔
    ”گُلانے کو لالچ میں بیچا گیا یا مجبوری میں ؟”نور الحسن نے اسے حقیقت بتا دی۔
    ”گُلانے کو اس کے بابا نے نہیں بیچا بلکہ گل زمان نے اس کا سودا کیا جو کہ اس کی پھوپھو کا شوہر اور گُلانے کا نگران تھا ۔اور اس نے لالچ میں اسے بیچا ۔”نور الحسن نے اسے حقیقت بتا دی۔
    ”اچھا ۔ مگر آپ نے کیوں خریدا ؟”اس کا تجسس عروج پر تھا۔
    نورالحسن نے تاسف سے سرہلایا ۔ اسے آج گُلانے پر غصہ آ رہا تھا ۔ ولی سارے جواب لے کر ہی ٹلاتھا ۔
    ٭…٭…٭

  • موسمِ گرما —- حرا قریشی

    موسمِ گرما —- حرا قریشی

    میں وہ ”موسمِ گرما” ہوں جسے بچے ‘بوڑھے’ جوان کئی مختلف صورتوں میں یاد کرتے ہیں۔ ان مختلف صورتوں میں سے ایک آئے دن ہونے والی ”لوڈ شیڈنگ” ہے جو میرے لیے ایک سرگرم تنظیم ہے۔ موسم گرما کی تاریخ کا جب بھی مطالعہ کرو۔ لوڈشیڈنگ جیسی عفریت کا ذکر زبان زد عام آتا ہے جس پر گرمی کے مارے لوگوں کے عظیم الشان فرمودات کا تذکرہ نہ کرنا انصاف کے زمرے سے باہر ہو گا.ایک صاحب کہتے ہیں:
    ”بھائی پورے تین بجے لائٹ آئے گی کہ آج کل ایک ایک گھنٹے کے وقفے سے جارہی ہے۔ حسن اتفاق لائٹ ڈھائی بجے آجاتی ہے تو ایک صاحب فرماتے ہیں۔”
    ” حیرت ہے! آج لائٹ آدھا گھنٹہ پہلے ہی آگئی۔ اسے کہتے ہیں نہ مرے چین نہ مرائے چین!۔”
    یہ تنظیم سر گرم دن ہو، رات ہو یا سہ پہر اپنے فرائض سے غفلت برتنا گناہ کبیرہ سمجھتی ہے۔ یہ وہ صورت ہے جس کی وجہ سے میری بے چاری ننھی سی ناتواں جان پر کتنے ہی ستم ٹوٹتے ہیں پھر ستم بالائے ستم جو مجھے اکیلے برداشت بھی کرنے پڑتے ہیں۔ اب چاہے کسی کا سولر پینل اڑے، جنریٹر جواب دے جائے، پنکھاجل جائے، ائیرکولر یک دم رُک جائے، آندھی آئے یا طوفان۔لائٹ نے تو جانا ہی جانا ہے اور تنظیم نے بھی اپنا کام کرنا سو کرنا ہے۔ ایک اور صورت ملاحظہ ہو۔میری آمد پر ”چائے بی بی” کی شکل و صورت رونی ہو جاتی ہے.جب ”چائے”کے ہوٹلوں کا دھندا ماند پڑ جاتا ہے، تو اس کی سرد مہری عروج پر ہوتی ہے۔اس کا اترا چہرہ”غم زدہ آنکھیں” افسردہ ناک نقشہ دیکھ کر مجھے بہت ترس آتا ہے (دل سدا کا رحم دل جو ٹھہرا) پرکیا کروں میں بھی گرم، چائے بھی گرم ایسا تو ہو گا نا پھر!
    کوکا کولا، پیپسی یا لیموں پانی جیسے ٹھنڈے ٹھار مشروبات مجھے دعائیں دیتے نہیں تھکتے۔
    تو بھئی اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
    کیوں اداس رہتے ہو میاں گرمیوں کی شاموں میں
    انواع و اقسام کے ”حشرات الارض” بھی میری آمد پر پھولے نہیں سماتے۔گھر ہو دفتر یا دکان یہ ہر کونے کھدرے سے نکل، بنی نوع انسان کو سلامی دینے آتے ہیں۔حق ہا!اس سلامی کا صلہ جو مجھے ملتا ہے۔یقین جانیے! اس ناتواں جان پر بڑاگراں گزرتا ہے۔ صبروتحمل اور قناعت جیسے اوصاف چوں کہ ازل سے میری گٹھی میں شامل ہیں، سو جناب کوئی صلواتیں سنائے یا کسی ناپسندیدہ مہمان کی صورت میرے جانے کے لیے دن گن گن کر گزارے۔میرے مزاج پر ذرّہ بھر اثر نہیں ہوتا۔ بہ قول شاعر ”مومن خان مومن” رنج راحت فزا نہیں ہوتا۔اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا۔
    بینگن، ٹینڈے، بھنڈی یا توری سبزیوں کے قبیلے سے تعلق رکھنے والی یہ نازک اندام حسینائیں مجھ سے اُکتائی سی رہتی ہیں جب لوگوں کی گز گز بھر کی زبانیں انہیں بُرا بھلا کہتی ہیں۔ نتیجے میں ان کا سارا نزلہ مجھ جیسے بہادر ہیرو پر آ گرتا ہے۔ اب چوں کہ ہیرو بہادر ہے تو کب کہاں وہ کسی سے ڈرتا ہے!
    ضخیم قسم کی کتابوں کو بھی مجھ سے کئی گلے شکوے رہتے ہیں جب بہ صورت پسینا ان کے سرورق پھٹتے ہیں۔تو میاں صاحب!میں تو سو کی بس ایک بات کہتا ہوں جو کروڑ روپے مالیت سے کم نہیں ہے۔ہمہ تن گوش ہو جائیے، ذرا کان قریب لائیے۔آپ کا جب بھی جی چاہے مطالعے کا تو جناب عالی! ائیر کنڈشنز’اے سی’ ائیرکولرز کی صحبت سے استفادہ کیجیے۔ نہ مل سکے یہ تو سکھ چین یا پیپل کی چھاؤں میں کتابوں کا اعادہ کیجیے۔ ویسے آپس کی بات ہے میں (موسمِ گرما) کتنے ہی گراں قدر مفت مشورے دے ڈالوں، کسی لڑاکا ساس کی طرح سارے جہاں کی برائی میرے ہی حصے میں آتی ہے۔ ایک میں ہی برا ہوں باقی سب لوگ اچھے ہیں!عالی قدر شاعر”ظہیر کاشمیری”نے بھی کیا خوب میری حالت زار پر نظرثانی کی ہے۔اپنے گلے میں اپنی ہی بانہوں کو ڈالیے۔جینے کا اب تو ایک یہی ڈھنگ رہ گیا!
    اپنے گلے میں اپنی ہی بانہوں کو ڈالیے
    جینے کا اب تو ایک یہی ڈھنگ رہ گیا
    کسی رو پہلی محبت کی مانند ”آم” جیسی نعمت بھی تو لے کر آتا ہوں اورکیا یہ شرف کم ہے کہ مشہور زمانہ شاعر ”غالب” بھی کہتا تھا کہ ”آم ہوں اور بہت ہوں!”تو میاں ایسی عزت افزائی شاید ہی کسی موسم کے حصے میں آئی ہو۔یہ میں ہی ہوں جس کی وجہ سے لوگوں کو بہ وقت شب مچھروں سے مقابلہ کرنا آجاتا ہے۔ یہ میں ہی ہوں جس کے سبب انسان بعد از برسات ڈھیر سارے پروانوں سے نمٹنا سیکھ لیتا ہے۔یہ میں ہی ہوں جس کے دم سے موم بتی، لالٹین اور چراغوں کی اہمیت باقی ہے۔یہ میں ہی ہوں جو ہر گرد آلود آندھی کے بعد بشر کو صفائی نصف ایمان جیسے فریضے کے لیے مستعد کرتا ہوں۔یہ میں ہی ہوں جس کے باعث تمازت سے کملائے اور پڑھائی سے بوکھلائے بچوں کو پورے تین ماہ کی چھٹیوں کا مزا دیتا ہوں۔ پھر بھی کسی سے کوئی جزا نہیں لیتا۔ اُلٹا استقامت، بردباری اور صبروتحمل سے اوصاف ہر بچے، بوڑھے اور جوان میں پیدا کر دیتا ہوں اور بالآخر اک سرد آہ بھر کر کہتا ہوں۔
    ہم نہ کہتے تھے کہ ”اے موسم گرما” چپ رہو
    راست گوئی میں ہے رسوائی بہت!
    (حالی سے معذرت کے ساتھ)
    ٭…٭…٭

  • گلانے — صوفیہ بٹ (قسط نمبر ۱)

    گلانے — صوفیہ بٹ (قسط نمبر ۱)

    رات نے ہاتھ میں سیاہ دوات لے کر ہر سو اندھیرا چھڑک رکھا تھا ۔
    کچھ ایسی ہی تاریک اس شخص کی زندگی بھی تھی جس کے ہاتھ میں سگریٹ اور نگاہ آسمان پر تھی۔ وہاں کچھ ٹمٹماتے تارے تھے ۔ اس کی نظریں دور کہیں ایک ستارے کو ڈھونڈ رہی تھیں مگر وہ ملتا نہ تھا۔ سگر یٹ اس کا ہاتھ جلا گئی ۔ اس نے جھٹک کر اسے پھینکا اور دوسری نکال کر سلگا لی۔
    یوں تو عرصہ ہو ا زندگی دشوار ہوئی مگر کبھی کبھی تو ایسا گھائل کرتی کہ اس جیسا مضبوط اعصاب والا بندہ بھی خودکشی کے بارے میں سوچنے لگتا۔ وہ اپنا شہر چھوڑ آیا ، جان پہچان کے لوگوں سے دور ہو گیا پھر بھی ماضی دامن نہ چھوڑتا تھا ۔ زلیخا کی طرح رسوا کرنے پہ تلا تھا۔
    وہ جہاں بھی چلا جاتا یہ خبر پانی کی طرح رستہ بناتے ہوئے وہاں پہنچ جاتی اور لوگ ترحم بھری یا پھر طنزبھری نظروں سے اسے دیکھنے لگتے تھے۔ وہ جو ایک وجیہہ و شکیل مرد تھا ، جس کا اپنی فیلڈ میں نام اور ایک مقام تھا جسے لوگ رشک یا حسد کی نگاہ سے دیکھتے ، ایک دم انہیں بے چارا سا لگنے لگتا۔
    ”کافی ٹھنڈ ہے یہاں …ہے ناں ؟ ” قرة العین اس کے پیچھے کب آ کھڑی ہوئی ، اسے پتا ہی نہ چلا تھا۔ قرة العین نے ایک طرف دیوار میں لگے سوئچ بورڈ پر دو تین بٹن دبائے تو بالکونی روشن ہوگئی۔ اس نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا، وہ وہیں اسی پوزیشن میں کھڑا تھا۔ اس کے آنے اور بالکونی روشن ہونے سے اسے جیسے کوئی فرق نہیں پڑاتھا۔ کورٹ میں ، چیمبر میں ایک ایک لمحہ حرکت میں رہنے والا یہ شخص جب کبھی اپنی ذات میں گم ہوتا تو یوں لگتا جیسے اب اس کیفیت سے عمر بھرباہر نہیں نکلے گا ،کبھی اس جگہ سے نہیں ہلے گا ،کبھی دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھے گا۔

    ”ڈنر میں سب آپ کا پوچھ رہے تھے۔ جسٹس صفدر نعیم کی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دفعہ ان کا بیٹاسیالکوٹ بار کونسل کے صدر کا انتخاب لڑے گا۔ ”
    اگر وہ کچھ سمجھ دار ہوتی تواس کے چہرے کے تاثرات سے بخوبی اندازہ لگا لیتی کہ اسے اس وقت جسٹس صفدر نعیم یا ان کے بیٹے کی باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں۔
    ”میں نے سنا ہے کہ ججز کے لیے کمیشن اناؤنس ہونے والا ہے ، کیا مجھے اپلائی کرنا چاہیے؟” وہ ایک اور خبر دیتے ہوئے اس سے رائے مانگ رہی تھی۔ اس کے چہرے اور آنکھوں سے صاف ظاہر تھا کہ وہ جواب اثبات میں چاہتی ہے۔ مگر اس شخص کی طرف سے اثبات میں اور نہ ہی نفی میں کوئی جواب ملا تھا۔ اس کی انگلیوں میں دبی سگریٹ سلگتے سلگتے آخری سانسیں لے رہی تھی۔
    ”جسٹس سلیمان نواب کہہ رہے تھے کہ صرف اپنے آپ پر نہ اتراتے پھرنا، سفارش ضروری ہے، بلکہ ضروری ہی سفارش ہے۔ کیسی نا انصافی ہے ناں؟ جب بڑے لوگ اتنی چھوٹی بات کرتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے۔” ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے طبیعت پر خوب اثر ڈالا۔ قرةالعین گہرا سانس لیتے ہوئے یاسیت کی کیفیت سے باہر نکلی۔
    ”ایک ہی ملک میں مختلف موسم… مجھے گرم کپڑے رکھ لینے چاہئیں تھے …آپ نے رکھے؟”
    ”آپ اس وقت میرے کمرے میں کیا لینے آئی ہیں مس غنی ؟” وہ اچانک اس کی طرف مڑا اور درشت لہجے میں پوچھا۔
    ”میں یہاں …وہ …” وہ جوبڑے آرام سے اسے ڈنر کے موقع پر حاصل ہونے والی خبریں سنا رہی تھی،اس سے اب بولنا دشوار ہو گیا۔
    ”جاؤ یہاں سے ۔اسکینڈل بنوانے کا زیادہ شوق ہے تو کسی اور کے کمرے میں جاؤ۔”
    اس کے لفظ زہریلے تھے اور لہجہ اس سے بھی زیادہ تلخ۔
    قرةالعین کچھ دیر گنگ سی کھڑی انہیں دیکھتی رہی۔جب تیزی سے پانیوں سے بھرتی آنکھیں برسنے کو ہوئیں تو وہ عجلت سے مڑی، کمرے میں آ کر سائیڈ ٹیبل پر پڑی ایک فائل اٹھائی اور کمرے سے نکل گئی۔
    ٭…٭…٭
    رات کا جانے کون سا پہر تھا ۔چاند اس کی کھڑکی کے سامنے آ کر ٹھہر گیا تھا ۔ اس کے سامنے دو کتابیں کھلی پڑی تھیں، ساتھ ہی کچھ صفحات تھے ۔ اوپر والے صفحے پر "And” اور "Or”گیٹس ڈرا کیے ہوئے تھے ۔اس کے اوپر اسکیل اور ربر پڑے تھے ۔پنسل اس کی انگلیوں میں دبی ہوئی تھی اور وہ کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہی سو گئی تھی۔ ہانیہ کی آنکھ کھلی تو تاسف سے سر ہلاتے ہوئے بیڈ سے اٹھی۔اس کے پاس آکر کتابیں بند کیں اورآہستگی کے ساتھ اس کا کندھا ہلاتے ہوئے اسے پکارا۔وہ ڈر کر جاگی تھی۔ اس کے منہ سے ہلکی سی چیخ بھی نکلی۔پھر وہ خوف زدہ نظروں سے ہانیہ کی طرف دیکھنے لگی۔
    ”اٹھو…بستر پر سو جاؤ۔” وہ جیسے کچھ نہ سمجھی تھی۔ یونہی تیز سانس لیتی اسے دیکھتی رہی۔
    ”بستر پر جاؤنور …بہت رات ہو گئی ہے۔” ہانیہ نے پھر نرمی سے کہا ۔
    ”نہیں …مجھے ابھی الیکٹرونکس کی اسائنمنٹ مکمل کرنی ہے ۔” اس نے اسکیل اور ربر اٹھا کر ایک طرف رکھے اور کاغذ پر بنے gatesکو دیکھنے لگی۔
    ”صبح بنا لینا… رات آرام کے لیے ہوتی ہے ۔” ہانیہ نے دونوں کتابیں بند کر دیں ۔
    ”صبح مڈ ٹرم کی تیاری کرنی ہے ۔” وہ اٹھنے کو تیار نہ تھی۔
    ”تو یار یہ کون سا میجر ہے جس کے لیے اتنا مغز مار رہی ہو۔ مائنر ہی تو ہے، چھوڑو۔”
    ”علم تو علم ہوتا ہے ۔ مائنر یا میجر سے فرق نہیں پڑتا ۔ انسان زندگی میں بہت سی چیزوں کو مائنر (معمولی) سمجھ کر اہمیت نہیں دیتا۔ یہی مائنر کبھی کبھی بڑی بلا بن کر حملہ کرتے ہیں تو خوشی، سکون ، اعتبار ، اعتماد سب نگل جاتے ہیں۔” ایک اندھیری رات کی دہشت سے آج بھی اس کا رنگ پیلا پڑا ہوا تھا۔
    ”یار تیری باتیں تو مجھے دن میں سمجھ نہیں آتیں ، رات کے اس پہر خاک پلے پڑنی ہیں۔” ہانیہ نے جمائی لیتے ہوئے ہار مانی۔ وہ جانتی تھی کہ اب وہ اس کے پاس گھنٹا کھڑی ہو کر اس کی منتیں بھی کر لے پھر بھی وہ دوبارہ سونے والی نہیں ۔اس نے اسائنمنٹ مکمل کر کے ہی اس کرسی سے اٹھنا تھا ۔وہ بڑبڑاتی ہوئی اپنے بیڈ پر واپس گئی۔
    ”صدر مملکت نے ایوارڈ دینا ہے ناں تمہیں۔” ہانیہ بُرا سامنہ بناتے ہوئے بستر پر لیٹتے ہوئے بولی۔
    وہ منہ پر چھینٹے مار کر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔ ہانیہ کی بڑبڑاہٹ اس کے کانوں تک پہنچتی رہی۔یہاں تک کہ وہ دوبارہ نیندکی وادی میں پہنچ گئی مگر اسے اب رات بھر نیند نہیں آنی تھی۔
    اس کا دل ابھی بھی تیزی سے دھڑک رہاتھا۔ اور ماتھے پر پسینا چمک رہا تھا ۔
    ٭…٭…٭
    وہ ایک بدترین ایکسیڈنٹ تھا۔
    کار،موٹر سائیکل اور ٹرالرکے بیچ ہونے والے تصادم میں چار جانیں چلی گئیں۔ سیاہ مرسڈیز میں سوار دونوں لڑکے جان کی بازی ہار چکے تھے ۔ موٹر سائیکل والا لڑکا بھی مر چکا تھا۔صرف اس کے پیچھے بیٹھے لڑکے کی سانسیں چل رہی تھیں مگر حالت ایسی تھی کہ کوئی معجزہ ہی اسے بچا سکتا تھا۔ اور حواس کھو دینے سے قبل اس نے معجزہ ہو جانے کی شدت سے دعا مانگی تھی۔
    مرنے سے پہلے وہ ایک چہرہ دیکھنا چاہتا تھا ۔
    مرنے سے پہلے وہ ایک لفظ کہنا چاہتا تھا ، ایک جملہ سننا چاہتا تھا ۔
    اس نے معجزہ ہو جانے کی شدت سے دعا مانگی تھی۔ رب نے اس کی سن لی وہ بچ گیاتھا۔
    ٭…٭…٭
    دو روزہ انٹرنیشنل جوڈیشل کانفرنس آج اپنے اختتام کو پہنچی تھی۔ ان کے ضلع کے ججز اور وکلا نے ایک دن اسلام آباد کے خوب صورت مقاما ت کی سیرکے لیے مختص کیا تھا ۔لوک و ر ثہ ،شکر پڑ یا ں اور پاک مونومنٹ گھومنے کے بعد وہ 1969 ریسٹورنٹ لنچ کے لیے پہنچے تھے۔ ریسٹورنٹ میں چلتا ساٹھ اور ستر کی دہائی کا میوزک ، میز کے شیشے کے نیچے ر کھی اس دو ر کی خبر و ں کے تراشے بو ڑ ھوں کو ا یام جوانی کی یاد دلاتے اور جوانوں پر پچھلی صدی کا سحر سا طاری کر دیتے ۔ سب اس ماحول میں لذیذ کھانے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے مختلف موضوعات پر مبنی گفتگو میں مگن تھے مگر قرةالعین خلافِ معمول آج چپ چپ سی تھی۔ساتھیوں کے استفسار پر بھی اس نے انہیں ”طبیعت کچھ صحیح نہیں ” کہہ کر ٹال دیا تھا۔وہ جانتا تھا قرةالعین کی خا موشی اور آزُردگی، کی و جہ، مگر ا س نے معذر ت کی ضر و ر ت نہ سمجھی تھی۔
    غلطی اس کی تھی۔ بغیردستک دیے کسی کے کمرے میں آنا اس کے نزدیک سب سے بڑی بدتہذیبی تھی۔ اوپر سے یہ دیکھے بغیر کہ سامنے والا سننے کے موڈ میں ہے بھی یا نہیں ، بولتے چلے جانا،یہ بھی تہذیب کے دائرے میں ہر گز نہ آتا تھا۔مزید غصہ اسے یہ آیا تھا کہ آج کل کے جوانوں میں عقل سمجھ تو ہے نہیں، ملک بھر کی عدلیہ اور دنیا کے مختلف ممالک سے آئے قانون دان اس ہوٹل میں جمع تھے ۔صحافیوں نے ان کے پہنچنے سے پہلے وہاں ڈیرے ڈالے ہوئے تھے ۔ اور وہ چلی آئی تھی رات کے اس پہر ا س کے کمرے میں ۔ کوئی بھی اسے وہاں ،رات کے اس پہر اس کے کمرے میں آتا جاتا دیکھ لیتا توکہانی اپنی مرضی کی گھڑتا۔ دوسرے شعبوں کی طرح اس فیلڈ میں بھی حسد و بغض کی کمی نہیں تھی۔ وہ ایک کم عمر بے وقوف لڑکی کی وجہ سے اپنا نام اور مقام خراب نہیں کرسکتا تھا۔
    ”آپ کو کیا لگتا ہے چیف جسٹس جواد خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اردو کو آفیشل لینگویج کے طو ر پر اڈاپٹ کرنے کا جو حکم صادر کیا ہے وہ امپلی منٹ ہو گا یا صرف دیوانے کا خواب بن کر رہ جائے گا ؟” سیشن جج اعتبار احمد نے کانٹا چمچ چلاتے ہوئے تبصرہ کیا تو اس کا دھیان بھی اُدھر ہوا۔
    ”آپ نے اپنے سوال میں جتنے انگریزی کے الفاظ استعمال کر ڈالے ،اس سے تو نہیں لگتا ۔ ” جوڈیشل مجسٹریٹ خورشید عطا نے مچھلی کا ٹکڑا پلیٹ میں رکھتے ہوئے ہنس کر کہا ۔
    ”اردو بھی تو بہتر ہوئی ہے میرے ہم دم… یہ بھی تو ملاحظہ فرمائیں۔” اعتبار احمد بھی ان کی اِس بات پر ہنسے تھے۔
    ”مجھے نہیں لگتا۔ کیوں کہ ہمارے یہاں بہت سے ایسے انگریزی الفاظ رائج ہو چکے ہیں جنہیں اردو کے کسی لفظ سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔” جوڈیشل مجسٹریٹ نے نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”اس سے فرق نہیں پڑتا۔ تبدیل کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔ ہر زبان میں ایسے الفاظ پائے جاتے ہیں جن کا اوریجن کوئی اور زبان ہے مثلاً انگریزی ہی لے لیجیے جس میں ہزاروں ایسے الفاظ ہیں جو دوسری زبانوں سے لیے گئے ہیں۔ فرنچ یا لیٹین (لاطینی) ہیں، مگر اب انگریزی کا حصہ بن چکے ہیں۔ لفظ ایڈووکیٹ کو ہی لے لیں۔ اگر اس کی etymology دیکھیں تو اس کا اوریجن فرنچ اور لیٹین ہیں۔ اسی طرح اگر انگریزی کے کچھ لفظ عربی ،فارسی اور سنسکرت کی طرح اردو زبان کا حصہ بن چکے ہیں توکوئی مضائقہ نہیں ۔اس بات کو بنیاد بنا کر ہم اپنی قومی زبان کو پیچھے نہیں دھکیل سکتے۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اس فیصلے کو رائج ہونا چاہیے ۔” وہ اپنی رائے د ے ر ہا تھا اور قرةالعین دل میں اس سے خفا ہونے کے باوجود اسے دیکھے بنا نہ رہ سکی تھی۔اس کی شخصیت میں بلا کی کشش تھی۔
    ”میں اس حق میں نہیں ہوں۔ ہم پہلے ہی پیچھے ہیں ،انگلش کو چھوڑ کر مزید پیچھے چلے جائیں گے۔” لرنڈ کاؤنسل منیب طاہرنے نفی میں سر ہلاتے ہوئے گفتگو میں حصہ لیا۔
    ”چائنا پیچھے چلا گیا؟” اس نے منیب کی آنکھوں میں جھانک کر سوال کیا۔
    ”آپ نے نہیں سنا، ماؤ زے تنگ نے کہا تھا کہ میں دنیا کو بتانا چاہتا ہوں چین گونگا نہیں ہے ۔ اس کی اپنی ایک زبان ہے اور اگر دنیا ہمارے قریب آنا چاہتی ہے یا ہمیں سمجھنا چاہتی ہے تو اسے ہماری زبان سمجھنا اور جاننا ہو گی۔” اس کی آنکھوں میں بلا کی سنجیدگی تھی۔
    خوداری… میرے ہم دم خوداری۔ اپنی زبان کو فروغ دینے کے لیے، عزت دینے کے لیے خوداری لازم ہے اور فقیر خوددار ہو گیا تو کاسہ کیسے بھرے گا ؟” اعتبار احمد پھر ہنسے تھے ۔ وہ کڑوی مگر سچی بات کر گئے تھے ۔
    ”ہم فقیر نہیں ہیں۔” قرة العین نے صدائے احتجاج بلند کی۔
    اس نے بہت غور سے قرةالعین کا سرخ پڑتا چہرہ دیکھا۔ جوانی میں فرطِ جذبات سے چہرہ ایسا ہی ہو جاتا ہے کیوں کہ بات دل سے کی جاتی ہے ۔پھر دھیرے دھیرے وقت، دماغ کو سردار بنا دیتا ہے، اسی کے فیصلے چلنے لگتے ہیں، مصلحتوں سے بھرے لہجے جذبات سے عاری ہونے لگتے ہیں۔ چہرے سپاٹ ہونے لگتے ہیں ۔
    ”خود فریبی سی خود فریبی ہے ۔” اعتبار احمد گنگناتے ہوئے طنزیہ انداز میں ہنس دیے تھے ۔
    قرةالعین کاچہرہ ایک بار پھر لال ہوا ۔اس نے پلیٹ پر جھکنے سے پہلے اس بے درد کو دیکھا جو اپنی رائے دینے کے بعد کھانے میں مصروف ہو چکا تھا۔ یہ اس کی عادت تھی۔ ا پنی ر ا ئے د ینے کے بعد چپ ہو جا تا تھا، بحث میں نہیں پڑتا تھا۔ ہاں دوسروں کا مؤقف ضرور غور سے سنتا تھا۔ مگراس کے معاملے میں یہ نام ور جج اچھا منصف نہیں تھا۔ اس سے جانے کیا خار رکھتا تھا کہ اس کا مؤقف سننے کی کبھی ضرورت ہی نہ سمجھی۔ زیادہ تکلیف دہ بات تو یہ تھی کہ زیادتی کرنے کے بعد اسے احساس تک نہ ہوتا تھا۔ اب بھی اس کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں تھی، انداز میں کوئی ندامت نہ تھی جیسے وہ بھول چکا تھا کہ رات کتنے سخت الفاظ اسے کہہ چکا ہے۔ و ہ تو ڈنر کے بعد جب علینہ اور فرواکے ساتھ وہ روم میں آئی تو اس وقت اسے ایک دم یاد آیا کہ اس نے انہیں شام میں اس پیپر کو ریویو کرنے کو کہا تھا جو ا س نے کل کانفرنس کے پہلے سیشن میں پڑھنا تھا ۔وہ اس کے کمرے سے اپنا پیپر لینے گئی تھی۔یہ اور بات ہے کہ اسے یوں تنہا ،اداس دیکھ کر وہ رہ نہ سکی تھی اور اس کے قریب چلی آئی تھی۔
    یہ سچ تھا کہ اسے اس شخص کی تنہائی تکلیف دیتی تھی۔ اسے اس شخص کا کرب بھی رنج دیتا تھا۔ وہ اس شخص کا ہاتھ تھام لینا چاہتی تھی، اس کو تنہائی کے عذاب سے نکالنا چاہتی تھی، اس کے سب غم سمیٹ لینا چاہتی تھی۔
    ہاں! اس سے انکاری کب تھی وہ۔ ایسا تو وہ چاہتی تھی مگر وہ نہ چاہتی تھی جو یہ بے درد شخص سمجھا تھا اس کی عزت اسے بہت عزیز تھی۔ اس کی بدنامی اسے کب قبول تھی؟ اس کا تو ابھی تک ہیومن رائٹس کی اس علم بردار کا منہ نوچ لینے کو جی چاہ رہا تھا جس نے کل دوپہر اسے ماضی کا طعنہ دیا تھاجس کے بعد سے ہی اس نے اپنے آپ کو کمرے میں بند کر لیا تھا ۔
    اسے سمجھ نہیں آتی تھی کہ کسی کے زخم پر نمک چھڑک کر بھلا لوگوں کو کیا مزہ آتا ہے؟
    وہ اس شخص کے لیے اپنا دل جلا رہی تھی جو اسے اپنے لفظوں اور اپنے رویے سے گھائل کرتا تھا۔
    ٭…٭…٭

  • لالی — شاذیہ خان

    لالی — شاذیہ خان

    رجونے چولہے میں مزید لکڑیاں جھونکیں اور جلدی جلدی پیڑے بنانے لگی ۔ چونکی اُس وقت جب بارش کی کن من اس کے کانوں سے ٹکرائی ۔ وہ سب کچھ وہیں چھوڑ کر صحن کی طرف بھاگی ۔ بھائی بھابھی ابھی سو رہے تھے ۔ کاشی (چھوٹا بھائی ) دوسرے گاؤں گیا ہوا تھا ۔ سواُسے اکیلے ہی صحن میں سے بکھرا سارا سامان اور بھاری بھاری چارپائیاں سمیٹنی پڑیں۔ اس دوران بارش نے اُسے بھگو ڈالا تھا ۔ سب نپٹا کر اُس نے کپڑے بدلے اور دوبارہ چولہے کی طرف آ گئی ۔ سب کے اُٹھنے سے پہلے اُسے ناشتہ تیار کرنا تھا۔ چاٹی میں نمک اور تھوڑا ٹھنڈا پانی ڈال کر وہ جلدی جلدی لسّی بلونے لگی۔ مکھن اوپر آ جانے کے پر اُس نے ہاتھ ڈال کر پیڑا نکالا اور پیالے میں ڈھک دیا۔ بھائی ناشتے میں مکھن اور پراٹھا پسند کرتا تھا ، بھابھی روٹی اور لسّی۔
    چھوٹا رات تک آنے والا تھا ۔ویسے بھی وہ ناشتے میں زیادہ تر گُڑ والی چائے اور روٹی مکھن کے ساتھ کھاتا تھا۔ اُس نے چنگیری میں موجود رات کی بچی ہوئی روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کئے اور مرغیوں کے ڈربے کی طرف آ گئی ۔مُرغیاں کُٹ کُٹ کرتی ایک دوسرے پر چڑھتی روٹی کے ٹکڑوں پر لپکیں ۔ وہ وہیں کھڑی اُن کو ایک دوسرے سے لڑتا دیکھ رہی تھی کہ اچانک دروازے پر دستک ہو ئی ۔ کپڑوں کو بچاتی رجو دروازے پر آئی ۔ کاشی تھا جو کہ بُری طرح بھیگا ہوا تھا ۔ ”کاشی تو اتنی صبح؟ تو نے تو شام تک آنا تھا ”۔ ”ہاں آپا جس کا م کے لئے گیا تھا وہ تو رات کو ہی ہو گیا تھا۔ تو میں نے سوچا کہ اب نکل لوں، بارش سے پہلے ہی گھر پہنچ جاؤں گا مگر بارش نے راستے میں ہی آ لیا۔ وہ تو بھلاہو چھوٹے چودھری صاحب کا وہ بھی گاؤں ہی آرہے تھے ۔ انھوں نے اپنی گاڑی میں بٹھا لیا ۔ تو بتا، ناشتہ بنایا ہے؟” اس نے لمبی کہانی سناتے ہوئے پیٹ پر ہاتھ پھیرا ۔
    ”ارے تو کپڑے بدل میں ابھی تیرے لئے ناشتہ لاتی ہوں”۔ رجو نے تیزی سے ہاتھ چلاتے ہوئے ناشتہ بنا کر ٹرے میں رکھا اور کمرے میں آگئی ۔ کاشی کپڑے بدل چکا تھا ۔ ”آپا پیسوں کا انتظام ہو گیا ”۔ اس نے نوٹوں کی ایک موٹی سی گڈی اُس کے ہاتھ میں تھمائی ۔ وہ رجو کی اور اپنی شادی کے انتظامات کے لئے دوسرے گاؤں میں موجود ابّا کی زمین بیچنے گیا تھا ۔ اچھی قیمت مل گئی تھی ۔
    سب آہستہ آہستہ اُٹھ چکے تھے رجو نے بھائی اور بھابھی کے آگے ناشتہ رکھا۔ بھائی چھوٹے بھائی سے زمین کے سودے کے بارے میں بھی پوچھ رہے تھے وہ بتا رہا تھا کہ بہت تھوڑے سی زمین بچی ہے بوائی واسطے لیکن شکر ہے سودا ہو گیا۔ اب شادی کی تیاری شروع کر دی جائے۔ اس کی اور رجو کی منگنی کو دو سال ہو چکے تھے اور اب دونوں کی سسرال والے شادی کے لیے زور دے رہے تھے۔ اُن کی باتوں کو سن کر رجو اپنے کمرے کی طرف آگئی نہ جانے دل کیوں بھر آیا تھا ابا اور اماں اس وقت بہت یاد آرہے تھے۔ اس وقت اُسے رونے کے لیے کاندھے کی ضرورت تھی اور کوئی کاندھا نہ تھا۔ بھابھی ذرا لئے دیئے میں رہتیں رجو سے ضرورت کے وقت ہی باتیں کرتیں وہ اپنے دل کی ساری بھڑاس اپنی جاں سے پیاری لالی سے کر لیتی لالی اور وہ سہیلیاں تھیں لیکن اس وقت بارش اتنی تیز تھی کہ وہ لالی تک نہیں جا سکتی تھی۔ وہ لالی کو کیسے بتاتی کہ شادی کی بات سُن کر اس کا دل بھر آیا ہے۔

    رجوکی ساس شادی کی بہت جلدی مچا رہی تھیں ۔ انہوں نے دوسال انتظار بھی تو کیا تھا ۔ دو سال پہلے انہوں نے اُسے پھرکی کی طرح پورے گھر میں بھاگ بھاگ کر کام کرتے دیکھا ۔ ہر طرف رجو رجو کی صدائیں گونج رہی تھیں۔ کہیں وہ مہمانوں کے لئے چارپائیاں بچھا رہی ہے ۔ کہیں صبح صبح اٹھ کر ناشتہ کروا رہی ہے ۔ کہیں چولہا سنبھالے مہمانوں کے دوپہر کے کھانے کی فکر میں ہلکان تھی۔ غرض ہر دوسرے شخص کی زبان پر اسی کا نام تھا۔
    رجو کی ہونے والی ساس اس کی دور پرے کی پھوپھی بھی تھیں جو شادی میں شرکت کے لئے اپنے گاؤں سے آئیں تو انہیں محسوس ہوا کہ اس ہیرے کو تو میرے گھر ہونا چاہئے ۔ شکل صورت بھی لاکھوں نہیں تو ہزاروں میں ایک تھی ۔ رجو کے باپ کا انتقال کچھ مہینے پہلے ہی ہوا تھا ۔ دو بھائی تھے ۔ ماں بچپن میں ہی فوت ہو گئی تھی ۔ باپ اور بھائیوں نے بڑا کیا تھا ۔ چھوٹا عظیم جسے سب پیار سے کاشی کہتے تھے رجوسے ایک سال چھوٹا تھا ۔ اس کا رشتہ بھی بھابھی کی بہن سے طے تھا۔ صرف رجو کا رشتہ طے ہونا باقی تھا۔ یہ مسئلہ پھوپھی نے حل کر دیا اور دونوں بھائیوں سے افضل کے لئے ہاں کروا کر ہی اٹھیں ۔ یہ بھی نہ سوچا کہ اس رشتے میں افضل کی خوشی بھی شامل ہے یا نہیں؟
    وہ اپنی چچا زاد زینب سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن ابّا کے آگے مجبور ہو گیا ۔ چند سال پہلے زمین اور جائیداد کے معاملے پر ابّا اور چاچا کا ایسا جھگڑا ہوا کہ اب دونوں بھائی ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے بھی روا دار نہ تھے اوراسی جھگڑے نے افضل کی محبت کو بھی دم توڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔ پچھلے سال جب افضل کا باپ دنیا سے رخصت ہوا تب بھی چاچا اور اُن کا گھرانا بھائی کا منہ تک دیکھنے نہ آیا۔ اماں نے بین ڈالتے ہوئے قسم کھائی کہ آج کے بعد اُس گھر سے کوئی ناطہ نہیں رکھا جائے گا۔ بھلے کوئی مرے یا جئے اور جس نے رکھنے کی کوشش کی تو اُس کے لئے میں بھی مر جاؤں گی ۔ یہ قسم دیتے ہوئے اُن کا مخاطب صرف افضل تھا اور افضل ہاتھ مسلتے ہوئے ابّا کا آخری دیدار کر رہا تھا۔
    کیا خون کے رشتے اتنے سنگ دل اور تنگ دل بھی ہو سکتے ہیں کہ آخری دیدار بھی نہ کریں۔ اس نے ابا کی میّت کو دفن کرتے وقت اپنی محبت کو بھی دکھی دل سے دفن کر دیا۔
    حالاں کہ وہ اور زینب بچپن کے ساتھی تھے ۔ اُن کے بڑے ہمیشہ یہ احساس دلاتے تھے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے لئے ہی ہیں۔ اس بیج نے تن آور درخت کی صورت اس وقت اختیار کی جب لڑکپن میں اُسے کبوتر بازی کا شوق ہوا۔ دن بھر آوارہ گردی کرتے کبوتروں کو بند کرنے شام کو جب چھت پر جاتا وہ نہ صرف اس سے پہلے موجود ہو تی بلکہ اس کے انتظار میں کئی چکر بھی لگا چکی ہوتی ۔ کبھی کبھی سب کی نگاہ سے بچ کر وہ دونوں کسی بڑے پنجرے کی اوٹ میں کچھ دیر دل کی باتیں بھی کر لیتے۔ وہ کبوتروں کے لئے میوے اور دانہ لینے جاتا تو سب کی نظر بچا کر اُس کے لئے بھی کاچھو حلوائی سے جلیبیاں ، قتلمے ، سموسے یا اندرسے ضرور لاتا ۔ دونوں ایک دوسرے کو اپنے ہاتھوں سے کھلا کر بہت خوش ہوتے۔ افضل کو محسوس ہوتا کہ زینب بھی غٹرغوں غٹرغوں کرتی ایک کبوتری ہی ہے ۔ کبوتروں کی کابک تلے ان کی محبت پروان چڑھتی گئی۔ وہ زینب کے گھر جائے یا زینب اس کے گھر دونوں کے ماں باپ اُن پر صدقے واری ہوتے ۔ اُن کے گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ الگ ہو جائیں گے۔
    تعلقات منقطع ہو جانے کے بعد رحیم چاچانے افضل سے جان چھڑانے کے لئے زینب کی شادی اپنی بیوی کے یتیم بھانجے ماجد سے کر دی۔ ماجد کے ماں باپ بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے ۔ پھوپھی نے اسے اپنی اولاد سمجھ کر پالا تھا۔ تھوڑی سی زمین تھی جس پر پھوپھا کی معاونت سے بوائی کرتا اور مشورے لیتا۔ شادی کے بعد زینب نے اُسے ایک پل سکون نہ دیا ۔ ہر دوسرے دن جھگڑا کر کے میکے آ بیٹھتی اور کسی طور جانے کے لئے راضی نہ ہوتی ۔جھگڑے کی وجوہات اتنی معمولی ہوتیں کہ اُن سے ماجد تو کیا اُس کے اپنے ماں باپ بھی نالاں تھے۔ روز روز کے جھگڑوں سے تنگ آکر پھوپھا نے ماجد کوسسرال ہی رہنے کو کہا تو وہ بڑی خوب صورتی سے ٹال گیا ۔ غیرت مند تھا ، گھر جوائی کا طعنہ کبھی نہ سہہ سکتا تھا ۔
    بڑوں کے درمیان نفرتیں ان کی محبتوں پر حاوی ہو گئیں ۔اس کی شادی کے روز افضل پاؤں جلی بلّی کی طرح اِدھر سے اُدھر چکر لگاتا رہا۔ اس حالت کو صرف اُس کی ماں سمجھ رہی تھی ۔

  • وہ راحت جاں — دانیہ آفرین امتیاز

    وہ راحت جاں — دانیہ آفرین امتیاز

    دروازہ بند ہونے کی آواز نے ماحول میں خلل پیدا کیا تھا تو قدموں کی چاپ نے باقی کسر بھی پوری کر دی تھی۔ محویت سے کتابوں کو گھورتے بہت سارے اسٹوڈنٹس کی گردنیں اوپر اٹھیں۔ کئی ایک نے ناگواری سے اس نووارد کو گھورا بھی تھا۔ کرسی کھسکانے کی زوردارآواز نے کتابی کیڑوں کی قرطاس پر سے ایک بار پھر توجہ ہٹائی تھی۔ یہ عظیم جرم کرنے والا بے پروائی سے اپنے آگے جنرل میڈیسن کی کتاب کھول کے بیٹھ گیا۔ پانچ منٹ میں دس صفحے پلٹنے کے بعد اس کی چوڑی پیشانی پر چند شکنیں نمودار ہوئیں ۔لمبی سانس خارج کرتے ہوئے بڑی بے زاریت سے اپنے اِرد گرد دنیا ومافیہا سے گم اسٹوڈنٹس کو تکنے لگا۔ دائیں طرف ایک ٹیبل پر اس کی نگاہیں ٹھہر گئیں، بھوری آنکھیں اچانک خوشی سے چمکنے لگیں۔ چند لمحے سوچنے کے بعد وہ کرسی کھسکاتا ہوا اُٹھا، اِرد گرد کے لوگوں کی غصے بھری نظروں کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ چندقدم کا فاصلہ طے کر کے عین اس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
    علم الادویہ کی کتاب میں میڈیسن کے کیمیائی فارمولوں میں ڈوبی وہ یہ بھی نوٹ نہ کر پائی کہ کوئی عین اس کے سامنے آ براجمان ہوا ہے۔
    ”ایکسیوزمی میم ”
    Acetoaminophineپیراسیٹامول کے اثرات پر غور کرتی ارم چونکی تھی ۔
    ”جی آپ کون ؟” سیاہ فریم والی عینک کے پیچھے سے گھورتے ہوئے اس نے ناگواری سے پوچھا۔
    ”مجھے آپ سے ایک فیور چاہیے۔” اس کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ سجائے علی نے کہا : ”جی میری فیور!!” وہ اجنبی کی بات سُن کر کافی حیران ہوئی تھی ۔
    ”ہوں”انصاری صاحب، لائبریری انچارج اپنے کیبن میں غصے سے ہنکارے ۔

    سائلنٹ لائبریری کے اصول کے مطابق پین گرنے کی آواز بھی جرم تھی مگر ڈاکٹر علی من موجی تھے۔ ان کی موجودگی میں لائبریری میں خاموشی بن آب بارش کے مترادف تھی۔ اس لیے انصاری صاحب نے محض ہنکارا بھرنے پر ہی اکتفا کیا تھا، زیادہ سختی کرتے تو ڈاکٹر علی کے دیے چائے پانی کے پیسوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ۔
    ”میم میں آپ کو ایک ہفتے سے روز یہاں دیکھ رہا ہوں۔ غالباً آپ کے امتحانات ہو رہے ہیں۔ دس بجے آپ کا پیپر شروع ہوتاہے۔ پیپر کے لیے جانے سے پہلے آپ ایک دعا پڑھتی ہیں۔ وہ دعا مجھے بتادیں پلیز مجھے بھی اس کی سخت ضرورت ہے۔ ”کسی جاسوس کی طرح ساری معلومات اُگلنے کے بعد آخر میں اس نے معصومیت سے التجا کی ۔
    ارم اُس کی معلومات پر دنگ رہ گئی کہ وہ شخص کب سے اس کی حرکات وسکنات پر گہری نظر رکھے ہوئے تھاجب کہ وہ یکسر لا علم تھی۔ جھنجلاہٹ کے عالم میں ارم نے اپنی نوٹ بک نکالی اور اسے دعا نوٹ کرائی اور پھر اپنی کتابیں سمیٹ کر اٹھنے لگی ۔
    ”میم یہ دعا کتنی دفعہ اورکب پڑھنی ہے؟”گلابی دوپٹے کے ہالے میں معصوم چہرے کو دیکھتے ہو ئے اس نے مؤد بانہ انداز میں پوچھا ۔
    ”پیپر دینے جا رہے ہوں تو اس وقت سات بار پڑھ لیجیے گا” جواب دینے کہ بعد وہ جانے کے لیے مڑی ۔
    ”ارم جی میں آپ کا سینئر ہوں ایم بی بی ایس فورتھ ائیر میں ہوں۔ پیر سے میرے پیپرز شروع ہو رہیہیں پلیز دعا کیجیے گا۔” آواز پر ارم کے بڑھتے قدم رک گئے تھے۔ اس نے مڑ کے حیرانی سے دیکھا ”اس شخص کو میرا نام کیسے پتا چلا؟” ارم نے دل میں سوچا ۔
    ” نوٹ بک پر آپ کا نام لکھا ہے” شاید یہ شخص سوچ پڑھنے کا ماہر تھا۔ ارم کے ہاتھ میں موجود نوٹ بک کی طرف،اشارہ کر کے الوادعی مسکراہٹ کے ساتھ آگے بڑھ گیا ۔
    ارم چند لمحے اس عجیب وغریب سے شخص کے بارے میں سوچتی رہی پھر تمام سوچیں ایک جانب جھٹک کے pharma کا پیپر دینے امتحانی کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
    ***************
    دن بیتتے گئے، وقت سِرکتا رہا۔ دن شام میں ، شام رات میں اور رات صبح میں بدلتی رہی۔ کئی موسم آئے بہار میں پھول کھلے، خزاں میں پتوں نے اپنی شاخیں چھوڑیں، سردیوں میں سرد ہواوؑں نے ابن آدم کو اپنی لپیٹ میں رکھا۔ موسم گرما میں لوگ ٹھنڈے سائے تلاش کرتے رہے، یوں دو برس بیت گئے۔ ان دو برسوں میں بدلتے موسم کے ساتھ ساتھ ارم اور علی کے مضامین اور کلاسز بھی بدلتی رہیں۔
    ارم اب حقیقتاً ڈاکٹر ارم بن گئی تھی اور لوگوں کے دانتوں پہ اپنے ہاتھ صاف کرنے لگی تھی۔
    ”سارہ آج بہت گرمی ہے میں کچھ دیر لائبریری جا رہی ہوں”پیشانی پہ آئے پسینے کو ٹشو پیپر سے صاف کرتے ہوئے وہ اپنا موبائل اور بیگ اٹھائے او پی ڈی سے نکل گئی ۔
    ابھی وہ پہلی منزل پر ہی تھی کہ اچانک اس کی ٹکر ایک فولادی شخص سے ہو گئی۔ اپنا سر تھامے اس نے مقابل کو گھورا۔ بدقسمتی سے سامنے وہی ڈاکٹر ”اوّل جلول” تھا ڈاکٹر علی کو ارم نے ہی اس خاص نام سے نوازا تھا ۔
    ”ارے واہ تم یہاں!!کیسی ہو؟” ارم کے غصے سے قطع نظر اس نے بشاشت سے پوچھا ۔
    ”ٹھیک ہوں”اپنی پیشانی کو دائیں ہاتھ سے دباتے ہوئے ارم نے چبا چبا کے جواب دیا ۔
    ”میں تمہاری او پی ڈی سے ہی آ رہا تھا” اس نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔
    ”اللہ خیر یہ شخص او پی ڈی کیوں آ رہا تھا؟”
    ”خیر ہی ہے بس مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی تھی”اس سے پہلے کہ ارم اس کے بارے میں مزید کچھ سوچتی وہ بول پڑا۔آج بہت عرصے بعد دونوں کا آمنا سامنا ہوا تھا۔ لائبریری والے واقعے کے بعد ایک آدھ بار علی نے ہی اسے آتے جاتے ہیلو ہائے کیا تھا مگر آج وہ شخص صرف ہیلو ہائے نہیں بلکہ تفصیلاً بات کے موڈ میں تھا ۔
    ”یہاں سیڑھیوں پہ کھڑے بات کرنا مناسب نہیں لگتا۔ اگر تم مائنڈ نا کرو تو ہم نیچے چل کے بات کر سکتے ہیں؟”اس نے ارم کو سوالیہ نظروں سے دیکھا تو ارم نے سر کو ہلکے سے جنبش دے کر رضامندی ظاہر کی۔ اسے یقین تھا کوئی راہ ِفرار نہیں جب تک کہ وہ اس شخص کی بات سن نہ لے۔
    آگے پیچھے دونوں سیڑھیاں اُترتے نیچے آگئے۔ علی نے بنچ پر بیٹھتے ہوئے ارم کو پہلے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔
    ”جی بولیے کیا کہنا تھا آپ کو؟”ارم نے اس کے اشارے کو نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا ۔
    کچھ لمحے توقف کے بعد اس نے بولنا شروع کیا، شاید وہ مناسب لفظ ترتیب دے رہا تھا:
    ”ارم مجھے معلوم ہے میں تم سے جو کہوں گا وہ تمہارے لیے حیرانی کا باعث ہو گاکیوںکہ میں تمہیں زیادہ نہیں جانتا ناہی تم مجھے جانتی ہو۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ ہم دونوں ایک ساتھ اچھی زندگی گزار سکتے ہیں۔میرا ہاؤس جاب مکمل ہو چکا ہے اور میں کئی جگہ جاب کے لیے اپلائی بھی کر رکھا ہے۔ اب میں چاہتا ہوں کہ زندگی کے بارے میں کوئی فیصلہ کروں۔ اس لیے یہ بات کہنے کے لیے تمہارا وقت لیا۔”اپنی بات کہنے کے بعد وہ سامنے حیران وپریشان کھڑی ارم کے تاثرات پڑھنے کی کوشش کرنے لگا جب کے ارم اپنی جگہ حیران کھڑی تھی۔ پرپوز کرنے کا یہ نیا طریقہ وہ آج دیکھ رہی تھی ۔
    ”میں جانتا ہوں یہ ایک بہت ہی اہم فیصلہ ہے میں تمہیں اپنا نمبر دے رہا ہوں۔ تمہارا دل اگر میری سچائی کی گواہی دے تو رابطہ کر لینا”چٹ اس کی طرف بڑھاتا ہوا وہ بینچ سے اٹھ گیا ”میری اچھی جگہ جاب کے لیے دعا کرنا” اللہ حافظ کہہ کے وہ رکا نہیں بلکہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہسپتال کا خارجی دروازہ عبور کر گیا ۔
    ارم کچھ دیر کھڑی اس عجیب شخص کو سوچتی رہی۔ قریب سے گزرتے لوگوں کیآوازوں پر وہ سوچوں کی دنیا سے حال میں لوٹی تھی۔
    ہاتھ میں پکڑی چٹ ڈسٹ بن میں پھینک کے وہ سر جھٹکتی لائبریری کی طرف بڑھ گئی۔ اس نے اپنی زندگی میں شادی کے علاوہ سب کچھ سوچا تھا۔اُسے ابھی اپنے شعبے میں اپنا نام بنانا تھا، شادی اس کی ترجیحات کی فہرست میں کہیں آخر پر تھی۔
    ***************
    اس کی سادہ لیکن پُرکشش شخصیت ارد گرد کے لوگوں کو لمحے بھر کے لیے ٹھٹھک کر دیکھنے پہ مجبور کر دیتی تھی، وہ اپنے حسن سے بے نیاز لبوں پر دل فریب مسکراہٹ سجائے کبھی روٹ کینال جیسا مشکل کام کر تی تو کبھی عقل ڈاڑھیں نکال کے اک فاتح مسکراہٹ کے ساتھ ماضی کی ڈری سہمی ارم کو باور کراتی ”اگر حوصلے اور عزم بلند ہوں تو سب کچھ ممکن ہے۔”
    ٹراما وارڈ میں ڈیوٹی کے دوران وہ کچھ اداس سی رہتی لیکن ساتھ ساتھ اورل سرجری کی فیلڈ میں اس کی دلچسپی بڑھتی گئی۔
    ”پھر بیٹا جی آگے کے کیا ارادے ہیں؟” ناشتے کی میز پر اخبار کا مطالعہ کرنے کے بعد عینک ایک طرف رکھتے ہوئے بابا نے پوچھا۔
    ”بابا مجھے اورل سرجری کا شعبہ پسندہے۔” اپنے مخصوص دھیمے لہجے میں مسکراتے ہوئے اس نے جواب دیا ۔
    ”گڈ ہاوؑس جاب تو تقریباً مکمل ہونے والی ہے آپ کی پھر کیا سوچا؟ ”
    بابا کی توجہ اب مکمل ارم کی جانب تھی ۔
    ”میں کنفیوز ہوں مجھے سمجھ نہیں آرہا اورل سرجری کے میدان میں F.C.P.S کے ذریعے قدم رکھوں یا پھر M.D.S کروں ۔”
    اُس نے پر سوچ انداز میں اپنی الجھن بابا کے گوش گزار کی۔
    ”بیٹا اس بارے میں تو آپ کی فیلڈ کا کوئی فرد ہی بہتر طور پر گائیڈ کر سکتا ہے۔ آپ اپنے کسی سینئر سے ڈسکس کریں، باقی جو آپ کا فیصلہ ہوگا ہمیں بہ خوشی منظورہوگا”بابا نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا ۔
    ”تھینک یو بابا میں جلد ہی فیصلہ کر کے آپ کو بتاتی ہوں۔” جوس کا آخری گھونٹ لیتے اس نے بابا کا پر شفقت ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا ۔
    بیٹیاں کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو جائیں باپ کے لیے وہ ہمیشہ چھوٹی سی گڑیا ہی رہتی ہیں ۔
    ”بابا میں چلتی ہوں ڈیوٹی آورز شروع ہونے والے ہیں اللہ حافظ ۔”
    ماما اور بابا کی دعاوؑں اور محبت کے سائے میں وہ اسپتال روانہ ہو گئی۔ ارم نے اپنے کالج سے منسلک اسپتال میں کام کرنے کی بجائے گورنمنٹ سیٹ اپ کو ترجیح دی تھی۔
    مصروف دن کے بعد چند لمحے سکون کے میسر آئے تو وہ چائے پینے کیفے چلی آئی۔
    ہاوؑس جاب کے بعد اس نے اسی اسپتال میں ہی ملازمت شروع کر دی تھی۔ ساتھ ساتھ وہ M.D.S کے انٹری ٹیسٹ کی تیاری بھی کر رہی تھی زندگی اتنی مصروف ہو گئی تھی کہ جو چند لمحے اسے تنہائی اور سکون کے میسر آتے اس میں بھی اس کی سوچیں ڈاؤ میڈیکل کی عمارت میں گھومتی رہتیں، پتا نہیں اس کا ایڈمیشن ہوگا کہ نہیں؟ کہیں اسے ایم ۔ایس سی نہ کرنا پڑ جائے۔ آج ایک بار پھر سوچوں کا محور M.D.S اور ڈاوؑ میڈیکل تھا ۔