وہ درد جو میں نے کل محسوس کیا…وہ پاکستان میں روز کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی خاندان محسوس کرتا ہے۔
وہ ننھی سی چڑیا…ہمارے صحن کے اک کونے میں بیٹھی تھی… سہمی سی… مجھے لگا کہ شاید وہ ویسے ہی بیٹھی ہے…میں پاس جائوں گی تو اُڑ جائے گی… میرے پاس جانے پر وہ کونے میں سمٹ گئی… ڈر تو مجھے بھی لگتا تھا۔ پر مجھے اس کی مدد کرنا تھی۔ میں نے ڈرتے ڈرتے پانی کا پیالا اُٹھایا اور اس کے آگے رکھ دیا۔ پانی اس کی چونچ سے لگایا تو وہ پینے لگی۔شاید اسے بھی امید ہو گئی ہو گی۔ اس کے پروں کے نیچے مجھے زخم نظر آیا میں ٹیوب اٹھا لائی…تبھی پاپا آئے اور مجھے ڈانٹ دیااور پھر اُسے دیوار پہ بٹھا دیا، انار کے درخت کے نیچے۔میں مطمئن ہو گئی تھی کہ اس کے ساتھی اسے دیکھ کر لے جائیں گے پھر بھی اک کپڑا رکھ دیا تھا میں نے تا کہ مکھیاں نہ لگیں اس کے زخم پہ…میں اندر کسی کام سے گئی اور باہر نکل کر دیوار کی طرف دیکھا تو وہاں چڑیا نہیں تھی…وہ دیوار سے نیچے گری پڑی تھی…اور شاید مر چکی تھی۔میں نے پہلی بار کسی کو ایسے مرتے دیکھا تھا کسی جان دار کو ….میں اسے اُٹھا کر باہر بھی نہیں پھینک سکی…پاپا اسے اُٹھا کر باہر رکھ آئے تھے…اتنا آسان ہوتا ہے کیا مرنا؟…اس جیسی اور چڑیاں ابھی بھی انار کے درخت پہ بیٹھی ہیں …پر وہ نہیں ہے۔
وہ چھوٹا سا اک بچہ…ہا سپٹل کے بیڈ پہ لیٹا ہوا…ایسا لگ رہا تھا جیسے سویا ہوا ہو…پر وہ تکلیف میں تھا… اسے اور اس جیسے اور بچوں کو کوئی نامعلوم گولی لگی تھی۔ آرمی والے پہنچ گئے تھے…اسے ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال لے جایا گیا …
اسے زندگی ملی تھی..پر موت کا ڈر باقی تھا…ماں تڑپ رہی تھی اُمید اور خوف کی کیفیت میں … ہاسپٹل میں اپنے بچے کو دیکھ کر…اسے تسلی ہوئی …وہ باہر آئی اور شکر ادا کرنے لگی… اچانک اس کے بچے کی حالت دوبارہ خراب ہونے لگی…وہ اندر گئی… بچہ مر چکا تھا…اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ جنازہ جاتے دیکھتی…وہ سکتے کی کیفیت میں بیٹھی رہی…باپ اپنے ہاتھوں سے بچے کو قبر میں اتار آیا تھا…اس جیسے اور بچے اب بھی گلیوں میں کھیلتے ہیں …پر وہ نہیں ہے۔
Tag: Remove term: afsana
-

درد کا درد —- عشوہ رانا
-

احساس — ثمینہ طاہر بٹ
کہتے ہیں، رشتے احساس کے ہی ہوتے ہیں۔ اگر احساس ہے تو غیر بھی اپنے، اور احساس نہیں تو اپنے بھی پرائے لیکن کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جنہیں نبھانے کے لیے احساس سے پرے بھی کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔۔ ایسا ماورائی جذبہ جو کسی کسی کے حصے میں ہی آتا ہے، اور بلا شبہ جنہیں یہ حاصل ہو جائے وہ خوش نصیب ہی کہلاتے ہیں۔
رابیل نے جیسے ہی ڈائننگ روم میں قدم رکھا، ایک محسوس کی جانے والی خاموشی ہر سمت چھا گئی۔ وہ ٹھٹھک کر وہیں رک گئی۔ اس نے بہ غور سب کے تاثرات کا جائزہ لیا تو اس کی ریڑھ کی ہڈی میں ایک عجیب سی سنسناہٹ دوڑ گئی تھی۔ ماتھے پر نامحسوس سا پسینا پھوٹ پڑا۔ سربراہی کرسی پر اس کی دادی حسینہ قمر بیٹھی اسے سرد اور خاموش نگاہوں سے گھور رہی تھی۔ دادی کے دائیں بائیں بیٹھے فہد اور شہلا کے چہروں پر بھی ایسی ہی سرد مہری کی برف جمی تھی۔ ایک معصوم اوراستقبالیہ مُسکراہٹ اگر کسی کے چہرے پر تھی تو وہ بالاج کا چہرہ تھا۔ بالاج، اس کا چھوٹا بھائی صرف وہ ہی تو تھا جو اسے بے غرض چاہتا تھا ۔ورنہ مریم بھی تو تھی،اس سے چھوٹی اور بالاج سے بڑی مگرانتہا درجے کی موڈی۔ جب موڈ ہوتا ہنس کر بلا لیتی اور جب موڈ نہ ہوتا "نولفٹ” کا یہ بڑا سا بورڈ ماتھے پر سجا لیتی۔
"اُف۔!! لگتا ہے آج کا دن ہی بُرا آیا ہے میرے لیے۔ اب سارا دن مجھے ان سب کے پھولے مُنہ اور عجیب وغریب سی نگاہیں برداشت کرنی پڑیں گی۔!!” خود کوبہ مشکل کمپوز کرتے ہوئے وہ سست قدموں سے آگے بڑھی اور بالاج کے ساتھ والی کرسی کھینچ کر اس پر ٹک گئی۔ وہ دانستہ طور پر کسی سے بھی نظر نہیں ملانا چاہتی تھی، اسی لیے اس نے اپنی نگاہوں کے ساتھ ساتھ سر بھی جُھکا لیا تھا۔ مگر اس کے باوجود اسے محسوس ہو رہا تھا کہ سب کی سرد، اندر تک اُترتی نگاہوں کا مرکز صرف وہی تھی۔
"ماما۔!! بیلا آپی کو بھی پلیٹ میں کھانا ڈال کر دیں ناں۔ آپی کو تو بریانی پسند بھی بہت ہے۔۔ہے ناں آپی۔؟ !!۔” بالاج نے مسکراتے ہوئے اپنے ساتھ بیٹھی ماں کا بازو ہلایا تو وہ چونک گئی۔ خاموشی کے اس بہتے دریا میں بالاج کی معصوم چہکتی آواز نے جیسے ارتعاش سا پیدا کر دیا تھا۔ سب جیسے سوتے سے جاگے تھے۔ حسینہ قمر نے اپنی سرد نگاہیں رابیل پر سے ہٹا کر دوسری جانب مرکوز کرلی تھیں۔ فہد نے بلاوجہ اپنی پلیٹ میں چمچ چلانا شروع کر دیا اور مریم نے گلاس اُٹھا کر ہونٹوں سے لگا لیا۔ شہلا نے خاموشی اورسنجیدہ تاثرات کے ساتھ ڈش اٹھائی اور رابیل کے سامنے رکھ دی۔ بالاج نے حیرت سے پہلے ماں کو دیکھا اور پھر رابیل کو ، جس کے چہرے پر بلاوجہ ہی خجالت اور شرمندگی کی سرخی دوڑ گئی تھی۔
"ماما۔!! آپ خود ڈال کر دیں ناں آپی کو ۔۔جیسے مجھے اور مریم باجی کو دیتی ہیں۔!!۔” بالاج نے جانے کیوں اس کے حق میں صدائے احتجاج بلند کی تھی، رابیل خود بھی سمجھ نہیں پائی تھی، مگر اسے بالاج کا اپنے لیے مسلسل بولنا بہت اچھا لگ رہا تھا۔
"بالاج۔!! چپ چاپ کھانا کھاؤ۔ تمہاری آپی اب اتنی بھی بچی نہیں رہی کہ اس کے مُنہ میں نوالے دیئے جائیں۔ ڈال لے خود ہی کسی نے ہاتھ تو نہیں پکڑا ناں اس کا۔ تم اپنا کھانا ختم کرو خاموشی سے۔!!۔” حسینہ نے سرد انداز سے رابیل کو گھورتے ہوئے بالاج کو سرزنش کی تو شہلا کا ڈش کی طرف بڑھتا ہاتھ وہیں رُک گیا۔ اس نے ساس کو ایک نظر دیکھ اور پھر سر جھٹک کر اپنی پلیٹ پر جھک گئی۔ فہد اور مریم ہاتھ روکے ساری کارروائی دیکھ رہے تھے۔ بیلا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح خود کو اس منظر سے غائب کر دے۔ نہ تو اس کے پاس سلیمانی ٹوپی تھی اور نہ ہی کوئی جادو کہ جسے چلا کر وہ خود کو اس نفرت اور سردمہری بھرے ماحول سے الگ کر پاتی۔ سو خاموشی سے سر جھکائے، آنسو پینے کی کوشش میں نڈھال سی بیٹھی تھی۔ شہلاسے اس کی حالت دیکھی نہیں گئی، اس نے ہاتھ بڑھا کر ڈش اٹھائی اور بیلا کے سامنے پڑی پلیٹ میں چاول ڈال دئے۔ بیلا نے ایک دم سر اُٹھا کر اسے دیکھا، مگر اس کے تاثرات میں بہ ظاہر کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ ویسے ہی سنجیدہ اور ناقابل فہم تاثرات۔ اس نے کراہ کر پھر سر جُھکا دیا تھا۔ باقی کے تمام نفوس بھی اپنی اپنی جگہ دوبارہ اپنی اپنی سرگرمیوں میں مشغول ہو چکے تھے۔
شہلا عام سے نقوش رکھنے والی ایک عام سی لڑکی تھی۔ اس کی بڑھتی عمر اور ہاتھ سے جاتے رشتوں نے اس کے اماں بابا کی راتوں کی نیندیں حرام کر رکھی تھی جو بھی آتا، اسے ایک نظر دیکھ کر واپس پلٹنا ہی بھول جاتا۔ اس کا سانولا سلونا رنگ اور قدرے فربہی مائل وجود تو سب کو دکھائی دے جاتا، مگر اس وجود کے اندر پنپتا نرم و نازک اور حساس دل کسی کو بھی دکھائی نہیں دیتا تھا۔ اس کی اماں اب اس کی طرف سے تقریباً مایوس ہی ہو چکی تھی کیوں کہ اس کو دیکھنے کے لیے جو آخری بار لڑکے والے آئے تھے، انہیں بھی واپس گئے چھے ماہ سے زیادہ ہو چکے تھے اور اب تو صاف بات تھی کہ رشتہ کروانے والی ماسی نے بھی ہاتھ کھڑے کر دئے تھے۔ اماں کے ساتھ ساتھ اب تو شہلا کو بھی یہی لگنے لگا تھا کہ اس کی قسمت میں اپنے گھر کا سکھ ہے ہی نہیں، اسی لیے تو اس نے جہاں اپنا خیال رکھنا چھوڑ دیا تھا، وہیں اماں بھی اس کی طرف سے لا پروا ہو گئی تھیں لیکن کہتے ہیں ناں کہ ہر کا م کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور نصیب سے زیادہ اور وقت سے پہلے کبھی کچھ نہیں ملتا ، تو ٹھیک ہی کہتے ہیں۔
اماں کے مایوس اور شہلا کے ناامید ہو جانے کے بعد اچانک قدرت کو جیسے جوش آیا اور شہلا کے لیے فہد کا رشتہ آگیا۔ حسینہ قمر نے شہلا کو خاندان کی کسی محفلِ میلاد میں دیکھا تھا۔ وہ اسے ایک نظر میں ہی بھا گئی تھی، اس لیے اس نے فوری طور پر اسے اپنی بہو بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ ہر چند کہ انہیں کئی خیر خواہوں نے بہکانے کی کوشش بھی کی، مگر وہ فیصلہ کر چکی تھیں اور اس فیصلے پر قدرت کی مہر بھی لگ چکی تھی اس لیے یہ شادی بہ خیر وخوبی انجام پا گئی۔ شہلا اور اس کے گھر والوں کے لیے یہ رشتہ نعمتِ خداوندی ثابت ہوا تھا۔ فہد دبئی میں جاب کرتا تھا۔ اس کا ایک چھوٹا بھائی اور ایک ہی بہن تھی۔ دونوں شادی شدہ اور دبئی میں ہی رہائش پذیر تھے۔ یہاں صرف حسینہ قمر رہتی تھی اپنے اپاہج شوہر قمر جمیل کے ساتھ اور ان کے ساتھ رہتی تھی چارسالہ ننھی، معصوم سی رابیل۔
"مجھے خوب صورتی سے شدید نفرت ہے۔ عورت کا حسن صرف دھوکا ہوتا ہے ، صرف دھوکا۔اس لیے میں نے امی کو بتا دیا تھا کہ اگر انہیں میری شادی کرنی ہے تو کوئی بدصورت اور غریب سی لڑکی دیکھیں۔۔ اور مجھے خوشی ہے کہ امی نے میری پسند کا خاص خیال رکھا۔!!۔ ” دلہن بنی شہلا کے کانوں میں فہد کی نشے میں ڈوبی لڑکھڑاتی ہوئی آواز آئی تو وہ پوری جان سے ہل کر رہ گئی۔
کہاں کی دلہن۔۔کیسا دلہناپا۔۔کیسی شرم۔۔کیسی حیا۔۔ وہ تو ایک دم ایسی بوکھلائی کہ مُنہ کھولے آنکھیں پھاڑے اپنے مجازی خدا کو دیکھنے لگی۔۔جو اُس وقت واقعی خدا بنا بیٹھا مزے سے اس کے ذات کے بخیئے اُدھیڑ رہا تھا۔ ۔نہ صرف اس کی ذات، بلکہ پوری عورت ذات کے۔۔ یہ سوچے بغیر کہ یہی عورت اس کی ماں بھی ہے، یہی عورت بہن بھی اور بیٹی بھی۔۔ اسے جانے عورتوں کے وجود سے کیا پرخاش تھی ۔۔بلکہ” حسین عورتوں "کے وجود سے کہ وہ اپنی نفرتوں کے اظہار میں ہر حد ہی پار کرتا جا رہا تھا۔۔ حالاں کہ اس کی ماں اور بہن بھی خوبصورت عورتوں میں شمار ہوتی تھیں۔ خود وہ بھی کوئی معمولی مرد نہیں تھا۔ لمبا، ہینڈسم اور اسمارٹ مگر صرف جسمانی طور پر۔ ورنہ اس کی ذہنی پستی کا عالم تو اس کی گفت گو سے ہی ظاہر ہورہا تھا۔ شہلا تو پہلے ہی حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھی کہ ظاہری طور پر اس کا اور اس خاندان کا کوئی جوڑ بنتا نہیں تھا، مگر کہنے والے کہہ رہے تھے کہ یہ سب قسمت کے فیصلے ہیں۔ اس کے نصیب یہیں لکھے تھے، سو وہ یہاں آگئی۔ لیکن یہ بھی سچ ہی ہے کہ جس قدر اسے اپنے نصیبوں سے اس وقت گلہ ہو رہا تھا، اتنا تو اس وقت بھی نہیں ہوتا تھا جب اسے ہر طرف سے دھتکار، پھٹکار ملتی تھی۔
"سنو۔!! کیا نام ہے تمہارا۔۔شہہ۔۔شہلا۔۔ہاں، شہلا۔۔میری ایک بات یاد رکھنا۔ مجھے زیادہ بولنے والی اور چڑ چڑ کرنے والی عورتوں سے سخت نفرت ہے۔ تم میرے کسی معاملے میں ٹانگ اُڑانے کی کبھی بھی کوشش مت کرنا، نہ تو مجھ پر رعب جمانے کی جسارت کرنا اور نہ ہی الٹے سیدھے سوال کر کے میرا دماغ اور ٹائم خراب کرنے کی حماقت کرنا۔۔ورنہ اپنے انجام کی ذمہ دار تم خود ہوگی۔ سمجھیں۔۔کہ نہیں۔؟۔!!۔ ” شہلا سانس روکے اپنے مجازی خدا کے فرمودات سُن رہی تھی کہ اس نے ایک دم اس کا زرتار دوپٹہ اس کے سر سے کھینچ کر اتارتے ہوئے نیا حکم نامہ جاری کیا تھا۔ دوپٹہ اس کے سر پر پنوں کی مدد سے سیٹ کیا گیاتھا، یہ زوردار جھٹکا برداشت نہ کر سکا اور چرر کی آواز کے ساتھ پھٹتا چلا گیا۔ شہلا اس افتاد کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھی وہ خود بھی جھٹکا کھا کر فہد کے پاؤں پر گرپڑی۔
” ہاں۔۔ ایسے ہی ہمیشہ میرے سامنے بچھتی رہنا۔ میرے کسی حکم کی کبھی خلاف ورزی مت کرنا، پھر دیکھنا میں تمہیں کیسے مہارانی بنا کر رکھتا ہوں۔۔اگر تم میرے دل کی رانی بننا چاہتی ہو تو بس، میرا اور میری امی کا ہر حکم مانو، ورنہ ہمیں مہارانی کو نوکرانی بنانا بھی آتا ہے۔!!۔نشے میں دھت بے ہنگم انداز سے ہنستے ہوئے فہد نے اسے اس کے مستقبل کا فیصلہ سنایا اس کے مُنہ سے اٹھنے والے بدبو کے بھبھکوں نے شہلا کا دل بُری طرح متلا کر رکھ دیا مگر وہ بے بس تھی۔ فہد کی خوبصورت پرسنالٹی میں چھپا یہ بدصورت روپ دیکھ کر اس کے حواس معطل ہوئے جا رہے تھے۔
شہلا کے لیے اس گھر میں دوسرا دھچکا رابیل ثابت ہوئی تھی۔ بے حد خوبصورت اور نرم و نازک بچی جسے دیکھ کر خود بہ خود ہی دل اس کی طرف کھنچنے لگے۔ اس کی شادی کو چند ہفتے گذر چکے تھے، وہ ابھی تک خاموشی سے اس گھر اور گھر والوں کا جائزہ ہی لے رہی تھی۔ دلہناپے کی شرم و حیا اپنی جگہ، مگر اسے تو فہد کی باتوں اور حرکتوں نے ایک عجیب سی چُپ لگا رکھی تھی۔رابعہ بھی شادی کے ہنگامے سرد ہوتے ہی واپس دبئی جا چکی تھی اور اگلے چند روز میں علی(اس کا دیور) بھی واپس جانے کے لیے پر تول رہا تھا۔ ایسے میں اس کی ساس نے اس سے میٹھا پکوا کر دنیاداری کی رسم ادا کرتے ہوئے، گھر کا سارا انتظام عملی طور پر اس کے سپرد کر دیا تھا۔شہلا کو نہ تو کوئی خوشی محسوس ہو رہی تھی اور نہ ہی ان کے کسی عمل پر کوئی اعتراض ہو رہا تھا۔ ایک عجیب قسم کی خاموشی اور سناٹا اس کے رگ و پے آہستہ آہستہ اترتا جا رہا تھا۔ وہ اس مختصر عرصے میں ان لوگوں کو جتنا جان پائی تھی، اس کی رگوں میں بہتے گرم خون کو ٹھنڈی سرد برف میں ڈھالنے کے لیے کافی تھا۔ نہ تو اس کا مزاج ان لوگوں جیسا تھا، اور نہ ہی لائف اسٹائل ۔ وہ سیدھی سادی زندگی گذارنے والی سیدھی سادی سی لڑکی تھی، مگر یہاں تو لگتا تھا سب جلیبی کی طرح ٹیڑھے میڑھے تھے۔
-

رول ماڈل — ماہم علی
پرانی کتابیں گود میں رکھے نادیہ کسی گہری سوچ میں گم بیٹھی تھی ۔ ڈھلتے سورج کی مدھم شعاعیں اس کے چہرے پر پڑ رہی تھیں ۔
”تو میرا پڑھنے کا سفر یہیں تک تھا… انتہائی شوق کے با وجود بھی میں آگے نہیں پڑھ پا رہی ۔ ” اس نے دکھ سے سوچا۔
نادیہ کو پڑھنے کا بے حد شوق تھا لیکن ان کے گاؤں میں لڑکیوں کی تعلیم کا اتنا رواج نہیں تھا … گاؤں کی دو لڑکیوں کے گھر سے بھاگنے کے بعد سے سب والدین نے اپنی بچیوں کو گھر بٹھا لیا تھا ۔ بہ قول ان کے ۔ ”تعلیم بچیوں کو باغی بنا رہی ہے۔”
نادیہ نے جیسے تیسے میٹرک کر لیا، لیکن آگے پڑھنے کے لیے شہر جا کر پڑھنا تھا جو کہ ناممکن تھا ۔
یوں ہی گھٹنوں پر سر رکھ کر بیٹھے بیٹھے ناجانے کتنے پل بیت گئے، جب نیچے سے اسے بابا کی آواز سنائی دی۔
”نادیہ او نادیہ!… کدھر ہو بیٹا تم۔”
”آرہی ہوں بابا!”
تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتے اس نے بابا کو جواب دیا۔
”میرا پتر کہاں رہ گیا تھا… کب سے میں آوازیں دے رہا ہوں۔” بابا نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
”بابا! اوپر بیٹھی ہوئی تھی … کپڑے اتارنے گئی تو وہیں بیٹھ گئی ۔ ”
”اچھا تو ذرا بتاؤ تو میں تمھارے لیے کیا لایا ہوں ۔ ” بابا نے مسکرا کر نادیہ سے پوچھا ۔
”اوہ ہو کیا ہو سکتا ہے ۔ ” نادیہ تھوڑی پر ہاتھ رکھ کر سوچنے لگی ۔
”نا بیٹا اپنے ننھے سے دماغ پر زور نہ ڈالو… یہ لو خود ہی دیکھ لو تم۔”
انھوں نے ایک لفافہ نادیہ کی طرف بڑھایا۔ نادیہ الجھن سے ابو کو دیکھتے ہوئے وہ لفافہ کھولنے لگی ۔ یک دم اس کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی۔
”ارے یہ تو ایڈمیشن فارم ہے … میرے پیارے ابو ۔ ”
فرط ِ مسرت سے وہ ابو کے گلے لگ گئی ۔
”میں اپنی مینا کو یوں اداس نہیں دیکھ سکتا تھا … مجھے پتا ہے کہ تمھیں پڑھنے کا کتنا شوق ہے… میری بھی کوشش ہے کہ تم بہت سا پڑھو ۔ پھر استانی بن کر گاؤں کے بچوں کو پڑھاؤ ۔ ” ابو اس کو خوش دیکھ کر مُسکراتے ہوئے کہنے لگے۔
”پر ابو خاندان والے کیا کہیں گے اور گاؤں کے لوگ…”
نادیہ کے لہجے میں فکر مندی تھی۔
”تو میری بیٹی ہے… تجھے میں پڑھا رہا ہوں ، خاندان والے جو کہیں ، ہمیں ان سے کیا لوگوں کی باتوں کی پروا نہیں کرتے … تم بس اب پہلے کی طرح خوب دل لگا کر پڑھنا … اور گاؤں کے لوگوں کے لیے مثال بن جانا جو خواہ مخواہ اپنی بچیوں کو پڑھنے نہیں دے رہے … یہ تو تم لوگوں کا حق ہے … ”
ابو کے کہنے پر نادیہ ہلکی پھلکی ہو کر مسکرانے لگی …
” نا میں پوچھتی ہوں ضرورت کیا ہے اسے آگے پڑھنے کی … جتنا پڑھ لیا اتنا کافی نہیں کیا ؟ ”
اماں جانے کب آ گئی تھیں ۔
”کیوں ضرورت نہیں ہے پڑھنے کی … ہماری نادیہ کو شوق جو اتنا ہے … میں خود تو نہیں پڑھ سکا پر اپنی بیٹی کو ضرور پڑھاؤں گا ۔ ”
” نا تمھاری تو منطق ہی اُلٹی ہے … دس جماعتیں کیا کم ہیں … پورے خاندان میں اتنا کوئی نہیں پڑھا جتنا نادیہ نے پڑھ لیا … جوان جہان لڑکی کو اتنا دور پڑھنے کے لیے بھیجنے کی ضرورت ہی کیا ہے … ”
اماں شروع سے ہی اس کی پڑھائی کے خلاف تھیں ۔ وہ سیدھی سادی ان پڑھ عورت تھیں، جو لوگوں کی سنی سنائی باتوں کی وجہ سے لڑکیوں کی پڑھائی کو برُا سمجھتی تھیں۔
”چھوڑ ان باتوں کو … جاؤ نادیہ بیٹا ! تم زبردست سی چائے بنا لاؤ پھر ہم سب مل کر پیتے ہیں۔”
نادیہ کے ابو نے اسے بہانے سے وہاں سے بھیجنا چاہا ۔
”جی ابو ! میں لاتی ہوں۔”
نادیہ کے جانے کے بعد وہ بیوی کی طرف پلٹے ۔
”کیا ضرورت تھی… بچی کے سامنے یہ باتیں کرنے کی… اسے شوق ہے تو پڑھنے دو … گھر بیٹھ کے فضول کی سوچیں سوچنے سے تو بہتر ہے وہ پڑھ لکھ کر اپنی پڑھائی کے ذریعے سے اس گاؤں کے لوگوں کی سوچ بدل ڈالے ۔ ”
”تمھیں سمجھ نہیں آتی … حشمت ! خاندان والے کیا کہیں گے … اور زمانہ دیکھا ہے تم نے آج کل کتنا خراب ہو گیا ہے … گاؤں کی بات الگ تھی اب یوں اتنا دور جانا یہ تو صحیح بات نہیں ہے ناں ۔ ” اماں نے متفکر ہو کر کہا ۔
” ارے اللہ کی بندی ! نادیہ کو خاندان والے نہیں پڑھا رہے جو وہ باتیں کریں گے … ابھی اس کا باپ زندہ ہے … میں ذمہ داری اٹھا سکتا ہوں اس کی … اور زمانے کی تم نے اچھی کہی بندہ خود ٹھیک ہو ناں تو زمانہ کچھ نہیں کر سکتا … اور مجھے اپنی بیٹی پر پورا بھروسا ہے … وہ میری بیٹی ہے سب کچھ ہوتے ہوئے بھی میں محض لوگوں کی باتوں کے ڈر سے اپنی بیٹی کو گھر بٹھا دوں اتنا گیا گزرا نہیں ہوں … اور تم بھی آئندہ اس کے سامنے ایسا ویسا کچھ مت کہنا … بچی کا دل برا ہو جائے گا ۔ ”
حشمت میاں کے سامنے اماں کی کب چلی تھی جو آج وہ ان کی بات مان لیتے … اماں من ہی من میں بڑ بڑانے لگیں ۔ جب کہ باورچی خانے میں چائے بناتی نادیہ ابا کی باتیں سن کر مسکرا رہی تھی ۔
٭٭ ٭
نادیہ بے تحاشا خوش تھی آخر اس کے پڑھنے کا خواب پورا ہو رہا تھا ۔ اگلے دن ابو کے ساتھ شہر جا کر وہ داخلہ فارم جمع کرا آئی ۔ ابو نے اسے کالج جانے کے لیے تانگا لگوا دیا ۔ یوں نادیہ اپنے خاندان کی پہلی لڑکی بن گئی جس نے کالج میں قدم رکھا ۔
کالج کے پہلے دن وہ بہت گھبرائی ہوئی تھی ۔ پہلے دن اس کے ابو خود اسے چھوڑنے گئے ۔ خاندان والوں کی باتوں کو نظر انداز کر کے وہ بہت محنت اور لگن سے پڑھنے لگی ۔
ایک دن وہ کالج سے آکر اسائنمنٹ بنا رہی تھی جب اس کا موبائل بجا ۔ نوکیا کا یہ سیکنڈ ہینڈ موبائل ابو نے اسے دلایا تھا تاکہ پڑھائی کے سلسلے میں مدد لینی ہو تو وہ اپنی سہیلیوں سے رابطہ کر سکے ۔
”السلام علیکم!”
”کدھر بزی ہو تم … صبح سے کال کر کر کے تھک گیا ہوں … کچھ اندازہ بھی ہے میں کتنا پریشان ہو گیا تھا … کہاں تھی تم اور فون بند کیوں تھا؟”
دوسری طرف اس کی پھوپھو کا بیٹا اور اس کا منگیتر شاہد تھا ۔
”میں کالج گئی ہوئی تھی … تبھی نمبر بند تھا ابھی تھوڑی دیر پہلے آئی تو آن کیا … کیسے ہو ۔ ”
”ایک تم اور تمہارا کالج … آخر یہ سلسلہ کب ختم ہوگا ۔ ”
شاہد بھی اس کے پڑھنے کے خلاف تھا ۔
”خیر چھوڑو ان باتوں کو ، میں نے ضروری بات کرنے کے لیے فون کیا تھا ۔ ”
”کون سی ضروری بات ؟ ” نادیہ نے چونک کر پوچھا ۔
”تمھیں پتا ہے ناں کہ کل ویلنٹائن ڈے اور کل ہی میری سال گرہ بھی ہے… اور اس خاص دن کو میں تمھارے ساتھ منانا چاہتا ہوں پچھلی بار بھی تم نہیں آئی تھیں … اب مجھے انکار نہیں سننا ۔ ” شاہد دھونس جما کر بولا ۔
”کیسی باتیں کر رہے ہو شاہد ! میں تمھارے ساتھ کیسے جا سکتی ہو ۔ ” اس نے پریشانی سے کہا ۔
”کیوں تم نہیں جا سکتی کیا … سب لڑکیاں جاتی ہیں اپنے منگیتروں کے ساتھ … تم کچھ انوکھی تو نہیں ہوتی جا رہی ۔ ”
”بات انوکھی کی نہیں ہے شاہد … میرے لیے بہت مشکل ہے یوں تم سے کہیں باہر ملنا … ” اس نے صاف انکار کر دیا …
”تمھیں تو میری پرواہ ہی نہیں ہے … پڑھنے کے لیے روز شہر جا سکتی ہو اور مجھ سے ملنے کے لیے ایک دن باہر نہیں جا سکتی ہو … بات کیا ہے آخر ۔ ” شاہد غصے سے پھنکارا ۔
”کوئی بات نہیں ہے شاہد … تم سمجھنے کی کوشش کرو شاہد … میں شہر پڑھنے کے لیے جاتی ہوں … وہ الگ بات ہے مگر میں تم سے ملنے کے لیے نہیں آسکتی۔”
”مجھے تم سے یہی امید تھی… پہلے کب تم نے میری کوئی بات مانی ہے جو اب مانو گی … تم سدا کی بدھو ہو اور بدھو ہی رہنا … میرے دوستوں کی فرینڈز روز روز ان کے ساتھ گھومتی پھرتی ہیں … ایک میری ہی قسمت خراب ہے جو تم صرف ایک دن کے لیے بھی باہر نہیں مل سکتیں۔”
”میں ملنے سے انکار نہیں کر رہی ہوں… گھر سے باہر کسی جگہ ملنے سے انکار ہے بس ۔ ” نادیہ آہستگی سے بولی۔
”واہ! زمانہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا اور تم ویلنٹائن والے دن بھی گھر پر ملنے کا کہہ رہی ہو… اس دن لوگ محبت کا اظہار کرتے ہیں… اتنا اچھا مناتے ہیں … مجھے نہیں پتا بس تم کسی بھی طرح کل مجھ سے باہر کہیں بھی ملو گی… میں نے دوستوں سے شرط لگائی ہے کہ اس بار تمھیں باہر ضرور لے کر جاؤں گا… اتنا مذاق اُڑاتے ہیں سب میرا… اب کی بار میں نے یہ شرط جیتنا ہے مجھے نہیں پتا ، کل تم ضرور آؤ گی۔” فیصلہ کن انداز میں کہہ کر شاہد نے فون بند کر دیا۔
-

لالچ — سونیا چوہدری
”دیکھو بہن آپ کا بیٹا چودہ پاس ہو یا سولہ ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔ ہمیں تو بس اس کی کمائی سے مطلب ہے جس کو دیکھ کر ہم اپنی بیٹی کا رشتہ طے کریں گے۔ ہمیں بھلا ان ڈگریوں سے کیا لینا دینا۔” رشیدہ نے ہاتھ اٹھا کر سامنے بیٹھے عمر رسیدہ جوڑے کو صاف لہجے میں کہا تو انہوں نے گہری نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر رشیدہ سے مخاطب ہوئے۔
”دیکھئے بہن جی پڑھا لکھا انسان ہو تو نوکری بھی اچھی ملتی ہے اور جب نوکری اچھی ہو تو تنخواہ تو خواہ مخواہ اچھی ہوگی اور ہمارا بیٹا مہینے کہ پچیس ہزار آسانی سے کما لیتا ہے اور ویسے بھی ہمارا اکلوتا بیٹا ہے ہمارا جو کچھ بھی ہے سب اسی کا تو ہے۔” انہوں نے تحمل سے کہا۔
”پچیس ہزار؟ ارے بہن آج کی مہنگائی میں پچیس ہزار کی قیمت پچیس روپے سے زیادہ نہیں رہی۔” رانی کی ماں نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔ ”پھر جیسے آپ کی مرضی۔” وہ پرسکون لہجے میں کہتی اپنے شوہر کو اشارہ کرتی اُٹھ کھڑی ہوئیں اور دونوں باہر کی جانب بڑھ گئے۔ رشیدہ نے ان کو دروازے تک چھوڑ کر آنا بھی مناسب نہ سمجھا اور بیٹھ کر سامنے میز پر رکھی بسکٹ والی پلیٹ میں سے بسکٹ اٹھا کر چائے میں ڈبو کر کھانے لگی۔
”امی یہ خالہ صغرا بھی کیسے کیسے نکمے رشتے لے آتی ہے۔” کمرے سے نکلتی ہوئی رانی نے رشیدہ کو دیکھتے ہوئے ناگواری سے کہا۔
”اس بار آلینے دے صغرا کو اس کی ایسی خبرلوں گی کہ دوبارہ ایسے رشتے نہیں لائے گی۔” رشیدہ نے غصے سے کہا تو رانی میز پر پڑے برتن اٹھانے لگی۔
”امی رات کے کھانے میں کیا بناؤں؟” رانی نے برتن سمیٹتے ہوئے پوچھا۔
”دال گوشت بنالے اور ساتھ میں سلاد او ررائتہ بھی بنا لینا۔ تیری ممانی آنے والی ہے شام کو۔ اس نے بھی ایک رشتہ بتایا تھا تیرے لئے۔ اب آئے گی تو تفصیل معلوم ہوگی۔” رشیدہ نے چائے کا آخری گھونٹ حلق سے اتارتے ہوئے کہا۔
”کیا ممانی نے بھی کوئی رشتہ بتایا ہے؟ ممانی کا بتایا رشتہ تو پھر اچھا ہی ہوگا انہوں نے اپنی بیٹیوں کے رشتہ بھی تو کتنے امیر گھرانوں میں کئے ہیں۔” رانی نے خوشی سے چہکتے ہوئے کہا تو رشیدہ بھی مسکرا دی۔
”ہاں کہتی تو ٹھیک ہی ہے۔ فرزانہ کوئی ایسا ویسا رشتہ تو نہیں بتانے والی۔” رشیدہ نے رانی کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا۔
”اچھا اب یہیں کھڑی باتیں کرتی رہے گی یا جاکر ہانڈی کا بھی بندوبست کرے گی۔” رشیدہ نے اپنی ٹون بدلی تو رانی جلدی سے کچن کی جانب بڑھ گئی۔
”ارے رانی بیٹا ادھر آ ادھر میرے پاس آکر بیٹھ۔” ممانی نے اسے محبت سے پاس بلاتے ہوئے کہا تو وہ مسکراتی ان کے پاس جاکر چار پائی پر بیٹھ گئی۔
”دیکھ تو رشیدہ تیری بیٹی پہلے سے بھی کتنی سوہنی ہوگئی ہے۔” فرزانہ نے رانی کو دیکھتے ہوئے کہا تو اس نے جھینپ کرنگاہیں جھکالیں۔
”بس تو دیکھنا کل رشتے والے جو آئیں گے ان کو ہماری رانی ضرور پسند آئے گی۔”
لڑکا دبئی ہوتا میں ہوتا ہے ابھی ایک ہفتہ پہلے ہی پاکستان آیا ہے۔ دیکھنے میں بھی بھلا چنگا ہے اور شادی کے بعد لڑکی کو بھی اپنے ساتھ دبئی لے جائے گا۔ بس میں نے تو اسے دیکھتے ہی اپنی رانی کی بات چلا دی تھی۔ اب کل وہ لوگ آئیں گے تو تُو خود بھی دیکھ کر تسلی کرلینا۔” فرزانہ نے رشیدہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
”جارانی کھانا لگا جاکر فرزانہ کو بھوک لگی ہوگی۔” رشیدہ کی آواز پر پر رانی چونکی جو ابھی سے پردیسی بابو کے خیالوں میں کھوچکی تھی۔
وہ جلدی سے اُٹھ کر کھانا لگانے لگی۔ سب نے مل کر کھانا کھایا اور کچھ دیر بعد سو گئے۔ اُس کی نیند تو پردیسی بابو کے خیالوں نے چُرالی تھی۔ آج کی رات رانی کے لئے سوکر گزارنے کی نہیں بلکہ خواب دیکھ کر گزارنے کی تھی۔ وہی خواب جو ہر لڑکی دیکھتی ہے۔ خواب دیکھتے دیکھتے کب اس کو نیند نے اپنی آغوش میں لے لیا اس کو خود بھی خبر نہ ہوسکی۔
٭…٭…٭
آج اس نے خوب دل لگا کر مہمانوں کی آمد کی تیاری کی تھی۔ ورنہ آج سے پہلے جتنے بھی رشتے آئے تھے ماں کو پسند آتے نہ بیٹی کو۔ یہ پہلا رشتہ تھا، جو دونوں ماں بیٹی کے دل کو لگا تھا۔ مہمانوں کی آمد ہوچکی تھی۔ رانی ہاتھ میں چائے کی ٹرے تھامے سب کے لئے چائے لے گئی۔ اس کی نظر سامنے بیٹھے نوجوان پر پڑی۔ وہ رانی کو دیکھ کر ہی مُسکرا رہا تھا رانی نے شرما کر نظریں جھکالیں اور سب کے لئے کپ میں چائے ڈالنے لگی۔ چند ثانیے بیٹھے رہنے کہ بعد وہ اٹھ کر کمرے میں چلی آئی۔ اس کا دل معمول سے ہٹ کر دھڑک رہا تھا۔ رانی سنگھار میز کے پاس کھڑی تھی، جب رشیدہ ہنستی مسکراتی کمرے میں داخل ہوئی۔
”مبارک ہو تو ان کو پسند آگئی ہے۔” رشیدہ کی بات پر رانی ماں سے لپٹ گئی۔
لڑکے والے جاچکے تھے نکاح کی تاریخ ایک ہفتے کہ بعد رکھی گئی تھی۔ سب کچھ اتنی جلدی ہورہا تھا کہ رانی کو خود بھی اپنی قسمت پر یقین نہیں آرہا تھا۔
شادی میں بس قریبی رشتے داروں کو ہی مدعو کیا گیا تھا۔ ویسے بھی رشیدہ کا داماد دبئی کا تھا وہ اپنے دیہاتی رشتے داروں کو بلا کر اپنا امپریشن خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔!!!
٭…٭…٭
-

میٹھی یاد — لعل خان
میں پل کے نیچے لگے ہوئے سبزی کے ٹھیلوں کے پاس کھڑا ٹریفک دیکھ رہا تھا،جب میں نے سڑک کے کنارے چودہ یا پندرہ سال کی لڑکی کو دیکھا۔ اس نے میلا کچیلا بدرنگ سا گھاگھرا پہنا ہوا تھا،سر کے بال بھورے اور کھچڑی تھے ،الجھے اور بے ہنگم سے،اس کے پائوں میں جوتے بھی پھٹے پرانے تھے۔اس نے دونوں ہاتھوں میں چوڑیوں کا ٹوکرا اٹھایا ہوا تھا کہ ٹوکرا بتاتا تھا، لڑکی بھکاری نہیں محنت کش ہے۔ اس کے ساتھ ایک چار سال کا بچہ بھی تھا جس نے اس کی ایک ٹانگ کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔ وہ سڑک پار کرنا چاہ رہی تھی مگر ہاتھوں میں پکڑے ہوئے چوڑیوں کے ٹوکرے اور ٹانگ سے لپٹے ہوئے بچے کی وجہ سے اُسے مشکل پیش آ رہی تھی۔میں پل کے نیچے سائے میں کھڑے ہو کر دھوپ میں کھڑی اس لڑکی کے تذبذب کو دیکھ رہا تھا۔یہاں ہر طرف انسان تھے مگر سب اپنی اپنی دھن میں مگن تھے،کسی کے پاس چوڑیوں والی کی طرف دیکھنے کا وقت نہیں تھا۔ میں پل کے نیچے سے نکل کر دھوپ میں کھڑا ہو گیا ،میں چاہ رہا تھا وہ مجھ سے مدد طلب کرے۔ اس نے کن اکھیوں سے مجھے دیکھا مگر پھر خود ہی بچے کو اٹھانے کی کوشش کی، میں جانتا تھا کہ یہ دھان پان سی لڑکی ایک ساتھ ٹوکرا اور بچہ نہیں اٹھا پائے گی اور دونوں میں سے ایک کو ضرور گرائے گی۔ میں آہستہ سے چلتے ہوئے اس کے پاس آ گیا،اب میرے اور اس کے درمیان چھے فٹ کا فاصلہ باقی تھا، اس نے ایک ہاتھ سے ٹوکرے کو سر پہ جمایا اور دوسرے ہاتھ سے جھک کر بچے کو اٹھانا چاہا ،مگر وہ بچے کو اٹھا نہیں پا رہی تھی اور ٹوکرا بھی اب کہ تب گرنے والا تھا،میں اب اس کے بالکل پاس کھڑا تھا۔میں نے اُردو میں کہا: ”ٹوکرا مجھے دو تم بچے کو اٹھا لو۔”اس نے بچے کو چھوڑا اور مڑ کے مجھے دیکھا،اس کا قد لگ بھگ پانچ فُٹ ہو گا یا اس سے ایک آدھ انچ کم۔اس کا چہرہ سفید مگر دیمک زدہ لکڑی کی طرح خشک تھا۔اس کی آنکھیں گہری نیلی اور بالکل بے تاثر تھیں … مجسمے کی طرح، اس میں کوئی ایک چیز بھی ایسی نہیں تھی جسے دیکھتے ہوئے کوئی اسے مُڑ کر دیکھے،وہ ٹریفک میں چلتی ہوئی ایک گاڑی تھی یا سڑک پہ بہتا ہوا تارکول… سڑک کے آس پاس لگے ہوئے ٹھیلوں میں سے ایک تھی ،یا گاڑیوں کے انجن سے نکلتا ہوا شور، یا پھر گاڑیوں کے سائیلنسر سے نکلتا ہوا دھواں تھی ،وہ جو بھی تھی پر قابل توجہ نہیں تھی۔ وہ اپسرا نہیں تھی جو منظر میں کھڑے ہو کر منظر کو اپنی مُٹھی میں کر لے ،وہ تو منظر کا وہ رنگ تھی جس کے ہونے یا نہ ہونے سے منظر کو کوئی فرق نہیں پڑتا…
میں نے اس کی گہری نیلی آنکھوں میں جمی ہوئی برف کو نظر انداز کر کے ایک بار پھر اردو میں اسے مدد کی پیشکش کی۔وہ اب بھی بے تاثر چہرے کے ساتھ مجھے تک رہی تھی ،اسے شاید اردو نہیں آتی تھی،میں نے اس کے سر پہ رکھے ہوئے ٹوکرے کی جانب اشارہ کیا اور پھر بچے کی طرف ،اس نے ٹوکرا اُٹھا کر مجھے تھما دیا اور خود بچے کو اٹھا کر سڑک پار کرنے لگی۔ہم سڑک کی دوسری طرف گئے ،وہ آگے آگے تھی اور میں اس کے پیچھے ،میں سڑک پار کر کے آہستہ ہوا ،میرا خیال تھا میرا کام ختم ہو گیا مگر وہ پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر آگے آگے جا رہی تھی۔ تھوڑی دور جا کر میں نے اسے پیچھے سے مخاطب کیا مگر وہ بغیر کچھ بولے سُنے چلی جا رہی تھی ،مجھے اب غصہ آنے لگا تھا ،مگر پانچ سے سات منٹ کی واک کے بعد اب ہم چار منزلہ بلڈنگ کے تہ خانے میں موجود تھے ۔ یہاں اچھی خاصی چہل پہل تھی ،مختلف چیزوں کے اسٹال لگے ہوئے تھے۔ لڑکی ایک کونے میں گئی ،بچے کو اتارا اور میرے ہاتھ سے ٹوکرا لے کر زمین پہ رکھا۔ ٹوکرے کے اندر چوڑیوں کے اوپر ایک ٹاٹ کا ٹکڑا پڑا تھا ،یہ ٹاٹ اٹھا کر اس نے زمین پہ بچھایا اور خود اس کے اوپر بیٹھ کر ایک طرف سمٹتے ہوئے میرے لئے جگہ بنائی۔ میں نے اشارے سے منع کیا اور مُڑنا چاہا مگر اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے بیٹھنے کے لئے اشارہ کیا،میں نے اپنا ہاتھ چھڑایا اور اس کے ساتھ ٹاٹ پر بیٹھنے کی بہ جائے اس کے سامنے پائوں کے بل بیٹھ گیا۔ اب ہم دونوں کے درمیان چوڑیوں کا ٹوکرا تھا ،اس نے چوڑیوں کا ایک چھوٹا سیٹ اُٹھا کر میری طرف بڑھایا،میں نے انکار میں سر ہلایا۔اس نے پھر زبردستی سیٹ میرے ہاتھ میں دینا چاہا،میں نے سیٹ اس کے ہاتھ سے لے کر واپس ٹوکرے میں رکھ دیا اور مُسکرا کر کھڑا ہوکر واپسی کے لئے مڑا،تب میں نے پہلی بار اس کی آواز سنی ،اس نے کہا:
”نام؟”
میں نے مڑ کر اسے دیکھا،مجھے پہلی بار اس کی نیلی آنکھوں میں حرکت محسوس ہوئی،جیسے اچانک مجسمے میں جان پڑ جاتی ہو،جیسے خاموش جھیل میں اچانک کسی نے کنکر پھینک دیا ہو۔ اس کی آنکھوں میں جان پڑتے ہی جیسے اس کا پورا چہرہ بدل گیا۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت سے چہروں کو بدلتے دیکھا ہے مگر وہ بدلتے چہرے اذیت دیتے تھے ۔یہ پہلا چہرہ تھا جس نے اچانک بدل کر مجھے چند لمحوں کے لئے ہر طرف سے غافل کر کے اسے دیکھنے پر مجبور کر دیا تھا۔ میں اسے تکے جا رہا تھا ،اس نے اپنا سوال دہرایا: ”نام؟”
میں نے اس کے خشک اور پیپڑی زدہ ہونٹوں کو ہلتے ہوئے دیکھا،اور جیسے اچانک خواب سے جاگ گیا ”لعل خان۔” میں نے نیم خوابیدہ لہجے میں جواب دیا اور ایک بار پھر اس کی گہری نیلی آنکھوں میں گم ہو گیا۔
ایک ہلکی سی مسکان پہلے اس کی آنکھوں میں اُتری،پھر دھیرے سے سرکتے ہوئے اس کے ہونٹوں پہ آ کے رک گئی۔ ”لعل خان” اس نے میرا نام دُہرایا۔ خدا کی قسم ،مجھے اس سے پہلے اپنا نام اتنا خوب صورت کبھی نہیں لگا تھا ،میں مبہوت ہو کر اس کے چہرے کے بدلتے رنگوں کو دیکھ رہا تھا اور وہ ہولے سے مسکرا رہی تھی۔ اس کی مسکراہٹ میں ایک عجیب طرح کا تفاخر تھا۔ وہ یقینا اپنی آنکھوں اور اپنے چہرے کے گرگٹ کی طرح بدلتے رنگوں کی طلسماتی کشش سے واقف تھی، تبھی تو آنکھوں میں برف اور چہرے کو دیمک میں چُھپا کر منظر کے بے وقعت رنگ میں رنگی رہتی تھی ،جانتی تھی وقعت ملے گی تو بہت کچھ چھن بھی جائے گا۔
اس نے اب کی بار بہت پرُاعتماد انداز میں مجھے اپنے ساتھ ٹاٹ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور میں ہار مانتے ہوئے اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا یہ ہماری پہلی اور آخری ملاقات اور ایک میٹھی یاد تھی۔٭٭٭٭
-

نارسا — فاطمہ رضوی
مہمان آنے والے تھے میں ڈرائنگ روم کی صفائی اور جھاڑ پونچھ میں مصروف تھی کہ مجھے کھڑکی کے بالکل قریب ایک عورت کی سسکیوں کی آواز سنائی دی۔ پہلے تو واہمہ سمجھ کر نظر انداز کیا مگر جب سسکیاں اور آہیں میرے دل کے سکون کو تباہ کرنے لگیں تو میں نے جھانک کر دیکھا… لان کے بالکل قریب سبزہ پر ایک عورت مسلسل روئے جا رہی تھی اور دوسری اسے مسلسل تسلی دے رہی تھی۔ مگر میں اس عورت کی صورت نہ دیکھ سکی کیوںکہ اُس نے اپنے سر گھٹنوں میں دبا رکھا تھا میں سمجھنے سے قاصر تھی کہ اصل ماجرا کیا ہے؟ کھڑکی کا شیشہ بجا کر انہیں اپنی جانب متوجہ کرنا چاہا… دونوں خواتین نے چونک کر کھڑکی کی طرف دیکھا مگر میرے بلانے پر اندر آنے کی بہ جائے تیزی سے آگے بڑھ گئیں جتنی دیر میں باہر نکل کر اُنہیں پکارتی وہ نظر سے اوجھل ہو چکی تھیں… وہ تو چلی گئیں مگر عجیب سی کسک… تڑپ اور اضطراب کا موسم میرے دل میں بسا گئیں… نہ جانے کیا بات تھی؟ جو اُس عورت کے آنسو نہیں تھم رہے تھے… کیا اُس کا کوئی پُرسانِ حال نہیں کیا وہ بھی ہر دوسری عورت کی طرح اس میل ڈومینٹنگ سوسائٹی (Male Dominating Society) میں ظلم کا شکار ہیں… یا کوئی اور غم رنج و الم کی انتہا بن کر اشکوں کی صورت بہ رہا ہے… میری طبیعت خاصی بوجھل ہو گئی… مگر بہت سے کام تھے میری اکلوتی بیٹی شامین کے رشتے کے لیے کینیڈا سے آئی میری عزیز از جان انجواپیا اور فیملی آنے والے تھے۔
کچن کے انتظامات کو آخری نظر ڈال کر لباس تبدیل کرنے ڈریسنگ روم میں گھس گئی… اُسی شام میری اکلوتی بیٹی شامین کا رشتہ طے پایا۔ بہت اچھا نصیب پایا تھا میری بچی شامین نے… اور وہ تھی بھی اس قابل… من موہنی صورت دل کش نین نقش والی شامین نے بہت کم عمری میں ماہر نفسیات بننے کا شرف بھی حاصل کیا تھا۔ مجھے اُس پر فخر تھا۔ ایک ہفتہ اُس کے نکاح کی تیاریوں میں گزر گیا۔ اس کا منگیتر میرا سگا بھانجا ارسل تھا… اگلے ہفتے تمام تر کام خوش اسلوبی سے نبٹانے کے بعد جب میں آفس پہنچی تو بہت سی اسائسنمنٹس میری منتظر تھیں۔ گزشتہ اٹھارہ سال سے میں ”طلحہ فائونڈیشن” کے نام سے ایک این جی او چلا رہی تھی جو بہت کامیابی سے مستحق افراد کی حتیٰ الامکان کوشش، امداد اور دُکھیاروں کے نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی زخموں کی مسیحائی کا کام سرانجام دے رہی تھی۔
”طلحہ فائونڈیشن” کی بہت سی شاخیں پشاور، ملتان، اسلام آباد، لاہور، ملتان اور فیصل آباد میں بھی سرگرمِ عمل تھیں۔
1999ء میں کارگل کی جنگ میں میرے محبوب شوہر طلحہ عباس نے دلیری اور شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا… تب میری شامین پانچ برس کی اور حمزہ سات برس کا تھا… میں نے اپنے مخلص دوستوں کی مشاورت سے اپنی زندگی کا لائحہ عمل مرتب کیا الحمد للہ بچوں کی تعلیم… تربیت … گھریلو اخراجات این جی او کا انعقاد سب میں مجھے حوصلہ افزائی اور پذیرائی سے خوش آمدید کہا…
وقت کی گزرتی ساعتیں… مجھے گردو پیش کے حالات سے آگاہ رکھتیں ”طلحہ فائونڈیشن” میری زندگی کا نصب العین اور مشن بن چکی تھی۔
میں نے طویل و عریض اراضی خرید کر اپنا آفس اس سے ملحقہ ایک سکول … اور ہاسٹل بنایا تھا… اس روز میں اپنی ساتھی کارکنوں کی ہمراہی میں ایک خاتون کی مزاج پُرسی کے لیے گئی، جس کے بارے میں چند لمحوں پہلے مجھے بتایا گیا تھا کہ وہ شوہر کے تشدد کے بعد بُری طرح زخمی ہوئی اور اپنی ایک پڑوسن کی مدد سے یہاں تک پہنچی۔ مجھے یہ دیکھ کر جھٹکا لگا کہ یہ وہی عورت تھی جو چند ماہ قبل میرے گھر کے باہر زارو قطار رو رہی تھی۔ میں نے اُس کے ساتھ آئی دوسری خاتون شاہدہ کو پہچان لیا تھا… رونے والی عورت کا نام شاہدہ اور ساتھ آئی پڑوسن کا نام فریحہ تھا… شاہدہ برُی طرح گھائل تھی… اُس کے چہرے ہاتھوں اور بازئوں پر ضربوں کے نشانات تھے۔ عمر غالباً چالیس سے اُوپر تھی مگر بال کھچڑی ہو چکے تھے۔
اُس نے دل کھول کر میرے سامنے رکھ دیا… اس کی مرہم پٹی کے دوران وہ مسلسل روتی رہی… بولتی رہی…
اس کی تین جوان بیٹیاں تھی… اس نے بتایا نو عمری سے ہی اُس کے والدین نے اُس کا رشتہ اس کے چچا کے بیٹے سے طے کر دیا تھا… جو ان ہوئی تو شادی کی تاریخ طے ہوتے ہی چچا کے بیٹے راشد نے مسلسل رابطہ کر کے کہا تم خود تایا جی کو منع کر دو میں تم سے نہیں اپنے ایک دوست کی بہن سے شادی کرنا چاہتا ہوں…
مگر تایا جی اور چچا میرے ابو اور کوئی بھی خاندان کا فرد یہ رشتہ توڑنے پہ راضی نہ تھا… آخر کار میری شادی راشد سے ہو گئی… شادی کیا ہوئی؟ میرے لیے آہوں کا در کھل گیا… اس نے مجھے جیتے جی مار دیا… مجھے لے کر ایک اور شہر چلا گیا گھر والوں سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔ہر وقت طنز، جھگڑے اور مارپیٹ برداشت کرنی پڑتی… میرے لیے زندگی گزارنا اور بھی عذاب ہو گئی جب چار سالوں میں تین بیٹیوں نے جنم لیا… جو ہو بہو میری ہم شکل تھیں… راشد نے انہیں اس قابل بھی نہ سمجھا تھا کہ اُن کی صورت دیکھے انہیں پیار سے گود میں اُٹھائے… بچیوں نے نو عمری میں قدم رکھا تو رنگ روپ نکھرنے لگا… تینوں ایک سے بڑھ کر ایک تھیں… پھر ملازمت سے جواب مل گیا تو گھر بیٹھ کر میری زندگی اور اجیرن بنا دی مگر میں بچیوں کی خاطر سہتی رہی…
ایک روز دبئی سے اُس کا دوست آیا… میری بڑی بیٹی نے چائے کی ٹرے تیار کی تو راشد بولا اندر لے آئو… میری بیٹی شہر بانو چائے لے کر اندر گئی تو راشد بولا… آئو آئو تمہارے چچا تایا کی طرح ہیں میرے دوست ہیں یہ… اتنی حسین لڑکی کو دیکھ کر اس شخص کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ جاتے ہوئے پانچ ہزار میری بیٹی کو تھما گیا کہ میں تم لوگوں کے لیے کچھ لا نہیں سکا… اب تو راشد کو آمدنی کا ذریعہ مل گیا۔ ہر وقت گھر میں بیٹھا رہتا اور اس کے نئے نئے نمونے دوست گھر آنے لگے۔ کچھ قرض لینے آتے اور کھا پی بھی جاتے… کچھ اُدھار دے جاتے اور خوش گپیوں میں مصروف رہتے۔ بچیوں کو بلا کر ان سے بے ہودہ مذاق کرتے… مگر راشد کی غیرت کی حس تو گویا ختم ہو گئی تھی۔ میں احتجاج کرتی تو راشد دوستوں کے سامنے ڈانٹ پھٹکار شروع کر دیتا اور اُن کے جانے کے بعد مجھے روئی کی طرح دُھنک کر رکھ دیتا… اب تو بیٹیاں بھی اُس کی طرف دار ہو گئی تھیں وہ دوستوں کی طرح اسے اُنہیں اچھا لباس، زیور… ضرورت کی ہر چیز مہیا کرتا۔ شہر بانو نے ہر حد پار کرنے کی گویا قسم کھائی تھی وہ کئی بار دبئی والے چاچا کے ساتھ گھومنے گئی واپسی پر ہزاروں کی شاپنگ… کیش … برانڈڈ شوز… وہ تو مجھے صاف صاف سُنا دیتی امی آپ نے اپنا کیا حلیہ بنایا ہے چالیس کی عمر میں ساٹھ کی لگتی ہیں خود کو چینج کریں… جب ابو کو اعتراض نہیں تو آپ بھی گھوما پھرا کریں لائف انجوائے کریں… میں جانتی ہوں ان مقدس رشتوں کی آڑ میں کیا کھیل کھیلا جاتا ہے آج کل سگے رشتوں پر اعتبار نہیں یہ تو پھر باپ کے دوست تھے۔ وہ بھی عیاش اور نو دولتیے… میری سب سے چھوٹی بیٹی نور بانو ان باتوں کو پسند نہیں کرتی کئی بار باپ سے ڈانٹ اور تھپڑ کھانے کے باوجود وہ ان محفلوں میں شرکت کرنے سے انکاری ہوئی۔ تو راشد نے میری پھول سی اٹھارہ سالہ بچی کو اپنے ایک عیاش دوست سے بیاہ دیا جو اُس سے دُگنی عمر کا تھا… نہ جہیز دیا نہ پیار کے دو بول… بلکہ اُس کے شوہر سے بھی پانچ لاکھ روپیہ لیا… اور وہ میری بچی کو لے کر امریکا چلا گیا جہاں سے اُس کے دو خط اور صرف ایک بار فون آیا ہے کہ وہ نہایت دُکھی اور غمگین زندگی گزار رہی ہے… کیوںکہ اُس کا شوہر بھی وہی گھنائونا اور قبیح کاروبار کرتا ہے، جو راشد کرتا ہے… مگر میں کس سے فریاد کرتی کسی بات پر اعتراض کروں تو بیٹیاں کاٹ کھانے کو آتی ہیں۔ اب تو ستم کی انتہا ہو گئی کہ وہ جس عورت سے شادی کرنا چاہتا تھا وہ بیوہ ہو گئی ہے۔ اُس کی بیٹی کے ساتھ اُس کو بھی گھر لے آیا ہے۔ وہ عورت اور اُس کی بیٹی بھی بدکردار اور بے حیا ہیں۔ مردوں کی محفل میں بے ہودہ لباس پہن کر جانا… اپنی چودہ سالہ بیٹی کو وہ مردوں میں ایسے پیش کرتی ہے گویا شوپیس ہو۔ مگر راشدہ کو وہ عورت اور اُس کی بیٹی بہت پسند ہیں۔ میں نے بڑی بیٹی شہربانو اور مہربانو کو بہت سمجھایا کہ میں تمہارے باپ سے اس لیے جھگڑتی ہوں کہ مجھے تمہاری عزت پیاری ہے اور تم لوگ میرا ساتھ نہیں دیتیں۔ مگر اُن کا کہنا ہے یہ ماڈرن دور ہے ۔ مرد عورت اگر آپس میں ہنسی خوشی رہنا چاہیں تو آپ کو کیا اعتراض ہے…
اور آج کس بات پر اُس نے تمہیں اتنا مارا… آج کوئی خاص بات ہوئی… میری این جی او میں کام کرنے والی سماجی خاتون ندرت نے پوچھا…
جی باجی آج جب شہر بانو دبئی والے دوست کے ساتھ باہر گئی ہوئی تھی مہر بانو سوئی ہوئی تھی۔ میری سوتن اپنے کسی پرانے دوست کے ساتھ فون پر خوش گپیوں میں مصروف تھی کہ میں چائے لے کر راشد کے کمرے میں گئی تو یہ دیکھ کر میرے پیروں تلے زمین نکل گئی کہ راشد اور میری سوتن کی چودہ سالہ بیٹی … اُف کسی کو رشتوں کے تقدس اور خدا کا خوف نہیں تھا… سب گناہ کی دلدل میں پھنس چکے تھے… راشد نے مجھ پر تھپڑوں کی بھرمار کر دی… ذلیل عورت تمیز نہیں کسی کے کمرے میں بتائے بغیر نہیں آتے… اور شور کی آواز سن کر میری سوتن بھاگتی ہوئی آئی اور راشد کو کچھ کہنے کی بہ جائے مجھ پر برس پڑی… ان دونوں نے مجھے مل کر مارا اور گھر سے نکال دیا… میں اپنی پڑوسن فریحہ کے ساتھ آپ کے پاس آئی ہوں…
اور اُسی شام میں نے لیڈی پولیس کی امداد طلب کیا ور راشد کے گھر چھاپہ مارا اُس کی چھوٹی بیٹی سوتیلی بیٹی اور دوسری بیوی تین مرد اور راشد رنگے ہاتھوں پکڑے گئے…
”طلحہ فائونڈیشن” میں شاہدہ محفوظ اور مطمئن ہے میں نے اُس کی بیٹی نور بانو سے بھی رابطہ کیا ہے۔ اُس کا نام نہاد شوہر وہاں کسی کالے امریکا کے ہاتھوں قتل ہو چکا ہے… نور بانو ماں سے ملنے کے لیے بے تاب ہے… اور میں چائے کا کپ تھامے کھڑکی سے باہر گرتی بارش کی بوندوں کو ٹپ ٹپ گرتا دیکھ کر سوچ رہی ہوں… اس دیس میں ناجانے کتنی عورتوں کی کہانی نالۂ نارسا ہے جسے کوئی سننا پسند نہیں کرتا…
٭٭٭٭٭
-

میں لکھاری ہوں — اعتزاز سلیم وصلی
”سنو سنوسب لوگ سن لو۔میں لکھاری ہوں،لکھاری ہوں میں۔میرے قلم کی کاٹ نے دنیا کو ادھیڑ دیا تھا۔میرے الفاظ کے جادو نے کئی لوگوں کو اپنے سحر میں جکڑلیا تھا۔ہاں میں ہی وہ لکھاری ہوں جس کی لکھی گئی تحریروں کو تم لوگ پڑھتے ہو ۔سنو لوگوں! میں لکھاری ہوں۔ میں جب چاہوں اپنے الفاظ سے کسی کو رلا سکتا ہوں کسی کے لبوں کی ہنسی بن سکتا ہوں۔کیوں کہ میں لکھاری ہوں۔”
٭…٭…٭
صدیق احمد قریشی نے کتابوں کی دکان یہ سوچ کربنائی تھی کہ شوق بھی پورا ہو جائے گا اور بچوں کی روزی روٹی بھی چلتی رہے گی مگر رفتہ رفتہ جب ٹیکنالوجی نے عروج پایا تو انہیں محسوس ہوا ،ان کا یہ فیصلہ نہ صرف غلط تھا بلکہ شوق کو پورا کرنے کی خواہش نے ان کے بچوں کا مستقبل بھی خطرے میں ڈال دیا تھا۔ویسے بھی اب کہاں ملتے تھے پرانے شاعر لوگ،افسانہ نگاراور انہیں پڑھنے والے قاری جو ایک عام سے چائے خانے میں بیٹھ کر چائے کا کپ لبوں سے لگاتے اور لکھاریوں پر گفتگو کرتے۔ کوئی منٹو کے قلم کا عاشق ہوتا تو کوئی مشتاق احمد یوسفی کی کسی کتاب کا اقتباس اٹھا کر لوگوں کو ہنسا رہا ہوتا تھا۔کوئی سنجیدگی سے کسی نئے لکھاری کی تحریر میں سے غلطیاں نکال رہا ہوتا تھا تو کوئی اپنی تحریر کی تعریف۔اب تو ہے سوشل میڈیا کا دور جہاں ہر قسم کی گفتگو کی آزادی ہے۔پرانے زمانے میں عاشق لوگ بھی اردو کی شاعری استعمال کرکے محبوبہ کو خط لکھتے تھے اور اب نئے زمانے کے عاشق ہیں جو فیس بک اور واٹس ایپ پر ”اینجل سارہ ،سویٹی ڈول”سے عشق فرماکر خود کو ماڈرن دور کا رانجھا سمجھتے ہیں۔ان کے عشق کی سچائی میں تب خلل پڑتا ہے جب اینجل سارہ میں سے چاچا بشیر نکلتا ہے۔قصہ مختصر بدلتے حالات نے صدیق احمد قریشی کے مالی حالات بھی بدل دیے۔تین دن میں ایک ناول بکتا وہ بھی اتنی سی قیمت پر کہ دکان دار دو وقت کی چائے کے ساتھ بسکٹ کھاسکے۔صدیق صاحب بھی عقل مند تھے اور اس تبدیلی کو بھانپ گئے اس لیے گھر میں ایک دن تینوں بچوں کو کھیلنے بھیج دیا اور خود بیگم صاحبہ کے گوڈے پکڑ کر بیٹھ گئے۔
”صدیق یہ کوئی وقت ہے؟”نسرین نے شرما کر اردگرد دیکھا۔
”میں تم سے ضروری بات کرنا چاہتا ہوں۔”ان کا جملہ سن کر نسرین سمجھ گئی کہ شرمانا بیکار گیا ہے۔ اس لیے دوپٹے کا پلو جو کچھ دیر پہلے انہوں نے صائمہ کی طرح پکڑ رکھا تھا،اچانک چھوڑ دیا اور صدیق صاحب کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
”مجھے پیسوں کی ضرورت ہے۔” انہوں نے چہرے کے تاثرات مسکینوں جیسے کر لیے۔
”وہ تو آپ جانتے ہیں میرے پاس بھی نہیں ،کوئی نئی بات کریں۔” نسرین آئی ایم ایف تھی نہ صدیق صاحب پاکستان۔اس لیے صدیق صاحب نے جواب کا برا منائے بغیر اپنی بات مکمل کی۔
”دکان کے حالات ہمارے ملک جیسے ہی ہیں کسی وقت بھی قرضہ مانگنا پڑ سکتا ہے۔ میں چاہتاہوں میں کوئی ایک لاکھ روپیہ مزید خرچ کر کے اسے اسکول ،کالجز کی کتابوں کا بک ڈپو بنا دوں ۔یہ ناولز وغیرہ آج کل کوئی نہیں پڑھتا۔نہ کوئی ڈائجسٹ خریدتا ہے۔”
”مگر اتنے پیسے کہاں سے آئیں گے؟”
”تمہارا زیور…”ان کے الفاظ نے بچھو کی طرح کاٹ لیا تھا نسرین بیگم کو۔اس نے ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر ناچنا شروع کردیا۔
”نہ نہ نہ،ہرگز نہیں،قطرہ وی نہیں ،سوچی وی نہ۔” صدیق صاحب نے دونوں کندھے تھام کر اسے روکا اور دنیا جہان کی مسکینیت اپنے لہجے میں سمو کر بولے:
”آٹھ سال کا ارباز،چھے سال کا شہباز اور صرف پانچ سال کی گلناز۔ ان بچوں کا کیا ہو گا۔کیا یہ بھوکے مر جائیں گے؟ ہرگز نہیں نسرین، ہرگز نہیں۔” اچانک ان کی آواز بدلی اور وہ بالکل شاہ رخ خان کے انداز میں بولے۔
”ابھی ان کا باپ زندہ ہے، ابھی صدیق احمد قریشی زندہ ہے۔میں اپنا گردہ بیچ دوں گا ۔اس سے کام نہ چلا تو دل اور معدہ بھی نکلوا دوں گا مگر اپنے بچوں کو بھوکا نہیں مرنے دوں گا۔”
”میری طرف سے اجازت ہے یہ سب کرنے کی۔”اس کے اطمینان میں کوئی فرق نہ پڑا۔
”سوچ لو نسرین، سوچ لو۔ زیور بہت مل جائیں گے پر شوہر ایک ہی ہوں۔”
”سب کے ایک ہی ہوتے ہیں میں کوئی انگلش فلموں کی ہیروئین ہوں جو تین چار رکھوں گی۔” نسرین جذباتی بلیک میلنگ میں آتی دکھائی نہیں دی۔
”ٹھیک ہے نہ مانو تم،میرے جاننے والے ہیں ان کی لڑکی کو کچھ دن پہلے طلاق ہوئی ہے۔ میں اس سے دوسری شادی کر لوں گا۔ گھر دے رہے ہیں اور گاڑی بھی۔” اس آخری حملے سے سومنات کا مندر فتح ہو گیا۔نسرین کی آنکھ میں آنسو آگئے۔
”آپ میرے ساتھ ایسا کریں گے شہباز کے ابا؟”
”میں ضرور ایسا کروں گا گلناز کی ماں۔” صدیق صاحب کے جاننے والوں میں جو سب سے امیر ترین تھے ان کے پاس نیا ہونڈا موٹرسائیکل تھا۔ گاڑی دینا وہ بھی جہیز میں ،کسی کے بس کی بات نہ تھی پر بچوں کے مستقبل کے لیے اتنے جھوٹ پر انہوں نے خدا سے دل ہی دل میں معافی مانگی۔کچھ دیر پرانے محلے کی شمیم آرا بننے کے بعد آخر نسرین نے زیور دے دیا۔اگلے مرحلے میں اس زیور کی کامیاب فروخت کے بعد صدیق صاحب نے پرانی دکان بیچی اور ہائی اسکول کے سامنے نئی دکان پر نیا بورڈ لگوا لیا”قریشی بک ڈپو۔”
پرانی دکان سے منٹو صاحب،تارڑ صاحب ،شفیق الرحمن صاحب ،نسیم حجازی اور کئی نئے پرانے لکھاری اٹھ کر گھر میں آگئے۔ ان طرح طرح کی کتابوں کا مطالعہ صدیق صاحب خود کرتے اور جب بچے بڑے ہوئے تو ان کو بھی پڑھنے کو دے دیں۔ارباز کو تو خیر نئے موبائل اور نئی فیشن کی شرٹس کے علاوہ کسی خاص چیز میں دل چسپی نہ تھی، البتہ شہباز نے یہ کتابیں پڑھنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ نتیجہ وہی نکلا جو صحبت کے اثر کا نکلتا ہے۔ کتابوں کی صحبت نے اسے اپنا بنا لیا۔ شہباز میٹرک میں پہنچا مگر اس کا مطالعہ کسی بھی طرح ایم اے کے طالب علم سے کم نہ تھا۔اردو زبان پراس کو عبورحاصل ہو گیا۔انہی دنوں اس نے اپنی پہلی تحریر صدیق صاحب کو لکھ کر دکھائی۔ یہ ایک معاشرتی موضوع پر لکھی گئی کہانی تھی جو چند کرداروں کے گرد گھومتی تھی۔پختہ انداز اور الفاظ دیکھ کر صدیق صاحب نے جوتی اتاری جس کا پہلا ڈرون حملہ شہباز نے جھک کر بچایا اور دوسراحملہ کرنے کے بجائے صدیق صاحب نے فرمایا۔
”نالائق کسی بڑے لکھاری کی تحریر کو اپنی کاپی پر لکھ کر مجھے ایسے دکھا رہا ہے جیسے خود لکھی ہو”
”یہ میں نے ہی لکھی ہے ابا۔”وہ رونے کے قریب تھا۔
”پکی بات ہے؟”
”آپ کے سر کی قسم۔” شہباز نے قسم کی شکل میں ثبوت حاضر کیا۔صدیق صاحب چند منٹ اسے دیکھتے رہے اورپھر گلے لگا کر بولے:
”میرا شہزادہ بیٹا تو لکھاریوں سے بھی بڑھ کر لکھتا ہے۔”شہباز کو جیسے محنت کا پھل مل گیا ہو، مگر ابھی کامیابی کے میدان اور بھی تھے۔صدیق صاحب نے وہ کہانی ایک سنڈے میگزین میں بھیج دی۔ان کے ایڈیٹر نے پڑھی اور ڈھیر ساری تعریفوں کا معاوضہ دے کر پہلی فرصت میں شائع کردی۔اب یہ سلسلہ چل نکلا۔شہباز کا قلم ایف اے کے بعد عروج پر پہنچااور اس عروج کا زوال نہ آتا اگر وہ حادثہ نہ ہوتا۔
٭…٭…٭
کہتے ہیں حادثے کی پرورش وقت برسوں کرتا ہے، مگر وہ حادثہ سمندری طوفان کی طرح ان کے ساحلوں سے ٹکرایا تھا۔ارباز نے میٹرک میں تین بار فیل ہونے کے بعد آوارہ گردی کو اپنایا اورمحلے کے مختلف گھروں سے اکثر شکایتیں آنے لگیں۔ باپ نے پکڑ کر اپنے ساتھ دکان پر بٹھایا مگر اربازکی حرکتوں سے تنگ آ کر خود بھگا دیا۔گلناز آٹھویں اور شہباز ایف اے کے بعد بی اے میں داخلے کا سوچ رہاتھا۔انہی دنوں صدیق صاحب کی دکان پر ایک عجیب شکل کا شخص آنے لگا۔پہلے دود ن تو انہوں نے اس فرنچ کٹ ڈاڑھی اور کھڑے بالوں والے انسان نما شخص پر کوئی توجہ نہیں دی مگر جب وہ باقاعدگی سے آنے لگا تو ان کے ماتھے نے ٹھنکنا ضروری سمجھا۔وہ کچھ خریدتا نہ فروخت کرتا بس دکان کے سامنے پڑی کرسی پر ایسے جم کر بیٹھتا جیسے وہ سادہ اکثریت سے کامیاب ہوکر اس علاقے کا وزیر اعظم بنا ہو۔اس دن بھی سردیوں کی آمد کی نوید سناتی ٹھنڈی ہوا اور نرم دھوپ میں وہ شخص آرام سے بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا جب صدیق صاحب اس کے قریب آئے اور پوچھا۔
”جناب آپ روز یہاں آتے ہیں سب خیریت؟”اس نے سر اٹھا کر صدیق صاحب کو گھورا۔
”میرے یہاں بیٹھنے سے آپ کو بل آتا ہے؟”
”نہیں ،پرجس کرسی پر آپ تشریف فرما ہیں یہ میری دکان کی ہے اورجس دکان کے سامنے آپ جم کر بیٹھے ہیں دراصل یہی میری دکان ہے۔”انہوں نے اس نامعقول شکل کے شخص کی بدتمیزی بڑی مشکل سے برداشت کی تھی۔
”یہ دکان میرے باپ کی ہے بابے اور تو نے چالاکی سے ہتھیا لی تھی۔”صدیق صاحب دنگ رہ گئے۔ یہ دکان انہوں نے ایک جاننے والے کے توسط سے خریدی تھی اور قیمت ادا کی تھی۔
”یہ رہے کاغذات۔”اس نے جیب سے نکال کر کاغذات لہرائے۔
”جا بھائی جا، کام کرو اپنا۔ میں نے پیسوں سے یہ دکان خریدی ہے۔ یہ جعلی کاغذات کسی اور کو دکھانا۔”صدیق صاحب واپس اپنی دکان میں آگئے۔ وہ شخص چپ چاپ وہاں سے چلا گیا۔ کچھ دن بعد یہ ہنگامہ دوبارہ شروع ہوا جب اسی شخص جس کا نام جہانگیر معلوم ہواتھا،نے اپنی دکان کی واپسی کی درخواست دائرکردی۔حالات خطرناک صورت اختیار کر جاتے مگر صدیق صاحب حق پر تھے۔پہلی پیشی میں ہی کیس کا فیصلہ ہو گیا۔جہانگیر صاف جھوٹا تھا وہ صرف ڈرا دھمکا کر ان سے پیسے بٹورنے چاہتا تھا، مگر ناکام رہا ۔کیس کے فیصلے کے ٹھیک ایک ہفتے بعد جب آسمان پر کالی گھٹا چھائی ہوئی تھی۔ صدیق صاحب کی دکان میں اک شخص کی آمد ہوئی۔ چہرے پر نقاب چڑھائے اس شخص کو دیکھ کر صدیق صاحب کی چھٹی حس نے خطرے کا الارم بجا دیا۔انہوں نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ سامنے والے نے کپڑوں میں سے پستول نکالا اور ان کے دل میں گولی اتار دی۔یہ پہلی گولی ہی ان کے دل کے ٹکڑے کرنے کے لیے کافی ثابت ہوئی۔ وہ شخص فرار ہو گیا۔گولی کی آواز نے اردگرد کے دکانداروں کو متوجہ کیا۔صدیق صاحب کی کہانی ان کے پہنچنے سے پہلے ختم ہو چکی تھی۔
٭…٭…٭
”صدیق قریشی کو کسی نے گولی ماردی۔”
”اوہ! افسوس ہوا۔ نیک شخص تھے پتا نہیں کس ظالم نے یہ ظلم کا پہاڑ توڑا ہے غریبوں پر۔”کہنے والے نے کہہ دیا۔سننے والے نے سن لیا مگر ظلم کو محسوس وہی کر سکتے ہیں جن پر ظلم کیا گیا ہو۔ نسرین اور بچوں پر جیسے قیامت ٹوٹ پڑی ہو۔ روزی روٹی کمانے والا گھرانے کا واحد فرد قتل ہو گیا تھا۔نسرین کی آنکھیں رو رو کر سوج گئیں۔ شہباز باپ کے غم میں نڈھال تھا۔ارباز پولیس اسٹیشن کے چکر کاٹ رہا تھا۔پولیس کو یقین تھا کہ یہ جہانگیر کاکارنامہ ہے مگر ان کے پہنچنے سے پہلے جہانگیرفرار ہو گیا۔اس کی تلاش میں جگہ جگہ چھاپے پڑ رہے تھے مگر وہ کہیں نہ ملا۔
قصہ مختصر۔ وقت نے حادثے پر مٹی ڈالنا شروع کردی۔صدیق صاحب کی قبر کے پھول خشک ہونے لگے اور ارباز،شہباز تعلیم چھوڑ کرغم روزگار کی فکر میں لگ گئے۔ ارباز نے دکان سنبھال لی۔شہباز چار پانچ ماہ سنبھل نہ سکا۔ دکان پر اسے باپ کی یاد آتی تھی۔ حساس دل نوجوان تھا۔ چپ چاپ گھر میں رہتا۔ ماں نے اسے اور گلناز کو بہ مشکل سنبھالا۔ شہباز کو قلم کاغذ پکڑائے اور اسے پرانے شوق کی طرف لوٹنے کا کہا۔ ڈیڑھ سال بعد گھر کی روٹین واپس لوٹ آئی۔ ارباز دکان پر بیٹھتا، کمائی کرتا۔ شہباز کہانیاں لکھتا اور مختلف رسائل اور میگزین میں بھیجتا رہتا۔ اکثر شائع بھی ہو جاتیں۔ اسے اتنا معاوضہ مل جاتا کہ وہ گلناز کی فرمائش پر کبھی اسے کپڑے یا جوتے لے دیتا۔ رفتہ رفتہ اس کا نام بنتا جارہا تھا۔ اسی دوران ماں نے گھر کی رونق واپس لانے کے لیے ارباز کی شادی کاشور ڈالا اور دو ماہ بعد مہوش گھر کی بہو بن کر ایک کمرے میں شفٹ ہو گئی۔ نسرین اور گلناز الگ کمرے میں سوتی تھیں جبکہ شہباز کا کمرا الگ تھا۔ گھر میں ایک فرد کا اضافہ ہوا تو کمانے والے بیٹے کی کمائی بھی تقسیم ہونے لگی۔ ایسے میں شہباز کو اپنی ذمہ داری کا احساس بڑھ گیا۔ ماں اور بہن کے لیے وہ کچھ کرنا چاہتا تھا۔ اس نے اپنے قلم کی رفتار میں اضافہ کیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ پیسے کی دھن نے اس کی کہانیوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا۔ جاب کی تلاش میں نکلتا۔ سارا دن گھوم پھرکر کوئی ایسی نوکری تلاش کرنے کی کوشش کرتا جس میں نوکری کے ساتھ اپنی تحریروں کے لیے بھی وقت نکال سکتا۔ جب کوئی نوکری نہ ملی تو اس نے اپنا ایک ناول جو طویل تھا اور کافی دنوں سے نامکمل تھا، مکمل کیا اور ایک ڈائجسٹ میں بھیج دیا۔ دو ماہ بعد انہوں نے قسط وار یہ ناول شائع کرنا شروع کردیا۔معاوضہ بہتر ملا تو اسے اطمینان حاصل ہوا۔اس دن بھی وہ اپنے کمرے میں ایک ناول پڑھنے میں مصروف تھا جب گلناز آئی اور بولی۔
”بھائی، امی بلارہی ہیں۔” وہ اس کے ساتھ ماں کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔نسرین کے کمرے میں ارباز اورمہوش دونوں موجود تھے۔اسے دیکھ کر ماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
”دیکھ لو شہباز، یہ ارباز کیا کہہ رہا ہے؟”وہ تڑپ کر ماں کی طرف بڑھا۔
”کیا ہوا امی؟” اربازاور مہوش خاموش اوربیزار بیٹھے تھے۔ وہ ماں کو چپ کروانے لگ گیا۔ اسی دوران ارباز بولا۔
”شہباز میں نے کوئی غلط بات نہیں کی۔ میں الگ ہونا چاہتا ہوں۔ میں شادی شدہ ہوں اور یہ میرا حق ہے۔ ”وہ اس کی بات سن کر ساکت رہ گیا۔ اس نے زخمی نظروں سے ارباز کی طرف دیکھا۔ وہ نظریں چرا گیا۔
”پر ابھی گلناز کی شادی نہیں ہوئی۔ شہباز کنوارہ ہے اور تم واحد کمانے والے ہو اس گھر میں۔” نسرین نے اونچی آواز میں کہا۔
”آپ سب میری ذمہ داری نہیں۔ میں اپنی بیوی کو مشکل سے پال سکتا ہوں۔ کل کو ہمارے بچے ہوں گے تو کیاکروں گا میں؟شہباز کا کام ہے محنت کرنا اور کر کے کھائے۔” نسرین پوچھنا چاہتی تھی کہ جس دکان میں وہ بیٹھا ہے وہ کس کی محنت اور پیسے سے بنا ہے، مگر پوچھ نہ سکی۔شہباز کچھ دیر خاموش رہا اور آخر تھکے ہوئے لہجے میں بولا:
”ٹھیک ہے دکان میں سے ہمارا حصہ الگ کر دیں اور آپ الگ ہو جائیں۔” ارباز نے اسے گھورا۔
”دکان میں سے حصہ کوئی نہیں تم لوگوں کا۔میں نے اپنی محنت سے بنائی ہے۔ ابا نے تو سارا کاروبار ڈبو دیا تھا۔ اب کچھ بہتر ہوا ہے گھر میں الگ لے رہا ہوں یہ گھر تم لوگوں کا ہوا۔ مجھے میرے حصے کی قیمت دے دیں یا میں کسی کرائے دار کو اپنا کمرا دے دیتا ہوں۔” اس نے تو جیسے بات ہی ختم کردی۔ مہوش کے چہرے کی مسکراہٹ ارباز کے منہ میں بولتی زبان کی ساری کہانی بتا رہی تھی۔دونوں اٹھ کر چلے گئے۔شہباز سر پکڑکر بیٹھ گیا۔ارباز کا خون اتنی جلد سفید ہو جائے گا یہ کسی نے سوچا نہیں تھا۔
ارباز نے کوئی وقت نہ لیا۔ صرف ایک ہفتے بعد وہ اور مہوش الگ گھر میں شفٹ ہو گئے۔ دو کمروں کا یہ مکان مہنگا تھا مگر صدیق صاحب کا کاروبار اتنا نفع دے رہا تھا کہ ارباز یہ خرید سکتا تھا۔مسئلہ نسرین اور شہباز کو بنا جو سگے بیٹے اور بھائی کے خلاف عدالت نہیں جانا چاہتے تھے۔ پیسے کہیں سے نہ ملے تو گلناز کے لیے بنایا گیا زیور اور سامان بیچ کر انہوں نے ارباز کا حصہ پورا کیا۔ اب یہ گھر ان کا تھا مگر اس کا خرچ کیسے چلانا ہے یہ شہباز کو معلوم نہ تھا۔ ساری رات وہ بیٹھ کر لکھتا رہتا اور مہینے کے آخر میں اتنا معاوضہ ملتا کہ تینوں پیٹ بھر کر کھانا کھا لیتے۔ دو سال گزر گئے۔ عید چھوٹی ہوتی یا بڑی گلناز کے علاوہ کسی کا سوٹ نہ سلتا۔شہباز کی قمیص جگہ جگہ سے پھٹی ہوتی۔ نسرین کی بوڑھی ہڈیوں میں بھی دم ختم ہونے لگا۔ اس نے یکدم ایک فیصلہ کیا۔شہباز کو اپنے کمرے میں بلایا اور کہا۔
”یہ مکان تین کمروں کا ہے۔ ہماری ضرورت سے زیادہ ہے، تم اسے بیچ دو اور گلناز کی شادی کردیتے ہیں۔” مشورہ معقول اور قابل قبول تھا۔ قسط وار چلنے والا ناول کتابی شکل میں مارکیٹ میں آیا تو شہباز کے ہاتھ کچھ پیسے آگئے۔ اِدھر اُدھر بھاگ دوڑ کرکے اس نے گاہک تلاش کیا۔ مکان بیچا اورایک فلیٹ خرید لیا۔ یہ شہر کے نزدیک ایک بلڈنگ میں تھا۔ بچ جانے والے پیسوں سے گلناز کے لیے مناسب جہیز بنایا اور صدیق صاحب کے ایک پرانے دوست کے بیٹے سے اس کی شادی کردی۔ رشتہ کافی دن پہلے طے ہوا تھا۔ اچھی مڈل کلاس فیملی تھی۔ لڑکا سرکاری ملازم تھا۔ گلناز کا فرض ادا ہو گیا۔ ماں بیٹا سکون سے رہنے لگے۔ شہباز کے قلم میں روانی بحال ہوئی۔ انہی دنوں اسے ایک لڑکی کے خطوط ملنے شروع ہوگئے۔ تعریفی خط۔
٭…٭…٭
-

سرعیاں — افسانہ نگار: چیتین القان (مترجم: مسعود اختر شیخ)
ایک تھا فلسفی۔ پڑھتاکم، لکھتا زیادہ تھا بلکہ لکھنے پڑھنے سے بھی بڑھ کر وہ سوچنے کا زیادہ شوقین تھا۔ ایک دفعہ اس شخص کے جی میں آئی کہ کائنات کے راز سے پردہ اٹھایا جائے۔ اس فکر میں اس نے اپنے دن رات ایک کر دیے۔ لمبے پریشان بال، بکھری ڈاڑھی، آنکھوں میں ایسی گہرائی جو صرف ان لوگوں کی آنکھوں میں پیدا ہوتی ہے جو دوسروں کو دکھائی نہ دینے والی دنیا دیکھنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
وہ دوسرے انسانوں کے درمیان کچھ ایسے روحانی دبدبے سے چلتا جیسے ہرکولیس چلا کرتا تھا۔ اسے دیکھ کر لوگ حیرت سے کہتے:
”اس شخص کے پاس ضرور کوئی جادو ہے۔ اسے ہمارے بارے میں ہم سے بھی بڑھ کر علم ہے۔”
فلسفی لوگوں سے پوچھتا:
”تم لوگ اس قدر بے چین کیوں رہتے ہو؟”
ہزاروں لوگ یک زبان ہو کر جواب دیتے:
”ہمارا پیٹ خالی ہے، ہماری روح اندھیروں میں بھٹک رہی ہے، ہمیں محبت کی تلاش ہے۔”
فلسفی بولتا چلا جاتا۔ یہاں تک کہ اس کی آنکھوں میں شعلے بھڑکنے لگتے:
”لوگو! اپنی نظریں اپنے دلوں کی طرف پھیر کر تاریک دل روشن کرو۔ اپنے خیالات سے اپنی روحیں گرمائو۔ وہ قوت جو تمہاری انگلیوں میں حرکت پیدا کرتی ہے، اسی میں محبت تلاش کرو۔”
لوگ فلسفی کی باتوں پر عمل کرنا چاہتے، مگر انہیں کسی طرح خوشی نہ ملتی۔ وہ یہی گلہ کرتے کہ:
”ہمارے پیٹ خالی ہیں، ہم بھوکے ہیں، ہماری روح محبت کے بغیر اندھیروں میں بھٹک رہی ہے۔”
آخر لوگ اس کی لمبی لمبی لٹوں، کھوئی کھوئی نگاہوں اور غیر معجزانہ آنکھوں سے تنگ آگئے۔ انہوں نے اس کی بات پر توجہ دینا چھوڑ دی، یہاں تک کہ ان کی عدم دل چسپی ان کے دلوں میں نفرت کے جذبات پیدا کرنے لگی اور وہ برملا کہنے لگے:
”آخر یہ شخص ہے کیا چیز؟ ہمارے سامنے بس لمبی لمبی تقریریں جھاڑتا رہتا ہے، لیکن ہمارا مسئلہ تو خالی پیٹ کا ہے۔ اس سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔”
لوگوں کی نفرت اتنی بڑھی کہ انہوں نے فلسفی کو شہر چھوڑ کر جنگل میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔
فلسفی نے جنگل میںپہنچ کر کائنات کے راز سے پردہ ہٹانے کی کوشش ترک نہیں کی۔ وہ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے یہی سوچتا رہتا۔ اس کے ذہن میں جو کچھ آتا، وہی دھیمی آواز میں منہ سے بھی بڑبڑاتا رہتا۔ اس کی بڑبڑاہٹ سن کر جنگل کے کتے اس کے ارد گرد جمع ہو جاتے۔ فلسفی کے اندر دبی ہوئی تقریر کرنے کی حسرت اس کی آنکھوں میں جگمگا اٹھتی۔ چناںچہ ایک روز اس نے بے بس ہو کر کتوں سے خطاب شروع کر دیا:
”اے کتو! میری باتیں غور سے سنو۔ میری آواز تمہاری خوابیدہ روحوں میں روشنی پھونک دے گی۔ تم دنیا ایک نئے پہلو سے دیکھنے لگو گے، بلندیوں کی جانب پرواز کرنے لگو گے، ہدایت پالو گے۔ تمہارا کتا پن ختم ہو جائے گا اور تم اس سے نجات پالو گے۔”
کتوں نے وجد میں آکر کان کھڑے کر لیے، دُمیں ہلانا شروع کر دیں۔ فلسفی نے تقریر جاری رکھی۔ بولتا گیا، بولتا گیا اور جوش میں آتا گیا۔ کتے اس کی آواز کے جادو سے کھڑے ہو گئے۔ ان کے چہروں کے تاثرات سے پتا چلتا تھا کہ وہ فلسفی کی تقریر کا ہر لفظ سمجھ رہے ہیں۔ فلسفی کہہ رہا تھا:
”اے کتو! اپنے جسم کی قید سے اپنے آپ کو آزاد کر لو۔ کائنات کا راز سمجھنے کی کوشش کرو۔ تم اسی راز کا ایک حصہ ہو۔”
معلوم ہوتا تھا کہ ابھی کوئی معجزہ ظہور پزیر ہوگا اور کتے فلسفی کی باتوں کا جواب دیں گے، لیکن قادر مطلق کو فلسفی کی یہ مافوق الفطرت طاقت ایک آنکھ نہ بھائی۔ کتے فلسفی کی باتوں سے متاثر ہو کر قوت ناطقہ حاصل کرنے ہی کو تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ جنگل میں اتارا، اس نے آتے ہی ایک ہڈی کتوں کے سامنے پھینک دی۔ ہڈی پھینکنا تھا کہ فلسفی کے تمام سامعین کی جبلت عود کر آئی اور وہ سب ہڈی پر پل پڑے۔ فلسفی اکیلا تقریر کرتا رہ گیا۔
ہڈی پر لپکتے، غراتے اور آپس میں الجھتے کتوں کو دیکھ کر آخر فلسفی مسکرایا اور بے ساختہ اس نے یہ نعرہ مارا:
”پا لیا، پالیا، میں نے کائنات کا راز پالیا۔ وہ راز کیا ہے؟ کتوں کے لیے بس ایک ہڈی۔”٭…٭…٭
-

آئینہ —- افسانہ نگار:زیروفسکی (مترجم: اعجاز احمد فاروقی)
جان ڈریک نے اپنی گھڑی دیکھتے ہوئے مردم بیزار اور دل آزار لہجے میں کہا:
”دیکھو آنٹی! جو کچھ بھی کہنا ہے، جلدی سے کہہ دو، میرے پاس وقت بہت کم ہے۔”
اس کی معمر آنٹی نے ایک ان چاہا عجز محسوس کیا۔ اسے اس امر کا گمان تک نہیں تھا کہ اس کے حقیقی بھائی کا کروڑ پتی بیٹا، اس کا سگا بھتیجا اس سے ایسا روکھا پھیکا اور جی بجھا دینے والا سلوک کرے گا۔ یہ بے رخی، بیزاری اور سرد مہری معمر خاتون کے لیے غیر متوقع تھی۔ بھتیجے سے ملنے کے لیے بھی اسے آدھے گھنٹے انتظار کی کوفت برداشت کرنی پڑی تھی جو اس کے لیے بہت زیادہ تھی۔ اس کے نک چڑھے پی، اے کی واہی تباہی سننی پڑی تھی تاہم وہ ہمت کر کے کچھ کہنے کے لیے اپنے آپ کو آمادہ کر رہی تھی کہ جان ڈریک نے ایک اور کچوکا لگایا:
”آنٹی! اگر تم کچھ پیسے مانگنے آئی ہو تو یہ بات مت کرنا۔”
”نہیں جان! نہیں۔ میں پیسے مانگنے نہیں آئی بلکہ ایک گزارش کے لیے آئی ہوں۔”
خاتون نے خائف لہجے میں کہا۔
”جان! دیکھو سام تمہارا پھوپھی زاد بھائی ہے۔ اسے اپنے ہاںملازم رکھ لو۔ وہ بی کام اور ایل ایل بی کے امتحانوں میں اوّل آیا ہے۔ شریف ہے، دیانتدار ہے، قابل اعتبار ہے، شراب نہیں پیتا، جوا نہیں کھیلتا، اپنی ہم عمر لڑکیوں کے ساتھی بھی نہیں گھومتا اور تو اور وہ کلب تک نہیں جاتا۔ جان اسے اپنے بینک میں رکھ لو، وہ تمہارے بینک کے لیے ایک موزوں امیدوار ہے۔”
”لیکن بینک میں تو کوئی اسامی خالی نہیں ہے۔”
”ہے، خالی اسامیوں کے لیے اشتہار تواخبار میں بھی چھپا ہے، میں اس کا تراشا ساتھ لائی ہوں۔”
”اوہ! ہاں، یاد آیا کہ ایک اسامی تو پر کرنے کا اختیار مجھے بھی ہے۔ اچھا آنٹی! تم درخواست بھجوا دینا۔”
”جان! میں تو سام سے درخواست لکھوا کر ساتھ لائی ہوں۔”
معمر پھوپھی نے سام کی درخواست، جان ڈریک کے آگے رکھ دی اور معذرتیں کرتے ہوئے واپس جانے کے لیے کھڑی ہو گئی۔
اس کے جاتے ہی جان ڈریک نے درخواست پھاڑ کر پھینک دی۔
اس کے بعد وہ بڑبڑانے لگا:
”ان رشتے داروں نے تو جینا حرام کر دیا ہے۔ جب دیکھو، ملنے کے لیے بے تاب ہوتے ہیں، وقت بے وقت چلے آتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ میں نے کوئی خیرات خانہ کھولا ہوا ہے۔”
پھر اسے اپنے مختلف رشتے دار یاد آئے اور اپنے بچپن کا زمانہ یاد آیا۔ ان ایام رفتہ کا خیال آیا۔ جب وہ بہت چھوٹا تھا، تو اس کی یہی پھوپھی ایک تنومند، خوش دل اور بھرپور جوان عورت تھی اور اسے اپنی آنکھوں کا تارا اور دل کا سرور کہتی تھی۔ وہی اس کی دنیا کا بہترین کردار تھی۔ اس کی پھوپھی پہروں اسے اپنے پاس رکھتی، اسے ہاٹ چاکلیٹ بنا بنا کر کھلاتی۔ اس نے اپنے آپ سے کہا:
”میں نے اپنی پھوپھی کے ساتھ بہت ناروا سلوک کیا ہے۔ درخواست پھاڑ دینا، تو ہر گز درست نہیں ہے۔ اگر سیموئیل کو ملازمت مل جاتی ہے، تو آخر میرا کیا بگڑتا ہے۔”
وہ ایسی باتیں سوچتے سوچتے مضطرب ہو گیا۔ پھر اس نے اپنے پی اے کو بلا کر ہدایت کی:
”مجھے آدھے گھنٹے تک ملنے کے لیے کوئی نہ آئے، سمجھے، کوئی بھی نہیں۔”
اس کے بعد اس نے دروازہ اندر سے بند کیا۔ پھاڑی ہوئی درخواست کے تمام پرزے جمع کیے، انہیں صحیح ترتیب دے کر جوڑا، اس نے سام کی لکھی ہوئی درخواست اپنے ہاتھ سے لکھی اور دوبارہ اپنے سکرٹری کو بلا کر وہ درخواست اسے دیتے ہوئے کہا:
”دیکھو، بینک میں خالی اسامی کے لیے جو درخواستیں آئی ہیں، یہ درخواست بھی ان کے ساتھ رکھ لو۔ یہ درخواست دہندہ میرا کزن ہے، اگر یہ انٹرویو وغیرہ میں کامیاب ہو جائے تو ٹھیک ہے ورنہ کچھ نہیں، میں صرف اس کی درخواست دے رہا ہوں، کوئی سفارش قطعاً نہیں کر رہا، سمجھے۔”
کچھ دنوں بعد اس کی پھوپھی پھر آئی اور اس نے بڑے غمگین اور افسردہ لہجے میں کہا:
”جان! تم نے سیموئیل کو کیوں نہیں لیا؟ وہ تو انٹرویو میں اوّل آیا تھا۔ اس کے بہ جائے ایک بگڑے ہوئے رئیس زادے کو لے لیا جو پورے شہر میں بدنام ہے اور کئی تھانوںمیں اس کے خلاف سنگین جرائم کی رپورٹیں ہیں۔”
جان ڈریک نے پھر ایک بے لحاظ انداز میں کہا:
”آنٹی! اس وقت تو میں گورنر سے ملنے کے لیے جا رہا ہوں، واپس آکر خود تحقیق کروں گا۔”
پھوپھی کے جانے کے اس نے اپنے سیکرٹری کو بلایا اور پوچھا:
”کیا سام موزوں امیدوار نہیں تھا جو اسے نہیں لیا گیا؟”
”نہیں جناب! بات کچھ اور ہے، سام تو انٹرویو میں بھی اول آیا تھا لیکن!”
”یہ لیکن ویکن کیا ہے؟”
”جناب! آپ کے حکم اور بینک کے قواعد کے مطابق ہم نے اس کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر اپنے ماہر تحریر کو دی تھی۔ اس کی رپورٹ یہ تھی کہ ایسے خط اور تحریر والا، شرابی، کبابی، عیاش، بدکار، خائن، بددیانت، احسان فراموش اور بے ایمان ہوتا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد ہم اسے کیسے لے سکتے تھے۔”
٭…٭…٭
-

آخری آدمی — انتظار حسین
الیاس اس قریے میں آخری آدمی تھا۔ اس نے عہد کیا تھا کہ معبود کی سوگند میں آدمی کی جون میں پیدا ہوا ہوں اور میں آدمی ہی کی جون میں مروں گا۔ اور اس نے آدمی کی جون میں رہنے کی آخر دم تک کوشش کی۔
اور اس قریے سے تین دن پہلے بندر غائب ہو گئے تھے۔ لوگ پہلے حیران ہوئے اور پھر خوشی منائی کہ بندر جو فصلیں برباد اور باغ خراب کرتے تھے نابود ہو گئے۔ پر اس شخص نے جو انہیں سبت کے دن مچھلیوں کے شکار سے منع کیا کرتا تھا یہ کہا کہ بندر تو تمہارے درمیان موجود ہیں مگر یہ کہ تم دیکھتے نہیں۔ لوگوں نے اس کا برا مانا اور کہا کہ کیا تو ہم سے ٹھٹھا کرتا ہے اور اس نے کہا کہ بے شک ٹھٹھا تم نے خدا سے کیا کہ اس نے سبت کے دن مچھلیوں کے شکار سے منع کیا اور تم نے سبت کے دن مچھلیوں کا شکار کیا اور جان لو کہ وہ تم سے بڑا ٹھٹھا کرنے والا ہے۔
اس کے تیسرے دن یوں ہوا کہ الیعذر کی لونڈی گجر وم الیعذر کی خواب گاہ میں داخل ہوئی اور سہمی ہوئی الیعذر کی جورو کے پاس الٹے پاں آئی۔ پھر الیعذر کی جورو خواب گاہ تک گئی اور حیران و پریشان واپس آئی۔ پھر یہ خبر دور دور تک پھیل گئی اور دور دور سے لوگ الیعذر کے گھر آئے اور اس کی خواب گاہ تک جا کر ٹھٹھک ٹھٹھک گئے کہ الیعذر کی خواب گاہ میں الیعذر کی بجائے ایک بڑا بندر آرام کرتا تھا اور الیعذر نے پچھلے سبت کے دن سب سے زیادہ مچھلیاں پکڑی تھیں۔
پھر یوں ہوا کہ ایک نے دوسرے کو خبر دی کہ اے عزیز الیعذر بندر بن گیا ہے۔ اس پر دوسرا زور سے ہنسا۔ "تو نے مجھ سے ٹھٹھا کیا۔” اور وہ ہنستا چلا گیا، حتی کہ منہ اس کا سرخ پڑ گیا اور دانت نکل آئے اور چہرے کے خد و خال کھینچتے چلے گئے اور وہ بندر بن گیا۔ تب پہلا کمال حیران ہوا۔ منہ اس کا کھلا کا کھلا رہ گیا اور آنکھیں حیرت سے پھیلتی چلی گئیں اور پھر وہ بھی بندر بن گیا۔
اور الیاب ابن زبلون کو دیکھ کر ڈرا اور یوں بولا کہ اے زبلون کے بیٹے تجھے کیا ہوا ہے کہ تیرا چہرا بگڑ گیا ہے۔ ابن زبلون نے اس بات کا برا مانا اور غصے سے دانت کچکچانے لگا۔ تب الیاب مزید ڈرا اور چلا کر بولا کہ اے زبلون کے بیٹے! تیری ماں تیرے سوگ میں بیٹھے، ضرور تجھے کچھ ہو گیا ہے۔ اس پر ابن زبلون کا منہ غصے سے لال ہو گیا اور دانت کھینچ کر الیاب پر جھپٹا۔ تب الیاب پر خوف سے لرزہ طاری ہوا اور ابن زبلون کا چہرہ غصے سے اور الیاب کا چہرہ خوف سے بگڑتا چلا گیا۔ ابن زبلون غصے سے آپے سے باہر ہوا اور الیاب خوف سے اپنے آپ میں سکڑتا چلا گیا اور وہ دونوں کہ ایک مجسم غصہ اور ایک خوف کی پوت تھے آپس میں گتھ گئے۔ ان کے چہرے بگڑتے چلے گئے۔ پھر ان کے اعضا بگڑے۔ پھر ان کی آوازیں بگڑیں کہ الفاظ آپس میں مدغم ہوتے چلے گئے اور غیر ملفوظ آوازیں بن گئے۔ پھر وہ غیر ملفوظ آوازیں وحشیانہ چیخ بن گئیں اور پھر وہ بندر بن گئے۔
الیاسف نے کہ ان سب میں عقل مند تھا اور سب سے آخر تک آدمی بنا رہا۔ تشویش سے کہا کہ اے لوگو! ضرور ہمیں کچھ ہو گیا ہے۔ آ ہم اس شخص سے رجوع کریں جو ہمیں سبت کے دن مچھلیاں پکڑنے سے منع کرتا ہے۔ پھر الیاس لوگوں کو ہمراہ لے کر اس شخص کے گھر گیا۔ اور حلقہ زن ہو کے دیر تک پکارا کیا۔ تب وہ وہاں سے مایوس پھرا اور بڑی آواز سے بولا کہ اے لوگو! وہ شخص جو ہمیں سبت کے دن مچھلیاں پکڑنے سے منع کیا کرتا تھا آج ہمیں چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ اور اگر سوچو تو اس میں ہمارے لئے خرابی ہے۔ لوگوں نے یہ سنا اور دہل گئے۔ ایک بڑے خوف نے انہیں آ لیا۔
دہشت سے صورتیں ان کی چپٹی ہونے لگیں۔ اور خد و خال مسخ ہو تے چلے گئے۔ اور الیاسف نے گھوم کر دیکھا اور بندروں کے سوا کسی کونہ پایا۔ جاننا چاہئے کہ وہ بستی ایک بستی تھی۔ سمندر کے کنارے۔اونچے برجوں اور بڑے دروازوں والی حویلیوں کی بستی، بازاروں میں کھوے سے کھوا چھلتا تھا۔ کٹورا بجتا تھا۔ پر دم کے دم میں بازار ویران اور اونچی ڈیوڑھیاں سونی ہو گئیں۔ اور اونچے برجوں میں عالی شان چھتوں پر بندر ہی بندر نظر آنے لگے اور الیاسف نے ہر اس سے چاروں سمت نظر دوڑائی اور سوچا کہ میں اکیلا آدمی ہوں اور اس خیال سے وہ ایسا ڈرا کہ اس کا خون جمنے لگا۔ مگر اسے الیاب یاد آیا کہ خوف سے کس طرح اس کی صورت بگڑتی چلی گئی اور وہ بندر بن گیا۔ تب الیاسف نے اپنے خوف پر غلبہ پا یا اور عزم باندھا کہ معبود کی سوگند میں آدمی کی جون میں پیدا ہوا ہوں اور آدمی ہی کی جون میں مروں گا اور اس نے ایک احساسِ برتری کے ساتھ اپنے مسخ صورت ہم جنسوں کو دیکھا اور کہا۔ تحقیق میں ان میں سے نہیں ہوں کہ وہ بندر ہیں اور میں آدمی کی جون میں پیدا ہوا۔ اور الیاسف نے اپنے ہم جنسوں سے نفرت کی۔ اس نے ان کی لال بھبوکا صورتوں اور بالوں سے ڈھکے ہوئے جسموں کو دیکھا اور نفرت سے چہرہ اس کا بگڑنے لگا مگر اسے اچانک زبان کا خیال آیا کہ نفرت کی شدت سے صورت اس کی مسخ ہو گئی تھی۔ اس نے کہا کہ الیاسف نفرت مت کر کہ نفرت سے آدمی کی کایا بدل جاتی ہے اور الیاسف نے نفرت سے کنارہ کیا۔
الیاسف نے نفرت سے کنارہ کیا اور کہا کہ بے شک میں انہی میں سے تھا اور اس نے وہ دن یاد کئے جب وہ ان میں سے تھا اور دل اس کا محبت کے جوش سے منڈنے لگا۔ اسے بنت الاخضر کی یاد آئی کہ فرعون کے رتھ کی دودھیا گھوڑیوں میں سے ایک گھوڑی کی مانند تھی۔ اور اس کے بڑے گھر کے در سرو کے اور کڑیاں صنوبر کی تھیں۔ اس یاد کے ساتھ الیاسف کو بیتے دن یاد آ گئے کہ وہ سرو کے دروں اور صنوبر کی کڑیوں والے مکان میں عقب سے گیا تھا اور چھپر کھٹ کے لئے اسے ٹٹولا جس کے لئے اس کا جی چاہتا تھا اور اس نے دیکھا لمبے بال اس کی رات کی بوندوں سے بھیگے ہوئے ہیں اور چھاتیاں ہرن کے بچوں کے موافق تڑپتی ہیں۔ اور پیٹ اس کا گندم کی ڈیوڑھی کی مانند ہے اور پاس اس کے صندل کا گول پیالہ ہے اور الیاسف نے بنت الاخضر کو یاد کیا اور ہرن کے بچوں اور گندم کی ڈھیر اور صندل کے گول پیالے کے تصور میں سرو کے دروں اور صنوبر کی کڑیوں والے گھر تک گیا۔ ساس نے خالی مکان کو دیکھا اور چھپر کھٹ پر اسے ٹٹولا۔ جس کے لئے اس کا جی چاہتا تھا اور پکارا کہ اے بنت الاخضر! تو کہاں ہے اور اے وہ کہ جس کے لئے میرا جی چاہتا ہے۔ دیکھ موسم کا بھاری مہینہ گزر گیا اور پھولوں کی کیاریاں ہری بھری ہو گئیں اور قمریاں اونچی شاخوں پر پھڑپھڑاتی ہیں۔ تو کہاں ہے؟ اے اخضر کی بیٹی! اے اونچی چھت پر بچھے ہوئے چھپر کھٹ پر آرام کرنے والی تجھے دشت میں دوڑتی ہوئی ہرنیوں اور چٹانوں کی دراڑوں میں چھپے ہوئے کبوتروں کی قسم تو نیچے اتر آ۔ اور مجھ سے آن مل کہ تیرے لئے میرا جی چاہتا ہے۔ الیاسف بار بار پکارتا کہ اس کا جی بھر آیا اور بنت الاخضر کو یاد کر کے رویا۔
الیاسف بنت الاخضر کو یاد کر کے رویا مگر اچانک الیعذر کی جورو یاد آئی جو الیعذر کو بندر کی جون میں دیکھ کر روئی تھی۔ حالانکہ اس کی ہڑکی بند ھ گئی اور بہتے آنسوں میں اس کے جمیل نقوش بگڑتے چلے گئے۔ اور ہڑکی کی آواز وحشی ہوتی چلی گئییہاں تک کہ اس کی جون بدل گئی۔ تب الیاسف نے خیال کیا۔ بنت الاخضر جن میں سے تھی ان میں مل گئی۔ اور بے شک جو جن میں سے ہے وہ ان کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور الیاسف نے اپنے تئیں کہا کہ اے الیاسف ان سے محبت مت کر مبادا تو ان میں سے ہو جائے اور الیاسف نے محبت سے کنارہ کیا اور ہم جنسوں کو نا جنس جان کر ان سے بے تعلق ہو گیا اور الیاسف نے ہرن کے بچوں اور گندم کی ڈھیری اور صندل کے گول پیالے کو فراموش کر دیا۔
الیاسف نے محبت سے کنارہ کیا اور اپنے ہم جنسوں کی لال بھبوکا صورتوں اور کھڑ ی دم دیکھ کر ہنسا اور الیاسف کو الیعذر کی جورو یاد آئی کہ وہ اس قریے کی حسین عورتوں میں سے تھی۔ وہ تاڑ کے درخت کی مثال تھی اور چھاتیاں اس کی انگور کے خوشوں کی مانند تھیں۔ اور الیعذر نے اس سے کہا تھا کہ جان لے کہ میں انگور کے خوشے توڑوں گا اور انگور کے خوشوں والی تڑپ کر ساحل کی طرف نکل گئی۔
الیعذر اس کے پیچھے پیچھے گیا اور پھل توڑا اور تاڑ کے درخت کو اپنے گھر لے آیا اور اب وہ ایک اونچے کنگرے پر الیعذر کی جوئیں بن بن کر کھاتی تھی۔ الیعذر جھری جھری لے کر کھڑا ہو جاتا اور وہ دم کھڑی کر کے اپنے لجلجے پنجوں پر اٹھ بیٹھی۔ اس کے ہنسنے کی آواز اتنی اونچی ہوتی کہ اسے ساری بستی گونجتی معلوم ہوئی اور وہ اپنے اتنی زور سے ہنسنے پر حیران ہوا مگر اچانک اسے اس شخص کا خیال آیا جو ہنستے ہنستے بندر بن گیا تھا اور الیاسف نے اپنے تئیں کہا۔ اے الیاسف تو ان پر مت ہنس مبادا تو ہنسی کی ایسا بن جائے اور الیاسف نے ہنسی سے کنارہ کیا۔
الیاسف نے ہنسی سے کنارہ کیا۔ الیاسف محبت اور نفرت سے غصہ اور ہمدردی سے رونے اور ہنسنے سے ہر کیفیت سے گزر گیا اور ہم جنسوں کو نا جنس جان کر ان سے بے تعلق ہو گیا۔ ان کا درختوں پر اچکنا، دانت پیس پیس کر کلکاریاں کرنا، کچے کچے پھلوں پر لڑنا اور ایک دوسرے کو لہو لہان کر دینا۔ یہ سب کچھ اسے آگے کبھی ہم جنسوں پر رلاتا تھا، کبھی ہنساتا تھا۔ کبھی غصہ دلاتا کہ وہ ان پر دانت پیسنے لگا اور انہیں حقارت سے دیکھتا اور یوں ہوا کہ انہیں لڑتے دیکھ کر اس نے غصہ کیا اور بڑی آواز سے جھڑکا۔ پھر خود اپنی آواز پر حیران ہوا۔ اور کسی کسی بندر نے اسے بے تعلقی سے دیکھا اور پھر لڑائی میں جٹ گیا۔ اور الیاسف کے تئیں لفظوں کی قدر کی جاتی رہی۔ کہ وہ اس کے اور اس کے ہم جنسوں کے درمیان رشتہ نہیں رہے تھے اور اس کا اس نے افسوس کیا۔ الیاسف نے افسوس کیا اپنے ہم جنسوں پر، اپنے آپ پر اور لفظ پر۔ افسوس ہے ان پر بوجہ اس کے وہ اس لفظ سے محروم ہو گئے۔ افسوس ہے مجھ پر بوجہ اس کے لفظ میرے ہاتھوں میں خالی برتن کی مثال بن کر رہ گیا۔ اور سوچو تو آج بڑے افسوس کا دن ہے۔ آج لفظ مر گیا۔ اور الیاسف نے لفظ کی موت کا نوحہ کیا اور خاموش ہو گیا۔
الیاسف خاموش ہو گیا اور محبت اور نفرت سے، غصے اور ہمدردی سے، ہنسنے اور رونے سے در گزرا۔ اور الیاسف نے اپنے ہم جنسوں کو نا جنس جان کر ان سے کنارہ کیا اور اپنی ذات کے اندر پناہ لی۔ الیاسف اپنی ذات کے اندر پناہ گیر جزیرے کے مانند بن گیا۔ سب سے بے تعلق، گہرے پانیوں کے درمیان خشکی کا ننھا سا نشان اور جزیرے نے کہا میں گہرے پانیوں کے درمیان زمین کا نشان بلند رکھو ں گا۔