Tag: nazam

  • آؤ چلتے ہیں لاہور

    آؤ چلتے ہیں لاہور

    آؤ چلتے ہیں لاہور
    ارسلان اللہ خان

    کیوں ہوتے ہو اتنے بور
    آؤ چلتے ہیں لاہور

    دیکھو داتا کا دربار
    گھومو باغِ شالیمار

    ماڈل ٹاؤن، سبزہ زار
    چوبُرجی کے یہ مینار

    چڑیا گھر ہے جیسے بَن
    جانوروں کا ہے مسکن

    یہ مینارِ پاکستان
    میرے دیس کی ہے پہچان

    دیکھو مُغلوں کے آثار
    کیسے کیسے ہیں شہکار

    آؤ دیکھیں دہلی گیٹ
    جائیں گے پھر بھاٹی گیٹ

    شاہی مسجد جائیں ہم
    ربّ کی رحمت پائیں ہم

    زندہ دِل ہیں سارے لوگ
    کیسے پیارے پیارے لوگ
    سب ہیں کھانے کے شوقین
    پہنیں کپڑے بھی رنگین

    جس نے نا دیکھا لاہور
    وہ کیا دیکھے گا کچھ اور
    ٭…٭…٭

  • جتن کیا تو…!

    جتن کیا تو…!

    جتن کیا تو…!
    زاہد حسین

    جتن کیا تو وطن پایا ہے
    ہم نے مل کے یہ پاکستان بنایا ہے

    قائد کی محنت نے ہے یہ کیسا رنگ دکھایا
    دے کر ہم نے قربانی اپنا یہ دیس بنایا

    ہم نے مل کے یہ پاکستان بنایا ہے

    قدرت کے سارے نظارے اس میں ہیں پیارے پیارے
    اس کی ندیاں اور دھارے ہر کوئی تن من وارے

    ہم نے مل کے یہ پاکستان بنایا ہے

    ٭…٭…٭

  • بلّی اور پرندہ

    بلّی اور پرندہ

    بلّی اور پرندہ
    عبدالمجید سالک

    سنا ہے کسی گھر میں تھی ایک بلّی
    وہ چوہوں کو کھا کھا کے تنگ آگئی تھی
    اسے صبح شام ایک کھانا نہ بھاتا
    بھلا صبر اک چیز پر کیوں کر آتا؟
    بس اک روز بلّی نے یہ دل میں ٹھانا
    کہ ڈھونڈوں گی اب میں نیا کوئی کھانا
    چڑھی ایک کوٹھے پہ یہ سوچ کر وہ
    لگی جھانکنے پھر اِدھر اور اُدھر وہ
    نظر اک طرف جب اُٹھائی تو دیکھا
    کہ ہے ایک لڑکے کا چھوٹا سا کمرہ
    دریچے میں ننّھا سا پنجرا ٹنگا ہے
    اور اُس میں پرندہ کوئی خوش نما ہے
    پرندہ وہ پنجرے میں جب چہچہایا
    وہیں منہ میں بلّی کے پانی بھر آیا
    اُٹھی اور دبے پاؤں کمرے کو چل دی
    قدم کو اُٹھاتی چلی جلدی جلدی
    جو دیکھا کہ کمرے میں لڑکا نہیں ہے
    اور اُس کے پرندے کا پنجرا وہیں ہے
    غضب ناک ہو کر وہ پنجرے پہ جھپٹی
    وہ گویا کہ بپھری ہوئی شیرنی تھی
    پڑا ہاتھ بلّی کا پنجرے کے در پر
    زمیں پر گری اُس کی زنجیر کھل کر
    نہ پھولی سمائی جو بلّی نے دیکھا
    کہ اب تو ہے قبضے میں میرے پرندہ

    ابھی باہر اِس کو پکڑ لاؤں گی میں
    ابھی پھاڑ کر اِس کو کھا جاؤں گی میں
    پرندے نے دیکھا کہ آئی ہے آفت
    نہیں آج کچھ جان بچنے کی صورت
    اچانک جو در کو کُھلا اُس نے دیکھا
    وہ پھر سے اُڑا اور پنجرے سے نکلا
    وہ جنگل کی جانب اُڑا گیت گاتا
    چہکتا گیا اور تانیں اُڑاتا
    وہ بلّی ہوئی غرق شرمندگی میں
    یہ پہلی شکست اُس کی تھی زندگی میں
    یہ دھوکا جو کھایا پریشان تھی وہ
    پرندے کے اُڑنے سے حیران تھی وہ
    وہ کہتی تھی اک بے حقیقت پرندہ
    مجھے حیف! اِس طرح دے جائے دھوکا
    نتیجہ یہ ہے اِس کا اے پھول بچّو!
    پرندے سے عقل اور دانائی سیکھو
    کہ کام آتی ہے وقت پر عقل مندی
    نہ جانے دو ہاتھوں سے موقع کو تم بھی
    ٭…٭…٭