Tag: lok kahani

  • قرض — وقاص اسلم کمبوہ

    قرض — وقاص اسلم کمبوہ

    لاری اڈّے پر ہمیشہ کی طرح ٹریفک کی بہت گہما گہمی تھی۔ میں موٹر بائیک سے اُتر کر بک سنٹر سے دل والے لفافے خریدنے لگا۔واپسی پر روڈ کراس کرنے کے لیے مجھے انتظار کرنا پڑا۔ ایک بڑی شالیمار آکر رکی۔ جس کا سٹاپ پانچ منٹ تھا۔ مسافر ایک دوسرے کے اوپر سے ہوتے ہوئے باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگے۔اندر والے باہر اور باہر والے اندر گھسنے کے لیے بھڑنے لگے ۔اس شالیمار بس سے ایک سادہ سی دیہاتی خاتون باہر نکلیں جنہوں نے ایک بڑی سی چادر سے جسم ڈھانپ رکھا تھا۔سادہ لوح خاتون نے اپنی آٹھ سالہ بچی کو کندھوں پر اٹھا رکھا تھا۔ ماں اور بچی کا تعلق کسی بہت غریب اور دکھی گھرانے سے لگ رہا تھا۔بس سے اترکر وہ ایک جانب سڑک پر کھڑے ہوکر آٹو رکشہ کا انتظار کرنے لگیں۔پاس ہی ریڑھی پر خوب صورتی سے سجے سیب دیکھ کر اس بچی کا جی للچایا۔وہ اس طرف اشارہ کرتے ہوئے دھیمی آواز میں بولی:
    ’’ امیمجھے سیب لے دو۔‘‘ ماں نے اس کی بات سُنی اَن سُنی کردی۔بچی کا والیوم اور اصرار بڑھنے لگا۔ماں کے پاس پیسے نہیں تھے اگر تھے بھی تو صرف کرایہ دینے کے لیے، اس لیے وہ بچی کی بات پر کان نہ دھررہی تھی لیکن بچی اپنی ضد کی پکی تھی۔
    ماں نے کہا: ’’بیٹا ہم آگے چل کر لیں گے۔‘‘
    ریڑھی والے کو جب معاملے کا علم ہو اتو اس نے ایک سیب کاٹ کر بچی کو دے دیا۔ماں نے پیسے دینے چاہے لیکن اس بھائی نے لینے سے انکار کردیا کہ میں نے اپنی بچی سمجھ کر دیا ہے۔ماں نے ممنونیت سے نظریں جھکالیں اور ایک شفقت بھری نظر اپنی بیٹی پر ڈالی ۔اتنے میں آٹو رکشہ آگیا۔ جس میں سوار ہوکر وہ آگے بڑھ گئیں۔
    ٭۔۔۔٭۔۔۔٭
    آج اجمل کے گھر میں چوتھی بیٹی کی پیدائش ہوئی۔ جس کا نام آمنہ رکھا گیا۔خاندانی رسم و رواج کے مطابق جب بیٹی کی عمر پانچ سال ہوئی تو اس کی منگنی کردی گئی۔اکبر ایک سال بعد روڈ ایکسیڈنٹ میں فوت ہوگیاتو چھوٹے سے گھرانے میں بڑی قیامت کا سماں تھا، گھر کا چولہا تک ٹھنڈا رہنے لگا۔سب سے بڑی بیٹی شادی کے لائق ہوچکی تھی۔بشریٰ بیگم نے اپنے خاوند کے ہوتے ہوئے جہیز کی کچھ چیزیں خرید لی تھیں۔ اب جب حالات بگڑتے جارہے تھے تو بشریٰ بیگم ایک سکول میں صفائی کا کام کرنے لگی تاکہ گھر کی چکی چلتی رہے۔
    کچھ عرصے بعد بشریٰ بیگم نے اپنی بڑی بیٹی کو بیاہنے کا سوچا ۔اس کے خرچے کے لیے اپنے کانوں کی بالیاں بیچ دیں۔لڑکے والوں سے بات کی گئی توانہوں نے سب سے پہلے جہیز کا پوچھا۔جہیز صرف ضروری اشیا پر مشتمل تھا۔اس بات کا علمہوتے ہی لڑکے والوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جہیز ہماری مرضی کے مطابق ہوگا، ورنہ شادی نہیں ہوگی۔ دوٹوک جواب سُن کر بشریٰ بیگم کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔انہوں نے منت سماجت کی کہ جیسے ہی میرے پاس پیسے آئیں گے میں اپنی بیٹی کو اور سامان دیتی رہوں گی ،خدارا آپ رشتے سے انکار مت کریںلیکن ان کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔
    بیس سال پہلے کیا گیا یہ رشتہ پل بھر میں ٹوٹ رہا تھا۔ یہ ان کی خاندانی رسم تھی اگر ایک جگہ سے رشتہ ٹوٹ جائے تو پوری عمر لڑکی دوسری جگہ شادی نہیں کرسکتی ۔لڑکی اور والدین کی زندگی میں سوائے طعنوں کے کچھ نہیں بچتا۔ماں کو اس غم نے تقریباً ادھ موا کر دیا۔دن مہینوں اور مہینے سالوں میں کٹ رہے تھے۔اب دونوں چھوٹی بیٹیاں بھی بیاہنے کے لائق ہوگئیں۔ان کے ساتھ بھی اپنی بڑی بہن والا سلوک ہوا تھا۔بیٹیوں کا غم بشریٰ بیگم کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹنے لگا ۔وہ لوگوں کے مزید طعنے برداشت نہیں کرسکتی تھیکیوںکہ اب سوال اس کی ذات کا نہیں بلکہ بیٹیوں کی زندگی کا تھا۔
    وہ انہیں خیالوں میں گم تھی اچانک اس کے ذہن میں خیال آیا ۔ ایک نئے جذبے سے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے کھڑی ہوگئی۔
    ٭۔۔۔٭۔۔۔٭
    آٹو رکشہ نے انہیں ان کی منزل گو گو ہائوس تک پہنچادیا۔یہ ایک بڑی سی حویلی تھی۔ جس میں بندوقیں اٹھائے بھاری بھر کم چا ر گارڈ کھڑے تھے۔ بشریٰ بیگم نے ڈرتے ڈرتے پوچھا:
    ’’ج ۔۔۔جج۔۔۔جی وہ گو گو صاحب؟ ‘‘ایک گارڈ نے اپنے ساتھ والے کمرے کی طرف انگلی کے اشارے سے بتایا۔
    ’’آئو بی بی جی ۔۔۔گوگو نام ہے میرا۔۔۔بو لو کیا کام ہے؟۔‘‘ مسٹر گوگو نے اپنے مخصوص انداز میں پوچھا۔
    یہ بھاری بھر کم آواز ان کی سماعتوں سے ٹکرائی۔جس سے آمنہ تو سہم کر اپنی ماں کو چمٹ گئی۔بشریٰ بیگم نے آنے کی وجہ بتائی۔
    ’’جی بی بی! ہم نے آپ کا کام کردیا ہے۔اگر وعدہ کے مطابق واپسی نہ ہوئی تو ہم نکلوانا بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔‘‘ہزارکے نوٹوں والے چھے پیکٹ کائونٹر پر رکھتے ہوئے گوگو نے مکروہ قہقہہ لگایا۔بشریٰ بیگم نے وہ پیکٹ کپڑے میں باندھ کر بغل میں چھپا لیے۔
    انہوں نے گھر آکر بتایا میں نے کسی سے قرض لیا ہے۔ شادی کے بعد آسان اقساط میں واپس کردیں گے۔ اتنے سارے پیسے دیکھ کر گویا مُردہ دلوں میں جان آگئی ۔ شادی کی تیاریں شروع ہوگئیں۔ کچھ جہیز پہلے بنا ہوا تھا۔ان پیسوں سے انہوں نے مزید سامان خرید لیا، جو لڑکے والوں کا منہ بند کرنے کے لیے کافی تھا۔
    ٭۔۔۔٭۔۔۔٭
    آج تینو ں بہنوں کی شادی ہوگئی تھی اور انہیں اگلے گھر عزت سے بیاہ دیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ فرض نبھا کر اطمینان کا سانس لیا۔ان کو اب وعدہ کے مطابق قرض کی ادائیگی کرنا تھی۔ گو گو صاحب نے ڈاکٹر کے ساتھ ڈیل کر لی تھی۔ اس بدبخت ماں نے بالآخر بیگانے ہاتھوں میں جاکر ہسپتال میں آپریشن سے اپنا گردہ اس گو گو صاحب کے حوالے کرکے چھے لاکھ کا قرض اتار دیا۔اس کے بعد انہوں نے اپنی بڑی بیٹی کو فون کرکے بتایا میری طبیعت خراب ہے۔ ڈاکٹرنے کچھ دن آرام کا مشورہ دیا ہے مجھے گھر لے جائو۔ گردے کے بدلے قرض کا راز تب کھلا جب دو سال بعد وہ اپنی بیٹیوں کو روتا چھوڑ کر دنیا سے گذر گئیں۔

    ٭٭٭٭




  • سمیٹ لو برکتیں — مریم مرتضیٰ

    ’’ کل پہلا روزہ ہے نا امی‘‘ رات کو کھانے کی میز پر اس نے خوشی سے چہکتے ہوئے کہا۔
    ’’ہاں‘‘ امی نے تائید کی۔
    ’’ اس میںاتنا خوش ہونے والی کیا بات ہے ؟‘‘ وسیم نے حیرانی سے اس کی جانب دیکھا۔
    ’’روزہ خوشی کا ہی تو نام ہے وسیم…کتنا پیارا پیارا سماں ہوتا ہے۔‘‘
    ’’خاک سماں ہوتا ہے دن بھر پیاسے پھرتے رہو یہ آپ کو مبارک ہو۔ میری اپنی مرضی کہ میں روزہ رکھوں یا نہ رکھوں …‘‘ وہ بے رخی سے بولا۔
    ’’ تم اس بار بھی روزے نہیں رکھو گے کیا؟‘‘ اس نے چونک کروسیم سے پوچھا۔
    ’’ ہاں …تو اور کیا اتنی گرمی میں کون بھوکا پیاسا رہے؟‘‘ وہ طنزیہ ہنس دیا۔
    ’’ روزے میں صبر اللہ پاک دیں گے تم ایک بار ہمت تو کر کے دیکھو۔‘‘ اس نے سمجھانے کی کوشش کی۔
    ’’چھوڑو سارہ …کیوں اُلجھ رہی ہو… تم کھانا کھاؤ بس…‘‘ امی نے کہا۔
    ’’امی آپ اسے سمجھا لیں۔‘‘ وسیم نے بے رخی سے کہا
    ’’امی سب آپ کی غلطی ہے ،آپ نے اسے ہمیشہ لاڈ دیا ،گرمی لگ جائے گی روزہ نہ رکھنا اب اس کی عادت بن گئی۔‘‘ وہ ناگواری سے بولی۔
    ’’ ہاں ہاں ہر جگہ میں ہی غلط ہوں ، سارا دن محنت مزدوری کرتا ہے اتنی گرمی میں کیسے رکھے روزے…خود تو تم کالج سے آکر سوئی رہتی ہو اور خبر نہیں ہوتی۔‘‘ امی نے اسے ڈانٹا تھا، وسیم فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا اور سارہ اب نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔
    ’’ امی دکان پر بیٹھنے سے کون سی لو لگ جاتی ہے اسے۔‘‘
    ’’ اچھا اب بس کر‘‘ امی نے غصے سے کہا۔
    ’’ یا اللہ تو ہی انہیں کچھ بتا ناں۔‘‘ اس نے چھت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
    ’’تمہیں شرم ہے کچھ سارہ۔‘‘ امی نے غصیلے انداز میں آواز بلند کی۔
    ’’ کس بات کی شرم امی؟‘‘





    ’’ یوں اللہ سے بات کرنا شروع ہو جاتے ہیںکیا؟‘‘ امی نے غصے سے کہا۔
    ’’کیوں، کیا ہوا امی؟میں نے اللہ ہی سے کہا ہے وہ میرے پاس ہے ہر وقت ،میں جب چاہوں اس سے کہہ سکتی ہوں ۔‘‘ اس نے شائستگی سے مُسکرا کر کہا۔
    ’’ ایسے ہی نہیں شروع ہو جاتے۔اچھا نہیں ہوتا دوبارہ نہ کہنا۔تمہیں میں نے کئی بار سنا ہے یوں۔ یہ سب ٹھیک نہیں ۔‘‘
    ’’ اچھا! تو پھر کیسے بات کروں اللہ سے امی۔‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔
    ’’ کچھ آداب ہوتے ہیں کچھ سلیقے ہیں دعا مانگنے کے۔‘‘ امی نے کہا۔
    ’’ امی! دعا مانگنے کے سلیقے ہوں گے، مگر بات کرنے کے نہیں۔اس سے بات کرنے کے لیے مصلے مسجد یا کسی درگاہ کا ہونا ضروری نہیں ، وہ تو ہر جگہ موجودہے۔‘‘ اس کی آنکھوں میں چمک تھی۔امی اس کی بات سن کر استغفار کرنے لگی تھیں۔
    ’’اللہ معاف کرے اس قدر بد تمیزی‘‘ وسیم نے امی کی بات پر اقرار کرتے ہوئے کہا۔
    ’’ تو تمیز وہ ہے جو تم دکھاتے ہو ، اپنی پیاس کی خاطر اس کا حکم جھٹلا دیتے ہو،نافرمانی کرتے ہو۔ امی کو مجھ میں ہی غلطیاں ملتی ہیںوہ جو اپنے لیے جہنم خرید رہا ہے وہ آپ کونظر نہیں آتا۔مجھے بٹھا دیں دکان پر میں تو کوئی روزہ نہ چھوڑوں۔‘‘ وہ ایک ہی سانس میں بول کرکمرے میں چلی گئی۔
    ’’ دیکھا امی کس قدر تیز بولنے لگی ہے۔‘‘
    ’’ اچھا چھوڑو تم کھانا کھاؤ ویسے روزہ رکھ کر دیکھ لو ہو سکتا ہے دن اچھا ہی گزر جائے۔‘‘ امی نے پیار سے کہا۔
    ’’ امی آپ بھی اس کی باتوں میں آگئی ہیں۔‘‘ وہ چڑ کر نوالہ منہ سے پھینکتے ہوئے بولا۔
    ’’روزے فرض ہیں بیٹے۔‘‘
    ’’ جانتا ہوں امی…مگر مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔‘‘ وہ اٹھ کر چلا گیا۔
    ٭…٭…٭
    رمضان شروع ہو چکا تھا،اس نے عشا کی نماز کے ساتھ تراویح پڑھ کر سکون حاصل کیا اور پھر قرآن کھول کر تلاوت میں مشغول ہوگئی۔رات کس قدر پُرسکون اور پُررونق تھی یہ دیکھنے والے ہی کو نظر آرہا تھا۔رحمت برس رہی تھی، مگر ہر کسی کو توفیق کہاں کہ وہ اس کی رحمتوں کو سمیٹ لے۔وہ رات بھر اللہ پاک کی عبادت کرتی رہی ۔ امی تراویح پڑھنے کے بعد سو چکی تھیں جب کہ وسیم رات بھر فلم دیکھنے میں وقت برباد کرتا رہا۔
    ٭…٭…٭
    وہ سحری بنا کر میز پر لگا چکی تھی ۔امی کوبلانے کے لیے وہ کمرے کی طرف بڑھی تو اس کی نظر وسیم پر پڑی جو اپنے کمرے میں اوندھا لیٹا خراٹے لے رہا تھا۔
    ’’ کہتے ہیں رمضان میں شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں، مگرجب انسان خود شیطان بن جائے تو اسے جکڑا نہیں جاتا اس سے یونہی توفیق چھین لی جاتی ہے۔‘‘ وہ کھڑی دل ہی دل میں سوچ رہی تھی
    امی کمرے سے باہر نکل آئیں تھیں۔ وہ متوجہ ہوئی۔
    ’’ امی آئیں سحری کرلیں ناں…‘‘ اس نے کہا۔
    ’’ آ رہی ہوں تم چلو۔‘‘
    ’’ امی وسیم کو جگا دوں۔‘‘ اس نے آہستگی سے کہا۔
    ’’ تم ایک ہی بات پر کیوں ڈٹ جاتی ہو، صبح صبح مجھ سے کچھ سن نہ لینا۔چلو…‘‘ امی نے سخت لہجے میں کہا اور کھانے کی میز کی جانب بڑھیں وہ بھی پیچھے پیچھے آگئی۔
    ’’ سال میں ایک مہینا روزے آتے ہیںاور وہ بھی نہیں رکھتا ،اللہ ہی اسے تو فیق دے۔‘‘ امی کے سامنے کھانا تناول کرتے ہوئے وہ بول رہی تھی
    ’’ ایک مہینا تو ہے، مگر شدید گرمی بھی تو دیکھو ناں۔‘‘
    ’’ امی ! جو اللہ کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ناں انہیں گرمی نہیں لگتی اور جو اللہ کی چاہت ٹھکرا کراپنی چاہت کے پیچھے بھاگتے ہیں ناں …وہ تڑپتے ہی رہتے ہیں ۔‘‘ اس نے بڑے تفکر سے کہا۔
    ’’ اچھا بس کرو سحری کرنے دو۔ کیا وہ بھی نہیں کرنے دو گی۔‘‘امی کی بات پر وہ چپ چاپ اُداس بیٹھ گئی۔
    ’’ سحری کرو۔کیا نہیںکرنی۔‘‘ امی نے اس کو یوں بیٹھے دیکھ کر کہا۔
    ’’ کرنے کو جی تو نہیں چاہ رہا، مگر کروں گی ضرور کیوں کہ میرے نبیﷺ کی سنت ہے۔‘‘ اس نے نوالہ توڑا۔
    ’’ صبح کالج جانا ہے کیا؟‘‘ امی نے پوچھا۔
    ’’ جی۔‘‘
    ’’ آج پہلا روزہ ہے جانے کتنی گرمی پڑے۔‘‘
    ’’ اللہ صبر دے گا امی…گرمی کو چھوڑیں یہ سوچیں رحمت کا عشرہ ہے ،پہلے عشرے کی دعا ہے ’’اے اللہ مجھے بخش دے مجھ پر رحم فرما، تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔ ‘‘ اللہ پاک ہماری دعا قبول کرے۔
    ٭…٭…٭
    وہ کالج جانے کے لیے تیار تھی۔ امی وسیم کے میز پر ناشتا لگا چکی تھیں ۔ وہ لڑ کھڑاتا ہواکمرے سے نکلا، تو اسی وقت سارہ بھی کندھے پر بیگ لٹکائے نکل آئی۔
    ’’ جا رہی ہو کالج؟‘‘ وسیم نے جمائی لیتے ہوئے کہا۔
    ’’ ہاں۔‘‘ اس نے روکھے لہجے میں جواب دیا۔
    ’’ موڈ کیوں بنا ہوا ہے تمہارا؟ کیا صبح ہی صبح روزہ لگنا شروع ہو گیا۔‘‘ وسیم نے طنزیہ ہنستے ہوئے کہا۔
    ’’ روزہ لگتا نہیں ہوتا وسیم۔۔‘‘
    ’’ تو کیا چبھتا ہے؟‘‘ اُس نے پھر تمسخر اُڑایا۔
    ’’ روزے سے کچھ نہیں ہوتا یہ صرف تمہارے دماغ کا فتور ہے ۔‘‘
    ’’ اچھا اچھا جاؤ ۔ دما غ نہ کھاؤ۔‘‘ وسیم نے بالوں میں ہاتھ پھیر کر کہا۔
    ’’جا رہی ہوں۔‘‘ وہ پاؤں پٹختی چلی گئی۔
    ٭…٭…٭




  • تعلیم کے گہنے ہم نے پہنے — عائشہ تنویر

    تعلیم کے گہنے ہم نے پہنے — عائشہ تنویر

    تعلیم کی اہمیت پر ابا جی کے بہت لیکچر سنے، اماں کی صلواتیں بھی سنیں مگر اپنی ازلی ڈھٹائی کی بہ دولت ہم نے مانا اور نہ ہی پڑھا ۔اماں اٹھتے بیٹھتے یہی بولتیں۔
    ارے علم تو زیور ہوتا ہے، انسان کی شخصیت نکھار دیتا ہے۔
    ابتدا میں تو ہم نے بہت نظراندازکیا مگر پھر ان کی مسلسل تکرار سے تنگ آکر ایک دن انہیں تسلی سے سمجھانے کی کوشش کی کہ اکلوتی اولاد ہونے کی بہ دولت ان کے جہیز، بری کے تمام زیور کے واحد وارث ہم بہ ذاتِ خود ہیں۔ شکر ہے اللہ کا کہ ہم اتنے لالچی نہیں کہ مزید زیور کی حرص میں پڑیں۔ سادگی بہترین دولت ہے۔ ابھی ہمارا بیان جاری تھا کہ اماں کا دو ہتڑ ہماری کمر سلگا گیا۔ تڑپ کر ہم دو گز پیچھے ہٹے لیکن اپنی بات سے پیچھے ہر گز نہ ہٹے اور اپنے چاند چہرے کی سمت اشارہ کرتے ہوئے یہ مصرع پڑھا۔
    ؎ نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا نے دی
    اللہ جانے کہ یہ مصرع ہم نے کہاں سے سن لیا تھا لیکن اس نے تیر بہ ہدف کام دیا اور اماں اب کی بار ہمیں مارنے کے بجائے سر پکڑ کر بیٹھ گئیں۔ اس دن کے بعد اماں نے ہار مان لی اور ہمیں دوبارہ کبھی پڑھنے کو نہیں کہا۔
    علم سے محرومی کا احساس ہمیں پہلی بار تب معلوم ہوا جب ہماری کزنیں دھڑادھڑ کمپیوٹر اور موبائل استعمال کرنے لگیں۔ فیس بک، واٹس ایپ، نت نئے ڈیزائن کے کپڑے، فلمیں اور ڈرامے سب کچھ چار انچ کے ڈبے میں موجود تھا۔ خیر ایسے ویسے تو ہم بھی نہیں تھے، فوراً ایک زنگر کے بدلے فیس بک کا اکاؤنٹ بنوایا اور دانش وروں کی دنیا میں قدم رکھا۔ موبائل ویسے تو خیر ہم استعمال کر ہی لیتے تھے لیکن کبھی کہیں اٹک جاتے تو کسی سے مدد لینا بھی عذاب، آخر ہزار ذاتی چیزیں ہوتی ہیں اس میں ۔
    آپ یہ مت سمجھیں کہ ہم کردار کے کچے ہیں اور نیٹ کا غلط استعمال کرتے ہیں لیکن ہماری سہیلیوں سے کی گئی باتیں ہی ہماری پڑھی لکھی کزنیں پڑھ لیتیں جس میں انہیں کلموہی اور پھپھے کٹنی جیسے الفاظ سے مخاطب کیا جاتا، تو وہ آیندہ کیا خاک کام آتیں۔
    تعلیم سے محرومی کا دوسرا جھٹکا ہمیں تب لگا جب ہماری چاند بلکہ سپر چاند سی صورت چھوڑ کر ڈاکٹر کا رشتہ اپنی اس کزن کی طرف چلا گیا کیوں کہ لڑکے والوں کو پڑھی لکھی لڑکی چاہیے تھی۔ ڈاکٹر کو تو ہم یوں بھی گھاس نہ ڈالتے، ایک تو ان میں سے دوائیوں کی بد بو آتی رہتی اور پھر گھر میں ہی کلینک کھول کر چوبیس گھنٹے سر پر رہتے۔ تیسرا بڑا نقصان یہ کہ بیوی بیماری کا بہانہ کر کے آرام بھی نہیں کر سکتی۔
    یہ سب دلاسے اپنی جگہ لیکن اپنا نظر انداز ہوجانا بھی برداشت نہیں ہورہا تھا۔ اس پر کزن کے دل جلاتے جملے، اس نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ آج کل تو اسکول والے بھی پڑھے لکھے والدین کے بچے لیتے ہیں۔ سو اچھا رشتہ تو دور کی بات تمہیں اپنے بچوں کے لیے اچھا اسکول بھی نہیں ملنا۔ رشتے کی فکر ہمیں یوں نہیں تھی کہ بھاری جہیز خود مقناطیس کی طرح لڑکے والوں کو کھینچتا ہے لیکن اپنی غیر موجود اولاد کے مستقبل کی فکر نے ہماری نیندیں اُڑا دیں۔ مسئلہ یہ تھا کہ ہمیں ڈر تھا کہ ہماری اولاد بھی ہمارے جیسی ہی ہو گی۔ رج کے حسین، ذہین بھی اور ذرا پڑھائی سے بچنے والی بھی۔ اب سرکاری اسکول تو ایسے بچوں کو برداشت کرنے سے رہے۔ مہنگی مہنگی فیسیں ڈکارنے والے پرائیویٹ اسکول ہی ہم جیسوں کو برداشت کر سکتے ہیں۔ تو ہم نے سوچا کہ شکل سے تو ہم ویسے بھی بہت پڑھے لکھے ہی لگتے ہیں۔ "Inglish” میں بھی میرا کی طرح مہارت تھی۔ بس اسلم انکل کے مشورے کے مطابق ایک ڈگری ہونی چاہیے کہ ڈگری، ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا نقلی۔ مسئلے کا حل ملنا تھا کہ جان میں جان آئی۔ محلے کے ایک لڑکے کو پیسے دیے کہ ہمیں بی-اے کی ڈگری لا دے۔ بی-اے اور پھر بیاہ سے یوں بھی لڑکیاں کم عمر اور معصوم ہی لگتی ہیں ساری عمر لیکن وہ کم عقل ایم-اے کی ڈگری بھی اٹھا لایا اور بولا کہ باجی ڈیل میں سستی مل رہی تھی۔ اب جب وہ لے ہی آیا تو ہم نے بھی احسان کر کے رکھ لی۔
    اگلا رشتہ آیا تو ہم نے تعلیم ایم اے بتائی۔ لڑکے کی بھابھی خوش ہو کر سیدھی ہوئی۔
    ’’ارے واہ! کہاں سے کیا ہے؟‘‘
    ’’جی گورنمنٹ انٹر میڈیٹ کالج سے۔‘‘ ہم نے فوراً جواب دیا تو اس نے آنکھیں پھاڑ کر ہمیں دیکھا۔ اماں اتنی زور سے کھانسیں کہ سب انہیں ہی دیکھنے لگے۔
    ’’مذاق کی بہت عادت ہے اسے۔‘‘ انہوں نے لب زبردستی شرقاً غرباً پھیلا کر دانت پیسے اور سب ہنس پڑے۔ اب اگلا سوال ہوا۔
    ’’کس مضمون میں کیا ہے ماسٹرز؟‘‘ ہم گڑبڑا گئے کہ ابھی تک ڈگری کھول کر بھی نہ دیکھی تھی۔ نہ ہی وہ کم بخت بتا کر گیا تھا کہ ہم نے کیا پڑھا ہے۔ حواس بحال رکھتے ہوئے ہم نے اپنی طرف سے بہت آسان جواب دیا۔
    ’’جی اردو میں۔‘‘ ہم نے اس مضمون کا انتخاب اس لیے کیا تا کہ مزید آگے کے سوالات کے جواب بآسانی دیے جائیں۔
    ’’تھیسز لکھا تھا ؟ کس موضوع پر؟‘‘ مزید دل چسپی سے اگلا سوال آیا اور ہمارا صبر کا پیمانہ ختم ہوگیا۔ ’’ہم نے پڑھانے نہیں آنا آپ کو۔‘‘ بل کھا کر ہم کھڑے ہوئے اور اس سے پہلے کے پاؤں پٹخ کر باہر جاتے لڑکے کی ماں نے خوشی سے بے حال ہوتے ہمیں گلے لگایا اور رشتہ پکا کردیا کیوں کہ بڑی بہو کی تعلیم ان کے گلے کا پھندہ بن چکی تھی۔ جب وہ حلیم کی فرمائش کرتیں تو وہ حلیم پکانے کے بجائے انہیں پکانے بیٹھ جاتیں۔
    ’’اماں اصل لفظ حلیم نہیں دلیم ہے۔‘‘
    ہنڈیا کبھی اچھے سے نہ بھونتی کہ غذائیت ضائع ہو جائے گی۔ اب کی بار انہیں ہماری جیسی چاند چہرہ، معصوم خانہ دار بہو ہی چاہیے تھی جس نے یونیورسٹی سے گولڈ میڈل حاصل کرتے اپنی چاند جیسی رنگت نہ گنوائی ہو اور جو ڈرامے کے ٹائم پر نیوز چینل لگا کر نہ بیٹھ جاتی ہو۔
    اور اب اگلے ماہ ہماری شادی ہے۔ اب ہم انتہائی فخر سے اپنی ایم اے کی ڈگری کے ساتھ خود کو میٹرک فیل بتاتے ہیں اور مزے کی بات یہ کہ اماں بھی غصہ نہیں کرتیں۔

    ٭…٭…٭




  • امّی — شاکر مکرم

    ’’آپ سے کوئی ملنے آیا ہے‘‘ آنے والے نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا۔
    ’’کہاں؟ ویٹنگ روم میں ہے ؟‘‘ اس نے سر اُٹھا کر پوچھا۔
    ’’ہاں!‘‘
    ’’اچھا میں آتی ہوں۔‘‘ تو آج اسے میری یاد آ ہی گئی۔ مصلیٰ لپیٹتے ہوئے وہ کھڑی ہوئی، چہرے پہ ہلکی ہلکی مسکراہٹ ابھری اور آنکھوں میں امید و محبت کے دیے جلنے لگے۔
    وہ سوچ رہی تھی، کہ کتنے عرصے بعد وہ آیا تھا لیکن پھر دل نے کہا اب ایسی باتوں کا کیا فائدہ؟ دیر سے آیا ہے لیکن آیا تو سہی، اب کیا گلے شکوے کرنے اور کیا دل برا کرنا، لیکن چوکھٹ پار کرتے ہی اس کی ساری مسکراہٹ غائب ہوگئی آس، امید جواب تک اسے جوڑے ہوئے تھی، ٹوٹ گئی۔
    ’’السلام علیکم‘‘ اس کے کانوں میں آواز آئی لیکن یہ آواز وہ نہیں تھی، جس کی وہ منتظر تھی، اور نہ ہی یہ چہرہ وہ شناسا چہرہ تھا جسے دیکھنے وہ ویٹنگ روم کی طرف چلی تھی۔ آنکھوں میں جلتے محبتوں کے دیے بجھ گئے۔
    ’’اپ کیسی ہیں‘‘
    ’’میں ٹھیک ہوں۔‘‘ اس نے بے تاثر لہجے میں جواب دیا، پھر پوچھا:
    ’’آپ کون؟‘‘ وہ اب سنبھل گئی تھی۔
    ’’میرا نام ارقم عباس ہے، ماؤں کے عالمی دن کے لئے آپ کا انٹرویو کرنا تھا انتظامیہ نے آپ کو بتایا ہو گا۔‘‘ اس نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے بتایا۔
    ’’جی ہاں! نعیم صاحب نے بتایا تھاانہوں نے کچھ بے پروائی سے کہا۔
    ’’جی میں اسی سلسلے میں آیا تھا دراصل اس دفعہ ہمارا ماہنامہ ماؤں کے عالمی دن پہ ماں کے عنوان سے خاص نمبر۔‘‘
    ’’نام بہت پیارا ہے تمہارا۔‘‘
    انہوں نے اس کی بات درمیان میں ہی کاٹ لی۔
    ’’جی!‘‘ پہلے تو وہ حیران ہوا پھر بے ساختہ بولا:
    ’’میں خود بھی پیارا ہوں۔‘‘
    ’’اور باتیں بھی اچھی کر لیتے ہو‘‘ وہ ہنستے ہوئے بولیں۔
    ’’شکریہ‘‘ اس نے اتنا ہی کہنے پر اکتفا کیا۔
    ’’کیا پوچھنا ہے؟‘‘ وہ بولی۔
    ’’آپ یہاں کب سے؟‘‘





    ’’دوسال، آٹھ ماہ اور بائیس دنوں سے‘‘ انہوں نے بے تاثر لہجے میں کہا
    ’’آنے کادن کون سا تھا ؟‘‘ اس نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔
    ’’منگل۔‘‘
    ’’ٹائم؟‘‘
    ’’نوبج کر انتالیس منٹ‘‘
    ’’چھوڑنے کون کون آیا تھا؟‘‘
    ’’بیٹا، بہو اور پوتا‘‘
    ’’دن کیسے گزرتا ہے یہاں؟‘‘
    ’’کچھ یادوں میں، کچھ مصلے پہ ،کچھ واک میں۔‘‘
    وہ اتنے مختصر جوابات سے گھبرا گیا تھا۔ اگر یہ مائی اتنے ہی مختصر جواب دیتی رہی تو انٹرویو تو دو منٹ میں ہی ختم ہو جائے گا، وہ دل ہی دل میں سوچنے لگا۔
    ’’گھر والوں کی یاد آتی ہے؟‘‘
    اس سوال پر پہلے تو اس نے لڑکے کو گھور کے دیکھا پھرہنستے ہوئے کہنے لگی:
    ’’ہاں! چوں کہ بہت سا وقت ساتھ گزرا ہے اس لئے کبھی کبھی یاد آجاتی ہے۔‘‘
    ’’کیا چیز آپ زیادہ مس کرتی ہیں ؟‘‘
    ’’آلو پراٹھے‘‘ اس نے یک دم کہا۔
    ’’کیا؟‘‘ وہ حیرت سے بول پڑا۔
    ’’ہاں! بہو رانی بہت اچھے پراٹھے بناتی تھی، کبھی کبھار کھانے کو بہت دل چاہتا ہے لیکن اب یہاں ہر چیز تو نہیں مل سکتی نا۔‘‘ اس کے لہجے سے افسردگی صاف ظاہر تھی۔
    ’’عجیب عورت ہے پتا نہیں نعیم صاحب نے کس کے پاس بھیج دیا ہے لگتا ہے کسی اور کا انٹرویو بھی کرنا پڑے گا‘‘ اس نے سوچا۔
    ’’آنے سے پہلے بیٹے نے کیسے بتایا کہ وہ اپ کو یہاں شفٹ کرے گا؟‘‘ اس نے چاروناچار اس سے پوچھا۔
    ’’یہاں چھوڑنے کا تو میں نے کہا تھا اسے، ورنہ وہ کہاں لانے والا تھا۔‘‘ انہوں نے صاف جھوٹ بولا۔
    اس کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ بکھری‘‘ ’’روایتی ماں‘‘، زیرِ لب بولا پھر ان کے قریب ہو کے سرگوشی کی:
    ’’یہ مائیں جھوٹ کیوں بولتی ہیں؟‘‘
    انہوں نے بھی اسی انداز میں ابرو اٹھائے مسکراتے ہوئے سرگوشی کی:
    ’’تم انٹرویو کرنے آئے ہو یا مجھے رلانے ؟ سوری بیٹا میں ایموشنلی بلیک میل نہیں ہوا کرتی۔‘‘ انہوں نے ہلکے سے مسکراتے ہوئے مضبوط لہجے میں کہا۔
    ایک خفیف سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پہ بکھری۔ اب اسے سامنے بیٹھی ہوئی عورت کی شخصیت میں دل چسپی پیدا ہونے لگی۔
    سوال پر سوال ہوتے رہے۔ کسی old people’s home میں ملنے والی یہ پہلی ایسی خاتون تھیں جس کا ہر جواب ارقم عباس کے تجسس میں اضافہ کرتا جا رہا تھا۔
    ’’آپ کا بیٹا اکلوتا تھا تو کوئی ایسا واقعہ یا لمحہ جو آپ کو یاد رہ گیا ہو، بھلائے نہ بھولتا ہو؟‘‘
    ’’کوئی ایسا لمحہ نہیں‘‘ لہجہ پھر سے بے تاثر ہوچکا تھا۔
    ’’جی۔‘‘ حیرت اس کے لہجے سے جھلک رہی تھی۔
    او ہو! بات تو پوری سن لیا کرو۔ ’’انہوں نے اسے ٹوکا تو اس نے شرم سے سر جھکاتے ہوئے کہا: ’’جی بولئے۔‘‘
    ’’کوئی ایسا لمحہ نہیں جو میں بھولی ہوں، سب کچھ یاد ہے مجھے حرف حرف، لفظ لفظ اور یہاں آنے کے بعد تو میرے پاس بہت وقت تھا ماضی کریدنے کے لئے تو میں نے پچھلے سال انہی یادوں کی نذر کئے ہیں، ایک ایک بات یاد کرکے میں نے اسے سینے سے لگایا ہے کیوں کہ جب اپنے پاس نہ ہو تو کم از کم ان کی یادیں تو پاس ہونی چاہئیں۔‘‘ ان کے لہجے میں اب درد اتر آیا تھا۔




  • اِک فیصلہ — حنادیہ احمد

    اِک فیصلہ — حنادیہ احمد

    ’میں ناہید سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
    ارسلان کی بات سن کر سارے گھر والوں کو سانپ سونگھ گیا۔
    ’’کیا تمہیں لگتا ہے کہ تمہارے سمجھانے سے اس کا فیصلہ تبدیل ہوجائے گا؟؟‘‘ ارسلان کی ماں نے بیٹے پر چوٹ کرتے ہوئے کہا۔
    ’’مجھے نہیں معلوم پر ایک دفعہ کوشش کرنے میں تو کوئی حرج نہیں ہے نا؟‘‘ ارسلان نے ماں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
    ’’ٹھیک ہے بیٹا! تم اس سے بات کرکے دیکھ لو مجھے کوئی اعتراض نہیں بلکہ میرے لئے اس سے بڑھ کر کیا خوشی ہوگی اگر وہ تمہاری بات مان لے۔‘‘ ناہید کی ماں نے اپنے بھانجے کو دیکھ کر کہا۔ وہ خود دِل سے چاہتی تھیں کہ ان کی بیٹی کا گھر دوبارہ سے بس جائے۔ وہ خود ناہید کو سمجھا سمجھا کر تھک گئی تھیں لیکن ناہید تھی کہ دوبارہ شادی کے لیے مان ہی نہیں رہی تھی۔
    ٭…٭…٭
    آج اس کے بیٹے کا آفس میں پہلا دن تھا۔ وہ بہت خوش تھی۔ اسے لگا اس کا فیصلہ صحیح ثابت ہوگیا ہے۔ آج وہ دنیا اور اپنے مرحوم شوہر کے آگے سرخرو ہوگئی ہے۔ کاشف نے کراچی کی ایک مشہور یونیورسٹی سے M.B.A کیا تھا اور اِک ملٹی نیشنل کمپنی میں اچھے عہدے پر فائز تھا۔ ہر ماں کی طرح انہیں بھی چاند سی بہو لانے کی خواہش تھی، وہ اپنے بھانجی کو اپنی بہو بنانا چاہتی تھیں۔ پر کاشف نے مائرہ کو پسند کیا تھا جو اُس کی کلاس میٹ تھی۔ ان کا دل دکھی ہوا مگر مائرہ اور اس کے گھر والوں سے ملنے کے بعد وہ مطمئن سی ہوگئیں۔ اسی لئے وہ جلدی شادی کرنا چاہ رہی تھیں اور بالاآخر وہ دن آگیا جب اپنے بیٹے کاشف کے سر پر سہرا دیکھ کر ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔ سب لوگ اسے ستائشی نظروں سے دیکھ رہے تھے کہ کس طرح ناہید اپنے بچوں کو کتنے اچھے طریقے سے پال کر بڑا کیا کہ آج ایک کی شادی ہورہی تھی جب کہ دوسرا بیٹا حارث M.B.B.S مکمل کرکے امریکا میں سپیشلائیزیشن کررہا تھا۔
    ٭…٭…٭




    ’’ناہید تم اس رشتے سے انکاری کیوں ہو؟؟‘‘ ارسلان آج ناہید سے بات کرکے خود اُس کو راضی کرنا چاہتا تھا۔
    ’’آپ آخر مجھ سے شادی کیوں کرنا چاہتے ہیں ارسلان؟ میں بیوہ ہوں، دو بچوں کا ساتھ ہے آپ چاہیں تو ایک سے بڑھ کر ایک لڑکی مل سکتی ہے آپ کو، پھر میرا انتخاب کیوں؟ ‘‘ ناہید نے اپنے خالہ زاد ارسلان کو سمجھاتے ہوئے کہا۔
    ’’جب ایک سے بڑھ کر ایک لڑکی مجھ سے شادی پر راضی ہوسکتی ہے تو تم کیوں نہیں؟‘‘
    ارسلان نے ناہید کو دیکھتے ہوئے رسانیت سے کہا۔
    ’’اس لئے کہ میں نہیں چاہتی کہ میرے بچوں کے ذہن پہ میرے نئے رشتے کی وجہ سے کوئی غلط فہمی جنم لے۔‘‘ ناہید نے اپنے بچوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔ وہ ماں تھی، اُسے اپنی ذات، اپنی خوشیوں سے زیادہ اپنے بچوں کی فکر تھی۔ وہ انہیں کسی قسم کی وسوسوں میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی کہ اس کے بچوں کے ذہنوں میں یہ بات آئے کہ اب ان کی ماں پہ کسی اور کا حق ہوجائے گا۔ دونوں بچے اب بڑے ہورہے تھے۔ کاشف آٹھ سال کا اور حارث چھے سال کا ہونے کو تھا۔ دونوں اب اس بات کو تسلیم کرچکے تھے کہ ان کا باپ اب اس دنیا میں نہیں رہا اور اب ان کی ماں ہی ان کے لیے سب کچھ ہے، وہی ان کی ماں ہے اور وہی ان کا باپ۔
    ایسے میں ناہید اپنے بچوں کے ذہنوں میں یہ تصور نہیں ڈالنا چاہتی تھی کہ اب ان کی ماں بھی ان کی اپنی نہیں رہی۔ ناہید خود کو اب صرف ایک عورت کے طور پر نہیں بلکہ ایک ماں کی طرح سوچ رہی تھی۔
    ’’کیا تمہیں مجھ پہ یقین نہیں ہے ناہید؟؟ تمہیں نہیں لگتا کہ زندگی ہمیں ایک اور موقع دے رہی ہے۔ برسوں پہلے ہمارا ساتھ جو نہ ہوسکا شاید قدرت کو وہ اب منظور ہو۔‘‘ ارسلان نے ناہید کو سارے وہ جھٹکنے کا کہا۔
    ’’آپ پہ اعتبار ہے، لیکن اعتبار ٹوٹتے دیر نہیں لگتی ارسلان، خاص طور پر تب جب ایک مرد کی ایک دوسرے مرد کی اولاد پالنے کو ملے، میں نہیں چاہتی کل کو جب آپ کی اپنی اولاد ہو اور اس سے آپ کی محبت دیکھ کر میرے بچے کسی احساس کم تری یا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائیں، میں ہی ان کا واحد سہارا ہوں اور کل کو وہ جب بڑے ہوں گے تو میرا سہارا بنیں گے۔‘‘ ناہید نے دو ٹوک انداز میں ارسلان کو ناامید کردیا۔
    ’’بچے سہارے بن سکتے ہیں ناہید لیکن ساتھی نہیں، آج سے دس سال پہلے جب اماں نے بتایا تھا کہ انہوں نے خالہ سے تمہیں میرے لیے مانگ لیا ہے، اس دن سے سمجھو تم میرے لیے خاص ہوگئی تھیں، کب احساسات بدلے پتا ہی نہیں چلا، کب تم خالہ زاد سے زیادہ ہوگئیں احساس ہی نہ ہوا، لیکن پھر ابا کے اچانک ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ان کو دکان چھوڑ کے گھر بیٹھنا پڑا، ایسے میں صبح یونیورسٹی شام میں دکان پہ بیٹھنا بہت مشکل تھا وہ وقت ہمارے لئے، زندگی میں جیسے جمود سا طاری ہوگیا تھا رزلٹ کے بعد بھی نوکری نہ ملنے پہ نہ صرف پریشانی نے ہمارے گھر پہ قبضہ کرلیا تھا بلکہ خالہ خالو بھی مجھ سے تمہارا رشتہ جوڑنے پہ پچھتا رہے تھے، ایسے حالات میں طارق کا دبئی جاکے قسمت آزمانے کا مشورہ مجھے سب سے بہترین لگا اور دکان کرائے پہ چڑھا کے میں دبئی چلا گیا، سوچا تھا دو تین سالوں میں واپس آجاؤں گا لیکن کاش! زندگی ویسی آسان ہوتی جیسی ہم سوچتے ہیں لیکن کہاں کسی کو سب ملتا ہے؟ کوئی نہ کوئی کمی رہ جاتی ہے۔
    تین بہنوں کی شادی کرانی تھی، گھر کے اخراجات، ابا کی دوائیاں، اوپر سے اماں کا حکم تھا کہ جب تک اتنا جمع نہ ہوجائے کہ بہنوں کی شادی ہوسکے تب تک واپس نہ آنا اور سب کے لیے سب کرتے کرتے کب خالہ خالو نے میرا انتظار کرنا چھوڑا اور کب تمہیں اختر کے ساتھ رخصت کیا پتا ہی نہ چلا، نہ ہمارے گھر کا ماحول ایسا تھا کہ میں تم سے کوئی رابطہ کرپاتا، لیکن اس سارے معاملے میں خالہ خالو کا کوئی قصور نہ تھا، آخر ان کو بھی تمہارے بعد دو بیٹیاں اور رخصت کرنی تھیں، یہ ہماری قسمتوں کا فیصلہ تھا جس کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارا نہ تھا۔ میں جو شروع کے ہر سال واپس پاکستان آنے کا سوچتا تھا تمہاری شادی کا سن کے پھر واپس آنے کا دل ہی نہیں کیا اور وہیں کا ہوکر رہ گیا، اس تمام عرصے میں اماں نے بہنوں کی شادیاں کرا دیں، گھر کی مرمت ہوگئی، ابا کا بائے پاس ہوگیا سب کچھ ہوگیا لیکن اک چیز کھو گئی تھی اور وہ تھی مری زندگی… میں دبئی میں زندگی جی نہیں رہا تھا گزار رہا تھا، وہ ارسلان جو دبئی گیا تھا اک نوجوان تھا اور اب جو تمہارے سامنے ارسلان کھڑا ہے وہ کب ان چھے سالوں میں نوجوان سے تیس برس کا مرد بن گیا پتا ہی نہیں چلا۔ ارسلان ماضی میں گم سا ہوگیا تھا۔ ان چھے سالوں کی مشقت اور تھکن اس کے چہرے پہ آگئی تھی۔




  • جناح کا وارث — ریحانہ اعجاز

    جناح کا وارث — ریحانہ اعجاز

    سارا گھر برقی قمقموں سے جگمگا رہا تھا ۔ مسٹر اور مسز احسن کے چہرے بھی خوشی سے کھلے ہوئے تھے۔ آج علینہ کی دسویں سالگرہ تھی۔ علینہ ان کی اکلوتی اور لاڈلی بیٹی تھی۔
    اللہ نے انہیں یکے بعد دیگرے تین بیٹے دے کر واپس لے لیے تھے۔ مسٹر اور مسز احسن قدرت کی اس ستم ظریفی پر شکوہ کناں تھے ،لیکن اللہ نے علینہ کی صورت انہیں خوشی عطا کی۔ جب علینہ نے دنیا میں سانس لیا، تو دونوں میاں بیوی بہت خوف زدہ تھے۔ انہوں نے علینہ کو حقیقتاً ہاتھوں کا چھالا بنا کر رکھا تھا۔ اُسے چھینک بھی آ جاتی تو وہ پریشان ہو جاتے۔ اسی طرح علینہ نے مکمل صحت کے ساتھ زندگی کی دس بہاریں دیکھ لیں۔
    علینہ لاڈ پیار میں پلی۔ اکلوتی بیٹی ہونے کے باوجودنہایت شُستہ اور سلجھے مزاج کی لڑکی تھی۔ ماں باپ کا لاڈ پیار اور پیسے کی بہتات نے بھی اسے بگڑنے نہیں دیا تھا ۔ آج دسویں سالگرہ پر مسٹر احسن نے علینہ کو ایک پیارا سا ٹیبلٹ گفٹ کیا جسے پا کر وہ بے حد خوش تھی ۔وہ ٹیبلٹ پر گیمز کھیلتی اور کارٹونز دیکھتی۔ احسن صاحب بھی فارغ اوقات میں علینہ کو ٹیبلٹ ، کمپیوٹراور جدید ٹیکنالوجی کے صحیح استعمال اور فوائد سے آگاہ کرتے رہتے۔ علینہ اپنی پڑھائی سے بھی غفلت نہیں برتتی تھی۔ اسی طرح خوشیوں کے ہنڈولوں میں جھولتے ہوئے علینہ نے اسکول کے بعد کالج کو بھی خیر باد کہتے ہوئے یونیورسٹی کی دنیا میں قدم رکھا جس کے ماحول کو دیکھ کر علینہ حیران تھی کہ یہاں لڑکے لڑکیاں پڑھنے آتے ہیں یا محض ٹائم پاس کرنے؟ نت نئے فیشن اور شغل میلے سے ہٹ کر پڑھائی سے کسی کو کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ بس ڈگری یافتہ ہونا ہی ان کے لیے کافی تھا ۔ سارا دن ٹولیوں کی صورت گپیں مارتے یا موبائلز پر مصروف رہتے۔ علینہ نے اپنے پہلے گفٹ کے طور پر ملنے والے ٹیبلٹ سے لے کر اب تک بہت سے مختلف اور مہنگے موبائلز استعمال کیے تھے، لیکن کبھی ان کا غلط استعمال نہیں کیا تھا۔
    ایک دن یونیورسٹی سے واپسی پر اس کی گاڑی کے سامنے اچانک ایک سولہ سترہ سالہ لڑکا آگیا۔ بروقت بریک لگانے سے بڑا حادثہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔ علینہ فوراً گاڑی سے اتری اور لڑکے کے پاس آگئی جو اپنے کپڑے جھاڑ رہا تھا ، پاس ہی اس کا موبائل گرا ہوا تھا۔ علینہ نے موبائل اٹھا کر لڑکے کو دینا چاہا تو ہاتھ لگتے ہی اس کی اسکرین روشن ہو گئی اور اس میں موجود تصویر پر نظر پڑتے ہی علینہ شرم سے پانی پانی ہوگئی۔ لڑکے کی طرف دیکھا، تو وہ بھی شرمسار سا کھڑا تھا۔علینہ نے موبائل اس کے ہاتھ میں دیا تو وہ شرمندگی سے بولا:
    ’’سوری!‘‘ علینہ نے سوالیہ انداز میں اس کی طرف دیکھا تو وہ عجلت سے بولا :
    سوری سِسٹر! میرے دوست نے یہ تصویر واٹس ایپ کی تھی، اسی کو ڈیلیٹ کر رہا تھا جب اچانک آپ کی گاڑی سے ٹکرا گیا۔ وہ چہرے مہرے سے اچھے گھر کا شریف لڑکا نظر آ رہا تھا۔ چند لمحے توقف کر بعد علینہ نے پوچھا :
    ’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘
    ’’میرا نام عظام ہے۔‘‘
    ’’کیا کرتے ہو؟‘‘
    ’میں نے میٹرک کے پیپرز دیے ہیں، آج کل فری ہوں۔‘‘عظام اب قدرے پرسکون اندازمیں بات کررہا تھا۔




    ’’آؤ بیٹھو! کہاں جانا ہے میں چھوڑ دیتی ہوں۔‘‘ علینہ نے گاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
    ’’نہیں نہیں! میں دوست کی طرف جا رہا تھا۔ آپ کا شکریہ، میں چلا جاؤں گا ۔ ‘‘
    ’’کوئی بات نہیں آجاؤ۔‘‘ عظام جھجکتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گیا۔ ’’چلیںٹھیک ہے آپ مجھے میرے گھر پر اتار دیں۔‘‘
    علینہ نے اس سے ایڈریس پوچھا جو اس کے گھر کے بالکل پاس تھا۔
    ’’تم کتنے بہن بھائی ہو؟‘‘
    میرے والد امپورٹ ایکسپورٹ کا کام کرتے ہیں ، اکثر ملک سے باہر ہوتے ہیں ، بڑی بہن کی شادی ہو چکی ہے اوربڑا بھائی پڑھنے کے لیے امریکا گیا ہوا ہے۔ مما کا سوشل سرکل کافی بڑا ہے تو وہ بھی مصروف رہتی ہیں۔ میں میٹرک کے پیپر دے کر فری ہوں اور اب رزلٹ کا انتظار ہے۔ بائیک خراب ہو گئی تھی اس لیے پیدل دوست کی طرف جا رہا تھا کہ آپ کی گاڑی سے ٹکرا گیا۔ اگر آپ برا نہ مانیں تو میں آپ کو آپی کہہ سکتا ہوں؟‘‘عظام نے اپنا تفصیلی تعارف کروانے کے بعد پوچھا۔
    ’’بالکل! کہہ سکتے ہو۔ اگر میرا کوئی چھوٹا بھائی ہوتا، تو یقینا تمہارے جیسا ہی ہوتا۔‘‘ علینہ نے خوش دلی سے کہا۔ اتنے میں اس کا گھر بھی آگیا۔
    ’’آؤ! پہلے میں تمہیں اپنی مما سے ملواؤں، پھر گھر جانا۔ آج سے میری تمہاری دوستی پکی۔‘‘ علینہ نے عظام کو اپنی مما سے ملوایا۔ وہ بھی عظام سے مل کر بہت خوش ہوئیں۔ عظام جانے لگا تو علینہ نے کہا:
    ’’دو دن بعد میری یونیورسٹی سے چھٹی ہے۔ تم اپنے دوست کو لے کر میرے پاس آنا جس نے تمہیں واٹس ایپ کیا تھا۔‘‘ عظام شرمندگی سے سر جھکا تے ہوئے بولا :
    ’’جانے دیں آپی! آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔‘‘
    ’’عظام میرا مقصد تمہیں شرمندہ کرنا نہیں ہے ۔مجھے اندازہ ہو گیا ہے کہ تم اچھے لڑکے ہو ، مجھے آپی کہا ہے تو اپنے دوست کو ضرور لے کر آنا۔‘‘ علینہ نے نرمی سے کہا۔
    عظام وعدہ کرکے وہاں سے رخصت ہو گیا۔ علینہ ہر بات اپنی ماں سے شیئر کرنے کی عادی تھی۔ جب اس نے یہ بات مما سے شیئر کی تو مسز احسن ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے گویا ہوئیں ۔
    ’’بیٹا آج کل کی نوجوان نسل یہ ہی کچھ کر رہی ہے۔ تباہی اور بربادی یہیں سے شروع ہوتی ہے۔‘‘
    ’’مما! اگر ہم کسی ایک کو بھی راہِ راست پر لے آئیں تو یہ بھی نیکی ہو گی نا؟‘‘
    ’’بالکل بیٹا! نیکی ہو گی، لیکن تم کن چکروں میں پڑ رہی ہو؟ اپنی پڑھائی پر توجہ دو۔‘‘
    ’’مما آپ بالکل بے فکر رہیں۔ میری پہلی ترجیح پڑھائی ہی ہے، لیکن میں کچھ سوچ رہی ہوں، اگر آپ میرا ساتھ دیں تو آپ کو بتاؤں۔ مجھے آپ کی اجازت کی ضرورت ہے۔‘‘
    مسز احسن نے سوالیہ نگاہوں سے علینہ کو دیکھا۔
    ’’ہر انسان کی زندگی کا ایک خاص مقصد ہونا چاہیے اور میں نے آج سے بلکہ ابھی سے سوچ لیا ہے کہ عظام جیسے اگر دو چار نوجوانوں کو بھی راہِ راست پر لے آئی تو مجھے لگے گا میرا دنیا میں آنے کا مقصد پورا ہو گیا۔‘‘ مسز احسن نے تعجب سے علینہ کو دیکھا اور کہا:
    ’’میں کچھ سمجھی نہیں؟‘‘
    ’’دیکھیں مما! میں جب سے یونیورسٹی گئی ہوں تب سے شدید الجھن کا شکار ہوں کہ نوجوان لڑکے لڑکیاں یونیورسٹی کو صرف سیرو تفریح کی جگہ سمجھ کر انجوائے کرتے ہیں اور سارا دن ہنسی مذاق یا موبائلز پر مصروف رہتے ہیں۔ سنجیدگی سے پڑھنے اور آگے بڑھنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے۔ آپ اجازت دیں تو میں ایک کمرے کوایک انسٹی ٹیوٹ کی شکل دے کر عظام جیسے تازہ تازہ اسکول سے فارغ ہونے والے لڑکوں کو مثبت راہ پر چلنے کا درس دوں؟ جدید ٹیکنالوجی کے فوائد جیسے پاپا نے مجھے سمجھائے ہیں، میں ان کو سمجھاؤں۔ان میں آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کروں جس سے ہمارا ملک ترقی کرے۔ جب نوجوان نسل وقت کا صحیح استعمال سمجھ لے گی، تو یقینا ملک کی ترقی میں بھی نمایاں تبدیلیاں نظر آئیں گی۔‘‘
    یہ سُن کر مسز احسن ہنس پڑیں۔
    ’’بیٹا! یہ آپ کے بس کی بات نہیں۔ ان کے ماں باپ انہیں نہیں روک سکتے تو آپ نے کیا کر لینا ہے؟‘‘
    ’’مما پلیز! یہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔ میں پاپا سے بھی مدد لوں گی اور مجھے یقین ہے پاپا مجھے کبھی منع نہیں کریں گے۔‘‘ علینہ نے منت بھرے انداز میں کہا:
    مسز احسن نے پیار سے بیٹی کے جوش اور خوشی سے تمتماتے چہرے کو دیکھا اور بے ساختہ اس کا ماتھا چوم کر بولیں۔
    ’’جیسے میری بیٹی کی خوشی ، اللہ تمہیں کام یاب کرے۔‘‘
    ٭…٭…٭
    یہ ہفتے کا دن تھا۔ عظام اپنے دوست صارم کے ساتھ علینہ کے گھر آیا۔ علینہ بہت خوش تھی۔ وہ دونوں کو اپنے ساتھ اس کمرے میں لے گئی جسے اس کے پاپا نے دو دن کے اندر اندر اس کی خواہش کے مطابق کمپیوٹر سسٹم ، میز اور کرسیوں سے ایک نئی شکل دی تھی۔ عظام نے حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا:
    ’’آپی! آپ بچوں کو پڑھاتی ہیں؟‘‘علینہ ہنستی ہوئی بولی:
    ’’پڑھاتی نہیں ہوں ، لیکن اب پڑھاؤں گی، اپنے پیارے سے بھائی عظام اور اس کے دوستوں کو۔‘‘
    ’’آپی میں کچھ سمجھا نہیں۔‘‘ عظام حیرانی سے بولا۔
    ’’تم لوگ بیٹھو! سب سمجھ میں آ جائے گا۔ اس کے بعد اس نے صارم سے اس کے بارے میں پوچھا۔ وہ کم و بیش عظام جیسا ہی تھا اور میٹرک کے رزلٹ کا انتظار کررہا تھا۔یہ فارغ وقت وہ صرف بائیک پر ریس لگاتے یا موبائل استعمال کرتے گزار رہا تھا۔




  • ورثہ — ارم سرفراز

    مریم نے آفس کی کھڑکی سے باہر جھانکا ۔ صبح کی تیز بارش، اب ہلکی سی پھوار کی شکل دھار چکی تھی۔ امریکا کے شہر سیاٹل میں سارا سال بارش کا نہ ہونا عجیب بات ہوتی تھی ، اس کا ہونا نہیں ۔ مریم کا گھر آفس سے تھوڑی ہی دور تھا اور وہ اکثر پیدل ہی آ جاتی تھی ۔ اس نے پرس اٹھایا، چھتری کھولی اور باہر نکل آئی ۔ بہار کی آمد تھی اور درختوں کی ویران شاخیں، نئے پتوں سے بھرنے لگی تھیں ۔ مستقل بارش نے پتوں اور پھولوں کی رنگینی کو مزید تازہ کر دیا تھا اور ہوا میں مٹی کی سوندھی خوشبو رچی ہوئی تھی۔
    مریم کے گھر کا راستہ چھوٹے سے شاپنگ ایریا سے گزرتا تھا جس میں موجود دکان دار اب اسے پہچانتے تھے اور اکثر سامنا ہونے پر خوش دلی سے ’’ہیلو‘‘ بھی کرتے تھے۔ اپنے اونچے قد، چمکیلے گہرے بھورے بال اور کالی آنکھوں کے ساتھ وہ چالیس سال کی عمر میں بھی خاصی دلکش تھی ۔ امریکا میں ہی پلنے بڑھنے کی بہ دولت اس کے طور طریقے بھی وہاں کے گورے باشندوں کی طرح ہی تھے ۔ان لوگوں کو بھی اس میں الگ صرف اس کا نام اور اس کی مشرقی نین نقش نظر آتے تھے یا پھر اس کا مسلمان ہونا جس کا ذکر ایک انتہائی نازک موضوع ہونے کی بنا پر وہ اپنی گفت گو میں شاذ و نادر ہی لاتے تھے۔ مذہب کے معاملے میں مریم نے امریکیوں کو دو طرح کا پایا تھا ۔ یا تو انتہائی منہ پھٹ اور بد لحاظ یا پھر انتہائی تمیزدار اور ، شعوری یا لاشعوری طور پر دامن بچاتے ہوئے ۔ اس کا پالا دونوں سے ہی پڑتا تھا اور دونوں میں دوسری قسم ہی ہر لحاظ سے غنیمت تھی ۔
    مریم کا شوہر علی بھی وہیں کا پیدائشی مسلمان تھا۔ ان کی شادی کو سولہ سال ہو چکے تھے۔ ایک ہی کلچر میں پلنے بڑھنے کی بدولت ان میں کافی ذہنی مطابقت تھی۔ بحث اور چھوٹی موٹی لڑائیاں اتنی ہی تھیں جتنی کسی بھی شادی شدہ گھر میں ہوتی تھیں ۔ لیکن ہر بحث اور لڑائی خوش اسلوبی سے نمٹ جاتی تھی ۔ شاید اس کی وجہ مریم کا اس بات پر یقین تھا کہ شادی کی کام یابی کا انحصار کم توقعات اور زیادہ ہم آہنگی کے اصول پر ہوتا ہے۔ وہ فطرتاً ہی صلح جو تھی اور یہ وہ خاصیت تھی جو وہاں پلی بڑھی پاکستانی عورتوں میں نہ ہونے کے برابر تھی ۔ ان کے دو بچے رائنا اور عمر ان کی فیملی کو مکمل کرتے تھے۔
    ادھر ادھر کی سوچوں میں بھٹکتا ہوا اس کا ذہن اپنے اور علی کے درمیان ہونے والی حالیہ بحث پر جا کر اٹک گیا جس کا حل اس کی صلح جوئی بھی نہیں نکال پا رہی تھی ۔ مسئلہ علی کا اس کی اس adoption agency میں نوکری کا تھا جس میں وہ پچھلے چار سال سے کام کر رہی تھی ۔ اول تو وہ یہ پارٹ ٹائم نوکری اور وہ بھی ہفتے میں تین دن پیسے کے لیے نہیں بلکہ وقت کے ایک مثبت مصرف کی خاطر کر رہی تھی ۔ اس کے باوجود بھی علی کی ناپسندیدگی اسے کچھ بھا نہیں رہی تھی ۔ علی کو اس کے نوکری کرنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا، صرف اس جگہ پر تھا جہاں وہ نوکری کر رہی تھی ۔ مریم بار بار اس نوکری کی سہولتیں گنواتی کہ وہ گھر سے قریب ہے، پارٹ ٹائم ہے اور اسے ایک حقیقی خدمت ِخلق کا موقع دیتی ہے۔ گو کہ علی کی اس خاص نوکری سے ناگواری کے پس ِپہلو سے وہ آگاہ تھی لیکن اس کے نزدیک اس وجہ سے علی کی اس نوکری کے لیے حمایت میں اضافہ ہونا چاہیے تھا نہ کہ ناگواری میں ۔
    اس کے گھر پہنچنے تک ہلکی سی پھوار بھی مکمل طور پر رک چکی تھی ۔ لال اینٹوں ، چوڑی فرنچ کھڑکیوں، اور وسیع فرنٹ لان والا اس کا گھر سٹریٹ پر دوسرے گھروں سے ملتا جلتا تھا ۔ اینٹوں کی سرخی پر چڑھتی ہری بیلوں اور جگہ جگہ موجود سفید اور پیلے پھولوں نے گھر کی خوب صورتی میں مزید اضافہ کر دیا تھا ۔ ڈرائیو وے میں علی کی گاڑی کھڑی تھی۔ ایک انجینئرنگ فرم میں پارٹنر ہونے کی وجہ سے اسے اکثر جلدی گھر آ جانے اور گھر سے کام کرنے کی آسائش تھی ۔
    مریم کچن کی دروازے سے اندر آئی تو وہ کچن کے اندر کھڑا فون پر کسی دوست سے بات کر رہا تھا ۔
    ’’ہاں ہاں! صنم کو بھی ضرور ساتھ لانا ۔ویسے بھی بیویوں کے بغیر کہیں جاؤ تو انہیں شک کی شدید تکلیف ہو جاتی ہے۔” علی نے مریم کو اندر آتے دیکھ لیا تھا اور اپنے دوست کو یہ آخری ہدایت غالباً اسے ہی چھیڑنے کے لیے دی گئی تھی۔ علی کے جوابی قہقہہ سے صاف ظاہر تھا کہ دوسری طرف سے اس بات کا جواب بھی کچھ اُلٹا ہی آیا تھا۔
    ’’ہاں! مریم بھی ابھی ابھی آئی ہے ۔ ٹھیک ہے، پھر ایک گھنٹے میں ملتے ہیں۔‘‘علی نے فون بند کیا اور اس کی طرف مڑا ۔ لیکن اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی مریم نے ہاتھ اٹھا کر اسے روکا ۔




    ’’ٹھہرو! مجھے بوجھنے دو یہ کون ہے۔‘‘ اس نے سوچنے کی ایکٹنگ کی۔
    ’’رضوان تھا اور ایک گھنٹے میں صنم کے ساتھ آ رہا ہے؟‘‘علی زور سے ہنس پڑا ۔
    ’’یہ تو تم سب سن ہی چکی تھی۔تمہارا کیا کمال ہو؟اتم لوگ تو ویسے ہی ہم لوگوں کے ہر فون پر کان لگا کر بیٹھی ہوتی ہو۔‘‘ اس نے اسے چھیڑا ۔
    ’’جیسے تم لوگ نہیں بیٹھے ہوتے۔‘‘مریم نے بھی فٹ سے جملہ داغا۔
    ’’ہاں بھئی ! میں ہر وقت بھول جاتا ہوں کہ کچھ عورتیں خوب صورت ہونے کے ساتھ ساتھ عقل مند بھی ہوتی ہیں۔ ان سے آپ کوئی بحث نہیں جیت سکتے ۔‘‘مریم اس کی چاپلوسی پر مسکرا دی ۔
    ’’کم خوب صورت تو آپ بھی نہیں لیکن چھوڑو یہ سب باتیں ۔ یہ بتاؤ کہ یہ لوگ اچانک کیوں آرہے ہیں؟‘‘ وہ اور علی باتیں کرتے کرتے اپنے کشادہ فیملی روم میں آ چکے تھے۔
    ’’رضوان نے جو نئی جاب کی آفر قبول کی ہے، اسی کے بارے میں کچھ ڈسکس کرنا چاہ رہا ہے وہ۔‘‘ علی نے اپنی پسندیدہ آرام کرسی پر جگہ سنبھال لی تھی اور اب ٹی وی ریموٹ کے لیے نظریں دوڑا رہا تھا ۔
    ’’تم تھکی ہوئی تو نہیں ہو؟‘‘
    ’’نہیں تھکی! ہوئی تو نہیں ہوں۔‘‘ وہ بھی اسی کے پاس پڑے صوفے پر بیٹھ گئی ۔ پھر اچانک اسے کچھ خیال آیا۔‘‘
    ’’تم نے آج امی جی کو کال کی تھی؟‘‘ اس نے اپنی ماں کے بارے میں پوچھا۔
    ’’میں نے تو کال نہیں کی۔میرے خیال سے امی جی اور ابو دونوں اس وقت اتنا مزا کر رہے ہوں گے اور وہ تو میرا فون بھی نہیں اٹھائیں گے۔‘‘ وہ اپنی ہی بات پر ہنسا ، مریم بھی مُسکرا دی۔
    ان دنوں ان کے دونوں بچے، بارہ سالہ عمر اور چودہ سالہ رائنا اپنی سپرنگ بریک کی ایک ہفتے کی چھٹیاں گزارنے کے لیے اپنے نانا نانی، شازیہ اور نذیر عبید کے پاس لاس اینجلس گئے ہوئے تھے۔ یہ ان دونوں کی چھٹیوں کا معمول تھا اور دونوں پارٹیاں نہ صرف ان ملاقاتوں کی شدت سے منتظر رہتیں۔ بلکہ ان کو بھرپور طریقے سے انجوائے کرنے کے نت نئے طریقے بھی سوچ کر رکھتی تھیں۔ دو دن پہلے ہونے والی گفت گو میں بھی مریم کو اپنے اندازوں کے مطابق ہی معلومات ملی تھیں ۔ نانا اور نواسہ گھر کے پاس والی جھیل میں جی بھر کر مچھلیوں کا شکار کر رہے تھے جب کہ رائنا اپنی نانی کے ساتھ مال میں شاپنگ اور نئی موویز دیکھنے میں مشغول تھی ۔
    ’’ان لوگوں کے لیے کوئی خاص چیز بنانی ہے کیا؟‘‘ مریم کا اشارہ رضوان اور صنم کی طرف تھا ۔
    ’’نہیں! وہ لوگ کھانے پر کہیں انوائٹڈ ہیں اس لیے کھانا نہیں کھائیں گے ۔‘‘
    ’’ٹھیک ہے! میں چائے اور سموسے بنا دوں گی۔‘‘ علی نے صرف سر ہلانے پر اکتفا کیا ۔ اس نے اپنا من پسند سپورٹس چینل لگا لیا تھا ۔
    ’’تمہاری آفس کی پارٹی کیسی رہی؟‘‘ علی کو اچانک خیال آیا ۔ البتہ آنکھیں اس کی ابھی بھی ٹی وی پر ہی لگی ہوئی تھیں۔
    مریم کے آفس میں اس کی ایک کولیگ جاب چھوڑ جا رہی تھی اور اس کے لیے آفس والوں نے فیئرویل پارٹی کا انتظام کیا تھا۔
    ’’اچھی تھی پارٹی! الیسن کو اچھی فل ٹائم جاب مل گئی ہے ۔ خوش ہے وہ۔‘‘ لیکن مریم کا عام سا تبصرہ اس کے اپنے ہی گلے پڑ گیا۔ علی کو اچانک ان دونوں کی آپس کی وہ بحث یاد آ گئی جس کے حل کا کوئی سرا ابھی تک ان کے ہاتھ نہیں لگا تھا۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی تھی کہ مریم اس بار اپنے مؤقف پر خاموشی سے ہی سہی، لیکن ڈٹی ہوئی تھی۔
    ’’تمہیں بھی اتنی ہی اچھی فل ٹائم جاب مل سکتی ہے،۔‘‘ علی نے اسے پھر سے یاد دلایا۔
    ’’بلکہ جاب آفر بھی آئی پڑی ہے لیکن تم ہو کہ ضد کیے جا رہی ہو۔‘‘ علی کے لہجے میں ہلکی سی ناگواری جھلک رہی تھی۔
    ’’اپنی سائیکولوجی کی اتنی اچھی ڈگری کو ضائع کر رہی ہوتم۔‘‘
    علی کی دوست کی بیوی قریبی اسکول ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن میں اچھی پوزیشن پر تھی اور اسے وہیں پر اسکول سائیکولوجسٹ کے طور پر پچھلے ایک ماہ سے مستقل بلا رہی تھی ۔ مریم کو اکثر شک ہوتا تھا کہ جاب کی یہ آفر بھی کہیں علی کے دباؤ کی وجہ سے ہی نہ ہو ۔مریم کا اس وقت بحث کا موڈ تو نہیں تھا لیکن علی کو جواب دینا بھی ضروری تھا ۔
    ’’علی میری جاب سے متعلق تمہارے احساسات کا مجھے اندازہ ہے لیکن مجھے وہاں کام کرنا اچھا لگتا ہے۔‘‘ اس نے سبھا سے بات شروع کی۔
    ’’تمہیں اچھی طرح پتا ہے کہ میں یہ جاب پیسوں کے لیے نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کے تحت کرتی ہوں۔‘‘
    ’’اسکول سائیالوجسٹ کی جاب بھی ایک انسانی ہم دردی ہو گی۔‘‘ علی نے اس کی بات کو زیادہ اہمیت نہیں دی ۔
    ’’لیکن یہ پارٹ ٹائم ہے اور گھر سے نزدیک بھی۔‘‘
    ’’اسکول بھی یہاں سے صرف تین میل دور ہے۔‘‘ اس نے اس کے اس نقطے کو بھی چیلنج کیا۔ مریم نے اس بار بات ختم کرنے کی کوشش کی۔
    ’’کیا ہم اس ٹاپک پر پھر کبھی بات کر سکتے ہیں؟ ابھی ہمارے پاس مہمان بھی آنے والے ہیں۔‘‘
    ’’میں اس ٹاپک پر بار بار بات کرنا ہی نہیں چاہتا مریم۔ میں تو اسے ختم کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ اب علی کی آواز میں ایک برہمی نمایاں تھی ۔ ٹی وی کا والیوم بھی اس نے بند کر دیا تھا۔
    ’’لیکن تم ہو کہ بات کو ختم ہونے ہی نہیں دے رہیں۔‘‘
    علی کے اچانک بجنے والے فون نے مریم کو جواب دینے سے بچا لیا تھا ۔ ویسے بھی مریم کے پاس اسے دینے کوئی جواب تھا ہی نہیں۔ مریم نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا ۔
    ’’وعلیکم السلام امی جی، کیسی ہیں آپ؟‘‘ علی نے خوش دلی سے اپنی ساس کو سلام کیا تھا ۔ یہ علی کی قابلِ تعریف صفت تھی کہ وہ ایک آدمی کا غصہ کسی دوسرے پر نہیں نکالتا تھا۔ اس وقت بھی اس کے لہجے میں چند ہی لمحوں پہلے مریم سے ہونے والی گفت گو کے تناؤ کی کوئی کیفیت نہیں تھی۔
    ’’بچے آپ کو بہت زیادہ تنگ تو نہیں کر رہے ؟ اور عمر اپنی کتابوں کی ریڈنگ کر رہا ہے؟‘‘ وہ اب انہیں بچوں کے متعلق ہدایت دے رہا تھا۔
    ’’رائنا کو انٹرنیٹ پر زیادہ ٹائم مت بیٹھے رہنے دیا کریں۔‘‘
    ’’جی جی!ہم بھی خیریت سے ہیں۔ بچے آئیں تو ان کی بھی ہم سے بات کروا دیں۔‘‘ بچے غالباً گھر پر نہیں تھے۔ کچھ منٹ اور بات کرنے کے بعد علی نے فون اسے تھما دیا ۔ مریم فون لے کر کچن میں آ گئی ۔ باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ وہ مہمانوں کے لیے سنیکس کی تیاری بھی کر رہی تھی ۔
    "مریم تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ؟” شازیہ عبید نے اچانک ہی پوچھا۔ ان کی آواز میں تشویش تھی۔
    ’’علی بھی کچھ ٹینس لگ رہا تھا۔‘‘ مریم نے گہرا سانس لیا۔ مائیں اولاد کے مزاج کی سفاکی کی حد تک رسائی رکھتی ہیں اور شازیہ سے تو باتیں چھپانا نا ممکن تھا ۔ علی کے لہجے کی خوش گواریت کے باوجود انہیں کچھ غلط لگ رہا تھا۔
    ’’نہیں امی جی! ہم دونوں ٹھیک ہیں۔‘‘ مریم نے انہیں اطمینان دلانے کی کوشش کی۔ ایک بحث سے جان بچا کر وہ اب دوسری میں نہیں پڑنا چاہتی تھی۔
    ’’جاب سے آیا ہے تو اسی لیے تھکا ہوا ہے ۔ شاید اسی لیے آپ کو لگ رہا ہوگا۔‘‘
    ’’تم دونوں کی پھر کوئی لڑائی تو نہیں ہوئی؟ اب کس بات پر ہوئی ہے؟‘‘ شازیہ نے جیسے اس کی کوئی بات سنی ہی نہیں اور فوراً ہی وجہ کی جڑ تک پہنچنے کی مہم شروع کر دی ۔ مریم نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرا دی۔ اس کی اپنی ماں کیچھٹی حس اور اندازوں پر فولادی اعتماد تھا ۔ ان سے مزید چوہے بلی کا کھیل کھیلنا فضول ہی ہوتا ۔
    ’’وہی جاب والی بات اور کیا۔‘ ‘مریم نے بتایا۔
    ’’کہہ رہا ہے ریزائن کر دو ۔ اپنی ہی ضد پر اڑا ہوا ہے۔‘‘ مریم کی آواز میں بے زارگی تھی ۔ شازیہ نے گہرا سانس لیا ۔
    ’’تم بھی تو اپنی ضد پر اڑی ہوئی ہو۔‘‘ انہوں نے کسی بھی لگی لپٹی رکھے بغیر اسے گھرکا۔
    ’’اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘
    ’’امی جی میں لمبی بات نہیں کر سکتی ۔ علی کا دوست آنے والا ہے۔‘‘ مریم نے انہیں فی الحال ٹالا۔
    ’’مریم تم یہ جاب چھوڑ دو ۔‘‘ شازیہ نے اسے سمجھایا۔
    ’’صرف ایک نوکری ہی تو ہے ۔ اس کے پیچھے اپنے گھر کا سکون کیوں برباد کرتی ہو؟‘‘ ہر عقل مند ماں کی طرح انہوں نے بھی اسے عقل دینے کی کوشش کی ۔
    ’’میں آپ سے پھر بات کروں گی امی جی۔‘‘ مریم نے بات ٹالنے کی غرض سے کہا۔
    ’’مریم اب بہت دیر ہو چکی ہے۔‘‘ شازیہ نے اچانک کہا، مریم ایک لمحے کو منجمد ہو گئی۔ خدا حافظ کہتے کہتے شازیہ انتہائی خار دار رستے پر جا نکلی تھیں۔
    ’’تم اب اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتیں۔‘‘ مریم جواب دینے کے قابل نہیں رہی تھی ۔ اس کے جاب نہ چھوڑنے کا سرا انھوں نے پہلی بار اس سالوں پرانی بات سے جوڑا تھا جسے بھولنے کی لاکھ کوشش اسے مزید اس کی یاد دلائے جاتی تھی ۔ شاید انہیں ہمیشہ سے ہی علم تھا لیکن لاعلمی کا ڈھونگ رچا کر وہ صرف اس کا بھرم رکھ رہی تھیں ۔ لیکن جو بھی تھا ، اس بات کی تردید بہرحال بے معنی تھی ۔
    ’’مجھے معلوم ہے امی جی۔‘‘ اس نے آہستہ سے جواب دیا۔
    ’’لیکن ان لاوارث بچوں کو اچھے گھروں اور خاندانوں میں بھیجتے ہوئے میرے دل کو ایک عجیب سا اطمینان ہوتا ہے۔‘‘
    ’’وہ بھی ایک اچھے ، مضبوط گھر اور ذمہ دار لوگوں کے ہاتھوں میں گئی ہے۔‘‘ مریم گویا گونگی ہی ہو گئی ۔ شازیہ کو بات کی نبض پکڑنا خوب آتا تھا لیکن یہ ان کی آواز کا وثوق تھا جس نے اسے ششدر کر دیا تھا ۔
    ’’آپ کو کیسے معلوم؟‘‘ مریم کی آواز محض ایک سرگوشی تھی ۔
    ’’مجھے معلوم ہے۔‘‘ مریم سمجھ نہیں پائی کہ وہ ان کا یقین تھا کہ محض ان کا وجدان جو ان کے لہجے کو اس قدر اعتماد بخش رہا تھا ۔ ان کی بات ابھی جاری تھی۔
    ’’اپنی اس نوکری کو ایک مرہم کے طور پر استعمال کرنا چھوڑ دو کیوں کہ تمہاری یہ بے کار سی تدبیر علی کے لیے تکلیف بن رہی ہے۔” مریم نے خاموشی سے فون بند کر دیا ۔اس کی زبان مزید اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی ۔
    وہ کچن کی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی ۔ لان کی تازہ ہریالی پر شام کے سائے اتر رہے تھے لیکن اس وقت رات کا گہرا ہوتا اندھیرا اسے سکون دے رہا تھا ۔ اسے اس وقت یہ اندازہ نہیں تھا کہ ماں کی یہ دو ٹوک گفت گو اس کے گھٹنے ٹیکنے کا سبب بن جائے گی ۔
    ٭…٭…٭
    امریکا کے شہر نیو آرلینز سے وہ ایک بے حد ضروری فون کال کا منتظر تھا ۔ یہ کچھ دنوں کا نہیں بلکہ کئی مہینوں کا بے چین انتظار تھا جو اب اختتام پر تھا ۔ ہر گزرتا لمحہ اس کے دل میں موجود بے نام اندیشوں اور اضطراب میں اضافہ کر رہا تھا ۔ اس کا ذہن مستقل اپنے فیصلے کے ممکنہ نفع اور نقصانات کو ہر زاویے سے جانچنے میں مصروف تھا لیکن اپنے دل کی گہرایوں میں اسے اچھی طرح اندازہ تھا کہ کسی بھی تجزیے اور سوچ و بچار کا کوئی جواز ہی نہیں تھا۔ فیصلے کے صحیح یا غلط ہونے کا سوال تو وہاں ہوتا ہے جہاں ایک چیز کے علاوہ کسی دوسری چیز کے انتخاب کا اختیار بھی پاس ہو ۔ یہاں تو مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق کچھ بھی اور کرنے کا اختیار تھا ہی نہیں ۔
    متوقع فون کال اگلی صبح بلاخر آ ہی گئی ۔ اس کال کے فوراً بعد اس نے امریکی ریاست کولاراڈو کے شہر ڈینور میں مقیم اپنے دوست کو فون کیا ۔ دونوں نے نیو آرلینز کی فلائٹس بک کروا لیں ۔ ان دونوں نے اسی دن چار بجے کے قریب آگے پیچھے ہی نیو آرلینز انٹرنشنل ائیرپورٹ پر پہنچنا تھا ۔انہیں امید تھی کہ اس ٹائم تک بچہ اس ایڈاپشن ایجنسی تک پہنچ چکا ہوتا جہاں انھیں جانا تھا ۔ صبح صبح اپنے پاس آنے والے فون پر وہ یہ پوچھنا ہی بھول گیا تھا کہ بچہ لڑکی تھی یا لڑکا لیکن اس بات سے اسے کوئی فرق پڑتا بھی نہیں ا تھا۔
    دونوں دوست دوپہر ڈھلنے پر مقررہ وقت پر نیو آرلینز ائیرپورٹ، پھر ائیرپورٹ سے گاڑی رینٹ کر کے پانچ میل دور اس ایڈاپشن ایجنسی پہنچے جو اس ہسپتال سے منسلک تھی جہاں بچے کی پیدائش کچھ گھنٹے پہلے ہی ہوئی تھی ۔ ائیرپورٹ پر لینڈ کرتے ہے اسے ٹیکسٹ آ گیا تھا کہ وہ ایک بچی ہے ۔ اس کا دل ایک لمحے کو لرزا اور ساتھ ہی اس کے حوصلے کو بے پناہ تقویت پہنچی کہ اس نے بلا شبہ ایک بہترین فیصلہ کیا تھا ۔ اس کا دوست ایسے کسی اندیشوں کا شکار نہیں تھا ۔ وہ صرف خوش تھا ، بے حد مسرور ۔
    ’’تم مجھ پر مکمل بھروسہ کر سکتے ہو۔‘‘ اس نے اسے پچھلی کئی بار دی جانے والے تسلی ایک بار پھر دہرائی ۔
    ’’میں اس بچی کی پرورش بالکل اپنی سگی اولاد کی طرح کروں گا۔‘‘ اس کے دوست کو بچے کا لڑکا یا لڑکی ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا ۔ جواب میں اس نے کچھ نہیں کہا، صرف خاموشی سے گاڑی چلاتا رہا ۔
    ’’لیکن ایک بات مجھے بتاؤ۔‘‘ اس کے دوست کے ذہن میں اچانک خیال آیا۔
    ’’وہاں اور بھی نوزائیدہ بچے ہوں گے ۔ تم اسی بچی کو کیسے پہچان پاؤ گے؟ میرا مطلب ہے کم از کم مجھے تو تمام نوزائدہ بچے ایک ہی جیسے دکھتے ہیں۔‘‘
    وہ اپنے دوست کی سادہ لوحی پر محض مُسکرا کر رہ گیا ۔ اب وہ اسے کیا بتاتا کہ کوئی اپنے خون کو بھلا کس طرح نہ پہنچانتا؟
    ایڈاپشن ایجنسی والوں کے پاس اس وقت پانچ نوزائیدہ بچے، نامعلوم اور بے نام طریقے سے گود لیے جانے کے لیے موجود تھے۔نرسری کے شفاف شیشے کی دیوار سے اندر دیکھتے ہوئے اس نے فقط ایک نظر میں ہی اسے پہچان لیا تھا۔ اس نے سنا تو تھا لیکن اب اسے یقین ہو گیا کہ خون واقعی خون کو کھینچتا ہے ۔ یہ تو محبت کی لازوال اور انمول ترین مثال ہوتی ہے ۔
    اس کی نشان دہی پر اندر موجود نرس نے بچی کو نرم سفید دلائی میں لپیٹا اور باہر لا کر اس کے ہاتھوں میں تھما دیا ۔ اس کے دل کو ایک جھٹکا سا لگا اور آنکھوں کے سامنے نمی کی دھند آ گئی ۔ سو بچوں میں بھی وہ اپنے خون کو پہچان لیتا، یہ تو صرف پانچ تھے ۔ اس نے ہلکے سے بچی کے پھولے ہوئے گلابی گال کو چھوا ۔ بچی نے اپنی خوب صورت ، گہری بھوری آنکھیں کھول دیں اور انتہائی خاموشی اور سنجیدگی سے اپنے اوپر جھکے دونوں لوگوں کے چہرے کو دیکھنے لگی ۔ ایک چہرے پر دکھ کی گہری پرچھائی تھی اور ایک پر خوشی کی۔
    بچی کو گود میں لیے اس کو پھر اپنے فیصلے کے درست ہونے کا یقین ہوا ۔ اگر وہ اس وقت یہ قدم نہیں اٹھاتا تو وہ بلا شبہ اپنی باقی زندگی ایک ایسی سولی پر ٹنگے ہوئے کاٹتا، جہاں ملال کا خنجر اسے جیتے جی دن میں کئی دفعہ مارتا اور بے غیرتی کا شدید احساس اس کی سانسیں روکے رکھتا۔ اب وہ بے شک اس کے اپنے گھر میں نہیں جا رہی تھی لیکن کم از کم اسے اتنی تسلی تو تھی کہ وہ قابل اعتبار ، ذمہ دار اور مشفق ہاتھوں میں تھی ۔ اس کا دوست بچی کے لیے ضرورت کی سب چیزیں لے کر آیا تھا ۔ نئے کپڑوں اور موزوں سے لے کر کار سیٹ تک ۔ ساری کاغذی کارروائیاں مکمل ہونے میں دو گھنٹے لگ گئے ۔ چوں کہ اس نے پورا process پہلے سے شروع کر رکھا تھا اسی لیے ساری معلومات خفیہ تھیں جس کے مطابق بچی کے اصل لواحقین اور گود لینے والے ایک دوسرے کے لیے نامعلوم رہتے۔
    وہ اسی طرح کا کام چاہتا تھا ۔ نامعلوم افراد کی بچی گود لینے کا مقصد ہی یہی تھا ۔ جب تک اس کا دوست ساری کاغذی مکمل کرتا رہا، بچی اس کی گود میں ہی سوئی رہی ۔ اسے لگا جیسے وہ اس کا لمس پہچان گئی تھی ۔ وہ اس کے خوب صورت اور معصوم چہرے سے نظریں نہیں ہٹا پا رہا تھا ۔ وہ بے شک ایک سنگین غلطی کا نتیجہ تھی لیکن وہ بلا شبہ بے قصور بھی تھی ۔ وہ دونوں بچی کے ساتھ وہاں سے نکلے اور سیدھا ائیرپورٹ گیے جہاں سے اس کے دوست نے فورا ہی بچی کے ساتھ واپسی کی فلائٹ لے لی تھی ۔ وہ اس وقت تک وہیں کھڑا رہا جب تک اس کے دوست کا جہاز ٹیک آف نہیں کر گیا ۔ پھر اس نے بکنگ کاؤنٹر پر جا کر اپنی بھی واپسی کی بکنگ کروا لی ۔ اس کے دل اور دماغ میں اس وقت احساسات کی طغیانی سی تھی جن میں سب سے زور آور احساس، ایک عظیم جدوجہد میں سر خروئی کا تھا ۔
    ٭…٭…٭




  • ہم — کوثر ناز

    ہم — کوثر ناز

    محبت کسی تتلی کے مانند اس کے دل سے اڑ گئی تھی یا شایدکسی غبارے سے ہوا کی طرح نکل گئی تھی۔ وہ شخص جو کبھی میرے لیے تپتی دوپہر میں سڑک پر کھڑا میرے کالج سے واپسی کا منتظر ہوا کرتا تھا، جو میرے وصل کی خواہش میں مرا جاتا تھا اس کے لیے میں اس قدر ارزاں ہوگئی ہوں کہ اس سے کسی شے کو طلب کرتے ہوئے یا اپنی ضرورت اسے بتاتے ہوئے بھی مجھے شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ اسے اب میری جدائی محسوس نہیں ہوتی۔ وہ مجھ سے دور رہ کر خود کو پرسکون محسوس کرتا ہے۔
    مجھے اپنے بھائی کے گھر آئے آج پندرہ دن گزر چکے ہیں، لیکن اس نے پلٹ کر ایک بار خبر تک نہیں لی۔ نہ جانے کیوں اس کی محبت پانی کا بلبلا ثابت ہوئی۔ یہاں آتے ہوئے جہاں مجھے یہ امید بھی تھی کہ لاکھ بے زاریاں سہی، لیکن وہ مجھے روک لے گا۔ میری دھمکیوں کا اس پر اثر ہوگا، تو وہیں یہ خوف بھی من میں سر اٹھا رہا تھا کہ کہیں وہ نہ لوٹا تو؟ عمر کے اس حصے میں آکر جدائی میرا نصیب بن گئی تو؟ اور کہیں وہ اسی جدائی میں سکون پانے لگا تو؟ میں اپنی ذات کو لے کر کہاں جاؤں گی؟ بھائی کو کیا کہوں گی کہ محبت کی شادی کا انجام اس عمر میں آکر کیوں ظاہر ہوا جب میری ہستی آدھی بکھر گئی ہے۔ جب عمر کی منازل میرے چہرے کی جھریوں پر لکھی جاچکی ہیں لیکن میں پھر بھی آگئی ۔اس ڈر کو ساتھ لیے کہ کہیں مجھے خود ہی نہ لوٹنا پڑے کیوں کہ اگر ایسا ہوا تو وہ میری ذات اور نسوانی انا کوپیروں تلے روند دے گا جیسے وہ شادی کے دو سال بعد سے میری محبت کو روندتا آیا ہے۔
    ہاں! اس کی محبت، رانجھا کی سی محبت، شادی کے دو سال بعدہی اس سمیت چاہ یوسف میں گر کر گم ہوگئی تھی۔ وہ سب بھول گیا اس کی محبت بھی، میری ذات بھی اور اتنا عاجز آگیا کہ اگر میں کوئی بات شادی سے پہلے کی یاد دلواتی تو وہ کروٹ بدل کر سو جاتا یا سونے دو کہہ کر کر بازو آنکھوں پر رکھ لیتا اور میں، شرمندگی میں تو کبھی پچھتاوا لیے اس کی پیٹھ کو تکے جاتی۔ اگر کوئی مرد محسوس کرنے والا ہو، تو اس کے ڈوب مرنے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ اس کی ہم سفر، اسے اپنے لیے چننے پر پچھتاوا محسوس کرنے لگی ہے۔ لازمی نہیں محسوس صرف تب ہو جب اقرار زبانی ہو جو خاموشی وآنکھوں کی بیانی محسوس کرتے اور سنتے ہیں، انہیں ہی محبوب کہتے ہیں اور میں تو چپ اس لیے بھی تھی کہیں میرے زبان کھولنے پر وہ مجھے میکے کا راستہ نہ دکھا دیں کیوں کہ ان سے کوئی بعید نہیں جو مجھے کسی زمانے میںاپسرا کا خطاب دیا کرتے تھے۔ وہ اب مجھے بدہیئت کہنے پر اتر آئے تھے۔ شادی، وہ رشتہ جہاں جوڑے کے درمیان کئی بار نفرت تو کئی بار محبت ہوتی ہے، لیکن وہ اب مجھے مسلسل بے زاری دکھا رہا تھا۔ میرے ذوق و شوق وہی ہیں، میں شاعری کا ذوق اب بھی رکھتی ہوں کہ اس کے لیے میری محبت کہیں نہ کہیں اب بھی دفن ہے۔میں نے اپنی ذات اس کے لیے گنوا دی، مگروہ سب دفنا چکا ہے۔ اسے اب نہ تو شاعری سے شغف ہے، نہ اسے مجھ سے پہلے سی محبت ہے۔ اتنا ہی نہیں، وہ میری محبت بھری باتوں سے، جنہیں سنتے سنتے وہ کبھی نیند کے آغوش میں چلے جانا چاہتا تھا، اب اسے میری وہی باتیں سننا بالکل ایسا لگتا ہے جیسے کسی پرانے ریڈیو کو سن کر سماعت کو اذیت دینا۔ اس کے لیے میں ایک ایسا علاقہ تھی جسے فتح کرنے اور کچھ عرصہ قیام کے بعد آگے بڑھنا ضروری ہوگیا تھا، مگر میں وہی تھی، دل و جان سے مشرقی لڑکی جو اس کے لیے اب بدہیئت ہوچکی تھی۔ میں جان نثار کرنے والی ہی رہی اور وہ راہ بدل گیا۔ وہ بھول گیا محبت اور یہ بھی کہ محبوبہ گر بیوی بھی بن جائے یا عمر کی کتنی بھی منازل طے کرلے وہ توجہ اور محبت اوّل روز والی ہی چاہتی ہے کہ اگر اس کی ذات اجڑی ہے، تو تمہیں اور تمہارے گھرانے کو آباد کرنے کو۔




    وہ کہتا ہے مجھے اس کی توجہ پانے کی ایک مہلک بیماری لگ چکی ہے۔ جس کے لیے میں کبھی غصہ کرتی ہوں تو کبھی شادی سے پہلے کی باتیں یاد دلواتی ہوں تو کبھی طنز کرتی ہوں، لیکن وہ دونوں ہاتھ اٹھائے ہر الزام سے بری الذمہ نظر انداز کرتا پایا جاتا کہ وہ میری بیماری پر دستِ شفا مزاجی خدا کی حیثیت سے بھی نہیں رکھ سکتا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں میں اس کا ہاتھ تھام نہ لوں اور وہ اس گستاخی کے نتیجے میں کہیں سزا کا حق دار نہ ٹھہرا دیا جائے۔
    میں نے اس کی نسل بڑھانے کی سعی میں اسے تین ہونہار اولادیں دیں جو اپنے اپنے کیرئیر بنانے میں مصروفِ عمل ہیں، مگر وہ میری قدر بھول گیا۔ اسے اس بات سے چڑ تھی کہ میں اس کی محبوبہ کیوں تھی؟ وہ اس عمر میں مجھ سے رویہ بدلنے کی امید کررہا تھا۔ میں اپنا رویہ کیسے بدل لیتی؟ مجھے تو اوّل روز کے مانند اس سے ویسی ہی محبت تھی، شدید اور خواہش تھی کہ کہیں نہ کہیں وہ مجھے وہی خصوصی توجہ دے جو میرا حق ہے ۔ وہ ہمیشہ مجھے یہ باور کروادیا کرتا کہ ہر شے کا اپنا اپنا ایک وقت ہوتا ہے اور وقت گزر جائے تو وہ تاریخ بن جاتی ہے اور ماضی میں رہنے والوں کا حال ہمیشہ برا ہوتا ہے۔ اسے شاید اس بات سے بھی چڑ تھی کہ میں نے عمر کی منازل کیوںطے کیں، لیکن میرے پاس ایسا کوئی کلیہ نہیں تھا کہ میں اپنی بڑھتی عمر کو روک لیتی۔ اسے یہ بھی احساس نہیں تھا کہ میں نے کبھی اس کی بڑھتی عمر کی جانب اس کی توجہ نہیں دلوائی۔ اس بات کا کبھی احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ بھی اب نوجوان نہیں ہیں، چالیس کے ہندسے کو کب سے عبور کرچکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میری آنکھیں اند ر اور بال آدھے رہ گئے ہیں، لیکن انہیں یہ احساس نہیں ہواکہ مجھے بچوں کی تعلیم وتربیت اور گھر کو جوڑنے نے ایسا کردیا ہے ۔وہ بچے بھی ہم دونوں ہی کے ہیں، وہ گھر بھی ہمارا ہی ہے۔ وہ شوخ مزاج شاید نظروں کے پہلی بار کے تصادم کا سا لطف ، پہلی بارش میں بھیگنے کی سی سرشاری، ہاتھوں میں ہاتھ تھام کر سرمئی کہر میں پہلی بار اترنے کا سا تجربہ اور شادی کے پہلے چند ماہ کے دوران وصل و سرور سے لبریز دن اور راتیں چاہتا تھا اور تبھی جواباً میں اس کی توجہ پا سکتی تھی، مگر وقت بدلتا ہے تو رشتوں کے درمیان محبتوں کے طریقے ضرور بدل جاتے ہیں، مگر محبتیں ہوا نہیں ہوجاتیں۔
    وہ کہتا تھا کہ ایک مارکیٹنگ اینڈ سیلز منیجر جس کے سر پر ٹارگٹ سوار ہوں، وہ مجھ سے محبت میں نبھا اس عمر تک آتے آتے کیسے کرے، لیکن وہ سمجھتا ہی نہ تھا کہ کبھی کبھی محبتیں جان بوجھ کر بھی بانٹنی پڑتی ہیں کہ اگر جواباً گرم جوشی ملے تو انسان میں محبت کی کاشت پھر سے شروع ہوجاتی ہے۔ رشتوں کی ٹوٹتی سانسیں ایسے بھی بحال کی جاسکتی ہیں، مگر افسوس صد افسوس کہ سب پیچھے رہ گیا۔ سارا محبت کا نشہ ہرن ہوگیا اور ہاتھ میں ذلت و رسوائی کے سوا میں اور کچھ نہیں دیکھ رہی۔ اے خدا تعالیٰ! میری ذات کو بکھرنے سے بچا لے۔ میرا مان میرے اپنوں کے سامنے سلامت رکھناـ۔ بستر پر پڑی چھت کو ایک ٹک گھورتی وہ ماضی سے حال کا سفر طے کرآئی تھی اور اب آنکھوں سے بہتا گرم سیال صاف کرتی وہ خدا کے حضور دعا گوتھی۔ تب ہی بھائی نے آکر دروازے پر دستک دی، تو اس کی محویت ٹوٹی اور اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔ بھائی نے جو خبر دی،اسے سن کر شدید مسرت و حیرانی سے دوچار ہوئی اور واپس مڑکر جلدی سے آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ حلیہ درست کرتے ہوئے اس نے جلدی سے سامنے پڑی سرخی سے لبوںکو ذرا سا سرخ کیا اور دھڑکتے دل کی آواز سنی جو محبت کے گیت گارہا تھا مگر وہ ڈر گئی کہ اسے یہ سب پسند نہیں۔ لیکن دل تو آخر بچہ تھا، خوشی سے شاد تھا۔ وہ آخری نظر آئینے میں نظر آتے اپنے سراپے پر ڈالتے ہوئے ہتھیلی پر آیا پسینا صاف کرتے ہوئے اسی جانب چل دی جہاں سے بھائی آئے تھے۔
    ٭…٭…٭
    ٹھنڈی چلتی تیز ہوائیں اور پرفسوں شام، اس پر ریل گاڑی کے ماحول کی مخصوص مگر مدھم سی خاموشی جو کم مسافر ہونے کے باعث تھی۔ کچھ باہر برستی ہلکی بوندوںکا اثر تھا کہ ہر شخص قدرت کے عنایت کیے گئے اس حسین موسم سے لطف اندوز ہورہا تھا۔ ایسے میںسحر عالم اپنے ہم سفردبیر عالم مارکیٹنگ اینڈ سیلز منیجر ، بلا کے کرخت اور خود سے بے زار انسان کو اپنا ہاتھ تھامے بیٹھے دیکھے تو حیرت توہوتی ہے۔ ایسے میں سحر عالم کو اس کی خاموشی بھلی نہیں لگ رہی تھی۔ آج ایک عرصے بعد اس کی آنکھوں میں وہ دیپ روشن تھے جو شادی کے اوئل دنوں میں ہوا کرتے تھے۔ وہ جب اس کے سامنے گئی تو اس نے صرف اتنا ہی کہا تھا کہ:
    سحر چلو، جلدی سے جاکر اپنا سامان پیک کرو، اگلی ریل سے گھر کے لیے نکلنا ہے ۔‘‘ سحر عالم بے خودی میں ہونقوں کی طرح اسے دیکھے گئی تھی۔ اس کے دوبارہ کہنے پر سحر عالم شاک سے باہر نکلی اور جاکراپنا سامان اٹھا لائی اور اب ریل میں اس کے سامنے نشست پر بیٹھی اسے مسلسل سوچتے دیکھ کر سحر کو کل کی وہ نظم یاد آئی گئی تھی جو اس کی بھتیجی نے اسے سنائی تھی اور اس نے لفظ بہ لفظ باہر برستی بارش کو دیکھتے ہوئے اسے کہہ سنائی۔
    کچھ کہنا چاہتی ہے
    مگر کہہ نہیں سکتی
    کھل کر نہیں برستی
    تمہاری طرح
    بارش کسی الجھن میں ہے
    دبیر عالم نے اسے بہ غور دیکھا اور عقیدت سے بھرپور نگاہ سحر عالم کے چہرے پر ڈالی کہ، سحر عالم وہ عورت تھی جس کے ساتھ میں نے خواب دیکھے تھے جس کے وصل کی چاہ لیے میں کئی مہینوں تک ہر رات اپنے بستر پر کروٹیں بدلتا تھا۔
    میں اس سے بے زار کیسے ہوگیا؟ یہ تو آج بھی مجھے اسی شدت سے چاہتی ہے۔
    ’’تم نے سچ میں میری آنکھیں کھول دیں میرے اجنبی محسن! تم نے مجھے سوچنے کا نیا زاویہ دیا ہے، بہت شکریہ ‘ آسودگی سے مسکراتے ہوئے دبیر عالم نے اس اجنبی کو سوچا جو لاہور جاتے ہوئے اس کا ہم سفر تھا اور اپنی بیوی کم محبوبہ کے لیے شاعری کررہا تھا۔ اس کی یاد سے اس اجنبی کی آنکھوں میں نمی تھی اور حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس کی عمر بھی مجھ سے قطعی کم نہ تھی، مگر محبت تاحال قائم تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ محبت کی اصل جگہ دل ہے، اس کے سوا اس کا کوئی اور ٹھکانہ ہوہی نہیں سکتا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ محبت صنوبر کے کسی بلند پیڑ کے مخروطی پتے پر لرزاں ، برستی ہوئی بارش کا کوئی قطرہ نہیں ہے کہ ایک ہوا کے جھونکے سے بے نام اتھاہ گہرائیوں میں ہمیشہ کے لیے گم ہوجائے، نہ ہی کیلنڈر کا صفحہ ہے جو مہینہ ختم ہوتے ہی پلٹ دیا جائے۔ یہ تو خدا کا پرتو ہے۔ محبت آگے ، اطراف ، نیچے، اوپر اور پیچھے ایک ہی ہیئت رکھتی ہے۔ اسی لیے اسے ہمیشہ اور ہرجگہ رہنا ہے۔ اس نے اپنی کہانی بتائی۔ اس کے لفظوں میں اتنی تاثیر تھی کہ میں خود کو تمہارے معاملے میں بے اختیار سا پانے لگا۔ اس اجنبی کے دل میں اپنی بیوی کے لیے اتنی تعظیم تھی کہ وہ شرمندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرتا چلا گیا۔ میں محبت کو پراڈکٹ اور وہ منافع سمجھتا تھا جو ہمیشہ حاصل کرنا چاہتا تھا اور بدقسمتی سے میں کھوتا جارہا تھا ۔
    محبت پالینے سے پہلے
    کبھی نہاں ، کبھی فغاں ہے
    پالینے کے بعد
    مسلسل امتحان ہے
    ’’پڑھنے کے بعد میں سمجھ گیا بلکہ اس کی محبت کے انداز و اطوار، اس کے پرخلوص لفظوں نے مجھے سمجھا دیا تھا کہ محبت میں جو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھ سکتا، وہ زندگی میں کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ مجھے اندازہ ہوگیا سحر عالم کہ میں ہی غلط تھا۔ پرانی باتیں یاد کرنے سے تو رشتے جوان ہوتے ہیں، انہی کے ذکر سے تو ہم اپنی بے رنگ زندگی میں کچھ رنگ بھرنے کی پھر سے کوشش کرسکتے ہیں کہ ہم کیا تھے۔ سحر عالم میرا تم سے وعدہ ہے۔ اب سے ہر دم تم میری محبت کی گھنی چھاؤں میں رہو گی۔ اسی لیے میں اسٹیشن پر اترا کہ تمہیں ابھی ساتھ لے چلوں کیوں کہ تمہارے ہونے سے میرا گھر مکمل ہوتا ہے۔‘‘ وہ سوچتے سوچتے جانے کب بولنے لگے تھے۔ سحر عالم دم بہ خود سکتے کی سی کیفیت میں انہیں سنے جارہی تھی اورا ب ان کی آنکھوں میں آنسو تھے، تشکر لیے۔ وہ دل ہی دل میں اپنے اجنبی محسن کا شکریہ ادا کرنے لگی اور ساتھ ہی خدا کے حضور گویا ہوئی :
    ’’اے خدا! تیرے احسانات کا بدلہ اگر میں تاحیات سجدے میں رہ کر بھی گزار دوں تو ممکن نہیں۔ تونے مجھے رسوائی سے بچا کر میرے دامن میں خوشیاں بھر دیں۔ شکر ہے میرے مالک، کرم ہے تیرا۔‘ سحر عالم نے مسکرا کر دبیر عالم کو دیکھا جو اب ان کی پلکوں سے آنسو چن رہے تھے۔

    ٭…٭…٭




  • فیصلے — نازیہ خان

    فیصلے — نازیہ خان

    ہر انسان اس زندگی میں اپنے حصے کی خوشیاں اور غم لے کر آتا ہے۔ وہ چاہے کوئی کتنا ہی خوش نصیب کیوں نہ ہو، اُس کے حصے کا دکھ اور درد اُسے ہی سہنا پڑتا ہے۔ بس اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کا ظرف آزمانا ہوتا ہے۔ بے پناہ محبتوں کے ہوتے ہوئے بھی وہ بتاتا ہے کہ اُس کی محبت سچی ہے اور اسی کے فیصلے اٹل ہیں۔
    دنیا والوں کا ظرف نہیں، مگر وہ بڑے سے بڑا گناہ بھی معاف کرنے والا ہے۔ میں نے اس دُنیا کی بے تحاشا محبتوں کے بعد آخر اپنے رب کی محبت پا ہی لی۔
    میں ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئی جہاں کئی سالوں بعد ہزاروں منتوں اور دعاؤں کے بعد بیٹی پیدا ہوئی۔ میرے بابا جان کے تین بھائی اور ایک بہن تھی۔ یہ ایک ایسا گھرانہ تھا جہاں عورتوں پر پردے کا بڑا سخت حکم تھا اور بات بات پر اُن پر پابندیاں لگائی جاتی تھیں۔
    یہ اُس دور کی بات ہے جب میرے دادا جان زندہ اور پورے گاؤں میں ایک وہی پڑھے لکھے شخص تھے۔ اس لیے سب لوگ اُن کی عزت کرتے اور اُن کی ہر بات مانی جاتی تھی۔ اُن کا بہت رعب اور دبدبہ تھا۔ وہ غریبوں کی مدد کرنے والے انسان تھے، مگر عورتوں کے معاملے میں بہت سخت تھے۔ کوئی بھی عورت اپنی حدود سے تجاوز کرتی تو اُس کی شادی کسی لولے لنگڑے سے کروا دی جاتی، اب چاہے وہ عورت گھر کی ہو یا باہر کی۔
    عورتوں کے معاملے میں وہ کچھ زیادہ ہی سخت مزاج تھے۔ انہوں نے اپنے چاروں بیٹوں کو پڑھایا، مگر پھوپھو کو اسکول تک نہیں بھیجا۔
    اُن کی یہ سختیاں شاید اللہ پاک کو پسند نہیں آئیں کہ اُن کی وفات کے بعد بھی اِس خاندان میں کوئی بیٹی ہی پیدا نہیں ہورہی تھی۔ دادی جان بہت چاہتی تھیں کہ اُن کے کسی ایک بیٹے کے گھر بیٹی پیدا ہو۔ میرے بابا جان اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ میرے بڑے تایا جان کے چار بیٹے اور چھوٹے دونوں تاؤں کے تین تین بیٹے تھے، مگر بیٹی کوئی نہ تھی۔ جب پھوپھو کی شادی ہوئی تو دادی جان نے بیٹی کے لیے بہت دعائیں کیں، مگر اُن کے ہاں بھی بیٹا پیدا ہوا۔ پھر میرے بابا جان کی شادی کے بعد سب لوگ بیٹی کے لیے منتیں مانگنے لگے۔ بہت سی منتوں اور دعاؤں سے دو بھائیوں کے بعد خاندان میں پہلی بیٹی پیدا ہوئی اور وہ میں تھی۔
    سب بتاتے ہیں کہ میری پیدائش پر مٹھائیاں بانٹی گئیں اور گاؤں کے قرب وجوار کے سب درباروں میں منتیں اتاری گئیں۔




    میری وجہ سے گھر میں بابا جان اور اماں جان کو بھی زیادہ پیار اور عزت ملنے لگی۔ میں اپنے گھر میں سب سے لاڈلی تھی۔ نہ صرف اپنے گھر والوں میں بلکہ پورے خاندان میں۔ پورے گاؤں میں جہاں جہاں تک لوگ ہمارے گھر والوں کو جانتے تھے، سب مجھے بہت محبت دیتے۔ جو محبت اور پیار میں نے اس دُنیا میں دیکھا، وہ شاید ہی کسی اور لڑکی نے دیکھا ہو۔مجھے کبھی اندازہ ہی نہیں ہوا کہ میں کسی بہت قدامت پرست خاندان میں پیدا ہوئی ہوں جہاں عورتوں کے معاملے میں اتنی سختی ہے۔ میں گھر کی باقی عورتوں کے ساتھ ساتھ گاؤں کی عورتوں کو بھی بابا جان اور تایا جان سے ڈرتے دیکھتی تو بہت حیران ہوتی۔
    میری پھوپھو کے ایک بیٹے کی پیدائش کے بعد اُن کا خاوند انہیں چھوڑ کر بیرون ملک چلا گیا اور پھر نہ پھوپھو کو اُس کی اطلاع ملی اور نہ ہی اُس کے گھر والوں کو۔ اُس کے چلے جانے کے کچھ مہینوں بعد بابا اور تایا جان پھوپھو کو گھر لے آئے۔ اب وہ بھی ہمارے ساتھ ہی رہتی تھیں کیوں کہ پھوپھو نے اپنا وہ دور دیکھا تھا جب اُن پر پابندیاں لگائی جاتی تھیں۔ اس لیے مجھے اتنی آزادی ملنے پر وہ کافی جلتی تھیں۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ مجھے پیار نہیں کرتی تھیں۔ وہ بھی مجھ سے محبت کرتی تھیں مگر اکثر مجھے گھر کے اصول اور طور طریقے سمجھانے بیٹھ جاتیں مگر مجھے کبھی اُن کی کوئی بات سمجھ نہ آتی۔ میں اُن سے دور دور رہتی تھی۔ ہمارے گھرانے میں لڑکیوں کو تعلیم دلوانے پر بھی پابندی تھی مگر مجھے شہر کے سب سے بڑے اسکول میں بھیجا گیا۔ میں ڈرائیور کے ساتھ جاتی اور ڈرائیور کے ساتھ ہی آتی، پھوپھو اس بات پر بھی حیران ہوتیں۔ میری ہر بات مانی جاتی۔ اگر کسی بات سے انکار ہو جاتا، تو میں دادی جان کی طرف دوڑی چلی جاتی اور وہ ہر بات منوانے میں میرا ساتھ دیتیں۔
    میری زندگی گھر کے لڑکوں سے بھی منفرد تھی۔ وہ لوگ بھی مجھ سے جلتے تھے کیوں کہ جو چیز وہ لوگ ضد کرکے منگواتے، وہ چیز اُن سے پہلے میرے لیے خریدی جاتی۔ چوں کہ ہم سب ایک ہی حویلی میں رہتے تھے تو لڑکوں کو بھی اِن سب باتوں کی عادت ہوگئی تھی۔ جیسے جیسے میں بڑی ہوتی گئی، میری آسائشیں اور بھی زیادہ ہوتی گئیں۔ میرا کمرا سب سے خوب صورت، بڑا اور شان دار چیزوں سے مزین تھا۔ بچپن میں میرے بھائی اور کزن چھپ چھپ کر میری گیمز کھیلا کرتے اور میں بڑے غرور اور شوخی سے ان میں اپنی گیمز بانٹا کرتی۔ مجھے بچپن ہی سے ایسا لگنے لگا تھاکہ شاید میں واقعی کچھ الگ ہوں۔ میرے گھر والوں کی بے انتہا محبت پر مجھے بہت مان تھا۔ میں بھی ان سے بہت محبت کرتی تھی، مگر میں آزاد ہواؤں میں اُڑنے لگی تھی۔ میں عمر میں تو بڑی ہورہی تھی مگر سمجھ داری میں نہیں۔ بہت معصوم لیکن مغرور سی لڑکی تھی میں۔
    اتنی زیادہ محبت اور لاڈ پیار ملنے کے باوجود میری زندگی کے ہر فیصلے کا اختیار بابا اور تایا جان کے ہاتھ میں ہی تھا، مگر میں نے اس بات کو کبھی محسوس ہی نہیں کیا۔ یہاں تک کہ مجھے آگے کیا پڑھنا ہے، کس کالج میں جانا ہے، حتیٰ کہ کیا پہننا ہے، یہ فیصلے بھی وہ لوگ خود کرتے۔ اُن کا ہر فیصلہ میری خوشی میں ہوتا تھا، اس لیے مجھے لگتا شاید یہ لوگ وہی کرتے ہیں جو میں چاہتی ہوں۔
    اسکول کے بعد میں ایک بہت اچھے کالج جانا چاہتی تھی اور بابا جان نے میرے نمبرز کم ہونے کے باوجود بھی مجھے اُسی کالج میں بھیجا، مگر میری رائے پوچھے بغیر۔ وہ لاہور کا سب سے اچھا گرلز کالج تھا۔
    ہر ہفتے ہاسٹل گاڑی بھیجی جاتی کہ میں گھر والوں سے ملنے جاؤں کیوں کہ وہ میرے بغیر بہت اُداس ہو جاتے۔ میں جب بھی گھر جاتی تو عید کا سا سماں ہوتا۔ کالج بھیجنے کے لیے بابا اور تایا جان نے میری خاطر بہت بڑا دل کیا تھا۔ جب کالج جانے کے لیے پہلی بار بابا جان کے ساتھ میں شہر آنے والی تھی تو اماں جان نے مجھے آواز دے کر بلایا اور ہاتھ پکڑ کر چپکے سے کچن میں لے گئیں کیوں کہ وہاں کوئی نہیں تھا ۔ کچن میں آکر انہوں نے سرگوشی کے انداز میں مجھے نصیحت کرتے ہوئے کہا:
    ’’سنو ماہا! تم اتنے بڑے کالج جارہی ہو، وہاں دھیان سے رہنا، کچھ غلط نہیں ہونا چاہیے۔ تم نے اپنے بابا اور تایا جان کی محبت دیکھتی ہے بیٹا، مگر ان کی نفرت کبھی نہ دیکھنا۔کچھ ایسا مت کرنا جو تمہارے بابا جان کی عزت میں کمی کا باعث بنے۔‘‘
    اماں جان نے آہستہ سے ڈرتے ہوئے یہ سب بولا۔ میں کچھ دیر حیرانی سے انہیں دیکھتی رہی اور پھر ہنستے ہوئے باہر آگئی۔ دراصل مجھے اُن کی بات سمجھ نہیں آئی کہ وہ کہنا کیا چاہتی ہیں۔ میں بابا جان کے ساتھ ہاسٹل آگئی۔ کالج کے دو سال بہت اچھے گزرے۔ گھر سے دور رہنے کے باوجود میں نے بہت انجوائے کیا۔ نئے نئے دوست بنانا اور اُن کے ساتھ باہر جانا، گھومنا پھرنا۔ غرض یہ کہ زندگی بہت خوب صورت تھی۔ جن لڑکیوں کے ساتھ میری دوستی تھی، وہ بھی اچھے گھروں کی تھیں، مگر وہ پھربھی مجھے دیکھ کر رشک کرتیں۔
    کالج بند ہونے کے چار مہینے بعد میں واپس گھر چلی گئی۔ ہاسٹل رہتے ہوئے مجھے اپنی شاپنگ خود کرنے کی عادت ہوگئی تھی۔ گھر واپس جاکر میں نے اماں جان سے شاپنگ پر جانے کے لیے کہا تو وہ حیران رہ گئیں۔ انہوں نے قدرے غصے سے کہا:
    ’’تمہیں جو بھی منگوانا ہے لکھ دو، میں منگوا دوں گی۔‘‘
    یہ سن کر میں نے غصہ کیا تو دادی جان نے مجھے ڈرائیور کے ساتھ شاپنگ پر بھیج دیا۔ جب میں گھر واپس آئی تو بابا جان غصے سے برآمدے میں ہی ٹہل رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر وہ آگے آئے اور قدرے سخت لہجے میں کہا:
    ’’ہمارے گھر کی لڑکیاں ایسے بازاروں میں نہیں جاتیں۔‘‘ ان کی اس بات پر دادی جان نے میری طرف داری کی اور میں آرام سے اپنے کمرے میں چلی گئی۔
    مجھے کبھی گھر کے اصولوں کا اندازہ ہی نہیں ہوا۔ بابا اور تایا جان اب بھی دادا جان کی طرح بھاگی ہوئی عورتوں کو سزا سنایا کرتے تھے اور ان کی شادیاں لولے لنگڑے مردوں سے کروا دی جاتی تھیں، اس سے بھی مجھے کوئی سروکار نہیں تھا کیوں کہ میں خود کو سب سے الگ سمجھتی تھی۔ میرے اندر ابھی بھی بچپنا اور معصومیت تھی۔
    کچھ مہینوں بعد میری کالج کی ایک دوست کی کال آئی ۔ اس نے بتایا کہ وہ یونیورسٹی میں داخلہ لے رہی ہے۔ میں نے بابا جان سے یونی ورسٹی کی بات کی تو انہوں نے پیار سے ٹال دیا اور پھر تایا جان سے کہا تو انہوں نے صاف انکار کردیا۔ چوں کہ یونی ورسٹی میں لڑکیاں اور لڑکے اکٹھے پڑھتے ہیں اس لیے وہ مجھے یونی ورسٹی نہیں بھیجیں گے۔ ان کا انکار سن کر مجھے حیرانی ضرور ہوئی لیکن میں پریشان نہ ہوئی۔ مجھے پتا تھا بابا جان میری بات ضرور مانیں گے۔ کچھ دن بعد میری اُسی دوست کی کال آئی اور اُس نے داخلے کی آخری تاریخ بتائی۔ اس پر میں غصے سے دادی کے پاس گئی اور بناوٹی ناراضی سے ان سے کہا:
    ’’کوئی میری بات کیوں نہیں سُن رہا؟ میرا ایڈمیشن کروائیں، مجھے آگے پڑھنا ہے۔‘‘ دادی جان نے بابا جان سے بات کی تو انہوں نے کہا:
    ’’اماں! وہ تو بچی ہے، آپ کیوں بچی بن رہی ہیں۔ اب کیا ہم اُسے لڑکوں کے ساتھ پڑھنے کی اجازت دیں گے؟ ایسا بالکل نہیں ہوسکتا۔‘‘




  • کارآمد — عریشہ سہیل

    کارآمد — عریشہ سہیل

    میں بچپن ہی سے چوہوں سے شدید خوف زدہ رہتی تھی۔ کبھی کبھار گھر میں کوئی چوہا گھس آتا، تو میں اسے دیکھتے ہی کسی اونچی جگہ پر چڑھ جاتی اور چیخ چیخ کر سارا گھر سر پر اُٹھا لیتی۔ میری چیخیں سن کر چوہا بھاگ جاتا اور گھر والے مجھے اگلے آدھے گھنٹے تک نیچے اترنے کے لیے قائل کرتے رہتے۔ دراصل یہ ڈر مجھے وراثت میں اپنی اماں سے ملا تھا۔ ویسے تو میرے ددھیال کی بھی تمام خواتین اس ’’بلا‘‘ سے ڈرتی تھیں، مگر چوہے سے خوف کھانے میں میری اماں کا کوئی مقابلہ نہ کر سکا۔ انہیں خوف زدہ دیکھ کر تو اچھے اچھے دل پکڑ لیتے کہ نہ جانے کیا ناگہانی آفت آگئی ہے۔
    ایک بار یوں ہوا کہ امی باورچی خانے میں برتن دھو رہی تھیں۔ پانی کے شور میں انہیں میری چیخیں سنائی نہ دیں اور پھر جیسے ہی انہیں آواز گئی، وہ معاملے کی نزاکت جانے بغیر بلا خوف و خطر چمٹا اٹھائے لائونج میں چلی آئیں۔ میں جو پہلے ہی صوفے پر کھڑی چیخ رہی تھی، امی کو دیکھ کر مزید چیخنے لگی۔ اس سے قبل کہ وہ مجھ پر برستیں، ان کی نظربھاگتے دوڑتے ڈرائونی شکل والے موٹے سے چوہے پر پڑی۔ بس اسے دیکھتے ہی امی ایک ہی چھلانگ میں صوفے پر آدھمکیں۔ان کے ہاتھ سے چمٹا چھوٹ کر ہوا میں لہراتا ہوا اس بدشکل چوہے کے عین سر پر گرا اور خون کا فوارہ پھوٹ پڑا۔ ہمیں حادثاتی طور پر نشانہ ٹھیک لگنے سے بھی خوشی نہ ہوئی بلکہ ہم دونوں کتنی ہی دیر اس کی لاش کو دیکھ کر سہمی اور ایک دوسرے سے لپٹی رہیں۔ یہاں تک کہ اس روز ابو جی کو دروازہ چابی سے کھول کر اندر آنا پڑا کیوں کہ میں یا امی اس زمین پر کیسے قدم رکھ سکتی تھیں جس پر چوہے کا سایہ بھی پڑ جائے۔
    میں نے گھر والوں سے سنا تھا کہ چوہے گھروں میں گھس کر راشن کھا جاتے اور ہر چیز کتر دیتے ہیں۔ یہ سُن کر مجھے ان چور نما چوہوں سے خوف کے ساتھ ساتھ نفرت بھی محسوس ہونے لگی جو انتہائی دیدہ دلیری سے کسی کے بھی گھر گھس کر نقب زنی کرتے ہیں۔اس کے بعد مجھے چوہوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتا دیکھ کر ایک عجیب سی تسکین ہونے لگی۔ میں اپنے ہاتھوں سے آٹے کی گولیوں میں زہر ملا کر گھر کے ہر کونے میں ان کے لیے رکھ دیتی۔ یہ میرا ذاتی خیال ہے کہ چوہوں کے آباء واجداد کا تعلق یقینا امریکا یا برطانیہ سے ہو گا۔ اسی لیے کسی کے بھی گھر پر بڑی مہارت سے قبضہ جما لیتے ہیں۔ کسی گھر میں کس طرح نقب لگائی جاتی ہے اس کی تربیت یقینا امریکی فوج نے ہی انہیں دی ہو گی۔
    بڑے ہوتے ہوتے میرا خوف اس وقت حیرت میں بدلنے لگا جب میں نے لوگوں کو چوہے کے ذریعے کام کرتے دیکھا۔ بچے، نوجوان، بوڑھے اور یہاں تک کہ لڑکیاں بھی چوہوں کی مدد سے کام کرتی نظر آتی تھیں۔انہیں دیکھ کر میرے چہرے کے زاویے از خود ہی بگڑنا شروع ہو جاتے۔ گھروں میں تو پھر بھی چوہوں کا استعمال زیادہ نہیں تھا، مگر دفاتر میں چوہوں کے بغیر کام کرنا اپنی توہین سمجھی جانے لگی۔ مگر پھر جلد ہی طالب علموں کے سبب گھروں میں بھی چوہے استعمال کیے جانے لگے۔ گویا ہوم ورک کرنے کے لیے چوہے لازمی جز بن گئے۔ ہائے ری قسمت! دنیا اتنی ترقی کرنے لگی کہ چوہے دھیرے دھیرے سب کی ضرورت بن گئے۔ اب میرے لیے اس ضرورت سے آنکھیں چرانا ناگزیر ہوتا جا رہا تھا۔
    اپنی تمام تر توانائی جمع کر کے ایک روز میں نے بھی چوہا استعمال کرنے کی ٹھانی۔ خوف کے مارے میرا بدن کانپ رہا اور ہاتھ پائوں ٹھنڈے پڑ رہے تھے۔ قریب کھڑے میرے بھائی مجھے چوہے کا استعمال سمجھا رہے تھے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے لرزتا ہاتھ کالے مینڈک جیسے چوہے کی پشت پر رکھا اور اس کی ایک آنکھ کو دھیرے سے دبایا۔ احتجاجاً چوہے نے صدا بلند کی اور میں نے گِھن کھاتے ہوئے آنکھیں میچ لیں، مگر پھربھائی کے حوصلہ دینے پر میں نے آنکھیں کھولیں اور چوہے کا باقاعدہ استعمال سیکھا۔دھیرے دھیرے میرے اندر سے خوف جاتا رہا اور مجھے چوہے کو دیکھنے اور چھونے کی عادت ہو گئی بلکہ اُسے ہاتھ میں پکڑنا اچھا لگتا۔ کچھ ہی عرصے میں، میں چوہوں کی صلاحیتوں کی دل سے قائل ہو گئی۔
    رفتہ رفتہ انسان ان کارآمد چوہوں کے عادی ہوتے چلے گئے اور ان کے بغیر زندگی گزارنا مشکل لگنے لگا۔ بھلا ہو ان سائنس دانوں کا جو سوتے جاگتے نت نئی ایجادات کرتے رہتے ہیں۔چند ہی سالوں میں ان کار آمد چوہوں کو قید کرنے کی منظم سازش کی گئی اور سائنس دان اپنی اس سازش میں کام یاب بھی ہو گئے۔ انسان اندھا دھند چوہوں کے رقیب خریدنے لگے، مگر میرا دل چوہے کو چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوا۔ کچھ ہی عرصے میں یہ چوہے قصۂ پارینہ بن گئے۔ لوگ یہ بھی بھول گئے کہ کس طرح ان چوہوں نے ہمارا ساتھ دیا اور رات دن کا فرق بھلا کر ہمارے کام آسان کیے تھے۔ اب ان چوہوں کی آخری آرام گاہ اسٹور روم میں قید یا کچرے کا ڈھیر تھی۔
    بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہوئے میں بھی نئی ایجادات سے محظوظ ہونے لگی۔ میرا لاڈلا چوہا ڈبے میں قید گھر کے ایک کونے میں پڑا میری راہ تکتارہتا، مگر مجھے کبھی اس معصوم کا خیال تک نہ آیا۔ کچھ عرصے بعد میں نے محسوس کیا کہ یہ نئی ایجادات اتنی سہولت فراہم نہیں کرتیں جتنا کہ چوہے کیا کرتے تھے۔ یہ احساس ہوتے ہی میں نے بھائی سے اپنے لاڈلے کی واپسی کا مطالبہ کیا، جو کافی عرصے سے اسٹور روم میں قیدتھا، تو جب بھائی نے مجھے یہ اطلاع دی کہ میرا لاڈلا چوہا اسٹور روم میں پڑے پڑے اس جہانِ فانی سے کُوچ کر گیا ہے۔ اِک پل میں میرا دل ٹوٹ کر چکنا چور ہوگیا۔ ایک اور چوہے کی کارستانی کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی تھی۔دوسرے چوہے نے اس کی دم کتر دی تھی اور پیٹ کی انتڑیاں بھی نظر آرہی تھیں۔ اس نے وہیں تڑپ تڑپ کر جان دے دی اور مجھے خبرتک نہ ہوئی۔ بس یہی احساس ِ ندامت مجھے جینے نہیں دے رہا تھا۔ہر وقت مجھے اپنے لاڈلے کی یاد ستاتی رہتی۔ ہر چیز سے دل اُچاٹ ہو گیا ۔بھائی نے لاکھ سمجھایا، مگر مجھ پر اثر نہ ہوا۔ اتنے سالوں کی رفاقت بھلانا میرے لیے آسان نہیں تھا۔پھر ایک دن بھائی میرے لیے ایک نیا چوہا لے آئے۔اسے دیکھ کر میرا غم غلط ہو گیا۔ وہ رنگ روپ میں میرے لاڈلے سے مشابہ تھا۔ میں نے پیار سے اسے سینے سے لگا لیا اور عہد کیا کہ اب کبھی اسے نظر انداز نہیں کروں گی۔
    میں نے اپنی پچیس سالہ زندگی میں یہی جانا ہے کہ جو آرام ’’مائوس‘‘ کے ساتھ کام کرنے میں ہے، وہ لیپ ٹاپ یا اینڈرائیڈ فون سے کام کرنے میں نہیں ہے۔ لہٰذا میں اب اپنے چوہے کو لیپ ٹاپ کے ساتھ کنیکٹ کر کے سہولت سے کام کرتی ہوں اور آج بھی اس بات کی دل سے قائل ہوں کہ چوہے واقعی کارآمد ہوتے ہیں۔
    ٭…٭…٭