Tag: Harf Kahani

  • نجات دہندہ — ردا کنول (تیسرا اور آخری حصّہ)

    نجات دہندہ — ردا کنول (تیسرا اور آخری حصّہ)

    کا وش کو انتظار کی کو فت سے نہیں گزرنا پڑا ۔حا لا نکہ اُسے کو ئی خو ش فہمی نہیں تھی ، کم از کم کل کی باتوں کے بعد سے تو نہیں۔مگر اُس کی تو قع کے بر عکس اُسے ضو فشاں کچن کا دروازہ دھکیل کر اندر آتی ہو ئی نظر آئی تھی۔
    جب دل میں خو شی کی لہر دو ڑتی ہے تو کیسا محسوس ہوتا ہو گا؟ یہ کاوش نے اُس ایک لمحے میں جان لیا۔
    ضو فشاں نے اُسے دیکھا اور اُس کے پاس اندر جانے کی بجا ئے وہیں کھڑی رہی۔کا وش نے کچھ جلدی میں چیزیں سمیٹیں اور باہر نکل کر اپنے چہرے پر ایک مسکرا ہٹ سجا ئے صرف شکر یہ ہی کہہ سکا جسے ضو فشاں نے سر جھکا کر قبول کیا ۔باہر نکلنے سے پہلے ہمیشہ کی طر ح کا وش نے اُسے پہلے جانے دیا۔کا وش نہیں جانتا تھا اُس کا یہ عمل ضو فشاں کے دل میں اُس کے لیے کتنا احترام پیدا کر تا تھا،بہت سے دوسرے مر دوں سے بر عکس ضو فشاں کے لیے وہ ایک تمیز اور لحا ظ رکھنے والا مرد تھااور شاید یہی وجہ تھی کہ وہ اُس کے قریب آتی جا رہی تھی۔
    ” آپ کو کیسا پتہ چلا کہ میں اس وقت ما رکیٹ جا تا ہوں؟” سوال بے تکا تھا مگر بات کے آغا ز کے لیے مو زوں تھا۔” عمدہ اور تا زہ پھل سبزیاں لینے کے لیے شاید اسی وقت ما رکیٹ جا یا جا تا ہے۔” وہ اپنے آپ کو یہ کہنے سے رو ک نا پا ئی۔کاوش کے لبوں پر ایک مسکرا ہٹ رینگ گئی۔گا ڑی میں اُس کے برابر بیٹھتے ہوئے ضو فی نے کچھ ہچکچا ہٹ محسوس کی مگر کمال مہا رت کے ساتھ اپنے اُس احساس کو چھپا گئی۔
    ” اپنی کمزو ریوں کا کبھی دوسروں کو پتہ نہیں لگنے دینا چا ہیے۔”
    ”مارکیٹ بس یہاں سے کچھ ہی دور ہے۔’ ‘ ضو فی نے چو نک کر اُسے دیکھا ۔وہ بھول گئی تھی کہ اُس کے مد مقا بل وہ انسان ہے جو کمال مہارت سے آنکھیں پڑھ لیتا تھا۔” ہو ں۔۔ٹھیک ہے۔” گردن مو ڑے وہ بس اتنا ہی کہہ سکی۔
    اُن دونوں میں سے ایک چھپا جانے کا فن جانتا تھا اور دوسرا بھید جان جانے میں ما ہر تھا۔
    خا مو شی سے گھبرا کر بات کرنے کی غرض سے ضو فشاں نے اُس سے پو چھا۔” کو کنگ کا شوق کیسے پیدا ہو اآ پ میں؟” وہ دھیان سے ڈرا ئیو کر رہا تھا اور ہمیشہ کی طرح کچھ نر وس تھا۔” پتہ نہیں یاد نہیں ۔۔سوچتے ہوئے وہ کہہ رہا تھا، بچپن سے ہی بہنو ں کو دیکھا تو خو د بھی دل چاہا کہ کچھ بناؤں۔”
    ” اچھا ۔۔ایسا کیا بنا تی تھیں آپ کی بہنیں کہ صرف دیکھنے سے ہی شو ق ہو گیا۔” ضو فشاں نے کچھ تو صیفی مسکرا ہٹ کے ساتھ اُس سے پوچھا۔” آپ کو دیکھنے میں عجیب لگا ہو گا کہ ایک مرد کو کنگ رینج پہ جھکا فرا ئنگ پینز میں چمچے ہلا رہا ہے۔” ضو فشاں کو لگا وہ بات گول کر گیا ہے۔تبھی اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اُس نے جیسے کچھ کھو جنے کی کو شش کی،مگر وہ نا کام رہی ۔”نہیں عجیب نہیں لگا بہت سالوں سے دیکھ رہی ہوں اب تو۔” اُس کی آنکھیں جو ہمہ وقت اُدا سی سے بھری رہتی تھیں کچھ مزید اُداسی سے بھر گئیں۔

    کا وش اُس کا پچھلا ریکا رڈ جا نتا تھا تبھی اُسے کو ئی پریشا نی نہیں ہو ئی اُس کی بات سمجھنے میں۔مارکیٹ آ گئی تھی وہ دونوں گا ڑی میں سے اُتر گئے۔”یہ سب اس ہی کی طر ح شیفس ہوں گے، جو اتنی صبح یہاں آئے ہیں ۔” ضو فشاں نے اکا دُکا چلتے لوگوں پر ڈالی جو خریدا ری کرنے میں مصروف تھے۔چلتے ہوئے کا وش تا زہ انگو روں کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔” یہ انگور چترال سے آتے ہیں۔” ضو فشاں نے غور سے اُس کا چہرہ دیکھا۔ایک گھچا ہاتھ میں پکڑے وہ مسکرا رہا تھا اور یقینا کہیں اور تھا۔” چترال بہت خو بصورت ہو گا نا؟” ضو فشاں نے یو نہی اُس سے پو چھ لیا۔” ہاں۔۔ مگر کا لا ش سے زیادہ نہیں۔” وہ اب انگور وں کے گچھے اُٹھا اُٹھا کر با سکٹ میں رکھ رہا تھا۔” کا لاش؟ مطلب کافرستان۔۔وہاں عورتیں کالے لباس پہنتی ہیں نا اور اُن کا رقص۔۔وہ کتنا زبر دست ہوتا ہے نا؟” ضو فشاں یکدم پُر جوش سی نظر آنے لگی۔” ہاں وہ تو ہوتا ہے؟” کاوش کے ذہن میں بہت ساری یادیں جھلملا ئیں۔” میں نے بہت سی جگہوں پر اُن کی تصویریں دیکھی ہیں۔کاش میں بھی وہاں جا سکتی۔”
    ” تو چلی جا ئیں کس نے رو کا ہے۔” اُس کی کچھ ایسی پر یشا نیوں سے با لکل انجان اُس نے مسکرا تے ہوئے کہا۔” مگر میں نے سُنا ہے وہاں کہ لوگ نہا تے نہیں ہیں ،کا وش نے اُسے دیکھا مگر وہ بولتی رہی،کتنے کتنے مہینوں تک،اس بار آنکھیں باہر نکالے اُس نے جیسے اُس کی معلو مات میں اضا فہ کیا، اور اُن سے بہت بو آتی ہے،میں نے بہت سے لو گوں سے سُنا ہے۔کا وش ابھی بھی اُسے دیکھ رہا تھا گردن مو ڑے،اُس کی بات کے اختتام پر وہ سیدھا ہو کر اُس کے عین سامنے کھڑا ہو گیا۔” تو کیا مجھ سے بھی بُو آ رہی ہے آپ کو؟ آئی مین میں آپ سے کچھ ہٹ کر کھڑا ہو جا تا ہوں،وہ اُلٹے قدموں تھو ڑا پیچھے ہوا اور پھر سے کہنے لگا، اب ٹھیک ہے؟ ” ضو فشاں نے شدید حیرا نی کے عالم میں اُسے دیکھا اور اُس کی غلط فہمی دُور کرنا چا ہی۔” نہیں چترال والوں سے تو نہیں آتی وہ تو کا لاش کے لوگوں کے بارے میں سُنا تھا کہ وہ۔۔۔” کا وش نے بیچ میں ہی اُس کی بات کا ٹی ۔” میں کالاش سے ہی ہوں۔” ضو فشاں کی تو جیسے سیٹی گم ہو گئی،کا وش وہاں سے ہٹا اور کچھ اور پھل دیکھنے لگا۔وہ جب مڑا ضو فشاں کی طرف سے تو ایک دبی دبی مسکرا ہٹ اُس کے لبوں پر تھی۔وہ لطف اندو ز ہوتا رہا اُس کے اس ہکا بکا انداز کو دیکھ کر۔
    ” آ ئی ایم سوری۔مجھے پتہ نہیں تھا کہ آپ کا لاش سے ہیں۔” وہ اُس کے پیچھے آ گئی تھی اور اب کچھ پریشانی سے اُس سے کہہ رہی تھی۔” کو ئی بات نہیں ، با تیں ہی کچھ ایسی مشہو ر ہیں وہاں کے لوگوں بارے میں۔” اُس کی طرف د یکھ کر مسکرا کر کہا۔” و اقعی لو گ اگر کسی ایسی جگہ کو دریافت کر لیں جہاں زیادہ لوگ نہیں جاتے تو وہ یو نہی وہاں کے بارے میں باتیں مشہور کرنے میں کو ئی عار محسوس نہیں کرتے۔” کا وش کو اچھا لگا اُس کی یہ بات سن کر۔
    ” آپ کہہ رہی تھیں آپ کا لاش دیکھنا چا ہتی ہیں؟” واپس گا ڑ ی میں آ کر بیٹھتے ہو ئے کا وش نے اُس سے پوچھا۔” ہاں بہت خوبصورت ہے کیا وہ؟” بہت سے دوسروں لوگوں کی طر ح ضو فی کو بھی خو ب صورتی اپنی طرف ما ئل کرتی تھی۔” بے انتہا۔” کاوش نے کہا۔
    ” مگر مجھے وہاں کی عورتوں سے ملنے کی زیادہ خواہش ہے۔” اُس کے لہجے میں اشتیا ق تھا۔کا وش کو لگا وہ وہاں کی عورتوں کے لباس اور زیور وغیرہ سے متا ثر ہو گی مگر وہ نہیں جان پا یا ضو فی نے کا لاش کے بارے میں اور بہت سی باتوں کی طر ح یہ بھی سُن رکھا تھا کہ وہاں پر women empowerment بہت زیادہ تھی اور یہی وہ وجہ تھی جو اُسے سب سے زیادہ اپنی طرف کھینچتی تھی۔
    ہو ٹل کے عقب میں جہاں کچن کا دروازہ کھلتا تھا کا وش نے اپنی گا ڑی رُوکی ،ضوفشاں ابھی تک کالاش کو ہی سوچے چلے جا رہی تھی وہ چو نکی جب کا وش نے اُس سے کہا۔” کا لاش دکھانا چاہتا ہوں تمہیں ،دیکھو گی؟” ضو فشاں نے اُس سے کچھ نہیں کہا کل کی ہی طر ح وہ خا موشی سے باہر نکل گئی اپنے ساتھ ایک اُلجھن کو لیے ہوئے ،وہ سوال اپنے اندر ہی لیے ہوئے وہ دروازہ کھولے باہر نکل گئی ،جو تب سے اُس کے ذہن میں کلبلا رہا تھا جب اُس نے کا وش کا کالاش سے ہونے کے متعلق سُنا تھا۔
    کا وش نے اُسے خا مو شی کے ساتھ کچن کا دروازہ دھکیل کر اندر بڑھتے دیکھا ،پریشانی نے کہیں اُس کے اندر سر اُٹھا یا لیکن پھر ایک گہر ی سانس بھرتے ہوئے وہ گاڑی میں سے چیزیں نکالنے لگا۔
    ()٭٭٭()
    Chitral Cuisine میں خوب دوپہر چڑھنے سے پہلے رش کچھ کم ہوتا تھا اور ویٹرز کچھ سکون محسوس کرتے ہوئے اپنے ہلکے پھلکے انداز میں کھڑے رہتے تھے، مگر وہیں تمام شیفس دوپہر کے کھانے کی تیاری میں لگے رہتے۔ضوفی وقت بتانے کی غرض سے کہیں زیادہ اپنے اندر جواب جاننے کی خواہش میں اپنی دوست شیف کے پاس کھڑی سبزیاں کا ٹنے لگی۔” ضو فشاں یہ تمہارا کام نہیں ہے میں کر لوں گی۔” تیزی سے چلتے ہاتھوں کے ساتھ شیف نے اُس سے کہا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ فا رغ کھڑے رہنے والے لو گوں میں سے نہیں ہے اور اُس کی ایک نہیں سُنے گی، اُس نے کہا۔
    ” یہاں کالاش کی ڈشز بھی بنتی ہیں کیا؟” سرسری لہجے میں اُس نے بات کا آغاز کیا۔” ہاں بالکل بنتی ہیں ۔باس کالاش کے ہیں نا ،تمہیں نہیں پتہ کیا؟” وہ ابھی جلدی جلدی اپنا کام کر رہی تھی مگر اُتنی ہی تیزی سے بول بھی رہی تھی۔” پہلے نہیں پتہ تھا۔” پالک کے پتے کاٹتے ہوئے اُس نے اپنے آپ کو بمشکل کہنے سے روکا کے کل تک نہیں پتہ تھا۔
    ” عجیب ہو تم بھی دو ماہ ہو گئے ہیں تمہیں یہاں کام کرتے ہوئے اور ابھی تک یہ بھی نہیں پتہ تھا۔” شیف افسوس سے اُس سے کہہ رہی تھی۔ضوفشاں بس اُسے سُنتی رہی۔” ہر اُس جگہ کے بارے میں پہلے بہت اچھی طرح نہیں تو تھو ڑی بہت چھان بین ضرور کر لو جہاں تم کچھ عرصہ کام کرنے والی ہو۔” شیف اُسے ایک اچھی نصیحت کر گئی یقینا اپنے تجربے کی روشنی میں۔
    ” کالا ش میں تو کا فر لوگ نہیں رہتے؟” کل سے جوبات اُسے تنگ کر رہی تھی وہ سوال بن کر بلا آخر اُس کی زبان پر آ گئی۔” ہاں رہتے تو ہیں۔” شیف نے بغیر گہرا ئی میں جائے اُسے جواب دیا وہ اس وقت بے انتہا مصروف تھی۔تبھی ضو فی کی نظر بالکل غیر ارادی طور پر وہاں اُٹھی جہاں کاوش کھڑا تھا کچھ بناتے ہوئے وہ اُس کی طرف متو جہ نہیں تھا۔
    ” شیف کاوش بھی کا فر ہیں کیا ؟ مطلب وہ بھی تو کالاش سے ہیں۔” ہاتھ روکے وہ اپنے ساتھ کھڑی شیف کی طرف گھوم گئی تھی اور اُس کے چہرے سے سرا سیمگی چھلکتی تھی۔وہ جواب سننے کو بے تاب تھی۔ہاں یا ناں اُس نے دونوں جواب سننے کے لیے خود کو تیار کر لیا۔
    ” نہیں ۔” شیف اُس کی بے چینی کو نا سمجھ سکی اور مختصر جواب دے کر پھر سے کام میں غرق ہو گئی۔” کیا نہیں؟” جواب اُسے مطمئن نہ کر سکا اور وہ پھر پو چھ بیٹھی۔” نہیں شیف کاوش کا فر نہیں ہیں ، مسلمان ہیں۔” ضو فشاں نے بے اختیار کھل کر سانس لیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس چیز کا کوئی فا ئدہ نہیں تھا۔اُس کی نظریں ایک بار پھر سے کا وش کی طر ف اُٹھیں ،شاید یہ اُس کی نظروں کا ارتکاز تھا کہ کاوش نے بے اختیار نظریں اُٹھا کر ضو فشاں کی جانب دیکھا ،بالکل غیر ارادی طور پر۔۔اور اُسے اپنی جانب دیکھتا پا کر وہ مسکرا دیا ،ضو فی کچھ شرمندگی یا شا ید کچھ اور جسے وہ خود بھی سمجھ نہیں پاتی تھی ،کو محسوس کرتے ہوئے نظریں جھکا گئی۔” کا وش کچھ بھی ہو اس چیز سے اُسے کیا فرق پڑتا تھا ۔” ضو فی نے سوچابالکل اُسی لمحے کاوش کے پاس ایک ویٹر آ کر کھڑا ہوااور اُس کے کان میں کچھ کہنے لگا جسے سن کر وہ کچن کے دروازے پاس جا کر کھڑا ہو گیا اور دروازے کی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔ضوفشاں نے اُسے دیکھا لمبے گہرے گہرے سانس لیتے ہوئے اور پھر وہ باہر نکل گیا۔ضوفشاں کو وہ کچھ پریشان لگا اور اس خیال کے ساتھ کہ باہر رش بڑھنے لگا ہو گا وہ بھی کچن سے باہر نکل آئی۔
    ()٭٭٭()
    وہ جو آدمی دیوار پر ٹنگی تصویر کے سا منے کھڑا تھا کاوش بس اُس کی پشت ہی دیکھ پایا تھا۔مگر کاوش کو جاننے کی ضرورت نہیں تھی کہ وہ انسان تھا کون؟ وہ اُس کا چہرہ دیکھے بغیر بھی جان گیا ،صرف ایک انسان ہی وہاں آ کر یوں تصویر کے سامنے جم سکتا تھا۔” تو وہ لمحہ آ گیا جس کا میں نے بے صبری سے انتظار کیا تھا۔” کاوش رواں قدموں سے چلتا ہوا اُس کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا۔قدموں کی آہٹ سن کر وہ آدمی مڑا۔” کاوش؟”پرا نی شنا سائی آنکھوں سے چھلکی۔” کاوش تم کیسے ہو بیٹے؟اور کتنے بڑے ہو گئے تھے۔” کاوش کے سامنے کھڑا وہ انسا ن جو اب قدرے بوڑھا ہو چکا تھا مگر اُس کی شاندار شخصیت جیسے مزید نکھر آ ئی تھی اور بالکل اُسی انداز میں جیسے وہ پہلے کاوش کو مخاطب کیا کر تا تھا اُس نے کہا۔” جی میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں۔” کاوش کے انداز نے اُسے باور کروا دیا کہ وہ اُ س کے ساتھ زیادہ بے تکلف ہونے کی کوشش نہ کرے اور اس کے ساتھ ہی اُسے پچھلا بہت کچھ یاد آ یا حتی کہ اپنے الفاظ بھی جو اُس نے خط میں لکھے تھے۔وہ ایک ٹھنڈی سانس لے کر رہ گیا ۔
    وہ دونوں ایک قسم کی راہداری میں کھڑے تھے جہاں ستار ،بانسری ،ڈھول جیسے موسیقی کے آلات چترالی ٹوپیوں میں ملبوس پٹھان ہوٹل کی میزوں سے کچھ فاصلے پر دھیمے سروں میں بجانے میں مصروف تھے۔مینیجر کے لیے یہ بڑا حیران کن تھا۔یہ ایسا ہوٹل جہاں چترالی ثقافت دکھائی دیتی تھی اور وہ کھانے بکتے تھے جن کے بارے میں وہ کبھی بڑی تضحیک سے بات کر گیا تھا۔وہ تو ایک تجسس کے ساتھ یہاں آیا تھا کہ دیکھے یہاں ایسا کیا تھا جو لوگوں میں اتنا مقبول تھا اور وہ دیکھ رہا تھا یہاں سب برعکس تھا باقی سب ہوٹلوں سے مگر اُسے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کے وہاں اُسے کیسا دھچکا لگنے والا تھا۔بہت سال پہلے ایک بچے کے ساتھ کھنچوائی ہوئی تصویر اُسے یہاں نظر آ گئی تھی اور وہ بے اختیار اپنی ٹیبل سے اُٹھ کر اُس کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا تھا۔اور اب وہ بچہ اُس کے سامنے کھڑا تھا مگر اب وہ بچہ نہیں رہا تھا وہ اچھا خاصا بڑا ہو گیا تھا ۔وہ جو بچپن میں شرمیلا جھجکا ہوا رہتا تھا اب اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اُس سے بات کر رہا تھا۔” آپ چترالی یا کالاش کے کھانوں میں سے تو کچھ کھانا پسند نہیں کریں گے ۔۔اس لیے کیا آرڈر کریں گے آپ؟” کاوش کو خود اپنے الفاظ پر حیرت ہوئی وہ کیسے اُس پر طنز کر رہا تھا۔مینیجر نے بے ساختہ اُس کے چہرے سے نظریں ہٹا کر اپنے ارد گرد نظریں دوڑائیں۔” میں شرمندہ ہو کاوش مگر میری مجبوری تھی وہ سب کہنا۔” ” ہماری تضحیک کرنا مجبوری تھی آپ کی؟” کاوش جتنا حیران ہوتا کم تھا۔مینیجر سر جھکا گیا۔کاوش کو لگا مزید بات کرنا بیکار تھا ۔
    ”کچھ لوگ ساری زندگی اپنے آپ کو قصور وار نہیں گردانتے چاہے وہ کتنی ہی غلطیاں کیوں نا کر چکے ہو ں مگر وہ ہمیشہ یہی کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ ایسا کرنا مجبوری تھی اُن کی۔۔اور ایسے لوگ بڑے خود غرض ہوتے ہیں۔” کاوش نے اُس سے رُخ موڑا اور واپس اندر چلا گیا مینیجر کچھ دیر مزید وہیں تصویر کو گھورتے ہوئے کھڑا رہا مگر پھر وہ وہاں سے چلا گیا ۔اُس کا چلے جانا ہی بنتا تھا کیونکہ وہ شرمسار ہوتے ہوئے بھی معافی مانگ لینے کی ہمت اپنے اندر نہیں رکھتا تھا اور مزید دکھ دینے کا موجب بن رہا تھا۔
    ()٭٭٭()
    وہ شامChitral Cuisine میں ہلکے سے جشن کے سے سماں کے ساتھ اُتری۔بڑا سا سٹرابری چیز کیک اپنے کا ٹے جانے کا منتظر تھا، اور اُس کے ارد گرد کھڑے وہ تما م باورچی اور ویٹرزجو خوشی سے تالیاں پیٹتے تھے۔
    Chitral Cuisine میں ہر ایک کی سالگرہ اسی طرح منا ئی جاتی تھی۔معمول کے آرڈرز کے علا وہ ہر اُس دن ایک خو بصورت کیک بیک ہوتا جب کسی کی سالگرہ ہوتی۔وہ سب خو شی سے چلا تے ہوئے برتھ ڈے گرل یا بوائے کو پکڑ لیتے اور اُس کے کانوں میں خو ف ناک آوازیں نکالتے ہوئے کیک تک لے آتے۔کیک کٹتا وہ اپنے منہ بھرتے اور پھر سے اپنے اپنے کا موں میں مگن ہو جاتے۔
    اُس شام ضو فشاں کی سالگرہ تھی، سب کے گھیرے میں وہ کچھ گھبرائی ہوئی سی کیک تک آ گئی حا لانکہ اپنے اندر کہیں وہ خو شی محسوس کر رہی تھی۔سالگرہ کے مخصوص گیت کے سا تھ اُس نے کیک کا ٹا اور پھر وہ سب اپنے اپنے کا موں میں بری طرح غرق ہو گئے۔ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے وہ وہاں کچن میں سے باہر نکلنے والی تھی ، کا وش ابھی تک وہیں مو جود تھا بظاہر ہاتھ پیچھے باندھے چیزوں کا جائزہ لیتے ہو ئے مگر اُ س کا سارا دھیان ضوفشاں کی طرف تھا ، ضو فی یہ بات جان گئی۔اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کا و ش نے اُس سے کچھ کہنا چاہا مگر وہ کچھ دیکھنا اور سننا نہیں چا ہتی تھی تبھی تیزی سے باہر نکل گئی۔
    پریشانی۔۔جس کا شکار وہ کل سے تھا کچھ مزید بڑھ گئی۔” آخر ایسا رویہ کیوں اختیار کیے ہوئے ہے یہ۔” گھبرا ہٹ سے اُس کا دم گھٹنے لگا۔”مزید کسی اُلجھن کا شکار ہونے سے بہتر ہے کہ صاف صاف بات کی جائے۔”بے دھیانی میں چکر کاٹتے ہوئے وہ سوچ رہا تھا۔
    ()٭٭٭()

  • نجات دہندہ — ردا کنول (دوسرا حصّہ)

    نجات دہندہ — ردا کنول (دوسرا حصّہ)

    کیا کیا تھا جو ما ضی نہیں ہو گیا تھا۔گھر،کاروبار،رہن سہن،تہوار،حسین وادیاں،لباس،اپنے لوگ اور بہت سارا پیار جو اپنی وادی میں تھا اور جو یہاں نہیں تھا۔اس جگہ پر جس کو وہ اور اُن جیسے بے شمار چترالی اور کالاشا لوگ نا پسند کرتے تھے۔وہ یہاں کیوں تھے؟وہ روٹھ کے آئے تھے اپنی وادی سے۔۔؟ اُن کا دل چاہا دو ہتھڑ اپنے سر پر ماریں اور دھاڑیں مار مار کر روئیں۔وادی کے لوگوں کو وادی سے نکال دیا گیا۔اُن کا دل دو ٹکڑے ہوا تھا۔آنسو آنکھوں سے بہہ نکلے تھے۔ایسا ظلم۔۔۔
    اپنے نئے گھر ،جو کہ اُنہوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ کبھی وہ ایسا کریں گے،میں قدم رکھا تھا۔اُن کے قدم لڑکھڑائے تھے اور اس سے پہلے کہ وہ گر جاتے کاوش نے اُن کا بوڑھا اور نخیف ہاتھ تھا ما ۔برآمدہ جو کھلا نہیں تھا مگر اُس کے دائیں کونے میں ایک اخروٹ کا درخت تھا اور لکڑی سے بنے چو ڑے ستون جو تاریکی میں ڈوبے تھے اور بخاری ۔۔ہاں بخاری جو ایک نیم تاریک کمرے میں تھا اور جس کی چمنی سیاہ رنگ تھی۔باباخان نے اپنی آنکھیں مسلیں۔وہ کھلی آنکھوں سے اپنے پچھلے گھر کو اپنے نئے گھر میں دیکھ رہے تھے اور شاید اب وہ ساری زندگی اُس نظر سے ہی اپنے نئے گھر کو دیکھتے۔جو قدرے مختلف تھا اُن کے اُس گھر سے جو رنمبور میں ایک اُونچے پہاڑ پر تھا اور جو پام کی لکڑی سے بنا تھا باوجود اس کہ پام کی لکڑی مہنگی ہوتی ہے لیکن اُن کے لیے جو وادی کے نہیں تھے ،اور جو وادی کے تھے وہ وادی سے نکال دئیے گئے تھے۔آہ۔۔ بڑا تکلیف دہ تھا یہ سوچنا بھی ۔نم آنکھیں کاوش نے اپنی انگلیوں سے صاف کی تھیں۔اُس کے اپنے ہاتھ کا نپتے تھے مگر وہ حو صلے میں تھا اپنے پچھلے بہت سے دنوں کی نسبت۔۔جب اُس نے سنا تھا کہ اُس کا گھر گر رہا ہے اور تب بھی جب ھو سئی ماں اُنہیں چھو ڑ کر چلی گئی تھیں۔
    زرمستہ اندر سے پورا گھر دیکھ آ ئی تھی تبھی وہ خامو شی سے آ کر خامو ش با با خان اور کاوش کے پاس بیٹھ گئی تھی۔” ھوسئی ماں ہوتی تو سب سے پہلے بخاری دیکھتی۔” بلا آخر زرمستہ بولی تھی۔بابا خان نے ایک گہری سا نس لی تھی۔” اپنی وادی میں دخن(دفن) ہونا تھا اُس کو۔”
    ” یاں کیوں آ گئے ہم بابا خان ؟ کالاش میں نہیں رہنا تھا تو چترار( چترال) میں ای رہ جا تا۔” زرمستہ ایک بار پھر شکوہ کر رہی تھی وہ بابا خان کے گلگت آنے کے فیصلے پر خوش نہیں تھی۔اور سچ تو یہ ہے خود باباخان اور کا وش بھی نہیں اور نا ہی گُل مکئی، پشمینہ اور دیوہ جو پیچھے وہیں بریر اور بمبوریت میں رہ گئی تھیں اپنے نئے خاندان کے ساتھ۔
    ” کاوش یاں کارو بار کرے گا واں چترار ( چترال )میں اب کو ئی سیاح نہیں آ ئے گا جب تک کہ وہ منحوس ڈیم نا جا ئے،اور لوگوںکے اس سارے مسئلے سے اپنے کام بند او جائیں گے ،فصلیں تباہ، لکڑ ی کا کاروبار تباہ کچھ نہیں بچے گا،اس لیے ام یاں آیا اے۔جو پیسہ ملا اے اُس سے یہ دُر( گھر) آ یا اے اور ام تماری شادی بی کر ے گا پھر کاوش یاں کو ئی کام کرے گا۔” بہت بار کی سنی بابا خان کی پلاننگ اُن دونوں نے ایک بار پھر سُنی تھی کاوش خاموش رہا تھا لیکن پھر اُس نے باباخان سے پوچھا۔” اور کارو بار باباخان؟ جو اچار اور مربعے ام بنا کے دیتا اے اُس کا کیا؟” بہت دنوں سے جو چیز وہ باباخان کو پریشان کر رہی تھی وہ یہی تھی کہ کہیں کاوش کو مینیجر کے پیغام کا نہ پتہ چل جائے۔وہ ابھی تک اُسے کاوش سے چھپا ئے ہوئے تھے۔وہ جانتے تھے کاوش جو پہلے ہی بپھراپڑا تھا اور دُکھی تھا مزید کو ئی دُکھ اُسے نا پہنچے اسی لیے اُنہوں نے زرمستہ کو بھی منع کر دیا تھا کہ وہ کاوش کو کچھ نہ بتا ئے ،مگر اب وہ خود اپنے منہ سے پو چھ رہا تھا۔
    ” کاوش تم یاں گلگت میں ای ہو ٹل کھول لو ۔ام وہ والا کارو بار نہیں کرے گا اب۔” باباخان نے ڈھکا چھپا جواب دیا ۔” لیکن کیوں باباخان۔۔” اُنہوں نے ہاتھ اُٹھا کر اُسے مزید بولنے سے رُوکا۔” ام آرام کرے گا اب ۔” اور اُٹھ کر اندر کمرے میں چلے گئے۔اُنہیں جاتا دیکھ کر کاوش نے زرمستہ کی جانب دیکھا ،وہ بھی منہ پھیر کر اندر چلی گئی ،کاوش کو پھر کسی انہونی کا احساس ہوا مگر زرمستہ اور باباخان سے پوچھنا بیکار تھا وہ اُسے کچھ نہ بتاتے اس لیے وہ بھی اُٹھ کر باہر نکل گیا اور ہو ٹل کے لیے کسی منا سب جگہ کی تلاش میں لگ گیا۔
    ()٭٭٭()

    اُس دن کے بعد شریف کے گھرانے میں کچھ بہت روشن اور خوش گوار دن طلوع ہو ئے ،اور پھر اُسی ایک روشن دن میں ہاجرہ کو یہ خیال چرایا کہ وہ عالم کو چھو ڑ کر جو گھر کا بڑا تھا عادل کی شادی کر دیں۔صاف ظاہر تھا خیال خود چُرا یا نہیں گیا تھا بلکہ مجبور کیا گیا تھا۔پیار ، محبت ، خیال اور لگاوٹ کی جھو ٹی پٹی آنکھوں پر چڑھا کر منا یا گیا تھا۔چناچہ یہ اُسی سلسلے کی کڑی تھی جو عادل نے شروع کی اور جس کا ایک سرا اُس کی کلاس فیلو سے جا ملتا تھا۔گھر۔۔بلکہ گھر نہیں کو ٹھی جسے عالم اور علیم جو جاہل تھے عادل کی نظر میں، کو ٹھی کہتے تھے،وہ سجی تھی روشنیوں کے سیلاب سے۔ چوڑا ماتھا جگ مگ کرتی لا ئیٹوں سے دمک رہا تھا اور امارت ایسی کے چھپائے نا چھپے۔علیم نے ٹھیک کہا تھا وہ گھر باجی جی کے گھر سے کہیں بڑا تھا اور نیا بھی۔
    آج عادل کی مہندی تھی اور فنکشن کا ا ہتمام وسیع و عریض لان میں کیا گیا تھا۔پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا اور پیسہ کو نسا تھا۔۔سب جانتے تھے۔دُور پرے کے رشتہ دار بھی مدعو تھے مگر عادل کو رشتے داروں سے مطلب نہیں تھا اُسے مطلب تھا تو بس اس چیز سے کے ہال اچھے سے اچھا بُک کروایا جائے،اُس کے اپنے اور خاص کر کے دُلہن کے کپڑے اعلا سے اعلا معیار کے ہوں،کھا نا وہ جو بے شمار ڈشز پر مشتمل ہو۔
    ” امی سارہ کے گھر والوں سے مل چکی ہیں نا آپ ،دیکھا ہے نا آپ نے کتنا امیر خاندان ہے وہ۔ہماری طرف سے بھی کو ئی کمی نہیںہو نی چاہیے ورنہ پھر بعد میں آپ ہی دب دب کر رہیے گا جب وہ اپنی امیری جھاڑے گی آپ کے سامنے۔” یہ ہونے والی دُلہن کی کی طرف سے پہلا وار تھا جو عادل نے خود اپنی زبان سے کیا تھا ۔” ہاں ہاں تم فکر ہی نہ کرو دھوم دھام سے شادی کریں گے ہم تمہاری ۔” جواب ہاجرہ کی طرف سے نہیں بلکہ عالم کی طرف سے آیا تھا۔
    عادل جتنی دھو م دھام سے شادی چاہتا تھا اُس سے کہیں زیادہ اُس کی شادی میں کیا گیا تھا۔یہ اُس کے باقی دونوں بھائیوں کی محبت تھی یابے وقو فی۔۔فیصلہ کرنا مشکل تھا۔
    سارہ امیر کبیر ماں باپ کی بیٹی دُلہن بن کر شریفے مکھن ملا ئی والے کے گھر آ گئی۔اور اُنہی پیسوں سے جو اُنہیں compensation ملی تھی عادل اُسے لیے بیرون ملک ہنی منانے چلا گیا واپس آنے پر اُسے علم ہوا تھا عالم اور علیم تو دراصل کاروبار کرنے کا سوچ رہے ہیں اور عادل ایک بار پھر سے اُن کی راہ میں آ گیا۔ درا صل اُن کی راہ کا روڑا بن گیا۔لیکن اس بار وہ خود بھی شاید اُس آرام کے اس قدر عادی ہو گئے تھے کہ اُنہیں مشکل لگنے لگا ،وہ باہر نکلیں اور خود کچھ کما کر لا ئیں یہ زندگی کچھ زیادہ اچھی تھی لیٹے لیٹے کھانے کو ملتا تھا آرام اور عیاشی الگ،چنا نچہ وہ تھوڑی سی شش و پنج کے بعد راضی ہو گئے گھر بیٹھنے کو۔
    ہاجرہ بھی خوش تھی دن بھر ٹی وی دیکھنا بڑے سے صاف ستھرے کشادہ کچن میں مزے سے من پسند کھانے بنا نا اور بہو۔۔وہ تو بیٹے کی طرح اُن کی لاج دلاری تھی اُس کی لاکھ ناک بو چڑ ھانے کے باوجود بھی وہ اُس کے آگے پیچھے پھرتی تھی۔اور رہ گئی کوکو۔۔تو وہ بھی خوش تھی اتنے وسیع لان میں جو ہرا بھرا تھا اور پھولوں سے مہکتا تھا وہ ننگے پاؤں اوس گری گیلی گھاس پر چلتی اور مزے سے پینگ جھولتی۔
    بھونچال تو تب آیا جب عادل کے بنک میں موجود پیسے ختم ہونے لگے۔اور اُس نے گھر میں اپنے حصے کی بات چھیڑ دی۔” امی اب مجھے لگتا ہے کہ پیسوں کو آپس میں تقسیم کر لینا چاہیے۔” ٹانگ پہ ٹانگ جمائے عادل شان سے اپنے نکمے بھا ئیوں کے سامنے بیٹھا تھا۔” ہیں۔۔پیسے بانٹ لیں۔” ہاجرہ تو ہاجرہ عالم ،علیم بھی چونک گئے تھے۔اُنہیں لگا کچھ غلط ہونے والا ہے وہ نکمے کہاں جانتے تھے غلط ہو چکا تھا۔” بنک میں کتنے پیسے رہ گئے ہیں۔” عالم کے دماغ میں کچھ کھٹکا تھا۔” چند لاکھ ،اور بٹوارہ کرنے کے بعد سب کے حصے میں دو دو لاکھ آئے گا۔میں نے حساب کر لیا ہے۔” بڑے آرام سے مطمین انداز میں عادل نے کہا تھا۔لیکن باقی سب پر برف گری تھی۔” اور تمہارے اپنے حصے میں؟” عالم بھی اب اُس کے مد مقابل تھا۔اُس کے عین سامنے صوفے پر آگے کو ہو کر بیٹھا تھا اور کہنیا ں اپنے گھٹنے پر جما رکھی تھیں۔” ظاہر ہے میرے حصے میں بھی اتنے ہی،ابھی گھر کا حساب کتاب با قی ہے۔” ” اور وہ جو تمہاری شادی پر خرچ اُٹھا اُس کا کیا؟” عالم اب صاف صاف بات کرنا چاہتا تھا۔” وہ میں نے اپنے پیسے لگا ئے تھے جو اپنی جاب کے دوران جمع کرتا رہا تھا اور اگر کچھ پیسے لگ بھی گئے compensation کے پیسوں میں سے تو کو نسی قیامت آ گئی۔وہ پیسے ابا کے پیسے تھے جو وہ میری شادی پر خرچ کرتے۔” ڈھٹا ئی کی اتنہا تھی یا جھو ٹ کی ،فرق کرنا مشکل تھا۔
    تم جھوٹے انسان ہمارے سارے پیسے ہڑپ کر گئے اورہمیں مزید کاروبار کرنے سے بھی روک دیا تا کہ تم مزید عیا شیاں کر سکو۔تجھے تو میں چھو ڑو گا نہیں ۔کمینے۔” عالم بپھرا تھا اور غصے سے پھولے ہوئے سانس کے ساتھ وہ تیزی سے اُٹھ کر اُس کا گریبان پکڑ لیا۔ہاجرہ چیختی ہوئی اُٹھی تھی۔اور اُنہیں چھڑوانے لگی تھی۔علیم نے بھی یہی کیا تھا مگر وہ ایک دوسرے کو چھوڑنے کو تیار نہیں تھے۔” میں نے روکا کاروبار کرنے سے اور تم چھُونے کاکے رُک گئے۔اصل میں تم دونوں خود کچھ کرنا نہیں چاہتے تھے۔بیٹھ کے کھانے کی عادت جو پڑ گئی تھی۔” ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ کھڑے تھے۔اس بار علیم کو بھی غصہ آیا اور وہ جو اُنہیں آپس میں مارنے سے چھڑوا رہا تھا اُس نے اپنے ہاتھ ہٹا لیے۔کو کو خوف کے مارے آنسو بہاتی اپنے چہیتے بھائیوں کو لڑتے دیکھتی رہی۔” بعض چیزیں اپنے آغاز سے ہی بڑی جان لیوا ہوتی ہیں اور پھر جیسے جیسے وہ جڑ پکڑتی ہیں وہ مزید تکلیف دہ ہوتی چلی جاتی ہیں اُن کی عادت ہوتے ہوئے بھی ہر بار اُن کی تکلیف نئی ہوتی ہے۔” یہ آغاز تھا جو کوکو دیکھ رہی تھی۔
    ”ان پیسوں سے تو تجھے اب ایک پیسہ نہیں ملے گا۔”عالم نے اُسے دھمکی دی تھی۔جوابا ً عادل استہزا یہ ہنسا تھا۔” ہنہ ایک پیسہ۔۔ میں بھی دیکھتا ہوں اب تم بنک سے اپنے باقی پیسے کیسے نکلواتے ہو۔” عالم ،علیم ایک نئے غصے کے ساتھ اُس پر جھپٹے تھے اور ہاجرہ کی چیخیں زور پکڑتی گئی تھیں۔
    ()٭٭٭()
    اُس دن شدید قسم کے جھگڑے کے بعد عادل گھر چھو ڑ کر چلا گیا تھا اور رقم جو بنک میں موجود تھی عالم ،علیم اُس سے حاصل کر کے رہے تھے۔ اُس کے لیے وہ اُسے ہر طرح سے پریشر ائز کرتے رہے تھے اور یہاں تک کہ ہاجرہ نے اُس کے سامنے ہاتھ جو ڑ دئیے تھے اور اُسے مکان سے دست بردار ہونے کو کہا تھا مگر عادل بھی اپنے نا م کا ایک ہی تھا اُس نے اُس رقم میں سے بڑا حصہ اپنے پاس رکھ کر باقی اُنہیں بھجوا دیا اور اپنی بیوی کے ساتھ بیرون ملک چلا گیا۔عالم، علیم جتنا سر پٹخ سکتے تھے جتنا شور مچا سکتے تھے اُنہوں نے مچا یا مگریہ سب اُن کے کسی کام نا آ یا تھا اُلٹا جو رقم ہاتھ لگی تھی اُس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ۔کچھ ہی دنوں میں وہ کنگال ہو گئے۔ایک گھر تھا اور جس کو بیچنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا اور اُنہوں نے ایسا ہی کیا۔کیونکہ گھر جتنا بڑا تھا اور اُس کے اخراجات بھی اُتنے ہی زیادہ تھے چنا نچہ اُنہوں نے گھر بکنے لگا دیا ۔
    اورگھر بکنے کے بعد جو رقم حاصل ہوئی اُس سے ایک چھو ٹا موٹا گھر خریدا گیا اور ایک دوکان ۔دودھ دہی کی دکان۔۔واحد چیز جو وہ کرنا جانتے تھے اور ان سب کے بعد اُن کے پاس جو آخری چند پیسے اُن کے ہاتھوں میں بچے اُس سے اُنہوں نے ایک بھینس خرید لی۔
    مگراُن کی وہ دکان اور بھینس زیادہ دیر نہ چل سکیں جو اپنے محدود علم کے ساتھ خرید کر لائے تھے۔بھینس بیمار تھی اور اُنہیں اس بات کا علم اپنے گھر لانے کے بعد ہوا۔علیم نے اُس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیراتو وہ مغموم آنکھوں سے ساتھ اُسے تکنے لگی۔علیم کا دل پسیج گیا،اُسے وہ سب بھینسیں یاد آ ئیں جو اُن کی کبھی ہوا کرتی تھیں۔اور یہ وہ دن تھا جب اُن سب کو اپنا وہ گھر اور پچھلا بہت سارا کچھ جو اُنکے پاس تھا ٹوٹ کے یاد آیا اپنے گھر چھوڑ دینے کے بعدپہلی بار۔۔۔
    اور یوں اُن کے پاس جو باقی پیسے بچے تھے وہ بھینس کے علاج معالجے میں خرچ ہوگئے۔لیکن اس سب کا کو ئی فا ئدہ نہ ہو ا بھینس چند دنوں میں چل بسی۔اب ایک دکان تھی اور وہ خود۔۔۔بے بس خالی ہاتھ۔خالی جیب۔
    بازار سے دودھ خرید کر دکان کی شر وعات کی گئی۔پتلا پانی سا دودھ جس کی سفیدی چغلی کھاتی تھی ،وہ اُنہیں منا فع تو کیا دیتا اُلٹا مزید نقصان ہو گیا۔چند دن دود ھ دہی بیچنے کے بعد مگر در حقیقت خالی دکان میں مکھیاں مارنے کے بعد اُنہوں نے دکان کا شٹر گرا دیا۔اور دکان بیچ دی۔دودھ دہی بیچنے کے سوا وہ اور کچھ نہیں جانتے تھے بلکہ شاید وہ کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔وہ بھینسوں کی دیکھ بھال کرنا جا نتے تھے،بھینسوں کے آگے چارہ ڈالنا دودھ دھونا اور اُن کی پیٹھ تھپک کہ اُنہی سے باتیں کرنا۔وہ جانتے تھے برفی بنا نا،لسی کے پیڑے بنا نا اور کنالیوں سے دہی نکال نکال کر شاپروں میں ڈالنا،یہ وہ کام تھے جو وہ کر سکتے تھے۔مگر اب وہ بھینسیں تھیں نا دودھ دہی۔۔۔سو وہ بیکار تھے۔وہ محنتی نہیں تھے وہ شوقین تھے اُس کام کے جو اُنہوں نے بچپن سے اب تک اپنے گھر میں ہوتا دیکھا تھا۔اس بُرے وقت میں اُن کے پاس اگر کچھ تھا تو وہ ایک مو ٹر سائیکل تھی جس پر کبھی وہ دودھ سے بھرے مٹکے رکھ کر بیچا کرتے تھے۔
    جب اُن کی جیبوں سے اور ہاجرہ کے دوپٹے کے پلو سے ایک ایک روپیہ ختم ہو گیا تو وہ باہر نکلے ۔۔اس بار کام کرنے کی غرض سے۔ایک جنرل سٹور پر علیم کو سیلز مین رکھ لیا گیا مگر عالم ابھی بھی فی الحال کو ئی کام ڈھونڈنے میں ناکام رہا تھا۔
    چند دنوں کی وہ امارت اب خواب و خیال سی لگتی تھی ۔وہ دولت جو کبھی آ ئی تھی مگر غلط استعمال کے باعث جیسے کہیں غائب ہو گئی تھی۔کوکو سوچتی،اچھا وقت جو زندگی میں ایک بار ہر انسان کی زندگی میں آتا ہے کیا ہمارا وہ اچھا وقت ہو کر گزر گیااب کبھی اچھے دن لوٹ کر نہیں آئیںگے۔۔۔؟ بے خیالی میں وہ اپنے لمبے بالوں کی ایک لٹ کو اپنی انگلی کے گرد لپیٹے جاتی۔” ابا کتنے اچھے وقت میں چلے گئے،اپنی اولاد سے خوش،مطمئن،اپنے گھر میں ۔” وہ گم صم رہنے لگی تھی اور وہ کیا سبھی عالم، علیم اور ہاجرہ۔آپس میں کو ئی بات نہ کرتے ۔مسکراہٹیں صرف خوش حالی کے دنوں میں ہی کیوں ساتھ دیا کرتی ہیں۔۔؟
    ہاجرہ کی آواز ضوفی کو سوچوں کے گرداب سے باہر کھینچ لائی تھی۔” عالم تیرے کام کا کچھ کب ہو گا۔اتنے خرچے ہیں کچھ سمجھ نہیں آتا کیا کروں۔” اپنے ماتھے پر دوپٹہ با ندھے ہاجرہ پریشانی سے استفسار کر رہی تھی۔عالم خاموش سا صوفے پر لیٹا تھا۔”اماں تمہارے سامنے روز ہی تو نکلتا ہوں ڈھونڈنے اب کیا کروں ،نہیں ملتا کو ئی کام۔” ” کام نہیں ملتا یا تیری مرضی کا نہیں ملتا؟” ہاجرہ بھری بیٹھی تھی۔اندر ہی اندر غم اُسے دیمک کی طرح چاٹ رہے تھے۔وہ عادل سے بھی شدید مایوس ہو ئی تھی،لا ئق فائق بیٹا کیسے دھوکا دے کہ نکل گیا مگر پھر سوچتی ضرور اُس کی چڑیل بیوی کا کمال تھا ورنہ میرا عادل تو ایسا نہیں تھا۔ہزار تاویلیں خود کو دیتی مگر دل کے کسی کونے میں اصل بات بھی چھپی بیٹھی تھی۔بیویاں تو بھڑکا تی ہی ہیں بیٹے اتنے بے دید ہوتے ہیں کہ فوراً ماں بہن بھا ئیوں کو چھوڑا اور نکل گئے اپنی دنیا بسانے۔
    وہ ایک ٹھنڈی سانس لے کر رہ گئی۔اب ساری اُمیدیں عالم، علیم سے تھیں،اپنے لیے نہیں ضوفی کے لیے۔کچھ ہاتھ سیدھا ہو تو ضو فی کی شادی کر دوں گی فوراً،وہ خامو ش گم صم بیٹھی ضوفی پر ایک نظر ڈالتی اور سوچ کے تانے بانے بنتی۔
    ”اماں کام کرنا چا ہتا ہوں میں خود بھی ،مجھے بھی فکر ہے گھر کی،تم ہر وقت مجھے طعنے دیتی رہتی ہو۔” ضوفی نے دونوں کو دیکھا اب ہا جرہ بھی آگے سے اُسے کچھ کہہ رہی تھی،یہ روز کا معمول ہو گیا تھا چھوٹی مو ٹی کتنی ہی لڑ ائیاں اب گھر میں دیکھنے کو ملتیں وہ سب ا یک دوسرے سے روٹھے روٹھے رہنے لگے تھے۔عالم زور سے دروازہ مارتا باہر نکل گیا ۔
    ()٭٭٭()
    عالم تو پہلے ہی فارغ بیٹھا تھا علیم بھی بیٹھ گیا۔دکان دار سے ایک شدید قسم کی لڑا ئی کے بعد وہ ٹوٹے دانت اور خون بہتے نا ک کے ساتھ گھر میں داخل ہو ا تھا۔ہاجرہ نے اُسے اس حالت میں دیکھ کر اپنا سینہ پیٹ لیا تھا۔” دکاندار نے مجھ پر چوری کا الزام لگا یا تھا میں نے انکار کیا تو لگا ہاتھا پائی کرنے۔” پوچھنے پر علیم نے شدید غصے کے ساتھ کہا تھا۔” کمینہ۔۔۔۔” اب وہ مغلظات بکنے میں مصروف تھا۔اور ہاجرہ کو نئی فکر لاحق ہو گئی۔”اب کیا ہو گا؟” اُس کے ذہن میں کچن گھوم گیا جو خالی تھا سوائے چند دنوں کے راشن کے اُس میں کچھ نہ تھا۔اور وہ بل بھی تو۔۔وہ چارپائی پر ڈھے گئی۔” ہونا کیا ہے کو ئی نیا کام ڈھونڈوںگا اب۔” علیم اپنے زخم سہلاتا اُٹھ کر اندر چلا گیا۔ضوفی جو پانی کا گلاس لیے اُس کے سر پر کھڑی تھی ،اُس کے سائیڈ سے نکل کر وہ چلا گیا۔ضوفی کو یاد نہیں پڑتا تھا آخری بار اُس کے بھا ئیوں نے کب اُس سے ہنس کر بات کر کے گئے تھے۔شاید بہت عرصہ پہلے۔۔۔مایوس چہرہ لیے وہ بھی گلاس تھامے اندر بڑھ گئی ۔ہاجر ہ ابھی تک اپنا سر تھامے بیٹھی تھی۔
    ()٭٭٭()
    علیم کی نوکری ہٹی تو عالم ایک ورکشاپ پرکام کرنے جانے لگا مگر جس طرح اچانک اُسے کام ملا تھا اچانک ہی ختم بھی ہو گیا۔گھر میں ایک مرد کمانے نکلتا تو دوسرا فارغ ہو جاتالیکن پھر ایک ایسا وقت آیا جب دونوں اپنے اپنے کام سے نکال دئیے گئے۔اور گھر میں فاقے ہونے لگے تبھی وہ واحد مو ٹر سائیکل اُن کے پاس موجود تھی وہ بھی بیچ دی گئی اور چند دن مزید گزارے گئے مگر کب تک ۔۔ایک بار پھر سے بھوک نے اُن کے گھر پر پنجے گاڑ دیے اور یہی وہ وقت تھا جب عالم کی دوستی کاشف سے ہو گئی۔
    کاشف پہلے بھی بہت بار اُس کے حالات دیکھتے ہوئے اُسے اپنے ساتھ پارٹنر شپ کرنے کا کہہ چکا تھا مگر تب حالات اتنے خراب نہیں تھے کہ وہ اُس کا ساتھ دینے لگتا مگر اب جب وہ مکمل ما یوس تھا تو اس بارے میں سوچنے لگا تھا۔
    کاشف نے اُس کی سوچ پڑھ لی تھی تبھی وہ اُسے ” پستول ” کا استعمال سمجھانے لگا تھا۔” اب بس پریشانی کے دن ختم۔۔میرے بھا ئی خوش ہو جا۔۔” پان کی پیک تھو کتے ہوئے کاشف نے اُس سے کہا تھا اور ایک سگریٹ کی ڈبی نکال کر ایک سگریٹ اُس کے ہاتھوں میں بھی زبردستی ٹھو نس دیا ۔
    ()٭٭٭()
    کسی ہجرت کر جانے والے پرندے کی طرح وہ تینوں وہاں گلگت میں رہنے لگے۔مگرایک دن کاوش نے گلگت میں ہوٹل کھولنے سے انکار کر دیاجب اُس کے ہاتھ وہ پیغام لگ گیا۔مینیجر کا پیغام۔۔جو اُس کے بچپن میں اور پھر جوانی تک اُن کے گھر آتا رہا اور کا وش کے ہاتھ کے بنے لذیذ کھانے بے شمار تعریفوں کے ساتھ کھا تا رہا مگر اب وہ اس پیغام میں کیا پیغام دینا چاہ رہا تھا۔کاوش کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔اُس نے بابا خان کو پہلی بار انکار کر دیا۔گلگت میں ہو ٹل کھولنے کی بجائے وہ شہر میں ہو ٹل کھولنے کے پیچھے پڑ گیا۔جہاں وہ چترالی کھا نوں کی دھو م مچا دیتا۔مگر بابا خان نہیں مانے وہ سخت برا فروختہ نظر آتے تھے۔
    ” تم واں نہیں جا ئے گا ۔بس۔۔” ہاتھ اُٹھا کر اُنہوں نے منع کر دیا ۔” بابا خان ام وہاں جانا چاہتا ہے۔” کاوش نے ضدی لہجے میں کہا۔” کاوش جب تم یہاں پہ ہو ٹل کا جگہ دیکھ آ یا ہے کچھ دنوں میں کام شروع کرنے والا اے پھر تم کیوں ایسی ضد لگا تا ہے بچے۔۔؟” باباخان بے بس نظر آنے لگے۔
    ” بابا خان میں دکھانا چاہتا ہوں اُنہیں کہ ۔۔امارے کھانے کسی سے کم نہیں ہیں ۔ام اُن کو۔۔” باباخان نے اُسے مزید بولنے سے رُوک دیا۔” تم نہیں سمجھتا کاوش یہ اتنا آسان نہیں ہوتا ہے جتنا تم سمجھ رہا ہے ۔تم۔۔تم بس نہیں جائے گا۔” باباخان نے ایک آخری بار اُسے تنبیہہ کی اور چوکھٹ میں کھڑی زرمستہ کے پاس سے گزر گئے۔ زرمستہ جو یہاں آ کر اب اپنا کا لا شالباس نہیں پہنتی تھی مگر اپنے سر پر وہ پا کول(ٹوپی) اب بھی پہنے رکھتی تھی گویا اپنے لباس کے ساتھ رشتہ جو ڑے ہوئے تھی۔

  • نجات دہندہ — ردا کنول (پہلا حصّہ)

    نجات دہندہ — ردا کنول (پہلا حصّہ)

    بڑے سے کشادہ اور روشن کچن میں اُسے ایک ٹانگ پر کھڑے چار گھنٹے بیت گئے تھے۔کچن اس وقت تمام باورچیوں اور اُن کے معا ونین سے خالی تھا اور باقی معمول کے دنوں جیسی ہڑ بونگ اور افراتفری نظر نہیں آتی تھی حتی کہ فرائنگ پینز میں تیزی سے چلتے چمچ، کٹنگ بورڈ پر روانی سے چلتی چھری کی آواز ، تیزی اور کچھ عجلت میں اندر آتے ویٹرز کی آوازیں جو آرڈرز اپنی تیز آواز میں دہراتے اور کھانے کی پلیٹس تھامے اُسی طرح باہر نکل جاتے، سب کچھ جیسے کسی طلسمی طاقت کے زیر اثر غائب تھا، اور صرف ایک اکیلا وہ تھا اُس کچن میں موجود جو ہمہ وقت باورچیوں سے بھرا رہتا تھا اور جہاں کھانے بڑی تعداد میں چو لہوں پر چڑھے رہتے تھے مگر اس وقت وہ اپنے تمام باورچیوں کو چھٹی دئیے ہوئے تھا حا لا نکہ وہ جانتا تھا عالمی چھٹی والے دن شہر کے تمام ہر قسم کے ہوٹلوں میں معمول سے کہیں زیادہ رش ہو تا تھا اور یہ بات نہ صرف ہوٹل کے مالکوں کے لیے جہاں ایک خوشی کا عجیب سا احساس لیے ہوئے ہوتی تھی بلکہ وہ مصروفیت اور ہیجان کے ملے جلے تاثرات بھی اپنے اندر رکھتی تھی۔لیکن اُس نے ان تمام باتوں کو جانتے ہوئے بھی جیسے انجان بنتے ہوئے اپنے ہوٹل کے باہر ”کلو زڈ” کا بورڈ لگا رکھا تھا اور خود وہ جیسے ایک دعوت کا انتظام کرنے میں مصروف تھا۔لیکن ایسا صرف اُس کو بے انتہا مصروف اور ہیجان سے بھرپور ادھر اُدھر بھاگتے ہوئے کام کرتے ہوئے دیکھ کر لگتا تھا ایسا ہے نہیں تھا ۔وہ کو ئی بڑی دعوت نہیں تھی جو اب سے کچھ دیر بعد ہوٹل کے سب سے خوبصورت ٹیبل پر لگنے والی تھی۔
    وہ ایک بڑے کوکنگ رینج کے سامنے کھڑا تھا جس پر رکھی مٹی کی کڑاہی میں گا ڑھا شوربا اُبل رہا تھا۔” کیا وہ اس کو پسند کرے گی؟” اُس نے اپنے دل سے پوچھا تھا، کو ئی خاطر خواہ جواب نہ آنے پر وہ تند دہی سے دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہو گیا ۔
    ” ہر اچھی پکی ہوئی چیز چکھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔” شاید دل ہی دل میں اپنے آپ کو تسلی دیتے ہوئے اُس نے جیسے ایک تو جیہہ اپنے آپ کو دی تھی۔لکڑی کے چمچے کو وہ آہستگی سے شوربے میں چلانے لگا تھا۔
    جب وہ یہاں آیا تو یہ بات وہ جان گیا کہ کھانے اور رسومات بھی سفر کرتی ہیں۔اُس سے پہلے تک وہ انجان تھا ،میدے کی بنی وہ لمبی لڑیاں جسے وہ اپنی خاص ڈش ”کالی (kalli)” میں استعمال کرتے تھے کبھی اُسے اس طرح بھی ملیں گی۔پیکٹس میں ترتیب سے ڈالی ہوئی ،لیکن بہت جلد اُس نے اس بات کو تسلیم کر لیا کہ تا زگی اور عمدگی ہمیشہ اُسی چیز میں موجود ہوتی ہے جو اپنے ہاتھ سے پکانے سے کچھ دیر پہلے تک بنا ئی جانے والی چیزوں میں مو جود ہو تی ہے ۔
    جب اُس نے چیزوں کو جان لیا اور تازگی اور بو سیدہ چیزوں میں سے کسی ایک چیز کے انتخاب کرنے کا مو قع اُس کے پاس آیا تب اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ تازگی کو اپنائے گا۔یہ جیسے اپنی تہذیب و ثقافت سے جڑے رہنے کی ایک کوشش تھی۔مٹی کے برتن جو اُن کی اپنی وادی میں اب بہت کم استعمال کیے جاتے تھے وہ اُنہیں اب بھی بروئے کار لا رہا تھا وہ کھانا پکانے کے لیے مٹی کے برتن جبکہ اُن کو پیش کرنے کے لیے لکڑی کے برتن استعمال کرتا تھا۔وہ نہیں جانتا تھا وہ کیوں ایسا کر رہا تھا شاید اُس بیان کی وجہ سے جو بہت پہلے بابا خان نے کبھی اُنہیں دیا تھا یا پھر یہ وہ محبت تھی جو اُس کے خون میں رچی بسی ہو ئی تھی اور اُسے ایسا کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔
    اُس کے ہاتھ برق رفتاری سے کام کر رہے تھے اور اپنی دوسری ڈش کو بنانے سے پہلے بھی ایک بار پھر سے وہ اپنے آپ کو وہی سوال دہرانے سے روک نا پایا تھا۔یہی کہ وہ اس کو پسند کرے گی یا نہیں؟؟
    حُمس ساس کے تما م ا جزا ء کو تیز چنگھا ڑتی آواز کے ساتھ اُس نے بلینڈ کیا تھا اور لکڑی کی سادہ مگر خو بصورت پیالی میں نکالنے کے بعد بلآخر اپنے ہاتھ پو نچھتے ہوئے وہ ر یفر یجر یٹر کی طرف بڑھا تھا ۔اپنے ہاتھوں میں ٹراؤ ٹ فش کی ٹرے پکڑے وہ واپس شیلف تک آیا تھا۔وہ مچھلی جو اُس کی یادوں سے جڑی تھی۔وہ اُسے یاد دلاتی تھی اُن بہت سی باتوں کی جو کبھی اُس کی زندگی کا ایک اہم جز رہی تھیں۔
    ٹراؤٹ کی چمکدار سطح پر تیز چھری سے بڑی مہارت کے ساتھ اُس نے ایک دوسرے سے تھوڑے فا صلے پر کٹس لگانے شروع کیے تھے۔ اب سے کچھ عرصہ پہلے جب وہ مچھلی کو دیکھتا تو ایک ہی چہرہ اُس کے ذہن میں گردش کرنے لگتا اُس کے لبوں پر ایک مسکرا ہٹ بکھر جاتی۔ایک دکھ بھری مسکراہٹ۔۔
    ”مر چیں تمہیں اتنی پسند کیوں ہیں تیکھی مرچ؟”کچھ اسی قسم کے مذاق جو وہ ایک دوسرے سے کیا کرتے لیکن ایسا صرف تب ہوتا جب وہ مصروف سے کام کر رہے ہوتے اور جب اُنہیں اس بات کا ادراک ہوتا کہ دونوں اکٹھے ہی کسی بات پر ہنس پڑے ہیں ،تو وہ فورا سنبھل جاتے اور یوں اپنے کا م میں مگن ہو جاتے جیسے کو ئی بات نا ہوئی ہو۔اُن کے دل زور زور سے دھڑکتے اُس وقت تک جب تک کہ کو ئی دوسری بات نہ شروع ہو جاتی۔

    اب بھی اُس نے غیر ارادی طور پر مرچوں کی مقدار زیادہ رکھی تھی۔ جبکہ خود اُس کے اپنے اندر اب بھی وہ بچہ موجود تھا جو کھانا کھاتے ہوئے ذرا سی مرچیں لگ جانے پر سی سی کرتا تھا اور اُس کے سفید گال دہک اُٹھتے تھے اور آنکھیں پانی سے بھر جا تی تھیں مگر اس باراُس نے کوئی اختیاط نہیں کی تھی۔بے تحا شہ لمبی تا زگی سے بھر پور موٹی اور کچھ تر چھی کٹی سبز مر چوں کو چا قو کی مدد سے کسی قدر مہارت اور بر ق رفتاری سے کٹنگ بورڈ سے ٹراؤٹ کے مسالہ لگے ٹکڑوں میں پھیلا یا اور اُسی مہارت اور تیزی کے ساتھ ٹکڑوں کو سلور پیپر میں لپیٹا اور اوون میں رکھ دیا تھا لیکن رکھنے سے پہلے اُس نے اُس گول اور سبز چیز کے چند ٹکڑے کیے تھے اور اُنہیں مچھلی پر پھیلا دیا تھا ،یہ یقینا اس کو مزید مزیدار بنا ئے گی،اُس نے دل میں سوچا تھا۔
    یہ اُس کی آج کے دن کی آخری ڈش تھی اور جس کے بے حد لذیذ ہونے کا وہ گا رنٹی سے کہہ سکتا تھا۔حا لانکہ آج کے دن وہ اس ڈش کو تیار کرتے ہوئے اپنے اب تک کے کیر یئرمیں سب سے زیادہ کنفیو ژ تھا ۔
    اپنے ہاتھوں کو صاف رومال سے پو نچھنے کے بعد وہ ایک بار پھر اُس بڑے ریفریجر یٹر کی طر ف بڑھا تھا۔اس بار وہ کسی قسم کی عجلت میں نہیں تھا اور کسی قدر سر شاری اُس کے قدموں میں محسوس کی جاسکتی تھی۔اپنے پیروں میں جھومتے ہوئے اُس نے اپنا مخصوص رقص کیا تھا اور گول گھوم گیا تھا،اور وہ خود ہی جیسے کچھ کچھ حیران سا اور خوشی سے بھر پور گنگناتے لبوں کے ساتھ مسکرا دیا تھا۔
    آج جیسے سب نیا اور حیران کن تھا خود اُس کے لیے۔۔۔وہ جو پچھلے کئی سالوں سے اپنے روایتی گیتوں اور رقص سے انجان تھا اور جیسے اُنہیں اپنی زندگی سے الوادع کہہ چکا تھا ۔۔لیکن آج بھی وہ اُ س کے ساتھ تھے بالکل روز اول کی طر ح ،وہ خوش تھا اپنی ان پُرانی یادوں کو تازہ کرکے اور اس ۔۔۔نئی یاد کے ساتھ جو اُسے زندگی کے رنگ دوبارہ لُٹا رہی تھی۔اُس نے ایک نظر اپنی کلائی میں بندھی گھڑی پر ڈالی تھی۔وہ وقت کی پابند تھی اور یہ بات وہ بخوبی جانتا تھا۔
    ریفر یجر یٹر کے ہینڈل پہ ہاتھ رکھے وہ مختلف سوچوں میں غرق تھا۔Kalli،ٹراؤٹ فش ،حُمس ساس اورMantu تو ہوتے ہی ،اپنے ذہن میں مینیو ترتیب دیتے ہوئے اُس نے سوچا تھا مگر واحد مسئلہ جو اُسے پیش آیا تھا۔وہ یقینا میٹھے کا تھا۔کچھ ایسا جسے وہ پسند کرتی۔کیا مکھن اور سوکھی خوبانیوں سے بنی مزیدار بریڈ، چیریز سے بھری ہوئی کھویا پڈنگ یا پھر کھو پرا ٹافی،لیکن وہ ان سب کو رد کرتا رہا اورکچھ ایسا بنانے کا سوچنے لگا جس کی پریزنٹیشن ہی اُسے حیرانی میں مبتلا کر دے اور بے اختیار کھانے پر مجبور۔۔۔
    بلا آخر اُس کی نظر انتخاب رشین میٹھے بر ڈز ملک کیک(Bird’s Milk Cake) پر جا رُکی تھی۔تین خوب صورت گلابی غلاب چڑھے چاکلیٹ بالز جو اب تک خاصے ٹھنڈے ہو چکے تھے اور جنہیں وہ اب ترتیب سے سو فلے پر رکھی کریم اور چا کلیٹ گلیز(glaze) لگانے والا تھا۔یہ ایک محنت طلب اور کہیں زیادہ یکسوئی سے کرنے والا کام تھا۔وہ جتنی احتیاط برت سکتا تھا اُس نے برتی اور باری باری تینوں بالز کو ٹرے میں سے اُٹھا یا اور ترتیب سے رکھنے لگا۔جب اُس نے تینوں بالز کوگلیز پر جما دیا تو اُس نے ایک اور پتلی کسی سٹک کی مانند جمی ہوئی گلیز کو اُن تینوں پر احتیاط سے رکھ دیا۔یوں جیسے کسی بھورے پرندے کا پر آہستگی سے زمین پر گر گیا ہو۔پلیٹ کے بالکل بیچ تھوڑا تر چھا کر کے رکھے اُس خوبصورت کیک کے دائیں جانب اُس نے چیریز کا وہ گا ڑھا مربع رکھا اور اسی طرح بائیں جانب۔تازہ پو دینہ وہ اُس کو پیش کرنے سے پہلے رکھتا،پلیٹ پر ایک آخری تو صیفی نگاہ ڈالتے ہوئے اُس نے سوچا تھا اور احتیاط سے اپنے ہاتھوں میں اُٹھا ئے وہ اُسے واپس ریفریجر یٹر میں رکھنے والا تھا جب وہ چونکا تھا اُسے اپنے ایپرن کے نیچے سینے کے پاس تھر تھرا ہٹ محسوس ہو ئی تھی۔ایک ہاتھ سے فون کان سے لگا ئے دوسرے سے پلیٹ تھامے،وہ چلتا رہا تھا اُس جانب جہاں ریفر یجر یٹر تھا۔
    اُس کے لبوں سے اب تک سوائے ہیلو کے اور کو ئی الفاظ نہیں نکلے تھے لیکن یکدم جیسے اُس کے چہرے پر تا ریکی سی پھیل گئی تھی اور وہ وہیں کھڑا کا کھڑا رہ گیا۔اُس کی سرخ و سپید پیشانی عرق آلود ہو ئی تھی اور ہاتھ میں موجود پلیٹ بے اختیار اُس کے ہاتھوں سے اُلٹ گئی۔
    وہ سن سا کھڑا تھا تبھی اُس کا فون والا ہاتھ دھپ سے نیچے گرا ۔اُس کے پیروں سے ننھی ننھی چیریز ٹکر کھاتے ہوئے دور تک لڑھک گئی تھیں اور چاکلیٹ کی نرم بالز اپنے گلابی غلاف کے ساتھ زمین پر لکیر کا نشان چھوڑتے ہوئے مختلف چیزوں سے ٹکرائے تھے اور بلآ خر بدشکل اور بھدی صورت میں تبدیل ہو گئے ۔وہ دیر تک یونہی کھڑا رہا حتی کہ کچن میں ہر طرف سڑن کی بو پھیلی تھی اور اوون سے دھواں نکل کر چہار سو پھیلنے لگا ۔ ناک میں گھستے ہوئے دھواں کی بو سے بلآخر اُسے ہوش آیا تھا اور وہ کھا نستے ہوئے تقریبا بھا گا تھا لیکن پیروں میں موجود بہت ساری چا کلیٹ اور جیلی جیسے اُسے چپک گئی تھی اور وہ گرتے گرتے بچا تھا،بمشکل اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے وہ اوون تک گیا اور بے تحاشہ کھانستے ہوئے اوون کھول کر بد حواسی کے عالم میں بغیر گلوز کے ٹرے باہر نکالنے کی کو شش میں اپنے ہاتھوں کے ساتھ ساتھ پاؤں بھی جلا بیٹھا تھا ۔
    ٹرے اُس کے پاؤں کے اُوپر گری تھی اور ٹراؤٹ سیاہ لکڑ کی صورت زمین پر بکھری پڑی تھی۔
    یہ اُس کے سارے دن کی محنت تھی اور جسے وہ اب ما یوسی بھری آنکھوں کے ساتھ زمین پر بکھرا ہوا دیکھ رہا تھا۔اُس معروف ہوٹل کے کچن میں جیسے ایک طوفان آ کر گزر گیا تھا۔اور اُس کا مالک اپنا سر پکڑے کاؤنٹر کے ساتھ ٹیک لگا ئے بیٹھا تھا۔
    ()٭٭٭()
    اے دق ( لڑکے)۔۔کیا کرتا اے تم؟ھو سئی ماں اس قدر زور سے دھا ڑیں کہ اُن کے اپنے گلے میں خراشیں سی پڑ گئیں مگر جلدی سے تھوک نگلتے ہوئے اپنے خشک گلے کو تر کرتے ہوئے اُنہوں نے ہاتھ چلا کر اپنے سامنے پڑے پھل کو بچانے کی سعی تھی۔
    دیوہ ، پشمینہ،گل مکئی اور زرمستہ وہ سب اس وقت بوڑھے گھنے اخروٹ کے درخت کے نیچے مو جود تھیں ،کھلکھلا اُٹھیں۔اور یہ چیز جیسے اُس گول مٹول سرخ و سپید لڑکے کو مزید شہہ دے گئی۔ اُس کے گال شرارت اور خوشی، کہ وہ نظروں میں رہتا ہے اور جانتا ہے کہ بے انتہا لاڈلا ہے ، کے احساس کے ساتھ مزید پھولتے اور وہ اُن سب کے درمیان میں سے بھاگتا اور آوازیں نکالتا رہا۔وہ ہانپ رہا تھا مگر اُس کے چہرے کی مسکراہٹ کسی صورت کم ہونے میں نہیں آ رہی تھی اور لال ٹما ٹر ہوتا چہرہ مسلسل ہنسی بکھیررہا تھا ۔
    صحن بہت بڑا نہیں تھا مگر جتنا تھا وہاں بہت ساری چادریں قطار در قطار بچھی تھیں اور طرح طرح کے پھل اپنی تقریبا ختم ہوتی رنگت کے ساتھ زمین پر بچھے تھے۔سرخ چیریز،پیلی اور کچھ کچھ نا رنجی خو بانیاں،گلابی کی چھب دکھلاتے کالے شہتوت ،رس سے پُر سیب اور اُن سب کو اپنے سا منے پھیلائے وہ چار وں بہنیں اور ھو سئی ماں۔ گل مکئی اور دیوہ سوکھی خوبانیوں جبکہ پشمینہ شہتوتوں میں سے خراب کو علیحدہ کرتی جا رہی تھیں۔
    زر مستہ نے ایک نظر اُٹھا کر اخروٹ سے بھرے درخت کی طرف دیکھا ،اُس کے ہاتھ برابر چل رہے تھے۔” بر مو گھ(اخروٹ) اس بار بو(بہت) ہوا ھو سئی ماں۔” اُس نے سرخ رس بھرے سیب کے چار ٹکڑے کیے اور اُنہیں اپنے سامنے پڑے لکڑی کے معمول سے کچھ بڑے پیالے میں اُچھال دیا۔” آں۔۔۔ام بی یہی سوچتا اے ۔جب یاں آیا تھا تو امارے گھُل(وادی) میں اتنا برموگھ نہیں تھا ،گل مکئی اور دیوہ نے ایک دوسرے کو دیکھ کر دانت نکوسے کچھ ایسا ہی لڑکے نے بھی کیا مگر ھو سئی ماں مگن سی اپنے کام میں مصروف بولتی چلی جا رہی تھیں،ام اس درخت کے نیچے کھڑا بوکھت (پتھر) مارتا رہتا اور بر موگھ توڑتا رہتا پھر ایک دن۔۔لڑکے نے بات کاٹ دی ،پھر ایک دن دُن(دانت) ای ٹوٹ گیا۔بے تحاشہ ہنستے ہوئے اُس نے بات مکمل کی۔ھو سئی ماں نے غصے سے اُسے کچھ مارنے کے لیے ادھر اُدھر دیکھا مگر کچھ نا ملنے پر ایک خراب چیری اُٹھا ئی اور اُسے لڑکے کی جانب اُچھال دیا۔لڑکا برابر ہنستا رہا اور چاروں لڑکیاں بھی۔
    ھو سئی ماں خود بھی اُن دنوں کو یاد کر کے مسکرا دیں جب وہ دُلہن بن کر اس گھر میں آئیں اور کیسے یہاں اُنہوں نے اپنی جوانی،کیونکہ جب اُن کی شادی ہوئی وہ صرف تیرہ سال کی تھیں،گزاری یہاں اُنہوں نے اپنا بیٹا پیدا کیا،ایک کڑیل جوان لڑکا جس کے گال سرخ رہتے اور پیشانی پر ایک بھورا تل جسے یاد کر کے اُن کی آنکھیں بھیگ گئیں۔زر مستہ نے ھو سئی ماں کی جانب دیکھا اوربا قی سب نے بھی۔یکدم وہ سب رنجیدہ نظر آنے لگے لیکن پھرزرمستہ نے اُنہیں مزید کسی یاد کے بھنور میں پھنسنے سے روکنے کے لیے ایک آزمودہ کو شش کی۔” اچھا تو برموگھ کیسے تم اپنے دُن (دانت) سے توڑ رہیں تھیں؟” ھو سئی ماں نے اپنے آنسو پو نچھے اور اشارے سے بتانے لگیں۔”بر موگھ( اخروٹ) بالکل بوکھت (پتھر) تھا یہ اپنے منہ میں رکھا اور دُن( دانت) باہر۔” ھو سئی ماں خود بھی ہنس پڑیں۔” یاں گھُل (وادی)میں سف (سب)کہتا تھا تمارے بابا خان کو۔۔ دُن ٹوٹی بوق(بیوی) والا۔ہزار بار کا سنا ہوا قصہ سن کر وہ سب ایک بار پھر سے ہنس پڑے۔پورے دل کے ساتھ کہ بعض سنے ہوئے قصے بار بار مزہ دیتے ہیں۔
    زمین پر رنگ ہی رنگ بکھرے تھے کچھ مرجھاتے ہوئے اور کچھ تا زگی سے بھرپور۔۔
    اپنے مخصوص کالے لبا س کو رنگ برنگے لال، سبز، نیلے ، پیلے گل بو ٹوں سے سجائے وہ سر پر تکونی ٹوپیاں رکھے بیٹھی تھیں جن پر جنگلی پرندوں کے پر شان سے لگے تھے اور وہ خود سرخ رخساروں کے ساتھ مہارت سے ہاتھ چلاتے ہوئے گلے سڑے اور ناکارہ پھلوں کو علیحدہ کرتی جا رہی تھیں۔اپنے ارد گرد بھا گتے دوڑتے بچے کی شرارتوں سے وہ کھلکھلا کر ہنس پڑ تیں اور ہو ۔۔ہو ۔۔ہے ۔۔ہے کی آواز ایک کورس میں نکالتیں۔
    یکدم لڑکے نے جست بھری اور اپنے لمبے لٹکتے سویٹر کے کونے کو پکڑ کر ہوا میں اچھلا اور کسی پرندے کی طرح جھپٹتے ہوئے سامنے رکھی سوکھی خوبا نیوں کے ڈھیر میں سے مٹھی بھر خوبا نیاں ضبط کیں اور ایک بار پھر سے بھا گتے دوڑتے ہوئے کچر کچر چبانے لگا ۔
    ”ام آخری بار تم کو کہہ رہا ہے شرافت سے نیچے بیٹھ جا اور ڈنڈی مارنا بند کر ورنہ ام خود اُٹھے گا۔” پیچھے ساؤنڈ میوزک کی طرح بہت ساری دبی دبی ہنسی کی آواز گو نجی تھی۔لڑکے پہ جیسے کو ئی اثر نہیں ہوا تھا اور اُس کی رفتار کچھ مزید تیز ہو گئی تھی۔
    ”کا وش خان ۔۔۔ او کاوش خان۔۔جلدی کرو ادر آؤ دیکھو ام کیسی عمدہ چیز لایا اے۔”
    بہت ساری خوبا نیا ں اُس کے ہاتھ سے چھو ٹی تھیں اور زمین پر بکھرتی چلی گئیں تھیں۔کاوش خان منہ کھولے ساکت کھڑا تھا اور بھاگنا چھوڑکر یک ٹک اپنے سامنے کھڑے بابا خان کو دیکھ رہا تھا جو دھاڑ سے دروازہ کھولتے ہوئے ٹوکری والا ہاتھ فضا میں بلند کیے خوشی اور جوش سے بھرپور چہرے کے ساتھ کندھے اکڑا ئے کھڑے تھے۔
    چاروں لڑکیوں نے بھی نظریں اونچی کر کے دروازے کی سمت دیکھا تھا اُن کی بڑی بڑی نیلی اور کچھ کی سرمئی رنگت لیے ہوئے آنکھیں جیسے حیرانی سے پھیل گئی تھیں۔
    کاوش خان اُڑتا ہوا باباخان کے سر پر پہنچا تھا۔”بابا خان اتنی جلدی لے آیا تم؟؟ابی تو یہ پھول پوری وادی میں کھلا بھی نہیں تم کہاں سے لے آیا۔” کاوش خان نے تیزی سے اُن کے ہاتھ سے ٹوکری جھپٹی تھی اور نرم ہاتھوں سے پھولوں کو چھو کر دیکھنے لگا تھا۔اُس کی آنکھوں کا اشتیاق دیدنی تھا۔
    ”ام تمارے واسطے اُوپر جنگل میں چلا گیا تھا۔” باباخان نے اُس کے خوشی سے بھر پور پھولے پھولے گالوں پر پیار سے ایک چپت رسید کی تھی اور سفید پنکھ سے سجی چترالی ٹوپی اُتار کر اپنے ہاتھ میں پکڑ ے اندر کی طرف قدم بڑھا دئیے تھے۔
    ” اس کے واسطے تم کو اتنی اُوپر جانے کا کیا ضرورت تھا۔اس کا تو ویسے ای دماگ کھراب اے۔” ھو سئی ماں نے آخر میں اپنا تڑکا لگا نا ضروری سمجھا تھا۔
    ”آں۔۔۔ابی تم باتیں بنا تا اے جب یہ بنائے گا تو سب سے زیادہ چسکا تم ای لگا ئے گا۔” وہاں موجود سب لڑکیوں کے منہ سے جیسے ہنسی کا فوارہ پھو ٹ پڑا تھا حتی کہ خود ھو سئی ماں قدرے منہ موڑے اپنی ہنسی ضبط کرنے لگی تھیں۔مگر جواب دینا بھی لازم تھا سو پھر سے منہ موڑے بظاہر سوکھی چیریز کے ڈنٹھل علیحدہ کرتے ہوئے کہنے لگی تھیں۔
    ”ام کو تو لگتا اے تمارا بھی اُوپر جانے کا سوچ اے جو تم باگ باگ جاتا اے اُوپر والی وادی کو۔” ھو سئی ماں کے سو کھے جھر یوں زدہ چہرے پہ مسکراہٹ بکھری تھی اور ہاتھ میں پکڑی سوکھی چیری کو ڈنٹھل سے الگ کرتے ہوئے چیریز کے ڈھیر میں پھینک دیا تھا جو بالکل اُس ہی کی طرح اپنی اصل رنگت کھو چکی تھیں اور جن میں مو جود رس اب پہلے سے قدرے کم ہو چکا تھا لیکن ابھی بھی وہ کسی قدر اُن میں مو جود تھا،وہ خوش نما اور لذت سے بھر پور ابھی بھی تھیں۔
    ” تما را یہ خوشی ام اتنی جلدی پورا نہ ہونے دے گا ،ابی تو تمارے جانے کا وقت اے ،ابی اُوپر ام تماری ام جو لیوں (ہم جولیوں) کو دیکھ کے آیا اے۔۔ کیسے مزے میں وہ خلاؤں کو گھور را تھا تم بی جاؤ نا اور خلاؤں میں گھو رو ایسے ای تم یاں پہ اما را سر کھا تا اے۔”
    گل مکئی دھیمے سے چلتی ہوئی آئی اور پانی کاکٹورہ بابا خان کے ہاتھوں میں تھما دیا۔پانی ٹھنڈا اورمزیدار تھا اس قدر کے اس علاقے سے بہت دور بسنے والے لوگ شاید یہ بات ساری زندگی نا جان سکیں کہ پانی بھی کبھی اتنا لذیذ اور شفا سے بھرپور ہو سکتا ہے جتنا کہ وہ یہاں پر موجود تھا۔ ”اپنی وادی کا پانی بھی نعمت ہے۔” باباخان نے اپنے د ل میں سو چا،مگر اس دوران بھی وہ ھو سئی ماں کی بات کا جواب دینا نہ بھولے۔
    کالاش میں یہ رواج تھا بوڑھے جب شدید بوڑھے ہو جاتے تو وہ اُوپر چلے جاتے پھر وہ پہاڑوں کے دیو قامت پتھروں پر بیٹھے خلا میں گھورتے رہتے جیسے اپنی موت کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہوں اور وہ تب تک اُسی طرح بیٹھے رہتے جب تک کہ موت اُنہیں اپنی آغوش میں نا لے لیتی۔اس دوران وہ اتنے اجنبی اور کچھ اس قدر ڈراؤنے لگتے کہ سیاح اُن سے کنی کتراتے اور دور سے ایک نظر ڈالنے کے بعد وہ پھر اُن کے پا س بھی نہ پھٹکتے۔
    ھو سئی ماں نے میدان جنگ چھوڑا اور ہنہ کہہ کر دوبارہ سے چن چن کر خراب چیریز الگ کرنے لگیں۔
    با باخا ن کاوش کی جانب متو جہ ہوئے جو اب ٹوکری میں سے رنگین اور تازہ پھول نکال کر اُن پہ سے ہلکا سا پانی نتھارنے کے بعدٹوکری میں موجود سلاد کے پتوں اور کچھ جڑی بو ٹیوں کو اچھی طرح دھونے لگا تھا جن پر مٹی کی تہیں جمی تھیں۔
    ”آں تم نے تیار ی شروع کر دیا چلو پھر ام بی ہاتھ شاتھ دھو کے آتا اے تم تو پانچ منٹ میں بنا لے گا۔”پشمینہ نے اُنہیں دیکھا تو کہنے لگی۔” کھانا لگا دو ں پھر باباخان؟” ” ہاں ہاں لگا دو۔” باباخان نے اُٹھتے ہوئے ہاتھ فضا میں بلند کر کے کہا اور اندر تاریک کمرے میں غائب ہوگئے۔
    اپنے ہاتھوں سے چھری کو مہارت سے پکڑے وہ سلاد کے پتے کاٹتا جا رہا تھا اور بابا خان کی بات پر مسکرا کر پھر سے اپنے کام میں جت گیا تھا۔سارے پھولوں اور جڑی بو ٹیوں کے بعد بلا آخر ٹوکری میں سے کا ویرکی کلیوں کو برآمد کیا تھا اور تیز چھری سے اُنہیں کاٹنے لگا تھا۔
    ()٭٭٭()

  • معطّر فضاؤں کے راہی — فرزانہ روحی اسلم (دوسرا اور آخری حصّہ)

    معطّر فضاؤں کے راہی — فرزانہ روحی اسلم (دوسرا اور آخری حصّہ)

    سنو! میں شکاگو جاکر اپنی اسٹڈیز پر توجہ دوں گا۔ اچھا ہے وہاں رہتے ہوئے کچھ حاصل ہوجائے۔”
    ”ہاں… میں بھی یہی سوچ رہی تھی کہ وہاں بڑھانے کے ساتھ ساتھ آپ خود بھی پڑھیں۔” نورین نے مشورہ دیا۔
    ”سارے پروسسز میں تین ماہ تو چاہیے ہے۔ تبھی ہم وہاں جاسکتے ہیں۔ چند اور دوستوں سے رابطہ کیا ہے۔ جو وہاں ایجوکیشن سے وابستہ ہیں۔ انشاء اللہ اچھے مشورے سے نوازیں گے۔”
    ”جانے سے پہلے سب سے ملاقات ضروری ہے۔ یعنی تمہاری امی اور بہنیں اور جاوید کے بھائی وغیرہ۔” شہزاد نے کہا۔ اور ایک دن ان سب کو اپنے گھر مدعو کیا۔ بہت عرصے بعد ان سب کی روبرو ملاقات ہورہی تھی ورنہ اپنا آپ سنبھالنے پر ہی زیادہ وقت لگ گیا تھا۔ اس کی ممی نواسی ہنی کو سینے سے چمٹائے بیٹھیں تھیں۔ دونوں بہنیں گھر میں اڑتی پھر رہی تھیں۔ ان کی خوشی تو دیدنی تھی۔ طرح طرح کے مشوروں سے نورین کو نواز ے جارہی تھیں۔
    اسی وقت طاہرہ لیپ ٹاپ پر آن لائن ہوگئی۔ ورنہ تو یہ سب کب سے اس کا انتظار کررہے تھے۔ سب جھمگٹا بنا کر وہیں گھس گئے۔ بے بی کو اٹھا اٹھا کر دکھانے لگیں۔ دوسری طرف طاہرہ کے عقب میں جاوید اور مہران بیٹھے تھے۔ بہت دنوں بعد سب اکٹھے ہوئے تھے بلکہ بہت دنوں کیا شادی کے بعد ہی یہ اتنی بڑی تقریب ہوئی تھی جس میں قریبی لوگ موجود تھے۔ فرق اتنا ضرور تھا کہ وہ شادی خانہ آبادی تھی۔ یہ الوداعی تقریب۔ وہ بھی ایسی جس میں سبھی مسرور تھے۔
    اسکرین کے اس بار امریکا اور اس پار پاکستان تھا۔ خوب گفتگو جارہی تھی۔
    طاہرہ نے کہا۔ ”نورین سے پوچھو کتنی تیاری ہوئی؟”
    آپ فکر نہ کریں ہم سب کروادیں گے۔ نورین کی دونوں بہنوں نے اکٹھے جواب دیا۔
    ٭…٭…٭

    جلد ہی وہ دن آگیا جب وہ کراچی سے شکاگو کی طرف پرواز کررہے تھے۔ دونوں ہی زیادہ تر چپ چپ تھے۔ اس شہر سے ایسی یادیں وابستہ تھیں جو حاصل زندگی تھیں۔
    کچھ تو خاص بات ہے اس شہر نا پرساں میں کہ اس کو چھوڑتے ہوئے دل کے آسمان پر دکھ کے بادل چھا جاتے ہیں۔ نورین تو ہنی میں لگی ہوئی تھی۔ شہزاد بھی بیوی اور بیٹی کی جانب متوجہ تھا مگر لبوں پر خاموشی کی مہر لگی ہوئی تھی۔
    ”تمہیں دکھ ہورہا ہے نا یہاں سے جاتے ہوئے۔” نورین نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
    ”میں تو اس شہر کو کب کا الوداع کہہ چکا ہوتا اگر تمہارے شہزاد اس میں گم نہ ہوگیا ہوتا۔” اس نے دھیرے سے اس کے قریب جھکتے ہوئے کہا۔ نورین نے اس کی جانب محبت پاش نظروں سے دیکھا۔ تو اس کی توجہ ہٹ گئی۔ بے بی دورانِ پرواز نیند کی آغوش میں ہی رہی۔ وہ دونوں ایک دوسرے میں مگن رہے۔ جب کبھی کوئی اعلان ہوتا تب چونکتے ورنہ تجدید محبت کے لئے انہیں یہ موقع خوب ملا تھا۔ ”تمہارے ساتھ میں یہی خاص بات ہے بندہ خود کو تو انا محسوس کرتا ہے۔ محبت توانائی ہی تو ہے جو مل جائے تو ٹوٹے پھوٹے چٹختے جسم و جاں میں بھی انرجی پیدا کردیتی ہے۔”
    ” میں تمہاری محبت میں اس قدر ڈوب چکی ہوں کہ مجھے احساس ہی نہیں ہوتا کہ میں کس قدر خوش ہوں۔” نورین نے سرشاری سے کہا تو اس نے اس کے گرم رخسار پر مہر محبت مثبت کردیئے۔
    ”نہہ… کوئی دیکھ لے گا…” نورین نے دائیں بائیں دیکھا۔
    ”یہاں کوئی نہیں دیکھتا… تاکاجھانکی، دوسروں کی کن سوئیاں لینا دیوار سے کان لگائے رکھنا ہمارے معاشرے میں موجود ہے۔”
    ”تم بہت پیارے انسان ہو۔” اس نے دھیرے سے کہا۔
    ”تم سے کم۔” اس نے کسر نفسی سے کام لیا۔
    ”ہماری ہنی بالکل تمہاری طرح ہے۔” نورین نے کسمساتی ہوئی بچی کی طرف دیکھ کر کہا۔
    ”مجھے تو یہ تمہارا پر تو لگتی ہے ۔” شہزاد نے بچی کے گال سہلائے۔
    ”تم امریکا جاکر دوبارہ ایجوکیشن کی طرف توجہ دینا۔ ایسا کرنا بچی کے ساتھ پڑھنا شروع کردینا۔” وہ ہنسا۔
    ”نہیں بھئی پھر تمہارا اور بے بی کا خیال کون رکھے گا۔” نورین نے پوچھا۔
    مل جل کر سب ہوجائے گا۔ جہاں اتفاق ہو وہاں آدھے مسائل خود ہی حل ہوجاتے ہیں۔ کسی کتاب میں لکھا ہے شادی کے بعد عورت ہی کا کام ہے گھر بچے اور شوہر سنبھالے۔ میں تو یہ سب نہیں مانتا۔ گویا عورت نوکرانی کی طرح اور شوہر نواب کی طرح۔ عجیب زندگی ہوجاتی ہے۔ شوہر گلچڑے اڑا رہے ہوتے ہیں اور بیویاں پس رہی ہوتی ہیں۔ پھر شکایتیں الگ جنم لیتی ہیں۔ نااتفاقی الگ اپنا جلوہ دکھاتی ہے۔”
    ”اچھا… جی جیسا آپ کہیں گے ویسا ہی ہوگا۔ سب کروں گی آپ کی محبت میں۔” نورین نے فرمانبرداری سے کہا۔ آپ میری رہنمائی کرتے رہا کیجئے گا۔۔”
    ”رہنمائی تو محبت خود ہی کیا کرتی ہے۔ محبت ہو تو راستے آسان اور منزل قریب آجاتی ہے۔ یہ دنیا آراستہ و پیراستہ ہی محبت کی بنیاد پر ہے۔”
    محبت اک کھلا در ہے
    کہ جس کی
    نیم وا آنکھوں میں
    ختم ہوتا کوئی منظر
    کبھی داخل نہیں ہوتا
    یہاں آغاز ہی آغاز ہوتا ہے
    محبت کرنے والے
    داستانِ عشق کے ایسے مسافر ہیں
    کہ جن کی زندگی میں
    روشنی ہی روشنی
    امید بن کر
    جھل سلاتی ہے
    یہیں جینا سکھاتی ہے
    ٭…٭…٭
    ”ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے محبت کا آغاز اب ہوا ہو۔ جب ایک فرشتہ ہمارے درمیان آئی ہے۔ محبت کا اصل مفہوم میں اب سمجھی ہوں جب یہ بچی میرے بازوؤں میں کسمسائی۔ محبت میرے اندر اتری ہی تب ہے جب میں نے بے بی کو پہلی بار اپنے سینے سے لگایا۔”
    ”محبت کے اپنے ادوار ہوتے ہیں۔ تمہیں یاد ہے جب ہم دونوں شرعی طور پر ایک تھے مگر الگ الگ رستوں کے مسافر تھے۔ اور بے آسرا بچوں سے ملاقاتوں میں اپنا اپنا وقت گزارتے تھے۔
    تمہیں وہ وقت یاد ہے جب ہم دوسرے ناموں سے ایک دوسرے کو پکارتے پکارتے اپنے اپنے ناموں کی طرف واپس پلٹے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ہم ایک دوسرے سے گریز پا تھے۔ ایک لمحہ ایسا بھی تھا کہ مجھے محسوس ہوا کہ جو میرے پہلو میں سمائی ہوئی ہے وہی میری ہے اور میرے لئے ہے۔ ایک سماں ایسا بھی رہا کہ ہم ایک دوسرے میں گم ہوکر ضم ہورہے تھے۔ صبح سے شام اور شام سے صبح ہوتی گئی مگر ہماری محبت کا خمار ٹوٹا ہی نہیں۔ ایسا اس لئے ہوا کہ ہم دونوں اپنے اصل کے ساتھ ایک دوسرے کے سامنے رہے۔ ہماری کوئی بات ایک دوسرے سے مخفی نہیں ہے۔ ہم نے ایک دوسرے کے جذبات کی قدر کی ہے۔ لہٰذا ہمارے درمیان کوئی تنازعہ کھڑا نہیں ہوا۔ جب مجھے کسی سے محبت ہوسکتی ہے تو کسی بھی لڑکی کو کسی اور لڑکے سے عہد و پیمان کرنے سے کیوں روکا جائے ۔ یہ سماج چاہتا ہے کہ صرف مردوں کی محبت ہوا کرے کوئی عورت کسی کو پسند کرنے کا اختیار نہ رکھے۔ جبھی تو معاشرے تباہی کی انتہا پر ہے۔”
    نورین نے اس کی باتیں سننے کے بعد کہا۔ ”آپ کے جیسا تو کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا۔” اس نے اپنا سر اس کے بازو پر رکھ دیا۔ اس نے محبت کو چوم لیا۔ فضا میں تھمگی گھل گئی۔ ایک دلکش آواز نے جہاز کے لینڈ کرنے کا اعلان کیا تب وہ چونکے۔ پھر بھی ایک دوسرے کے ہاتھوں کو تھامے ہی رکھا۔
    ٭…٭…٭
    طاہرہ نے اپنے گھر کے قریب ہی بھائی بھابھی کے لئے بھی انیکسی سجا رکھی تھی۔ جاوید نے کہا بھئی ہمارا دوسرا کمرہ بھیا کو دے دو مگر طاہرہ متفق نہ تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ ”نہوںکے جوڑے الگ الگ رہیں تو بہتر ہیں جوائنٹ فیملیز اومان پرور، لوگوں کے لئے ٹھیک نہیں رہتا۔ بہتر ہے کہ وہ اپنے اپنے گھونسلوں میں اپنی مرضی کے مطابق رہیں۔ اومانوی جوڑوں کی ایک اپنی الگ دنیا ہوتی ہے جس میں میں کہ وہ قدرت کے نہماں رازوں سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ وہ خود بھی ان ہی رستوں کی مسافرت میں تھی۔ لہٰذا اس سے بہتر کون یہ معاملات سمجھ سکتا تھا۔
    نورین سے مل کر وہ اپنا بزنس پلان ڈسکس کرتی۔ اسے تو فرصت نہیں تھی تمام معاملات وہی دیکھتی۔
    ”پورے ہفتے کا کھانا تیار کئے بیٹھی ہے۔” شہزاد نے فریج سے پانی نکالتے ہوئے کہا۔
    ”یہاں تو ایسے ہی ہوتا ہے۔ وقت بچانا پڑتا ہے۔ تاکہ دوسرے کام ہوسکیں۔ پاکستان کی طرح تھوڑا ہی کہ بس عورت روزانہ صبح، دوپہر شام چولہا ہانڈی ہی کئے جارہی ہے… لاؤ ذرا ہنی کو مساج کردوں بولتے بولتے طاہرہ نے بے بی کو گود میں اٹھالیا۔
    ”نہیں ابھی رہنے دو…”
    آپ تو کرتی ہی رہتی ہیں۔ میں بھی ذرا اپنا شوق پورا کرلوں۔ طاہرہ بے بی کا مساج کرتی رہی۔ اس کا بیٹا قریب بیٹھا دیکھتا رہا ۔ پھر بولا کیا اب ہنی ریسلنگ کے لئے جائے گی۔ سب بے ساختہ ہنس پڑے۔
    ٭…٭…٭
    شہزاد جاتے ہی اپنی اسپیشلائزیشن میں مصروف ہوگئے۔ جاوید بھی ٹھیک جارہا تھا۔ اس کے ٹیلنٹ سے اس کی کمپنی فائدہ اٹھا رہی تھی۔ پاکستان میں اس کی صلاحیتیں برباد ہورہی تھیں۔ نورین اور طاہرہ اپنے بے بی ڈے کیئر سینٹر میں بزی رہتے ساتھ ہی ان کے بچے بھی ہوتے۔ شہزاد نے جاوید کے بڑے بھائی کو اس کے امریکا ایڈجسمنٹ کی خوش خبری سنادی تھی۔ اور ساتھ ہی یہ تاکید بھی کی تھی کہ وہ اس خبر کو اپنے تک ہی محدود رکھیں تو بہتر ہے۔
    ٭…٭…٭
    اس دن طاہرہ خوشی خوشی شاپنگ کرکے واپس آئی۔ مارکیٹ میں اسے کوئی بچپن کی سہیلی مل گئی تھی جو وہاں ایک بار میں ملازم تھی۔ دونوں نے کارڈ کا تبادلہ کیا اور ایک دوسرے کو گھر آنے کاوعدہ کیا تاکہ ساتھ بیتھ کر پرانی یادوں کے گلاب چن سکیں۔
    اس ویک اینڈ پر اسے آنا تھا۔ صبا رازی کے لئے ا س نے پاکستانی کھانے بنائے۔ گھر کی صفائی جاوید کے ساتھ مل کر کی۔ صبا نے آنے میں تاخیر کردی معلوم ہوا کہ اس کے شوہر نے آتے وقت ہنگامہ کھڑا کردیا تھا کہ وہ اسے چھوڑ کر کسی سے ملنے جارہی ہے۔ طاہرہ نے کہا کہ اسے بھی لے آتی تو وہ بولی ایسا ممکن نہ تھا۔ ”میری دیرینہ دوست مجھے ملی ہے سمجھو کوئی آسرا ملا ہے۔
    ”کیا مطلب؟ طاہرہ نے چونک کر پوچھا۔
    ”بہت تنگ کرتا ہے۔” صبا نے کندھے اچکا کر جواب دیا۔
    ”کتنے سال ہوگئے؟ ”
    ”چار سال سے بھگت رہی ہوں۔”
    بچے وچے ؟ طاہرہ نے پوچھا۔
    ”یہ ویسا آدمی نہیں ہے ایسے تو صرف گزارے کے لئے عورت چاہیے۔ میری محبت کے سبز باغ کے سارے پھول مرجھاگئے ہیں۔”
    اوہ… ویری سیڈ۔
    ”تم نے کیا سوچا ہے پھر اپنے بارے میں۔” طاہرہ پوچھ بیٹھی۔
    ابھی تھینکس گاڈ تو کہنے دو۔ تم نے مجھے اپنے گھر بلایا ایسا لگا جیسے میرا کوئی سرپرست مل گیا ہو۔ صبا نے نہایت عنونیت سے کہا۔
    ”شہزاد بھیا بھی یہیں ہیں۔” اس نے بتایا۔
    ”یہ تو اور بھی اچھا ہے ورنہ میں تو تنہا سمجھتی تھی خود کو۔”
    ”میرے ہز بینڈ اور بیٹا ابھی آنے والے ہیں۔ تم سناوؑ۔ شوہر کیا کرتے ہیں تمہارے؟” طاہرہ نے ایک ساتھ کئی سوال کردیئے۔
    ”تمہاری شادی یہاں ہوئی ہے یا کراچی میں؟”
    ” سانس تو لینے دو پھر سب بتاتی ہوں۔” صبانے کہا۔
    ”مجھے جاننے کی جلدی اس لئے ہے کہ ابھی گھر خالی ہے۔ اپنے سارے دکھ سکھ میرے ساتھ شیئر کرسکتی ہو۔” طاہرہ نے جلدی جلدی کہا۔
    ”میری شادی کراچی میں نوید حسین سے ہوئی تھی۔ وہ بہت اچھے آدمی تھے۔ اچھی گزر بسر ہورہی تھی۔ نوید کا اپنا بزنس تھا۔ سلمان اس کا دوست تھا۔ اس نے پہلے نوید کو مجھ سے متنفر کیا پھرمجھے ورغلایا۔ میاں بیوی کے درمیان بالکل شیطان کا رول ادا کیا سلمان نے۔ مجھے تو بعد میں معلوم ہوا کہ اصل بات کیا تھی۔ بس نوید کان کے کچے نکلے۔ انہوں نے معمولی بات پر مجھے طلاق دے دی۔ بھائیوں نے اکیلا چھوڑ دیا۔ بھابیوں نے جی بھر کے الزام تراشی کی۔ والدین کا تو بہت پہلے ہی انتقال ہوچکا تھا۔ تب میں بے آسرا ہوگئی تو اس نے مجھے شادی کے سبز باغ دکھائے اور کبھی لاہور، کبھی اسلام آبادلئے لئے پھرتا رہا۔ کسی کو پرسنل اسسٹنٹ بتاتا کسی کو وائف بتاتا۔ پھر میرے دباوؑ ڈالنے بلکہ خودکشی کی دھمکی کے بعد نکاح کر ہی لیا اور یہاں شکاگو لے آیا۔ میں گھر میں بند بند تنگ آگئی تو جاب کرلی۔ یہ تو اکثر غائب رہتا ہے۔ کبھی سارا دن کبھی ساری رات ان تین برسوں میں اس نے ایک اور شادی یہاں ایک انگریز عورت سے کی تھی جو اسے چھوڑ کر بھاگ گئی۔ مجھے تو بعد میں معلوم ہوا کہ یہ تو پہلے سے شادی شدہ ہے اور کراچی میں اس کی بیوی اور بیٹے موجود ہیں۔ مگر یہ ان سے لاتعلق ہوچکا ہے۔ جب اس کی گرل فرینڈ چھوڑ جاتی ہیں تو پھر یہ میرے پاس آجاتا ہے۔ میری مجبوری یہ ہے کہ کاغذات میں کم از کم خاوند کے خانے میں اس کا نام ہے۔ کبھی تو میرے پیسے بھی چھین لیتا ہے اور کبھی لاکر دیتا ہے۔ کچھ ذاتی باتیں پوچھوں تو تشدد پر اتر آتا ہے جیسے رات بھر کہاں رہے۔ اتنا نشہ نہ کیا کرو وغیرہ۔ اس نے تو صاف منع کررکھا ہے۔ اولاد کے پیدا کرنے کی غلطی نہ کرنا۔”
    ”ساتھ رہنا چاہتی ہو یا چھٹکارہ چاہتی ہو۔” طاہرہ نے پوچھا۔
    ”اب تک تو اکیلی تھی گزارا کررہی تھی۔ مگر اب تھک گئی ہوں۔”

  • معطّر فضاؤں کے راہی — فرزانہ  روحی اسلم (پہلا حصّہ)

    معطّر فضاؤں کے راہی — فرزانہ روحی اسلم (پہلا حصّہ)

    تمہاری نیم وَا آنکھیں
    مرے رخسار پر،
    جب بھی غزل لکھیں
    اموزِ عشق کے
    اسرار،
    مجھ پر منکشف ہوکر
    سرور و کیف کی،
    چاہت کی،
    ساری بند گرہیں
    کھولتی ہیں۔
    ایک پھیلا ہوا بازو ہے محبت ۔ جس میں اہلِ نصیب سمیٹتے ہیں۔ پرکیف چاندنی میں، غسل ماہتاب روح میں جس سرور کو جنم دیتی ہے کڑی دھوپ میں بھی آدمی چھاؤں محسوس کرتا ہے۔ یہ سارے احساسات وہاں ہوتے ہیں۔ جہاں دو ذی روح دنیا کی تصدیق کے بغیر اپنی ذات کی اندرونی و بیرونی سچائیوں کے ساتھ موجود ہوں۔
    ہم اکثر اپنے لمحہ موجود میں، پھولوں کی کنج میں بیٹھ کر اپنی روح کو سیراب کررہے ہوتے۔ ہمارے قدم کب اٹھ گئے۔ دل کی دنیا کب اور کیوں کہ اتھل پتھل ہوگئی یہ تب معلوم ہوا جب وہ میری زندگی میں رگوں میں خون کی طرح شامل ہوچکا تھا۔ محبت سے لبریز دل تو تھا ہی، آنکھیں، باتیں، ساعتیں بھی میری ہم راہ تھیں۔
    میں اُسے محسوس کررہی ہوتی تو مجھ پر محبت بھری نظموں، غزلوں کے ایک ایک شعر کا مفہوم کھل رہا ہوتا۔ وہ کہتا، ”کچھ بولو، کچھ تو کہو۔” میں ہنس پڑتی۔ ”میں تو سامع ہوں، بولتی تو محبت ہے۔”
    ہم دنیا جہان کی باتیں کرتے، پارکوں میں کھلے پھولوں، کلیوں کی ان کہی گفتگو سنتے۔ کبھی کسی کانفرنس میں کسی سیمینار میں چائے کا سپ(sip)لیتے لیتے ہم دونوں ہی کہیں کھو جاتے۔

    جب کوئی شگر لاکر دیتا کہ چائے میں ڈال لیں تو ہم دونوں کو تب ہی پتہ چلتا کہ چائے تو ہم نے پھیکی ہی پی لی ہے۔ پھر ہم خوب ہنستے۔
    کبھی دوستوں کے گروپ کے ساتھ شاپنگ کرنے نکلے تو ایک دوسرے کے لئے ہی خریداری کرتے۔
    یہ پین تمہارے لئے،
    یہ ٹائی لے لو،
    یہ کیچر ، یہ کلپ
    یہ سوٹ،
    کتابیں، پرفیوم ۔
    دوست ہنستے۔ ایک دوسرے کو کہنی مارتے ، سہیلیاں ٹہوکے دیتیں۔ کہتیں، یہی تو محبت ہے۔
    ”اب چلو بس بہت ہوگیا۔ ”میں لائبریری میں ”امجد اسلام امجد” کو پڑھتے پڑھتے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    ”ٹھہرو نا، اتنی جلدی۔ ابھی تو تمہیں جی بھر کے دیکھا بھی نہیں۔”
    اس دن بھی ہم انسٹیٹیوٹ سے نکل کر بس اسٹاپ پر جاکر کھڑے ہوئے۔ اس نے حسبِ سابق کہا۔ ”اللہ کرے تمہاری بس لیٹ آئے۔” دونوں ہم آواز ہوکر یہی ایک فقرہ کہتے۔ پھر ہنس پڑتے۔ ہمارے ہنستے ہی دونوں کی بس ایک ساتھ ہی آجاتی۔
    ہم ایک دوسرے سے جدا ہوکر کبھی اداس نہیں ہوتے۔ آئندہ کی امید اور خواب لئے جو روانہ ہورہے ہوتے۔ ہماری راتیں طویل اور دن مختصر ہوگئے تھے۔
    اس دن سر تجمل غیر حاضر تھے۔ شہر کراچی کی سڑکوں پر موت اپنا ہدف ڈھونڈ رہی تھی۔ وحشت گلیوں میں ناچ رہی تھی۔ اور پریشان حال مائیں کھڑکیوں سے جھانک رہی تھیں۔ جب ہڑتال مزدوروں کے گھروں میں فاقے ڈالتی تو اشیائے ضروریہ کی دکانوں پر لٹکے تالے چلانے لگتے۔ جن کی چیخوں کو ضرورت مندوں کی آنکھیں سنتیں۔ تب شام ڈھلے ویران سڑکوں پر بچے گیند بلّا لے کر زندگی کو بیدار کرنے لگتے۔ تب ہم جو ذرائع مواصلات کی بجائے آنکھوں اور ہونٹوں سے گفت و شنید کے عادی ہوچکے تھے۔ جانہتھیلی پہ لئے ساحل سمندر پر پہنچ کر اپنی ناختم ہونے والی گفتگو کا سلسلہ پھر سے جوڑلیتے۔
    ساحل پر بیٹھے بیٹھے تھک جاتے تو گھنٹوں گھنٹوں پانی میں اتر کر ایک دوسرے پر چھینٹے اڑاتے۔ جب واپسی ہوتی تو وہ بس ایک ہی بات کہتا۔
    ”لگتا ہے وقت تھم گیا۔”
    ”وقت بھلا کیسے تھم سکتا ہے؟” میں پوچھتی۔
    ”وہ ہماری محبت کی کہانی دیکھ رہا ہے۔” اس کے اس جواب پر میں کہتی ، عجیب فلسفہ ہے تمہارا۔” پھر دونوں اتنا ہنستے کہ ہمارے قہقہے بھی آپس میں گھل مل جاتے۔
    اس دن ویسا ہی ہوا جیسا اس نے کہا تھا یعنی وقت کی رفتار رک گئی۔ پھولوں کے کنج میں، میں بیٹھی شراب محبت گھونٹ گھونٹ پی رہی تھی۔ ہمارے اطراف میں طالب علموں کا گروپ بیٹھا اٹھکھیلیاں کررہا تھا۔ گویا ہر طرف خوب رونق تھی کہ یکا یک اُدھم مچ گیا۔
    سازِ محبت ٹوٹ گیا۔
    نغمہ ٔ عشق اہم انگیز ہوگیا۔
    پھر کیا ہوا… میں کچھ سمجھ نہیں سکی ۔ آنکھوں کی پتلیوں میں اس کا چہرہ تھم گیا۔ اس کی آواز کی نغمگی کہیں فضاؤں میں ڈولنے لگی۔ میرے ہاتھوں سے اس کا ہاتھ چھوٹ گیا۔
    کب صبح ہوئی، کب شام گئی، معلوم نہیں، امی ، نرس، بہنوں ، ڈاکٹرز اور جانے کس کس کی آوازیں سنائی دے جاتیں۔ ممی کی آواز پر آنکھ کھلی تو وہ مجھ پر جھکی ہوئی تھیں۔
    ”شکر ہے سب ٹھیک ہے بیٹا۔”
    ”شاکر۔” میں نے پکارا۔
    ”وہ بھی ٹھیک ہے چار گولیاں اس کے جسم سے نکال لی گئی ہیں۔”
    میرے دل میں آٹھ بار ٹیسیں اٹھیں۔
    ”بہت اسٹوڈنٹس زخمی ہوئے ہیں اس دھماکے میں۔شکر ہے تم ٹھیک ہو۔” امی کے ہاتھ دعاکے لئے دراز تھے۔
    ٭…٭…٭
    نرس بتارہی تھی کچھ زخمی بہت سیریس کنڈیشن میں تھے انہیں بیرون ملک روانہ کردیا گیا ہے۔
    ”اور شاکر؟” میں نے کراہتے ہوئے پوچھا تو نرس بولی۔
    ”شاکر نامی نوجوان کا نام تو مرنے والے کی لسٹ میں ہے۔”
    میرے دل نے کئی بار سسکی بھری۔
    پندرہ دن آئی سی یو میں رہنے کے بعد زندگی نے مجھے دعا دی۔ جو قبول بھی ہوگئی۔ اب میں تہی داماں تھی۔ کچھ بھی نہیں رہا میرا۔ سب کچھ ایک دھماکے میں اڑ چکا تھا۔ جو کچھ میرے پاس تھا وہ بے مقصد زندگی اور بس۔
    میں بیٹھے بٹھائے چیخ پڑتی۔ کبھی اُسے آواز دینے لگتی۔ کبھی بالکل نارمل ہوجاتی اور گھر کے کام کاج میں امی کا ہاتھ بٹانے لگتی۔ مگر اس کا کیا کیا جاتا کہ شاکر، چائے کی پیالی، سے لے کر پانی کے گلاس تک میں اپنی یادیں پیوست کرگیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ ایک کی کمی دوسرا پوری کرہی دیتا ہے۔ ہنہ… لڑکیاں کوئی کاٹھ کا الّو ہوتی ہیں نا کہ کسی کے بھی ساتھ کردو۔ خوشی خوشی چلی جائیں۔ جو دل میں گھس جائیں نا وہ سانسوں میں بھی اٹک جاتے ہیں۔ آنکھوں میں بس جائیں وہ رگوں میں دوڑنے لگتے ہیں۔ مشامِ جاں میں خوشبو بن کر اتر جاتے ہیں۔ کبھی نہ نکلنے کے لئے۔ سایہ بن کر ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ یہی تو محبت ہوتی ہے۔
    اب شاکر بھی سایہ بن کر میرے ساتھ رہنے لگا تھا۔ روز و شب، شام ڈھلے، رات گئے۔ میں سوتی ۔ وہ بھی سوجاتا۔ میں جاگتی، وہ بھی بیدار ہوجاتا۔ میں روتی ، وہ بھی آنکھیں جلاتا۔ میں چلتی ، وہ بھی میرے ہم قدم ہوتا۔ میں رکتی، وہ بھی اپنے بڑھتے قدم روک لیتا۔
    بقول ممی کے ان دنوں مجھے سہارے کی اشد ضرور ت ہے۔ ممی اور ان کی ایک دیرینہ سہیلی آئے دن گھر میں سرگوشیاں کرتی دکھائی دیتیں۔بالا آخر وہ کامیاب ہو ہی گئیں کسی مرحومہ خالہ بی کے فرزند کو ڈھونڈ نکالا گیا۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کے مصداق ممی ان پر صدقے واری گئیں۔ اور دھیرے دھیرے اپنے متوقع داماد کے لئے میرا برین واش کرنا شروع کردیا۔ مجھ پر پڑھ پڑھ کر پھونکا جاتا۔ پانی میں گھول گھول کر پلایا جاتا۔ بات کہیں کی ہو آکر ان ہی لیکچرر صاحب پر ختم ہوتی جن کا نام نامی شہزاد تھا۔ کھانے کی میز پر جب امی اس کی خوبیاں بیان کرتیں۔ تو میں ہنستی کیونکہ میرے برابر میں پہلے ہی شاکر بیٹھا ماحضرتناول کررہا ہوتا۔ وہ سوتے وقت اس کی بات کر تیں تو شاکر کا ہیولا کمرے کے باہر ٹہلتا ہوا مجھے صاف دکھائی دیتا۔ جیسے وہ ممی کا کمرے سے باہر جانے کا منتظر ہو۔ وہ لان میں شام کے وقت اس کی گفتگو کرتیں۔ شاکر وہاں پہلے ہی چمبیلی کے پھول میرے بالوں میں اٹکا رہا ہوتا۔
    آخر میں نے تنگ آکر کہہ دیا۔ ”ممی… میں اب کسی کے ساتھ انصاف نہیں کرسکوں گی۔”
    ”یہ تو تمہیں کرنا ہوگا۔ خیالی دنیا سے نکل آؤ بیٹا… خود کو سنبھالو۔”
    تمہیں اپنے مزاجی خدا کا ساتھ دینا ہوگا۔” وہ بڑے پیار سے بولیں۔
    ”کوئی نہیں ممی… نہ مزاجی نہ خدا۔ میں نہیں جانتی کچھ۔” میں نے بے زاری سے کہا۔
    ”وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہوجائے گا بیٹا۔ میں تمہارے لئے دعا کروں گی۔ تم ہمیشہ سکھی اور آباد رہو۔” ممی کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔
    ”ممی اتنی جلدی نہ کریں۔کیا دنیا میں شادی کے علاوہ کوئی اور کام نہیں ہے۔ مجھے سنبھلنے تو دیں امی۔ میرے زخم ابھی تازہ ہیں۔”
    ”ان ہی زخموں کا مرہم تو تلاش کیا ہے میں نے تمہارے لئے۔کسی کا ساتھ ہوگا تو ماضی بھول جاؤگی۔”
    ”اور میرے ہونٹوں سے اس کے نام کے بجائے شاکر نکلے گا تب…؟”
    ”ہوش کے ناخن لو… تمہیں بہت سمجھ دلری سے کام لینا ہوگا۔ ایسی احمقانہ باتیں نہ کرو… کوئی شخص آخری نہیں ہوتا… ممی نے اس قدر ڈوب کر کہا کہ جی چاہا ان کی تمام باتوں پر ایمان لے آؤں۔”
    ”میں منافقت نہیں کرسکتی ممی… جھوٹی زندگی کب تک گزاروں گی۔” میری آنکھیں برسنے لگیں۔
    ”جھوٹی زندگی کیوں بیٹا… اپنے شوہر کی خوبیاں تلاش کرنا۔ سب کچھ تمہارے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ میری زندگی بڑھ جائے گی اگر تم سنبھل جاؤگی۔
    ”مجھ میں آپ جیسا حوسلہ ہے نہ ہمت۔”
    ”کوئی مشکل تمہیں پیش نہیں آئے گی۔ میری دعائیں تمہیں اپنے حصار میں رکھیں گی۔ میں ہر دم تمہارے ساتھ ہوں۔” ممی نے میری زلفیں سنواریں۔
    ”پل پل ہم رکاب تو شاکر رہتا ہے۔”
    ”اب اپنی زبان پر شہزا د کا نام سجا لو۔ شہزاد کا۔”
    ”اور شاکر کا کیا ہوگا۔”
    ممی تلملاگئیں۔ جانے کیسے مجھے برداشت کررہی تھیں بولیں۔ ”لگتا ہے تمہارا مینٹل ٹریٹ منٹ کروانا پڑے گا۔”
    ”میں بے سدھ ہوکر صوفے پر گر گئی۔”
    طبیعت سنبھلی تو دونوں بہنیں آس پاس بیٹھی تھی۔ وہ مجھے سدا کی بیمار سمجھ رہی تھیں۔ مجھ سے ہمدردی کررہی تھیں۔ مگرمجھے کچھ سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا۔ میں تو بس ڈوبی ہوئی تھی۔ پانی میں ہاتھ پاؤں مارنے کی کوشش کررہی تھی۔
    ”آپی آپ کس کلر کا شرارہ پہنیں گی؟
    اور جیولری۔ میک اپ کس پارلرسے ہوگا؟
    کوئی آپ کا پسندیدہ ڈیزائنر ہے تو بتادیں۔”
    وہ دونوں بیٹھی یہی باتیں کررہی تھیں۔ ”اس نے دوبارہ پوچھا۔ شرارے کا کلر بتادیں ہمیں۔”
    ”وہی جو شاکر کو پسند تھا۔”
    ”شاکر بھائی اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ وہ جنت میں چلے گئے ہیں۔ آپ انہیں یاد کرکرکے بے سکون نہ کریں۔ بلکہ اپنی جنت دنیا میں بنائیں… آپ زندہ ہیں آپی۔” یہ نرمین تھی جس نے مجھے جھنجھوڑ کر کہا۔
    ”اوں… ہاں… اچھا۔” میں کیا جواب دیتی۔
    ”وہ بہت اچھی جگہ چلے گئے ہیں۔ اب آپ اپنا سوچیں۔ خوش رہیں تاکہ شاکر بھائی کو خوشی ہو۔ آپ دکھی رہیں گی تو وہ بھی … یعنی ان کی روح بھی بے تاب و بے چین رہے گی۔” نرمین مجھ سے پانچ چھوٹی تھی مگر بڑی بڑی باتیں کررہی تھی۔
    ”آپی شہزاد بھائی بہت اچھے ہیں۔ پڑھنے لکھنے والے آدمی ہیں۔ شاعر بھی ہیں۔ آپ بہت خوش رہیں گی۔ وہ یقینا آپ کے احساسات کا جذبات کا خیال رکھیں گے۔” دونوں ایک ساتھ مجھے سمجھا رہی تھیں۔
    میں نے اس شام ممی کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے۔مگر انہوں نے میری ایک نہ سنی اور مجھے گلابی سوٹ پہناکر بٹھا دیا گیا۔ گلاب کی خوشبو جیسے مجھ پر انڈیل دی گئی ہو۔ پھولوں سے لدی گردن دکھنے لگی تھی۔ نکاح اور رخصتی کے وقت بھی میں سکون آور دواوؑں کے زیر اثر رہی۔
    اٹھایا گیا تو میں اٹھ گئی۔ چلایا گیا تو چل پڑی۔ ویسے ہی کون سا مجھے ہی چلنا تھا۔ دلہن کو تو اس کا بازو پکڑنے والے چلاتے رہتے ہیں۔ جہاں بٹھایا وہاں گر گئی۔ ایک گھر سے نکل کر ایک دوسرے سجے ہوئے گھر میں پہنچادی گئی ۔ تیرے ہی دن ہم کسی سفر پر بھی روانہ ہوگئے۔ ایک نسبتاً مہذب شخص مسلسل میرے ساتھ رہا۔ کبھی وہ مجھے شاکر لگتا کبھی شہزاد۔ اس نے زیادہ بات بھی نہیں کی۔ ائیر پورٹ سے باہر نکل کر اس نے کہا۔
    ”مجھے نہیں معلوم تمہیں کون سی جگہ پسند ہے۔لیکن لوگ یہاں آنا پسند کرتے ہیں۔ جبھی میں تمہیں یہاں لے آیا۔ یہ اٹلی ہے۔” میں نے اور مریم نے کئی بار یہاں آنے کا پلان بنایا تھا… تم سن رہی ہونا… مریم… میری سابقہ منگیتر… اس کی کہیں اور شادی کردی گئی۔”
    ”مریم۔” میری آنکھیں پوری طرح کھل گئیں۔
    ”تم برا مت ماننا… ابھی میرا درد نیا نیا ہے۔ تمہارے ساتھ کی خوشی میں مٹ جائے گا۔ آہستہ آہستہ سب ذہن سے محو ہوجائے گا۔” اس کی آواز کی نرماہٹ و دلکشی نے میری سماعتوں کوبھی بیدار کردیا۔
    ”نہیں… ایسا نہیں ہوتا… دل میں بسنے والوں کو بھولنا آسان نہیں ہوتا۔”… تمہیں شاکر کا معلوم ہے نا۔”
    میں نے پوچھا تو اس نے مجھے غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ”وہ تو سارے زمانے کو پتہ ہے۔”
    ”پھر۔”
    ”پھر کیا… کیا فائدہ اجنبی مرد یا اجنبی عورت کو دل میں رکھنے کا۔”
    ”اگر میری زبان پر شاکر کا نام آجائے تو…؟”
    ”اور اگر میں تمہیں مریم کہہ دوں تو…؟” ہم دونوں ہی شاید اپنے اپنے دکھوں سے ایک دوسرے کو واقفیت دے رہے تھے۔ یا اپنا درد بانٹنے کی کوشش کررہے تھے۔
    ”تم شاکر ہوسکتے ہو نہ میں… مریم۔” مگر ہم دونوں ایک دوسرے کو اسی تناظر میں دیکھ سکتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ دل میں اٹھنے والی ٹیسوں کو دباتے رہیں؟ اور ہمیشہ کے لئے مریض بن جائیں۔”
    ”مریم کے بعد میں نے کتابوں میں پانہ ڈھونڈی ہے۔”
    ”اور مجھے تو کوئی پناہ گاہ ملی ہی نہیں۔” دل کہاں کہاں اور کیسے کیسے کٹتا ہے۔”
    ”تم اس رشتے کی پناہ میں آجاؤ جو میرا اور تمہارا جڑا ہے۔”
    ”اپنے لئے نہ سہی ان کے لئے جینے کا سوچو جن کا کوئی نہیں ہوتا۔ جن سے کوئی پیار نہیں کرتا۔” اس نے ٹھہر ٹھہر کر کہا تو میری پلکیں بھیگنے لگیں۔ مجھے لگا جیسے میں دنیا میں اکیلی ہوں۔ بالکل تنہا۔
    ہم روز خوب گھومتے، ہم میں متوفی تھی نہ شرارت۔ سڑکوں ، بازاروں، پارکوں میں پھرتے پھرتے تھک گئے تو وہاں کے ”اولڈ ہاؤسز” اور ”اورفن ہاؤسز” میں جانے لگے۔ واقعی شہزاد کا آئیڈیا اچھا تھا۔ ان بے آسرا لوگوں کو دیکھ کر مجھ میں جینے کی امنگ پیدا ہوئی۔ اپنے ہونے کا احساس ہوا۔کچھ کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ دنیا میں واقعی کرنے کو بہت کچھ ہے۔
    ”لوگوں کتنے بے حال ہیں۔ ہمارے وطن میں تو اور برا حال ہے۔ چلو وہاں چل کے کچھ کام کرتے ہیں۔” ایک دن جب میں نے شہزاد کو یہ کہا تو اس کے ہونٹوں پر تبسم کھیلتی نظر آئی۔ اس نے پوچھا۔
    ”لوگ تو یہاں آکر یہیں بس جانے کی آرزو کرتے ہیں اور تم واپس جانے کی بات کررہی ہو؟”

  • تائی ایسری — کرشن چندر

    تائی ایسری — کرشن چندر

    میں گرانٹ میڈیکل کالج کلکتہ میں ڈاکٹری کا فائنل کورس کر رہا تھا اور اپنے بڑے بھائی کی شادی پر چند روز کے لئے لاہور آ گیا تھا۔ یہیں شاہی محلے کے قریب کوچہ ٹھاکر داس میں ہمارا جہاں آبائی گھر تھا، میری ملاقات پہلی بار تائی ایسری سے ہوئی۔
    تائی ایسری ہماری سگی تائی تو نہ تھی، لیکن ایسی تھیں کہ انہیں دیکھ کر ہر ایک کا جی انہیں تائی کہنے کے لئے بے قرار ہو جاتا تھا۔ محلے کے باہر جب ان کا تانگہ آ کے رکا اور کسی نے کہا، ’’لو تائی ایسری آ گئیں‘‘ تو بہت سے بوڑھے، جوان، مرد اور عورتیں انہیں لینے کے لئے دوڑے۔ دو تین نے سہارا دے کر تائی ایسری کو تانگے سے نیچے اتارا، کیونکہ تائی ایسری فربہ انداز تھیں اور چلنے سے یا باتیں کرنے سے یا محض کسی کو دیکھنے ہی سے ان کی سانس پھولنے لگتی تھی۔ دو تین رشتہ داروں نے یک بارگی اپنی جیب سے تانگہ کے کرائے کے پیسے نکالے۔ مگر تائی ایسری نے اپنی پھولی ہوئی سانسوں میں ہنس کر سب سے کہہ دیا کہ وہ تو پہلے ہی تانگہ والے کو کرایہ کے پیسے دے چکی ہیں اور جب وہ یوں اپنی پھولی سانسوں کے درمیان باتیں کرتی کرتی ہنسیں تو مجھے بہت اچھی معلوم ہوئیں۔ دو تین رشتہ داروں کا چہرہ اتر گیا اور انہوں نے پیسے جیب میں ڈالتے ہوئے کہا، ’’یہ تم نے کیا کیا تائی؟ ہمیں اتنی سی خدمت کا موقع بھی نہیں دیتی ہو!‘‘اس پر تائی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے اپنے قریب کھڑی ہوئی ایک نوجوان عورت سے پنکھی لے لی اور اسے جھلتے ہوئے مسکراتی ہوئی آگے بڑھ گئیں۔
    تائی ایسری کی عمر ساٹھ سال سے کم نہ ہو گی، ان کے سر کے بال کھچڑی ہو چکے تھے اور ان کے بھرے بھرے گول مٹول چہرے پر بہت اچھے لگتے تھے۔ ان کا پھولی پھولی سانسوں میں معصوم باتیں کرنا تو سب کو ہی اچھا لگتا تھا۔ لیکن مجھے ان کے چہرے میں ان کی آنکھیں بڑی غیر معمولی نظر آئیں۔ ان آنکھوں کو دیکھ کر مجھے ہمیشہ دھرتی کا خیال آیا ہے۔ میلوں دور تک پھیلے ہوئے کھیتوں کا خیال آیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ خیال بھی آیا ہے کہ ان آنکھوں کے اندر جو محبت ہے، اس کا کوئی کنارہ نہیں، جو معصومیت ہے اس کی کوئی ا تھاہ نہیں، جو درد ہے اس کا کوئی درماں نہیں۔
    میں نے آج تک ایسی آنکھیں کسی عورت کے چہرے پر نہیں دیکھیں جو اس قدر وسیع اور بے کنار ہوں کہ زندگی کا بڑے سے بڑا اور تلخ سے تلخ تجربہ بھی ان کے لئے ایک تنکے سے زیادہ حیثیت نہ رکھے۔ ایسی آنکھیں جو اپنی پنہائیوں میں سب کچھ بہا لے جائیں، ایسی انوکھی، معاف کر دینے والی، درگزر کر دینے والی آنکھیں میں نے آج تک نہیں دیکھیں۔ تائی ایسری نے کاسنی شاہی کا گھاگھرا پہن رکھا تھا۔ جس پر سنہری گوٹے کا لہریہ یا چمک رہا تھا۔ ان کی قمیض بسنتی ریشم کی تھی، جس پر زری کے پھول کڑھے ہوئے تھے۔ سر پر دوہرے ململ کا قرمزی دوپٹہ تھا۔ ہاتھوں میں سونے کے گوکھرو تھے۔ جب وہ گھر کے دالان میں داخل ہوئیں تو چاروں طرف شور مچ گیا۔ بہوئیں اور خالائیں اور نندیں اور بھاوجیں، موسیاں اور چچیاں سب تائی ایسری کے پاؤں چھونے کو دوڑیں۔ ایک عورت نے جلدی سے ایک رنگین پیڑھی کھینچ کر تائی ایسری کے لئے رکھ دی اور تائی ایسری ہنستے ہوئے اس پر بیٹھ گئیں اور باری باری سب کو گلے لگا کر سب کے سر پر ہاتھ پھیر کر سب کو دعا دینے لگیں۔
    اور ان کے قریب ہیرو مہری کی بیٹی سوتری خوشی سے اپنی باچھیں کھلائے زور زور سے پنکھا جھل رہی تھی۔ تائی ایسری گھر سے رنگین کھپچی کی ایک ٹوکری لے کر آئی تھیں جو ان کے قدموں میں ان کی پیڑھی کے پاس ہی پڑی تھی۔ وہ باری باری سے سب کو دعائیں دیتی جاتیں اور کھپچی والی ٹوکری کھول کر اس میں سے ایک چونی نکال کر دیتی جاتیں۔ کوئی ایک سو چونیاں انہوں نے اگلے بیس منٹ میں بانٹ دی ہوں گی، جب سب عورتیں اور مرد، لڑکے اور بچے بالے ان کے پاؤں چھو کر اپنی اپنی چونی لے چکے تو انہوں نے اپنی ٹھوڑی اونچی کر کے پنکھا جھلنے والی لڑکی کی طرف دیکھا اور اس سے پوچھا، ’’تو کون ہے؟‘‘
    ’’میں سوتری ہوں۔‘‘ بچی نے شرماتے ہوئے جواب دیا۔
    ’’آئے ہائے، تو جے کشن کی لڑکی ہے؟ میں تو بھول ہی گئی تھی تجھے۔ آ جا گلے سے لگ جا۔‘‘
    تائی ایسری نے اس کو گلے سے لگا لیا، بلکہ اس کا منہ بھی چوم لیا اور جب انہوں نے اسے اپنی کھپچی والی ٹوکری سے نکال کر چونی دی تو گھر کی ساری عورتیں قہقہہ مار کر ہنس پڑیں اور موسی کرتارو اپنی نیلم کی انگوٹھی والی انگلی نچا کر بولی، ’’تائی، یہ تو جے کشن کی بیٹی سوتری نہیں ہے، یہ تو ہیرو مہری کی بیٹی ہے۔‘‘

  • اشکِ وفا — ماریہ نصیر (تیسرا اور آخری حصّہ)

    اشکِ وفا — ماریہ نصیر (تیسرا اور آخری حصّہ)

    وہ کافی دیر بے مقصدکاموں میں لگی رہی۔ باہر لاؤنج میں بیٹھی میگزین کو اُکٹ پُلٹ کرتی رہی۔ ڈنر کے بعد روحیل اپنے کمرے میں جا چکا تھا اور اُسے بھی جلدی کمرے میں آنے کا کہہ گیا تھا پھر بھی وہ گھنٹوں سے یہاں وہاں بے مقصد گھوم رہی تھی۔ کمرے میں جانے سے کترا رہی تھی۔اب تو سارے مُلازم بھی اپنے اپنے کام نمٹا کر سرونٹ کوارٹرز میں جاچکے تھے۔ روحیل وِلا پر خاموشی کا راج تھا۔ بے مقصد ٹی وی چینلز چینج کرتے کرتے بھی اب وہ اُکتا چکی تھی اسلئے وہ بھی بند کردیا۔دوبارہ میگزین کھول کر بیٹھ گئی تو اُسمیں بھی دل نہ لگا۔ آخرکار کب تک اسطرح باہر بیٹھی رہتی۔ دیر سے سہی پر کمرے میں تو جانا ہی تھا۔ اُسنے وال کلاک پر نظر ڈالی جہاں رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ وہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔ کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے اُسکا دل آج معمول سے تیز دھڑکنے لگا۔ ایک نامعلوم سا ڈر لگ رہا تھا۔ کمرے کے قریب پہنچ کر وہ ایک لمحے کیلئے رُکی اور اپنا اعتماد بحال کرنے لگی۔ پھربہت آہستگی سے دروازے کا ناب گُھمایا ااور دبے پاؤں اندر داخل ہوگئی۔ جہازی سائز بیڈ کے این وسط میں روحیل نیم دراز تھا۔ آنکھوں پر بازو رکھے شاید وہ سوگیا تھا۔ عرشیہ کی جان میں جان آئی۔وہ دبے پاؤں باتھروم میں گھس گئی۔ کچھ دیر بعد باہر آئی اور ٹاول سے منہ پوچھ رہی تھی جب روحیل کی کھنکدار آواز پر اُسکے ہاتھ رُک گئے۔
    ‘کافی دیر لگادی تم نے ؟ آج کچھ کام زیادہ تھا کیا؟’ وہ بیڈ پر کوہنیوں کے بل اُلٹا لیٹا عرشیہ کو ہی دیکھ رہا تھا۔ عرشیہ نے اثبات میں سر ہلاکر ٹاول کو واپس باتھروم میں لٹکایا اور ڈریسنگ ٹیبل کے پاس آکر بالوں میں برش پھیرنے لگی۔ اُسکی ہمیشہ سے عادت تھی وہ رات کو بال بناکر سوتی تھی۔وہ برش پھیر رہی تھی جب روحیل نے نرمی سے اُسکی کمر سے نیچے تک آتے گھنے دراز بالوں کو چھوا۔ عرشیہ بال باندھنے لگی جب روحیل نے ٹوک دیا۔
    ‘اوہو! اتنے خوبصورت بال باندھنے کیلئے نہیں ہیں۔ کُھلے رہنے دو ۔’
    ‘اُلجھن ہوتی ہے مجھے بال کھلے رکھنے سے۔’ عرشیہ نے کوفت زدہ لہجے میں کہا پر روحیل تو آج الگ ہی موڈ میںتھا
    ‘کچھ دیر تو کھلے رہنے دو۔ ابھی تو جی بھر کے دیکھا بھی نہیں میں نے!’ وہ اُسکے بالوں کو دوبارہ چھوتے ہوئے بولا تو عرشیہ نے ٹیبل پر برش رکھا اور ناگواری سے بولی۔
    ‘روحیل پلیز! ہر بات میں ضد مت کیا کرو۔ جب کہہ رہی ہوں کہ اُلجھن ہوتی ہے تو سمجھ لو نا۔’ وہ یہ کہہ کر چوٹی باندھنے لگی۔ آج روحیل بہت خوشگوار موڈ میں تھا اسلئے مسکراتے ہوئے ‘اوکے’ بولتا بیڈ پر جا بیٹھا۔ کچھ دیر یونہی ڈریسنگ ٹیبل کی چیزیں سیٹ کرتی وہ وہیں کھڑی رہی۔ وہ اُسکی ساری حرکات نوٹ کر رہا تھا۔ کچھ دیر بعد اُسنے آواز دی۔
    ‘عاشی۔۔!’ وہ آواز جذبوں اور محبت سے پُر تھی۔ عرشیہ کا دل اُچھل کر حلق میں آگیا۔ وہ اُسے اتنے فری انداز میں کب مخاطب کرتا تھا، ہمیشہ اُسکا پورا نام لیتا تھا۔ ابھی عرشیہ کچھ اور سوچتی جب روحیل نے دوبارہ آواز دی۔
    ‘عاشی۔۔!’
    ‘جی؟’ وہ پلٹی تھی۔ روحیل نے اِشارہ کرتے ہوئے اُسے اپنے پاس بُلایا
    ‘یہاں آؤ!’ عرشیہ مرے مرے قدم اُٹھاتی بیڈ کی طرف آئی ۔ روحیل نے اُسے اپنے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ چپ چاپ بیٹھ گئی اور سر بھی جُھکا لیا۔
    ‘ایک سوال پوچھوں؟’ وہ اُسکے نرم و نازک چہرے پر نظریں جمائے پوچھ رہا تھا۔ عرشیہ نے صرف سر ہلانے پر اِکتفا کیا
    ‘اِن تین دنوں میں مجھے مِس کیا تم نے؟’ یہ ایک غیر متوقع سوال تھا

    ‘نہیں۔’ اُسکے منہ سے بے ساختہ نکلا اور روحیل کی مسکراہٹ لمحے میں غائب ہوئی تھی۔ عرشیہ کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا تو وہ جلدی سے بولی۔
    ‘مم۔۔میرا مطلب ہے کہ بہت مِس کیا تمھیں۔’ روحیل نے بے یقینی سے اُسے دیکھا اور پھر مسکرانے لگا۔ عرشیہ نے نگاہوں کا زاویہ بدلا ۔لیکن وہ یہ کہہ کر پھنس گئی تھی۔ روحیل نے اُسکے مر مریں ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں لئے اور اپنے لہجے میں بے پناہ محبت سمیٹے جذبوں سے پُر آواز میں بولا۔
    ‘میں جانتا تھا، تمھیں بھی عادت سی ہوگئی ہے میری۔ میں نے بھی بہت مِس کیا ! تمھیں پتا ہے پہلے بھی بہت سال صرف تمھارے اِنتظار میں، تمھیں یاد کرتے گُزارے ہیں میں نے لیکن جو بے چینی اِن تین دنوں میں تم سے دور رہ کر ہوئی ہے وہ لفظوں میں بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ دل چاہ رہا تھا اُڑھ کر تم تک پہنچ جاؤں لیکن میں صبر سے کام لیتا رہا کہ تمھیں کچھ دِن میں واپس میرے پاس آ ہی جانا ہے۔ اب یہ اطمینان ہے کہ تم میرے پاس ہو اور صرف میری ہو۔’ اُسکی باتوں سے عرشیہ عجیب سے احساسات سے گُزر رہی تھی۔ کسی بھی بیوی کیلئے اپنے شوہر کا اِس درجہ والہانہ پن یقیناً بہت بڑی خوشی قسمتی اور سکون کا باعث ہوتا ہے، لیکن وہ اپنے دل کی کیفیات سمجھنے سے قاصر تھی۔اُسنے اپنا ہاتھ روحیل کی گرفت سے چُھڑانا چاہا لیکن گرفت اِتنی مضبوط تھی کہ اُسکی ہلکی سی کوشش بھی ناکام ہوگئی ۔ وہ شش و پنج میں گرفتار تھی جب روحیل نے ایک خوبصورت غزل پیش کی۔
    ‘اگر مل سکے تو وفا چاہئیے،
    ہمیں کچھ نہ اُسکے سوا چاہئیے،
    بہت بے سکوں ہیں ہم تیرے بِنا،
    ہمیں زندگی کی دوا چاہئیے،
    کہیں بھی میں جاؤں ، پلٹ آؤنگا،
    مجھے تیری بس اِک صدا چاہئیے،
    ہو تکمیل جس سے میری ذات کی،
    بہاروں کی ایسی ہوا چاہئیے،
    مجھے تیرے دل میں اے ہمنواں!
    اگر مل سکے تو جگہ چاہئیے،
    کہاں تک بھلا میں نبھاؤں وفا،
    کبھی تو مجھے بھی صلہ چاہئیے۔۔!’
    وہ خاموش ہوگیا تھا۔
    ‘تم کچھ نہیں کہوگی؟’ روحیل اُسکی طویل خاموشی سے جھنجھلا یا
    ‘کیا کہوں؟’ وہ انجان بنی اُس سے سوال کرنے لگی
    ‘ارے یار! سارے رومانٹک موڈ کا ستیاناس کر رہی ہو۔ اب یہ بھی میں بتاؤں تمھیں؟ چلو پھر آج اپنے طریقے سے بتاتا ہوں۔’ روحیل سارے فاصلے مِٹا تا اُسکے بے حد قریب آگیا، اِتنا کہ اُسکی سانسیں وہ اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ اُسکے کیا اِرادے ہیں اسلئے اپنے چہرے پر پہاڑوں جیسی سختی لاتے ہوئے بولی۔
    ‘پیچھے ہٹو اور ہاتھ چوڑو میرا فوراً!’
    ‘وہاٹ؟؟’ روحیل کو ہزار والٹ کا کرنٹ لگا تھا۔ وہ جو اُسکی طرف سے کوئی پیار بھرے اظہاراور پیار بھری نگاہ کا منتظر تھا ، یہ سُن کر بے حد حیران ہوا ۔ اُسے عرشیہ سے اسوقت یہ اُمید ہرگز بھی نہیں تھی۔وہ اُسی اُکھڑ انداز میں بات کر رہی تھی جیسے پہلے کیا کرتی تھی۔
    ‘میں نے کہا میرا ہاتھ چھوڑیں۔ آپکو سُنائی نہیں دیا؟’ وہ اُس بار پہلے سے زیادہ زور سے بولی
    ‘پر کیوں؟’ روحیل نے خفگی سے اُسے دیکھا
    ‘جب دیکھو تب یہی کرتے رہتے ہو تم۔ چھوڑو پلیز!! ‘ وہ جھٹکے سے اپنا ہاتھ چُھڑا کر بیڈ سے اُٹھ گئی اور کھڑکی کے پاس جاکر کھڑی ہوگئی۔ روحیل اُسے جاتا دیکھ کر مسکرایا اور اُسکے پیچھے چل پڑا۔ وہ جیسے ہی اُسکے برابر آکر کھڑا ہوا عرشیہ ایک قدم پیچھے ہٹ گئی۔ روحیل نے بمشکل اپنی ہنسی دبائی اور شرارت سے اُسکے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔
    ‘اتنی کنفیوز کیوں ہورہی ہو تم؟’ وہ اُسکے چہرے کے اُتار چڑھاؤ بغور دیکھ رہا تھا جہاں ایک رنگ آرہا تھااور ایک رنگ جارہا تھا۔ وہ اُسکی بات کو نظر انداز کرتی رُخ موڑ گئی لیکن آج روحیل نے بھی تہّیا کر رکھا تھا کہ وہ اُس سے اپنی محبت کا اظہار کروا کر ہی دم لے گا۔وہ اُسکے مدِمُقابل ا کھڑا ہوا اور اُسکا راستہ روک دیا۔
    ‘اتنا کیوں کترا رہی ہو مجھ سے؟؟ کہیں پیار ویار تو نہیں ہوگیا مجھ سے؟’ وہ اُسکی ہونق بنی شکل سے خط اُٹھا رہا تھا ۔ یہ سچ تھا کہ عرشیہ اب پہلے کی طرح اُسکا سامنا نہیں کر پاتی تھی، وہ اُس سے حقیقتاً کترانے لگی تھی اور ایسا اکثر تبھی ہوتا ہے جب آپ کے دل میں کوئی جگہ بنانے لگتا ہے۔لیکن اِسوقت وہ خود بھی اپنے دل کی حالت سمجھ نہیں پارہی تھی۔وہ چور سی بنی اِدھر اُدھر جانے کا راستہ تلاش کرنے لگی جب وہ دوبارہ اُسکی راہ میں حائل ہوگیا۔
    ‘ایسی کوئی بات نہیں ہے، ہٹو نامیرے سامنے سے۔’
    ‘اچھا تو پھر یہی بات میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولو کہ تمھیں مجھ سے پیار نہیں ہے۔’
    ‘مجھے آپکی آنکھیں سخت زہر لگتی ہیں۔’ عرشیہ کو غصہ آنے لگا۔اُسے ایسی گفتگو کی اُمید نہیں تھی۔ روحیل شہادت کی اُنگلی سے اُسکا چہرہ اوپر اُٹھاتے ہوئے بولا۔
    ‘اچھا! پر مجھے تو تمھاری آنکھیں بہت پسند ہیں، دل چاہتا ہے کہ۔۔۔’
    ‘روحیل! جانے دو مجھے خدا کے لئے۔’ وہ بے بسی سے بولی (عجیب مصیبت میں پھنس گئی ہوں)
    ‘آج نہیں جان! آج تو کہیں نہیں جانے دونگا تمھیں۔’
    ‘روحیل! میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے، میرے سر میں ویسے ہی درد ہے۔ میرا درد اور مت بڑھاؤ۔’
    ‘ میں دبادوں سر؟’ وہ فکرمندی سے پوچھتے ہوئے آگے آیا اور وہ نفی میں سر ہلانے لگی۔
    ‘سوئیٹ ہارٹ! تمھارے سارے درد آج میں سمیٹ لینا چاہتا ہوں۔ اِدھر آؤ!’ روحیل اُسے ہاتھ بڑھا کرتھامنا چاہتا تھا لیکن وہ اُسے روکتے ہوئے بولی۔
    ‘دیکھو روحیل! میرے صبر کا اِمتحان مت لو، ہٹ جاؤ پلیز سونے دو مجھے۔’ عرشیہ اپنی ایک ہی رٹ لگا ئی ہوئی تھی جس پر روحیل اب جھنجھلا گیا تھا۔ کتنی دیر سے وہ اُسے پیار سے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ تھی کہ کچھ سمجھ ہی نہیں رہی تھی۔
    ‘ عرشیہ پلیز! ختم کرو اب یہ گُریز۔ کیوں بھاگ رہی ہو سچ سے؟ مان کیوں نہیں لیتی کہ تم بھی پسند کرنے لگی ہو مجھے؟ خود کو بھی سزا دے رہی ہو اور مجھے بھی۔ ایک سال ہوگیا ہے ہمیں ساتھ رہتے رہتے ،میں تھک گیا ہوں تنہا اِس سفر میں چلتے چلتے۔ مجھے تمھارے ساتھ اور وفا کی ضرورت ہے۔ اور اب یہ گُریز بے معنی ہے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تمھیں اچھا لگنے لگا ہوں میں۔’ اپنی بات کہہ کر اُسنے عرشیہ کا ہاتھ پکڑنا چاہا تو وہ ہتھّے سے اُکھڑ گئی۔
    ‘اوہ پلیز بند کرو اپنا یہ محبت نامہ! تنگ آگئی ہو ں میں تمھاری اِن باتوں سے۔ کیوں پیچھے پڑگئے ہو میرے۔ سکون برباد ہوگیا ہے میری زندگی کا۔ سکون سے جینے کیوں نہیں دیتے تم ؟ اور ہاں! ایک بات کان کھول کر سُن لو، میں کل بھی تم سے نفرت کرتی تھی اور آج بھی کرتی ہوں اسلئے کسی خوش فہمی میں مت رہنا۔’ اُسکا چہرہ غصے سے لال ہورہا تھا
    ‘تم۔۔۔ تم جھوٹ بول رہی ہو نا؟ کہہ دو کہ یہ جھوٹ ہے عاشی!’ روحیل سے ہاتھ چُھڑا کر وہ بیڈ کی طرف بڑھی ۔وہ پتھرائی ہوئی نظروں سے اُسے دیکھنے لگا (اب اتنی نفرت کیوں؟) اتنی حقارت کا تو اُسنے تصور بھی نہ کیا تھا۔ وہ کتنی سفّاکی سے یہ سب بول گئی تھی۔وہ آ ج بھی اُس سے اتنی ہی نفرت کرتی تھی، روحیل کو یقین نہ آیا۔
    ‘مجھے تم سے جھوٹ بولنے کا کوئی شوق نہیں ہے سمجھے تم!’
    ‘پلیز! کیوں کر رہی ہو میرے ساتھ ایسا؟ میں نے تمھاری آنکھوں میں اپنے لئے چاہت اور اپنائیت دیکھی ہے پھر کیوں قبول نہیں کرلیتی تم سچائی کو؟ تم اِسوقت جھوٹ بول رہی ہو اور میں ایسا اب نہیں ہونے دونگا۔ تمھیں اعتراف کرنا ہوگا کہ تم بھی مجھے پسند کرنے لگی ہو ۔’ عرشیہ کو اُسکی بات پر گویا پتنگے لگ گئے تھے ۔ وہ غصے سے چٹخ کر بولی۔
    ‘نہیں تو کیا کرلوگے تم؟ مسٹر روحیل سکندر! یہ شادی میں نے صرف اور صرف اپنے شارق کی خوشی کیلئے مجبوری میں کی تھی۔اُسکی رُکتی سانسوں کو سُکون بخشنے کیلئے میں نے اپنا سکون برباد کرلیا۔ بولو کیا کروگے تم؟ آج بھی میرے وجود کا دام لگاؤگے، جیسے آج سے کچھ سال پہلے بھی تم نے میری محبت کو پیسوں سے خریدنا چاہا تھا۔’ روحیل تو کچھ بول ہی نہ پایا۔ عرشیہ کے الفاظ کی کاٹ تیر کی طرح اُسکے دل میں پیوست ہورہی تھی۔ کیسے کیسے اِلزام لگا رہی تھی وہ اُس پر۔ اُسکا دماغ چکرا کر رہ گیا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے عرشیہ کے چہرے کو دیکھ رہا تھا جو غصے سے لال انگارہ بن گیا تھا۔ وہ لمحے بھر کو رُکی پھر بولی۔
    ‘یاد رکھو روحیل! پیسوں سے چیزیں تو خریدی جاسکتی ہیں لیکن زندہ وجود اور کسی کا دل نہیں۔ تمھیں جو کرنا ہے کرلو میرے ساتھ۔۔ میں تمھارے سامنے کھڑی ہوں۔ کل میں تمھارے آگے بے بس نہیں تھی لیکن آج میں مکمل بے بس اور مجبور ہوں۔ تمھاری دسترس میں ہوں کرلو اپنی طلب پوری اور بنالو مجھے بھی اپنی ہوس کا نشانہ۔ میں کچھ۔۔۔۔’
    آگے کا جملہ اُسکے منہ میں رہ گیا۔ روحیل کا بھاری ہاتھ فضا ء میں بُلند ہوا اور اُسکے نازک رُخصار پراُنگلیوں کے نشان چھوڑ گیا۔ تھپڑ اتنا شدید تھا کہ وہ اوندھے منہ بیڈ پر گری تھی۔
    ‘شٹ اپ! بہت فضول بول چُکی تم۔ آگے ایک لفظ بھی اور مت کہنا ورنہ میں کچھ کر بیٹھونگا۔’ وہ ہذیانی انداز میں چِلایا اور اُسے بے دردی سے دونوں کاندھوں سے پکڑ کر بیڈ سے اُٹھایا۔ وہ اِسوقت غصے سے پاگل ہورہا تھا۔ اُسکی اُنگلیاں اتنی بے دردی سے عرشیہ کے بازو میںپیوست ہوئی تھیں کہ اُسکی سِسکی نکل گئی۔ وہ اُسے اپنے سامنے کھڑا کرکے قہر آلود نِگاہیں اُسکے چہرے پر گاڑتے ہوئے پھنکارا۔
    ‘کیا کہا تم نے؟ تمھیں میری محبت ہوس نظر آتی ہے۔ شرم نہیں آئی تمھیں ایسے الفاظ اپنے منہ سے نکالتے ہوئے؟ بچپن سے لیکر آج تک تم ہر قدم پر میرے پاکیزہ اور سچے جذبوں کی تذلیل کرتی آئی ہو اور میں چپ چاپ برداشت کرتا رہا۔کونسی گھٹیا حرکت کرتے دیکھا ہے تم نے مجھے؟ کِن جرائم میں مُلوث رہا ہوں میں؟ کتنی لڑکیاں خرید لی میں نے اپنے پیسوں سے یا کہاں تم نے میرے کردار میں کوئی جھول دیکھا ہے؟ بولو۔۔ جواب دو۔۔’ وہ غصے سے چیخ رہا تھا اور عرشیہ سہم گئی تھی۔ اُسے کب عادت تھی اِتنی اونچی آواز سُننے کی۔ روحیل تو ہمیشہ ہی اُس سے بہت محبت سے بات کرتا آیا تھا۔اُسکا یہ روپ دیکھ کر عرشیہ دہل کر رہ گئی ۔روحیل کی سخت اُنگلیاں اُسکے نازک بازوؤں میں جم کر رہ گئیں ۔ تکلیف سے عرشیہ کے آنسو نکلنا شروع ہوگئے تھے۔
    ‘روحیل پلیز چھوڑو! بہت درد ہو رہا ہے۔’ تکلیف کی شدت سے بس وہ اِتنا ہی کہہ پائی لیکن روحیل پر کوئی اثر نہ ہوا۔وہ وحشی بن گیا تھا اِسوقت۔

  • اشکِ وفا — ماریہ نصیر (دوسرا حصّہ)

    اشکِ وفا — ماریہ نصیر (دوسرا حصّہ)

    وہ رات بارہ بجے کے قریب دوستوں سے فارغ ہوا تھا۔ شادی عرشیہ کی عدّت ختم ہونے کے دو ماہ بعد کافی سادگی سے طے پائی تھی لیکن روحیل کے قریبی عزیز و اقارب اور دوست احباب جمع تھے کیونکہ روحیل وِلا کی یہ پہلی خوشی تھی۔
    الّلہ کی عطا کبھی ختم ہونے والی نہیں ہے اور بندے کا کام ہے اُس سے مانگنا۔ اور وہ کبھی اپنے بندے کو ماےّوس نہیں کرتا۔ اُس سے مانگتے رہو،وہ عطا کرتا ہے اور بے شُمار کرتا ہے۔۔ گُماں سے بڑھ کر، بیان سے باہر۔۔ کیونکہ وہ خوب جانتا ہے کہ کس کیلئے کیا بہتر ہے اور کس کے دِل کو کیسے پھیرنا ہے، بس یقین رکھو اُس رب پر۔ اور یہ اُس خُدا پر یقین ہی تھا جس نے روحیل کو آج یہ خوشی دی تھی۔ آج اُسکی زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری ہوئی تھی۔۔
    اُسکے بکھرے جذبات اور ٹوٹے خوابوں کو آج حقیقی تعبیر ملی تھی۔۔
    عرشیہ کا مِل جانا۔۔۔ لیکن اِسطرح۔۔ اِن حالات میں۔۔
    اِسطرح تو اُس نے کبھی نہ چاہا تھا۔۔ پر کبھی کبھی قدرت ایسا کھیل کھیلتی ہے کہ انسان دیکھتا رہ جاتا ہے۔ کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جس پر انسان محض ایک کٹھ پُتلی بن کرقسمت کے اِشاروں پر رقص کرتا ہے۔روحیل خود بھی ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔ یہ سب اُسکے لئے بھی بہت غیر متوقع اور اچانک تھا۔ لیکن! وہ اپنی محبت کے ہاتھوں اِتنا مجبور تھا کہ شارق کی اِس آخری خواہش کو رد نہ کرسکا۔ اُسے یاد تھا جب شارق نے اسپتال کے بیڈ پر اُسکے سامنے ہاتھ جوڑ کر عرشیہ کی خوشیاں مانگی تھیں اور روحیل کو اُسکی محبت کی قسم دے کرمجبور کردیا تھا۔
    ‘میں جانتا ہوں تم عرشیہ سے مجھ سے بھی زیادہ محبت کرتے ہو اور اُسکو ساری عمر اِس تکلیف سے گزرتا ہوا نہیں دیکھ سکتے، اِسلئے میں تمھارے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں میری عرشیہ کو اپنا لو۔۔ میری عرشیہ کو سمیٹ لینا، میرے بعد صرف تم ہو جو اُسے خوش رکھ سکتے ہو، زندگی کی طرف دوبارہ واپس لاسکتے ہو۔ پلیز میری یہ آخری خواہش پوری کردو روحیل۔۔ پلیز!’ وہ اُس تکلیف میں بھی صرف عرشیہ کی خوشیاں مانگ رہا تھا۔ کتنی محبت کرتا تھا وہ اُس سے
    ‘یہ کیا کر رہے ہو شیری، ایسے مت کہو تم بالکل ٹھیک۔۔۔’ روحیل نے اُس کے جُڑے ہوئے ہاتھ کھول دئیے جس پر شارق اُسکی بات کاٹ کر بولا
    ‘میرے پاس چند سانسیں بچی ہیں روحیل جو کبھی بھی آخری سانس بن سکتی ہیں مجھ سے وعدہ کرو، پلیز میں بہت تکلیف میں ہوں!’
    ‘مگر عرشیہ مجھ سے نفرت کرتی ہے۔۔’ یہ احساس ہی کتنا جان لیوا ہوتا ہے کہ جس شخص سے آپ نے شدتوں سے عِشق کیا ہو، ہر دعا میںاُسے مانگا ہو ، آپکا ہر خواب اُس سے شروع ہوکر اُس پر ختم ہوتا ہو ، بدلے میں اُس سے صرف نفرت اور حقارت ملے۔
    ‘جب وہ تمھارے ساتھ ہوگی تو تم سے محبت بھی کرنے لگے گی میری عرشیہ کا دِل بہت نرم ہے۔بس مجھ سے وعدہ کرو۔ تمھیں تمھاری محبت کی قسم ہے!’
    اور اُس ایک قسم نے روحیل کو مجبور کردیا تھا۔ اُسکی محبت نے اُسے مجبور کردیا تھا۔وہ اپنی محبت کے آگے ہار گیا تھا۔اور شارق اپنی زندگی ہار گیا تھا۔ اِس واقعے کے چھ ماہ بعد اُن دونوں کی شادی طے پائی تھی۔ اور پھر اُنکی شادی کا دن بھی آگیا۔ وہ سارا وقت بہت ضبط سے بیٹھی رہی لیکن رُخصتی کے وقت سُمیر صاحب اور زُنیرہ بیگم سے مل کر اُسکا سارا ضبط ریزہ ریزہ ہوگیا تھا۔ وہ اپنے ماںباپ کی دعاؤں کے سائے میں رُخصت ہوکر روحیل کے ہمراہ روحیل وِلا چلی آئی تھی۔ وہاں پہنچتے ہی حرابیگم نے اُسے کمرے میں بھجوادیا ۔ وہ جانتی تھیں کہ وہ ذہنی اور جسمانی طور پر بہت تھکی ہوئی ہے۔ اُسکی طبیعت بھی بہت بوجھل لگ رہی تھی۔انھوں نے رابیل کے ہاتھ گرم دودھ اور دو پین کلرز عرشیہ کے کمرے میں بھجوادی تھیں۔

    روحیل نے بس ایک جھلک دلہن بنی عرشیہ کو دیکھا تھا۔ گو کہ اُسے سادگی سے تیار کیا گیا تھالیکن پھر بھی وہ سُرخ جوڑے میں خوبصورتی کا شاہکار لگ رہی تھی۔ روحیل چند لمحے اپنے کمرے کے پاس آکر رُکا جیسے اندر جانے کی ہمُت جمع کر رہا ہو۔پھر ایک ٹھنڈی آہ بھر کر دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیا اور پیچھے دروازہ لاک کردیا۔ کمرہ سُرخ و سفید مُلائم گُلابوں سے سجا ہوا تھا۔ پورے کمرے میں گُلاب کی مہک رچی ہوئی تھی جو ماحول کو ایک بہترین احساس بخش رہی تھی اور کمرہ ایک خوابناک منظر پیش کر رہا تھا ۔کمرے کا جائزہ لیتے ہوئے جیسے ہی اُسکی نظر بیڈ کے این وسط میں پڑی وہ چونک گیا۔ بیڈ خالی تھا۔اُس نے کمرے میں نظریں دوڑائیں، کمرہ خالی تھا (عرشیہ کہاں گئی؟) ابھی وہ آگے بڑھنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ باتھروم کا دروازہ بند کرکے عرشیہ اندر آئی ۔
    دُھلا ہوا شفاف چہرہ۔۔ کہیں کہیں پانی کے ننھے قطرے جھلملا رہے تھے۔۔
    بالوں کا بڑا سا جوڑا بنا ہوا تھا۔۔
    وہ بیبی پِنک کلر کا سادہ سا کاٹن کا سوٹ پہنے ہوئے تھی۔۔
    نہ سُرخ جوڑا تھا۔۔ نہ کوئی زیور۔۔ نہ ہار سِنگھار۔۔
    وہ روحیل کے آنے سے پہلے ہی سب تبدیل کرکے آچُکی تھی۔ اور روحیل کو اِسی چیز کی اُمید تھی شایدوہ اُسکی ذہنی کیفیت سے واقف تھا۔۔
    عرشیہ اپنی دُھن میں باہر آئی تھی لیکن اب روحیل کو اپنی طرف دیکھتا پا کر وہ تھوڑی نروس ہوگئی تھی۔ جھٹ سے دوپٹہ سر پر ڈال لیا۔روحیل نے ہمیشہ کی طرح سلام میں پہل کی تھی ۔ اُس نے کافی سنجیدگی سے جواب دیا اور اِس سے پہلے کہ روحیل کچھ بولتا وہ بول پڑی۔
    ‘جانماز کہاں ہے؟ مجھے نماز پڑھنی ہے۔’ روحیل کچھ بولا نہیں بس وارڈروب کی طرف اِشارہ کردیا۔ جب تک وہ نماز پڑھ رہی تھی روحیل بھی کپڑے تبدیل کرکے آچُکا تھا۔وہ بیڈ پر ٹِک گیا اور اُسکی نماز ختم ہونے کا اِنتظارکرنے لگا۔وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئی اورساتھ ہی روحیل کو متوجہ کیا۔
    ‘میں بہت تھک گئی ہوں۔سونا چاہتی ہوں۔’
    ‘کیا آپ جانتی ہیں آج ہی ہماری شادی ہوئی ہے، دو گھڑی بات تو کرسکتے ہیں؟ ‘ روحیل نے سنجیدگی سے دریافت کیا
    ‘پلیز! میں اِسوقت صرف سونا چاہتی ہوں۔’ وہ اسوقت کسی بحث کے موڈ میں نہیں تھی اِسلئے آنکھیں رگڑتے ہوئے بولی اور کمرے میں موجود ایک چھوٹے کمرے(اسٹڈی روم ) کی جانب بڑھنے لگی۔
    ‘کہاں جارہی ہو؟’ روحیل نے حیرانی سے سوال کیا اور عرشیہ کا ہینڈل کی طرف بڑھتا ہاتھ رُک گیا
    ‘ باہر جارہی ہوں۔’
    ‘کیوں؟’ روحیل نے سوال کیا اور چلتا ہوا اُس کے قریب آگیا
    ‘ابھی تو بتایا ہے کہ تھک گئی ہوں اور سونا چاہتی ہوں، اسلئے دوسرے کمرے میں جا رہی ہوں۔’ عرشیہ نے بے زاری سے جواب دیا اور روحیل کو نہ چاہتے ہوئے بھی غصہ آنے لگا۔ وہ مسلسل اُسے اِگنور کئے جارہی تھی۔پھر بھی وہ اُسکی ذہنی حالت کو سمجھتے ہوئے اپنا غصہ دباکر نارمل انداز میں بولا۔
    ‘کیا ہم کچھ دیر باتیں نہیں کرسکتے؟ میں تم سے۔۔۔۔’
    ‘روحیل پلیز! کیا ہم یہ باتیں کل نہیں کرسکتے؟ میں سچ میں بہت تھکی ہوئی ہوں۔ صرف آرام کرنا چاہتی ہوں!’ عرشیہ نے معصومیت سے کہا توکتنی ہی دیر روحیل اُسکے سادہ اور تھکے ہوئے چہرے کو تکتا رہا جہاں واقعی تھکن اُتری ہوئی تھی اورسُنہری آنکھوں میںنیند کا خُمار ہچکولے رہا تھا۔ روحیل کا سارا غصہ پل بھر میں غائب ہوگیا اور اُسے اِس معصوم سی لڑکی پر ٹوٹ کرپیار آنے لگا۔ لیکن وہ اپنے سر کش جذبوں کو دباتا ہوا دھیمے اور اپنائیت بھرے لہجے میں گویا ہوا۔
    ‘ٹھیک ہے سوجاؤ لیکن پلیز یہیںاِسی کمرے میں! اِس اسٹڈی روم کا دوسرا دروازہ لاؤنج کی طرف بھی کُھلتا ہے اور اسوقت گھر میں بہت مہمان ہیں۔ وہ کچھ نہیں جانتے، بہت باتیں بنیںگی اسلئے تمھیں سونا تو یہیں پڑیگا۔’ عرشیہ اُسے اُلجھن سے دیکھنے لگی جب روحیل نے مسکرا کر دوبارہ اپنی بات جاری کی۔
    ‘گھبراؤ نہیں! تم بیڈ پر سوجاؤ میں صوفے پر سوجاؤنگا۔۔ ۔ اور ہاں۔۔یہ تمھارا منہ دکھائی کا تحفہ ہے، تم پہنوگی تو مجھے اچھا لگے گا۔’ اُسنے ایک مہرون مخملی ڈبّہ اُسکی طرف بڑھایا ۔ وہ چند لمحے اُسکے جواب کا منتظر رہا پر وہ کچھ نہ بولی بلکہ خاموشی سے ڈبّہ اُسکے ہاتھ سے لے لیا اوربیڈ کی طرف بڑھ گئی ۔ وہ بھی ایک گہری سانس لیتا صوفے کی جانب بڑھ گیا۔ اُسے پھر بھی تسلّی نہ ہوئی تھی وہ کتنی ہی دیر اپنے آپ میں سِمٹی بیڈ پر بیٹھی رہی شاید روحیل کے سونے کا انتظار کرر ہی تھی۔روحیل نے کروٹ بدلتے ہوئے بیڈ پر نظر ڈالی ، اُسکے ایسے محتاط اور ڈرے سہمے سے انداز پر اپنی ہنسی دباتے ہوئے بولا۔
    ‘ڈرو مت! یہ تمھارا اپنا ہی کمرہ ہے ، سکون سے سو۔ کچھ نہیں ہوگا۔’ اُسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ اُسکی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا ہے۔ عرشیہ گھبرا کر اپنی خفت مِٹانے فوراً لیٹ گئی اور چادر اوپر تک تان لی۔
    ************************
    ایک بھرپور انگڑائی کے ساتھ اُسنے آنکھ کھولی۔ پین کلر کا اثر تھا کہ وہ رات بھر پُر سکون نیند سوئی تھی۔ گھڑی پر نظر پڑتے ہی وہ گھبرا کر اُٹھ بیٹھی۔ گھڑی صبح کے دس بجا رہی تھی۔وہ بہت دیر سوئی تھی ۔کچھ دوا کا اثر بھی تھا ، رات بھر کی تھکن اور اِتنے دنوں کی ذہنی ٹینشن نے اُسے واقعی تھکا ڈالا تھا۔
    منہ پر آئے بالوں کو سمیٹتی وہ بیڈ سے نیچے اُتر آئی اور سِلپرز پہن کر جیسے ہی صوفے پر نظر پڑی وہ غیر اِرادی طور پر چلتی ہوئی اُسکے قریب آگئی۔
    کچھ دیر وہ روحیل کے سوئے ہوئے وجود کو دیکھتی رہی۔ وہ بلاشبہ اِتنا ہی خوبصورت تھا کہ ہر کوئی اُسکے سحر میں گرفتار ہوجاتا تھا۔ عرشیہ بھی کچھ لمحوں کیلئے اُسکے سحر میں گرفتار ہوگئی تھی پر وہ جلد ہی اِس کیفیت سے نکل آئی ۔اپنی سوچوں کو رد کرتی وہ باتھروم کی جانب بڑھ گئی۔ اور یہ دیکھنے سے قاصر رہی کہ اُسکے جاتے ہی روحیل کے چہرے پر بڑی شریر مسکراہٹ رقص کرنے لگی تھی۔وہ اُسکی ساری حرکات نوٹ کرچُکا تھا۔ وہ نہا کر باہر آئی اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنے بالوں کو سُلجھانے لگی جب دروازے پر دستک ہوئی۔ اُس نے پلٹ کر روحیل کو دیکھا پرروحیل کے وجود میں کوئی حرکت نہ ہوئی۔وہ ایسے ہی بے خبر سو رہا تھا۔عرشیہ کو آگے بڑھ کر خود سے دروازہ کھولنا بہت عجیب لگا اور وہ بھی تب جب وہ صوفے پر دراز تھا۔وہ روحیل کو مُخاطب کرنا نہیں چاہتی تھی لیکن اُسکو اُٹھانے کے سوا اور کوئی راستہ نہ تھا اِسلئے ناچار وہ آگے بڑھی اور اُسے آواز دی۔
    ‘روحیل!’
    ‘روحیل!’
    ‘روحیل!’
    دو چار آوازوں کے بعد بھی وہ ایسے ہی دُنیا و مافیہا سے بے خبر سورہا تھا۔ نا چاہتے ہوئے بھی عرشیہ کو اُسکے قریب جاکر اُسکا کندھا ہِلانا پڑا۔
    ‘اُٹھو پلیز! دیکھو دروازے پر کوئی ہے۔’ پریشانی اُسکے چہرے سے ایاں تھی لیکن وہ بے خبر پڑا تھا۔ایک بار دستک کے بعد آواز آنا بند ہوگئی تھی۔وہ سخت کوفت میں مُبتلا ہوکر بڑبڑائی۔
    ‘ارے اُٹھو بھی روحیل! اُف خدایا پتا نہیں کیسی نیند ہے۔ اب کیا کروں میں؟’ یہ کہہ کر وہ جیسے ہی پلٹی روحیل نے اُسکا ہاتھ مضبوطی سے اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لیا اور گنگنایا۔
    ‘روح پر نقشِ لازوال ہے تو،
    اب خیالوں میں ایک خیال ہے تو،
    تیرے جیسا کوئی نہ دیکھا،
    تو ہے انمول، بے مثال ہے تو،
    مجھ کو پاگل بنادیا تو نے،
    عشق کا کیسا یہ کمال ہے تو،
    تو محبت ہے ، آرزو ہے میری،
    میری اِس زندگی کی ڈھال ہے تو،
    تیرے دم سے ہی پیار زندہ ہے،
    میرے ماضی کی تلاش، میرا حال ہے تو!’
    وہ اِسوقت روحیل کے دل کی دنیا زیر و زبر کر رہی تھی۔ گیلے بال پُشت پر کھلے ہوئے تھے۔ اِس پر اُسکاکھلا ہوا گلاب چہرہ جو غصے اور گھبراہٹ کی آمیزش سے کچھ اور سُرخ پڑگیا تھا۔ وہ ایک لمحے میں تپا تپا چہرہ لئے پلٹی اور دھیمی لیکن گرجدار آواز میں بولی۔
    ‘یہ کیا بدتمیزی ہے؟ چھوڑو میرا ہاتھ!’ وہ اُسی اطمینان سے لیٹا اُسے دیکھتا رہا اور جب بولا تو اطمینان ہنوز قائم تھا
    ‘دل نہیں چاہ رہا نا چھوڑنے کا۔’ اُسکا اطمینان عرشیہ کو سر سے پاؤں تک جلا گیا
    ‘تمھارا دل تو مائی فُٹ! زیادہ فری ہونے کی کوشش مت کرو میرے ساتھ، اور ہاتھ چھوڑو۔’ اِس بات پر روحیل نے بے ساختہ قہقہہ لگایا لیکن اِس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا دروازہ دوبارہ بج اُٹھا اور اِس بار رابیل کی کھنکدار آواز سُنائی دی۔
    ‘تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ دروازے پر کوئی ہے؟’ روحیل اُسکا ہاتھ چھوڑتا ایک لمحے میں صوفے سے اُٹھااور اُسی تیزی سے اپنا تکیہ اُٹھا کر بیڈ پر پھینکا۔ عرشیہ کو اُسکے انجان بننے پر مزید غصہ آیا۔
    ‘کب سے تواُٹھا رہی تھی لیکن تمھیں تو بس اپنی فالتو حرکتوں سے فُرصت۔۔۔’
    ‘اوہ شٹ اپ(Oh Shut up)!’ روحیل نے اُسکی بات کاٹ دی۔ایسے فضول الفاظ استعمال کرنے پر روحیل کو بُرا لگا تھا
    ‘اب جاؤ کھولو دروازہ، اور کسی سے یہ مت کہہ دینا کہ میں صوفے پر تھا۔’
    ‘اِتنا ہی بے وقوف سمجھا ہے کیا مجھے؟’ عرشیہ نے ظنز کیا جسکا روحیل نے تُرکی بہ تُرکی جواب دیا
    ‘بے وقوف تو تم ہو اور وہ بھی بہت بڑی! کبھی فُرصت سے بتاؤنگا، ابھی جاؤ دروازہ کھولو۔’
    وہ تیزی سے باتھروم میں غائب ہوگیا اور عرشیہ پیچ و تاب کھا کر رہ گئی۔
    ************************

  • اشکِ وفا — ماریہ نصیر (پہلا حصّہ)

    اشکِ وفا — ماریہ نصیر (پہلا حصّہ)

    چِڑیوں کی چہچہاہٹ اور پرندوں کے سُریلے گیتوں نے ایک نئی صبح کا آغاز کیا ۔کل رات کی موسلادھار بارش کے بعد موسم نہایت خوشگوار ہوگیا تھا۔ سورج کی کِرنیں اپنی روشنی ہر سو پھیلا رہی تھیں۔ دِسمبر کی سرد ہوائیں ایک خوبصورت احساس کی طرح ہر شے کو حسین اِمتزاج بخش رہی تھیں۔ لان میں لگے لہلہاتے پھول اور پتّے مسکراکر اپنے نکھرنے کی نوید دے رہے تھے۔
    موسم میں خُنکی شامل ہو گئی تھی۔ کھوئی کھوئی سی عرشیہ اپنے ٹیرس پہ کھڑی کسی گہری سوچ میں گُم تھی۔اپنے شانے پرکسی کے ہاتھ کا دباؤ محسوس کرکے وہ چونکی۔
    ‘کہاں کھوئی ہوئی ہو کن سوچوں میں گم ہو؟’ وہ اُسکے چہرے کو بغور دیکھتا ہوا بولا
    ‘ارے آپ کب آئے ؟ ناشتا کرلیا کیا؟’ عرشیہ نے پردے برابر کرتے ہوئے پوچھا۔ وہ ابھی ابھی جوگنگ کرکے واپس لوٹا تھا
    ‘ ہم ناشتا آپ کے بغیر کرلیتے؟’ اُس نے اُسکے بالوں کو نرمی سے چھوا
    ‘میں تو بس موسم کا جائزہ لینے یہاں آگئی تھی کتنا خوبصورت موسم ہورہا ہے نا !! ‘ کِھلی ہوئی مسکراہٹ عرشیہ کے چہرے سے ظاہر تھی۔ صبح کی مدھم روشنی، پھولوں کی دھیمی خوشبو اور گیت گاتے پنچھی اُسے اپنی کمزوری لگا کرتے تھے۔اُسے ہمیشہ سے ایسا موسم بہت دلکش لگتا تھا۔
    ‘تو کیا خیال ہے پھر؟ کیوں نہ ایسے خوبصورت موسم سے لُطف اُٹھائیں اور کہیں ایسی جگہ چلیں جہاں بس میں اور تم۔۔۔۔’
    ‘شارق۔۔!! میں آپکی شرارتیں خوب سمجھتی ہوں، موسم کا مزہ بھی لیںگے فالحال تو آپ ڈائننگ ٹیبل پر چلیںامّی ہمارا انتظار کررہی ہونگی، آپ نے مجھے بھی باتوں میں لگا لیا۔’
    ‘جو حُکم ملکئہِ عالیہ کا۔’ شارق نے سر کو ہلکا سا خم دیا اور محبت سے اُسکا ہاتھ تھام کر باہر کی جانب بڑھ گیا
    ************************

    سُمیر یزدانی اور حیدر یزدانی دونوں بھائی تھے۔ دونوں ‘یزدانی پیلیس’ میں نیچے اوپر کے پورشنز میںرہتے تھے ۔ سُمیر یزدانی، حیدر کے بڑے بھائی تھے اور وہ اوپر والے پورشن میںاپنی بیوی زُنیرہ اور بیٹی عرشیہ کے ساتھ رہتے تھے۔ اُنکی تین ہی بیٹیاں تھیں جسمیں عرشیہ کا نمبر سب سے آخری تھا۔ وہ اُنکی سب سے چھوٹی اورلاڈلی بیٹی تھی۔ اُنکی بڑی دونوں بیٹیاں آئزہ اور مہوش شادیوں کے بعدکینیڈا میںمُقیم تھیں۔ جبکہ حیدر یزدانی نیچے والے پورشن میںاپنی بیوی انیلہ اور بیٹے شارق کے ساتھ رہتے تھے۔ شارق اُنکا اِکلوتاسپوت تھا۔ دونوں گھرانوں کے آپس میں بہت اچھے تعلُقات تھے۔ اِن سب نے اپنا آشیانہ بہت خوبصورتی اورڈھیر ساری مُحبتوں سے سجایا تھا۔اِنکا شُمار نہایت سُلجھے ہوئے گھرانوں میں ہوتا تھا۔
    عرشیہ اور شارق ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم تھے۔اُن دونوں کی مُحبت کسی سے چُھپی ہوئی نہیں تھی۔ وہ دونوں بچپن سے ساتھ ساتھ ہی رہے تھے اور ہم عُمر ہونے کے باعث دونوں کی اسکولنگ بھی ایک ہی جگہ سے ہوئی تھی۔ دونوں نے ساتھ ہی ایم۔بی۔اے کیا تھا۔وہ دونوں زندگی کے ہر موڑ پر ایک دوجے کے سنگ رہے تھے۔
    شارق کے ایم۔بی۔اے کرنے کے دوران ایک دِن اچانک حیدرصاحب کو ہارٹ اٹیک ہوا جسے وہ برداشت نہ کر پائے اور اِس دارِ فانی سے رُخصت ہوگئے۔ وہ اپنی زندگی میں ہی شارق اور عرشیہ کی منگنی کر گئے تھے۔ اُنکا سارا بزنس اب شارق بخوبی سنبھال رہا تھا۔ کُچھ عرصے بعد دونوں کی شادی کردی گئی اور اب اُنکی شادی کو ایک ماہ ہو چلا تھا۔ عرشیہ شارق کے ساتھ بہت خوش تھی، یہ زندگی کا وہ خواب تھا جو دونوں نے ساتھ مِل کر دیکھا تھا۔لیکن کبھی کبھی نجانے کونسی ایسی بات تھی جو عرشیہ کو ایک انجانی سی پریشانی میں مُبتلاکر دیتی تھی۔ شارق محسوس کرتا تھا لیکن وہ چاہتا تھا کہ عرشیہ خود اُسے اپنی پریشانی بتائے۔
    ************************
    عرشیہ مُلازمہ سے سارے کام کرواکراپنے کمرے میں آگئی تھی۔آٹھ بجنے والے تھے، شارق کے آفس سے آنے کا ٹائم ہو رہا تھا۔ وہ تّیار ہو کر کپڑے طے کرنے کی غرض سے بیڈ پر بیٹھ گئی۔
    کچھ ہی دیر میں دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا ۔ اُسے کام میں مصروف دیکھ کر شارق کو شرارت سوجھی۔ آج اُس نے شارق کا پسندیدہ لِباس زیب تن کیا تھا۔ سُرخ و سفید فراک اور پاجامے میں ہلکے کام کا سوٹ پہنے وہ پہلے سے بھی زیادہ نِکھری نِکھری اور دلکش لگ رہی تھی۔ بالوں کو پُشت پر کُھلا چھوڑ دیا تھا۔
    ‘السّلامُ علیکُم’ عرشیہ نے اُسے آتا دیکھ کر سلام میں پہل کی
    ‘وعلیکُم السّلام! کیسے مِزاج ہیں ہماری مِسز کے؟ اور یہ کیا کام لیکر بیٹھی ہوئی ہو، مُلازمہ ہے نا اِن سب کاموں کیلئے۔’ شارق نے اُسکے ہاتھ میں پکڑی شرٹ لیکر سائیڈ میں پھینک دی۔
    ‘ارے! کیا کرتے ہیں شارق میں نے ابھی طے کی تھی وہ شرٹ۔ مُجھے آپکے کام کرنا اچھا لگتا ہے اور اگر سب کام مُلازمہ ہی کریگی تو پھر میں کیا کرونگی؟’ عرشیہ نے سارے کپڑے سائیڈ پر کردئیے جانتی تھی کہ اب شارق اُسے کوئی کام نہیں کرنے دیگا۔
    ‘تُم صرف مجھے یاد کیا کرو جیسے ہر وقت میں تُمھیں کرتا ہوں۔’ شارق نے اُسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر لبوں سے لگا لیا
    ‘ہیں! آپ مُجھے ہر وقت یاد کرتے ہیں آفس میں تو پھرکام کون کرتا ہے ؟’ عرشیہ نے اُسے چھیڑا۔ وہ اُسکی گود میں سر رکھ کر نیم دراز ہوگیا اور بولا
    ‘کام کون دیوانہ کرنا چاہتا ہے، ہم تو بس تُمھیں اور صرف تُمھیں یاد کرنا چاہتے ہیں۔’
    ‘پر اِن یادوں سے پیٹ تو نہیں بھرنے والا نا! چلیں مُجھے بہت بھوک لگی ہے۔آپ چینج کرلیں پھر کھانا کھاتے ہیں۔ ‘ عرشیہ اُسکی شرارتیں سمجھ گئی تھی تبھی اُٹھتے ہوئے بولی۔
    ‘یار کبھی تو رومانٹِک ہونے دیا کرو’ اُسنے مُنہ بناکر کہا جس پر عرشیہ کِھلکِھلاکر ہنس پڑی
    ‘اُس کیلئے ساری عُمر پڑی ہے، چلیں چلیں۔ مُجھے پتا ہے آپکو کتنی بھوک لگی ہوئی ہے ۔ آج میں نے آپکی پسندیدہ ڈِشز بنائی ہیں بِریانی اور شامی کباب۔’ وہ جانتی تھی کہ شارق بھوک کا کتنا کچّا ہے اِس لئے اُسے کھانے کا لالچ دیکر بہلانا چاہا پر شارق پر کوئی اثر نہ ہوا اُلٹا وہ مُنہ بناتا ہوا بولا۔
    ‘ہونہہ!شامی کباب! مُجھے نہیں کھانے!’ اُسکا موڈ سخت آف ہو چُکا تھا
    ‘اچھا نا! اب ناراض تو نہ ہو پلیز۔ اِتنے دل سے بنایا ہے میں نے سب کُچھ آپ کیلئے۔’ عرشیہ نے دھیرے سے اُسکے بال بکھیرے اور وہ ہمیشہ کی طرح اُسکی اِس چھوٹی سی ادا پر مان گیا۔
    وہ ایسا ہی تو تھا۔۔
    عرشیہ کی ایک مُسکراہٹ پر مان جایا کرتا تھا۔وہ اُسے خود سے بھی بڑھ کر چاہتا تھا۔ اپنی زندگی میں شارق نے اگرکسی لڑکی کو بے اِنتہا اور بے حِساب چاہا تھا تو وہ عرشیہ سُمیر ہی تھی۔ اور عرشیہ کا حال بھی اُس سے کُچھ الگ نہ تھا۔ اُسے شارق کے بغیر اپنا آپ نا مکمّل سا لگتا تھا۔ دونوں کی جان بستی تھی ایک دوسرے میں۔
    ************************
    کِھڑکی میں کھڑی گُم سُم اور گہری سوچ میں ڈوبی عرشیہ کو دیکھ کر شارق اُسکے قریب چلا آیا۔
    ‘آشی! کیا سوچ رہی ہو؟’ وہ اُسے اکثر آشی کہہ کر مُخاطب کرتا تھا۔ آج شارق نے سوچ رکھا تھا کہ اُسکی پریشانی کی وجہ جان کر رہے گا۔ وہ کبھی بیٹھے بیٹھے کھو جاتی ۔ اچانک گم سم ہو جایا کرتی۔ بظاہر سب کُچھ ٹھیک تھا، وہ اسکے ساتھ بہت خوش باش بھی تھی لیکن کوئی ایسی بات ضرور تھی جو وہ اپنے دل میں چُھپا کر بیٹھی تھی اورجو کہیں نہ کہیں اسے پریشان کر رہی تھی۔
    ‘نہیں کسی سوچ میں نہیں۔ میں تو بس یونہی کھڑی تھی۔’ وہ نظریں جُھکا کر بولی جانتی تھی کہ اُسے جھوٹ بولنا بالکل نہیں آتا تھا
    ‘اِدھر آؤ! یہاں بیٹھو!’ وہ اُسکا ہاتھ پکڑ کر بیڈ کے پاس لے آیا اور بیڈ پر بِٹھا کر خود اسکے سامنے دوزانو ہو کر بیٹھ گیا
    ‘کیا بات ہے؟ میں بہت دن سے دیکھ رہا ہوں تم کچھ پریشان لگتی ہو۔ تم مجھ سے شئیر کرسکتی ہو۔ بتاؤ کیا اُلجھن ہے؟’
    ‘نہیں! نہیں تو! ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔’ وہ اسکے ا ج اچانک پوچھ لینے پر کچھ گھبراگئی تھی
    ‘آشی! کیا تمھیں لگتا ہے کہ میں تمھاری پریشانی نہیں سمجھونگا؟ اگر ایسا ہے تو جب میں تمھیں اِس قابل لگنے لگوں تب مجھ سے اپنی پریشانی بانٹ لینا۔’ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھنے کو تھا جب عرشیہ نے اُسکا ہاتھ پکڑ کر اُسے آگے بڑھنے سے روک لیا۔
    ‘نہیں پلیز! ایسا کچھ نہیں ہے شیری! میں بس ایک بات کی وجہ سے تھوڑی سی پریشان رہتی ہوں کہ کہیں اسکی مُجرم میں تو نہیں ہوں؟’
    ‘کس کی مجرم؟ کیا بتانا چاہ رہی ہو جان پلیز کُھل کر بتاؤ۔’ شارق سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا
    ‘روحیل کی!’ عرشیہ نے اُسے آج سب بتانے کا تہےّا کر لیا تھا
    ‘روحیل ؟ یہ اپنا روحیل سکندر؟ دیکھو مجھے کُھل کر سب بتاؤ تبھی کچھ سمجھ پاؤنگا۔’ وہ اپنائیت سے بولا تو عرشیہ اسکے مقابل کھڑی ہوکر رندھی ہوئی آواز میں بولی۔
    ‘آپ مجھے سمجھیں گے نا؟ میری بات کو غلط تو نہیں سمجھیں گے نا؟ میں نہیں چاہتی کہ کوئی چھوٹی سی بات بھی ہمارے اِس پیارے سے رشتے کو خراب کرے۔ میں آپکو کھونا نہیں چاہتی۔’ اُسکی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ وہ بہت حسّاس طبیعت کی لڑکی تھی۔
    ‘ارے میری جان! مجھ پر بھروسہ کرو اور کھل کر سب بتاؤ پلیز۔ ہو سکتا ہے میں تمھاری پریشانی دور کردوں۔’ عرشیہ کو اسطرح پریشان دیکھ کر وہ سچ میں کچھ گھبرا گیا تھا۔ شارق نے اسکے گِرد بازو حمائل کر کے اُسے اپنے ہونے کا احساس دلایا۔
    عرشیہ کے ذہن کے پردے پر ماضی کے واقعات ایک فلم کی طرح گردش کرنے لگے۔۔۔
    ************************
    عرشیہ اور شارق کی اسکولنگ ایک ہی اسکول سے ہو ئی تھی۔ ان ہی کی کلاس میں ایک روحیل سکندر بھی تھا۔
    وہ بہت خوبرو اور اچھی شکل و صورت کا مالک تھا۔
    نہایت گوری رنگت۔۔
    سُرخی مائل ہونٹ۔۔
    کُشادہ پیشانی۔۔
    سیاہ روشن آنکھیں۔۔ اُس پرگھنی پلکیں۔۔
    سیاہ گھنے بال۔۔
    غرض کہ وہ سب لڑکوں میں سب سے اچھے قد کاٹ کا لڑکا تھا۔
    روحیل اور اسکی ایک چھوٹی بہن رابیل تھی۔ یہ دو ہی بھائی بہن تھے۔ اُن کے والدسکندرصاحب کا لیدر گارمنٹس کا بزنس پورے پاکستان میں پھیلا ہوا تھا۔ انکا شمار کراچی کے امیر ترین صنعتکاروں میں ہوتا تھا۔ اپنے ماں باپ کا اکلوتابیٹا ہونے کی وجہ سے وہ کافی لا اُبالی اور لاپرواہ طبیعت کا مالک تھا۔ پڑھائی میں بھی خاص اچھا نہ تھا اور اسی وجہ سے وہ عرشیہ کو ایک آنکھ نہ بھاتا ۔دوسری طرف وہ بہت ہی سلجھی ہوئی طبیعت کی ، اور ذہین ہونے کے باعث پڑھائی میں بھی بہت تیز تھی۔ہر ٹیچر کی آنکھ کا تارا۔ اِسی ذہانت اور قابلیت کی بدولت اسے ہر سال کلاس کا لیڈر بنادیا جاتا جسکی تمام تر ذمہ داریاں وہ بخوبی سنبھالتی تھی۔
    عرشیہ کا مِزاج دھیما ضرور تھا لیکن وہ غصُے کی بہت تیز تھی۔ کسی کی غلط بات برداشت کرنا اُسنے سیکھا نہیں تھا۔ اُسکے غصُے کی وجہ سے ہی کسی بھی لڑکے کی اُس سے بات کرنے کی ہمُت نہیں ہوتی تھی۔اور خصوصاً روحیل سے تو اسے سخت چِڑ تھی، کیوں؟ یہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔
    نویں جماعت کے امتحانوں سے کچھ دن قبل عرشیہ شدید بیمار پڑگئی تھی۔ جب وہ کافی دن کی غیر حاضری کے بعد اسکول آئی تو سب ہی اسکے لئے فکرمند تھے اور اسکی خیریت دریافت کر رہے تھے۔ ایسے میں روحیل بھی اُسکے پاس چلا آیا۔
    ‘کیسی ہو تم؟ اب طبیعت کیسی ہے تمھاری؟’
    ‘ٹھیک ہوں!’ عرشیہ نے منہ موڑتے ہوئے ناگواری سے جواب دیا۔ اسوقت روحیل کی موجودگی اسے سخت زہر لگی تھی۔
    ‘اور تمھارا کام؟ وہ میں کردوں؟’ وہ اپنائیت سے پوچھ رہا تھا
    ‘جاؤ اپنا کام کرو۔ میرے کام کی فکر نہ کرو۔’
    روحیل کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر اُداس چہرہ لئے وہاں سے چلاگیا۔
    ***********************
    اُنکی اسکول وین ‘روحیل وِلا’ کے آگے خراب ہوگئی تھی۔ وہ سب کو اپنے گھر کے اندر لے گیا کیونکہ وین ٹھیک ہونے میں ابھی کافی وقت لگنا تھا۔ سب خوشی خوشی اُسکے گھر کے اندر چل دئیے سوائے عرشیہ کے، وہ بار بار بولنے پر بھی اندر نہیں گئی تھی اور باہر ہی کھڑی ہو گئی ۔ اُسے اِسوقت شارق پر شدید تاؤ آرہا تھا جو اُسے باہر اکیلا چھوڑ کر خود اندر جاکر بیٹھ گیا تھا۔ ابھی عرشیہ دل ہی دل میں شارق کو گالیوں سے نواز رہی تھی کہ کسی نے چُٹکی بجا کر اُسے اپنی طرف متوجّہ کیا۔ وہ روحیل تھا۔ اُسے دیکھ کر عرشیہ کا غصّہ اور بڑھ گیا تھا۔
    ‘تم بھی چلو نا اندر، یہاں کیوں کھڑی ہو؟’
    ‘نہیں میں یہیں ٹھیک ہوں!’ عرشیہ نے سپاٹ لہجے میں کہا
    ‘چلو پلیز کب تک یہاں کھڑی رہوگی، وین ٹھیک ہونے میں ٹائم لگ جائیگا۔’ روحیل نے اسے منانا چاہا
    ‘کہہ جو دیا کہ نہیں جانا بس، ہر بات میں بحث مت کیا کرو۔’ وہ غصّے سے بولی
    ‘اچھا ٹھیک ہے مت جاؤ ۔’ یہ کہہ کر وہ بھی اُس سے کچھ فاصلے پر ہی کھڑا ہوگیا
    ‘اب میرے سر پہ کیوں کھڑے ہو، جاؤ یہاں سے۔ اور پلیز اندر سے شارق کو بھیج دو بد تمیز مجھے یہاں اکیلا چھوڑ کر چلاگیا۔’ وہ اسکے ہٹ دھرمی سے وہیں کھڑے رہنے پر مزید غصّہ ہوئی تھی۔
    ‘میں۔۔۔۔’ روحیل کے اور کچھ بھی کہنے سے پہلے وہ اُسے گھورتے ہوئے بولی
    ‘دفع ہوجاؤ یہاں سے ابھی اسی وقت!’ روحیل اپنی اِس بے عِزّتی پر دانت پیستا تیزی سے اندر کی جانب بڑھ گیا۔
    ***********************

  • مائے نی میں کنوں آکھاں — سمیہ صدف (دوسرا اور آخری حصّہ)

    مائے نی میں کنوں آکھاں — سمیہ صدف (دوسرا اور آخری حصّہ)

    اُس نے آنکھیں کھولیں تو پہلا خیال دماغ میں یہی آیا تھا کہ قیامت سے گزر کر وہ کسی اندھیری قبر میں جاپہنچی تھی۔ قیامت کے بعد ایک اور قیامت شاید وہ یوم حشر تھا۔ حساب کتاب ہونے والا تھا۔ اسی امید نے اس کے بے جان جسم میں نئی جان ڈال دی تھی کہ سزا جزا کا دور آچکا تھا اور اُسے یقین تھا کہ اگر یہ یوم حشر تھا تو آج اُس کے ساتھ انصاف ضرور ہونے والا تھا۔
    اس سے پہلے بھی کئی بار وہ اس نے مکمل بے ہوشی سے نیم بے ہوشی تک کا سفر کیا تھا۔ مگر آج انصاف کی اُمید جاگتے ہی وہ اپنے پورے حواسوں سمیت بیدار ہوچکی تھی۔ مگر نہیں۔ ابھی سزاؤں کا دور ختم نہیں ہوا تھا۔ وہ زندہ تھی اور پٹیوں میں لپٹے جسم کے ساتھ کسی اچھے اور مہنگے اسپتال کے بستر پر موجود تھی۔ اس نے گردن موڑ کر خود کو حرکت دینے کی کوشش کی۔ مگر پورے جسم سے اُٹھتی درد کی ٹیسوں نے اُسے کراہنے پر مجبور کردیا تھا۔ اُسی وقت دو ہاتھوں نے اُسے سہارا دے کر پانی کا گلاس اُس کے لبوں سے لگایا تھا۔ نظروں کے سامنے بہت سے اجنبی چہروں کے درمیان وہ ایک شناسا چہرہ تھا۔ اس نے پہچاننے کی کوشش میں ذہن پر زور ڈالا۔
    ”ننھی۔” اس کے لب کپکپائے۔ گزرے ہوئے کئی سالوں میں اماں کے سوا ہر چہرہ دھند لا گیا تھا۔ ننھی نے پانی کا گلاس رکھ کر سہارا دے کر اُسے بٹھایا تھا۔ جسم کے ہر حصے کی چیخ و پکار پر کان دھرے بغیر اس نے اپنے ہاتھوں سے ننھی کا چہرہ ٹٹولا۔ تبھی ایک اور جانا پہچانا چہرہ اس کے سامنے آگیا۔
    ”کاکا۔”
    ”نن ۔ نہیں عمران۔” نفی میں سرہلا کر اس نے اس کا اصل نام لیا۔ اس کے بلانے پر وہ آگے بڑھاتھا۔ کتنا بڑا ہوگیا تھا۔ اس کے کندھوں تک بمشکل پہنچنے والا اب اس سے بھی لمبا ہوچکا تھا۔ کاکے کے پیچھے کھڑی اماں کو دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
    ”اماں۔ میری پیاری اماں۔” وہ بلک بلک کر رونے لگی تھی۔ مگر اس کے اس طرح بین ڈالنے پر بھی اماں سر درویہ لئے بیڈکے کنارے پر بیٹھ گئی تھی۔ نہ اُسے سینے سے لگایا، نہ ماتھا چوما، نہ پیار کیا۔
    ”چپ کر جا بدبخت۔” وہی بے زار سے لہجہ اس کے کچھ اور زخم ہرے کرگیا تھا۔ پھر چارونا چار وہ اس کے قریب کھسک کر اُس کا سر سہلانے لگی تھی۔ وہ اماں کے قریب ہوکر اُس سے لپٹ گئی۔
    ”اماں مجھے بچالو۔ وہ مجھے مار ڈالے گی۔ اس نے مجھے جلا دیا ہے اماں۔ میرے بال ، میرا ماتھا، میری چوڑیاں۔ ہائے نی مائے۔” بے ربط جملے بولتے ہوئے وہ بین ڈال رہی تھی۔ اس کا ماتھا دیکھ کر شیمو نے اپنا منہ دوپٹہ میں چھپا لیا تھا۔ کتنا خوبصورت گورا اور کشادہ ماتھا تھا اس کا ۔ مگر اس وقت اسی پیشانی سے کھال کے ٹکڑے اُکھڑ کر نیچے لٹک رہے تھے۔ روتے ہوئے اس کے درد میں اضافہ ہونے لگا تو وہ بے حال ہوکر چلانے لگی۔ نرس نے اُسے درد کے علاوہ نیند کا انجکشن بھی لگادیا تھا۔ اُس کی تکلیف دیکھ کر اماں اور ننھی بھی دوپٹے منہ پر ڈال کر روپڑی تھیں۔ جبکہ وہ تھوڑی دیر رونے کے بعد اب غنودگی میں تھی۔
    کئی روز سے اُس کی یہی حالت تھی کہ ہوش میں آتے ہی وہ بے قابو ہوکر چلانا شروع کردیتی۔ بستر سے اُتر کر بھاگنے کی کوشش میں اس کے ٹھیک ہوتے ہوئے زخم بھی خراب ہوگئے تھے۔ مگر وہ کسی کو بھی قریب نہیں آنے دیتی تھی۔ عجیب پاگلوں جیسی حرکتیں اور دیوانوں جیسی باتیں۔ جنت بوا آئیں تو اُنہیں دیکھ کر وہ پہلے تو بالکل چپ سی ہوگئی۔ پھر زاروقطار رونے لگی۔ انہوں نے اُسے سینے سے لگایا تو عجیب سا درد دل میں جاگ گیا تھا۔ ایسی ٹھنڈک اور مٹھاس کا احساس تو اماں کے گلے لگ کر بھی نہ ہوتا تھا۔ آہستہ آہستہ حواس بحال ہوئے تو پہلا خیال اُسے اس کا آیا تھا جس سے خاموش محبت کا رشتہ اور تحفظ کا تعلق تھا۔ نظریں اُسے تلاشنے لگی تھیں۔ مگر نہ جانے وہ اُس پر ڈھائے جانے والے مظالم سے ناواقف تھا یا پھر باقی سب کی طرح بے حس ہوگیا تھا۔ شاید ایسا ہی تھا مگر دل تھا کہ امید کے اس آخری چراغ کو گل کرنے پر آمادہ نہ تھا۔
    ٭…٭…٭

    کچھ دن بعد پولیس اُس کا بیان لینے آئی تھی۔ وہ گونگے کا گڑ کھائے چپ چاپ بیٹھی رہی تھی۔
    ”تھانیدار جی۔ ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا کڑی کا۔” اس کی ماں روانی سے جھوٹ بول رہی تھی اور وہ حیرت سے اس کا منہ تکنے لگی۔
    ”اور یہ جو جلنے کے نشان ہیں۔” تھانیدار نے کاغذ پکڑ کر لکھنا شروع کیا۔
    ”جی وہ تو گڈی کا سلنڈر پھٹ گیا تھا تاں گیس والا۔ اگ بھی لگ گئی اس کے ساتھ ہی تو اس کا متھا بھر سڑ گیا۔ میں تو جی نال ہی تھی ناں۔ میں پہلے ہی پرے گرگئی تھی تو زیادہ چوٹ نہیں آئی جی۔” وہ ہاتھ ہلا ہلا کر بتارہی تھی۔
    ”کس جگہ ہوا تھا یہ واقعہ؟”
    ”وہ جی۔ وہ جی … شہدرے سے تھوڑا اگے کوئی جگہ تھی۔ ناں تو مجھے نہیں پتہ جی۔” اب کے وہ ان پڑھ عورت گڑبڑاگئی تھی۔ مگر تھانیدار کو بھی خاص دلچسپی نہ تھی۔ اس نے معمول کی کاغذی کارروائی مکمل کی۔
    ”یہ اس پر لڑکی کا انگوٹھا لگوا دینا۔” اس نے ہاتھ میں پکڑے کاغذات ماتحت کے حوالے کئے۔
    وہ ٹکٹکی باندھے ماں کا منہ تک رہی تھی۔ اس کا دل چاہا کہ چیخ چیخ کر پولیس کو بتائے کہ گزرے ہوئے سالوں میں وہ کن مظالم کاشکار رہی تھی۔ کتنی بار اُسے نیل پڑے، زخم آئے، تعداد تو اُسے خود بھی یاد نہیں تھی۔ کتنی بار تنہائی میں صاحب جی نے اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی اور گزرتے گزرتے اُسے چھونے کی کوشش کی۔ کتنی بے دردی سے اس کے بال کاٹے گئے، کتنی بے رحمی سے اُسے استری سے جلایا گیا۔ مگر ا سکے پاس وہ الفاظ ہی نہیں تھے جو ا س کی ایک بارکی مار اور درد کی بھی ترجمانی کرسکتے۔ ویسے بھی سننے کی پرواہ بھی کسے تھی۔ ماں نے اس کا ہاتھ آگے کرکے کاغذوں پر انگوٹھا لگوایا۔ شکایت بھری نظروں سے ماں کی جانب دیکھ کر اس نے رُخ موڑ لیا تھا۔
    ”سیانی ہو تم بی بی۔ جیسا میں نے سمجھایا تھا تم نے بالکل ٹھیک ویسا ہی کیا۔ تھانے کچہری کے چکر میں پڑ کر کیا ملتا۔ نری خواری اور ذلت۔ اُلٹا تیری ہی لڑکی پر کیس بنتا کہ ایک تو اس نے مالکوں کے زیور چرائے اور دوسرا اُن کے خانساماں کے ساتھ…” تھانیدار نے بڑے افسر کے جاتے ہی اس کی ماں کی شاندار ایکٹنگ کو سراہتے ہوئے مونچھوں کو تاؤ دیا۔
    ”جی جی تھانیدار جی۔ اب تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا نا کڑی کے لئے۔” اس نے خوش آمدانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے ہاتھ جوڑے۔
    ”بے فکر رہو مائی۔ بس تم سمجھ رہی ہو ناں میری بات۔ پکا پکا حدود کا کیس بنتا اور ڈاکے کا الگ۔ تمہاری لڑکی کے علاج کا سارا خرچہ پانی تو وہی لوگ دیں گے نا۔ ان بڑے لوگوں کا کچھ نہیں جاتا۔ صلح صفائی ہوگئی تے کج تواڈا بھلا تے کج ساڈا (کچھ تمہارا بھلا کچھ ہمارا)۔” اس کے ہنستے ہوئے اس کی موٹی سی توند بھی ہلنے لگی تھی۔ نکلتے ہوئے اس نے ہزار ہزار کے کچھ نوٹ اس کی ماں کو پکڑائے تھے۔
    ”بس اب پکی رہنا اس بیان پر۔ اور خبردار جو صاحب لوگوں کے آس پاس بھی نظر آئی۔ اندر کردوں گاسیدھا سیدھا۔” اس نے تڑی لگائی ۔ شہزادی کی سمجھ میں آدھی بات آئی تھی اور باقی کی سر پر سے گزر گئی تھی۔
    ”خانساماں؟ وہ نواز بابا۔”
    حیرت و استعجاب سے وہ بت بن کر رہ گئی تھی۔
    ٭…٭…٭
    کتنا عرصہ وہ اپنوں سے ملنے، ان کی صورت دیکھنے کو ان سے دل کی باتیں کرنے کو ترستی اور روتی رہی تھی مگر اب ان سے مل کر اُسے لگتا تھا کہ سارے الفاظ ختم ہوگئے تھے۔ سب احساسات بھاپ کر اُڑگئے تھے۔ تشنگی اور بڑھ گئی تھی۔ تقریباً ایک ڈیڑھ ماہ وہ ہسپتال میں زیر علاج رہی ۔ ننھی کام سے واپسی پر روز اُسے ملنے آتی تھی۔ کاکا اور منی چکر لگا لیا کرتے تھے۔ ننھی بیان نہ دینے پر دل ہی دل میں اُس سے سخت خفا تھی۔ دوسری طرف اماں کا سرد ، بے مہر رویہ اس کی سمجھ سے باہر تھا۔ وہ بھی اس سے اکھڑی اکھڑی رہتی تھی۔ وہ سوچ سوچ کر پاگل ہوتی مگر اپنا قصور نہ جان پاتی۔ اب اس کا واحد سہارا جنت بوا تھیں۔ اس کی آخری امید۔ انہوں نے بہت دن سے چکر نہیں لگایا تھا۔
    ”شاید بیمار ہوں یا گاؤں چلی گئی ہوں۔ مگر جیسے ہی وہ واپس آئیں گی۔ میں اُنہیں ساری صورت حال بتاؤں گی۔پھر یقینا وہ اور وسیم میری مدد کریں گے۔ دوبارہ جاکر بیان دوںگی تھانے۔”
    اس نے پکا ارادہ کررکھا تھا۔ مگر ان کے چکر نہ لگانے پر پریشان بھی تھی۔ پھر اُس کے گھر جانے میں دو دن باقی تھے تو آخر کار وہ آہی گئیں۔
    ”بیٹا تمہیں تو پتہ ہے نا صاحب لوگوں کا۔ ان سے چھپ کر آنا پڑتا ہے۔ ورنہ تم پر تو جو ظلم ہوا سو ہوا۔ مجھ بڑھیا کو بھی نکال باہر کیا تو کہاں جاؤں گی۔ پچھلی دو بار تو وسیم ہی کہیں کام سے جاتے ہوئے چھوڑ گیا تھا۔ مگر یہ نیا لڑکا ایک تو گاڑی ایسے چلاتا ہے جیسے جہاز اُڑا رہا ہو ۔ دوسرا اس کا کیا بھروسہ گھر جاکر شکایت ہی کردے۔ آج بھی اپنی دیورانی کی بہن کاکہہ کر دو اسٹاپ پیچھے اُتر گئی ۔ آدھا گھنٹہ اُدھر بیٹھی رہی پھر رکشہ کرکے ادھر آئی ہوں۔” وہ اس کے لئے سیب کترنے لگیں۔ مگر اس کا ذہن تو کہیں اور ہی اٹکا ہوا تھا۔
    ”نیا لڑکا؟” اس نے سوالیہ نظروں سے ان کی جانب دیکھا۔
    ”ہاں نیا ڈرائیور ہے صاحب لوگوں کا عجیب، بدتمیز، بد لحاظ لڑکا ہے باتیں تو ایسی کرتا ہے…” اُسے بھلا کیا دلچسپی ہونی تھی اس نئے ڈرائیور کے ذکر میں۔
    ”تت تو کیاوسیم کو نکال دیا ہوگا۔” واہمے دماغ میں جگہ بنانے لگے تھے۔
    ”کیا خبر اس نے میرے ساتھ ہونے والا ظلم دیکھ کر خود ہی لعنت بھیجی ہو ایسے جلادوں کی نوکری پر۔”مگر دل پھر سے خوابوں کے سنگ ہولیا۔
    ”ہوسکتا ہے اس نے میرے حق میںکچھ کہا ہو۔ حمایت کی ہو میری۔ تو بھلا بیگم صاحبہ کیوں برداشت کرتیں۔” اس کی خوش فہمیوں نے ایک بار پھر سے اُسے خوابوں کے راستے کا مسافر بنادیا تھا۔
    ”جنت بوا آپ کو تو پتہ ہے نا میرے ساتھ کیا ظلم ہوا ہے۔ اور پھر میری ظالم ماں جو میرے حق میں بولنے کی بجائے پتہ نہیں کیا بیان دیتی رہی پولیس والوں کو۔ صاحب لوگوں اور تھانیدار کے ڈر سے اس نے سارا جھوٹ بتایا اور…”
    وہ اپنی بپتاان کے گوش گزار کرنے لگی۔ انہیں بھی خاصا افسوس ہوا تھا۔ مگر ان کے حیران نہ ہونے پر وہ ضرور حیران ہوئی تھی۔
    ”ماں کو ظالم نہ کہو بیٹا۔ رب کے بعد سب سے زیادہ مہربان اور شفیق ہوتی ہے ماں۔ بس مجبور ہوجاتی ہے۔ صاحب لوگوں سے بھلا کون مقابلہ کرسکتا ہے۔ یہ بھی ان کی مہربانی کہ تمہارے علاج کا خرچا دے دیا۔ ورنہ ایسے بڑے لوگوں کو کون پوچھ سکتا ہے۔ تمہاری ماں کہاں اسپتالوں میں دھکے کھاتی پھرتی بے چاری۔”
    وہ نرمی سے اُسے سمجھا رہی تھیں۔ پہلی بار اُسے ان کی باتوں سے اختلاف ہوا تھا۔ مگر وہ خاموش رہی۔ وہ خود جیسی نرم دل اور محبت کرنے والی تھیں، شاید ہر ماں کو ایسا ہی سمجھتی تھیں۔
    ”صاحب لوگوں نے نیا ڈرائیور رکھ لیا تو وہ پرانا…میرا مطلب ہے وہ وسیم باؤ۔” نام لیتے ہوئے وہ جھجک گئی تھی۔
    ”ہاں وسیم۔ وہ چلا گیا۔” سرسری سا جواب دے کر وہ پھر خاموش ہوگئیں۔
    ”کہاں؟” نہ چاہتے ہوئے بھی اُسے پوچھنا پڑا تھا۔
    ”اپنے شہر۔ اس کی ماں اکیلی تھی ناں شیخوپورہ میں۔” وہ جتنا اس موضوع سے بچنا چاہ رہی تھیں اس کے تجسس کو اور ہوا دے رہی تھیں۔
    ”پر اس کی تو نوکری تھی ناں ۔ کوئی اور مل گئی کیا؟” اس کے انداز میںبے چینی تھی۔
    ”کتنا غیر ت مند تھا جو اس کی خاطر لگی لگائی نوکری چھوڑ گیا تھا۔” دم توڑتی ہوئی اُمیدوں کو خوش فہمی نے آخری سہارا دیا تھا۔
    ” ہاں مل گئی تھی۔” انہوں نے زیر لب دہرایا۔ مگر زیادہ دیر اس کی آنکھوں میں چھپے ان گنت سوالوں کو نظر انداز نہ کرسکیں۔
    ”اس کی ماں نے منگنی کردی تھی اس کے ماموں کی بیٹی سے۔ ماموںنے دکان کھول دی۔ اُسی پر ہوتا ہے آج کل۔” نظریں چرا کر وہ اتنا ہی کہہ پائی تھیں۔
    ٭…٭…٭
    وقت تھا کہ گزرتا جاتا تھا مگر اس کا دل جیسے کہیں ٹھہر سا گیا تھا۔ جس میں اب نہ کسی سے ملنے کی خواہش جاگی تھی اور نہ ہی کچھ کھونے کا اندیشہ تھا۔ سب ہار کر اور دل ہار کر وہ خود بھی جیسے مرگئی تھی۔ بس کبھی کبھی اماں کا سر د رویہ دیکھ کر وہ خود سے اپنا قصور ضرور وپوچھنا چاہتی تھی۔ ننھی بھی اب اس سے کم کم ہی بات کرتی تھی۔ وہ ان سب کی بے زاری کی وجہ سے بے خبر تھی۔ مگر جاننا ضرور چاہتی تھی۔
    ”اماں تو نے مجھے چپ کروا دیا تھا۔ ورنہ میں پولیس والوں کو سب سچ بتا کر ان کمینوں کو ہتھ کڑی ضرور لگواتی۔” ننھی کمرے میں کسی کام سے آئی تھی مگر اُسے اندھیرے میں بے آواز آنسو بہاتا دیکھ کر باہر جاکر اماں سے اُلجھ پڑی تھی۔ وہ اکثر ہی بے سبب اماں سے اُلجھ پڑا کرتی تھی۔
    اس کے باقی زخم تو مندمل ہوگئے تھے۔ مگر بازو میں چوڑیاں کھب جانے سے گہرا زخم آیا تھا۔ جس کا نشان باقی رہ گیا تھا۔ ایک روز پہلے ہی اس نے آئینہ منگواکر دیکھا تو اس کی چیخیں نکل گئی تھیں۔ آئینہ اس کے ہاتھ سے گر کر کرچی کرچی ہوگیا تھا۔
    کتنے دن تو اماں اور ننھی نے آئینہ چھپائے رکھا تھا۔ وہ پوچھتی تو وہ نہ ملنے کا بہانہ کردیتیں۔ مگر اس نے آخر کھوج ہی نکالا تھا۔ مگر کبھی کبھی انسان کچھ کھوجنے کی خواہش میں سب گم بھی کر بیٹھتا ہے۔ بہت دیر تک وہ ننھی کے گلے لگ کر سسکتی رہی۔ ماتھے کی جگہ گوشت اور کھال کا ملا جلا سیاہی مائل سرخ لوتھڑا لٹک رہا تھا۔ بازو کا نشان تو وہ آستینوں میں چھپا لیا کرتی تھی۔ مگر ماتھے پر گوشت کا بدنما لوتھڑا تو چیخ چیخ کر اپنے ہونے کا اعلان کررہا تھا۔ جسے سوائے اس کے سب بخوبی دیکھ سکتے تھے۔ ننھی اس کے یوں ٹوٹ جانے پر خود بھی روپڑی تھی۔
    ”ہاں۔ تو تو بڑی افسرنی لگی ہوئی ہے کہیں پر۔ باپ تیرا وزیر تھاماں تیری ٹی وی پر خبریں پڑھتی ہے۔ جب اپنی تھالی میں چھید ہو تو بندہ دوسرے کے متھے کیوں لگے۔” اس کی روز کی بڑبڑ سے تنگ آکر اماں نے بھی جوتی ہاتھ میں لے لی تھی۔ جوان اولاد جو دوبدو کھڑی تھی کڑے تیور لئے۔
    ”کیا مطلب ہے تیرا؟” ننھی چونک گئی تھی اور اس کے بھی کان کھڑے ہوگئے تھے۔
    ”منہ نہ کھلوا میرا۔ کسی کو پتہ چلانا تو صورت سے تو گئی ہی ہے لوگ اس کی مشہوری سنیں گے تو کسی لولے لنگڑے، شرابی نے بھی نہیں ویاہنا اسے۔” اماںنے ہاتھ میں پکڑی چپل زمین پر دے ماری تھی۔
    ”صورت بگڑی ہے تو اس میں اس کا کیا قصور؟ الٹا ظلم بھی اسی کے ساتھ ہوا ہے۔ اور کیا مشہوری ہونی ہے۔” ننھی کو اور تاؤ آگیا۔
    ”انہوں نے اسے گھر کا بندہ سمجھ کر رکھا ہوا تھا تو اپنی اوقات میں رہتی۔ خود کو مالکن سمجھنے لگی تھی نواب زادی۔ کیا ضرورت تھی اوقات سے باہر ہونے کی۔ فیشنی بال کٹوا کر خود کو مالکن بنا کر بیٹھے گی۔ ناز نخرے دکھائے گی ووہٹیوں کی طرح کے تو مرد تو آخر مرد ہوتا ہے۔ پھسل گئی اس کی نظر۔ مرد کے قدم بہکنے میں کیا دیر لگتی ہے۔ عورت کو تو حیا والا بن کر رہنا چاہیے۔ کتنے سال ہوگئے تیرے پیو کو مرے۔ جوان سوہنی اونچی لمبی تھی میں۔ یہ تو اب بڈھی ہوگئی ہوں، ہڈیاں نچڑ گئیں کم کر کر کے۔ کما کما کر تم لوگوں کو پال کر بھک برداشت کرکے۔ مگر مجال ہے جو اس کے مرنے کے بعد کبھی سرمہ بھی لگایا ہو کہ پرائے مردوں کی نظر پڑے گی تو جینا مشکل کردیں گے اور اسے دیکھو۔ کنواری کڑی۔ بھکے گھر کی اور نخرے میموں والے۔ ہک ہاہ۔ اپنی تقدیر کھوٹی ہو تو دوسروں پر الزام کا ہے کودھریں۔” وہ ہانپتی ہوئی چارپائی پر بیٹھ گئی۔ ننھی پر سکتہ طاری ہوگیا تھا اور خود اس کی وہ حالت تھی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ اماں کے الفاظ کسی گولی کی طرح اس کے سینے میں پیوست ہوگئے تھے۔ اُسے لگ رہا تھا کہ اُس کے سر سے آسمان ہی نہیں پاؤں تلے سے زمین بھی کھسک گئی ہو۔ بس نہیں چل رہا تھا کہ زمین پھٹتی اور وہ اس میں سماجاتی۔ خود پر ہونے والے تمام مظالم برداشت کرکے اُس نے اپنی ماں کو جن پتھروں سے بچائے رکھا تھا آج اُسے وہی پتھر اُٹھا کر مارنے والا کوئی اور نہیں اس کی اپنی سگی ماں ہی تھی۔ تیر کی طرح وہ اُٹھ کر باہر آگئی تھی۔
    ”میں اور میری تقدیر نہیں خراب۔ میری مت ماری گئی تھی کہ تجھے کبھی بتایا ہی نہیں کہ کس طرح معمولی سی بات پر میری چمڑی اُدھیڑی جاتی تھی کس طرح میرا نیلوں سے بھرا بدن، پھوڑے کی طرح دکھتا جوڑ جوڑ تیرے ہاتھوں کے مرہم کو تڑپتا تھا۔ صرف اس لئے اس نے میرے بال کاٹ ڈالے کہ میں جوان تھی، سوہنی تھی، اور اس کے گھر والے کی خراب نظر ان پر پڑگئی تھی۔ میرا مغز خراب تھا جو میں سمجھتی تھی کہ تو ماں ہے۔رب کے بعد سب سے زیادہ محبت کرنے والی۔ تو میری ہر تکلیف سمجھ جائے گی۔ میں بھول گئی تھی کہ جب ہم غریبوں، بھکوں کے پاس دو وقت کی روٹی نہیں ہوتی۔ تن ڈھانپنے کو کپڑا نہیں ہوتا، سر پر چھت نہیں ہوتی تو ماں کی محبت اور مامتا بھی ہمارے لئے نہیں ہوتی۔ ماں تو کیا ہمارا تو اللہ بھی نہیں ہوتا۔ سب امیروں کے چونچلے ہیں۔ سولہ سنگھار بھی ان کے لئے، فیشن نخرے بھی ان کے لئے، خواب بھی ان کے ، رشتے ناتے، ماں پیو بھی اور خود اللہ بھی اُن ہی کا ہے۔ ہمارے تو نہ پیروں کے نیچے زمین ہوتی ہے نہ سر پر آسمان اور نہ ہی آسمان والا اپنا ہوتا ہے۔ اُس کو بھی ہم سے پیار نہیں۔ وہ بے نیاز ہے ناں۔ ہم کیڑے مکوڑوں کی طرح گٹر میں زندگی گزارنے والوں کو بنا کر وہ بے نیاز ہوجاتا ہے۔ پھر ہم جیئیں یا مریں ۔ اُسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔”
    اپنے جسم کو صحن کے بیچوں بیچ عریاں کئے وہ تازہ زخموں کے ساتھ ساتھ پرانے گھاؤ کے نشان دکھاتی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ ننھی ساکت تھی۔ منی کا منہ کھل گیا تھا۔ جبکہ کاکا رخ موڑ گیا تھا۔ سفید لٹھے کی مانند چہرہ لئے شیمو اس کی جانب بڑھی تھی مگر وہ اس کے ہاتھ جھٹک کر بھاگتی ہوئی اندر چلی گئی۔
    ٭…٭…٭
    ”شہزادی ! دیکھ میں نے تیرے لئے کیا ڈھونڈا ہے۔” وہ پیالہ ہاتھ میں لئے چاول کھانے میں مگن تھی۔ جب ننھی اٹھلاتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔
    ”کیا ہے؟” سرسری سالہجہ تھا۔
    ننھی نے ہاتھ آگے کئے تو اس کے دل سے آہ نکل گئی۔ اس کے ہاتھ میں اس کی بہت پرانی کہانیاں تھیں۔ وہ نہ جانے گھر کے کس گوشے سے ڈھونڈ لائی تھی۔ اور نادانستگی میں اس کے کتنے زخموں کے کھرنڈ اکھیڑ گئی تھی۔ اس کا دل بہلانے کے لئے ننھی اب اُسے وہ کتابیں کھول کھول کر دکھا رہی تھی ۔ مگر وہ خاص متوجہ نہ تھی۔
    ”یہ اتنی رنگ برنگی تصویروں والی، مزے مزے کی کہانیاں تیری ہیں؟” کاکا خوشی سے ان کی طرف لپکا تھا۔
    ”ہاں۔” وہ دوبارہ چاول کھانے لگ گئی۔
    ”پتہ ہے باورچی خانے کی جھاڑ پونچھ کرتے ہوئے مجھے ایک بار صندوق میں سے یہ ملی تھیں تو میں نے صاف کرکے دوبارہ تھیلے میں ڈال کر سنبھال دی تھیں یہ لے۔” ننھی نے کہانیاں اُس کی جانب بڑھائیں۔
    ”میں کیا کروں گی اِ ن کا۔ پھینک دے انہیں۔” اس کی سرد مہری پر ننھی کا چہرہ بجھ سا گیا تھا۔
    ”سچی شہزادی تو نے یہ ساری پڑھی ہیں؟ مجھے سنائے گی نا روز؟”وہ خوشی سے اٹھلایا۔
    ”کیا کرے گا سن کر؟ سب جھوٹ اور بکواس لکھا ہوتا ہے ان میں۔” اسے کہانیاں دیکھ کر وحشت سی ہورہی تھی۔دل چاہ رہا تھا کہ اُٹھا کر باہر پھینک دے مگر کاکا بھی بے حد ضدی تھا۔ اس کے سر ہوگیا اور مناکر ہی دم لیا۔ روز رات کو اس کے پاس آکر بیٹھ جاتااور تب تک جان ہی نہ چھوڑتا جب تک وہ اُسے ایک دو کہانیاں سنا نہ لیتی۔ آنکھیں بند کئے اُسے سناتے ہوئے شہزادی کا دل کرتا کہ وہ سب کہانیوں کا انجام بھیانک کردے۔ اپنے جلے ہوئے ماتھے اور سیاہ مقدر کی طرح۔ جس کی وجہ سے بچے اُس سے ڈرنے لگے تھے۔ وہ کام پر جاتی تو لوگوں کی ہمدردی اور ترس بھری نظریں اُسے زہر لگا کرتی تھیں۔ اکثر اوقات چھوٹے بچے اُسے دیکھ کر ماؤں کی گود میں جا گھستے۔ اس نے چادر کا گھونگھٹ سا بناکر ماتھا ڈھانپنا شروع کردیا تھا۔
    ”بتانا پھر آگے کیا ہوا؟” وہ اپنی سوچوں میں گم تھی کہ کاکے کی آواز اُسے حال میں لے آئی۔ اُس نے کہانی کا سلسلہ پھر سے جوڑا۔ مگر دل چاہ رہا تھا کہ کہانی کے انجام کو حقیقت میں لاکھڑا کرے۔ تاکہ پھر کبھی کوئی لڑکی ان کی کشش میں آکر خواب نہ بنے۔
    ”پھر سینڈریلا کی ماں اور بہنوں نے اس پر تیل چھڑک کر آگ لگا دی اور شہزادہ مایوس لوٹ گیا۔”
    ”پھر سنو وائٹ کو ظالم جادوگرنی نے مار ڈالا۔”
    ”جب تک شہزادہ سوئی ہوئی شہزادی کو جگانے پہنچا چڑیل اس کا بھیس بدل کر لیٹ چکی تھی اور شہزادہ چڑیل کو شہزادی سمجھ کر ساتھ لے گیا۔”
    ”پھر ریڈرائڈنگ ہڈ راستہ بھول کر جنگل کے خونی درندوں کے ہاتھ لگ گئی۔”
    ”پھر شہزادی کو بونوںنے قید کرکے رکھ لیا اور اُس سے اپنے سب کام کروانے لگے اور وہ ان کے مظالم کا شکار ہوکر رہ گئی۔”
    ”شہزادے کے جسم کی آخری سوئی چڑیل نے نکالی۔”
    کبھی کبھی اس پر دورہ پڑ جاتا تو وہ جنونی انداز میں ایسی باتیں کرنے لگ جاتی۔
    ”ایسا بھلا کب ہوتا ہے؟ تو جھوٹی کہانیاں سناتی ہے۔” کاکا منہ پھلا کر چلاجاتا ہے۔
    ”ایسا ہی ہوتا ہے۔ کہانیاں تو جھوٹی ہی ہوتی ہیں۔” وہ آنکھیں میچے خو د اذیتی کی منزلیں پار کرتی سفاک انداز میں ہنستی تو ہنستی ہی چلی جاتی۔ اس کا دل چاہتا تھا کہ ان کہانیوں کی رحم دل پری جو جادو کی چھڑی گھماتی اور آن کی آن میں سب اچھا کردیتی کو ان کہانیوں سے غائب کردے۔ جس کا مقصد صرف معصوم اور بھولی بھالی لڑکیوں کو خواب دکھانا تھا۔ خود حقیقت میں تو اُس کا واسطہ کم عمری میں ہی درندوں اور شیطانوں سے پڑا تھا۔ جنہوں نے اس کی پلکوں سے سارے خواب نوچنے کے ساتھ ساتھ خواب دیکھنے والی آنکھیں بھی بھسم کر ڈالی تھیں۔مگر کوئی رحمدل پری اس کی مدد کو نہیں آئی تھی۔