Tag: commercial writing

  • اُلو — محسن عتیق

    اُلو — محسن عتیق

    صبح کے لگ بھگ سات بج رہے تھے جب وہ جھولا جسے میں بڑے مزے سے جھول رہا تھا، اچانک سے آنے والے زلزلے سے تھر تھر کانپنے لگا۔ اچانک سے آنے والی اس افتاد سے میں سہم گیا اور کسی چھوٹے بچے کی طرح میں نے جھولے کو اور مضبوطی سے تھام لیا۔
    ”سات بج گئے ہیں۔” اچانک اک آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔
    میں کافی سہما ہوا تھا، لیکن ہمت کر کے آواز کے تعاقب میں سر جو اُٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اک چہرہ پیار بھری نظروں سے مجھے دیکھ رہا ہے۔لمبے بال،شہد جیسی رنگت والی آنکھیں، وہ لڑکی جو بھی تھی، حسن میں اپنی مثال آپ تھی۔ وہ اس دیس کی لگتی ہی نہیں تھی مانو جیسے کسی اور دیس کی پری رستہ بھٹک کر یہاں آن پہنچی ہو۔
    ”کیسی ہو پری؟؟؟” میں بڑے پیار سے مخاطب ہوا۔
    اب کے ایک پھر زمیں۔ ہلی اور اس شدت سے ہلی کے میرے خوابوں کو چکنا چور کرگئی۔ پری اب نوشابہ بن چکی تھی، میری بیوی۔ وہ مجھے جھنجھوڑ کر اُٹھا رہی تھی۔
    ”اُٹھ جائیں! سوا سات ہونے کو ہیں، آج کالج نہیں جانا کیا؟؟؟” یہ کہتی ہوئی وہ کمرے سے باہر چلی گئی اور کچھ دیر تو میں اسی شش و پنج میں مبتلا رہا کہ وہ خواب تھا یا یہ خواب ہے؟؟؟
    ادھر اُدھر دیکھا تو ساتھ پڑے موبائل پر نظر پڑی۔ بٹن دباتے ہی سکرین پے لکھا آیا ”بیس مسڈ کالز۔” وہ اصل میں میری گہری نیند سے میرے ساتھی ٹیچرز بہت خوف کھاتے ہیں کیوں کہ ہم ایک ہی بس میں ساتھ جاتے ہیں اس لیے میری وجہ سے اُن کی بس چھوٹ جانا گزشتہ دنوں تک اک عام سی بات تھی، لیکن جب سے پرنسپل کی طرف سے ٹائم کی پابندی کرنے کا حکم آیا ہے میرے ساتھی ٹیچرز نے مجھے جگانے کا کام بھی اپنے سر لے لیا ہے۔ اُن سب کو میسج کر کے میں تیاری میں مصروف ہوگیا۔
    ٹھیک سات بج کر چالیس منٹ پر میں تیار تھا بس ناشتے کے لیے میرے پاس صرف پانچ منٹ تھے۔ جیسے تیسے کر کے میں نے ناشتہ ختم کیا اور چائے کے کپ کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ ٹیبل پر پڑے موبائل کی گھنٹی بجنے لگی، جس کی سکرین پر ذیشان کا نام جگمگا رہا تھا۔ میں نے موبائل اُٹھا کر ریسیو کا بٹن دبایا ہی تھا کہ سرحد پار سے گولا باری شروع ہو گئی۔
    ”یار عامر آج پھر لیٹ کروانا ہے کیا؟؟؟ ہم باہر کھڑے تمہارا انتظار کررہے ہیں۔ قسم سے رستے میں تمہارا گھر نہ ہوتا تو یوں ہی چھوڑ کر چلے جاتے۔۔۔ جلدی باہر آئو۔۔!”
    سامنے پڑی چائے جس کی رنگت اور الائچی کی آنے والی خوش بو ہی یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ آج غلطی سے ہی سہی، بیگم نے چائے بڑی شان دار بنائی ہے۔ ایسی چائے کو چھوڑ دینا یقینًا ایک تکلیف دہ عمل تھا، لیکن تھوڑی دیر پہلے جو سرحد پار سے گولا باری ہوئی تھی، اُس بڑبڑاہٹ نے مجھے سب کچھ بھلا دیا اور میں تیز تیز قدم اُٹھاتا گھر سے باہر آگیا۔ سامنے وہ دونوں غصے سے منہ پھلائے کھڑے تھے۔ دونوں کا پھولا ہوا منہ اُس غبارے کی مانند لگ رہا تھا جس میں غلطی سے زیادہ گیس بھر دی گئی ہو۔
    ”شکر ہے نواب صاحب تیار ہوگئے۔۔۔!” ساجد بولا۔





    ”ارے کم بختو! تم دونوں کی وجہ سے اپنی بیوی کے ہاتھ کی بنی چاے چھوڑ کر آیا ہوں، ابھی بھی مجھ پر غصہ ہورہے ہو؟؟؟” میں نے گرجتے ہوئے ان دونوں سے کہا۔
    ”پھر تو اچھا کیا کہ نہیں پی!” ذیشان نے طنزیہ کہا اور اُن دونوں کے قہقہے فضا میں گونج اُٹھے۔
    ”کیا مطلب؟؟؟ میں سمجھا نہیں؟؟؟” اُن کا یہ طنز میرے اوپر سے ایک جانے مانے ایتھلیٹ کی طرح چھلانگ مارتا گزر گیا تھا۔
    ”کہہ تو ایسے رہے ہو جیسے ہم نے تو کبھی وہ چائے پی ہی نہیں؟؟؟ اگر اُس چائے کو دو لفظوں میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوں گے ”کالی اور پھیکی۔” ایک بار پھر اُن کے قہقہے ہوا میں گونج اُٹھے۔ وہ مجھے چڑانے کی بھرپور سعی کررہے تھے اور سچ بات تو یہ ہے کہ اُن کی یہ سعی کارگر بھی ثابت ہورہی تھی۔
    ”ارے نہیں! آج کی چائے بہت کمال کی تھی۔۔۔ یقین کرو میں تو خود حیران ہوں۔” میں نے صفائی پیش کرنی چاہی۔
    ”ناممکن۔۔۔! کیوں ساجد بھائی کیا تمہیں یقین آرہا ہے؟؟؟” ذیشان کے استفسار پر ساجد نے نفی میں سر ہلا دیا۔ میری پیش کی گئی صفائی کو ظالموں نے ردی سمجھ کر ٹوکری میں پھینک دیا۔ بس آنے والی تھی اور ہم تیز تیز قدم اُٹھاتے کالونی سے باہر مین سڑک کی طرف بڑھنے لگے۔
    آج بھی وہ دس سال کا بچہ اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھا سوالیہ نظروں سے ہمیں دیکھ رہا تھا۔ محرومی کی ایک وا ضح جھلک اُس کی آنکھوں میں صاف دکھائی دے رہی تھی۔ اُلجھے ہوئے بال، سانولی رنگت اور نیلے رنگ کی پرانی اور بوسیدہ شلوار قمیص پہنے جس پر جگہ جگہ پیوند لگے ہوئے تھے۔ وہ مفلسی کی ایک جیتی جاگتی مثال بنے بیٹھا تھا۔راہ چلتے لوگ اُس کی حالت پر ترس کھا کر چند سکے اُس کی جانب اُچھال دیتے لیکن ہم آج بھی معمول کی طرح اُسے نظر انداز کیے ساتھ سے گزر گئے۔
    ابھی ہم تھوڑا ہی دور گئے تھے کہ اک عجیب سی آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔ میرے قدم بڑی تیزی سے سڑک کی جانب بڑھ رہے تھے اور میری سوچوں کے گھوڑے اُس آواز کو ماضی کے صفحات میں تلاش کرنے میں سرگرداں ہوگئے اور جب وہ صفحہ کھلا تو میرے ہوش اُڑ گئے۔ میرے تیزی سے اُٹھتے قدم منجمد ہوگئے اور میری آنکھیں ترچھی ہوتیں اُس سمت جا پہنچیں جہاں سے وہ آواز آئی تھی۔ میری غیر ہوتی حالت کو ساجد اور ذیشان بھی دیکھ چکے تھے۔ غالبًا اُنہوں نے وہ آواز نہیں سنی تھی۔
    ”اُلو!” مجھ سے صرف یہی لفظ ادا ہوا۔
    ”کیا؟؟؟ کہاں؟؟؟” اُن کے ماتھے پر پڑی شکنوں سے اضطراب جھلک رہا تھا۔ میں نے اپنے ہاتھ سے اُس سمت اشارہ کیا جہاں وہ منحوس پرندہ نظریں گاڑے ہمیں ہی دیکھے جارہا تھا۔ وہ دونوں بھی اُسے دیکھ کر بھونچکا رہ گئے۔
    ”ایسا منحوس پرندہ رستے میں آجائے تو لوگ سفر ترک کردیتے ہیں۔ میری مانو تو واپسی کا رستہ پکڑو، زندگی جاب سے زیادہ عزیز ہے۔ کہیں کالج جاتے ہوئے اُسی بس کا ایکسیڈینٹ نہ ہوجائے۔” ذیشان کی اس بات پر میں جو ٹرانس کی سی کیفیت میں تھا ذرا چونکا۔
    ”تینوں نے اکھٹی چھٹی کی تو پرنسپل جان سے مار دے گا۔ لیٹ ہوجانے کی وجہ سے پرنسپل صاحب کے سامنے ویسے بھی شہرت زیادہ اچھی نہیں ہے۔” میری بات سن کر ذیشان سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
    ”لیکن عامر چاہے شرط لگا لو اس منحوس اُلو کی وجہ سے ہمارے ساتھ کچھ برا تو لازمی ہوگا، اب یہ نہیں پتا کہ وہ برا آخر کس قدر برا ہوگا۔” ذیشان فکر مندی سے بولا۔
    ”کیوں نہ کچھ صدقہ کردیں؟؟؟” بات کرتے ساجد کی آنکھوں میں ہلکی سی چمک در آئی۔
    ”لیکن یہاں اس وقت کون ہے جس پر صدقہ لگتا ہو؟؟؟” ذیشان کے استفسار پر میں بھی ہونقوں کی طرح ساجد کو دیکھنے لگا۔ ہماری حالت اُس وقت ایسی تھی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔۔۔!





    ”ارے اسی بچے کو کچھ پیسے دے دیتے ہیں کم از کم آج کے دن تو اس منحوس پرندے کی نحوست سے جان چھٹے گی۔” ساجد کی بات پر ہماری نظریں دانستہ طور پر اُس بچے کی طرف اُٹھ گئیں جو کچھ فاصلے پر بیٹھا ہمیں ہی دیکھ رہا تھا۔
    اچانک بس کے ہارن کی آواز نے ہمیں اپنی طرف متوجہ کیا۔ بس میں بیٹھا ڈرائیور سمجھ گیا تھا کہ ہم آج پھر لیٹ ہیں لیکن اُسے یہ توقع ہرگز نہیں تھی کہ اُسے دیکھ کر بس کی طرف بھاگنے کی بجاے ہم اُلٹی سمت میں دوڑ پڑیں گے۔ وہ اپنا سر کھجاتے حیرانی سے ہمیں بھاگتے دیکھ رہا تھا۔ ہم ہانپتے ہوئے اُس بچے کے پاس پہنچے، پیسے اُس بچے کو دیئے اور واپسی کی طرف دوڑ لگادی، لیکن اپنے بھاگتے ہوئے قدموں کو ہمیں روکنا پڑا کیوں کہ سامنے سڑک خالی تھی۔ بس جاچکی تھی۔ بوکھلاہٹ میں ہم بس والے کو رکنے کا اشارہ کرنا ہی بھول گئے تھے۔
    اُن کے چہرے پے ایک بار پھر وہ شوخی جھنڈے گاڑے بیٹھی تھی۔ نحوست کے بادل چھٹ چکے تھے۔دل اب قدرے مطمئن تھا۔ سڑک پر پہنچ کر وہ دوسری بس کا انتظار کرنے لگے۔
    دوسرے دن پھر وہ منحوس اُلو اُنہیں گھور رہا تھا۔اُس بچے کو پیسے دے کر وہ پھر سے اُس منحوس پرندے کی نحوست سے آزاد ہوگئے۔لیکن یہ اب روزانہ کا معمول بن گیا تھا۔ روزانہ اُس اُلو کا دیدار ہونے پر اب وہ عاجز آچکے تھے۔اضطراب اُن کے چہروں پر واضح اور نمایاں تھا۔ اُس بچے کو پیسے دینے سے اُن کی تنخواہ میں ایک فیصد کمی بھی واقع نہیں ہونی تھی لیکن وہ اُن لوگوں میں سے تھے جو بھکاریوں کو شاید انسان ہی نہیں سمجھتے تھے۔
    ٭…٭…٭
    فون کی بیل جارہی تھی، جب دوسری طرف سے ذیشان کی آواز آئی۔
    ”ہیلو عامر صاحب! لگتا ہے میری طرح آپ کے دل کو بھی اُس منحوس اُلو کی وجہ سے چین نہیں آرہا؟؟؟” فون اٹھانے پر ذیشان کی آواز ابھری عامر فکر مندی سے کہہ رہا تھا۔
    ”ہاں یار! کوئی حل نکالو اس مسئلہ کا، میں تو بیوی بچوں والا ہوں کہیں اُس اُلو کی نحوست گھر میں داخل نہ ہوجائے۔” عامر فکر مندی سے کہہ رہا تھا۔
    ”صرف تم ہو؟؟؟ تینوں ہی بیوی بچوں والے ہیں بھائی۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ساجد کی کال آئی تھی، اُس نے کالونی کے مالک سے بات کرلی ہے۔ آج ہی اُس منحوس پرندے کو وہاں سے بھگا دیا جاے گا۔” ذیشان کی آواز میں اب قدرے سکون تھا۔
    ”کیا واقعی؟؟؟ ارے یہ تو کمال ہوگیا۔ اس خوش خبری پر تمہارا ماتھا چومنے کو دل کررہا ہے۔” دوسری طرف سے ذیشان کا قہقہہ سنائی دیا۔
    ”ارے بھائی چوم لینا۔۔۔ فی الحال میں فون رکھتا ہوں۔ گھر کی بیل بجے جارہی ہے، ذرا دیکھتا ہوں کون آیا ہے۔خدا حافظ”
    ٭…٭…٭
    اُن کی زندگی جو پچھلے کچھ دنوں سے عجیب موڑ لے رہی تھی، آخر پھر اپنے پرانے رستے پر چلنے لگی۔ اب روزانہ صبح وہ اُس بچے پر تنفر بھری نگاہ ڈالے ساتھ سے گزر جاتے اور وہ بچہ کبھی غرور سے تنی ہوئی اُن گردنوں کو دیکھتا جو پیسے کے دم پر ہر روز ایک محرومی بھرا احساس اُس کے دل میں جگا جاتیں اور پھر اُس کی نظر اُس درخت پر پڑتی جہاں رہنے والا پرندہ اُن لوگوں کے ظلم اور عتاب کا شکار ہوا تھا۔اُس دن کے بعد وہ درخت اُسے ہمیشہ خالی ہی نظر آیا۔
    ٭…٭…٭
    اُفق پر سنہر ی روشنی پھیل رہی تھی۔ عامر گھر سے باہر نکلا تو ذیشان اور ساجد دعا کے لیے ہاتھ اُٹھاتے کھڑے تھے۔ دروازہ کھلنے کی آواز سے وہ ذرا چونکے۔
    ”سیٹھ صاحب! یہ ہماری دعائوں کا اثر ہے ورنہ آپ اور ٹائم پر تیار ہوجائیں؟؟؟ ناممکن!” ذیشان کی اس بات پر میں ہنس پڑا۔
    ہم باتیں کرتے سڑک کی جانب بڑھنے لگے ۔اچانک میری نظر اُس بچے پر پڑی ۔وہ منہ مخالف سمت کیے اپنے دونوں ہاتھ ہوا میں بلند کیے بیٹھا دعا مانگ رہا تھا۔میں نے آہستہ سے ساجد اور ذیشان کو اُس جانب متوجہ کیا۔اُسے دیکھ کر میری طرح اُن کی آنکھوں میں بھی چمک در آیٔ۔
    ”آج دیکھتے ہیں یہ مفلسی کا ڈرامہ کرنے والا خدا سے کیا مانگ رہا ہے۔آج تو اسے رنگے ہاتھوں پکڑیں گے۔” ساجد بولا۔
    ہم چپکے سے قدم اُٹھاتے اُس کے پیچھے جا کھڑے ہوئے۔ اُس کی آواز ہم اب بہ خوبی سن سکتے تھے۔
    ”اللہ! آپ میری بات مان لیں۔میں نے رات بھی کھانا نہیں کھایا۔ بہت بھوک لگی ہے۔ آپ اُس اُلو کو واپس بھیج دیں۔ وہ آجائے گا تو مجھے دوبارہ پیسے ملنے لگیں گے۔ آپ پلیز اُس اُلو کو کہیں واپس آجائے۔”
    وہ شوخی جو اُن کے چہروں پر جھنڈے گاڑے بیٹھی تھی، ایک پل میں بوڑھی ہوکر رہ گئی۔ ایک پل میں اُس جھنڈے کے ایک نہیں ہزار ٹکڑے ہوئے تھے۔ وہ ندامت کی ایسی جیل میں قید ہوئے تھے جس نے اُن کی تنی ہوی گردنوں کو جھکا دیا تھا۔ وہ اُس وقت سمجھے تھے کہ منحوس لفظ ہی شاید منحوس ہوتا ہے، ورنہ اُس خدا کی تخلیق کی ہوئی کوئی شے منحوس نہیں ہوتی۔ منحوس تو صرف انسان کی سوچ ہوتی ہے جو کبھی کسی پرندے کو منحوس کہتی ہے کبھی اُس عورت کو جو بانجھ پن کا شکار ہونے کے باوجود روزانہ خدا کے حضور اپنی جھولی بھر جانے کی دعائیں مانگتی ہے۔ وہ تینوں چپ چاپ سر جھکائے کھڑے تھے۔ اُن میں اتنی سکت بھی باقی نہ تھی کہ اُس بچے کی نظروں کا سامنا کرسکیں۔ کتنی بسیں یوں ہی گزر گئیں اور وہ جو کالج جانے کے لیے نکلے تھے وہیں کھڑے کے کھڑے رہ گئے۔

    ٭…٭…٭




  • در و دیوار —– سید ممتاز علی بخاری

    کہتے ہیں دیوار اور دروازے کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ دیوار نہ ہو تو پھر دروازہ بھلا کس کام کا؟ جس طرح دیوار دیدار میں رکاوٹ کا دوسرا نام ہے اسی طرح دروازہ دیدار کے لیے ایک پُل کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ سنا ہے دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں لیکن آج تک ہمیں اُن کے کان نظر نہیں آئے اور نہ ہی یہ معلوم ہو سکا کہ اُن کانوں کی شکل و صورت کیسی ہے؟ ان کا سائز کیا ہے؟ ان کی طاقت کتنی ہے؟ہماری تحریر میں جا بجا آپ کو لفظ گیٹ(Gate) نظر آئے گا ۔ دراصل معزز دروازوں کو انگریزی زبان میں گیٹ کہتے ہیں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ چھت کے سوا گھر نہیں ہو سکتا لیکن چُپ شاہ کے نزدیک دیواروں کے بغیر گھر نہیں ہو سکتا۔ عورتوں کو چار دیواری کا درس دینے والے اکثر حضرات اپنی راہ میں ایک دیوار بھی برداشت نہیں کر تے۔ دیوار کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا وہاں سے راستہ نہیں بنا سکتا۔ صرف چور اور ڈاکو اپنی مرضی سے جہاں سے چاہتے ہیں راستہ بنا لیتے ہیں چاہے وہاں دیوار ہو یا بیمار۔ یار لوگ تو دار کو بڑا دروازہ کہتے ہیں بلکہ بل گیٹس کو بھی ”گیٹ” (دروازہ) ہی سمجھتے ہیں ہمارے نزدیک بھی وہ دروازہ ہی ہے بے پناہ دولت کا۔
    خیر آج ہم نے سوچا کہ آپ حضرات کو مختلف قسم کی دیواروں اور دروازوں کی اقسام سے متعارف کروائیںتا کہ سند رہے اور بہ وقتِ ضرورت کا م آئے۔





    ١۔کالج کے دَر و دیوار
    یہ دیواریں بڑی خوش قسمت ہوتی ہیں ۔ ان پر آئے دن نت نئے سیاسی گروہ اپنی تشہیرکے لیے چاکنگ کرتے ہیں پھر اُن پر پینٹ یا رنگ پھرجاتا ہے ۔ اگلے روز ایک نئی عبارت یوں جگمگا رہی ہوتی ہے جیسے اُسی کے لیے ہی یہ دیوار بنائی گئی ہو۔ بعض اوقات اوپر تلے تحریر کی گئی چاکنگ بارش وغیرہ سے دھل کر کچھ یوں بن جاتی ہے کہ لکھنے اور پڑھنے والے دونوں حیران رہ جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ میں نے کچھ اسی طرح کی وال چاکنگ دیکھی جس میں لکھا تھا کہ 25 ستمبر کو ملک کے مشہور و معروف حکیم صاحب میں کرکٹ کا ایک نمائشی میوزیم ہے جس میں تھیڑ کے بڑے فنکار بھی شامل ہوں گے۔ قربانی کی کھالیں ہمیں دے کر ٹکٹ بک کروائیں ورنہ حکومت ذمہ دار نہ ہو گی۔ حکیم صاحب کے جسم میں کرکٹ گراؤنڈ ، کرکٹ میں تھیٹر کے فنکاروں کا کھیل، اور کرکٹ کا میوزیم بڑے عجیب و غریب انکشافات تھے لیکن سب سے انوکھا انکشاف یہ تھا کہ قربانی کی کھالوں کا ایک نیا مصرف بھی سامنے آگیا تھا۔جب ہم نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ بارش اور بادو باراں نے نصف درجن اشتہاروں کا بھرتہ بنایا ہوا ہے۔
    عموماً کالج کے گیٹوں کو بھی زنانہ اور مردانہ کالج کے حوالے سے دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ بوائز کالج کے گیٹ عموماً ویران ہوتے ہیں جب گرلز کالج کے گیٹوںپر زیرِ تعلیم طالبات کے علاوہ بے شمار لڑکے بھی نظر آتے ہیں۔ بعض تو لڑکیوں کے خونی رشتہ دار ہوتے ہیں اور بعض جنونی رشتہ دار بننے کے لیے کوشاں ۔۔۔! ہم تو یونیورسٹی کے دَر و دیوار کو بھی اسی فہرست میں رکھا کرتے ہیں۔ البتہ مخلوط تعلیم دلانے والے اداروں کے گیٹ بہت پُر رونق بنے رہتے ہیں ہمیشہ۔ یوں تو قوم کے مستقبل کے یہ ضامن روز انہ وقت مقررہ پر اپنے فرائض سر انجام دینے کے لیے موجود ہوتے ہیں لیکن ایک روز ایسا بھی آتا ہے جب گرلز اور بوائز کالجوں کے گیٹ ایک سا منظر پیش کرتے ہیں اور وہ دن ہوتا ہے اتوار کا ۔ اکثر اوقات کالجز کے یہ دروازے اور دیواریں سیاسی تنظیموں کے درمیان تنازع کا باعث بنتے ہیں۔ کہیں جھنڈے لگانے یا اکھیڑنے پہ جھگڑا ، کہیں چاکنگ کرنے مٹانے کی لڑائی تو کہیں کسی سیاسی تنظیم کی ہڑتال پر گیٹ کے کھلے رہنے یا بند رہنے پر چپقلش۔۔۔۔!
    ٢۔ کوچۂ محبوب کے دَر و دیوار
    ایک مشہور قول ہے کہ محبوب کی گلی کا کُتا بھی عشاق کو محبوب ہی ہوتا ہے کیوںکہ اس کا اُن کے محبوب کی گلی سے ایک تعلق ہوتا ہے ۔ اس لحاظ سے محبو ب کے گھر کے دَر و دیوار تو خصوصی اہمیت کے حامل ہوئے ۔ یار لوگ تو محبوب کے گھر کی دہلیز کو اتنا متبرک سمجھتے ہیں کہ کئی ایک تو فٹ پاتھ پر بیٹھ کر اس سمت سجدوں کی اجازت مانگتے پھرتے ہیں۔ محبوب کے آشیانے کی دیواروں کی لمس کی حس بہت ہی طاقت ور ہوتی ہے۔ اس لیے عموماً عاشق اُن سے لپٹ لپٹ کر روتے ہیں۔ اگر عشق کی آگ دونوں طرف برابر لگی ہو تو پھر عاشق محبوب کے دَر و دیوار کو ایک ہینظر دیکھتے ہیں۔ اُن کے نزدیک دیوار اور دروازے میں فرق اتنا ہوتا ہے کہ دروازے پر سکیورٹی گارڈ یا گھر کے کسی نگران کی نظر ہوتی ہے جب کہ دیواروں کو کوئی نہیں دیکھتا۔ اسی لیے وہ دروازوں کی بہ جائے دیواریں پھلانگنا آسان سمجھتے ہیں کیوںکہ یہ راستہ آسان بھی ہوتا ہے اور محفوظ بھی۔
    اگر آپ ہماری اردو شاعری کا مطالعہ فرمائیں تو آپ کو بھی معلوم ہو گا کہ محبوب کے دروازے پر ایک نا دیدہ رکاوٹ لگی ہوتی ہے ۔اس رکاوٹ کوعبور کرنا ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا ۔ اکثر جوشیلے مگر بزدل عاشق جو آسمان سے تارے توڑ کر لانے کے دعوے دار ہوتے ہیں ان سے اتنا نہیں ہو سکتا کہ وہ ان نادیدہ جالوں کو توڑ پائیں جو محبوب کے گھر کی دہلیز پر لگے ہوتے ہیں۔
    کچھ حضرات تو محبوبہ کے بھائیوں کو بھی دیوار سے تشبیہ دیتے ہیں لیکن ان دیواروں کو پھلانگنا بہت مشکل ہوتا ہے اور اکثر عاشق یہیں سے واپس ہو لیتے ہیں ۔ ڈر کر یا مار کھا کر ۔۔۔۔۔۔!





    ٣۔ ٹھیکے والے دَر و دیوار
    یہ دروازے اور دیواریں ٹھیکے داروں نے بنائی ہوتی ہیں۔ ان میں سے بعض دیواریں تو آدھی بنی ہوتی ہیں اور بعض کی تعمیر تک مکمل ہو چکی ہوتی ہے لیکن یہ بنتی ہی ٹوٹنے کے لیے ہوتی ہیں۔ عموماً ٹھیکے دار حضرات پیسے تو پورے سامان (میٹریل )کے لے لیتے ہیں لیکن استعمال کرتے وقت ڈنڈی بلکہ ڈنڈا مارتے ہیں اور بقیہ سامان(میٹریل )کے پیسے اپنی جیب میں ڈال دیتے ہیں تاکہ مرنے کے بعد دوزخ میں ایک عظیم الشان محل کی تعمیر کی جا سکے ۔
    اسی لیے ٹھیکے والی دیواریں ایسی ہوتی ہیں کہ ذرا کسی نے ٹیک لگائی اور یہ دھڑام سے نیچے۔ ان دیواروں پر اگر غلطی سے کوئی کوا آ کر بیٹھ جائے تو یہ اس کی زندگی کا چراغ گل کرنے کے ساتھ ساتھ خود بھی زمین بوس ہو جاتی ہیں۔ ہم نے ایک بار مشہور مفکر چُپ شاہ سے پوچھا کہ یہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹا گون کی عمارتیں جہازوں کے ٹکرانے سے کیسے گریں؟ تو انہوں نے انکشافی انداز میں ہمیں بتایا کہ جہاز تو جہاز اگر کوئی اڑتا مچھر بھی ان عمارتوں سے ٹکرا جاتا تو بھی ان عمارتوں نے زمین بوس ہو جانا تھا۔ ہم نے وجہ پوچھی تو بتانے لگے کہ دراصل یہ عمارتیں ٹھیکے پر تعمیر کی گئی تھیں۔ ٹھیکے پر تعمیر ہونے والی عمارتوں کے اندر ایک اور کجی رہ جاتی ہیں اور وہ یہ کہ ہوا کے دباؤسے ایسی عمارتوں کی دیواریں ٹیڑھی ہو جاتی ہیں۔
    چُپ شاہ کے نزدیک پیسا ٹاور کا ٹیڑھا ہونا اس کی ٹھیکے پر کی گئی تعمیر کی پہچان ہے۔ ہم ساری ٹیڑھی دیواروں کو ٹھیکے داروں کی غلطی نہیں قرار دے سکتے کیوںکہ کئی دیواریں اتنی نیک ہوتی ہیں کہ وہ رکوع و سجود کے لیے کعبے کی سمت جھک جاتی ہیں اور ہم لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ شاید ٹھیکے دار نے دیوار کی تعمیر میں کوئی ڈنڈی ماری ہوئی ہے۔ کچھ یہی حال ٹھیکے پر بنائے دروازوں کا ہے۔کبھی زنگ آلود لوہے کو پینٹ(رنگ و روغن) کرکے فروخت کیا جاتا ہے تو کبھی اس پرانی لکڑی کو جسے اندر سے کیڑوں نے کھا لیا ہو ، رنگ و روغن کرکے منہ مانگے دام وصول کیے جاتے ہیں۔ ایسے دروازے اکثر موت کے ہر کارے کے ساتھ مل کر اپنے مالک سے دغا کر جاتے ہیں اور انسان کو زمین کی پستیوںسے بلند آسمان کی وسعتوں میں پہنچا دیتے ہیں ۔ ان دروازوں سے توسوچ کے دروازے زیاد مضبوط ہوتے ہیں۔

    ٤۔ وی آئی پی دَر و دیوار
    یہ دَر و دیوار اپنی اہمیت کے حوالے سے سب سے منفرد اور ممتاز ہوتے ہیں۔ ملک کے اندر پائی جانے والی اعلیٰ مقتدر شخصیات اور اہم اداروں کے ارد گرد اسی قسم کے دروازے اور دیواریں ہوتی ہیں۔ یہ دیواریں تمام دیواروں سے اونچی ہوتی ہیں اور دروازے ہوشیار اور حسّاس۔ دیواروں نے خار دار تاروں والا لباس پہنا ہوتا ہے۔ عام دیواروں کے بر عکس ان دیواروں کے کان نہیں ہوتے البتہ آنکھیں ہوتی ہیں اور ان گنت تعداد میں جن کے اندر عقاب کی نظروں سے زیادہ پُھرتی ہوتی ہے ۔ وی آئی پی دروازے بھی دوسرے دروازوں سے کچھ الگ ہی شان رکھتے ہیں۔ وہاں بے شمار سیکیورٹی گارڈز ان کی حفاظت پرمامور ہوتے ہیں اور یہ دروازے باز بان ہوتے ہیں۔ یہ بول کر بتا سکتے ہیں کہ آنے والا انسان کس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے ۔ دلہن کی خاموشی اقرار کی علامت سمجھی جاتی ہے جب کہ ان دروازوں کی خاموشی انسان کے پر امن اور سادہ ہونے کی ضامن سمجھی جاتی ہے ۔ اگر ان دروازوں میں سے کوئی ایسا ویسا آدمی گزر جائے تو یہ چیخ چیخ کر آسمان بادلوں سمیت اپنے سر پر اٹھا لیتے ہیں اور نتیجتاً پورا ماحول سنگینوں کی زد میں آ جاتا ہے اور اگر بات کچھ زیادہ شدید ہو تو پستولوں کی گھن گرج کے ساتھ گولیوں کی بوندا باندی بھی شروع ہو جاتی ہے ۔ یہ دروازے عام دروازوں سے کافی مہنگے ہوتے ہیں۔ ایسے در و دیوار VIPsکو عام لوگوں کی پہنچ اور رسائی سے دور رکھتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے دواؤں کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھا جاتا ہے اور رکھا جاناچاہیے۔





    ٥۔ تاریخی دَر و دیوار
    جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ ان دَر و دیوار کی اہمیت مسلمہ ہے چاہے غیر مسلموں کے دیس ہی میں کیوں نہ ہوں۔ پہلے تذکرہ کرتے ہیں دیواروں کا تو صاحبو! دیوارِ برلن اور دیوار عراق (جو امریکا نے2003ء میں عراق پر قبضے کے بعد بنائی تھی ) بہت مشہور ہیں۔ ان دیواروں کا یہی کام ہے کہ وہ بنی نوع انسان میں تفریق پیدا کر سکیں اور ان کے درمیان نفرت کے بیج بو سکیں لیکن ایک ایسی تاریخی دیوار بھی ہے، جو بنی نوع انسان کی حفاظت کے لیے تعمیر ہوئی وہ ہے دیوارِ چین۔۔۔! تا تاریوں کے حملوں سے بچنے کے لیے یہ دیوار بنانے والوں کے علم میں بھی نہیں تھا کہ لوگ چاند سے جا کر اس دیوار کو تکتے رہیں گے۔ ایک دیوار ان دنوں انڈیا بھی لائن آف کنٹرول پر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
    کہتے ہیں کہ ایک تاریخی دیوار سکندر نے بھی بنائی تھی جس میں یا جوج ماجوج کو قید کر دیا تھا۔ حیرت کی بات ہے کہ ہمارے سیاستدان کیسے اس دیوار کو پھلانگ آئے۔ باقی قوم ابھی قیامت کی منتظر ہے۔ دروازوں یعنی گیٹوں کے حوالے سے ہمیں پچھلے زمانوں میں کچھ روایات ملتی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس زمانے میں ہر شہر پناہ کا ایک بلکہ کئی گیٹ ہوتے تھے۔ لیکن آج کل کے دور میں صرف چند ہی شہروں کے دروازوں کا تذکرہ سننے کو ملتا ہے۔ جیسے لاہور میں لوہاری گیٹ ، بھاٹی گیٹ ، موچی گیٹ وغیرہ موجود ہیں۔ یہ سارے گیٹ انگریزوں سے بھی پہلے کے بنے ہوئے ہیں اور مغلیہ سلطنت کی یادگار ہیں۔
    ٦۔ عام دَر و دیوار
    اس قسم کے در و دیوار آپ کو ہر طرف نظر آئیں گے ۔ یہ دیواریں اتنی ہی کمزور ہوتی ہیں جتنے ان کے مکین غریب ہوتے ہیں ۔ یہ گھر کی حفاظت کی خاطر تعمیر کی جاتی ہیں لیکن چور حضرات ان سے مک مکا کرنے کے بعد ان کو پھلانگ کر گھر والوں کو ان کے سرمائے سے محروم کر دیتے ہیں۔ پھر لوگ پولیس کو رپورٹ تک نہیں کروا سکتے ۔ اس لیے کہ چوروں نے اتنی رقم چھوڑی ہی نہیں ہوتی کہ مظلوم بے چارہ پولیس والوں کو تحفے میں دے سکے اور تحفے کے بغیر تو ہمارے ہاں پولیس والے صرف ”کمال” کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ہماری پولیس اور جاپانی ایک ہی فلسفے پر عمل پیرا ہیں۔ صرف ایک چھوٹا سا فرق ایسا ہے جو ہماری پولیس کی عظمت کی مثال پیش کرتا ہے ۔ وہ یہ کہ جاپانی حضرات تحفے لینے اور دینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے اور ہماری پولیس صرف تحفے لینے کی مشتاق ہے ۔
    کچھ اسی قسم کی دیواریں اور گیٹ سڑکوں کے بھی ہوتے ہیں۔ سڑک کی دیواریں مفرور مجرم جیسی ہوتی ہیں تبھی تو ان کو لوہے کی سلاخوں سے باندھا ہوتا ہے یا پھر سٹیل یا ایلومینیم کی تاروں سے۔۔۔! چُپ شاہ کا کہنا ہے کہ شاید دروازوں کی اہمیت یہیں تک محدود رہتی لیکن بھلا ہو امریکا کے صدر نکسن کا جس نے واٹر گیٹ سکینڈل کا حصہ بن کر گیٹوں کو ایک نئی زندگی دی۔ اسی طرح دروازے حسین حقانی اور منصور اعجاز کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے میمو گیٹ سکینڈل تخلیق کیا اور اکیسویں صدی میں بھی دروازوں کا بول بالا کیا۔

    ٭٭٭٭




  • شاہین قسط ۱  ”برگد کی چڑیلیں” – عمیرہ احمد

    شاہین قسط ۱  ”برگد کی چڑیلیں” – عمیرہ احمد

    شاہین –  ”برگد کی چڑیلیں” – عمیرہ احمد

    ”میرے گھر میں ایک پرانا برگد ہے جس پر چڑیلیں رہتی ہیں جو ہمیں بہت تنگ کرتی ہیں۔ کیا ٹیم شاہین مجھے برگد کی ان چڑیلوں سے چھٹکارا دلواسکتی ہے؟”
    شیر دل نے کاغذ پر انگلش میں لکھی ہوئی اُس تحریر کو باآواز بلند پڑھا تھا اور نایاب اور احد یک دم بہت ہی پرجوش نظر آنے لگے تھے۔
    ”یہ ہوا نا کیس… بس یہ ہی تفتیش کریں گے ہم سب سے پہلے۔” نایاب نے سکول کی ڈیسک پر ہاتھ مار کر جیسے حتمی فیصلہ کردیا۔
    ”کیس ہے کس کا؟” احد نے شیر دل سے پوچھا۔
    ”یوحنّا جوزف کلاس فائیو۔” شیر دل نے اُس کاغذ کے نیچے لکھا نام پڑھتے ہوئے کہا جو ٹیم شاہین کے لاکر میں کسی نے ڈالا تھا۔






    وہ تینوں آج وہ لاکر کھول کر اُس میں موجود وہ سارے خطوط پڑھ رہے تھے جو سکول کے مختلف بچوں نے ٹیم شاہین سے رابطے کے لئے اپنے مسئلے کے ساتھ بھیجے تھے، اور پچھلے آدھے گھنٹے میں کوئی ایک کیس ایسا نہیں تھا جو اُن کے دل کو لگتا۔ وہ عجیب عجیب مسائل تھے جو بچوں نے کیس بناکر اُنہیں بھیج دیئے تھے۔ کسی کو اپنی وہ والی بلّی کی تلاش کروانا تھی جو تین سال پہلے غائب ہوگئی تھی اور کسی کو اپنے گھر کے چوہوں سے نجات چاہیے تھی۔ کسی کو اپنے موزوں سے بدبو کا مسئلہ حل کروانا تھا اور کسی کو کھجلی کی شکایت پر اُن سے رہنمائی چاہیے تھی۔ کسی کو اپنے چھوٹے بہن بھائی کو پٹوانا تھا اور کسی کو اپنے بڑے بہن بھائی کو اغوا کروانا تھا۔ وہ تینوں مسئلے پڑھ پڑھ کر تپ رہے تھے۔ وہ ٹیم شاہین تھے اُس سکول کی پہلی ”جاسوس تنظیم” اور وہ انہیں احمقانہ کیس لکھ لکھ کر بھیج رہے تھے۔ اُن تینوں کا موڈ بے حد خراب ہوگیا تھا ،تب ہی اُن کے ہاتھوں یوحنّا جوزف کا وہ کیس آیا تھا اور یک دم وہ تینوں جیسے کھل اُٹھے تھے۔
    یہ شیر دل شیرازی تھا جسے جاسوسی ناولز پڑھنے اور فلمیں دیکھنے کا جنون تھا اور اس ہی جنون نے اُسے یہ یقین دلادیا تھا کہ وہ خود بھی جاسوس بن سکتا تھا۔ وہ اخباروں اور ٹی وی پر مختلف جرائم کی خبریں سنتا اور پھر انٹرنیٹ پر تب تک اُن کیسز کو فالو اپ کرتا رہتا جب تک وہ حل نہ ہوجاتے اور مجرم پکڑا نہ جاتا۔ اکثر اوقات شیر دل کے جو اندازے مجرم کے بارے میں ہوتے تھے وہ صحیح ثابت ہوتے تھے اور ایسا ہونے پر وہ خوشی سے بے قابو ہوجاتا۔ احد اُس کا بہترین دوست تھا اور نایاب اُس کے چچا کی بیٹی اور وہ دونوں اُس کے کلاس فیلوز بھی تھے اور شیر دل کے اس جنون سے واقف بھی لیکن شیردل کے ذہن میں جب ایک جاسوسی تنظیم بنانے کا خیال آیا تھا تو اُس نے اُن دونوں کو بھی مکمل طور پر بے خبر رکھا تھا۔ وہ اُس وقت تک شرلاک ہومز سے متاثر تھا مگر شرلاک ہومز کی طرح ایک بھی ساتھی رکھنے پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ اُس کا خیال تھا وہ سب خود کرسکتا تھا۔
    شاہین کا نام اُس نے اپنی دادی سے علامہ اقبال کے اشعار میں شاہین کا ذکر سن سن کر سوچا تھا۔ اُسے وہ پرندہ ، اُس کی پرواز اور اس سے منسلک شاعر مشرق کا ”فلسفۂ خودی” پسند تھا۔ شاہین بھی اکیلا اونچی پرواز کرتا اپنے ہدف پر جھپٹتا تھا اور شیر دل شیرازی بھی اُس ہی کی طرح تنہا اُس تنظیم کو چلانا چاہتا تھا جس کا اس وقت وہ بانی تھا۔
    گھر بیٹھے اُس نے خود ہی ایک دن شاہین کے اغراض و مقاصد لکھ لئے تھے۔ وہ تنظیم کیا کیا کرسکتی تھی اور کیسز حل کرنے کے لئے جو معاوضہ شاہین لیتی شیردل نے اُس کا بھی تعین کرلیا تھا۔ ایک ویب سائٹ بناکر اُس نے شاہین کے لوگو کے ساتھ یہ ساری معلومات وہاں پر چڑھادیں اور اپنا ای میل ایڈریس اور سکول میں ایک لاکر نمبر ایک pamphletپر ڈیزائن کرکے اُس نے سکول کے نوٹس بورڈ پر لگا دیا۔ ایک گھنٹہ میں ہی شاہین کا لفظ پورے سکول میں گردش کرنے لگا تھا اور نوٹس بورڈ کے نیچے بچوں کا ہجوم اکٹھا ہونے لگا تھا۔
    ”ہم سکول کے بچوں کے کیسز حل کرنے والی پاکستان کی سب سے بڑی جاسوسی تنظیم ہیں جس کی شاخیں عنقریب پاکستان بھر کے سکولوں میں کھولی جانے والی ہیں اور اس سکول میں شاہین کا ہیڈ کوارٹر کھولا جارہا ہے۔ ہمارے پاس جدید ترین جاسوسی کے آلات ہیں اور ٹیکنالوجی پر مہارت رکھنے کی وجہ سے ہم آپ کا کوئی بھی مسئلہ منٹوں میں حل کرسکتے ہیں۔
    شاہین آپ کی زندگی کو مسائل سے پاک وہ پرواز دے گی جس کے آپ اہل ہیں تو آئیں آج ہی اپنی ہر پریشانی اور مسئلے کے حل کے لئے ہم سے رابطہ قائم کریں۔” شیر دل جانتا تھا اُس نے اپنی تنظیم کا تعارف کرواتے ہوئے تھوڑی نہیں بہت زیادہ مبالغہ آرائی سے کام لیا تھا لیکن جھوٹ نہ بولنے پر یقین رکھنے کے باوجود اُس کا خیال تھا پروموشن کے لئے تھوڑا بہت مبالغہ ضروری تھا اور ویسے بھی وہ جو اُس pamphletمیں لکھ رہا تھا وہ ایک دن سب کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔





    ”سنو، یہ شاہین ٹیم تم نے بنائی ہے نا؟” نایاب نے سکول میں اُس pamphlet کو پڑھتے ہی شیر دل سے پوچھا تھا۔ شیر دل نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔
    ”میں صرف اس آرگنائزیشن کا فوکل پرسن ہوں اور کچھ نہیں۔”
    ”جھوٹ مت بولو ، ویب سائٹ تم نے بنائی ہے۔” شیر دل بھونچکا رہ گیا۔
    ”تمہیں کیسے پتہ؟”
    ”گھر میں Networking ہے سارے کمپیوٹرز کی، تم رات کو بیٹھے یہ بنارہے تھے اور میں بھی دیکھ رہی تھی۔ ” نایاب نے بڑے اطمینان سے اُسے بتایا اور شیر دل دانت پیس کر رہ گیا تھا۔ نایاب اگر پروگرامر نہ ہوتی تو پھر ہیکر ہوتی، وہ کسی بھی کمپیوٹر کا پاس ورڈ بدل سکتی تھی۔ کسی بھی سسٹم اور سافٹ ویئر تک رسائی کر سکتی تھی۔ انٹر نیٹ پر موجود کسی بھی ویب سائٹ کے بیک اینڈ تک رسائی حاصل کرنا اُس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ شیر دل کو پچھتاوا ہوا کہ اُس نے اس ویب سائٹ پر کام کرتے ہوئے Networking ختم کیوں نہیں کی۔
    ”اوکے! لیکن اب اپنا منہ بند رکھنا۔” شیر دل نے اعتراف کرنے کے ساتھ ہی اُسے دھمکایا۔
    ”صرف ایک صورت میں۔”نایاب نے فوراً کہا۔
    ”کیا ؟”
    ”اگر تم مجھے بھی اس میں شامل کرو۔ اپنے سیکنڈان کمانڈ کے طور پر۔” شیر دل ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے اُسے دیکھتا رہا۔ اُس کے پلان آف ایکشن میں کوئی دوسرا ممبردور دور تک نہیں تھا مگر پھرمجبوراً اُس نے نایاب کو اپنا نائب بنانے کی حامی بھرلی۔
    ”ایسا کیا ہے جو تم شاہین کے لئے کرسکتی ہو؟” شیر دل نے اُس سے پوچھا ۔
    نایاب نے اطمینان سے کہا:
    ”بہت کچھ! اس کی ویب سائٹ اور ٹیکنالوجی سے متعلق سارے کام کرسکتی ہوں جو تم بھی کرسکتے ہو لیکن تم ان میں میرا مقابلہ نہیں کرسکتے۔” وہ دھڑلے سے کہہ رہی تھی۔ شیر دل نے اُس کو ٹوکا نہیں۔ وہ سچ کہہ رہی تھی۔
    ”میں Archer ہوں تو کسی بھی مشن میں تمہیں میرے نشانے کی ضرورت پڑے گی اور میں جو ڈو کی بہترین کھلاڑی ہوں ۔ جتنا تمہیں جاسوسی کہانیاں پڑھنے کا شوق ہے اُتنا ہی مجھے بھی ہے۔” وہ بتاتی جارہی تھی اور شیر دل سرکھجاتا سنتا جارہا تھا۔ وہ دونوں ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ نایاب اپنے بڑے بھائی تیمور اور ماں باپ کے ساتھ اوپر والے فلور پر رہتی تھی۔ اُس کا بھائی میڈیکل کا سٹوڈنٹ تھا اور والد ایڈیشنل سیکشن جج۔
    شیر دل نیچے والی منزل پر اپنے ماں، باپ، دادی اور چھوٹی بہن خدیجہ کے ساتھ رہتا تھا۔ اُس کا باپ ایک بینکر تھا اور ماں ایک بیکر۔
    ”اوکے! ٹھیک ہے مگر یہ سب راز رہے گا۔ کسی اور کو اس کی بھنک بھی نہیں پڑنی چاہیے۔” شیر دل نے اُس سے کہا تھا اور اس سے پہلے کہ نایاب کوئی جواب دیتی شیردل کو عقب سے اچانک احد کی آواز آئی۔
    ”تم اب مجھ سے بھی سب کچھ چھپایا کروگے؟” نایاب اور شیر دل جیسے کرنٹ کھا کر پلٹے تھے اور اُن کے عقب میں احد کمر پر دونوں ہاتھ رکھے بے حد غصّے سے کھڑا تھا۔
    احد شیر دل کا بہترین اور بچپن کا دوست تھا۔ اُس کی ماں ایک سول سرونٹ تھی اور باپ کا انتقال ہوچکا تھا اور وہ شیردل کی ہی کالونی میں رہتا تھا۔
    ”اوہ! تم چھپ کر ہماری باتیں سنتے ہو۔” شیر دل نے اُسے ٹالنے کے لئے ناراض ہوکر کہا تھا۔
    ”میں کیوں چھپ کر سنوں گا میں تو ویسے ہی سب سُن سکتا ہوں۔ میرے کان اتنے باریک ہیں اور میں شاہین کا تیسرا ممبر ہوں۔” شیردل نے بے چارگی سے اُسے دیکھا اور کچھ کہنے کی کوشش کی مگر اُس سے پہلے ہی احد نے اُسے پچکارتے ہوئے کہا۔
    ”دیکھو تمہیں پتہ ہے میں کک باکسنگ میں کیا کیا کرسکتا ہوں اور غلیل سے میرا نشانہ نایاب کے تیروں سے بھی زیادہ اچھا ہے اور میں دُنیا کا سب سے بہترین map reader اور سیکیورٹی کیمروں کا ماہر ہوں۔ دُنیا کا ہر کیمرہ ہینڈل کرسکتا ہوں اور میرے پاس کتنے خفیہ کیمرے ہیں وہ بھی پتہ ہے تم لوگوں کو اور…”
    وہ ایک سانس میں بولتا چلا گیا اور اس سے پہلے کہ بولتا ہی چلا جاتا، شیردل نے اُسے ٹوکتے ہوئے کہا:
    ”اچھا اچھا! بس کلاس شروع ہونے والی ہے۔”
    ”تو پھر میں بھی آج سے ٹیم شاہین ہوں؟” احد نے اطمینان اسے اُس سے پوچھا اور شیردل نے جھنجھلا کر اُسے دیکھتے ہوئے کہا:
    ”میرے پاس کوئی چوائس ہے انکار کی؟”
    احد اور نایاب نے بے اختیار کیا۔ ”No۔”
    شیردل نے کندھے اُچکاتے ہوئے جیسے ہتھیار ڈالے۔ شاہین دو دنوں میں ون مین شو سے ٹیم بن گئی تھی۔






    …٭…

  • محبت نام ہے جس کا —– محمد حارث بشیر

    اُداس موسم کی ایک سرد شام ،اُس خزاں گزیدہ شجرکا وجوداپنی پیشانی پر کئی داستانیں رقم کیے کھڑا تھا ۔موسم ِ ِبرگ ریز کا شاخسانہ تھا کہ ایک ایک کرکے زرد پتے زندگی کے پل بِتانے کے بعد شجر سے بچھڑتے جارہے تھے ۔وہ سیدھا سادا،تھکا ہارا شخص آنسوؤں بھرا چہرہ صاف کرتے ہوئے فریاد کناں تھا۔
    ”مولوی جی !کچھ کریں اُس کا ، وہ پاگل ہوگیا ہے… مجنوں بن گیا ہے …کہتا ہے محبت ہوگئی ہے …اب آپ ہی بتائیں ،میں اس عمر میں کیا کروں … کہاں جاؤں ؟ وہ تو میری کچھ سنتاہی نہیں جی…”اُدھیڑ عمر حکمت علی گاؤں کے مولوی کے پاس اپنی قسمت کا رونا رو رہا تھا ۔
    وہ سب اس وقت مسجد کے کچے صحن میں برگد تلے بیٹھے تھے۔ گارے مٹی سے بنی چھوٹی مگر صاف ستھری اور خوبصورت مسجد پنڈسروہا کے سر پر تاج کی طرح سجی تھی۔ گاؤں ڈھلان میں تھا اور مسجد بلندی پر… یہاں سے اُٹھتی اذان کی آواز سارے گاؤں میں گونجتی۔مسجد کا صحن گھاس کی تہ سے ڈھکا ہوا اور اس کے تین اطراف پھول دار پودوں کی بھرمار تھی، جو اس وقت زرد موسم کی لپیٹ میں تھے ۔چوتھا حصہ مسجد کی طرف تھا جسے خالی چھوڑ دیا گیا تھا۔ یہ عقبی حصہ تھا۔یہیں بیٹھ کر مولوی صاحب گاؤں کے بچوں کو درس دیتے۔ آج درس کے بعد حکمت علی بڑے مہذب انداز میں بیٹھااپنی بپتا مولوی صاحب کو سنارہا تھا ۔
    ”حکمت علی!تُو پریشان کیوں ہوگیا بھئی …محبت تو ایک میٹھااحساس ہے ۔” انہوں نے اس کا درد سمجھنے کے بجائے جیسے جان بوجھ کر نمک پاشی کی ہو … حکمت علی سلگ کر رہ گیا۔
    ” نہیں حضور …محبت بھلاکیسے چنگی چیز ہوسکتی ہے۔یہ تو روگ ہے جی روگ …پاگل کر دیتی ہے بندے کو… میرے پترکو نہیں دیکھا آپ نے …؟اچھا بھلا تو تھا پہلے …”
    ”دیکھ حکمت! محبت بندے کو سونا بنا دیتی ہے پھر روگ بھی راگ بن جاتا ہے ۔”
    ”پر وہ تو جی مٹی ہوگیا ہے ۔”حکمت علی نے مولوی صاحب کی طرف خالی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا ۔ وہ بولتا جا رہا تھا ۔”دیکھیں جی ! نہ تو اُسے اپنی فکر ہے، نہ ہم بڈھے ماں پیو کا خیال ہے ۔ ” حکمت علی واقعی مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں غرق تھا ۔عمر کے اس حصے میں جب والدین اپنی اولاد سے بہت ساری امیدیں وابستہ کرلیتے ہیں کہ وہ ان کے دُکھ درد کا سہارا بنے گی … مگر یہاں تومعاملہ الٹ ہوچکا تھا۔ جوان بیٹا ! محبت کا روگ پال بیٹھا تھا ۔ اولاد کے یوں بگڑنے پر اگر ایک نحیف وجود اورکمزور اعتقاد والا شخص یاسیت کا شکار تھا تویہ عجیب بات نہ تھی ۔
    ”حکمت سائیں ! میری بات لکھ لے ، تیرا پُترجب اس مٹی سے نکلے گا، تودیکھنا سونا بن کر چمکے گا۔” یہ بات سن کر وہ خاموش ہوگیا،پھر کچھ توقف کے بعد خود ہی اس نے یہ خاموشی ختم کی ۔
    ”کہتا ہے جی کہ میں اُس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا …اور یہ بھی کہ وہ میری روح کے اندر تک اُتر چکی ہے… استغفراللہ!” حکمت علی کانوں کو ہاتھ لگانے لگا ۔مولوی صاحب زیر لب دھیما سا مسکرا دیے تھے۔
    ”آہ …محبت بھی انسان سے کیا کچھ اگلوالیتی ہے ۔” انہوں نے سوچااور ایک پھر دوبارہ لب کھولے :” تو حکمت علی! تُو رشتہ کروا دے نا اس کا…”
    ”میںگیا تھا جی ان کے گھر …پر وہ ذات کے سیّد ہیں ،انہوں نے ہم کمیوں کے ہاں کب رشتہ کرنا ہے جی …دروازے ہی سے واپس بھیج دیاتھا۔”
    ”دیکھ میاں حکمت !اگر تو اُس کی محبت سچی اور پاک ہے ،پھر دیکھنا وہ ضرور کامیاب ہوگا اور ایسا کامیاب کہ لوگ رشک کریں گے اس پر…ایسے کامیاب لوگ کمیاب ہی ہوتے ہیں ۔”
    حکمت علی شاید ان باتوں کو سمجھنے سے قاصر تھا ۔وہ بس اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ”جی جی ” کی گردان کیے جا رہا تھا۔
    ”تُو اپنے پتر کو میرے پاس بھیج …میں بات کرتا ہوں اُس سے ۔”مولوی صاحب نے کہا۔
    ”بھلا ہوجی آپ کا …اللہ لمبی حیاتی کرے آپ کی۔”وہ اُن کا ہاتھ چومتا ،آنکھوں کو لگاتا ہوا وہاں سے رخصت ہوگیا اور مولوی صاحب اپنے موٹے منکوں والی تسبیح پھیرتے ہوئے اللہ ھو کا ورد کرنے لگے۔
    ٭…٭…٭





    اس کی پیدائش پر گھر والوں نے اس کا نام ”یوسف” رکھا تھا ۔ اس کے علاوہ اسے کوئی اور نام جچتا ہی نہ تھا ۔وہ تھا ہی اتنا خوبصورت…گورا، چٹا، گول مٹول سا ، بڑی آنکھوں ، سنہری بالوں والا یوسف …جسے دیکھنے کے لیے سارا گاؤںہی امڈ آیا تھا ۔یوسف ”حکمت علی ” اور ” فاطمہ ” کی پہلی اولاد تھی۔ شادی کے تیرہ سال بعد ان کی دعاؤں کی قبولیت پر قدرت کی طرف سے یہ ایک تحفہ تھا۔ سارا گاؤں ان دو صابر لوگوں کے گھر میں چاند کی آمد پر خوشی سے نہال تھا ۔ وہ چاند ہی تھا جو غریب کے آنگن میں اسے اپنے نور سے منور کرنے کے لیے اتر آیا تھا۔ مسکراتا تو اس کی آنکھیں روشن دیے کے مانند چمکنے لگتیں۔
    یوسف کا باپ حکمت علی پیشے کے اعتبار سے کسان تھا۔ سارا دن مٹی میں رزق تلاش کرتے گزر جاتا۔وہ اکثر مٹی میں مٹی ہی ہوجاتا ، زمین کی نگہداشت کرتا اور اس سے سونا اگاتا تھا ۔ پھر اس سونے کو تانبے کے داموں بیچ کر اپنا گزارا کرتا۔ اسے کبھی زیادہ کی طلب رہی نہ کم کا غم… رزق تو باری تعالیٰ نے انسان کا پہلے ہی سے لکھ رکھا ہے ۔
    حکمت علی پندرہ سال کا تھا جب اس کے والدین اس دنیا میں اُسے تنہا چھوڑ کر منوں مٹی تلے جا سو ئے، اس کی زندگی میں واحد رنگینی اس کے والدین تھے۔ ان کے بعد تو زندگی گویاکسی طاق میں رکھے بجھے ہوئے چراغ مانند ہوگئی تھی، جس کے ارد گرد اندھیرا ہی اندھیرا تھا ۔
    اس کی زندگی کا چوبیسواں سال تھا جب فاطمہ شریک حیات بن کر اس کی تاریک دنیا کو روشن کرنے کے لیے اس کی زندگی کا حصہ بنی۔ وہ نیک سیرت لڑکی، صابر، وفادار اور بہترین ساتھی ثابت ہوئی۔ فاطمہ کا اس کی زندگی میں آنا ایک خوش گوار تبدیلی تھی ۔ اس کے نزدیک وہ ایک قیمتی ہیرے کی طرح تھی کہ جسے کھو دینے کا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
    وہ کئی بار فاطمہ سے اپنی بے لوث محبت کا اظہار کر چکا تھا۔جو دوسری بڑی نعمت اسے ملی ،وہ یوسف کی صورت میں تھی ۔ اس کی اولاد ، اس کے وجود کا حصہ، دونوں کا سب سے قیمتی سرمایہ … ایک طویل ، صبر آزما عرصے کے بعد ملنے والی نعمت…!
    ٭…٭…٭
    بادلوں کی گرج ،بجلی کی چمک ، بارش کی آمدکا مژدہ سنا رہی تھی۔ وہ بچہ اپنے جیسے دوسرے بچوں کو گلیوں میں دوڑلگاتے، گرد اڑاتے اور کاغذ کی کشتیاں بناتے ،بارش کا انتظار کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ پھر اس نے اپنا چہرہ آسمان کی طرف اٹھایا ۔بارش کا پہلا قطرہ اس کے دائیں گال کو تر کر گیا۔
    ” بارش آئی …بارش آئی۔ ” کا ایک شور بلند ہوا۔ بچے اب کافی پُر جوش نظر آنے لگے تھے ۔ وہیں کھڑے کھڑے اس نے خود کو بارش میں بھیگ جانے دیا ۔ آنکھیں موندے وہ اس احساس میں اتنا محو تھا کہ اس نے غور ہی نہیں کیا کہ کب اس کے قدموں تلے زمین کسی جھیل کی طرح پانی سے بھرنے لگی تھی ۔ ایک کاغذ کی کشتی اس کے پاؤں سے ٹکرا کر پانی میں ڈوب گئی ۔ بچے اسے خود میں مگن دیکھ کر اس کے گرد اکھٹے ہوچکے تھے ۔ اس کے کپڑے کیچڑ سے داغ دار تھے ، اناری گال مٹی ہوگئے تھے ۔ادھر بچوں کے قہقہے فضا میں بلند ہوئے تو وہ ناراض ہونے کے بجائے نادم ہوا تھا ۔ چیخنے کے بہ جائے خاموش رہا تھا ۔ وہاں موجود ہر بچہ یہ جانتا تھا کہ وہ کچھ نہیں بولے گا ۔ وہ یوسف کو اچھی طرح جانتے تھے ۔ وہ معصوم تھا ، کم گو ، شریف ، اس کی اپنی ہی دنیا تھی ۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ ان کے ساتھ کھیلنا نہیں چاہتاتھا۔ بس ان بچوں سے وہ یہ بات کہنے کی ہمت نہیںرکھتا تھا ۔ یہ فاطمہ اور حکمت علی دونوں کی خواہش تھی ۔ وہ اسے ایک بڑا کامیاب آدمی بنانا چاہتے تھے ۔جوان کے لیے فخر کا باعث بنتا… وہ خوبصورت تھا اتنا کہ اسے جو بھی دیکھتا ،پھر اسی کے گن گانے لگتا ۔ وہ بلا کا ذہین بھی تھا، ایسا کہ فاطمہ اور حکمت علی کو اپنے خواب پورے ہونے کایقین ہوچلا تھا ۔ وہ پڑھائی میں جتنا اچھا تھا ، بات کرنے میں اتنا ہی نالائق…نہ تو وہ لاڈ پیار کا بگڑا تھا اور نہ ہی ضد کا قائل … یوں کہہ لیں کہ وہ بچپن ہی سے ” اللہ لوک” تھا ۔
    یہ ننھا منا ” اللہ لوک” شکایتیں کرنے کا عادی نہ تھا،لیکن ایک دن تنگ آکر باپ کے پاس پہلی بار شکایت لے کر گیا تھا ۔ اسے اپنے ہم جماعتوں سے شکوہ تھا، وہ اسے اصل نام کے بجائے ”سائیں” کہہ کرپکارتے تھے ۔ یہ نام اسے بالکل پسند نہیں تھا لیکن لفظ ”سائیں ” کی بازگشت اتنی زیادہ پھیلی کہ لوگ ” یوسف ” کو بھولنے لگے تھے ۔
    ”دیکھ پتر! ایسا کہنے سے کچھ نہیں ہوتا …نام تو تیرا یوسف ہی ہے نا … بس تو دل لگا کر پڑھا کر … دیکھنا کل کو جب تُو بڑا آدمی بنے گا ،تویہی لوگ تجھے ” یوسف صاحب” کہیں گے۔”
    ” لیکن مجھے اچھا نہیں لگتا… وہ سب میرا مذاق اڑاتے ہیں ۔” اس کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے تھے ۔
    ”بہادر بچے ایسے نہیں روتے … رونے سے آج تک کوئی مسئلہ حل ہوا بھلا…؟”
    ”تو پھر میں کیا کروں …؟” بلا کی معصومیت اس کے چہرے پر عود آئی ۔
    ” کچھ بھی نہیں … تُو بس اللہ سے دعا کیا کر کہ وہ ان کے دل میں تیرے لیے محبت ڈال دے۔ ” یہ ایک گرُتھا جو ایک باپ اپنے بچے کو سکھا رہا تھا ۔ صبر کرنے کا ، اللہ سے رجوع کرنے کا۔
    ”تو کیا پھر وہ مجھے ایسے نہیں کہیں گے ؟”
    ”جب اللہ چاہے گا ان کے دل پھیر دے گا ۔”
    ” اور اگر اللہ نے ایسا نہ کیا تو …؟”
    ” جو لوگ اللہ کی مرضی مانتے ہیں ۔ ا للہ ان کی ضرور سنتا ہے ۔ جلد یا بدیر ، مگر ضرور سنتا ہے ۔ بس صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ۔سمجھ گیا ناپُتر…؟”حکمت علی ایسے گویا تھا جیسے اس کے سامنے سات سال کا بچہ نہیں کوئی ہم عمر ہو … یوسف اب خاموش ہو گیا تھا۔ ایسا خاموش کہ پھر اس نے کبھی اس بات کی شکایت ہی نہ کی۔ ” سائیں ”کی بازگشت تھمی اور نہ یوسف کا صبر ٹوٹا۔
    ٭…٭…٭





    وہ اکیلی تھی ، بالکل اکیلی …اس وقت اس پرایسی کیفیت طاری تھی کہ آدمی اپنے سائے سے بھی ڈرنے لگتا ہے ۔وہ اندھیرے میں چیزوں کو ٹٹولتی ہوئی اپنا راستہ تلاش کر رہی تھی، مگر اندھیرا تھا کہ ہر بار اسے ٹھوکر کھانے پر مجبور کررہا تھا۔ کچھ تگ ودو کے بعد وہ اگلے کمرے میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئی ۔
    وہا ں روشنی کی ایک باریک سی کرن تھی جو اندھیرے سے لڑتی اپنا وجود کھو رہی تھی ۔ اسے اپنی زندگی بھی اس کمرے کی طرح لگ رہی تھی، خالی ،تاریک اور روشنی کی ایک کرن ” امید ” کا آسرالیے ناامیدی کا مقابلہ کرتی ہوئی ۔ اس کا رُخ کونے میں پڑے ایک صندوق کی طرف تھا ۔ آہستگی سے چلتے ہوئے وہ اس کے سامنے بیٹھ گئی ۔
    کتنی ہی دیر اس کشمکش میں گزری کہ آیا وہ صندوق کھولے یا دل کے بنددریچوں کی طرح اسے بھی بند ہی رہنے دے ۔آخر ہمت کر کے اس نے اسے کھول دیا ۔ کپڑوں کا انبار تھا اور اس کے نیچے کی سطح پر کاغذ کا ایک ٹکڑا … لرزتے ہاتھوں اس نے وہ کاغذ اٹھالیا ،لیکن اسے کھول کر پڑھنے کی ہمت اس کے اندر آج بھی نہیں تھی، بالکل اسی طرح جیسے نو سال پہلے نہیں تھی ۔وجہ تو خیر وہ آج تک نہ جان پائی تھی۔
    نو سال پہلے اس نے صرف ایک سطر پڑھی اور آج بھی صرف وہی ایک سطر … کیسے کیسے خدشات اس کے ذہن میں ا بھرے تھے ۔ اسے زندگی میں سب سے زیادہ ڈر بددعا سے لگا تھا اور پہلی سطر ہی اتنی خوفناک تھی کہ وہ اُسے مزید پڑھنے کی ہمت نہ کرسکی تھی۔ ۔
    ”جب وقت تیرا ڈھل جائے گا ۔”
    آنسوؤں کا ریلا اس کی آنکھوں سے رواں ہوا ۔اس نے وہ کاغذ دوبارہ تہ کر کے رکھ دیا ۔ ایک سطر پڑھی تھی تو آٹھ سال بعد تباہ و برباد ہو کر آئی تھی ۔ آگے پڑھتی تونجانے کیا ہوتا۔
    ٭…٭…٭
    پنڈ سروہا کے مولوی جی کا رُخ مسجد کی طرف تھا جہاں ایک لاچار باپ اپنے دیوانے ، عاشق بیٹے کو لیے ان کی راہ تک رہا تھا ۔ مولوی صاحب چہرے پر مسکان سجائے پاس سے گزرنے والوں کو سلام کا جواب دے رہے تھے ۔ یہ دلفریب مسکان جو چند لمحوں بعد ان کے چہرے سے زرد موسم میں سبزپتوں کی طرح غائب ہوئی تھی ۔ پاؤں برف ہوئے تھے اور آنکھیں پتھر… ان کے سامنے ایک’مجنوں’ بیٹھا ہواتھا ۔ اٹھارہ انیس سال کا دیوانہ… دنیا جہاں سے بے خبر …زمانے بھر سے لا تعلق …میلے کپڑوں اور بکھرے بالوں میں وہ بے تاثر چہرہ لیے آسمان کو تکنے لگا۔
    مولوی صاحب! میکانی انداز میں قدم اٹھاتے ، تسبیح کے دانوں پر بندش ڈالتے اس کی طرف بڑھے۔ دونوں کی نظریں چار ہوئیں ۔ عاشق کے ہلتے ہوئے ہونٹ تھمے اور اُن کے قدم … ماحول پر ایک سکوت چھاگیا تھا ۔ پھر ایک دم خاموشی رخصت ہوئی ۔
    ”اے بالک !پتا ہے تجھے کہ تُوکیا کر رہا ہے؟” بارعب آواز میں پوچھا گیا ۔ پاگل استہزائیہ انداز میں ہنسا ۔
    ” اُسے دیکھنے آیا ہوں … اُدھر آسمان پر اس کی صورت نظر آتی ہے مجھے … مگر زمین پر وہ دکھائی نہیں دیتی … ایسا کیوں ہوتا ہے؟آپ کو تو معلوم ہوگا۔” جواب کے ساتھ ہی سوال آیا تھا۔ درد میں لپٹا ہوا، حاصل کرنے کی لاحاصل جستجوجیسا۔
    ”تیر ایوں گلیوں میں بیٹھنا اسے بدنام کرے گا ۔”
    ”کیسے؟میراعشق توخاموش ہے ۔ سمندر جیسا… اس کا نام تک نہیں لیا میں نے…”
    ”تُو فانی چیز کے پیچھے بھاگ رہا ہے ۔چھوڑ دے یہ تمنا۔” تنبیہ کی گئی تھی، مگر منت کے انداز میں … اندیشوں کے انبار میں …”
    ” فانی تو میں ہوں … چاہت توفانی نہیں ہے … وہ تو ابدی ہے … ہمیشہ رہے گی۔”
    مولوی صاحب کی تنبیہ واقعی بے اثر رہی تھی۔
    ”اس سب سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔” اس بار انداز غصیلا تھا اورآواز کرخت۔
    ”تمنا بھی نہیں…” غصے کو بھاپ کی طرح اڑاتے وہ مسکرایا۔
    دو نظریات تھے اوردو ہی دماغ …کوئی بھی ہار ماننے کو تیار نہ تھا ۔پھرایک دم ماحول پر گہرا سکوت چھا گیا ۔
    ٭…٭…٭





    ” حکمت علی! تُو چلا جا …پتر کو میرے پاس رہنے دے …میں بات کرتاہوں ،تُوتھوڑی دیر بعد آنا ۔”مولوی جی نے حکم جاری کیا تو حکمت علی ذرا سا فکر مند ہوگیا ، مگر مولوی جی پر اعتمادکی بدولت اپنے روایتی انداز میں ”جی جی” کہتا وہاں سے اُٹھ گیا ۔
    مولوی صاحب اور اس عاشق کے درمیان کچھ دیر خاموشی کا غلبہ رہا ۔ انہوں نے اس کے چہرے پر آئے سر کے بالوں کو اپنی انگلیوں سے پرے ہٹاکر اس کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کی ۔ وہ چند لمحے دیکھ پائے اور اس کی آنکھوں میں چھپا جذبہ جان گئے۔آنکھوں میں خالی پن تھا، فقدان تھا،پاک، بے ریا محبت کی چمک کا فقدان، وہاں حقیقی محبت اور چاہت کی وہ چمک مولوی جی کو دکھائی نہیں دی تھی۔
    ” تُو جانتا ہے محبت کیا ہے؟” خاموشی ٹوٹی تھی ، لڑکے کی آنکھوں میں حیرت ابھری ۔وہ تڑپ اُٹھا۔پہلی بار اس نے لب کھولے تھے ۔
    محبت بڑی خو ب صورت بلا ہے
    درندوں میں شفقت اسی کی عطا ہے
    ” کیا ہے محبت…؟” سوال دہرایا گیا ۔
    ” کسی کو بے پناہ چاہنا… اتنا کہ ہر جگہ وہی نظر آئے ۔ اپنی ذات کو آدمی بھول جائے۔”
    ” تجھے کتنی محبت ہے اُس سے ؟” ایک اور سوال اس کے سامنے تھا ۔
    ” بہت … اتنی کہ وہ نہ ملی تو مرجاؤں گا ۔”اس کے لبوں پر ایک درد بھری مسکراہٹ عود آئی ۔ ”لیکن …لیکن یہ کیسی محبت ہے ،جو انسان کو زندہ بھی نہیں رہنے دیتی ۔اس سے جینے کا حق ہی چھین لیتی ہے ۔” مولوی صاحب کی آواز میںجلال تھا ۔
    ” محبوب پاس نہ ہو تو انسان زندہ کیسے رہ سکتا ہے ؟ اس سے دوری کا احساس ہر پل موت کی طرف دھکیلتا ہے ۔” اس نے احتجاج کیا تھا ۔
    ” رہ سکتا ہے زندہ … بالکل رہ سکتا ہے، لیکن شاید تم یہ بات نہ سمجھو ۔ مجھے معلوم ہے کہ تمہیں صرف دل لگی ہے، جسے تُو نادانی میں محبت کا نام دے رہا ہے۔”
    ”آپ غلط کہہ رہے ہیں ، جھوٹ بولتے ہیں ، میں اسے بے پناہ چاہتاہوں ۔ وہ نہ ملی تو میرے جینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔” وہ ایک دم تڑپ اُٹھا تھا مولوی صاحب کی بات اس کے جسم پر تیزاب کی طرح لگی اوروہ پہلے ہی جلے دل کا مالک تھا ۔
    ” چاہت کی انتہاموت نہیں، زندگی ہے ۔ محبوب جب دل میں بس جاتا ہے، تو زندہ رکھتا ہے ، مارتا نہیں۔”
    ” لیکن میں تو پَل پَل مرتا ہوں اس کے بغیر …” اس نے کمزور آواز میں کہا۔
    ” یہ ابتداہے، اگر تُوسمجھے تو… محبت تو یہ ہے کہ آدمی خود کو محبوب کے رنگ میں رنگ لے۔ اس کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھے ۔ اسے بے لوث چاہے ۔ ایسا کہ اس میں نہ کوئی غرض ہو ، نہ ریا ۔ اس کی تصویرکو دل میں ایسے بسائے کہ کوئی اور تمنا دل میں باقی نہ ہو ۔اس کی چاہت تمھارے وجود کے ساتھ ایسے لپٹی رہے کہ وہ تمہیں زندہ رکھے ۔ تمہارے وجود کو امر کرے ۔ انسان محبوب کی عزت مقدم رکھے، تو وہ محبت ہے ۔ تمہاری طرح نہیں کہ وہ اسے بدنام کرے ۔” اب وہ ٹرانس کی کیفیت میں تھا۔
    آخری جملے نے لڑکے کو احتجاج کرنے مجبور کیا ۔
    ” میں نے ایسا کبھی نہیں چاہا… کبھی بھی نہیں ، میں تو اسے ہاتھ کا چھالا بنا کر رکھتا ہوں۔ اسے بدنام کیسے کر سکتا ہوں ؟”
    ”تُو…تُو پھر اپنی محبت کی تشہیر کیوں کرتا ہے؟اسے دل میں بسا کر کیوں نہیں رکھتا کہ وہ تجھے مضبوط بنائے۔ ” مولوی جی اسے ٹریک پر لانا چاہ رہے تھے ۔
    ”محبت تو انسان کو کمزور کردیتی ہے ، بے بس کر دیتی ہے ۔ محبوب کی تصویر چاہے دل میں بسی ہو، مگر من یہ کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ آنکھوں کے سامنے رہے ۔ہر وقت ، ہر پل ۔”
    ”محبت انسان کو کمزور نہیں کرتی اگر ایسا ہوتا، تو کبھی پہاڑ سے دودھ کی نہر نہ نکل پاتی۔ کچے گھڑے کے سہارے کبھی دریا نہ پار کیے جاتے ۔”ان کی بات پر وہ خاموش رہا ۔ موقف اب بھی وہی تھا، مگرالفاظ جیسے ختم ہوگئے تھے ۔ بالآخر طویل خاموشی کے بعد وہ ایک تاویل ڈھونڈ لایا۔
    ”مجنوں بھی تو لیلیٰ کی خاطر گلیوں کی خاک چھانتا تھا ۔ اسے تو اس کی گلی کے حقیر جانور سے بھی پیار تھا ۔” وہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھا ۔
    ”بالکل … اس نے خود کو محبوب کے لیے وقف کر دیا تھا، اتنا کہ پھر اس حقیر جانور سے بھی اسے محبت ہوگئی تھی ۔ وہ سچی محبت تھی جو امر ہوئی دیکھو !وہ سچی محبت کی رہتی دنیا کے لیے مثال بن گئی اور مثال وہی چیز بنتی ہے جوبے غرض اور سچے جذبوں میں گُندھی ہو۔”
    ”میری محبت میں بھی کوئی غرض نہیں ہے ۔ سچی اور حقیقی چاہت ہے میری۔ میں سچ بولتا ہوں۔ میرا جذبۂ عشق سچا ہے ۔” وہ بے تاب تھا ، مضطرب بھی ۔
    ” تُو جھوٹ بولتا ہے ۔ تیری محبت میں اگر غرض نہیں ہے، تو اس کے نہ ملنے پر مرنے کی باتیں کیوں کرتا ہے ۔ یہ کیوں نہیں کہتا ہے کہ اگر وہ نہ بھی ملی تو تیرے جینے کے لیے اس کی محبت ہی کافی ہے ۔” مولوی صاحب کی باتوں میں وزن تھا ۔لڑکا بے بس ہوچکا تھا ۔
    ”مولوی جی !آپ جو کہہ رہے ہیں وہ ناممکن ہے ۔ اگر وہ نہ ملی تو میری محبت تو ادھوری رہ جائے گی نا۔”
    ”بس یہی تو غرض ہے ۔ تُو اس کے جسم کا متلاشی ہے ۔ تُونے کبھی اس کی روح کو کھوجنے کی تمنا ہی نہیں کی ۔ وہ محبت کبھی امر نہیںہوتی جو فانی چیز کی متلاشی ہو ۔”
    ”میں سمجھا نہیں ۔”کمزور لہجہ اور مریل سی آوازمولوی جی کی سماعتوں سے ٹکرائی ۔
    ” یہ وقت دیکھ رہا ہے تُو…؟اذان ِمغرب ہونے کو ہے ۔دن اور رات کے ملنے کا وقت … یہ تھوڑی دیر کے لیے آتا ہے بس…پھر رات غالب آتی ہے۔ ملن کی گھڑی مختصر ہی ہوتی ہے۔ عشق مجازی بھی ایسا ہی ہے ۔ملن ہوتا ہے، تو مگر تھوڑی دیر کے لیے … پھر اندھیرا غالب آجاتا ہے ۔۔ تُوایسی چیز کے پیچھے بھاگ رہا ہے جو ہاتھوں سے ریت کے مانندپھسل جاتی ہے ۔ امر ہونا چاہتا ہے نا تُو …؟ ” انہوں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ وہ اثبات میں سر ہلانے لگا ۔
    ”تو پھر اس محبت کو دل میں یوں بسا کہ یہ تیرے دل کو روشن کردے ۔ تجھے شاد اور آباد رکھے ۔ تُو اسے سیڑھی بنا کر عشق حقیقی کی لذت بھی چکھ کر دیکھ لے۔پھر دیکھ رب سوہنا کرم کرے گا ۔”
    مغرب کی اذان کا وقت ہوگیا تھا ۔ گفتگو کا سلسلہ رک گیا ۔ مولوی جی نہیں جانتے تھے کہ اس لڑکے پر کتنا اثر ہوا ہے، مگر ان کے بس میں صرف یہی تھا ۔
    ٭…٭…٭




  • بڑی آنٹی —– زرین جوشیل

    بڑی آنٹی —– زرین جوشیل

    شگفتہ نازایک نرم ونازک احساس ، جس نے 1950ء میں تقسیمِ ہند کے بعد دہلی سے لاہور منتقل ہوئے ایک متوسط گھرانے میں جنم لیا ۔ یوں تو رشید میاں کے ہاں سات بچیوں کی ولادت ہوئی جن میں سے تین توبچپن ہی میں اللہ کو پیاری ہو گئیں ۔ شاید بیٹا نہ ہونے کے غم نے رشید میاں کو ساری زندگی اپنی زوجہ ، بیگم سیدہ سے دور رکھا ۔پہلوٹھی کی اولاد ہونے کے ناطے شگفتہ ناز نے اپنے والدین کے رشتے میں کشیدگی کو بھانپ لیا تھا۔ وہ شروع ہی سے انتہائی مدّبر اور خاموش طبعتھی ۔ رشید میاں کی اردو بازار میں کتابوں ایک بڑی کی دکان تھی، جس پر وہ اپنے چھوٹے بھائی سید نور کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔نور صاحب کم عمری کے باعث تھوڑی چلبلی طبیعت کے مالک تھے جب کہ رشید میاں تو مُسکرانا بھی شاید گناہ سمجھتے تھے۔ بچے ابھی زیادہ بڑے نہیں ہوئے تھے کہ اُن کی امی جان کو ٹی بی جیسا جان لیوا مرض لاحق ہو گیا۔ بس پھر کیا تھا ، ساری ذمے داری شگفتہ ناز کے کمزور کاندھوں پر آپڑی۔ اسکول کے بعد گھر کا کام، امی کی تیمارداری ، بہنوں کی دیکھ بھال، یہ سب کچھ فریضہ اوّل بن گیا تھا، لیکن دن بھر کی تگ ودو کے بعد جب شگفتہ بی بی اپنی دادی کے پاس بیٹھ کر تقسیمِ ہندسے پہلے کے وا قعات اور ہندوستان میں مقیم اپنے رشتہ داروں کے قصے سنتیں ، تو اُن کی ساری تھکن مٹ جاتی ۔ وہ ان کہانیوں میں یوں کھو جاتیں، گویا وہ خود بھی اُن کا حصہ ہو۔ اُردو ادب پر اُنہیں باقی بہنوں کی نسبت خاصا کافی عبور حاصل ہوگیا تھا۔ جب بھی کسی بہن کو لغت کا کوئی مسئلہ درپیش ہوتا وہ سیدھا بڑی باجی سے رجوع کرتی۔ بڑی باجی کہلوانا پسند جو تھا اُسے۔ بھئی بڑے ہونے کے لیے کچھ رعب اور آداب بھی ملحوظِ خاطر رکھنے چاہئیں کہ نہیں؟ شاید یہی وجہ تھی جو تمام بہنیں اُس کی بے پناہ عزت کرتی تھیں یا پھر اُس کے رعب ودبدبے کی وجہ سے اُس سے دل کی بات کرنے سے بھی کترایا کرتی تھیں۔
    رشید میاں دکان بند کرنے کے بعد اپنا زیادہ تر وقت دوست و احباب کی محفلوں میں گزارنا پسند کرتے تھے ۔ کبھی دعوتِ عام کسی کے ہاں ہوتی تو کبھی اپنے یہاں ۔ دستر خوان طرح طرح کے کھانوں سے بھرا رہتا تھا ۔ دادی کے منع کرنے پر اکثر کہا کرتے ۔ امی جان! یہ دستر خوان او ر میری جیب کبھی خالی نہیں رہیں گے۔ دادی جان استغفار پڑھ کر بات آئی گئی کردیتی تھیں،لیکن وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ کون جانے کب کس کی خوشیوں کو نظربد لگ جائے۔ اس خاندان پر سب سے پہلا صدمہ تب گزرا، جب سید نور صاحب کے کسی دوست نے اُنہیں ثریا نامی بیوہ خاتون اور تین عدد بچوں کی ماں سے، انسانی ہمدردی کے ناطے متعارف کروایا۔ ملاقاتوں کا یہ سلسلہ نہ جانے کب بے جوڑ محبت میں تبدیل ہوگیا یہ کوئی نہیں جانتا، لیکن اجازت نہ ملنے پر نور صاحب نے ایک فلمی ہیرو کی طرح بغاوت کی راہ اپنائی اور ثریا سے خفیہ نکاح کر ڈالا۔
    نو بیاہتا جوڑا جب اپنے بڑوں کی دعائیں لینے گھر پہنچا، تو دادی جان نے نا صرف منہ پھیرا بلکہ ثریا پر تعویذ گنڈوں کے الزامات لگاکر اُن کا بیٹا پھنسانے کے جرم میں دھکے دے کر گھر سے نکال دیا لیکن ثریا بی کہاں دودھ کی دھلی تھی۔ اُس نے بھی دادی جان سے بدلہ لینے کی ٹھان لی اور اپنے شوہرکولے کر یہ جا وہ جا ۔ اب تو دادی جان کو بھی اک پل چین نہ رہا ہر وقت ثریا بی کو کوسنے اور بد دعائیں دینا تو جیسے ااُن کا مقصد ِ حیات بن گیا تھا۔ چاروں بچیوں کوچچا جان سے بے انتہا اُلفت تھی اور کیوں نہ ہوتی وہ بھی اِن پر جان چھڑِکتے تھے اور اپنے بھائی بھابی کی بھی بے انتہا عزت کرتے تھے۔زندگی کہاں کسی کے چلے جانے سے رکتی ہے ۔وقت گزرتا گیا والدین کی ناچاقی اور دادی کی باتیں سن سن کر شگفتہ ناز ایک عام سی شکل و صورت ، سانولی رنگت، درمیانے قد اور دبلی پتلی جسامت والی جوان لڑکی میں تبدیل ہوگئیں ۔ لیکن منجھلی بہن شہناز تھی تو قد میں ذرا کم، لیکن صاف رنگت گداز جسم اور تیکھے نین نقش کے باعث کافی دل کش نظر آنے لگی۔ شمع اور بلقیس ابھی چھوٹے ہونے کے ناتے ان خصوصیات سے مبرّا تھیں۔ اسی دوران دادی جان کے دور دراز کے کوئی یتیم مسکین رشتہ دار بنّے میاں اُن کے یہاں پڑھنے کی غرض سے رک گئے۔ آگے پیچھے کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اس لیے دادی نے بھی ترس کھا کر اوپر کی برساتی میں اُنہیں رہنے کی جگہ دے ڈالی۔ بننے میاں کے آنے سے ایک رونق سی لگ گئی۔ دن ہو یا رات اس گھر سے قہقہوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ دیکھنے میں بھی بنّے میاں کسی مزاحیہ کردار سے کم نہ تھے اوپر سے اُن کی شرارتیں ۔ خدا کی پناہ جیسے یہ شخص خوشیاں بانٹنے ہی دنیا میں آیا ہو۔بچیوں کے ساتھ لڈو، تاش ،کیرم کھیلنا ، کبھی بھوت کا لبادہ اوڑھ کر پڑوسی کو ڈرا دینا ۔کوئی ایک تماشا ہو تو بتائیں ۔ بچیاں بھی چچا چچا کرتے نہ تھکتی تھیں۔ اُن کے لیے شاید وہ بچھڑے ہوئے چچا نور جیسے تھے، لیکن کسی کے دل کا بھید کون جانتا ہے؟ ایک دن بنّے میاں نے دادی جان سے شگفتہ ناز سے شادی کی خواہش ظاہر کر ڈالی بس وہ چچا بنّے کا آخری دن تھا اُس گھر میں۔ دادی نے پہلے تو خوب کھری کھری سنائیں اور پھر گھر سے رفع دفع ہونے کا حکم صادر کر ڈالا ۔ بنّے چچا دل کے ارمان آنسوو ٔں میں بہائے گھر خالی کر گئے،کوئی یہ نہ جان سکا کہ چچا پر آخر بیتی کیا؟





    جب امی جان نے دادی سے انکار کی وجہ دریافت کی، تو اُنہوں نے جھٹ سے چچا کے والی وارث نہ ہونے کا بہانہ کرکے بات ختم کردی۔ امی جان بھی چپ ہوگئیں ۔
    شگفتہ ناز شروع سے کافی سمجھ دار تھیں۔ اُن کے لیے اپنی امی کی آنکھ کا اشارہ ہی با ت سمجھنے کے لیے کافی تھا۔ ابھی کچھ ہی دن گزرے کہ امی جان کے کزن لطیف بھائی، جن کی انارکلی بازار میں مٹھائی کی مشہور دکان ہوا کرتی تھی ، ان کی امی نے دادی جان کو اپنے بڑے بیٹے کے واسطے شگفتہ ناز کے رشتہ کا پیغام بھیجوایا۔ بس یہ سننے کی دیر تھی کہِ دادی آگ بگولا ہوکرکہنے لگیں۔
    ”ارے بھیا!میں نہ بیاہوں اُن حلوایوں کے گھر اپنی پوتی کو ، بھلا بتاؤ کتنی بدبو آتی ہے اُن کے باپ کی دھوتی سے ، ملگجے سے کپڑے پہنے رکھتا ہے ہر وقت، ارے بیٹا چاہے جتنا بھی پڑھ لکھ جائے رہیں گے وہی کارخانہ د ار”۔
    شگفتہ بی بی اکثر اُردو رومانی ناولوں کو چاند کی روشنی میں بیٹھ کر پڑھا کرتی تھیں شاید اُن کا افسانوی ہیرو بھی کوئی ایسا ہی قابل شخص تھاکیوں کہ یہی ایک واحد رشتہ تھا جس کے آنے پر اُن کے دل میں کچھ اُمنگ جاگی تھی،لیکن دادی کے صاف انکار پر اُن کا دل ایسا ٹوٹا کہ آیندہ کبھی کسی رشتے کے آنے پر اُنہیں خوش نہ دیکھا گیا۔
    چاروں بہنوں میں سال سال ہی کا فرق تھا۔ ناچاہتے ہوئے بھی گویا وہ ایک دوسرے کے حالات سے بہت حد تک باخبر تھیں۔ دوسری طرف ثریا بانو نے اپنے شوہر کی نافرمانی کرتے ہوئے ، اپنی ذلت کا بدلہ لینے کے لیے رشید میاں پر دکان اور مکان کے بٹوارے کا کیس دائر کردیا۔ کورٹ کچہری کرتے کرتے حالات اتنے بدلے کہ دونوں دکانیں بک گئیں اور یہ سب کرا ئے کے مکان میں آگئے۔
    آخرکار ثریا بانو کا تیر نشانے پر لگا اور اُس نے ہنستا مسکراتا گھر تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ایک رات امی جان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ وہ اکثر دادی یا مولوی صاحب کا دم شدہ پانی پیا کرتی تھیں۔ جب دوا بے اثر ہونے لگی، تو اُن کے کہنے پر چھوٹی شمع اور بلقیس نے وہی دم کیا ہو ا پانی ماں کو لا دیا۔ بس چند قطرے حلق میں جاتے ہی آنکھیں ایک سمت ٹکٹکی باندھے دیکھنے لگیں اور جسم بے سُدھ ہوگیا۔ سنتے تھے کہ امی جان پر کوئی جن عاشق تھا، وہ اُنہیں زندگی کی تمام تکلیفوں سے نجات دلا کر اپنی دنیا میں لے گیا۔ ہاں یہی ایک خواب تھا ، جو رشید میاں نے اپنی بچیوں کو شایددلاسا دینے کے لیے سنایا تھا کہ ایک رات میں نے خواب کی حالت میں تمہاری ماں کو لال جوڑے میں ملبوس بہت خوش اور صحت مند پایا۔ چاروں معصوم بچیوں نے بھی یقین کرلیا۔
    دن گزرتے رہے۔ گھر میں یا تو ڈیڈی تھے یا دادی، جی بالکل ! شروع ہی سے رشید میاں کو بچیاں ڈیڈی کہہ کر ہی مخاطب کیا کرتی تھیں ۔ وقت جوں جوں گزر رہا تھا ، بچیوں میں خود کو ڈھکنے کا شعور بھی اُجاگر ہورہا تھا۔ خاص طور پر شگفتہ بی بی تو شرم و حیا کا ایسا پیکر تھیں کہ رات سوتے وقت بھی ، مجال ہے جو اُن کا دوپٹہ سر سے سرک جائے ۔ دوسری طرف ثریا نے ماضی کی تلخیاں بھلا کر دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہا او ر بن ماں کی بچیوں سے پیار جتانے کی غرض سے اپنے بچوں کو ان کے گھر چھوڑنا شروع کردیا۔بیٹے کی محبت کے ہاتھوں مجبور دادی نے بھی ثریا کی معافی منظور کرلی۔ ویسے بھی دادی کو کچھ کم دکھائی دینے لگا تھا وہ یہ بھی نہ جان سکیں کہ دشمن تاک لگائے بیٹھا ہے۔
    میل جول اور پیار پروان چڑھتا رہا ،یوں ایک دن یہ تمام بچے پکنک منانے کی غرض سے شالامار باغ گئے، جہاں خاص طور سے چچی جان یعنی ثریا بانو نے بچوں کے لیے بریانی بنا کر بھیجی تھی۔ خدا کی پناہ بریانی کھاتے کھاتے سب کے کھانے میںبال نکلنا شروع ہوگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے تمام بچوں کے بیچ ایسی لڑائی ہوئی کہ اینٹ کتے کا ویر۔ بس اگلے ہی دن شگفتہ ناز کو تیز بخار چڑھا اور اُنہوں نے بستر سنبھال لیا ۔ میٹرک کا امتحان سر پر کھڑا تھا ،تپتے بخار میں چھوٹی بہنوں شمع اور بلقیس نے پکڑ پکڑ کر بڑی باجی کو پرچے دلوائے ،بڑی مشکل ہی سے سیکنڈ ڈویژن تک ہی بات بن پائی ۔ جس پر رشید میاں نے کہا کہ میں اتنے کم نمبروں سے پاس ہونے پر کالج میں داخلہ لے کر نہیں دے سکتا ۔ پڑھائی بند کر کے گھر بیٹھو اور یوں چاروں بچیوں کی آگے پڑھنے کی خواہش ادھوری رہ گئی۔ شگفتہ بی بی کا بخار ٹائیفائیڈ میں تبدیل ہوچکا تھا اور نظر بھی کافی حد تک گر گئی۔ ایک دن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ دادی جان بھی چل بسیں ، بس پھر کیا تھا شگفتہ ناز ہی اب پورے گھر کی بڑی باجی بن کر رہ گئیں ۔گھر والوں کے علاوہ محلے دار رشتہ دار، عزیز و اقارب سب اُنہیں بڑی باجی کے نام سے پکارنے لگے ۔ شمع اور بلقیس بھی جوان ہونے لگی تھیں ۔رشید میاں اب دوسروں کے کتب خانوں میں پارٹ ٹائم نوکری کرتے تھے اس لیے حالات کافی تنگی کا شکار ہونے لگے بھائی کوئی تھا نہیں جو بڑھاپے کا سہارا بنتا ،بس یوں سمجھیئے کہ صورتِ حال کافی گھمبیرتھی۔ کبھی کوئی خالہ چھٹیوں میں باقی بہنوں کو اپنے ساتھ ملتان لے جاتی ،تو کبھی کوئی پھوپھی اپنے ساتھ کراچی گھمانے۔ سیرسپاٹا تو صرف ایک بہانہ تھا اصل مقصد تو اپنے اپنے گھروں میں مفت کام کروانا۔ رشید میاں سیدھے سادھے انسان تھے ، جو رشتہ داروں نے جھوٹ سچ لگایا ، مان لیا اور بچیوں کی کیا مجال کہ وہ بڑوں کے آگے چوں بھی کرجائیں۔
    کہتے ہیں کہ بڑی بہن ماں کی جگہ ہوتی ہے، یہی سوچ شایدشگفتہ ناز کے ذہن میں بھی پروان چڑھ رہی تھی ۔ اپنی بیماری سے اُٹھتے ہی اُنہوں نے کسی دوا بنانے والی کمپنی میں نوکری کرلی۔ گھر میں کچھ پیسے آنے شروع ہوئے تو بڑی باجی کی عزت و عافیت بے پناہ بڑھ گئی اور ساتھ ہی ساتھ ایک کالے موٹے چشمے نے اُن کی آنکھوں پر بیٹھ کر اُن کے رعب و دبدبے میں بھی اضافہ کردیا۔ اب جو بھی رشتہ بڑی باجی کے لیے آتا وہ منجھلی شہناز کو پسند کر جاتا ،لیکن وہ بھی رشتہ سے صاف انکار کردیتی۔عمر بڑھتی جارہی تھی اور رشتے بھاگے جارہے تھے ۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں پھوپھی جان ، شہناز کو اپنے ہمراہ کراچی لے گئیں۔تین مہینے بعد، پھوپھا جان نے رشید صاحب کو شہناز کے نکاح کی اطلاع فون پر دی، تو سنا ہے کہ رشیدمیاں دیواروں سے ٹکریں مار مار کر رو ئے ۔گھر میں جیسے کوئی مر گیا ہو۔ ظاہر ہے ایک شریف آدمی کے لیے یہ مرنے ہی کا مقام ہے جس کی جوان بیٹی نے اُس کی مرضی کے بغیر شادی کرلی ہو۔ میاں صاحب نے صاف صاف کہہ دیا کہ شہناز سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے، میری آج سے صرف تین ہی بیٹیاں ہیں۔
    اب شگفتہ بی بی کی سنو، اِس صدمے کا اُن پر ایسا اثر ہوا کہ اُنہوں نے چھوٹی بہنوں پر کڑی نظر رکھنی شروع کردی۔ اُن کا باہر آنا جانا روک دیا گیا ۔ سہیلی سے ملنے کے لیے بھی ایک مقررہ وقت دیا جاتا تھا۔ میٹرک کا امتحان پاس کرتے ہی ، امی جان کے دوردراز کے عزیز وں کی طرف سے ، عباد میاں کا رشتہ ، شمع کے لیے بڑی چاہت سے مانگا گیا۔





    عباد میاں تھے تو اُس دور کے بڑے گورے چٹے ، قد آور، میٹرک پاس اور نو بہنوں کے اکلوتے بھائی۔ ان کے ابا پوسٹ آفس میں ملازم ہوا کرتے تھے اِسی بنیاد پر عباد میاں کو بھی وہیں ملازمتمل گئی تھی۔ لڑکا برسرِ روزگار، دیکھا بھالا خاندان اور کیا چاہیے تھا؟ بڑی باجی نے کچھ بچت کی کچھ اُدھار پکڑا اور شمع کو گھر سے خوشی خوشی رخصت کر دیا گیا۔
    اب رہ گئی تو صرف بلقیس ، جو تمام بہنوں میں سب سے خوبصورت تھی ، یوں کہ جیسے آسمان سے کوئی حور اُتری ہو لمبا قد، گوری رنگت، نیلی آنکھیں ، سنہرے بال ، لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ ایک ہندوستانی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ ہلکی سی سرخی ہی لگاتی تو کسی لندن کی گوری میم سے کم نہ دکھتی۔ بڑی باجی نے سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے لگے ہاتھ اپنے ہی رشتہ داروں کے ہاں ایک نہایت شریف خاندان میں ، بلقیس کی بھی منگنی کردی۔ ابھی اس منگنی کو کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ کراچی سے شہناز اور پرویز میاں ، میرا مطلب ہے کہ ان کے سرتاج کی لاہور واپسی کی اطلاع دی گئی ۔ شگفتہ ناز بہن کی محبت میں اپنے ڈیڈی اور بلقیس کو ساتھ لیے لاہور ریلوے اسٹیشن پہنچ گئیں ۔ سامنے سے سات ماہ کی حاملہ شہناز بی بی ، اپنے سامان اور میاں کے ساتھ چلی آئیں اور آتے ہی اپنے ڈیڈی کے قدموں میں گر گئیں ۔ بھلا آدمی کیا کرتا ؟ باپ نے بیٹی اور داماد کو گلے لگا لیا ۔ چوں کہ پرویز میاں دادی کی ایک سہیلی کے بیٹے تھے ، جو کراچی سے لاہور امتحانات کی غرض سے اکثر رشید میاں کے یہاں رک جایا کرتے تھے۔ یوں وہ ان کے لیے اجنبی نہ تھے۔آخرکار ان سب نے کفایت شعاری کی غرض سے ایک ہی چھت کے نیچے اکٹھے ، خوش گوار زندگی جینے کا فیصلہ کیا ۔ شاید شگفتہ ناز کو اپنے والد صاحب کی عمر کے احساس کے ساتھ پنجاب کے حالات کا بھی بہ خوبی علم تھا کہ اس معاشرے میں اکیلی عورت کا رہنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ سو باجی نے بھی پرویز بھائی کو نا اُمید نہیں کیا اور اندرونِ شہر ایک ایسا گھر لیا گیا جس کا کرایہ بڑی باجی اور پرویز میاں میں برابر تقسیم ہونے لگا۔
    اب سنیے ذرا ، پرویز میاں کی ،شروع کے دنوں میں تو شہناز پر جان نچھاور کرتے تھے، لیکن جیسے ہی تین بچوں کی قطار لگی ، تو جناب کے تیور ہی بدل گئے ۔ ہر وقت گھر میں بچوں پر سختی ، میاں بیوی کے جھگڑے ، چیخ پکار اپنے رشتہ داروں کو کراچی سے بلا کر گھر والوں سے ان کی سیوا کروانا۔ یہ باتیں شگفتہ ناز کو کافی حد تک ناگوار گزرنے لگیں ۔ لیکن ہاں ایک بات تو پرویز میاں کی بھی ماننی پڑے گی کہ تھے تو وہ شگفتہ ناز سے عمر میں کچھ بڑے، لیکن ان کی کیا مجال جو بڑی باجی کے سامنے چوں بھی کرجائیں۔ بلاشبہ اُن کا چیخنا چلانا صرف اپنے خاندان تک ہی محدود ہوتا، تاکہ گھر کا اکلوتا مرد سربراہ ہونے کی حیثیت سے کچھ تو دہشت قائم رکھی جاسکے۔ بڑی باجی جب بھی ان میاں بیوی کے جھگڑے کے بعد اپنے ڈیڈی کو لے کر الگ گھر میں رہنے کا مطالبہ کرتیں ، تو فوری طور پر ان سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لیا کرتے تھے ۔ باجی بھی معاف کرکے سوچتیں کہ نجانے یہ کھٹکھٹا کب تک چلے گا ؟ ابھی حالات کچھ کارسازگار نہ ہوئے کہ تیسرے نمبر کی شمع کو سسرال والے ان کے یہاں یہ کہہ کر چھوڑ گئے کہ بھیا!علاج کرواؤ اپنی بہن کا، اس پر آسیب ہے۔ چلو جی ، بہن کا خرچہ بھی آن پڑا ، لیکن بڑی باجی نے اُف تک نہ کی اور بہن کے دردِ شقیقہ کے ہر طرح کے حکیمی اور روحانی علاج کروا ڈالے ۔ دو تین مہینے کی مسلسل تگ ودو سے جب شمع بھلی چنگی ہوئی، سسرال والے لینے آگئے ۔
    اب شگفتہ کی زندگی ذرا پٹڑی پر آرہی تھی۔ ملازمت کے دوران ، زاہدہ نامی بیوہ خاتون سے دوستی ہوئی جو ایک عدد جوان بیٹے کی ماں بھی تھی ۔ رازونیاز بانٹے گئے اور زاہدہ بیگم ان کے گھریلو حالات سے باخبر رہنے لگیں ۔ انہی دنوں بلقیس کے منگیتر کو پولیس بے بنیاد غلط فہمی کے باعث ، گرفتار کرکے لے گئی اور اس بے چارے کو پوری رات تھانے میں گزارنی پڑی ۔ معافی تلافی سے بات آئی گئی ہوگئی ، لیکن جی کہاں، پرویز میاں کو تو جیسے موقع مل گیا بڑی باجی کو کچوکے دینے کا۔ اکثر بلند آواز کہہ دیا کرتے کہ ”جاؤ جاؤ ، بلقیس کا نکاح جیل میں ہی پڑھوانا جاکر۔” اُف! بڑی باجی کو بہت غصہ آتا کہ کیا ہمارے ایسے برے دن آگئے ہیں ،جو پرویز میاں کے فضول طعنے بھی سنیں۔ شگفتہ ناز نے جذبات میں اکر منگنی ہی توڑ ڈالی۔ بلقیس تو ویسے ہی شہناز اور پرویز میاں کے بچوں کو پالتے پوستے تھک چکی تھی۔ بڑی باجی کے اس فیصلے سے بلقیس پھوٹ پھوٹ کر روئی کہ نہ جانے اس قید سے وہ کب آزاد ہوگی؟ شاید خدا نے بلقیس کی پکار سُن لی اور اگلے ہی دن ایک درمیانے قدکاٹھ ، گندمی رنگ اور غلافی آنکھوں والا لڑکا ان کے یہاں پرویز صاحب کا دوست بن کر آیا۔بعد میں پتا چلا وہ ان کے آفس میں ہی کام کرتا ہے اور کسی اچھی اور سلجھی لڑکی سے بیاہ کرنا چاہتا ہے۔ اب لگے پرویز میاں، کلیم کے لیے لڑکی ڈھونڈنے، جھٹ سے بلقیس کا خیال آیا اور بڑی باجی اور ڈیڈی کے سامنے رشتہ ڈال دیا۔





    ڈیڈی جی کا تو گھر میں اب عمل دخل کچھ خاص نہیں رہ گیا تھا ۔ سوچنا سمجھنا تو بہنوں کو تھا۔ لو جی چار گواہوں کی موجودگیمیں نکاح ہوا اور سادگی سے ایسے رخصتی کی گئی جیسے بیوا اور رنڈوے کی شادی ہو، یوں بلقیس بھی اپنے گھر کی ہوئی۔ شادی کے سال بعد ہی بلقیس بیگم نے ایک بیٹی کو جنم دیا جب کہ شمع کے یہاں بھی ، شہناز کی طرح تین بچوں کی ولادت ہوچکی تھی ۔ اب تمام بہنوں نے تہیہ کیا کہ کیوں نہ اب اپنی بڑی بہن کا گھر بسایا جائے اور ہر ایک نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق شگفتہ ناز کے لیے رشتہ کی مہم شروع کر ڈالی۔ چوں کہ پرویز اور کلیم میاں دونوں ہی سرکاری ملازم تھے ، تاہم وہ بھی بڑی باجی کے لیے نت نئے رشتوں سے اپنی اپنی بیویوں کو آگاہ کرتے رہتے ، لیکن شگفتہ ناز ان کے بتائے ہوئے رشتوں پر کبھی آمادہ نہ ہوتیں ۔ بھئی ان کی اپنی بہنوں کو کون سا ایسا سکھ مل گیا تھا شادی کرکے جو شگفتہ ناز کو بھی مل جاتا۔
    ایک دن اچانک شہناز نے شمع اور بلقیس کو فون پر بڑی باجی کی بات پکی ہونے کی اطلاع دی اور کہا کہ اس ہفتے ہم نے شگفتہ ناز کے نکاح کا پروگرام رکھا ہے تو ذرا سج دھج کر آنا ۔ دونوں بہنوں کو بڑا تعجب ہوا کہ اچانک سے بڑی باجی رشتہ کے لیے راضی کیسے ہو گئیں ؟بہرحال عین نکاح کے موقع پر جب دُلہا میاں کا چہرہ مبارک سامنے آیا ، تو وہ ساٹھ سالہ رنڈوا بڈھا نکلا ۔ سنا ہے بی بی زاہدہ نے شگفتہ ناز کو بہلا پھسلا کر اس رشتے کے لیے آمادہ کیا تھا ، کہ عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے اب کم عمر لڑکا تو ملنے سے رہا، جس پر پرویز میاں اور اُن کی بیگم نے بھی چھان بین کرکے اچھی طرح تسلی کرلی تھی یا یوں کہیے کہ وہ دونوں بھی بڑی باجی کے فریضے سے جلد از جلد سبک دوش ہونا چاہتے تھے۔ اس لیے شگفتہ ناز کو بغیر تصویر دکھائے پوری تسلی دیتے رہے، لیکن بلقیس اور شمع کو دُلہا میاں کی عمر من ہی من کھٹکے جائے کہ ہماری باجی کی تو پسند ہی وحید مراد جیسا، ہردل عزیز چاکلیٹی ہیرو ہے وہ کیسے اس بے ڈھنگے سے رشتے کے لیے ہاں کرسکتی ہیں۔ نکاح ہونے تک زاہدہ بی بی نے بہنوں کو دلہن کے کمرے میں جانے سے روکے رکھا کہ کہیں اس کا اپنا بھانڈا نہ پھوٹ جائے۔
    فوری رخصتی کے اعلان پر ، جب شگفتہ ناز دُلہا میاں کا چہرہ دیکھا ،تو بے ساختہ خوف سے رو رو کر برا حال کرلیا ،لیکن نکاح ہوچکا تھا مگر، رخصتی تو ہونی ہی تھی۔وہ کسی بھی صورت اس بڈھے کے ساتھ جانا نہیں چاہتی تھیں تاہم اپنے ڈیڈی کی عزت بچانے کے لیے اُنہوں نے گھر سے جانا ہی بہتر سمجھا۔
    اگلے ہی دن جب بہنیں، دل بھاری کرکے بڑے میاں کی طرف ناشتا لے کر پہنچیں ، تو شگفتہ ناز کو اسی حالت میں بیٹھے پایا ،جیسے رات سیج پر چھوڑ کر گئے تھے ۔ معلوم ہوا کہ دُلہا میاں نے تو ساری رات وظائف پڑھنے میں گزار دی اور دلہن کے پاس بھی نہ پھٹکے۔ اب تو شگفتہ ناز نے ٹھان لی تھی کہ اس موئے بڈھے کے ساتھ نہیں رہنا ۔ واپس گھر جاکر بہنوں نے خلع کا نوٹس بھجوا دیا کہ یہ شادی دھوکے کی بنیاد پر ہوئی اور شگفتہ ناز کو تو کیا کسی کو بھی دُلہا کی اصلی عمر کا معلوم نہ تھا۔بڑی تگ و دو کے بعد چھوٹے بہنویوں نے مل کر شگفتہ ناز کی اس بڑے میاں سے جان چھڑائی۔
    بس پھر کیا تھا، شگفتہ ناز کا دل تو جیسے شادی کے نام سے ہی اُچاٹ ہوگیا، اگر کوئی بھول کر بھی ان کے سامنے کسی رشتے کا ذکر کردیتا، تووہ خود کو کمرے میں بند کرکے رونا شروع کردیتیں ۔وقت گزرتا رہا اور اپنی مایوس کن داستان شگفتہ ناز کے چہرے پر ، گہری لکیروں کی صورت چھوڑتاچلا گیا۔ دوسری اور آخری ملازمت انہیں گلبرگ کی نامی گرامی بوتیک میں ملی۔ ان کی زندگی کا محور صرف اپنا کام اورا سٹاف کے لوگ تھے۔مالکن ایک اچھی عورت تھی جوشگفتہ کے لیے ہمدردی کے جذبات بھی رکھنے لگی تھی ۔ سنیاروں کے خاندان سے تعلق ہونے کی بنا پر شگفتہ ناز کو سونے اور ہیرے جواہرات کا علم تھا اس لیے مالکن نے ترقی کے طور پر انہیں جیولری سیکشن کا انچارج بنا ڈالا۔
    ڈیڈی کی بھی کافی عمر ہوگئی تھی ،لیکن شگفتہ ناز کا فریضہ ابھی تک ان کے کندھوں پر تھا۔ کلیم میاںخاصے ہوشیار اور رنگین مزاج شخص تھے اکثر عورتوں کی محفل میں بیٹھ کر ، اپنی سریلی آواز سے اپنا گرویدہ بنانے کا فن خوب جانتے تھے۔ صرف دو یا تین سال ہی بیچاری بلقیس نے سکون کے گزارے ہوں گے، کہ بھائی صاحب کو کسی نے فلم بناکر بہ طور ہیرو آنے کا جھانسا دے ڈالا۔ تبھی کلیم میاں نے بڑی باجی اور ڈیڈی کو اپنے گھر رکھنے کااصرار شروع کردیا۔ بھئی فلمی لوگ رات دیر شوٹنگ میں جو مصروف رہتے ہیں۔ نہ دن کا پتا نہ ہی رات کی خبر، تو پیچھے سے کوئی تو گھر اور بیوی بچوں کی دیکھ بھال کے لیے ہونا چاہیے یا نہیں۔ چل پڑیں بیچاری بڑی باجی دوسری بہن کے گھر کی نگہبان بن کر۔
    ہر عورت کو اپنے شوہر سے وقت درکار ہوتا ہے، لیکن کلیم میاں نے آنکھیں ماتھے پر رکھ کر صاف لفظوں میں اپنی بیگم سے کہہ دیا تھا کہ میں صرف تمہیں پیسہ دے سکتا ہوں، لیکن وقت نہیں، یوں جب بھی بلقیس کو اپنے شوہر کی بے وفائی پر غصہ آتا، بیچاری شگفتہ ناز کی شامت آتی کہ” باجی تم نے میری شادی اس جیسے فلمی اور آوارہ آدمی سے کیوں کروائی؟ بے چاری بڑی باجی خاموشی سے ساری باتیں سنتی رہتیں۔
    اب تو سب بہن بہنویوں نے یہی وتیرہ بنالیا تھا کہ کسی کو بھی اگر کیئر ٹیکر کی ضرورت ہوتی ، تو بس حکم صادر ہوجاتا کہ بڑی باجی سے کہو کہ وہ اپنے کام سے سیدھا ہماری طرف آجائیں۔دنیا کا یہی دستور ہے ، دبنے والے کو اور دبائے جاؤ، لیکن ہاں ایک بات تو ماننی پڑے گی۔ تینوں بہنویوں کے دلوں میںبڑی باجی کے لیے عزت میں بہ تدریج اضافہ ہوتا چلا جارہا تھا اور اپنے بچوں کو بھی شروع سے انہیں بڑی آنٹی کہنے کی عادت ڈلوادی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شگفتہ ناز ، بڑی باجی سے بڑی آنٹی تو بن گئیں، بس ایک شادی ہی تھی جونہ ہوسکی۔





    بلقیس کے سسرال والے ذرا دیہاتی قسم کے لوگ تھے۔ جونہی کلیم میاں کے گھر میں ان کا عمل دخل شروع ہوا ، شگفتہناز کو خود پر زندگی تنگ محسوس ہوتی نظر آئی۔کبھی کلیم میاں کی چھوٹی بہن ان کے بارے میں اوٹ پٹانگ بکواس کرتی، تو کبھی بچوں کے ساتھ مل کر بیمار نانا کی نقل اتارتی رہتی۔ جیسے ہی یہ تمام حرکات و سکنات شگفتہ ناز کو معیوب لگنا شروع ہوئیں انہوں نے اپنے باپ کی عزت بچانے کی خاطر بہنوں کے در پر رہنے کے بہ جائے اپنا الگ مکان لینے کا فیصلہ کیا۔ کمیٹیوں کے پیسے جوڑ جوڑ انہوں نے شہناز اور پرویز میاں کے علاقے ہیمیں ، ایک چھوٹے سے گھر کے دو کمرے کرائے پر لے لیے تاکہ دونوں باپ بیٹی، بہنوں کی سسرالیوں کے طعنوں سے دور عزت و سکون کے ساتھ باقی زندگی گزار سکیں۔
    اب شمع بیگم کی سنیے، نو نندوں کا ساتھ اور پانچ بچوں کو جنم دے کر بے چاری ہڈیوں کا پنجر بن گئی۔ آئے دن بے چاری کے دردِ شقیقہ کا مسئلہ ناسور بنتا گیا اور الزام آیا بڑی باجی پر کہ ہمیں بیمار لڑکی تھما دی۔ ارے ان جاہلوں کو کون بتائے کہ کسی انسان کو تم اچھا کھانے پینے کو نہ دو ، اوپر سے ،کام لو جانوروں کی طرح تووہ بے چارہ تو گیا نا اپنی جان سے۔ نہیں جی !بس جیسے ہی شمع بی کا دوپٹا بندھا سر پر، شگفتہ ناز کو آفس فون کیا جاتا کہ آو ٔ اور سنبھالو اپنی بہن کو۔
    خیر یہ تو ہر ہفتہ کی خواری تھی۔ انہی دنوں فلمسٹار وحید مراد کا انتقال ہوگیا۔ سنا ہے یہ دوسری مرتبہ شگفتہ ناز کسی غیر کے لیے بے انتہا روئی تھی، پہلی مرتبہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے مرنے پر بھی خوب روئی تھیں۔ نہ جانے کیسے کوئی کسی اجنبی کے لیے اتنا رو سکتا ہے؟ یہی تو بات ہے نا، جو انسان خود میں دردچھپائے ہو ، وہی کسی دوسرے کا غم بھی سمجھ سکتا ہے۔ اس پھیکی بے رنگ زندگی میں ایک خوش گوار احساس ، کلثوم کی شکل میں بڑی آنٹی اور ان کی بہنوں کی زندگی میں آیا۔ کلثوم بھی انہی کی بوتیک پر کام کرنے والی سیلز گرلز میں سے ایک تھی ، لیکن اپنی خوبصورتی اور چالاکی کو کیش کرواکر ، کچھ ہی عرصہ میں اپنی بوتیک کھول بیٹھی ۔ اس بیچاری نے سیدھی سادھی بڑی آنٹی میں ، ایک اچھی سہیلی ہونے کے ناطے ، زمانے کے حساب سے کچھ تبدیلیاں لانے کی بھی کوشش کی لیکن ناکام رہی۔
    بہنوں کے حالات بہتر ہوئے تو ان کے پاس گاڑیاں آگئیں، پرصبح سویرے ایک لمبی سی چادر اوڑھے ، آنکھوں پر عینک لگائے خاموشی سے چھے نمبر وین پر لبرٹی کے اسٹاپ پر اُترنا اور وہاں سے پیدل چل کر بوتیک جانا ،بڑی آنٹی کا معمول بن چکا تھا ۔ بس اتنا ہی آسرا کافی تھا کہ جس بہن کے درپر ہوتیں، گاڑی میں بس اسٹاپ تک رسائی ممکن ہو جاتی۔اسی معمول کو دیکھتے دیکھتے بہنوں کے بچے بھی جوان ہوتے گئے اور یہ کھٹکھٹا اسی رفتار سے آگے گھسٹتا چلا گیا۔
    ایک دن کلیم میاں نے باجی کو فون پر بلقیس کی بیماری کی اطلاع دی ۔
    ” ہائے ہائے!تین بچوں کی ماں کو ایسا کیا ہوگیا جو کلیم میاں نے فوری طور پر گھر جانے کا حکم دے ڈالا؟” یہ سوچتے ہی بڑی آنٹی نے کام چھوڑ اپنی بہن کے گھر کا رُخ کیا۔ ماجرا یہ نکلا کہ بلقیس کو اچانک بیٹھے بیٹھے گٹھیا کا مرض لاحق ہو گیاتھا۔ خدا کی پنا ہ !وہ تو اٹھنے جوگی بھی نہ ہے ، اپنا گھر کیسے سنبھالے گی؟یہ خیال آتے ہی ، انہوں نے شہناز بی بی کو اپنے ڈیڈی کا نگہبان مقرر کیا اور بلقیس کے گھراس کی اور اس کے بچوں کی خدمت کے لیے رہنے لگی۔سچ بات تو یہ تھی کہ لاہور کے تمام مہنگے ترین ڈاکٹروں اور حکیموں نے بلقیس کے علاج میں کوئی کسر نہ چھوڑی ، لیکن آرام ہے کہ آتا ہی نہیں ۔اوپر سے بلقیس بیگم تھی بھی کچھ لڑاکا اور وہمی طبیعت کی مالک۔ وہ اسی بات پر اَڑ گئی کہ ہو نہ ہو کلیم کے گھر والوں نے ہی ان پر کوئی کالا علم کروا دیا ہے ، جو توڑ نہ ہونے تک قائم رہے گا۔ اب بھلا بتاو ٔ بیچاری بڑی آنٹی ، بہنوئی کی مانے تو پھنسے اور بہن کی مانے تو بُری بنے۔ سیاست اور چالاکی سے مبرّا یہ ہستی جائے تو کہاں ؟ بہنوئی کے کہنے پر بلقیس کو کبھی ڈاکٹر کے یہاں تو کبھی کسی بزرگ کی درگاہ پر۔ آخرکار مسلسل چھے سات مہینوں کی تگ و دو سے بیماری دور ہو تو گئی ، لیکن بلقیس کے مطابق اسے شفا کسی نیک پیر صاحب کے مزار پر حاصل ہوئی، جب کہ کلیم میاں کا ماننا تھا کہ پیسہ پانی کی طرح جو بہایا تھا علاج پر ، آرام تو یقینی آنا تھا۔ خیر!جان چھٹی تو لاکھوں پائے ، بڑی بہن کا ناطقہ بند کرکے اب دونوں میاں بیوی ساری زندگی چور پولیس کھیلتے رہو۔
    شادی تو بہنوں سے کروائی نہ گئی لیکن خدمتیں خوب کروا ڈالیں ۔ دیکھنے والے تو یہی کہہ دیا کرتے ”کہ دیکھو بیچاری اکیلی ہے ۔ نہ شوہرہے ، نہ بچے، بس ایک واحد ڈیڈی ہیں نجانے کب اُن کا بھی بلاوا آجائے۔ بیچاری شگفتہ تو اکیلی رہ جائے گی۔ ”لیکن کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ شادی کرنا ہی نہیں چاہتی اور کرتی بھی کیوں…؟ طرح طرح کے بہنویوں کے گھر گرہستی چلانے کی قابلیت کو دیکھ شاید اُن کا شادی نہ کرنے کا فیصلہ یک دم پختہ اور اَٹل ہوچکا تھا۔ اکثر کہہ دیا کرتیں ” شوہر حقیقت میں ایک دوغلا کردار ہے، جو صرف ایک مخصوص ضرورت کے تحت ، اپنی عورت کو ساتویں آسمان پر چڑھا دیتا ہے اور ضرورت پوری ہوجانے پر ایسے گراتا ہے کہ وہ بیچاری زمین کے بجائے کھائی میں گرتی ہے۔ اس لیے میں تو باز آئی ایسی شادی سے۔”




  • سمو — شاذیہ ستار نایاب

    سمو — شاذیہ ستار نایاب

    ”امی تصویریں دیکھیں لیزا کی؟ کیسی لگیں آپ کو؟” فاخر نے اشتیاق سے پوچھا۔
    ”ہاں! اچھی پیاری لڑکی ہے، مگر ہے کون؟”
    ”امی میری کلاس فیلو ہے۔ اس کے والد کا یہاں سپراسٹور ہے جہاں میں پارٹ ٹائم جاب کرتا ہوں۔” فاخر نے کہا۔
    ”مگر یہ سب تم مجھے کیوں بتا رہے ہو۔” امی نے پوچھا۔
    ”امی میں اسے پسند کرنے لگا ہوں۔ ان فیکٹ ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور شادی کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے والدین بھی راضی ہیں اب آپ اور ابو بھی…” فاخر نے بات ادھوری چھوڑی۔
    ”کیا وہ مسلمان ہوگئی ہے؟” امی نے کڑے انداز میں پوچھا۔
    ”ابھی تو نہیں… شاید بعد میں… وہ کہتی ہے کہ پہلے میں اسلام کا مطالعہ کروں گی اور پھر فیصلہ کروں گی۔”فاخر نے جواب دیا۔
    ”وہ لڑکی عیسائی ہے؟ تو کیسے ممکن ہے؟” امی نے پوچھا۔





    ”امی عیسائی اہلِ کتاب ہوتے ہیں ان کے ساتھ نکاح جائز ہے میں نے معلوم کیا ہے۔”
    ”یہ تم کہہ رہے ہو۔” میں حیران ہوئی۔ نگاہوں کے سامنے بے اختیار کچھ عرصہ پہلے کا منظر آگیا۔
    آنگن میں دھیرے دھیرے سرمئی شام اُتر رہی تھی۔ فاخر شاپنگ بیگز سے لدا پھندا سیٹی پہ شوخ سی دھن بجاتا گھر میں داخل ہوا۔
    ”امی… امی! کہاں ہیں آپ۔” فاخر نے آواز دی۔
    ”ادھر ہوں کچن میں۔” میں نے کہا۔
    فاخر کچن میں چلا آیا۔ ایک طرف کالی کلوٹی سمو بیٹھی کھانا کھا رہی تھی اسے دیکھ کر فاخر ہمیشہ کی طرح جھلاّ گیا۔
    ”یہ کیا کررہی ہے یہاں؟” فاخر منہ بناتا ہوا بولا۔
    ”دیکھ نہیں رہے کھانا کھا رہی ہے۔”
    ”آپ باہر آئیں۔” فاخر بولا۔
    میں ٹشو سے ہاتھ صاف کرتی باہر آئی۔
    ”امی وہ عیسائی ہے آپ اسے کچن میں بٹھا لیتی ہیں۔ اس کے برتن الگ رکھا کریں۔” فاخر نے کہا۔
    ”بیٹا عیسائی اہل کتاب ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ کھانا پینا جائز ہے۔” میں نے سمجھایا۔
    ”ہوتا ہوگا، مگر مجھے نہیں پسند۔” فاخر ہٹ دھرمی سے بولا۔
    ”اچھا یہ بتاؤ… مجھے کیوں بلا رہے تھے؟”
    ”آپ کو اپنی شاپنگ دکھانی تھی اور آپ ہیں کہ کالی سمو کی خدمت میں جتی ہیں۔” فاخر نے کہا۔
    ”دکھاؤ کیا لائے ہو۔ گرم کپڑے… جوتے سب لے لیے ہیں نا؟”
    ”کیا نہیں ہونا چاہیے؟” میں نے سوال کیا۔
    ”صرف ڈیڑھ سال کی بات ہے پلک جھپکتے ہی گزر جائیں گے اور آپ کا بیٹا ڈگری لے کر آپ کے پاس۔” فاخر نے چٹکی بجائی۔
    ”یہ ماں کے دل سے پوچھو… پرایا دیس پرائے لوگ… مجھے تو بہت فکر ہورہی ہے۔”
    ”امی آپ کا بیٹا اب بڑا ہوگیا ہے۔ اب تو واٹس ایپ ہے، وائبر ہے، سکائپ ہے، روز آپ کو ویڈیو کال کیا کروں گا۔” فاخر نے تسلی دی۔
    اور آج واٹس ایپ پر اس کی یہ بات سن کر میں چپ چاپ ماضی کے مناظر میں کھو گئی۔
    ”ہیلو… ہیلو… امی آپ خاموش کیوں ہوگئیں۔ بتائیں نا ابو سے آپ بات کر لیں گی نا۔” فاخر نے کہا۔
    ”فاخر تم تو کچن میں بیٹھ کر سمو کو کھانا نہیں کھانے دیتے تھے۔ اسے اپنے برتنوں کو ہاتھ نہیں لگانے دیتے تھے اور اب… اب ایک عیسائی لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہو۔”
    ”آپ سمو کو لیزا سے کیوں ملا رہی ہیں۔ لیزا اتنی خوبصورت اتنی امیر لڑکی ہے۔ سمو تو اتنی کالی تھی۔”
    ٭…٭…٭




  • آخری شام — سدرۃ المنتہیٰٖ جیلانی

    آخری شام — سدرۃ المنتہیٰٖ جیلانی

    ”محبت کی کہانی دنیا میں سب جگہ ایک جیسی ہوتی ہے۔”
    یہ پہلا جملہ جو میں نے اُس سے سُن کر اپنے آپ کو دنیا کی خوش قسمت ترین مخلوق سمجھا تھا۔
    کچی بستی کے باسی کو کلاس میں یوں لمبی لمبی تقریریں کرتے ہوئے کئی مرتبہ سنا تھا۔ ہر بار وہ ایک لمبی تقریر کے بعد جب سیٹ پر آکر بیٹھتا تھا تو یہی کہتا کہ تاریخ ہمیشہ ایک جیسی ہے اور یہ لوگ سمجھنے کو تیار نہیں ہوتے۔
    ”دیکھو زمانہ حال، مستقبل اور ماضی کچھ نہیں ہے۔”
    ”سب کچھ وقت ہوتا ہے۔”
    ”جو ہمیشہ ایک جیسا ہوتا ہے۔”
    اس نے اپنے گروپ کے چند لڑکے لڑکیوں کو قائل کرنا چاہا تھا۔
    ”دنیا کے سارے مسائل ایک جیسے ہوتے ہیں۔تم تاریخ کی کتاب کھول کر دیکھ لو۔حالات، مزاج اور مسائل سب اپنے آپ کو دُہراتے ہیں..یہاں تک کہ انسان بھی…”
    وہ آرٹ کا شاگرد تھا مگر تاریخ، فلسفہ اور سائنس سب میں برابر دلچسپی رکھتا تھا۔
    میری دلچسپی اس میں بڑھتی جارہی تھی ۔
    وہ ہر مرتبہ کوئی گھمبیرسا موضوع اُٹھالیتا تھا۔
    ”ایک بے چارہ انسان دنیا کے سارے مسائل کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر نہیں اٹھاسکتا۔”
    میرا اس سے ملاقات کے بعد یہ پہلا جملہ تھا جو میں نے ہمدردی میں آکر بولا تھا۔
    وہ مسکرایا۔مجھے پتا تھا وہ چپ نہیں رہے گا۔ ایک لمبی تقریر مجھے سمجھانے کے لیے شروع کردے گا اور پھر ناختم ہونے والا سلسلہ۔ مگر ہوا یوں کہ وہ چپ رہا اور مسکراکر گزرگیا۔
    مجھے اندازہ تھا وہ کسی اچھے علمی گھرانے سے تعلق رکھتا ہوگا۔مگر اگلے ہفتے اپنے گروپ کے ساتھ دریائے سندھ کی سیر کو نکلے تو وہ ہمیں ایک قریبی کچی آبادی میں لے گیا جہاں مین روڈ کے نزدیک جھگیوں کا ایک لمبا اور بے ترتیب سلسلہ تھا۔
    معلوم ہوا کہ یہ اس کا گاؤں ہے۔
    ایک آدمی جھگیوں کے پیچھے کچے مکان کے صحن میں کھٹارا سا ریڈیو سن رہا تھا۔
    ہمیں آتا دیکھ کر وہ چارپائی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
    وہ فریاد حسین کا باپ میرل تھا۔
    اس کی ماں میلے ڈوپٹے سے ہاتھ پونچھتی ہوئی آگے بڑھی پھر ہمیں خوش آمدید کہنے لگی۔
    تازہ روٹی اور مکھن اور دریا کی مچھلی سے ظہرانہ خاص ہوگیا۔
    مجھے اس کچی بستی میں رہنے والے غریب لوگوں کے اخلاق، میزبانی اور محبت نے بہت زیادہ متاثر کیا تھا۔
    اس کا وہی ایک جملہ یاد آگیاکہ دنیا میں سب جگہ محبت کی کہانی ایک جیسی ہوتی ہے۔
    دو لوگ آپس میں ملتے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنے احساس کی کمزوریاں دے بیٹھتے ہیں۔
    اور پھر ایک ساتھ چلنے کے کئی خواب ایک ساتھ دیکھتے آگے بڑھتے رہتے ہیں۔
    اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب فیصلہ بدلنا ہوتا ہے۔ جب سمت متعین ہوتی ہے،تب ایک جگہ سماج اپنی آہنی دیوار بنائے کھڑا ہوجاتا ہے اور دوسری سمت سے بس دھواں نکلتا ہے۔





    ”میں نے تو ہمیشہ تمہاری محبت میں جلنا چاہا ہے فریاد…سماج کی بندشیں میرے ارادے کی سمت کو بدلنے کی طاقت نہیں رکھتیں۔”
    ”میں تمہاری محبت میں سب کرگزرنے کو تیار ہوں۔” پہلی بار دریا کے کنارے میں نے اس سے وعدہ کیا تھا۔
    پھر بیاہ سے لے کر وفا تک نبھایا۔ زندگی بہت حسین تھی۔ سارے دکھ اور مسائل ایک طرف رکھ کر جب ہم دریا کے کنارے آ بیٹھتے تو لگتا کہ پانی سارے دُکھ پی گیا ہے۔ سب کچھ صاف اُجلا ،دو انسانوں کی محبت کی طرح…!!
    وقت دھیمی رفتار سے گزرا جارہا تھا۔ حالات پھر سے اپنا چلن چلنے کو تیار کھڑے تھے، جب ایک دن دریا کنارے وہی شام تھی وہی پانی جو سوکھتا جارہا تھا۔ اس کے مزاج کی طرح دور دور رہنے لگا تھا۔
    جیسے وہ کسی سوچ میں کھو جاتا تو گھنٹوں اس کی دریافت کی کوشش میں ہارنے لگتی تو پوچھ بیٹھتی کہ ”آخر تم کیا چاہتے ہو؟”
    اسے بات شروع کرنے کا موقع مل گیا تھا۔
    ”سپی۔”وہ نام ایسے لیتا جیسے اس نام کے احساس کا پورا ذائقہ اس نے چکھ رکھا ہو۔
    ”میں تم سے دور رہوں گا مگر تم سے محبت برقرار رہے گی۔ یہ احساس مجھے اندر تک زندہ رکھے گا۔”
    ”تم ہمیشہ بات کو تگنی کا ناچ نچاتے ہو۔ تمہیں یہ نہیں احساس کہ ایک عورت کو گھر چاہیے، اسے آسرا چاہیے، خالی باتوں اور لفظی محبت سے وہ اپنا دل تو بھرسکتی ہے مگر پیٹ تو خوراک سے ہی بھراجاتا ہے۔
    ”پگلی! یہاں بیٹھ کر میں تمہیں کیا دے سکوں گا…؟ دو وقت کی روٹی..گھر کا کرایہ..بجلی کا بل اور صاف پانی۔”
    اس کی سوئی پھر پانی پر آکر اٹک گئی تھی۔
    ”پانی…ہاں پانی…تمہیں پتا ہے نا سپی! پانی انسانی زندگی کے لیے کتنا ضروری ہوتا ہے
    وہ بھی صاف نکھرا اُجلا، صاف ستھرا زندگی سے بھرپور…
    ”تمہیں کیا پتا کہ پانی کیا ہوتا ہے، پانی نہ ہوتو انسان کہیں کا نہیں رہتا۔”
    ”اور اگر پانی زیادہ ہو تو؟” میں نے تیکھے لہجے میں اس سے پوچھا۔
    ”زیادہ ہو تو ڈبودیتا ہے۔”
    ”دیکھو! محبت بھی پانی کی طرح ہوتی ہے۔ جب ہوتی ہے تو سیراب رکھتی ہے نہیں ہوتی تو دل کی دھرتی سوکھ کر بنجر ہوجاتی ہے۔”
    محبت پانی ہے…ہاں…پانی…اب محبت کو پانی سے تشبیہہ دی جائے گی۔
    مجھے یاد تھا شادی سے پہلے جب ہم فیصلہ لینے کے لیے ملے تھے تب بھی وہ محبت سے آگے بڑھ کر پانی میں کھوگیا تھا۔
    غلطی میری ہی تھی کہ میں نے ہمیشہ اسے دریا کے کنارے ملنے کی فرمائش کی تھی۔
    مگر ہوا یوں کہ محبت کو اب پانی نگلتا جارہا تھا۔
    محبت اس کے سامنے تھی مگر وہ پانی کی گہرائیوں کو کھوجتے ہوئے سوچتا ہی رہا۔
    وہ ایک لمحے سوچتا اور دوسرے لمحے بول اٹھتا تھا۔
    میں نے سمجھا تھا آج وہ مجھے دیکھ کر میری تعریف کرے گا، کہے گا کہ بہت اچھی لگ رہی ہو۔ شادی کے بعد پانی کے پاس ہماری یہ پہلی ملاقات نہ تھی، کسی قسم کا کوئی خوف نہ تھا۔
    خوشیاں ہمارا مقدر بننے لگتیں تو وہ منہ میں بڑبڑانے لگتا تھا۔
    ”تمہیں پتا ہے نا، سندھ کو ہمیشہ پانی کا مسئلہ رہا ہے۔”
    ”پانی نہ ملنے کی وجہ سے لوگ مرجاتے ہیں۔”
    ”تمہیں معلوم ہے نا کہ پھر سے ہمارا پانی بند کیا جارہا ہے۔”
    اس کا اشارہ دریائے سندھ کی آدھی سوکھی ریت اڑاتی ہوئی زمین کی طرف تھا۔
    ”تمہیں کیسا لگے گا فریاد! اگر میں اس بہتے پانی میں چھلانگ لگادوں ؟”
    وہ مجھے ایک لمحے کے لیے ایسے دیکھنے لگا جیسے میں نے کوئی لطیفہ سنایا ہو۔
    پھرکہنے لگا:” وہ پانی جو لوگوں کے پیٹ کی پیاس بجھاتا ہے تم موت کی گھاٹ اتر کر اس کا ذائقہ کیوں بدلنا چاہتی ہو؟”
    ”تمہیں پتا بھی ہے موت کڑوی ہوتی ہے۔ سمندروں کا پانی جیسے کھارا ہوتا ہے۔ اب دریاؤں کے اندر موت کا ذائقہ آگیا تو کڑوا نہ ہونے لگ جائے۔” وہ کہے جارہا تھا۔
    ”تمہیں میرے مرنے کا دکھ نہیں ہوگا کیا؟”
    مجھے اس کی بات سن کر صدمہ ہوا تھا۔
    ”میں نے یہ کب کہا…؟” وہ حیران ہوا۔
    ”چلو چلتے ہیں۔”
    میں یادوں کے بھنور میں الجھی ہوئی تھی پھر سر جھٹک کر خیالات کو چلتا کیا اور اسے خط لکھنے بیٹھ گئی۔
    ”فریاد!میں تمہیں بتاؤں دریا پورا بھرگیا ہے۔پانی تر آیا ہے۔سیلاب کے خوف نے لوگوں کی نیندیں اُڑادی ہیں۔لوگ جو کچے میں بیٹھے تھے ان کی جُھگیاں ڈوب گئی ہیں۔ بانس کے لکڑ اور کانے تیررہے ہیں دریا کی سطح پر میل ہی میل ہے۔یہاں کے سارے چھوٹے موٹے سکھ تمہارا دریا بہاکر لے جارہا ہے۔” میں لکھتی رہی۔
    ”کل میں نے مہرو کی پازیب بھی کنارے سے اندر لڑھکتے دیکھی تھی۔
    تمہیں یاد ہے ایک دن تم نے میری پاؤں کی پازیب اتار کر دریا میں پھینک دی تھی۔
    اور پھر میں ہنسی تھی۔





    تب مجھے تمہاری یہ حرکتیں بے ضرر سی لگتی تھیں۔ اب تم باہر ہو … گھر سے دور ہو… نہ جانے کب لوٹو گے۔ میرے دن لمبے ہوگئے تھے جس دن سے تم یہاں سے گئے تھے فریاد سب کچھ ویسا ہے۔ جھگیوں میں رہنے والوں کی حسرتیں…کچے مکان کی چھت بہ جانے کا ڈر…صندوق میں سینت سینت کر بنائے گئے بیٹیوں کے جہیز کے چار جوڑوں کو ماؤں نے دھوپ سنکوانے کے لیے نکالا ہے۔
    لڑکیوں کے چہروں پر وہی حسرت ہے جو کبھی میرے چہرے پر آجاتی تھی۔
    وہ ان جوڑوں کو اسی انتظار کی نظر سے دیکھتے ہوئے انتظار کرتی ہیں اور اب اس انتظار کے ساتھ جوڑے خراب ہوجانے کا ڈر بھی ان کے ساتھ چپکے سے بیٹھ گیا ہے۔ میرا قلم چل رہا تھا۔
    ”فریاد!سب ویسا ہے…گلی میں کھیلتے ہوئے بچے اور ان کی شرارتیں۔
    کل بھی میں نے دیکھا سکینہ کے چار سالہ بیٹے نے گھٹنوں تک آتی قمیص کا دامن اٹھاکر ناک پوچھنا چاہی تو اس کی نیکر پھٹی ہوئی تھی۔ میں نے آنکھیں بند کرلی تھیں۔
    بچیوں کی اوڑھنیاں اور لڑکوں کی دھوتیاں کم پڑنے لگی ہیں۔
    سندھ میں غربت کے مسائل بڑھتے ہی جارہے ہیں۔
    غربت کبھی کسی عزت دار کو بھی عزت والا رہنے نہیں دیتی۔ مگر تمہارا پانی…؟
    بس اسی کا مسئلہ سر فہرست ہے جس کے خوف نے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ لوگ بستی میں مرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ گھر بدری کا ساز و سامان کہاں سے لائیں گے جن کو نکلنا تھا نکل لیے۔ اب گوٹھ کے وڈیرے نے اپنے بچے شہر بھیج دیئے۔ خود بیٹھا ہے آج نہیں تو کل نکلا۔ دن دیکھ رہا ہے اس کے پاس نکلنے کے لیے بڑی سی موٹرکار ہے۔
    مگر فریاد تمہاری تو دریا کے ساتھ بہت بنتی تھی تم اسے ایک خط لکھو!
    ایک خط لکھو کہ انسانوں کو اپنے اندر مار کر تمہارے اندر جو موت کا زہر بھرجائے گا وہ صدیوں تک رہے گا۔لوگ تم سے خوف کھایا کریں گے۔
    کوئی تمہارے لیے قوت سے بہنے کی دعا نہیں کرے گا تم سوکہوگے تو پھر سے تمہارے پیٹ میں ونجاروں کی جھگیاں آباد ہوں گی۔
    مچھروں کی جالیاں تمہارے چھوٹے سے پیٹ کو چیرتے ہوئے مچھلی کا شکار کریں گی۔
    تم درد سے کرلاؤگے…تو بھی کچھ نہ ہوگا…
    جیسے جیسے انسانیت جھگیوں کچے مکانوں اور بہتی ٹین کی چھتوں تلے تڑپ رہی ہے۔
    اس لیے تم ان پہ رحم کرو اور لپٹنے کا ارادہ چھوڑکر پلٹ جاؤ۔ موج مارکہ ڈراؤ نا۔
    تمہیں تمہارے جیالوں کی قسم جنہوں نے تمہاری خاطر قسمیں کھائیں۔ تم.پر بھروسے کیے۔ تمہاری گہرائی کو چاہا۔اور محبت کو تیرے نام سے تشبیہہ دی ان کی خاطر…بس ایک خط دریا کو لکھو…تم فریاد بس ایک خط…
    ٭…٭…٭
    تمہارا خط ملا جس میں فقط اتنا لکھا ہوا ہے کہ ”پڑوسی ملک اپنا پانی ہم پر چھوڑ رہا ہے۔ یہ سب اسی کا قصور ہے سپی وہ جب چاہیں پانی بند کردیں اور جب چاہیں چڑھادیں یہ کاہے کا انصاف ہوا فریاد…یہ کس قسم کی آزادی ہوئی کہ وہ جب چاہیں ہمیں پانی کی ماردیں۔”
    ”کبھی پانی کبھی جنگ… کبھی ہتھیاروں کی جنگ میں وہ ہم سے نہیں جیت سکتے پانی کی جنگ میں تو جیت جاتے…”
    ”خیر میں دریا میں ایک خط تمہارے نام کا ڈال آئی ہوں اور اسے کہہ آئی ہوں تمہیں فریاد کی محبت کا واسطہ یہیں سے مڑجاؤ۔”
    ”میں نے تمہارے لیے بہت کیا گھروالوں سے لڑی جھگڑی ابا کی نظر سے گری… ماں کی نظر میں بری بنی۔
    بیاہ کرآئی تو مشکل وقت میں دو وقت کو ایک روٹی میں بانٹا…نوالوں کی تعداد گھٹادی…کچی بستی میں رہنے کی عادی بنی..سب پڑوسیوں سے ہنس ہنس کر باتیں کیں..بنائے رکھی۔
    تمہاری چاکری کی۔تم نے کہا باہر جاؤں گا اپنی جان انتظار کی سولی پہ چڑھاکر تمہیں بھیج دیا۔
    ”اب کیا…اب دیکھتی ہوں تمہارا دریا تمہارے لیے کیا کرتا ہے۔”
    پگلی دریا سے امید لگاکر بیٹھی سوچتی رہی، انتظار کرتی رہی۔
    ادھر فریاد کسی اور سے پیار اور محبت کے پیچ لڑاتے ہوئے سرحد پار کرگیا۔
    جہاں لوگوں کی باتوں کا خوف تھا نہ ہی پانی کا۔
    بس تنہائی کو سجانے کی چاہ تھی۔
    سپی کا خط مہرو کی پازیب کی طرح لڑھکتا ہوا کنارے پر تیرتا ہوا کسی لہر میں گھل گیا۔
    کسی نے کھولا، نہ پڑھا۔
    پھر وہ پانی میں ڈوبنے لگا گویا وفا ڈوب رہی تھی۔
    ٭…٭…٭




  • باغی ۔۔۔۔۔ قسط نمبر ۶ ۔۔۔۔ شاذیہ خان

    اگلے دن ماں اور مُنی ناشتہ کر رہی تھیں کہ منی نے ڈرتے ڈرتے بات شروع کی۔
    ”اماں ایک بات کہوں؟ناراض تو نہیں ہوگی؟”
    ”ہاں بول۔”ماں نے پراٹھے کا نوالہ منہ میں رکھتے ہوئے کہا۔
    ”اماں رات کو فوزیہ باجی کا فون آیا تھا۔” منی نے ہکلاہٹ سے کہا۔
    ” کیا فوزیہ کا فون… ” ماں نے حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر سوال کیا۔ منی اس کے پاس آگئی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔
    ” تو سو رہی تھی۔ باجی بات کرنا چاہ رہی تھی۔”
    ”اب کیوں بات کرنا چاہ رہی تھی وہ؟جب ہم سب مر جاتے تب بات کرتی۔تو نے بتایا نہیں اس کے جانے کے بعد ہم کتنی مصیبتوں میں ہیں۔”ماں نے دکھی لہجے میں کہا۔
    ”ہاں اماں باجی کہہ رہی تھی کہ میں مُنے اور گھر کے لیے پیسے بھیجوں گی۔” منی نے اسے دلاسا دیا۔
    ”وہ کہاں سے پیسے بھیجے گی؟”ماں نے تعجب سے سوال کیا۔
    ”باجی شہر میں ایک بڑی دکان پر کپڑے سیتی ہے۔”منی نے اشتیاق سے جواب دیا۔
    ”ہائے فوزیہ کے ہونے سے کتنا کچھ اچھا تھا اس کے جاتے ہی جیسے گھر کو نظر لگ گئی،بھائی الگ ہوگیا،تیرے باپ کا کام رُک گیا،گھر کو جیسے نظر لگ گئی۔” ماں فوزیہ کو یاد کرکے دکھی ہو رہی تھی۔
    ٭…٭…٭





    عابد نے دکان پر جاتے ہوئے گھر کے خرچ کے لیے اپنی ماں کے ہاتھ پر پیسے رکھے۔ ماں نے اتنے کم پیسے دیکھ کر اسے جھاڑنا شروع کر دیا۔
    ”اماں کیا کروں دکان ہی نہیں چل رہی۔تو چھوٹے سے کہہ کر کچھ پیسے دبئی سے منگوا۔”عابد نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔
    ” ارے! دکان کیسے نہیں چل رہی،اتنا سامان توڈلوایا تھا تیرے بھائی نے اور تو بار بار شہر جا کر خرید کر بھی لا رہا ہے۔ پھر دکان کیسے نہیں چل رہی؟”ماں نے حیرانی سے اونچی آواز میںپوچھا۔ماں بیٹے کی باتیں سن کر روبی بھی کمرے سے نکل آئی۔
    ”اماں جب تیرا بیٹا پورے گاؤں کی عورتوں کومفت میں سامان بانٹے گا تو منافع کیسے ہوگا۔”روبی نے آتے ہی طنز کیا۔
    ” تو چپ کر جا،زیادہ بولے گی تو مار کھائے گی۔”عابد روبی کی مداخلت پر غصے میں آگیا۔
    ” کیوں میں کیوں مار کھاؤں ،اماں تو اس سے پوچھ اس کی دکان پر عورتوں کا اتنا رش کیوں ہوتا ہے؟”روبی نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
    ”اماں دکان میں عورتوں کی چیزیں ہیں، عورتوں کا رش تو ہوگا۔”عابد نے ماں کی طر ف منہ کرتے ہوئے کہا۔
    ”تو منیاری کی دکان اسی لیے نہیں کھولتاکہ پھرپورے گاؤں کی آوارہ عورتیں پھر تیری دکان پر نہیں آئیں گی۔”روبی نے ایک اور طنز کیا تو عابد نے ایک چپل اس کی طرف پھینکی اور وہ اندر بھا گ گئی۔
    ”دیکھ اماں دیکھ! اس کی زبان کیسی قینچی کی طرح چل رہی ہے۔میں تیرا منہ توڑ دوں گا اگر آئندہ ایسی بدتمیزی کی تو۔”عابد نے غصے سے کہا۔
    ”او! بس کردے لڑنا،میری بات کا جواب دے۔ پیسے کیوں کم ہیں؟”ماں نے اپنا سوال دہرایا۔
    ”کیا جواب دوں اور منگوا اس سے پیسے ،اب سامان ختم ہورہا ہے دکان میں۔”عابد نے رکھائی سے کہا۔
    ”وہ اتنی محنت تیری عیاشیوں کے لیے نہیں کررہا وہاں کہ تو جب پیسے مانگے وہ تجھے بھیج دے۔”ماں نے غصے سے چیختے ہوئے عابد کو لتاڑا۔
    ”تو دیکھ لے کہ گھر کیسے چلے گا،میں تو اتنا ہی کرسکتا ہوں۔دکان کو تو جیسے نظر لگ گئی ہے۔”عابد نے فکرمندی سے کہا اور گھر سے باہر نکل گیا۔
    ٭…٭…٭
    کنول سوچوں میں گم اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔ریحان بھی اس کے پاس آگیا۔
    ”بے بی کیا کررہی ہو؟”ریحان نے سوچوں میں گم کنول سے پوچھا۔
    ”میری بات ہوئی تھی گھر پر ریحان، وہاں بہت مسائل کھڑے ہو گئے ہیں۔ ابا پریشان ہے،بھائی گھر چھوڑ گیا اور مُنے نے پڑھائی چھوڑ دی۔میں سوچ رہی ہوں کہ تھوڑے سے پیسے منی آرڈر کروا دوں۔”کنول نے متفکرانہ انداز میں جواب دیا۔
    ”دیکھو کنول ابھی تو تم خود ایسی سٹیج پر ہو جہاں پہلے خود کو مضبوط کیا جاتا ہے،اپنے اخراجات تو پورے کرو پہلے۔”ریحان نے اسے سمجھایا۔
    ”لیکن وہ میرے گھر والے ہیں میں انہیں پریشانی میں نہیں دیکھ سکتی۔”کنول نے دکھی لہجے میں کہا۔
    ”تم خود ابھی کتنا کما رہی ہو؟تمہارا اپنا خرچہ تومشکل سے چل رہا ہے اور گھر والوں کی مدد کرنے چلی ہو۔”ریحان نے طنز کیا۔
    ” نہیں ریحان!مجھے ان کے لیے بھی کچھ نہ کچھ کرناہے،یہ بہت ضروری ہے۔”کنول نے اٹل اندازمیں کہا۔
    ”تمہارا کچھ نہیں ہوسکتا لڑکی۔ تم نہیں بدل سکتیں،جو چاہو کرو۔مجھ سے مت پوچھو۔”ریحان نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔
    ”ہاں کل جاؤں گی پیسے منی آرڈر کرنے،تم بتاؤ کتنے بھیجوں؟”کنول نے پوچھا۔
    ”مجھے نہیں پتا،جودل کرتا ہے وہی کرو۔”ریحان اس سے خفا ہو گیا تھا۔
    ٭…٭…٭





    کنول نے اپنی فٹنس کا خیال رکھنے کے لیے ایک جم جوائن کر لیا۔یہ شہر کے پوش علاقے میں واقع اچھا خاصا مہنگا جم تھا۔ایکسرسائز کرنے کے بعد وہ پسینہ پونچھتے ہوئے ریحان کے پاس آگئی ۔
    ” یہ بہت اچھا جم ہے ریحان،یوں دنوں میں سمارٹ ہو جاؤں گی۔”کنول نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں اور بہت مہنگا بھی،بہت مشکل ہو جائے گا تمہارے لیے،کیسے مینج کرو گی؟”ریحان نے جم کے چاروں طرف نظر دوڑائی اور سوال کیا۔
    ”کر لوں گی مینج ،دنیا کو بھی تو مینج کر ہی رہی ہوں۔”کنول نے طنزیہ انداز میں جواب دیا۔
    ”وہی تو پوچھ رہا ہوں کیسے کرو گی؟ اب تم نے گاؤں بھی پیسے بھجوانے ہیں۔”ریحان نے حیرانی سے پوچھا۔
    ”ہاں وہ توبھجوانے ہی ہیں،بلکہ یہاں سے فارغ ہو جاؤں تو مجھے کسی پوسٹ آفس تک ڈراپ کردینا۔”کنول نے جواب دیا۔
    ”پھر سوچ لو۔ابھی کام نہیں ہے تمہارے پاس اور ابھی گھر والوں کو پیسوں کی عادت مت ڈالو۔”ریحان نے اسے ایک دفعہ اور سمجھانے کی کوشش کی۔
    ”ہاں پہلے بھی اپنا ہی سوچا تھا،مگر اب کچھ ہے ہی نہیں سوچنے والا ۔”کنول نے اداسی سے جواب دیا۔
    ”اچھا چلو اداس مت ہو،جو ہوگا دیکھا جائے گا۔فی الحال اپنا کام کرو۔”ریحان نے اسے اداس دیکھ کر بات بدل دی۔
    ٭…٭…٭
    ریحان نے اسے پوسٹ آفس کے باہر ڈراپ کیا۔ اندر داخل ہونے سے پہلے اس نے اپنا پرس کھولا تو بے دھیانی میں اس میں موجود پیسے نیچے گر گئے جس کا اسے پتا ہی نہ چلا۔ وہ پوسٹ آفس کے اندر چلی گئی اور منی آرڈر بھیجنے کا طریقہ معلوم کیا۔جب اس نے پیسے نکالنے کے لیے بیگ کھولا تو خالی پرس اس کا منہ چڑا رہا تھا۔ وہ بدحواسی کے عالم میں ادھر ادھر پیسے ڈھونڈنے لگی ۔پیسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ پوسٹ آفس سے باہر نکل کر اس جگہ پر آگئی جہاں ریحان نے اسے ڈراپ کیا تھا۔
    وہ پریشانی سے یہاں وہاں بھاگ دوڑ کر رہی تھی کہ ایک گاڑی کا دروازہ کھلا اور اس میں سے ایک نوجوان باہر نکلا۔کنول اس کی طرف بڑھی۔
    ”سُنیں! آپ نے میرے پیسے تو نہیں دیکھے؟”
    ”نہیں! مگر کیا بہت بڑی رقم تھی؟”شہریار نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
    ”میرے لیے تو تھی کیوں کہ مجھے اپنے ماں باپ کو گاؤں بھیجنا تھے۔”کنول نے پریشانی سے کہا۔
    ”Oh I seeکتنی رقم بھیجنی تھی آپ نے؟” شہریار نے اس پر ایک نظر ڈالی پھر بولا۔”میں آپ کو پیسے دے دیتا ہوں۔”
    ”کیوں؟ آپ کیوں دیں گے جب آپ مجھے جانتے ہی نہیں۔”کنول نے غصے سے پوچھا۔
    ”یہ لیں یہ رکھ لیں۔”شہریار نے اپنے والٹ سے پیسے نکالے اور اس کی طرف بڑھادیے۔
    ”سنیں!آپ مجھے کیا سمجھ رہے ہیں، میں کیسی عورت ہوں؟”کنول نے اس کے ہاتھ میں پکڑے پیسوں کو اگنور کرتے ہوئے غصے سے پوچھا۔
    ”اس وقت میں میں آپ کو عورت نہیں صرف ضرورت مند سمجھ رہا ہوں۔ رکھ لیں،شاباش۔”شہریار نے اطمینان سے جواب دیا۔
    ”اچھا ٹھیک ہے،مگر آپ اپنا کارڈ بھی دے دیں مجھے۔”کنول نے کچھ سوچ کر پیسے پکڑ لیے۔
    ”کارڈ کیوں؟”شہریار نے حیرانی سے پوچھا۔
    ”آپ پہلے آدمی ہیں جس نے اپنا کارڈ دیے بغیر ایک عورت کو پیسے دیے۔”کنول نے طنزیہ انداز میں جواب دیا۔
    ”سنیں!دنیا میں سب آدمی ایک جیسے نہیں ہوتے۔”شہریار نے رسان سے کہا۔
    ”اچھا آپ کہتے ہیں تو مان لیتے ہیں۔ٹھیک ہے میں لے لیتی ہوں مگر ایک شرط پر،پہلے آپ کارڈ دیں میں آپ کے پیسے جلد ہی لوٹا دوں گی۔”کنول نے اصرار کرتے ہوئے کہا۔
    ”رہنے دیں اس کی ضرورت نہیں۔”شہریار نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔
    ”اس کی ضرورت مجھے ہے،شایدآپ کو نہ ہو۔”کنول نے قطعیت سے کہا۔
    ”اوکے آپ ضد کررہی ہیں تو یہ رکھیں۔”شہریار نے اپنے والٹ سے وزیٹنگ کارڈ نکال کر اس کی طرف بڑھا دیا۔
    ٭…٭…٭
    امام بخش اپنے کام پر جانے کے لیے گھر سے نکلنے ہی لگا کہ دروازے پر ڈاکیا آگیا اور امام بخش کو آوازیں دینے لگا۔
    ”امام بخش! او امام بخش!”
    ”ہاں بھائی کیا ہو گیا؟کیوں آوازیں دے رہا ہے؟”امام بخش نے دروازہ کھول کر پوچھا۔
    ”امام بخش یہ شہر سے تیرے لیے منی آرڈر آیا ہے۔”ڈاکیے نے ایک کاغذ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
    ”شہر سے ؟مگر کس نے بھیجا ہے؟”امام بخش نے حیرانی سے کاغذ کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔
    ”ریحان نام کا بندہ ہے کوئی۔”ڈاکیے نے بے پروائی سے جواب دیا۔
    ”لیکن میں تو کسی ریحان کو نہیں جانتا۔”امام بخش نے کہا اور کاغذ پر لکھا پتا دیکھنے لگا۔
    ”دیکھ لو اس پر پتا تو تمہارے گھر کا ہی ہے۔”ڈاکیے نے کہا۔
    ”ہاں اس پر لکھا پتا تو میرے گھر کا ہی ہے،لیکن مجھے کون بھیج سکتا ہے۔ بھائی دیکھ لے کسی اور کا نہ ہو۔”امام بخش نے پارسل دوبارہ ڈاکیے کی طرف بڑھا دیا۔
    ”لو پھر پکڑو جلدی مجھے آگے بھی ڈاک پہنچانی ہے۔”” لیکن!”امام بخش تذبذب کا شکار تھا۔اس نے انگوٹھا لگانے کو کاغذ آگے بڑھایا۔
    ” لیکن ویکن کچھ نہیں یہاں انگوٹھا لگاؤ اور پیسے پکڑو۔”ڈاکیے نے کہا اور امام بخش نے انگوٹھا لگا کر پیسے پکڑ لیے۔ڈاکیے کو رخصت کرنے کے بعد امام بخش اندر آیا اور اپنی بیوی کو آواز دی۔
    ”رحیم کی ماں سن!ادھر ، کہاں ہے تو؟”
    ”ہاں بول کیا ہے؟”ماں دوپٹے سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے اس کے پاس آگئی۔
    ”یہ دیکھ گھر کے پتے پر شہر سے پیسے آئے ہیں۔”امام بخش نے پیسے اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
    ”پیسے؟”ماں نے حیرانی سے پوچھا۔
    ”ہاں پورے دس ہزار ہیں،کون بھیج سکتا ہے؟”امام بخش نے بھی اسی حیرانی سے کہا۔
    ”ابا باجی نے بھیجے ہوں گے۔فون آیا تھا اس کا، اس نے کہا تھا بھیجے گی گھر کے خرچے کے لیے۔”منی نے جھجکتے ہوئے کہا۔
    ”فوزیہ کا؟ اس کا فون اب کیوں آیا تھا؟ وہ کیا سمجھتی ہے میں اب بیٹی کی کمائی کھاؤں گا؟”باپ نے غصے سے کہا۔
    ”ابا اس کی محنت کی کمائی ہے،ایسا نہ بول۔”منی نے باپ کو سمجھایا۔
    ”نہ وہاں کیا محنت کررہی ہے جو اتنے پیسے بھیج دیے؟”باپ نے طنز سے پوچھا۔
    ”باجی وہاں ایک بڑی دکان پرکپڑے سلائی کرتی ہے۔”منی نے اشتیاق سے جواب دیا۔
    ”کپڑے سینے میں اتنے پیسے ملتے ہیں کہ اس نے ہمیں بھی بھیج دیے؟”باپ کے لہجے میں طنز برقرار تھا۔
    ”ابا رکھ لے! اب کیوں جھگڑ رہا ہے۔”منی نے ایک دفعہ پھر باپ کو سمجھانے کی کوشش کی۔
    ”نہیں چاہئیں مجھے اس کے پیسے۔”یہ کہہ کر باپ نے پیسے دور پھینک دیے توماں نے لپک کر اُٹھا لیے اور بولی۔
    ”ارے ارے کیا کررہا ہے؟ کوڑا کرکٹ نہیں ،پیسہ ہے یہ، رزق ہے، قدر کرو اس کی۔آخر ہمارے اپنے ہی نے تو بھیجے ہیں کسی غیر نے تو نہیں۔”
    ”تیری اپنی ہوگی ،تو رکھ لے۔میرے سامنے نام بھی مت لینا اس کا۔”امام بخش نے درشتی سے بیوی کو ڈانٹا۔
    ”ہاں تو نہ رکھ اس سے ہماری بہت سی ضرورتیں پوری ہوں گی۔میں تو نہیں پھینکنے والی۔”ماں نے کہا اور پیسے لے کر اندر چلی گئی۔
    ٭…٭…٭





    کنول ٹی وی پر وہی میوزک شو دیکھ رہی تھی جس میں اس نے حصہ لیا تھا اور ججز کی بدتمیزی سہی تھی۔وہی قسط نشر ہو رہی تھی جس میں اس نے بھی آڈیشن دیا تھا۔آڈیشن کے برعکس اسے ٹی وی پر نشر ہونے والی قسط میں ایک بے وقوف اور مزاحیہ کردار کے طور پر پیش کیا گیا تھا جو وہاں موجود لوگوں، ججزاور اب دیکھنے والوں کے لیے تفریح طبع کا سامان تھا۔
    ” ریحان دیکھو!یہ سین بالکل ایسا نہیں تھا جیسا اب نظر آرہا ہے۔ان لوگوں نے کتنی بے ایمانی کی ہے، کتنا مذاق بنایا ہے میرا۔”کنول غصے سے ٹی وی کی طرف اشارہ کرتے ہوئی بولی۔
    ”میں تو پہلے ہی منع کررہا تھا۔تمہیں اس پروگرام میں جانا ہی نہیں چاہیے تھا، وہ جگہ تمہارے لیے نہیں تھی۔”ریحان نے قدرے ناراضی سے کہا۔
    ”کیوں نہیں جانا چاہیے تھا؟مجھے اس لیے وہاں سے نکال دیاکیوں کہ میں سفارشی نہیں تھی؟اورکسی بڑے برانڈ نے مجھے سپانسر نہیں کیا تھا؟”کنول تپ گئی تھی۔
    ”سب کچھ تو تمہیں معلوم ہے،ایسے پروگرامز میں یہی سب کچھ چلتا ہے۔اگر تگڑی سفارش ہے تو سب اپنا ہے،کوئی بے سُرا بھی چل جائے گا۔کیا سمجھیں؟”ریحان نے انڈسٹری کی حقیقت اس پر آشکار کرتے ہوئے کہا۔کنول اس کی بات پر دھیان دینے کے بہ جائے کسی گہری سوچ میں گم تھی۔
    ”کنول میں تم سے بات کررہا ہوں،کیا سوچ رہی ہو۔”ریحان نے اسے گم صم دیکھ کر پوچھا۔
    ”نہیں کچھ نہیں۔”کنول نے چونک کر جواب دیا۔
    ”نہیں کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔”ریحان نے اصرار کیا۔
    ”میں سوچ رہی ہوں کہ یہ پروگرام گھر والوں نے بھی دیکھا ہوگا،پہچان نہ گئے ہوں۔” کنول کے لہجے میں پریشانی جھلک رہی تھی۔
    ”یقینادیکھا ہوگا،اتنا ڈر تھا گھر والوں کا تو نہ کرتیں یہ پروگرام۔”ریحان نے بے پروائی سے کہا۔
    ”نہیں میں ڈر تو نہیں رہی مگر گھر پر یہی بتا کر پیسے بھیجے ہیں کہ بوتیک کا کام کررہی ہوں۔ اگر انہیں معلوم ہوا کہ میں…”اس نے فکرمندی سے کہا۔
    ”چھوڑو پریشان ہونا،اب اس فیلڈ میں قدم رکھا ہے تو ہمت کرو،کچھ نہیں ہوتا۔”ریحان نے اسے تسلی دی۔
    وہ لیپ ٹاپ پراپنی ویڈیوپر آئے ہوئے مختلف لوگوں کے تبصرے پڑھنے لگی ۔
    ” تم ذرا ان لوگوں کو دیکھو ریحان،کس طرح کے کمنٹس کررہے ہیں۔”
    ”برداشت کرو یار،دنوں میں سٹار بن جاؤ گی۔ تب یہی لوگ تمہاری تعریفوں کے کمنٹس کریں گے، لائیکس سے تمہارا پیج بھر جائے گا۔”ریحان نے اسے سمجھایا اور اس نے منہ بنا کر ریحان کی طرف دیکھا۔
    ٭…٭…٭
    گوہر اپنے آفس میں بیٹھا ٹی وی پر آنے والا میوزک شو دیکھ رہا تھا جس میں کنول نے حصہ لیا تھا کہ اس کافون بج اُٹھا۔اُس نے فون ریسیو کیا اورہشاش بشاش ہوکر کہا۔
    ”ہیلوعظیم صاحب کیسے ہیں؟”
    ”بھائی ابھی ٹی وی پر ایک پروگرام چل رہا تھا۔اس میں جو ماڈل تھیں کنول بلوچ،کیاوہ اب آپ کی ماڈل ہیں؟”عظیم نے سلام دعا کے بعد پوچھا۔
    ”ہاں! جی ہاں وہ ہماری ہی ماڈل ہیں۔”گوہر نے بتیسی نکالتے ہوئے جواب دیا۔
    ”بھئی واہ آپ تو اپنی ماڈلز کو بڑا پروموٹ کرتے ہیں۔ سب سے زیادہ فوٹیج آج کے پروگرام میں اسی کو ملی ہے،یہ تو راتوں رات سٹار بن جائے گی۔”عظیم نے کہا ۔
    ”ہاں یہ تو ہے۔”گوہر سر ہلانے لگا۔
    ”آپ نے اس کے ساتھ کوئی ایگریمنٹ کیا ہے؟”عظیم نے پوچھا۔
    ”جی بالکل،ہمارا ایگریمنٹ ہے۔”گوہر نے فوراً جواب دیا۔




  • باغی — قسط نمبر ۳ — شاذیہ خان

    فوزیہ ہاتھ میں گوہر کی ایڈورٹائزنگ ایجنسی کا پتا لیے بس سے نیچے اتری اور ایک راہ گیر کو پرچی دکھاتے ہوئے ایڈریس دریافت کیا۔ راہ گیر نے اسے ناصرف پتا سمجھایا بلکہ اسے یہ بھی بتا دیا کہ اس طرف کون سی بس جائے گی۔فوزیہ نے بس کے بجائے رکشہ پہ جانا زیادہ مناسب سمجھا۔تھوڑی ہی دیر بعد رکشے والے نے بآسانی اسے گوہر کی ایڈورٹائزنگ ایجنسی تک پہنچا دیا۔ فوزیہ کرایہ ادا کرکے رکشے سے اتری اوربلڈنگ کے اندر چلی گئی جہاں ایک چوکیدار نے اس سے پوچھا کہ میڈم آپ نے کہاں جانا ہے؟جب فوزیہ نے اسے میڈیا ٹیک ایڈ ایجنسی کا بتایا تو اس نے فوزیہ کو بتایا کہ یہ دفتر پانچویں فلور پر ہے۔فوزیہ نے اس کی بات سن کر سر ہلایا اور لفٹ کی طرف بڑھ گئی۔
    پانچویں فلور پر لفٹ سے باہر نکل کر وہ ایک دفتر کے سامنے پہنچی جہاں میڈیا ٹیک ایڈورٹائزنگ کمپنی کا نام لکھا ہوا تھا۔ فوزیہ نے رُک کر پرچی پر لکھا نام دوبارہ پڑھا۔ اسی وقت بند دروازہ کھلااور ایک آدمی باہر نکلاتو وہ اندرگھس گئی۔ سامنے ریسپشنسٹ کسی سے فون پر بات کررہی تھی۔ اُس نے فوزیہ کو دیکھ کر فون رکھا اور مسکرا کر پوچھا۔
    ” جی میم!کیا میں آپ کی کوئی مدد کر سکتی ہوں؟” فوزیہ نے پرچی اس کے ہاتھ میں تھما دی۔ ریسپشنسٹ نے پرچی پر نظر ڈ الی اور پوچھا۔
    ” آپ کو گوہر صاحب سے ملنا ہے؟”
    ”جی ہاں۔”فوزیہ نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
    ریسپشنسٹ نے فون ملایااور فوزیہ سے اس کا نام پوچھا۔
    ” فوزیہ بتول،انہوں نے مجھے آج کا ٹائم دیا تھا۔”فوزیہ نے قدرے رک رک کر جواب دیا۔





    ” سر آپ سے کوئی مس فوزیہ بتول ملنے آئی ہیں۔ ”ریسپشنسٹ نے کہا اور پھر اوکے سر کہہ کر فون بند کر دیا۔
    فون رکھنے کے بعد اس نے فوزیہ سے کمرے میں جانے کا کہا، فوزیہ ”شکریہ” کہہ کر کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
    فوزیہ کمرے میں داخل ہوئی تو سامنے ایک پینتیس سالہ درمیانی عمر کا عیار سا شخص لیپ ٹاپ پربیٹھا تھا جو اسے اندر داخل ہوتے دیکھ کر کرسی سے کھڑا ہوگیا۔ فوزیہ خاموشی سے آگے بڑھی، ہاتھ میں پکڑا پرس میز پر رکھا اورگوہر کو سلام جھاڑ دیا۔
    ”السلام علیکم جی میں فوزیہ بتول۔”
    ”جی جی ! ویلکم۔” گوہرنے خوش اخلاقی سے کہااور ایک کرسی کی طرف بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ”میں آپ ہی کا انتظار کررہا تھا،آیئے بیٹھیے۔”
    ”کیا آپ گوہر صاحب ہیں اور آپ ہی نے مجھے فون کیا تھا؟”فوزیہ کے لہجے میں شبہ تھا۔
    ”جی جی میں نے ہی آپ کو فون کیا تھا۔ باقی باتیں بعد میں،پہلے یہ بتائیں کیا لیں گی چائے، کافی یا…؟” گوہر نے مسکرا کر انٹرکام کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”جی رہنے دیں۔” فوزیہ نے تھوڑا جھجکتے ہوئے جواب دیا۔
    ”ارے نہیں،ایسے اچھا نہیں لگتا۔”گوہر نے اس کی جھجک محسوس کی اور کہاپھراصرار کرتے ہوئے انٹرکام کان سے لگا لیا۔”آپ پہلی بار آئی ہیں ایسے کیسے جانے دیں،آپ کو کچھ نہ کچھ تو لینا پڑے گا۔”
    ” جی پھر کافی منگوا لیں۔” فوزیہ نے کچھ سوچ کر جواب دیا۔
    ”بلیک یا وِد ملک؟”گوہر نے پوچھا۔
    ”جی؟” فوزیہ اس کی بات پر تھوڑا بوکھلا گئی اس نے تو کبھی کافی نہیں پی تھی اب بلیک یا ملک والی کا کیا جواب دیتی۔
    ” میرا مطلب ہے بلیک کافی پیتی ہیں یا ملک والی۔”گوہر نے سمجھاتے ہوئے پوچھا۔
    ” جیسی آپ پئیں۔” فوزیہ کے لہجے میں اب بھی ہچکچاہٹ تھی۔
    ”میں تو بلیک کافی پسند کرتا ہوں۔”گوہرنے ہنستے ہوئے کہا۔
    ” میں بھی وہی پی لوں گی۔” فوزیہ نے فوراً کہا۔
    ” کافی تابع دار قسم کی خاتون ہیں آپ۔” گوہر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھل رہی تھی۔
    انٹرکام پر کافی کا آرڈر دینے کے بعد گوہر نے دوبارہ بات شروع کی۔
    ” ویسے اچھا ہوا آپ آگئیں ورنہ آج ہی یہ ایڈ کسی اور کے نصیب میں چلا جاتا۔ کافی دن تو آپ نے رابطہ ہی نہ کیا۔ ”
    ” جی میرے گھر کے کچھ مسائل تھے۔” فوزیہ نے سر جھکاتے ہوئے ہوئے جواب دیا۔
    ” مسائل؟کیسے مسائل؟”گوہر نے پوچھا۔
    ” جی میرے میاں اجازت نہیں دے رہے تھے۔”فوزیہ نے تھوڑا جھجکتے ہوئے بتایا۔
    ” آپ شادی شدہ ہیں؟”گوہر نے آنکھیں پھاڑتے ہوئے حیرانی سے پوچھا۔





    ”جی میرا ایک بیٹا بھی ہے۔”وہ شرمندگی سے بولی۔
    ”لیکن جب آپ نے اپنی تصاویر کے ساتھ انفارمیشن لکھی تھی اس میں تو سنگل شو کیا تھا۔”
    ”جی اس وقت تک میری شادی نہیں ہوئی تھی۔”فوزیہ نے گڑبڑا کرجواب دیا۔
    ” دیکھیں مس فوزیہ بتول!یہ فیلڈ ینگ لڑکیوں کے لیے ہے۔یہاں نوجوان اور غیرشادی شدہ لڑکیاں ہی کام یاب ہیں، آپ کیسے چلیں گی یہاں؟” گوہر کرسی کی پشت سے کمر لگاتے ہوئے بولا۔
    ”وہی تو آپ کو بتانا چاہ رہی ہوں کہ میری میاں سے علیحدگی ہوچکی ہے۔ وہ اجازت نہیں دے رہے تھے اور مجھے ہر حال میں اس فیلڈ میں آنا تھا۔” فوزیہ نے فوراً بات بنائی۔
    ” اوہ اچھا اچھا! ایسے میں کہنا تو نہیں چاہیے مگر اگر آپ واقعی اس فیلڈ میں نام کمانا چاہتی ہیں تو یہ آپ کے حق میں بہت اچھا ہوا۔” گوہر نے قدرے سکون کا سانس لیا۔
    اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی اورچپڑاسی کافی لے کر آگیا اور دونوں کے آگے کافی کپ رکھ دیے۔ گوہر نے ہاتھ کے اشارے سے اصرار کرتے ہوئے اسے کپ اُٹھانے کا کہا۔
    ”فوزیہ! کافی لیجیے ،ہمارے آفس کی کافی بہت پسند کی جاتی ہے ۔”
    فوزیہ نے کپ اٹھایا اور پہلے ہی سپ پر اس نے منہ بنا کر کافی چھوڑ دی۔ گوہر نے فوراً پوچھا۔
    ”کیا ہوا؟”
    ناسمجھی کے انداز میں فوزیہ نے منہ بنایااور بولی۔”اتنی کڑوی۔”
    ”لیکن کافی تو کڑوی ہی ہوتی ہے۔” گوہر نے حیرانی سے جواب دیا۔
    ” ہاں لیکن یہ تو بہت ہی کڑوی ہے۔”فوزیہ نے بھی جیسے بات بنائی۔
    ” چلیں یہ آپ رہنے دیں ،میں چائے منگواتا ہوں آپ کے لیے۔” گوہر نے اس کے آگے سے کپ اٹھاتے ہوئے کہا۔
    ” نہیں نہیں رہنے دیں، مجھے ابھی کچھ نہیں پینا۔ آپ پلیز مجھے بتائیں کہ کرنا کیا ہے؟کس اشتہار کے لیے آپ نے مجھے بلایاہے؟” فوزیہ نے ہاتھ کے اشارے سے روکتے ہوئے کہا۔
    ” جی وہ بھی بات ہو جائے گی، پہلے تو مجھے لگ رہا ہے کہ آپ کا پورٹ فولیو دوبارہ بنوانا پڑے گا اور آپ کو تھوڑا مین ٹین بھی کرنا پڑے گا۔ اپنے اوپر توجہ دیں۔ اس ایک سال میں آپ کا وزن کافی بڑھ گیا ہے۔”گوہر نے اس کے خدوخال پرنظریں جماتے ہوئے جواب دیا۔
    ”جی وہ بس بچے کے بعد …لیکن میں جلد کم کرلوں گی،آپ فکر نہ کریں۔” فوزیہ کے لہجے میں شرمندگی چھپی ہوئی تھی۔
    ” خیر ہم آپ کو ساری سہولیات دیں گے، پہلے تو یہ بتائیں آپ ٹھہری کہاں ہیں؟ ”گوہر نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
    ”وہ بس میں ابھی…”فوزیہ سے کوئی جواب نہ بن پایا۔
    ” اچھا خیر اس کا انتظام بھی ہو جاتا ہے۔ ہمارا ایک گیسٹ ہاؤس ہے،میں ڈرائیور سے کہتا ہوں کہ آپ کو وہاں چھوڑ آئے،اب آپ ہماری ذمہ داری ہیں۔ بہت جلد آپ ہمارے ادارے سے ایک روشن ستارے کی طرح چمکیں گی مس فوزیہ۔”گوہر نے اسے تسلی دی۔
    ” جی بہت شکریہ آپ میراخواب پورا کررہے ہیں۔ ” فوزیہ تشکر آمیز لہجے میں بولی۔
    ”مس فوزیہ بس آپ ہمارے خواب پورے کریں ہم آپ کے پورے کریں گے۔ زندگی دراصل کچھ لو،کچھ دو ہی کا نام ہے۔”
    فوزیہ گوہر کی یہ بات سمجھ تو نہ سکی لیکن محض جی کہہ کر مسکرا دی۔
    ٭…٭…٭





    گوہر سے رخصت ہونے کے بعد ڈرائیور اسے گیسٹ ہاؤس لے آیا۔ وہ کمرے میں داخل ہوئی جہاں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔اس نے کمرے کی ایک ایک چیز کا غور سے جائزہ لیا۔ LCDکے پاس جاکر اس پر ہاتھ پھیرا اوراس کے بٹن دبانے کی کوشش کی لیکن کام یاب نہیں ہوئی تو ساتھ آئے ملازم سے پوچھا۔
    ”یہ چلتا کیوں نہیں، کیا خراب ہے؟ ”
    ”جی نہیں میم یہ ریموٹ سے چلے گا۔”ملازم نے طنز آمیز مسکراہٹ سے جواب دیا اورپاس پڑا ریموٹ اٹھا کر اُسے تھمادیا۔
    ” ہاں ہاں مجھے پتا ہے۔” فوزیہ نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا اورریموٹ پر لگے بٹن دبائے لیکن اسکرین روشن نہ ہوئی تو اس نے دوبارہ ملازم کی طرف دیکھا تو ملازم نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے ریموٹ تھام لیا اور ٹی وی چلادیا۔
    ”میم اس بٹن کو دبانے سے آپ چینل چینج کرسکتی ہیں۔” ملازم ایک بٹن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا،ساتھ ہی وہ بڑی عجیب سی نظروں سے فوزیہ کو دیکھ رہا تھا۔
    ”ہاں ہاں مجھے پتا ہے۔” فوزیہ نے منہ بناتے ہوئے کہا اورپھر غور سے اپنی جانب دیکھتے ہوئے ملازم کو ڈانٹا۔”کیا گھور کر دیکھ رہے ہو؟کبھی کوئی لڑکی دیکھی نہیں؟ ”
    ”کچھ نہیں جی معاف کردیں،کسی اور چیز کی ضرورت ہے تو بتا دیں۔” ملازم یوں پکڑے جانے پر گھبرا گیا اور ہکلا کر جواب دیا۔
    ” نہیں، اب تم جاؤ۔”فوزیہ نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا۔
    ملازم ڈانٹ کھانے کے بعدسر جھکائے باہر نکل گیا۔ فوزیہ نے چپل ایک طرف اتاری اور صوفے پر پھیل کر بیٹھ گئی۔ ریموٹ ہاتھ میں لے لیا اور چینل بدل بدل کر دیکھنے لگی۔ ایک چینل پر ایک بچے کی فلم آرہی تھی۔اس کا چینل بدلتا ہاتھ اپنی جگہ ٹھہر سا گیا۔ وہ دل جمعی سے دیکھنے لگی۔ اس کے بیٹے کی عمر کا ایک ہنستا ہوا بچہ تھا جسے دیکھ کر اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں اور اسے اپنا بیٹایاد آنے لگا۔نہ جانے اس وقت منا کس کے پاس ہوگا،اسے کون سنبھال رہا ہوگا۔
    ٭…٭…٭
    ماجدشدید رو رہا تھا اور عابد اسے سنبھالتے سنبھالتے خود پریشان ہوگیا تھا،لیکن وہ کسی صورت چپ ہی نہیں ہو رہاتھا۔ اتنے میں اس کی ماں فیڈر بنا کر لائی تو عابد نے بچہ ماں کی گود میں ڈال دیا۔
    دادی نے منہ بناتے ہوئے بچے کے منہ میں فیڈر ٹھونسی اور بولی۔
    ”تو نے کیوں روک لیا اِسے، لے جارہی تھی تو لے جانے دیتا۔”
    ”اماں یہ میرا بیٹا ہے، میرے پاس ہی رہے گا۔”عابد غصے سے بولا۔
    ”تو سنبھالے گا کون اسے؟ میری بوڑھی ہڈیوں میں اتنا دم نہیں۔ تو نے بھی بس کچھ سوچے سمجھے بغیر تین بول سنا دیے۔” ماں نے بھی غصے سے جواب دیا۔
    ” تو نے دیکھا نہیں کتنی بدتمیزی کررہی تھی،اور تو فکر نہ کر آ جائے گی۔”عابد نے ماں کو تسلی دی۔
    ” عابد پتا تو کر ابھی تک اس کے گھر سے کسی نے رابطہ ہی نہیں کیا۔”عابد کی ماں کے لہجے میں تجسس تھا۔
    ” کرلیں گے رابطہ بھی، جلدی کیا ہے۔ ابھی تو ایک دن ہی ہوا ہے۔ پلٹ کر واپس گھر ہی آئے گی، اس نے جانا کہاں ہے؟اس کے گھر والے بھی اُسے نہیں رکھیں گے۔”عابد نے اپنی ماں کو قائل کرتے ہوئے کہا۔
    ”لیکن دیکھ اب ذرا لگامیں کھینچ کر رکھنا ۔تواُسے بہت ڈھیل دے دیتا ہے جب ہی تیرے سر پر ناچتی ہے۔”ماں نے اسے نصیحت کی۔
    ”تو فکر ہی نہ کر ،ایسی چٹیا پکڑ کر رکھوں گا کہ یاد رکھے گی۔ زیادہ ہی دماغ خراب ہوگیا ہے اُس کا۔”عابد نے ماں کی بات سن کر غصے سے جواب دیا۔
    ” چل تو آج راجدہ کو بتا جا کر ،اُسے کہہ کہ اماں نے بلایا ہے۔اس سے مشورہ کرتی ہوں کہ جب تک وہ واپس نہیں آتی اس کا کیا کریں۔ میری بوڑھی ہڈیوں میں اتنادم نہیں۔آکر راجدہ ہی اسے سنبھال لے۔” ماں نے پریشانی سے کہا۔
    ”ٹھیک ہے اماں میں جاکر راجدہ سے بات کرتاہوں تب تک تو سنبھال اسے۔”یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ کی نند اور اس کی ساس بیٹھی آپس میں باتیں کررہی تھیں۔راجدہ کی گود میں عابد کا بیٹا تھا اور وہ اُسے پیار سے گلے لگائے ہوئے تھی۔ فوزیہ کی نند بچے کو پیار کرتے ہوئے بولی۔
    ” فوزیہ کتنی سنگ دل ہے ،اتنا پیارا بیٹا چھوڑ کر چلی گئی۔ ویسے اماں جھگڑا ہوا کس بات پر تھا؟”
    ” ویسے تو کم بخت کا جھگڑا روز ہی کسی نہ کسی بات پر ہوتا تھا، لیکن کل تو ضد کررہی تھی کہ مجھے اشتہاروں میں کام کرنا ہے، لیکن تیرے بھائی نے انکار کردیا۔” فوزیہ کی ساس نے نفرت سے جواب دیا۔
    فوزیہ کی نند یہ بات سن کر گال پیٹنے لگی۔
    ”توبہ توبہ !ویسے کتنی آوارہ ہے، شریفوں والی زندگی چھوڑ کر گندی عورتوں والے کام کرنا چاہتی ہے۔”
    ”بس بدنصیب ہوتی ہیں کچھ عورتیں۔ وہ توبہت ہی آوارہ تھی۔ نہ جانے تیرے بھائی کو کیا پسند آیا اس میں۔زبان دیکھو گز بھر کی،ذرا ذرا سی بات پر لڑنے کو تیار۔ بھئی اب اگر منہ چلائے گی تو پٹے گی بھی۔” فوزیہ کی ساس سر پر ہاتھ مارتے ہوئے تاسف سے بولیں۔
    ” او چھوڑ اماں، گھر بسانے والی عورتیں ایسی نہیں ہوتیں۔ اس نے گھر بسانا ہی نہیں۔” فوزیہ کی نند نے نفرت سے فوزیہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔
    ” لیکن اپنابچہ تو کوئی نہیں چھوڑتااس طرح ؟اس بچے کی خاطر وہ واپس آئے گی۔پہلے بھی آگئی تھی،لیکن اب تو بہت دھڑلے سے گئی ہے۔”فوزیہ کی ساس نے فکر سے سر ہلایا۔
    ”تو نے کہا بھائی سے کہ پتا لے کر آئے؟”فوزیہ کی نند تشویش سے بولی۔
    ” ہاں آج جائے گاوہ پتا کرنے، دیکھ کیا کہتے ہیں وہ لوگ۔” فوزیہ کی ساس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”کہنا کیا ہے اماں،پہلے کی طرح بھیج دیں گے بیٹی کو، انہوں نے کون سا بٹھانا ہے اسے۔” فوزیہ کی نند نے بے پروائی سے کہا۔
    ان دونوں کی باتوں کے دوران ماجدنے پھر رونا شروع کردیاجسے راجدہ تھپک تھپک کر سلانے کی کوشش کررہی تھی لیکن وہ کسی صورت قابو نہیں آرہا تھا۔
    ”کتنی بدنصیب ماں ہے، اللہ نے اتنا خوب صورت بیٹا دیا، گھر دیا اور وہ آوارہ پھر رہی ہے۔ اس لڑکی کے چلن تو پہلے ہی ٹھیک نہ تھے، شادی کے بعد تو اور بھی پر نکل آئے۔”فوزیہ کی نند کے لہجے میں فوزیہ کے لیے نفرت ہی نفرت تھی۔
    ”چل تو اس کو دیکھ میں کچھ اور کام کرلوں۔”فوزیہ کی ساس جیسے اس بات سے اکتا گئی تھی، وہ اُٹھی اور دوسرے کمرے کی طرف چلی گئی۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ کی ماں بہت ہی بھیانک اور عجیب سا خواب دیکھ کر گھبرا کر اُٹھ بیٹھی اور امام بخش کو جھنجھوڑا۔ وہ بھی آنکھیں ملتا ہوا اُٹھ بیٹھا۔
    ”خیر ہے بھاگ بھری تو کیوں اُٹھ کر بیٹھ گئی؟”
    ”فوزیہ کے ابا!میں نے فوزیہ کے بارے میں ایک بڑا بُرا خواب دیکھا ہے ۔”ماں نے پریشانی سے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
    ” کیسا خواب؟ ” امام بخش حیرانی سے بولا۔
    ”وہ بہت پریشان ہے، رو رہی ہے، کہہ رہی ہے اماں مجھے معاف کردے۔” ماں نے پریشان لہجے میں کہا۔
    ”او! رہن دے وہ مر جائے گی لیکن تجھ سے یا مجھ سے کبھی معافی نہیں مانگے گی۔” امام بخش نے ہاتھ جھٹک کر جواب دیا۔
    ” نہیں میں ٹھیک کہہ رہی ہوں، وہ رو رہی تھی۔”فوزیہ کی ماں نے اپنی بات پر اصرار کیا۔
    ”چل رہن دے، سو جا ابھی صبح دیکھیں گے۔” امام بخش نے دوبارہ بے پروائی سے چارپائی پر کروٹ لی۔
    ” فوزیہ کے ابا بات سُن ۔” ماں نے پاس آکر بڑے مان سے کہا۔
    ”ہاں بول کیا بات ہے؟”اُس نے کروٹ بدل کر پوچھا۔
    ” کل تو فوزیہ کی طرف جا خبر لے کر آ اُس کی وہ ٹھیک تو ہے؟”ماں نے بہت اصرار سے کہا۔
    ” دیکھ میں ہاتھ جوڑ رہا ہوں، اس کے بارے میں مجھ سے کوئی بات مت کر میں بالکل نہیں جاؤں گااور تو بھی خاموشی سے بیٹھی رہ اپنی جگہ۔”وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا اور غصے سے بولا۔
    ” تو کتنا بے درد ہے؟ تجھے ذرا اپنی بیٹی کا خیال نہیں آتا؟” فوزیہ کی ماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے جسے اس نے اپنے دوپٹے سے پونچھا۔
    ” دیکھ اس نے بھی تو کبھی ہمارا خیال نہیں کیا اور تو اس وقت اس کی ساری باتیں چھوڑ اور سو جا۔ نہ جانے رات کو بیٹی کی کیسی محبت جاگ گئی کہ تو نے میری نیند بھی خراب کردی۔ ”امام بخش نے یہ کہہ کر کروٹ لی،ماں نے بھی دوسری طرف منہ کر لیا ۔اس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ ایک میگزین کے لیے فوٹو شوٹ کروا کر کرسی پر بیٹھی تھی اور دوسرے شوٹ کا انتظار کر رہی تھی کہ اس کی ماں کا فون آ گیا۔
    فوزیہ نے فون نمبر دیکھ کر پہلے کچھ سوچا اور پھرکال ریسیو کر لی۔دوسری طرف ماں کی آواز سن کر بولی۔
    ”ہاں اماں بول کیا بات ہے؟ ”
    ”فوزیہ میں نے بہت بُرا خواب دیکھا ہے تو ٹھیک تو ہے اور تو ہے کہاں؟”ماں نے پریشان ہوکر کہا۔
    ”ہاں اماں میں بالکل ٹھیک ہوں اور اس وقت شہر میں ہوں۔” فوزیہ نے بے پروائی سے جواب دیا۔
    ”کیوں شہر میں کیوں تو اپنے گھر میں نہیں ہے؟” ماں اس کی بات سن کر حیران رہ گئی۔
    ” اماں اس نے پھر مجھے طلاق دے دی تھی۔” فوزیہ نے قدرے توقف کے بعد جواب دیا۔
    ماں کو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آیا، وہ اپنے گال پیٹنے لگی۔
    ” ہائے وے میرے ربا تو کیا کہہ رہی ہے فوزیہ؟”
    ”ہاں اماں دیکھ میرااب ایسے اس کے ساتھ رہنا حرام تھا۔ میں چھوڑ آئی اُسے۔” فوزیہ نے کندھے اچکائے۔
    ”تو کیسی باتیں کررہی ہے فوزیہ؟ اپنے سر کے سائیں کو چھوڑ دیا؟”ماں نے تشویش سے کہا۔
    ” اماں اس نے مجھے مارا تھا، طلاق دینا تو جیسے کھیل بنالیا تھا۔ اسے میں چھوڑ آئی ہوں۔” فوزیہ نے اپنی بات میں وزن پیدا کرتے ہوئے کہا۔
    ”ہائے فوزیہ تو نے اپنے بچے کا بھی نہیں سوچا،کیسے پلے گی وہ ننھی سی جان۔” فوزیہ کی ماں نے تاسف سے پوچھا۔
    بچے کے نام پر فوزیہ کے لہجے میں تھوڑی اُداسی اتر آئی۔”بچہ بھی تو اُسی کا ہے اور پھر ہے بھی لڑکا، لڑکے تو پل ہی جاتے ہیں اماں۔”
    ”تو کتنی سنگ دل ہوگئی ہے فوزیہ۔ تجھے اپنے بچے پر ذرا ترس نہیں آرہا۔”ماں نے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔
    ”بالکل ترس آرہا ہے اماں، مگر تو سوچ اس کا باپ کیا چاہتا ہے؟ بات بات پر طلاق دے دیتا ہے۔دوسری شادی کا خیال ہے اس کا، کتنا عرصہ چلتا یہ سلسلہ۔پھر اس نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا کہ وہ مجھے کام کرنے دے گا اب مکر گیا ہے اور اماں سچ بولوں اس نے اپنی ماں کی جھوٹی قسم کھائی تھی جو شخص اپنی ماں کے نام کی جھوٹی قسم کھا لے اس کا کیا اعتبار۔”فوزیہ نے کرسی پر پہلو بدلتے ہوئے ماں کو جواب دیا۔
    ” تو چھوڑ سب باتوں کو ،یہ بتا تو اس وقت کہاں ہے؟ تیرا باپ تجھے لینے آرہا ہے۔”فوزیہ کی ماں نے غصے سے پوچھا۔
    ” اماں بتا دوں گی وقت آنے پر، مگرابھی مت پوچھ۔ ” فوزیہ نے بے پروائی سے کہا۔
    ”کیوں نہ پوچھوں، تو واپس آ بس اسی وقت۔”فوزیہ کی ماں نے اصرار کیا۔
    ” میں نے ابھی واپس بالکل نہیں آنا،تو زبردستی مت کر۔” فوزیہ نے غصے سے جواب دیا۔
    اسی دوران سپاٹ بوائے نے اُسے پکارا۔”مس فوزیہ آپ کا شوٹ ریڈی ہے۔ touching وغیرہ کروالیں۔”
    ”اچھا اماں میں فون بند کررہی ہوں۔ ضروری کام ہے،خدا حافظ۔” فوزیہ نے ماں سے جان چھڑائی۔
    ٭…٭…٭
    شوٹ کروانے کے بعد فوزیہ گوہر کے کمرے میں آگئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی پوٹلی تھیجس میں کچھ زیوراتتھے جو وہ اسے بیچنا چاہتی تھی۔
    ”یہ رکھ لیں۔”فوزیہ نے زیورات گوہر کے آگے رکھتے ہوئے کہا۔
    ” یہ کیا ہے؟”گوہر نے پوٹلی کو کھولتے ہوئے دیکھا۔
    ” مجھے تھوڑے پیسوں کی ضرورت تھی میں نے سوچا انہیں بیچ دوں۔”فوزیہ نے ہچکچاہٹ سے کہا۔
    گوہر نے پوٹلی میں سے زیورات نکال کر دیکھے،پھر انہیں دوبارہ پوٹلی میں بند کر کے اس کی طرف بڑھا دیے۔
    ”تمہیں کتنے پیسوں کی ضرورت ہے؟”اس نے فوزیہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جیسے اُسے جانچا۔
    ”یہی تھوڑے بہت مل جاتے بس، ضرورت پڑ جاتی ہے۔”فوزیہ نے جھجکتے ہوئے کہا۔
    گوہر نے دراز سے پانچ پانچ ہزار کے چند نوٹ نکال کر اس کی جانب بڑھا دیے۔




  • آرٹیکل بی-۱۲ – عظمیٰ سہیل

    آرٹیکل بی-۱۲ – عظمیٰ سہیل

    ” شکر ہے بھئی نکل آئے دکان سے۔ آج تو لگ رہا تھا کہ دم ہی گھٹ جائے گا۔ توبہ کتنا رش تھا۔”فائزہ نے اپنے ڈھیروں شاپنگ بیگ سنبھالتے ہوئے شازیہ سے کہا۔ ”ویسے تو ہر لان کی لانچنگ پہ یہی حال ہوتا ہے۔ لوگوں کے پاس پیسہ بھی بہت ہی آگیا ہے۔” شازیہ نے ہنس کر کہا: ” ہمیں بھی تو چین نہیں کہ تھوڑا صبرہی کر لیں۔ جس دن لان کی لانچنگ ہو بس اسی دن لینا ہے نیا سٹاک۔۔کہیں ختم ہی نہ ہو جائے” فائزہ نے ناک سکوڑتے ہوئے شازیہ کی بات کاٹی، ” ہاں بھئی بعد میں لینے کا کیا مزا جب ہر نتھو خیرے کے پاس پہنچ جائے وہ ڈیزائن ۔ تب تک تو میں ایک بار پہن کے پھینک بھی چکی ہوتی ہوں۔” دونوں اسی طرح باتیں کرتی گاڑی کے قریب پہنچ گئیں۔





    گاڑی میں بیٹھ کے فائزہ نے افسردہ ہوتے ہوئے کہا: ” سب کچھ بہت اچھا مل گیا لیکن میرا سب سے فیورٹ آرٹیکل نہیں ملا ۔”
    شازیہ نے پوچھا: ”کون سا؟ ١٢۔ بی؟وہ تو سنا ہے کہ آیا ہی نہیں مارکیٹ میں گولی مارو اس کو۔ باقی شاپنگ انجوائے کرو۔”
    فائزہ کے شوہر عاصم کا شمار شہر کے معروف کاروباری افراد میں ہوتا تھا۔ گھر میں دولت کی ریل پیل تھی اور فائزہ اس دولت کا بے دریغ استعمال کرتی۔ ڈیزائنر لان ہو یا برانڈڈ جوتے،ہر نیا ڈیزائن اس کی وارڈروب میں ہوتا۔ شہر کی ہر بڑی kitty پارٹی کی وہ ممبر تھی جہاں وہ اپنی دولت اور فیشن کی خوب نمائش کرتی۔ تمام بیگمات اس سے متاثر رہتیں اور اس کا بڑا زعم تھا فائزہ کو۔ اگر نہیں دبتی تھی کوئی تو وہ تھی بیگم شائستہ صدیقی۔ سیٹھ منور صدیقی کی تیسری اور چہیتی بیوی۔ فائزہ اور شائستہ کی بہت لگتی تھی اور دونوں ہر پارٹی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوششوں میں رہتیں۔
    شام کی چائے پہ فائزہ عاصم کو اپنی شاپنگ کا احوال سنا رہی تھی کہ فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری جانب کی بات سُن کر فائزہ کا منہ غصے سے سُرخ ہو گیا اور پھر اس نے فون رکھ دیا۔ شوہر کے استفسار پہ بتایا کہ دکان دار نے جو آرٹیکل اُسے یہ کہہ کر نہیں دیا تھا کہ وہ لانچ ہی نہیں ہوا ، وہی آرٹیکل شائستہ سلنے بھی دی آئی ہے۔ یہ بات شازیہ اور شائستہ کے مشترکہ ٹیلر سے اُسے پتا چلی۔ فائزہ کا موڈ سخت آف ہو گیا۔ ” بڑا ہی گھٹیا آدمی ہے یہ کریم فیبرکس کا منیجر۔ کمیشن مجھ سے لیتا ہے اور نئے ڈیزائن اس شائستہ کو دیتا ہے۔ اب وہ پارٹی میں پہن کے خوب اِترائے گی۔ ”
    عاصم جھلا کے بولا:” ارے بھئی تو تم بھی لے آؤ وہی سوٹ اور تم بھی پہن لو۔۔”
    فائزہ فورا بات کاٹ کے بولی: ” لو خواہ مخواہ ۔۔ میں کیوں پہنوں اس جیسا سوٹ؟” ۔عاصم بے زار ہو کے اٹھ گیا اور بولا:”تم عورتوں کے مسائل میری تو سمجھ سے باہر ہیں خیر میں نکل رہا ہوں۔ رات کو دیر سے آؤں گا۔ ” یہ کہہ کر عاصم نکل گیا۔
    اگلے دن فائزہ کا شازیہ کے ساتھ لنچ پہ جانے کا پلان تھا۔ کھانا کھاتے ہوئے اس مہینہ کی kitty پارٹی کا ذکر نکل آیا۔ شازیہ بولی:”ارے بھئی اس بار کی kitty پارٹی تو شائستہ کی ہے نا۔مسز آفندی بتا رہی تھیں کہ اسی کے گھر ہے پارٹی۔”
    شائستہ کا نام سنتے ہی فائزہ کا حلق تک کڑوا ہو گیا۔ وہ جل کر بولی:” ہاں اسی پہ پہنے گی وہ جوڑا۔ کل وہ منیجرلے کے آیا تھا ، وہی آرٹیکل١٢۔ بی۔بڑی صفا ئیاں دے رہا تھا کہ اس نے نہیں دیا شائستہ کو وہ جوڑا اور یہ بھی کہ بڑی مشکل سے وہ ارینج کر کے لایا ہے خاص میرے لئے۔ ورنہ سارا سٹاک ڈیزائنر نے ایکسپورٹ کر دیا ہے۔ میں نے تو خوب سنائیں اور واپس کر دیا سوٹ۔ ”





    فائزہ بڑی نخوت سے ناک منہ چڑھا کے بولی:”خواہ مخوا ہ کی کارروائی ہنہ !! ”شازیہ کھانا کھاتے کھاتے رک گئی اور بولی :” ارے بیوقوف نہ بنو اور واپس منگوا ؤو ہ سوٹ۔ یہی تو شان دار موقع ملا ہے تمہیں ، شائستہ کو نیچا دکھانے کا!” فائزہ نے تذبذب سے پوچھا: ”کیا مطلب کیسا موقع؟ اس کے جیسا سوٹ پہننے میں تو میری انسلٹ ہے، اس کی نہیں۔ ”
    شازیہ نے مسکراتے ہوئے کہا :” یہی تو تم سمجھی نہیں۔ ارے یار وہ منیجر ٹھیک کہہ رہا تھا۔ یہ والے آرٹیکل کا سارا سٹاک واقعی ایکسپورٹ ہو گیا ہے۔میں نے خود پتا کیا ہے مارکیٹ سے۔۔ یا تو تم خوش قسمت ہو، جس کے لئے منیجر نے ارینج کروادیا یا پھر شائستہ نے کوئی رابطہ استعمال کرتے ہوئے ڈائریکٹ ڈیزائنر سے لیا ہے یا ہو سکتا ہے کچھ دکان دار بلیک کر کے بیچ رہے ہوں لیکن مارکیٹ میں بہرحال یہ دستیاب نہیں ، یہ بات توپکی ہے۔ اب تم وہی سوٹ لے کے سلوا ؤ اور میں یہ بات اپنے ٹیلر کے ذریعہ شائستہ کو پہنچا دوں گی اورپھر دیکھنا وہ کبھی بھی اس پارٹی میں وہ سوٹ نہیں پہنے گی بلکہ تمہارے پہننے کے بعد تو کسی اور پارٹی میں بھی نہیں پہن سکے گی اور اس کی ساری پھرتیاں بے کار جائیں گی۔ ”
    فائزہ سوچ میں پڑ گئی۔ بات کچھ کچھ اس کی سمجھ میں آرہی تھی۔وہ سوچتے ہوئے بولی:” لیکن اگر شائستہ نے پھر بھی وہ سوٹ پہن لیا تو ہم دونوں ہی۔۔۔” یہ سوچ آتے ہی اس کا منہ بن گیا،”نہیں بھئی میں نہیں پہننے والی وہ۔۔” شازیہ اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے اس کی بات کاٹ کے بولی:” ارے پاگل پھر تو اور مزہ آئے گا۔ یاد نہیں چائنا ٹاؤن والے لنچ میں جب وہ تمہارے جیسا برانڈڈ بیگ لے آئی تھی اور پھر بھری محفل میں طنز کر رہی تھی کہ میں تو دوبئی شاپنگ فیسٹول سے لائی ہوں یہ بیگ۔ لوگ تو آن لائن کاپی منگوا کے یہی شو کرتے ہیں جیسے اوریجنل ہو۔۔”
    وہ بات یاد آتے ہی فائزہ کا منہ پھر سُرخ ہو گیا۔”تو بس پھر یہی موقع ہے اس کو نیچا دکھانے کا” ۔ شازیہ کی بات مکمل ہوتے ہی فائزہ کریم فیبرکس کے منیجر کو فون ملانے لگی۔
    شائستہ نے پارٹی کا انتظام شہر کی سب سے مشہور ایونٹ مینجمنٹ ٹیم سے کروایا تھا۔ اعلیٰ پائے کی کیٹرنگ کروائی تھی ۔ فائزہ اپنا پسندیدہ جوڑا پہنے گاڑی سے اُتری۔ دوسری گاڑی سے شازیہ کو اُترتا دیکھ کر بجائے سیدھا اندر جانے کے اُس کی طرف بڑھی۔ شازیہ نے فائزہ پہ ایک توصیفی نگاہ ڈالی اور پھر وہ دونوں اکٹھی گھر کے لان کی طرف بڑھیں جہاں پارٹی کا انتظام تھا۔ دوسری مہمان خواتین سے ملتے ملاتے فائزہ کی نظر بیگم شائستہ صدیقی پر پڑی تو فخر اور سرور کی ایک لہر اس کے اندر دوڑ گئی۔۔ جب اس نے بیگم شائستہ کو اپنے جیسے لباس کی بجائے کوئی اور لباس پہنے دیکھا۔ یہ گویا شکست کا ایک خاموش اعلان تھا۔ فائزہ نے ایک فاتحانہ نظر سے شازیہ کی طرف دیکھا جس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اُسے اس فتح پہ گویا مبارکباد دی۔ اتنی دیر میں شائستہ دونوں کے قریب آ گئی۔ فتح کے نشے میں چور فائزہ اس سے معمول سے کہیں زیادہ تپاک سے ملی۔ دل ہی دل میں وہ سوچنے لگی کہ کیسے آج اپنے ڈریس کا بار بار ذکر چھیڑے۔ شائستہ نے دونوں کو بٹھایا اور کہا : ” بہت دیر سے آئی ہیں آپ دونوں۔ اتنی دیر لگا دی تیاری میں؟” فائزہ نے فخر سے اپنے لباس کی مصنوعی شکنیں دور کرتے ہوئے کہا:” بس مسز صدیقی آپ کو توپتا ہے مجھے ہر کام پرفیکشن سے کرنے کی عادت ہے ، پھر وہ چاہے کسی پارٹی کی تیاری ہو یا اپنی، میں کوالٹی پہ کمپرومائز نہیں کرتی۔ ”
    ”جی جی بالکل، اچھا باتیں تو ہوتی رہیں گی میں آپ کے لئے جوس منگواتی ہوں۔” شائستہ نے پاس کھڑے ویٹر کو کچھ اشارہ کیا اور معنی خیز مسکراہٹ لئے فائزہ کی طرف متوجہ ہوگئی۔ اچانک کہیں سے شائستہ کے گھر کی ملازمہ ہاتھ میں جوس کی ٹرے لئے برآمد ہوئی اور فائزہ کا منہ کُھلا کا کُھلا رہ گیا۔ شائستہ نے شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ فائزہ سے کہا:” کیا ہوا مسز عاصم۔ جوس لیجئے نا” اور فائزہ کے چہرے پہ ایک رنگ آ رہا تھا اور ایک جا رہا تھا کیوںکہ سامنے کھڑی ملازمہ نے وہی سوٹ پہن رکھا تھا جو فائزہ نے پہنا ہوا تھا۔ اس کا پسندیدہ ترین آرٹیکل۔ ١٢ بی۔