Tag: commercial writing

  • خواب لے لو خواب — سائرہ اقبال

    کمرے میں گھُپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ وہ کھڑکیاں دروازے سب بند کئے ایک کونے میں سمٹی بال بکھیرے بیٹھی تھی ۔ اس کے کانوں میں ایک ہی صدا گونج رہی تھی،
    ”خواب لے لو ۔۔ خواب” وہ کبھی کانوں پہ ہاتھ رکھتی تو کبھی اُٹھ کر کھڑکی سے باہر جھانکنے کی کوشش کرتی مگر باہر کچھ نظر نہ آتا کیوں کہ کھڑکی کو کالے کپڑے سے ڈھک دیا گیا تھا۔ کپڑا ہٹانے کی گنجائش تھی نہ باہر جھانکنے کی۔ دیوانوں کی طرح کمرے میں ادھر سے اُدھر گھُومتی رہتی، کبھی جھٹ سے پیچھے مُڑ کر دیکھتی۔ اُسے کوئی بھاری بھرکم ہاتھ اپنی جانب آتا ہوا دکھائی دیتا۔ وہ اس ہاتھ سے بچ کر کبھی پلنگ کے نیچے چھُپتی تو کبھی صوفے کے پیچھے۔
    ”خواب لے لو ۔۔ خواب۔۔” اس کے کانوں میں مُسلسل ایک ہی صدا گونجتی تھی ۔
    ”یہ۔۔۔ یہ کتنے کے ہیں ؟؟” ایک اور صدا اس کے کانوں میں گونجی۔
    ”سو روپے۔” وہ ہنسنے لگی ، قہقہے لگانے لگی۔
    ”بس! سو روپے ۔۔ اتنے سستے خواب ۔۔ لے لو۔۔ لے لو۔۔ تُم بھی لے لو” اب وہ ہنس رہی تھی اور خوشی سے جھُوم رہی تھی۔





    پھر یک دم خاموش ہو گئی۔
    ”اتنے سستے خواب ۔۔۔اتنے سستے؟”’یہ پری وش کدھر ہے ؟؟ ‘ پری وش کی خالا اُسے سارے گھر میں ڈھونڈ رہی تھیں ۔
    ”ہو گی اپنی کال کوٹھری میں۔ کچھ سمجھ نہیں آتی اس لڑکی کی ،اٹھارویں سال میں لگی ہے اور مجال ہے کسی چیز میں دل چسپی لے ۔دماغ خراب ہے اُس کا۔” پری وش کی ماں نے چیختے ہوئے کہا ۔
    ”اچھا بس کرو آپا، میں ذرا اس کا دوپٹہ لینے آئی ہوں ۔ زارا کا سکول میں فنکشن ہے، اس کا نیلا دوپٹہ چاہئے ۔ ‘ خالا سیڑھیاں چڑھتی اپنے آنے کی وجہ بتانے لگیں۔
    ‘لے لو بہن! اس کے کس کام کا؟ کوئی نیا جوڑا پہنتی ہے نہ کوئی سجنا سنورناہے اس کا۔ اس کی عمر میں لڑکیاں تو کیا کیا جتن نہیں کرتیں! اس کو تو بس ایک ہی چیز کا پتا ہے، لے دے کہ ایک ہی سوال پوچھتی ہے۔ ”کتنے کے ہیں؟؟”
    اتنے میں پری وش کمرے سے باہر نکلی۔
    ”’یہ لو۔۔ آگئی آواز۔” پری وش کی ماں کپڑے دھو رہی تھی اور ساتھ ساتھ اس کی تقریر الگ جاری تھی۔
    ”ارے پگلی، کیا کتنے کا ہے؟” پری وش کی خالا اس کے گال سہلاتے ہوئے اس کے کمرے میں داخل ہو گئیں۔
    ”خواب۔۔!” پری وش کی ماں نے کپڑے تار پر پھیلاتے ہوئے تنک کرکہا۔
    پری وش کی خالا الماری سے دوپٹہ نکال کر باہر آ گئیں۔
    ”خوابوں کی بھی کوئی قیمت ہوتی ہے بھلا ؟ پگلی خواب تو انمول ہوتے ہیں۔” خالا نے جواب دیا اور باہر چلی گئیں۔
    ”پری بٹیا یہ کل شام میں دے جائوں گی ۔ ‘ خالا نے دروازے پہ کھڑے ہو کر کہا۔ پری گُم صُم پریشاں صحن میں آکر پلنگ پر بیٹھ گئی۔
    ”کُھل گئی آنکھ مہارانی کی؟” ماں نے پوچھا۔
    ”سوئی کب تھی؟” پری وش نے منہ پر پانی کی چھینٹے مارتے ہوئے کہا۔ وہ ایک دم پھر سے ڈر گئی۔ اُسے وہ ہاتھ اپنے کاندھے پر دکھائی دیا۔
    ”ناشتہ بنا کر رکھا ہے کر لینا، میں بازار سے سبزی لے آئوں۔” پری وش کی ماں نے چادر اوڑھتے ہوئے کہا۔
    ”اور ہاں! دروازہ بند کر لینا۔” اُس نے مُڑ کر تاکید کی ۔
    ”یہاں ہے ہی کیا۔۔۔خواب تو ہیں بس۔۔۔؟’ اُس نے منہ بناتے ہوئے کچھ کہنا چاہا۔
    ”اکیلی عورت کھُلی تجوری کی طرح ہوتی ہے۔” ماں نے نصیحت کرتے ہوئے کہا۔
    ”اور بچی؟؟” اس نے سوال کیا ۔
    ”اچھا دروازہ بند کر۔۔” ماں نے تنگ آ کر کہا۔
    ٭…٭…٭





    وہ کبھی دائیں کبھی بائیں کروٹیں بدل رہی تھی ۔چہرہ پسینے سے شرابور تھا۔ وہ ایک دم اُٹھی اور صوفے کے پیچھے جا بیٹھی۔ وہ بھاری سا مردانہ ہاتھ بھی اس کا پیچھا کرتا یک دم کہیں غائب ہو گیا ۔ وہ ہانپ رہی تھی ۔ رات کا آخری پہر تھا ۔ پانی پینے کی غرض سے وہ نیچے کچن میں گئی۔
    کولر سے پانی گلاس میں اُنڈیلتے ہوئے اس نے گہری خاموشی کو پریشان کر دیا ۔ گلاس میں پانی گرنے کی آواز ایسی تھی جیسے سارے خواب ایک کوزے میں گِر رہے ہوں اور وہ ایک ننھی بچی کی طرح ان خوابوں کو تتلیاں سمجھ کر جمع کر رہی ہو۔ پانی کا گلاس بھر جاتا ہے، گلاس بھر گیا اور پانی نیچے گرنے لگا۔ پانی بہنے کی آواز ایسے معلوم ہوتی ہے جیسے سارے خواب بہ رہے ہوں ۔ ایک دریا سے سمندر کی جانب سفر طے کر رہے ہوں اور اپنی منزل سے آشنا نہ ہوں ۔ پانی بہتا جا رہا تھا، گویا اس کے خواب بہتے جا رہے تھے۔ وہ آہستہ آہستہ اس سارے واقعے سے لُطف اندوز ہونے لگی ۔ وہ مُسکرا رہی تھی اور ہلکا ہلکا گُنگنا رہی تھی ۔ ”خوا ب لے لو خواب ۔۔۔”
    پانی کے بہنے کی آواز کے ساتھ ساتھ اس نے اپنی سُریلی آواز بھی اس میں شامل کی اور گنگناتی رہی ”خواب لے لو ۔۔ خواب۔”
    اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا، ”خواب۔۔” خوابوں کا کوزہ گر گیا ، چکنا چُور ہو گیا۔ گلاس ٹوٹنے سے ایک شور فضا میں بلند ہوا۔ چھن کی سی آواز ، ایک ہلکی سی چھنکار ۔ وہ بوجھل آنکھوں سے کرچیوں کی طرف دیکھنے لگی ۔ خواب تو بکھر چُکے تھے وہ اب بکنے کے قابل نہیں رہے تھے۔
    ”خوب لے لو خواب۔۔” وہ چِلا رہی تھی۔
    پری وش کی ماں فوراً اُٹھ کر باہر آئی ۔ بڑی بہن بھی آنکھیں ملتی ہوئی وہاں آ نکلی ۔
    ”یہ کیا مذاق ہے پری وش؟ رات کے اس پہر بھی تُمہیں سکون نہیں؟” اس کی بہن نے اسے جھڑکتے ہوئے کہا۔
    پری وش سہمی سی ایک کونے میں لگ کے کھڑی رہی۔
    ”میں تو ۔۔ پانی پینے۔۔” اُس نے کچھ کہنا چاہا۔
    ”امی کیا تماشے ہیں اِس کے۔۔ سمجھائیں خود ہی اسے کچھ۔۔” علینا نے چڑ کر کہا اور واپس اپنے کمرے میں چلی گئی۔
    ”آجائو۔۔ آج میرے کمرے میں سو جائو۔۔” امی نے پری وش کو نرم لہجے میں کہا۔
    ”نہیں! میں اُوپر ہی ٹھیک ہوں ۔ مجھے کہیں اور نیند نہیں آتی۔” پری وش یہ کہتے ہوئے واپس اوپر چلی گئی۔
    کمرے میں جاتے ہی وہ صوفے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی، پھر ہنسنے لگی۔
    ”نیند تو کہیں بھی نہیں آتی ، بس تُم سے باتیں کرنی ہوتی ہیں ۔اب تُمہیں میں نے اپنا دوست بنا لیا ہے اب نہیں ڈروں گی۔” وہ انجانے میں خود کی جانب بڑھنے والے ہاتھ سے باتیں کرنے لگی۔
    ”اور بتائو؟ تُم بھی خواب بیچتے ہو؟ کون کون خریدتا ہے؟ مجھ سے تو کوئی بھی نہیں لیتا ۔ اب میں کروں بھی کیا ان خوابوں کا ۔ میرے تو کسی کام کے بھی نہیں ۔ خواب بُن بُن کے تھکتی رہی اور کسی نے پل میں خواب توڑ دئے ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے۔” وہ اب اس ہاتھ سے باتیں کررہی تھی۔
    وہ باتیں کرتے کرتے کھڑکی کی جانب بڑھی ۔ وہی کھڑکی جو اُس نے خود کالے پردوں سے ڈھک رکھی تھی ۔ آج جی چاہا تو اس کو ہٹانے کی کوشش کی۔ کیوں کہ اب اُس ہاتھ سے اُس نے دوستی کر لی تھی۔ اُس نے جیسے ہی پردے سے باہر جھانکنے کی کوشش کی، سامنے گلی میں کسی گھر کے کچن پر اس کی نظر پڑی۔ صاف کچھ نہ تھا، بس ایک سایہ تھا۔۔۔ ایک نہیں دو۔۔ نہیں ایک آدمی اور ایک کوئی بچہ شاید۔۔۔ ہاں یہ بچہ ہی ہے۔۔ لیکن بچے اور جوان کی کُشتی کا کیا مقصد؟ وہ بھی اس وقت۔۔ اس کے کانوں میں پھر آواز گونجنے لگی۔ ”خواب لے لو۔۔ خواب۔۔۔” کہیں کوئی خواب بِک رہے ہیں۔۔۔ کہیں نہیں۔۔ یہیں۔۔ سامنے والے گھر میں ۔۔۔ ”یہ والے کتنے کے ہیں۔۔۔؟ بس سو روپے۔۔” وہ پھر سے ہنسنے لگی۔
    ٭…٭…٭





    وہ وہیں زمین پر دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھی بیٹھی سو گئی ۔ صبح جب دروازہ کُھلنے پر روشنی اس کے چہرے پر پڑی تو اس کی آنکھ کُھلی ۔
    ”پری۔۔۔ آپ اُٹھی نہیں؟ وقت دیکھئے۔” پری کے خالو کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولے۔
    ”جی جی۔۔” پری کے کانوں میں آواز پھر سے گُونجی، ”خواب لے لو۔۔۔ خواب۔۔۔”
    وہ آنکھیں ملتی ہوئی اُٹھی اور بھاگتی بھاگتی نیچے چلی گئی ۔ علینا آفس کے لئے تیار ہو رہی تھی اور دودھ کا گلاس ہاتھ میں تھامے کھڑی تھی۔ وہ گلاس ہونٹوں سے لگانے ہی لگی کہ پری وش بھاگتی ہوئی کچن میں آئی اور علینا سے ٹکرا گئی۔ گلاس دھڑام سے نیچے گرا ، کچھ چھینٹے کپڑوں پر پڑیں اور باقی زمین پر گِر گیا۔ گلاس ٹوٹنے کی آواز نے پھر سے پری وش کو خوابوں کے چکنا چُور ہونے کا احساس دِلایا ۔ اِس سے پہلے کہ کوئی اور آواز اس کی سماع خراشی کا باعث بنتی ، علینا نے چِلانا شروع کر دیا ۔
    ”مجھے پہلے ہی دیر ہو رہی ہے، اور پھر اِس نے میرے کپڑے بھی خراب کر دیئے۔ کوئی ڈھنگ کا کام نہیں تُمہارے پاس؟ تُم۔۔ تُم آ خر چاہتی کیا ہو؟” علینا اپنی ہی دُھن میں چیخے چلے جا رہی تھی۔ پری وش ہر چیز سے بے پروا، ایسے جیسے کچھ سُنا ہو نہ دیکھا ہو ، ماں کے پاس گئی اور کہا: ”کیا خالو آئے تھے؟”
    ”نہیں بیٹا، تُم خالو کی خوشی میں بھاگتی بھاگتی آئی ہو۔ میری پاگل بیٹی۔۔” ماں نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں آئے؟ مجھے آواز آئی تھی۔” پری وش نے زور دے کر کہا۔
    ‘خالو اگلے مہینے آئیں گے، کل ہی زبیدہ نے بتایا ۔ بڑی خوش تھی، کیوں نہ ہو۔۔ پورے چھے سال بعد آ رہا ہے اس کا شوہر۔” ماں نے توے پر پراٹھا ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں یاد ہے ، ابا کا چالیسواں تھا، جس دِن ان کی فلائٹ تھی۔” پری وش نے گلاس کو ٹیبل پر گُھماتے ہوئے کہا۔
    ”بڑا روئی تھی زارا، باپ کے جانے پر۔” ماں نے کچھ یاد کرتے ہوئے کہا۔
    ”زارا کیوں روئی؟ رونا تو مجھے چاہئے تھا۔” اس نے کہا اور شیشے کے مٹکے میںموجود مچھلیوں کو گھُورنے لگی ۔
    ”ناشتہ کرو گی؟” ماں نے اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا۔
    ”نہیں ، ٹھہر کے کروں گی۔’ ‘ پری وش نے مچھلیوں کو اُس طرح گھورتے ہوئے کہا۔
    ٭…٭…٭
    وہ صحن میں موجود ماربل کے ڈبوں میں چھلانگیں لگانے لگی ۔ مٹی کی ایک ٹھیکر ڈبے میں پھینکتی اور پھر ایک ٹانگ کے سہارے اُچھلنے لگتی ۔پھر گنتی گنتی۔۔ ”ایک، دو، تین۔۔۔”
    ایک دم اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔۔
    ”یہ لو۔۔ ایک سو روپے ۔۔ایک ۔۔ دو ۔۔ تین ۔۔ !!! کسی سے کچھ نہ کہنا۔۔۔ خاموش۔۔۔”
    وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئی ۔ دوپہر کا کھانا تیار تھا۔ ماں نے آواز دی:
    ”پری۔۔ پری ۔۔ کہاں رہ گئی ہو؟ کھانا کھا لو بیٹا۔۔”
    اتنے میں خالا گھر میں داخل ہوئیں۔
    دروازے کے سامنے سے پردہ ہٹاتے ہوئی بولیں: ”ارے بھئی السلام و علیکم۔۔ کیسے ہو سب؟”
    ‘آئو آئو۔۔ اللہ کا کرم ہے۔’ ماں نے انہیں دیکھ کر خوشی سے کہا۔




  • کچی کاگر — افشاں علی

    اس کے ننھے ننھے سے قدم اُس کچی ٹیڑھی میڑھی پگ ڈنڈی پر دوڑ رہے تھے جس کے ایک طرف نالہ بہتا تھا تو دوسری جانب کھیت تھے، جن میں گندم کی سنہری ڈالیاں سر اٹھائے اِستادہ تھیں۔
    کھیتوں میں آج کل سنہری ڈالیوں کے بیچ ہرے، نیلے اور سرخ آنچل بھی لہراتے بہار دکھلاتے گندم کی کٹائی میں اپنے شوہر یا باپ بھائی کا ہاتھ بٹاتے نظر آتے۔
    باغوں میں پھل لگنے لگے تھے، تو گندم کی فصل بھی پک کر تیار تھی۔
    کسان گندم کی ان سونے جیسی سنہری ڈالیوں کو بیل گاڑیوں میں لادے منڈیوں کی طرف نکلتے تو شام ڈھلے ہی گھر لوٹتے جہاں گھر کی عورتیں ہانڈی روٹی بنائے ان کی منتظر ہوتیں۔
    وہ بھی ایک عام سا ہی دن تھا۔ جب وہ معمول کی طرح اس کچی پگ ڈنڈی سے گذر کر گائوں کے اس حصے کی جانب چل دی جہاں کمہاروں کے خاندان آباد تھے۔
    یوں تو پورے گائوں میں کھیلنے کی بہت سی جگہیں تھیں۔ نیم کے درخت پر لگا جھولا، ندی کے ٹھنڈے پانی میں کبھی اوپر کو آتی مچھلیاں جنہیں بچے بڑے شوق سے جال ڈالے پکڑنے کی کوشش میں ہلکان ہوتے۔
    جھاڑیوں کے ارد گرد آنکھ مچولی، کھیلتی لڑکیاں، خالی زمین پر لک لکھوٹی کھیلتی بچیاںتو، برگد کے گھنے درخت کے نیچے ٹاٹ بچھائے گھر گھر اور گڑیا گڈے سے کھیلتی لڑکیاں۔





    وہیں دوسری اور کُھلے میدان میں گلی ڈنڈا کھیلتے لڑکے، یعنی کھیلنے کو تو یہاں بہت سے کھیل تھے پر اس کے قدم ہمیشہ دین محمد چاچا کے گھر کی جانب ہی اُٹھتے جہاں کھیلنے کو تو کوئی کھیل نہ تھا ہاں مگر تا حدِ نظر مٹی ہی مٹی دِکھتی نظر آتی۔
    وہ ہی مٹی جس سے انسان کی بنیاد رکھی گئی جس سے اس کا ضمیر اُٹھا اور اسی مٹی سے کوزہ گر بڑی محنت سے نئی بنیاد رکھتے ایک نئے روپ، ایک نئے سانچے میں ڈھالتے۔
    دین محمد جدی پشتی کمہار تھا، اپنے آبائو اجداد کی روایات و پیشے کو برقرار رکھنے پر اسے فخر تھا۔ وہ بھی معمول کی طرح خاموشی سے دین محمد چاچا کے قریب رکھی چوکی پر آ بیٹھی۔
    ”آگئی تو…؟ آج تو میں مٹکا بنانے والا ہوں، شہر سے تیس مٹکوں کا وڈا آڈر آیا ہے…” اس کی آمد کو بغیر گردن مڑے بھی دین محمد نے محسوس کرلیا اور ساتھ ہی اسے مخاطب کیا،
    دین محمد چاچا کی بات سن کر اس کی آنکھیں چمکیں اور چہرے پر خوشی تجسس کے سب رنگ مترشح تھے۔ اس نے اپنی گول گول آنکھیں آس پاس گھمائیں۔
    ہمیشہ کی طرح دین محمد اپنے ازلی حلیے یعنی بنیان نمایاں کے نیچے دھوتی لپیٹے چوکی پر بیٹھا تھا۔
    اس کے بالکل سامنے پانی سے بھری بالٹی کم مٹکی تھی اور دوسری جانب چکنی مٹی کو گوندھ کر کچھ ڈھیلے بنے رکھے تھے۔
    دین محمد نے ان میں سے ایک ڈھیلا اٹھا کر چاک کے بیچوں بیچ رکھا اور ساتھ ہی پاس رکھی شیشم کی چوب دار لکڑی کو چاک میں موجود سوراخ میں پھنسا کر گھمانا شروع کردیا۔ چرچراہٹ کی مخصوص آواز کے ساتھ چاک کا چرخ گردش کرنے لگا اور جونہی چرخ نے رفتار پکڑی۔ دین محمد نے پانی سے بھری مٹکی میں اپنے دونوں ہاتھوں کو ڈبو کر گیلا کیا اور ساتھ ہی گردش کرتے چرخ پر رکھے مٹی کے ڈھیلے کو وہ ایک نئی شکل دینے لگا۔
    ایسا لگ رہا تھا جیسے پانی سے بھرے ٹب میں دونوں ہاتھوں سے کچھ گھنگھولا جارہا ہو۔
    اس کے ماہر ہاتھوں کی رواں حرکت اس بے شکل کے ڈھیلے کو پیچیدگی کے ساتھ ایک نئی شکل میں ڈھال رہے تھے، وقفے وقفے سے وہ اپنے ہاتھوں کو گیلا کرتا اور چرخ کی رفتار کم ہونے پر پھر سے لکڑی چاک میں پھنسا کر چرخ کا گھمائو تیز کردیتا۔
    دیکھتے ہی دیکھتے، چاک کی مسلسل گردش، دین محمد کے ماہر ہاتھوں کے مدو جزر اور گھمائو نے اس بے ڈھنگے مٹی کے ڈھیلے کو ایک نئے سانچے میں ڈھال لیا اور وہ بنا آنکھ جھپکے بڑے شوق و اشتیاق سے اس تیار مٹکے کو دیکھے جارہی تھی جسے اب دین محمد چاچا نے احتیاط سے پکڑ کر قدرے فاصلے پر سوکھنے کے لیے رکھ دیا اور ساتھ ہی نیا مٹکا تیار کرنے کے لیے دوسرا ڈھیلا اٹھالیا۔
    ”واہ… چاچا، تمہارے ہاتھوں میں تو جادو ہے اتنی دیر میں تو چاچی بشیراں تنور سے روٹیاں بھی نہیں نکالتیں، جتنی دیر میں تم نے مٹکا تیار کردیا…” اس کے لہجے میں حیرت تھی۔
    ”ارے! بٹیا، اس ماں جادو کی کے بات ہے کچی مٹی نے تو جیسی چاہو شکل میں ڈھال لیو، ڈھل جاوے ہے۔
    بالکل تم بچہ لوگاں کی طرح، تم چھوٹے بچہ لوگاں نوں بھی جو بھی سکھائو رٹو طوطا کی طرح رٹ لیو ہو یونہی یہ چکنی مٹی اور پانی کی فطرت ہووے ہے۔
    جیسے چاہو صورت میں ڈھال لیو۔ پر جے اگر یہ سوکھ جاوے اور اپنی کوئی شکل لے لیوے تو یہ پکی ہو کر مضبوط ہو جاوے ہے…!”
    ہاتھ جتنی مَشَّاقی سے چل رہے تھے اتنی ہی تیزی سے زبان بھی، جب کہ وہ آٹھ سالہ بچی کچھ سمجھنے اور ناسمجھنے کی کیفیت سے گزرتی نظریں جمائے چاک کی گردش اور دین محمد کے ہاتھوں کے گھمائو میں مگن تھی… ماحول میں گائے، بھینسوں کی جگالی اور چاک کی چرچراہٹ بھی شامل تھی۔
    ”اوئے چھوری…” تبھی سر پر چارے کا گٹھا لادے زینت اماں وہاں چلی آئیں۔
    ”تو تھلے (یہاں) بیٹھی ہے، وہاں تیری ماں تیرے نام کا رولا پا رہی ہے…”
    زینت اماں کی بات سُن کر وہ بے چینی کے ساتھ وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی اور واپسی کے راستے پر چل دی۔
    وہی راستہ تھا، وہی قدم، پر فرق صرف اتنا تھا کہ آتے وقت ان قدموں میں جوش تھا، خوشی تھی مگر اب واپسی کے سمے مایوسی ان ننھے قدموں سے لپٹی اور اُداسی ان چمک دار آنکھوں میں نمایاں تھی۔
    یوں جیسے کسی سے اس کی کوئی پسندیدہ چیز چھین لی جائے۔ یوں جیسے کسی بچے کا پسندیدہ کھلونا ٹوٹ جائے۔
    بالکل اسی طرح گھومتے چرخ کی لٹو کے مانند گھومتی گردش کو دیکھنا اور دیکھتے رہنا اس کا من پسند کام اور کھیل بھی تھا۔
    ٭…٭…٭





    یہ بریک ٹائم تھا۔ اسٹاف روم میں کوئی خاص بات تو نہیں ہورہی تھی۔ بس یونہی سب ایک دوسرے سے اپنے اپنے مسائل ڈسکس کررہے تھے تو کچھ گوسپ اور اس وقت بچوں کی پرورش جیسا اہم موضوع زیربحث تھا۔
    کومل! آپ بہت لکی ہیں جو فی الحال بچوں کا جھنجھٹ ہی نہیں ورنہ نوکری پیشہ خواتین کو گھر اور باہر کی دنیا دونوں کو manage کرنا اور وہ بھی بچوں کے ہوتے ہوئے یہ بہت ہی مشکل ہو جاتا ہے…
    ”نہیں، صاعقہ! آپ نہیں جانتیں دنیا میں لوگ ہمیں کسی بھی حال میں جینے نہیں دیتے۔ اس دفعہ تو حد ہی ہوگئی۔
    لاسٹ ویک اینڈ پر میری خالا ساس کے گھر دعوت تھی اور بھری دعوت میں میری خالہ ساس اور ساس صاحبہ نے مل کر میری سونی گود کی وجہ جاب کو مانتے ہوئے وہ طعنہ زنی کی کہ الآمان…
    بہ قول میری خالا ساس جن عورتوں کے پائوں گھر میں نہیں ٹکتے وہ کبھی بھی اپنے پیروں میں اولاد کی بیڑیاں نہیں پہنتیں…”
    اس نے اپنی خالہ ساس کے الفاظ ہو بہ ہو دہرائے۔ کومل کے لہجے میں اُداسی جھلک رہی تھی۔ کومل کی بات سُن کر تو کچھ پل کے لیے وہاں موجود تمام فی میل لیکچرارز کے درمیان خاموشی سی چھا گئی۔
    ”مس کومل! آپ اُداس مت ہوں، ناسمجھ اور ان پڑھ لوگوں سے ایسی ہی جاہلانہ باتوں کی امید کی جاسکتی ہے حالاں کہ اولاد کا اختیار ہمارے ہاتھ میں کہاں…؟”
    میم عنبر نے اس کی دل جوئی کی۔
    ”ویسے ہماری نیو لیکچرار بھی کافی لکی ہیں اس معاملے میں تو، ان کا ننھا سا اکلوتا بیٹا ان کی ساس و جیٹھانی جو سنبھالتی ہیں، اس لیے یہ تو کافی بے فکر ہیں کیوں نادیہ…؟”
    پروفیسر فرحت نے شرارت سے نادیہ بشیر کو چھیڑا جس کے چہرے پر فخریہ مسکراہٹ پھیلی تھی۔
    ”جی بالکل یہ بات تو آپ نے ٹھیک کہی، ساس کے ہوتے مجھے بڑی آس…”نادیہ بشیر کی بات پر سبھی ہنس دیئے۔
    ”ارے مسز انیس آپ کیوں خاموش ہیں؟ آپ بھی کچھ بولئے، آخر کو آپ بھی بچوں والی ہیں… پروفیسر فرحت کی بات پر لیکچرار رطابہ کا تیزی سے چلتا پین رک گیا۔
    وہ بہ یک وقت اسائنمنٹ بھی چیک کررہی تھی اور ان سب کی باتیں بھی سن رہی تھی۔ اس نے اسائنمنٹ فائلز سائیڈ میں کی۔
    ”میں بہ یک وقت لکی بھی ہوں اور un luckyبھی…”
    ”ایسا کیوں…؟ آپ کے گھر پر تو صبح سے شام تک میڈ ہوتی ہے۔…”
    مس کومل بھی اپنا غم بھول کر سب کی باتوں میں شریک ہوگئیں۔
    ”کہیں ایسا تو نہیں کہ میڈ بچوں پر توجہ نہیں دیتی…؟” صاعقہ نے تبصرہ کیا۔
    ”ہیں؟ میم رطابہ، کیا واقعی یہ سچ ہے…؟ پھر تو ایسی میڈ کو آپ چلتا کریں ویسے بھی آج کل کی میڈ تو ہوتی ہی ایسی ہیں…”
    گوسپ کرتی لیب اسسٹنٹ سائرہ نے بھی ان کی باتوں میں اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا جب کہ رطابہ اِن کے فضول تبصروں سے تنگ آگئی۔
    ”افوہ! حد ہوگئی پہلے پوری بات تو سن لیا کرو سائرہ، یونہی شروع ہو جاتی ہو اندازے لگانا۔”
    ارے، میں نے کب کہا کہ میڈ بچوں کو نہیں سنبھالتی، میں تو کچھ اور کہنا چاہ رہی تھی…”
    ”کیا؟”
    سبھی کے چہرے پر تقریباً ایک ہی سوال تھا۔
    ”مانا کہ میری میڈ دوپہر سے شام تک بچوں کے پاس ہوتی ہے پر کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ وہ بچوں کو میڈ بن کر سنبھالتی ہے۔
    ماں بن کر تو نہیں نا…” رطابہ سنجیدہ تھی پر اس کی بات کو سبھی نے شاید غیر سنجیدگی سے لیا تھا۔
    ”چھوڑیں بھی ا تنی قنوطیت بھری باتیں، آج ہم جس مقام پر ہیں، وہاں تک آنے کے لیے کتنے تو پاپڑ بیلے ہیں۔
    یہ چھوٹی موٹی قربانیاں اور سہی، بس کچھ وقت کی ہی تو بات ہے مس رطابہ…” اردو لیکچرار عانیہ میمن نے رطابہ کو تسلی دی۔
    ”اور نہیں تو کیا، آج کل کی جنریشن تو ویسے بھی بہت جینیئس ہے، کوئی پرانے زمانے جیسی تو نہیں کہ ماں کے پلو سے بندھے رہیں…”
    لیکچرار صالحہ کی بات پر سبھی رضامند نظر آرہی تھیں۔
    ”بالکل صحیح کہا، اب میری ہی مثال لیجئے، میں نے جب جاب اسٹارٹ کی تھی تب میرے بچے بہت چھوٹے تھے، پر وقت نے نا صرف بچوں کی پرورش بھی کردی بلکہ مجھے بھی ہمت دی حالاں کہ میرے شوہر تو میری جاب کے خلاف تھے…”
    پروفیسر فرحت جو ناصرف عمر بلکہ تجربے کے لحاظ سے بھی سینئر تھیں انہوں نے اپنی سرگزشت سنائی۔
    ”عدنان نے تو ہمیشہ میری حمایت کی ہے چاہئیں جاب کا معاملہ ہو یا پھر سسرال کے طرف سے ملنے والے طعنے…”
    کومل کے چہرے پر نئی نویلی دلہن جیسی لجاجت پھیلی ہوئی تھی جسے سبھی نے بہ طور خاص نوٹ کرکے ایک ساتھ باقاعدہ چھیڑا تھا جب کہ کومل کو دیکھ کر رطابہ نے سوچا۔
    ”واقعی سہاگن وہی جو پیامن بھائے…”




  • ادھورا پن —- منیر احمد فردوس

    ادھورا پن —- منیر احمد فردوس

    ادھیڑ عمراجوکے لئے ستار ہوٹل اندھیرے میں جلتا ایک ایسا دیا تھا جس کی پھوٹتی روشنی میں وہ اپنے جینے کے راستے تلاش کیا کرتا تھا۔
    دن بھر رکشہ ریڑھی کھینچنے کے بعد شام کو اپنی سانسوں کی اجرت گننے وہ بلاناغہ ہوٹل پر پہنچ جاتا۔
    سانولی رنگت اور درمیانے قد کا دبلاپتلا اجو اپنی بذلہ سنجی اور دل چسپ حرکتوں کی وجہ سے ہوٹل کے مردہ ماحول میںسانسیں بانٹ کر اسے متحرک کر دیتا۔
    وہ اپنے سر کے گرد ہمیشہ نیلاچیک دار مفلر لپیٹے رکھتا جس میں کبھی کبھارسرخ گلاب بھی اُڑسا نظر آجاتا۔
    اپنی سانسوں میں چرس کی ملاوٹ کرنے والے اجو کے منہ سے ایسی پھلجھڑیاں پھوٹتیں کہ ہر بندہ بشر ہنس کے لوٹ پوٹ ہو جاتا۔
    لوگ اس کے مخصوص مزاحیہ انداز میں اس سے فلموں کے ڈائیلاگ اور گھٹی گھٹی آواز میں گانے سُنتے، حکومت اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے کبھی خلاف اورکبھی حق میں نعرے لگواتے۔
    وہ ایکٹنگ میں خاصا ماہر واقع ہوا تھا۔ جب کبھی وہ مختلف فلمی اداکاروں کی نقل اتارتا تو ہر طرف قہقہوں کی بوچھار ہوجاتی اور اکثر اپنے منہ سے ساز بجا کر اپنے بے سروپا ناچ سے لوگوں کو دل چسپ تفریح مہیا کرتا۔
    معاوضہ کے طور پر چائے کے ساتھ ساتھ اسے تھوڑی بہت نقدی بھی مل جایا کرتی، جس سے اس کے نشے پانی کاسامان ہو جاتا۔ اجّو صحیح معنوں میں ستارہوٹل کی دھڑکن تھا۔
    شام کا اندھیرا پھیلتے ہی ستار ہوٹل جاگ اُٹھتا اور لوگ دنیا کے بکھیڑوں سے فرار ہو کر وہاں پناہ لینے آ جاتے ۔ جہاں وہ گھنٹوں باتوں اور موسیقی سے بھی لطف اندوز ہوتے رہتے۔





    فضا میں گرم چائے سے اُڑتی بھاپ اور سگریٹ کے تیرتے مرغولوں کے ساتھ ساتھ ہر طرف تمباکو کی سڑاند بھی رچی بسی ہوتی۔
    ہوٹل کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ اب وہ ایک دکان سے پھیل کر دونوں اطراف کی چار پانچ دکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا۔ غرض ستار ہوٹل ماں کی طرح تھا، جو دن بھر کے تھکے ماندے افراد کو اپنے پہلو میں بٹھا کر ان کی تھکن اپنے اندر اتار لیتا۔
    مگر حقیقت یہ تھی کہ اس جاگتے ماحول کو دھڑکنیں اجّو ہی عطا کرتا ۔وہ اپنی انوکھی گپ شپ اور منفرد حرکتوں کی بدولت ہر خاص و عام میں اتنا مقبول ہو چکا تھا کہ لوگ اسے شغل مستی کے لئے شادی بیاہ کی محفلوں میں بھی بڑے اہتمام سے بلایا کرتے ،جہاں اجو کے دلچسپ چٹکلوں اور حرکتوں سے محفلیں رنگین ہوجاتی تھیں۔
    اجو کی سب کے ساتھ اچھی خاصی واقفیت ہو گئی تھی اور وہ ہر کسی کے بارے میں تھوڑا بہت ضرور جانتا تھا مگر خود اس کے بارے میں کسی کو بھی صحیح طور سے معلوم نہ تھا کہ وہ کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ اس کی ذات، اس کا مذہب اور اس کی پہچان کیا ہے؟ جب کبھی اجّوسے اس کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ ایک دم سنجیدہ ہو کر آنکھیں اوپر کو چڑھالیتا، ماتھے پر بل لے آتا اور گردن ٹیڑھی کر کے اپنے مخصوص انداز میں کہتا: ”اوئے بیوقوفا! تجھے اتنا بھی نہیں معلوم کہ اجّو کہاں سے آیا ہے؟ اللہ سے پوچھ، وہ تجھے بتائے گا کہ اجّو جنت سے آیا ہے۔”
    یہ بات کر کے اجّو خو د ہی ایک بُلند قہقہہ لگاتااور لوگوں کے ہونٹو ںپر ہنسی کی بے شمار تتلیاں رقص کرنے لگتیں۔ اس کی ایسی ہی بے ربط باتوں کی وجہ سے کچھ لوگ اسے نیم پاگل تصور کرتے تھے۔ مگر اکثر وہ بڑی منطقی باتیں کر کے سب کو حیران کر دیا کرتا۔
    مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک بار کسی نے مذاق میں اسے پاگل کہہ دیا تھا۔ اجّو کے دل میں یہ بات کسی تیر کی طرح ایسی جا گڑی کہ وہ اس آدمی کے ساتھ ہی بیٹھ گیا اورایک جھٹکے سے اس کی جیب سے پین نکال کر اپنی ہتھیلی پر ایک ٹیڑھی میڑھی سی شکل بنائی۔
    ”یہ کیا ہے؟” اجّو نے ہتھیلی اس آدمی کے سامنے کرتے ہوئے بہت جذباتی انداز میں پوچھا۔غصّے کی شدت سے اس کے ہونٹوں سے جھاگ نکل آیا تھا۔
    ”آدمی ہے۔” اس شخص نے مُسکراتے ہوئے جواب دیا۔
    ”مانتے ہو نا کہ یہ آدمی ہے؟” اجّونے اس پر نظریں جماتے ہوئے دوبارہ پوچھا۔
    ” ہاں مانتا ہوں۔”وہ آدمی بہ دستور مسکراتے ہوئے بولا ۔
    ”اوئے بیوقوفا! جوانسان آدمی کی شکل بنا لے، وہ پاگل کیسے ہو سکتا ہے؟”





    اجّونے طنزیہ کہا اورایک بُلند آواز سا قہقہہ لگا دیا۔وہ آدمی بھی کھسیانا ہو کر ہنسنے لگا۔ اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ آس پاس کے لوگ بھی اس کی بے ساختگی اور سادگی پر کھلکھلا اُٹھے۔
    کبھی کبھی وہ ہوٹل پر کام کرنے والے لڑکوں کا ہاتھ بھی بٹا دیتا اور اکثر لوگوں کی میز وں پر چائے اور پانی کا جگ بھی پہنچادیا کرتا۔ اپنی ان ہی با توں کی وجہ سے اجّو لوگوں کے دلوں پر راج کرتا تھا۔
    مجھے اُس سے اتنا اُنس ہو گیا تھا کہ اسے دیکھنے میں ہوٹل پر ضرور حاضری دیتا۔
    ان ہی دنوں میرے ایک دوست کے بیٹے کی شادی طے پا گئی۔ سب دوستوں کی شدید خواہش تھی کہ شادی میں اجو کو ضرور بلایا جائے اور جب میں نے اسے دعوت دی تو وہ ہنستے ہوئے بولا:
    ”بابو صیب…یہ تو اچھا ہوا کہ آپ نے مجھے بلا لیا اگر آپ نہ بلاتے تو میں یہ شادی ہی رکوا دیتا۔”
    میں اس کی بات سُن کر ہنس پڑا۔ وہ مجھے ہمیشہ بابو صیب ہی کہا کرتا۔ شادی شروع ہوتے ہی اجو ہوٹل سے سیدھا میرے دوست کے ہاں آ جاتا ، جہاں سب لوگ اس کے شدت سے منتظر ہوتے۔
    وہ ہمیشہ قہقہوں کا طوفان اپنے ساتھ لے کر آتا ۔پوری پوری رات شغل مستی میں گزرجاتی۔ مختلف گانوں اورڈھول کی تھاپ پر اجومزے مزے کے ڈانس کرتا، مزاحیہ گانے سناتا، چائے کے دور چلتے، لطیفہ گوئی ہوتی ، پھبتیاں کسی جاتیں ۔ غرض وہ خوب ہلڑ مچائے رکھتا۔ بچے، بوڑھے، جوان سب کے اندر اجو زندگی بھر دیتا۔
    مہندی کی رسم جاری تھی اور اجو ڈھول کی تھاپ پرتھرک رہا تھا، دوسرے لڑکے بالے بھی اس کا پورا پورا ساتھ نبھا رہے تھے بلکہ ایک مقابلے کا ماحول بن گیا تھا۔
    جوں جوں ڈھول کی تھاپ میں شدت آتی جا رہی تھی، اجو کے ڈانس میں بھی تیزی آتی جارہی تھی۔
    تمام لوگ گھیرا ڈالے مسکراتے ہوئے اس کے ڈانس کو دیکھ رہے تھے ، جو پسینے میں ڈوبا نئے نئے انداز میں ٹھمکے لگا رہا تھا کہ اس دوران کسی نے پٹاخے پھوڑدیے۔
    پتا نہیں کیسے داخلی دروازے پر لٹکتے سجاوٹ کے رنگ برنگے بھڑکیلے پردوں پر اچانک چنگاریاں جا پڑیں۔ پلک جھپکتے میں آگ بھڑک اٹھی اور پردے دھڑ دھڑ جلنے لگے۔
    ”آگ لگ گئی ….آگ لگ گئی….” کا واویلا مچ گیا اورچیخ و پکار شروع ہو گئی۔ڈھول بجنا بند ہو گئے اور تھرکتے جسم یک لخت ساکت ہو گئے۔
    آگ… آگ… کی آوازوں نے ماحول میں سراسیمگی بھر دی اور چہروں پر پریشانی کی آگ جل اٹھی۔
    جلتے پردوں اور آگ کی بڑی بڑی لپٹیں دیکھ کراچانک اجو کی حالت غیر ہو گئی اور وہ تھر تھر کانپنے لگا۔
    ”آگ بجھائو….جلدی کرو یار….خدا کے لئے جلدی سے اس آگ کو بجھائو…”





    وہ زور زور سے چلانے لگا ۔ میں اجو کی بوکھلائی ہوئی حالت پر ششدر رہ گیا۔
    شکر ہے کہ کسی نقصان کے بغیرجلد ہی آگ پر قابو پا لیا گیامگر اجو ایک دم سے بجھ گیا اور ساری مستیاں اس کے اندر یوں سو گئیں جیسے آگ پردوں کو نہیں، اس کے اندر کہیں لگی ہو۔
    ہنگاموں سے فارغ ہونے کے بعد جب وہ رات گئے سونے کے لئے لیٹا تو اس کا چہرہ بجھا ہوا تھا۔میری نظریں اسی پر ہی لگی تھیں۔
    وہ کافی دیر تک جاگتا اور بار بار کروٹیں بدلتا رہا۔اسے جب نیند نہ آئی تو وہ اٹھ کر باہر چلا گیا۔ اس کی بے چینی نے مجھے بھی بے چین کر دیا اور تھوڑی دیر بعد میں بھی اٹھ کر اس کے پیچھے چلا گیا۔وہ ایک بند دکان کے تھڑے پر سر جھکائے چپ چاپ بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا اور چرس کی بُو دوردور تک پھیلی ہوئی تھی۔
    ”کیا بات ہے اجو! کوئی مسئلہ ہے کیا؟” میں نے اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے پوچھا ۔ وہ چونک کر میری طرف دیکھنے لگا۔
    ”بابو صیب… کیا آپ کو پتا ہے کہ یہ آگ انسان سے کتنی نفرت کرتی ہے ۔”
    وہ سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے بولا مگر میرے جواب دینے سے پہلے وہ دوبارہ گویا ہوا:
    ”بابو صیب…جلتی ہوئی چیزوں میں دراصل انسان کی خوشیاں جل رہی ہوتی ہیںاور بکھری ہوئی راکھ، راکھ نہیں انسان کی خوشیاں ہوتی ہیں۔”
    میں اس کے منہ سے اتنی گہری اور سنجیدہ باتیں سُن کر حیران رہ گیا۔
    ”یہ کیسی باتیں کر رہے ہو اجو؟” میں نے اس کے اداس چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    ”بابو صیب…آپ نے آگ میں صرف چیزیں جلتی دیکھی ہوں گی مگر میں نے خواہشوں کو زندہ جلتے دیکھا ہے۔
    لوگوں نے آج تک روح نہیں دیکھی ہو گی مگر میں نے روح کو جھلستے دیکھا ہے۔” اس نے دکھی لہجے میں کہااور سگریٹ کا ایک لمبا کش لینے کے بعد اسے تھڑے پر مسل کر دور پھینک دیا۔




  • نگار خانہ — مصباح علی سید

    نگار خانہ — مصباح علی سید

    شام اداس اور ویران تھی۔ ٹھنڈا پڑتا سورج نارنجی تھال سے جھانکتا تھا۔ جیسے جیسے نیچے ہوا کے پھیکے جھونکوں میں تیرتے پنچھی اپنے اپنے آخری دانے دنکے چونچوں میں دبائے آگے بڑھ رہے تھے، وہ مٹھی میں باجرہ چاول لیے چھت پر آئی تھی۔ ڈوبتے سورج کے بعد آجانے والی سیاہی غم کو مزید بڑھانے لگی۔ اس نے دانے پھینک کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے کہ پرندوں کی بے ہنگم شور نے اس کا وجد توڑ دیا۔ اس نے خفیف سی گردن گھما کر دیکھا، نگاہوں میں تحیر آبسا تھا۔
    سب لوگ چھوٹے سے صحن میں بیٹھے تھے۔ ابا کچھ دیر پہلے ہی دکان سے آئے تھے۔ جیسے ہی ان کی آمد ہوتی، وہ سارے گھر میں وی آئی پی بن جاتے۔ باجی بھاگ کر پانی کا بھرا گلاس لے آتیں، ٹیپو بوٹوں کی طرف بڑھتا چپل پیش کرتا، آپا گرم گرم روٹیاں اتارنی شروع کر دیتیں اور اماں سب کو ہدایات دیتی کہ ابا کے روبرو بیٹھ جائیں۔ اب بھی ان کے برابر بیٹھی ہاتھ والے پنکھے کو گول گول گھماتی انہیں سارے دن کی روداد سناتے ہوا جھل رہی تھیں۔ ابا نے قمیص اتارتے ہوئے اپنے مخصوص بے زار لہجے میں کہا:
    ”تیرے ہاتھوں میں اگر دم نہیں تو ادھر دے۔”





    انہوں نے نہ صرف پنکھے کی جانب ہاتھ بڑھایا بلکہ تقریباً چھین ہی لیا۔ اماں ”ایہہ” کہتی رہ گئیں۔ اب پنکھے کی ڈنڈی ابا کے ہاتھوں میں گھوم رہی تھی پھر اسی سے پشت کھجاتے کہنے لگے:
    ”جانے کب آئے گی کم بخت۔”
    ”ہائے مر گئے یہ واپڈا والے… ستیاناس ہو اُن کا۔”ابا کی تائید میں صحن کے بیچوں بیچ لگے جنگلے سے نیچے والی منزل کے بڑے میاں نے دہائی دی۔ نچلی منزل کا بند گھر، کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ اور پھر شدید حبس، غصے کے ساتھ گالیاں بھی بنتی تھیں۔
    ابا ان کی بے قراری پر کُھل کر مُسکرا بھی نہ سکے کہ اپنے سٹور سے دھڑ دھڑ قیامت خیز کھڑاک کی آواز آئی تھی اور ساتھ آپا کی دل خراش چیخیں ابھریں:
    ”ہائے میں مرگئی۔”
    ”اسے کیا ہوا…؟ہائے! اسے کیا ہوا؟” اماں سینہ تھامے سٹور کی جانب بڑھیں جہاں بھوت نما آپا چلاتی ہوئی برآمد ہوئیں۔ کچھ دیر پہلے اچھی بھلی آپا کو روٹیاں اتارتے دیکھا گیا تھا۔ ابا کے سامنے ٹرے رکھ کر سٹور سے ان کا بستر ڈھونڈنے گئیں تھیں۔ چادر کا کونا ہاتھ لگا مگر پوری طرح قابو میں نہ آیا تھا، زور لگایا پیٹی پر رکھے بستر کے ساتھ کوئی بھاری سی چیز ان پر آن گری۔
    درد اپنی جگہ، اس سوغات کی خوشبو و رنگینی اپنی جگہ۔ دراصل ٹیپو حد سے زیادہ چٹورا ہو گیا تھا۔ جو چیز دیکھی پیٹ کے دوزخ میں منتقل کرلی۔ اماں نے چُھپ کر اچار ڈال مرتبان اونچی پیٹی پر بستروں کے پیچھے خاصا چھپا کر رکھا تھا۔ چادر کھینچنے سے وہ بھی بدلحاظ بنا آپا سے گلے ملنے آگیا۔ پھر کیا تھا، تیل کی تل چھٹ میں رنگ برنگے مصالحہ جات، آم، آملے اور پھلیوں نے آپا کے وجود پر عجیب وغریب نقش و نگار بنا دیئے۔ عجائب خانے میں رکھتے تو ایک مہینے کا راشن نکل آتا۔ ہاتھ لگانے سے بھی کراہت آرہی تھی۔ اماں کو پہلے اچار کے ضائع ہونے کا قلق ٹھہرا، دو چار اس کے گھونسے جڑے پھر ہنسی آگئی۔ ابا بھاگ کر لالٹین اٹھا لائے، بچی پہچانی تب ساری بات سمجھ میں آئی اور ٹیپو اندھیرے میں ہی اچار کی پھانکیں اٹھا کر بھا گ گیا۔
    ”ستیاناس ہو جائے، اس کلموہی حکومت کا، زندگی سے سارا سکھ چین ہی چھین لیا، جب دیکھو بتی بند، کبھی سالن میں نمک کی جگہ چینی ڈل جاتی ہے تو کبھی چائے میں پتی کی جگہ کلونجی، کہاں تک اپنے دیدوں کی روشنی سے کام لیں؟” اماں کو بے انتہا غصہ آیا۔ سارا اچار بھی تو بدبخت لوڈشیڈنگ کی نذر ہو گیا تھا جیسے ہی اچار کی یاد آئی آپا کی کمر پر جھانپڑ جڑا۔





    ”منحوس! دِکھ نہیں رہا تھا چادر کہیں پھنسی ہوئی ہے، مرتبان نہیں اسے چھوڑ رہا تو تو ہی چھوڑ دیتی۔ اب دفع ہو، جاکر نہا بدن سے تیل کا کیچڑ اتار…”
    ”اوئے ہوئے مِس!…کیسے نہائو گی۔ پانی ختم ہے اور بتی آنے والی نہیں۔”ٹیپو انگوٹھے دکھاتا ناچ رہا تھا۔
    ”ہائے میرے ربّا…” یقین مانو اب آپا کو تیل میں مرچ ہلدی کا احساس ہوا تھا پھر تو سارے بدن میں بھوری چیونٹیاں بھر گئیں۔
    ”میرے اللہ!” اس کی نگاہ آسمان نامی چھوٹے سے نیلے ٹکڑے پر جا ٹھہری۔
    ”قیامت والے دن اس حکومت کو بخشنا نہیں، جس طرح مجھے مرچیں کاٹ رہی ہیں ، انہیں سانپ بچھو ڈسیں۔”
    یہ اس گھر کی ہی نہیں بلکہ چھوٹے سے پیچ دار گلیوں والے علاقے کے دیوار سے دیوار جڑے ہر گھر کی کہانی تھی۔ ڈھونڈتے کچھ ملتا کچھ، پکاتے کچھ پک کچھ جاتا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب نئی نئی لوڈشیڈنگ شروع ہوئی تھی۔ ملک میں ایمرجنسی نافذ ہونے پر بتی جانے لگی۔ لوگ بلبلاتے شور مچاتے، ہڑتالیں، توڑ پھوڑ، ایک دن حکومت نے چھوٹا سا بیان زخم پر برف کی طرح رکھا۔
    ”چند سالوں کے لیے ملک مسائل میں گھرا ہے، تسلی رکھیں پانچ سالوں بعد ہمارے پیارے وطن میں لوڈشیڈنگ کا تصور بھی نہیں رہے گا۔”
    لوجی خوب کہی، پہلے واپڈا اوقات پر پھر اوقات سے باہر ہی ہو گیا۔ لوڈشیڈنگ کا تصور دفعتاً نہیں بچا تھا۔ غالباً لوگ اندھیروں کے عادی ہو گئے تھے۔ اگر کوئی وقت پوچھ لیتا صبح سوا نو سے رات سوا نو تک کی کہانی انگلیوں پر سنا دیتے۔
    ”سوا نو بجے آئے گی، پھر سوا دس بجے جائے گی، پھر سوا گیارہ، سوا بارہ…” آپا نے تو مہارت دکھائی۔ کلاک کے ہندسے ہٹا کر بتی آئی، بتی گئی کا کلاک بنا لیا۔ نئی طرز کا ڈیکوریشن پِیس، پڑوسی پوچھ پوچھ جاتے کہاں سے خریدا ہے۔ حکومت کی پانچ سالہ برف کی نظر کسی کا جمع جتھا، کمیٹیاں، کل پونجی، یو پی ایس کی نظر ہو گئے۔ پھر یہ دیکھا دیکھی ڈینگی کی وبا سے بھی تیز پھیلے۔ پانچ سال گزرے۔ واپڈا اوقات سے کیا سرحدوں سے باہر ہو گیا۔ بتی آئی گئی کا تصور ہی ختم ہو گیا۔ کبھی آرہی ہے تو بے تحاشہ اور کبھی نہیں ہے تو بھلے ساکٹ میں انگلیاں دے لو یا دروازے کے باہر گزرتی تاروں پر پینگیں ڈال لو اور کبھی حسینہ کی طرح پلکیں جھپک جھپک کر چیزیں ساڑ دیتی اور پھر پورے کنبے میں دھینگا مشتی شروع تو کبھی ڈھیٹ بنی سارا دن آوارہ مٹرگشت کرتی۔ میٹرگھما کر اماں ابا کی اتنی لڑائی کرواتی آدھے برتن تو یوں ہی ٹوٹ گئے تھے۔ ”بل کون بھرے۔”
    کچھ دن پہلے کی بات ہے اماں چوکی پر بیٹھی ساگ کی گندلیں صاف کر رہی تھیں کہ یک لخت اپنی اسرافیل کی پھونک جیسی چنگھاڑ نکالی۔
    ”او ٹیپو! اس منحوس فریج کو بند کر دے، آج پاگلوں کی طرح بتی آرہی ہے کہیں چیزوں کو ٹھنڈ نہ لگ جائے۔ پھر تیرا باپ آکر مجھے ٹھنڈا کرے گا۔” نیچے والی منزل کے مائی بابے نے سنا تو قہقہوں سے پیٹ میں بل پڑ گئے۔
    ”اماں!” ٹیپو چھوٹی سی انگلی ٹھوڑی پر جمائے سامنے آکھڑا ہوا۔
    ”آج لائٹ اب تک کیوں آرہی ہے؟” اس نے فریج کی تار کھینچ کر بڑی معصومیت سے پوچھا تھا۔ اماں بدک گئیں۔
    ”آج وہ بدبخت ٹی وی پر بیٹھے گا، اس کی آواز سننے اور تصویر دیکھنے کے لیے دے رہے ہیں۔”
    ”اماں!آج ایگزیکٹو ہمارے ٹی وی پر بیٹھنے آئے گا…” ٹیپو کی مارے حسرت کے آواز پھٹ گئی۔ آواز میں دنیا بھر کا درد اس لیے تھا کہ اگر ایسا ہو تو مخمنی سا ٹی وی کئی حصوں میں بکھر جائے گا اور ابا دوسرا ٹی وی تو قیامت تک نہ لے کر دیں گے۔
    ”ہاں! آکر بیٹھے تو سہی، ڈویاں مار مار سر نہ پھاڑ دوں اس کا… خود تو اے سی لائٹوں والے کمرے میں بیٹھ کر ٹی وی پر آتے ہیں، ایک ہم بے چارے… ہک ہا”
    اماں صد افسوس کرتیں اپنی سبزی اُٹھا کچن کی جانب بڑھیں جہاں ایک اور آفت ان سے لپٹنے کو تیار تھی۔ چند سالوں میں بہ مشکل خود کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کا عادی بنایا۔ کچھ دن احتجاج کیا، کھمبے گرائے، تاریں توڑیں، گالیاں بکیں اور پھر بھول بھال گئے۔ عادت بنا لی تھی تو نیا عذاب وارد کر دیا گیا۔ یخ بستہ موسم اوپر سے چولہے ٹھنڈے۔ جب جلائو ”سوں” سائرن بجاتی کان پھاڑ آوازیں جیسے بہت سی ایمبولینیس اکٹھے ہی گزرنا چاہ رہی ہوں۔ کتنی دیا سلائیاں تو اسی جانچ میں ختم ہوئیں کہ اب آئی کہ تب آئی۔ پر ناجی چولہے سے تو کچھ نہ نکلا البتہ اماں کے وزن سے بھی بھاری مغلظات ان کے منہ سے ابلیں۔ حکومت کی آنے جانے والی دس دس نسلوں کو کوسا۔
    پچھلے ہفتے کی بات تھی۔ ابا کو بخار چڑھا تھا، ان کے لیے نرم غذا کے طور پر دلیہ بنانا تھا۔ اماں نے سارا دن تھاپی مار مار ٹھنڈے پانی میں کپڑے دھوئے، جسم اکڑ گیا اور ٹھنڈ چڑھ گئی تو آپا سے ابلے انڈے اور چائے کے پیالے کی فرمائش کی۔ اکتاہٹ بھری آپا نے اپنے ناگوار منہ کو مزید بے زاریت سے سجایا۔ مرے قدموں سے جا کر چولہا جلایا، جو حسبِ عادت رانجھا بنا سارنگی بجا رہا تھا۔ آپا دھر سے چلائیں۔ ”اماں گیس نہیں آرہی۔”





    ”چولہے کو اٹھا، باہر پھینک دے منحوس کو، خواہ مخوا رش بڑھا رکھا ہے۔” اماں نے بلبلا کر کہا آپا تو اس مزاح کو انجوائے کرتی کمرے میں چلی گئیں، اپنی کہانی جو پوری کرنی تھی۔ البتہ ٹیپو سمجھا شاید چولہا پھینکنے سے گیس آجائے گی۔ آپا کی حکم عدولی پر تلخ نگاہ سے انہیں گھورا اور تیزی سے کچن کی جانب بڑھا، والوسے پائپ کھینچ، چولہا اٹھا کر گلی کی کھڑکی کی جانب بڑھنے لگا، صحن میں لگے سیاہ جنگلے میں پائوں پھنسا اور نچلی منزل والے بڑے میاں کے آدھے خالی سر پر برنر کی آہنی ٹھیکری جا گری۔ لو بتائو کوئی پوچھے اس عمر میں کیا تُک بنتی ہے صحن کے بیچ و بیچ جنگلے کے نیچے بیٹھ کر گنگناتے ہوئے اپنے جھالر نما بالوں پر خضاب لگانے کی؟ مانا بتی نہیں تھی پر کبھی تو آتی۔ کون سا ابھی بارات چڑھ رہی تھی۔ مگر نابھئی، پھڑوالیا اپنا طبلے جیسا ماتھا، حالاں کہ اچھی طرح پتا ہے پچھلے ہفتے کروشیابنتی بڑی اماں کے اوپر غلطی سے باجی سے چائے چھلک گئی تھی اور اماں کے پائوں سڑ گئے تھے۔ تب تو بڑے میاں گردن گرائے بیگم پر خوب ہنسے تھے مگر آج اف! کچھ نہ پوچھو۔ بابا جی نے جو قیامت خیز ہوٹر بجائے، چیخ و پکار، گالی گلوچ، چولہا تو وہاں ہی دھرا رہ گیا اور دونوں گھروں کے تمام افراد آپس میں خوب گتھم گتھا ہوئے۔ بڑے میاں کی بہویں نکل آئیں، پوتا پوتی اماں کی ٹانگوں پر چوہوں کی طرح دندیاں ماریں، کسی کے بال کسی کے ہاتھ۔ بڑے میاں کا خضاب اور خون ایک ہو کر چہرہ بہت ہول ناک لگ رہا تھا۔ ایسے میں بخار میں پھنکتے ابا گھر داخل میں ہوئے ان کا جی چاہا سب مل کر مجھے ہی مارو شاید بخار سے ٹوٹتے بدن کو کچھ افاقہ ہو۔ دوا تو پہنچ سے دور تھی۔ کچھ محلے کے لوگ بیچ میں پڑے، صلح صفائی ہوئی تب سب نے مل کر واپڈا پلس گیس کا غائبانہ جنازہ اٹھایا۔ ایسے جنازے دھکا کالونی میں روز اٹھتے تھے۔ نام پر حیرت ہو رہی ہو گی۔ بھئی یہ کالونی ایک مشہور سیاسی لیڈر نے اپنے سیاسی عزائم پورے کرنے کے لیے ناجائز تجاوزات پر غریبوں کے لیے آباد کی تھی اور فی الوقت رہائش پذیر اپنی قسمت کے دھکوں سے اسے چلا رہے تھے۔ خیر…
    جب شروع شروع گیس جانے لگی تو لگا شاید کہیں نئی پائپ لائن بچھ رہی ہے پھر خیال گزرا بلوچیوں کے ڈیرے پر لڑائی ہو گئی ہو گی ایک دوسرے کا سرپھاڑنے کے بجائے راکٹ مار کہ گیس کا کنواں پھاڑ دیا ہوگا۔ لیکن جب تواتر یہی مصیبت نازل رہی تو سب عورتیں اکٹھی ہوئیں اور تھانے دار کی طرح تنی بیلن، چمٹے، ڈویاں اٹھا پہنچ گئیں چوک پر، بے چارے بھوکے پیٹ یا سوکھے پاپے کھا کر رزق کی تلاش میں سکول اور دفاتر کو نکلے پسماندگان کا رستہ روک لیا۔ ٹریفک جام… کیا ان خواتین نے خاندانوں میں آگ لگائی ہو گی جو اس وقت سڑک پر لگائی۔ ایک بے چارہ سردی سے ٹھٹھرا مسافر لمحے کے لیے ہاتھ سینکنے کھڑا ہو گیا۔ بوڑھی سی اماں نے ہاتھ لمبا کر کے اس کے بازو پر ڈوئی ماری۔
    ”اوہ منحوس! تیرے سینکنے کو نہیں دہکائی، اس کا دھواں حکمرانوں کے دیدوں میں چبھانے کے لیے لگائی۔” اتنا ہنگامہ برپا ہوا۔ میڈیا اکٹھا ہو گیا، حکومت کے خلاف نعرے بازی، گالیاں، بددعائیں۔ جلتے پتوں کی خبر حکومت تک بھی پہنچی۔ انہیں بھی ٹھنڈی برف کا گولہ مرہم کی طرح تھما دیا۔
    ”حکومت اقدام کر رہی ہے، جلد حل نکلے گا۔”
    اور حل نکل بھی آیا۔ گھروں میں گھنٹہ بھر کے لیے گیس آنے لگی۔ وہی خواتین جو آٹھ آٹھ بجے تک چارپائیوں پر کھٹمل کی طرح اینٹھی بیٹھی رہتیں۔ پھرکی کی طرح گھوم کر اٹھتیں، نشئیوں کی طرح جھومتی جھامتی ٹم ٹم جلتے چولہے پر ہانڈیاں پکانے لگیں۔ ساری کالونی کے چولہے یک لخت جل اٹھے۔ گیس ٹم ٹم سے ٹماٹم ہو گئی۔ کسی کی ہانڈی پکی، کسی کی کچی، باہر نکل نکل اک دوجے کے دروازے بجا بجا کر اپنا چولہا ہلکا کرنے کی استدعا، پھر حکم اور پھر وہی دھینگا مشتی۔ مفت میں پوری دنیا ہالی وڈ کی ریہرسل سے مستفید ہوئی بلکہ کچھ من چلوں کے دل کی مراد پوری ہو گئی۔ جب حسینہ دروازہ بجاتے آتی تو اک محبت نامہ ہاتھ میں تھما دیتے۔ کوئی بڑھا ہاتھ جھٹک دیتی اور کوئی رقعہ پلوسے باندھے مٹکتی اپنے گھر کی طرف۔ پرسوں آپا گئیں تھیں۔ مٹھی میں رقعہ لے آئیں دس بار پڑھا۔ حکومت کی پالیسی کو دعائیں دیں رابطے کہ کا ذریعہ بنایا۔ آج صُبح دروازہ بجا، سامنے والا رشید انتظار میں تھا۔ دروازہ کھولتے ہی نازُک ہاتھ تھامنا چاہا اور چنگھاڑ نکلی۔ غالباً آج اماں گئیں تھیں۔ اس کی حرکت پر ہاتھ میں پکڑا گرم چمٹا دے مارا۔
    ”منحوس مارے میں تو چولہا ہلکا کرنے کا کہنے آئی تھی، تو آوارگی پر اتر آیا…”
    پھر کیا بتائیں کتنوں کی ایسی حرکتوں پر کیسی کیسی ٹھکائی ہونا۔ روز کا معمول بن گیا۔





    عوام بھی کہاں تک احتجاج کرتی؟ حکومت تو بھیجے میں میخیں ٹھونکے نشے میں چور تھی۔ مفاہمت پسند عوام نے متبادل ڈھونڈ لیا۔ پہلے سے کم خرچے مزید گھٹائے اور کسی نے چھوٹے سلنڈر، تو کسی نے تیل کے چولہے رکھ لیے۔ اماں تیل کے چولہے سے خوف زدہ تھیں۔ پچھلی گلی کی جوان لڑکی مری تھی۔ انہوں نے ابا سے سلنڈر کی فرمائش کی۔ وہ لے بھی آئے اور رات کو اپنی چارپائی کے نیچے رکھ کر سوتے کہ کہیں گھر کی گیس سمجھ کر راتوں کو عیاشی شروع نہ ہو جائے۔ دن میں اس دوکلو گیس پر اماں پہرہ بٹھا دیتیں۔ آپا جیسے ہی سلنڈر کی طرف بڑھتیں، اماں اپنی پاٹ دار آواز میں دھاڑتیں، ساتھ ہی بونس میں اڑتی ہوئی جوتی بھی آتی۔
    ”اے منحوس ماری! بلینک (بلیک) میں بھروائی ہے پانچ سو کی… اب آنے بہانے اڑا نہ دئیو…” خیر جیسے تیسے بچے پراٹھے کھا کر سکول جانے لگے۔ گیس بجلی کا نہ ہونا معمولات میں شامل ہو گیا اور ہم دنیا کی واحد قوم ہیں جو اپنے مسائل حل کرنے کے بہ جائے پہلے معمولات بناتے ہیں پھر اُن سے لطف اندوز ہونے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ پٹرول، سی این جی کم ہونے کا رونا پڑا، کچھ دن جلسے جلوس نکالے لیکن پھر عقل پر ماتم کیا۔ لوبھلا یہ تو حکومت نے بلامعاوضہ تفریحی سیشن کا بندوبست کیا ہے۔ غالباً جو مزہ لائنیں دیکھنے کا ہے وہ کہیں بھی نہیں، خاص کر اگر اس میں بارات کھڑی ہو۔
    ارے واہ! کہاوت تو اب صحیح مانوں میں پوری ہوئی تھی۔ پہلے لوگ جوتیاں گھسا کر دلہن لاتے تھے اب ٹائر رگڑوا کر اور بسا اوقات یہی ٹائر کچھ آگے پیچھے کرنے کے چکر میں بندے کچکچاتے دروازے کھول باہر نکل آتے، یقین مانو کیا مجنوں چاک گریباں لیلیٰ کے شہر پہنچا تھا جو دلہا حاضرِ خدمت دلہن ہوتا۔ باراتیوں کے ہیئراسٹائل الگ بدل جاتے۔ جب ایسی صورتِ حال پانی کے فلٹراسٹیشن پر ہونے لگی۔ خالی کینوں والے بھرے کین والے پر ٹوٹ پڑتے اور بھرے کین والا طیش میں آکر اپنا بھاری بھرکم کین سامنے والے کو مارتا۔ پانی سے توخیر ہاتھ دھوتا سو دھوتا سامنے والا دانتوں سے بھی دھل جاتا۔ باقی حاضرین کو ہنسی کے دورے پڑتے۔ پیٹ کے اکثر امراض تو ایسے مجمع کو دیکھ کر ہی ٹھیک ہو جاتے۔ ابا کا بھی جب پیٹ خراب ہوتا یا بجلی کے انتظار میں فارغ بیٹھے بیٹھے تنگ پڑ جاتے تو اپنی پیکو فیشن ڈھک سائیکل اٹھا کر کبھی سی این جی اسٹیشن تو کبھی پانی کے سرکاری فلٹر کا رخ کرتے ۔ مفت کا اسٹیج شو خاصا دل بہلا دیتا، بغیر دوا کے بندہ ٹھیک۔ بھئی اتنی شان دار پرفارمنس اور سلطان راہی، مصطفی قریشی اور شان کی نہ رہی تھی جتنا ٹیلنٹ اس ”نیوجنریشن” میں تھا۔




  • سال ۲۰۴۰ کی سیر —- فریحہ واحد

    ہوا میں تازگی قدرے کم تھی، اب تک لوگ شاید اِس سوکھی ہوا کے عادی ہوچکے تھے ۔سورج نے بھی اپنی فوج میں چند ہزار مزید شعاعیں بھر تی کی تھیں جو کہ خاصی ماہر معلوم ہو تی تھیں۔۔۔ مگر انسانوں سے بھلا اس کا کیسا مقابلہ؟ اور وہ بھی امیر انسانوں سے ۔۔۔ جب کہ سال دو ہزار چالیس میں ان کھر چ کر رکھ دینے والی شعا عوں کو اپنا شکار اب بھی میسر تھا۔ پاس کھڑی آسمان کو چھوتی ان گنت عمارتوں سے مقابلہ نہ کر پانے والے تعداد میں بہت ہی کم سائے دار درخت ، ننھے ننھے پیارے پیارے پھول پتے ، زبان سے محتاج بے زبان جانور اور۔۔ اور غریب۔
    آج عیلی کے دسویں گریڈ کا آخری امتحان تھا ۔ تیاری میں مگن عیلی نے دو راتیں بِنا سوئے ایک پراجیکٹ بنا یا تھا۔ مگر وہ اب بھی پوری طرح مطمئن نہ تھی اور آرکیٹیکچرل ڈسپلے گلاس نامی ٹیکنالوجی کا بہ خوبی استعمال کرتے ہوئے شیشے کی بنی دیواروں پر تیزی سے انگلیاں گُھماتے ہوئے آج کے امتحان کے لئے تیار کی گئی اپنی پریزنٹیشن کا اعادہ کر نے کے ساتھ ہی اپنی پرو فائل پر ایک نظر گھمانے لگی تھی گو یا کوئی ٹچ اسکرین مو بائل ہو۔ اعادہ اور ملا حظہ کر لینے کے بعد اسے کچھ بھوک سی محسوس ہونے لگی تھی۔ اس نے زمین میں لگی ایک ٹائل پر اپنے انگوٹھے کو ایک مخصو ص طریقے سے پھیرا اور وہ ٹائل بنا کسی ہدایت کے اس کے مطابق چلنے لگی تھی اور اسے باورچی خانے لے آئی جہاں اس نے پاس کھڑے نو کر احمد کو انڈا بنا نے کا حکم دیا اور وہیں پر کھڑے ہوکر کچن کی دیوار پر تیزی سے انگلی پھیر کر اپنی پروفائل اور اپنے دوستوں کے کارنامے ملاحظہ کرنے لگی تھی۔





    احمد نے ماربل کے سلیب پر ایک مخصوص جگہ پر انگلی سے دائرہ بنایا اور اس پر انڈا توڑ کر ڈال دیا۔ اس دائرے سے نکلتی دکھائی نہ دینے والی تپش سے وہ انڈا چند سیکنڈ میں تیار ہو گیا اور وہ تپش اپنے آپ بند ہو گئی۔ اس نے وہ انڈا ایک پلیٹ میں ڈال کر سر ونگ ٹرالی پر رکھا اور اس پر بنے ایک بٹن کو دبا دیا جہاں لکھا تھا "عیلی کا کمرہ” اور وہ ٹرالی عیلی کے کمرے کی طرف روانہ ہو گئی اور اس کے پیچھے عیلی بھی اپنی ٹائل سمیت اپنے کمرے میں جا پہنچی۔ اس نے چُھری کانٹے سے آدھا انڈا مکمل کیا ہی تھا کہ اتنے میں کمرے میں لگا الارم انگریزی میں کچھ ہدایت دینے لگا۔
    ”عیلی یو ہیو جسٹ ٹین منٹس لیفٹ، ٹو ارائیو دا اسکول” (عیلی تمہارے پاس صرف بیس منٹ بچے ہیں اسکول پہنچنے کے لیے) عیلی کو یہ سنتے ہی اپنے چہرے کی فکر ہونے لگی اور اس نے بناوقت منٹ ضائع کئے گلا س کی بنی دیوار پر ایک بار پھر انگلی گھمائی اور مرر موڈ ایکٹیویٹ کر دیا اور وہ دیوار اب آر پار دکھانے کی بہ جا ئے صرف اس کا چہرہ دکھا رہی تھی۔ ہر بار اپنے دودھیائی چہرے، لمبے گھنے سیدھے اور سنہری بالوں کو دیکھ کر اس کا خون دو کلو اور بڑھ جاتا۔ وہ خود کو سنو وائٹ یا سلیپنگ بیوٹی نہ سمجھتی بلکہ اسے تو خود میں مشہور ہالی ووڈ گلو کارہ ٹیلر فسیٹا کا عکس دکھائی دیتا تھا جو کہ اپنے زمانے کی شہرت یافتہ گلو کارہ ٹیلر سوئفٹ سے خا صی متا ثر تھی۔ مگر یہ خیال بھی اسے زیادہ دیر خو ش نہ رکھ سکا کیوں کہ اس کے دماغ میں فوراً ہی گھر کے نوکر، احمد کی بیٹی رِمی کی شکل آئی تھی جس کی چہرے سے زیادہ اس کی آنکھیں حسین تھیں اور وہ بھی بنا کسی خرچے یا علاج کے۔۔۔ مگر سب سے بڑی اور دل دہلا دینے والی بات تو تب سامنے آئی جب اس نے دو ہزار سترہ کی ایک اور پر کشش اور کڑوڑوں فالوؤرز رکھنے والی ہالی وڈ اداکارہ کو دیکھا جس کے نین نقش اسے ہو بہ ہو رِمی سے ملتے جلتے معلوم ہوئے۔ تب سے اب تک رِمی ، عیلی کی آنکھوں کی پتلیوں اور دل کی کنجیوں میں جگہ تو دور اس کے سوشل ورک کے دائرے میں بھی جگہ نہ بنا سکی، جہاں وہ ضرورت مندوں پر اپنے ابا حضور کا پیسہ لٹانے کے باعث ڈھیروں شہرت کے ہار کما چکی تھی۔ روزِحشر کا تو معلوم نہیں۔۔۔ ہاں مگر سو شل میڈیا ضرور اسے جنتی قرار دے چکی تھی۔ مگر عیلی نے وقت کا لحاظ کرتے ہوئے فوراً ہی سب خیالا ت جھٹکے اور اپنی آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکوں پر ایک ڈنڈی نما چیز پھیری اور وہ گہری سیاہی جیسے کہیں غائب ہو گئی۔





    حسینہ گھر کے اندر کھڑی چیئر لفٹ کے ڈبے نما گاڑی کی طرف چل دی مگر اِن نئی گاڑیوں سے عیلی سے زیادہ اسی کی امی بڑی خو ش تھیں کیوں کہ سال دو ہزار پچیس کی گا ڑیوں کو چلانے کے لئے وہ انگوٹھے کے استعمال پر مجبور تھیں اس کی بھی وجہ در حقیقت یہ تھی کہ ایک بار انہوں نے گاڑی کی سیٹنگ کچھ یوں کر رکھی تھی۔ کہ جب تک وہ شیشہ ان کے ہنستے ہوئے چہرے کا دیدار نہ کر لیتا وہ نہ کھلتا مگر ایک بار وہ کچھ اِس طرح تیار ہوئی کہ سائنس دانوں کی سب سے اعلیٰ تخلیق اس گاڑی کے اندر موجود مائیکرو روبورٹس نے بھی انہیں پہچاننے سے انکار کر دیا اور اس حادثے کے نتیجے میں وہ انگو ٹھے کو ہی غنیمت جانتیں، مگر اب ان کی یہ مشکل بھی دو ہزار چالیس نے حل کر دی تھی۔
    عیلی اپنی گاڑی کے پاس جا کھڑی ہوئی ۔ اس گا ڑی نے جیسے عیلی کے آتے ہی اس کی خوشبو سونگھ لی یا شاید اسے دیکھا یا محسوس کیا تھا کہ اس کے آتے ہی اس نے اپنے سلائیڈنگ ڈو ر کھول دیے تھے۔ سلائیڈنگ ڈور کُھلتے ہی وہ گاڑی کے اندر جا بیٹھی۔ سلائیڈنگ ڈور بند ہوا اور اسکرین پر پانچ جملے نمودار ہوئے:
    1۔ ڈرائیو ٹو اسکول (اسکول چلو)
    2۔ ڈرائیو ٹو ہوم (گھر لے چلو)
    3۔ ڈرائیو ٹو ہائیپر اسٹار (ہائیپر اسٹار لے چلو)
    4۔ ڈرائیو ٹو ہیمیز ہاؤس (ہیمی کے گھر چلو)
    5۔ آئی ول ڈرائیو ، وانٹ ٹو گو سم ویئر ایلس (میں خود چلاؤں گی، کہیں اور جانا ہے)
    اس نے پہلے آپشن پر انگلی سے پریس کیا اور وہ بلٹ پروف گاڑی چل پڑی ۔ گاڑی کے چلتے ہی اسے پھر سے بھوک محسوس ہو نے لگی تھی۔ اس نے گاڑی کے ڈیسک بورڈ کی جگہ سکرین پر کچھ انگلیاں پھیریں اور نہ جانے ایسا کیا جادو کیا کہ اس گاڑی کی چھت سے ایک چھوٹے سے ہوائی جہاز کی طرح کا ٹکڑا نکل کر اُڑنے لگا تھا اور شاید اس کے کھانے کا انتظام بھی اب اس ننھے ہوائی جہاز کے ذمہ تھا۔ اپنے پسندیدہ کھانے کی طرف سے اب وہ بالکل بے فکر تھی کہ اب وہ جانتی تھی کہ اس کے حکم کے مطابق اس کا کھانا اسکول میں پہنچا دیا جائے گا۔ اسکول پہنچتے ہی گاڑی کا دروازہ کُھل گیا اور اس نے اُترتے ہی گا ڑی کے نیچے لگے ایک بٹن کو دبادیا۔ اس بٹن کے دباتے ہی گاڑی کا ایک پہیہ باہر آیا اور اس میں سے ایک اور پہیہ نکل آیا جس کے دونوں طرف ایک ایک پلیٹ لگی تھی۔ عیلی نے دونوں پلیٹس پر اپنا ایک ایک پاؤں رکھا اور وہ پہیہ عیلی کے مطا بق چلنے لگا اور اسکول کے دروازے کے عین قریب لا کھڑا ہوا۔ اسکول کے باہر لگے گلاس کے دروازوں نے خاموشی سے چند سیکنڈ کے اندر عیلی کی چیکنگ کی اور عیلی کے اندر جانے تک اپنی بانہیں کھولے کھڑا رہا اور اس کے اندر جاتے ہی دوبارہ بند ہوگیا۔ اِس ائیر کنڈیشنڈ اسکول میں پڑھنے والے بچوں نے کبھی سورج کی شعاعوں کا سامنا نہ کیا تھا مگر۔۔۔ مگر ان بچوں نے بھی کیا قسمت پائی تھی کہ اِن تپتی لکیروں سے بھی زیادہ بے چین کردینے والی چیزیں ان سے منہ چڑھ کر باتیں کرتی تھیں جس میں سرِفہرست تعلیمی میدان میں بر پا وہ مقابلہ تھا جس میں ہر طالبِ علم ایک جنگ جو کے مانند تھا۔ اب وہ بے چارے کرتے بھی تو کیا کرتے؟ دن بھر ایسے کام کی تلا ش میں رہتے کہ جس سے سو شل میڈیا کی رونقیں بڑھائی جا سکیں اور پھر ایسی ایسی تصویریں اورمواد جمع کرتے جو ان کے ہر جاننے والوں کو ہلا کر رکھ دیتا۔ آج بھی اِس جدید دور میں رشتے داروں اور جاننے والوں سے چاہے سال ہا سال ملا جا تا یا نہیں لیکن ایک تعلق تو ان کے درمیان تقریباً ایک صدی سے چلا آرہا تھا۔ وہ تعلق تھا جلانے اور جلنے کا تعلق۔۔۔ اور اِس تعلق میں اتنی طاقت اور گہرا ئی تھی کہ اپنے ہر عمل سے پہلے، ان کو اور ان کی پسندو نا پسند کا خاصا خیال رکھا جاتا، اور اب یہی ان کی تسکینِ روح کا ذریعہ تھا۔ اب اِس مصروف ترین دن میں اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کا بہترین مظاہرہ کر لینے کے بعد وہ سب ہی سپہ سالار نو جوان اپنے بزرگوں کی روایت کو اِس جدید دور میں بھی فروغ دیتے ہوئے رات رات بھر جاگ کر گریڈز کی جنگ میں اپنے جھنڈے گاڑنے کو جُٹ جاتے اور ہر ممکنہ کوشش کرتے ہوئے کتے بلّیوں سی زندگی گزار رہے تھے۔۔۔ نہ کھا نے کی کچھ خبر تھی نہ سونے کی۔۔ مگر اِن سب میں اس ظالم اسکول مینجمنٹ کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔ دراصل ترقی یافتہ تعلیمی اداروں کی نئی پالیسی کے تحت اب طالب علموں کے امتحانی نتائج اور ان کے بنائے گئے پراجیکٹس ان کی پروفائلز پر بھی متعارف کروائے جاتے اور ہزاروں نظریں اپنے نشتر لئے اِس گھڑی کی منتظر رہتیں۔۔۔ کب کس کو یہ نشتر نشتر کھانا پڑے۔ مگر یہ وہی زندگی تھی، جو ان کے نزدیک ان کی شان کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی۔ مگر اِس دور کے لو گوں کی ہر ایک حرکت اِس بات کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہی تھی کہ اب بھی ایک ایجاد باقی ہے۔۔۔ ہاں باقی ہے جو سائنس دانوں کے لئے اب بھی ایک للکار تھی اور شا ید وہ اِس میں کبھی کام یاب ہو بھی نہ سکے۔۔۔ اور وہ ایجاد تھی ایک ایسے آلے کی جو اس جدید دور کے لوگو ں کے رویے اور ذہنیت کو بد ل سکے جو اب بھی ہو بہ ہو ایک تیس سال پرانے معمولی انسان سی ہی تھی۔۔۔۔ خیر اِس من پسند زندگی کے لئے اس گھر کا ہر چھوٹا بڑا، دل ہی دل میں عیلی کے مرحوم دادا کو ہی داد دیتا پھرتا تھا۔ جنہوں نے اپنی پوری زندگی اپنے بال بچوں کے لئے کمانے میں گزار دی اور ماشااللہ اتنا کمایا کہ آج بھی سیف اللہ شریف کے لئے پیسہ ہاتھ کے میل سے زیادہ نہ تھا ۔یہی وجہ تھی کہ عیلی جیسی عام شکل وصورت کی لڑکی بھی اب کسی مومی گڑیا سے کم نہ لگتی تھی ۔۔۔ اور بھلا کس چیز کو ان نوٹوں نے نہ بدلا تھا؟ عیلی کی سانولی رنگت اور سوکھے گھنگھریالے بالوں سے لے کر چہرے پر بار بار اُگ آنے والی مونچھوں تک سب ہی مسائل تو اس کے دنیا میں آنے سے پہلے ہی حل کر دیے گئے تھے۔۔۔ ایسے دادا دعائوں اور داد کے مستحق نہ ہوتے تواور کیا ہوتے؟۔۔۔ دراصل معاملہ بھی کچھ یوں تھا کہ سیف اللہ شریف کے مرحوم والد اور عیلی کے محنتی دادا اپنے زمانے کے ایک نام ور سیاست دان رہ چکے تھے۔۔۔ پھر پیسا تو قدرتی چیز تھا۔




  • بیلا کا ساون — عطیہ خالد

    چھم چھم بادل برس رہا ہے۔ ٹین کی چھتوں پر ساز بُنتا، کہیں درختوں سے چھیڑ چھاڑ کرتا، پھولوں کے رنگ نکھارتا، دورکہیں پربتوں پر چنگھاڑتا، آج تو چھاجوں چھاج مینہ برس رہا ہے۔مینہ جو دھرتی میں زندگی کے دیئے جلاتا ہے۔ کلیوں اور پھولوں پھلوں میں رس بھرتا ہے۔ یکساں برستا یہ پانی سب پر ایک طرح برستا کیوں نہیں؟ راجنوتے میں گرمی خوب پڑتی ہے اورپھر ساون بھی خوب برستا ہے۔ کالی کالی گھٹاؤں کے سنگ جھوم جھوم کے… بیلا کو اور اس کے راجنوتے کے موروں کو تو ساون بہت پسندہے۔ وہ پنکھ پھیلائے ناچتے ہیں چھتوں پر، اور آنگن میں بیلا اپنی سکھیوں کے سنگ لہراتی ہے۔اس کے کھیتوں اور آموں کے باغ کی خوشی کا تو کیا ہی کہنے… آم میٹھے ہو جاتے ہیں اور رسیلے…ایسے میں برکھا کے گیت آپ بیلا کے من سے پھوٹ پڑتے ہیں۔
    اس کی سب سکّھیاں دھانی چنریاں اوڑھے بارش میںنہاتی ہیں۔ موراں، نیلم، دیپا اور ارملا سب ہی اس کے آنگن میں اکٹھی ہو جاتی ہیں۔ اس کا بابا ان کے لئے دو دو جھولے ڈال دیتا ہے… وہ جھولے جھولتی ہیں اور بھوری اماں میٹھے گلگلے اور پوڑے تل تل کر ان کو دیتی جاتی ہے۔بابا آم بالٹی میں بھر کر ان کے پاس رکھ دیتا ہے…بارش ان کو ٹھنڈا کر دیتی ہے تو وہ سب مل کر آم چوستی اور گاتی ہیں۔
    بجلی چمکے
    بدرا گرجے
    رِم جھم پڑے پھوار
    کہ ساون آئیو رے
    کہ ساون آئیو رے…





    اب کے برس اس ساون کے بعد بیلا کا بیاہ ہو جائے گا۔ٹھاکر کی حویلی میں چلی جائے گی وہ وداع ہو کر… سُنا ہے بہت بڑی حویلی ہے، بھانیانا گاؤں کے بڑے زمین دار ہیں وہ لوگ۔ بابا کے زمین دارے سے بھی بڑا زمین دارا ہے ان کا۔ وہاں بھی امبر برستا ہو گا۔سرمئی،اودی اور کالی گھٹاؤں کا روپ دھارے، چنگھاڑتا ہوا، چھاجوںچھاج۔مائی نے بڑی بڑی پائلیں گھڑوائیں ہیں ڈھیر سارے گھنگرؤں والی۔وہ پہنا کروں گی برکھا والے دن اور بسنتی اور دھانی چوڑیاں۔ سکھیاں نہیں ہوں گی تو کیا ہوا، ٹھاکر جو ہوگا میرے سنگ۔۔۔ دھیرے سے مُسکائی پھر آنکھیں موند کر ہنس پڑی بیلا۔ٹھاکر کا نام ہی مانو گدگدی کرتا ہو اسے۔برکھا اور ٹھا کر کے خیال نے گلال مل دیا تھا اس کے گالوں پر۔جانے کب تک وہ ٹھاکر کے خیالوں میں بھیگی ہی رہتی مگر موروں کی می آؤں… می آؤں نے اسے جگا دیا۔لہراتی ہوئی باہر آئی تو دیکھا کہ موٹی موٹی بوندیں پڑنے لگی تھیں۔اس نے باہر نکل کر ارملا کو آواز دی ۔کچھ ہی دیر بعد میں سب سکھیاں جمع ہو گئیں اور لگیں اسے چھیڑنے۔
    ”سنا ہے بڑا گھبُرو جوان ہے ٹھاکر!” نیلم اسے کہنی مارتے ہوئے بولی۔
    ”تو؟” اٹھلا کر ابرو کے اشارے سے بیلا نے پوچھا،جیسے کہتی ہو میں کیا کسی سے کم ہوں اور اپنی چُنر کو اٹِھلا کر پیچھے پھینکا۔
    ”سنتے ہیں ہمارے راجنوتے میں کوئی بھی تو نہیں ٹھاکر جیسا!” نیلم نے بیلاکو گدگدایا۔
    ”بابا بھی بتا رہا تھا مائی کو اور بھوری اماں کو۔” بیلا جیسے اٹھلائی۔
    ”صرف وہی لگا اس کومیرے جوڑ کا تبھی تو اتّی دور بھیج رہاہے مجھے۔” بیلا بھی کب ہار ماننے والی تھی؟
    اگلے ساون میں تو تو ٹھا کر کے ساتھ رہے گی ناں!” موراں کھلکھلاکر بولی۔
    کون جانے اس کے سسرال میں برکھا میں گلگلے پکتے ہیں کہ نہیں، سکھیاں گیت گاتی ہیں یا بارش میں نہاتی بھی ہیں یا نہیں…بیلا من ہی من میں سوچ رہی تھی۔
    وہ تو ضرو ربنائے گی پوڑے اور گلگلے۔سوجی کا میووں والا حلوہ تو وہ ضرور سیکھ کر جائے گی بھوری امّاں سے اور جب ٹھاکر کے شہری دوست آئیں گے تب بنایا کرے گی۔بابا نے جب سے بتایا تھا کہ کہ ٹھاکر کا شہر آنا جانا ہے۔اس کے شہری دوست بھی حویلی آتے ہیں تب سے بیلا کی سوچ گھوم گھما کر اس طرف بھی جا نکلتی کہ کیسے وہ اپنے سلیقے کا رعب ڈالے گی۔





    سمے بھی کبھی رُکتا ہے؟ دیکھتے ہی دیکھتے بیاہ کا دن آگیا اور بیلا ٹھاکر کے ساتھ وداع ہو گئی۔ کندن کے کام سے سجا ہرا گھاگھرا،لال کرتی اور لال چنر میں ڈھیروں زیورات سے سجی،ٹھاکر کا ہاتھ پکڑے پکڑے دھیرے دھیرے وہ حویلی کی ڈیوڑھی میں داخل ہوئی۔شہنائی والوں نے سواگت (استقبال) کی دھن چھیڑ دی۔ اس کی ساس نے آگے بڑھ کر اس کا ماتھا چوما اور کتنے ہی تھال اس کے ہاتھ سے چھوا کر آگے دان کے لئے بھیجے، تب وہ دونوں آگئے بڑھے جہاں ٹھاکر کی چاچیاں، مامیاں، موسیاں، بہنیں سبھی ملن کے گیت گا رہی تھیں۔
    رات دیر تک ہنسی ٹھٹھول ہو تا رہا، بیاہ کی رسمیں ہوتی رہیں پھر ٹھا کر کی بہنیں اور بھوجائی اس کو کمرے میں بٹھا گئیں۔
    ”چاند سورج کی جوڑی ہے دونوں کی، اب سویرے ملیں گے۔ بھیجتی ہوں دیور جی کو۔” بھوجائی جاتے ہوئے بولیں۔
    ساری تھکان پر ایک لجا بھرآنند (خوشی) چھا گیا تھا۔ آہٹ پر وہ کچھ اور جُھک کر سمٹ گئی۔ چھپر کھٹ پر بیٹھتے ہوئے ٹھاکر بولا:
    ”سنا ہے راجنوتے کے موروں سے بھی سندر ہے ہماری دلہن، ذرا دیکھیں تو۔ دوسروں کے کہے سنے پر ذرا کم ہی وشواس (بھروسہ) کرتے ہیں ہم۔” ٹھاکر نے اس کا گھونگٹ اٹھایا اور بولا:
    ”غلط! با لکل غلط” وہ رُکا تو جیسے بیلا نے سانس روک کر نظر اٹھائی ایک دم… اور ٹھاکر کے چہرے پر پھیلی مسکان دیکھ کر ایک دم جھینپ گئی۔
    ”ہماری دلہن تو سورگ(جنت) کی اپسراؤں جیسی ہے۔اس سے تو چندرما بھی شرمائے گا۔”
    مہندی رچے ہاتھوں کی باس محسوس کرتے ہوئے اس نے اس کے ہاتھوں میں جڑاؤ کنگن پہنائے اور بھید بھری بھاری آواز میں بولا:
    ”تم میری کسم ہو،رادھا ہو،شکنتلا ہو۔تمہاری ہر خوشی،ہر کامنا (خواہش)پوری کرنے کا وچن دیتا ہوں تم کو منہ دکھائی میں…پورے کا پورا گگن راج ٹھاکر تمہارا ہو ا…”
    وہ ایسا پھیلا ہوا آکاش تھا جس نے بیلا کو پورے کا پورا ڈھانپ لیا تھا۔ وہ اس کی چھایا میں کھل اٹھی، مہک اٹھی تھی۔ ٹھاکر کا پریم اس کے لئے ہر روز نئے نئے روپ دھارتا۔ وہ پریم دیوانی چہکتی پھرتی۔ ٹھاکر کی بڑی بہنوں کے بیاہ کے بعد سونی پڑی حویلی میں جیسے جان پڑ گئی تھی۔ ہر گذرتے دن بیلا ضرور سوچتی کہ ساون آنے میں کتنے دن رہ گئے ہیں؟
    اس نے اپنی زیور کی الماری میں نچلے خانے میں بسنتی اور دھانی چوڑیاں،چاندی کی چوڑی پائل،گھنگرؤں والی ماتھا پٹی اور گھنگرؤں والا گانی سیٹ بھی رکھ لیا تھا جو ٹھاکر شہر سے لایا تھا۔
    ہر روز زیور بدلتے و قت وہ ان چیزوں کو دیکھ کر مُسکاتی۔ دومہینے گذرے تو ساس نے میٹھے میں ہاتھ لگوا کر سبھی چابیاں اور ذمہ داری اس کو سونپ دی۔اس نے اپنی سوجھ بوجھ سے سب کام سمجھ لیاتھا۔ سبھی رشتہ دار اور گاؤں والے اس کی ساس کو بدھائیاں دیتے کہ اس کو ایسی سوجھوان بہو ملی۔یوں تو بیلا کو ساری ہی حویلی بہت بھائی تھی۔سامنے کے سارے حصے میں میں سفید پتھر لگا ہوا تھا مگر پچھلی طرف کے ستونوں والے بر آمدے اور آنگن میں لال لا ل اینٹوں کا صحن تھا۔تو ت،بکائن اور امرود کے درخت تھے۔یہ حصہ تو اس کے سپنوں جیسا تھا۔اس نے بکائن پر دو جھولے ڈلوالئے تھے۔





    ساس اس کو گھر کے کاموں میں جٹا دیکھ کر بہت خوش ہوتی اور کہتی:
    ”دودھوں نہاؤ،پوتوں پھلو…”ٹھا کر کے سامنے پر شنسا(تعریف) کرتی کہ بہو بہت گن وان ہے۔ ٹھا کر دھیرے سے اس کی طرف جھک کر کہتا:
    ”ان گنت گن تو میں جانتا ہوں…!” وہ آنکھوں میں جھوٹا غصہ لاتی،مند مند مسکاتی۔
    برکھا رت آن کھڑی تھی۔آس پاس کے گاؤں میں تو بارش پڑنے لگی تھی۔چپکے چپکے بیلا نے سبھی تیاریاں کر لی تھیں۔ مہاور منگوا لیا تھا۔ دھانی گھاگھرا اور بسنتی چولی اور چنر کو ٹرنک میں سب سے اوپر رکھ لیا تھا۔جنداں کو گلگلے اور میوؤں والا حلوہ بنانا تو کبھی کا سکھا چکی تھی۔
    سوموار کی صبح ٹھا کر گھر سے نکلا،اور ادھر بیلا کے من میور(مور) نے می آؤں،می آؤں کی تان لگائی مانو بر کھا کی باس پا لی ہو۔جنداں کو سبزی کاٹنے پر لگایا اور شیام کی ماں کو اصلی گھی میں سوجی بھوننے کا کہہ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔گنگناتے ہوئے جلدی جلدی دھانی گھاگھرا،بسنتی چولی اور چنر پہنی۔ ہاتھ بھر بھر کے بسنتی چوڑیاں، پائل، گانی، جھمکے اور گھنگرؤں والی ماتھا پٹی۔گالوں اور ہونٹوں پر لالی لگاکر آئینے میں اپنی نرالی چھب دیکھتی ہوئی نکل آئی۔
    کالے کالے بادل گھر آئے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے موٹی موٹی بوندیں پڑنے لگیں تھیں۔بار بار اناج کی کوٹھری سے رسوئی میں جاتی بات بے بات کھلکھلا کر ہنستی… کہیں دال چکھتی،کہیں گلگلے تلواتی وہ گھوم رہی ہے۔
    اس کی مدھر ہنسی سے ساری حویلی کھلکھلا رہی ہے۔ برکھا کی بوندوں کے ساتھ اس کی پائل،چنر اور گھاگھرے کے گھنگرؤں کا سرگم مدھر تال بن رہا ہے۔
    ٹھا کر جب دیکھے کا تو کیسا خوش ہو گا۔ارد کی مکھنی دال،سیم اور آلو کی بھاجی،بوندی رائتہ اور ساتھ میں سوجی کے حلوے کی سوندھی سوندھی مہک سارے گھر میں چکرا رہی ہے۔
    ”اری اور بہو رانی!” اس کی ساس نے بڑے پریم سے پکارا۔
    ”جنداں کو بول جلدی ہاتھ چلا… دیکھ تو کیسا پانی برس رہا ہے۔ سب کھالوں میں بھر جائے گا یہ پانی۔ایسے ہی کھالے میں پھسل گیا تھا ٹھاکر کا پاؤں…ایسا گرا کہ کولہے کا جوڑ ہل گیا۔ بہتیرا دوا دارو کیا، مگر لنگ رہ ہی گیا ناں،میں تو اس کی آواز سن کے دکھی ہو جاؤں ہوں۔ ”ا س کی ساس کی آواز بھیگی ہوئی تھی۔ اتنے میں ٹھاکر اندر آیا۔ لنگ والا پاؤں پہلے اندر رکھا۔ ایسا گھبرو جوان ہے، یہ لنگ تو کالا ٹیکہ ہے اس کا۔ بیلا نے سوچا ٹھاکر آج جلدی آگیا۔ برسات منانے آیا ہوگا۔ اس کا جیا دھڑ دھڑ کرنے لگا۔ جلدی سے ستو کا گلاس اور پوڑوں او ر گلگلوں کا تھال لے کر آئی تو وہ مائی سے کہہ رہا تھا:
    ”دیکھ مائی! آج میں جلدی آگیا کہ تو چنتا کرے گی۔” بیلا کے مہاور سے منڈے ہاتھوں سے گلاس پکڑ کر مسکرایا اور ہاتھ بڑھا کر پچھلی کھڑکی بند کر دی کہ کہیں اس کی پیاری پر پیچھے سے آتی بو چھاڑ کی کوئی چھینٹ نہ پڑ جائے۔
    بیلا کے شرنگھار(سجاوٹ) کو غور سے دیکھا پھر اس کا ہاتھ پکڑ قریب ہی بٹھا لیا۔
    ”میگھا (بادل) کو تو نجانے کیسا غصّہ ہے جو ایسے برس رہا ہے…مانو سبھی کو بہا کر لے جائے گا…ہر طرف پانی ہی پانی ہے” ۔
    اور سر جھٹک کر باہر کی طرف دیکھتے ہوئے بولا:
    ”بس اب یہیں اندر بیٹھی رہو ہمارے پاس۔کہیں بھیگ کر تاپ نہ چڑھ جائے۔جنداں پروس دے گی رسوئی۔جانے کب دھوپ نکلے گی اور پانی سوکھے گا۔”

    ٭…٭…٭




  • اللہ کی مرضی — احسان راجہ

    یہ شاید 1988ء کے آس پاس کی بات ہے، یاد نہیں کیوں میں ان دنوں گائوں گیا ہوا تھا۔ باہر زمینوں میں ہریالی تھی، یعنی برسات کے بعد کے دن تھے۔ بارانی علاقوں میں سبزہ ساون کے بعد ہی نظر آتا ہے۔ عصر کے بعد کا وقت تھا اور بیٹھک میں، میں اکیلا ہی تھا۔ اس وقت ہمارا گھر گائوں کے شروع میں ہی تھا۔
    ”السلام و علیکم۔” دروازے پر اچانک نمودار ہونے والے پردیسی نوجوان نے سلام کیا۔
    میں نے اسے اندر آنے کو کہا مگر اس نے ”جلدی” کی معذرت کرلی اور گائوں کے چوکی دار کا پتا پوچھا۔ مجھے علم تھا کہ وہ آج تحصیل آفس گیا ہوا ہے۔ نووارد کو جب میں نے یہ بتایا تو وہ اندر آگیا اور بولا: ”میں نے دراصل سپاہی شیر محمد ولد بہادر خان کے گھر جانا ہے۔”
    میرا ماتھا ٹھنکا۔ گائوں کے بیش تر نوجوان فوج میں ملازم تھے۔ یہ آنے والا جوان بھی بہ ظاہر ڈیل ڈول، خاص کر اپنے بالوں کے سٹائل سے فوجی ہی لگ رہا تھا۔
    ”خیریت تو ہے؟ اس کے بیٹھتے ہی میں نے پوچھ لیا۔





    ”وہ جی دراصل شیر محمد سیاچن میں ایک چھوٹی سی لڑائی میں شہید ہوگیا۔ میرا نام شادی خان ہے۔ میں سٹیشن ہیڈکوارٹر سے یہی اطلاع دینے آیا ہوں۔” اس نے اپنے یہاں آنے کی وجہ تفصیلاً بیان کردی۔
    یہ وہ دور تھا جب موبائل تو کیا لینڈ لائنبھی اتنے عام نہیں ہوئے تھے اور ٹیلی گرام کی بروقت ترسیل دور دراز دیہاتوں کے لیے ایک مشکل بلکہ ناممکن عمل تھا۔ شیر محمد کا گھر زیادہ دور نہیں تھا۔ میں بجھے دل کے ساتھ اسے لے کر اُدھر چل پڑا۔
    شیر محمد گائوں کا ہردل عزیز نوجوان تھا۔ خوب صورت، لمبا تڑنگا، شوخ طبیعت، مگر حد درجہ ہم درد اور ملنسار۔ مڈل پاس کرنے کے کچھ ہی عرصہ بعد علاقائی روایت کے مطابق فوج میں چلا گیا تھا۔ اس دوران وہ گائوں کی طرف سے کبڈی بھی کھیلتا رہا تھا اور ارد گرد کے قصبوں میں شیرو کے نام سے کافی مشہور بھی ہوگیا تھا۔ میں نے جب کبڈی کا ذکر کیا تو شادی خان چونکا۔
    ”پھر تو میں نے اسے کبڈی کھیلتے دیکھا ہوا ہے۔ میں خود اسی علاقے کے فلاں گائوں کا رہنے والا ہوں۔ آرمی والوں نے اسی تعلق کی وجہ سے یہ ڈیوٹی میرے ذمہ لگائی ہے۔” شیر محمد کی شادی دو سال قبل اپنی پھوپھی کی بیٹی نسیم سے ہوئی تھی اور اس کا شیر خوار بیٹا بھی تھا۔
    ہم شیر محمد کے گھر پہنچ چکے تھے۔ وہی دیہاتی طرز کا گھر، پیچھے ایک لائن میں تین چار کمرے، سب کمروں کے سامنے ایک لمبا سا برآمدہ اور آگے بڑا کھلا صحن، چار دیواری زیادہ اونچی نہ ہونے کی وجہ سے گھر کا پورا منظر ہمارے سامنے تھا۔ کمرے مشرق کی طرف ہونے کی بنا پر سایہ برآمدہ سے باہر بھی کافی پھیل چکا تھا۔ شیرو کی بھابھی تندوری میں لکڑیاں جلا رہی تھی، اس کی ماں تخت پوش پر بیٹھی شاید نماز یا تسبیح پڑھ رہی تھی۔ اس کا بھائی اور والد مویشیوں کو باندھتے پھر رہے تھے۔ لگ رہا تھا کہ ابھی ابھی انہیں چرا کر لائے ہیں۔ نسیم ایک چارپائی پر سمٹ کر بیٹھی تھی۔ جیسے بیٹے کو دودھ پلا رہی ہو۔ شیرو کی دونوں چھوٹی بہنیں، جوکہ اتنی چھوٹی بھی نہیں تھیں،۔ دوسری چارپائی پر بیٹھی شیرو کی بھتیجی کے ساتھ کھیل رہی تھیں اور قہقہے لگا رہی تھیں۔ ہمیں دیوار کے پاس کھڑا دیکھ کر گھر کا کتا بھونکتا ہوا ہم پر لپکا۔ شاید وہ شادی کو بری خبر سنانے سے منع کررہا تھا۔ ہماری ہمت بھی نہیں بن رہی تھی کہ کون کس طرح اس ہنستے کھیلتے اور پرسکون ماحول میں ایسی اندوہ ناک خبر سنائے۔ کتے کے اچانک بھونکنے پر شیر محمد کا معصوم بیٹا نیند سے جاگ کر زور زور سے رونا شروع ہوگیا تھا۔ ہوسکتا ہے پریوں نے چپکے سے اس کے کانوں میں کوئی منحوس سرگوشی کردی ہو۔ سارا گھر ہماری طرف متوجہ ہوچکا تھا۔ چناں چہ میں نے ہمت کرکے شیرو کے بڑے بھائی احمد کو آواز دے ہی دی۔ اس نے وہیں کھڑے کھڑے جواب دیا۔
    ”بھائی اندر آجائو۔”





    اس دوران ہم ذرا پیچھے ہٹ کر اوٹ میں چلے گئے تھے۔ میرا خیال تھا کہ ایک بوڑھے باپ کو یہ الم ناک خبر نہ سنائی جائے۔ جوان بیٹے کی موت کی خبر چہ جائے کہ وہ ایک عظیم موت تھی، شہادت کی موت۔ مگر پھر بھی ایک بیٹے کی موت تھی۔ لمحہ بھر وقفہ کے بعد ہم نے احمد کے بہ جائے اس کے والد کو دروازے سے نکلتے دیکھا۔
    ”اُف خدایا یہ کیا ہوگیا۔ اب کیا ہوگا۔” ہم ایک دوسرے کو دیکھ ہی رہے تھے کہ وہ ہمارے قریب آگئے۔
    ”کی گل اے پتر اندر کیوں نئیں آئے؟”
    ہم خاموشی سے زمین کو گھور رہے تھے۔ ہماری خاموشی ہمیں مشکوک بنا رہی تھی۔ جہاں دیدہ بزرگ نے تھوڑا سا توقف کیا اور ہمیں غور سے دیکھتا رہا۔ پھر شادی خاں کو کندھوں سے پکڑ کر اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پرُاعتماد آواز میں بولا:
    ”اوئے تو میرے پتر شیرے دی کوئی خبر لے کے تے نئیں آیا؟”
    ان کی اس بات پر ہم دونوں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔
    شادی خان بولا:
    ”ہاں جی چاچا جی تہاڈا شیر محمد شہید ہوگیا اے۔”آخر کار شادی خان نے کانپتے ہوئے ہونٹوں سے بوڑھے باپ کو اس کے جوان بیٹے کی شہادت کی خبر سنا ہی دی۔
    میں نے دیکھا کہ خاموش بند کس طرح ٹوٹتا ہے اور پھر بے کراں پانی کس طرح بہ نکلتا ہے۔ ان کا چہرہ آسمان کی طرف تھا۔ ہاتھ اوپر اُٹھے ہوئے تھے اوروہ زمین پر اکڑوں بیٹھتے جارہے تھے۔ جو الفاظ میں سن پا رہا تھا وہ شاید یہی تھے۔
    ”اچھا میرے پُتر! اچھا میرے اللہ! اللہ دی مرضی۔”
    ابھی تک گلی میں ہم تینوں ہی تھے۔ مگر چچا کی یہ حالت دیکھ کر دو نوجوان پڑوسی بھی آگئے تھے۔
    ”کی ہویا چاچا… کیا ہوا چاچا” پاس آکر وہ دونوں نوجوان بولے۔
    میرے منہ سے صرف اتنا ہی نکل سکا۔
    ‘شیرا شہید ہوگیا ہے۔”





    ہم شیرے کے والد کو سہارا دے کر دروازے کی طرف لانے لگے تو محسوس ہوا کہ وہ باہمت بزرگ اپنے زور پر خود چل رہا ہے۔ پڑوسی لڑکے بھاگ کر اندر احمد کے پاس گئے اور اسے صورتِ حال سے آگاہ کیا۔ مگر کیا شان تھی جبر اور حوصلہ کی بھاگ کر آیا اور اپنے والد سے لپٹ گیا۔
    ”اباجی صبر… ابا جی صبر۔” اور آگے سے بوڑھا والد کہہ رہا تھا: ”اوئے شیر محمدا۔ اے تے میری واری سی، تو کیویں لے لئی۔”
    یہ الفاظ جب صحن میں گونجے تو پھر کیا باقی تھا جو کسی سے پوشیدہ رہتا؟۔ سب کچھ آشکار ہوگیا۔ نسیم اوڑھنی لپیٹ کر روتے بچے کو لیے کمرے کے اندر چلی گئی تھی۔ احمد کی بیوی تندوری میں پانی انڈیل کر وہاں ساکت بت بنی کھڑی تھی۔ کتا بھی کچھ محسوس کر چکا تھا کیوں کہ دور کونے میں جاکر بیٹھ گیا تھا۔ شیرے کی ماں شیرنی کی طرح لپک کر شادی خان کو اُچک کر چارپائی پر لے جاچکی تھی۔ وہ پوری تفصیل جاننا چاہتی تھی۔ شیرے کی بہنیں سہمی سہمی اُسی چارپائی کے پائیوں پر جھکی گفت گو کی طرف متوجہ تھیں۔ مگر شادی خان کے پاس نہ کچھ تھا نہ ہی بتا سکا۔ تھوڑی دیر کے بعد مسجد سے اعلان ہورہا تھا کہ راجا بہادر خان کا بیٹا سپاہی شیر محمد سیاچین میں شہید ہوگیا ہے۔ جنازے کا اعلان کل میت آنے کے بعد کیا جائے گا۔
    بس پھر کیا تھا، آناً فاناً پورا گائوں ان کے گھر موجود تھا۔ رونے کی چیخ و پکار میں عورتوں کے بین مزید اضافہ کررہی تھی۔ لوگوں کے گھروں سے چارپائیاں آرہی تھیں۔ پڑوسیوں نے سارے ڈھور ڈنگر اپنے یہاں منگوا لیے تھے اور جگہ کو چار پائیوں کے لیے صاف کردیا تھا۔ قریبی رشتہ داروں کی طرف سے کھانا بھی آگیا تھا۔ مگر دکھی دلوں میں کہاں کچھ کھانے کی تمنا تھی۔
    رات ہوچکی تھی۔ گھر والوں کا دماغ تو تقریباً مائوف تھا۔ رشتہ داروں اور دوست احباب کو اطلاع بھجوائی جارہی تھی۔ نوجوان گھوڑوں، سائیکلوں اور موٹرسائیکلوں پر بے لوث یہ ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔ کسی نے خود سے سوزوکی پک اپ نسیم کے میکے والوں کو لانے کے لیے ان کے گائوں بھجوا دی تھی۔ نسیم خود گُم صُم بچے کو بانہوں میں بھینچے برآمدے کے ستون سے ٹیک لگائے زمین پر بیٹھی تھی۔
    رات کافی بیت چکی تھی۔ رش بھی تھم گیا تھا۔ مگر پھر بھی کافی مرد و زن اندر اور باہر موجود تھے۔ ہر کوئی اپنے اپنے ذہن کے مطابق شہادت کے بارے قیاس آرائیاں کررہا تھا۔ مگر سب کی متفقہ رائے تھی کہ گولی سینے پر کھائی ہوگی اور کئی دشمنوں کو مار کر شہید ہوا ہوگا۔ کوئی زندگی کے قصے سنا رہا تھا، تو کوئی کبڈی کے کارنامے۔ ماں اس کی لائی ہوئی چیزوں کو سینے سے لگا کر رو رہی تھی تو بھائی اپنے اکیلے رہ جانے کے احساس سے پر آنسو بہا رہا تھا۔ والد بہادر خان بتا رہا تھا کہ ایک ہفتہ بعد تو اُن کی یونٹ نے سیاچین سے واپس آجانا تھا۔ تب اس کو ایک مہینہ کی چھٹی مل جانی تھی۔ ابھی یہ یادگار یادیں بانٹی ہی جارہی تھیں کہ باہر سے خواتیں کے رونے کی آوازیں آنے لگیں۔ شاید نسیم کے گھر والے آ گئے تھے پھر سے کہرام مچ گیا۔ ہر عورت شیر محمد کی والدہ اور بیوی سے گلے لگ کر رو رہی تھی اور اپنے جذبات سے مغلوب ایسے دل خراش بین کررہی تھی کہ اپنے تو اپنے، غیر بھی سسکیوں کے ساتھ رونے پر مجبور تھے۔ مگر کیا مجال کہ نسیم کی آنکھوں سے ایک قطرہ بھی ٹپکا ہو۔ وہ پتھر کی مورتی کی طرح بے حس و بے جان بیٹھی رہی۔ کون سویا تھا رات کو مگر، جس نے بھی صبح دیکھا نسیم اسی جگہ بیٹھی پھٹی پھٹی آنکھوں کے ساتھ خلائوں میں گھور رہی تھی۔
    شیر محمد کے گھر والوں کے لیے تو زندگی تھم چکی تھی مگر قدرت کے شب و روز رواں دواں تھے۔ جوں جوں سورج بلند ہورہا تھا۔ لوگوں کا رش پھر سے بڑھتا جارہا تھا۔
    ”بھائی بہادر اللہ دی مرضی” یہ وہ ڈائیلاگ تھا جو مردوں میں بہ کثرت استعمال ہورہا تھا اور عورتوں میں بھی شیر محمد کی والدہ ہر کسی کو جواب میں کہہ رہی تھیں۔ ”بس جی اللہ دی مرضی”۔ ماحول انتہائی سوگوار تھا۔ نسیم کو غشی کے دورے پڑ رہے تھے۔ اتنی دیر سے بھوکی پیاسی تھی، یہ حالت تو ہونی ہی تھی۔
    ”نسیم بیٹے کچھ کھا پی لو۔ اپنے لیے نہ سہی اس ننھی سی جان کے لیے ہی سہی۔”




  • انجان راستہ — ثاقب رحیم خان

    انجان راستہ — ثاقب رحیم خان

    نہ جانے اس سے پہلے کا موسم کیسا تھا۔ کسی بہار کسی خزاں کا کچھ پتہ نہیں تھا آگاہی کو صرف کچھ نقوش چھوڑے تھے۔ نقوش بھی کہیں پر صاف اور واضح تھے تو کہیں پر زمانے کے گردوغبار سے گردآلود اور دھندلا چکے تھے۔ جس سے وہاں کے موسم کے مزاج سے واقف ہونے ، صورت حا ل کا اندازہ لگانے اور اُس کو صحیح طرح سمجھنے میں اور بھی دقت پیش آرہی تھی۔ جو تھوڑے بہت صاف نقوش تھے وہ بھی حل طلب تھے۔ جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ اک ویران سٹرک پر پڑا تھا جس کی چاروں جانب حد نظر تک ویرانی تھی۔ اس کے ماتھے پر پسینے کے چند قطریں تھے جس سے اس کے چہرے پر گھبراہٹ اور ڈروخوف کے آثار صاف ظاہرہورہے تھے ۔ پسینہ ہاتھ سے پونچھ لیا اور چاروں جانب نظر دوڑائی مگر عقل کے پردے پر کچھ عیاں نہ ہوا کہ ایسی صورت حال میں کیا کیا جائے جہاں کوئی اپنا نہ ہو، جہاں موسم بھی اجنبی ہو، فضاء میں اپنائیت کا مادہ ناپید ہو، ہر ڈگر ہر راستے میں انجانا پن ہو۔ اُس گمنام منظر کے پیش کردہ عکس کے باوجود بھی وہ ہمت نہ ہارا۔اٹھ کھڑا ہوا اور سامنے سنسان راستے پر چل پڑا۔ راستہ کچھ بے معنی سا معلوم ہور ہاتھا لیکن کوئی مقصد تھا، کوئی منزل تھی جو نظروں سے اوجھل تھی مگر اسے کھوجنے کی جستجو اسے اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔





    ابھی اس نے منزل کو پانے چند قدم اٹھائے ہی تھے کہ راستے کے عین بیچ و بیچ چند چھوٹے چھوٹے پتھر نظر آئے جس سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے تھی لیکن پھر بھی جان بوجھ کر دل چسپی لی۔ کچھ دیر وہ پتھروں کو دیکھتا رہا۔ فیصلہ کرنے کا اختیار اس کو اپنے اوقات سے پھلانگنے پر اُکسا رہا تھا۔ اس نے پتھروں میں سے دو کو اٹھایا جنہیں وہ اٹھانا چاہتا تھا اور باقی سڑک پر پڑے پتھروں کو لات ما ر کر سامنے سے ہٹا دیا۔ ہاتھ میں لئے دو پتھروں سے من کو بہلانے لگا۔ وہ پتھروں کو ایک ہاتھ سے اُچھال کر دوسرے میں اور دوسرے سے اچھال کر پہلے والے ہاتھ میں کیچ کر نے لگا۔ اسے پتھروں سے کھیلنے میں مزہ آرہاتھا۔ جی بھر آنے پر نظر انداز کردیا۔ پھر دونوں پتھروں کو اُس بھانت سے پکڑا جس سے یوں ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ دونوں کو تول کر ایک دوسرے سے موازنہ کر رہاتھا۔ سیدھے ہاتھ والا پتھر دوسرے کی نسبت وزنی تھا جسے رکھ کر دوسرے کو پھینک دیا۔ ماحول سے اثرانداز ہونے کی وجہ سے زورزور سے ہنسنے لگااور اپنے آپ سے مخاطب ہوکر بولا:
    "پاگل ہوں۔۔۔۔! پاگل ہوں میں، سنو میں پاگل ہوں میں۔”
    خودپرستی اور فطرت سے مجبور ہوکر اس پتھر کو بھی پھینکنے کا ارادہ کر لیا جس کو اس نے باقی سارے پتھروں پر فو قیت دی تھی جو اس کو بھا ری، جاذب نظر اور سفر طے کرنے کے دوران جی بہلانے کے لیے اچھا لگا تھا۔ اس نے وہ پتھر بھی پھینک دیا اور رُکے قدم پھر سے منز ل کی کھوج میں اٹھے۔
    طویل سفر کے بعد جب تھک گیا تو ایک طرف بیٹھ گیا، تھکا ہارا جسم اور کھویا دماغ دونوں ساتھ نہیں دے پارہے تھے۔ ادھراُدھر دیکھ رہا تھا کہ شاید کوئی ہو جو اسے راستہ دکھائے، کوئی ایسا جو اسے منزل تک پہنچائے۔ وہاں بیٹھے تھوڑی دیر گزری ہی تھی کہ اس کے ذہین میں اک خیال آیا۔ وہ اچانک زمین پر یوں بیٹھ گیا جیسے بچے کھیلنے کے لیے بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ بھی اس طرح سے کھیلنے لگا، اسی طرح تصویریں بنانے اور مٹانے لگا، اُلٹی پلُٹی لکیریں کھینچنے لگا جس طر ح بچپن میں ہوتا ہے۔ وہاں وہ ایسے مگن ہوگیا کہ بھول ہی گیا کہ وہ مسافر ہے۔ اس انجان راہ پر جی لگانا اسے منزل کو پالینے کی آس سے محروم کرسکتا ہے۔ یہاں کے عارضی لطف اسے من کی آواز سے روشناس کرانے نہیں دے گی۔ ایسا لگنے لگا کہ وہ سب کچھ فراموش کر چکا ہے۔ راستے میں حائل مشکلات کے چنگل میں وہ بری طرح پھنس گیا ہے۔ وقتی طور پر تھوڑی بہت خوشی بھی اس کے چہرے پر نمایاں ہو چکی تھی۔ جس کو وہ کل کائنات سمجھ بیٹھا تھا۔ یوں نادانوں کی طرح کھیلنا اس کے لیے وقت کے ضیاع سے زیادہ اور کچھ نہیں تھا۔ جہاں وہ خو د کو جس ماحول سے واقف کروانے کی کوشش کر رہا تھا سب اس کی نادانی اور کم فہمی تھی کیوں کہ وہ اس کے کردار کے بالکل منافی تھا مگر جب اند ر کی دستک سنائی دینے لگی اور عقل پر چمک پڑی تو کھیلتے کھیلتے اچانک اٹھ گیا اور کھیلنے پر پشیمانی ظاہر کی۔





    "چاروں طر ف ویرانی ہے خاموشی ہے خوف ہے ۔ ناجانے کہاں ہے میری منزل؟ کہاں جارہا ہوں میں؟ اور کتنا ڈھونڈوں گا اپنی اس نامعلوم منزل کو۔ کب تک گم نامی کے اس وسیع وعریض سمندر میں یوں بے بسی سے خود کو بچانے کے لیے ہاتھ پائوں مارتا رہوں گا جس کا ہر قطرہ اپنے اند ر گم نامی اور حیرت کا ایک الگ جہاں سمائے ہوئے ہے۔ ہر پل ہر لمحے نئے امتحانا ت سے واسطہ پڑتا ہے۔”
    ناجانے اس طرح کے اور کتنے سوالات اس کے دماغ میں گردش کر رہے تھے۔ اس نے لمبی آہ بھری اور پاس ہی چٹان کے ساتھ آنکھیں بند کر کے ٹیک لگا لی۔ ٹیک لگاتے ہی اس کے دماغ میں امید کی ایک کر ن چمکی، شاید اس کی آنکھوں کو ئی امید بھر آئی تھی۔ اس نے آنکھیں کھول کر اوپر چٹان کی بلندی کو دیکھا تو اوپر چڑھنے کی تمناّپیدا ہوئی جو ازل سے ہی فطرتوں کا لا حاصل ٹکڑا رہا ہے۔ ہمیشہ سے جو خواہشوں کی مترجم بن چکی ہے۔ وہ بلا کسی تا خیر کے اوپر جانا چاہتا تھا کیوں کہ اونچائی اور وہاں کی فضا اسے اپنی جانب راغب کر رہی تھی جسے وہ ہر حال میں پانا چاہتا تھا۔ اٹھ کھڑا ہو ا اور جلدی اوپر چڑھنے لگا۔ چڑھتے وقت اس نے صحیح غلط، غرض کسی راستے کی کوئی پرواہ نہ کی اور بالآخر اوپرپہنچ کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر فضا میں لہرانے لگا۔
    "کوئی ہے۔ ارے کوئی ہے جو میری مد دکر ے؟” مجھے یہاں اس مشکل سے نکالے۔ "اپنے ہم ذات اور ہم اثر سے مد د اس کے کوئی خاص کام نہ آئی۔
    "کوئی میر ی آواز سن رہا ہے؟”
    وہ نظریں دوڑاتا رہا۔ چیختا رہا کوئی نہیں تھا اس کی پکار سننے والا۔ اند ر کی امید کا چراغ بجھنے کو تھا کرنیں تاریکی کا روپ دھار رہی تھی لیکن اس نے بجھنے نہیں دیا اور ایک بار پھر کوشش کی۔
    "کوئی ہے۔ کوئی تو آئے میر ی مد د کو ۔ آپ لوگ میر ی آواز کیوں نہیں سن رہے ہیں۔”
    اس بار کی ناکامی نے ساری امیدیں توڑ دی سب ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔ آس کے آئینے میں دراڑیں آنے لگی جس نے کوشش کی شکل کو بھی بدنما کر دیا۔
    "میں بھی کتنا بے وقو ف ہوں۔ مد د کے لیے چیخ رہا ہوں وہ بھی ویرانے میں جہاں کسی کا نام ونشان تک نہیں۔ اگر ہوتو میر ی مدد کو کیوں کر آئنگے کہ خود ان پر بھی یہی بیتِ رہی ہوگی۔ بے کا ر رہا سب۔۔۔۔! سب بے کار۔”
    اسے یوں بے جا اپنے ہم ذات سے مد د طلب کر نے کا احساس ہونے لگا تھا جو بالکل بے معنی اور بے ثمر ثابت ہورہاتھا ۔ وہ اترنے کی نیت سے مڑنے ہی والاتھا کہ کہیں سے اسے دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو دور ایک چھوٹا سا کمر ہ تھا جس کے سامنے اور اردگرد مختلف رنگوں کے کپڑے بندھے نظر آرہے تھے ۔ یہ دیکھ کر اس کا مایوس چہرہ یوں کھل اٹھا جیسے بنجر زمین پر بارش کی بوندیں آگری ہواور تپش کا زور ختم ہوچکا ہو۔




  • خربوزہ کہانی — عائشہ تنویر

    آم پھلوں کا بادشاہ ہے اسی لیے سب کا راج دلارا ہے۔ امیر، غریب سب کی آنکھوں کا تارا ہے۔ اسی لئے سخن کے بادشاہ مرزا غالب نے پھلوں کے بادشاہ کے بارے میں کہا تھا کہ آم میں دو خصوصیات ہونی چاہئیں۔ ایک یہ کہ میٹھا ہو، اور دوسرا یہ کہ زیادہ۔ اپنی اسی ہر دل عزیزی کے باعث اس کا مزاج اور ریٹ آسمان سے باتیں کرتا ہے اور اعلیٰ کوالٹی کا آم مغرور حکمرانوں کی طرح اپنے ملک کی عوام سے ملنے کی بجائے زرمبادلہ کے بہانے باقی دنیا کی سیر کو چلا جاتا ہے۔ اور زیادہ تو دور کی بات، عوام تو تھوڑے کی پہنچ سے بھی ایسے دور ہیں جیسے بچوں کی پہنچ سے دوائیں۔ عوام بے چاری محبت سے بے قرار جو جیسا ملے اس پر ہی اکتفا کرتی ہے۔
    لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے۔ جمہوریت آچکی ہے اور پھلوں میں بھی آم کی آمریت ختم ہو چکی ہے۔ اب وقت ہے آم سے عوام تک کے سفر کاجی ہم بات کر رہے ہیں عوامی پھل خربوزے کی۔ جو آم جیسی چمکتی زرد رنگت تو نہیں رکھتا، لیکن اس کا پھیکا پیلا پن بھی کچھ لوگوں کو بہت بھاتا ہے۔
    آم نے اگر محاوروں میں جگہ بنائی ہے اور ”آم کھائو پیڑ نہ گنو، آم کے آم گٹھلیوں کے دام” سننے میں آتا رہتا ہے تو ہمارا خربوزہ بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ ”خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے” اور ”چھری خربوزے پر گرے یا خربوزہ چھری پر کٹتا خربوزہ ہی ہے” بھی آپ نے سن ہی رکھا ہوگا۔
    خربوزہ غریبوں کا عوامی پھل ہے، اسی لئے دوا بھی کہلاتا ہے اور غذا بھی۔ اپنے عوامی مزاج کی وجہ سے یہ آم کی طرح خوشبو پھیلاتا اپنی آمد کا اعلان کرتا نہیں آتا، اسے چھپ کر بھی کھا لیا جائے تو گھر میں فساد کا سبب نہیں بنتا اور کسی کو پوچھ بھی لیں تو وہ سارا چٹ کرنے کی حسرت نہیں رکھتا ۔





    درحقیقت خربوزہ لڑکیوں کا پسندیدہ پھل ہے۔ نا یہ آم کی طرح جسم کو موٹاپے کی طرف مائل کرتا ہے اور نہ ہی چاند جیسے چہرے پر داغ کی صورت پمپلز پیدا کرتا ہے ۔آم کی طرح یہ مکھیوں کو دعوتِ عام دے کر گھر کی صفائی پر حرف بھی نہیں اٹھاتا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ اس کے اچار، چٹنی، مربے کی فرمائش کر کے نازک اندام حسینائوں کو امتحان میں نہیں ڈالا جا سکتا۔
    آم کی طرح خربوزے کی گٹھلی بھی اٹ کر آپ کے کپڑوں پر نہیں گرتی۔ یہ آم کی طرح آپ کا منہ بھی پیلا نہیں کرتا، جس سے آپ کے مہذب ہونے کا بھرم بھی رہ جاتا ہے۔ زندگی اور خربوزے میں یہ قدر مشترک ہے کہ پھیکا بھی نکل آئے تو پھینکے نہیں جا سکتے۔ ہم کہتے ہیں پھینکنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔
    بھئی سکرین کا انجکشن صحیح نہیں لگ پایا تو یہ خربوزے والے کا قصور ہے، اس میں بے چارے خربوزے کی کیا غلطی؟ زندگی میں رنگ بھرنا بھی ہماری محنت کا ہی نتیجہ ہوتا ہے اور خربوزے کو ذائقہ بھی ہم اپنی مرضی سے دے سکتے ہیں۔ چاہے تو چینی ڈال کر کھائیں، چاہے نمک… کوئی سلیقہ مند بی بی تو آپ کو اس کی ترکاری بھی بنا دیں گی۔
    خربوزے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے بیج بھی کھائے جاتے ہیں۔ سو اگر یہ پھیکا نکل بھی آئے تو آپ گھاٹے میں نہیں رہے۔ اگر آپ نے گھر میں بکری یا مرغی پالی ہے تو اس کے کھانے کا انتظام چھلکوں اور بیج سے ہو جائے گا، ورنہ کسی حکیم کو دے دیں تو وہ خشک کر کے دوا میں استعمال کرلیں۔
    ہمارے ایک جاننے والے خربوزے کے رسیا ہیں، خربوزہ اس قدر رغبت سے کھاتے ہیں کہ خربوزہ بھی اپنی قسمت پر رشک کرتا ہے ۔کسی وقت بھی آپ انہیں کہیں وہ خربوزے کے فوائد اور آم کے نقصانات پر تقریر کر سکتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ شاید ان کی ذیابیطس ہو جو انہیں آم سے دور ہی رہنے پر مجبور رکھتی ہے۔ کھانے سے پہلے وہ خربوزہ کھاتے ہیں کہ اس سے بھوک کھلتی ہے۔ پھر وہ خربوزہ کھاتے ہیں پیٹ بھرنے کے لئے اور کھانے کے بعد وہ خربوزہ یہ کہہ کر کھاتے ہیں کہ ذرا ہاضمہ ہو جائے۔
    خربوزے میں پانی کی بہت بڑی مقدار شامل ہوتی ہے، سو کھانے کے وقفوں میں جسم میں پانی پورا کرنے کے لیے بھی خربوزہ کھایا جاتا ہے۔
    خربوزے کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ ہر مشکل کا ساتھی ہے۔ جب دل چاہے کھا لیں، چاہے تو تکیہ بنا کر سر کے نیچے رکھ لیں ، لمبے سفر میں ساتھ لے جائیں تو کھانے کے جھنجھٹ سے جان چھوٹے اور راہ میں کسی سے جھگڑا ہو جائے تو اٹھا کر سامنے والے کے سر پر مار دیں، مزے کی بات یہ کہ کسی چیک پوسٹ پر یہ ہتھیار روکا بھی نہیں جاتا بلکہ اگر روک بھی لیا جائے تو یہ اپنی نوعیت کا واحد ہتھیار ہے جسے سامنے والے کو پیش کر کے آپ کی جان بھی چھوٹ سکتی ہے، بلکہ الٹا اگلا آپ کا احسان مند بھی ہو جاتا ہے۔
    جب سے ون ڈش کا غلغہ اٹھا ہے، ہماری رائے میں تو شادیوں میں خربوزہ ہی رکھ دینا چاہئے۔ چاہے کوئی پیٹ بھرنے کو کھائے یا چینی ڈال کر میٹھا سمجھ کر، میزبان تو بری الذمہ ہوں۔
    میزبانی سے یاد آیا، جب آپ کسی کے ہاں دعوت پر جائیں تو آپ اسے بہ طور تحفہ بھی لے کر جاسکتے ہیں۔ چوں کہ یہ سائز میں بڑا ہوتا ہے، اس لیے کم تعداد میں آپ کا شاپر بھی بھر جائے گا اور آپ خرچے سے بچ جائیں گے۔
    اسی طرح بڑی بڑی میزیں خربوزوں کے ڈھیر سے بھر کر میزبان کھانے کی کثرت پر بہ آسانی فخر کر سکتے ہیں اور بریانی کی طرح اسے شاپر میں ڈال کر پار کرنا بھی آسان نہیں ہے۔ سو بے فکر رہیں، آپ کا کھانا کم نہیں پڑے گا ۔
    ہمیں یقین ہے کہ ہماری خربوزہ کہانی سے متاثر ہو کر آپ ایک آدھ خربوزہ تو کھا ہی لیں گے اور ہم نے جو خربوزے کا کھیت لیا ہے وہ نقصان میں نہیں جائے گا۔

    ٭…٭…٭




  • آدھا آدھا ملے تو ہوئے پوری دنیا —- نظیر فاطمہ

    اس بڑے سے شہری اور دیہاتی امتزاج سے بنے گھر کی بیرونی دیوار کے ساتھ سفیدے کے لمبے لمبے درخت ایک قطار سے کھڑے تھے۔ایک درخت کے تنے میں فاختہ کا گھونسلہ تھا۔ فاختہ کے بچے گھونسلے سے سر نکال نکال کر باہر دیکھ رہے تھے ۔سفیدے کے درختوں کے پتے ہلکی ہوا کے سنگ جھوم رہے تھے۔ آسمان کے شمالی کناروں پر اودے اور ہلکے سرمئی رنگ کے بادل اُڑتے پھر رہے تھے ۔ ڈوبتے سورج کی پیشانی سے پھوٹتی کرنیں ان درختوں میں سے چھن چھن کر عجیب دل کش منظر پیدا کر رہی تھیں۔ لان میں کھلے پھولوں کی رنگین ادائیں اپنی جلوہ طرازیاں دکھا رہی تھیں ۔ ایسا دلکش منظر کے دیکھنے والا کھو سا جائے مگر یہ منظر اسی گھر کے ٹیرس پر بیٹھے مقدم چوہدری کی ذرہ برابر توجہ اپنی طرف نہیں کھینچ سکا تھا۔ وہ اُ داس سا خود میں گم سا بیٹھا تھا ۔ یہ الگ بات تھی کہ اس پر یہ اُداسی ذرا سوٹ نہیں کر رہی تھی ۔
    مقدم چوہدری ۔۔مراد چوہدری کا اکلوتا سپوت۔۔۔۔دو مائوں(ایک پیدا کرنے۔۔۔ دوسری پالنے والی) کا لاڈلا بیٹا ۔۔۔ایک بہن کا پیارا بھائی ۔۔ ۔ دادا، دادی کی جان ،اتنے رشتوں کے ہوتے ہوئے بے چارا اُداس اور پریشان بیٹھا تھا ۔وجہ تھی اس کی شادی خانہ آبادی ۔شادی جس کا ذکر خوشی لاتا ہے مگر مقدم چوہدری کے لیے اس کی شادی ایسا درد ِ سر بنی ہوئی تھی جس کا علاج کسی ڈسپرین سے بھی ممکن نہیں تھا۔بیٹے کی شادی کرنی ہو تو ہمارے ہاں ایک ماں کے نخرے سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے ، اس کی تو پھر دو دو مائیں تھیں۔یہیں سے اس کی شامت شروع ہوئی تھی کہ اس کی شادی کے لیے اس کی مائوں کے نخرے آپس میں ٹکرا کر اس کی راہ کی رکائوٹ بن گئے تھے حالاں کہ ساری زندگی اس کی مائیں سوتنیں ہونے کے باوجود شیر و شکر رہی تھیں۔مشکل یہ تھی کہ مقدم چوہدری چاہ کر بھی اپنی کسی ایک ماں کا دل بھی نہیں توڑ سکتا تھا کہ دونوں اس سے برابر کی محبت کرتی تھیں، واری صدقے جاتی تھیں ۔مقدم چوہدری کی پریشانی کو سمجھنے کے لیے آپ کو تھوڑا پیچھے ماضی میں جھانکنا پڑے گا ۔تو آئیے چلیے پھر ۔۔۔۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭





    مراد چوہدری وسیع زمینوں کے مالک تھے۔ انہیں چار بہنوں کے اکلوتے بھائی ہونے کا شرف حاصل تھا۔ پڑھے لکھے تھے مگر رہن سہن اور مزاج خالص چوہدرانہ تھے۔ ان کی پہلی شادی ان کی پھوپھوزاد نگین سے ہوئی تھی۔وہ دل میں اپنی ایک کالج فیلو کے لیے پسندیدگی، نہیں ۔۔نہیں۔۔ قدرے محبت کے جذبات رکھتے تھے اور اس کو دیکھ دیکھ کر دل ہی دل میں یہ شعر پڑھتے تھے۔
    کتھے جے میرا وس ہووئے
    تیری ماں میری سس ہو وئے
    اب دل کی ہر خواہش پوری تو نہیں ہو تی ۔ یہی مراد چوہدری کے ساتھ بھی ہوا کہ اپنے ابا کے سامنے ان کی ایک نہ چلی اوران کے دل کی دل میں ہی دب کر رہ گئی ۔
    ”جب تک ”پھوپھیوں ” کی ”بیٹیاں” سلامت رہیں گی ”ماموئوں ” کے ”بیٹوں ” کو یونہی اپنے جذبات پر فاتحہ پڑھنا پڑے گی۔” چوہدری مراد یہی سوچ کر راضی بہ رضا ہو گئے۔ نافرمانی کا انجام جو جانتے تھے۔ گھر بدری اور جائیداد سے عاق ہونا۔۔اب وہ اتنے بھی مریض ِ عشق نہ تھے کہ دل کی خواہش پوری کر کے اپنی” دنیا ”خراب کر لیتے اور ان کی اس کلاس فیلو کو ان کے ارادوں کی بھنک تک نہیں تھی تو پھر وہ کس بل بوتے پر آگ میں کود جاتے ۔ویسے بھی آگ کے دریا میں ڈوب کر جانا ہر عاشق کے بس کی بات نہیںہے۔
    مراد چوہدری کی والدہ اپنی بھانجی کو بہو بنانا چاہتی تھیں مگر شوہر کے آگے ان کی بھی ایک نہ چلی اور نگین عرف نگو ان کے گھر کی بہو قرار دے دی گئی۔نگو اکلوتی تھی۔ باپ اس کے بچپن میں چل بسا تھا۔ اماں نے ساری عمر محنتیں کر کے اسے پالا پوسا تھا۔ ساری شادی کے دوران مراد چوہدری کے ابا خوشیوں کے ہنڈولے میں جھولتے رہے ، اماں منہ پھلائے رہیں اور بہنوں نے بھائی کی شادی کے خوب خوب ارمان نکالے۔مہندی کی رات بھنگڑے اور لُڈیاں ڈالتی رہیں۔ناچ ناچ کر تھک گئیں تو ڈھولک سنبھال لی ۔ساری رات ڈھولک بجا کر گانے گا تی رہیں۔
    ”میں اُڈی ُڈی جاواں ہوا دے نال۔۔۔۔۔۔”
    ”میں اُڈی ُڈی جاواں ہوا دے نال۔۔۔۔۔۔”
    یہ گانا مراد چوہدری کی سب سے بڑی بہن شہناز بی بی گا رہی تھی جو صحت مندی کے آخری مقام پر تھی۔ پورے چھے من کی ۔۔۔نہ رتی اِدھر نہ رتی اُدھر۔ اُوپر سے اتنے کام والا جوڑا کہ جس کا دوپٹہ ہی سیروں کے حساب سے وزنی تھا ۔ اس کے بعد جو زیورات اُس نے پہن بلکہ لاد رکھے تھے ، ان کاوزن بھی کلو دو کلو تو ضرور ہی تھا۔ ایسے میں اول تو اُڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور بالفرض محال ایسا ہو بھی گیا تو ہوا بے چاری پریشانی سے سر پٹختی رہے گی کہ اس پر یہ کیا افتاد آن پڑی ہے۔
    اماں جل جل کر سنتی رہیں اور سُن سُن کر جلتی رہیں۔
    ”نی چُپ کر جاو ، اب اور جا کر سو جائو۔ تمہاری بے سری آوازوں نے سر میں درد کر دیا ہے۔” آخر بھنی ہوئی آواز میں بولیں۔
    ”ہن میں بتائوں گی نگو کو ۔۔۔۔ساس کس چیز کا نام ہوتاہے۔” شادی کے روز ہی ان کی والدہ نے اپنی بیٹیوں کے سامنے اپنے ارادوں کا ذکر کر دیا۔ کیا کرتیں برداشت جو نہیں ہو رہا تھا۔





    ” بس کر دے اماں! نگو بہت اچھی لڑکی ہے ،تیری بڑی خدمت کرے گی۔ تو ایسے اس سے بیر نہ باندھ۔۔۔حمیرا کا بھی تجھے پتا ہی ہے کتنی لڑاکا اور کٹنی قسم کی لڑکی ہے ۔۔۔چاہے تیری بھانجی ہے مگر ایک بات لکھ لو وہ بیاہ کر آجاتی تو سب سے پہلے تجھے ہی دیوار سے لگاتی۔” ان کی بڑی بیٹی نے بڑے عادلانہ انداز میں صورتِ حال کا تجزیہ کیا ۔
    نگو بہت ہنسوڑ اور قدرے لاپروا سی لڑکی تھی۔ بڑی سے بڑی بات کو چٹکیوں میں اُڑا دینے والی۔ گھر میں یوں گُھل مل گئی جیسے سالوں سے یہاں رہ رہی ہو۔ گھر میں ہر وقت اس کے ہنسنے بولنے کی آواز آتی رہتی ۔وہ جانتی تھی کہ وہ ساس کو پسند نہیں ہے لہٰذا اس نے ساس کو کبھی شکایت کا موقع نہیں دیا تھا۔ وہ موقع ڈھونڈتی رہ جاتیں اور نگومکھن میں سے بال کی طرح نکل جاتی ۔
    ” ہے ای میسنی ۔۔۔چلاک(چالاک)ماں کی چلاک دھی۔” ایسے ہر موقع پر مراد کی اماں ہر دفعہ کلس کر رہ جاتیں۔
    اگر کبھی وہ خوا مخواہ اس کے سر ہو جاتیں تو وہ ہنس کر ٹال دیتی۔ کھُل کر وہ نگین کی مخالفت نہیں کر سکتی تھیں کہ مراد کے ابا کا خوف تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ نگو کا کچھ نہ بگاڑ سکیں۔ وقت دھیرے دھیرے گزرنے لگا۔ مراد اور نگین کی شادی کو دو سال گزر گئے مگر ان کا آنگن سونا رہا تو مراد کی اماں کو جیسے ایک موقع ہاتھ لگ گیا۔ پہلے ڈیرھ سال تک تو وہ دبی دبی زبان میں مراد کو احساس دلاتی رہیں مگر جب دو سال گزر گئے تو وہ علی الاعلان بچہ نہ ہونے کا واویلا کرنے لگیں۔اب بھی نگو اماں ابا کوچائے دینے آئی تھی جب اماں نے طنز کیا۔
    ” تیری یہ خدمتیں ہمارے کسی کام کی نہیں ہیں اگر ہمارا آنگن یونہی سونا رہا تو کیا فائدہ تیرا ۔” نگوکے چہرے کا رنگ پل میں اُڑا تھا مگر اس نے فوراً خود کو سنبھال لیا۔
    ” فکر نہ کرمامی! اللہ کرم کرے گا۔” وہ مُسکر ا کر بس اتنا کہہ سکی ۔ ان کی بات جو دل میں تیر بن کرگھس گئی تھی۔
    ”جا پتر تو جا کے مراد کو دیکھ ۔” ابا نے اماں کو گھور کر دیکھا اور نگو کو جانے کا اشارہ کیا۔
    ” تو کیا اس کے پیچھے پڑی رہتی ہے؟ کچھ خدا کا خوف کیا کر ۔جب اللہ کی مرضی ہو گی اولاد بھی ہو جائے گی۔” ابا نے اماں کو سمجھایا، جو ناک سکوڑ کر دوسری جانب دیکھنے لگی تھیں۔
    ” میں اب اور انتظار نہیں کر سکتی۔بس آپ مراد سے کہیں اسے شہر لے جا کر ڈاکٹر کو دکھائے۔” اماں نے چائے کا گھونٹ حلق میں اُتار کر کہا۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
    چند روز بعد چوہدری مراد شہر گیا تو نگو کو بھی اپنے ساتھ لے گیا۔ دونوں کے ٹیسٹ ہوئے اور جو رپورٹ آئی اس نے نگوکے پیروں کے نیچے سے حقیقتاً زمین کھینچ لی۔ رپورٹس کے مطابق وہ ماں بننے کی صلاحیت سے محروم تھی۔
    گھر واپس آکر نگوکمرے میں بند ہو گئی۔مراد چوہدری ڈھیلے سے انداز میں اماں ابا کے پاس ٹک گیا۔
    ” کیا بنا پتر! تم لوگ گئے تھے ڈاکٹر کے پاس۔” ابا نے اس کی اُتری شکل دیکھ کر کہا۔
    مراد چوہدری نے ٹھنڈی آہ بھر کر ساری بات بیان کرنا شروع کی۔ جسے سُن کر ابا کا دل ڈوبنے لگا اور اماں کے دل میں سکون کی ٹھنڈی لہریں اُٹھنے لگیں اور کیوں نا اُٹھتیں ”نقص” کون سا ان کے بیٹے میں تھا۔
    ” ہوں! اب میں اس نگو کی ایسی کی تیسی کروں گی۔ اپنے بیٹے کو دوسری شادی کروائوں گی اور وہ بھی اپنی بھانجی حمیرا سے۔” ابا مراد چوہدری کی دل جوئی کرنے لگے اور اماں دل ہی دل میں منصوبہ بندی کرنے لگیں۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭





    پورا ایک ہفتہ نگو نے کمرے میں بندہو کر اپنے بانجھ پن کا سوگ منایا ۔جو کمی اللہ کی طرف سے ہو اُسے پورا نہیں کیا جاسکتا ، اُس پر بس صبر کیا جا سکتا ہے اور نگو نے اس کمی کو قبول کر کے صبر کر لیا ۔ایک ہفتے بعد دوپہر کو کمرے سے نکلی تو سب قیلولہ کررہے تھے۔ وہ بر آمدے میں سے گزر کر صحن میں لگے نلکے کی طرف جانے لگی توابا کے کمرے سے اماںکی آواز آئی جو اپنی بہن (حمیرا کی ماں)کے ساتھ محو گفتگوتھیں۔ دونوں کو شاید اس کے کمرے سے نکلنے کی ذرا اُمید نہیں تھی جو آواز کا والیوم کم کرنے کی زحمت نہیں کی گئی تھی۔
    ” بس بشیراں! اب تو تیاری رکھ دو مہینے کے اندر میں نے مراد کا ویاہ اپنی حمیرا سے کروا دینا ہے۔ بڑی اُڈی اُڈی پھرتی تھی نا یہ نگو کی بچّی ۔ اب منہ کے بل گری ہے تو اب مت ٹھکانے آئی ہے اور کچھ ابھی آئے گی جب میں اپنی حمیرا کو اپنی (بہو) نو بنا کر لائوں گی۔” اماں کی زبان سے اُگلتا زہر نگو کے کانوں کے رستے دل میں جا اُترا۔
    نگو واپس کمرے میں گئی ۔بہت کچھ سوچا، حقیقت کی عینک لگا کر حالات کا جائزہ لیا تو اس نتیجے پر پہنچی کہ خوشیاں حاصل کرنے کے لیے زندگی کی تلخیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا پڑتاہے ۔سو اس نے مقابلہ کرنے کی ٹھانی اور ایک ایسا فیصلہ کر گئی، جس نے اس کے دل کو خاردار جھاڑیوں پر گھسیٹ دیا مگر وہ تکلیف سہ گئی۔ اب اُسے اپنے اس فیصلے کو منو ا کر اس پر عمل کروانا تھا۔ اماں نے اس کے ساتھ بیر رکھا تھا تو اب وہ بھی اماں کو اس کے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دے گی۔حمیرا کے آنے کا مطلب تھا نگو کا گھر بدر ہونا اور ایسا نگو مر کر بھی نہیں چاہتی تھی ۔ اُسے اسی گھر میں مراد چوہدری کے ساتھ رہنا تھا اور حمیرا آجاتی تو ایسا ہونا ناممکن ہو جاتا۔ وہ بے چینی سے ابا کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔
    رات کو کھانے سے فارغ ہو کر وہ ابا، اماں کے پاس جاپہنچی۔ مراد چوہدری پہلے ہی وہاں موجود تھا۔ ابا اتنے دنوں بعد اس کو سب کے درمیان دیکھ کر قدرے مطمئن ہوئے۔وہ مراد چوہدری کواس کا خیال رکھنے کی تاکید کرتے رہتے تھے کیوں کہ وہ بے چاری اتنے بڑے صدمے سے گزر رہی تھی۔ مراد چوہدری نے اس کی مقدور بھر دل جوئی کی تھی۔ وہ صرف اس کی تکلیف کو کم کرنے کی کوشش ہی کر سکتا تھا، اس کو ختم کو نہیں کر سکتا تھا سو اس نے یہی کیا اپنی محبت اور خلوص سے پوری کوشش کی تھی کہ نگو کی یہ تکلیف کم ہو جائے ۔سوائے اماں کے سب نے اس کی ہمت بندھائی تھی ، اس سے ہمدردی کی تھی مگراماںنے ان سات دنوں میں جب بھی اس کے کمرے میں جھانکا، اس کی طرف طنز کا نوکیلا بھالا ہی پھینکا تھا۔ابانے کئی دفعہ خوفِ خدا یاد دلایا کہ ہم بھی بیٹیوں والے ہیں ایسے نہ کر تسلی نہیں دے سکتی تو دل بھی نہ دکھا ۔ مگر نا جی مامی باز نہ آئی۔ ویسے بھی جس تن لاگے، وہی جانے اور فی الحال اُن کے تن پر نہیں لگی تھی تو وہ کیوں پروا کرتیں۔
    ”آپتر، اِدھربیٹھ میرے پاس ”ابانے اپنی ٹانگیں سمیٹ کر اپنی چارپائی پر اس کے لیے جگہ بنائی۔”نگو آرام سے ٹک گئی۔اس کی کیفیت عجیب سی ہو رہی تھی اوردل ڈوب ڈوب کر اُبھر رہا تھا ۔





    ” ماموں ! میں نے ایک فیصلہ کیا ہے۔” نگو اتنا کہہ کر خاموش ہو گئی۔
    ” اگر تو یہ سوچ رہی ہے کہ تو کوئی بچہ گود لے لے گی تو ایک بات یاد رکھنا ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ ہمیں کسی ایرے غیرے کی اولاد کو نہیں پالنا۔۔۔ اپنے پتر کی اولاد گودیوں میں کھلانی ہے۔” اماںنے اس کی بات مکمل بھی نہ ہونے دی۔ اُن کے خیال میں نگو اس سے زیادہ اور کیا فیصلہ کر سکتی تھی۔ابا نے اماں کو جھڑک کر خاموش کروایا۔
    ”ہاں تو بول پتر کیا کہنا چاہتی ہے۔”ابا نے دلار سے کہا۔
    ”ماموں ! میں چاہتی ہوں ۔ ہم مراد کی دوسری شادی کروا دیں۔” نگو کی بات نے ابا، اماں اور مراد چوہدری کو ایک لمحے کے لیے گنگ کر دیا۔سب سے پہلے اماں ہوش میں آئیں۔
    ” وہ تو نہ بھی کہتی تو میں نے کر ہی دینی تھی حمیرا سے۔”اماں کی بات پر ابا نے گھور کر انہیں دیکھا اور نگو ہلکا سا مسکرا دی جیسے کہہ رہی ہو، ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی ، پہلے سن تو لیں۔
    ”ماموں! میں چاہتی ہوں کہ مراد چوہدری کی شادی ہم کسی مطلقہ یا بیوہ سے کروا دیں۔ اس کی کون سی یہ پہلی شادی ہے، جو ہم کسی کنواری لڑکی کے ارمانوں کا خون کریں۔ حمیرا جیسی ”اچھی” لڑکی کو اس کے جوڑ کا کوئی اچھا اور کنوارا لڑکا مل جائے گا تو پھر ہم اپنی غرض کے لیے اس کے جذبات کو کیوں قربان کریں۔” نگو نے بڑی صفائی سے اماںکے ارمانوں کا خون کر دیا ۔
    ” تجھ سے کسی نے پوچھا ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔”اماں بلبلا اُٹھیں۔
    ” تو چپ کر مراد کی ماں، نگو بالکل صحیح کہہ رہی ہے۔” ابا، اماں اور نگو سنجیدہ مسئلے پر گفتگو کر رہے تھے اور مراد چوہدری خیالوں میں دوسری شادی کی تیاریاں کرنے لگے ۔اس کے باوجود کہ و ہ نگو کو صدق ِ دل سے اپنا چکے تھے اور اس کو کوئی تکلیف نہیں دینا چاہتے تھے، دوسری شادی کی بات نے ان کے دل میں پھول کھلانے شروع کر دیے تھے۔ہوش تو تب آیا جب ابا جی نے اُسے مخاطب کیا۔
    ” تو بتا مراد ، تو کیا چاہتا ہے۔” ابا نے مراد چوہدری سے پوچھا تو وہ شرما کر رہ گیا۔
    ” جیسے آپ کی اور نگو کی مرضی۔”مراد چوہدری کی بات سن کر نگو کے ہونٹوں پر زخمی سے مسکراہٹ آئی ۔ ابھی تو وہ یہ سب کہہ رہا ہے لیکن کچھ عرصہ گزر جاتا تو بھلے دوسروں کے پریشر میں آکر مراد چودھری کو دوسری شادی کرنا ہی تھی تو پھر نگو یہ کام خود اپنے ہاتھوں سے کیوں نہ انجام دے دیتی۔کیوں رو دھو کر ، واویلا کر کے لوگوں کو تماشا دیکھنے کا موقع دیتی۔
    ”رشتے بنانا آسان لیکن انہیں نبھانا بہت مشکل ہوتاہے میری دھی۔ رشتے نبھانے واسطے ایثار، صبر، قربانی اور وفا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے بہت کم لوگ خود کو رشتے نبھانے کی مشقت میں ڈالتے ہیں۔ تم بھی خود کو مٹا کر رشتوں کو بچانے کی کوشش کرنے لگی ہو ۔ پر میں نہیں چاہتا کہ تم رشتوں کو نبھانے کے لیے اپنی جان کو کسی مصیبت یا مشقت میں میں ڈالو ۔ اس لیے اچھی طرح سوچ سمجھ لو۔ شوہر کو بانٹنا کوئی سوکھا کم نہیں ہوندا۔”ابا نے نگو کے سر پر ہاتھ رکھا تو نگو نے ان کا ہاتھ تھام کر چوم لیا۔
    ” ماموں، پورا کھو دینے سے بہتر ہے کہ بندہ آدھا کسی کے ساتھ بانٹ لے، بدلے میںاپنی جھولی بھی خالی نہیں رہتی اور کسی اور کا بھلا بھی ہو جاتا ہے۔” نگو نے آنسو ئوں بھری آنکھوں سے ابا کو دیکھا۔
    ” ٹھیک ہے پھر کچھ کرتے ہیں۔ابھی تم لوگ جائو۔” ابانے نگو اور مراد چوہدری کو جانے کا اشارہ کیا۔نگو نے یہ فیصلہ بھلے اماں کی ضد میںکیا تھا مگر نیت اس کی نیک ہی تھی ۔ نگو چاہتی تھی کہ کوئی ایسی لڑکی مل جائے جس کے ساتھ وہ اپنا شوہر بانٹ لے اور وہ لڑکی اس کے ساتھ اپنی اولاد ۔ وہ رب بادشاہ جو اُوپر بیٹھا ہے وہ نیتوں کا پھل ہی دیتا ہے ۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭