Tag: Ary digital

  • لیپ ٹاپ — ثناء سعید

    لیپ ٹاپ — ثناء سعید

    اس کے ہاتھ کی بورڈ پر تیزی سے چل رہے تھے، کی بورڈ کی keys کی ٹِک ٹِک اور صفحے پلٹنے کی آوازوں کے علاوہ وہاں اگر کوئی اور آواز تھی تو اس کے زور زور سے دھڑکتے دل کی تھی، جو شاید وہ خود ہی سن سکتی تھی… اسے اپنے دل کے دھڑکنے کی رفتار مسلسل بڑھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی… دراصل بجلی پچھلے ایک گھنٹے سے غائب تھی۔ اس کا آٹھ سالہ پرانا لیپ ٹاپ اب اپنی آخری سانس لے رہا تھا… نوٹیفکیشن پینل میں بار بار ایک پیغام آرہا تھا۔
    "20% available. Please replace your battery or plug in charger”
    مائیکرو سافٹ آفس پر کام کرتے ہوئے وہ بہ یک وقت تین ایپلی کیشنز پر کام کر رہی تھی… اسے اپنی پریزنٹیشن تیار کرنا تھی اور ایم ایس ورڈ میں ایک ڈاکومنٹ بھی جمع کروانا تھا… کچھ ضروری اعداد و شمار کو ایکسل میں مینو پلیٹ بھی کرنا تھا۔
    ابھی چند سیکنڈ پہلے اس کے لیپ ٹاپ سے اُٹھنے والی بیپ کی آواز کے ساتھ ہی سکرین خالی ہوئی اور ساری بتیاں بجھ گئیں سوائے ایک بتی کے، جو نکھرے نکھرے رنگوں کے بعد اب انتہائی سڑے ہوئے زرد شیڈ میں بدل کے جلنے بجھنے لگی تھی، وہ بھی انتہائی سست انداز میں… یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اسے سانس کا مرض ہو… وہ بے اختیار اپنی مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی تھی۔
    ”اُف! اب یہ آن ہونے میں بھی وقت لگائے گا… ایک تو یہ بڈھا لیپ ٹاپ بھی چیونٹی کی رفتار سے چلتاہے۔”
    انتہائی کوفت بھرے انداز میں اس نے دوبارہ پاور کا بٹن دبایا… وہ آنکھوں میں بے زاری اور بے چینی کا امتزاج لیے سکرین پر نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ Continue with window resume کا پیغام سکرین پر نمودار ہوتے ہی اس نے پوری قوت سے Enter کا بٹن دبایا ۔ یہاں ”اولڈ از گولڈ” والا محاورہ اس کے کام آیا تھا ورنہ تو اس کا کی بورڈ کب کا خراب ہو چکا تھا…
    اب سیاہ پس منظر میں "resuming window” کے الفاظ کے سانس کا اتار چڑھائو واضح تھا، جو اس کی کوفت میں اضافے کا باعث بنا۔
    آخر کار اس کا سسٹم آن ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے فوراً ایگزل، پاور پوائنٹ اور ورڈ کی فائلز کھولیں اور Ctrl+S دبایا… اور اب وہ دوبارہ ورڈ کی فائل میں کام کر رہی تھی۔ اس کی انگلیاں بڑے ماہرانہ انداز میں تیزی سے حرکت کر رہی تھیں، مگر وہ کچھ زیادہ ہی پریشان تھی، اسی لئے وہ بار بار غلط بٹن دبا رہی تھی… یہ سلسلہ اس کی کوفت میں مسلسل اضافے کا باعث بن رہا تھا۔





    اس نے بہ مشکل اپنی کوفت پر قابو پایا، تبھی وہ پوری توجہ کام پر مرکوز کرنے کی کوشش میں کامیاب ہو پائی۔ آخر کار مزید بیس منٹ چلنے کے بعد اس کا لیپ ٹاپ ایک ہلکی سی آواز کے ساتھ بند ہو گیا ۔
    اداس چہرے پر بے پناہ بے بسی، غصہ اور معصومیت لئے اس کا دل چاہا کہ وہ لیپ ٹاپ اٹھائے اور دیوار پر پٹخ دے۔ یہ نہیں تو وہ کم سے کم لیپ ٹاپ پر ایک زور دار مکا ہی دے مارے… ”نہیں” اس کے اندر سے ایک آواز اُبھری… اگر وہ ایسا کرے گی تو نقصان اس کا اپنا ہی ہو گا۔ لیپ ٹاپ ٹوٹنے سے اس کا مالی نقصان ہی نہیں بلکہ خاصا دماغی نقصان بھی ہو گا… اس کا سارا ڈیٹا اسی لیپ ٹاپ میں ہی تھا… اس کے ٹوٹ جانے کی صورت میں وہ ڈیٹا توری کور کر سکتی تھی، لیکن اگر ہارڈ ڈسک ہی جل جاتی تو… نہیں وہ کوئی ایسا کام کرنے کی پوزیشن میں ہرگز نہ تھی۔ شام کے پانچ بج رہے تھے اور کل نو بجے اسے پریزینٹیشن دینا تھی۔
    ہنوز اسی موڈ میں کسی بھٹکی ہوئی روح کی مانند کمرے کے اندر باہر کئی چکر لگانے کے بعد اس نے ایک کُشن اُٹھایا اور اپنی پوری قوت سے سامنے دیوار پر دے مارا، جو دیوار کے ساتھ رکھی ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے پرفیوم کی بوتل کو جا لگا… اب پرفیوم اور کشن دونوں زمین پر بے ترتیب انداز میں پڑے تھے… یہ دیکھ وہ پیچ و تاب کھا کے رہ گئی… ناچار اپنی جگہ سے اٹھی اور کشن اور پرفیوم دوبارہ اپنی جگہ پر رکھے۔ اپنے کمرے میں وہ مکمل طور پر آزاد تھی۔ جو چیز چاہتی اُٹھا کے پٹخ سکتی تھی، اس طرح کم از کم اس کے دل کا بوجھ تو ہلکا ہو جاتا، مگر وہ ایسا بھی نہیں کر سکتی تھی… اس طرح اس کا کمرہ درہم برہم ہو جاتا، پھر اسے واپس اپنی حالت میں بھی خود ہی لانا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ بکھرے کمرے سے بذاتِ خود اُسے بھی سخت اُلجھن ہوتی تھی، وجہ نمبر دو اگر وہ کمرے کو اسی حالت میں چھوڑ دیتی تو ماما… اگر وہ کمرے میں آگئیں تو اس کی کیا دُرگت بنے گی؟ یہ سوچ کر ہی وہ کانپ اٹھی۔
    ٭٭٭٭
    لائٹ کا انتظار کرتے کرتے دو گھنٹے گزر چکے تھے، باہر اندھیرا چھا رہا تھا۔ اسے اپنے اندر بھی سب کچھ اندھیرے میں ڈوبتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ آخرکار وہ بے چارگی کے عالم میں تھک کر بیٹھ گئی۔ اس کا دل بے اختیار رونے کو چاہا، مگر اگلے لمحے ایک خیال آتے ہی اس نے خود کو پوری قوت سے روکا…
    آپ کے خیال میں اسے کیا خیال آسکتا ہے؟… شاید اس کے دماغ میں کوئی متبادل حل نکل آیا مثلاً آس پڑوس سے یا کسی کزن وغیرہ سے لیپ ٹاپ کچھ وقت کے لئے ادھار مانگ لے، تو آپ غلط سوچ رہے ہیں وہ ایسا بالکل بھی نہیں کر سکتی تھی کیوںکہ جس ڈیٹا کی بنیاد پر اسے ادھوری پریزنٹیشن تیار کرنا تھی، وہ ڈیٹا اور ادھوری پریزنٹیشن دونوں ہی اس مرے ہوئے لیپ ٹاپ میں تھے
    … دوسرا آپشن کیا ہو سکتا ہے؟… وہ یو۔پی۔ ایس والے کسی خوش نصیب گھر میں جا کر گزارش کرے… ایسا بھی بالکل نہیں تھا… وہ ضرورتاً کسی کے گھر میں قدم رکھنا بھی شدید گناہ سمجھتی تھی… تو کیا ہو سکتا ہے؟… درحقیقت اس نے امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا … وہ جانتی تھی بجلی آئے گی ضرور چاہے رات کے کسی پہر چور کی طرح آئے اور چپکے سے چلی جائے… اس قدر سمجھ داری اور اُمید کے پیچھے ایک خاص وجہ کار فرما تھی… رونے سے سر میں درد ہوتا ہے اور پھر کوئی بھی کام ٹھیک سے سرانجام نہیں دیا جا سکتا … اسے تو صبح پریزنٹیشن ہر حال میں دینی تھی… اف اس کے سر کا درد… ایک دفعہ شروع ہو جائے تو آسانی سے جاتا نہیں… بس یہ ہی بات تھی۔ وہ اچھی طرح سے جانتی تھی اپنے سر درد کو … دوا کھانے سے تو اسے چڑ تھی … رہی بات بجلی کے چوروں کی طرح آنے کی، تو اس مسئلے کا حل اس کے پاس موجود تھا۔ وہ یہ کہ نومبر کے مہینے میں وہ پنکھا پوری رفتار سے چلا کے سوئے گی، وہ بھی کمبل اوڑھے بغیر، جس سے بجلی آنے پر اس کی آنکھ خود بہ خود ہی کھل جائے گی… لیکن اس کی نوبت نہ آئی۔ عصر، مغرب اور عشا کی نماز کے بعد انتہائی خشوع وخضوع سے مانگی گئی دعا قبول ہو گئی تھی… عین سات بج کے پندرہ منٹ پر بجلی آگئی… وہ مارے خوشی کے زمین سے کوئی دو فٹ اوپر اچھلی اور فوراً بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں پہنچی اورپھر اس نے بجلی دوبارہ نہ جانے کی دعائیں کرتے ہوئے لیپ ٹاپ آن کیا۔ حسبِ سابق لیپ ٹاپ انتہائی سست روی سے آن ہوا۔ اس دوران اس کے ہونٹ مسلسل حرکت کر رہے تھے… شاید وہ کوئی ورد کررہی تھی۔ لیپ ٹاپ آن ہوتے ہی اس نے ایک بار پھر اپنا کام شروع کیا، ورڈ کی فائل میں موجود آخری پیراگراف غائب تھا… مگر وہ پرواہ کئے بغیر ایک بار پھر تیزی سے اپنا کام کر رہی تھی…
    ٭٭٭٭




  • حصار —- نورالصباء

    وہ اس کا اپنے گھر میں آخری دن تھا۔ ماں باپ نے اسے اچھی طرح باور کرا دیا تھا کہ رخصتی کے بعد اسے سسرال کو ہی اپنا گھر سمجھنا ہو گا۔ وہ ان لڑکیوں میں سے تھی جو جاتی ڈولی پر اور واپس ڈولے پر ہی سسرال کی دہلیز پار کرتی ہیں۔
    ”عمارہ بیٹی، کیا سوچ رہی ہو؟ دستخط کرو۔۔۔۔ مولوی صاحب انتظار کر رہے ہیں۔” ماں کی آواز پر وہ جیسے ہوش میں آئی تھی اور مستقبل کے اندیشوں میں گھری اس لڑکی نے کانپتے، لرزتے ہاتھوں سے نکاح نامے پر دستخط کر دیئے تھے۔





    اس نے سسرال میں قدم رکھا تو طرح طرح کے امتحان راہ میں حائل ہوئے۔ کبھی اسے سانولے رنگ پر طعنے سننے پڑے تو کبھی معمول سے چھوٹے قد کی وجہ سے دیورانیوں اور جیٹھانیوں نے پھبتیاں کسیں۔ کبھی ساس نندوں نے اس کا جہیز پسند نہ آنے پر اس کی تذلیل کی تو کبھی شوہر نام دار کو اس کے ہاتھ کا پکا کھانا پسند نہ آیا۔
    ایک دن یوں ہی کسی کاروباری مسئلہ میں الجھا، چڑچڑے مزاج والا اس کا شوہر گھر آیا تو کھانے میں ذرا سے نمک کی کسر رہ جانے پر بے جا الجھ پڑا۔
    ”یہ کیسا کھانا بنایا ہے؟ نہ نمک ہے نہ مرچ۔ کتے بھی نہیں کھاتے ایسا کھانا۔ دفع ہو جا میرے سامنے سے۔”
    شوہر نے پہلا نوالہ منہ میں رکھتے ہی برتن فرش پر دے مارے تھے۔ اس کے بعد اس نے اپنے شوہر کی جھڑکیاں اور طعنے سُنے تھے اور لرزتے ہاتھوں سے فرش پر بکھری کانچ کی پلیٹوں کو سمیٹا تھا۔
    اور پھر وہ اس بد سلوکی کی عادی بنتی گئی۔ ہر تھوڑے دن کے بعد اس کا شوہر اسے مارتا پیٹتا اور وہ خاموش بت بنی سب سہتی جاتی۔ بہت تھوڑے عرصے میں اس کی صحت تباہ ہو گئی تھی۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے نمودار ہو گئے تھے اور ہاتھوں میں غیر معمولی لرزش پیدا ہو گئی تھی، جسے وہ سب سے چھپانے کی ہر ممکن کوشش کیا کرتی تھی۔ اسے ڈر تھا کہ اگر اس نے خود کو نہ سنبھالا تو شوہر اس کے سر پر سوتن لا بٹھائے گا۔ اسی لئے ہر روز وہ اپنے زخم خود ٹکورتی اور اپنی گہری اداسی کو بنائو سنگھار کے پیچھے چُھپا لیا کرتی۔
    اس کا استحصال یونہی جاری رہا۔ سب اسے کمزور سمجھ کر زیر عتاب لاتے رہے، اس کی عزتِ نفس کو روندتے رہے۔ دن رات اس کے لرزتے ہاتھ گھر کے سینکڑوں کاموں میں مصروف رہتے۔ راتوں کو وہ جاگتی اور خدا سے اپنی بے وقعتی کے شکوے کیا کرتی۔
    سسرال والوں کے مظالم کچھ اس لیے بھی بڑھ گئے تھے کیوں کہ اب تک اس کی گود خالی تھی۔ وہ مایوس نہیں تھی، اسے امید تھی کہ بیٹے کی پیدائش اس کے سسرال میں اس کی حیثیت بحال کردے گی۔ اس کے ناتواں ہاتھ سراپا دعا بن گئے پھر اس کی مراد بر آئی اور موت جیسی سختی جھیلنے کے بعد اس کے ہاتھوں نے ایک ننھے وجود کو تھاما۔
    بیٹے کی خوشی اس کے لئے ویسی ہی تھی جیسے صحرا نورد کو کہیں طویل سفر میں نخلستان مل جاتا ہے۔ اس بیٹے کا نام گھر والوں نے ساجد رکھا تھا۔ اس کے بعد عمارہ کے آنگن میں کوئی دوسرا پھول نہ کھلا۔





    وہ ہاتھ اس ننھے وجود کے لئے فرشتوں کے پروں جیسا حصار بنے رہتے۔ وہ ننھا وجود ان ہاتھوں کا چھالا تھا۔ سالہا سال ان ہاتھوں نے اس وجود کی پرورش کی اور اس پودے کو تناور درخت بنا دیا تھا۔ ان ہاتھوں نے دن رات ساجد کی نشو و نما کرتے کرتے اپنی رعنائیاں کھو دی تھیں۔
    کئی سال تک ساجد کی خوشیوں پر اپنی خوشیاں قربان کرتے ان ہاتھوں نے ساجد کی دل و جان سے خدمت کی۔ پھر ساجد کی خواہش پر اس کے سر پر سہرا سجایا۔ وہ ہاتھ ہر روز ساجد کی دعا کے لئے اٹھتے تھے اور بہو کے گھر میں آ جانے کے بعد بھی ساجد کے سارے کام نپٹاتے نہ تھکتے تھے۔
    کچھ ہی عرصے کے بعد عمارہ بی بی کے ہاتھوں سے اس کا شوہر اپنا ہاتھ چھڑا کر ابدی سفر پر چل پڑا۔ وہ نا تواں ہاتھ مزید ضعف کا شکار ہو گئے۔ اب ساجد پر ماں اور بیوی کی مکمل ذمہ داری آن پڑی تھی۔ وہ خرچوں کے طوفان سے بوکھلا گیا۔ جب تک ابا دکان پر بیٹھا کرتے تھے اماں کا خرچہ خود اٹھاتے تھے۔ مگر اب ساجد کو سارا خرچہ خود اٹھانا پڑ رہا تھا۔
    اس وجہ سے اس کی بیوی بھی اس سے روز روز لڑنے لگی۔ صائمہ کو لگتا تھا کہ ساجد ساری تنخواہ اماں پر خرچ کر دیتا ہے۔
    دن رات صائمہ اپنی ساس کو بے کار بیٹھنے کے طعنے دیتی اور جلی کٹی باتیں سناتی۔ عمارہ بی بی لرزتے ہاتھوں سے گھر کے سارے کام کرتی رہتیں تا کہ بہو کے شکوے دور کر سکیں مگر شاید بہو کو ان کی دو وقت کی روٹی بھی کھلتی تھی۔ اسی لئے اکثر صائمہ ساجد سے شکایت کرتی کہ دو وقت کا سالن اماں ایک ہی وقت میں کھا جاتی ہیں۔ پندرہ دن کا راشن ایک ہفتے میں ختم ہو جاتا ہے۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔
    وہ لرزتے ہاتھ چپ چاپ تماشا دیکھتے اور حیران ہو کر سوچتے کہ کیا وہ وقت ان پر نہیں گزرا جب وہ ہاتھ ننھے ساجد کے چھوٹے بڑے کام کرتے کرتے گھس جایا کرتے تھے؟ کیا وہ وقت بہت پرانا ہو گیا جب وہ ہاتھ ساجد کی فرمائش پر کھانا بنا کر نوالے اس کے منہ میں ڈالتے تھے؟ کیا ساجد سب کچھ بھول گیا تھا؟ یا صائمہ کی ناراضی سے ڈر کر نا حق اسی کا ساتھ دیتا تھا؟
    محبت سوال و جواب کی حاجت ختم کر دیتی ہے۔ ماں جب اپنی اولاد سے محبت کرتی ہے تو اس سے یہ سوال نہیں کرتی کہ بچہ بڑا ہو کر وہی محبت اسے لوٹائے گا یا نہیں بلکہ ماں تو اپنی اولاد سے بے لوث محبت کرتی ہے۔ دنیا چاہے جو بھی کہے مگر قدرت کی لغت میں ماں کا محبت کے سوا کوئی دوسرا مطلب نہیں۔
    عمارہ بی بی نے بھی خاموشی کو اپنا وطیرہ بنا لیا۔ بیٹے اور بہو کی ہر گستاخی کو خندہ پیشانی سے نظر انداز کرتی وہ عورت صرف اس ڈر سے خاموش رہنے لگی کہ کہیں اس کا بیٹا جھگڑوں سے بے زار ہو کر اسے چھوڑ ہی نہ دے۔
    وقت یوں ہی گزرتا رہا۔ صائمہ کو ساس کی خاموشی بھی زہر لگنے لگی۔ وہ چاہتی تھی کہ ایک دن اس کی ساس اتنا جھگڑا کرے کہ ساجد ساس کو گھر سے نکال دے۔ ہر بار صائمہ کچھ ایسا کرتی کہ ساجد ماں سے بے زار ہوجائے اور ہر بار ساس صبر اور تحمل سے جھگڑا رفع دفع کر دیتی۔
    ایک روز صائمہ کو فساد ڈالنے کا ایک سنہری موقع مل ہی گیا۔
    ”اماں! ذرا یہ ساجد کی شرٹ استری کر دیں۔ میں کچن میں دودھ ابال رہی ہوں۔” صائمہ ساس کے ہاتھ میں جان بوجھ کر خراب استری اور ساجد کی نئی شرٹ پکڑا کر چلی گئی۔ عمارہ بی بی نے گرم استری شرٹ پر رکھی۔ خراب ہونے کی وجہ سے استری نے نئی شرٹ جلا ڈالی۔ تھوڑی دیر بعد ساجد نے اپنی اماں کے ہاتھوں میں استری اور جلی ہوئی شرٹ دیکھی تو سیخ پا ہو گیا۔
    ”اماں! یہ کیا کیا آپ نے؟ میری نئی شرٹ استری کے نیچے رکھ کر بھول گئیں؟ کچھ خیال نہیں ہے آپ کو میرا؟ کتنی محنت سے ایک ایک پائی کما کر لاتا ہوں، اور آپ میرا نقصان ہی کرتی رہتی ہیں۔ اگر استری کرنے کا جی نہیں چاہ رہا تھا تو کہہ دیا ہوتا پہلے ہی، صائمہ کر دیتی یہ کام بھی۔”
    وہ عورت اپنے بیٹے کے منہ سے یہ جملے سن کر حیران تھی۔ اس ماں کے ہاتھ انجانے خوف سے لرز رہے تھے۔ اب ان ہاتھوں میں اس عورت کے آنسو پونچھنے کی طاقت نہ رہی تھی۔ کیوں کہ اب حد ہوگئی تھی اور پھر عمارہ بی بی کے لرزتے ہاتھ معافی کے انداز میں ساجد کے سامنے جڑ گئے۔
    ”صائمہ۔۔۔۔صائمہ! میری دوسری شرٹ استری کرو فورا۔” وہ اماں کے جڑے ہاتھوں کو نظرانداز کرتا ہوا چنگھاڑا تھا۔




  • گردشِ طالع —- اسماء حسن

    تنگ دستی انسان کو ننگے پاؤں سفر کرواتی ہے، جب تک کہ آبلوں میں سوراخ ہو کروہ پھٹ نہ جائیں۔ زخم بھر جانے کے بعد ایک نیا سفرکسی نئے آبلے کا منتظر ہوتا ہے اور پھر چل سو چل جب تک سانسوں کی ڈور چلتی ہے، قسمت کا پھیر ختم ہی نہیں ہوتا۔ اس نے گھڑی کی جانب دیکھا تودوپہر کے بارہ بج چکے تھے۔ دہکتا سورج سوا نیزے پر کھڑا اپنے ہونے کا پتا دے رہا تھا۔ گھر سے نکلے ہوئے اسے آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا۔ اب تک اسے سڑک پر ہونا چاہیے تھا، مگربدنصیبی کسی بھیانک پرچھائی کی طرح اس کا تعاقب کر رہی تھی۔ گردشِ طالع تھی کہ دو پل بھی کہیں سکون سے جینے نہیں دیتی تھی۔ گھسی پٹی پلاسٹک کی چپل اسے موچی کے تھڑے تک لے گئی۔ اس کا جی چاہا کہ موچی پیسے لینا بھول جائے، مگر وہ بھی توقسمت کا دھنی نہیں تھا۔۔ ضروریات کا اکھاڑاتو اس کے آنگن میں بھی لگتا ہو گا جس میں اکثر جذبات ہار جاتے ہوں گے۔ کیوں کہ خواہشات کو نکیل پہنائی جا سکتی ہے، مگر بھوکے شکم کوپابندِ سلاسل نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں تو صرف صبر کی سولی پر لٹکا جاسکتا ہے۔
    "دس روپے”





    موچی کا یہ جملہ سنتے ہی اس نے چادر کے کونے کی گرہ کچھ یوں کھولی جیسے دس روپے نہیں، زندگی کا گراں بہا خزانہ دینے لگی ہو۔ سو روپے کے نوٹ کی تہیں بتا رہی تھیں کہ اسے کتنا سنبھال کر رکھا گیا ہو گا۔ اس نے نوے روپے بقایا لیے اورچادر کے کونے سے باندھ کر آگے چل پڑی۔ جولائی کی تپتی دوپہر بدن کو جھلسا رہی تھی، مگر وہ اس کی پروا کئے بغیر ہی چلتی رہی۔ دو بجے سے پہلے پہلے اسے وہاں پہنچنا تھا۔ یہ ہی سوچ اس کی رفتار کو تھمنے نہیں دے رہی تھی۔ چادر کے پلو سے پسینہ پونچھتے ہوئے وہ باربار نظر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھتی ہوئی کسی سائبان کی منتظر تھی، مگر سورج کی بھون دینے والی تپش پر کسی گہری سیاہ بدلی نے اپنا مسکن نہیں ڈالا تھا۔
    ہجوم کو چیرتی ہوئی وہ دنیا مافیہا سے بیگانہ آگے بڑھتی رہی۔ ہر طرف چہل پہل تھی۔ لوگ جگہ جگہ ٹولیاں بنا کر ایک دوسرے کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے اورایک وہ تھی جس کے لبوں پر مارے بھوک و پیاس کے چاندی چمک رہی تھی۔ لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے وہ سڑک کی طرف بھاگتی چلی جا رہی تھی۔
    گھڑی پر نظرپڑتے ہی مخمصے کے عالم میں سڑک پردوقدم آگے رکھتے ہوئے، اس نے رکشہ روکنے کی کوشش کی۔ رکشے والے نے ایک جھٹکے سے رکشہ روکا اوراسے کھری کھری سنانے لگا۔
    "کیا کررہی ہواماں؟ مرنے کا ارادہ ہے کیا؟ "وہ اماں تو ہرگز نہ تھی، مگر زندگی کے قرض اتارتے اتارتے وہ اپنی عمر سے دوگنی دکھائی دینے لگی تھی۔۔!!
    پھر اس نے ایک نظراس کے حلیے پرڈالی اور سرسے پیر تک دیکھتے ہوئے بڑبڑانے لگا:
    "ہاں! آج کل تم لوگوں نے کمائی کے نئے طریقے جو ڈھونڈ لیے ہیں۔ کسی موٹرگاڑی یا سائیکل، رکشے کے نیچے آؤ اور زخمی ہونے کابہانہ بنا کرکچھ پیسے بٹورلو۔”
    "نہیں نہیں بھائی صاحب ۔ مجھے تو اس ایڈریس پرجانا ہے۔”
    اس کے بولنے کا انداز اس کے حلیے سے بالکل میل نہ کھاتا تھا۔ اس لیے رکشے والے نے عورت کو سرتا پا دوبارہ کچھ یوں دیکھا کہ وہ لجاتی ہوئی خود کو اپنی میلی کچیلی چادرسے ڈھانپنے کی ناکام کوشش کرنے لگی، جو جگہ جگہ سے تار تار تھی۔
    دوسو روپے کرایہ ہوگا، بیٹھو”
    رکشے والے نے اسے اندر بیٹھنے کے لیے کہا تو اس کے چہرے پر گرمی کے پسینے کے ساتھ ساتھ فکرمندی بھی جھلکنے لگی۔ اسے پہلے ہی بہت دیر ہو چکی تھی، اس لیئے انجام سوچے بغیر ہی وہ رکشے میں بیٹھ گئی۔ راستے میں ایک بڑا قبرستان پڑتا تھا۔ وہ جب بھی وہاں سے گزرتی تو اپنی ماں پر فاتحہ پڑھ کر دور ہی سے پھونک دیا کرتی تھی۔ آج ماں کی قبر کے پاس سے گزرتے ہوئے اسے وہ ساری عیدیں یاد آنے لگیں، جب ابا اس کے کپڑوں کے ساتھ ساتھ اس کی سہیلیوں کے لیے بھی جوڑے لایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ اس کی سب سے اچھی سہیلی ناہید کا جوڑا لانا بھول گئے تو اس نے کتنی لڑائی کی اور دھمکیاں دیتی پھری کہ اگر ناہید کا اسی طرح کا جوڑا نہ لایا گیا تو وہ بھی نیا جوڑا نہیں پہنے گی۔
    چاند رات کی دمکتی روشنیوں میں ابا ہجوم سے بھرے بازار میں مارے مارے پھرتے رہے اوراس کی سہیلی کا جوڑا لا کر ہی جان بخشی ہوئی تھی۔ یہ خیال آتے ہی وہ ہنس دی۔ عید سے بہت دن پہلے ہی ابا برآمدے میں پڑے ایک بڑے سے تخت پر جوڑے، چوڑیاں اور مہندی کا سامان لاکررکھ دیا کرتے تھے۔ وہ بھاگ کرمحلے کی سبھی عورتوں کو بلا کرلاتی اور بڑے شوق سے کُرسی رکھ کر تخت کے پاس بیٹھ جاتی اورسب کو مشورے دیا کرتی۔ جب محلے بھر کی عورتیں واپسی پر جاتے ہوئے آنسوؤں سے لبریز آنکھیں لیے ابا کو دعائیں دیتیں تووہ بڑے معصومانہ انداز میں پوچھا کرتی:
    "اماں یہ ساری عورتیں رو رو کر ابا کو دعائیں کیوں دیتی ہیں؟” تو اماں اس کے معصوم سوالوں پر مسکرا دیتی تھیں۔ گھر کا دروازہ اس وقت تک بند نہیں ہوتا تھا، جب تک آخری سائل کھڑا ہو۔
    آہ! کیسے میٹھے زمانے تھے کہ دیوارو درسب ہی کے لیے کھلے رہتے تھے۔
    ایک مرتبہ ابا مغرب کی نماز کے لیے گھر سے نکل رہے تھے توچاچا شریف ان سے ٹکرا گئے۔ ابا نے پوچھا کہ کیا بات ہے شریف دین، تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے کہاں جا رہا ہے؟ اور یہ تیری بغل میں کیا ہے؟ تو چاچا شریف کی آنکھوں کے آنسو ساری داستان سنانے لگے۔ اس نے بغل سے ایک پوٹلی نکال کر دکھاتے ہوئے کہا تھا:
    "بھائی جی! یہ آپ کی بھابھی کا زیور بیچنے جا رہا ہوں۔” تو ابا نے اس کے ہاتھ سے وہ چھین لیا اورلاکراماں کو دیتے ہوئے کہا:
    جا یہ زیور (پرجائی بھابھی) کوواپس کردے۔
    پھرسیف الماری کی طرف بڑھے اور پیسے اُٹھا کر چاچا شریف کو یہ کہتے ہوئے دیئے تھے کہ آئندہ کبھی بھابھی کا زیور نہ بیچنا یہ تو عورت کا گہنا ہوتا ہے اور یہ پیسے تب تک نہ لوٹانا جب تک تیرے پاس نہ ہوں۔” یہ خیال آتے ہی اس کی آنکھوں سے آنسو کسی بہتے دریا کی طرح رواں ہوکر اس کے دامن کو تر کرنے لگے۔
    رکشہ اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا۔ گرمی قہر برسا رہی تھی۔ ہوا کے گرم تھپیڑے اس کے سانولے چہرے سے ٹکراتے تو وہ منہ کو باریک ململ کی چادر سے ڈھانپنے کی کوشش کرنے لگتی۔ اسے اماں کی یاد ستانے لگی۔ ماں اس کے سانولے رنگ سے جتنا پریشان رہتی تھی وہ اتنی ہی بے پروائی دکھاتی۔ وہ جب بھی باہر نکلتی، تو ماں اسے چہرے کو ڈھانپنے کے گر سکھاتی تاکہ گرد مٹی نہ جمے اور دھوپ سے رنگ مزید کالا نہ ہو جائے۔





    وہ بڑی معصومیت سے ماں سے پوچھتی:
    "اماں آپ چھوٹی کو کیوں نہیں کہتیں کہ سر پر اوڑھنی ڈال کرنکلا کرے۔” تو ماں اس کے گالوں کو تھپک کر کہتی:
    "پوری جھلی ہے تو۔” اس پر وہ ہنس دیتی تھی۔
    قبرستان کب کا گزر چکا تھا۔ آج وہ فاتحہ پڑھنا بھی بھول گئی تھی۔
    آنسو سانولے گالوں پرموتیوں کی طرح ٹھہرسے گئے۔ رکشہ کوایک دم جھٹکا لگا۔ وہ پادِ ما ضی سے نکل کر حال کی سنسان سڑک پر بے سرو سامان ننگے سر آن کھڑی ہوئی۔
    "ایک غریب دوسرے غریب کو کیسے ٹھگ سکتا ہے؟ کیسے دھوکا دے سکتا ہے؟ اگر میرے پاس پورا کرایہ نہیں تو اسے بتا دینا چاہیئے، وہ بھی غریب بندہ ہے میرے دکھ کو سمجھے گا۔”
    ناجانے اس نے اپنے ذہن کے منتشر خیالات کوکیسے یک جا کیا اور کپکپاتی زبان سے رکشے والے کو مخاطب کرکے یہ کہہ دیا کہ اس کے پاس کرایہ صرف نوے روپے ہے۔ یہ سنتے ہی رکشے والے نے ایک جھٹکے سے رکشہ روکا۔
    "کیا؟ تمہارے پاس کرایہ نہیں؟ تم کتنی چال باز عورت ہو۔ میں تو پہلے ہی سمجھ گیا تھا کہ تم جیسی بھیک منگی عورتیں ڈرامے بازیاں کرکے اپنے مقصد پورے کرتی ہیں۔ چلو اترو میرے رکشے سے فٹافٹ! ورنہ میں بازو کھینچ کر نیچے اتار دوں گا۔”
    وہ اپنے دائیں ہاتھ سے کچھ یوں چٹکی بجا رہا تھا کہ اگر وہ واقعی دو منٹ میں نہ اتری، تو وہ اس کے سر کی چادر تک کھینچ ڈالے گا۔
    "نہیں بھائی صاحب ایسا نہ کہیں میں دھوکے باز نہیں، مجھے ہر صورت دو بجے اس ایڈریس پر پہنچنا ہے۔ میرا وعدہ ہے کہ وہاں پہنچتے ہی تمہیں پیسے دے دوں گی۔ دیکھو! دو بجنے میں صرف پندرہ منٹ رہ گئے ہیں۔”
    "تمہاری سمجھ میں نہیں آرہا؟ جلدی اترو، ورنہ تمہیں دھکے مار کر رکشے سے اتار دوں گا اور نوے روپیہ نکالو۔ یہاں تک کا اتنا ہی کرایہ بنتا ہے۔ تمہارے پیسے پورے ہوئے، چلو اترو۔”
    رکشے والے کا ایسا اہانت بھرا لہجہ دیکھ کرمزید کچھ کہنے کی اس میں ہمت نہ تھی۔ نم پلکیں لیے وہ رکشے سے نیچے اتر گئی اور چادر کے کونے سے نوّے روپیہ نکال کر رکشے والے کے حوالے کر دیئے۔ ننگے آسمان تلے اور برہنہ زمین کے سینے پر گھسی پٹی چپل پہنے وہ دوڑنے لگی۔ چپل کے نیچے سے محسوس ہوتی لو اس کے پاؤں کے تلووں تک کو جھلسا رہی تھی۔ بوکھلاہٹ کے انداز میں لوگوں سے راستہ پوچھتی تو لوگ اسے عجیب نظروں سے گھورنے لگتے کہ جیسے وہ کوئی پاگل ہو جو راستہ بھٹک گئی ہو۔
    "دو بجے سے پہلے وہاں پہنچنا ہے، ضرور پہنچنا ہے۔ اگر نہ پہنچی تو کیا ہو گا۔ سب کچھ ادھورا رہ جائے گا۔ سب کے منہ لٹک جائیں گے۔ پورا گھر میری واپسی کا منتظر بیٹھا ہے۔”
    یہی سوچیں اس کے قدموں کو مزید تیز کیے جا رہی تھیں۔ ٹوٹی پھوٹی سڑک سے ہوتی ہوئی اس کی رہتی سہتی چپل بھی ٹوٹ چلی تھی۔ اس نے چپل اتار کر ہاتھ میں پکڑی اورمنزل کی جانب چلنے لگی۔ اس کے پاؤں کے آبلے بتا رہے تھے کہ اس نے کتنا سفر طے کر لیا ہے۔ تپتی تارکول کی سڑک کسی ریگستان کی گرم ریت کا سا جھلساؤ پیدا کر رہی تھی۔
    آخر کار ہانپتی ہوئی وہ اس گیٹ کے سامنے کھڑی تھی، جس کی تلاش میں اس نے ننگے پاؤں سفر کیا تھا۔
    اندر جانے لگی تو گارڈ کے ہاتھ نے اسے اندر جانے سے روک دیا۔
    "کیا بات ہے بی بی کہاں بھاگی چلی جا رہی ہو؟”
    "وہ مجھے صالح صاحب سے ملنا تھا، انہوں نے آج کے دن ملاقات کا کہا تھا”!
    وہ پھولی سانس لیے صرف اتنا ہی کہہ سکی۔
    "اوہ! اچھا تو تم اس مقصد کے لیے آئی ہو، مگر وقت تو دو بجے تک کا تھا۔ اب تو گیٹ بند ہو چکا ہے۔ صاحب لوگ جا چکے ہیں۔”
    "مگر میں تو بہت دور سے بہت آس لے کرآئی ہوں ۔ تم ایک مرتبہ اندر جا کرصاحب سے پوچھ لو۔ وہ تو بہت نیک انسان ہیں ۔ وہ میری مدد ضرورکریں گے۔”
    "جا یہاں سے۔ گیٹ صاحب لوگوں نے ہی بند کروایا ہے۔ اگلے سال آنا اورہاں وقت کاخیال رکھنا۔ اس بابرکت مہینے میں تو وقت کا خیال رکھ لیا کرو۔ صاحب لوگوں کو نماز روزہ بھی کرنا ہوتا ہے۔ آج جمعتہ الوداع ہے۔ اس میں کمی بیشی نہیں ہونی چاہیئے۔”
    "وقت” پر زور دیتے ہوئے چوکیدارنے گیٹ بند کرلیا۔ اس میں تو یہ تک کہنے کی ہمت نہیں تھی کہ وہ تو واپسی کا کرایہ بھی یہاں سے ملنے والی اعانت سے ادا کرنے والی تھی۔ اس نے سر آسمان کی طرف اٹھایا اور استعجابیہ نگاہیں لیے اس کی تقسیم پرشکوہ کناں ہونے لگی۔ پھراس کے ذہن میں ابا کے گھر کا تخت گردش کرنے لگا جہاں وقت کی کوئی قید نہیں تھی اور کوئی عورت بھی آخری عورت نہیں ہوتی تھی۔ اس کی زبان سے محض اتنا ہی نکل سکا "اگلا سال؟ "اور وہ وہیں پرگرپڑی۔




  • مارو گولی — سارہ قیوم

    اس نے برآمدے میں نکل کر اپنے پیچھے دروازہ بند کیا اور سر اٹھا کر روشن آسمان کو دیکھا۔ جاتی بہار کے چمک دار دن کی چھب ایسی تھی جیسے سونے میں جڑا کندن۔ اس نے اس چمچماتے آسمان سے نظریں چرا کر رخ موڑا اور دروازہ لاک کرنے کے لئے چابی نکالی۔ دروازے کے پاس پڑے گملے پر اس کی نظر اٹک گئی۔
    گلاب کے پودے میں چند سرخ کلیاں کھل رہی تھیں۔ مالی شاید تھوڑی دیر پہلے ہی پانی لگا کر گیا تھا۔ پتے دھل کر زمرد بن چکے تھے اور کلیاں لعل۔ چابی اس کے ہاتھ سے گر پڑی۔ گہرا سانس لے کر اس نے جھک کر چابی اٹھائی اور دروازہ لاک کیا اور پھر خود کو گیٹ پر کھڑا پایا۔ اس نے حیرت سے اس لمبے ڈرائیو وے کو مڑ کر دیکھا جسے عبور کرکے وہ گیٹ تک آپہنچی تھی اور اسے احساس بھی نہ ہوا تھا۔ سر جھٹک کر اس نے اپنے خیالوں سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی اور گیٹ کھولا۔ سڑک کے اس پار گل موہر کا درخت سچے موتیوں کے پھولوں سے لدا کھڑا تھا۔ گویا کسی ہرے زرتار آنچل کے کنارے سے مولسری کی نالیاں جھانک رہی ہوں۔ اس نے خالی خالی نظروں سے پر رونق سڑک کو دیکھا، چند گھر چھوڑ کر ایک عمارت بن رہی تھی اور اس کے سامنے بجری اور سیمنٹ کا ڈھیر پڑا تھا۔ چند مزدور اس ڈھیر سے اپنے تسلے بھر بھر کر اندر لے جارہے تھے۔ اس نے گردن موڑ کر دوسری طرف دیکھا۔ ساتھ والے گھر پر عید میلادالنبیۖ کے لیے بتیاں لگائی جارہی تھیں۔ چند لڑکے ننھے ننھے قمقموں کی تاریں گولائی میں گھر کی چھت سے لٹکا رہے تھے۔ گھر کا ماتھا اس طرح سج رہا تھا جیسے وہ دلہن ہو اور جھومر اس کا سر ڈھانپ رہا ہو۔
    ”دیر ہورہی ہے، امی انتظار کررہی ہوں گی۔” اس نے باآوازِ بلند خود کو یاد دلایا۔ صبح ہی تو اس نے راحت کو فون کرکے کہا تھا:
    ”امی میں گیارہ بجے تک آئوں گی۔ میرا زیور نکال کر رکھیے گا۔”
    وہ اپنے زیور لینے جارہی تھی۔ حیا، وفاداری اور محبت کا جو زیور وہ اپنے تن من پر سجائے رکھتی تھی، اس کے شوہر کو اس کی ضرورت نہیں تھی۔ اس نے اسے وہ زیور لانے کا حکم دیا تھا جسے بیچ کر پیسے آسکتے ہیں۔ وہ اپنی پسند کا زیور سینے سے لگائے، اپنے شوہر کی پسند کا زیور لینے جارہی تھی۔
    ٭…٭…٭





    پچھلی شام ظہیر جس وقت آیا تھا، اس وقت وہ احمد کو پڑھا رہی تھی۔ اس وقت ٹی وی پر خبریں چل رہی تھیں جن میں کورنگی کے علاقے میں ڈکیتی کی واردات کی فوٹیج دکھائی جارہی تھی۔
    نیوز کاسٹر چلا چلا کر کہہ رہی تھی:
    ”نامعلوم افراد نے راہ گیر سے نقدی اور موبائل چھین کر گولی مار دی۔”
    اس نے جھرجھری لے کر ریموٹ اٹھایا اور آواز آہستہ کردی۔ احمد بھی کام چھوڑ کر محویت سے ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ اس نے نرمی سے اس کا چہرہ اپنی طرف گھمایا۔
    ”ادھر دھیان دو بیٹا، کل quiz ہے آپ کا۔ یہ لفظ پڑھو کیا ہے؟ speelingکرو اس کے۔”
    ”ماما ڈاکو نے اس کو گولی مار دی؟” احمد نے آنکھیں پھیلا کر پوچھا۔
    ”ہاں بیٹا!” اس نے والیم مزید کم کرتے ہوئے کہا۔
    ”کیوں؟” احمد نے سوال کیا۔
    ابھی وہ اس کیوں کا جواب سوچ ہی رہی تھی کہ دروازہ کھلا اور ظہیر اندر داخل ہوا۔ سعدیہ نے مسکرا کر سلام کیا۔ ظہیر نے جواب دے کر بریف کیس میز پر رکھا اور ٹائی ڈھیلی کرتے ہوئے سعدیہ کے پاس صوفے پر بیٹھ گیا۔
    ”کیا ہورہا ہے پارٹنر؟” اس نے احمد کے بال بکھیرتے ہوئے پوچھا۔
    ”پڑھائی!” سعدیہ نے مسکرا کر احمد کو دیکھا۔
    اسے ظہیر کے سوالوں کے یک لفظی جواب دینے کی عادت تھی کیوں کہ وہ ساری بات میں سے بہ مشکل ایک دو الفاظ ہی سنتا تھا۔ اب بھی وہ سعدیہ کا جواب سنے بغیر ریموٹ اٹھا چکا تھا۔ والیم اونچا کرتے ہوئے وہ ٹی وی دیکھنے لگا جہاں اب بھی راہ گیر کو گولی مارنے کا واویلا جاری تھا۔ ظہیر کے ماتھے پر شکنیں نمودار ہوئیں:
    ”کیا حالات ہوگئے ہیں جہاں دیکھو ڈکیتی، جب دیکھو قتل، گولی تو ایسے مارتے ہیں جیسے یہ کوئی بات ہی نہیں۔”
    احمد پھر یک ٹک ٹی وی دیکھنیلگا تھا۔ سعدیہ نے ایک مرتبہ پھر اس کا چہرہ گھما کر کتاب کی طرف کیا اور بات بدل دی۔
    ”چائے لائوں آپ کے لیے؟” اس نے ظہیر سے پوچھا۔
    ”ہاں ذرا strongسی۔” اس نے بے دھیانی میں جواب دیا۔
    سعدیہ اٹھ کر کچن میں چلی آئی۔ ساس کی غیرموجودگی میں اسے کچن میں کام کرنے کا بہت مزہ آتا تھا۔ اب تو ویسے بھی دونوں ساس سسر عمرے پر گئے ہوئے تھے لمبی چھٹی تھی سعدیہ کی۔ ہر روز یومِ آزادی تھا۔
    وہ اپنے خیالوں میں گم مسکراتے ہوئے چائے کا پانی رکھ کر پتی کا ڈبا نکالنے لگی۔ اسی وقت ظہیر بڑی بے فکری سے آستینیں چڑھاتا ہوا اس کے برابر آکھڑا ہوا۔ سعدیہ نے حیران ہوکر اسے دیکھا، کچن میں تو وہ کبھی نہیں آتا تھا۔
    ”زیور کہاں پڑا ہے تمہارا؟” ظہیر نے پانی میں جھانکتے ہوئے بڑے عامیانہ انداز میں پوچھا۔سعدیہ کو ایک مرتبہ پھر حیرت ہوئی۔
    ”آپ جانتے تو ہیں امی کی طرف پڑا ہے، سیف لاکر میں۔” اس نے ظہیر کو یاد دلایا۔
    ”او ہاں! زیور لے آئو تم کل جاکر۔” اس نے بڑے آرام سے کہا۔ سعدیہ ایک بار پھر مسکرا دی۔
    ”ٹھیک ہے۔ کوئی شادی ہے کیا؟” اس نے پوچھا۔
    ”نہیں شادی نہیںہے، بیچنا ہے زیور۔ مجھے ضرورت ہے پیسوں کی۔” کھولتے پانی میں پتی ڈالتے سعدیہ کے ہاتھ جہاں تھے، وہیںتھم گئے۔
    ”بیچا ہے؟ آپ میرا زیور بیچیں گے؟” اس نے بے یقینی سے کہا۔
    ”ہاں! تو؟ اتنے زیور کا کرنا کیا ہے تم نے؟اس وقت ضرورت ہے مجھے ،ایسے وقت کے لیے ہی ہوتا ہے زیور۔”ظہیر نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا۔
    ”آپ اپنی طرف کا زیور تو پہلے ہی بیچ چکے ہیں۔” اس نے پتی ڈالتے ہوئے پھیکی سی ہنسی سے کہا۔
    ”ہاں تو میری چیز تھی میں نے بیچ دی۔” اسے ظہیر کے لہجے میں وہ جھلاہٹ نظر آئی جو برہمی کا پیش خیمہ تھی۔ وہ برہمی جو اشتعال کا ہر اول دستہ تھی، وہ اشتعال جس سے سعدیہ کی جان نکلتی تھی۔ اس نے ہمت مجتمع کرکے کہا:
    ”لیکن میں اپنا زیور نہیں بیچوں گی۔ میرے ماں باپ کی نشانی ہے وہ۔”
    سعدیہ کے دل نے اسے ٹھیک وارننگ دی تھی۔ ظہیر نے درشتی سے سعدیہ کا بازو پکڑ کر اسے جھٹکے سے اپنی طرف موڑا۔ سعدیہ کے ہاتھ سے پتی کا ڈبا گرتے گرتے بچا۔ اپنے آپ کو کھولتے پانی کے برتن سے بچاتے سعدیہ کی نظر احمد پر پڑی جو لائونج کے کھلے دروازے سے انہیں دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں حیرت، خوف، تجسس سب کچھ تھا۔ سعدیہ نے ظہیر کی آنکھوں میں دیکھا، وہاں اسے شعلے بھڑکتے نظر آئے۔
    ”تو پھر تم بھی جائو گی اپنی ماں کے پاس۔” اس نے سعدیہ کے بازو کو جھٹکا دے کر کہا۔
    ”مجھے نہیں چاہیے ایسی بیوی جو آڑے وقت میرے کام ہی نہ آئے۔” غصے سے اس کے نقوش بگڑ رہے تھے۔ سعدیہ ڈر کر اپنے آپ میں سمٹ گئی۔
    ”کل صبح جا کر زیور لے کر آئو ورنہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔” ظہیر نے اس کے بازو کو ایک مرتبہ پھر جھٹکا دیا اور اسے وہیں کھڑا چھوڑ کر چلا گیا۔ طلاق کا لفظ سعدیہ کو گولی کی طرح لگا۔ کتنی مرتبہ سن چکی تھی وہ یہ لفظ، یہ جملہ ”طلاق دے دوں گا۔” ہر مرتبہ اسے یوں لگتا جیسے اس کے دل میں کسی نے نئے سرے سے چھری گھونپ دی ہے۔ ہر مرتبہ اس لفظ کو سننے کی ذلت اسے اذیت کی نئی کھائی میں پھینک دیتی تھی۔ وہاں کھڑے کھڑے سعدیہ کو وہ تمام مواقع یاد آنے لگے جب اسے طلاق کی دھمکی دی گئی تھی۔ اس نے ان یادوں سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی مگر وہ کسی بلا کی طرح اسے چمٹ گئیں۔
    اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ اسے اچھی طرح یاد تھا ابھی صرف ایک ہفتہ ہی گزرا تھا ان کی رخصتی کو۔ اس کا دل ابھی تک ماں کے گھر میں اٹکا تھا۔ اس روز امی نے انہیں رات کے کھانے پر بلایا تھا اور دبی زبان سے اسے رات رکنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ وہ بھی رکنا چاہتی تھی۔ اس نے ظہیر سے کہا، وہ خاموش ہوگیا۔ وہ تو کم عمر تھی، ظہیر کے موڈ کو نہ پہچان سکی مگر امی سمجھ گئیں۔ اس کے بعد انہوں نے اسے رات رکنے کا نہ کہا۔ وہ بھی اپنی دھن میں مگن خوش خوش امی کے گھر سے واپس۔
    ”کتنا دل تھا میرا آج امی کے گھر رکنے کا۔” اس نے چوڑیاں اتارتے ہوئے کہا:
    ”آپ نے رکنے ہی نہیں دیا۔”
    ظہیر قدم بڑھا کر اس کے پیچھے آکھڑا ہوا۔ سعدیہ نے سر اٹھا کر مسکراتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں اسے دیکھا۔ اس کے تاثرات دیکھ کر اس کی مسکراہٹ منجمد ہوگئی۔
    ”اتنا ہی شوق ہے ماں کے گھر رہنے کا تو پھر جائو، وہیں رہو… یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی؟”
    ”میں نے یہ تو نہیں کہا۔” سعدیہ نے اٹکتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں نہیں! کہہ دو بے شک۔” ظہیر نے طنز سے کہا۔
    ”میں اور میرا گھر پسند نہیں، ماں بہن سے بہت پیار ہے تو بے شک چھوڑ دو مجھے۔ طلاق لے لو اور چلی جائو۔”





    اس لفظ کو سننے کی تکلیف سعدیہ اب بھی محسوس کرسکتی تھی۔ وہ تیزی سے ظہیر کی طرف پلٹی۔
    ”آپ طلاق دے سکتے ہیں مجھے؟” اس نے کانپتی آواز میں بے یقینی سے پوچھا۔
    ”ہاں! مجھے کوئی پرابلم نہیں یہ تمہاری چوائس ہے۔” ظہیر نے سرد لہجے میں کہا۔ سعدیہ روتے ہوئے ظہیر سے لپٹ گئی۔
    ”نہیں مجھے طلاق نہیں چاہیے۔ میں پیار کرتی ہوں آپ سے۔ مجھے کبھی طلاق مت دینا۔” اس نے روتے ہوئے کہا۔
    اور اس التجا کے ساتھ اس نے اپنی دکھتی رگ ظہیر کے ہاتھ میں دے دی۔ اس کے بعد اسے کتنی مرتبہ طلاق کی دھمکی سننا پڑی، اب تو وہ گنتی بھی بھول گئی تھی۔ مگر یادیں تھیں کہ اسے وہ تکلیف بھولنے کا موقع نہیں دیتی تھیں۔
    اسے وہ دن یاد آیا جب اس کی شادی کے تین مہینے بعد ظہیر کی ماموں زاد بہن کی شادی آئی۔ سعدیہ نے اپنے جہیز کا سب سے خوب صورت سوٹ نکالا، اپنے سارے کپڑوں میں سے یہ اس کا پسندیدہ سوٹ تھا۔ اس نے بیسیوں چکر لگائے کام والے درزی کے پاس، پھر کہیں جا کر اس کی مرضی کا سوٹ بنا۔ قریبی شادی تھی اس لیے اس نے بڑے چائو سے یہ سوٹ اور میچنگ جیولری نکالی۔ اسی وقت اس کی نند فریحہ کسی کام سے اس کے کمرے میں آئی۔
    ”ہائے! کتنا خوب صورت ڈریس ہے بھابھی” اس نے فدا ہوکر کہا۔
    ”ہے نا؟ میں نے خود ڈیزائن کیا ہے۔” سعدیہ خوش ہوگئی۔
    ”میرا تو مسئلہ حل ہوگیا بھابھی۔ اتنے دنوں سے اس فکر میں تھی کہ فرسٹ کزن کی شادی میں میرے کپڑے سب سے اچھیہونے چاہئیں۔ اب یہ پہنوں گی… دے دیں گی نا آپ؟” فریحہ نے خوشی سے پوچھا۔ سعدیہ کی مسکراہٹ پھیکی پڑ گئی۔ اس نے مدد طلب نگاہوں سے بستر پر نیم دراز ظہیر کو دیکھا۔
    ”ہاں ہاںچ یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے؟تم رکھ لو یہ ڈریس فریحہ بلکہ سعدیہ اس کے ساتھ کی جیولری بھی دے دو فریحہ کو۔” ظہیر نے فراخ دلی سے کہا۔فریحہ خوشی سے کھل اٹھی۔ اس نے سعدیہ کے ہاتھ سے ڈریس لے لیا۔
    ”تھینک یو بھائی، جیولری ابھی آکر لے لوں گی، امی کو سوٹ دکھا آئوں۔”
    فریحہ دروازہ کھول کر نکل گئی۔ سعدیہ دھواں دھواں چہرے کے ساتھ وہیں کھڑی رہ گئی۔
    ”تم نے منہ کیوں بنا لیا؟ اتنا چھوٹا دل ہے تمہارا؟ ایک سوٹ کے پیچھے موڈ دکھا رہی ہو؟” ظہیر نے ناگواری سے کہا۔سعدیہ نے مسکرانے کی کوشش کی:
    ”نہیں تو، کوئی بات نہیں۔”ظہیر نے سر ہلایا اور سختی سے کہا:
    ” میرے لیے ماں باپ اور بہن بھائی ہر چیز سے بڑھ کر ہیں۔ تمہیں اگر یہ معمولی چیزیں ان سے زیادہ عزیز ہیں تو اس گھر میں تمہاری کوئی جگہ نہیں۔ طلاق لو اور چلی جائو واپس۔”
    یہ ان ٹھوکروں کی ابتدا تھی جو اس سفر میں قدم قدم پر سعدیہ کی منتظر تھیں۔ ان ٹھوکروں میں اس کی ساس نے بھی بہ قدر توفیق حصہ ڈالا تھا۔
    ”دو گھنٹے بیٹھی رہی رضیہ خالہ،تمہاری بیوی نے اپنے کمرے سے قدم تک نہیں نکالا۔” سعدیہ کے کانوں میں اپنی ساس کی آواز گونجی۔ ظہیر کے دفتر سے آتے ہی وہ عدالت لگا کر کھڑی ہو جاتی تھیں۔
    ظہیر نے غصے میں سعدیہ کو خشمگیں نظروں سے گھورا۔ سعدیہ سہم گئی۔ بڑی بری عادت تھی اس کی ذرا سی بات پر سہم جاتی تھی۔ ذرا سی دھمکی سے ڈر جاتی تھی۔ اس نے معذرت خواہانہ انداز میں اپنی صفائی پیش کی۔
    ”امی مجھے تو پتا نہیں تھا کہ وہ آئی ہوئی ہیں، مجھے کسی نے نہیں بتایا۔”اس نے ڈرے ڈرے لہجے میں کہا۔
    ”ہاں تو یہ تمہارا فرض نہیں کہ گھر میں آئے گئے کا خیال رکھو؟ تمہیں دعوت نامے بھیجے جائیں کہ مہارانی آئو، مہمانوں کو اپنی زیارت کرائو؟” اس کی ساس نے ڈپٹ کر کہا۔سعدیہ نے لجاجت سے کہا:
    ”امی آپ مجھے بتا دیتیں تو…”اس کی بات پوری نہ ہوسکی، اس کی ساس نے تیوریاں چڑھا کر کہا:
    ”لو!… اب یہ میرا قصورہے، دیکھ رہے ہو ظہیر اپنی بیوی کا رویہ؟ یہ کرتی ہے یہ ہمارے ساتھ۔”
    سعدیہ روہانسی ہوگئی
    ”میں نے تو…”
    ”معافی مانگو امی سے!”ظہیر نے غصے سے اس کی بات کاٹ دی۔
    سعدیہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی، پھر کم زور سے لہجے میں بولی:
    ”ظہیر میں اوپر اپنے کمرے میں تھی، مجھے مہمانوں کے آنے کا پتا نہیں چلا، مجھے کسی نے بتایا ہی نہیں۔”
    ”معافی مانگو۔” ظہیر نے دھاڑ کر کہا،سعدیہ کی روح فنا ہوگئی۔
    ”سوری… سوری امی۔” اس نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا لیکن ظہیر کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا۔ اس نے چیخ کر کہا:
    ”آئندہ شکایت نہ ملے مجھے ورنہ طلاق لے کر گھر جائو گی۔”
    کتنی عجیب بات تھی، اسے حکم دیا جاتا تھا کہ اس گھر کو اپنا گھر سمجھ کر رہے اور پھر بات بات پر اسے گھر بھیجنے کی دھمکی دی جاتی تھی۔
    اس کے میکے یا دوستوں کی طرف سے کوئی بلاوا آتا تو ایک ہی جملہ سننے کو ملتا:
    ”جائو! واپس نہ آنا۔”
    آہستہ آہستہ اس نے ہر جگہ جانا چھوڑ دیا۔ پھر طعنہ ملنے لگا تم آلسی ہو، باہر کی لڑکیاں تو بڑی طرح دار ہیں۔ تمہیں طلاق دے دوں گا، ان میں سے کوئی گھر لے آئوں گا۔” اس کا دل چاہا کہ پوچھے:
    ”گھر لا کر ان کے ساتھ بھی یہی سلوک کرو گے؟” لیکن برا ہو اس ڈر کا جو اسے قدرت نے بے حساب عطا کیا تھا۔ وہ ڈرتی تھی، وہ ڈراتا تھا۔
    ”گرم کھانا کھانے کی عادت ہے مجھے۔ بندہ سارے دن کا تھکا ہاراگھر آئے اور ٹھنڈا کھانا کھائے؟” وہ طیش میں آکر کہتا۔
    ایک دن اس کے انتظار میں اس کی آنکھ لگ گئی۔ ان دنوں ویسے بھی اس کا آٹھواں مہینہ تھا، وہ خود اپنے آپ سے بے زار تھی۔ کھانا ٹھنڈا ہوگیا، وہ بھوکی ہی سو گئی۔
    ”کھانا گرم کھانے کی عادت ہے مجھے۔” ظہیر نے آکر اسے اٹھایا اور غصے سے اسے تنبیہہ کی۔
    ”سوری! میری آنکھ لگ گئی تھی۔” وہ سوتے سے اٹھتی ہوئی مجرمانہ انداز میں بولی۔
    ”سارا دن کرتی کیا ہو تم؟کیا فائدہ ایسی بیوی کا جو مجھے تازہ روٹی تک نہ دے سکے؟ ایسی بیوی کو تو گھر بھیج دینا چاہیے۔” ظہیر نے دھاڑتے ہوئے کہا۔
    ”پلیز ظہیر! چھوٹی چھوٹی باتوں پر اتنا غصے میں نہ آیا کریں۔” اس نے تھکن سے چور التجائیہ انداز میں کہا۔




  • میری پری میری جان — اقراء عابد

    کبھی پھولوں کو روتے دیکھا ہے تم نے؟
    پھول نہیں روتے ۔۔ روتے بھی ہوں تو اپنا درد اپنے اندر پنہاں کسی کونے میں چھپا کر رکھتے ہیں۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے چہروں پر مسکان بکھیرتے ہیں، اپنے درد کی جھلک بھی دوسروں پر عیاں نہیں ہونے دیتے میری جان!
    پھول تو پھول ہوتے ہیں۔۔ خوشیاں دیتے ہیں۔۔۔ خوشبویں بکھیرتے ہیں۔ سپنے سجاتے ہیں۔۔۔ بناتے ہیں۔۔۔ درد مٹاتے ہیں۔۔
    پھول تو پھول ہوتے ہیں نا پری! تم بھی تو پھول ہو، ننھا سا پیارا سا پھول۔۔ جس نے کبھی مُرجھانا نہیں ہے، ہمیشہ کِھلے ہی رہنا ہے تاکہ تم سے منسلک لوگ بھی اپنے پھول کو دیکھ کر اپنے لبوں کی مسکان برقرار رکھ سکیں۔ وہ کب سے اپنی پری کا سیال صاف کر رہا تھا۔ وہ اب وہ تھک چکا تھا، لیکن پری کا سیال مسلسل رواں تھا۔
    اُس نے پانی کی تلاش میں ارد گرد کا بہ غور جائزہ لیا تو پتا چلا اِس ڈربے نما کمرے میں ایک ذی روح کا رہنا ایسے ہی ہے جیسے کسی کو گہرے کنویں میں پھینک دیا جاے اور اُس کنویں کو اوپر سے اچھی طرح ڈھانپ دیا جائے۔۔۔ کنواں نما عجیب و غریب یہ کمرہ چوڑائی میں کم اور گولائی میں زیادہ تھا یوں جیسے سچ میں کنواں کھودا گیا ہو۔ دیواریں بھی لمبی لمبی مگر گولائی میں تھیں اوپر چھت کی طرف دیکھا تو ایک بہت اوپر گارڈر کے ساتھ ایک پرانی طرز کا پنکھا جھول رہا تھا، جو صرف خود کو ہوا دے رہا تھا۔ روشنی کے نام پر صرف ایک بلب سنہری سی روشنی پھینک رہا تھا جو اس کھنڈر نما کمرے کے لیے کافی نہیں تھی۔ ایک خستہ حال سی چارپائی پر میلی سی سفید چادر بچھی تھی، جس پر تکیہ ندارد تھا۔ اُسی تکیے کی جگہ بیٹھی وہ نیر بہا رہی تھی جب کہ سُبحان احمد اُس کے سامنے گھٹنوں کے بل فرش پر بیٹھا اُسے دیوانہ وار چُپ کروا رہا تھا۔ چارپائی کے سائیڈ پر ایک چھوٹا سا میز پڑا تھا جس پر پانی کا جگ تھا اور ساتھ ہی گلاس بھی موجود تھا، مگر دیکھنے سے پتا چلتا تھا کہ برتن کافی عرصے سے دھلنے سے محروم پڑے ہیں۔ وہ پانی ڈالنے کے لیے آگے بڑھا تو یہ دیکھ کر جل اُٹھا کہ جگ میں پانی ہی موجود نہ تھا۔ یوں جیسے بہت دنوں سے یہاں کسی نے مڑ کر بھی نہ دیکھا ہو۔
    ”اُٹھو پری! چلو یہاں سے، میں اب مزید تمہیں ان لوگوں کے سپرد نہیں کر سکتا۔” سبحان نے پری کوبازئووں کا سہارا دیا اور اُسے باہر لے آیا۔ پری کی اُمید بندھی کہ اب اس قید سے جان چھوٹ جائے گی۔





    ”ارے ارے! کہاں لے کر جا رہے ہیں آپ پیشنٹ کو؟ ان کے انجکشن کا ٹائم ہو گیا ہے۔” جیسے ہی وہ پری کو لے کر باہر نکلا، نرس نے اُسے روک لیا۔
    ”ہٹ جائو رستے سے، میں سب جانتا ہوں کون سے انجکشن کی تم بات کر رہی ہو۔ ارے ذرا سی بھی انسانیت نہیں ہے تم لوگوں میں۔” وہ ڈسٹ بن میں پڑی انجکشن کی خالی شیشی دیکھ چکا تھا اور جانتا تھا یہ نشے کا انجکشن سونا کو کیسے اندر ہی اندر ختم کر رہا ہے۔ وہ اب کسی کی سننے والا نہیں تھا۔ اُس نے پری کو گاڑی میں بیٹھایا اور اُسے انتظار کرنے کیلئے کہا۔
    اس نے کسی کی بات نہیں سنی، کسی نرس کو مڑ کر جواب نہیں دیا۔ گاڑی لاک کر کے وہ سیدھا پری کے ڈاکٹر سلیم جیلانی کے پاس آگیا۔ ڈاکٹر نے حیرانی سے اُس کی طرف دیکھا، پھر پیچھے کھڑی ریسپشنسٹ کی طرف۔۔
    ”ای ایم رئیلی سوری سر! میں نے ان صاحب کو بہت روکا مگر یہ زبردستی روم نمبر سات کے پیشنٹ کو لے گئے اور اب زبردستی آپ کے روم میں گھس گئے۔ سوری سر!” ریسپشنسٹ شرمندہ کھڑی تھی۔ ڈاکٹر سلیم نے اُسے جانے کا اشارہ کیا۔
    ”جی تشریف رکھیے سبحان صاحب! کیسے ہیں آپ؟” ڈاکٹر نے سامنے پڑی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
    ”میں یہاں تشریف رکھنے نہیں بلکہ آپ کو اس بات سے آگاہ کرنے آیا ہوں کہ میں اپنی پری کو یہاں سے لے جا رہا ہوں۔ میں مزید اسے یہاں، اس قید خانے میں نہیں دیکھ سکتا۔ ارے قید خانے بھی اس سے اچھے ہوتے ہیں، وہاں بھی دو وقت کا کھانا اور پانی تو نصیب ہو جاتا ہے۔ میں ایک ماہ کے لیے ایمرجنسی میں فارن کیا چلا گیا، آپ کو اور آپ کے عملے کو لگا پری کا باپ مر گیا۔ نہیں ہر گز نہیں! وہ میری پری ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ میں نہیں جانتا اُس کو جنم دینے والے ماں باپ کون تھے اور کون بد نصیب اپنی اتنی پیاری بچی کو آپ جیسے قصائیوں کے ہاتھ دے گئے۔ ارے آپ ڈاکٹر نہیں ہیں، آپ پیسا بٹورنے والی مشینیں ہیں، جن کے منہ میں پیسا ٹھونستے رہو تو وہ ٹھیک سے کام کریں گی، ورنہ آپ کا وہ حشر کریں گی کہ آپ اپنا آپ بھول جائو گے۔” سبحان صاحب بے نقط اسے سنا رہے تھے۔
    ”ارے وہ تو معصوم ہے، ٹھیک سے کچھ بتا بھی نہیں سکتی کہ اسے کیا چاہیے؟ اُسے کچھ کھانا ہے یا پینا ہے۔ اور آپ انسانیت کے درجے سے اس قدر گر چکے ہیں کہ اُس کو کھانا تو کیا پانی تک نصیب نہیں ہوتا۔ بلکہ الٹا اُس کو نشہ آور ادویات دی جاتی ہیں تاکہ وہ نہ اٹھے اور نہ ہی آپ کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے۔ اپنی آسانی کیلئے کسی معصوم کی جان کو خطرے میں کیسے ڈال سکتے ہیں آپ؟” یہ کہتے ہی اس نے میز پر بھاری ہاتھ مارا تو اس پر پڑی تمام چیزیں ایک بار چیخ اٹھیں۔ آج اُس نے اپنی ساری کی بھڑاس بنا کسی لگی لپٹی کے نکال دی۔ ڈاکٹر بڑے مطمئن انداز سے اپنی چئیر پر جھول رہا تھا۔ سُبحان کو لگا وہ بھینس کے آگے بین بجا رہا ہے، اس لئے وہ جانے کے لیے مڑگیا۔۔
    ”دیکھیے سُبحان صاحب! آپ انجلا کو نہیں لے کر جا سکتے۔ اس کا آپ سے کوئی خونی رشتہ نہیں ہے۔” گلا کھنکارتے ہوئے جو الفاظ ڈاکٹر نے اُس کے کانوں میں منتقل کیے تھے انہوں نے اس کے تن بدن میں آگ لگا دی۔ اُس کا دل چاہا ایک بار اس ڈاکٹر کا گریبان چاک کر دے اور اُسے اُس کی اوقات دکھا دے مگر وہ کوئی عام انسان نہیں تھا، سبحان احمد لغاری تھا جو چاہتا تو کھڑے کھڑے پورا ہسپتال اور اس جیسے کئی ڈاکٹرز خرید سکتا تھا مگر وہ ایسا نہیں تھا۔ وہ تو پیار بانٹنا جانتا تھا، نفرت نہیں۔۔
    ”خون کے رشتے اگر ایسے ہوتے ہیں جو اپنے معصوم جگر کے ٹکڑوں کو یوں آپ جیسے لوگوں کے ہاتھوں میں تھما جاتے ہیں تاکہ آپ جو چاہے اُن کے ساتھ سلوک کریں اور مڑ کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے تو میں لعنت بھیجتا ہوں ایسے خونی رشتوں پر۔ میں بس اتنا جانتا ہوں کہ وہ میری بیٹی ہے، میری پری ہے اور میں اُسے مزید تکلیف میں تڑپتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔۔ سمجھے آپ ؟ میں لے جا رہا ہوں اُسے اپنے ساتھ۔ خدا حافظ!” وہ پھرتی سے ہسپتال سے باہر نکلا اور گاڑی زن سے بھگا لے گیا۔۔
    ”پری بیٹا! آپ کا کمرہ دوتین دن میں تیار ہو جائے گا تب تک میرا بچہ میرے ساتھ اسی کمرے میں رہے گا۔ ٹھیک ہے نا؟” وہ اپنی پری کے تمام اشاروں کو سمجھتا تھا اس لئے مطمئن ہو گیا۔ وہ پری کے کمرے کے لیے بہترین ڈیکوریٹر کو ہائر کرنا چاہتا تھا اور اس نے اس کام میں دیر نہیں کی۔





    چار دن کی مسلسل محنت اور کوشش کے بعد سُبحان آج کافی مطمئن تھا۔ اُس نے آفس کا سارا کام اپنے مینیجر کو سونپ دیا تھا اور اپنی پری کا کمرہ اپنی زیرِ نگرانی تیار کروایا تھا۔۔ لیکن ابھی پری اُسی کے کمرے میں رہ رہی تھی کیوں کہ اُس کی صحت کافی خراب تھی۔ وہ بہت کم زور ہو گئی تھی۔ صرف ایک ماہ میں وہ سوکھ کر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئی تھی ۔ کمرے سے فارغ ہوتے ہی سبحان نے شہر کے سب سے بہترین سائیکالوجسٹ سے رابطہ کرکے ٹائم لے لیا تھا۔
    وہ بہت خوش تھا۔ اُس کی پری اُس کے ساتھ تھی اور پری بھی پہلے کی نسبت اب قدرے مطمئن ہو گئی تھی۔ اب وہ توڑ پھوڑ اور چیختی چلاتی کم تھی اور صحیح اور بہتر دوا ملنے سے اب سُبحان کی پری اس سے کچھ کچھ ٹوٹی پھوٹی باتیں بھی کرنے لگی تھی جس کی سمجھ صرف اُسی کو آتی تھی۔ وہ سب بھول گیا تھا، آفس بھی اب کم کم ہی جاتا تھا۔ کوئی بہت ایمرجنسی ہوتی تو وہ پری کو آپا عفت کے حوالے کر کے جاتا جو اُس نے پری کے چھوٹے موٹے کاموں کے لیے رکھی تھی۔ کھانا بنانے کیلئے باورچی تھا، مگر ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق پری کا کھانا آپا عفت بناتیں۔ پری کو نہلانا اور اُس کے دیگر معاملات آپا عفت دیکھتیں تھیں۔۔ دوائیں وغیرہ بہت احتیاط اور دھیان سے سُبحان خود پری کو دیتا تھا۔۔ صرف چھے ماہ کے عرصے میں پری پہلے کی نسبت بہت سنبھل گئی تھی۔ سبحان بہت خوش تھا۔ اب وہ کچھ کچھ بنا سہارے کے چلنے لگی تھی۔ لیکن کبھی کبھی پری پر وہی دورہ پڑنے لگتا، وہ چیختی چلاتی، چیزیں اٹھا اٹھا کر پٹختی اور کھانا تک نہ کھاتی۔ حتیٰ کہ کبھی کبھار وہ سُبحان کو بھی پیٹنے لگتی، جب وہ اُسے باز رکھنے کیلئے اپنے بازوئوں میں بھرتا اور وہ اپنا آپ چھوڑوانے کی کوشش کرتی تو ایسے میں بھی سُبحان سخت پریشان ہونے کے باوجود کبھی اُس سے سختی سے پیش نہیں آتا تھا بلکہ ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرتا، بے تحاشا لاڈ پیار دیکھ کر پری بھی شانت ہو جاتی۔۔ پری کی صحت کی وجہ سے وہ اُس کو اپنے ہی کمرے میں رکھتا تھا اپنے ہی ساتھ سلاتا، اپنے ہی ساتھ کھلاتا مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ اُس کی خوشیوں کی مدت اتنی کم ہے۔۔
    ”گرفتار کر لیجیے انہیں انسپکٹر صاحب! انہی کے قبضے میں ہے میری بہن ۔۔ یہ کمینہ ہسپتال کے پورے عملے کے ساتھ بدتمیزی کر کے اور دھمکیاں دے کہ ورغلا کر میری بہن کو اپنے ساتھ لے آیا۔ وہ تو بہت چھوٹی ہے صرف۔۔آمم آ۔۔” سات یا ساڑھے سات سال کی ہو گی وہ۔۔ اسے کیا پتا یہ کون ہے۔ میری انجلا اسی کے پاس ہے انسپکٹر صاحب۔
    پولیس کے ساتھ ڈاکٹر سلیم جیلانی اور ایک ماڈرن سی لڑکی آج اُس کے گھر میں موجود تھی وہ ابھی ابھی پری کو ناشتہ کروا کر باہر نکلا ہی تھا کہ لائونج میں تمام لوگوں کو کھڑا دیکھ کر پہلے تو کچھ سمجھ ہی نہیں پایا مگر اُس عورت کے الفاظ سن کر اُسے سب سمجھ میں آ گیا۔۔۔
    ”محترمہ سب سے پہلی بات تو میں آپ کو جانتا نہیں ہوں اور اگر آپ پری کی بہن ہونے کا دعوی کر رہی ہیں تو آپ کو اتنا بتاتا چلوں کہ پری کی عمر سات یا ساڑھے سات سال نہیں بلکہ دس سال اور چار ماہ ہے اور دوسری بات میں ہسپتال کے عملے سے بدتمیزی کر کے ضرور آیا ہوں گا مگر دھمکیاں دینا میرا شیوہ نہیں۔۔۔” سبحان احمد قدرے تحمل سے بولے۔
    ”باقی رہ گئی اریسٹ کرنے کی بات تو کوئی ٹھوس وارنٹ لے کر آئیے، پھر آپ مجھے اریسٹ کیجیے گا۔ اب آپ جا سکتے ہیں میرا وقت بہت قیمتی ہے۔ شکریہ۔۔” وہ اپنی بات کہہ کر رکا نہیں بلکہ واپس اپنے کمرے میں آگیا۔ وہ پری کو کھو دینے کے ڈر سے پریشان ضرور تھا اور کسی بات کی اسے پرواہ نہیں تھی۔
    اُس نے اپنے فون پر نمبر ملایا اور آہستگی سے سب کہتا گیا۔
    ”اور ہاں سنو! مجھے آج ہی اپ ڈیٹ کرنا ہے تم نے۔۔ اوکے اللہ حافظ۔۔”
    پھر پورا دن وہ سکون سے نہیں بیٹھا۔ کبھی ایک کال ملاتا تو کبھی دوسری۔۔۔۔ ایسے ہی شام ڈھل گئی اور اب رات بھی ۔۔ کتنی ہی بار کرم دین کھانے کا پوچھنے آیا مگر ہر بار اُس کا جواب یہی ہوتا بھوک نہیں ہے مجھے، آپا سے کہیں پری کو کھلا دیں اور دوا بھی دے دیں۔
    نماز تو پہلے بھی وہ کوئی نہیں چھوڑتا تھا مگر آج پری کو سلانے کے بعدسے وہ جائے نماز پر بیٹھا تھا اور اب وال کلاک اُسے تین بجنے کا اعلان سنا رہا تھا۔ وہ سجدے سے اٹھا تو اُس کا چہرہ آنسوئوں سے تر تھا۔۔ مدھم سی روشنی میں ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ ان چند گھنٹوں میں صدیوں کا سفر طے کرکے لوٹا ہو۔۔ ایک نظر مطمئن سی سوئی ہوئی پری کے چہرے پر ڈالی اور جائے نماز کو تہہ کرمیز پر رکھااور کمرے سے باہر نکل آیا۔




  • کردار —-ہاجرہ ریحان

    ”تم جیسی عورتوں کا تو طریقہ یہی ہے کہ جب اپنا شوہر سنبھالا نہیں گیا تو دوسرے مردوں پر دانت مارنے شروع کر دئیے. . . اس لئے کہ گھر کا خرچہ بھی تو چلانا ہے… اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچے… پوچھے کوئی کہ اتنے اچھے رنگ کی مہنگی ساڑھی آخر کیوں آسمان سے تمہارے ہی گھر پر ٹپکی…؟ ابھی بس کہاں . . . ؟ ابھی تو بچے کو بھی بڑا کرنا ہے. . . اُس کو بھی یہی شان و شوکت دینی ہے. . . ارے تم جیسیوں سے اچھی تو طوائفیں ہوتی ہیں کم از کم جو کام کرتی ہیں وہ مانتی تو ہیں . . . شرافت کا لباد ہ اوڑھ کر . . . بے وقوف تو نہیں بناتی رہتیں۔”
    وہ دانت پیستے ہوئے مجھے بے نقط سنائے چلی جا رہی تھی… اور اُس کی چلتی ہوئی زبان ایک لمحے کے لئے بھی نہیں رُکی تھی… میں اُس کے کہے چند جملے بیچ بیچ میں اچک کر اپنے دماغ میں دُہرا رہی تھی…
    ”اچھے رنگ کی مہنگی ساڑھی…؟ ھم م م…!” میں نے دل میں سوچا…
    ‘ بھلا بتائو . . . اگر اس کی جگہ کوئی اور عورت ہوتی… جب کہ وہ اپنے تئیں شوہر کی محبوبہ کو ساری دنیا کے سامنے ذلیل کرنے اور اپنے شوہر کا اُس سے پیچھا چھڑانے کے لئے باقاعدہ محاذ پر ڈٹی ہوتی . . . تو اس قدر اہم وقت میں کیا وہ میری ساڑھی کو اس طرح باریک بینی سے دیکھ سکتی تھی ؟ساڑھی کی مالیت . . . رنگ . . . کپڑے کا اندازہ لگا سکتی تھی ؟’





    اچانک ایک لمبا… سا شخص بھاگتا ہوا اُس کے قریب آ گیا…
    ”کیا بکواس ہے یہ . . . پاگل تو نہیں ہو؟ نکلو یہاں سے… چلو…!” وہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر تقریباً کھینچتا ہوا اُسے باہر لے جانے کی کوشش کرنے لگا. . . اور تھوڑا بہت کام یاب بھی ہو گیا . . . کہ وہ ہاتھ چھڑا کر پھر چیخی:
    ”ہاں ہاں! کیوں نہیں؟ بھانڈا پھوٹ گیا تو اب کیسے مجھے گھسیٹ رہا ہے۔ بے شرم! اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری عورت کے پاس رات میں جاتے ہوئے شرم نہیں آتی؟ تو دن میں ملنے میں کیا پریشانی ہے… بے شرم… اب شرم کیسی؟”
    ”کس قسم کی بکواس کر رہی ہو ؟ سب کے سامنے تماشہ بنا رکھا ہے . . . کتنی بار بتایا ہے کہ یہ تو . . . بس ایک کردار ہے . . . کیوں سمجھ نہیں آ رہا تمہیں بولو ؟” لمبا آدمی پھنکارا . . . مگر اب اس کی توپ کا دہانا اپنے شوہر کی طرف ہو گیا تھا . . . وہ دونوں برابری سے ایک دوسرے کو تیز لفظوں میں سُنا رہے تھے . . . مجھے ایک پل کے لئے لگا کہ جیسے لمبا آدمی جان بوجھ کر کچھ اس لئے اپنی بیوی سے ترکی بہ ترکی بات کر رہا تھا تاکہ مجھ پر سے اُس کی توجہ ہٹ سکے . . . اور میں . . . میں کھانے کی بھری رکابیوں میں سجی لمبی سی میز کے ساتھ ہی کھڑی تھی… کچھ لوگ سب کچھ سُن اور دیکھ کر ناصرف تماشے سے محظوظ ہو رہے تھے بلکہ کھانا لینے کے لئے خالی پلیٹ ہاتھ میں لئے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے قطار میں کھڑے تھے…
    لمبا آدمی… دانت پیستی… چیختی… باتیں سُناتی عورت کو آخر کار شامیانے سے لے کر نکل گیا . . . میں کھڑی کی کھڑی رہ گئی . . . کاش کہ مجھے بھی کوئی اسی طرح زبردستی گھسیٹ کر باہر چھوڑ آئے کہ میرے قدموں میں تو جیسے جان ختم ہو چکی تھی… وہ پتھر کے ہو کر زمین کے اندر کسی تہہ تک پہنچ کر منجمد ہو چکے تھے۔
    یہ سب کیا ہوا ؟ میں حیران ہی نہیں پریشان بھی تھی . . . میں تو ابھی شاید یہی کوئی آدھا گھنٹہ پہلے ہی شامیانے میں داخل ہو کر میزبان خاتون ِ خانہ سے چند ایک معمول کی رسمی سی باتیں کر کے اُن کے ہاتھ میں لفافہ پکڑا کر الگ تھلگ پُرسکون بیٹھی رہی تھی . . . اور اب کھانا لگتا دیکھ کر میز کے قریب پہنچی تھی… کہ یہ دانت پیستی عورت تیز قدموں سے میرے پاس آئی، میں یہی سمجھی تھی کے وہ بھی کھانا لینے ہی تیزی سے اس طرف آ رہی ہے مگر پھر جب اُس نے مجھے مخاطب کئے بغیر ہی شور مچا کر مجھے باتیں سُنانا شروع کر دیں تو میں گھبرا کر کچھ نہ سمجھ کر اپنی جگہ جم کر رہ گئی تھی… میں نے ایک دو بار اپنے ارد گرد دیکھا تھا کہ شاید کوئی میری مدد کرنے آگے بڑھے… مگر نہیں۔ میں چونکی، میزبان خاتون ِ خانہ گھبرائی ہوئی میری طرف دوڑی چلی آرہی تھیں:
    ”اوہ ہو! بھئی میں بہت شرمندہ ہوں، تم یقین کرو میں نے تو خود کئی بار شہلا کو سمجھایا کہ ایسا بھی کیا کردار وغیرہ کہ اصل زندگی میں کسی نہ کسی سے مماثلت ہو ہی جاتی ہے اب اتنی سی بات کا کیا بتنگڑ بنانا مگر نہیں، بھئی وہ تو بس حد ہی پار کر گئی آج… اب میں کیا کہوں؟”
    میزبان خاتون ِ خانہ ایک عمر رسیدہ مگر بے حد مہذب خاتون تھیں . . . شوہر کسی زمانے میں بہت مشہور وکیل رہ چکے تھے اس لئے پوری بلڈنگ میں وہ وکیل صاحب کی بیگم کے نام سے مشہور تھیں۔ یہ بلڈنگ کا واحد گھر تھا جس میں جب جس خاتون کا دل چاہتا، جا سکتی تھیں کیوں کہ دونوں عمر رسیدہ میاں بیوی اکیلے ہی رہتے تھے اور بلڈنگ کے بچوں سے لے کر اپنے ہم عمر ہر رہائشی سے راہ و رسم رکھتے تھے. . . اُن کے مہذب اور بے حد پرخلوص انداز ِ گفتگو سے میں بھی متاثر تھی لہٰذا جب انھوں نے مجھے اپنے نومولود پوتے جو کہ کینیڈا سے اپنے والدین کے ساتھ آیا ہوا تھا کے عقیقے میں بلایا تو میں انکار نہ کر سکی. . . وکیل صاحب کی بیگم نے حد ممکن طریقے سے مجھے دلاسہ دینے کی کوشش تو کی تھی، مگر میں ابھی تک حالات پر غور کرنے کے قابل نہیں ہو سکی تھی۔ میں لڑتے جھگڑتے میاں بیوی کی ہر بات سُن چکی تھی اور وکیل صاحب کی بیگم نے جو بھی کہا وہ بھی میری سماعت میں محفوظ تھا مگر میں اس وقت صرف اور صرف تنہائی چاہتی تھی . . . خالی پلیٹ لئے ان جڑے ہوئے قطار میں کھڑے لوگوں کی نظروں سے یک دم غائب ہو جانا چاہتی تھی، لہٰذا کچھ کہے بغیر بہت ہمت کرکے میں ہلکے ہلکے قدموں سے شامیانے سے نکلنے کے لئے آگے بڑھ گئی… دکھ تو یہ تھا کہ محلے کی شادی تھی اور فلیٹ کی بلڈنگ کے تمام ہی رہائشی یہاں موجود تھے ا ور اطمینان اس بات کا کہ ان سب میں کوئی رشتہ دار نہیں تھا . . .
    ”چلو کوئی بات نہیں سب ٹھیک ہے…” میں نے خود کو دلاسہ دیا…





    ”ویسے بھی میں فلیٹ کی بلڈنگ کے دوسرے رہائشیوں سے کسی بھی قسم کی راہ و رسم تو رکھتی ہی نہیں ہوں . . . میں تو ہمیشہ سے ہی لوگوں کو خود سے دور رکھنے کی عادی ہوں اب اور سرد مہری برتنے لگوں گی اور پھر فرض کرو اگر کسی نے ہمت کر کے پوچھ بھی لیا تو . . . تو . . . وہی بتا دوں گی جو سچ ہے، یعنی کہ یہ سب غلط فہمی ہے۔ میں تو خاتون کو جانتی ہوں اور نہ ہی اُن کے شوہر کو . . . یقینا خاتون مجھے کوئی اور سمجھ کر باتیں سُناتی رہی ہیں . . . میں گھر تک آتے ان چند لمحوں میں ہی جو کچھ ہو چکا اُس پر غور کرنے کے بجائے مستقبل میں کس طرح اور کیسے خود کو بچانا ہے اُس پر سوچنے لگی تھی . . . اچانک مجھے حیرت ہونے لگی . . . یہ المیہ ہے یا پھر مجھ پر نعمت ِ خداوندی ہے کہ میں ہر مشکل لمحے کو صرف اس لئے گزار لیتی ہوں کے مجھے اُس لمحے کے بعد حفظ ِ ماتقدم کے طور پر اپنے لئے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ میں ہر مشکل گھڑی میں بالکل ساکت… بے جان اور بے حس ہو جاتی ہوں… آنسو کیا میری تو آنکھ تک نہیں ڈبڈباتی، جیسے اُس مشکل لمحے کے رونما ہونے یا گزر جانے سے کہیں پہلے ہی میرا دماغ جھٹ سے لائحہ عمل پر کام شروع کر دیتا ہے، اور میرا دل میرے دماغ کی اس قدر گہری سوچ کے درمیان چُپ چاپ ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے کہ مجھے خبر تک نہیں ہوتی۔ اصولاً ابھی مجھے زار و قطار رونا شروع کر دینا چاہیئے تھا۔ جب لوگ متوجہ ہو ہی چکے تھے تو اب کیا خود کو بچانا؟ روتے ہوئے سب کو بتا دیتی کے یوں بھی کوئی کسی کو بے قصور اتنا سُناتا ہے؟ جب وہ لمبا آدمی اُس عورت کو گھسیٹ کر لے جا رہا تھا تب ہی رونا شروع کر دیتی . . . یا پھر کسی فلم کی نازک ہیروئن کی طرح بے ہوش ہو جاتی اور پنڈال میں موجود تمام کے تمام لوگوں کی ہمدردی سمیٹ لیتی۔ میں دل ہی دل میں مسکرا اُٹھی، یہ سب بھی تو ایک طرح کا لائحہ عمل ہی ہے. . . یعنی میں ہر صورت میں محسوس کرنے کے بجائے صرف اور صرف لائحہ عمل ہی تیار کر رہی ہوں۔ کیوں؟ آخر کیوں میں اُس لمحے کو محسوس نہیں کر پا رہی؟ کیوں میں جذباتی نہیں ہو رہی؟ ایسا لگ رہا ہے جیسے ہاتھوں میں خالی پلیٹ لئے ان تمام لوگوں میں شامل ہوں اور یہ لمحہ مجھ پر نہیں کسی اور پر گزر گیا ہے۔ نہیں، یہ نعمت ِ خداوندی نہیں ہو سکتی یہ تو المیہ ہے۔ میں بے حس سُن بلکہ ہو چکی ہوں۔ میرے سینے میں دل نہیں دھڑکتا… میں محسوس کرنے اور محسوس کر کے کسی بھی قسم کا رد ِعمل دکھانے سے قاصر وہ جان دار ہوں، جو صرف سانس لیتی ہوں… جیسے مصروف شاہراہ کے بیچ میں سجاوٹ کے لیے لگائے گئے درخت ہر دوسرے تیسرے دن تراشے جاتے ہیں تاکہ اُن کی شکل و صورت شاہراہ سے گزرنے والوں کو ہر موسم میں ایک جیسی نظر آئے. . . سجاوٹ کے لئے لگائے گئے نصیب میں بھلا جنگلوں، بیابانوں یا باغات میں اُگنے والے درختوں کی مانند ادھر اُدھر پھیلتی، پھولوں اور پھلوں سے لدی ہوئی مہکتی شاخیں، موسم کی خوشی اور آزادی کہاں ہو سکتی ہے، کیسا کرب ناک احساس ہے یہ کہ ایک درخت ہو کر بھی کسی کو پھل . . . پھول یہاں تک کے سایہ بھی نہیں دے سکتی ؟ میں خود کو ہر دوسرے تیسرے دن تراش خراش کر قریب سے گزرنے والے کو ہر موسم میں ایک جیسی نظر آتی ہوں۔ خود کو کبھی بھی جذباتی یا بے قابو نہیں ہونے دیتی اور اگر کبھی کہیں ایسا مشکل لمحہ آبھی جائے جہاں مجھ سے میرا دل آزادی مانگے تو… پتا نہیں میں کیا کروں گی؟ خیر دیکھا جائے گا۔ ابھی تک تو ایسا کوئی لمحہ آیا نہیں۔ میں اپنے المیوں کے ساتھ رہنے کی عادی ہو چکی ہوں اور… اپنی تراش خراش پر قانع ہوں، بس… وقت گزر جائے…
    اور وقت تو گزر ہی جاتا ہے۔ تین چار دن خاموشی میں گزر گئے۔ میں کئی بار تمام واقعے پر غوروفکر کر چکی تھی… واقعی میں اُس لمبے آدمی کو صرف اس قدر جانتی تھی کہ وہ ہماری ہی بلڈنگ میں کسی فلیٹ کا رہائشی تھا۔ ہمارا ٹکرائو لفٹ میں یا بلڈنگ سے باہر جاتے ہوئے یا پارکنگ میں گاڑی کھڑی کرتے ہوئے ہوا بھی تھا تو ایک دوسرے کو نظر انداز کر کے گزر جاتے تھے. . . میں عمر رسیدہ رہائشیوں کو سلام کر لیا کرتی تھی مگر اس اونچے لمبے جوان آدمی سے سلام و دعا کرنے کا کوئی جواز بھی محسوس نہیں ہوتا تھا۔ ہاں اتنا معلوم تھا کہ میرا آٹھ سالہ بیٹا جمال جس کو پیار سے میں جمی کہا کرتی تھی اُس کے بیٹے کے ساتھ اکثر کھیلتا تھا جو کہ جمی کا ہی ہم عمر تھا . . . اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا . . . پتا نہیں اُس اونچے لمبے آدمی جس کا میں نام تک نہیں جانتی تھی اُس کی بیوی نے مجھے اپنے شوہر کے ساتھ کیوں جوڑا؟ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ غلط فہمی اگر ہوئی بھی تو بھی کہیں نہ کہیں کوئی راستہ، کوئی کواڑ یا پھر چھوٹی سی کوئی نشانی، کچھ نہ کچھ تو ہوتا ہے جو رائی کا پہاڑ بنتا ہے۔ میرے دماغ میں جیسے کوئی مسلسل کیلیں ٹھونک رہا تھا، کردار! کردار! کردار! مجھے بار بار کبھی لمبے آدمی کی کہی بات یاد آتی یا پھر وکیل صاحب کی بیگم کی کہ وہ تو بس ایک کردار ہے۔ کردار کی اصل زندگی میں مماثلت! یہ کیا کہا تھا لمبے آدمی نے اپنی بیوی سے اور پھر ایسی ہی بات وکیل صاحب کی بیگم نے بھی دہرائی تھی ؟ آخر یہ سب میرے کردار پر بات کیوں کرتے رہے ہیں؟ یہ کیا معاملہ ہے اور کب سے ان سب کے زیر ِ غور ہے اور مجھے ہی نہیں معلوم؟ میں کبھی الجھتی تو خود پر غصہ بھی کرتی۔ مجھے اُسی وقت خاتون سے پوچھ لینا چا ہئے تھا۔ آخر اس قدر جلد بھاگنے کی کیا پڑ گئی تھی… کچھ دیر اُن کی بات تو سُن لیتی شاید وہ مجھے تمام صورت حال سے آگاہ ہی کر دیتیں… میں سوچ سوچ کر بہت ہلکان ہوئی اور پھر جیسے بات معمول پر آ گئی…




  • خواب لے لو خواب — سائرہ اقبال

    کمرے میں گھُپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ وہ کھڑکیاں دروازے سب بند کئے ایک کونے میں سمٹی بال بکھیرے بیٹھی تھی ۔ اس کے کانوں میں ایک ہی صدا گونج رہی تھی،
    ”خواب لے لو ۔۔ خواب” وہ کبھی کانوں پہ ہاتھ رکھتی تو کبھی اُٹھ کر کھڑکی سے باہر جھانکنے کی کوشش کرتی مگر باہر کچھ نظر نہ آتا کیوں کہ کھڑکی کو کالے کپڑے سے ڈھک دیا گیا تھا۔ کپڑا ہٹانے کی گنجائش تھی نہ باہر جھانکنے کی۔ دیوانوں کی طرح کمرے میں ادھر سے اُدھر گھُومتی رہتی، کبھی جھٹ سے پیچھے مُڑ کر دیکھتی۔ اُسے کوئی بھاری بھرکم ہاتھ اپنی جانب آتا ہوا دکھائی دیتا۔ وہ اس ہاتھ سے بچ کر کبھی پلنگ کے نیچے چھُپتی تو کبھی صوفے کے پیچھے۔
    ”خواب لے لو ۔۔ خواب۔۔” اس کے کانوں میں مُسلسل ایک ہی صدا گونجتی تھی ۔
    ”یہ۔۔۔ یہ کتنے کے ہیں ؟؟” ایک اور صدا اس کے کانوں میں گونجی۔
    ”سو روپے۔” وہ ہنسنے لگی ، قہقہے لگانے لگی۔
    ”بس! سو روپے ۔۔ اتنے سستے خواب ۔۔ لے لو۔۔ لے لو۔۔ تُم بھی لے لو” اب وہ ہنس رہی تھی اور خوشی سے جھُوم رہی تھی۔





    پھر یک دم خاموش ہو گئی۔
    ”اتنے سستے خواب ۔۔۔اتنے سستے؟”’یہ پری وش کدھر ہے ؟؟ ‘ پری وش کی خالا اُسے سارے گھر میں ڈھونڈ رہی تھیں ۔
    ”ہو گی اپنی کال کوٹھری میں۔ کچھ سمجھ نہیں آتی اس لڑکی کی ،اٹھارویں سال میں لگی ہے اور مجال ہے کسی چیز میں دل چسپی لے ۔دماغ خراب ہے اُس کا۔” پری وش کی ماں نے چیختے ہوئے کہا ۔
    ”اچھا بس کرو آپا، میں ذرا اس کا دوپٹہ لینے آئی ہوں ۔ زارا کا سکول میں فنکشن ہے، اس کا نیلا دوپٹہ چاہئے ۔ ‘ خالا سیڑھیاں چڑھتی اپنے آنے کی وجہ بتانے لگیں۔
    ‘لے لو بہن! اس کے کس کام کا؟ کوئی نیا جوڑا پہنتی ہے نہ کوئی سجنا سنورناہے اس کا۔ اس کی عمر میں لڑکیاں تو کیا کیا جتن نہیں کرتیں! اس کو تو بس ایک ہی چیز کا پتا ہے، لے دے کہ ایک ہی سوال پوچھتی ہے۔ ”کتنے کے ہیں؟؟”
    اتنے میں پری وش کمرے سے باہر نکلی۔
    ”’یہ لو۔۔ آگئی آواز۔” پری وش کی ماں کپڑے دھو رہی تھی اور ساتھ ساتھ اس کی تقریر الگ جاری تھی۔
    ”ارے پگلی، کیا کتنے کا ہے؟” پری وش کی خالا اس کے گال سہلاتے ہوئے اس کے کمرے میں داخل ہو گئیں۔
    ”خواب۔۔!” پری وش کی ماں نے کپڑے تار پر پھیلاتے ہوئے تنک کرکہا۔
    پری وش کی خالا الماری سے دوپٹہ نکال کر باہر آ گئیں۔
    ”خوابوں کی بھی کوئی قیمت ہوتی ہے بھلا ؟ پگلی خواب تو انمول ہوتے ہیں۔” خالا نے جواب دیا اور باہر چلی گئیں۔
    ”پری بٹیا یہ کل شام میں دے جائوں گی ۔ ‘ خالا نے دروازے پہ کھڑے ہو کر کہا۔ پری گُم صُم پریشاں صحن میں آکر پلنگ پر بیٹھ گئی۔
    ”کُھل گئی آنکھ مہارانی کی؟” ماں نے پوچھا۔
    ”سوئی کب تھی؟” پری وش نے منہ پر پانی کی چھینٹے مارتے ہوئے کہا۔ وہ ایک دم پھر سے ڈر گئی۔ اُسے وہ ہاتھ اپنے کاندھے پر دکھائی دیا۔
    ”ناشتہ بنا کر رکھا ہے کر لینا، میں بازار سے سبزی لے آئوں۔” پری وش کی ماں نے چادر اوڑھتے ہوئے کہا۔
    ”اور ہاں! دروازہ بند کر لینا۔” اُس نے مُڑ کر تاکید کی ۔
    ”یہاں ہے ہی کیا۔۔۔خواب تو ہیں بس۔۔۔؟’ اُس نے منہ بناتے ہوئے کچھ کہنا چاہا۔
    ”اکیلی عورت کھُلی تجوری کی طرح ہوتی ہے۔” ماں نے نصیحت کرتے ہوئے کہا۔
    ”اور بچی؟؟” اس نے سوال کیا ۔
    ”اچھا دروازہ بند کر۔۔” ماں نے تنگ آ کر کہا۔
    ٭…٭…٭





    وہ کبھی دائیں کبھی بائیں کروٹیں بدل رہی تھی ۔چہرہ پسینے سے شرابور تھا۔ وہ ایک دم اُٹھی اور صوفے کے پیچھے جا بیٹھی۔ وہ بھاری سا مردانہ ہاتھ بھی اس کا پیچھا کرتا یک دم کہیں غائب ہو گیا ۔ وہ ہانپ رہی تھی ۔ رات کا آخری پہر تھا ۔ پانی پینے کی غرض سے وہ نیچے کچن میں گئی۔
    کولر سے پانی گلاس میں اُنڈیلتے ہوئے اس نے گہری خاموشی کو پریشان کر دیا ۔ گلاس میں پانی گرنے کی آواز ایسی تھی جیسے سارے خواب ایک کوزے میں گِر رہے ہوں اور وہ ایک ننھی بچی کی طرح ان خوابوں کو تتلیاں سمجھ کر جمع کر رہی ہو۔ پانی کا گلاس بھر جاتا ہے، گلاس بھر گیا اور پانی نیچے گرنے لگا۔ پانی بہنے کی آواز ایسے معلوم ہوتی ہے جیسے سارے خواب بہ رہے ہوں ۔ ایک دریا سے سمندر کی جانب سفر طے کر رہے ہوں اور اپنی منزل سے آشنا نہ ہوں ۔ پانی بہتا جا رہا تھا، گویا اس کے خواب بہتے جا رہے تھے۔ وہ آہستہ آہستہ اس سارے واقعے سے لُطف اندوز ہونے لگی ۔ وہ مُسکرا رہی تھی اور ہلکا ہلکا گُنگنا رہی تھی ۔ ”خوا ب لے لو خواب ۔۔۔”
    پانی کے بہنے کی آواز کے ساتھ ساتھ اس نے اپنی سُریلی آواز بھی اس میں شامل کی اور گنگناتی رہی ”خواب لے لو ۔۔ خواب۔”
    اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا، ”خواب۔۔” خوابوں کا کوزہ گر گیا ، چکنا چُور ہو گیا۔ گلاس ٹوٹنے سے ایک شور فضا میں بلند ہوا۔ چھن کی سی آواز ، ایک ہلکی سی چھنکار ۔ وہ بوجھل آنکھوں سے کرچیوں کی طرف دیکھنے لگی ۔ خواب تو بکھر چُکے تھے وہ اب بکنے کے قابل نہیں رہے تھے۔
    ”خوب لے لو خواب۔۔” وہ چِلا رہی تھی۔
    پری وش کی ماں فوراً اُٹھ کر باہر آئی ۔ بڑی بہن بھی آنکھیں ملتی ہوئی وہاں آ نکلی ۔
    ”یہ کیا مذاق ہے پری وش؟ رات کے اس پہر بھی تُمہیں سکون نہیں؟” اس کی بہن نے اسے جھڑکتے ہوئے کہا۔
    پری وش سہمی سی ایک کونے میں لگ کے کھڑی رہی۔
    ”میں تو ۔۔ پانی پینے۔۔” اُس نے کچھ کہنا چاہا۔
    ”امی کیا تماشے ہیں اِس کے۔۔ سمجھائیں خود ہی اسے کچھ۔۔” علینا نے چڑ کر کہا اور واپس اپنے کمرے میں چلی گئی۔
    ”آجائو۔۔ آج میرے کمرے میں سو جائو۔۔” امی نے پری وش کو نرم لہجے میں کہا۔
    ”نہیں! میں اُوپر ہی ٹھیک ہوں ۔ مجھے کہیں اور نیند نہیں آتی۔” پری وش یہ کہتے ہوئے واپس اوپر چلی گئی۔
    کمرے میں جاتے ہی وہ صوفے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی، پھر ہنسنے لگی۔
    ”نیند تو کہیں بھی نہیں آتی ، بس تُم سے باتیں کرنی ہوتی ہیں ۔اب تُمہیں میں نے اپنا دوست بنا لیا ہے اب نہیں ڈروں گی۔” وہ انجانے میں خود کی جانب بڑھنے والے ہاتھ سے باتیں کرنے لگی۔
    ”اور بتائو؟ تُم بھی خواب بیچتے ہو؟ کون کون خریدتا ہے؟ مجھ سے تو کوئی بھی نہیں لیتا ۔ اب میں کروں بھی کیا ان خوابوں کا ۔ میرے تو کسی کام کے بھی نہیں ۔ خواب بُن بُن کے تھکتی رہی اور کسی نے پل میں خواب توڑ دئے ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے۔” وہ اب اس ہاتھ سے باتیں کررہی تھی۔
    وہ باتیں کرتے کرتے کھڑکی کی جانب بڑھی ۔ وہی کھڑکی جو اُس نے خود کالے پردوں سے ڈھک رکھی تھی ۔ آج جی چاہا تو اس کو ہٹانے کی کوشش کی۔ کیوں کہ اب اُس ہاتھ سے اُس نے دوستی کر لی تھی۔ اُس نے جیسے ہی پردے سے باہر جھانکنے کی کوشش کی، سامنے گلی میں کسی گھر کے کچن پر اس کی نظر پڑی۔ صاف کچھ نہ تھا، بس ایک سایہ تھا۔۔۔ ایک نہیں دو۔۔ نہیں ایک آدمی اور ایک کوئی بچہ شاید۔۔۔ ہاں یہ بچہ ہی ہے۔۔ لیکن بچے اور جوان کی کُشتی کا کیا مقصد؟ وہ بھی اس وقت۔۔ اس کے کانوں میں پھر آواز گونجنے لگی۔ ”خواب لے لو۔۔ خواب۔۔۔” کہیں کوئی خواب بِک رہے ہیں۔۔۔ کہیں نہیں۔۔ یہیں۔۔ سامنے والے گھر میں ۔۔۔ ”یہ والے کتنے کے ہیں۔۔۔؟ بس سو روپے۔۔” وہ پھر سے ہنسنے لگی۔
    ٭…٭…٭





    وہ وہیں زمین پر دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھی بیٹھی سو گئی ۔ صبح جب دروازہ کُھلنے پر روشنی اس کے چہرے پر پڑی تو اس کی آنکھ کُھلی ۔
    ”پری۔۔۔ آپ اُٹھی نہیں؟ وقت دیکھئے۔” پری کے خالو کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولے۔
    ”جی جی۔۔” پری کے کانوں میں آواز پھر سے گُونجی، ”خواب لے لو۔۔۔ خواب۔۔۔”
    وہ آنکھیں ملتی ہوئی اُٹھی اور بھاگتی بھاگتی نیچے چلی گئی ۔ علینا آفس کے لئے تیار ہو رہی تھی اور دودھ کا گلاس ہاتھ میں تھامے کھڑی تھی۔ وہ گلاس ہونٹوں سے لگانے ہی لگی کہ پری وش بھاگتی ہوئی کچن میں آئی اور علینا سے ٹکرا گئی۔ گلاس دھڑام سے نیچے گرا ، کچھ چھینٹے کپڑوں پر پڑیں اور باقی زمین پر گِر گیا۔ گلاس ٹوٹنے کی آواز نے پھر سے پری وش کو خوابوں کے چکنا چُور ہونے کا احساس دِلایا ۔ اِس سے پہلے کہ کوئی اور آواز اس کی سماع خراشی کا باعث بنتی ، علینا نے چِلانا شروع کر دیا ۔
    ”مجھے پہلے ہی دیر ہو رہی ہے، اور پھر اِس نے میرے کپڑے بھی خراب کر دیئے۔ کوئی ڈھنگ کا کام نہیں تُمہارے پاس؟ تُم۔۔ تُم آ خر چاہتی کیا ہو؟” علینا اپنی ہی دُھن میں چیخے چلے جا رہی تھی۔ پری وش ہر چیز سے بے پروا، ایسے جیسے کچھ سُنا ہو نہ دیکھا ہو ، ماں کے پاس گئی اور کہا: ”کیا خالو آئے تھے؟”
    ”نہیں بیٹا، تُم خالو کی خوشی میں بھاگتی بھاگتی آئی ہو۔ میری پاگل بیٹی۔۔” ماں نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں آئے؟ مجھے آواز آئی تھی۔” پری وش نے زور دے کر کہا۔
    ‘خالو اگلے مہینے آئیں گے، کل ہی زبیدہ نے بتایا ۔ بڑی خوش تھی، کیوں نہ ہو۔۔ پورے چھے سال بعد آ رہا ہے اس کا شوہر۔” ماں نے توے پر پراٹھا ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں یاد ہے ، ابا کا چالیسواں تھا، جس دِن ان کی فلائٹ تھی۔” پری وش نے گلاس کو ٹیبل پر گُھماتے ہوئے کہا۔
    ”بڑا روئی تھی زارا، باپ کے جانے پر۔” ماں نے کچھ یاد کرتے ہوئے کہا۔
    ”زارا کیوں روئی؟ رونا تو مجھے چاہئے تھا۔” اس نے کہا اور شیشے کے مٹکے میںموجود مچھلیوں کو گھُورنے لگی ۔
    ”ناشتہ کرو گی؟” ماں نے اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا۔
    ”نہیں ، ٹھہر کے کروں گی۔’ ‘ پری وش نے مچھلیوں کو اُس طرح گھورتے ہوئے کہا۔
    ٭…٭…٭
    وہ صحن میں موجود ماربل کے ڈبوں میں چھلانگیں لگانے لگی ۔ مٹی کی ایک ٹھیکر ڈبے میں پھینکتی اور پھر ایک ٹانگ کے سہارے اُچھلنے لگتی ۔پھر گنتی گنتی۔۔ ”ایک، دو، تین۔۔۔”
    ایک دم اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔۔
    ”یہ لو۔۔ ایک سو روپے ۔۔ایک ۔۔ دو ۔۔ تین ۔۔ !!! کسی سے کچھ نہ کہنا۔۔۔ خاموش۔۔۔”
    وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئی ۔ دوپہر کا کھانا تیار تھا۔ ماں نے آواز دی:
    ”پری۔۔ پری ۔۔ کہاں رہ گئی ہو؟ کھانا کھا لو بیٹا۔۔”
    اتنے میں خالا گھر میں داخل ہوئیں۔
    دروازے کے سامنے سے پردہ ہٹاتے ہوئی بولیں: ”ارے بھئی السلام و علیکم۔۔ کیسے ہو سب؟”
    ‘آئو آئو۔۔ اللہ کا کرم ہے۔’ ماں نے انہیں دیکھ کر خوشی سے کہا۔




  • کچی کاگر — افشاں علی

    اس کے ننھے ننھے سے قدم اُس کچی ٹیڑھی میڑھی پگ ڈنڈی پر دوڑ رہے تھے جس کے ایک طرف نالہ بہتا تھا تو دوسری جانب کھیت تھے، جن میں گندم کی سنہری ڈالیاں سر اٹھائے اِستادہ تھیں۔
    کھیتوں میں آج کل سنہری ڈالیوں کے بیچ ہرے، نیلے اور سرخ آنچل بھی لہراتے بہار دکھلاتے گندم کی کٹائی میں اپنے شوہر یا باپ بھائی کا ہاتھ بٹاتے نظر آتے۔
    باغوں میں پھل لگنے لگے تھے، تو گندم کی فصل بھی پک کر تیار تھی۔
    کسان گندم کی ان سونے جیسی سنہری ڈالیوں کو بیل گاڑیوں میں لادے منڈیوں کی طرف نکلتے تو شام ڈھلے ہی گھر لوٹتے جہاں گھر کی عورتیں ہانڈی روٹی بنائے ان کی منتظر ہوتیں۔
    وہ بھی ایک عام سا ہی دن تھا۔ جب وہ معمول کی طرح اس کچی پگ ڈنڈی سے گذر کر گائوں کے اس حصے کی جانب چل دی جہاں کمہاروں کے خاندان آباد تھے۔
    یوں تو پورے گائوں میں کھیلنے کی بہت سی جگہیں تھیں۔ نیم کے درخت پر لگا جھولا، ندی کے ٹھنڈے پانی میں کبھی اوپر کو آتی مچھلیاں جنہیں بچے بڑے شوق سے جال ڈالے پکڑنے کی کوشش میں ہلکان ہوتے۔
    جھاڑیوں کے ارد گرد آنکھ مچولی، کھیلتی لڑکیاں، خالی زمین پر لک لکھوٹی کھیلتی بچیاںتو، برگد کے گھنے درخت کے نیچے ٹاٹ بچھائے گھر گھر اور گڑیا گڈے سے کھیلتی لڑکیاں۔





    وہیں دوسری اور کُھلے میدان میں گلی ڈنڈا کھیلتے لڑکے، یعنی کھیلنے کو تو یہاں بہت سے کھیل تھے پر اس کے قدم ہمیشہ دین محمد چاچا کے گھر کی جانب ہی اُٹھتے جہاں کھیلنے کو تو کوئی کھیل نہ تھا ہاں مگر تا حدِ نظر مٹی ہی مٹی دِکھتی نظر آتی۔
    وہ ہی مٹی جس سے انسان کی بنیاد رکھی گئی جس سے اس کا ضمیر اُٹھا اور اسی مٹی سے کوزہ گر بڑی محنت سے نئی بنیاد رکھتے ایک نئے روپ، ایک نئے سانچے میں ڈھالتے۔
    دین محمد جدی پشتی کمہار تھا، اپنے آبائو اجداد کی روایات و پیشے کو برقرار رکھنے پر اسے فخر تھا۔ وہ بھی معمول کی طرح خاموشی سے دین محمد چاچا کے قریب رکھی چوکی پر آ بیٹھی۔
    ”آگئی تو…؟ آج تو میں مٹکا بنانے والا ہوں، شہر سے تیس مٹکوں کا وڈا آڈر آیا ہے…” اس کی آمد کو بغیر گردن مڑے بھی دین محمد نے محسوس کرلیا اور ساتھ ہی اسے مخاطب کیا،
    دین محمد چاچا کی بات سن کر اس کی آنکھیں چمکیں اور چہرے پر خوشی تجسس کے سب رنگ مترشح تھے۔ اس نے اپنی گول گول آنکھیں آس پاس گھمائیں۔
    ہمیشہ کی طرح دین محمد اپنے ازلی حلیے یعنی بنیان نمایاں کے نیچے دھوتی لپیٹے چوکی پر بیٹھا تھا۔
    اس کے بالکل سامنے پانی سے بھری بالٹی کم مٹکی تھی اور دوسری جانب چکنی مٹی کو گوندھ کر کچھ ڈھیلے بنے رکھے تھے۔
    دین محمد نے ان میں سے ایک ڈھیلا اٹھا کر چاک کے بیچوں بیچ رکھا اور ساتھ ہی پاس رکھی شیشم کی چوب دار لکڑی کو چاک میں موجود سوراخ میں پھنسا کر گھمانا شروع کردیا۔ چرچراہٹ کی مخصوص آواز کے ساتھ چاک کا چرخ گردش کرنے لگا اور جونہی چرخ نے رفتار پکڑی۔ دین محمد نے پانی سے بھری مٹکی میں اپنے دونوں ہاتھوں کو ڈبو کر گیلا کیا اور ساتھ ہی گردش کرتے چرخ پر رکھے مٹی کے ڈھیلے کو وہ ایک نئی شکل دینے لگا۔
    ایسا لگ رہا تھا جیسے پانی سے بھرے ٹب میں دونوں ہاتھوں سے کچھ گھنگھولا جارہا ہو۔
    اس کے ماہر ہاتھوں کی رواں حرکت اس بے شکل کے ڈھیلے کو پیچیدگی کے ساتھ ایک نئی شکل میں ڈھال رہے تھے، وقفے وقفے سے وہ اپنے ہاتھوں کو گیلا کرتا اور چرخ کی رفتار کم ہونے پر پھر سے لکڑی چاک میں پھنسا کر چرخ کا گھمائو تیز کردیتا۔
    دیکھتے ہی دیکھتے، چاک کی مسلسل گردش، دین محمد کے ماہر ہاتھوں کے مدو جزر اور گھمائو نے اس بے ڈھنگے مٹی کے ڈھیلے کو ایک نئے سانچے میں ڈھال لیا اور وہ بنا آنکھ جھپکے بڑے شوق و اشتیاق سے اس تیار مٹکے کو دیکھے جارہی تھی جسے اب دین محمد چاچا نے احتیاط سے پکڑ کر قدرے فاصلے پر سوکھنے کے لیے رکھ دیا اور ساتھ ہی نیا مٹکا تیار کرنے کے لیے دوسرا ڈھیلا اٹھالیا۔
    ”واہ… چاچا، تمہارے ہاتھوں میں تو جادو ہے اتنی دیر میں تو چاچی بشیراں تنور سے روٹیاں بھی نہیں نکالتیں، جتنی دیر میں تم نے مٹکا تیار کردیا…” اس کے لہجے میں حیرت تھی۔
    ”ارے! بٹیا، اس ماں جادو کی کے بات ہے کچی مٹی نے تو جیسی چاہو شکل میں ڈھال لیو، ڈھل جاوے ہے۔
    بالکل تم بچہ لوگاں کی طرح، تم چھوٹے بچہ لوگاں نوں بھی جو بھی سکھائو رٹو طوطا کی طرح رٹ لیو ہو یونہی یہ چکنی مٹی اور پانی کی فطرت ہووے ہے۔
    جیسے چاہو صورت میں ڈھال لیو۔ پر جے اگر یہ سوکھ جاوے اور اپنی کوئی شکل لے لیوے تو یہ پکی ہو کر مضبوط ہو جاوے ہے…!”
    ہاتھ جتنی مَشَّاقی سے چل رہے تھے اتنی ہی تیزی سے زبان بھی، جب کہ وہ آٹھ سالہ بچی کچھ سمجھنے اور ناسمجھنے کی کیفیت سے گزرتی نظریں جمائے چاک کی گردش اور دین محمد کے ہاتھوں کے گھمائو میں مگن تھی… ماحول میں گائے، بھینسوں کی جگالی اور چاک کی چرچراہٹ بھی شامل تھی۔
    ”اوئے چھوری…” تبھی سر پر چارے کا گٹھا لادے زینت اماں وہاں چلی آئیں۔
    ”تو تھلے (یہاں) بیٹھی ہے، وہاں تیری ماں تیرے نام کا رولا پا رہی ہے…”
    زینت اماں کی بات سُن کر وہ بے چینی کے ساتھ وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی اور واپسی کے راستے پر چل دی۔
    وہی راستہ تھا، وہی قدم، پر فرق صرف اتنا تھا کہ آتے وقت ان قدموں میں جوش تھا، خوشی تھی مگر اب واپسی کے سمے مایوسی ان ننھے قدموں سے لپٹی اور اُداسی ان چمک دار آنکھوں میں نمایاں تھی۔
    یوں جیسے کسی سے اس کی کوئی پسندیدہ چیز چھین لی جائے۔ یوں جیسے کسی بچے کا پسندیدہ کھلونا ٹوٹ جائے۔
    بالکل اسی طرح گھومتے چرخ کی لٹو کے مانند گھومتی گردش کو دیکھنا اور دیکھتے رہنا اس کا من پسند کام اور کھیل بھی تھا۔
    ٭…٭…٭





    یہ بریک ٹائم تھا۔ اسٹاف روم میں کوئی خاص بات تو نہیں ہورہی تھی۔ بس یونہی سب ایک دوسرے سے اپنے اپنے مسائل ڈسکس کررہے تھے تو کچھ گوسپ اور اس وقت بچوں کی پرورش جیسا اہم موضوع زیربحث تھا۔
    کومل! آپ بہت لکی ہیں جو فی الحال بچوں کا جھنجھٹ ہی نہیں ورنہ نوکری پیشہ خواتین کو گھر اور باہر کی دنیا دونوں کو manage کرنا اور وہ بھی بچوں کے ہوتے ہوئے یہ بہت ہی مشکل ہو جاتا ہے…
    ”نہیں، صاعقہ! آپ نہیں جانتیں دنیا میں لوگ ہمیں کسی بھی حال میں جینے نہیں دیتے۔ اس دفعہ تو حد ہی ہوگئی۔
    لاسٹ ویک اینڈ پر میری خالا ساس کے گھر دعوت تھی اور بھری دعوت میں میری خالہ ساس اور ساس صاحبہ نے مل کر میری سونی گود کی وجہ جاب کو مانتے ہوئے وہ طعنہ زنی کی کہ الآمان…
    بہ قول میری خالا ساس جن عورتوں کے پائوں گھر میں نہیں ٹکتے وہ کبھی بھی اپنے پیروں میں اولاد کی بیڑیاں نہیں پہنتیں…”
    اس نے اپنی خالہ ساس کے الفاظ ہو بہ ہو دہرائے۔ کومل کے لہجے میں اُداسی جھلک رہی تھی۔ کومل کی بات سُن کر تو کچھ پل کے لیے وہاں موجود تمام فی میل لیکچرارز کے درمیان خاموشی سی چھا گئی۔
    ”مس کومل! آپ اُداس مت ہوں، ناسمجھ اور ان پڑھ لوگوں سے ایسی ہی جاہلانہ باتوں کی امید کی جاسکتی ہے حالاں کہ اولاد کا اختیار ہمارے ہاتھ میں کہاں…؟”
    میم عنبر نے اس کی دل جوئی کی۔
    ”ویسے ہماری نیو لیکچرار بھی کافی لکی ہیں اس معاملے میں تو، ان کا ننھا سا اکلوتا بیٹا ان کی ساس و جیٹھانی جو سنبھالتی ہیں، اس لیے یہ تو کافی بے فکر ہیں کیوں نادیہ…؟”
    پروفیسر فرحت نے شرارت سے نادیہ بشیر کو چھیڑا جس کے چہرے پر فخریہ مسکراہٹ پھیلی تھی۔
    ”جی بالکل یہ بات تو آپ نے ٹھیک کہی، ساس کے ہوتے مجھے بڑی آس…”نادیہ بشیر کی بات پر سبھی ہنس دیئے۔
    ”ارے مسز انیس آپ کیوں خاموش ہیں؟ آپ بھی کچھ بولئے، آخر کو آپ بھی بچوں والی ہیں… پروفیسر فرحت کی بات پر لیکچرار رطابہ کا تیزی سے چلتا پین رک گیا۔
    وہ بہ یک وقت اسائنمنٹ بھی چیک کررہی تھی اور ان سب کی باتیں بھی سن رہی تھی۔ اس نے اسائنمنٹ فائلز سائیڈ میں کی۔
    ”میں بہ یک وقت لکی بھی ہوں اور un luckyبھی…”
    ”ایسا کیوں…؟ آپ کے گھر پر تو صبح سے شام تک میڈ ہوتی ہے۔…”
    مس کومل بھی اپنا غم بھول کر سب کی باتوں میں شریک ہوگئیں۔
    ”کہیں ایسا تو نہیں کہ میڈ بچوں پر توجہ نہیں دیتی…؟” صاعقہ نے تبصرہ کیا۔
    ”ہیں؟ میم رطابہ، کیا واقعی یہ سچ ہے…؟ پھر تو ایسی میڈ کو آپ چلتا کریں ویسے بھی آج کل کی میڈ تو ہوتی ہی ایسی ہیں…”
    گوسپ کرتی لیب اسسٹنٹ سائرہ نے بھی ان کی باتوں میں اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا جب کہ رطابہ اِن کے فضول تبصروں سے تنگ آگئی۔
    ”افوہ! حد ہوگئی پہلے پوری بات تو سن لیا کرو سائرہ، یونہی شروع ہو جاتی ہو اندازے لگانا۔”
    ارے، میں نے کب کہا کہ میڈ بچوں کو نہیں سنبھالتی، میں تو کچھ اور کہنا چاہ رہی تھی…”
    ”کیا؟”
    سبھی کے چہرے پر تقریباً ایک ہی سوال تھا۔
    ”مانا کہ میری میڈ دوپہر سے شام تک بچوں کے پاس ہوتی ہے پر کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ وہ بچوں کو میڈ بن کر سنبھالتی ہے۔
    ماں بن کر تو نہیں نا…” رطابہ سنجیدہ تھی پر اس کی بات کو سبھی نے شاید غیر سنجیدگی سے لیا تھا۔
    ”چھوڑیں بھی ا تنی قنوطیت بھری باتیں، آج ہم جس مقام پر ہیں، وہاں تک آنے کے لیے کتنے تو پاپڑ بیلے ہیں۔
    یہ چھوٹی موٹی قربانیاں اور سہی، بس کچھ وقت کی ہی تو بات ہے مس رطابہ…” اردو لیکچرار عانیہ میمن نے رطابہ کو تسلی دی۔
    ”اور نہیں تو کیا، آج کل کی جنریشن تو ویسے بھی بہت جینیئس ہے، کوئی پرانے زمانے جیسی تو نہیں کہ ماں کے پلو سے بندھے رہیں…”
    لیکچرار صالحہ کی بات پر سبھی رضامند نظر آرہی تھیں۔
    ”بالکل صحیح کہا، اب میری ہی مثال لیجئے، میں نے جب جاب اسٹارٹ کی تھی تب میرے بچے بہت چھوٹے تھے، پر وقت نے نا صرف بچوں کی پرورش بھی کردی بلکہ مجھے بھی ہمت دی حالاں کہ میرے شوہر تو میری جاب کے خلاف تھے…”
    پروفیسر فرحت جو ناصرف عمر بلکہ تجربے کے لحاظ سے بھی سینئر تھیں انہوں نے اپنی سرگزشت سنائی۔
    ”عدنان نے تو ہمیشہ میری حمایت کی ہے چاہئیں جاب کا معاملہ ہو یا پھر سسرال کے طرف سے ملنے والے طعنے…”
    کومل کے چہرے پر نئی نویلی دلہن جیسی لجاجت پھیلی ہوئی تھی جسے سبھی نے بہ طور خاص نوٹ کرکے ایک ساتھ باقاعدہ چھیڑا تھا جب کہ کومل کو دیکھ کر رطابہ نے سوچا۔
    ”واقعی سہاگن وہی جو پیامن بھائے…”




  • ادھورا پن —- منیر احمد فردوس

    ادھورا پن —- منیر احمد فردوس

    ادھیڑ عمراجوکے لئے ستار ہوٹل اندھیرے میں جلتا ایک ایسا دیا تھا جس کی پھوٹتی روشنی میں وہ اپنے جینے کے راستے تلاش کیا کرتا تھا۔
    دن بھر رکشہ ریڑھی کھینچنے کے بعد شام کو اپنی سانسوں کی اجرت گننے وہ بلاناغہ ہوٹل پر پہنچ جاتا۔
    سانولی رنگت اور درمیانے قد کا دبلاپتلا اجو اپنی بذلہ سنجی اور دل چسپ حرکتوں کی وجہ سے ہوٹل کے مردہ ماحول میںسانسیں بانٹ کر اسے متحرک کر دیتا۔
    وہ اپنے سر کے گرد ہمیشہ نیلاچیک دار مفلر لپیٹے رکھتا جس میں کبھی کبھارسرخ گلاب بھی اُڑسا نظر آجاتا۔
    اپنی سانسوں میں چرس کی ملاوٹ کرنے والے اجو کے منہ سے ایسی پھلجھڑیاں پھوٹتیں کہ ہر بندہ بشر ہنس کے لوٹ پوٹ ہو جاتا۔
    لوگ اس کے مخصوص مزاحیہ انداز میں اس سے فلموں کے ڈائیلاگ اور گھٹی گھٹی آواز میں گانے سُنتے، حکومت اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے کبھی خلاف اورکبھی حق میں نعرے لگواتے۔
    وہ ایکٹنگ میں خاصا ماہر واقع ہوا تھا۔ جب کبھی وہ مختلف فلمی اداکاروں کی نقل اتارتا تو ہر طرف قہقہوں کی بوچھار ہوجاتی اور اکثر اپنے منہ سے ساز بجا کر اپنے بے سروپا ناچ سے لوگوں کو دل چسپ تفریح مہیا کرتا۔
    معاوضہ کے طور پر چائے کے ساتھ ساتھ اسے تھوڑی بہت نقدی بھی مل جایا کرتی، جس سے اس کے نشے پانی کاسامان ہو جاتا۔ اجّو صحیح معنوں میں ستارہوٹل کی دھڑکن تھا۔
    شام کا اندھیرا پھیلتے ہی ستار ہوٹل جاگ اُٹھتا اور لوگ دنیا کے بکھیڑوں سے فرار ہو کر وہاں پناہ لینے آ جاتے ۔ جہاں وہ گھنٹوں باتوں اور موسیقی سے بھی لطف اندوز ہوتے رہتے۔





    فضا میں گرم چائے سے اُڑتی بھاپ اور سگریٹ کے تیرتے مرغولوں کے ساتھ ساتھ ہر طرف تمباکو کی سڑاند بھی رچی بسی ہوتی۔
    ہوٹل کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ اب وہ ایک دکان سے پھیل کر دونوں اطراف کی چار پانچ دکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا۔ غرض ستار ہوٹل ماں کی طرح تھا، جو دن بھر کے تھکے ماندے افراد کو اپنے پہلو میں بٹھا کر ان کی تھکن اپنے اندر اتار لیتا۔
    مگر حقیقت یہ تھی کہ اس جاگتے ماحول کو دھڑکنیں اجّو ہی عطا کرتا ۔وہ اپنی انوکھی گپ شپ اور منفرد حرکتوں کی بدولت ہر خاص و عام میں اتنا مقبول ہو چکا تھا کہ لوگ اسے شغل مستی کے لئے شادی بیاہ کی محفلوں میں بھی بڑے اہتمام سے بلایا کرتے ،جہاں اجو کے دلچسپ چٹکلوں اور حرکتوں سے محفلیں رنگین ہوجاتی تھیں۔
    اجو کی سب کے ساتھ اچھی خاصی واقفیت ہو گئی تھی اور وہ ہر کسی کے بارے میں تھوڑا بہت ضرور جانتا تھا مگر خود اس کے بارے میں کسی کو بھی صحیح طور سے معلوم نہ تھا کہ وہ کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ اس کی ذات، اس کا مذہب اور اس کی پہچان کیا ہے؟ جب کبھی اجّوسے اس کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ ایک دم سنجیدہ ہو کر آنکھیں اوپر کو چڑھالیتا، ماتھے پر بل لے آتا اور گردن ٹیڑھی کر کے اپنے مخصوص انداز میں کہتا: ”اوئے بیوقوفا! تجھے اتنا بھی نہیں معلوم کہ اجّو کہاں سے آیا ہے؟ اللہ سے پوچھ، وہ تجھے بتائے گا کہ اجّو جنت سے آیا ہے۔”
    یہ بات کر کے اجّو خو د ہی ایک بُلند قہقہہ لگاتااور لوگوں کے ہونٹو ںپر ہنسی کی بے شمار تتلیاں رقص کرنے لگتیں۔ اس کی ایسی ہی بے ربط باتوں کی وجہ سے کچھ لوگ اسے نیم پاگل تصور کرتے تھے۔ مگر اکثر وہ بڑی منطقی باتیں کر کے سب کو حیران کر دیا کرتا۔
    مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک بار کسی نے مذاق میں اسے پاگل کہہ دیا تھا۔ اجّو کے دل میں یہ بات کسی تیر کی طرح ایسی جا گڑی کہ وہ اس آدمی کے ساتھ ہی بیٹھ گیا اورایک جھٹکے سے اس کی جیب سے پین نکال کر اپنی ہتھیلی پر ایک ٹیڑھی میڑھی سی شکل بنائی۔
    ”یہ کیا ہے؟” اجّو نے ہتھیلی اس آدمی کے سامنے کرتے ہوئے بہت جذباتی انداز میں پوچھا۔غصّے کی شدت سے اس کے ہونٹوں سے جھاگ نکل آیا تھا۔
    ”آدمی ہے۔” اس شخص نے مُسکراتے ہوئے جواب دیا۔
    ”مانتے ہو نا کہ یہ آدمی ہے؟” اجّونے اس پر نظریں جماتے ہوئے دوبارہ پوچھا۔
    ” ہاں مانتا ہوں۔”وہ آدمی بہ دستور مسکراتے ہوئے بولا ۔
    ”اوئے بیوقوفا! جوانسان آدمی کی شکل بنا لے، وہ پاگل کیسے ہو سکتا ہے؟”





    اجّونے طنزیہ کہا اورایک بُلند آواز سا قہقہہ لگا دیا۔وہ آدمی بھی کھسیانا ہو کر ہنسنے لگا۔ اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ آس پاس کے لوگ بھی اس کی بے ساختگی اور سادگی پر کھلکھلا اُٹھے۔
    کبھی کبھی وہ ہوٹل پر کام کرنے والے لڑکوں کا ہاتھ بھی بٹا دیتا اور اکثر لوگوں کی میز وں پر چائے اور پانی کا جگ بھی پہنچادیا کرتا۔ اپنی ان ہی با توں کی وجہ سے اجّو لوگوں کے دلوں پر راج کرتا تھا۔
    مجھے اُس سے اتنا اُنس ہو گیا تھا کہ اسے دیکھنے میں ہوٹل پر ضرور حاضری دیتا۔
    ان ہی دنوں میرے ایک دوست کے بیٹے کی شادی طے پا گئی۔ سب دوستوں کی شدید خواہش تھی کہ شادی میں اجو کو ضرور بلایا جائے اور جب میں نے اسے دعوت دی تو وہ ہنستے ہوئے بولا:
    ”بابو صیب…یہ تو اچھا ہوا کہ آپ نے مجھے بلا لیا اگر آپ نہ بلاتے تو میں یہ شادی ہی رکوا دیتا۔”
    میں اس کی بات سُن کر ہنس پڑا۔ وہ مجھے ہمیشہ بابو صیب ہی کہا کرتا۔ شادی شروع ہوتے ہی اجو ہوٹل سے سیدھا میرے دوست کے ہاں آ جاتا ، جہاں سب لوگ اس کے شدت سے منتظر ہوتے۔
    وہ ہمیشہ قہقہوں کا طوفان اپنے ساتھ لے کر آتا ۔پوری پوری رات شغل مستی میں گزرجاتی۔ مختلف گانوں اورڈھول کی تھاپ پر اجومزے مزے کے ڈانس کرتا، مزاحیہ گانے سناتا، چائے کے دور چلتے، لطیفہ گوئی ہوتی ، پھبتیاں کسی جاتیں ۔ غرض وہ خوب ہلڑ مچائے رکھتا۔ بچے، بوڑھے، جوان سب کے اندر اجو زندگی بھر دیتا۔
    مہندی کی رسم جاری تھی اور اجو ڈھول کی تھاپ پرتھرک رہا تھا، دوسرے لڑکے بالے بھی اس کا پورا پورا ساتھ نبھا رہے تھے بلکہ ایک مقابلے کا ماحول بن گیا تھا۔
    جوں جوں ڈھول کی تھاپ میں شدت آتی جا رہی تھی، اجو کے ڈانس میں بھی تیزی آتی جارہی تھی۔
    تمام لوگ گھیرا ڈالے مسکراتے ہوئے اس کے ڈانس کو دیکھ رہے تھے ، جو پسینے میں ڈوبا نئے نئے انداز میں ٹھمکے لگا رہا تھا کہ اس دوران کسی نے پٹاخے پھوڑدیے۔
    پتا نہیں کیسے داخلی دروازے پر لٹکتے سجاوٹ کے رنگ برنگے بھڑکیلے پردوں پر اچانک چنگاریاں جا پڑیں۔ پلک جھپکتے میں آگ بھڑک اٹھی اور پردے دھڑ دھڑ جلنے لگے۔
    ”آگ لگ گئی ….آگ لگ گئی….” کا واویلا مچ گیا اورچیخ و پکار شروع ہو گئی۔ڈھول بجنا بند ہو گئے اور تھرکتے جسم یک لخت ساکت ہو گئے۔
    آگ… آگ… کی آوازوں نے ماحول میں سراسیمگی بھر دی اور چہروں پر پریشانی کی آگ جل اٹھی۔
    جلتے پردوں اور آگ کی بڑی بڑی لپٹیں دیکھ کراچانک اجو کی حالت غیر ہو گئی اور وہ تھر تھر کانپنے لگا۔
    ”آگ بجھائو….جلدی کرو یار….خدا کے لئے جلدی سے اس آگ کو بجھائو…”





    وہ زور زور سے چلانے لگا ۔ میں اجو کی بوکھلائی ہوئی حالت پر ششدر رہ گیا۔
    شکر ہے کہ کسی نقصان کے بغیرجلد ہی آگ پر قابو پا لیا گیامگر اجو ایک دم سے بجھ گیا اور ساری مستیاں اس کے اندر یوں سو گئیں جیسے آگ پردوں کو نہیں، اس کے اندر کہیں لگی ہو۔
    ہنگاموں سے فارغ ہونے کے بعد جب وہ رات گئے سونے کے لئے لیٹا تو اس کا چہرہ بجھا ہوا تھا۔میری نظریں اسی پر ہی لگی تھیں۔
    وہ کافی دیر تک جاگتا اور بار بار کروٹیں بدلتا رہا۔اسے جب نیند نہ آئی تو وہ اٹھ کر باہر چلا گیا۔ اس کی بے چینی نے مجھے بھی بے چین کر دیا اور تھوڑی دیر بعد میں بھی اٹھ کر اس کے پیچھے چلا گیا۔وہ ایک بند دکان کے تھڑے پر سر جھکائے چپ چاپ بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا اور چرس کی بُو دوردور تک پھیلی ہوئی تھی۔
    ”کیا بات ہے اجو! کوئی مسئلہ ہے کیا؟” میں نے اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے پوچھا ۔ وہ چونک کر میری طرف دیکھنے لگا۔
    ”بابو صیب… کیا آپ کو پتا ہے کہ یہ آگ انسان سے کتنی نفرت کرتی ہے ۔”
    وہ سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے بولا مگر میرے جواب دینے سے پہلے وہ دوبارہ گویا ہوا:
    ”بابو صیب…جلتی ہوئی چیزوں میں دراصل انسان کی خوشیاں جل رہی ہوتی ہیںاور بکھری ہوئی راکھ، راکھ نہیں انسان کی خوشیاں ہوتی ہیں۔”
    میں اس کے منہ سے اتنی گہری اور سنجیدہ باتیں سُن کر حیران رہ گیا۔
    ”یہ کیسی باتیں کر رہے ہو اجو؟” میں نے اس کے اداس چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    ”بابو صیب…آپ نے آگ میں صرف چیزیں جلتی دیکھی ہوں گی مگر میں نے خواہشوں کو زندہ جلتے دیکھا ہے۔
    لوگوں نے آج تک روح نہیں دیکھی ہو گی مگر میں نے روح کو جھلستے دیکھا ہے۔” اس نے دکھی لہجے میں کہااور سگریٹ کا ایک لمبا کش لینے کے بعد اسے تھڑے پر مسل کر دور پھینک دیا۔




  • نگار خانہ — مصباح علی سید

    نگار خانہ — مصباح علی سید

    شام اداس اور ویران تھی۔ ٹھنڈا پڑتا سورج نارنجی تھال سے جھانکتا تھا۔ جیسے جیسے نیچے ہوا کے پھیکے جھونکوں میں تیرتے پنچھی اپنے اپنے آخری دانے دنکے چونچوں میں دبائے آگے بڑھ رہے تھے، وہ مٹھی میں باجرہ چاول لیے چھت پر آئی تھی۔ ڈوبتے سورج کے بعد آجانے والی سیاہی غم کو مزید بڑھانے لگی۔ اس نے دانے پھینک کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے کہ پرندوں کی بے ہنگم شور نے اس کا وجد توڑ دیا۔ اس نے خفیف سی گردن گھما کر دیکھا، نگاہوں میں تحیر آبسا تھا۔
    سب لوگ چھوٹے سے صحن میں بیٹھے تھے۔ ابا کچھ دیر پہلے ہی دکان سے آئے تھے۔ جیسے ہی ان کی آمد ہوتی، وہ سارے گھر میں وی آئی پی بن جاتے۔ باجی بھاگ کر پانی کا بھرا گلاس لے آتیں، ٹیپو بوٹوں کی طرف بڑھتا چپل پیش کرتا، آپا گرم گرم روٹیاں اتارنی شروع کر دیتیں اور اماں سب کو ہدایات دیتی کہ ابا کے روبرو بیٹھ جائیں۔ اب بھی ان کے برابر بیٹھی ہاتھ والے پنکھے کو گول گول گھماتی انہیں سارے دن کی روداد سناتے ہوا جھل رہی تھیں۔ ابا نے قمیص اتارتے ہوئے اپنے مخصوص بے زار لہجے میں کہا:
    ”تیرے ہاتھوں میں اگر دم نہیں تو ادھر دے۔”





    انہوں نے نہ صرف پنکھے کی جانب ہاتھ بڑھایا بلکہ تقریباً چھین ہی لیا۔ اماں ”ایہہ” کہتی رہ گئیں۔ اب پنکھے کی ڈنڈی ابا کے ہاتھوں میں گھوم رہی تھی پھر اسی سے پشت کھجاتے کہنے لگے:
    ”جانے کب آئے گی کم بخت۔”
    ”ہائے مر گئے یہ واپڈا والے… ستیاناس ہو اُن کا۔”ابا کی تائید میں صحن کے بیچوں بیچ لگے جنگلے سے نیچے والی منزل کے بڑے میاں نے دہائی دی۔ نچلی منزل کا بند گھر، کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ اور پھر شدید حبس، غصے کے ساتھ گالیاں بھی بنتی تھیں۔
    ابا ان کی بے قراری پر کُھل کر مُسکرا بھی نہ سکے کہ اپنے سٹور سے دھڑ دھڑ قیامت خیز کھڑاک کی آواز آئی تھی اور ساتھ آپا کی دل خراش چیخیں ابھریں:
    ”ہائے میں مرگئی۔”
    ”اسے کیا ہوا…؟ہائے! اسے کیا ہوا؟” اماں سینہ تھامے سٹور کی جانب بڑھیں جہاں بھوت نما آپا چلاتی ہوئی برآمد ہوئیں۔ کچھ دیر پہلے اچھی بھلی آپا کو روٹیاں اتارتے دیکھا گیا تھا۔ ابا کے سامنے ٹرے رکھ کر سٹور سے ان کا بستر ڈھونڈنے گئیں تھیں۔ چادر کا کونا ہاتھ لگا مگر پوری طرح قابو میں نہ آیا تھا، زور لگایا پیٹی پر رکھے بستر کے ساتھ کوئی بھاری سی چیز ان پر آن گری۔
    درد اپنی جگہ، اس سوغات کی خوشبو و رنگینی اپنی جگہ۔ دراصل ٹیپو حد سے زیادہ چٹورا ہو گیا تھا۔ جو چیز دیکھی پیٹ کے دوزخ میں منتقل کرلی۔ اماں نے چُھپ کر اچار ڈال مرتبان اونچی پیٹی پر بستروں کے پیچھے خاصا چھپا کر رکھا تھا۔ چادر کھینچنے سے وہ بھی بدلحاظ بنا آپا سے گلے ملنے آگیا۔ پھر کیا تھا، تیل کی تل چھٹ میں رنگ برنگے مصالحہ جات، آم، آملے اور پھلیوں نے آپا کے وجود پر عجیب وغریب نقش و نگار بنا دیئے۔ عجائب خانے میں رکھتے تو ایک مہینے کا راشن نکل آتا۔ ہاتھ لگانے سے بھی کراہت آرہی تھی۔ اماں کو پہلے اچار کے ضائع ہونے کا قلق ٹھہرا، دو چار اس کے گھونسے جڑے پھر ہنسی آگئی۔ ابا بھاگ کر لالٹین اٹھا لائے، بچی پہچانی تب ساری بات سمجھ میں آئی اور ٹیپو اندھیرے میں ہی اچار کی پھانکیں اٹھا کر بھا گ گیا۔
    ”ستیاناس ہو جائے، اس کلموہی حکومت کا، زندگی سے سارا سکھ چین ہی چھین لیا، جب دیکھو بتی بند، کبھی سالن میں نمک کی جگہ چینی ڈل جاتی ہے تو کبھی چائے میں پتی کی جگہ کلونجی، کہاں تک اپنے دیدوں کی روشنی سے کام لیں؟” اماں کو بے انتہا غصہ آیا۔ سارا اچار بھی تو بدبخت لوڈشیڈنگ کی نذر ہو گیا تھا جیسے ہی اچار کی یاد آئی آپا کی کمر پر جھانپڑ جڑا۔





    ”منحوس! دِکھ نہیں رہا تھا چادر کہیں پھنسی ہوئی ہے، مرتبان نہیں اسے چھوڑ رہا تو تو ہی چھوڑ دیتی۔ اب دفع ہو، جاکر نہا بدن سے تیل کا کیچڑ اتار…”
    ”اوئے ہوئے مِس!…کیسے نہائو گی۔ پانی ختم ہے اور بتی آنے والی نہیں۔”ٹیپو انگوٹھے دکھاتا ناچ رہا تھا۔
    ”ہائے میرے ربّا…” یقین مانو اب آپا کو تیل میں مرچ ہلدی کا احساس ہوا تھا پھر تو سارے بدن میں بھوری چیونٹیاں بھر گئیں۔
    ”میرے اللہ!” اس کی نگاہ آسمان نامی چھوٹے سے نیلے ٹکڑے پر جا ٹھہری۔
    ”قیامت والے دن اس حکومت کو بخشنا نہیں، جس طرح مجھے مرچیں کاٹ رہی ہیں ، انہیں سانپ بچھو ڈسیں۔”
    یہ اس گھر کی ہی نہیں بلکہ چھوٹے سے پیچ دار گلیوں والے علاقے کے دیوار سے دیوار جڑے ہر گھر کی کہانی تھی۔ ڈھونڈتے کچھ ملتا کچھ، پکاتے کچھ پک کچھ جاتا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب نئی نئی لوڈشیڈنگ شروع ہوئی تھی۔ ملک میں ایمرجنسی نافذ ہونے پر بتی جانے لگی۔ لوگ بلبلاتے شور مچاتے، ہڑتالیں، توڑ پھوڑ، ایک دن حکومت نے چھوٹا سا بیان زخم پر برف کی طرح رکھا۔
    ”چند سالوں کے لیے ملک مسائل میں گھرا ہے، تسلی رکھیں پانچ سالوں بعد ہمارے پیارے وطن میں لوڈشیڈنگ کا تصور بھی نہیں رہے گا۔”
    لوجی خوب کہی، پہلے واپڈا اوقات پر پھر اوقات سے باہر ہی ہو گیا۔ لوڈشیڈنگ کا تصور دفعتاً نہیں بچا تھا۔ غالباً لوگ اندھیروں کے عادی ہو گئے تھے۔ اگر کوئی وقت پوچھ لیتا صبح سوا نو سے رات سوا نو تک کی کہانی انگلیوں پر سنا دیتے۔
    ”سوا نو بجے آئے گی، پھر سوا دس بجے جائے گی، پھر سوا گیارہ، سوا بارہ…” آپا نے تو مہارت دکھائی۔ کلاک کے ہندسے ہٹا کر بتی آئی، بتی گئی کا کلاک بنا لیا۔ نئی طرز کا ڈیکوریشن پِیس، پڑوسی پوچھ پوچھ جاتے کہاں سے خریدا ہے۔ حکومت کی پانچ سالہ برف کی نظر کسی کا جمع جتھا، کمیٹیاں، کل پونجی، یو پی ایس کی نظر ہو گئے۔ پھر یہ دیکھا دیکھی ڈینگی کی وبا سے بھی تیز پھیلے۔ پانچ سال گزرے۔ واپڈا اوقات سے کیا سرحدوں سے باہر ہو گیا۔ بتی آئی گئی کا تصور ہی ختم ہو گیا۔ کبھی آرہی ہے تو بے تحاشہ اور کبھی نہیں ہے تو بھلے ساکٹ میں انگلیاں دے لو یا دروازے کے باہر گزرتی تاروں پر پینگیں ڈال لو اور کبھی حسینہ کی طرح پلکیں جھپک جھپک کر چیزیں ساڑ دیتی اور پھر پورے کنبے میں دھینگا مشتی شروع تو کبھی ڈھیٹ بنی سارا دن آوارہ مٹرگشت کرتی۔ میٹرگھما کر اماں ابا کی اتنی لڑائی کرواتی آدھے برتن تو یوں ہی ٹوٹ گئے تھے۔ ”بل کون بھرے۔”
    کچھ دن پہلے کی بات ہے اماں چوکی پر بیٹھی ساگ کی گندلیں صاف کر رہی تھیں کہ یک لخت اپنی اسرافیل کی پھونک جیسی چنگھاڑ نکالی۔
    ”او ٹیپو! اس منحوس فریج کو بند کر دے، آج پاگلوں کی طرح بتی آرہی ہے کہیں چیزوں کو ٹھنڈ نہ لگ جائے۔ پھر تیرا باپ آکر مجھے ٹھنڈا کرے گا۔” نیچے والی منزل کے مائی بابے نے سنا تو قہقہوں سے پیٹ میں بل پڑ گئے۔
    ”اماں!” ٹیپو چھوٹی سی انگلی ٹھوڑی پر جمائے سامنے آکھڑا ہوا۔
    ”آج لائٹ اب تک کیوں آرہی ہے؟” اس نے فریج کی تار کھینچ کر بڑی معصومیت سے پوچھا تھا۔ اماں بدک گئیں۔
    ”آج وہ بدبخت ٹی وی پر بیٹھے گا، اس کی آواز سننے اور تصویر دیکھنے کے لیے دے رہے ہیں۔”
    ”اماں!آج ایگزیکٹو ہمارے ٹی وی پر بیٹھنے آئے گا…” ٹیپو کی مارے حسرت کے آواز پھٹ گئی۔ آواز میں دنیا بھر کا درد اس لیے تھا کہ اگر ایسا ہو تو مخمنی سا ٹی وی کئی حصوں میں بکھر جائے گا اور ابا دوسرا ٹی وی تو قیامت تک نہ لے کر دیں گے۔
    ”ہاں! آکر بیٹھے تو سہی، ڈویاں مار مار سر نہ پھاڑ دوں اس کا… خود تو اے سی لائٹوں والے کمرے میں بیٹھ کر ٹی وی پر آتے ہیں، ایک ہم بے چارے… ہک ہا”
    اماں صد افسوس کرتیں اپنی سبزی اُٹھا کچن کی جانب بڑھیں جہاں ایک اور آفت ان سے لپٹنے کو تیار تھی۔ چند سالوں میں بہ مشکل خود کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کا عادی بنایا۔ کچھ دن احتجاج کیا، کھمبے گرائے، تاریں توڑیں، گالیاں بکیں اور پھر بھول بھال گئے۔ عادت بنا لی تھی تو نیا عذاب وارد کر دیا گیا۔ یخ بستہ موسم اوپر سے چولہے ٹھنڈے۔ جب جلائو ”سوں” سائرن بجاتی کان پھاڑ آوازیں جیسے بہت سی ایمبولینیس اکٹھے ہی گزرنا چاہ رہی ہوں۔ کتنی دیا سلائیاں تو اسی جانچ میں ختم ہوئیں کہ اب آئی کہ تب آئی۔ پر ناجی چولہے سے تو کچھ نہ نکلا البتہ اماں کے وزن سے بھی بھاری مغلظات ان کے منہ سے ابلیں۔ حکومت کی آنے جانے والی دس دس نسلوں کو کوسا۔
    پچھلے ہفتے کی بات تھی۔ ابا کو بخار چڑھا تھا، ان کے لیے نرم غذا کے طور پر دلیہ بنانا تھا۔ اماں نے سارا دن تھاپی مار مار ٹھنڈے پانی میں کپڑے دھوئے، جسم اکڑ گیا اور ٹھنڈ چڑھ گئی تو آپا سے ابلے انڈے اور چائے کے پیالے کی فرمائش کی۔ اکتاہٹ بھری آپا نے اپنے ناگوار منہ کو مزید بے زاریت سے سجایا۔ مرے قدموں سے جا کر چولہا جلایا، جو حسبِ عادت رانجھا بنا سارنگی بجا رہا تھا۔ آپا دھر سے چلائیں۔ ”اماں گیس نہیں آرہی۔”





    ”چولہے کو اٹھا، باہر پھینک دے منحوس کو، خواہ مخوا رش بڑھا رکھا ہے۔” اماں نے بلبلا کر کہا آپا تو اس مزاح کو انجوائے کرتی کمرے میں چلی گئیں، اپنی کہانی جو پوری کرنی تھی۔ البتہ ٹیپو سمجھا شاید چولہا پھینکنے سے گیس آجائے گی۔ آپا کی حکم عدولی پر تلخ نگاہ سے انہیں گھورا اور تیزی سے کچن کی جانب بڑھا، والوسے پائپ کھینچ، چولہا اٹھا کر گلی کی کھڑکی کی جانب بڑھنے لگا، صحن میں لگے سیاہ جنگلے میں پائوں پھنسا اور نچلی منزل والے بڑے میاں کے آدھے خالی سر پر برنر کی آہنی ٹھیکری جا گری۔ لو بتائو کوئی پوچھے اس عمر میں کیا تُک بنتی ہے صحن کے بیچ و بیچ جنگلے کے نیچے بیٹھ کر گنگناتے ہوئے اپنے جھالر نما بالوں پر خضاب لگانے کی؟ مانا بتی نہیں تھی پر کبھی تو آتی۔ کون سا ابھی بارات چڑھ رہی تھی۔ مگر نابھئی، پھڑوالیا اپنا طبلے جیسا ماتھا، حالاں کہ اچھی طرح پتا ہے پچھلے ہفتے کروشیابنتی بڑی اماں کے اوپر غلطی سے باجی سے چائے چھلک گئی تھی اور اماں کے پائوں سڑ گئے تھے۔ تب تو بڑے میاں گردن گرائے بیگم پر خوب ہنسے تھے مگر آج اف! کچھ نہ پوچھو۔ بابا جی نے جو قیامت خیز ہوٹر بجائے، چیخ و پکار، گالی گلوچ، چولہا تو وہاں ہی دھرا رہ گیا اور دونوں گھروں کے تمام افراد آپس میں خوب گتھم گتھا ہوئے۔ بڑے میاں کی بہویں نکل آئیں، پوتا پوتی اماں کی ٹانگوں پر چوہوں کی طرح دندیاں ماریں، کسی کے بال کسی کے ہاتھ۔ بڑے میاں کا خضاب اور خون ایک ہو کر چہرہ بہت ہول ناک لگ رہا تھا۔ ایسے میں بخار میں پھنکتے ابا گھر داخل میں ہوئے ان کا جی چاہا سب مل کر مجھے ہی مارو شاید بخار سے ٹوٹتے بدن کو کچھ افاقہ ہو۔ دوا تو پہنچ سے دور تھی۔ کچھ محلے کے لوگ بیچ میں پڑے، صلح صفائی ہوئی تب سب نے مل کر واپڈا پلس گیس کا غائبانہ جنازہ اٹھایا۔ ایسے جنازے دھکا کالونی میں روز اٹھتے تھے۔ نام پر حیرت ہو رہی ہو گی۔ بھئی یہ کالونی ایک مشہور سیاسی لیڈر نے اپنے سیاسی عزائم پورے کرنے کے لیے ناجائز تجاوزات پر غریبوں کے لیے آباد کی تھی اور فی الوقت رہائش پذیر اپنی قسمت کے دھکوں سے اسے چلا رہے تھے۔ خیر…
    جب شروع شروع گیس جانے لگی تو لگا شاید کہیں نئی پائپ لائن بچھ رہی ہے پھر خیال گزرا بلوچیوں کے ڈیرے پر لڑائی ہو گئی ہو گی ایک دوسرے کا سرپھاڑنے کے بجائے راکٹ مار کہ گیس کا کنواں پھاڑ دیا ہوگا۔ لیکن جب تواتر یہی مصیبت نازل رہی تو سب عورتیں اکٹھی ہوئیں اور تھانے دار کی طرح تنی بیلن، چمٹے، ڈویاں اٹھا پہنچ گئیں چوک پر، بے چارے بھوکے پیٹ یا سوکھے پاپے کھا کر رزق کی تلاش میں سکول اور دفاتر کو نکلے پسماندگان کا رستہ روک لیا۔ ٹریفک جام… کیا ان خواتین نے خاندانوں میں آگ لگائی ہو گی جو اس وقت سڑک پر لگائی۔ ایک بے چارہ سردی سے ٹھٹھرا مسافر لمحے کے لیے ہاتھ سینکنے کھڑا ہو گیا۔ بوڑھی سی اماں نے ہاتھ لمبا کر کے اس کے بازو پر ڈوئی ماری۔
    ”اوہ منحوس! تیرے سینکنے کو نہیں دہکائی، اس کا دھواں حکمرانوں کے دیدوں میں چبھانے کے لیے لگائی۔” اتنا ہنگامہ برپا ہوا۔ میڈیا اکٹھا ہو گیا، حکومت کے خلاف نعرے بازی، گالیاں، بددعائیں۔ جلتے پتوں کی خبر حکومت تک بھی پہنچی۔ انہیں بھی ٹھنڈی برف کا گولہ مرہم کی طرح تھما دیا۔
    ”حکومت اقدام کر رہی ہے، جلد حل نکلے گا۔”
    اور حل نکل بھی آیا۔ گھروں میں گھنٹہ بھر کے لیے گیس آنے لگی۔ وہی خواتین جو آٹھ آٹھ بجے تک چارپائیوں پر کھٹمل کی طرح اینٹھی بیٹھی رہتیں۔ پھرکی کی طرح گھوم کر اٹھتیں، نشئیوں کی طرح جھومتی جھامتی ٹم ٹم جلتے چولہے پر ہانڈیاں پکانے لگیں۔ ساری کالونی کے چولہے یک لخت جل اٹھے۔ گیس ٹم ٹم سے ٹماٹم ہو گئی۔ کسی کی ہانڈی پکی، کسی کی کچی، باہر نکل نکل اک دوجے کے دروازے بجا بجا کر اپنا چولہا ہلکا کرنے کی استدعا، پھر حکم اور پھر وہی دھینگا مشتی۔ مفت میں پوری دنیا ہالی وڈ کی ریہرسل سے مستفید ہوئی بلکہ کچھ من چلوں کے دل کی مراد پوری ہو گئی۔ جب حسینہ دروازہ بجاتے آتی تو اک محبت نامہ ہاتھ میں تھما دیتے۔ کوئی بڑھا ہاتھ جھٹک دیتی اور کوئی رقعہ پلوسے باندھے مٹکتی اپنے گھر کی طرف۔ پرسوں آپا گئیں تھیں۔ مٹھی میں رقعہ لے آئیں دس بار پڑھا۔ حکومت کی پالیسی کو دعائیں دیں رابطے کہ کا ذریعہ بنایا۔ آج صُبح دروازہ بجا، سامنے والا رشید انتظار میں تھا۔ دروازہ کھولتے ہی نازُک ہاتھ تھامنا چاہا اور چنگھاڑ نکلی۔ غالباً آج اماں گئیں تھیں۔ اس کی حرکت پر ہاتھ میں پکڑا گرم چمٹا دے مارا۔
    ”منحوس مارے میں تو چولہا ہلکا کرنے کا کہنے آئی تھی، تو آوارگی پر اتر آیا…”
    پھر کیا بتائیں کتنوں کی ایسی حرکتوں پر کیسی کیسی ٹھکائی ہونا۔ روز کا معمول بن گیا۔





    عوام بھی کہاں تک احتجاج کرتی؟ حکومت تو بھیجے میں میخیں ٹھونکے نشے میں چور تھی۔ مفاہمت پسند عوام نے متبادل ڈھونڈ لیا۔ پہلے سے کم خرچے مزید گھٹائے اور کسی نے چھوٹے سلنڈر، تو کسی نے تیل کے چولہے رکھ لیے۔ اماں تیل کے چولہے سے خوف زدہ تھیں۔ پچھلی گلی کی جوان لڑکی مری تھی۔ انہوں نے ابا سے سلنڈر کی فرمائش کی۔ وہ لے بھی آئے اور رات کو اپنی چارپائی کے نیچے رکھ کر سوتے کہ کہیں گھر کی گیس سمجھ کر راتوں کو عیاشی شروع نہ ہو جائے۔ دن میں اس دوکلو گیس پر اماں پہرہ بٹھا دیتیں۔ آپا جیسے ہی سلنڈر کی طرف بڑھتیں، اماں اپنی پاٹ دار آواز میں دھاڑتیں، ساتھ ہی بونس میں اڑتی ہوئی جوتی بھی آتی۔
    ”اے منحوس ماری! بلینک (بلیک) میں بھروائی ہے پانچ سو کی… اب آنے بہانے اڑا نہ دئیو…” خیر جیسے تیسے بچے پراٹھے کھا کر سکول جانے لگے۔ گیس بجلی کا نہ ہونا معمولات میں شامل ہو گیا اور ہم دنیا کی واحد قوم ہیں جو اپنے مسائل حل کرنے کے بہ جائے پہلے معمولات بناتے ہیں پھر اُن سے لطف اندوز ہونے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ پٹرول، سی این جی کم ہونے کا رونا پڑا، کچھ دن جلسے جلوس نکالے لیکن پھر عقل پر ماتم کیا۔ لوبھلا یہ تو حکومت نے بلامعاوضہ تفریحی سیشن کا بندوبست کیا ہے۔ غالباً جو مزہ لائنیں دیکھنے کا ہے وہ کہیں بھی نہیں، خاص کر اگر اس میں بارات کھڑی ہو۔
    ارے واہ! کہاوت تو اب صحیح مانوں میں پوری ہوئی تھی۔ پہلے لوگ جوتیاں گھسا کر دلہن لاتے تھے اب ٹائر رگڑوا کر اور بسا اوقات یہی ٹائر کچھ آگے پیچھے کرنے کے چکر میں بندے کچکچاتے دروازے کھول باہر نکل آتے، یقین مانو کیا مجنوں چاک گریباں لیلیٰ کے شہر پہنچا تھا جو دلہا حاضرِ خدمت دلہن ہوتا۔ باراتیوں کے ہیئراسٹائل الگ بدل جاتے۔ جب ایسی صورتِ حال پانی کے فلٹراسٹیشن پر ہونے لگی۔ خالی کینوں والے بھرے کین والے پر ٹوٹ پڑتے اور بھرے کین والا طیش میں آکر اپنا بھاری بھرکم کین سامنے والے کو مارتا۔ پانی سے توخیر ہاتھ دھوتا سو دھوتا سامنے والا دانتوں سے بھی دھل جاتا۔ باقی حاضرین کو ہنسی کے دورے پڑتے۔ پیٹ کے اکثر امراض تو ایسے مجمع کو دیکھ کر ہی ٹھیک ہو جاتے۔ ابا کا بھی جب پیٹ خراب ہوتا یا بجلی کے انتظار میں فارغ بیٹھے بیٹھے تنگ پڑ جاتے تو اپنی پیکو فیشن ڈھک سائیکل اٹھا کر کبھی سی این جی اسٹیشن تو کبھی پانی کے سرکاری فلٹر کا رخ کرتے ۔ مفت کا اسٹیج شو خاصا دل بہلا دیتا، بغیر دوا کے بندہ ٹھیک۔ بھئی اتنی شان دار پرفارمنس اور سلطان راہی، مصطفی قریشی اور شان کی نہ رہی تھی جتنا ٹیلنٹ اس ”نیوجنریشن” میں تھا۔