Tag: الف کہانی

  • شریکِ حیات قسط ۴

    شریکِ حیات قسط ۴

    شریکِ حیات قسط ۴

     باب چہارم

    ”سارنگ سندھ میںمحبوب کو کہتے ہیں۔” بڑا مان تھا اُس کے لہجے میں۔

    ”تمہیں خوشی ہوتی ہو گی بڑا خوب صورت سا سمبل ہے۔”

    ”مجھے محبوب بننے سے زیادہ ایک کامیاب انسان بننے کی جستجو ہے۔” اس کا لہجہ بہت سادہ تھا۔

    ”تم نے محبوب ہونے کا ذائقہ چکھا نہیں اس لیے کہہ رہے ہو۔” جواب میں کسک کا احساس تھا۔

    وہ فراز سلیم تھا، جنوبی پنجاب سے اس کا تعلق تھا۔ وہ بھی اسپیشلائزیشن کے لیے آیاتھا۔

    مگر اسے بھی اسپیشلائزیشن سے زیادہ موسیقی میں دل چسپی تھی۔ گائیک بننا اس کا خواب تھا، مگر اس کے گلے کے سُر نے اس کی اس خواہش کا گلا بُری طرح سے گھونٹ دیا تھا۔اس کے بعد اسے طبلہ بجانے میں دل چسپی محسوس ہوئی تو اس نے طبلہ بجانے کی باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی۔ وہ ڈرم بھی بہت اچھا بجاتا تھا۔

    کل کے کنسرٹ میں وہ بھی شریک تھا، جو اپنی خواہش کی ناکامی کے بعد ماں کی خواہش پر ڈاکٹر بن کر اسپیشلائزیشن کرنے یہاں آیاتھا اور پہلے ہی سمسٹر میں بُری طرح سے پھنس گیا تھا۔یہی ٹینشن تھی جس نے اس کی راتوں کی نیند اُڑا دی تھی اور وہ ایک رات کو بہار کرنے کے لیے سارنگ کے ساتھ کنسرٹ کا حصہ بن گیا تھا اور سارنگ کی بجائی بانسری اور گائیک کے لفظ جیسے اس کے دل پر اثر کر رہے تھے۔

    جب مائیک تھامنے سے پہلے سنگر نے سارنگ کی طرف دھن چھیڑنے کا اشارہ کیا۔سب سے پہلی دُھن بانسری کی دُھن تھی اور کیا لَے تھی جیسے دل ہچکولے کھاتا ہوا تھر کے ریگستان میں سہج سہج کر چلتے ہوئے اونٹوں کی چالوں جیسا ہو جائے۔

    بات سسی کے بھنبھور سے شروع ہوئی تھی۔سسی جسے عام سندھی میں سسوئی کہا جاتا تھا۔ وہ سسی جو بھنبھور کی رہنے والی تھی۔گیت میں سسی کا درد شاعر نے پوری طرح سمو دیا تھا۔ گیت آواز، سر، لے، دھن اور ساز کے ساتھ بجتا ہوا سماعتوں میں ایک جادو جگا گیا، لوک داستانی رنگ چڑھ گیا۔

    دوسرے دن شام ڈھلے ٹریننگ سینٹر سے چھٹی ہونے کے بعد وہ پورا گروپ فراز سلیم، سارنگ، پوجا، صنم اور شیبا سمیت کیفے کے باہر بیرونی پارک میں کل کے گیت، سر اور کہانی پر بات کر رہا تھا۔ جب بات سسی کے بھنبھور سے شروع ہو کر سارنگ کے محبوب پر ختم ہو گئی۔

    اور کبھی وہیں سے شروع ہونی تھی۔

    ٭…٭…٭

  • پائلو کوئلو – شاہکار سے پہلے

    پائلو کوئلو – شاہکار سے پہلے


    پائلو کوئلو(Paulo Coelho)

    ۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ کیمروں کی فلیش لائٹس اور ریفلیکٹرز کی نیلی ڈسکو سٹائل چمک کے بغیر پائلو کائلو کے قدم اٹھنے سے بیزار ہو جائیں ،رپورٹرز اور پاپا رازیوں کے ہجوم کے بغیر اس کا سانس دوبھر ہونے لگے، انٹرویوز، سیلفیاں اور آٹوگراف اس کے لیے زندگی کی اہم ترین خوشیاں بن جائیں اور وہ ایک عام انسان کی طرح عام بے نیاز لوگوں میں ا ک بے نیازی کے ساتھ چل نہ سکے۔ ا س مشہورِ زمانہ لکھاری کی زندگی میں وہ وقت بھی آتا ہے جب وہ اندھیرے کمرے میں تنہایوں کو دُکھڑے سناتا ہے۔ تاریک راتوں کو مدھم مدھم روشنی دینے والی موم بتیوںکے ساتھ سلگتا ہے۔ آنسوﺅں سے گیلے کاغذ پر کالے حروف اور غمزدہ لمحے اتارتا ہے اور پلکیں سوکھ جانے کے بعد سورج کی اوّلینشعاﺅں کے ساتھ خود سے نئے عزم اور نئے حوصلوں کے وعدے کرتا اور ہر آنے والے دن اپنی محنت اور اپنی جنگ کا دوبارہ صفر سے آغاز کرتا ہے۔
    پائلو کوئلو کی زندگی بھی کوپاکبانا(Copacabana beach) کے ساحل کی سمت کھلنے والی کھڑکیوں والے مہنگے اور پرتعیش فلیٹ سے پہلے Rio de Janeiro کے ایک مڈل کلاس علاقے کے مڈل کلاس گھرانے کے ناکام سپوت کی کہانی تھی۔ایک ایسا ناکام بیٹااور بے کار انسان جو نہ تو اپنے اساتذہ سے توصیف سمیٹ سکا اور نہ ہی والدین کی پلکوں پر اترنے والے خوابوں کا بوجھ اپنی پوروں سے اٹھا سکا۔ ایسا عام انسان جو اپنے اندر ایک مضطرب روح ،ایک بے چین وجود کی شناخت کے سفر پر تھا اور سفر بھی ایسا جو لمبا بھی تھا کٹھن بھی اور پرآسیب بھی۔لیکن برسوں کی دھوپ سر پر کاٹنے، صدیوں کا بوجھ کندھوں پر اٹھا لینے کے بعد جب یہی مضطرب روح منظرعام پر آئی تو نہ صرف شہرت کی تمام حدیں پار کر گئی بلکہ ہزاروں لوگوں کو خواب دینے ، نئی دنیائیں دریافت کرنے کی تحریک دینے اور تعمیر کے اسباق سکھانے لگی۔ دنیا بھر میں دوسو ملین سے زیادہ بکنے والے کتابوں اور سٹرسٹھ (67)زبانوں میں ترجمہ ہونے والے ناول الکیمسٹ(The Alchemist) کا مصنف جس کے لفظوں سے ہزاروں لاکھوں لوگ روزانہ سونے سے پہلے زندگی اور معاشرے کے ہاتھوں اپنی کچلی روحوں کو تسلی دیتے، اپنے ماضی کو دفن کرنے اور نئی صبح کو روشن کرنے کا عزم کرتے ہیں، اسی کا نام پائلو کوئلو ہے۔
    اپنی پیدائش سے ہی بدقسمتی کا شکار پائلو کوئلو نے اپنے پہلے سانس کے ساتھ ہی زندگی کی سختیوں اور مصائب سے لڑنے کی ہمت پکڑ لی تھی۔اسی لیے جب غمزدہ باپ اور آنسو بہاتی ماں اس نوزائیدہ بچے کے کفن دفن کی تیاری کر رہے تھے تو وہ انگڑائیاں لیتا اٹھ بیٹھا۔ اپنے پست قد کے ساتھ بلندیوں کے لیے لڑنے والا پائلو آخر اپنے ریگزاروں، پتھریلی مسافتوں اور نم راتوں سے گزر کر اپنے ہنر کی معراج پر پہنچ گیا۔
    پتلی ٹانگوں اور بڑے سر کے ساتھ بدصورت دکھائی دینے والا بچہ پائلو ابتدائی عمر سے ہی غیر مقبول ثابت ہوا۔ اس میں صنف مخالف کو متوجہ کرنے کی کوئی صلاحیت نہ تھی، دوستوں میں دھاک بٹھانے کو ہمت تھی نہ بہادری ۔ والدین کا لاڈلا بننے کی روایت پسندی نہ تھی۔ ا یسے میں خود کو خوش رکھنے اور دوستو ں کو متاثر کرنے کا ایک ہی ذریعہ تھا اس کے پاس، اس کی کتابیں اور مطالعہ۔۔ بچپن سے ہی مطالعہ کے شوقین پائلو کائلو نے سکول کے دور سے ہی آنکھوں کی پتلیوں پر لکھاری بننے کا ایک خواب ،ایک جذبہ بُن لیا تھا ۔ سکول کی نصابی قابلیت والدین کی تمام تر کوشش کے باوجود وہ آسانی سے حاصل نہ کر سکا۔سکول کے ریکارڈ میں ہمیشہ آخری نمبر پر رہنے والا اور ہر وقت سکول سے نکالے جانے کے خوف میں مبتلا رہنے والا نوجوان جب ایک دن تخلیقی شاعری کے ایک مقابلے میں اپنے سکول میں پہلے نمبر پر آتا ہے تو اس کی آنکھوں کو ایک نیا خواب ملتا ہے۔ ایک ایسا راستہ جس پر اس کے لیے تالیاں بج سکتی ہیں، وہ انعامات جیت سکتا ہے۔ ناکامیوں سے نکل کر کامیابی کا مزا چکھ سکتا ہے۔ اس پر آشکار ہوتا ہے کہ اسی سمت اس کی طبیعت کا میلان اور رجحان ہے۔۔ جلد از جلد والدین کو یہ خوش خبری دینے ، خوابوں کی اونچی اڑان اور لکھاری بننے کا خواب سنانے کی چاہ لیے وہ سکول سے نکلنے والے پہلے طلبا میں سے تھا۔اس کے ہاتھ جیسے قارون کا خزانہ لگا تھا ۔

  • احمد فراز ۔ انہیں ہم یاد کرتے ہیں

    احمد فراز ۔ انہیں ہم یاد کرتے ہیں

    انہیں ہم یاد کرتے ہیں

    احمد فراز

    احمد فراز

    5/5

    احمد فراز وہ رومانی، مقبول عام، سادہ لفظوں میں زندگی کا اظہار کرنے والا انسان ہے، جو اردو جاننے، پڑھنے اور بولنے والے دل و دماغ سے ایک مرتبہ تو ضرور گزرا ہو گا۔ ایک ایسی آواز ہیں کہ جو خاموش ہو بھی گئی تو ختم نہیں ہو سکتی، جس کو اردو پڑھنے اردو جاننے والے، محبت کرنے والے،اور اس محبت کے اظہار کے لیے ردھم کو ڈھونڈنے والے ، ہمیشہ سنیں گے اور سمجھیں گے۔اردو شاعری دہلی کے اردو بولنے والے خاندانوں کے گھر کی باندی رہی لیکن اردو کی مقبولیت اور پاکستان کی قومی زبان بننے کے ساتھ ،اردو شاعری ان لوگوں نے بھی کی جن کی پہلی زبان اردو نہ تھی،جن میں فیض احمد فیض اور علامہ اقبال کا نام نمایاں ہے۔ احمد فراز کی بھی پہلی زبان اردو کے بجائے پشتو تھی۔ انہیں شاعرانہ مزاج اور شاعری دونوں ورثے میں ملے تھے۔ والد صاحب فارسی میں شعر کہتے تھے، اور اہل کتاب میں سے تھے۔ احمد فراز کا بھی کہنا تھا کہ انہیں شعر اردو میں ہی کہنا پسند تھا، حالاں کہ مادری زبان پشتو تھی، اور والد فارسی کے گرویدہ۔ جب شعر کہنا شروع کیا تو اردو اچھی طرح جاننے اور لکھنے کے باوجو داردو بولنا آسان نہ تھا۔ نام ’سید احمد شاہ‘ تھا اور تخلص ’فراز‘ لکھتے تھے۔ بچپن ایک لحاظ سے غیر معمولی تھا کہ دادا کی قبر پر مزار تھا، اور وہاں خواہشوں کے دھاگے باندھنے، نا آسودہ دلوں کی،نا مکمل خواہشوں اور زیارتوںکے لیے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوتا تھا۔ شاعری کا آغاز ایک بیت بازی کا مقا بلہ جیتنے کے لیے کیا تھا اور جیتنا اس سے تھا، جس کے سامنے ایک نویں کلاس کے ٹین ایجر کا دل ہارا ہوا تھا، ایک کلاس سینئر تھی اور خاندانوں کے رابطے کی وجہ سے گھر آنا جانا تھا۔اس نے ایک دن بیت بازی کا طریقہ سمجھایا اور مستقبل کے شاعر کو مقابلی کی دعوت دی، جو کہ بڑے شوق سے قبول کی گئی تھی لیکن جب بھی شعر یاد کر کے جاتے تو کم پڑ جاتے اور دل جس سے مقابلہ جیتنے کو بے چین تھا، وہ جیت جاتی۔ خیر مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا، اور پھر شعر خود بنانے لگے۔جب شعر کہنے با قا عدہ شروع کیے تو اپنی شاعری اپنی والدہ کو سونپی کہ والد صاحب کو دکھا دیں کہ اگر کوئی کمی بیشی ہو تو دور ہو جائے اور اصلاح کی جتنی بھی گنجائش ہو وہ کی جا سکے۔چند دن تو گھر میں خاموشی رہی اور ہزار وسوسوں نے آگھیرا لیکن چند دن بعد والد نے بلایا اور ہلکی پھلکی ڈانٹ پلائی کہ’ عشق و معشوقی کی شاعری کرتے ہو؟ شرم نہیں آتی۔“
    1951ءکی بات ہے جب ایک مشاعرے میں شرکت کی اور وہاں زیڈ۔اے ۔ بی آئے ہوئے تھے ، جو کہ اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل کنٹرولر آف پاکستان براڈ کاسٹنگ سروسز تھے۔ کسی سینئر کے گھر ایک ادبی محفل تھی جسے مشاعرے کا نام دیا گیا تھا۔’احمد فراز‘ نے غزل پڑھی تو بخاری صاحب کی طرف سے دوسری غزل کی فرمائش کی گئی۔ غزل سننے کے بعد کہا’ فراز بیٹا جب بھی تمہیں کام کرنے کا خیال آیا تو ریڈیو پاکستان کے دروازے کھلے ہیں‘۔ ابھی شاید ارادہ تو نہ تھا کیوں کہ تعلیم ابھی جاری تھی ، لیکن گھر میں پڑے ایک گل دان نے راستے یوں تبدیل کیے کہ ایک گلدان ٹوٹا والد نے تھوڑا بہت جھاڑا اور حساس شاعر اور غیرت مند پٹھان نے سوچا اب نہیں رہنا یہاں۔ سو ریڈیو پاکستان کی آفر یاد تھی۔ وہاں رابطہ کیا اور فورا µ نوکری کے لیے بلاوے کا خط آ گیا۔سو فرسٹ ائیر بھی چھوڑ دیا اور گھر بھی ۔ یہ ریڈیو پاکستان کا وہ وقت تھا، جب ابھی ریڈیو پاکستان ٹینٹوں میں آباد تھا۔بلڈنگ کہیں جاکر بہت بعد میں بنی تھی۔
    کسی جذباتی لمحے میں گھر اور ماں کو تو چھوڑا تھا لیکن رات ماں کو یاد کرتے گزرتی اور دن کام کرتے ۔ اسی روٹین سے تھک کر ایک دن آفس میں گئے اورکہا یا تو میرا استعفیٰ لے لیں یا پھر ٹرانسفر کر دیں۔ پشاور ٹرانسفر ہو گئی اور گھر کا سکھ اور ماں کی محبت پھر سے میسر آئی۔
    پھر تعلیم کا سلسلہ بھی چل نکلا ۔ایڈورڈ کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد پشاور یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا۔

  • شریکِ حیات قسط ۳

    شریکِ حیات قسط ۳

    شریکِ حیات قسط ۳

    باب سوم

     

    زندگی میں وہ سب نہیں ہوتا جو ہم چاہتے ہیں۔ اگر ہوتا ہے تو کم از کم اس طرح نہیں ہوتا جس طرح ہم چاہتے ہیںاور وہ سب ہوجاتا ہے جو ہم نہیں چاہتے۔

    وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔ ”سندھیا تم کیا چاہتی ہو؟”

    ”مجھے نہیں پتا ادا سارنگ، مگر کم از کم یہ سب نہیں جو ہورہا ہے۔ اچھا نہیں لگ رہا مجھے یہ سب،بہت برا لگ رہا ہے۔”

    اسے معلوم تھا وہ کنفیوزڈ ہے، سہمی ہوئی ہے اور فکر مند ہے۔ وہ اسے ایسی صورتِ حال میں مضبوط دیکھنا چاہتا تھا حالاںکہ اسے معلوم تھا وہ کس قدر کمزور اور معصوم سی لڑکی ہے۔ اس کے حوالے سے گھر بھر میں باتیں ہورہی تھیں۔ایک کے بعد ایک ایشو چل رہا تھا۔ ایسے میں اس کا سہما ہوا رہنا کوئی معمولی بات نہ تھی۔

    پورے دو دن خاموشی کی نظر ہوگئے تھے۔

    ایسا لگ رہا تھا جیسے گھر میںراقاص گھوم گیا ہو ۔ مائوں نے بچوں کو ڈرانے کے لیے جو خیالی بھوت کہانیاں بنائیں تھیں، راقاص بھی ان ہی میں سے کسی ایک کہانی کا کردار تھا جسے بدشگونی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

    گھر میں مایوسی پھیلی کام بگڑنے لگے، یا مایوسی حد درجہ بڑھ گئی تو سمجھو گھر میں راقاص گھوم گیا۔

    سبھاگی ایسے وقتوں میں شور شرابے سے کام لے لیتی تھی اور جیجی افسردہ ہوجاتیں۔ حسن بخش غصہ اور مولابخش کو چپ لگ جاتی تھی۔اسے چپ کیا لگتی مانو گھر میں راقاص گھوم جاتا۔ بیٹی کا رشتہ بہ مشکل طے ہوا اور ہوکر سوالیہ نشان بن گیا کتنی بڑی بات تھی۔

    بیٹیوں سے نہیں ان کے نصیبوں سے ڈر لگتا ہے۔اسے جیجی کی بات یاد آگئی۔

    نصیب اس قدر مہنگا کیوں ہوتا ہے کہ اسے پیسے سے بھی نہیں خریدا جاسکتا۔ پیسے سے خریدا جاتا تو میں خود کو بیچ کر سندھو کا نصیب خرید لیتاوہ مایوس تھا،افسردہ تھا۔

    حسن بپھرا ہوا تھا۔ صادق کی خوب آئو بھگت کی تھی فون پر۔ اس نے فون بند کرکے رکھا ہوا تھا۔ حیدرآباد جارہا تھا تو جیجی نے روک دیا کہ جاکر تماشا نہ لگا شہر میں، کچھ دن ٹھہر جا کرتے ہیں۔ تب تک بھرائی آگئی روتی پیٹتی کہ بیٹے نے بغیر بتائے شادی کر رکھی تھی، وہ کیا کرسکتی تھی۔مگر اب گھر کی بات ہے، خاندان بھر میں پتا لگ گیا ہے کہ سندھیا کو صادق کی پوتی (دوپٹہ اوڑھنی) پہنائی ہے۔ ونی اور بنی (لڑکی اور فصل) عزت والا نہیں چھوڑتا۔ تم سندھیا میرے بل بوتے پر دو، عیش کرے گی۔ گائوں میں گھر کی مالکن بن کر رہے گی۔چابی تو اس کے پاس رہے گی نا۔ وہ موئی شبراتن کب تک، کہاں رہتی ہیں ایسی لڑکیاں گھر بسا کر۔مجھے تو میری سندھیا عزیز ہے۔

  • شریکِ حیات – قسط ۲

    شریکِ حیات – قسط ۲

    شریکِ حیات . قسط ۲

    باب دوم

    جتنا مشکل سوال تھا، اس سے کہیں زیادہ مشکل جواب لے کر آیا۔

    کتنا مشکل ہوتاہے کسی کو یہ یقین دلاناکہ وہ سچ بول رہا ہے۔ کسی کو چھوڑنے سے پہلے یہ جھوٹ کہنا کہ چھوڑ کر نہیں جائوںگا ہمیشہ تمہارے پاس رہوں گا۔

    اسے بھی یہی مشکل پیش آئی جب اس نے اپنے باپ کا ہاتھ پکڑ کر کہا:”میں باہر جائوںگا مگر کچھ عرصے کے لیے ، صرف کام کے لیے جارہا ہوں ابا۔”

    ”چھوڑنے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ ہی تو ہوتا ہے ۔تو یہاں رہ کر بھی کام کرسکتا ہے سارنگ، تجھے پتا ہے نا سب کو کس قدر تیرا انتظار تھا۔ سب تیرے لیے ترسے ہوئے تھے اور پھر گوٹھ کو تیری کتنی ضرورت ہے۔” وہ جو سوچ رہے تھے وہ سب کچھ سا رنگ سے کہنا چاہتے تھے مگر مجبور تھے۔ 

    سارنگ کی ہلکی مسکراہٹ اب بھی تفکر میں نہ بدلتی تو کب بدلتی۔ ” فیصلوں سے پہلے سوچا جاتا ہے، تم نے یہ فیصلہ کرنے سے پہلے سوچا نہیں ۔”

    ”میں نے بہت سوچ کر یہ فیصلہ کیا ہے ابا سائیں اپنے اور آپ سب کے لیے۔”

    ”ہمارے مستقبل کے لیے ہم سب کے لیے۔جہاں اتنی ساری محنتیں کی ہیں، یہاں تک تو آگیا ہوں نا آپ کی دعا سے۔” 

    ”بہت لمبا انتظار سارنگ۔ بہت انتظار کیا ہے ہم سب نے پر اب نہیں۔ اب ڈسپنسری بسا،اپنے گوٹھ کی خدمت کر، اپنے لوگوں کو دیکھ۔ دیکھ کیسے سارے آس لگائے بیٹھے ہیں اور پھر ہم، ہم سب جوتارے گن گن کر راتیں کاٹتے ہیں تیرے لیے۔ ایک دفعہ پھر سے یہ انتظار بڑا اوکھا ہوجائے گا، اوّلاہوجائے گا۔”

    سارنگ کی چپ کو چپ لگ گئی تھی، اک خاموشی روح کے ساتھ جڑ گئی۔ ابا کا لہجہ دیوار بن گیا تھا سخت دیوار!

    اپنے لوگ، اُن کی محبتیں، ڈسپنسری، یہ سب اپنی جگہ، مگر ابا تھا، جس کا حکم ٹالنا دشوار تھا۔

    چاچا نے سارنگ کے چہرے کو دیکھا اور چہرے پہ چھائی دھند کو دیکھا۔ 

    دھند میں گم ہوتی ہوئی امید کو دیکھا، جب اس کی آنکھیں کچھ مرجھائیں تو وہ اپنی چارپائی سے اٹھا، چائے کی پیالی رکھ دی اور اس کے برابر آکھڑا ہوا۔

    ”سارنگ تو جائے گا،تو ضرور جائے گا۔ تو جو چاہتا ہے وہ کر، تجھے جو صحیح لگتا ہے، وہ ضروری ہی ہوگا۔”

    حسن بخش نے خفگی اور احتجاجی انداز میں مولابخش کو دیکھا اور بولا۔ ”بغیر صلاح مشورے کے تونے کب سے فیصلوں پر مہر لگانا شروع کردی ہے؟” حسن بخش کے لہجے میں غصہ تھا۔

    ”اوبھا! او ادا!ٹھنڈا ہو،ادھر آ۔” کندھے پر بازو پھیلا کے اپنے ساتھ لگایا۔

    ”بہتے پانی کو روکا نہیں جاتا میاں۔ رستہ دیا جاتا ہے۔اسے روک نہیں، اسے رستہ دے۔وہ تیرے ہی کنارے آلگے گا۔” آہستہ سے اُکسایا۔

    ”او نہیں مولابخش۔ یار بڑا انتظار کیا ہے میں نے اب بہت مشکل ہے۔”

    ”اب کچھ مشکل نہیں ہے بھائو، مشکل تب تھا۔”

    ”اب تو آسان ہے،اب سارنگ ہمارے سامنے ڈاکٹر بن کر آیا ہے۔”

    سارنگ نے سستی سے چائے اپنی ٹرے میں رکھ دی، ایک طرف ابا کی ضد اور دوسری طرف اس کا مستقبل تھا۔ سمجھ نہ آیا ابا کو مستقبل بنائے یا مستقبل کو ابا۔ ابھی یہ نہیں معلوم تھا کہ ابا مستقبل بن سکتا ہے یامستقبل ابا۔ دونوں کا اگر ٹکرائو ہو تو بڑا مشکل وقت آجائے گااور دونوں کا ٹکرائو ہونا ہی تھا۔

    مولابخش حسن کو اپنے ساتھ لگاکر آگے بڑھ گیا۔ غالباً وہ خفا ہوکر کمرے کی طرف جانے لگا تھا۔ ”او دیکھ بھائو حسن۔ ہماری خوشی تھی اسے ڈاکٹر بنانا اور اس نے ہماری خوشی پر اپنی جان مٹا دی۔اب اس کی خوشی ہے باہر جانا، تو جان لگادے پر انکار نہ کر۔

  • شریکِ حیات أ قسط ۱

    شریکِ حیات أ قسط ۱

    شریکِ حیات أ قسط ۱

    باب اوّل

    خواب دیکھنے کی عمر کچی ہوتی ہے۔

    سندھیا تو کتنی پیاری ہے!

    جو کھڑکی میں بیٹھ کر اپنے کبوتروں کے پر گنتی ہے، پنجرہ کھول دیتی ہے، کبوتر اڑ جاتے ہیں ایک آواز کے ساتھ۔

    مرغیوں کا ڈربہ کھول دیتی ہے، وہ صحن بھر میں پھرتی ہیں، ٹاں ٹاں کرتی ہوئی، تم سے پیار کرتی ہیں، تمہیں اپنی ماں سمجھتی ہیں۔

    ہائے تم کتنی اچھی ہو۔ پریوں کی کہانیاں پڑھتی ہو اور پیارے پیارے خواب دیکھتی ہو۔

    کھڑکی میں بیٹھ کر اپنے شہزادے کا انتظار کرتی ہو۔سندھیا تم تو سچ میں رانی ہو۔

    تیرے لیے شہزادہ آئے گا دور سے۔

    ”پیاری سندھیا !تم کتنی اچھی ہو۔” کھڑکی میں بیٹھی چڑیا کہتی ہے اور پیاری سندھیا کے چہرے پر گلابیاں بکھر جاتی ہیں ۔ 

    ٭…٭…٭

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۷

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۷

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۷

    قصہ آئیلویُولُو کا

    آٹھویں رات:

    شہرزاد نے اپنی سحربیانی اور شیریں زبانی سے سات راتوں تک تو خدا خدا کر کے قتل سے جان بچائی۔ جب آٹھویں رات آئی تو شاہِ کیواں جاہ کو آداب بجا لائی اور یوں سلسلہ سخن کو شروع کیا کہ راویانِ طلیق اللسان نے بیان کیا ہے کہ حسن بدرالدین کو بدقسمتی اور خوبی طالع نے زار زار رلایا اور دیر تک پھوٹ پھوٹ کر رونا آیا۔ آخر کہا، لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ وہ قادرِ مطلق ہے اور اس کے مرضی کے بغیر کسی کو کوئی قدرت حاصل نہیں۔ میں نے لاکھ جتن کیے کہ احوالِ مراد داستانِ جگر خراش لوگوں کو سناؤں، اپنی مصیبت کا کوئی حل پاؤں مگر کسی نے میری بات نہ سنی۔ سب بے سود ہے، انجام مراد و کشود کا بہر نوع مفقود ہے۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ یہیں زندگانی گزاروں اور جنابِ باری کا شکر بجا لاؤں کہ بے شک اس زمانہء دہشت خیز میں پہنچایا پر ملک الموت سے نہ ملوایا۔ اب صابر شاکر رہوں اور مردانہ وار زندگی کی مشکلوں کا مقابلہ کروں۔ ہمت مرداں مددِ خدا۔

    خود سے یہ عہد کر کے حسن بدرالدین اس گھر میں رہنے لگا۔ وہ گھر جہاں محبت کرنے والی نانی تھی، ایک مسکین مرنجاں مرنج ماموں تھا، ایک بد مزاج و ترش کلام ممانی تھی۔ شعلہ رخسار و گلعذار زلیخا تھی اور بھولا بھالا منا تھا۔ ان سب پر سوا ممانی کا پچھلے شوہر سے بیٹا، غصہ ور اور ہتھ چھٹ بنا تھا۔ یہ انسان تو ویسے ہی تھے جیسے سب انسان ہوتے ہیں لیکن زندگی ویسی نہ تھی جیسی زمانہ ازل سے انسان گزارتا آیا ہے۔ قدم قدم پر جادو کے کرشمے تھے، نئی نئی چیزیں تھیں، ان کے نئے نئے نام تھے، عجب تعجب خیز کام تھے۔ اچانک بجلیاں جل اٹھتی تھیں، بیٹھے بیٹھے گل ہو جاتی تھیں اور گھر والے واپڈا نامی کسی شخص کو کوسنے لگتے تھے۔ دیوار پر لگے چوکھٹے میں ہر وقت کوئی نہ کوئی ہنگامہ بپا رہتا تھا۔ نانی جان فرمائش کرتیں۔ ’’ٹی۔ وی لگاؤ۔‘‘ اور چوکھٹا، آئینہ جہاں نما بن جاتا۔ کبھی پریاں رقص کرتیں تو کبھی پیرانِ فرتوت، عجب کرتوت، لڑتے جھگڑتے نظر آتے۔ ہر چھوٹا بڑا اپنی اپنی تختیاں اٹھائے پھرتا جسے وہ فون کہتے تھے۔ اس عجوبہ روزگار تختی پر بیٹھے بٹھائے کوئی دورہ پڑتا تھا اور گھنٹیاں بجنے لگتی تھیں۔ ادھر گھنٹی بجی، ادھر اسے کان سے لگایا اور مصروف گفتگو ہوئے۔ حسن کا فون بھی بجتا تھا مگر وہ ڈر کر اسے چھپا دیتا تھا، ہاتھ میں نہ لیتا تھا۔ یہ اور ایسی کئی اور چیزیں تھیں جن کی وجہ سے حسن حیران و بے قرار ہوتا تھا اور مثلِ زلف پریشان روزگار ہوتا تھا۔
    پہلا جھٹکا اسے اس وقت لگا جب معلوم ہوا کہ جمعہ کو چھٹی نہیں ہوتی، اتوار کی چھٹی کا رواج ہے۔ حسن حیران ہوا اور کہا لاحول ولا قوۃ ! یہ مسلمانوں کا راج ہے؟ دوسرا جھٹکا تب لگا جب معلوم ہوا کہ اب ملک کا نام ہندوستان نہیں پاکستان ہے۔ حسن کو یہ نام پسند آیا، مگر یہ راز سمجھ میں نہ آیا۔ تیسرا اور سب سے بڑا جھٹکا اسے تب لگا جب چھٹی کے روز ممانی نے اسے حکم دیا کہ مارکیٹ سے انڈے ڈبل روٹی لے آئے۔ یہ کہہ کر ایک کاغذ کا نیلے رنگ کا ٹکڑا اس کے ہاتھ میں تھمایا، اسے پھاٹک کا رستہ دکھایا۔ حسن گھبرایا اور بولا ’’یہ کیا ماجرا ہے؟ یہ مارکیٹ کیا بلا ہے؟ اس کاغذ کے ٹکڑے کا میں کیا کروں؟ کچھ رقم دیجئے کہ جا کر انڈے لاؤں۔‘‘
    یہ سن کر ممانی ناراض ہوئی اور بولی۔ ’’میرا تیرا کوئی مذاق نہیں۔ سیدھی طرح جاتا ہے یا اتاروں جوتی؟‘‘
    ناچار حسن بدرالدین وہاں سے بہ دل اندوہ گیں خستہ و حزیں نکل کھڑا ہوا اور سراسیمہ و پریشان سڑک پر چلنے لگا۔
    اچانک پیچھے سے آواز آئی۔ ’’حسن بھائی حسن بھائی رکیں۔‘‘ مڑا تو دیکھا منا بھاگتا ہوا آرہا ہے۔ وہ حسن کے قریب آیا اور پھولی سانس کے ساتھ بولا۔ ’’میں نے بھی مارکیٹ جانا ہے۔ آج میچ ہے میرا، بال نہیں ہے۔‘‘ یہ کہہ کر حسن کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۶

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۶

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۶

    چھٹی رات:

    چھٹی رات آئی تو شہرزاد نے کہانی یوں سنائی کہ حسن بدر الدین نے خود کو ایف سی کالج میں چار درویشوں کی مجلس میں پایا تھا، انہوں نے حسن کو سفوف نشہ آمیز پلایا تھا۔ لیکن پھر چوتھے درویش نے اپنی کہانی سنائی اور حسن کے ہوش و حواس نے سکندری دکھائی۔ گزرا زمانہ یاد آیا، حسن بدر الدین بہت پچھتایا۔ سگریٹ پھینک دی اور زار زار رویا۔ بقیہ درویش، کہ اب نشے میں تھے، اس کے ساتھ مل کر روئے، آخر ایک درویش قلندر نے کہا۔ ’’وہ سب تو ٹھیک ہے، لیکن ذرا اس سگریٹ کے پیسے دیتے جاؤ۔‘‘
    حسن نے آنسو پونچھے اور کہا۔ ’’دولت پیسہ سب غرقاب ہوا، میں خانہ خراب ہوا۔ اب درہم و دینار کیا اور روپیہ پیسہ کیا، میرے پا س پھوٹی کوڑی نہیں ۔ مفلس و بے زرہوں، یہاں ہوں پر دربدر ہوں۔‘‘
    اس پر درویش نے تیوری چڑھائی، چشم خشم دکھائی اور بولا۔ ’’پیسے نہیں تھے تو پہلے کہنا تھا، سگریٹ پینے کیوں بیٹھ گیا؟ خیر ہم یاروں کے یار ہیں۔ ادھار کرسکتے ہیں۔ کل پانچ سو روپے لادینا۔ اور ہاں، آئندہ پیسے نہ ہوئے تو مال نہیں ملے گا۔‘‘
    حسن ناراض ہوا اور بولا۔ ’’بے وقوف کسی اور کو بنانا۔ کیا سونا پیس کر دیا تھا اس نلکی میں؟ اور سونا بھی دیا تھا تو کیا؟ ایک روپیہ تولہ سونا تو میں اپنے ہاتھوں سے خریدتاآیا ہوں۔ اب زیادہ سے زیادہ پانچ روپیہ تولہ ہو گیا ہوگا۔ تم پانچ سو روپے کس چیز کے لیتے ہو؟ اگر دوستی روپے پیسے پر ہی ہے تو ایسی دوستی کو دور سے سلام ہے۔ یہ محبت برائے نام ہے۔‘‘
    چوتھے درویش نے خوش ہوکر باقی درویشوں سے پوچھا۔ ’’آج کیا پلایا ہے اس کو؟ بالکل ٹن ہوگیا ہے۔ مجھے بھی دو، میں بھی ٹرائی کروں۔‘‘
    نعیم نے فکر مند ہوکر کہا۔ ’’آج صبح سے ہی ایسی باتیں کررہا ہے۔ لگتا ہے گھر سے ہی کوئی سستا نشہ کرکے آیا تھا۔‘‘ پھر حسن سے بولا۔ ’’دیکھ بھائی، مفت خوری کا کوئی سین نہیں ہے یہاں۔ پیسے لے کے آیا کر، خود بھی پیا کر، ہمیں بھی پلایا کر۔‘‘
    ان کی یہ گفتگو سنی تو ان کی صحبت سے حسن کی طبیعت نفور ہوئی، پچھلی پاس داشت ومحبت سب کافور ہوئی۔ اچھل کرکھڑا ہوا اور ناراض ہوکر بولا۔ ’’بس میں سمجھا، تم سب مطلب کے یارہو، بے حد شریر قلندرانِ چہار ہو۔ ایسی دوستی سے خدا بچائے۔ اب بندہ روانہ ہوتا ہے، دیوانگی سے ہاتھ چھڑا، فرزانہ ہوتا ہے۔‘‘
    یہ کہہ کرپاؤں پٹختا وہاں سے چلا۔ نعیم اٹھ کر اس کے پیچھے دوڑا اور اس کا بازو پکڑ کر بولا۔
    ’’ٹھہر، میں چھوڑ آتا ہوں۔ پچھلی دفعہ بھی چار سگریٹیں پی کر گیا تھا اور ایکسیڈنٹ کرا بیٹھا تھا۔ موٹر سائیکل ٹوٹل ہوگئی تھی۔ اب ویگن میں جائے گا تو اس حال میں کسی بس کے نیچے آجائے گا۔‘‘
    حسن نے بازو چھڑانے کی کوشش کی مگر اس نے زور سے پکڑ لیا اور گھسیٹ کر لے گیا۔
    تھوڑی دیر بعد حسن بدر الدین نعیم کے ساتھ ایک لوہے کے ویسے ہی گھوڑے پر سوار سڑک پر رواں دواں تھا جیسا گھر میں ماموں نے چلایا تھا۔ ویسے ہی بے شمار گھوڑے اور چرخے اور بغیر گھوڑے کی گاڑیاں سڑک پر چلتی تھیں۔ ان کے شور سے کان پر پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ دھوئیں اور گرد و غبار کا عجب حال تھا، سانس لینا محال تھا ۔ مصیبت میں گرفتار تھا، زندگی کشتی تھی اور یہ منجدھار تھا۔
    خدا خدا کرکے راستہ کٹا اور نعیم حسن بدر الدین کو ماڈل ٹاؤن کے اس مکان کے پھاٹک پر اتار کر پھٹ پھٹ کرتا چلا گیا۔ حسن اندر آیا تو نانی کو گھر کے بڑے کمرے میں بیٹھا پایا۔ اکیلی بیٹھی مٹر چھیلتی تھی۔ حسن پاس جا بیٹھا اور ادب سے سلا م کیا۔ نانی نے واری صدقے ہوکر جواب دیا۔ پھر کہنے لگی۔ ’’آج جلدی آگیا میرے چاند۔ آج پڑھائی نہیں کرنی تھی دوستوں کے ساتھ؟‘‘ پھر جواب کا انتظارکئے بغیر بولی ۔ ’’سارا دن تیری فکر رہی۔ وہ کمبخت بنّا، ہاتھ ٹوٹیں اس کے، اس زور سے مارا تھا میرے لعل کو کہ مجھے لگا چوٹ تجھے نہیں مجھے لگی ہے۔‘‘
    اس شفقت و محبت سے حسن کا دل بھر آیا۔ بے اختیار ہوکر اس نے نانی کی گود میں سررکھ دیا۔ نانی پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی۔ بلائیں لینے لگی۔
    حسن نے پوچھا۔ ’’یہ بنّے بھائی کون ہیں؟‘‘

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۵

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۵

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۵

     

    چھٹی رات قصہ چہار درویش: عروسِ پری چہرہ و پری رُو، نسرینِ تن و قوسِ اَبرُو ملکہء شہرزاد یوں داستاں سرا ہوئی کہ اے سلطانِ جم مرتبہ، قدرِ قدرت، سنجر منزلت، کہانی حسن بدرالدین کی نے یہ موڑ لیا تھا کہ شہرِ مینو سواد لاہور کے ایک مقام بنامِ ایف سی کالج میں حسن بدر الدین کو قسمت نے پہنچایا تھا اور وہاں اس نے ایک سنسنان باغ بنامِ بوٹینکل گارڈن میں خود کو چار قلندر درویشوں کی مجلس میں پایا تھا۔ وہاں انہوں نے کسی سفوف کی بھری نلکی سلگا کر حسن کے منہ سے لگائی تھی، آتشِ شوق بھڑکائی تھی۔ اس کے کش لگانے سے ایسا سرور ہوا کہ رنج و غم دور ہوا۔ حسن نے سوچا خدائی نعمت ملی، دن کیا ہے، روزِ عید ہے۔ یہ جگہ خانہء امید ہے۔ اس راح روح ، کیمیا ئے فتوح کی دو تین مزید نلکیاں مل جائیں تو دنیا باغِ ارم بن جائے گی۔ ان چار درویشوں کی محبت نے اس کے دل میں جگہ پائی اور حسن بدر الدین کی خوب بن آئی۔پوچھا ’’تم کون ہو اور کہاں سے آتے ہو؟ یہاں کیونکر آنا ہوا اور کہاں جاتے ہو؟ مجھ سے اپنا سب حال بیان کرو اورکُل راز عیاں کرو، کہ تم مجھے دل و جان سے زیادہ عزیز ہو۔ اتنی ہی دیر میں معلوم ہوگیا کہ خوش سلیقہ و باتمیز ہو۔‘‘ یہ محبت بھری تقریر سن کر پہلے درویش نے جو حسن کے دائیں ہاتھ بیٹھا تھا اور جس کی چگی داڑھی کے بال سوئیوں کی طرح کھڑے تھے، ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بولا:’’ہم میں سے ہر ایک کی ایک ایک کہانی ہے ۔ایسی عجیب و غریب کہ پہلے کبھی دیکھی نہ سنی۔ تمہارا اصرار ہے تو سناتے ہیں۔ وقت اچھا کٹ جائے گا۔ ویسے بھی میرے موبائل کی بیٹری لو ہے۔ اب کرنے کو کچھ نہیں۔ تو لو سنو میری کہانی۔‘‘

    درد بھری کہانی، پہلے درویش کی زبانی:

    پہلے درویش نے اپنی داستان یوں سنائی کہ میں ایک کلرک کا بیٹا ہوں۔ اللہ کی طرف سے آئے تو بندہ جھیل جائے، جو انسان خود اپنے اوپر مصیبت ڈالے تو ا س کا کیا علاج؟ اللہ کی طر ف سے سات پشتوں نے غربت کے علاوہ کسی چیز کا منہ نہ دیکھا تھا لیکن قسمت نے موقع دیا اور میرے ابو سرکاری محکمے میں کلرک لگ گئے۔ لیکن ابو کو ایمانداری کی لاعلاج بیماری لگ گئی۔ جس گھر میں ہن برسن سکتا تھا، وہاں برسات کے موسم میں چھت ٹپکنے کے علاوہ کچھ نہ برسا۔ سونے پر سہاگہ، میرے ماں باپ نے مجھے انجینئر بنانے کا خواب دیکھنا شروع کردیا۔ میں اور میری بہن دو ہی اولادیں تھیں لہٰذا سب ارمانوں کا نشانہ میں ہی بنا۔ بہن کو سرکاری سکول میں ڈالا گیا اور مجھے انگریزی سکول میں۔ میرے خرچے پورے کرنے کے لئے میری ماں نے لوگوں کے گھروں میں کام کرنا شروع کردیا۔ اٹھتے بیٹھتے مجھے یہ سننے کو ملتا تھا کہ یہ ساری محنت و مشقت ا س لیے کی جارہی ہے تاکہ میں انجینئر بنوں اور نہ صر ف خاندان کا نام روشن ہو بلکہ سارے دکھ دلدردور ہوں اور بہن کی اچھی سی جگہ شادی ہوسکے۔ اور میں ؟ اب آپ سے کیا چھپانا یارو، مجھے انجینئرنگ میں خاک دلچسپی نہیں۔ انٹرسٹ ہے تو صرف ایک چیز میں: کھانااور صرف کھانا۔۔۔پکانا، پیش کرنا، سجانا، کھانا۔۔۔ مجھے کھانے سے متعلق ہر چیز سے عشق ہے۔ اپنے باپ سے چھپ کر تین محلے چھوڑ کر ایک تندو پر نوکری کرلی۔ گرمیوں کی چھٹیاں تھیں، میں مزے سے تندور جاتا ، روٹیاں لگاتا اور وہاں کھانا پکتے دیکھتاا ور سیکھتا۔ ایک دن میرے باپ نے مجھے دیکھ لیا۔ اس دن میرا باپ بہت رویا۔ ماں بھی روئی، بہن بھی روئی۔ صرف میں نہیں رویا۔ میں نے ماں باپ سے صاف کہہ دیا کہ مجھے کمپیوٹروں سے نفرت ہے اور کھانے سے عشق۔ میں کمپیوٹر انجینئر نہیں شیف بننا چاہتا ہوں۔ صدمے سے میرے باپ کو ہارٹ اٹیک ہوگیا ۔ وہ دن اور آج کا دن میں ان کے سامنے کھانا پکانے کا نام نہیں لیتا۔ ویسے یوٹیوب پر میں نے بہت سے کوکنگ چینل سبسکرائب کررکھے ہیں۔لیکن انہیں دیکھ دیکھ کربس آہیں بھرتا ہوں اور کڑھتا ہوں۔ زبردستی کی انجینئرنگ گلے پڑی ہے ، نہ رکھی جاتی ہے نہ چھوڑی جاتی ہے۔ مزے کی با ت یہ کہ میری بہن کمپیوٹروں کی دیوانی ہے لیکن اس کو زبردستی کھانے پکانے پر لگایا جاتا ہے کہ آگے کام آئے گا۔ وہ میری سب کتابیں پڑھتی ہے ، میری اسائنمنٹس وہی بناکر دیتی ہے۔ اسی کی وجہ سے میں اب تک پاس ہوتا آیا ہوں۔ لیکن میرا دل مر گیا ہے۔ جب یہ سوچتا ہوں کہ ساری زندگی کمپیوٹر کے آگے بیٹھ کر گزارنی پڑے گی تو خودکشی کرنے کو دل چاہتا ہے۔ پھر اپنے بوڑھے باپ اور بیمار ماں کا خیال آتا ہے تو رک جاتا ہوں۔ بس دوستو! اس غم کو بھلانے کے لئے ڈرگزلیتا ہوں۔ پھر یہ غم ستاتا ہے کہ ان ڈرگز کا خرچہ میری ماں اپنی ہڈیاں توڑ کر دے رہی ہے تو خود سے نفرت ہونے لگتی ہے۔ اس دکھ کو بھلانے کے لئے مزید ڈرگز لیتا ہوں۔ اور یوں یہ شیطانی چکر چلتا رہتا ہے جس میں میں پھنس گیا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ مردِ درویش رونے لگا، طنابِ ضبط کھونے لگا۔ بصد دقت آنسو پونچھے، اپنی نلکی کا آخری کش لگایا اور کہا۔ ’’یار ایک سگریٹ اور دینا۔‘‘پھر دوسرے درویش کی طرف اشارہ کرکے کہا۔ ’’اب تم اپنی داستان سناؤ۔‘‘

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۴

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۴

    الف لیلہ دو ہزار اٹھارہ داستان ‘‘ 

    چوتھی رات

    دیکھنا حسن بدر الدین کا جادو کے کرشمے اور ملنا صغیر و کبیر سے: 

    چوتھی رات ہوئی تو بادشاہ شہرزاد کے پاس آیا اور حکم دیا کہ کل کی کہانی کا بقیہ حصہ ہم کو سناؤ اور دو گھڑی ہمارا دل بہلاؤ۔ وہ رشکِ پری بہ صد نازِ دلبری بولی کہ بادشاہ کی خوشی ہرطرح منظور ہے۔ ہم اس میں راضی ہیں جو مرضیءحضور ہے۔ خدا جہاں پناہ کو خضروالیاس کی عمر عطا فرمائے اور دشمنوں کی ایک تدبیر نہ چلنے پائے۔
    نہ کیوں ہو تیرے دستور العمل سے شادماں عالم
    کرم کرنا تیری عادت، جفا سے تجھ کو بیزاری
    مقابل میں ترے خواہانِ زینت ہواگر دشمن
    کرے زخموں سے تیری تیغ اس کے تن پہ گلکاری
    اس تقریرِ خوشامدانہ کے بعد شہرزاد یوں گلفشاں ہوئی، زمزہ سنج بیاں ہوئی کہ جب وہ مردِ مسلمان، خوش آواز و خوش الحان حسن بدر الدین کے گلے لگ کے زارزار رونے لگا، اشکوں سے منہ دھونے لگا تو حسن کا دل جو پہلے ہی رنج والم سے معمور تھا، مزید بھر آیا اور وہ بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ بہت دیر تک دونوں روتے رہے۔ جب گریہ وزاری اور آہ و بے قراری سے دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہوا تو حسن نے پوچھا۔ ’’آپ کون ہیں اور زار زار کیوں روتے ہیں؟ کیا میری طرح آپ کے بھی نصیب سوتے ہیں؟‘‘
    یہ سن کر اس مردِ خوش گلو نے سرد آہ بھری اور کہا ۔’’کیا پوچھتے ہو بیٹا۔ یہ تو وہ سوال ہے جو میں آج تک خود سے پوچھتا آیا ہوں۔ میں کون ہوں، کہاں ہوں ، جہاں ہوں وہاں کیوں ہوں۔ بلھیا کی جاناں میں کون؟‘‘
    یہ تقریرِ دلپذیر سن کر حسن مزید چکرایا، کچھ سمجھ نہ پایا۔ اس مردِ مسلمان نے جو حسن کے چہرے پر ایک رنگ آتے ایک جاتے دیکھا تو ہمدردی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پوچھا۔ ’’خیر، مجھے چھوڑو اپنی سناؤ ۔ سب خیر تو ہے۔ اتنی رات گئے کیوں جاگتے ہو؟ کیا آج پھر ممانی نے کچھ کہہ دیا؟‘‘
    حسن نے بصدِ عاجزی اپنا حال عرض کیا اور کہا۔ ’’ایک زنِ مکارہ کہ ساحرہ بدانجام تھی، نے میرے باپ کو بزورِ جادو بکرابنایا، ملکِ عدم کو پہنچایا۔ مجھے زمانے کی گردش میں پھینکا اور میں یہاں آن پہنچا۔ اب کیونکر یہاں سے جاؤں کہ بستہ ء تقدیر ہوں۔ سلسلہ ء قضا میں اسیر ہوں۔ یہ بڑی طویل کہانی ہے، خلاصہ یہ کہ موت کی مہمانی ہے۔‘‘
    وہ مردِ بزرگ غور سے حسن کی داستان سنتا تھا، بولا ’’اچھا اچھا، کالج میں ڈرامہ کررہے ہو؟ خوب، بہت خوب ۔ اچھے ڈائیلاگ ہیں۔ کس کی تحریر ہے؟ آغا حشر؟ چلو اسی بہانے کچھ کتابیں ادب کی پڑھوگے۔ ذہن وسیع ہوگا۔ آج کل کتابوں کو کون پوچھتا ہے۔ دن بھر دکان پر بیٹھا مکھیاں مارتا ہوں اور کتابوں سے گرد جھاڑتا ہوں۔ افسوس کیسے کیسے گوہرِ نایاب گاہکوں کے انتظار میں بوسیدہ ہورہے ہیں۔‘‘
    یہ کہہ کر وہ مردِ پیر آبدیدہ ہوا، اپنی خوش کلامی سے حسن کا پسندیدہ ہوا۔ حسن بدر الدین کہ سودا گر بچہ تھا، دکان کا نا م سن کر کان کھڑے ہوئے، پوچھا۔ ’’کتابوں کی دکان ہے آپ کی؟‘‘
    وہ بولا۔ ’’لیجیے سنیے اب افسانہء فرصت مجھ سے۔
    آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا
    ٹھیک کہتے ہو۔ کتابیں نہیں کہنا چاہیے۔ زروجواہرہیں، لعل و گوہر ہیں، بزرگوں کے نسخے ہیں۔ لیکن کوئی ان کا قدر دان نہیں۔ بِکری نہ ہونے کے برابر ہے۔ اوپر سے مہنگائی ہے کہ بڑھتی جاتی ہے۔ بجلی کا بل اس مہینے اتنا آیا ہے کہ سوچتا ہوں بجلی کٹوادوں۔ آج سارا دن واپڈا کے دفتر کے چکر لگاتا رہا ہوں۔ رشوت مانگتے۔۔۔‘‘ ابھی یہ تقریر جاری تھی کہ یکایک کمرہ روشنیوں سے جگمگا اٹھا ۔ وہ مردِ خوش آوا ز بولا۔ ’’لو آ گئی محترمہ لائٹ۔ لو بیٹا اب اپنے ماموں کو اجازت دو۔ تم بھی جاکر سوجاؤ، صبح کالج جانا ہوگا۔ ‘‘