Tag: انہیں ہم یاد کرتے ہیں

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۱۲

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۲

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۲
    (
    سارہ قیوم)

     

    تیرہویں شب کا قصہ:

    تیرہویں شب کو شاہِ باذل نے محل سرا میں قدم رنجہ فرمایا تو شہرزاد کو بلوایا اور فرمائش کی کہ اپنی قصہ گوئی کا کمال دکھاؤ اور عاصم کے آئیلو یولو کے بعد حسن سوداگر بچے کے حال بتاؤ۔ عاصم اور اس کے آئیلویولو کا ذکر سن کر شہرزاد نے پہلے تو تھو تھو کیا، پھر یوں آغازِ گفتگو کیا کہ اے سلطانِ فریدوں بزم جب ماڈل ٹاؤن لاہور کے مکان نمبر چار سو بیس۔ ڈی میں صبح کا سورج طلوع ہوا تو اس نے حسن بدر الدین کو صحن میں مغموم بیٹھا پایا۔ ہر دم یاد اپنی مصیبت کا قصۂ جگر خراش تھا، دل پاش پاش تھا۔ اپنے حال پر غور و فکر میں مصروف تھا کہ زلیخا ایک قاب لیے اندر سے نکلی اور اس کے پاس آکر ٹھہر گئی۔ ایک پیالی قاب سے اٹھائی اور حسن کو دے کر کہا۔
    ‘‘
    لو چائے پیو۔’’
    حسن نے چونک کر نگاہ اٹھائی۔ پیالی چائے سے بھری ہوئی پائی۔ ٹھنڈا سانس بھر کر پیالی تھام لی اور اسے ہاتھ میں لے کر ازسرِنو مصروفِ سوچ بچا ہوا ، ملال و فکر کا گرفتار ہوا۔
    زلیخا چند لمحے کھڑی اسے دیکھتی رہی پھر اس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔ بیٹھتے بیٹھتے منہ سے ایک کراہ نکلی اور پیٹ پر ہاتھ رکھ کر دوہری ہوگئی۔ حسن نے گھبرا کر نگاہ اٹھائی تو دیکھاکہ زلیخا کا رنگ زرد ہے، پیٹ میں درد ہے۔ اسے کل رات کا حال یاد آیا جب دیوار پر لٹکے اس نے لات چلائی تھی جو زلیخا کے پیٹ میں لگی تھی۔ اپنی حرکتِ ناپسند یدہ یاد آئی، حسن کی آنکھ بھر آئی۔حال زار ہوگیا، دل بے قرار ہوگیا۔ بصد درد مندی و ہمدردی زلیخا سے کہا:
    ‘‘
    اے خاتونِ مہربان، خوش وضع و خوش بیان، یہ تیرا کیا حال ہے؟ مجھے اس حادثے کا سخت ملال ہے۔ گو کہ تجھے دکھ دینے کا کوئی ارادہ دل میں نہ تھا۔ پھر بھی اس حادثے کا میں قصور وار ہوں۔ معافی کا خواستگار ہوں۔’’
    زلیخا نے نظر اٹھائی تو دیکھا کہ حسن کے چہرے سے ملال کی کیفیت عیاں ہے۔ بشرے سے درد و غم کی حالت نمایاں ہے۔ اداس مسکراہٹ کے ساتھ بولی:
    ‘‘
    چھوڑو، جانے دو۔ میں جانتی ہوں تم جانتے بوجھتے کسی کو تکلیف نہیں پہنچاسکتے۔’’
    یہ کہہ کر چائے کا گھونٹ بھرا اور غور سے حسن کو دیکھتے ہوئے کسی قدر تجسس سے بولی:
    ‘‘
    لیکن یہ تو بتاؤ، تم رات کو کر کیا رہے تھے؟’’
    حسن نے ایک آہِ سرد بھری، بہ دلِ پُردرد بھری اور کہا:
    ‘‘
    گھر سے بھاگ رہا تھا۔’’
    زلیخا بےساختہ ہنس پڑی۔ بولی:
    ‘‘
    وہ تو خیر میں سمجھ ہی گئی تھی، لیکن کہاں بھاگ رہے تھے؟ اور زیادہ اہم سوال یہ کہ کیوں بھاگ رہے تھے؟ ایسا بھی کیا فیل ہونے کا غم کہ انسان گھر سے ہی بھاگ جائے؟’’
    حسن نے آبدیدہ ہوکر کہا:
    ‘‘
    میرا حال نہ پوچھو زلیخا کہ ستم رسیدہ ہوں، غم و الم رسیدہ ہوں۔ میری کہانی اور پھر وہ بھی میری ہی زبانی، مجھے آٹھ آٹھ آنسو رلائے گی اور طبیعت اس داستانِ غم کے بیان سے پریشان ہو جائے گی۔’’
    زلیخا نے ہمدردی سے حسن کو دیکھا۔ پھر بولی:
    ‘‘
    اچھا! بس اتنا ایموشنل ہونے کی ضرورت نہیں۔ چائے پیو اور مجھے بتاؤ کہ بھاگ کیوں رہے تھے؟’’
    بموجب ِہدایت حسن نے چائے کا گھونٹ بھرا اور زلیخا کو ایم آر آئی کی دہشت اور بنّے بھائی کی ہیبت کا تمام حال بلا کم و کاست کہہ سنایا۔
    زلیخا سوچتے ہوئے بولی:
    ‘‘
    ایم آر آئی سے ڈر گئے تم؟ چلو خیر یہ تو سمجھ میں آتا ہے۔ بہت سے لوگ جنہیں کلاسٹرو فوبیا ہوتا ہے، ایم آر آئی سے ڈرتے ہیں۔ تم بھی شاید اس لیے نہیں کرانا چاہتے ۔ لیکن یہ تو بتاؤ آخر تم بنّے بھائی سے اتنا ڈرتے کیوں ہو؟ وہ ذرا تمہیں ڈانٹتے ہیں اورتم ڈر کے مارے کانپنے لگ جاتے ہو ۔ اسی لیے وہ تمہیں اور بھی زیادہ bully کرتے ہیں۔’’
    ‘‘
    حسن نے رندھی ہوئی آواز میں کہا:
    ‘‘
    اگر گوشِ ہوش سے سنو تو عرضِ حال کروں، اظہارِ بالا جمال کروں کہ مجھ بدبخت کو ماں باپ نے ہتھیلی کا چھالا بنا کر پالا تھا۔ ماں صدقے واری جاتی تھی۔ باپ پیروں تلے ہاتھ دھرتا تھا۔ میرے باپ نے کبھی ڈانٹنا تو درکنار، کبھی مجھے سخت نظر سے بھی نہ دیکھا تھا۔ جس نے کبھی کسی کی اونچی آواز نہ سنی ہو، وہ بنّے بھائی سے ڈرے گا نہیں تو اور کیا کرے گا؟’’
    حسن کی یہ بات سن کر زلیخا حیران ہوئی اور بے یقینی سے پوچھا:
    ‘‘
    تم بدر پھوپھا کی بات کررہے ہو؟’’
    حسن نے اثبات میں سر ہلا کر کہا:‘‘ہاں!’’
    زلیخا نے ترس کھانے والے انداز میں کہا:
    ‘‘
    تم آٹھ مہینے کے تھے جب بدر پھوپھا کا انتقال ہوا تھا۔ بھلا آٹھ مہینے کے بچے کو کوئی کیا ڈانٹتا؟’’
    لیکن حسن کچھ نہ سن رہا تھا۔ باپ کے ذکر نے اس کے دل میں آگ لگا دی تھی۔ وہ بظاہر وہاں موجود تھا مگر اس کا دل و دماغ اپنے زمانے و وقت میں پہنچ چکا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا:
    ‘‘
    افسوس میں نے تمام زندگی اپنے ماں باپ کو کوئی خوشی نہ دی، کچھ خدمت نہ کی۔ ایک ساحرہ کے ظلم سے والدِ ماجد کا ارتحال ہوا، مجھے صدمہ و قلق کمال ہوا۔ دو سال کے اندر اندر میں نے دولت یوں اڑائی کہ دیوالہ نکل گیا۔ میری ماں یہ غم نہ سہار سکی۔ والدِ ماجد کے دو سال بعد وہ بھی تیرِ مرگ کا نشانہ ہوئی۔ باغ ِارم کی سیر کو روانہ ہوئی۔ وا دردا، واحسرتا، ہائے ہائے۔’’
    زلیخا نے حیران پریشان ہوکر پوچھا:
    ‘‘
    کون سے باغ کی سیر کو روانہ ہوئیں؟’’
    حسن خیالوں سے باہر آیا، بولا:
    ‘‘
    باغ ِارم۔’’
    زلیخا پریشان ہوکر سوچ میں پڑ گئی۔ پھر بولی:
    ‘‘
    اس نام کا تو کوئی باغ لاہور میں نہیں۔’’
    حسن نے کہا:
    ‘‘
    لاہور کا نہیں، یہ جنت کا باغ ہے۔’’
    زلیخا ہکا بکا ہوکر بے ساختہ بولی:
    ‘‘
    ہیں؟ تو سیدھے سیدھے کیوں نہیں کہتے کہ ڈیتھ ہوگئی؟ اینی وے، پھوپھو کا انتقال تو پھوپھا کے مرنے کے سولہ سال بعد ہوا تھا، جب تم میٹرک میں تھے ۔ مجھے لگتا ہے تمہاری لانگ ٹرم میموری پہ اثر پڑا ہے۔ شاید فیل ہونے کی بھی یہی وجہ ہو۔’’
    یہ باتیں ہورہی تھیں کہ پھاٹک کھلا اور کنیز اندر آئی۔ حسن اور زلیخا کو وہاں بیٹھے دیکھا تو خوش ہوکر بولی:
    ‘‘
    واہ جی واہ، بڑی خوشبوئیں آرہی ہیں چائے کی۔ زلیخا باجی اور چائے ہے؟ میں پی لوں؟’’
    زلیخا بے ساختہ مسکرائی اور مسکراہٹ دبا کر ہلکی سی ڈانٹ یوں بتائی۔
    ‘‘
    ہر وقت کھانے پینے کی فکر میں نہ رہا کرو۔ ابھی کام شروع کرو۔ جب دادی جان کے لیے بناؤں گی، اس وقت پی لینا ۔’’
    کنیز نے منہ بنایا اور زلیخا کی پیالی کی طرف اشارہ کرکے بولی:
    ‘‘
    تو پھر یہی دے دیں اگر بچی ہے تو، سردی ہوگئی ہے، دو گھونٹ پی لوں گی تو ذرا طاقت آجائے گی۔’’
    زلیخا نے اپنی پیالی اسے تھما دی اور وہ وہیں کھڑے کھڑے سڑکے مار کر چائے پینے لگی۔ حسن نے اس سے پوچھا:
    ‘‘
    اے کنیزِ سراپا تمیز، ہر دل عزیز ، کیا تو نے میرا پیغام میری معشوقہ رنگیں ادا، دلربا کو دے دیا تھا؟’’
    کنیز نے چائے کا بڑا سا گھونٹ بھرا اور بولی:
    ‘‘
    ہاں دے دیا تھا۔’’
    حسن نے اشتیاق سے کہا:
    ‘‘
    پھر اس نے کیا کہا؟ بہت روئی ہوگی؟ رو رو کر جان کھوئی ہوگی؟ــــ’’
    کنیز بے ساختہ ہنسی اور بولی:
    ‘‘
    نہیں، سفید جوڑا ڈھونڈ رہی تھیں۔ آپ کے قلوں پر پہننے کے لیے۔’’
    یہ سن کر حسن از حد ملول و مغموم ہوا۔ زلیخا نے اس کے رنج کا یہ عالم دیکھا تو کنیز کو ڈانٹ کر بھگایا اور حسن سے کہا:
    ‘‘
    اس کی باتوں میں نہ آیا کرو، بڑی فتنہ لڑکی ہے۔’’ یہ کہہ کر اس کے ہاتھ سے پیالی پکڑی اور کہا:
    آؤ ،اندر آ کے ناشتہ کرو۔’’
    یہ کہہ کر زلیخا کرسی سے اٹھی۔ اٹھتے اٹھتے منہ سے کراہ نکل گئی۔ بے اختیار ہوکر پہلو تھام لیا۔ حسن پریشان ہوا، سخت پشیمان ہوا۔ گھبرا کر بولا:
    کیا زیادہ تکلیف ہے؟’’
    زلیخا نے پہلو پکڑے پکڑے کہا۔
    ‘‘
    ہاں! لگتا ہے ڈاکٹر کو دکھانا پڑے گا۔ کچھ عرصے سے ویسے ہی پیٹ میں درد تھا، اب چوٹ بھی لگ گئی۔ کہیں اپینڈکس ہی نہ ہو، چیک کراناچاہیے۔’’ یہ کہہ کر زلیخا اندر چلی گئی۔

    ٭……٭……٭

  • عبادالرحمن

    عبادالرحمن

    عبادالرحمن 

    حریم الیاس

    (پہلا حصہ)

    پیش لفظ

    یہ کہانی ایک روشنی نامی لڑکی کے گرد گھوم رہی ہے جو والدہ کے انتقال کے بعد اپنے والد کے ساتھ اسلام آباد کے ایک چھوٹے سے علاقے میں رہتی اور اپنے ایک کالج فیلو اظفر کو پسند کرتی ہے۔ کہانی آگے اس وقت بڑھتی ہے جب روشنی ایک درس میںسورة الفرقانکے آخری رکوع کے حوالے سے بیان سنتی ہے جس میںعباد الرحمنیعنی رحمن کے بندوں کی خصوصیات بیان کی جاتی ہیں اور وہ لاشعوری طور پر ان خصوصیات پر اظفر کو تصور کرنے لگتی ہے کہ جیسے وہ ان تمام خصوصیات کا حامل ہے۔

    بعدازاں جب اس کے والد روشنی کی بے حد ضد پر اس کی شادی اظفر سے کر دیتے ہیں تو وہ جو کہعبادالرحمنکا خاکہ ذہن میں لیے اظفر کی ساتھ زندگی گزار رہی ہوتی ہے، ناامید ہو جاتی ہے ۔ جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ اظفر ویسا نہیں جیسا اس نے تصور کیا تھا۔ آہستہ آہستہ یہ پسند کی شادی گھریلو حالت اور معاشی بدحالی کی وجہ سے زوال کا شکار ہوجاتی ہے۔ اسی دوران روشنی ایک بیٹی کی ماں بھی بن جاتی ہے اور اظفر کے اچھا بن جانے کی امید لیے اس شادی کو قائم رکھتی ہے، لیکن یہ شادی اس وقت ناکام ہوتی ہے جب اظفر گھریلو جھگڑے کے دوران غصے میں آکر روشنی پر تیزاب پھینک دیتا ہے اور وہ اس دنیا میں اپنی بیٹی اور تیزاب کے بعد آنے والے تکلیف دہ مراحل کا سامنا کرنے لیے اکیلی رہ جاتی ہے۔ روشنی اپنی بیٹی کی ساتھ تنہا سماج کی سوالیہ نگاہوں کا سامنا کرتی ہے۔

    جب وہ اس بات پر یقین کر لیتی ہے کے اس دنیا میں کوئی عبادالرحمن کے خانے میں فٹ نہیں آتا تب صحیح معنوں میں عبدالہادی اور اس کے والدین جیسے اچھے لوگ اس کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ عبدالہادی نا صرف روشنی سے شادی کرتا ہے بلکہ اس کی بیٹی کو اچھا مستقبل بھی فراہم کرتا ہے۔ روشنی جو کہ ایک عرصے سے حالات اور معاشرے کی بدسلوکی کا شکار ہوتی ہے، تلخ بن جانے کے بہ جائے مثبت رہتی ہے اور اپنی بیٹی کی پرورش بھی مثبت انداز میں کرنے کے ساتھ ہمیشہ اس جملے کے ساتھ کرتی ہے کہ اسے دوسروں کے کام آنا ہے ہمیشہ اچھا بن کر رہنا ہے۔

    وہ اجالا کو سرجن بناتی ہے تاکہ وہ زندگی سے مایوس جلے ہوئے لوگوں کا علاج کرے اور انہیں وہ سہولیات دے جن سے اس وقت روشنی محروم رہی تھی۔ لیکن یہ کہانی اس وقت نیا موڑ لیتی ہے جب اجالا کے پاس اس کی (بہن (اظفر کی دوسری بیوی کی بیٹی ایسڈ اٹیک کا شکار ہو کر آتی ہے۔ یہ اجالا کی زندگی کا سب سے بدترین ایسڈ اٹیک کیس ہوتا ہے۔ اس لیے وہ اس لڑکی سے بہت قریب ہوجاتی ہے اور حقیقت سے بے خبر اس کا دل جمعی سے علاج کرتی ہے یہاں تک کہ اس لڑکی کے باپ یعنی اپنے سگے باپ کو اصرار بھی کرتی ہے کہ وہ اس کے مجرم کی خلاف کیس لڑے اور وہ اس لڑائی میں اس کے ساتھ ہے۔ اس دوران اس پر حقیقت آشکار ہوجاتی ہے، لیکن وہ اپنے باپ اور اپنی بہن سے اپنی ماں کا بدلہ لینے کے بہ جائے اُن کا ساتھ دیتی ہے اور روشنی کی اچھی پرورش کا مان رکھتے ہوئے عبادالرحمن کے خاکے پر پورا اترتی ہے۔

    ٭….٭….٭

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۱۱

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۱

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۱

    سارہ قیوم

    بارہویں شب کا قصہ:

    داستانِ عبرت تو امان یعنی ہسپتال کا بیان:

    جب لیلائے شب زلفِ عنبر بارو مشک بو ُ کھولے ہوئے آئی، تو شہرزادِ شیریں زبان و سحر بیاں نے بعد شانِ نازنینی یوں کہانی سنائی کہ جب اس محرمِ راز و یارِ دم ساز نعیم نے رزلٹ آنے کی خبر سنائی تو اس صدمہء دلدوز سے نانی کا جگر پارہ ہوا، دل غم کا مارا ہوا ۔ایک چیخ مار کر بے ہوش ہو گئی، رنج و محن کے دوش بدوش ہو گئی۔
    زلیخا گھبرا کر نانی کے تلوے سہلانے لگی۔ حسن بھی گھبرا کر بھاگا اور نانی کے پاس بیٹھ کر ان کا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔ بے حد درمندی سے پکارا: ‘‘اے مادرِ مہربان! میرا دنیا میں بجز تیرے کوئی نہیں۔ تجھے یہ کیا ہو گیا؟ تیرے اس صدمۂ علالت و بیماری سے زندگی مجھے جنجال ہے۔ اب تیری طبع مبارک کا کیا حال ہے؟’’زلیخا نے جو یہ باتیں سنیں تو بددماغ ہو کر بولی: ‘‘کتنا کہتی تھی کہ کلاسز اٹینڈ کرو، آوارہ گردی بند کرو اور کچھ پڑھ لو بیٹھ کے۔ نہیں سنی نا میری بات؟ اب اگر ذرا کچھ غیرت ہے تو چلو بھر پانی میں ڈوب مرو۔’’
    حسن بے حد حیران ہوا، پریشان ہوا۔ گھبرا کر بولا: ‘‘وہ سب تو ٹھیک ہے مگر غلام اس قدر تو سن لے کہ خانہ زاد کا کیا قصور ہے اور اس قدر برہم کیوں مزاجِ حضور ہے؟ یوں تو غلام ہر دم گنہگار ہے مگر معلوم تو ہو کہ اب کس جرم میں سزاوار ہے؟’’
    یہ سن کر زلیخا کو اور غصہ آیا، ڈپٹ کر بولی: ‘‘بند کرو یہ ایکٹنگ۔ کچھ احساس ہے کتنی بڑی بات ہے امتحان میں ناکام ہونا؟ کنویں میں گئی انجینئرنگ۔ اب ساری زندگی سیلز مین بنے رہنا۔’’
    زلیخا تو یہ باتیں سناتی تھی اور ڈانٹتی تھی مگر حسن بدرالدین نے صرف ایک ہی جملہ سنا تھا۔جب اس نے یہ سنا کہ امتحان میں ناکام ہو گیا ہے تو اس کا رنگ فق ہو گیا، کلیجہ شق ہو گیا۔ دل کو اس زور کا دھچکا لگا کہ غش آگیا۔
    بیٹھا تو گرا، گرا تو بے ہوش۔
    ہوش آیا تو خود کو برآمدے میں نانی کے تخت پر لیٹا پایا۔ نانی کو ہوش آچکا تھا اور وہ حسن کے پاس بیٹھی زار زار روتی تھیں۔ پاس زلیخا پانی کا کٹورا ہاتھ میں لیے کھڑی تھی اور بے بسی سے کبھی حسن کو کبھی نانی کو دیکھتی تھی۔ نعیم کہیں غائب ہو چکا تھا۔
    حسن نے نانی کو آٹھ آٹھ آنسو روتے دیکھا تو حال زار ہوا، دل بے قرار ہوا۔ دل میں سوچا، یہ مجھ سے کیا حرکتِ ناپسندیدہ بیش آئی کہ امتحان میں فیل ہو گیا۔ کاش موت آتی، امتحان سے پہلے ہی جان نکل جاتی تو اس مصیبت سے چھوٹ جاتا، یہ خرابۂ دہشت خیز دیکھنے میں نہ آتا۔ میرے باپ نے مجھے اعلیٰ سے اعلیٰ مدرسوں میں پڑھایا، تجارت کا ہر گُر سکھایا اور آج میں نے باپ کے نام کو بٹہ لگایا۔
    باپ کی یاد آئی، حسن بدرالدین کی آنکھ بھرآئی۔ بے قرار ہو کر رونے لگا، اشکوں سے منہ دھونے لگا۔ نانی نے جو اس کو یوں روتے دیکھا تو تڑپ کر اس کا سر سینے سے لگا لیا اور روتے ہوئے بولی: ‘‘ماں صدقے، ماں قربان۔ نہ میرا بچہ، نہ رو۔ پاگل ہیں سارے پروفیسر جنہوں نے تجھے فیل کر دیا۔ میں تیرے کالج جاؤں گی، خود بات کروں گی پروفیسروں سے۔ بھلا ایسے کیسے فیل کر دیا انہوں نے تجھے؟ تو ُ فکر نہ کر، تیری نانی زندہ ہے ابھی۔’’
    نانی کی اس محبت کو دیکھ کر حسن کے دل میں اور بھی شرمندگی کا زور ہوا، مارے ندامت کے زندہ درگور ہوا۔ لڑکھڑاتا ہوا وہاں سے چلا اور اپنے کمرے میں آکر پڑ رہا۔
    شام تک ملال والم گراں بار ہوا، حسن مارے قلق کے بیمار ہوا۔ ہلہلا کر تاپ چڑھا اور حال ناگفتہ بہ ہو گیا۔ نانی پاس بیٹھی بلائیں لیتی تھی، دعائیں دیتی تھی۔ چپکے چپکے سسکیاں بھرتی تھی، آنسو پونچھتی تھی۔ اس خاتونِ بزرگ و مقدس میں حسن کو اپنی مادرِ مہربان نظر آتی تھی، اس کو یوں گلوگیر دیکھ کر رنج کے سبب سے حسن کی جان نکلی جاتی تھی۔ زلیخا بار بار آتی تھی، کبھی چائے تو کبھی دوا لاتی تھی۔ حسن کچھ نہ کھاتا تھا، بے ہوش ہوا جاتا تھا۔ صیدِمصیبت و ادبار تھا، اجل سے دوچار تھا۔
    صبح صبح چند آوازیں حسن کے کان میں پڑیں اور اسے ہوش آیا۔ آنکھیں کھولنے کا یارا نہ تھا، سو آنکھیں موندے چپکا پڑا رہا اور نانی اور زلیخا کی آوازیں سنتا رہا جو چپکے چپکے ہلکی آواز میں ایک دوسرے سے باتیں کر رہی تھیں۔
    حسن نے سنا ، زلیخا کہہ رہی تھی: ‘‘آپ کیوں اٹھ کر آگئیں دادی اماں؟ رات دو بجے تو سوئیں تھیں۔ اس طرح تو آپ بھی بیمار ہو جائیں گی۔ آپ آرام کریں، میں ہوں حسن کے پاس۔’’
    نانی نے گلوگیر آواز میں جواب دیا: ‘‘مجھ بوڑھی کا کیا آرام اور کیا بیماری۔ میری زندگی میرے بچے کو لگ جائے۔ دیکھو ایک رات میں کیا حال ہو گیا ہے بے چارے کا۔’’ اتنا کہہ کر نانی کی آواز بھر آئی اور وہ سسکیاں لے کر رونے لگی۔
    زلیخا نے ٹھنڈی سانس بھری اور بولی: ‘‘پتا نہیں کتنے سبجیکٹس میں فیل ہوا ہے، نعیم آئے تو اس سے پوچھوں۔ ویسے جس طرح اس نے خبر دی تھی، لگتا ہے تین سے زیادہ میں ہی فیل ہوا ہے۔’’
    نانی تڑپ کر بولیں: ‘‘اللہ نہ کرے۔ ہاتھ ٹوٹیں ان پروفیسروں کے جنہوں نے میرے حسن کو فیل کر دیا۔ اتنا محنتی لائق فائق بچہ ایسے کیسے فیل ہو سکتا ہے؟’’
    زلیخا کچھ گو مگو کے عالم میں دبی آواز میں بولی: ‘‘ہو بھی سکتا ہے۔’’
    نانی برا مان گئیں: ‘‘کیوں ہو سکتا ہے؟ دیکھتی نہیں تھی کتنا پڑھتا تھا؟’’

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۱۰

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۰

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۰

    (سارہ قیوم)

    گیارہویں رات

    حسن بدرالدین نے جو ارسلان نامی مہمان کو زلیخا کو تاکتے دیکھا تو چونکا، کان کھڑے ہوئے۔ دل میں سوچا یہ کیا ماجرائےعجیب ہے، داستانِ غریب ہے۔ کون ہے یہ شخص جو اس قدربدبخت، ناہنجار، بداعمال ،بدکردار اور بے ہودہ ہے کہ پرائی بہو بیٹیوں کو تاکتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کوئی ہردیگی چمچہ ہے۔ اس کی یہ حرکت شریف زادوں اور اہلِ آبرو کی وضع کے خلاف ہے۔ یہ آنکھ لڑانے کی کوشش کون سا انصاف ہے؟ ہر چند کہ حسن کی غیرت بے حد جوش میں آتی تھی، بہت طیش کھاتی تھی مگر ممانی کے سامنے کچھ بولنا محال تھا، وہ بزرگ اور حسن خورد سال تھا۔
    کچھ دیر تو حسن بیٹھا برداشت کرتا رہا لیکن جب ارسلان کی گستاخی و شیخی مزاجی عقلِ سلیم سے منزلوں دور ہوئی تو حسن کی طبیعت بالکل نفور ہوئی اور وہ اٹھ کر باورچی خانے میں جا کھڑا ہوا اور ٹھنڈا پانی پی کر دماغ ٹھنڈا کرنے لگا۔ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ زلیخا بھی چائے کے برتن اٹھائے آ پہنچی۔
    ’’تم کیوں اٹھ کر آگئے؟‘‘ اس نے چائے کے برتن رکھتے ہوئے پوچھا۔
    حسن نے خفگی سے پوچھا: ’’یہ کون کندۂ ناتراش ہے، تمیزداری جس کی پاش پاش ہے؟‘‘
    زلیخا نے کہا: ’’ماما کا دور کا بھانجا ہے۔ تمہیں پسند نہیں آیا؟‘‘
    حسن ناراض ہو کر بولا: ’’مجھے اس کی صورت سے نفرت ہے۔ میری اور اس سفلہ منش، دشمنِ عقل کی کون صحبت ہے؟‘‘
    زلیخا حیران ہو کر بولی: ’’ارے ارے! اتنا غصہ کیوں؟‘‘
    حسن نے کہا: ’’یہ شخص بدتمیز ہے۔ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر تمہیں دیکھتا تھا۔ ذرا شرم نہ کرتا تھا۔ اب تم ہی بتاؤ کہ اس کی صورت سے بندہ کیوں نہ بے زار ہو، اس کی صحبت کیوں کرنہ ناگوار ہو؟‘‘
    زلیخا ہنسنے لگی اور بولی: ’’.Look who is talking، یہ تم کہہ رہے ہو جو ہر راہ جاتی لڑکی پر فدا ہو جاتے ہو؟ اور وہ کرن والا معاملہ تو بڑا recent ہے۔‘‘
    حسن سینہ پھلا کر بولا: ’’میں جو کرتا ہوں ڈنکے کی چوٹ پر کرتا ہوں۔ چھپ کر وار نہیں کرتا ہوں، عقد کا ارادہ رکھتا ہوں۔ شکر ہے کہ میرا ظاہر و باطن یکساں ہے، نہ خرقۂ سالوس دربر، نہ عمامۂ زور برسر۔ لیکن اس شخص کا کیا ارادہ ہے، کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے۔‘‘
    یہ سن کر زلیخا سوچ میں پڑ گئی۔ پھر بولی: ’’سمجھ تو مجھے بھی نہیں آتا لیکن صاف بتاؤں مجھے یہ اچھا لگتا ہے۔ میں سوچتی ہوں بنّے بھائی کے لائے اوٹ پٹانگ رشتوں سے بہتر ہے اسی کو consider کر لوں۔ ماما بھی اس کے حق میں ہیں۔ پڑھا لکھا بھی ہے، نوکری بھی اچھی ہے اور پھر۔۔۔‘‘ زلیخا ہچکچائی۔ ’’اور پھر مجھ میں interested بھی ہے۔ اسے میرے موٹے ہونے سے اور سانولے ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔‘‘حسن نے یہ بات سنی تو کہا: ’’ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے، پڑھے لکھے کو فارسی کیا ہے۔ لگے ہاتھوں اس سے پوچھ لو کہ عشق کے بارے میں اس کا کیا خیال ہے، کیوں عقد کا ارادہ محال ہے؟ دم کے دم میں معلوم ہو جائے گا کہ دلبر ہے یا بے وفا ہے، دل میں خلوص ہے یا جفا ہے؟‘‘
    زلیخا سوچ میں پڑ گئی، پھر بولی: ’’you know what? میرا خیال ہے تم ٹھیک کہتے ہو یہ مجھے فون پر اچھے اچھے میسجز بھیجتا ہے، کبھی کافی کی دعوت دیتا ہے کبھی سینما کی۔ لیکن اس سے آگے نہیں بڑھتا۔ میرا خیال ہے اب مجھے صاف صاف اس سے پوچھ لینا چاہیے کہ اس کا کیا ارادہ ہے۔ لیکن کیسے پوچھوں؟ گھر پر سب لوگ ہوتے ہیں اور باہر میں اس کے ساتھ جانا نہیں چاہتی۔‘‘
    حسن نے کہا: ’’میں پوچھ لیتا ہوں۔ دیکھتے ہیں کیا رنگ لاتی ہے گلہری۔‘‘
    زلیخا نے سوچتے ہوئے کہا: ’’اس نے مجھے امپوریم مال میں فلم دیکھنے کی دعوت دی ہے۔ تم ساتھ چلو تو میں چلتی ہوں۔‘‘
    اور یوں طے پایا کہ زلیخا اور حسن اگلے اتوار اکٹھے فلم دیکھنے جائیں گے، ارسلان سے دل کی بات اگلوائیں گے۔

    *۔۔۔*۔۔۔*

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۸

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۸

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۸

    از: سارہ قیوم

    نویں رات

    جانا حسن بدرالدین کا محبوبہ کے مکان پر

    رات کو جب سلطانِ داراجاہ، گیتی پناہ کو گزشتہ شب کا قصہء دلچسپ یاد آیا تو فوراً شہرزاد کو طلب فرمایا اور کہا، اے طوطی شکر فشانِ خوش بیانی و عندلیب ہزار داستانِ شاخسارِ نکتہ دانی، تیری قصہ خوانی سے میرا دل بدرجہء غائت مسرور ہے اور تیرا کلام اور بیانِ شیریں مشہورِ نزدیک و دور ہے۔ شہرزاد جھک کر آداب بجا لائی اور یوں عرض پرداز ہوئی کہ حسن بدرالدین نے دروازہ کھول کر جو ایک حسینہ خوبرو، عربدہ جُو، قوس ابرو کو دیکھا تو دیکھتے ہی شیفتہ و والا ہوا۔ عشق کا بول بالا ہوا۔ ابھی اس کے حسن و جمال کی دیدمیں محو تھا کہ وہ نازنین اٹھلا کر بولی: ’’اللہ حسن بھائی، اب رستہ دیں گے یا یہیں کھڑا رکھیں گے؟‘‘
    آواز کیا تھی مندر کی گھنٹیاں تھیں۔ حسن بدرالدین عش عش کرنے لگا، جامے میں پھولا نہ سمایا۔ دل چاہا اسی وقت ہاتھ تھام لے اور اظہارِ عشق کرے اور کہے۔ ’’پیاری، میں تجھ پر اپنی جان نثار کرتا ہوں، تہہِ دل سے تجھ سے پیار کرتا ہوں۔ اے زہرہ جمال، ناہید نغمہ، پروی وش وپری رُو۔ آئیلویُولُو، آئیلویُولُو۔‘‘ لیکن قبل اس کے کہ ہاتھ پکڑ پاتا اور اپنے ارادے کو عملی جامہ پہناتا، پیچھے سے زلیخا کی آواز آئی۔ ’’کون آیا ہے حسن؟‘‘
    اس پری رُو حسینہ نے نزاکت سے حسن کے پیچھے جھانک کر صحن میں کھڑی زلیخا کو دیکھا اور اٹھلا کر بولی: ’’ہائے زلیخا۔ ہاؤ آر یو؟‘‘
    زلیخا بھی مسکرائی اور بولی۔ ’’آؤ کرن۔ آج صبح صبح کیسے؟‘‘
    وہ حسینہ مہ جبینہ کہ نامِ نامی جس کا کرن تھا، ناز سے بولی: ’’آج پریکٹیکل ہے میرا ،اور اوورآل نہیں مل رہا۔ میں نے سوچا تم سے پوچھ لوں۔ تمہارے پاس تو پری میڈیکل کا رکھا ہو گا نا۔ اب تو ضرورت نہیں ہو گی تمہیں؟‘‘
    زلیخا کے چہرے کی مسکراہٹ پھیکی پڑ گئی۔ آہستہ سے بولی: ’’ہاں رکھا ہے۔ تم بیٹھو میں لا کر دیتی ہوں۔‘‘
    حسن نے بسر و چشم راستہ دیا اور کرن اپنی پتلی کمر لچکاتی اندر آئی اور تخت پر بیٹھ گئی۔ پھر اس کی نظر صحن میں کھڑے حسن پر پڑی، دونوں کی آنکھ لڑی۔ کرن مسکرائی، حسن کی خوب بن آئی۔ بے جھجک اس کے پاس تخت پر جا بیٹھا۔ وہ ناز سے کھسک کر دور ہوئی تو یہ اور آگے بڑھا۔ اُس نے ٹھنک کر منہ بنایا، اِس نے ہاتھ پکڑنے کو ہاتھ بڑھایا، ابھی یہ لگاوٹ بازی جاری تھی کہ کنیز وہاں بلائے درماں کی طرح آٹپکی۔ حسن کو محبوبہ پری وش کے ساتھ بازو بھڑائے بیٹھے دیکھا تو آنکھیں مٹکا کر بولی: ’’آپ یہاں کیا کر رہے ہیں حسن بھائی؟‘‘
    اس مداخلتِ بے جا پر حسن بہت جھلایا۔ بڑا غصہ آیا۔ ڈانٹ کر بولا: ’’دور ہو۔ تیرا یہاں کیا کام ہے؟ یہ کنیز بڑی بے لگام ہے۔‘‘
    یہ ڈانٹ سن کر کنیز کو غصہ آیا۔ چمک کر بولی: ’’مجھ پہ کیوں ناراض ہو رہے ہیں؟ مجھے پتا ہے کن چکروں میں ہیں آپ۔ میرے سے بنا کے رکھیں ورنہ کام نہیں بننے دوں گی آپ کا۔‘‘
    اسی وقت زلیخا باہر آئی اور ہاتھ میں پکڑا سفید رنگ کا جبہ کرن کے ہاتھ میں تھمایا اور کہا: ’’لو ،کرن۔ تم رکھ لو یہ اوورآل۔ اب مجھے اس کی ضرورت نہیں رہی۔‘‘

  • شریکِ حیات قسط ۶

    شریکِ حیات قسط ۶

    شریکِ حیات قسط ۶

    باب ششم

    نیلے آسمان سے سفیدی غروب تک گھٹ جاتی تھی۔

    یہ ستاروں کی آمد کے اوقات تھے۔

    جب دھیرے دھیرے زمین والوں کی نظر کے کھیل سے اوجھل آنکھ بچاتے کھیل نچاتے، ستارے ایک ساتھ ہی نمودار ہونے لگتے تھے۔

    یہ وقت تھا گرمیوں کے زوال کا۔

    یا پھر موسم کی آنکھ مچولی کا کہ دن میں فصلیں پکاتا سورج گرمی کے شرارے ایسے زمین پر پھینکتا جیسے سرکس باز، تماش گر منہ میں تیل چھڑک کر آگ کے شرارے منہ سے نکالتا ہو۔

    اور غروب تک ایسے ہوجاتاجیسا زمین پر آگ کی یہ ہولی کبھی نہ چلی ہو۔ یہ درمیانہ موسم ناچتا کھیلتا، تیز ہوا کے جھکڑ چلاتا، جھومتا جھامتا ہوائوں پر کھیلتا غروب کے بعد آنے والی رات کی چادر بچھاکر ہر اک گرماہٹ کو ٹھنڈا کردیتا تھا۔

    ایسے میں دیہات کے سادہ لوح لوگ، آدمی، عورتیں، بچے اس وقت صحنوں میں چارپائیاں ڈالے مٹی سے لیپ کیے صحنوں میںچارپائیوں پر طویل تکیے رکھ کر سو لیتے۔ دن کی تھکن کو گھٹانے کی کوشش میں کھیت، کھلیان، پڑوس، محلہ کھیتی، کھلیان، کمہار، لوہار، زر، زمیندار سب کی کچہریاںسجنے لگتیں۔

    صحنوں میں عورتیں بیٹھیں گیت گنگناتیں یا بھرت، کڑھائی، کپڑا، سلائی،دھلائی، بُنائی، مال مویشیوں کے چارے باڑے کا انتظام ہوتا پھر چولہے پھونکتے رات کا دال دلیہ ساگ روٹی مکئی مکھن چاول گڑشیرہ بنانے بیٹھتیں۔ ساتھ کچے چولہے کے گرد کچی اینٹوں سے بنی چوکی پر دو تین چار عورتیں چوکڑا مارے کوئی پیاز چھیلتے، کوئی چولہے میں لکڑیاں جھونکتے، کوئی سبزی ساگ صاف کرتے، کوئی چاول چنتے ہوئے باتیں کرتی رہتیں۔ اور اسی طرح سندھو اورسوہائی اماں کی نظر سے ہٹ کر کانوں میں پھسپھساتے ہنستے ہنساتے پیاز، مٹر، گوبھی، پالک، دال، دلیہ، ساگ، چاول پکاتے، ہنڈیا چڑھاتے بہت سی باتیں کرتیں یعنی آج کی نئی کہانی کیا ہے؟

    سندھو جو نت نئی کتابی کہانیاں پڑھ ڈالتی سوہائی کو فیض یاب کردیتی اور اسی طرح آج بھی ہوا۔

    ”تجھے پتا ہے سوہائی سارنگ اور سندھو والی کُل ملا کے پنج کہانیاں ہیں۔

    پہلی میں سارنگ بت تراش اور سندھو دیوی۔

    سارنگ کے ہاتھ کاٹ لیے جاتے ہیں۔ سندھو دیوی کی قربانی ہوجاتی ہے۔ کہتے ہیں نا کہ سندھو سارنگ نے نہیں ملنا۔

    دوسری داستان، سارنگ بنا گھڑ سوار اور سندھو ہائے سوہائی مت پوچھ دونوں کے بیچ کی وہی جدائی، وہی مات۔

    آخری سندھو سارنگ وہ جب پاکستان آزاد ہوا۔

    سندھو رہ گئی زمین کے اک ٹکڑ پرہند میں اور سارنگ رہ گیا پاکستان۔دونوں کے بیچ لمبی سرحد۔

    پہاڑ ،پربت۔

    سندھو افسردہ۔

    پر سندھو تُو اور ادا سارنگ جو مل گئے ۔سوہائی کہتی۔ 

    مگر سندھو کی آنکھوں میں اداسی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کچھ۔ کچھ ایسا جو سوہائی کبھی نہ سمجھ سکتی۔ وہ بھلا اسے کیا سمجھاتی کہ پگلی یہ ملنا بھی کوئی ملنا ہے۔ وہ یہ سب سوچتی ہی رہ جاتی کہتی کچھ نا۔

    ٭…٭…٭

  • شریکِ حیات قسط ۸

    شریکِ حیات قسط ۸

    شریکِ حیات قسط ۸

     باب ہشتم

    وہی ان ہونی جو ہونی سے ذرا پہلے ہوجاتی ہے۔

    اور پھر صورت حال آپ کے سامنے الٹے تختے کی طرح آجاتی ہے، بچھ جاتی ہے، نہیں پتا چلتا کہ دھرتی اُلٹ گئی یا پھر آسمان بدل گیا یا پھر چاند سو گیا۔

    روشنی بجھ گئی ہے رات کی یا پھر سویرا نہیں ہوا۔ دھرتی گول گھوم گئی ہے یا پھر مرکز نہیں رہا۔

    سب پلٹ جاتا ہے۔کھیل پلٹ جاتا ہے۔تختہ الٹ جاتا ہے۔چابی گھما دی جاتی ہے۔

    چابی ہی گھما دی گئی تھی، اسٹیج پر جیسے کٹھ پتیلوں کے کردار تیزی سے بدلتے گئے۔

    جو جس کا اصل کردار ہو اسے سونپا گیا۔ تیزی سے جیسے چیزوں کا ملمع اُترنے لگا یا پھر ارادوں کا روپ بدل گیا۔

    جو بھی ہوا، حیات گردش میں آگئی۔

    ایک دن کی شام نے بس لمحے کا کھیل کھیلا تھا۔

    سواری الٹی، سمجھو زندگی پلٹ گئی، ہاتھ سے اسٹیرئنگ چھوٹا، مانو اختیارات گئے سفر کے، ایک دھکا لگا۔

    حادثہ، جو جان دار کو بے جان کردے۔

    حادثہ، جو چلنے والے کو معذور کر دے۔

    حادثہ، وہی جس سے پناہ مانگی جاتی ہے۔

    حادثہ، جسے عام زبان میں ان ہونی کہا جاتا ہے۔

    اور سارنگ کے ساتھ وہی انہونی ہوئی تھی جس دن وہ سواری سے سڑک پر نہ آسکا۔

    جس دن اس سے اختیار چھوٹا۔

    جس دن معمولی سی بے احتیاطی نے اسے کچل دیا اور اس کے ساتھ وہ ہوگیا۔

    جسے عام فہم زبان میں لوگ بُرا کہتے ہیں۔اس کے ساتھ برا ہوگیا۔

    ایک روڈ ایکسڈنٹ نے زندگی کی شکل بگاڑ دی، وہ بدل نہ سکا۔

    کہتے ہیں تعلقات پنیری کی طرح ہوتے ہیں۔ پودا لگاتے ہیں، بیج اُگاتے ہیں، پھر انہیں پانی آپس کا پیار دیتا ہے۔ خوب صورت محبت کرتی ہے اور جڑ بھروسہ مضبوط کرتی ہے۔

    وہ سوچتی رہی ہم نے شاید پنیری ہی لگائی تھی اور ہم اسے پروان نہ چڑھا سکے۔

    ایک تعلق جس کی بنیاد خاندانی دباؤ تھا۔

    ایک تعلق جس کی بنیاد کمزوری تھی، مجبوری تھی اور اس تعلق کو دیکھا جائے تو صرف مجبوری اور کمزوری نے ہی جوڑے رکھا تھا۔

    جب کمزوری اور مجبوری ختم ہوجاتی ہے تب تعلق بے جوڑ سا بے معنی سا دکھنے لگتا ہے۔

    جب پیار اور بھروسے کی بات آتی ہے تو سب کچھ بھر بھری مٹی کی طرح ڈھے جاتا ہے۔

    صرف اور صرف سوال اٹھتے ہیں۔

    اور وہ سوال بے جواب ہی مر جاتے یا دبا دیے جاتے ہیں۔ تعلق پھر اسی نہج پر آکھڑا تھا، یعنی جہاں سے دنیائیں دو ہوجاتی ہیں۔ جہاں سے زنجیر کاہُک کھلنے لگتا ہے۔ احساس کی زنجیر ٹوٹنے لگتی ہے اور بکھرنے تک کا وقفہ ہوتا ہے۔

    اس نے پھر سے اسی ہمت کو جمع کرکے کہا تھا۔ ”سارنگ اب وقت آگیا ہے شاید، مجھے اب چلے جانا چاہیے۔ ایک وہ وقت تھا جب آپ پر فرائض تھے۔ آپ نے مکمل کیے بہادری سے، میں اپنی باری کھیلے بغیر ہی جارہی تھی۔مجھے تقدیر نے پھر روک دیا۔اس بار میرا امتحان تھا۔میں پاس ہوئی یا فیل، یہ آپ جانتے ہیںیا میرا اللہ جانتا ہے،بس میں بھاگی نہیں میدان چھوڑ کر،بس میں نے رستہ پکڑ لیا، میں لوٹ گئی۔میرے لیے انہیں رستوں کے دروازے اب دوبارہ کھل گئے ہیں،مجھے بلاتے ہیں، شاید مجھے اب جانا ہے۔ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔آپ دوبارہ اپنے مقام پر آگئے ہیں۔سب کچھ وہی ہے سارنگ،تکلیف دہ وقت گزر چکا ہے۔ مشکل ہی تھا مگر گزر گیا۔ وہی گھر، کھڑکی، دروازہ، وہی رستہ، وہی لوگ۔” اسے لگا چابی گھومنا رُک چکی ہے۔ وہ شل ہوکر تھکن سے گرنے کے سے انداز میں بیٹھ گئی تھی۔

    ”میں تھک چکی ہوں۔” یہ دبی آواز میں کہا گیا جملہ تھا جو سارنگ کے کانوں نے سن لیا اور اس کی آنکھ کے گوشے میں، ایک بے نام سا رشک،ایک آنسو جو دل کی خاموشی ٹوٹنے پر آنکھوں میں آجاتا ہے۔ وہی آنسو بے وجہ سا یا بہت وجہ سا پل، لمحے، بھروسے اور محبتیں، دوست اور لوگ؟ سب سوال۔

    اس نے سوچا شیبا سے جاکر پوچھے یا پھر سندھیا سے،مگر وہ پہلا سوال خود سے کر بیٹھا تھا۔اسی لیے خطا کھا گیا۔

    پتّا ایک بار اس کے سامنے پھینکا گیا تھا۔چال اسے چلنی تھی۔جوابی پتّا اسے پھینکنا تھا۔

    گیند قسمت نے ایک بار پھر اس کی جیب میں ڈال دی تھی۔

    پھینکنے پر چھکّا ہوتا تو بھی مار پڑتی۔

    آؤٹ کرتا تو جیت اس کی۔ گیند ایک ہی تھی اور باری آخری۔ سارا کھیل بدل جانا تھا۔ میدان منتظر تھا۔

    ٭…٭…٭

  • شریکِ حیات قسط ۷

    شریکِ حیات قسط ۷

    شریکِ حیات قسط ۷

    باب ہفتم

    نیلے آسمان سے سفیدی غروب تک گھٹ جاتی تھی۔

    یہ ستاروں کی آمد کے اوقات تھے۔

    جب دھیرے دھیرے زمین والوں کی نظر کے کھیل سے اوجھل آنکھ بچاتے کھیل نچاتے، ستارے ایک ساتھ ہی نمودار ہونے لگتے تھے۔

    یہ وقت تھا گرمیوں کے زوال کا۔

    یا پھر موسم کی آنکھ مچولی کا کہ دن میں فصلیں پکاتا سورج گرمی کے شرارے ایسے زمین پر پھینکتا جیسے سرکس باز، تماش گر منہ میں تیل چھڑک کر آگ کے شرارے منہ سے نکالتا ہو۔

    اور غروب تک ایسے ہوجاتاجیسا زمین پر آگ کی یہ ہولی کبھی نہ چلی ہو۔ یہ درمیانہ موسم ناچتا کھیلتا، تیز ہوا کے جھکڑ چلاتا، جھومتا جھامتا ہوائوں پر کھیلتا غروب کے بعد آنے والی رات کی چادر بچھاکر ہر اک گرماہٹ کو ٹھنڈا کردیتا تھا۔

    ایسے میں دیہات کے سادہ لوح لوگ، آدمی، عورتیں، بچے اس وقت صحنوں میں چارپائیاں ڈالے مٹی سے لیپ کیے صحنوں میںچارپائیوں پر طویل تکیے رکھ کر سو لیتے۔ دن کی تھکن کو گھٹانے کی کوشش میں کھیت، کھلیان، پڑوس، محلہ کھیتی، کھلیان، کمہار، لوہار، زر، زمیندار سب کی کچہریاںسجنے لگتیں۔

    صحنوں میں عورتیں بیٹھیں گیت گنگناتیں یا بھرت، کڑھائی، کپڑا، سلائی،دھلائی، بُنائی، مال مویشیوں کے چارے باڑے کا انتظام ہوتا پھر چولہے پھونکتے رات کا دال دلیہ ساگ روٹی مکئی مکھن چاول گڑشیرہ بنانے بیٹھتیں۔ ساتھ کچے چولہے کے گرد کچی اینٹوں سے بنی چوکی پر دو تین چار عورتیں چوکڑا مارے کوئی پیاز چھیلتے، کوئی چولہے میں لکڑیاں جھونکتے، کوئی سبزی ساگ صاف کرتے، کوئی چاول چنتے ہوئے باتیں کرتی رہتیں۔ اور اسی طرح سندھو اورسوہائی اماں کی نظر سے ہٹ کر کانوں میں پھسپھساتے ہنستے ہنساتے پیاز، مٹر، گوبھی، پالک، دال، دلیہ، ساگ، چاول پکاتے، ہنڈیا چڑھاتے بہت سی باتیں کرتیں یعنی آج کی نئی کہانی کیا ہے؟

    سندھو جو نت نئی کتابی کہانیاں پڑھ ڈالتی سوہائی کو فیض یاب کردیتی اور اسی طرح آج بھی ہوا۔

    ”تجھے پتا ہے سوہائی سارنگ اور سندھو والی کُل ملا کے پنج کہانیاں ہیں۔

    پہلی میں سارنگ بت تراش اور سندھو دیوی۔

    سارنگ کے ہاتھ کاٹ لیے جاتے ہیں۔ سندھو دیوی کی قربانی ہوجاتی ہے۔ کہتے ہیں نا کہ سندھو سارنگ نے نہیں ملنا۔

    دوسری داستان، سارنگ بنا گھڑ سوار اور سندھو ہائے سوہائی مت پوچھ دونوں کے بیچ کی وہی جدائی، وہی مات۔

    آخری سندھو سارنگ وہ جب پاکستان آزاد ہوا۔

    سندھو رہ گئی زمین کے اک ٹکڑ پرہند میں اور سارنگ رہ گیا پاکستان۔دونوں کے بیچ لمبی سرحد۔

    پہاڑ ،پربت۔

    سندھو افسردہ۔

    پر سندھو تُو اور ادا سارنگ جو مل گئے ۔سوہائی کہتی۔ 

    مگر سندھو کی آنکھوں میں اداسی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کچھ۔ کچھ ایسا جو سوہائی کبھی نہ سمجھ سکتی۔ وہ بھلا اسے کیا سمجھاتی کہ پگلی یہ ملنا بھی کوئی ملنا ہے۔ وہ یہ سب سوچتی ہی رہ جاتی کہتی کچھ نا۔

    ٭…٭…٭

  • شریکِ حیات قسط ۵

    شریکِ حیات قسط ۵

    شریکِ حیات قسط ۵

    باب پنجم 

     

    کسی نے سنا؟

    مولا بخش مر گیا۔

    اس کے مرنے کا یقین کون کرے گا؟

    چارپائی پر خاموش پڑا بے فکر سا وجود، ہلکا پھلکا سا، کوئی فکر نہ فاقہ۔

    اوہ مولا بخش تو اپنی ساری فکریں یہاں ہی چھوڑ گیا۔

    اب کہنے سننے کو کچھ نہ تھا۔ کہا نہ تھا کہ بندہ خاک ہے، ایک دن خاک میں مل جانا ہے۔مٹی کو مٹی میں دفن ہونے دے۔

    ”سبھاگی اب دل بجھ گیا ہے۔تیرا مولا بخش تھک گیا ہے۔” چار چھ دن پہلے بخارمیں تپتے وجود پرجب اس نے ہاتھ رکھا تومولا بخش کا جسم تپ رہا تھا۔

    ”لگتا ہے بخار تیرے سر چڑھ گیا ہے سندھیا کے ابا۔ سٹھیا گیا ہے تو، دماغ پھر گیا ہے تیرا، کیا اُلٹی سیدھی ہانکے جا رہا ہے۔” وہ بگڑاُٹھی۔

    ”اب نہ بگڑیں، نہ کاوڑ جیں (خفا ہونا) نہ بُرا بھلا کہیں۔ اپنے سارے نخرے اپنے مولا بخش تک رکھیں مگر خوش رہیں۔”

    ”توچریا ہو گیا ہے مولا بخش۔ مت ماری گئی ہے تیری۔”

    ” او مت نہیں مری میری سندھو کی ماں۔ دعا کر مت کبھی نہ مرے، مت مرنے سے پہلے مولا بخش مر جائے۔ ”

    ”اللہ نہ کرے مولا بخش۔ بس بھی کردے۔”

    ”تجھے پتا ہے سندھو کی ماں! مٹی کا پتلا جب زمین پر چل چل کر تھک جاتا ہے، جب اُسے دانہ اُگانے کی سکت نہ رہے تو سمجھو دانہ پانی ختم ہوا، اُٹھ گیا۔ کبھی ایسا نہ ہوا کہ کھیتوں کے کاموں سے بے زار ہوا،جی چرایا یا یہ کہا کہ تھک گیا ہوں۔”

    پہلی بار کہا تولمحہ بھرکے لیے توسبھاگی نے بھی بھری آنکھوں سے دیکھتے ہی دل تھام لیا۔” ایسا نہ کہو مولا بخش تو ایسا سوچ بھی کیسے سکتا ہے؟سندھو کی خوشیاں کون دیکھے گا بھلا ؟چریا ہواہے کیا؟ ”

    ”چریا نہیں سیاٹا ہوں۔ تیرا مولا بخش سیاٹا ہے۔ او سبھاگی دیکھ، مٹی کو مٹی سے بڑا قرار آتا ہے۔ تیرا مولا بخش راج کرے گا، وہاں سکھی رہے گا۔پھر دیکھ زمین کے اندر کھیتی کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، بغیر کھیتی کے اناج دیتی ہے۔ وہاں شاید اناج کی بھی حاجت اور ضرورت نہ ہو۔”

    ”دیکھ تو نے آج مجھے رُلا دیا۔ اپنی سبھاگی کو رُلا دیا ہے تو نے۔” اُٹھ کر جیجی کے پاس گئی۔ ”جیجی ماں کوئی دم درود؟ کوئی تسبیح صلوٰة مولا بخش سٹھیا گیا ہے۔ بخار سر چڑھ گیا ہے، الٹی سیدھی ہانکے جا رہا ہے۔ چپ ہی نہیں ہوتا ۔”

    جیجی اٹھ کر مولا بخش کے کمرے تک آئیں، سر پہ ہاتھ رکھا۔ ”بخار تو اب کم ہے اس کا۔”

    ”لے تو کیا گالھ کر رہا ہے مولا بخش، سبھاگی کو رلایا ہو اہے آج تو نے۔”

    ”جیجی ماںگود میں سر رکھنے دے پھر بتاتا ہوں۔”

    جیجی ماں نے گود میں پناہ دی۔ مولا بخش نے سر ٹیکا۔

    ”او دیکھ جیجی ماں!

    دنیا کے سارے مرد روکھے۔

    ساری مائیاں سوکھیں۔

    شوہر سارے نکمے۔

    بیویاں سگھڑ سوہنڑیں۔

    مولا بخش کوجا سبھاگی چاندی۔”

    ”اس کی باتوں کا اعتبار نہ کریں جیجی ماں۔یہ پل میں کچھ تو پل میں کچھ کہتا ہے۔”

    ”یہ کہہ کیا رہا تھا تو ہی بتا دے۔”

    مولا بخش نے آنکھوں کے اشارے سے اُسے کچھ کہنے سے روکا۔ یہ نہیں کہ مولابخش کا ڈر تھا بلکہ بات ہی ایسی تھی، جو وہ منہ سے نہیں کہہ سکتی تھی۔کہتے ہوئے سو دفعہ ڈرتی تھی۔ کبھی کہتے ہیں منہ کا کہا بھی سُن لیا جاتا ہے۔

    وہ چپ ہو گئی خاموش رہی کچھ نہ بولی۔جیجی کو تسلی ہوئی کہ چلو بخار تھا جو ہلکا ہو گیا ہے۔ اب سب ٹھیک ہے۔

    سب ٹھیک ہے کا کھیل کس قدر جان لیوا ہوتا ہے کبھی کبھار۔ وہ جب انسان سب ٹھیک ہے اپنی زبان سے کہتا ہے اور دل و دماغ نفی کرتے ہیں تو لگ پتا جاتا ہے۔

    دھڑکا لگ جاتا ہے اور پھر تب تک لگا رہتا ہے، جب تک ہاتھ دھڑکن پر رہے۔

    ٭…٭…٭

  • شریکِ حیات قسط ۴

    شریکِ حیات قسط ۴

    شریکِ حیات قسط ۴

     باب چہارم

    ”سارنگ سندھ میںمحبوب کو کہتے ہیں۔” بڑا مان تھا اُس کے لہجے میں۔

    ”تمہیں خوشی ہوتی ہو گی بڑا خوب صورت سا سمبل ہے۔”

    ”مجھے محبوب بننے سے زیادہ ایک کامیاب انسان بننے کی جستجو ہے۔” اس کا لہجہ بہت سادہ تھا۔

    ”تم نے محبوب ہونے کا ذائقہ چکھا نہیں اس لیے کہہ رہے ہو۔” جواب میں کسک کا احساس تھا۔

    وہ فراز سلیم تھا، جنوبی پنجاب سے اس کا تعلق تھا۔ وہ بھی اسپیشلائزیشن کے لیے آیاتھا۔

    مگر اسے بھی اسپیشلائزیشن سے زیادہ موسیقی میں دل چسپی تھی۔ گائیک بننا اس کا خواب تھا، مگر اس کے گلے کے سُر نے اس کی اس خواہش کا گلا بُری طرح سے گھونٹ دیا تھا۔اس کے بعد اسے طبلہ بجانے میں دل چسپی محسوس ہوئی تو اس نے طبلہ بجانے کی باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی۔ وہ ڈرم بھی بہت اچھا بجاتا تھا۔

    کل کے کنسرٹ میں وہ بھی شریک تھا، جو اپنی خواہش کی ناکامی کے بعد ماں کی خواہش پر ڈاکٹر بن کر اسپیشلائزیشن کرنے یہاں آیاتھا اور پہلے ہی سمسٹر میں بُری طرح سے پھنس گیا تھا۔یہی ٹینشن تھی جس نے اس کی راتوں کی نیند اُڑا دی تھی اور وہ ایک رات کو بہار کرنے کے لیے سارنگ کے ساتھ کنسرٹ کا حصہ بن گیا تھا اور سارنگ کی بجائی بانسری اور گائیک کے لفظ جیسے اس کے دل پر اثر کر رہے تھے۔

    جب مائیک تھامنے سے پہلے سنگر نے سارنگ کی طرف دھن چھیڑنے کا اشارہ کیا۔سب سے پہلی دُھن بانسری کی دُھن تھی اور کیا لَے تھی جیسے دل ہچکولے کھاتا ہوا تھر کے ریگستان میں سہج سہج کر چلتے ہوئے اونٹوں کی چالوں جیسا ہو جائے۔

    بات سسی کے بھنبھور سے شروع ہوئی تھی۔سسی جسے عام سندھی میں سسوئی کہا جاتا تھا۔ وہ سسی جو بھنبھور کی رہنے والی تھی۔گیت میں سسی کا درد شاعر نے پوری طرح سمو دیا تھا۔ گیت آواز، سر، لے، دھن اور ساز کے ساتھ بجتا ہوا سماعتوں میں ایک جادو جگا گیا، لوک داستانی رنگ چڑھ گیا۔

    دوسرے دن شام ڈھلے ٹریننگ سینٹر سے چھٹی ہونے کے بعد وہ پورا گروپ فراز سلیم، سارنگ، پوجا، صنم اور شیبا سمیت کیفے کے باہر بیرونی پارک میں کل کے گیت، سر اور کہانی پر بات کر رہا تھا۔ جب بات سسی کے بھنبھور سے شروع ہو کر سارنگ کے محبوب پر ختم ہو گئی۔

    اور کبھی وہیں سے شروع ہونی تھی۔

    ٭…٭…٭