Tag: الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸

  • بھوت بنگلہ


    نیا شکار

    انسپکٹر جمشید اور ان کے بیوی بچے باقر گنج کے ہوٹل میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ ویٹر ان کی میز پر ناشتا لگا رہا تھا۔ جونہی ویٹر پیچھے ہٹا، فاروق بڑھ بڑھ کر ناشتے پر ہاتھ صاف کرنے لگا۔ دوسرے بھی ناشتا شروع کر چکے تھے۔ اچانک ان کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے اور ہاتھ درمیان ہی میں اُٹھے رہ گئے۔

    چار آدمی ایک چارپائی اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوٹل میں داخل ہو رہے تھے۔ چارپائی خالی نہیں تھی۔ اس پر کوئی چادر سر سے پاﺅں تک اوڑھے لیٹا تھا۔ ہوٹل میں موجود لوگوں میں چند ایک کے منہ سے نکلا:

    ”بھوتوں کا نیا شکار!“

    وہ کل ہی یہاں پہنچے تھے۔ یہ ایک چھوٹا سا پہاڑی مقام تھا۔ شہر سے صرف ستر میل کے فاصلے پر تھا اور بہت ہی پرفضا خیال کیا جاتا تھا۔ ان کا پروگرام بس اچانک ہی بن گیا تھا۔ ہوا یہ کہ اسکول گرمیوں کی چھٹیوں کے سلسلے میں بند ہو گئے تھے اور محمود، فاروق اور فرزانہ شہر میں کچھ زیادہ ہی بوریت محسوس کر رہے تھے۔ آخر ایک دن تنگ آکر فرزانہ کے منہ سے نکل ہی گیا۔

    ”ابا جان! ہم سخت بور ہو رہے ہیں۔“

    ”کیوں؟ کیا بات ہے؟“

    ”میرا مطلب ہے کیا یہ تمام چھٹیاں یوں ہی گزر جائیں گی؟“

    فرزانہ نے محمود اور فاروق کو مدد کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

    ”تم کیا کہنا چاہتی ہو؟“ انسپکٹر جمشید نے اس کے اشارے کو بھانپتے ہوئے پوچھا۔

    ”کیوں نا اس مرتبہ کہیں جانے کا پروگرام بنایا جائے۔“ محمود بول اٹھا۔

    ”بھئی تم بڑی خوشی سے کہیں جانے کا پروگرام بنا سکتے ہو۔ کیا چھٹیاں پروفیسر داﺅد کے گھر گزارنا چاہتے ہو یا پھر خان رحمان کے ہاں جانا چاہتے ہو؟“

    ”جی نہیں!“

    ”ارے! تو پھر بتاﺅ نا۔ کہاں جانا ہے؟“

    ”باقر گنج!“ فرزانہ کے منہ سے نکلا۔

    ”کیا؟ باقر گنج؟ گویا تم شہر سے باہر جانا چاہتے ہو؟“

    ”جی ہاں! یہاں گرمی بہت ہے۔“

    ”لیکن میں تم تینوں کو باقر گنج جانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔“

    ”تو ہم کب کہتے ہیں آپ اجازت دیں۔“ فرزانہ شوخ انداز میں مسکرائی۔

    ”کیا مطلب؟“ انسپکٹر جمشیڈ چونکے۔

    ”آپ اور امی ہمارے ساتھ چلیں۔“

    ”یہ کیسے ہو سکتا ہے؟“ انسپکٹر جمشید نے تیز لہجے میں کہا۔

    ”کیوں؟ کیوں نہیں سکتا؟“ بیگم جمشید بھی بول پڑیں۔

    ”ہائیں! کیا تم نے مل کر میرے خلاف سازش کی ہے؟ بیگم! تم بھی ان کا ساتھ دے رہی ہو۔“

    ”ہر سال بچے یہیں چھٹیاں گزارتے ہیں۔ اس مرتبہ انہیں جانا ہی ہو گا۔“

    ”اچھا سوچوں گا۔“

    ”ابا جان!“ فرزانہ بولی۔

    ”کیا بات ہے بیٹا؟“

    ”آپ کب تک سوچ لیں گے؟“

    ”یہی ایک دو روز تک۔“ وہ دراصل ٹالنا چاہتے تھے۔

    ”جی اچھا۔ دو دن بعد سہی۔“

    دو دن بعد پھر فرزانہ نے انہیں جا پکڑا۔

    ”ابا جان! وہ آپ کے دو دن پورے ہو گئے۔ امید ہے کہ آپ نے سوچ لیا ہو گا۔“

    ”کیا سوچ لیا ہو گا۔ تم کیا کہہ رہی ہو؟“ انسپکٹر جمشید انجان بن گئے۔

    ”جی وہی! باقر گنج جانے کے بارے میں۔“

    ”اوہ۔ اوہ۔ بھئی وہ تو میں بھول ہی گیا۔“ ان کے اس فقرے پر تینوں کے منہ لٹک گئے۔

    ”کیوں ان بچوں کو مایوس کرتے ہیں۔ پہلی بار تو انہوں نے کوئی خواہش کی ہے۔“ بیگم جمشید بولیں۔

    ”معلوم ہوتا ہے بچوں سے زیادہ آپ کا جی چاہ رہا ہے۔“

    ”چلئے! اب میرے پیچھے پڑ گئے۔“

    ”مجھے چھٹی نہیں ملے گی۔“

    ”کیوں نہیں ملے گی۔ بیس سال کی ملازمت کے دوران آپ نے کبھی چھٹی نہیں کی۔ محکمہ ہنسی خوشی آپ کو چھٹی دے گا۔“

    ”اچھا میں چھٹی کی درخواست دے دیتا ہوں۔ اگر منظور ہو گئی تو چلے چلیں گے۔“

    ”ٹھیک ہے! ہمیں منظور ہے۔“

    شام کو فرزانہ نے ان سے پوچھا۔

    ”کیا چھٹی کی درخواست منظور ہو گئی؟“

    انسپکٹر جمشید نے اسے تیز نظروں سے گھورا۔ پھر محمود اور فاروق کو گھورا او رتیز لہجے میں بولے۔

    ”معلوم ہوتا ہے تم باز نہیں آﺅ گے۔“

    ”جی! آجائیں گے۔ اگر آپ کی یہی خواہش تو باز آجاتے ہیں۔“ محمود نے رونی صورت بنا کر کہا۔ انسپکٹر جمشید ہنس پڑے۔

    ”چھٹی منظور ہو گئی ہے۔ ہم کل باقر گنج چل رہے ہیں۔“

    ”وہ مارا!“ تینوں چلائے اور بیگم جمشید مسکرانے لگیں۔

    ٭….٭….٭

    گاڑی سے اتر کر وہ ایک ٹیکسی کی طرف آئے۔ انسپکٹر جمشید نے ڈرائیور سے کہا:

    ”ہمیں کسی اچھے سے ہوٹل تک لے چلو۔“ ڈرائیور ان کی بات سن کر مسکرایا۔

    ”صاحب یہاں تو ہوٹل ہی صرف ایک ہے۔“

    ”کیا؟ اس پورے علاقے میں صرف ایک ہوٹل ہے؟“

    ”جی ہاں! اس کے علاوہ چھوٹی چھوٹی سرائیں ہیں۔ مکانات بھی کرائے پر مل جاتے ہیں لیکن یہ سرائیں اور مکانات ڈھنگ کے نہیں ہیں سوائے ایک مکان کے۔ لیکن….“

    ”لیکن کیا؟“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”جی! جی کچھ نہیں۔ آپ تشریف رکھیے۔ میں آپ کو ہوٹل تک پہنچا دیتا ہوں۔“

    وہ ٹیکسی میں بیٹھ گئے۔ سڑک کے دونوں طرف چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں تھیں جن پر لدا ہوا سبزہ اور اونچے اونچے درخت عجیب بہار دے رہے تھے۔ پندرہ منٹ کے سفر کے بعد ٹیکسی ایک ہوٹل کے سامنے رکی۔

    ”آبگینہ ہوٹل!“ فرزانہ نے ہوٹل کا نام پڑھا۔

    ”بھئی واہ! نام تو بہت اچھا ہے۔“

    ”ہوٹل بھی نام کی طرح خوب صورت ہے۔“

    پانچوں نیچے اتر آئے ہوٹل کا ایک ملازم تیزی سے ان کی جانب لپکا اور ٹیکسی کے اوپر سے سوٹ کیس اٹھا لیا۔ انسپکٹر جمشید کاﺅنٹر کی طرف بڑھے۔ وہاں ایک پتلا دبلا آدمی بیٹھا تھا۔ ناک بہت لمبی، آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئیں اور ان پر عینک تھی۔ انہیں دیکھ کر وہ اس طرح اکڑ کر بیٹھ گیا جیسے وہی اس پوری وادی کا مالک ہو۔

    ”جی فرمائیے!“ انسپکٹر جمشید کے قریب پہنچنے پر اس نے پوچھا۔

    ”دیکھئے ہمیں ایک ڈبل کمرہ چاہیے۔“

    ”آپ ڈبل کی بات کرتے ہیں۔ یہاں تو سنگل کمرہ بھی نہیں بچا۔“

    ”کیا؟ کوئی کمرہ نہیں بچا؟“ انسپکٹر جمشید نے ہوٹل کے ہال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔

    ”جی ہاں! اس وقت کوئی کمرہ خالی نہیں ہے۔“

    ”پھر کوئی اور بندوبست بھی ہے یا نہیں۔“

    ”آج کل تو شاید کوئی مکان بھی خالی نہیں ملے گا۔ البتہ کسی سرائے میں جگہ مل جائے تو میں کہہ نہیں سکتا۔“

    ”سرائے میں۔“

    ”جی ہاں! لیکن وہ جگہ آپ جیسے لوگوں کے شایانِ شان نہیں ہے۔“

    ”تو پھر کوئی حل بتاﺅ پیارے۔ کیا ہم اتنی دور آکر مایوس لوٹ جائیں گے؟“

    ”صرف ایک ہی صورت ہے۔“ عینک والا بولا۔

    ”اور وہ کیا؟“

    ”یہاں سے تھوڑے سے فاصلے پر ایک بہت خوبصورت مکان ہے۔ لیکن….“ وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔

    ”لیکن کیا؟“ انسپکٹر جمشید نے چونک کر پوچھا۔ کیوں کہ ٹیکسی ڈرائیور نے بھی مکان کا ذکر بیچ میں ہی چھوڑ دیا تھا۔

    عینک والے کے ہونٹ کچھ کہنے کے لئے ہلے ہی تھے کہ پیچھے سے ایک چہکتی ہوئی آواز آئی:

    ”ارے! یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں۔ کہیں میری آنکھیں دھوکا تو نہیں کھا رہی ہیں۔“ انسپکٹر جمشید چونک کر مڑے۔

    ”ارے واصف تم! تم یہاں کہاں؟“

    ”میں چھٹیاں یہاں گزار رہا ہوں۔ تم سناﺅ۔ کیا ابھی آرہے ہو؟“

    ”ہاں! اور شاید ابھی واپس جانا پڑے۔“

    ”کیوں کیوں؟ اوہ! سمجھا۔ کوئی کمرہ خالی نہیں ہو گا۔ دراصل یہاں ٹھہرنے کے لئے چھ ماہ پہلے ہی کمرہ بک کرنا پڑتا ہے۔“

    ”بھئی میں تو پہلی مرتبہ آیا ہوں۔ اب مجھے کیا معلوم تھا کہ یہاں یہ صورت حال سامنے آئے گی۔“

    ”خیر تم فکر نہ کرو۔ میں آج واپس جا رہا ہوں۔ تم اپنا سامان میرے کمرے میں لے چلو۔“

    ”کیا مطلب؟ ابھی تو تم کہہ رہے تھے کہ چھٹیاں یہاں گزار رہے ہو۔“

    ”ہاں! گزار چکا ہوں۔ آج تو واپس جا رہا ہوں۔“

    ”اچھا! اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا کام بن گیا۔“

    ”کیوں نہیں! مسٹر یوسف خان۔ میرا کمرہ آج سے ان کے نام لکھ دو۔“ واصف عینک والے کی طرف مڑا پھر ان سے بولا۔

    ”یہ مسٹر یوسف ہی اس ہوٹل کے مالک ہیں اور بہت اچھے آدمی ہیں۔“

    ”اچھا یہی مالک ہیں۔“

    ”ہاں! اور تم کیا تنہا ہی آئے ہو؟“

    ”وہ سامنے دیکھ رہے ہو نا، میرے بیوی بچے ہیں۔“

    ”ارے تو پہلے کیوں نہیں بتایا۔“ واصف ایک طرف کھڑے ہوئے محمود، فاروق، فرزانہ اور بیگم جمشید کی طرف تیزی سے بڑھا۔

    ”السلام علیکم بھابی اور پیارے بھتیجو تم کیسے ہو۔ آپ لوگ مجھے نہیں جانتے نا۔ خیر میں تعارف کرائے دیتا ہوں۔ میرا نام واصف ہے، پروفیسر ہوں اور جمشید کا بچپن کا دوست ہوں، اسکول کے زمانے کا۔ آج ایک زمانے کے بعد اسے دیکھا ہے۔ دراصل جو آدمی پولیس میں ملازمت کرے، وہ کسی کا دوست نہیں رہتا۔ اب دیکھ لیں، ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔“

    ”اب تو ہو گئی نا۔ یہاں سے واپس جائیں گے تو آپ کے ہاں ضرور آئیں گے۔“ بیگم جمشید نے مسکرا کر کہا۔

    ”کس کی باتوں میں آگئی ہو۔ یہ حضرت کبھی گھر ملتے ہی نہیں۔ ملاقات کیسے ہو سکتی ہے۔“ انسپکٹر جمشید کاﺅنٹر پر پیشگی کرایہ ادا کرنے کے بعد ان کے پاس آکھڑے ہوئے تھے۔

    ”اچھا یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی۔ چلو میں کمرہ دکھا دوں۔“

    ہوٹل کے ملازم نے ان کا سوٹ کیس اٹھایا اور وہ سیڑھیاں چڑھنے کے بعد کمرے کے سامنے پہنچ گئے۔ واصف نے جیب سے چابی نکال کر دروازہ کھولا اور چابی انسپکٹر جمشید کو دیتے ہوئے بولا:

    ”آج سے یہ چابی تمہاری۔ ویٹر! تم میرا سوٹ کیس اٹھا کر نیچے لے چلو۔“

    ”ہاں امید ہے کہ اس کمرے میں گزارہ ہو جائے گا۔“

    ”ہوں! کمرہ تو کافی بڑا ہے۔ اگر اس میں ایک بیڈ اور ڈال دیا جائے تو گزارہ بخوبی ہو سکے گا۔“

    ”میں مسٹر یوسف سے کہتا جاﺅں گا۔ وہ بیڈ کا بندوبست کر دیں گے۔“

    ”تم کچھ دیر تو بیٹھو ہمارے پاس۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    ”نہیں بھئی میں پہلے بہت لیٹ ہو چکا ہوں۔ اچھا خدا حافظ۔“

    ”خداحافظ۔“ ان کے منہ سے نکلا۔

    واصف کمرے سے نکل گیا۔

    ٭….٭….٭

    ”مجھے بے وقوف سمجھتا ہے۔ الو کہیں کا۔“ انسپکٹر جمشید نے واصف کے جانے کے بعد کہا۔

    ”کیا مطلب؟“ محمود نے چونک کر پوچھا۔

    ”دراصل اس نے ہمیں ہوٹل کے اندر داخل ہوتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ ہوٹل میں کوئی کمرہ خالی نہیں ہے۔ یہاں ہر سال آتا ہے جب اس نے تم لوگوں کو بھی میرے ساتھ دیکھا تو اپنا کمرہ ہمیں دینے کا پروگرام بنا لیا اور میں بتاﺅں یہ یہاں سے جائے گا نہیں۔ نہ ہی اس کا جانے کا پروگرام تھا۔“

    ”اس کا مطلب ہے انہوں نے ہماری وجہ سے کمرہ خالی کر دیا۔ اب وہ خود کہاں جائیں گے؟“ فرزانہ نے پریشان ہو کر پوچھا۔

    ”وہ یہاں ہر سال آتا ہے۔ اس پورے علاقے سے واقف ہے۔ کوئی جگہ ڈھونڈ ہی لے گا۔ میں نے اس کی یہ قربانی اس لئے قبول کر لی کہ تم لوگ میرے ساتھ تھے اور تمہاری پریشانی کی وجہ سے میں نے اس کے جھوٹ کو جان بوجھ کر سچ سمجھ لیا۔“

    ”ہماری وجہ سے انہیں پریشانی ہوئی۔“

    ”کل اس سے معذرت کر لیں گے۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”کل؟ وہ کیسے! کیا وہ کل یہاں آئیں گے؟“

    ”کیوں نہیں۔ کھانا تو اسی ہوٹل سے کھائے گا۔“

    ”لیکن آپ سے یہ کہنے کے بعد وہ یہاں سے جا رہے ہیں پھر کیسے یہاں آسکتے ہیں؟“ بیگم جمشید نے پوچھا۔

    ”تم اسے نہیں جانتیں وہ بہت شیطان ہے۔ کل کھانے کی میز پر آئے گا اور کہے گا یار مجھے بہت افسوس ہے ایک ضروری کام کی وجہ سے جا نہیں سکا۔“

    ”عجیب ہے آپ کا یہ دوست۔“

    ”نہیں! عجیب نہیں، پرخلوص کہو۔ آج کل ایسے دوست کہاں ملتے ہیں۔“

    ”مجھے تو رہ رہ کر یہی خیال آرہا ہے وہ کہاں جائیں گے۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”تم اس کی فکر نہ کرو اور سوٹ کیس سے کپڑے وغیرہ نکال لو۔ ہم تھوڑی دیر آرام کریں گے۔ پھر شام کو سیر کرنے نکلیں گے۔“

    ”ابا جان! آپ نے ایک بات تو بتائی نہیں۔“ فاروق کو کچھ خیال آیا۔

    ”وہ کیا؟“

    ”آپ کتنی چھٹیاں لے کر آئے ہیں۔“

    ”صرف تین۔“

    ”جی؟ کیا کہا؟ صرف تین؟“ تینوں دھک سے رہ گئے۔

    ”ہاں بھئی! تین ہی چھٹیاں ملی ہیں۔“

    ”تب پھر یہاں آنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔“ فرزانہ نے منہ لٹکا لیا۔

    ”اس سے تو ہم اپنے شہر میں ہی اچھے تھے۔“ محمود کی آواز بجھ گئی۔

    ”انکل واصف کو بھی یونہی تکلیف دی۔“ فاروق بولا۔

    ”کیا ضرورت تھی آخر یہاں آنے کی۔ اب پرسوں یہاں سے واپس جانا ہو گا۔ اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا کہ صرف تین دن کی چھٹی ملی ہے تو کبھی نہ آتی۔“ بیگم جمشید نے غصے سے کہا۔

    ”تو اب واپس چلی جاﺅ۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”آپ تو بس مسکرائے جاتے ہیں اور یہاں ہمارا جی جل رہا ہے۔“ بیگم جمشید بولیں۔

    ”کس نے کہا ہے کہ تم سے جی جلانے کو، خوش رہو۔ ہنسو، کھیلو،کودو، گاﺅ، ناچو، کیوں کہ میں پورے پندرہ دن کی چھٹی لے کر آیا ہوں۔“

    ”کیا!“ چاروں ان کے آخری جملے پر خوشی سے اچھل پڑے۔

    واصف سیڑھیاں اتر کر سیدھا کاﺅنٹر کی طرف آیا۔ یوسف خان اسے دیکھتے ہی بولا:

    ”میں حیران ہوں مسٹر واصف یہ آپ نے کیا کیا۔ آپ کا ارادہ تو یہاں پورے ایک ماہ اور رہنے کا تھا۔“

    ”ہاں۔ ایک ماہ ہی رہوں گا۔“

    ”بھئی وہ میرا بچپن کا دوست ہے۔ اس کے بیوی بچے ساتھ تھے۔ لہٰذا میں نے اپنا کمرہ ان کے لئے خالی کرنے کا پروگرام انہیں دیکھتے ہی بنا لیا۔“

    ”لیکن اب آپ کیا کریں گے؟ کہاں جائیں گے؟ اس وقت تو شاید کسی سرائے میں ہی جگہ ملے۔“

    ”میں تمہارے اس خوب صورت مکان میں ٹھہروں گا۔“

    واصف مسکرایا۔

    ”کیا؟ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟“

    ”جو تم سن رہے ہو۔“

    ”نہیں! یہ نہیں ہو سکتا۔“

    ”کیوں نہیں ہو سکتا؟“

    ”آپ جانتے ہی ہیں۔ مکان آسیب زدہ ہے۔ برسوںسے اس پر بھوتوں کا قبضہ ہے۔“

    ”میں جانتا ہوں۔“

    ”اور پھر بھی آپ جانا چاہتے ہیں۔“

    ”ہاں! میں بھوتوں کو نہیں مانتا۔“

    ”لیکن اس سے پہلے بھی ضدی گاہک وہاں ٹھہر کر نقصان اٹھا چکے ہیں۔“

    ”وہ ڈرپوک ہوں گے۔“

    ”ان میں بڑے بڑے دلیر تھے۔“

    ”کچھ بھی ہو، میں ایک ماہ اسی مکان میں گزاروں گا۔ تم مکان کا کرایہ بتاﺅ۔“

    ”نہیں نہیں! یہ نہیں ہو سکتا۔“

    ”کیوں نہیں ہو سکتا۔ تم اپنا کرایہ وصول کرو۔ اس کے بعد جو کچھ ہو گا۔ اس کی ذمہ داری مجھ پر ہو گی۔“

    ”آپ میرے مستقل گاہک ہیں۔ خدا کے لئے اپنے ارادے سے باز آجائیں۔“

    ”میں ایک بار جو ارادہ کر لیتا ہوں پھر پیچھے نہیں ہٹتا۔ لاﺅ مکان کی چابی، کرایہ جو جی چاہے میرے حساب میں لکھ لینا۔“

    ”اس کا کرایہ تین ہزار ماہوار ہے۔“ آخر یوسف خان نے تنگ آکر کہا۔

    ”مجھے منظور ہے۔“

    ”میں آپ کو ایک بار پھر منع کرتا ہوں۔“

    ”اور میں ایک بار پھر کہتا ہوں مجھے منع نہ کرو۔“ واصف ہنسا۔

    ”اچھا آپ کی مرضی۔ لیکن یاد رکھیئے، ساری ذمہ داری آپ پر ہو گی۔ آج تک نہ جانے کتنے آدمی وہاں سے بدحواس ہو کر نکلتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ بہت سے مکان سے باہر نکلتے ہی بے ہوش ہو گئے اور کئی کئی دن ہوش میں نہیں آئے۔ چند ایک تو دماغی توازن ہی کھو بیٹھے اور کئی ماہ کے علاج کے بعد صحت یاب ہوئے۔“

    ”میں سب جانتا ہوں۔ تم بے فکر رہو۔ آج کے بعد کوئی اس مکان سے پاگل ہو کر نہیں نکلے گا۔ بس یوں سمجھو کہ اب بھوتوں کے دن گئے۔ میں ان سے باقاعدہ کُشتی لڑوں گا۔ دیکھوں گا کہ کتنے طاقت ور ہیں۔ اب انہیں یہاں سے بھاگتے ہی بنے گی اور تمہارا مکان ہمیشہ کے لئے بھوتوں سے پاک ہو جائے گا۔ پھر تم اسے تین ہزار تو کیا چھ ہزار روپے کرائے پر دے سکو گے۔ اس میں تمہارا ہی بھلا ہے۔“

    ”آمین!“

    ”مجھ سے زیادہ تم یہ دعا کر رہے ہو گے کہ مکان سے بھوتوں کا قبضہ ختم ہو جائے۔ تم فکر نہ کرو۔ میرے پاس بھی ایسے ایسے منتر ہیں کہ بھوت جل کر خاک ہو جائیں گے۔“

    ”خدا کرے ایسا ہی ہو۔“ یوسف خان نے فکرمندانہ لہجے میں کہا۔

    ”اچھا! خداحافظ۔ اور ہاں! کیا کسی ملازم کو وہاں صفائی کے لئے بھیج سکتے ہو؟“ واصف جاتے جاتے رک گیا۔

    ”کوئی ملازم وہاں جانے کے لئے تیار نہیں ہو گا۔“ یوسف خان نے افسوسناک لہجے میں کہا۔

    ”اچھا! خیر کوئی بات نہیں۔ میں خود ہی صفائی کر لوں گا۔“

    ”مجھے افسوس ہے آپ کو بہت تکلیف ہو گی۔“

    ”نہیں کوئی بات نہیں۔“

    یہ کہتے ہوئے واصف اپنا سوٹ کیس اٹھا کر چابی انگلی پر گھماتے ہوئے باہر نکل گیا۔

    ٭….٭….٭

    شام کی سیر نے انہیں اتنا تھکا دیا تھا کہ واپس آکر کھانا کھاتے ہی سو گئے اور پھر صبح ہی ان کی آنکھ کھلی۔

    ”ناشتا یہاں ہی منگوایا جائے یا ہال میں؟“ انسپکٹر جمشید نے بچوں سے پوچھا۔

    ”ہال میں ہی ٹھیک رہے گا۔“

    ”تو پھر چلو۔ نیچے چلنے کی تیاری کرو۔“

    نہا دھو کر وہ نیچے ہال میں آبیٹھے۔ زیادہ تر میزیں پُر تھیں۔ لوگ ناشتے پر ٹوٹے پڑ رہے تھے۔ جلد ہی ناشتا چن دیا گیا۔

    ”جگہ تو واقعی بہت پیاری ہے۔ جیسا سنا تھا اس سے بڑھ کر پایا۔“

    بیگم جمشید نے چائے کی پیالی اٹھاتے ہوئے ذرا بلند آواز میں کہا کیوں کہ ہال میں چمچوں اور پلیٹوں کی کھنکھناہٹ گونج رہی تھی۔

    ”امی جان! اب تو ہم ہر سال یہاں آیا کریں گے۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”بشرطیکہ تمہارے ابا جان کو یہ بات منظور ہو۔“

    ”کیوں ابا جان۔ آپ کا کیا خیال ہے؟“ فرزانہ نے پوچھا۔

    ”اگلا سال جب آئے گا اس وقت سوچوں گا ابھی کچھ کہہ نہیں سکتا ہوں۔ خدا جانے ان دنوں حالات کیا ہوں۔“ انسپکٹر جمشید نے جواب دیا۔

    ”حالات کیا ہوں گے۔ ہر سال حالات ایک جیسے ہی رہتے ہیں۔“ بیگم جمشید بولیں۔

    ”خیر چھوڑیے اس بات کو۔ اگلا سال جب آئے گا دیکھا جائے گا۔ فی الحال تو ناشتے کی طرف توجہ دیں۔“ فاروق نے کہا۔

    ”ہاں یہ ٹھیک ہے۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    ”نا جانے بے چارے واصف کا کیا بنا ہو گا۔خدا جانے رات کہاں گزاری ہو گی۔“

    ”وہ بڑے مزے سے سویا ہو گا۔ تھوڑی دیر بعد یہاں مسکراتا ہوا آجائے گا۔ بے فکر رہو۔“

    ”انکل واصف شہر میں کہاں رہتے ہیں؟“ فاروق نے پوچھا۔

    ”مسلم آباد میں۔“

    ”ہم ان کے ہاں ضرور جائیں گے۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”ہاں ہاں! کیوں نہیں۔ وہ میرا بہت اچھا دوست ہے۔“

    ”اس میں کیا شک ہے۔“ بیگم جمشید نے کہا۔

    ”ابا جان! فاروق کو دیکھ رہے ہیں کس تیزی سے ہاتھ چلا رہا ہے۔“ محمود نے کہا۔

    ”بہت بھوک لگی ہے۔ کیا کروں؟“

    ”پھر بھی آہستہ آہستہ کھانا چاہیے۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    ”جی بہتر!“ فاروق نے کہا اور بہت ہی آہستہ آہستہ منہ چلانے لگا۔ یہاں تک کہ ایک ہی لقمے کو چباتے ہوئے دو منٹ گزر گئے۔ چاروں کو اس کی حرکت پر ہنسی آگئی۔

    ”بیٹا! کچھ رفتار تیز کر لو ورنہ نقصان میں رہو گے۔“

    بیگم جمشید نے ہنستے ہوئے کہا۔

    ”جی اچھا!“ فاروق نے کہا اور ایک بار پھر بڑھ بڑھ کر ہاتھ مارنے لگا۔

    دفعتاً وہ چونک اٹھے۔ چار آدمی ایک بیڈ اپنے کندھے پر اٹھائے ہوٹل میں داخل ہو رہے تھے۔ چارپائی خالی نہیں تھی۔ اس پر کوئی لیٹا ہوا تھا۔ اسے سر سے پاﺅں تک چادر اوڑھا دی گئی تھی۔ ہوٹل میں موجود کچھ لوگوں نے لاپروائی سے کہا۔

    ”بھوتوں کا نیا شکار!“

    انسپکٹر جمشید کے لئے سب سے حیرت ناک بات یہ تھی کہ ہوٹل کے ہال میں بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کسی نے اس طرف دھیان نہیں دیا تھا۔انہوں نے قریب کھڑے ویٹر کو بلا کر پوچھا:

    ”یہ سب کیا ہے؟“

    ”کوئی آدمی بھوتوں کا شکار ہو گیا ہے۔“

    ”جی ہاں۔“

    ”صاف صاف بتاﺅ۔ میں نہیں سمجھا۔“

    ”کیا آپ کل شام ہی آئے ہیں؟“ بیرے نے پوچھا۔

    ”ہاں۔“

    ”اسی لئے پوچھ رہے ہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ یہاں ایک خوب صورت مکان ہے۔“

    ”پھر وہی مکان!“ فرزانہ بڑبڑائی۔

    ”ہاں تو پھر؟ “ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”اس مکان پر بھوتوں کا قبضہ ہے۔“

    ”تمہارا مطلب ہے مکان آسیب زدہ ہے۔“

    ”جی ہاں۔“

    ”آگے بتاﺅ۔“

    ”اس مکان کو کوئی نہ کوئی شخص ضد کر کے کرائے پر حاصل کر لیتا ہے، جسے کوئی کمرہ یا مکان کرائے پر نہ ملے اور پھر اگلی صبح وہ مکان کے باہر بے ہوش پایا جاتا ہے۔“

    ”بے ہوش پایا جاتا ہے۔“ انسپکٹر جمشید نے حیران ہو کر کہا۔

    ”ہاں!“

    ”تو کیا یہ لوگ اس جگہ سے کسی بے ہوش آدمی کو اٹھا کر لائے ہیں؟“

    ”جی ہاں!“

    ”لیکن یہاں کیوں لائے ہیں ہسپتال میں کیوں نہیں لے گئے؟“

    ”یہاں کوئی ہسپتال نہیں ہے۔ ہوٹل کا ایک ڈاکٹر ہے۔ اس لئے بے ہوش ہونے والوں کو یہاں ہی لایا جاتا ہے۔“

    ”ہوں! دیکھنا چاہیے۔“

    چارپائی کو کاﺅنٹر کے پاس ہی رکھ دیا گیا تھا۔ انسپکٹر جمشید اٹھے اور چارپائی کی طرف بڑھے۔ ان کے پیچھے محمود اور فاروق بھی تھے۔ بیگم جمشید اور فرزانہ میز پر ہی بیٹھی رہیں۔ انسپکٹر جمشید نے قریب جا کر بے ہوش آدمی کے چہرے سے چادر الٹ دی۔ دوسرے ہی لمحے وہ تینوں بری طرح اچھلے۔

    بے ہوش آدمی واصف کے علاوہ کوئی نہ تھا۔

    ٭….٭….٭

    بھوت کا قہقہہ

    ”یہ سب کیا ہے؟“ انسپکٹر جمشید ہوٹل کے مالک یوسف خان کی طرف مڑے۔

    ”میں نے ایک آدمی بھیج دیا ہے۔ ڈاکٹر ابھی آتا ہی ہو گا۔“

    ”لیکن یہ سب ہے کیا؟ اسے کیا ہوا ہے؟“

    ”یہ ضد کر کے آسیب زدہ مکان میں چلے گئے تھے۔“

    ”کیا تم ہی اس مکان کے مالک ہو؟“

    ”ہاں۔“

    ”پھر تم اسے کرائے پر کیوں دیتے ہو۔“

    ”میں کہاں دیتا ہوں جناب۔ لوگ زبردستی اسے کرائے پر حاصل کر لیتے ہیں۔“

    ”ہوں! ڈاکٹر بھی ابھی تک نہیں آیا۔“

    ”بس آنے والا ہی ہے۔“

    ہال میں باقی لوگ بے فکری سے اپنی اپنی میزوں پر بیٹھے کھانے پینے میں مصروف رہے، کسی نے اٹھ کر دیکھنے کی کوشش نہیں کی۔

    ”تم یوں کرو کہ اسے میرے کمرے میں پہنچا دو۔ ڈاکٹر وہیں آجائے گا۔“ آخر تنگ آکر انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”جی اچھا۔“

    ایک بار پھر چار آدمیوں نے مل کر واصف کو اٹھایا اور اسے اوپر کمرے میں لے آئے۔

    انسپکٹر جمشید بھی بیوی بچوں سمیت کمرے میں آگئے۔

    ”یہ ہماری وجہ سے اس مصیبت میں گرفتار ہوا ہے۔“

    ”ہاں! اگر مجھے معلوم ہوتا کہ یہاں کوئی اس قسم کا مکان ہے اور واصف اسے کرائے پر لے گا تو کبھی اسے ایسا نہ کرنے دیتا۔“

    اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی۔ محمود نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔ ڈاکٹر اندر داخل ہوا، وہ منہ ہی میں بڑبڑا رہا تھا۔

    ”بے وقوف کہیں کے۔ جب سب کو معلوم ہے کہ مکان آسیب زدہ ہے تو وہاں جا کر رہتے ہی کیوں ہیں۔ روز روز کی مصیبت سے میں تو تنگ آگیا ہوں۔“ پھر وہ واصف پر جھک گیا۔ اس کی آنکھوں کے پپوٹے اٹھا کر ان میں جھانکا پھر نبض دیکھی۔ اس کے بعد اس نے واصف کو ایک انجکشن دیا۔

    ”یہ پندرہ بیس منٹ تک ہوش میں آجائے گا۔“ اس نے لاپروائی سے کہا اور کمرے سے باہر جانے لگا۔

    ”شکریہ ڈاکٹر صاحب۔ آپ نے اپنا تعارف نہیں کروایا۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    ڈاکٹر چونک کر مڑا۔ اب پہلی بار اس نے ان سب کو ذرا توجہ سے دیکھا اور بولا:

    ”تعارف؟ تعارف کیا بس ہوٹل کا ڈاکٹر ہوں۔“

    ”آپ کا نام۔“

    ”مجھے ڈاکٹر ریاض کہتے ہیں۔ کیوں آپ نے میرا نام کیوں پوچھا؟“

    ”بس یونہی! آپ کا چہرہ کچھ جانا پہچانا سا لگ رہا ہے۔“

    ”کیا آپ شہر میں بھی پریکٹس کرتے رہتے ہیں؟“

    ”شہر میں۔ جی۔ جی نہیں تو۔ میں تو ایک مدت سے یہیں کام کرتا ہوں۔“

    ”اوہ! شاید مجھے ہی غلط فہمی ہوئی۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”مجھے سرور بیگ کہتے ہیں۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا اور محمود، فاروق اور فرزانہ انہیں حیرت سے دیکھنے لگے۔

    ”اچھا تو مسٹر سرور میں اب چلتا ہوں۔ کل پھر آکر مریض کو دیکھ جاﺅں گا۔ اگر اسے دو گھنٹے تک ہوش نہ آئے تو مجھے دوبارہ بلا لیجئے گا۔“

    ”شکریہ!“

    ”آپ نے اپنا نام غلط کیوں بتایا؟“ بیگم جمشید نے پوچھا۔

    ”بس یونہی! اصل نام بتانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ لوگ عجیب عجیب نظروںسے دیکھتے ہیں۔“

    ”تو کیا ہوٹل کے رجسٹر میں بھی آپ نے اپنا یہی نام لکھا ہے۔“

    ”ہاں!“

    وہ دو گھنٹے تک بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ ٹھیک دو گھنٹے بعد واصف نے آنکھیں کھول دیں۔ پہلے تو بے خیالی میں اِدھر اُدھر دیکھتا رہا پھر اس کی نظریں انسپکٹر جمشید کے چہرے پر ٹک گئیں۔

    ”ہیلو واصف! کیا حال ہے؟ اب تمہاری طبیعت کیسی ہے؟“

    ”کیوں؟ مجھے کیا ہوا ہے؟“

    ”کچھ نہیں! کچھ بھی تو نہیں۔“

    ”میں کہاں ہوں؟ ارے میں تو رات کو اس مکان میں سویا تھا۔ پھر یہاں کیسے پہنچ گیا؟ یہ سب کیا ہے؟“

    ”تم رات کو اس مکان میں سوئے تھے؟“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”ہاں!“

    ”پھر رات کے وقت وہاں کیا واقعات پیش آئے۔“

    ”واقعات؟ اوہ!“ اچانک اس کی آنکھیں دہشت سے پھیل گئیں۔ پھر وہ تھر تھر کانپنے لگا۔

    ”واصف! تمہیں کیا ہوا ہے۔ ہوش میں آﺅ۔“

    اس کی حالت چند منٹ بعد معمول پر آگئی۔ آخر وہ بولا:

    ”میں نے بہت بھیانک رات بسر کی۔ مگر میں یہاں کیسے پہنچ گیا۔ اوہ! سمجھ گیا۔ مجھے ضرور چار آدمی چارپائی پر ڈال کر لائے ہوں گے۔“

    ”ہاں! کیا تم اس خوفناک مکان سے ڈر کر بھاگ نکلے تھے؟“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”بھاگ نکلا تھا؟ نہیں تو، میں تو شاید مکان کے اندر بے ہوش ہو گیا تھا۔“

    ”آخر تمہیں وہاں کیا نظر آیا؟“

    ”کیا نظر آیا؟“ واصف سوچنے لگا اور ایک بار پھر اس پر کپکپی طاری ہو گئی۔

    ”نن۔ نہیں! میں نہیں بتا سکتا۔ نہیں بتا سکتا۔“

    ”اچھا نہ بتاﺅ۔ آرام سے لیٹ جاﺅ۔ بلکہ سو جاﺅ۔ تم اتنا تو بتاﺅ کہ تمہارا سامان کہاں ہے؟“

    ”سامان۔ سامان تو وہیں تھا۔ اسی مکان میں۔“

    ”تمہارے پاس نقد رقم تو نہیں تھی۔“

    ”تھی۔ کیوں نہیں۔ میرے پاس پچیس ہزار روپے تھے۔“ واصف نے بتایا۔

    ”وہ کہاں ہیں؟“

    ”وہیں ہوں گے۔ اس مکان میں ہی۔“

    ”وہ تم نے کہاں رکھے تھے۔“

    ”اپنے سوٹ کیس میں۔“

    ”اور سوٹ کیس کہاں رکھا تھا؟“

    ”جس کمرے میں میں سویا تھا، اس میں ایک الماری تھی اسی میں سوٹ کیس رکھا تھا۔“

    ”اچھا! میں وہ سوٹ کیس جا کر لے آتا ہوں۔“

    ”نہیں نہیں! ہرگز نہیں۔“

    ”کیا مطلب؟“

    ”وہ۔ وہ۔ وہ تم وہاں نہ جاﺅ۔ ہرگز نہیں۔“

    ”کیوں؟ ارے بھئی سامان تو وہاں سے لانا ہی ہو گا۔“

    ”نہیں نہیں۔ وہاں نہ جانا۔ خدا کے لئے وہاں نہ جانا وہاں جانا خطرے سے خالی نہیں۔“

    ”آخر تم نے وہاں کیا دیکھا تھا؟“

    ”کچھ یاد نہیں آتا۔ میں بھول گیا ہوں۔ یاد کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو ڈر لگنے لگتا ہے۔“

    ”اچھا۔ میں وہاں نہیں جاﺅں گا۔ تم بے فکر رہو۔ کیا اس مکان کی چابی تمہارے پاس ہے۔“

    ”پتا نہیں۔ میری جیب میں ہو گی۔“ یہ کہہ کر واصف نے اپنی پتلون کی جیبیں ٹٹولیں لیکن چابی نہ ملی۔

    ”نہیں! چابی میری جیبوں میں نہیں ہے۔“

    ”کیا تم نے جیب میں رکھی تھی؟“

    ”ہاں!“

    ”ٹھیک ہے۔ تم سو جاﺅ۔“

    واصف نے آنکھیں بند کر لیں۔ وہ اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد انسپکٹر جمشید نے اسے آواز دی مگر اس کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا۔

    ”میں ذرا جا کر اس کا سوٹ کیس لے آﺅں۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”مجھے تو ڈر لگ رہا ہے۔ آپ کو وہاں نہیں جانا چاہیے۔“

    ”ڈرنے کی بھلا کیا ضرورت ہے۔ دن کے وقت کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا۔“

    ”تو ابا جان ہمیں بھی ساتھ لے چلئے۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”ڈرو گی تو نہیں؟“

    ”بالکل نہیں۔“

    ”تو آﺅ۔“

    ”ذرا ٹھہریئے ابا جان۔ کیا آپ ہمیں ڈرپوک سمجھتے ہیں؟ ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں گے۔“

    ”چلو بھئی چلو میں جانتا ہوں۔ تم تینوں قطعاً ڈرپوک نہیں ہو۔“

    ”میں واصف کے پاس ٹھہرتی ہوں۔“ بیگم جمشید بولیں۔

    ”ہاں ٹھیک ہے۔“

    ”چاروں سیڑھیاں اترتے ہوئے کاﺅنٹر پر آئے۔ یوسف خان نے انہیں اپنی عینک میں سے دیکھا۔

    ”مسٹر یوسف! مجھے اس مکان کی چابی چاہیے۔“

    ”چابی؟ اس آسیب زدہ مکان کی چابی؟“

    ”ہاں۔“

    ”کیوں؟ آپ کیا کریں گے اس کا؟“ یوسف خان نے حیران ہو کر پوچھا۔

    ”میرے دوست واصف کا سامان وہیں رہ گیا ہے۔“

    ”آپ وہاں نہ جائیں تو بہتر ہے۔“

    ”کیوں اس میں کیا حرج ہے؟“

    ”اس سے پہلے بھی جو لوگ وہاں سے ڈر کر بھاگے یا بے ہوش پائے گئے، اپنا سامان وہاں چھوڑ کر آچکے ہیں۔ ان میں سے چند ایک کے دوست اور رشتہ دار جب وہاں سامان لینے پہنچے تو سر پر پاﺅں رکھ کر خالی ہاتھ وہاں سے بھاگتے ہوئے آئے۔ آج تک بھوتوں کے کسی شکار کا سامان وہاں سے نہیں لایا گیا۔“

    ”حیرت ہے۔ پھر وہ سامان کہاں جاتا ہے؟“

    ”جاتا کہاں ہو گا۔ سب کا سامان وہیں پڑا ہو گا۔“

    ”کیا تم نے بھی کبھی وہاں جا کر دیکھا؟“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”میں نے؟ میری تو وہاں جانے کے نام سے روح لرزتی ہے۔“

    ”آخر تم وہاں کسی کو ٹھہرنے ہی کیوں دیتے ہو؟“

    ”لوگ زبردستی کرتے ہیں۔“

    ”کیا پولیس کو ان حادثات کی اطلاع دی ہے؟“

    ”ہاں! شروع شروع میں دو تین مرتبہ پولیس والے بھی آئے تھے لیکن روز روز کون آئے۔ آخر انہوں نے آنا بند کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ وہاں ٹھہرتے ہی کیوں ہیں۔“

    ”آج کے حادثے کی اطلاع پولیس کو دی گئی؟“ انہوں نے پوچھا۔

    ”نہیں! اب میں نے اطلاع دینی چھوڑ دی ہے۔“

    ”کیوں؟“

    ”اطلاع دینے کا فائدہ ہی کیا ہوتا ہے۔ پولیس والے بھی تو اس مکان میں داخل ہونے سے گھبراتے ہیں۔“

    ”کیا آج تک کوئی پولیس والا مکان میں داخل ہوا ہے؟“

    ”جی ہاں! ایک اے ایس آئی یہاں نیا نیا آیا تو اسے ان حادثات کی اطلاع ملی۔ وہ بہت اکڑتا ہوا مکان میں داخل ہوا لیکن دیکھنے والوں نے اسے بدحواس ہو کر نکلتے دیکھا، پھر وہ باقر گنج ہی چھوڑ کر چلا گیا۔“

    ”ہوں! آج تک جتنے بھی حادثات ہوئے ہیں۔ یعنی بھوتوں کے کسی شکار نے بتایا بھی کہ اسے کیا واقعات پیش آئے۔ یا اس نے مکان میں کیا دیکھا۔“

    ”یہی تو سب سے بڑی حیرانی کی بات ہے۔ آج تک کوئی بھی نہیں بتا سکا کہ اندر اس کے ساتھ کیا ہوا یا اس نے کیا دیکھا۔“ یوسف خان نے بتایا۔

    ”حیرت ہے۔“

    ”کوئی ایسی ویسی حرکت۔ میں تو سوچ سوچ کر پاگل ہونے لگتا ہوں۔“

    ”کوئی شخص آج تک مرا تو نہیں؟“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”جی نہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔“

    ”مہینے میں کتنے آدمی بھوتوں کا شکار ہو جاتے ہوں گے؟“

    ”جی! بات دراصل یہ ہے کہ باقر گنج میں سیروتفریح کے لئے مقامی اور غیرملکی لوگ سارا سال ہی آتے رہتے ہیں اور کوئی نہ کوئی اس مکان کو خالی پاکر پوچھتا پاچھتا میرے پاس آ جاتا ہے۔ لاکھ سمجھانے پر بھی جب وہ نہیں مانتا تو میں تنگ آکر اسے مکان کرائے پر دے دیتا ہوں۔“

    ”ہوں! اچھا خیر مہربانی فرما کر تم مجھے مکان کی چابی دے دو۔“

    ”میں پھر کہتا ہوں آپ کو وہاں نہیں جانا چاہیے۔“

    ”میرے دوست پر یہ مصیبت میری وجہ سے آئی ہے۔ اس لئے میں وہاں جا کر اس کا سامان ضرور لاﺅں گا۔“

    ”اچھا! جیسے آپ کی مرضی۔ لیکن ساری ذمہ داری آپ کی ہو گی۔ میں نے آپ کو خبردار کر دیا ہے۔“

    ”ہاں! ہاں! تم بے فکر رہو۔ میں تمہیں کوئی الزام نہیں دوں گا۔“

    ”تو یہ لیجئے چابی۔ خدا آپ کو ہر مصیبت سے بچائے۔“

    ”شکریہ! ایک بات رہ جاتی ہے۔ مکان ہے کس طرف؟“

    ”یہ سیدھی سڑک جا رہی ہے۔ آگے جا کر دائیں ہاتھ مڑیئے گا۔ آپ کو مکان دور سے نظر آجائے گا۔“

    ”اس مکان کو تالا کون لگاتا ہے جب کہ قیام کرنے والا وہاں سے بھاگ کھڑا ہوتا ہے یا مکان سے باہر بے ہوش ملتا ہے؟“ انسپکٹر جمشید نے سوال کیا۔

    ”یہی تو سب سے عجیب بات ہے۔“ یوسف نے کہا۔

    ”کیا مطلب؟“

    ”صبح سویرے تالا لگا ہوا ملتا ہے۔“

    ”تمہارا مطلب ہے بھوت مکان کو تالا لگا دیتے ہیں۔“

    ”اس کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے۔“

    ”ہوں! ٹھیک ہے۔ آﺅ بچو۔“

    ”ارے! کیا آپ ان بچوں کو بھی ساتھ لے جا رہے ہیں؟“ یوسف نے حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر پوچھا۔

    ”ہاں۔“

    ”کیا آپ ہوش میں ہیں؟“

    ”ہاں! میں ہوش میں ہوں۔“

    ”خدا کے لئے ان بچوں کو ساتھ نہ لے جائیں۔“

    ”خدا آپ کے حال پر رحم کرے۔“

    وہ ہوٹل سے باہر نکل آئے۔ یوسف خان انہیں اس طرح آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہا تھا جیسے وہ کسی دوسری دنیا کی مخلوق ہوں۔

    ”بہتر یہی ہو گا کہ تم میرے ساتھ نہ جاﺅ۔“ انسپکٹر جمشید نے باہر آکر کہا۔ حالاں کہ وہ جانتے تھے بچے ہرگز اس پر آمادہ نہیں ہوں گے۔

    ”کیوں؟“ محمود نے پوچھا۔

    ”تم نے یوسف خان کی باتیں نہیں سنیں؟ ان حالات میں تمہارا وہاں جانا ٹھیک نہیں۔“

    ”کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہاں سچ مچ بھوت رہتے ہیں؟“

    فرزانہ بولی۔

    ”نہیں! خیر میں یہ تو نہیں سمجھتا۔“

    ”تب پھر ہمیں وہاں لے جانے میں کیا حرج ہے؟“

    ”ہو سکتا ہے کہ وہاں کوئی اور خطرہ ہو۔“

    ”کچھ بھی ہو، ہم ساتھ جائیں گے۔“ فاروق نے اٹل لہجے میں کہا۔

    ”میں جانتا تھا تم نہیں مانو گے۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”تو پھر آپ کیوں کہہ رہے تھے؟“

    ”صرف تمہیں آزما رہا تھا کہ کہیں ہوٹل کے مالک کی باتیں سن کر ڈر تو نہیں گئے۔“

    ”ابھی تک تو نہیں ڈرے۔ آگے خدا بہتر جانتا ہے۔“

    ”لو بھئی! سڑک کا موڑ آگیا ہے۔ یہاں سے دائیں طرف مڑنا ہے۔“

    وہ دائیں ہاتھ مڑ گئے۔ مڑتے ہی انہیں ایک شاندار مکان دکھائی دیا۔ اس وقت دن کے دس بج رہے تھے۔ ہر طرف دھوپ پھیل چکی تھی اور پہاڑیاں دھوپ میں سونے کی مانند چمک رہی تھیں۔ ہوا میں خنکی تھی۔

    ”یہی معلوم ہوتا ہے۔“ فرزانہ بولی۔

    ”ہاں! آس پاس کوئی اور مکان نہیں ہے۔“ فاروق بولا۔

    ”معلوم ہوتا ہے تمہیں ڈر لگ رہا ہے۔“ محمود نے مسکراتے ہوئے کہا۔

    ”رنگ تو اڑا ہوا ہے تمہارے چہرے کا۔“ فرزانہ بولی، اس کے ہونٹوں پر شدید مسکراہٹ تھی۔

    ”اور تمہاری ٹانگیں لرز رہی ہیں۔“ فاروق نے جل کر کہا۔

    ”کتنی سنسان جگہ ہے۔ دور دور تک کسی آدمی کا نام و نشان تک دکھائی نہیں دیتا۔“ انسپکٹر جمشید چاروں طرف دیکھتے ہوئے بولے۔

    ”وہ لوگ جو یہاں قیام کرنے کی ضد کر بیٹھتے ہیں، کتنے دلیر ہوتے ہوں گے پھر بھی انہیں یہاں سے بھاگنا ہی پڑتا ہے۔“

    ”آس پاس کوئی اور مکان بھی تو نہیں ہے۔“ فاروق نے کہا۔

    ”اور اردگرد کی پہاڑیاں بالکل جنوں اور دیوﺅں کی مانند ہیں۔ جیسے یہ اس مکان کی محافظ ہوں۔“

    ”ویسے مکان ہے بہت خوب صورت، مکان دکھائی ہی نہیں دیتا۔“ فرزانہ بولی۔

    ”پھر کیا خیال ہے کیا ہم ہوٹل سے اس مکان میں منتقل ہو جائیں۔“ محمود نے پوچھا۔

    ”مجھے تو کوئی اعتراض نہیں۔ البتہ فاروق شاید اس پر تیار نہیں ہو گا۔“ محمود نے پوچھا۔

    ”کیوں؟ میں کیوں تیار نہیں ہوں گا؟“

    ”ڈرپوک جو ٹھہرے۔“

    ”اچھا! یہ بات ہے۔ تو ہم آج ہی اس مکان میں منتقل ہو جائیں گے۔ ابا جان میں یہ طعنہ برداشت نہیں کر سکتا۔“

    ”تو تم جو طعنہ برداشت کر سکتے ہو وہ ہمیں بتا دو۔“ محمود انسپکٹر جمشید کے کچھ کہنے سے پہلے بولا۔

    ”ہم اس کے متعلق بعد میں فیصلہ کریں گے۔ سب سے پہلے تو ہمیں واصف کا سوٹ کیس یہاں سے نکال کر اس کے حوالے کرنا ہے۔“

    ”جی ہاں۔ ٹھیک ہے۔“ تینوں ایک ساتھ بولے۔

    اب وہ مکان کے بالکل سامنے پہنچ گئے تھے۔ مکان کا رنگ خون کی مانند سرخ تھا۔ البتہ دروازوں اور کھڑکیوں کو نیلا رنگ کیا گیا تھا۔ سرخ اور نیلے رنگ کا ملاپ واقعی کچھ ڈراﺅنا سا منظر پیش کر رہا تھا۔ انسپکٹر جمشید نے دروازے کے پاس پہنچ کر جیب سے یوسف خان کی دی ہوئی چابی نکالی تو انہوں نے چابی تالے کے سوراخ میں داخل کی۔ دوسرے ہی لمحے تالا کھٹاک کی آواز کے ساتھ کھل گیا۔ انہوں نے دروازہ اندر کی طرف دھکیلا تو تیز چڑچڑاہٹ کی آواز کے ساتھ کھلتا چلا گیا۔ دروازے کی آواز نے تینوں کو سہما دیا۔

    ”اُف توبہ! کس قدر خوف ناک چڑچڑاہٹ تھی۔“ محمود بولا۔

    ”بس ابھی سے ڈر گئے۔“ فاروق نے کہا۔ غالباً وہ ہنس کر اپنا خوف دور کرنا چاہتا تھا۔

    ”ڈرکون کمبخت رہا ہے۔“ محمود نے اکڑ کر کہا۔

    ”میرا خیال ہے تم تینوں باہر ہی ٹھہرو میں اندر جا کر سوٹ کیس لے آتا ہوں۔“

    ”جی نہیں! ہم آپ کے ساتھ چلیں گے۔“

    ”دیکھو ضد نہ کرو۔“

    ”ہم آپ کو تنہا اندر نہیں جانے دیں گے۔“ محمود نے اٹل لہجے میں کہا۔

    ”اچھا آﺅ۔“ یہ کہہ کر انسپکٹر جمشید دروازے میں داخل ہو گئے۔ ان کے پیچھے تینوں بھی اندر داخل ہو گئے۔

    اور عین اسی وقت دروازہ اسی قسم کی تیز چڑچڑاہٹ کے ساتھ یک دم بند ہو گیا۔ ساتھ ہی مکان کے اندر ایک طویل خوف ناک قہقہہ گونجا:

    ”ہاہاہا۔ہاہا۔ ہا۔“

    قہقہے کی آواز اس قدر خوف ناک تھی کہ ان کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ تینوں کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ یوں بھی دروازہ بند ہوتے ہی مکان میں گھپ اندھیرا چھا گیا تھا۔

    ”ابا جان! دروازہ خود بخود بند ہو گیا۔“ محمود چلایا۔

    ”پرواہ نہ کرو۔ بجلی کا سوئچ تلاش کرو۔ میں دائیں طرف دیکھتا ہوں۔ تم بائیں طرف دیکھو۔“

    ”قہقہہ ابھی تک جاری تھا۔ کسی طرح ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔“

    ”سن رہے ہو؟“ فاروق بولا۔

    ”کیا؟“ محمود کے منہ سے نکلا۔

    ”بھوت کا قہقہہ۔ اُف توبہ کس قدر لمبا ہے یہ قہقہہ۔ بھوت بھی اتنا ہی لمبا ہو گا جتنا قہقہہ۔“ فرزانہ کی کپکپاتی ہوئی آواز آئی۔

    اچانک قہقہے کو جیسے بریک لگ گیا اورمکان میں مکمل سناٹا چھا گیا۔ یہ سناٹا بھی انہیں بے حد خوف ناک لگا۔

    ”اس خاموشی سے تو وہ قہقہہ ہی اچھا تھا۔“ محمود نے تلملا کر کہا۔

    ”تو تم خود کیوں نہیں شروع کر دیتے۔“ فاروق نے مشورہ دیا۔

    ”اسی وقت بجلی کا بلب روشن ہو گیا۔ وہ مکان کے برآمدے میں کھڑے تھے۔ محمود کو روشنی ہونے کے بعد سب سے پہلے دروازے کا خیال آیا۔ وہ دروازے کی طرف جھپٹا۔

    دروازے کا ہینڈل پکڑ کر اپنی طرف کھینچا لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔

    ”ابھی کھولنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ آﺅ اندر چلیں۔“

    تینوں ایک لمحے کے لئے ہچکچائے۔ پھر ان کے پیچھے چل پڑے۔ جوں ہی انہوں نے قدم بڑھائے۔ کسی کے بھاری بھرکم قدموں کی زور دار آہٹ آنے لگی۔

    ”بھوت ہمارے ساتھ چل رہے ہیں۔“ فرزانہ نے گھٹی گھٹی آواز میں کہا۔

    ”نت۔ تو۔ تم تمہاری جان کیوں نکل رہی ہے۔“ محمود ہکلایا۔

    ”اور تم کیوں ہکلا رہے ہو؟“ فاروق بولا۔

    ”میں۔ مم۔ میں تو بھوتوں کا دل رکھنے کے لئے ہکلا رہا ہوں تاکہ انہیں مایوسی نہ ہو۔“ محمود بولا۔

    ”بہت خیال ہے تمہیں بھوتوںکا۔“ فاروق نے کہا۔

    ”ہمارے میزبان جو ٹھہرے۔“

    ”آہا! تو کیا ہم بھوتوں کے مہمان ہیں۔“ فرزانہ بولی۔

    ”ہاں! میں نے کسی سے سنا تھا کہ بھوت بہت مہمان نواز ہوتے ہیں۔ اپنے مہمانوں کی خوب آﺅ بھگت کرتے ہیں۔ ابا جان۔“ محمود نے انسپکٹر جمشید کو ایک کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر کہا۔ پھر وہ تینوں بھی تیزی سے اس کمرے میں داخل ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی بھوتوں کے قدموں کی آوازیں رک گئیں۔

    ”لو بھئی! آواز رک گئی۔ معلوم ہوتا ہے بھوت صاحبان بھی اس کمرے میں داخل ہو چکے ہیں۔“ محمود بولا۔

    ”خبردار ان کرسیوں پر نہ بیٹھنا۔“ فاروق نے بلند آواز میں کہا۔

    ”کیوں؟“ فرزانہ نے حیران ہو کر پوچھا۔

    ”ہو سکتا ہے، بھوت ان کرسیوں پر ہم سے پہلے ہی بیٹھ چکے ہوں۔“ فاروق کی بات پر تینوں کو بے تحاشہ ہنسی آگئی۔

    ”کمرے میں بستر لگا ہوا ہے۔ الماری بھی ہے۔ واصف ضرور یہیں سویا ہو گا۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”تو الماری کھول کر دیکھئے نا۔ اس میں سوٹ کیس ہو گا۔“ فرزانہ نے کہا۔

    انسپکٹر جمشید نے الماری کے پٹ کھول ڈالے۔ دوسرے ہی لمحے چاروں کے منہ سے بے ساختہ چیخیں نکل گئیں۔ الماری میں سے بیسیوں چمگاڈریں پھڑپھڑاتی ہوئی نکلی تھیں اور اب وہ کمرے میں چکر لگا رہی تھیں۔

    الماری خالی تھی!

    ٭….٭….٭

    انسانی ڈھانچہ

    تینوں بچے چمگاڈروں کو ڈری ڈری حالت میں دیکھ رہے تھے۔ چمگاڈروں کی آوازیں بھی لمحہ بہ لمحہ تیز ہوتی جا رہی تھیں۔

    ”مم۔ معلوم ہوتا ہے بھوتوں نے چمگاڈروں کا روپ بدل لیا ہے۔“ فاروق کپکپاتی آواز میں بولا۔

    ”تمہاری آواز کیوں رو رہی ہے؟“ محمود نے پوچھا۔

    ”میں چمگاڈروں کی آواز میں آواز ملا رہا ہوں۔“ فاروق نے جملہ چست کیا۔

    ”کیا دوسرے کمرے دیکھیں گے؟“

    ”ہاں! وہ تو دیکھنے ہی پڑیں گے۔“

    چاروں اس کمرے سے نکل آئے اور دروازہ بند کر دیا اس کمرے کے ساتھ ہی ایک دوسرا کمرہ تھا۔ انسپکٹر جمشید نے اس کا دروازہ کھولا۔ دروازہ کھلتے ہی ایک بلی کی تیز اور دردناک چیخ فضا میں ابھری۔ ساتھ ہی ایک سیاہ اور موٹی تازی بلی انسپکٹر جمشید پر جھپٹی۔ انسپکٹر جمشید اس حملے کے لئے تیار نہیں تھے۔ پھر بھی انہوں نے خود کو بڑی پھرتی سے ایک طرف کر لیا۔ بلی اپنے زور میں دیوار سے ٹکرائی۔ وہ اٹھی اور پھر ان کی طرف آئی۔ اس مرتبہ انسپکٹر جمشید نے اسے پاﺅں کی ایک ٹھوکر رسید کی لیکن یہ دیکھ کر ان کی حیرانی کی انتہا نہ رہی کہ بلی ایک بار پھر اسی جوش و خروش کے ساتھ ان پر حملہ کر رہی ہے۔ آخر تنگ آکر انہوں نے جیب سے پستول نکالا اور اس پر فائر کر دیا۔ فائر کی آواز کے ساتھ ایک بار پھر وہی خوفناک طویل قہقہہ شروع ہو گیا۔ بلی کمرے کے درمیان پڑی تڑپ رہی تھی اور قہقہہ تینوں بچوں کے ہوش اڑائے دے رہا تھا۔

    اس کمرے میں بھی انہیں سوٹ کیس نہ ملا۔ تیسرے کمرے کا دروازہ کھلتے ہی ایک خوف ناک دھمک کی آواز سنائی دینے لگی۔ جیسے دور بہت دور جنگلی قبائلیوں کا کوئی قبیلہ کسی شخص کی قربانی دینے سے پہلے بڑے بڑے ڈھول بجا رہا تھا۔ یہ دھمک کی آواز اس قدر پراسرار تھی کہ ان کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔

    ”بھوت۔ ڈھ۔ ڈھول بجا رہے ہیں۔“ فاروق کے منہ سے نکلا۔

    ”ہاں۔ شش۔ شاید کسی بھوت کی شادی ہو رہی ہے؟“

    ”ہم۔ ہم بھی دعوت کھا کر جائیں گے۔“ فرزانہ کی پرسکون آواز سنائی دی۔

    ”آﺅ! یہاں بھی کچھ نہیں ہے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”دھمک اس وقت تک جاری رہی جب تک کہ کمرے کا دروازہ بند نہیں کر دیا گیا۔ نچلی منزل پر صرف تین ہی کمرے تھے۔ انسپکٹر جمشید زینے پر چڑھے لیکن اس کے دروازے پر تالا لگا ہوا تھا۔

    ”اس کا مطلب یہ ہے کہ واصف انہی تین کمروں میں سے کسی میں سویا ہو گا۔ کیوں کہ نچلی منزل میں صرف یہی تین کمرے سونے کے ہیں۔ کیا خیال ہے ڈرائنگ روم بھی دیکھ لیا جائے؟“

    ”جی ہاں! ضرور۔ لیکن کیا واصف چچا ڈرائنگ روم میں سوئے ہوں گے؟“

    ”نہیں! پھر بھی دیکھ لینے میں کیا حرج ہے؟“

    ”جی! حرج تو کچھ نہیں۔ لیکن ہو سکتا ہے بھوت ڈرائنگ روم میں کوئی پرائیویٹ میٹنگ کر رہے ہوں۔“ فاروق بولا۔

    ”آﺅ بھئی! دیکھیں گے ان بھوتوں کو بھی پہلے سوٹ کیس تو دیکھ لیں۔“

    ”تو چلئے! بسم اللہ کیجئے۔“ محمود بولا۔

    وہ ڈرائنگ روم کے دروازے پر پہنچے۔ دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گئے۔ اس مرتبہ تو کسی چمگاڈر نے انہیں پریشان کیا، نہ ہی سیاہ بلی نے حملہ کیا۔ کوئی خوف ناک دھمک بھی سنائی نہیں دی۔ ان سب باتوں کے باوجود وہ سب دھک سے رہ گئے۔ ان کے اٹھتے قدم لڑکھڑا گئے محمود فاروق اور فرزانہ کسی طرح بھی اپنے منہ سے نکلنے والی چیخوں کو نہ روک سکے۔ صحیح معنوں میں وہ اس مرتبہ خوفزدہ ہوئے تھے۔ ورنہ اس سے پہلے تو وہ مذاق ہی کرتے رہے تھے۔ کمرے کے بیچوں بیچ ایک انسانی ڈھانچہ رسی سے لٹکا ہوا تھا۔ رسی چھت سے لگے لوہے کے ایک کنڈے سے باندھی ہوئی تھی اور اس کا دوسرا سرا ڈھانچے کی گردن سے لپٹا ہوا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے اس شخص کو برسوں پہلے اس کمرے میں پھانسی دی گئی تھی۔

    ”اُف میرے خدا! یہ تو سچ مچ کسی آدمی کا ڈھانچہ ہے۔“

    ”بھوتوں کا شکار!“ فرزانہ کے منہ سے نکلا۔

    ”معلوم ہوتا ہے اسے برسوں پہلے پھانسی دی گئی تھی اور اس وقت سے یہ جوں کا توں لٹکا ہوا ہے۔“ محمود نے خیال ظاہر کیا۔

    ”ہاں! اور ان کئی برسوں میں اس کا گوشت گل سڑ گیا ہو گا۔ اب تو کمرے میں کسی قسم کی بو بھی نہیں ہے۔“

    ”تم تینوں واقعی بہت دلیر ہو جو اس ماحول میں کھڑے باتیں کر رہے ہو ورنہ کوئی عام آدمی تو شاید اپنے ہوش میں بھی نہیں رہ سکتا۔ آﺅ چلیں۔ یہاں کوئی سوٹ کیس نہیں ہے۔“

    ”لیکن ابھی آپ نے تلاش ہی کہاں کیا ہے؟“

    ”کیا تم چاہتے ہو میں کمرے کی الماریاں بھی دیکھ ڈالوں؟“

    ”جی ہاں!“ محمود بولا۔

    ”کمال ہے! تمہیں ڈرگ نہیں لگ رہا ہے۔“

    ”ڈر؟ آپ ساتھ ہیں نا۔ اس لئے ڈر نہیں لگ رہا ہے۔“

    ”اچھا تم تینوں یہیں ٹھہرو۔ میں الماریاں دیکھ لیتا ہوں۔“

    ”لیکن ابا جان….“ فاروق کچھ کہتا کہتا رک گیا۔

    ”کہو۔ کیا بات ہے؟“

    ”سوٹ کیس اس کمرے میں ہرگز نہیں ہو سکتا ہے۔“

    ”لو فرزانہ! اسے ڈر لگ رہا ہے۔“ محمود ہنسا۔

    ”نہیں! یہ بات نہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ واصف چچا اس کمرے کے دروازے سے آگے بڑھنے کی جرا¿ت نہیں کر سکے ہوں گے۔ واصف چچا ہی کیا۔ کوئی بھی شخص اس کمرے میں داخل نہیں ہو سکا ہو گا۔“

    ”بہت خوب: میں یہی دیکھنا چاہتا تھا تاکہ تم میں سے یہ خیال پہلے کس کو آتا ہے۔ اسی لئے میں نے کہا یہاں سوٹ کیس نہیں ہو سکتا۔“

    ”تو پھر چلئے واپس چلیں۔“

    جونہی وہ واپس مڑے ایک بار پھر وہی بھیانک قہقہہ کمرے میں گونجنے لگا۔ اس مرتبہ آواز بہت زیادہ تیز تھی۔ وہ چونک کر مڑے اور اس وقت چاروں نے صاف محسوس کیا۔

    آواز اس ڈھانچے کے منہ سے آرہی تھی۔

    ٭….٭….٭

    قہقہہ کسی طرح رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ آخر انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”آﺅ چلیں۔ سوٹ کیس یہاں بھی نہیں ہے۔“

    چاروں دروازے کی طرف بڑھے۔ دروازہ بدستور بند تھا۔ انسپکٹر جمشید نے اسے کھولنے کے لئے ہینڈل پکڑ کر اپنی طرف کھینچا لیکن وہ اپنی جگہ سے نہ ہلا۔

    ”دروازہ شاید باہر سے بند ہو گیا ہے۔“ وہ بولے۔

    ”کسی بھوت نے بند کر دیا ہو گا۔“ فرزانہ بولی۔

    ”پھر اب کیا ہو گا کیا ہم یہیں قید ہو کر رہ جائیں گے؟“ محمود نے کہا۔

    ”تم تینوں باری باری دروازہ کھولنے کی کوشش کرو۔“ تینوں نے زور لگانا شروع کیا مگر ناکام رہے۔

    ”ابا جان! کیوں نہ کوئی کھڑکی آزمائی جائے۔“ فاروق نے کہا۔

    ”ہاں! ٹھیک ہے۔“

    انہوں نے ایک بار پھر پہلے کمرے کا رخ کیا۔ یہاں اب کوئی چمگاڈر چکر نہیں لگا رہی تھی۔

    ”معلوم ہوتا ہے چمگاڈریں پھر الماری میں چلی گئی ہیں۔“ فاروق نے کہا۔

    ”یا پھر بھوتوں کی صورت اختیار کر لی ہو گی انہوں نے۔“ فرزانہ نے خیال ظاہر کیا۔

    ”کیوں نہ الماری کھول کر دیکھا جائے۔“ محمود نے تجویز پیش کی۔

    یہ کہہ کر انسپکٹر جمشید نے کھڑکی کی چٹخنیاں گرا دیں لیکن یہ دیکھ کر ان کی مایوسی کی کوئی حد نہ رہی کہ اس میں لوہے کی سلاخیں لگی تھیں۔

    تینوں کمرے کی کھڑکیاں سلاخوں والی تھیں۔ وہ تھک کر برآمدے میں آکھڑے ہو گئے۔ مکان میں ایک بار پھر مکمل طور پر سناٹا چھا گیا تھا۔ یہ سناٹا انہیں حد درجے ڈراﺅنا لگا۔ آخر محمود بولا:

    ”اب کیا کیا جائے۔ یہاں سے نکلنے کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟“

    ”اب صرف ایک ہی صورت باقی ہے۔“ انسپکٹر جمشید نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔

    ”اور وہ کیا؟“

    ”دروازے کو توڑ دیا جائے۔“

    ”لیکن دروازہ کیسے ٹوٹے گا؟“ محمود نے پوچھا۔

    ”میں اسے توڑ دوں گا۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”آپ توڑیں گے؟ لیکن کیسے؟“

    ”اپنا کندھا مار کر۔“

    ”یہ بہت مشکل کام ہو گا۔“

    ”اب اس کے سوا چارہ بھی کیا ہے؟“ وہ بولے۔

    ”آپ کے کندھے پر چوٹ لگے گی۔“

    ”تم فکر نہ کرو، مجھے اس کام کی کافی مشق ہے، اس سے پہلے بھی کئی دروازے توڑ چکا ہوں۔“

    ”لیکن یہ دروازہ بہت مضبوط ہے۔“

    ”پروا نہیں۔ آﺅ چلیں۔“

    ”کیوں نہ اس مکان میں کوئی کلہاڑی تلاش کی جائے۔“

    ”نہیں ملے گی۔ میں نے چاروں کمروں کو بغور دیکھا ہے اور اوپر والی منزل کے زینے پر تو تالا ہی لگا ہوا ہے۔“

    یہ کہہ کر وہ دروازے کی طرف چل پڑے۔ تینوں ان کے پیچھے تھے۔ جونہی وہ دروازے کے سامنے پہنچے، حیرت سے ان کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔

    دروازے کے دونوں پٹ چوپٹ کھلے تھے۔

    ٭….٭….٭

    پندرہ منٹ بعد وہ پھر ہوٹل کے کاﺅنٹر کے پاس کھڑے یوسف خان سے باتیں کر رہے تھے۔ وہ جس وقت وہاں پہنچے، یوسف خان نے انہیں ایسی نظروں سے دیکھا تھا جیسے وہ خود بھوت ہوں۔

    ”خدا کا شکر ہے کہ آپ خیریت سے واپس آگئے۔ کہیے کیسا رہا؟“

    ”ہمیں مکان میں کوئی سوٹ کیس نہیں ملا؟“

    ”کیا؟ وہاں کوئی بھی سوٹ کیس نہیں ملا۔ کسی اور کا بھی نہیں؟“

    ”نہیں!“

    ”حیرت ہے۔ آج تک نہ جانے کتنے مسافروں نے اس مکان میں قیام کیا ہے۔ سبھی کا سامان وہیں رہ جاتا ہے۔ اس لحاظ سے تو وہاں بے شمار سوٹ کیس اور دوسری چیزیں ہونی چاہئیں تھیں۔ پھر اس سے کیا مطلب نکالا جا سکتا ہے؟“ یوسف نے کہا۔

    ”اس سے صرف یہی مطلب نکالا جا سکتا ہے کہ وہ سوٹ کیس اور دوسرا سامان بھوت لے جاتے ہیں۔“ محمود بولا۔ اس کا یہ جملہ سن کر یوسف خان کپکپا اٹھا۔ اس کے چہرے پر زلزلہ سا طاری ہو گیا۔

    ”خدا کے لئے بھوتوں کا نام نہ لیں۔ میری جان نکلنے لگتی ہے۔“

    ”بہت ڈرپوک واقع ہوئے ہیں آپ۔“ فاروق نے کہا۔

    ”اب بھوتوں سے کون ٹکر لے۔ ان کے معاملے میں تو ڈرپوک ہونا ہی بہتر ہے۔“

    ”ان حالات میں میں سمجھتا ہوں کہ تھانے میں رپورٹ کر دینی چاہیے۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    ”تھانے میں رپورٹ؟“ یوسف خان نے حیران ہو کر کہا۔ ”لیکن اس سے کیا ہو گا؟“

    ”ہو سکتا ہے کہ اس مکان میں سے کوئی چور سوٹ کیس وغیرہ اڑا لے جاتا ہو اور پھر میرے دوست کے سوٹ کیس میں پچیس ہزار روپے تھے۔ آخر بھوتوں کو روپوں کی کیا ضرورت؟ کیا آپ بتا سکتے ہیں؟“

    ”میری تو عقل حیران ہے صاحب۔ میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ جو آپ کا جی چاہے کریں۔“

    ”تو ٹھیک ہے۔ میں ابھی تھانے جا کر رپورٹ درج کرائے دیتا ہوں۔“

    ”لیکن اس کا نتیجہ کوئی نہیں نکلے گا۔“ یوسف نے کہا۔

    ”کیوں؟“

    ”کوئی پولیس والا بھی اس مکان کا رخ نہیں کرے گا۔ اس بستی میں رہنے والوں میں سے تو کسی میں بھی جرا¿ت نہیں کہ اس مکان میں داخل ہو سکے۔“

    ”آخر ہم بھی تو ہیں۔ جو اس سارے مکان کو چھان آئے ہیں۔“

    ”مجھے حیرت ہے۔ آپ اور آپ کے بچے بڑے دل گردے والے ہیں۔ آپ کو وہاں کوئی حادثہ تو پیش نہیں آیا؟“

    ”نہیں!“

    ”آپ نے کوئی بھی عجیب بات نہیں دیکھی؟“ اس نے حیران ہو کر پوچھا۔

    ”نہیں! بالکل کچھ نہیں تھا وہاں۔“

    ”حیرت ہے۔ پھر لوگ کیوں وہاں سے بدحواس ہو کر بھاگ نکلتے ہیں۔“

    ”وہ بھوتوں پر یقین رکھتے ہوں گے۔ میرا خیال ہے کہ اس دنیا میں بھوتوں کا کوئی وجود نہیں ہے۔“

    ”میری زندگی میں آپ پہلے آدمی ہیں جو ایسی بات کہہ رہے ہیں، ورنہ باقر گنج کا تو بچہ بچہ بھوتوں پر یقین رکھتا ہے۔“

    ”میں باقر گنج کا باشندہ نہیں ہوں۔“

    یہ کہہ کر انسپکٹر جمشید مڑے اور تینوں بچے سمیت آئے۔ یہاں واصف کی حالت پہلے سے بہتر تھی۔ وہ بیگم جمشید سے باتیں کر رہا تھا۔

    ”ہیلو۔ واصف! اب تم کیسے ہو؟“

    ”میں ٹھیک ہوں۔ کہو کیسا رہا؟“

    ”کیا مطلب؟“ انسپکٹر جمشید نے حیران ہو کر پوچھا۔

    ”میں جانتا ہوں، تم اس مکان سے ہو کر آرہے ہو۔“

    ”بیگم کیا تم نے اسے بتایا ہے؟“

    ”میں نے،نہیں تو۔“

    ”میں تمہاری ضدی طبیعت سے واقف ہوں یار! بتاﺅ کیا تیر مار کر آرہے ہو؟“

    ”کچھ نہیں۔ وہاں تمہارا سوٹ کیس نہیں ملا۔ یہ تم نے کس کمرے میں ڈیرہ ڈالا تھا؟“

    ”برآمدہ طے کرنے کے بعد دائیں ہاتھ جو کمرہ ہے، اس میں۔“

    ٹھیک ہے! میرا بھی یہی خیال تھا۔ کیا تم نے اسی کمرے کی الماری میں سوٹ کیس رکھا تھا؟“

    الماری میں؟ نہیں تو۔ میں نے تو اسے چارپائی کے نیچے رکھا تھا۔“

    ”کیا تم نے الماری کھولی تھی؟“

    ”الماری؟ نہیں نہیں! مجھ سے اس مکان کے بارے کچھ نہ پوچھو۔“ واصف ایک بار پھر لرزنے لگے۔

    ”اچھا چھوڑو۔ دیکھو میں تھانے میں رپورٹ درج کرانے جا رہا ہوں۔“

    ”کیا؟ تھانے میں رپورٹ درج کرانے جا رہے ہو۔ لیکن اس کی کیا ضرورت ہے؟“

    ”ضرورت ہے۔ یہ میں تم سے بہتر سمجھتا ہوں۔“

    ”تو کیا تم بھوتوں کے خلاف رپورٹ درج کراﺅ گے۔“ واصف نے حیران ہو کر پوچھا۔

    ”ہاں!“ انسپکٹر جمشید نے کہا اور اٹھ کھڑے ہوئے۔

    ٭….٭….٭

    انسپکٹر جمشید باقر گنج کا تھانہ دیکھ کر مسکرائے۔ تھانہ کیا تھا، دو کمروں پر مشتمل ایک چھوٹی سی عمارت تھی جس کے سامنے چھوٹا سا باغیچہ تھا اور باغیچے کے بیچوں بیچ تھانے کے اندر آنے کے لئے راستہ بنا ہوا تھا۔ سامنے والے کمرے میں انہیں میز کرسی سنبھالے ایک صاحب نظر آئے جنہوں نے پولیس کی وردی پہن رکھی تھی۔ دروازے سے باہر ایک کانسٹیبل بھی کھڑا تھا۔ دوسرا کمرہ شاید کانسٹیبلوں کے لئے تھا کیوں کہ اس کمرے سے کئی آدمیوں کے بولنے کی آوازیں آرہی تھیں۔

    وہ دروازے پر کھڑے کانسٹیبل کی طرف دیکھے بغیر اندر گھس گئے اور ایک کرسی پر بیٹھ گئے۔ ان کے سامنے بیٹھا ہوا شخص جو کسی گہری سوچ میں کھویا ہوا تھا، چونک اٹھا۔

    ”جی فرمائیے! کیا بات ہے؟“ اس کے لہجے میں سختی تھی۔

    ”ایک رپورٹ درج کرانی ہے۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”رپورٹ؟ کیسی رپورٹ؟“ وہ حیران ہو کر بولا۔

    ”آپ کی تعریف؟“ انسپکٹر جمشید نے اس کا نام پوچھا۔

    ”سب انسپکٹر شیر محمد!“ اس نے اکڑ کر کہا۔

    ”تو جناب انسپکٹر صاحب۔ مجھے چوری کی ایک رپورٹ درج کرانی ہے۔“

    ”جی فرمائیے! آپ کی کیا چیز چوری ہوئی ہے؟“

    ”میری نہیں بلکہ میرے ایک دوست کی۔“

    ”آپ کے دوست کی؟ تو وہ خود کیوں نہیں آئے؟ کہیں وہ خود بھی تو ساتھ چوری نہیں ہو گئے؟“ شیرخان نے مذاق اڑایا۔

    ”وہ! دراصل ان کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔“

    ”اچھا خیر! تفصیل سے لکھوائیں۔ اور یہ بھی لکھ دیں کہ شک کس پر ہے۔“

    ”جی بہتر! میرے دوست نے، جس کا نام واصف محمود ہے، کل شام آسیب زدہ مکان کرائے پر لیا تھا۔“

    ”کیا کہا؟ آسیب زدہ مکان کرائے پر لیا تھا۔“ شیر محمد لکھتے لکھتے رک گیا۔

    ”ہاں! لکھتے جائیے۔ وہ وہاں ایک سوٹ کیس لے کر رہنے کے لئے گیا تھا۔ اس کے سوٹ کیس میں پچیس ہزار روپے تھے۔ صبح اس کو بے ہوشی کی حالت میں اٹھا کر ہوٹل آبگینہ میں لایا گیا۔ میں اس کا سوٹ کیس لینے کے لئے مکان میں گیا۔“

    ”کیا کہا؟ آپ اس مکان میں سوٹ کیس لینے گئے تھے؟“ شیر خان ایک بار پھر لکھتے لکھتے رک گیا۔

    ”جی ہاں! لیکن مکان کے چاروں کمروں کی تلاشی لینے کے بعد بھی سوٹ کیس نہیں ملا۔“

    ”آپ نے نچلی منزل کے کمروں میں سوٹ کیس تلاش کیا تھا؟“ اس کی آنکھیں حیرت سے ابلی پڑ رہی تھیں۔

    ”جی ہاں!“

    ”آپ کا نام۔“

    ”جی! سرور بیگ۔“

    ”کہاں سے آئے ہیں؟“

    ”شہر سے۔ یہاں آبگینہ میں قیام ہے۔“

    ”بس یا کچھ اور لکھوانا ہے؟“

    ”جی بس! یہی کچھ ہے۔“

    ”ہوں! ان حالات میں اظہار ہے آپ کسی پر شک نہیں کر سکتے؟“

    ”کیوں؟ کیوں نہیں سکتا؟“

    ”کیا مطلب؟ کیا آپ کو کسی پر شک ہے؟“ شیرخان کا حیرت کے مارے برا حال تھا۔

    ”جی ہاں!“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”کس پر؟“

    ”آسیب زدہ مکان کے بھوتوں پر۔“

    ”کیا آپ مذاق کے موڈمیں ہیں؟“ شیرخان کو غصہ آگیا۔

    ”جی نہیں تو۔ بھلا اس کے علاوہ اور کیا نتیجہ نکالا جا سکتا ہے۔“

    ”تو کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں بھوتوں کو یہاں پکڑ کر لاﺅں۔“

    ”یہ آپ کا کام ہے، آپ جانیں۔“

    ”آپ عجیب آدمی ہیں۔“

    ”ویسے میں یہ مشورہ ضرور دے سکتا ہوں کہ اس کی تحقیقات آبگینہ ہوٹل کے ان ملازموں سے شروع کی جائے جو میرے دوست کو چارپائی پر اٹھا کر لائے تھے۔“

    ”شکریہ! مجھے کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں۔ مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں یہ میں اچھی طرح جانتا ہوں۔“

    ”اچھا تو پھر مجھے اجازت ہے؟“

    ”ہاں! آپ جا سکتے ہیں لیکن ابھی آپ آبگینہ ہوٹل چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔“

    ”وہ کس لئے؟“ انسپکٹر جمشید نے حیران ہو کر پوچھا۔

    ”کیا آپ اپنے دوست کا سوٹ کیس نہیں چرا سکتے تھے۔“

    ”بہت خوب! تو یہ بات ہے۔ لیکن آپ اس وقت تک مجھ پر پابندی کیسے لگا سکتے ہیں جب تک کہ میرا دوست مجھ پر شک کا اظہار نہ کرے؟“

    ”میں آج ہی مسٹرواصف سے ملوں گا۔“

    ”میں اگر آبگینہ ہوٹل سے کہیں گیا تو آپ مجھے آسیب زدہ مکان میں مل سکتے ہیں کیوں کہ فی الحال میں وہیں قیام کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔“

    ”جی!“ شیر محمد کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

    انسپکٹر جمشید مسکراتے ہوئے مڑے اور تھانے سے باہر نکل آئے۔ شیر محمد ابھی تک منہ پھاڑے انہیں دیکھ رہا تھا۔ وہاں سے نکل کر وہ تار گھر آئے اور انہوں نے کسی کو ایک لمبا چوڑا تار دیا۔

    ٭….٭….٭


    روانگی

    انسپکٹر جمشید واپس پہنچے تو تینوں بچے، ان کی والدہ اور واصف اپنے کمرے میں ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے۔

    ”تم لوگ بہت خوش نظر آرہے ہو۔ کیا سوٹ کیس مل گیا ہے؟“

    ”سوٹ کیس؟ بھلا وہ کیسے مل سکتا ہے۔ اسے تو بھوت لے جا چکے ہیں۔“ انہوں نے ہنس کر کہا۔

    ”میں نے رپورٹ درج کرا دی ہے۔“

    ”کیا فائدہ؟ میں جانتا ہوں کہ اب سوٹ کیس واپس نہیں ملے گا۔“ واصف نے کہا۔

    ”لیکن میں ابھی ایک فیصلہ کر چکا ہوں۔“ انسپکٹر جمشید کے تیز لہجے نے ان سب کو چونکا دیا۔

    ”کیسا فیصلہ؟“ بیگم جمشید نے کہا۔

    ”میں آج رات اس آسیب زدہ مکان میں گزاروں گا بلکہ ہو سکتا ہے کہ دو تین راتیں گزاروں۔“

    ”کیا؟ یہ کیا کہہ رہے ہو تم؟“ واصف حلق پھاڑ کر چلایا۔ اس کے چہرے پر خوف کی پرچھائیاں تھیں اور وہ انسپکٹر جمشید کو بری طرح گھور رہا تھا۔

    ”ہاں! میں بھوتوں سے تمہارا سوٹ کیس لے کر رہوں گا۔“

    ”یہ پاگل پن ہو گا۔“ واصف بولا۔

    ”جو بھی سمجھو۔ کیا تم نے یوسف خان کو ایک ماہ کا کرایہ ادا کر دیا تھا؟“

    ”ہاں! تین ہزار روپے۔“

    ”بس ٹھیک ہے۔ اب اسی کرائے میں وہاں میں رہوں گا۔“

    ”لیکن میں تمہیں ایسا نہیں کرنے دوں گا۔ تم نہیں جانتے۔ وہاں رات کے وقت کتنے خوف ناک واقعات پیش آتے ہیں۔“

    ”تو تم بتا دو۔“

    ”افسوس! میں جب بھی بتانے کا ارادہ کرتا ہوں مجھ پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ زبان لڑکھڑانے لگتی ہے اور محسوس ہونے لگتا ہے جیسے میں ابھی بے ہوش ہو جاﺅں گا۔“

    ”بس تو پھر۔ میں خود ہی جا کر معلوم کر لوں گا۔“

    ”ابا جان! کیا آپ وہاں تنہا رہیں گے؟“ محمود نے پوچھا۔

    ”ہاں بیٹا!“

    ”تو کیا آپ ہمیں یہیں چھوڑ جائیں گے؟“ فرزانہ بولی۔

    ”بالکل!“

    ”یہ کیسے ہو سکتا ہے ابا جان۔“ فاروق بولا۔

    ”کیوں؟ کیوں نہیں سکتا؟“

    ”ہم بھی آپ کے ساتھ جائیں گے۔“ فاروق نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔

    ”نہیں! تم تینوں وہاں ڈرو گے۔“

    ”کیا ہم آپ کے ساتھ گئے نہیں تھے؟“

    ”دن کی بات اور ہے۔ رات کو وہاں زیادہ خوف ناک چیزیں نظر آئیں گی۔“

    ”آپ کے ہوتے ہوئے ہمیں بالکل ڈر نہیں لگتا۔“

    ”لیکن صبح تو تم تینوں کا ڈر کے مارے دم نکلا جا رہا تھا۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”وہ تو ہم بھوتوں کا دل رکھنے کے لئے ایکٹنگ کر رہے تھے۔“

    ”جی ہاں! کیا آپ کا خیال ہے ہم ڈر رہے تھے۔“

    ”نہیں! میں تمہیں اپنے ساتھ نہیں لے جاﺅں گا۔ تم واصف چچا کے ساتھ اس کمرے میں رہو گے۔“

    ”آپ کا وہاں تنہا جانا کسی طرح بھی مناسب نہیں۔“ اس مرتبہ بیگم جمشید بولیں۔

    ”تو کیا میں آپ کو ساتھ لے جاﺅں؟“ انسپکٹر جمشید نے مذاق اڑانے کے انداز میں کہا۔

    ”ہاں! ہم چاروں ہی آپ کے ساتھ چلیں گے۔“

    ”ویری گڈ! یہ ہوئی بات۔“ محمود خوشی سے چلایا۔

    ”امی جان زندہ باد۔“ فاروق نے نعرہ لگایا۔

    ”ہم سب….“ فرزانہ بولی۔

    ”ساتھ جائیں گے۔“ محمود اور فاروق نے جملہ پورا کیا۔

    ”اچھا بھئی! تم جیتے اور میں…. میں بھی جیتا۔ میں ابھی جا کر یوسف خان سے بات کرتا ہوں۔“

    ٭….٭….٭

    ”مسٹر یوسف! میں تمہارے ہوٹل سے جا رہا ہوں۔“ انسپکٹر جمشید نے کاﺅنٹر پر آکر کہا۔

    ”اس کمرے کی ہم سے زیادہ واصف کو ضرورت ہے۔ اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔“

    ”لیکن ڈاکٹر نے تو بتایا تھا کہ وہ اب ٹھیک ہے۔“

    ”ہاں! پہلے سے تو بہتر ہے لیکن ظاہر ہے کہ کہ اب وہ آپ کے آسیب زدہ مکان میں تو جائیں گے نہیں۔“

    ”ہاں! یہ بات تو ہے۔“

    ”اسی لئے ہم نے یہاں سے جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔“

    ”مجھے بے حد افسوس ہے۔ مگر آپ جائیں گے کہاں؟“

    ”آسیب زدہ مکان میں۔“ انسپکٹر جمشید نے مسکراتے ہوئے پرسکون آواز میں کہا۔

    ”کیا؟“ ہوٹل کا مالک اس قدر زور سے چلایا کہ ہال میں بیٹھے ہوئے تمام لوگ چونک کر اسے دیکھنے لگے۔

    ”یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟“

    ”میں بیوی بچوں سمیت وہاں جا رہا ہوں۔ آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں؟“

    ”اعتراض؟ کوئی ایسا ویسا اعتراض؟ میں ہرگز آپ کو وہاں نہیں جانے دوں گا۔ غضب خدا کا۔ آپ وہاں بیوی بچوں سمیت جائیں گے۔ توبہ! ایسی بات کبھی سوچی نہ سنی۔ نہ جانے آپ کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔“

    ”تم جانتے ہی ہو کہ میرے تینوں بچے صبح بھی میرے ساتھ وہاں گئے تھے۔“

    ”تو کیا بچے بھی آپ کے ساتھ اندر گئے تھے؟“ یوسف خان نے حیران ہو کر پوچھا۔

    ”ہاں!“

    ”خیر دن کی بات اور ہے لیکن آپ اور آپ کے بیوی بچے رات کو وہاں ایک پل نہیں ٹھہر سکتے۔“

    ”لیکن میں نے عہد کر لیا ہے کہ اپنے دوست کا سوٹ کیس واپس لے کر رہوں گا۔“

    ”آپ کے دماغ میں ضرور کوئی خلل ہے۔“

    ”جو جی میں آئے سمجھو۔ ہاں میں تو اسی وقت وہاں جا رہا ہوں۔ میرے دوست والا کرایہ ہی کافی ہو گا یا نئے سرے سے کرایہ ادا کرنا ہو گا؟“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”آپ کو تین ہزار روپے دینے ہوں گے۔“ یوسف خان نے کہا۔

    ”اور جو میرے دوست نے کل تین ہزار روپے جمع کرائے تھے؟“

    ”تو آپ کے دوست کو کس نے منع کیا ہے۔ جاکر رہ لے ایک ماہ تک وہاں۔“

    ”بہت اچھا! یہ لو، رسید کاٹ دو۔“ انسپکٹر جمشید نے جیب سے بٹوہ نکالتے ہوئے کہا۔

    ”رسید! ہاں رسید لے لیں۔“

    یوسف خان نے روپے گن کر رسید کاٹ دی۔ عین اسی وقت سب انسپکٹر شیر محمد اندر دخل ہوا۔

    ٭….٭….٭

    ”آئیے آئیے انسپکٹر صاحب! تشریف لائیے۔ بہت دنوں بعد تشریف آوری ہوئی ہے۔“

    ”ہاں۔ کہاں ہیں وہ مسٹر واصف۔ جنہوں نے کل آسیب زدہ مکان میں قیام کیا تھا اور جن کا سوٹ کیس وہاں رہ گیا تھا۔“ اس نے آتے ہی کہا۔

    ”وہ اوپر کمرے میں ہیں۔“

    ”میں پوچھتا ہوں آخر تم لوگ اس مکان کو کرائے پر دیتے ہی کیوں ہو۔ تمہیں کتنی مرتبہ منع کیا ہے۔“

    ”لوگ زبردستی کرتے ہیں۔“

    ”آج کے بعد کسی کو وہ مکان کرائے پر نہ دینا۔“

    ”میں کیا کروں، لوگ مانتے ہی نہیں۔ وہ ہر بات کی ذمے داری اپنے اوپر لیتے ہیں۔“

    ”اور اب مجھے جو آنا پڑا ہے۔“

    ”یہ مسٹر واصف کی وجہ سے تو نہیں آنا پڑا۔ ان کے دوست سرور بیگ کی وجہ سے آپ کو تکلیف ہوئی۔“ یوسف خان نے انسپکٹر جمشید کی طرف اشارہ کیا۔

    ”انہیں بھی دیکھ لوں گا۔ ذرا پہلے ان سے مل لوں اور ہاں! میں نے کہہ دیا نا آئندہ وہ مکان کسی کو کرائے پر نہ دینا۔“

    ”مسٹر سرور بیگ چند منٹ پہلے اسے کرائے پر لے چکے ہیں۔“

    ”کیا؟“ شیر محمد حلق پھاڑ کر چلایا۔

    ”جی ہاں!“

    ”مسٹر سرور بیگ! آپ کا دماغ درست ہے!“

    ”جی ہاں! بالکل درست ہے۔ دراصل مجھے اپنے دوست کا سوٹ کیس بھوتوں سے حاصل کرنا ہے۔“

    ”کر چکے حاصل…. اپنا بھی سامان گنواﺅ گے اور خود کو بھی مصیبت میں ڈالو گے۔“

    ”کیا؟“ ایک بار پھر وہ پوری قوت سے چلایا۔

    ”جی ہاں۔ یہ بھی ٹھیک ہے۔“

    ”تب آپ کا دماغ واقعی خراب ہو گیا ہے۔“

    ”شکریہ!“

    ”یوسف خان۔ اپنے ان چاروں ملازموں کو بلاﺅ جو مسٹر واصف کو کل لائے تھے۔“

    ”جی اچھا!“

    ”چند منٹ بعد چاروں ملازم وہاں کھڑے تھے۔“

    ”تم مسٹر واصف کو کہاں سے اٹھا کر لائے تھے؟“ شیرخان نے پوچھا۔

    ”مکان کے باہر سے۔“ ان میں سے ایک بولا۔

    ”تمہیں کیسے معلوم ہوا تھا کہ وہ مکان کے باہر پڑا ہے۔“

    اچانک انسپکٹر جمشید نے سوال کیا اور شیرخان انہیں گھورنے لگا۔

    ”ہمیں خان صاحب نے بھیجا تھا۔“ ایک ملازم نے یوسف خان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا۔

    ”اور آپ کو کیسے معلوم ہوا تھا۔“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”مجھے۔ مجھے تو معلوم ہوتا ہی ہے جب بھی کوئی کرایہ دار وہاں قیام کرتا ہے، اگلی صبح اسے وہاں سے اٹھوا کر لانا ہی پڑتا ہے۔“

    ”ہوں۔ تم لوگ مکان کے اندر بھی داخل ہوئے تھے۔“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”جی۔ مکان کے اندر۔“ اس سوال سے ہی وہ سہم گئے۔

    ”ایک بات بتائیں گے مسٹر سرور بیگ۔“ شیرخان نے غصے سے کہا۔

    ”جی فرمائیے۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”انسپکٹر میں ہوں یاآپ؟“

    ”جی۔ آپ ہیں۔“

    ”اور سوال ان لوگوں سے آپ کر رہے ہیں۔“

    ”اگر آپ کو بُرا لگا ہے تو میں معافی چاہتا ہوں۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”تم جا سکتے ہو۔“ شیرخان نے گردن اکڑ کر کہا۔ چاروں ملازم چلے گئے۔

    اس کے بعد شیرخان انسپکٹر جمشید کے ساتھ واصف کے پاس آیا اور پوچھا:

    ”کیوں مسٹر واصف۔ کیا آپ سوٹ کیس تلاش کروانا چاہتے ہیں؟“

    ”جی۔ جی۔ جی ہاں!“ واصف نے انسپکٹر جمشید کی طرف دیکھ کر کہا۔

    ”تو پھر بتائیے۔ آپ کو کس پر شک ہے؟“

    ”شک؟ جی شک تو کسی پر بھی نہیں۔“

    ”آپ کو مسٹر سروربیگ پر تو شک نہیں۔“

    ”جی سرور بیگ پر؟ آپ کا دماغ تو ٹھیک ہے۔ یہ میرے بچپن کے دوست ہیں۔“

    انسپکٹر جمشید نے بروقت اشارہ کر دیا تھا کہ یہ میرا فرضی نام ہے۔

    ”ہوں! دیکھئے مسٹر واصف۔ جب تک آپ کسی پر شک کا اظہار نہیں کریں گے، سوٹ کیس کو تلاش کرنا مشکل ہی ہے۔ پھر بھی ہم کوشش کریں گے۔“

    یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا۔

    ”اب چلنے کی تیاری کرو۔ میں شام سے پہلے ہی وہاں پہنچ جانا چاہتا ہوں۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”کیا یوسف خان مان گیا؟“ واصف نے پوچھا۔

    ”ہاں مان گیا ہے، لیکن تین ہزار روپے کرایہ لے کر۔“

    ”کیا مطلب۔ کیا میرا کرایہ ختم ہو گیا ہے؟“ واصف نے حیران ہو کر پوچھا۔

    ”اس کا کہنا ہے، تم بڑے شوق سے مکان میں رہ سکتے ہو۔ اسے کوئی اعتراض نہیں۔ کیا تم مکان میں چل کر رہ سکتے ہو؟“

    ”ہرگز نہیں۔ قیامت تک نہیں۔“

    ”بس تو پھر تمہارا کرایہ ختم ہو گیا اورآج سے ہمارا کرایہ شروع ہو رہا ہے۔“ انسپکٹر جمشید نے مسکرا کر کہا۔

    ”کمال ہے۔“ واصف نے حیران ہو کر کہا۔

    ”اچھا اب اٹھ چلو۔“

    انہوں نے اپنے کپڑے وغیرہ سوٹ کیس میں رکھے اور نیچے اتر کر آئے۔ یوسف خان انہیں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کوئی شخص بیوی بچوں سمیت اس مکان میں رہنے کے لئے جا رہا تھا۔ ہال میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو بھی یہ بات معلوم ہو چکی تھی۔ وہ بھی انہیں پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ آخر یوسف خان سے نہ رہا گیا۔

    ”مسٹر سرور بیگ! میں ایک بار پھر آپ کو سمجھاتا ہوں اپنے ارادے سے باز آجائیں۔ اپنے اوپر نہیں تو ان معصوم بچوں پر رحم کریں۔“

    ”میں نے انہیں منع کیا تھا لیکن یہ بھی میرے ساتھ جانے پر بضد ہیں۔“

    ”خدا آپ پر رحم کرے۔“

    ”امید ہے کہ صبح آپ چارآدمیوں اور ایک چارپائی کے بجائے بیس آدمی اور پانچ چارپائیاں روانہ کریں گے۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔ اس پر وہ سب بے تحاشا ہنسے۔

    ”اُف خدا! میں نے آپ سے زیادہ عجیب آدمی آج تک نہیں دیکھا۔“

    وہ سب کو حیران و پریشان چھوڑ کر ہوٹل سے نکل آئے۔

    ٭….٭….٭

    بھوت کا جوتا

    ایک بار پھر وہ آسیب زدہ مکان کے سامنے پہنچ گئے۔ انسپکٹر جمشید نے جیب سے چابی نکالی، تالا کھولا اور دروازے کے پٹ کھول دیئے۔

    ”بیگم! میں تمہاری طرف سے فکرمند ہوں۔“ وہ بولے۔

    ”کیوں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مجھے اندر ڈر لگے گا؟“

    ”ہاں!“

    ”آپ کے ہوتے ہوئے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے۔ آپ چلئے اندر۔ لیکن میں حیران ہوں۔ کیا آپ صرف واصف کے سوٹ کیس کے لئے یہاں آئے ہیں؟“ بیگم جمشید نے پوچھا۔

    ”ایک مقصد یہ بھی ہے۔“ انہوں نے جواب دیا۔

    ”اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی اور مقصد بھی ہے۔“ فرزانہ بولی۔

    ”ہاں! میں دیکھنا چاہتا ہوں اس مکان میں ہو کیا رہا ہے۔“

    ”کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بھوتوں والی بات غلط ہے؟“

    ”خدا جانے کیا معاملہ ہے۔ یہی تو بات دیکھنے آیا ہوں کہ آخر یہ بھوت چاہتے کیا ہیں؟“

    ”خدا کی پناہ! تو کیا آپ بھوتوں سے یہ بات معلوم کریں گے؟“

    ”شاید! ان سے براہِ راست بات ہی ہو جائے۔“

    ”اب اندر بھی چلیں گے یا دروازے پر ہی کھڑے رہیں گے؟“

    ”میں اندر جانے سے پہلے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے ہوش و حواس قائم رکھنا۔“

    ”آپ بے فکر رہیں۔ جو ہو گا دیکھا جائے گا۔“

    وہ اندر داخل ہوئے۔ اس مرتبہ مکان کا بیرونی دروازہ ان کے اندر جانے کے بعد خودبخود بند نہیں ہوا۔ نہ ہی کوئی طویل قہقہہ سنائی دیا۔

    ”معلوم ہوتا ہے بھوت اس وقت سو رہے ہیں۔“ فاروق نے کہا۔

    ”یا پھر گھومنے پھرنے چلے گئے ہوں گے۔“ محمود نے خیال ظاہر کیا۔

    ”دونوں باتیں غلط ہیں۔ دراصل بھوت یہیں موجود ہیں لیکن وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ہم اتنی جلدی دوبارہ بھی آسکتے ہیں، کیوں کہ آج تک یہاں کوئی واپس آیا ہی نہیں ہو گا۔“

    ”یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے۔ پھر یہ لوگ اس قدر کیوں خوف زدہ ہیں۔ صبح جب آپ آئے تھے تو کیا کچھ خوف ناک چیزیں دکھائی دی تھیں۔“

    ”ہاں کچھ ہوا تو تھا۔ لیکن اس وقت وہ شاید تم سے شرما رہے ہیں۔“ انسپکٹر جمشید کو بھی مذاق کی سوجھی۔

    ”لیجئے! اب مجھے بھی گھسیٹنے لگے۔ میرے کیا رشتے دار ہیں بھوت۔“

    وہ پہلے کمرے میں پہنچ گئے۔ یہ وہی کمرہ تھا جس کی الماری میں سے چمگاڈریں نکلی تھیں۔ اس میں دو پلنگ موجود تھے۔

    ”ہمیں دوسرے کمرے میں سے دوچارپائیاں اس کمرے میں لے آنی چاہئیں۔ کیوں کہ ہم رات کو ایک ہی کمرے میں سوئیں گے۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    ”بشرطیکہ بھوتوں نے سونے دیا۔“ فرزانہ بولی۔

    ”چلو محمود فاروق۔ دوچارپائیاں لے آئیں۔“

    ”ابا جان! صرف ایک چارپائی سے کام چل جائے گا۔“ محمود نے کہا۔

    ”وہ کیسے؟“

    ”ایک پر آپ ایک پر، امی اور فرزانہ اور تیسری پر ہم دونوں۔ اس طرح ہمیں ڈر کا احساس بھی نہیں ہو گا۔“ محمود نے بتایا۔

    ”چلو یونہی سہی۔ تو آﺅ میرے ساتھ۔ یا پھر تم یہیں ٹھہرو۔ میں خود ہی اٹھا لاتا ہوں۔“

    ”جی نہیں! ہم اٹھالائیں گے۔ آپ ہمارے ساتھ چلیں۔“

    دوسرے کمرے میں پہنچ کر انسپکٹر جمشید نے دھیمی آواز میں کہا:

    ”دن میں یہاں ہم نے جو کچھ سنا اور دیکھا تھا۔ اس کا ذکر اپنی امی سے نہ کرنا۔ خاص طور پر اس ڈھانچے کا ذکر نہ آنے پائے۔“

    ”جی بہتر!“

    وہ چارپائی اٹھا کر لے آئے۔

    ”اب ہم کیا کریں۔ ظاہر ہے کہ بیکار تو بیٹھا نہیں جائے گا۔“ بیگم جمشید نے کہا۔

    ”کیوں نہ اس مکان کو ایک نظر دیکھ لیا جائے۔“

    ”بات تو ٹھیک ہے۔ آپ تینوں تو صبح دیکھ چکے ہیں۔“

    ”اب ہم بھی دیکھ لیں۔“

    ”ہاں۔ ہاں ضرور!“

    وہ سب اٹھ کھڑے ہوئے۔ انسپکٹر جمشید انہیں دوسرے کمرے میں لائے۔ اس کمرے میں ان کی ملاقات سیاہ بلی سے ہوئی تھی۔ اس کی لاش ابھی تک جوں کی توں پڑی تھی۔

    ”اوہ! اسے تو ہم بھول ہی گئے۔ اسے اٹھا کر باہر پھینک دینا چاہیے۔“ انسپکٹر جمشید اسے دیکھ کر چونکے۔

    ”یہ کیسے مری؟“ بیگم جمشید نے پوچھا۔

    ”یہ مری نہیں۔ ماری گئی۔“ محمود نے بتایا۔ پھر بلی کے متعلق تفصیل سے بتانے لگا۔ اس دوران انسپکٹر جمشید نے بلی کو دم سے پکڑ کر کھڑکی کی سلاخوں میں سے باہر پھینک دیا۔ پھر وہ اس کمرے سے نکل کر تیسرے کمرے میں آئے۔ یہاں بھی اس وقت کوئی عجیب بات محسوس نہیں ہوئی۔ اس کے بعد وہ ڈرائنگ روم کی طرف بڑھے ہی تھے کہ انسپکٹر جمشید بول اٹھے:

    ”اس کمرے کا دروازہ نہیں کھلتا۔ ہم صبح کوشش کر چکے ہیں۔“

    ”تو اوپر چلئے۔“

    ”اوپر کی منزل بھی مقفل ہے۔ زینے پر تالا لگا ہے۔“

    ”اس کا مطلب ہے ہمیں صرف ان تین کمروں میں ہی رہنا ہو گا۔“ بیگم جمشید بولیں۔

    ”ہمیں کون سا یہاں مستقل طور پر رہنا ہے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”کیوں؟ کیا چھٹیاں یہاں نہیں گزاریں گے؟“

    ”ہو سکتا ہے یہیں گزاریں۔ یہ سب حالات پر منحصر ہے۔“

    ”ہوں! یہ بھی ٹھیک ہے۔ لیکن اس مکان میں تو کوئی بھی عجیب بات نظر نہیں آئی۔ پھر آخر لوگ کیوں اس سے ڈرتے ہیں۔“

    ”تمہیں اس بات کا جواب رات کو مل جائے گا۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    ”کیوں؟ رات کو کیا ہو گا؟“

    ”بھوتوں کا کھیل دراصل رات ہی کو شروع ہوتا ہے۔“

    ”اوہ!“ بیگم جمشید کے منہ سے نکلا۔

    ”گھبرانے کی ضرورت نہیں۔“

    ”نہیں! میں گھبرا نہیں رہی ہوں۔“

    ”ابا جان ذرا اس الماری کو تو کھول کر دیکھیں۔“ محمود نے کہا۔

    ”نہیں! ہمیں ضرورت ہی کیا ہے اسے کھولنے کی۔“

    ”کیوں؟ اس الماری میں کیا بات ہے۔“ بیگم جمشید نے پوچھا۔

    ”کچھ نہیں! صبح ہم نے اسے کھولا تھا تو اس میں سے چمگاڈریں نکل پڑی تھیں۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    ”اوہ! تب تو اسے نہ ہی کھولیں۔ ورنہ اس کمرے میں نہیں ٹھہرا جائے گا۔“

    ”ہاں! بالکل۔“

    یہ مکان ہوٹل آبگینہ اور دوسری آبادی سے ایک میل کے فاصلے پر بالکل الگ تھلگ بنا ہوا تھا۔ گویا اس وقت وہ اس مکان میں بالکل تنہا تھے۔ آس پاس کوئی اور انسان موجود نہیں تھا۔ کوئی اور ہوتا تو شاید بیوی بچوں سمیت آنے کی جرا¿ت نہ کرتا۔ لیکن یہ انسپکٹر جمشید تھے۔ اپنے وقت کے دلیر ترین آدمی۔ صبح کے وقت اگرچہ بہت خوف ناک واقعات دیکھنے میں آئے تھے پھر بھی وہ اس وقت یہاں بیوی بچوں سمیت موجود تھے اور اس وقت شام کے سائے لمبے ہوتے جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا اور تاریکی گہری ہونے لگی۔

    ”تمام بلب روشن کر دو۔ اس مکان میں جتنے بھی بلب نظر آئیں سب کو روشن کر دو۔“ انسپکٹر جمشید نے محمود اور فاروق سے کہا اور ان کے ساتھ خود بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ فرزانہ نے اس وقت بچوں کا ایک ناول شروع کر دیا تھا اور بیگم جمشید ایک موٹا سا ناول پڑھنے لگی تھیں۔

    ”تینوں کمرے کا بلب جلا کر باہر نکل گئے۔ سب سے پہلے انہوں نے برآمدے کا بلب روشن کیا۔ پھر باقی مانندہ دونوں کمروں کے بلب بھی روشن کر دیے۔

    ”ابا جان! ڈرائنگ روم کا بلب بھی روشن کریں؟“ محمود نے پوچھا۔

    ”ہاں! وہ تو کرنا ہی پڑے گا۔“

    ”اگر امی نے پوچھ لیا کہ اس کمرے کا دروازہ کیسے کھل گیا تو؟“

    ”بھئی! کہہ دوں گا کہ بھوتوں نے کھولا ہو گا۔ اول تو ہم انہیں اس کمرے سے ہی نکلنے نہیں دیں گے۔“

    ”ہوں! یہ بھی ٹھیک رہے گا۔“

    انسپکٹر جمشید نے ڈرائنگ روم کا دروازہ کھول دیا۔ ڈھانچہ اسی طرح لٹک رہا تھا اور اندھیرے میں بھی چمک رہا تھا۔ انہوں نے کمرے کا بلب روشن کر دیا۔

    جونہی وہ کمرے سے باہر نکل کر برآمدے کی طرف آئے بیرونی دروازہ خودبخود زوردار آواز کے ساتھ بند ہو گیا۔

    ٭….٭….٭

    ”لو بھئی! بھوتوں کا پروگرام شرو ع ہو گیا۔“ انسپکٹر جمشید نے دروازے کو گھورتے ہوئے کہا۔

    ”چلئے! کمرے میں چلیں۔“ محمود بولا۔

    ”ہاں چلو۔“

    وہ اپنے کمرے میں آئے اور اس کا دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ اس کے بعد انہوں نے ڈبوں میں بند کچھ خشک چیزیں کھائیں اور پڑھنے کے لئے ناول رسالے نکالے اور چارپائیوں پر لیٹ کر پڑھنے لگے۔ پڑھتے پڑھتے ان سب کو نہ جانے کس وقت نیند آگئی۔ وہ تو اس وقت جاگے جب وہ خوفناک اور طویل قہقہہ کمرے میں گونجنا شروع ہوا۔ وہ بڑبڑا کر اٹھے اور یہ دیکھ کر چونک اٹھے کہ انسپکٹر جمشید اپنے بستر میں نہیں تھے اور کمرے کی چٹخنی گری ہوئی تھی۔

    ”ارے! یہ ابا جان کہاں چلے گئے۔“ فرزانہ نے بدحواس ہو کر کہا۔

    ”خداجانے۔“ بیگم جمشید بولیں۔

    ”آﺅ! باہر دیکھتے ہیں۔“

    چاروں کمرے سے باہر نکل آئے۔ قہقہہ ابھی تک جاری تھا اور اس کی گونج دیواروں سے ٹکرا کر بھیانک سماں پیدا کر رہی تھی۔

    ”تت۔ توبہ ہے! یہ قہقہہ تو کسی طرح رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔“ بیگم جمشید کپکپا اٹھیں۔

    ”بھوت کا قہقہہ ہے، اس کی جسامت کے لحاظ سے ہی طویل ہو گا۔“ فرزانہ بولی۔

    ”چلو! اس دوسرے کمرے میں دیکھتے ہیں۔“ جونہی وہ دوسرے کمرے کے سامنے پہنچے، قہقہہ رک گیا۔

    وہ دوسرے کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ عین اسی وقت ایک سیاہ بلی نے محمود پر چھلانگ لگائی۔ وہ بری طرح اچھلا اور اس کا خوف زدہ ہو کر اچھلنا ہی اسے بچا گیا، ورنہ بلی سیدھی اس کی طرف آئی تھی۔

    ”ارے! اسے تو ابا جان نے مار دیا تھا۔“ فاروق کے منہ سے نکلا۔

    ”یہ دوسری ہو گی۔“ محمود نے کہا اور پھر اچھل کر ایک طرف ہو گیا۔

    بلی کے حملوں میں تیزی آتی جا رہی تھی اور بڑھ بڑھ کر حملے کر رہی تھی۔ بیگم جمشید اور فرزانہ اسے حیرت سے دیکھ رہی تھیں۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ایسی بلی نہیں دیکھی تھی جو انسانوں پر حملہ کرے۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ محمود کی اچھل کود کی رفتار سست پڑتی جا رہی ہے۔

    ”فاروق، فرزانہ آگے بڑھو اور اس بلی کو فٹبال سمجھ لو۔“بیگم جمشید چلائیں۔

    پھر کمرے میں فٹ بال کا ایک میچ شروع ہو گیا۔ وہ اچھل کر ایک طرف ہوتے اور بلی کے ایک ٹھوکر رسید کر دیتے۔ تینوں تین طرف سے حملہ کر رہے تھے اور بلی اب ان پر غراغرا کر جھپٹ رہی تھی۔ اچانک فاروق کی ایک زبردست ٹھوکر اس کے سر پر لگی۔ ہوا یہ کہ وہ سیدھی فاروق کی طرف جھپٹی تھی، فاروق نے اِدھر اُدھر ہونے کے بجائے وہیں کھڑے رہ کر پاﺅں کی ٹھوکر اسے ماری جو اس کے سر پر لگی۔ اس کے حلق سے ایک دلدوز چیخ نکلی اور وہ دوسری طرف الٹ گئی اور اس کے بعد نہ اٹھ سکی۔

    ”بے ہوش ہو گئی۔“ فاروق نے ہانپتے ہوئے کہا۔

    ”عجیب بلی تھی یہ۔ صبح والی بلی نے اسی طرح حملہ کیا تھا؟“ بیگم جمشید نے پوچھا۔

    ”ہاں! اسے ابا جان نے پستول سے مارا تھا۔“

    ”کمال ہے۔ تمہارے ابا جان تو یہاں بھی نہیں ہیں۔ آﺅ تیسرے کمرے میں چلیں۔“

    ”چلئے!“

    تیسرے کمرے کا دروازہ کھلا تو نقاروں کی دھمک شروع ہو گئی۔

    ”ارے یہ نقارے کہاں بج رہے ہیں۔“ بیگم جمشید کی آواز سے خوف ٹپک رہا تھا۔

    ”اسی مکان میں بج رہے ہیں۔ صبح بھی بجے تھے۔“

    ”بالکل ایسا لگتا ہے جیسے کوئی ہمارے سروں پر بجا رہا ہے۔“ فرزانہ بولی۔

    ”میرے تو رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں۔ اُف! توبہ کتنی پراسرار آواز ہے۔“

    ”اور میری ٹانگیں کانپنے لگی ہیں۔“ فرزانہ نے سچے لہجے میں کہا۔ وہ واقعی ڈر رہی تھی۔

    ”چلو! خدا کے لئے یہاں سے نکل چلو۔ میں یہ دھمک برداشت نہیں کر سکتی۔“ بیگم جمشید کا رنگ اڑا جا رہا تھا۔

    چاروں اس کمرے سے بھی نکل آئے۔ ان کے نکلتے ہی دھمک بند ہو گئی۔ اب برآمدے کے دوسری طرف ڈرائنگ روم رہ گیا تھا۔

    ”اسے بھی دیکھ لینا چاہیے۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”نہیں! یہ تو بند ہے۔“ محمود نے کہا۔

    ”ہو سکتا ہے کہ اس وقت یہ کھلا ہو۔“ بیگم جمشید نے کہا۔

    ”ہاں بھوتوں نے کھول لیا ہو گا۔“ فرزانہ بول اٹھی۔

    ”تمہارے حلق سے بھی آواز نکلنے لگی۔ ابھی کمرے میں تو جان نکل رہی تھی۔“

    ”اُف! اس کمرے کا ذکر نہ کرو۔ مجھے وہ دھمک پھر یاد آگئی ہے اور ساتھ ہی میرے کانوں میں پھر سے گونجنے لگی ہے۔ کیا تم بھی اس کی گونج سن رہے ہو۔“ بیگم جمشید نے گھبرا کر کہا۔

    ”نہیں! ہمیں تو کچھ سنائی نہیں دے رہا ہے۔“

    ”جلدی سے اس کمرے کو بھی دیکھ ڈالو۔ خداجانے وہ کہاں چلے گئے ہیں۔“

    ”جب اس کمرے کا دروازہ ہی بند ہے تو دیکھیں کیسے؟“

    ”میں دیکھتی ہوں۔ دروازہ بند ہے یا کھلا۔“ یہ کہہ کر فرزانہ دروازے کی طرف بڑھی۔

    محمود نے چاہا کہ آگے بڑھ کر اسے روک لے مگر وہ اس سے زیادہ پھرتیلی ثابت ہوئی۔ وہ اس سے پہلے دروازے پر پہنچ گئی اور ایک جھٹکے سے دروازہ کھول دیا۔ اتنی دیر میں بیگم جمشید بھی دروازے کے سامنے پہنچ چکی تھی۔ دوسرے ہی لمحے ان کے منہ سے طویل چیخیں نکلنے لگی۔ دونوں چیخے جا رہی تھیں۔ محمود اور فاروق دوڑ کر ان سے لپٹ گئے اور انہیں تسلی دینے لگے۔

    ”امی! ہوش میں آئیے۔“ محمود چلایا۔

    ”فرزانہ! فرزانہ!“ فاروق نے محمود کو تھپکی دی۔

    کمرے کے بیچوں بیچ انسانی ڈھانچہ موٹے سے رسے سے بندھا لٹک رہا تھا۔ اچانک ایک بار پھر وہی طویل قہقہہ مکان میں گونجنے لگا۔ اس مرتبہ قہقہہ پہلے سے کئی زیادہ بلند آواز میں تھا اور مکان کی ہر دیوار سے آتا محسوس ہو رہا تھا۔

    اس پر قہقہے کے ساتھ ہی وہ دھمک شروع ہو گئی۔ دھمک کے ساتھ ہزاروں کتوں اور بلیوں کے رونے کی تیز آوازیں شروع ہو گئیں۔ انہیں یوں لگا جیسے ان کے کانوں کے پردے پھٹ جائیں گے۔

    اس وقت تو محمود اور فاروق بھی خوف زدہ ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ چاروں انسانی ڈھانچے کے سامنے کھڑے تھرتھر کانپ رہے تھے۔

    ”بھوت۔ بھوت…. رو رہے ہیں۔“ فاروق نے ہمت کر کے کہا۔ شاید وہ بول کر ان کی ہمت بڑھانا چاہتا تھا لیکن خود اس کا برا حال تھا۔ اس سے جملہ بھی بہت مشکل سے نکلا۔

    ”شش۔ شاید…. کک…. کوئی بھوت…. مر گیا ہے۔“ محمود بولا۔

    ”ارے یہاں سے بھاگ چلو۔“ بیگم جمشید کے منہ سے آواز نکلی۔

    ”لیکن اباجان۔“ فرزانہ نے بلند آواز میں کہا۔

    ”خدا جانے وہ اس مکان میں بھی ہیں یا نہیں۔“ بیگم جمشید نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے چاروں طرف دیکھا۔

    ”پھر بھی امی جان ہم ان کے بغیر اس مکان سے کیسے جا سکتے ہیں۔ نہیں ہم انہیں یہاں چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔“

    ”ارے بے وقوفو میں اس مکان سے بھاگنے کے لئے کب کہہ رہی ہوں میں تو اس کمرے کے پاس سے بھاگنے کے لئے کہہ رہی ہوں۔“ انہوں نے چلا کر کہا کیوں کہ خوف ناک قہقہہ، پراسرار دھمک اور کتوں بلیوں کی آوازوں کی وجہ سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔

    وہ گرتے پڑتے اپنے کمرے میں داخل ہوئے۔ یک لخت وہ ایک ساتھ پوری قوت سے چلائے۔

    ان کی آنکھیں کمرے کے درمیان فرش پر پڑی وہ ایک چیز کو پھٹے پھٹے انداز میں دیکھ رہی تھیں۔

    کمرے کے بیچوں بیچ ایک دو اڑھائی فٹ لمبا جوتا پڑا تھا۔

    ٭….٭….٭

    خون ٹپکتا ہے!

    ”بھ۔ بھوت کا جوتا!“ فاروق کے منہ سے ڈری ڈری آواز میں نکلا۔

    ”لل۔ لیکن۔ دوسرا۔ جج…. جوتا۔“ محمود ہکلایا۔

    ”بھوت ایک ٹانگ کا ہو گا۔“ فاروق نے جلدی سے کہا۔

    ”اسے اٹھا کر باہر پھینک دو۔“ بیگم جمشید بولیں۔

    ”اور اگر بھوتوں نے ہم پر امانت میں خیانت کا الزام لگایا تو؟“ فاروق بولا۔

    ”بڑی زبان چل رہی ہے تمہاری۔“ فرزانہ نے اسے گھورا کیوں کہ وہ زیادہ ہی ڈر گئی تھی۔

    ”چل کہاں رہی ہے چلا رہا ہوں۔ تم کیا جانو کہ اسے چلانے کے لئے کتنا زور لگانا پڑ رہا ہے۔“

    ”میں کہتی….ہوں اسے اٹھا کر برآمدے میں پھینک دو۔“

    ”جی اچھا….!“

    محمود ڈرتا ڈرتا آگے بڑھا۔ اس نے جوتا اٹھانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوا۔

     ”ارے! یہ تو بہت وزنی ہے۔ فاروق ادھر آﺅ۔ مل کر اٹھاتے ہیں۔“

    ”نہ بابا! میں اسے ہاتھ نہیں لگاﺅں گا۔ کہیں بھوت ناراض نہ ہو جائے۔“

    ”چلو ادھر۔“ محمود نے سخت لہجے میں کہا۔

    فاروق اس کے قریب گیا۔ دونوں نے مشکل سے جوتا اٹھایا اور کمرے سے باہر پھینک دیا۔ اس کے گرتے ہی ایک بار پھر ہزاروں آوازیں گونجنے لگیں۔ ان میں سب سے بلند وہ قہقہہ تھا۔ دھمک بھی رونگٹے کھڑے کئے دے رہی تھی اور اس پر بلیوں اور کتوں کی آوازوں نے تو جیسے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا۔

    ”دیکھا! میں نے کہا تھا نا کہ بھوت ناراض ہو جائے گا۔“ فاروق بولا۔

    ”تو جاﺅ۔ اٹھا لاﺅ اسے برآمدے سے اور رکھ لو یہاں کمرے میں۔“ فرزانہ نے جل کر کہا۔

    ”تم کیوں مرچیں چبا رہی ہو۔“

    ”کہاں! نہیں تو۔“ فرزانہ نے اسے منہ کھول کر دکھا دیا جس پر اس خوف ناک ماحول میں بھی انہیں ہنسی آگئی۔

    بے خیالی میں فرزانہ نے کھڑکی کے پٹ کھول دیے۔ بس پھر کیا تھا، ان سب آوازوں کے ساتھ کھڑکی سے نکلنے والی چمگاڈروں کی آوازیں بھی شروع ہو گئیں۔ پھڑپھڑاتی ہوئی چمگاڈریں ان کے سروں پر چکر لگانے لگیں۔ اب ان کے لئے کمرے میں ٹھہرنا محال تھا۔ بوکھلاہٹ اور بدحواسی کے عالم میں وہ ایک بار پھر کمرے سے نکل کر برآمدے میں آئے۔ یہاں بھوت کا جوتا کہیں بھی نظر نہیں آیا۔

    ”ارے! وہ جوتا کہاں گیا؟“

    ”بھوت لے گیا ہو گا۔“

    گھبراہٹ میں وہ دوڑتے ہوئے دروازے کی طرف آگئے۔ بیگم جمشید نے دروازہ کے ہینڈل کو پکڑ کر اسے کھولنا چاہا لیکن دروازہ نہ کھلا۔

    ”ارے! یہ تو باہر سے بند ہے۔“ ان کے منہ سے نکلا۔

    ”تو کیا بھوت ہمیں مکان میں بند کر کے چلے گئے۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”چلے کہاں گئے ہیں خود بھی اندر ہی موجود ہیں۔ یہ غل غپاڑہ بھوت نہیں تو اور کون مچا رہا ہے۔“ فاروق بولا۔

    ”اب ہم کہاں جائیں۔ جائیں تو کس کمرے میں جائیں۔ جہاں جاتے ہیں، نئی مصیبت سامنے آتی ہے۔“ بیگم جمشید نے کہا۔

    ”ابا جان بھی خدا جانے کہاں چلے گئے ہمیں اس خوفناک مکان میں تنہا چھوڑ کر۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”آئیے! ہم اپنے کمرے میں چلیں۔“

    ”لیکن…. وہ چمگاڈریں۔“

    ”میرا خیال ہے کہ وہ الماری میں واپس چلی گئی ہوں گی۔“ محمود نے کہا۔

    ”کیا مطلب؟ کیا وہ اسی الماری میں رہتی ہیں۔“

    ”جی ہاں۔“

    ”توچلو! وہیں چلو۔“

    وہ پھر کمرے میں آئے۔ محمود نے دروازہ بند کر دیا۔ اسی وقت آوازیں بند ہو گئیں اور مکمل سناٹا چھا گیا۔

    ”چٹخنی نہ لگانا۔ نہ جانے ابا جان کس وقت آجائیں۔“ فاروق نے کہا۔

    ”اچھا!“

    وہ چارپائی پر بیٹھ کر بری طرح ہانپنے لگے۔ اب کمرے میں کوئی چمگاڈر چکر نہیں لگا رہی تھی۔ اچانک فرزانہ کی نظر دروازے کے ہینڈل پر پڑی اور اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ان سے خوف جھانکنے لگا۔ ساتھ ہی منہ سے ایک ہلکی سی چیخ نکل گئی۔

    ”کیا بات ہے…. فرزانہ کیا ہوا؟“ بیگم جمشید نے چونک کر پوچھا۔

    ”جی۔ وہ۔ وہ۔ جی وہ۔“ اس کے منہ سے نکلا۔

    ”یہ وہ وہ کا کیا مطلب؟“ فاروق بولا۔

    ”در۔ در۔ دروازے پر۔“

    تینوں نے چونک کر دروازے کو دیکھا۔ دروازے کے ہینڈل اور چٹخنی سے چار پانچ چمگاڈریں چپکی ہوئی تھیں۔ بیگم جمشید بول اٹھیں:

    ”ارے! یہ یہاں کیسے آگئیں۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے تو دروازے سے کوئی چمگاڈر نہیں چپکی ہوئی تھی۔“

    محمود نے کمرے میں چاروں طرف دیکھا اور پھر اس کے بدن میں سنسنی دوڑ گئی۔

    ”اُف میرے خدا! یہ تو سینکڑوں کی تعداد میں ہیں۔“

    ”کیا۔ کیا کہہ رہے ہو تم۔“ بیگم جمشید نے پوچھا۔

    ”وہ دیکھیے! کھڑکی اور دروازے کے پردوں پر۔ یہ سیاہ رنگ کے پھول نہیں ہیں، تمام کی تمام چمگاڈریں ہیں۔“

    پردوں پر دیکھتے ہی ان کی سٹی گم ہو گئی۔

    ”خدا کے لئے اس منحوس کمرے سے نکل چلو۔ دیکھو تو سہی یہ سب چمگاڈریں ہمیں کیسے گھور رہی ہیں۔“

    ”لیکن دروازہ کیسے کھولیں۔ ہینڈل پر بھی تو چمگاڈریں موجود ہیں۔“

    ”ٹھہرو میں اپنی قمیص سے اتارتا ہوں۔“ فاروق نے کہا۔

    ”خبردار! قمیص نہ اتارنا۔ یہ میری چادر لے لو۔“ بیگم جمشید نے اپنی چادر اسے دے دی۔

    جونہی فاروق نے ہینڈل پر بیٹھی چمگاڈروں کو چادر کے ذریعے اڑانا چاہا، کمرے میں موجود تمام چمگاڈریں ایک خوفناک آواز کے ساتھ پھڑپھڑاتی ہوئی پردوں سے اٹھیں اور کمرے میں چکر لگانے لگیں۔ یہ منظر اس قدر خوف ناک تھا کہ اس کی چیخیں نکل گئیں۔ لیکن دوسرا لمحہ ان کے ہوش اڑانے کے لئے کافی تھا۔ چمگاڈریں بہت نیچے آگئی تھیں اور اب ان چاروں پر جھپٹ رہی تھیں۔ وہ ہاتھ پاﺅں مارنے لگے۔ فاروق زور زور سے چادر ہلانے لگا۔

    ”بھاگو! اس کمرے سے نکلنے کی کوشش کرو۔ یہ تو آدم خور چمگاڈریں معلوم ہوتی ہیں۔“ فاروق چلایا اور چادر گھماتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔ اسی وقت ایک چمگاڈر نے طیش میں آکر اس کی ننگی کلائی پر جھپٹا مارا اور فاروق کے منہ سے ایک تیز چیخ نکل گئی۔ اس چمگاڈر کے دانت اس کے بازو میں گڑ گئے گئے تھے۔ اس نے پوری قوت سے بازو کو جھٹکا۔ چمگاڈر دیوار سے ٹکرائی۔ اسی وقت فاروق نے دروازے کے دونوں پٹ کھول دیئے اور وہ بے تحاشہ بھاگتے ہوئے برآمد میں آگئے۔ چمگاڈروں نے ان کا پیچھا نہیں کیا۔

    ”اُف خدا! یہ کیا مصیبت ہے۔ یہ گھر تو سچ مچ بھوت گھر معلوم ہوتا ہے۔ ضرور اس جگہ بھوت رہتے ہیں۔“ بیگم جمشید نے کہا۔

    ”اب ہم کہاں جائیں۔ کس کمرے میں جائیں۔“ فرزانہ بولی۔

    ”حوصلہ رکھیں! گھبرائیں نہیں۔“ فاروق نے اپنی کلائی پر رومال باندھتے ہوئے کہا۔ اس جگہ خون بہنے لگا تھا۔

    اسی وقت ایک نئی مصیبت شروع ہوئی۔ اس مرتبہ گونجنے والی آوازیں پہلی تمام آوازوں سے اونچی تھیں۔ انہیں یوں لگا جیسے بہت سے آدمی آپس میں زورو شور سے لڑ پڑے ہوں۔ کرسیاں گرنے، برتنوں کے ٹوٹنے، فرنیچر کے دھڑادھڑ چلنے کی ملی جلی بے شمار آوازیں ان کے کانوں میں دھمک پیدا کرنے لگیں۔ انہیں اپنے قریب کرسیوں اور میزوں کے گرنے اور برتنوں کے ٹوٹنے کی آوازیں آرہی تھیں۔

    ”یہ سب کیا ہے؟“ بیگم جمشید کا چہرہ سفید ہو رہا تھا۔

    ”خخ۔ خدا جانے۔“ فرزانہ لرزنے لگی۔

    ”مم۔ میرا۔ خیال ہے۔ بھبھوت۔ کُشتی لڑ رہے ہیں۔“ محمود بولا۔

    ”نن۔ نہیں! کُشتی لڑنے میں اتنی آوازیں نہیں پیدا ہوا کرتیں۔“ فاروق بولا۔

    ”تو پھر۔ تمہارے خیال میں یہ کیا ہو رہا ہے۔“ محمود نے اپنی امی اور فرزانہ کا دھیان بٹانے کے لئے کہا۔

    ”مم۔ میرا خیال ہے۔ بھوت کبڈی کھیل رہے ہیں۔“

    ”تت۔ تم ٹھیک کہتے ہو۔“

    اچانک ان کی نظر دروازے پر پڑی۔ وہ چونک اٹھے۔ دروازے کے دونوں پٹ کھلے ہوئے تھے۔ وہ بغیر سوچے سمجھے دروازے کی طرف دوڑے۔ جونہی وہ دروازے کی طرف بڑھے دروازہ خود بخود بند ہو گیا اور ساتھ ہی بھوتوں کی کبڈی بھی۔ 

    ٭….٭….٭

    ان کے اٹھتے قدم رک گئے۔

    ”کبڈی کا میچ ختم ہو گیا۔“ فاروق بولا۔

    ”اور ساتھ ہی دروازہ بند ہو گیا۔“ محمود نے کہا۔

    ”یا اللہ! ہم کس مصیبت میں پھنس گئے۔ آخر تمہارے ابا جان کہاں چلے گئے۔“

    ”مجھے خود بھی حیرت ہے۔ وہ تو اس کمرے میں ہی لیٹ کر کوئی رسالہ پڑھ رہے تھے پھر شاید ہم سو گئے تھے۔“

    ”ہاں! اور وہ کچھ بتائے بغیر نہ جانے کہاں چلے گئے۔“

    ”اب ہم کیا کریں۔ کہاں جائیں۔ کیا ساری رات برآمدے میں ہی کھڑے رہیں گے۔“

    ”ٹھہریئے! میں کمرے میں جھانک کر دیکھتا ہوں۔ شاید چمگاڈریں الماری میں چلی گئی ہوں۔“ محمود نے کہا اور کمرے کے دروازے کی طرف چلا۔

    ”دروازہ تھوڑا سا کھول کر دیکھنا۔“ فاروق نے خوف زدہ لہجے میں کہا۔

    ”اچھا!“

    ”امی مجھے ایک اور خیال سوجھا ہے۔“ فاروق اچانک بولا۔

    ”اور وہ کیا بیٹا؟“

    ”کیوںنہ اوپر والی منزل کو دیکھا جائے۔“

    ”لیکن زینے پر تو تالا نہ لگا ہو۔“

    ”ہو سکتا ہے اس وقت تالا نہ لگا ہو۔“

    ”یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ تالا خود بخود کیسے کھل سکتا ہے۔“

    ”مم۔ میرا مطلب ہے۔ شاید بھوت اوپر والی منزل پر رہتے ہوں اور انہوں نے کھول ڈالا ہو۔“

    ”تو چلو۔“

    ”اوپر جانا ٹھیک نہیں۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”کیوں؟“

    ”تالا ضرور کسی نہ کسی وجہ سے لگایا گیا ہے۔ کیا معلوم اوپر کیا حالات پیش آئیں۔“

    ”تمہیں ڈر لگ رہا ہے تو یہیں رہو یا کمرے میں جا کر چمگاڈروں کو کچھ نصیحت وغیرہ کرو۔“ فاروق بولا۔

    ”میں ڈرپوک نہیں ہوں لیکن ان حالات میں، جب کہ ابا جان ابھی ساتھ نہیں ہیں، ادھر کا رخ کرنا ٹھیک نہیں۔“

    ”رہنے دو بڑی بی اپنی باتیں۔ آنا ہے تو آﺅ ہم چلتے ہیں۔“

    ”میرا خیال ہے فرزانہ ٹھیک ہی کہہ رہی ہے۔“ بیگم جمشید نے کہا۔

    ”آپ تو ہمیشہ اسی کی بات کو ٹھیک سمجھتی ہیں۔“

    ”اچھا چلو آﺅ فرزانہ۔“

    چاروں زینے کی طرف چل پڑے۔ اس وقت پورے مکان پر گہرا سناٹا طاری تھا۔ ان کے دل دھک دھک کر رہے تھے اور اس سناٹے میں دھک دھک کی آواز وہ صاف سن رہے تھے۔

    ”معلوم ہوتا ہے بھوت حضرات کو نیند آگئی۔“

    ”ہاں! تبھی تو اتنی خاموشی ہے۔“

    ”ارے! وہ دیکھو۔ دروازہ پھر کھل گیا۔“ فرزانہ کی نظر دروازے پر پڑی تو چلا اٹھی۔

    انہوں نے بھی دیکھا۔ واقعی دروازہ کھلا ہوا تھا۔

    ”جونہی ہم اس کے پاس جائیں گے بھوتوں کی آنکھ کھل جائے گی اور پھر وہ قیامت خیر قہقہہ شروع ہو جائے گا۔“

    ”کھلا رہنے دو دروازہ۔ ہمیں یہاں سے جانا ہی نہیں ہے تو اس کے کھلنے یا بند ہونے سے کیا غرض۔“

    ”ہاں ٹھیک ہے۔ ابا جان کے بغیر ہم نہیں جا سکتے۔ خدا جانے وہ کہاں ہیں؟“

    ”شاید اسی مکان میں کسی جگہ ہوں گے۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”ہاں۔ میرا بھی یہی خیال ہے۔“ فاروق نے فرزانہ کی تائید کی۔

    ”لیکن اس مکان کی نچلی منزل میں چار کمروں اور ایک برآمدے کے سوا ہے ہی کیا۔“ بیگم جمشید بولیں۔

    ”وہ زینے کے پاس پہنچے ہی تھے کہ اچانک قیامت کا شور مکان میں ابھرا۔ ایک بار پھر وہی قہقہہ گونجنے لگا۔ اس کے ساتھ ہی دھمک شروع ہو گئی۔ بلیاں اور کتے رونے لگے اور پھر فرنیچر اور برتن گرنے اور ٹوٹنے کی آوازیں شروع ہو گئیں۔ انہیں اپنے دماغوں میں دھمک محسوس ہونے لگی۔ انہیں یوں لگا جیسے کوئی ان کے اندر بیٹھا یہ سارا شور مچا رہا ہو۔ ان کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ اچانک بیگم جمشید چیخ اٹھیں۔ ان کی خوف زدہ آنکھیں سیڑھیوں پر لگی ہوئی تھیں۔ تینوں نے بھی اس طرف دیکھا اور پھر تھرتھر کانپنے لگے۔ زینے پر تالا جوں کا توں لگا تھا لیکن اس وقت اس سے خون ٹپک ٹپک کر زینے کو سیراب کر رہا تھا۔

    ٭….٭….٭


    پردے اُٹھتے ہیں

    ”خون!“ فاروق چلایا۔

    ”اُف خدا! یہ خون اس تالے میں سے ٹپک رہا ہے۔“ فرزانہ کی لرزتی ہوئی آواز آئی۔

    ”خونی تالا۔“ فاروق کے منہ سے نکلا۔

    ”یہ تمہارے ابا جان ہمیں کس مصیبت میں چھوڑ گئے ہیں۔ آخر ہم کب تک ان حالات میں اپنے ہوش و حواس قائم رکھیں گے۔“

    ”حوصلہ رکھئے امی۔“

    خون بہتا ہوا سب سے نچلی سیڑھی تک پہنچ چکا تھا۔ عین اسی وقت پورے مکان میں گہری تاریکی چھا گئی۔ تمام بلب بجھ گئے تھے۔

    ”ارے! یہ بجلی کو کیا ہوا؟“ بیگم جمشید کے منہ سے نکلا۔

    ”بھوتوں سے ڈر گئی۔“ فاروق گھگھیایا۔

    ”امی جان! دیوار سے لگ کر کھڑی ہو جائیں۔“

    وہ دیوار سے لگ کر کھڑے ہو گئے۔ دیوار سے لگتے ہی انہوں نے محسوس کیا کہ وہ تمام آوازیں اس دیوار میں سے آرہی ہیں۔

    ”ارے! یہ آوازیں تو اس دیوار میں سے آرہی ہیں۔“ بیگم جمشید بولیں۔

    ”بھوتوں کے لئے دیواروں میں گھسنا کیا مشکل ہے۔“

    ”ہمیں ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔“ محمود نے جواب دیا۔

    اسی لمحے مکان جگمگا اٹھا۔ تمام بلب روشن ہو گئے تھے اور ساتھ ہی شور تھم گیا۔

    ”کیوں نہ ہم کھلے دروازے کے پاس جا کر کھڑے ہو جائیں۔ کچھ تازہ ہوا ہی محسوس ہو گی۔یہاں تو دم گھٹتا جا رہا ہے۔“ بیگم جمشید نے تجویز پیش کی۔

    ”ہاں۔ اس خون آلود تالے کو ہاتھ لگانے کی تو ہم جرا¿ت بھی نہیں کرسکتے۔“

    ”سیڑھیاں بھی تو خون سے بھر گئی ہیں۔“

    وہ دروازے کے پاس پہنچے۔ دروازہ اس وقت بھی کھلا تھا۔

    ”کیوں نہ ہم اس مکان سے باہر نکل جائیں۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”اور ابا جان!“ فاروق بولا۔

    ”انہوں نے ہمیں کب کہا تھا کہ مکان سے کسی حالت میں بھی باہر نہ نکلنا۔“ بیگم جمشید نے کہا۔

    ”پھر بھی! ابا جان کیا سوچیں گے۔“ محمود بولا۔

    ”شاید وہ خوش ہوں گے کہ ہم خطرے سے بچنے کے لئے مکان سے باہر چلے گئے تھے۔“

    ”میں تو ہرگز نہیں جاﺅں گا۔“

    اچانک زوردار آواز کے ساتھ دروازہ بند ہو گیا۔

    ”لیجئے! باہر جانے اور نہ جانے کا سوال ہی ختم ہو گیا۔“

    دفعتاً انہیں زینے کے پاس عجیب و غریب سی آوازیں سنائی دیں۔ یہ اس وقت تک سنائی دینے والی آوازوں سے بالکل مختلف تھیں۔ وہ زینے کے نزدیک پہنچے تو انہوں نے صاف محسوس کیا، اوپری منزل پر کوئی بھاری بھرکم قدموں کے ساتھ چل رہا تھا۔

    ”بھوت چہل قدمی کر رہا ہے۔“ فاروق بولا۔

    ”تو کیا اس مکان میں صرف ایک بھوت ہی رہتا ہے؟“

    ”نہیں اور بھی ہوں گے لیکن اس وقت ڈیوٹی پر یہی ہو گا۔ باقی سو رہے ہوں گے یا سیر کرنے نکل گئے ہوں گے۔“ فاروق نے جواب دیا۔

    ”رات کے وقت سیر!“ محمود نے حیران ہو کر کہا۔

    ”بھوت رات کو نہیں تو کیا دن کو سیر کریں گے۔“ فاروق جل کر بولا۔

    قدموں کی آواز اب زینے کے بالکل پاس آگئی تھی۔ ان کی نگاہیں تالے پر جم گئیں۔ اب اس سے خون نہیں ٹپک رہا تھا۔ زینے پر بھی اب خون نہیں تھا۔

    ”ارے۔ وہ۔ خون کہاں گیا۔“ فرزانہ کے منہ سے نکلا۔

    ”بھوتوں کا خون ہو گا، غائب ہو گیا۔“

    اسی وقت زینے کا تالا خود بخود کھل کر زمین پر گر گیا اور زینے کا دروازہ چوپٹ کھل گیا۔

    ”لو بھئی! کھل گیا زینہ!“ فاروق بولا۔

    ”پھر ایک ایسی چیز نظر آئی جس نے انہیں لرزا دیا۔ ان کی ٹانگیں تھرتھر کانپنے لگیں۔ زینے پر سر سے لے کر پاﺅں تک سفید کپڑے میں لپٹا ایک بھوت کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ آگے کی طرف اٹھے ہوئے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ سیڑھیاں اترنے لگا۔ ان کے دل دھک دھک کرنے لگے اور منہ سے ڈری ڈری چیخیں نکلنے لگیں۔ وہ الٹے قدموں دروازے کی طرف چلنے لگے۔ ان کے رنگ اڑ گئے تھے۔ منہ حیرت اور خوف سے کھلے کے کھلے رہ گئے تھے اور پھٹی پھٹی آنکھوں سے بھوت کو دیکھتے وہ پیچھے ہٹ رہے تھے۔ یہاں تک کہ بھوت آخری سیڑھی تک پہنچ گیا اور پھر فرش پر اتر آیا۔ اب درمیانی فاصلہ چند قدموں سے زیادہ نہیں تھا۔ اس وقت مکان میں مکمل خاموشی چھا گئی تھی۔

    بھوت کے قدم آہستہ آہستہ اٹھ رہے تھے۔ اسی کی مناسبت سے ان کے قدم اٹھ رہے تھے۔ دہشت کا ایک عالم ان پر چھا گیا تھا۔ اسی طرح وہ دروازے کے پاس پہنچ گئے۔ فاروق نے جرا¿ت سے کام لیا۔ اچانک مڑا اور دروازے کا ہینڈل پکڑ کر کھینچا۔

    دوسرا لمحہ حیرت زدہ کر دینے کے لئے کافی تھا۔ دروازے کے دونوں پٹ کھل گئے۔ وہ بے تحاشہ مڑے اور چاہتے تھے کہ بھاگتے ہوئے دروازے سے نکل جائیں کہ اچانک ٹھٹھک کر رک گئے۔

    دروازے پر تین آدمی کھڑے تھے۔

    ٭….٭….٭

    جس طرح وہ چاروں تین آدمیوں کو دیکھ کر چونکے تھے، اسی طرح بھوت بھی ضرور چونکا ہو گا۔ کیوں کہ ان کو دیکھ کر اس کے قدم رک گئے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے اس کے قدم زمین میں گڑ گئے ہوں۔

    چاروں نے ان تینوں کو دیکھا اور حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ تینوں مسکرا رہے تھے لیکن ان کی مسکراہٹیں خوف ناک نہ تھیں۔ وہ حیران حیران کبھی ان تینوں کو دیکھ رہے تھے اور کبھی بھوت کو جواب بھی اسی طرح گم صم کھڑا تھا۔ پھر اچانک جیسے اسے ہوش آگیا۔ اس کا ہاتھ اپنے سفید لبادے میں رینگ گیا۔ دوسرے ہی لمحے اس کے سفید کپڑے میں لپٹے ہوئے ہاتھ میں پستول نظر آیا۔

    ”ارے! یہ کیا۔ کیا آج کل بھوت بھی پستول چلانا جانتے ہیں۔“ فاروق نے حیرت کا اظہار کیا۔

    ”ہاں! یہ ماڈرن بھوت ہے نا۔ اس لئے۔“ تین آدمیوں میں سے ایک نے کہا۔

    ”اور آپ لوگ کون ہیں؟ ہمیں تو آپ تینوں بھی بھوت سے کسی طرح کم دکھائی نہیں دیتے۔“ محمود نے کہا۔

    تینوں اس کی بات پر مسکرائے۔

    ”خبردار! کوئی اپنی جگہ سے حرکت نہ کرے۔“ بھوت نے بلند آواز میں کہا۔

    ”لو بھئی! یہ بھوت تو آدمیوں کی طرح بولنے لگا۔“ فاروق بولا۔

    ”خاموش رہو۔“ بھوت نے اسے ڈانٹ دیا۔

    ”جی بہت بہتر بھوت صاحب۔“ فاروق نے سہم کر کہا۔

    ”اپنے ہاتھ اوپر اٹھا دو۔“ بھوت گرجا۔

    ”اس کی ضرورت نہیں بھوت صاحب۔“ پیچھے سے آواز آئی۔

    سب چونک کر مڑے! انسپکٹر جمشید بھوت کے پیچھے کھڑے مسکرا رہے تھے۔

    ”خبردار! تم بھی اپنی جگہ سے حرکت نہ کرنا۔“ بھوت نے گھبرا کر کہا۔

    ”میں نے کہا نا۔ اس کی ضرورت نہیں۔ تمہارا پستول بالکل خالی ہے۔“

    ”یہ کیا بکواس ہے؟“ بھوت بولا۔

    ”اگر تمہیں یقین نہیں تو چلا کر دیکھ لو۔“

    ”بھوت نے ٹرائیگر دبا کر دیکھا لیکن کوئی فائر نہ ہوا۔ اس نے پستول انسپکٹر جمشید پر پھینک مارا لیکن انہوں نے جھک کر اپنے آپ کو بچا لیا۔ یہ دیکھ کر بھوت نے ان پر چھلانگ لگائی۔ وہ ایک طرف ہٹ گئے۔ بھوت اپنے ہی زور میں آگے نکل گیا لیکن پھر پلٹا اور اس مرتبہ آندھی کی طرح ان پر آیا۔ انہوں نے ایک زوردار مکا اس کی پیشانی پر رسید کیا۔ مکا کھا کر وہ دوسری طرف الٹ گیا۔ اس کے ساتھ ہی ایک ٹھوکر اس کے پیٹ میں بھی لگی اور وہ بے دم ہو کر ہانپنے لگا۔

    ”کھیل ختم ہو گیا۔“ انسپکٹر جمشید نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے کہا۔

    ”لیکن ہمارے پلے تو کچھ نہیں پڑا۔“ ان تینوں میں سے ایک نے کہا۔

    ”ابھی سمجھ میں آجائے گا۔ پہلے میں اپنے آدمیوں کو اندر بلا لوں۔“ یہ کہہ کر وہ دروازے پر آئے اور منہ سے سیٹی کی آواز نکالی۔ فوراً ہی سب انسپکٹر اکرام اندر داخل ہوا۔ وہ سادہ لباس میں تھا۔ اس کے ساتھ چار کانسٹیبل بھی تھے۔

    ”شیرخان کہاں ہے؟“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”جی وہ بھی یہیں ہے۔ لیکن اسے مکان میں داخل ہوتے ڈر لگ رہا ہے۔ انسپکٹر صاحب آجائیں۔“

    شیرخان ڈرتا ڈرتا اندر داخل ہوا اور انسپکٹر جمشید کو دیکھتے ہی بولا:

    ”ارے! آپ تو وہی ہیں جو صبح مسٹرواصف کے سوٹ کیس کی چوری کی رپورٹ درج کرانے آئے تھے۔ کیا نام بتایا تھا آپ نے؟ ہاں یاد آیا۔ سرور بیگ! تو سرور بیگ صاحب کیا چکر ہے؟ آپ رات کو اس وقت یہاں کیا کھیل کھیل رہے ہیں؟“

    ”پہلے آپ بتائیے۔ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟“ انسپکٹر جمشید نے مسکرا کر پوچھا۔

    ”مجھے سپرنٹنڈنٹ پولیس کا حکم نامہ ملا تھا کہ اپنے ساتھ رات کے وقت چار آدمیوں کو لے کر یہاں پہنچ جاﺅں، سو میں پہنچ گیا۔ ہدایت یہ تھی کہ جو شخص رقعہ لے کر آئے اس کی ہدایت پر عمل کرنا اور یہ صاحب میرے پاس رقعہ لے کر آئے تھے۔ شیرخان نے اکرم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

    انہوں نے مجھے مکان کے باہر روکے رکھا ورنہ میں تو کبھی کا مکان میں داخل ہو جاتا۔ یہ دیکھنے کے لئے کہ اندر ہو کیا رہا ہے لیکن آپ لوگ کون ہیں اور یہاں کیا کر رہے ہیں؟“

    سب ان کی باتوں پر مسکرا دیئے۔ اکرم کا تو ہنسی کے مارے برا حال تھا کیوں کہ شیرخان مکان کے باہر کھڑا بری طرح کانپتا رہا تھا۔

    ”ابھی بتاتا ہوں۔ پہلے تو آپ اسے ہتھکڑی پہنا دیں۔“ انسپکٹر جمشیدنے مسکراتے ہوئے کہا۔ بے ہوش بھوت پر نظر پڑتے ہی شیرخان کی گھگھی بندھ گئی۔

    ”یہ۔ یہ۔ ارے۔ یہ کون ہے؟ کیا کوئی مردہ ہے؟“ وہ ہکلایا۔

    ”جی نہیں! یہ مردہ نہیں ہے زندہ ہے اور اس مکان کا بھوت ہے۔“

    ”کیا کہا؟ بھبھوت۔“

    ”جی ہاں! اسے ہتھکڑی پہنا دیں۔“

    ”بھبھوت کو؟“

    ”ہاں! جلدی کریں۔“

    ”پہلے یہ بتائیں آپ ہیں کون؟“

    ”کیا تمہیں اپنے سپرنٹنڈنٹ کی ہدایت یاد نہیں؟“اکرام نے سخت لہجے میں کہا۔

    ”اوہ! جی ہاں۔ لیجئے۔“

    اس نے بھوت کے ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈال دی۔ وہ ابھی بے ہوش تھا۔

    ”اب آپ لوگ اندر تشریف لے آئیں۔“

    وہ سب اندر چلے آئے۔ کانسٹیبل بھوت کو اٹھا لائے۔

    انسپکٹر جمشید نے کمرے کا دروازہ کھولا۔ اب یہاں کوئی چمگاڈر نہیں تھی۔ وہ کرسیوں اور چارپائیوں پر بیٹھ گئے۔

    ”ہاں! اب فرمائیے۔ یہ سب کیا معاملہ ہے؟“

    ”پہلے میں ایک دوسرے کا تعارف کروا دوں۔ یہ میرے بیوی بچے ہیں۔“ انہوں نے کہا۔

    ”اور آپ تینوں باقرگنج کے اعلیٰ حکام ہیں۔ یہاں کا پورا نظم و نسق انہی کے حوالے ہے۔ یہ شخص، جو سادہ لباس میں موجود ہے شہر سے آیا ہے اور ایک پولیس آفیسر ہے۔“ انہوں نے اکرام کی طرف اشارہ کر کے کہا۔

    ”اور شیر خان کو تو آپ جانتے ہی ہیں، باقر گنج کے تھانے دار ہیں۔“ یہ سن کر شیرخان نے اپنی بڑی بڑی مونچھوں پر ہاتھ پھیرا۔

    ”اور آپ کون ہیں؟ آپ نے اپنا نام نہیں بتایا؟“ ایک آفیسر نے پوچھا۔

    ”ذرا ایک منٹ ٹھہریئے، پہلے میں یہ بتا دوں کہ آپ تینوں میری ہی درخواست پر یہاں آئے ہیں۔“

    ”کیا مطلب؟ کیا وہ خط آپ نے ہمیں بھیجا تھا؟“

    ”جی ہاں!“

    ”لیکن…. اس میں تو لکھا تھا….“

    ”میں وہی سب کچھ بتانا چاہتا ہوں۔ آئیے پہلے آپ کو مکان کی تھوڑی سی سیر کرا دوں۔“

    وہ سب کمرے سے نکل آئے۔ کانسٹیبل بھوت کے ساتھ اندر ہی رہ گئے۔ انسپکٹر جمشید بتانے لگے:

    ”یہ بات تو آپ لوگ جانتے ہی ہیں کہ یہ مکان آج سے دس سال پہلے آسیب زدہ نہیں تھا۔“

    ”جی ہاں۔ اس مکان کا مالک یہاں کا سب سے دولت مند آدمی تھا اور وہی اس مکان میں رہا کرتا تھا۔“ یہ ان میں سے ایک آفیسر نے کہا۔

    ”بالکل ٹھیک۔ کیا آپ یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ سیٹھ کریم خان اب کہاں ہے؟“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”وہ آج سے دس سال پہلے غائب ہو گیا تھا۔ آج تک اس کا پتا نہیں چلا۔“

    ”آبگینہ ہوٹل بھی اسی کا تھا؟“

    ”ہاں۔ موجودہ مالک یوسف خان اس کا چھوٹا بھائی ہے۔“

    ٹھیک ہے! میں آپ کو سیٹھ کریم سے ملائے دیتا ہوں۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”کیا؟ سیٹھ کریم۔“ ان سب نے حیرت سے کہا۔

    ”جی ہاں! آئیے۔“

    ”کیا وہ زندہ ہے؟“

    ”آپ آئیے تو سہی۔“ انسپکٹر جمشید ڈرائنگ روم کے دروازے کے پاس پہنچ چکے تھے۔ پھر انہوں نے دروازہ کھول دیا۔ انسانی ڈھانچہ رسی سے لٹک رہا تھا۔

    ان سب کے منہ سے بھیانک چیخیں نکلنے لگیں۔ سب بری طرح کانپ رہے تھے سوائے انسپکٹر جمشید اور ان کے بیوی بچوں کے۔ شیرخان کا حال سب سے برا تھا۔

    ”یہ سیٹھ کریم خان ہے۔“ انہوں نے پرسکون آواز میں کہا۔

    ”کیا؟“ وہ حلق پھاڑ کر چلائے۔

    ”ہاں! اور آپ سب لوگ یہیں ٹھہریں۔ میں ابھی واپس آجاتا ہوں۔“ یہ کہہ کر انسپکٹر جمشید زینے کی سیڑھیاں چڑھنے لگے۔ پھر وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔

    دو منٹ بھی نہ گزرے ہوں گے ایک خوف ناک اور طویل قہقہے نے ان کے ہوش اڑا دیئے۔ قہقہہ سیٹھ کریم خان کے پنجر کے منہ سے نکل رہا تھا۔

    ”ارے باپ رے۔“ شیرخان زمین پر گر کر کانپنے لگا۔ اچانک نقاروں کی دھمک اور کتوں اور بلیوں کا شور بھی قہقہے کے ساتھ شامل ہو گیا۔ ان سب کا حال بہت برا تھا۔ وہ بری طرح کانپ رہے تھے۔ پھر شور بند ہو گیا۔ اس کے بعد اس کا ڈھانچہ نیچے آنے لگا ساتھ ہی انسپکٹر جمشید کی آواز آئی۔

    ”میں اسے نیچے اتار رہا ہوں۔ گھبرائیے نہیں۔“

    پھر ڈھانچے کے پاﺅں زمین سے لگے اور آہستہ آہستہ وہ زمین پر لیٹ گیا۔ اس کے بعد رسا بھی نیچے آرہا۔ جلد ہی انسپکٹر جمشید ان کے پاس پہنچ گئے۔

    ”اب آپ اس ڈھانچے کے قریب آئیں۔ ڈریئے نہیں۔ اسے مرے ہوئے تو دس سال ہو چکے ہیں۔“

    وہ قریب آگئے۔

    ”اس کے منہ کے اندر دیکھئے۔“

    انہوں نے دیکھا۔ ڈھانچے کے منہ میں ایک چھوٹا سا لاﺅڈ اسپیکر فٹ تھا۔

    ”ارے! یہ تو لاﺅڈ اسپیکر ہے۔“

    ”جی ہاں! اوپر والی منزل پر آپ کو ٹیپ ریکارڈر بھی ملے گا۔ یہ قہقہہ نقاروں کی آواز، کتوں، بلیوں کا شور اور فرنیچر اور برتن ٹوٹنے کی آوازیں سب کی سب ٹیپ کی ہوئی ہیں۔ جب ریکارڈر چلایا جاتا ہے تو ترتیب وار سب آوازیں اس ڈھانچے کے منہ سے نکلنے لگتی ہیں۔ نہ صرف اس ڈھانچے کے منہ سے بلکہ اس پورے مکان میں چھوٹے چھوٹے اسپیکرز فٹ کئے گئے ہیں۔ روشن دانوں میں، دیواروں کے اندر بھی۔ اس طرح آوازیں مکان کے گوشے گوشے سے آتی معلوم ہوتی ہیں۔“

    ”تو یہ ہے وہ آسیب۔ اور وہ بھوت کون ہے؟“

    ”وہ ابھی معلوم ہوا جاتا ہے پہلے تفصیل سن لیں۔ آج سے دس سال پہلے سیٹھ کریم کو اس مکان میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قتل کر دیا گیا۔ قتل کرنے والوں نے اپنے جرم سے بچنے کے لئے انوکھی تجویز سوچی۔ انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ اس مکان کو آسیب زدہ بنا دیا جائے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے جگہ جگہ لاﺅڈ اسپیکر فٹ کئے اور ٹیپ ریکارڈر رکھا۔ مکان میں چمگاڈریں جمع کیں….“

    ”وہ کیسے؟“ فاروق نے پوچھا۔

    ”باقر گنج کے جنگل میں اس قسم کی چمگاڈروں کی کثرت ہے۔ یہ گوشت کھانے کی بہت شوقین ہوتی ہیں۔ قاتل نے سیٹھ کریم کا گوشت ان کے آگے ڈال دیا اور مکان تک ڈالتا چلا آیا۔ یہاں تک کہ چمگاڈریں مکان تک پہنچ گئیں پھر وہ مردہ کریم خان سے چمٹ گئیں اور چند دنوں کے اندر اندر اس کے جسم کا سارا گوشت چٹ کر گئیں۔ اس کے بعد قاتل نے ان چمگاڈروں کو مستقل طور پر رکھنے کے لئے ایک کمرے تک گوشت کی لائن بچھا دی۔ چمگاڈریں گوشت کھاتی ہوئی کمرے تک پہنچ گئیں۔ گوشت کا سلسلہ ایک الماری تک چلا گیا تھا۔ اس دن کے بعد سے تمام چمگاڈریں الماری میں رہنے لگیں۔ کیوں کہ قاتل ہر روز انہیں گوشت الماری میں ہی پہنچا دیا کرتا تھا۔“

    ”یہ گوشت وہ کہاں سے لاتا تھا؟“

    ”بازار سے۔ گائے بھینس کا گوشت۔“

    ”بہت خوب۔ آگے چلئے۔“

    ”لاﺅڈ اسپیکرز مکان میں فٹ کر دیئے گئے۔ اس ڈھانچے کے منہ میں بھی ایک فٹ کیا گیا۔ سب تیاریاں مکمل کر کے بعد میں انہوں نے مکان کو آسیب زدہ ثابت کرنے کے لئے ریکارڈر بجانے شروع کر دیئے۔ راتوں کو آس پاس سے گزرنے والے سادہ لوح لوگ یہ خوفناک آوازیں سنتے اور سہم جاتے۔ کوئی مکان کے پاس بھی نہ بھٹکتا۔

    کئی دن تک لوگوں کو سیٹھ کریم خان کی گمشدگی کا بھی پتا نہ چلا۔ آخر سیٹھ صاحب کا کوئی پتا نہ چلا تو اس کا پریشان بھائی یوسف خان تھانے پہنچ گیا اور رپورٹ درج کرائی کہ اس کا بڑا بھائی غائب ہے۔ شیرخان تحقیقات کے لئے مکان میں گئے۔ دن کا وقت تھا، دو مین کانسٹیبل بھی ساتھ تھے۔ لیکن سب گرتے پڑتے باہر نکل آئے اور یوسف خان کو اندر جو کچھ دیکھا تھا، بتایا۔ انہوں نے یہ ہی خیال کیا کہ بھوتوں نے سیٹھ کریم خان کو مار کر مکان پر قبضہ کر لیا ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی اس سلسلے میں کیا کر سکتا تھا اور اسی طرح دس سال گزر گئے۔ ان دس سالوں کے دوران آپ جانتے ہیں کتنے لوگ اس مکان میں ضد کر کے رہے۔ سینکڑوں آدمی، لیکن سب کے سب چند گھنٹے سے زیادہ مکان میں نہ ٹھہر سکے۔“

    ”حیرت ہے۔ اس قدرزبردست منصوبہ بنایا گیا۔“

    ”اور اس سے دوہرا فائدہ اٹھایا گیا۔“

    ”دوہرا؟ کیا مطلب؟“ محمود چونکا۔

    ”آئیے کمرے میں چلتے ہیں۔ ابھی آپ لوگوں کو اس بھوت کا چہرہ بھی تو دکھانا ہے۔“

    ”آخر وہ کون ہے؟“ ایک آفیسر نے بیچ میں ہو کر پوچھا۔

    ”ابھی آپ لوگ دیکھ ہی لیں گے۔“

    سب کمرے میں آئے۔

    ”اس کے چہرے سے کپڑا ہٹا دو۔“ انسپکٹر جمشید نے ایک کانسٹیبل سے کہا۔ بھوت اب ہوش میں آچکا تھا۔

    کانسٹیبل نے اس کے چہرے سے کپڑا ہٹا دیا۔ شیرخان، محمود، فاروق، فرزانہ، بیگم جمشید اور تینوں آفیسرز کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ یہ ہوٹل آبگینہ کا وہی ڈاکٹر ریاض تھا جس نے واصف کو آکر دیکھا تھا۔

    ”ارے! یہ تو ہوٹل کا ڈاکٹر ہے۔“ شیرخان کے منہ سے نکلا۔

    ”ہاں!“

    ”کیا یہی قاتل ہے؟“ ایک آفیسر نے پوچھا۔

    ”نہیں! اس کا ساتھی۔ اس کا مددگار۔“

    ”تو پھر آخر قاتل کون ہے؟“

    ”یہ ڈاکٹر شہر میں پریکٹس کرتا تھا۔ وہاں اس نے دو تین مجرمانہ کام کئے۔ کچھ جعلی سرٹیفکیٹ جاری کئے۔ پولیس اسے گرفتار کرنے گئی تو بھاگ نکلا۔ اس کا ریکارڈ شہر کے ایک تھانے میں موجود ہے اور اسی لئے مجھے اس کا چہرہ جانا پہچانا لگا تھا۔ اس مکان میں قیام کرنے والوں کو ڈرا کر باہر بھاگنے پر مجبور کرنا اس کا کام تھا۔“

    ”اور قاتل؟ آخر وہ کون ہے؟“

    ”یہاں سے ہم قاتل کے پاس ہی جا رہے ہیں۔“

    ”ابا جان ایک منٹ میں! دو ایک باتیں پوچھنا چاہتا ہوں۔“ محمود بولا۔

    ”ہاں ہاں! پوچھو۔“

    ”کمرے میں ہمیں بہت بڑے سائز کا جوتا نظر آیا تھا جو ہم نے برآمدے میں پھینک دیا تھا۔ بعد میں وہ غائب کیسے ہو گیا؟“

    ”اوہ! یہ معمولی بات ہے۔ اس مکان کے ہر کمرے کے چھت کے بیچوں بیچ ایک چوکور سوراخ بنایا گیا ہے۔ تم دیکھ رہے ہو اس کمرے کی چھت کو۔ بظاہر اس میں سوراخ نظر نہیں آتا۔ البتہ ایک سیاہ رنگ کی جالی سی نظر آتی ہے اور پھر اس سوراخ سے کمرے میں کوئی بھی چیز جو اس میں سے گزر سکے گرائی جا سکتی ہے۔“

    ”بہت خوب۔ لیکن وہ برآمدے سے غائب کیسے ہو گیا؟“

    ”اوپر تمہیں ایک ڈوری کے سرے پر ایک ہک لگی ہوئی ملے گی۔ یہ ہک بالکل مچھلیاں پکڑنے والے کانٹے کی مانند ہے اس ڈوری کو نیچے لٹکا کر جوتا اس میں پھنسا کر اوپر اٹھا لینا کون سا مشکل کام ہے۔“

    ”ایک سوال اور!“ فاروق بول اٹھا۔

    ”تم بھی کہو۔“

    ”ہم نے زینے پر لگے ہوئے تالے سے خون ٹپکتے دیکھا تھا۔ وہ کیا معاملہ تھا؟“

    ”کسی جانور کا خون پچکار میں بھر کر اندر ایک سوراخ کے ذریعے تالے پر مارا جاتا ہے جو تالے سے ٹپکتا نظر آتا ہے اب تم سوچو گے وہ پچکر کیسے ہو گی۔ انجکشن لگانے والی بڑی سرنج سمجھ لو۔ جس سے جانوروں کو ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔“

    ”میں سمجھ گیا۔“

    ”ایک بات رہ جاتی ہے۔“ یہ فرزانہ تھی۔

    ”ہاں ہاں! ضرور۔“

    دوسرے لوگ بھی نہایت دلچسپی اور حیرت سے باتیں سن رہے تھے۔

    ”میں نے آج تک ایسی بلیاں نہیں دیکھیں جو انسانوں پر حملہ کرتی ہوں کیا باقر گنج کی بلیاں ایسی ہی خونخوار ہیں؟“ فرزانہ نے پوچھا۔

    ”ہاں! یہ بات واقعی ایسی ہے جس پر انسانی ذہن جتنا سوچے، الجھتا چلا جائے گا۔ دراصل ہمارا مجرم، جس نے بھوت کا بھیس بھر رکھا ہے، ایک ڈاکٹر بھی ہے۔ یہ کوئی ایسا انجکشن بلی کو لگا دیتا ہے کہ وہ مشتعل ہو جاتی ہے۔ آج صبح بھی جب ہم اندر داخل ہوئے اس نے ایک بلی کو انجکشن لگایا اور کمرے کی چھت سے اسے نیچے پھینک دیا۔ رات کو بھی اس نے یہی کیا تھا۔“

    ”ٹھیک ہے۔ اب سارا معاملہ صاف ہو گیا۔ لیکن ابھی ایک بات رہتی ہے اور وہ یہ آپ کو یہ سب باتیں کیسے معلوم ہوئیں؟“ یہ بات شیرخان نے پوچھی تھی۔

    ”ہاں! یہ بات تمہیں ضرور بتاﺅں گا کیوں کہ اس کے بغیر تم مطمئن نہیں ہو سکتے۔ ہم پرسوں یہاں پہنچے تھے اور کل صبح اپنے دوست واصف کو چارپائی پر ڈال کر ہمارے سامنے ہی لایا گیا تھا۔ یہاں سے مجھے آسیب زدہ مکان کے بارے معلوم ہوا۔ پھر میں باقرگنج کے لوگوں سے معلومات حاصل کرنے نکل کھڑا ہوا۔ میں نے اس مکان کے بارے میں تمام معلومات حاصل کر لیں اور پھر تھانے میں رپورٹ درج کرانے چلا گیا۔ اس کے بعد شہر میں ٹیلی گرام دیا۔ جس کی وجہ سے ایک تو میرا یہ آدمی یہاں پہنچ گیا۔ دوسرے آپ تینوں حضرات کو یہاں رات کے وقت پہنچ جانے کے لئے فون کر دیا گیا اور اس طرح سب کام بخیرخوبی انجام پایا۔“

    ”یہ سب تو ٹھیک ہے۔ لیکن میری ایک بہت بڑی الجھن کسی طرح بھی دور نہیں ہو رہی ہے۔“ ایک آفیسر نے پوچھا۔

    ”اور وہ کیا؟“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”آپ اپنے ساتھ اپنے بیوی بچوں کو بھی لے آئے اور پھر انہیں تنہا چھوڑ کر چلے گئے۔ آپ کو اس بات پر کوئی پریشانی نہیں ہوئی کہ آپ کی عدم موجودگی میں آپ کے بیوی بچے ڈریں گے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خوف کی وجہ سے ان میں سے کوئی بے ہوش ہو جاتا یا پھر اس کے ذہن پر برا اثر پڑ سکتا تھا۔ آخر آپ نے اتنا برا خطرہ کیوں مول لیا؟“

    ”میں نے سرے سے کوئی خطرہ مول نہیں لیا۔“ انسپکٹر جمشید نے مسکرا کر کہا۔ ان کے ساتھ ہی محمود، بیگم جمشید، فاروق اور فرزانہ بھی مسکرا رہے تھے۔

    ”کیا مطلب؟“ آفیسر نے چونک کر پوچھا۔

    ”مطلب یہ کہ آج رات ہم نے اس مکان میں ایک ڈرامہ کھیلا تھا۔“

    ”ڈرامہ کھیلا تھا؟ میں سمجھا نہیں۔“ آفیسر نے حیران ہو کر کہا۔ دوسرے بھی حیرت بھری نظروں سے انسپکٹر جمشید کو دیکھ رہے تھے۔

    ”جی ہاں! ہرروز تو یہاں ڈاکٹر ریاض ڈرامہ کھیلا کرتا تھا۔ آج ہم نے اس کے ساتھ ڈرامہ کھیلا۔“

    ”ہم اب بھی نہیں سمجھے۔“ دوسرے آفیسر نے کہا۔

    ”یہاں آنے سے پہلے ہی میں نے تینوں بچوں اور اپنی بیوی کو یہ سمجھا دیا تھا کہ دراصل اس مکان میں کوئی بھوت پریت نہیں رہتے۔ البتہ ایک چالاک مجرم لوگوں کو بے وقوف بنا رہا ہے اور اس کو گرفتار کرنے کے لئے تم لوگوں کو خوف زدہ ہونے، چیخیں مارنے اور تھرتھر کانپنے کی ایکٹنگ کرنی ہے اور میں خوش ہوں ان چاروں نے اپنا پارٹ بڑی خوبی سے ادا کیا۔“

    ”لیکن ریاض نے آپ کے بارے میں کیوں نہ سوچا؟“

    ”اس لئے کہ میں اٹھ کر مکان سے باہر نکل گیا تھا۔ ڈاکٹر نے سوچا ہو گا کہ میں خوف زدہ ہو کر نکل گیا ہوں گا۔ یا کوئی اور کام پڑ گیا ہو گا۔ اس دوران میں نے سوچا کہ میرے بیوی بچوں کو اس حد تک ڈرا دیا جائے کہ میرے آنے پر وہ مکان میں ایک منٹ نہ ٹھہریں یا اس سے پہلے ہی مکان سے نکل جائیں۔“

    ”ہوں۔ اب سب باتیں صاف ہو گئیں۔ یہ بھی بتا دیں کہ قاتل کون ہے؟“

    ”ہم وہیں چل رہے ہیں۔ قاتل اس وقت آبگینہ ہوٹل میں گہری نیند کے مزے لے رہا ہو گا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ ہو گی کہ دس سال پہلے اس نے جو قتل کیا تھا، اس جرم کے سلسلے میں گرفتار ہونے کا وقت آج آیا ہے۔“

    ”لیکن آپ کے پاس اس کے خلاف کیا ثبوت ہے؟“ ایک آفیسر نے پوچھا۔

    ”ڈاکٹر ریاض سب سے بڑا ثبوت ہے۔ کیوں ڈاکٹر؟ یہ قتل تمہارے سامنے کیا گیا تھا اور ڈاکٹر! یاد رکھو سچ بولنے کے باعث تم پھانسی کے تختے سے بچ جاﺅ گے۔ ورنہ اس ڈھانچے کی موجودگی میں اس مکان سے تمہیں گرفتار کیا گیا ہے، لہٰذا قتل کا الزام بھی تم پر آئے گا اور اس صورت میں تم کسی طرح بھی پھانسی کے تختے سے نہیں بچ سکو گے۔

    ”نہیں۔ نہیں۔ ایسا نہ کہو۔ اس نے میرے سامنے قتل کیا تھا۔ ہاں۔“

    ”اور ایک ثبوت اور بھی ہے میرے پاس۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”وہ کیا؟“

    ”وہ نقدی اور قیمتی چیزیں جو لوگ یہاں سے بھاگتے وقت چھوڑ جاتے تھے۔ اس کے پاس سے برآمد ہوں گی۔ ہو سکتا ہے لوگوں کے سوٹ کیس بھی ملیں۔“

    ”تو چلئے پھر۔ اب یہاں کیا رہ گیا ہے؟“

    ”میں چاہتا ہوں آپ لوگ اوپر چل کر وہ سب انتظامات دیکھ لیں جو دونوں مجرموں نے بھوتوں کا ڈرامہ کھیلنے کے لئے کر رکھے ہیں۔“

    ”چلئے یہ بھی ٹھیک ہے۔“

    اوپر انہوں نے وہی کچھ دیکھا۔ جس کے بارے میں انسپکٹر جمشید پہلے ہی بتا چکے تھے۔ پھر وہ ہوٹل آبگینہ کے لئے روانہ ہوئے، انسپکٹر جمشید نے ہوٹل کے اندر داخل ہونے کے بعد ایک کمرے پر دستک دی۔ کافی دیر تک دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد کہیں دروازہ کھلا۔ وہ سب اسے دیکھ کر چونک اٹھے دروازہ کھولنے والا ہوٹل کا مالک یوسف خان تھا۔

    ”اس کے ہتھکڑیاں لگا دوں؟“ یہ جملہ سن کر وہ بری طرح چونکا۔

    ”کیا مطلب؟“

    ”مطلب بھی سمجھ میں آجائے گا۔ ذرا ادھر دیکھو کون ہتھکڑیاں پہنے کھڑا ہے۔“

    یوسف خان نے ڈاکٹر ریاض کو دیکھتے ہی ایک چیخ ماری۔ اسی وقت دو کانسٹیبلوں نے اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال دیں۔

    اس وقت رات کے تین بج رہے تھے لیکن ان کی آنکھوں میں نیند کا دور دور تک پتا نہیں تھا۔

    ”بس صاحبان! یہی کچھ تھا۔ اب آپ لوگ اپنے اپنے گھروں میں جا کر آرام فرمائیں۔“

    ”اور آپ؟“

    ”ہم اس ہوٹل کے مالک کے کمرے میں رات بسر کریں گے۔ کیوں کہ اب اس وقت یہی جگہ مل سکتی ہے۔“

    ”یہ بھی ٹھیک ہے۔“

    ”لیکن ابا جان۔ وہ انکل واصف کا سوٹ کیس اور دوسرے لوگوں کے سوٹ کیس؟“ فاروق نے یاد دلایا۔

    ”انہیں تلاش کرنے کا کام صبح کا تھا لیکن اگر آپ لوگوں کو نیند نہ آرہی ہو تو اسی وقت برآمد کئے جا سکتے ہیں۔ کیا خیال ہے؟“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”ہم میں سے تو شاید کسی کو بھی نیند نہیں آرہی ہے۔“ ایک آفیسر نے کہا۔

    ”ہاں! بالکل نیند نہیں آرہی۔“ ایک اور صاحب بولے۔

    ”تو پھر آئیے۔“ یہ کہہ کر انسپکٹر جمشید یوسف خان کے کمرے میں گھس گئے۔ سامنے والی دیوار میں ایک اور کمرے کا دروازہ نظر آیا۔

    ”یوسف خان اس کمرے کی چابی کہاں ہے؟“

    ”مجھے نہیں معلوم!“ یوسف خان نے مردہ دلی سے کہا۔

    ”تمہیں نہیں معلوم ہو گا تو پھر کسے معلوم ہو گا۔ جلد بتاﺅ ورنہ ہمیں معلوم کرنے کے دوسرے طریقے بھی آتے ہیں۔“

    ”چابی میز کی دراز میں ہے۔“ آخر اس نے بتا دیا۔

    چابی کے ذریعے کمرے کا دروازہ کھولا گیا تو اس میں سینکڑوں سوٹ کیس ایک دوسرے کے اوپر رکھے نظر آئے۔

    ”حیرت ہے! جرم کا ثبوت اس نے اپنے ساتھ ساتھ رکھا۔“

    ”تو یہ اتنے سوٹ کہاں لے جاتا۔ یہی تو مزے کی بات ہے۔ جب لوگوں کو سوٹ کیس کہیں بھی نہ ملتے تو خواہ مخواہ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ انہیں ضرور بھوت لے گئے ہیں۔“

    ”ہوں! تو یہ بات ہے۔“ شیرخان غرایا۔

    ”اب ان تمام سوٹ کیسوں کو ان کے مالکان کے حوالے کرنا آپ کا کام ہے۔“ انسپکٹر جمشید نے شیرخان سے کہا۔

    ”جی بہتر!“

    ”خبردار! جو کسی کی امانت میں ذرا بھی خیانت ہوئی۔“

    ”جی نہیں! ایسا نہیں ہو گا۔“

    ”بس صاحبان! یہی سب کچھ تھا۔ جو دس سال سے یہاں ہو رہا تھا۔ اگر ہم اس طرف اتفاق سے سیروتفریح کی غرض سے نہ آجاتے تو نہ جانے یہ چکر کب تک یونہی چلتا رہتا۔ یوسف خان اور ڈاکٹر ریاض ہزاروں روپے ماہوار کماتے رہتے۔“

    ”اُف خدا۔ کیا ہمارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔“ ایک آفیسر چونک کر بولا۔

    ”کیا مطلب؟“ دوسرے نے پوچھا۔

    ”عجیب و غریب حالات کی بھول بھلیوں نے ہماری سب کی مت مار دی ہے۔“ اسی نے کہا۔

    ”کیا مطلب؟ میں ابھی تک سمجھا نہیں۔“ دوسرا حیران ہو کر بولا۔

    ”اب ایسی کون سی بات رہ گئی ہے، جس سے یہ ظاہر ہو کہ ہماری مت ماری گئی ہے۔“

    ”ہے ایک ایسی بات۔ خدا کی قسم وہ آج کی رات کا سب سے اہم سوال تھا جو ہم بھول گئے۔“اس کا یہ جملہ سن کر انسپکٹر جمشید مسکرا اٹھے۔

    ”آخر ایسی کون سی بات ہے، کچھ ہمیں بھی بتائیے۔“ تیسرے آفیسر نے کہا۔

    ”ہم نے ان سے یہ نہیں پوچھا کہ یہ خود کون ہیں؟“پہلے نے انسپکٹر جمشید کی طرف اشارہ کر کے کہا۔

    ”اوہ! واقعی۔“ کئی ایک کے منہ سے نکلا۔

    ”تو صاحب۔ اب آخری بات یہ بھی بتا دیں کہ آپ کون ہیں؟ آخر آپ کی خواہش پر ہی حکام نے ہمیں یہاں پہنچنے کے لئے فون کیا تھا اور پھر شہر سے آپ کے یہ ساتھی بھی یہاں آئے۔ خدا کے لئے بتائیے آپ کون ہیں؟“

    ”سرور بیگ!“ انسپکٹر جمشید نے مسکرا کر کہا۔

    ”مذاق نہ کیجئے۔ اگر آپ کا نام سرور بیگ ہے تو یہ فرمائیے کہ آپ کون سے محکمے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان تمام رازوں کو اتنی آسانی سے حل کر دینا ایک عام آدمی کے بس کا روگ تو ہرگز نہیں۔“

    ”اگر آپ نہیں مانتے تو بتائے دیتا ہوں خاکسار کو انسپکٹر جمشید کہتے ہیں۔“ آخر انہوں نے بتا دیا۔

    ”انسپکٹر جمشید! اوہ۔ اوہ!“ ان کے منہ سے نکلا حیرت کے مارے ان کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔

    ”تت۔تت۔ یہ بچے۔ ضرور محمود، فاروق اور فرزانہ ہوں گے۔“ ایک آفیسر نے کہا۔

    ”اخبارات میں آئے دن ان کے متعلق چھپتا رہتا ہے ابھی پچھلے دنوں شاید کسی تہہ خانے کے سلسلے میں ان کے متعلق چھپا تھا۔“

    ”آپ ٹھیک سمجھے۔“

    اور پھر یہ مجلس حیرت پر ہی ختم ہوئی۔ کمرے سے رخصت ہوتے وقت ان سب کے چہروں پر حیرت تھی۔ ان کے جانے کے بعد انسپکٹر جمشید نے اکرام سے کہا:

    ”ہم اپنی چھٹیوں کے دن باقر گنج میں ہی گزاریں گے۔ تم صبح واپس چلے جانا۔“

    ”جی بہتر!“ اکرام نے کہا۔

    ”ابا جان! اب ہم کہاں رہیں گے؟“ فرزانہ نے پوچھا۔

    ”اسی آسیب زدہ مکان میں۔ اور کہاں؟“ فاروق نے کہا۔

    ”بالکل ٹھیک۔ ہم پندرہ دن وہیں گزاریں گے۔“

    ”ٹھیک ہے اب تو دن نکلنے والا ہے۔ صبح ناشتا کرنے کے بعد وہیں چلیں گے۔“

    دوسرے دن پورے باقر گنج کے بچے بچے کی زبان پر آسیب زدہ مکان کی ہی کہانی تھی۔

    ٭….٭….٭

    اس سلسلے کی مزید تحاریر


    موت کا جزیرہ

    موت کا جزیرہ

    • مئی 25, 2020


    سازشی چہرہ

    سازشی چہرہ

    • مئی 25, 2020


    خونی جال

    خونی جال

    • مئی 25, 2020


    ڈریکولا کا بھوت

    ڈریکولا کا بھوت

    • مئی 25, 2020


    پانچ قدم پہ موت

    پانچ قدم پہ موت

    • مئی 25, 2020


    خونی سائنسدان

    خونی سائنسدان

    • مئی 25, 2020


    بھوت بنگلہ

    بھوت بنگلہ

    • مئی 25, 2020


    آخری امید

    آخری امید

    • مئی 25, 2020
  • قرنطینہ ڈائری ۔ پہلا دن

    قرنطینہ ڈائری ۔ پہلا دن

    قرنطینہ ڈائری
    پہلا دن: 24 مارچ 2020

    ڈیئر ڈائری!
    لاک ڈاﺅن کا پہلا دن کیسا گزرا؟ ویسا ہی جیسے باقی دن گزرتے ہیں۔ وہی گھر کے کام، وہی بچوں کی چہکار اور وہی ملازموں کے نخرے۔ وہی دوستوں سے فون پر باتیں، وہی لکھنا پڑھنا اور وہی موسم کی رنگینیاں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ معلوم نہیں کہ یہ زندگی آج ہے، کل ہو گی یا نہیں۔
    آج سارا دن موسم بہت سہانا رہا۔ رات میں بوندا باندی ہوئی تھی۔ صبح بادل کھل کر برسے اور ہوا یوں نکھر گئی جیسے کسی ننھے شرارتی بچے کو ماں نے زبردستی پکڑ کر نہلا دیا ہو اور وہ چمکتا دمکتا خوشبوﺅں میں بسا یوں لگے کہ جیسے کبھی میلا ہوا ہی نہ تھا۔ ایسی بہاروں کی خوشبو سے ہوا اور موسم میں ہماری سوسائٹی کی سڑکیں بڑی پررونق ہو جاتی ہیں۔ بچے سڑکوں پر کرکٹ کھیلتے ہیں۔ بڑے سڑکوں اور پارک میں چہل قدمی کرتے ہیں اور گھروں سے پکوانوں کی خوشبوئیں اور باتوں کی چہکاریں اٹھتی ہیں۔ آج لیکن ہو کا عالم تھا۔ چہار سو سناٹا، نہ آدم نہ حیوان۔ نہ بوڑھا نہ جوان۔
    اس ساری تمہید کا کیا مقصد ڈیئر ڈائری؟ مقصد کہ یوں تو زندگی گزارنے کا کوئی مسلمہ اصول نہیں لیکن کچھ اصول ایسے ہیں کہ اپنا لیے جائیں تو زندگی سہل گزر جاتی ہے۔ ان میں سے ایک اصول نوے دس کا ہے۔ نوے دس کا اصول یہ ہے کہ زندگی میں جو کچھ ہمارے ساتھ ہوتا ہے اس کا صرف دس فیصد زندگی یا قسمت ہمارے ساتھ کرتی ہے۔ باقی نوے فیصد اس دس فیصد پر ہمارا ردعمل ہوتا ہے۔ اب دیکھیے کرونا آیا، وبا پھیلی، یہ کہانی کا دس فیصد ہے جس پر ہمارا اختیار نہیں۔ باقی نوے فیصد ہمارے اختیار میں ہے۔ ہاتھ دھونا، گھر میں رہنا، ماسک پہننا، ہائی جین کا خیال رکھنا، قوتِ مدافعت کو فعال رکھنا، لیکن سب سے بڑھ کر ڈیئر ڈائری خوش رہنا۔ زندگی نعت، صحت اس سے بڑی نعمت، رزق نعمت، چھت نعمت، اولاد نعمت جب تک ہیں تب تک خوش رہیں ہر حال میں خوش رہیں۔ ارے خوش رہنے کے بڑے فائدے ہیں۔ صحت بہتر ہوتی ہے۔ امیونٹی بڑھ جاتی ہے۔ دوست شاد ہوتے ہیں اور دشمن ناشاد، نہ بھی ہوں تو ہمیں کیا فرق پڑتا ہے۔ ہم تو پہلے ہی خوش ہیں۔
    تو بھئی جونہی کل دوپہر لاک ڈاﺅن کا اعلان ہوا، ہم نے پہلا کام یہ کیا کہ بھاگم بھاگم جا کر بچوں کی جناتی سائز ٹیبل ٹینس کی میز اٹھوا لائے جو میاں صاحب کے کلینک کے سٹور میں پڑی تھی۔ چار بچوں کو گھر میں بند رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ کسی ایسے کھیل میں لگایا جائے جس سے ان کی ورزش ہوتی رہے۔ بچے میز دیکھ کر بہت پرجوش ہوئے اور آناً فاناً اوپر کے لاﺅنج میں میز سیٹ کی اور دے میچ پر میچ شروع ہو گئے۔ گھنٹہ بھی نہ گزرا تھا کہ دھڑام کی ایک ایسی دلخراش آواز آئی جس سے دل بند ہوتے ہوتے بچا۔ میں نیچے بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی۔ بھاگتی دوڑتی اوپر پہنچی تو دیکھا کہ میز چاروں شانے چِت پڑی ہے کیوں کہ ایک سال سٹور میں بند رہنے کی وجہ سے اس کے سارے قبضوں پر زنگ لگ گیا تھا اور ہمارے بچوں کی پرجوش دھکم پیل کی تاب نہ لا کر محترمہ شہید ہو چکی ہیں۔ اب نہ جانے کب لاک ڈاﺅن ختم ہو گا اور اس مضروبہ کو ویلڈر کے پاس لے جا کر مرہم پٹی کروائی جائے گی۔
    آج صبح ماسی کو مع تنخواہ چھٹی دے دی تھی۔ آپس کی بات ہے، ماسی کو فارغ کرنے کے ارمان تو کب سے میر دل میں تھے۔ ماسی کو دیکھ کر عصمت چغتائی کی ننھی کی نانی یاد آتی تھی جو نہ صرف لُتری تھی بلکہ چور بھی۔ چوں کہ سارے کام میں ساتھ ساتھ کرواتی ہوں اس لیے ماسی کو کبھی کھل کھیلنے کا موقع نہ ملا۔ لیکن دنیا میں اگر کبھی ہاتھ کی صفائی کا مقابلہ ہو تو ہماری ماسی ضرور اول آئے گی۔ پکتے سالن میں سے بوٹیاں نکال لینا، چوری چھپے پرفیوم لگا لینا، ایک مالٹا دکھا کر درجنوں لے جانا، ہاٹ پاٹ میں سے رات کی بچی روٹیاں غائب کر دینا ہماری ماسی کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ میں نے ہمیشہ یہ سوچ کر درگزر کیا کہ غریب عورت ہے، اس کی لگی ہوئی روزی نہ چھینی جائے۔ ماسی چمچیاں گلاس لے گئی، سرف پہ ہاتھ صاف کیا، عماد کے فائنل ایئر کے تھیسس کے کاغذ ردی میں بیچ دیے۔ اور تو اور 14 اگست کا جھنڈا تک اتار لے گئی، میں نے درگزر کیا۔ لیکن کل محترمہ نے میز پر پڑے ملائی کے پیالے پر ہاتھ صاف کیا اور تقریباً سارا پیالہ کھا گئی۔ اب بھئی کھانے کو جھوٹا کرنا تو مجھے برداشت نہیں۔ مصیبت یہ ہے کہ جو چیز آنکھوں سے نہ دیکھی، اس کا الزام کیوں کر لگایا جائے۔ کبھی پوچھا بھی تو اس نے رونا دھونا ڈال دیا کہ مجھ غریب پر ظلم کرتے ہو اور الزام لگاتے ہو۔ ماسی وہ چھچھوندر بن چکی تھی جو نہ اگلی جاتی تھی نہ نگلی جاتی تھی۔ اب جو لاک ڈاﺅن لگا تو بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔ ماسی کو بقیہ ہفتے کی تنخواہ دے کر چھٹی بھیج دیا کہ بھئی گھر بیٹھو حکومت کا حکم ہے۔ ماسی خوشی، ہم خوش، ہمارا خدا خوش۔ بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔
    ابھی میں ماسی سے جان چھٹنے کی خوشی منا ہی رہی تھی کہ ایک دوسری خوشخبری وصول ہوئی۔ ہمارے ہمسائے میں رہنے والی آنٹی نے اپنے باغ سے تازہ تازہ سبزی بھیجی۔ سبزی بھی وہ جو میری پسندیدہ ہے یعنی مونگرے۔ واہ! آلومونگرے کی چٹپٹی بھاجی ہو اور ساتھ ماش کی دال اور مرچوں کا اچار۔ زندگی کی نعمتوں کی تو کوئی حد ہی نہیں۔ اچار سے یاد آیا، آج دیسی لہسن کا دو طرح کا اچار ڈالا۔ ایک سرکے میں، ایک سرسوں کے تیل میں۔ دیسی لہسن قوتِ مدافعت کے لیے اکسیر ہے اور کرونا کے خلاف ایک ہتھیار۔ تو آج ہم نے یہ ہتھیار تیار کر لیا۔ جب مونگرے اور دال پکنے کی خوشخبری میں نے بچوں کو سنائی تو انہوں نے اس دکھی دل اور تاسف سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا جیسے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے کہہ رہے ہوں۔ ”ہائے سٹھیا گئی ہماری ماں۔“ سب نے ایک ایک ٹھنڈی آہ بھری اور ادھر اُدھر کھسک گئے۔
    دوپہر میں گرم گرم روٹی پر رکھ کر آلومونگرے کا سالن کھایا (مونگرے اور میتھی، ان دونوں کو روٹی پر رکھ کر کھانا چاہیے۔ علیحدہ کھانا ان جنت کی سبزیوں کی توہین ہے۔) اور کھانا کھا کر اتنی خوشی ہوئی اور اتنا سکون ملا کہ زوروں کی نیند آئی اور میں وہیں صوفے پر سو گئی۔ بھئی میاں صاحب کا حکم ہے کہ نیند پوری کرو، امیونٹی کے لیے اچھا ہے۔ چوں کہ نہ واک پر جانا تھا اور نہ کسی کے آنے کا امکان تھا۔ لہٰذا لمبی تان کر سو رہی۔ سو کر اٹھی تو معلوم ہوا عمر نے جو ہمارے تیسرے نمبر کے صاحبزادے ہیں اور کھانا پکانے کے بے حد شوقین بھی، فریزر سے قیمہ اور چیز نکال کر اپنے اور بھائیوں کے لیے برگر بنائے تھے اور مونگروں اور دال کو ہری جھنڈی دکھا دی تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر یہ لاک ڈاﺅن یونہی جاری رہا تو میرے مہینے بھر کے راشن کو یہ بچہ دس دن میں ختم کر دے گا۔
    رات کے دس بجے تو اردگرد کی مسجدوں اور چھتوں سے اذان کی آوازیں آنے لگیں۔ آج پورے ملک میں اجتماعی اذان اور دعا ہوئی۔ ہم سب بھی گھر کی چھت پر اکٹھے ہوئے۔ بہت دیر ہم خاموش کھڑے اذان کی آوازیں سنتے رہے۔ سناٹا، خاموشی، ویرانی، چاندنی رات، بادل، خنک ہوا اور یکے بعد دیگرے چھتوں سے بلند ہوتی اذان کی آواز۔ پھر عماد نے ہاتھ باندھے اور اذان دی۔ ایسے کام ہمیشہ عماد ہی کرتا ہے جس عمر میں بچے نرسری رائمز گاتے ہیں، وہ اذان دیا کرتا تھا۔ تھوڑا بڑا ہوا تو مسجدوں میں جا کر اذان دینے لگا۔ اب گھر میں بھی کبھی اذان ہو، جماعت ہو، امامت کرنی ہو، عماد ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اذان ادھر شروع ہوئی، ادھر ختم بھی ہو گئی۔ بہت دیر ہم سب چپ چاپ کھڑے رہے۔ زندگی بھی تو ایسی ہی ہے۔ ادھر شروع ہوئی، ادھر ختم ہو جائے گی اور پھر سناٹا اور خاموشی۔ اے اللہ! تیری امانت ہے۔ تو نے دی، تیرا شکر، واپس لے گا تو بڑی عاجزی اور شکرگزاری سے تجھے تیری چیز لوٹا دیں گے۔ اے سترماﺅں سے زیادہ محبت کرنے والے، تو نے جو دیا اس کا شکر، جو نہیں دیا اس کا بھی شکر، جو دے کر لے لیا اس کا ہزار ہا شکر اور جو وہاں دوسرے جہان میں دے گا اس کا کروڑ ہا شکر۔ بس تو ہمارا نام بھی راضی برضا رہنے والوں میں، شکرگزاروں میں اور محبت کرنے والوں میں لکھ لے۔ اے دونوں جہانوں کے مالک! اس وبا کو ہم پر سے ٹال دے اور ہم پر رحم کر، وہ رحم جو تیری تمام صفات میں سے خود تیری پسندیدہ صفت ہے۔ آمین یا رب العالمین۔
    سارہ قیوم
    ٭….٭….٭

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۱۵

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۵

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۵

    (سارہ قیوم)

    سولہویں رات

    رات آئی تو شہرزادِ شیریں بیاں و طلیق اللساں نے کہانی یوں سنائی کہ اے شہنشاہِ عالم پناہ، حسن بدر الدین مع اپنے دوستوں کے ایک جلسہ فریدوں بزم میں آیا (جسے یہ لوگ پارٹی کہتے تھے) اور اسے رشکِ طبقاتِ جناں پایا۔ باغ کیا تھا، باغ ِ ارم تھا، اسباب اور روشنیوں اور موسیقی کا عجب عالم تھا۔ وہاں جاکر بیٹھے تو دیکھا کئی حسینانِ پری جمال ، خوش تمثال ، بادۂ حسن کے سرور میں چور ، جوانی کے نشے میں مست و مخمور ناچتی ہیں اور ان کی انواع و اقسام کی پوشا کیں بدن ڈھانپنے سے قاصر ہیں، چاندی سے جسم لباس سے باہر ہیں۔
    حسن بدر الدین کے لئے یہ محافل نئی نہ تھیں، سمجھ گیا کہ محفل بادۂ و سرور ہے اور شہر کی نامی گرامی طوائفوں کو بلایا گیا ہے کہ امرا ء و شرفا کا دل بہلائیں اور رقص و موسیقی کا رنگ جمائیں۔ اس کے اپنے زمانے میں بھی راگ رنگ کی ایسی محفلیں آئے روز جمتی تھیں۔ بس فرق یہ تھا کہ پرانے زمانے کی طوائفیں پورا لباس پہنتی تھیں اور نئے زمانے میں ادھورا۔ اُس زمانے میں صرف طوائفیں ناچتی تھیں ، اس زمانے میں تماش بین بھی ساتھ ناچ رہے تھے۔ یعنی مرد آپے سے باہر تھے، عورتیں جامے سے۔ عجب بوا لعجبی تھی۔
    ابھی وہاں بیٹھے نیرنگئی دوراں دیکھ رہے تھے کہ غفران آتا دکھائی دیا۔ دوستوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔
    ‘‘ویلکم ۔ ویلکم۔’’ اس نے بازو پھیلا کر کہا۔ ‘‘Enjoying the Party?’’
    بندو نے منہ بناکر کہا۔ ‘‘پارٹی تو بعد میں انجوائے کریں گے، پہلے تو تیرے گارڈز نے جیب خالی کرادی ہماری۔ یار تین ہزار کی ایک Ecstasy Pill؟ تو خود بتا کتنا ظلم ہے۔’’
    غفران ہنسا اور بولا۔ ‘‘یہ تو ڈسکاؤنٹ پرائس ہے۔ اور انٹری فیس یا Pill خریدنا تو پارٹی رولز ہیں۔ آج کل ہر پارٹی میں ہوتے ہیں۔’’
    لیکن بندو کو تسلی نہ ہوئی، وہ منہ بناتا رہا۔
    آخر غفران نے کہا۔ ‘‘اچھا مراکیوں جارہا ہے، کتنی Pills ہیں تیرے پاس؟’’
    بندو نے کہا۔ ‘‘دو۔’’
    ‘‘غفران نے حیران ہوکر کہا۔ ‘‘بس؟ دو پہ ہی جان جارہی ہے؟ اچھا یہ بتا خود کھانی ہیں؟’’
    بندو نے ہاتھ اٹھائے ، قطعیت سے بولا۔ ‘‘نہ…… میری صحت کچھ ٹھیک نہیں رہتی۔ چرس ہی ہینڈل کرلوں تو بڑا ہے۔ Ecstasyکھا کے تو اللہ کو پیارا ہوجاؤں گا۔’’
    غفران نے ہنس کر کہا۔ ‘اچھا تو حسن کو دے دے، یہ بڑا انجوائے کرتا ہے ایسی چیزوں کو۔’’
    بندو نے نظر بھر کے حسن کو دیکھا اور کہا۔ ‘‘حسن کو رہنے دے یار۔ معصوم ہے بے چارہ۔’’
    غفران پھر ہنسا اوربولا۔ ‘‘اچھا۔ چل تیری مشکل حل کرتا ہوں۔ آ تجھے ایک لڑکی سے ملواؤں۔ بڑی نوٹ والی ہے۔ اسے بیچ دے۔ کچھ پیسے اوپر سے بھی لے لے گا تو اسے پتا نہیں چلنا۔ نشے میں ہوتی ہے تو بڑی generous ہوجاتی ہے۔’’
    یہ کہہ کر بندو کا بازو پکڑا اور ایک طرف کو لے چلا۔ تجسس کے مارے حسن بھی ساتھ چلا کہ دیکھوں کیا کرتا ہے اور کس سے ملواتا ہے۔ شاید کوئی بنارس کی نامی گرامی طوائف ہو یا لکھنؤ کی کوئی حسین، مجرا کرنے والی۔
    تھوڑا آگے بڑھے تو حسن نے دیکھا کہ ناچنے والوں کے گروہ سے ایک حسین و جمیل لڑکی علیحدہ ہوئی اور ایک طرف لگی میز کی طرف چلی۔ وہاں جاکر شراب ِناب کا پیمانہ بھر اور غٹاغٹ چڑھا گئی۔
    ‘‘اوہ نو۔’’ غفران نے پریشان ہوکرکہا۔ ‘‘پی پی کے مرجائے گی کسی دن۔ میں اس کو گھسیٹ کے ڈانس کی طرف لے جاتا ہوں، یہ پھر بار میں پہنچ جاتی ہے۔ آؤ تمہیں ملواؤں۔’’
    اس کے قریب پہنچے تو حسن نے دیکھا کہ نشے کی زیادتی سے اس کی آنکھیں سرخ تھیں اور کھڑے کھڑے لڑکھڑا رہی تھی۔ غفران کو قریب آتے دیکھا تو یوں آنکھیں پھاڑکے گھورنے لگی جیسے کسی اجنبی کو پہچاننے کی کوشش کررہی ہو۔ دو قدم پیچھے ہٹی تو گرتے گرتے بچی۔
    غفران نے ا سے بازو سے تھام کر سیدھا کھڑا کیا اور بولا۔ ‘‘ہیلو ڈارلنگ۔پھر سے بھول گئیں مجھے؟ آج تین مرتبہ اپنا تعارف کروا چکا ہوں۔ میں غفران۔ میرے دوستوں سے ملو۔ یہ بندو ہے اور یہ حسن۔’’
    لڑکی نے منہ پھا ڑ کر قہقہہ لگایا اور مصنوعی نزاکت سے بولی۔ ‘‘ہاں ہاں تم غفران ہو۔ تمہارے دوست ہیں، میرے بھی دوست ہیں۔’’
    غفران نے کہا۔ ‘‘بندو ، حسن ان سے ملو ۔ یہ تانیہ ہے۔ وہ جو فلاں پارٹی کے وزیر ہیں نا ں؟ ان کی بیگم۔’’ پھر سرگوشی میں بولا۔ ‘‘دوسری بیگم۔’’
    تانیہ نے ٹھنک کر کہا۔ ‘‘Oh please dont call me begum.…… خود کو بوڑھا محسوس کرنے لگتی ہوں میں۔’’
    ‘‘چلو وہاں بیٹھیں۔’’ غفران نے کہا اور اس کو لے کر اسی جگہ آبیٹھے جہاں نعیم اور عاصم بیٹھے تھے۔ محسن موجود نہیں تھا۔ معلوم ہوا پچھلی طرف تکہ کباب بنانے والوں اور نان سینکنے والوں کو دیکھنے گیا ہے۔
    تعارف کے بعد غفران نے تانیہ سے پوچھا۔ ‘‘اور سناؤ تانیہ۔ واٹس اپ؟’’
    تانیہ نے کہا۔ ‘‘ابھی دبئی سے واپس آئی ہوں۔ ورساچی کی سپرنگ کلیکشن آئی تھی، سوچا چلی ہی جاؤں۔ کچھ رہ ہی نہیں گیا پہننے کے لئے میری وارڈروب میں۔’’
    غفران نے کہا۔ ‘‘اچھا کیا۔ کھاؤ پیو موج اڑاؤ۔ ورساچی پہنو اور شوہر کی کمائی حلال کرو۔’’
    تانیہ بولی۔ ‘‘آف کورس۔ آخرسوسائٹی میں عزت بھی کوئی چیز ہے۔’’
    غفران نے کہا۔ ‘‘کھانے پینے سے مجھے یاد آیا۔ کچھ کھا یا بھی ہے یا پیئے چلی جارہی ہو؟’’
    یہ سن کر تانیہ ہنسی اور بولی۔ ‘‘کھانے کے لئے کون آتا ہے پارٹی میں؟ پارٹی تو پینے کے لئے ہوتی ہے۔’’
    غفران نے کہا۔ ‘‘ارے یار تم کہو تو سہی۔ تمہارے مطلب کی کھانے کی چیز بھی حاضر کردیتے ہیں ہم۔’’
    یہ کہہ کر بندو کو اشارہ کیا۔ بندو نے دو گولیاں نکال کر میز پر رکھ دیں۔
    تانیہ کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ گولیوں کو اٹھا کر غور سے دیکھا اور بولی۔ ‘‘Esctasy ۔ کتنے کی ہے؟ مجھے دونوں دے دو۔’’
    یہ کہہ کر بغیر جواب کا انتظار کئے اپنا بٹوہ کھولا اور پندرہ ہزار روپے گن کر میز پر رکھ دیئے۔ بندو نے اس میں سے بارہ ہزار گن کر جیب میں ڈالے اور تین ہزار واپس کردیئے۔
    ‘‘رکھ لے یار۔’’ غفران نے دبی آواز میں ڈانٹا۔
    ‘‘نہیں یار۔ تجارت کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ دو گنا سے زیادہ منافع جائز نہیں۔ وہ نشے میں ہے تو میں اس کا فائدہ اٹھالوں؟ نہیں یار۔’’ بندو نے جواب دیا۔
    تانیہ نے پاس گزرتے ملازم کے ہاتھ سے شراب کا جام لیا اور ایک ہی گھونٹ میں گولی اور شراب دونوں چڑھا گئی۔ غفران فکر مند نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
    تھوڑی ہی دیر میں تانیہ کی آنکھیں چڑھنے لگیں۔ میز کو یوں چٹکیاں کاٹنے لگی گویا کوئی اس پر پڑی کوئی چیز اٹھانا چاہتی ہے۔ پھر ہنسنے لگی اور گنگنانے لگی۔ گانا ختم کرچکی تو رونے لگی۔
    ‘‘روتی کیوں ہو ڈارلنگ؟’’ غفران نے ہمدردی سے پوچھا۔
    ‘‘میری زندگی خالی ہے۔ بالکل خالی۔ ’’ اس نے روتے ہوئے کہا۔ ‘‘میں نے اپنی زندگی میں کیا دیکھا؟ کچھ نہیں۔ کیا پایا؟کچھ نہیں۔’’
    غفران نے تسلی دے کرکہا۔ ‘‘تم نشے میں ہوتی ہو تو تمہیں یونہی لگنے لگتا ہے۔ سب کچھ تو ہے تمہارے پاس۔’’
    اس نے روکر کہا۔ ‘‘نشے میں نہ بھی ہوں تو بھی یوں ہی لگتا ہے۔ ڈپریشن کی گولیاں کھاتی ہوں۔ پھر اس ڈپریشن کو بھلانے کے لئے بازاروں میں نکل جاتی ہوں۔ اندھا دھند شاپنگ کرتی ہوں۔ لاکھوں روپے اڑاتی ہوں۔ صرف ایک دن …… میں تمہیں بتاؤں صرف ایک دن کی خوشی دیتی ہے شاپنگ۔ اس کے بعد پھر وہی ڈپریشن۔’’
    یہ کہہ کر ناک پونچھا اور پاس بیٹھے حسن کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ‘‘تم نے کبھی دکھ دیکھے ہیں؟تمہیں پتا بھی ہے دکھ ہوتا کیا ہے؟ نہیں تمہیں کیا پتا۔’’
    حسن چپ چاپ اسے دیکھے گیا۔
    وہ کہتی رہی۔ ‘‘دکھ دیکھنے ہوں تومجھے دیکھو۔ ارب پتی باپ کی بیٹی ہوں میں۔ سولہ سال کی عمر میں میرے باپ کے دوست نے مجھے ریپ کیا۔ میں نے باپ کو بتایا تو اس نے کہا، خاموش رہو۔ وہ بڑا آدمی ہے۔ اس سے تعلقات بگڑگئے تو میرے بزنس کو نقصان ہوگا۔ اس کے بعد وہ آدمی برابر آتا رہا، ہمارے ڈرائنگ روم میں بیٹھا میرے باپ کے ساتھ قہقہے لگاتا رہا۔ میں ڈپریشن میں چلی گئی۔ سائیکالوجسٹ کے چکر کاٹنے لگی۔ پھر میں نے سوچا واٹ دا ہیل۔ جب میرے باپ کو پرواہ نہیں تو مجھے اس کی عزت یا اس کے پیسے کی کیوں پرواہ ہو؟ میں نے باپ کا پیسہ اڑانا شروع کیا اور پے در پے بوائے فرینڈ بدلنے لگی۔ لوگوں میں میرے چرچے ہونے لگے۔ اپنے باپ کو جلانے کے لئے میں نے عمر میں اپنے سے تین گنا بڑے مرد سے شادی کرلی اور اس کی دوسری بیوی بن گئی۔ میرا شوہر میرے باپ کی مخالف پارٹی کا وزیر تھا اور کرپشن میں بدنام۔ میرا خیال تھا میرا باپ مجھے عاق کردے گا۔ لیکن ہوا پتا ہے کیا؟ میرا باپ بہت خوش ہو ااور کہا۔ ‘‘یہ بڑے کام کا آدمی ہے۔ اسے بڑا کیش کراسکتے ہیں ہم۔’’ اب تم مجھے بتاؤ ، اس سارے کھیل میں میں نے کیا پایا؟ ایک بوڑھا شوہر جو مجھے گھر ڈال کر بھول چکا ہے اور اپنے سے بڑے سوتیلے بچے۔ لوگ سمجھتے ہیں میں لیمبورگینی میں پھرتی ہوں، لاکھوں کا جوتا پہنتی ہوں، لاکھوں کا پرس پکڑتی ہوں، کروڑوں کے ڈائمنڈز ہیں میرے پاس تو میں خوش ہوں۔ کوئی مجھ سے پوچھے یہ چیزیں مجھے کتنی خوشی دیتی ہیں۔ زیرو، بالکل زیرو۔ اپنے غم بھلانے کے لئے retail therapyکا سہارا لیتی ہوں لیکن مجھے اس سے وہی خوشی ملتی ہے جو کسی غریب عورت کو آلو پیاز خریدنے سے ملتی ہو گی۔ بلکہ شاید اس سے بھی کم۔ اپنے دکھ بھلانے کے لئے نشہ کرتی ہوں، لیکن اس سے بھی کیا ہوتا ہے۔ کچھ ہوتا ہے؟’’
    اس کی یہ کہانی سن کر حسن بدر الدین ، کہ انتہا درجے کا رحمدل اور رفیق القلب نوجوان تھا، آب دیدہ ہوا۔ بصد ہمد ری کہا۔ ‘‘نہیں نشے سے کیاہوتا ہے، الٹا درد غم بڑھ جاتا ہے۔’’
    ‘‘Exactly۔’’ تانیہ نے آنسو پونچھ کرکہا۔ ‘‘مجھے لوگوں نے کہا نمازیں پڑھو، سکون مل جائے گا۔ لیکن اب میں الکوحل کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ گھر میں اپنا بار ہے۔ اب جب ہر وقت ایک چیز سامنے ہو تو انسان کیسے نہ پیئے؟ اور الکوحل کے ساتھ نماز نہیں ہوتی۔ میری قسمت دیکھو، لوگوں نے تو مجھے دکھ دیئے ہی دیئے، مجھے تو خدا نے بھی نہیں اپنایا۔’’
    یہ کہہ کر آنسو پوچھے، پھر قہقہہ لگا کر ہنسی اور بولی۔ ‘‘خیر چھوڑو۔ زندگی ایک دفعہ ملتی ہے۔ انجوائے کرکے گزارنی چاہیے۔’’
    پھر اونچی آواز میں پکاری۔ ‘‘اے ڈی جے یہ کیا بکواس سونگ لگا رکھا ہے۔ کوئی ڈھنگ کا میوزک لگاؤ۔ کیوں غفران ، لگتا ہے اسے بھی چڑھ گئی ہے۔ فری کی شراب دیکھ کر لوگ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں۔’’
    یہ کہہ کر پھر منہ پھاڑ کر قہقہہ لگایا۔ اس کے قریب بیٹھے حسن کو اس کی کالی داڑھیں نظر آئیں، بے اختیار کراہت آئی۔ اب تانیہ کو تیز نشہ چڑھنے لگا تھا۔ زبان لڑکھڑا رہی تھی اور وہ اول فول باتیں کرنے لگی تھی۔ سگریٹ سلگانے لگی تو انگلیاں کانپنے لگیں۔ حسن نے مدد کی ، ماچس جلا کر دی۔ وہ کش پہ کش لینے لگی۔ اس کی آنکھیں بار بار چڑھ جاتی تھیں اور کچھ بڑبڑانے لگتی تھی۔
    اتنے میں وہاں سے ایک نوجوان گزرا۔ تانیہ کو دیکھ کر قریب آیا اور کہا۔ ‘‘اے بے بی۔ کیسی ہو؟ کیا کررہی ہو؟…… Want to have fun?’’
    تانیہ نے اس کی گردن میں بازو ڈالے اور کہا۔ ‘‘Yes yes I want to have fun.’’
    نوجوان نے اسے اسی طرح لپٹائے ہوئے اٹھا کر کھڑا کیا اور بولا۔ ‘‘تو چلو پھر۔’’
    غفران نے دبی آواز میں کہا۔ ‘‘چھوڑو یار ۔ نشے میں ہے۔’’
    نوجوان ہنس کر بولا۔ ‘‘یہ کب نشے میں نہیں ہوتی؟ویسے بھی اس کی مرضی سے لے جارہا ہوں۔ کیوں بے بی ،چلو گی؟’’
    ‘‘یس بے بی، یس۔’’ تانیہ نے لڑکھڑا کر کہا۔
    یہ کہہ کر ا سکی بانہوں میں جھولتی ، لڑکھڑاتی اس کے ساتھ چلی۔ وہ اسے لے کر سیدھے اس میز پر گیا جسے غفران نے بار کہا تھا۔ وہاں موجود شخص کو جیب سے چند نوٹ نکال کر دیئے۔ اس شخص نے اسے ایک چابی تھمائی۔ چابی پکڑکر وہ شخص تانیہ کی کمر میں ہاتھ ڈالے ایک طرف کو غائب ہوگیا۔
    حسن یہ سب دیکھتا تھا اور اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ اس نے غفران سے پوچھا۔
    ‘‘خدارا اس راز سے پردہ اٹھاؤ کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ یہ طوائفیں کہاں سے بلوائی ہیں اور یہ کیسا مجرا ہے جس میں سب لوگ ناچتے ہیں؟ یہ شخص تانیہ کو کہاں لے گیا ؟’’
    غفران نے حیران ہوکر کہا۔ ‘‘طوائفیں ؟ خدا کا خوف کرو یار۔ یہ سب بڑے اچھے گھروں کی لڑکیاں ہیں۔ وزیروں، سفیروں، بزنس مینوں کی بیٹیاں۔ لگتا ہے تم نے پہلی مرتبہ کوئی پارٹی اٹینڈ کی ہے۔ ڈانس پارٹی میں تو ایسے ہی ہوتا ہے۔ تم لوگ بھی ڈانس کرو، ناچو، شراب پیو۔ بار مین کے پاس اوپر کے کمروں کی چابیاں ہیں۔ کوئی لڑکی پسند آئے ، اور اسے تم پسند آؤ تو بار مین کو دو ہزار روپے دو، چابی لو اور لڑکی کو لے جاؤ اوپر۔ آؤ تمہیں ملواتا ہوں چند لڑکیوں سے۔’’
    یہ سب سن کر حسن کا حیرت اور اچنبھے سے یہ حال ہواکہ حیطۂ تحریر سے خارج ہے۔ یہ سب کچھ تو زمانوں سے ہوتا آیا تھا لیکن یہ کام وہ عورتیں کرتی تھیں جو طوائفوں کے گھرانوں میں پیدا ہوتی تھیں اور کاروبار کے طور پر خود کو بیچتی تھیں۔ یہ سوچ کر حسن کے رونگٹے کھڑے ہوگئے کہ شریف اور اعلیٰ گھرانوں کی لڑکیاں نشے میں دھت ناچتی ہیں اور نشے کے عالم میں کوئی بھی ہاتھ پکڑ کر لے جائے، انہیں پرواہ نہیں۔ وہ مرد جو ابھی تانیہ کو لے کر گیا، جانتا تھا کہ وہ کسی کی بیوی ہے، اس وقت اپنے آپ میں نہیں ہے، پھر بھی اسے پھسلا کر لے گیا۔ یہ سوچ کر حسن کو یکدم متلی محسوس ہوئی۔ وہ اندھا دھند اٹھا اور جھاڑیوں میں جاکر قے کردی۔ انسانیت کی اور عورت کی اس سے بڑی تذلیل اس نے کبھی نہ دیکھی تھی۔
    واپسی آکر بیٹھا تو غفران نے پوچھا۔
    ‘‘کیا ہوا؟ طبیعت خراب ہے؟ کچھ پینے کو منگواؤں؟’’

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۱۴

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۴

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۴

    (سارہ قیوم)

    پندھرویں شب کا قصہ: 

    پندرھویں شب کو جب بادشاہِ فیروز بخت سکندر صولت نے تسنیم و تنسیقِ سلطنت سے فراغت پا کر محل سرا میں قدم رنجہ فرمایا اور اس کو رشکِ باغ نعیم بنایا تو کہانی یاد کر کے شہرزاد کو طلب فرمایا اور کہا کہ کل کی کہانی اور اس بدبخت حجام کا بقیہ حال سناؤ اور ہمارا دل بہلاؤ۔ تمہاری سحربیانی گدگداتی ہے، کہانی سنے بغیر نیند نہیں آتی ہے۔ شہرزاد دل ہی دل میں خوش ہوئی کہ خدانے بڑے موذی سے جان بچائی، الحمدللہ کہ یہاں تک تو نوبت آئی کہ اب بادشاہ کو داستان کی سماعت کا شوق چراتاہے اور قصۂ دلگداز ان کو لبھاتا ہے۔ عرض کیا کہ شہنشاہِ عالم، پشت و پناہِ سلاطینِ جہاں کو خدائے تعالیٰ قیامت تک سلامت رکھے، بااقبال و باکرامت رکھے۔ دوست شادو دشمن پائمال ہوں، رفقا و وابستگانِ دامنِ دولت سیم و زر سے مالا مال ہوں۔

    رہیں جب تک الٰہی مہرو ماہ و کوکب و اختر
    رہے جب تک الٰہی اس زمین پر چرخِ زنگاری
    میسسرخیرخواہوں کو تو عیشِ جاودانی ہو
    ترے بدخواہ کو حاصل ہمیشہ ذلت و خواری

    اے شہریارِ والاتبار، جب حجام نے حسن بدر الدین کو کرسی پر بٹھایا تو یکایک ایک تیز دھار استرا اس کے حلق پر جمایا اور یوں چلایا۔ ‘‘ایسے ہوتا ہے قتل۔’’
    حسن بدرالدین کا کلیجہ منہ کو آیا، بڑا صدمہ اٹھایا۔ خوف سے گھبرایا، گھبرا کر چلایا۔ ‘‘یاالٰہی یہ کیا ماجرا ہے؟ یہ نائی ہے یا اجل حجام کا بھیس بدل کر آئی ہے؟’’
    یہ سن کر حجام نے استرا اٹھایا اور دانت نکوس کر بولا: ‘‘ڈر گئے؟ ہاہاہا!’’
    حسن کو اس قدر غصہ آیا کہ قریب تھا کہ مارے غصے کے اپنے کپڑے چاک کر ڈالے اور سخت ست سنائے کہ حجام نے اطمینان سے استرا بند کر کے میز پر رکھا اور کہا: ‘‘وہ جو نئی فلم آئی ہے نا ‘‘مرڈر؟’’ اس میں ایک بندے کو ایسے قتل کرتا دکھاتے ہیں ۔مجھے بڑا شوق ہے ایکٹنگ کا۔ دن کی دو فلمیں ضرور دیکھتا ہوں۔ ایک انڈیا کی اور ایک انگلش۔ پھر جو سین سب سے زیادہ پسند آتا ہے اس کی پریکٹس کرتا ہوں۔ آپ کی فیورٹ ایکٹریس کون ہے سر؟’’
    حسن نے بگڑ کر کہا: ‘‘تم اپنا کام کرو، تمہیں مجھ سے کیا سروکار ہے؟ تم نے اتنی دیر میں میرا کلیجہ پکا دیا اور سر پھرا دیا۔’’
    حجام نے کہا: ‘‘بہت جلدی میں لگتے ہیں سر، خیریت تو ہے؟’’ پھر معنی خیزی سے سرگوشی میں بولا: ‘‘گرل فرینڈ سے ملنے جا رہے ہیں؟’’
    حسن نے کہا: ‘‘اے بومِ شوم! یہ استرا اٹھا اور میرے حلق پر چلا۔ بندہ درگاہ اس حجامت سے باز آئے، تیری صحبت سے بہتر ہے کہ موت آئے۔’’
    حجام نے اطمینان سے کہا: ‘‘استرے سے کون بال کاٹتا ہے سر؟ یہ تو میں نے بس لوگوں کو ڈرانے کے لیے رکھا ہوا ہے۔ ہیئرکٹ کے ساتھ ساتھ انٹرٹینمنٹ بھی مل جاتی ہے کسٹمر کو اور جب لوگ ڈرتے ہیں نا سر تو ان کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں پھر ان کو کٹ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ بس اس لیے یہ استرا رکھ چھوڑا ہے۔ ورنہ میں ٹیکنالوجی کو کام میں لانا پسند کرتا ہوں۔ الیکٹرک شیور ہوتا ہے نا سر؟ اس سے کام لیتا ہوں، ہیئرکٹ کے لیے بھی اور داڑھی کے لیے بھی۔ ہر سٹائل کے لیے میرے پاس علیحدہ نمبر کی مشین ہے۔ بتائیے آپ کیا سٹائل بنوانا پسند کریں گے؟ رونالڈو کٹ، ڈیوڈ بیکہم کٹ، پیالہ کٹ، آرمی کٹ۔ آپ کی داڑھی میں جوئیں تو نہیں ہیں سر؟’’
    اس اول جلول تقریر سے حسن اس قدر پریشان ہوا کہ اسے معلوم ہوتا تھا کہ یہ شخص اس کے دماغ کے کیڑے تک چاٹ جائے گا اور قصہ ختم نہ ہونے پائے گا۔
    حسن نے جیب سے پیسے نکالے اور کہا: ‘‘یہ پیسے رکھو اور میری گردن سے یہ کپڑا اتارو۔ اب میرا حجامت بنوانے کو جی نہیں چاہتا۔’’
    حجام نے یہ سنا تو دکھی ہوکر کہا ۔ ‘‘کیا بات کرتے ہیں سر! ناراض کیوں ہوتے ہیں؟ آپ مجھے بے شک ایک پیسہ نہ دیں لیکن بغیر ہیئر کٹ کے میں آپ کو جانے نہ دوں گا۔ بلکہ میری طرف سے آفر ہے کہ ہمارا فیشل اور پیڈی کیور مینی کیور پروموشل آفر میں ٹرائی کریں۔ ففٹی پرسٹ آف۔ جو ایک مرتبہ میرے پاس آتا ہے، پھر کہیں نہیں جاتا۔ بڑے بڑے آرٹسٹ اور امیر وزیر میرے پاس آتے ہیں اور انعام دے کر جاتے ہیں۔ آپ کے اپنے فادر میرے فادر کے پاس آیا کرتے تھے۔ کہتے تھے فضل الٰہی میں ساری دنیا پھرا ہوں لیکن جیسی چمپی تم کرتے ہو، ویسی اور کوئی نہیں کرسکتا ۔آپ چمپی کرائیں گے سر؟’’
    تنگ آکر حسن نے کہا۔ ‘‘تم بس صرف حجامت بناؤ اور اپنا راستہ لو۔ میرا سر نہ پھراؤ۔ معاف فرماؤ۔’’
    حجام کمبخت نے اطمینان سے کہا۔ ‘‘اتنی جلدی میں کیوں ہیں سر؟ جلدی میں کبھی کام اچھا نہیں ہوتا۔ میں آپ کے لئے کولڈ ڈرنک منگواتا ہوں۔ تسلی سے بیٹھیں، گپ شپ کریں۔’’
    حسن نے جھلا کر کہا۔ ‘‘بس بس تم اپنی گپ اور من ترانس رہنے دو۔ وقت ہاتھ سے جاتا ہے، نمازِ جمعہ کا زمانہ قریب آتا ہے۔ جس قدر جلد ممکن ہو حجامت بناؤ، دیر نہ لگاؤ۔ بعد از نمازِ جمعہ مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے۔ خبردار اب قصد لا یعنی سے با آ اور جلد خط بنا۔’’
    یہ ڈانٹ سن کر حجام نے اپنی بیہودہ سرائی موقوف کی۔ ژاژخائی منسوخ کی اور قینچی اٹھا کر کچھ اٹکل پچو ہاتھ چلائے،کھٹ کھٹ کچھ بال کاٹے اور پھر ایک عجیب وضع کی چیز نکالی، اس کا کوئی پرزہ دبایا اور دم کے دم میں اس چیز کو حسن کی گدی پر جمایا۔ معاً اس میں سے گھُر گھُر کی صدائے کریہہ بلند ہو ئی اور حسن کی گدی پر پے درپے چرکے سے لگنے لگے۔
    حسن گھبرا کر چلایا۔ ‘‘او بدبخت ناہنجار، بداعمال بدکردار، تو نائی ہے یا جلاد ہے؟یا چنگیز خان کا داماد ہے؟ حماقت کی آندھی ہے، میرے قتل پر کمر باندھی ہے؟’’
    یہ کہہ کر چاہا کہ اس حجام لعین کو ٹالے، کسی طرح خود کو وہاں سے نکالے مگر وہ خرانٹ ، گرگ باراں دیدہ تاڑ گیا کہ کپڑا گلے سے نکال کر بھاگا جاتا ہے، پھر ہاتھ نہیں آتا ہے۔ جھپٹ کر حسن کی گردن میں ہاتھ ڈالا اور پہلوانوں کی طرح گردن بازو کے شکنجے میں کس لی۔
    پچکار کر کہا۔ ‘‘پریشان کیوں ہوتے ہیں سر؟ لگتا ہے کبھی الیکٹرک شیو ر یوز نہیں کیا۔ اس لئے تو اتنا براہیر کٹ رکھا ہوا تھا۔ اب ذرا میرا کمال دیکھیں کہ کیا لک دیتا ہوں آپ کو۔ ماشاء اللہ خوبصورت ہیں، سر کی شیپ بھی کتنی اچھی ہے۔ ایسے ویسے ہیر ڈریسر ز کے پاس جاجا کر آپ نے ستیاناس کرلیا ہے اپنی لکس کا۔’’
    حسن صاحب نے جو دیکھا کہ اس پاجی کمینے کے پھندے سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں تو دم سادھ کر بیٹھ رہے۔ دل میں موقع کی تلاش میں تھے کہ یہ ذرا چو کے تو اس سے اپنے کو بچاؤں اور اس کی صحبت سے نجات پاؤں،مگر وہ بلا کی طرح چمٹا ہی رہا۔
    بارے حجامت سے فراغت پائی تو حسن نے نظر اٹھائی۔ اب جو آئینے میں نظر پڑی تو آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ اس کے بال جو ہمیشہ خیالاتِ پریشاں کی طرح بے قابو رہتے تھے، اب اس سلیقے سے سرپر جمے تھے کہ کیا ہی کسی شاعر کامل فن کے مصرعے جمتے ہوں گے ۔
    پہلے تو بالوں کی یہ صورت تھی کہ ہمہ وقت ماتھے پر گرے ہیں، کبھی گردن سے چمٹے ہیں تو کبھی داڑھی سے لپٹے ہیں۔ اور اب یہ صورت کہ سامنے کے بال لہریئے کی صورت میں پیچھے کو جاتے تھے۔ روشن پیشانی سے پردہ اٹھاتے تھے۔ داڑھی جو پہلے مانند ِجھاڑ جھنکاڑ تھی۔ اب مثل گلِ رخسار تھی۔ داڑھی کی لمبائی دو انگشت کے برابر، مونچھیں گویا دو سنکھ اول تا آخر ۔
    اپنی صورت جو دیکھی تو حسن بدر الدین بے اختیار پکار اٹھا۔ ‘‘یہ میں ہوں؟ حسن بد ر الدین سوداگرزادہ؟ یا  کوئی  شہزادہ بلند ارادہ؟ سروقامت سہی بالا، ابروئے پیوستہ دیوان خوبی، مجسم رعنائی و خوش اسلوبی ، خندہ پیشانی، صاحب طبع نورانی۔ اے حجام، تیرے ہنر سے میں نے وہ صورت پائی ہے کہ خدا نے اپنی قدر ت ِکاملہ دکھائی ہے۔ تیری کاریگری پر مجھے بے حد استعجاب ہے، واللہ تیرا فن لاجواب ہے۔’’
    جونہی یہ تقریر ختم ہوئی، پیچھے سے تالیاں بجنے کی آواز آئی۔ مڑ کر جو دیکھا تو ایک مردِ شریف کو کھڑا پایا جو آئینے میں حسن کو دیکھتا تھا اور بے اختیار تالیاں بجاتا تھا۔

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۱۳

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۳

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۳

    رات:14

    آنا حسن بدرالدین کا غیض و غضب میں اور چڑھنا حجام کے ہتھے:

    چودھویں شب کو جب شہریارِ سکندر جاہ خاقانِ کلاہ نے انتظامِ سلطنت سے فراغت پائی تو خاتونِ جمیلہ شہرزاد یوں چہچہائی کہ جب سوداگر بچے حسن بدرالدین نے زلیخا کو گوشۂ صحن میں چپکے چپکے روتے پایا تو بہت بے قرار ہوا اور زلیخا سے بصد اصرار اس گریہ و بکاہ کا سبب پوچھنے لگا۔ زلیخا پہلے تو ٹالتی رہی، آخر بار بار کے اصرار سے مجبور ہو کر روتے ہوئے یوں گویا ہوئی۔ ‘‘جب میں چیک اپ کرانے گئی تو…… ڈاکٹر نے مجھے….. اس نے مجھے…molest کیا۔’’
    زلیخا نے انگریزی کا جو لفظ بولا اس کا مطلب حسن کو معلوم نہ تھا۔ اگرچہ حسن زمانِ پاستان سے آیا تھا مگر بفضل ِخدا بلا کا ذہن پایا تھا۔ اس کی چھٹی حس نے گھنٹی بجائی اور کُل امور اس کے سامنے روزِ روشن کی طرح عیاں کر دیے کہ اگر ایک نوجوان طرحدار لڑکی ایک خرانٹ، گرگِ باراں دیدہ ڈاکٹر سے مل کر آتی ہے اور پھر تنہائی میں لاکھ لاکھ آنسو بہاتی ہے تو اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے۔ شک کے عوض حسن کو یقین ہو گیا کہ اس بدبخت، ناہنجار ڈاکٹر نے دست درازی کی ہو گی، کچھ نہ کچھ حیلہ بازی کی ہو گی۔
    اس حقیقت کا ظاہر ہونا تھا کہ مارے غیض و غضب کے حسن تھرتھر کانپنے لگا۔ ماموں زاد بہن کے ساتھ ایک لعین مرد کی دست درازی کی بات سن کر بھلا کیوں کرنہ تاب آئے اور انسان قتل پر کیوں نہ آمادہ ہو جائے؟
    پس حسن اچھل کر کھڑا ہوا اور چلاٌ کر بولا: ‘‘کہاں ہے میری تلوار و شمشیر، نیزہ و تیر؟ فوراً حاضر کرو کہ جا کر اس بدکارناہنجار کا کام تمام کروں، غیرت دار مردوں میں نام کروں۔’’
    زلیخا نے جو حسن کو اس طیش اور غیض و غضب میں دیکھا تو گھبرا کر بولی: ‘‘پلیز آہستہ بولو۔ دیکھو اتنا غصہ نہ کرو۔ پلیز بیٹھ جاؤ۔’’
    لیکن حسن اس وقت شمشیرِ عریاں تھا، غصہ ور مثل شیرژیاں تھا۔ بدماغ ہو کر بولا:
    ‘‘بیٹھ جاؤں؟ مجھے کیا سمجھ رکھا ہے کہ اتنی بڑی بات سن کر بھی میں بیٹھ جاؤں؟ میں چاہتا ہوں کہ اسی وقت جاؤں اور اس مردود کا گلا دباؤں۔ تلوارِ تیز کا ایسا تلا ہوا ہاتھ دوں کہ لاش پھڑکتی نظر آئے، پانی نہ مانگنے پائے۔’’
    زلیخا نے گھبرا کر حسن کا ہاتھ پکڑ کر اسے کرسی پر بٹھایا اور بصد ِمنت و سماجت بولی: ‘‘خدا کا واسطہ ہے اتنا شور نہ مچاؤ۔ کسی نے سن لیا تو میری عزت جائے گی اور تمہاری جان۔ ارادۂ قتل کے الزام میں پکڑے جاؤ گے۔’’
    یہ کہہ کر پانی حسن کو دیا، حسن نے ایک سانس میں پیا۔ ٹھنڈے پانی سے غیض و غضب کی آگ تھوڑی ٹھنڈی ہوئی مگر پوری طرح نہ بجھی۔
    زلیخا نے رنجیدہ ہو کر کہا: ‘‘اسی لیے میں نے کسی کو بتایا نہیں تھا۔ اسی ری ایکشن کا خدشہ تھا مجھے۔ تم نے مجھے کمزور لمحے میں پکڑ لیا۔ ورنہ میں تمہیں کبھی بھی نہ بتاتی۔’’
    حسن نے غصے سے کہا: ‘‘کیوں نہ بتاتی؟ اور میں تو پوچھتا ہوں اسی وقت کیوں نہ بتایا؟ میں اسی وقت اس عفریتِ پلید کی خبر لیتا۔ اسے قتل کرتا اور خدا سے اجر لیتا۔’’
    زلیخا نے سر جھکا لیا۔ کچھ دیر خاموش رہی، پھر آہستہ سے بولی: ‘‘پہلے تو مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آئی۔ میں اس سے پیٹ درد کا علاج کرانے گئی تھی۔ پیٹ تو اس نے چیک کرنا ہی تھا۔ ہاتھ سے بھی اور اسٹیتھوسکوپ سے بھی۔ لیکن پھر۔ پھر اس نے اور جگہ بھی۔ اور جب میں گھبرائی توکہنے لگا، آپ کے ریفلیکسز چیک کر رہا ہوں۔ گھٹنے پر ہتھوڑی مار کر چیک کیا، پاؤں پر بھی اور پھر۔ پھر اچانک اس نے۔۔۔۔۔۔’’

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۱۲

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۲

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۲
    (
    سارہ قیوم)

     

    تیرہویں شب کا قصہ:

    تیرہویں شب کو شاہِ باذل نے محل سرا میں قدم رنجہ فرمایا تو شہرزاد کو بلوایا اور فرمائش کی کہ اپنی قصہ گوئی کا کمال دکھاؤ اور عاصم کے آئیلو یولو کے بعد حسن سوداگر بچے کے حال بتاؤ۔ عاصم اور اس کے آئیلویولو کا ذکر سن کر شہرزاد نے پہلے تو تھو تھو کیا، پھر یوں آغازِ گفتگو کیا کہ اے سلطانِ فریدوں بزم جب ماڈل ٹاؤن لاہور کے مکان نمبر چار سو بیس۔ ڈی میں صبح کا سورج طلوع ہوا تو اس نے حسن بدر الدین کو صحن میں مغموم بیٹھا پایا۔ ہر دم یاد اپنی مصیبت کا قصۂ جگر خراش تھا، دل پاش پاش تھا۔ اپنے حال پر غور و فکر میں مصروف تھا کہ زلیخا ایک قاب لیے اندر سے نکلی اور اس کے پاس آکر ٹھہر گئی۔ ایک پیالی قاب سے اٹھائی اور حسن کو دے کر کہا۔
    ‘‘
    لو چائے پیو۔’’
    حسن نے چونک کر نگاہ اٹھائی۔ پیالی چائے سے بھری ہوئی پائی۔ ٹھنڈا سانس بھر کر پیالی تھام لی اور اسے ہاتھ میں لے کر ازسرِنو مصروفِ سوچ بچا ہوا ، ملال و فکر کا گرفتار ہوا۔
    زلیخا چند لمحے کھڑی اسے دیکھتی رہی پھر اس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔ بیٹھتے بیٹھتے منہ سے ایک کراہ نکلی اور پیٹ پر ہاتھ رکھ کر دوہری ہوگئی۔ حسن نے گھبرا کر نگاہ اٹھائی تو دیکھاکہ زلیخا کا رنگ زرد ہے، پیٹ میں درد ہے۔ اسے کل رات کا حال یاد آیا جب دیوار پر لٹکے اس نے لات چلائی تھی جو زلیخا کے پیٹ میں لگی تھی۔ اپنی حرکتِ ناپسند یدہ یاد آئی، حسن کی آنکھ بھر آئی۔حال زار ہوگیا، دل بے قرار ہوگیا۔ بصد درد مندی و ہمدردی زلیخا سے کہا:
    ‘‘
    اے خاتونِ مہربان، خوش وضع و خوش بیان، یہ تیرا کیا حال ہے؟ مجھے اس حادثے کا سخت ملال ہے۔ گو کہ تجھے دکھ دینے کا کوئی ارادہ دل میں نہ تھا۔ پھر بھی اس حادثے کا میں قصور وار ہوں۔ معافی کا خواستگار ہوں۔’’
    زلیخا نے نظر اٹھائی تو دیکھا کہ حسن کے چہرے سے ملال کی کیفیت عیاں ہے۔ بشرے سے درد و غم کی حالت نمایاں ہے۔ اداس مسکراہٹ کے ساتھ بولی:
    ‘‘
    چھوڑو، جانے دو۔ میں جانتی ہوں تم جانتے بوجھتے کسی کو تکلیف نہیں پہنچاسکتے۔’’
    یہ کہہ کر چائے کا گھونٹ بھرا اور غور سے حسن کو دیکھتے ہوئے کسی قدر تجسس سے بولی:
    ‘‘
    لیکن یہ تو بتاؤ، تم رات کو کر کیا رہے تھے؟’’
    حسن نے ایک آہِ سرد بھری، بہ دلِ پُردرد بھری اور کہا:
    ‘‘
    گھر سے بھاگ رہا تھا۔’’
    زلیخا بےساختہ ہنس پڑی۔ بولی:
    ‘‘
    وہ تو خیر میں سمجھ ہی گئی تھی، لیکن کہاں بھاگ رہے تھے؟ اور زیادہ اہم سوال یہ کہ کیوں بھاگ رہے تھے؟ ایسا بھی کیا فیل ہونے کا غم کہ انسان گھر سے ہی بھاگ جائے؟’’
    حسن نے آبدیدہ ہوکر کہا:
    ‘‘
    میرا حال نہ پوچھو زلیخا کہ ستم رسیدہ ہوں، غم و الم رسیدہ ہوں۔ میری کہانی اور پھر وہ بھی میری ہی زبانی، مجھے آٹھ آٹھ آنسو رلائے گی اور طبیعت اس داستانِ غم کے بیان سے پریشان ہو جائے گی۔’’
    زلیخا نے ہمدردی سے حسن کو دیکھا۔ پھر بولی:
    ‘‘
    اچھا! بس اتنا ایموشنل ہونے کی ضرورت نہیں۔ چائے پیو اور مجھے بتاؤ کہ بھاگ کیوں رہے تھے؟’’
    بموجب ِہدایت حسن نے چائے کا گھونٹ بھرا اور زلیخا کو ایم آر آئی کی دہشت اور بنّے بھائی کی ہیبت کا تمام حال بلا کم و کاست کہہ سنایا۔
    زلیخا سوچتے ہوئے بولی:
    ‘‘
    ایم آر آئی سے ڈر گئے تم؟ چلو خیر یہ تو سمجھ میں آتا ہے۔ بہت سے لوگ جنہیں کلاسٹرو فوبیا ہوتا ہے، ایم آر آئی سے ڈرتے ہیں۔ تم بھی شاید اس لیے نہیں کرانا چاہتے ۔ لیکن یہ تو بتاؤ آخر تم بنّے بھائی سے اتنا ڈرتے کیوں ہو؟ وہ ذرا تمہیں ڈانٹتے ہیں اورتم ڈر کے مارے کانپنے لگ جاتے ہو ۔ اسی لیے وہ تمہیں اور بھی زیادہ bully کرتے ہیں۔’’
    ‘‘
    حسن نے رندھی ہوئی آواز میں کہا:
    ‘‘
    اگر گوشِ ہوش سے سنو تو عرضِ حال کروں، اظہارِ بالا جمال کروں کہ مجھ بدبخت کو ماں باپ نے ہتھیلی کا چھالا بنا کر پالا تھا۔ ماں صدقے واری جاتی تھی۔ باپ پیروں تلے ہاتھ دھرتا تھا۔ میرے باپ نے کبھی ڈانٹنا تو درکنار، کبھی مجھے سخت نظر سے بھی نہ دیکھا تھا۔ جس نے کبھی کسی کی اونچی آواز نہ سنی ہو، وہ بنّے بھائی سے ڈرے گا نہیں تو اور کیا کرے گا؟’’
    حسن کی یہ بات سن کر زلیخا حیران ہوئی اور بے یقینی سے پوچھا:
    ‘‘
    تم بدر پھوپھا کی بات کررہے ہو؟’’
    حسن نے اثبات میں سر ہلا کر کہا:‘‘ہاں!’’
    زلیخا نے ترس کھانے والے انداز میں کہا:
    ‘‘
    تم آٹھ مہینے کے تھے جب بدر پھوپھا کا انتقال ہوا تھا۔ بھلا آٹھ مہینے کے بچے کو کوئی کیا ڈانٹتا؟’’
    لیکن حسن کچھ نہ سن رہا تھا۔ باپ کے ذکر نے اس کے دل میں آگ لگا دی تھی۔ وہ بظاہر وہاں موجود تھا مگر اس کا دل و دماغ اپنے زمانے و وقت میں پہنچ چکا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا:
    ‘‘
    افسوس میں نے تمام زندگی اپنے ماں باپ کو کوئی خوشی نہ دی، کچھ خدمت نہ کی۔ ایک ساحرہ کے ظلم سے والدِ ماجد کا ارتحال ہوا، مجھے صدمہ و قلق کمال ہوا۔ دو سال کے اندر اندر میں نے دولت یوں اڑائی کہ دیوالہ نکل گیا۔ میری ماں یہ غم نہ سہار سکی۔ والدِ ماجد کے دو سال بعد وہ بھی تیرِ مرگ کا نشانہ ہوئی۔ باغ ِارم کی سیر کو روانہ ہوئی۔ وا دردا، واحسرتا، ہائے ہائے۔’’
    زلیخا نے حیران پریشان ہوکر پوچھا:
    ‘‘
    کون سے باغ کی سیر کو روانہ ہوئیں؟’’
    حسن خیالوں سے باہر آیا، بولا:
    ‘‘
    باغ ِارم۔’’
    زلیخا پریشان ہوکر سوچ میں پڑ گئی۔ پھر بولی:
    ‘‘
    اس نام کا تو کوئی باغ لاہور میں نہیں۔’’
    حسن نے کہا:
    ‘‘
    لاہور کا نہیں، یہ جنت کا باغ ہے۔’’
    زلیخا ہکا بکا ہوکر بے ساختہ بولی:
    ‘‘
    ہیں؟ تو سیدھے سیدھے کیوں نہیں کہتے کہ ڈیتھ ہوگئی؟ اینی وے، پھوپھو کا انتقال تو پھوپھا کے مرنے کے سولہ سال بعد ہوا تھا، جب تم میٹرک میں تھے ۔ مجھے لگتا ہے تمہاری لانگ ٹرم میموری پہ اثر پڑا ہے۔ شاید فیل ہونے کی بھی یہی وجہ ہو۔’’
    یہ باتیں ہورہی تھیں کہ پھاٹک کھلا اور کنیز اندر آئی۔ حسن اور زلیخا کو وہاں بیٹھے دیکھا تو خوش ہوکر بولی:
    ‘‘
    واہ جی واہ، بڑی خوشبوئیں آرہی ہیں چائے کی۔ زلیخا باجی اور چائے ہے؟ میں پی لوں؟’’
    زلیخا بے ساختہ مسکرائی اور مسکراہٹ دبا کر ہلکی سی ڈانٹ یوں بتائی۔
    ‘‘
    ہر وقت کھانے پینے کی فکر میں نہ رہا کرو۔ ابھی کام شروع کرو۔ جب دادی جان کے لیے بناؤں گی، اس وقت پی لینا ۔’’
    کنیز نے منہ بنایا اور زلیخا کی پیالی کی طرف اشارہ کرکے بولی:
    ‘‘
    تو پھر یہی دے دیں اگر بچی ہے تو، سردی ہوگئی ہے، دو گھونٹ پی لوں گی تو ذرا طاقت آجائے گی۔’’
    زلیخا نے اپنی پیالی اسے تھما دی اور وہ وہیں کھڑے کھڑے سڑکے مار کر چائے پینے لگی۔ حسن نے اس سے پوچھا:
    ‘‘
    اے کنیزِ سراپا تمیز، ہر دل عزیز ، کیا تو نے میرا پیغام میری معشوقہ رنگیں ادا، دلربا کو دے دیا تھا؟’’
    کنیز نے چائے کا بڑا سا گھونٹ بھرا اور بولی:
    ‘‘
    ہاں دے دیا تھا۔’’
    حسن نے اشتیاق سے کہا:
    ‘‘
    پھر اس نے کیا کہا؟ بہت روئی ہوگی؟ رو رو کر جان کھوئی ہوگی؟ــــ’’
    کنیز بے ساختہ ہنسی اور بولی:
    ‘‘
    نہیں، سفید جوڑا ڈھونڈ رہی تھیں۔ آپ کے قلوں پر پہننے کے لیے۔’’
    یہ سن کر حسن از حد ملول و مغموم ہوا۔ زلیخا نے اس کے رنج کا یہ عالم دیکھا تو کنیز کو ڈانٹ کر بھگایا اور حسن سے کہا:
    ‘‘
    اس کی باتوں میں نہ آیا کرو، بڑی فتنہ لڑکی ہے۔’’ یہ کہہ کر اس کے ہاتھ سے پیالی پکڑی اور کہا:
    آؤ ،اندر آ کے ناشتہ کرو۔’’
    یہ کہہ کر زلیخا کرسی سے اٹھی۔ اٹھتے اٹھتے منہ سے کراہ نکل گئی۔ بے اختیار ہوکر پہلو تھام لیا۔ حسن پریشان ہوا، سخت پشیمان ہوا۔ گھبرا کر بولا:
    کیا زیادہ تکلیف ہے؟’’
    زلیخا نے پہلو پکڑے پکڑے کہا۔
    ‘‘
    ہاں! لگتا ہے ڈاکٹر کو دکھانا پڑے گا۔ کچھ عرصے سے ویسے ہی پیٹ میں درد تھا، اب چوٹ بھی لگ گئی۔ کہیں اپینڈکس ہی نہ ہو، چیک کراناچاہیے۔’’ یہ کہہ کر زلیخا اندر چلی گئی۔

    ٭……٭……٭

  • عبادالرحمن

    عبادالرحمن

    عبادالرحمن 

    حریم الیاس

    (پہلا حصہ)

    پیش لفظ

    یہ کہانی ایک روشنی نامی لڑکی کے گرد گھوم رہی ہے جو والدہ کے انتقال کے بعد اپنے والد کے ساتھ اسلام آباد کے ایک چھوٹے سے علاقے میں رہتی اور اپنے ایک کالج فیلو اظفر کو پسند کرتی ہے۔ کہانی آگے اس وقت بڑھتی ہے جب روشنی ایک درس میںسورة الفرقانکے آخری رکوع کے حوالے سے بیان سنتی ہے جس میںعباد الرحمنیعنی رحمن کے بندوں کی خصوصیات بیان کی جاتی ہیں اور وہ لاشعوری طور پر ان خصوصیات پر اظفر کو تصور کرنے لگتی ہے کہ جیسے وہ ان تمام خصوصیات کا حامل ہے۔

    بعدازاں جب اس کے والد روشنی کی بے حد ضد پر اس کی شادی اظفر سے کر دیتے ہیں تو وہ جو کہعبادالرحمنکا خاکہ ذہن میں لیے اظفر کی ساتھ زندگی گزار رہی ہوتی ہے، ناامید ہو جاتی ہے ۔ جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ اظفر ویسا نہیں جیسا اس نے تصور کیا تھا۔ آہستہ آہستہ یہ پسند کی شادی گھریلو حالت اور معاشی بدحالی کی وجہ سے زوال کا شکار ہوجاتی ہے۔ اسی دوران روشنی ایک بیٹی کی ماں بھی بن جاتی ہے اور اظفر کے اچھا بن جانے کی امید لیے اس شادی کو قائم رکھتی ہے، لیکن یہ شادی اس وقت ناکام ہوتی ہے جب اظفر گھریلو جھگڑے کے دوران غصے میں آکر روشنی پر تیزاب پھینک دیتا ہے اور وہ اس دنیا میں اپنی بیٹی اور تیزاب کے بعد آنے والے تکلیف دہ مراحل کا سامنا کرنے لیے اکیلی رہ جاتی ہے۔ روشنی اپنی بیٹی کی ساتھ تنہا سماج کی سوالیہ نگاہوں کا سامنا کرتی ہے۔

    جب وہ اس بات پر یقین کر لیتی ہے کے اس دنیا میں کوئی عبادالرحمن کے خانے میں فٹ نہیں آتا تب صحیح معنوں میں عبدالہادی اور اس کے والدین جیسے اچھے لوگ اس کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ عبدالہادی نا صرف روشنی سے شادی کرتا ہے بلکہ اس کی بیٹی کو اچھا مستقبل بھی فراہم کرتا ہے۔ روشنی جو کہ ایک عرصے سے حالات اور معاشرے کی بدسلوکی کا شکار ہوتی ہے، تلخ بن جانے کے بہ جائے مثبت رہتی ہے اور اپنی بیٹی کی پرورش بھی مثبت انداز میں کرنے کے ساتھ ہمیشہ اس جملے کے ساتھ کرتی ہے کہ اسے دوسروں کے کام آنا ہے ہمیشہ اچھا بن کر رہنا ہے۔

    وہ اجالا کو سرجن بناتی ہے تاکہ وہ زندگی سے مایوس جلے ہوئے لوگوں کا علاج کرے اور انہیں وہ سہولیات دے جن سے اس وقت روشنی محروم رہی تھی۔ لیکن یہ کہانی اس وقت نیا موڑ لیتی ہے جب اجالا کے پاس اس کی (بہن (اظفر کی دوسری بیوی کی بیٹی ایسڈ اٹیک کا شکار ہو کر آتی ہے۔ یہ اجالا کی زندگی کا سب سے بدترین ایسڈ اٹیک کیس ہوتا ہے۔ اس لیے وہ اس لڑکی سے بہت قریب ہوجاتی ہے اور حقیقت سے بے خبر اس کا دل جمعی سے علاج کرتی ہے یہاں تک کہ اس لڑکی کے باپ یعنی اپنے سگے باپ کو اصرار بھی کرتی ہے کہ وہ اس کے مجرم کی خلاف کیس لڑے اور وہ اس لڑائی میں اس کے ساتھ ہے۔ اس دوران اس پر حقیقت آشکار ہوجاتی ہے، لیکن وہ اپنے باپ اور اپنی بہن سے اپنی ماں کا بدلہ لینے کے بہ جائے اُن کا ساتھ دیتی ہے اور روشنی کی اچھی پرورش کا مان رکھتے ہوئے عبادالرحمن کے خاکے پر پورا اترتی ہے۔

    ٭….٭….٭

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۱۱

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۱

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۱

    سارہ قیوم

    بارہویں شب کا قصہ:

    داستانِ عبرت تو امان یعنی ہسپتال کا بیان:

    جب لیلائے شب زلفِ عنبر بارو مشک بو ُ کھولے ہوئے آئی، تو شہرزادِ شیریں زبان و سحر بیاں نے بعد شانِ نازنینی یوں کہانی سنائی کہ جب اس محرمِ راز و یارِ دم ساز نعیم نے رزلٹ آنے کی خبر سنائی تو اس صدمہء دلدوز سے نانی کا جگر پارہ ہوا، دل غم کا مارا ہوا ۔ایک چیخ مار کر بے ہوش ہو گئی، رنج و محن کے دوش بدوش ہو گئی۔
    زلیخا گھبرا کر نانی کے تلوے سہلانے لگی۔ حسن بھی گھبرا کر بھاگا اور نانی کے پاس بیٹھ کر ان کا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔ بے حد درمندی سے پکارا: ‘‘اے مادرِ مہربان! میرا دنیا میں بجز تیرے کوئی نہیں۔ تجھے یہ کیا ہو گیا؟ تیرے اس صدمۂ علالت و بیماری سے زندگی مجھے جنجال ہے۔ اب تیری طبع مبارک کا کیا حال ہے؟’’زلیخا نے جو یہ باتیں سنیں تو بددماغ ہو کر بولی: ‘‘کتنا کہتی تھی کہ کلاسز اٹینڈ کرو، آوارہ گردی بند کرو اور کچھ پڑھ لو بیٹھ کے۔ نہیں سنی نا میری بات؟ اب اگر ذرا کچھ غیرت ہے تو چلو بھر پانی میں ڈوب مرو۔’’
    حسن بے حد حیران ہوا، پریشان ہوا۔ گھبرا کر بولا: ‘‘وہ سب تو ٹھیک ہے مگر غلام اس قدر تو سن لے کہ خانہ زاد کا کیا قصور ہے اور اس قدر برہم کیوں مزاجِ حضور ہے؟ یوں تو غلام ہر دم گنہگار ہے مگر معلوم تو ہو کہ اب کس جرم میں سزاوار ہے؟’’
    یہ سن کر زلیخا کو اور غصہ آیا، ڈپٹ کر بولی: ‘‘بند کرو یہ ایکٹنگ۔ کچھ احساس ہے کتنی بڑی بات ہے امتحان میں ناکام ہونا؟ کنویں میں گئی انجینئرنگ۔ اب ساری زندگی سیلز مین بنے رہنا۔’’
    زلیخا تو یہ باتیں سناتی تھی اور ڈانٹتی تھی مگر حسن بدرالدین نے صرف ایک ہی جملہ سنا تھا۔جب اس نے یہ سنا کہ امتحان میں ناکام ہو گیا ہے تو اس کا رنگ فق ہو گیا، کلیجہ شق ہو گیا۔ دل کو اس زور کا دھچکا لگا کہ غش آگیا۔
    بیٹھا تو گرا، گرا تو بے ہوش۔
    ہوش آیا تو خود کو برآمدے میں نانی کے تخت پر لیٹا پایا۔ نانی کو ہوش آچکا تھا اور وہ حسن کے پاس بیٹھی زار زار روتی تھیں۔ پاس زلیخا پانی کا کٹورا ہاتھ میں لیے کھڑی تھی اور بے بسی سے کبھی حسن کو کبھی نانی کو دیکھتی تھی۔ نعیم کہیں غائب ہو چکا تھا۔
    حسن نے نانی کو آٹھ آٹھ آنسو روتے دیکھا تو حال زار ہوا، دل بے قرار ہوا۔ دل میں سوچا، یہ مجھ سے کیا حرکتِ ناپسندیدہ بیش آئی کہ امتحان میں فیل ہو گیا۔ کاش موت آتی، امتحان سے پہلے ہی جان نکل جاتی تو اس مصیبت سے چھوٹ جاتا، یہ خرابۂ دہشت خیز دیکھنے میں نہ آتا۔ میرے باپ نے مجھے اعلیٰ سے اعلیٰ مدرسوں میں پڑھایا، تجارت کا ہر گُر سکھایا اور آج میں نے باپ کے نام کو بٹہ لگایا۔
    باپ کی یاد آئی، حسن بدرالدین کی آنکھ بھرآئی۔ بے قرار ہو کر رونے لگا، اشکوں سے منہ دھونے لگا۔ نانی نے جو اس کو یوں روتے دیکھا تو تڑپ کر اس کا سر سینے سے لگا لیا اور روتے ہوئے بولی: ‘‘ماں صدقے، ماں قربان۔ نہ میرا بچہ، نہ رو۔ پاگل ہیں سارے پروفیسر جنہوں نے تجھے فیل کر دیا۔ میں تیرے کالج جاؤں گی، خود بات کروں گی پروفیسروں سے۔ بھلا ایسے کیسے فیل کر دیا انہوں نے تجھے؟ تو ُ فکر نہ کر، تیری نانی زندہ ہے ابھی۔’’
    نانی کی اس محبت کو دیکھ کر حسن کے دل میں اور بھی شرمندگی کا زور ہوا، مارے ندامت کے زندہ درگور ہوا۔ لڑکھڑاتا ہوا وہاں سے چلا اور اپنے کمرے میں آکر پڑ رہا۔
    شام تک ملال والم گراں بار ہوا، حسن مارے قلق کے بیمار ہوا۔ ہلہلا کر تاپ چڑھا اور حال ناگفتہ بہ ہو گیا۔ نانی پاس بیٹھی بلائیں لیتی تھی، دعائیں دیتی تھی۔ چپکے چپکے سسکیاں بھرتی تھی، آنسو پونچھتی تھی۔ اس خاتونِ بزرگ و مقدس میں حسن کو اپنی مادرِ مہربان نظر آتی تھی، اس کو یوں گلوگیر دیکھ کر رنج کے سبب سے حسن کی جان نکلی جاتی تھی۔ زلیخا بار بار آتی تھی، کبھی چائے تو کبھی دوا لاتی تھی۔ حسن کچھ نہ کھاتا تھا، بے ہوش ہوا جاتا تھا۔ صیدِمصیبت و ادبار تھا، اجل سے دوچار تھا۔
    صبح صبح چند آوازیں حسن کے کان میں پڑیں اور اسے ہوش آیا۔ آنکھیں کھولنے کا یارا نہ تھا، سو آنکھیں موندے چپکا پڑا رہا اور نانی اور زلیخا کی آوازیں سنتا رہا جو چپکے چپکے ہلکی آواز میں ایک دوسرے سے باتیں کر رہی تھیں۔
    حسن نے سنا ، زلیخا کہہ رہی تھی: ‘‘آپ کیوں اٹھ کر آگئیں دادی اماں؟ رات دو بجے تو سوئیں تھیں۔ اس طرح تو آپ بھی بیمار ہو جائیں گی۔ آپ آرام کریں، میں ہوں حسن کے پاس۔’’
    نانی نے گلوگیر آواز میں جواب دیا: ‘‘مجھ بوڑھی کا کیا آرام اور کیا بیماری۔ میری زندگی میرے بچے کو لگ جائے۔ دیکھو ایک رات میں کیا حال ہو گیا ہے بے چارے کا۔’’ اتنا کہہ کر نانی کی آواز بھر آئی اور وہ سسکیاں لے کر رونے لگی۔
    زلیخا نے ٹھنڈی سانس بھری اور بولی: ‘‘پتا نہیں کتنے سبجیکٹس میں فیل ہوا ہے، نعیم آئے تو اس سے پوچھوں۔ ویسے جس طرح اس نے خبر دی تھی، لگتا ہے تین سے زیادہ میں ہی فیل ہوا ہے۔’’
    نانی تڑپ کر بولیں: ‘‘اللہ نہ کرے۔ ہاتھ ٹوٹیں ان پروفیسروں کے جنہوں نے میرے حسن کو فیل کر دیا۔ اتنا محنتی لائق فائق بچہ ایسے کیسے فیل ہو سکتا ہے؟’’
    زلیخا کچھ گو مگو کے عالم میں دبی آواز میں بولی: ‘‘ہو بھی سکتا ہے۔’’
    نانی برا مان گئیں: ‘‘کیوں ہو سکتا ہے؟ دیکھتی نہیں تھی کتنا پڑھتا تھا؟’’

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۱۰

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۰

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۰

    (سارہ قیوم)

    گیارہویں رات

    حسن بدرالدین نے جو ارسلان نامی مہمان کو زلیخا کو تاکتے دیکھا تو چونکا، کان کھڑے ہوئے۔ دل میں سوچا یہ کیا ماجرائےعجیب ہے، داستانِ غریب ہے۔ کون ہے یہ شخص جو اس قدربدبخت، ناہنجار، بداعمال ،بدکردار اور بے ہودہ ہے کہ پرائی بہو بیٹیوں کو تاکتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کوئی ہردیگی چمچہ ہے۔ اس کی یہ حرکت شریف زادوں اور اہلِ آبرو کی وضع کے خلاف ہے۔ یہ آنکھ لڑانے کی کوشش کون سا انصاف ہے؟ ہر چند کہ حسن کی غیرت بے حد جوش میں آتی تھی، بہت طیش کھاتی تھی مگر ممانی کے سامنے کچھ بولنا محال تھا، وہ بزرگ اور حسن خورد سال تھا۔
    کچھ دیر تو حسن بیٹھا برداشت کرتا رہا لیکن جب ارسلان کی گستاخی و شیخی مزاجی عقلِ سلیم سے منزلوں دور ہوئی تو حسن کی طبیعت بالکل نفور ہوئی اور وہ اٹھ کر باورچی خانے میں جا کھڑا ہوا اور ٹھنڈا پانی پی کر دماغ ٹھنڈا کرنے لگا۔ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ زلیخا بھی چائے کے برتن اٹھائے آ پہنچی۔
    ’’تم کیوں اٹھ کر آگئے؟‘‘ اس نے چائے کے برتن رکھتے ہوئے پوچھا۔
    حسن نے خفگی سے پوچھا: ’’یہ کون کندۂ ناتراش ہے، تمیزداری جس کی پاش پاش ہے؟‘‘
    زلیخا نے کہا: ’’ماما کا دور کا بھانجا ہے۔ تمہیں پسند نہیں آیا؟‘‘
    حسن ناراض ہو کر بولا: ’’مجھے اس کی صورت سے نفرت ہے۔ میری اور اس سفلہ منش، دشمنِ عقل کی کون صحبت ہے؟‘‘
    زلیخا حیران ہو کر بولی: ’’ارے ارے! اتنا غصہ کیوں؟‘‘
    حسن نے کہا: ’’یہ شخص بدتمیز ہے۔ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر تمہیں دیکھتا تھا۔ ذرا شرم نہ کرتا تھا۔ اب تم ہی بتاؤ کہ اس کی صورت سے بندہ کیوں نہ بے زار ہو، اس کی صحبت کیوں کرنہ ناگوار ہو؟‘‘
    زلیخا ہنسنے لگی اور بولی: ’’.Look who is talking، یہ تم کہہ رہے ہو جو ہر راہ جاتی لڑکی پر فدا ہو جاتے ہو؟ اور وہ کرن والا معاملہ تو بڑا recent ہے۔‘‘
    حسن سینہ پھلا کر بولا: ’’میں جو کرتا ہوں ڈنکے کی چوٹ پر کرتا ہوں۔ چھپ کر وار نہیں کرتا ہوں، عقد کا ارادہ رکھتا ہوں۔ شکر ہے کہ میرا ظاہر و باطن یکساں ہے، نہ خرقۂ سالوس دربر، نہ عمامۂ زور برسر۔ لیکن اس شخص کا کیا ارادہ ہے، کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے۔‘‘
    یہ سن کر زلیخا سوچ میں پڑ گئی۔ پھر بولی: ’’سمجھ تو مجھے بھی نہیں آتا لیکن صاف بتاؤں مجھے یہ اچھا لگتا ہے۔ میں سوچتی ہوں بنّے بھائی کے لائے اوٹ پٹانگ رشتوں سے بہتر ہے اسی کو consider کر لوں۔ ماما بھی اس کے حق میں ہیں۔ پڑھا لکھا بھی ہے، نوکری بھی اچھی ہے اور پھر۔۔۔‘‘ زلیخا ہچکچائی۔ ’’اور پھر مجھ میں interested بھی ہے۔ اسے میرے موٹے ہونے سے اور سانولے ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔‘‘حسن نے یہ بات سنی تو کہا: ’’ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے، پڑھے لکھے کو فارسی کیا ہے۔ لگے ہاتھوں اس سے پوچھ لو کہ عشق کے بارے میں اس کا کیا خیال ہے، کیوں عقد کا ارادہ محال ہے؟ دم کے دم میں معلوم ہو جائے گا کہ دلبر ہے یا بے وفا ہے، دل میں خلوص ہے یا جفا ہے؟‘‘
    زلیخا سوچ میں پڑ گئی، پھر بولی: ’’you know what? میرا خیال ہے تم ٹھیک کہتے ہو یہ مجھے فون پر اچھے اچھے میسجز بھیجتا ہے، کبھی کافی کی دعوت دیتا ہے کبھی سینما کی۔ لیکن اس سے آگے نہیں بڑھتا۔ میرا خیال ہے اب مجھے صاف صاف اس سے پوچھ لینا چاہیے کہ اس کا کیا ارادہ ہے۔ لیکن کیسے پوچھوں؟ گھر پر سب لوگ ہوتے ہیں اور باہر میں اس کے ساتھ جانا نہیں چاہتی۔‘‘
    حسن نے کہا: ’’میں پوچھ لیتا ہوں۔ دیکھتے ہیں کیا رنگ لاتی ہے گلہری۔‘‘
    زلیخا نے سوچتے ہوئے کہا: ’’اس نے مجھے امپوریم مال میں فلم دیکھنے کی دعوت دی ہے۔ تم ساتھ چلو تو میں چلتی ہوں۔‘‘
    اور یوں طے پایا کہ زلیخا اور حسن اگلے اتوار اکٹھے فلم دیکھنے جائیں گے، ارسلان سے دل کی بات اگلوائیں گے۔

    *۔۔۔*۔۔۔*

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۸

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۸

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۸

    از: سارہ قیوم

    نویں رات

    جانا حسن بدرالدین کا محبوبہ کے مکان پر

    رات کو جب سلطانِ داراجاہ، گیتی پناہ کو گزشتہ شب کا قصہء دلچسپ یاد آیا تو فوراً شہرزاد کو طلب فرمایا اور کہا، اے طوطی شکر فشانِ خوش بیانی و عندلیب ہزار داستانِ شاخسارِ نکتہ دانی، تیری قصہ خوانی سے میرا دل بدرجہء غائت مسرور ہے اور تیرا کلام اور بیانِ شیریں مشہورِ نزدیک و دور ہے۔ شہرزاد جھک کر آداب بجا لائی اور یوں عرض پرداز ہوئی کہ حسن بدرالدین نے دروازہ کھول کر جو ایک حسینہ خوبرو، عربدہ جُو، قوس ابرو کو دیکھا تو دیکھتے ہی شیفتہ و والا ہوا۔ عشق کا بول بالا ہوا۔ ابھی اس کے حسن و جمال کی دیدمیں محو تھا کہ وہ نازنین اٹھلا کر بولی: ’’اللہ حسن بھائی، اب رستہ دیں گے یا یہیں کھڑا رکھیں گے؟‘‘
    آواز کیا تھی مندر کی گھنٹیاں تھیں۔ حسن بدرالدین عش عش کرنے لگا، جامے میں پھولا نہ سمایا۔ دل چاہا اسی وقت ہاتھ تھام لے اور اظہارِ عشق کرے اور کہے۔ ’’پیاری، میں تجھ پر اپنی جان نثار کرتا ہوں، تہہِ دل سے تجھ سے پیار کرتا ہوں۔ اے زہرہ جمال، ناہید نغمہ، پروی وش وپری رُو۔ آئیلویُولُو، آئیلویُولُو۔‘‘ لیکن قبل اس کے کہ ہاتھ پکڑ پاتا اور اپنے ارادے کو عملی جامہ پہناتا، پیچھے سے زلیخا کی آواز آئی۔ ’’کون آیا ہے حسن؟‘‘
    اس پری رُو حسینہ نے نزاکت سے حسن کے پیچھے جھانک کر صحن میں کھڑی زلیخا کو دیکھا اور اٹھلا کر بولی: ’’ہائے زلیخا۔ ہاؤ آر یو؟‘‘
    زلیخا بھی مسکرائی اور بولی۔ ’’آؤ کرن۔ آج صبح صبح کیسے؟‘‘
    وہ حسینہ مہ جبینہ کہ نامِ نامی جس کا کرن تھا، ناز سے بولی: ’’آج پریکٹیکل ہے میرا ،اور اوورآل نہیں مل رہا۔ میں نے سوچا تم سے پوچھ لوں۔ تمہارے پاس تو پری میڈیکل کا رکھا ہو گا نا۔ اب تو ضرورت نہیں ہو گی تمہیں؟‘‘
    زلیخا کے چہرے کی مسکراہٹ پھیکی پڑ گئی۔ آہستہ سے بولی: ’’ہاں رکھا ہے۔ تم بیٹھو میں لا کر دیتی ہوں۔‘‘
    حسن نے بسر و چشم راستہ دیا اور کرن اپنی پتلی کمر لچکاتی اندر آئی اور تخت پر بیٹھ گئی۔ پھر اس کی نظر صحن میں کھڑے حسن پر پڑی، دونوں کی آنکھ لڑی۔ کرن مسکرائی، حسن کی خوب بن آئی۔ بے جھجک اس کے پاس تخت پر جا بیٹھا۔ وہ ناز سے کھسک کر دور ہوئی تو یہ اور آگے بڑھا۔ اُس نے ٹھنک کر منہ بنایا، اِس نے ہاتھ پکڑنے کو ہاتھ بڑھایا، ابھی یہ لگاوٹ بازی جاری تھی کہ کنیز وہاں بلائے درماں کی طرح آٹپکی۔ حسن کو محبوبہ پری وش کے ساتھ بازو بھڑائے بیٹھے دیکھا تو آنکھیں مٹکا کر بولی: ’’آپ یہاں کیا کر رہے ہیں حسن بھائی؟‘‘
    اس مداخلتِ بے جا پر حسن بہت جھلایا۔ بڑا غصہ آیا۔ ڈانٹ کر بولا: ’’دور ہو۔ تیرا یہاں کیا کام ہے؟ یہ کنیز بڑی بے لگام ہے۔‘‘
    یہ ڈانٹ سن کر کنیز کو غصہ آیا۔ چمک کر بولی: ’’مجھ پہ کیوں ناراض ہو رہے ہیں؟ مجھے پتا ہے کن چکروں میں ہیں آپ۔ میرے سے بنا کے رکھیں ورنہ کام نہیں بننے دوں گی آپ کا۔‘‘
    اسی وقت زلیخا باہر آئی اور ہاتھ میں پکڑا سفید رنگ کا جبہ کرن کے ہاتھ میں تھمایا اور کہا: ’’لو ،کرن۔ تم رکھ لو یہ اوورآل۔ اب مجھے اس کی ضرورت نہیں رہی۔‘‘