Tag: اشتیاق احمد

  • چکلے – ساحر لدھیانوی

    چکلے

    ساحر لدھیانوی

     

     



    یہ کوچے یہ نیلام گھر دل کشی کے
    یہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کے
    کہاں ہیں کہاں ہیں محافظ خودی کے
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    یہ پر پیچ گلیاں یہ بے خواب بازار
    یہ گمنام راہی یہ سکوں کی جھنکار
    یہ عصمت کے سودے یہ سودوں پہ تکرار
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    تعفن سے پر نیم روشن یہ گلیاں
    یہ مسلی ہوئی ادھ کھلی زرد کلیاں
    یہ بکتی ہوئی کھوکھلی رنگ رلیاں
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    وہ اجلے دریچوں میں پائل کی چھن چھن
    تنفس کی الجھن پہ طبلے کی دھن دھن
    یہ بے روح کمروں میں کھانسی کی ٹھن ٹھن
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    یہ گونجے ہوئے قہقہے راستوں پر
    یہ چاروں طرف بھیڑ سی کھڑکیوں پر
    یہ آوازے کھنچتے ہوئے آنچلوں پر
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    یہ پھولوں کے گجرے یہ پیکوں کے چھینٹے
    یہ بیباک نظریں یہ گستاخ فقرے
    یہ ڈھلکے بدن اور یہ مدقوق چہرے
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    یہ بھوکی نگاہیں حسینوں کی جانب
    یہ بڑھتے ہوئے ہاتھ سینوں کی جانب
    لپکتے ہوئے پاؤں زینوں کی جانب
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    یہاں پیر بھی آ چکے ہیں جواں بھی
    تنو مند بیٹے بھی ابا میاں بھی
    یہ بیوی بھی ہے اور بہن بھی ہے ماں بھی
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی
    یشودھا کی ہم جنس رادھا کی بیٹی
    پیمبر کی امت زلیخا کی بیٹی
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    بلاؤ خدایان دیں کو بلاؤ
    یہ کوچے یہ گلیاں یہ منظر دکھاؤ
    ثناخوان تقدیس مشرق کو لاؤ
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں

    ساحر لدھیانوی



  • اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں ۔ احمد فراز ۔ شاعری

    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں ۔ احمد فراز ۔ شاعری

    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں ۔ احمد فراز



    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
    جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

    ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
    یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

    غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو
    نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

    تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
    دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں

    آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر
    کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں

    اب نہ وہ میں نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فرازؔ
    جیسے دو شخص تمنا کے سرابوں میں ملیں

  • پورا دکھ اور آدھا چاند ۔ پروین شاکر ۔ شاعری

    پورا دکھ اور آدھا چاند ۔ پروین شاکر ۔ شاعری

    پورا دکھ اور آدھا چاند ۔ پروین شاکر



    پورا دکھ اور آدھا چاند
    ہجر کی شب اور ایسا چاند

    دن میں وحشت بہل گئی
    رات ہوئی اور نکلا چاند

    کس مقتل سے گزرا ہوگا
    اتنا سہما سہما چاند

    یادوں کی آباد گلی میں
    گھوم رہا ہے تنہا چاند

    میری کروٹ پر جاگ اٹھے
    نیند کا کتنا کچا چاند

    میرے منہ کو کس حیرت سے
    دیکھ رہا ہے بھولا چاند

    اتنے گھنے بادل کے پیچھے
    کتنا تنہا ہوگا چاند

    آنسو روکے نور نہائے
    دل دریا تن صحرا چاند

    اتنے روشن چہرے پر بھی
    سورج کا ہے سایا چاند

    جب پانی میں چہرہ دیکھا
    تو نے کس کو سوچا چاند

    برگد کی اک شاخ ہٹا کر
    جانے کس کو جھانکا چاند

    بادل کے ریشم جھولے میں
    بھور سمے تک سویا چاند

    رات کے شانے پر سر رکھے
    دیکھ رہا ہے سپنا چاند

    سوکھے پتوں کے جھرمٹ پر
    شبنم تھی یا ننھا چاند

    ہاتھ ہلا کر رخصت ہوگا
    اس کی صورت ہجر کا چاند

    صحرا صحرا بھٹک رہا ہے
    اپنے عشق میں سچا چاند

    رات کے شاید ایک بجے ہیں
    سوتا ہوگا میرا چاند



  • گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح ۔ پروین شاکر ۔ شاعری

    گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح ۔ پروین شاکر



    گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح
    دل پہ اتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح

    راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسر کرنی ہے
    جل چکے ہیں مرے خیمے مرے خوابوں کی طرح

    ساعت دید کہ عارض ہیں گلابی اب تک
    اولیں لمحوں کے گلنار حجابوں کی طرح

    وہ سمندر ہے تو پھر روح کو شاداب کرے
    تشنگی کیوں مجھے دیتا ہے سرابوں کی طرح

    غیر ممکن ہے ترے گھر کے گلابوں کا شمار
    میرے رستے ہوئے زخموں کے حسابوں کی طرح

    یاد تو ہوں گی وہ باتیں تجھے اب بھی لیکن
    شیلف میں رکھی ہوئی بند کتابوں کی طرح

    کون جانے کہ نئے سال میں تو کس کو پڑھے
    تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح

    شوخ ہو جاتی ہے اب بھی تری آنکھوں کی چمک
    گاہے گاہے ترے دلچسپ جوابوں کی طرح

    ہجر کی شب مری تنہائی پہ دستک دے گی
    تیری خوش بو مرے کھوئے ہوئے خوابوں کی طرح



  • حسینہ معین – گفتگو

    حسینہ معین – گفتگو



    حسینہ معین جدید پاکستانی ٹی وی ڈرامے کے موجدوں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے پی ٹی وی اس وقت جوائن کیا جب ڈرامہ بہت گہرے اور سنجیدہ سروں میں تھا ۔ پھر حسینہ معین آئیںاور نہوں نے پی ٹی وی کی سرمئی سکرین پر جیسے رنگ بکھیر دیے۔۔۔

    ایک بہائو سے چلتی ہوئی تیز رفتا ر کہانی۔۔ایسے زندہ ، سانس لیتے کردار کہ جیسے ابھی سکرین سے نکل کر آپ کے سامنے چلنے پھرنے لگیں گے۔ ۔۔بے ساختہ، تیکھے مکالمے کہ ذہن عش عش کر اُٹھے۔۔۔اور کہانی کا مرکزی کردارنبھاتی، ایک مضبوط، ہنس مکھ، بہادر لڑکی۔ 

    یہ سب عناصر نہ صرف حسینہ آپا کی پہچان بنے، بلکہ انہوں نے عورت کو ٹی وی پر لکھے جانے کا ، دکھائے جانے کا ایک نیا انداز بھی بخشا۔ آپ کہانی پڑھنے یا لکھنے کے شوق کے بارے میں سنجیدہ ہوں اور آپ نے حسینہ آپا کے ڈرامے نہ دیکھ رکھے ہوں، یہ دو متضاد باتیں محسوس ہوتی ہیں۔تو آئیے، ملواتے ہیں آپ کو حسینہ آپا سے۔۔۔اور جانتے ہیں ان سے کہانی کی بنت کے راز۔

    الف کتاب : آپا، کچھ اپنے سفر کی شروعات کے بارے میں بتائیے۔کیسے لکھنا شروع کیا آپ نے؟

    حسینہ معین: (مسکراتے ہوئے)میری شروعات؟ اصل میں میں نے لکھناشروع کیا تھا جب میں کلاس 7th میں تھی۔ یہاں سے بچوں کا ایک میگزین نکلتا تھا  ‘بھائی جان’  اورجنگ کا بچوں کا اخبار تھا،جس میں میں نے کچھ چھوٹی چھوٹی کہانیاں لکھی تھیں۔پھر کالج کے زمانے کی بات ہے کہ وہاں سرکولر آیا ریڈیو پاکستان سے ،کہ جشنِ تمثیل ہو رہا ہے طلبا ء و طالبات کاتو آپ کے کالج سے بھی ہمیں ٢٥ منٹ کا ایک ڈرامہ چاہیے۔اس وقت میں صرف سیکنڈ ائیر میں تھی۔ہماری اُردو کی پروفیسر تھیں، مسز سلمیٰ حقی، انہوں نے مجھے کہا کہ تم لکھو۔کیونکہ وہ دیکھتی تھیں کہ میں وال پیپر میگزین کے لیے کچھ نہ کچھ لکھتی رہتی تھی، حالانکہ وہ بس یونہی شرارت کی چیزیں تھیں کہ کبھی کسی ٹیچر کے بارے میں کچھ لکھ دیا کبھی کسی لڑکی کے بارے میں، تو انہوں نے کہا کہ تم لکھو۔ میں نے کہا کہ بھئی مجھے تو نہیں آتا۔یہ ڈرامہ ورامہ تو الگ چیز ہے۔تو انہوں نے کہا کہ نہیں نہیں تم ہی لکھو۔ بس پھر میں نے دو ڈھائی دن میں ڈرامہ لکھ کر انہیں دے دیا۔ کچھ دن بعد اطلاع آئی کہ اسے فرسٹ پرائز ملا ہے۔ہماری پرنسپل نے اسمبلی میں اعلان کیا۔ اس سے بڑی خوشی ہوئی کہ واہ بھئی۔ بس وہ ہماری بریک تھی، سٹارٹنگ پوائنٹ۔اس کے بعد ریڈیو پاکستان والوں نے کہا کہ آپ Studio no. 9 کے لیے لکھیں۔آ پ کی رائٹنگ میچور ہے۔تو میں نے خوشی میں اس پروگرام کے لیے آٹھ دس ڈرامے لکھے۔اس کے بعد میں بی اے کر کے ایم اے میں چلی گئی تو ایم اے چونکہ کچھ مشکل ہوتا ہے تو پھر ڈرامے لکھنا چھوڑ دیے۔پھر ایم اے کیا، پھر بی ایڈ کیا۔ پھر (سوچتے ہوئے)  جب کراچی میں ٹی وی آیا تو انہوں نے ریڈیوکا ایک ڈرامہ لے کر مجھے کہا کہ اسے آپ ٹی وی کے لیےdramatize کر دیں۔ اب ریڈیو کے لیے لکھنا آسان ہے۔ بس آپ کی imagination کام کرتی ہے اور آپ لکھتے چلے  جاتے ہیں۔لیکن ٹی وی کے لیے آپ کو دھیان رکھنا پڑتا ہے کہ کیا ایسا اصل میں ہو سکتا ہے یا نہیں، ٹی وی کی سکرین پہ اسے کسی physical حالت میں دکھایا جا سکتا ہے یا نہیں۔تو خیر پھر میں نے اسی ڈرامے کو ٹی وی کے لیے لکھ دیا۔ ”نیا راستہ” کے نام سے وہ ڈرامہ چلا۔وہ بھی بہت کامیاب ہوا۔ خیر ہو سکتا ہے اس میں میرا کوئی کمال نہ ہو، کامیڈی کی وجہ سے وہ ڈرامہ مشہور ہو گیا ہو۔ بہر حال پھر مجھے پی ٹی وی والوں نے باقاعدہ بلایا اور کہا کہ آپ عید کے لیے ایک پلے لکھیں۔ پھر میں نے عید کے لیے Happy Eid Mubarak لکھا۔ اس میں مرکزی کردار نیلوفر(عباسی) اور شکیل نے کیے۔وہ بھی بہت پاپولر ہوا۔ اصل میں اس زمانے میں کامیڈی بہت کم کی جا رہی تھی۔ خیر وہ اتنا مشہور ہوا کہ اس کے فوری بعدپی ٹی وی والوں نے کہا کہ اب آپ ایک سیریل لکھیں۔ عظیم بیگ چغتائی کی ایک کتاب تھی، اس میں سے ایک کہانی تھی ”عورت تیرا نام کمزوری”۔۔۔انہوں نے کہا کہ اس پر سیریل لکھ دیں۔ جب میں نے وہ کہانی پڑھی تو وہ بس ایک دس ، بارہ صفحے کا افسانہ تھا، اب اُسے سات قسطوں میں بنانا، میں نے کہا یہ تو بڑا مشکل ہے۔اور وہ تھا بھی 1920ء سے 1930ء کے دوران کا۔اس زمانے کے مزاق بھی الگ تھے، کرداروں کی بنائی بھی، سب الگ تھا۔انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے، آپ اسے چھوڑیں، بس مرکزی خیال لے کر اپنی کہانی لکھ دیں۔Free adaptation۔تو وہ پھر ہم نے شہزوری کے نام سے کیا اور luckily شہزوری بہت زیادہ کامیاب رہا۔

    الف کتاب: شہزوری تو بہت زبردست پلے تھا۔ کمال۔ اتنے برجستہ مکالمے، اور ایسی دلیر لڑکی۔

    حسینہ معین:دیکھو، ٹی وی ڈرامے کی کامیابی، تین لوگوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔رائٹر، ڈائیریکٹر، اور آرٹسٹ۔اگر تینوں میں میل نہ ہو تو ڈرامہ وہیں ختم ہو جاتا ہے۔اور شہزوری میں یہ سب موجود تھا۔ اب جب شہزوری کامیاب ہوا تو بس ایک سلسلہ سا چل پڑا۔



    ٢۔آپ نے پی ٹی وی کے لیے پہلا اوریجنل سکرپٹ لکھا، کرن کہانی۔ اس سے پہلے ناولز کو ڈرامائی تشکیل دی جاتی تھی۔ اس تجربے کے بارے میں بتائیے۔

    حسینہ معین:یہ شہزوری کے بعد ہوا۔ جب شہزوری کامیاب ہوا تو مجھے پی ٹی وی والوں نے کہا کہ اب آپ ایک اور لکھیے، وہ بھی عظیم بیگ چغتائی کی ایک کتاب تھی۔ ۔تب میں نے انہیں کہا کہ دیکھیے ایسا کرتے ہیں کہ میں ایک آئیڈیا دیتی ہوں اور اس پر ہی لکھ لیتے ہیں۔ کیونکہ اس طرح کسی کہانی پہ لکھنے میں بھی اتنی ہی محنت پڑتی ہے کیونکہ کہانی بالکل نئے سرے سے لکھنی ہوتی ہے، صرف مرکزی خیال لیا جاتا ہے۔ توانہوں نے کہا کہ اچھا آپ آئیڈیا دیں۔ تو پھر میں نے کرن کہانی کا آئیڈیا دیا۔شروع میں وہ لوگ بڑے پریشان تھے کہ بھئی پہلے تو ہمارے ہاں ایسا کبھی ہوا نہیں، کیونکہ ہم تو ہفتے کے ہفتے کے حساب سے چلتے ہیں۔ ایک ہفتے کا لکھا اگلے ہفتے میں شوٹ ہوتا ہے اور ریکارڈ ہو کر آن ائیر چلا جاتا ہے۔اب اگر کہانی لکھتے ہوئے آپ کہیں رُک گئیں اور آپ کی سمجھ میں نہیں آیا کہ کہانی آگے کیسے جائے تو ہم تو مارے جائیں گے۔ میں نے انہیں مطمئن کرنے کی بہت کوشش کی کہ ایسا نہیں ہو گا۔ اور تب اس وقت بہت لوگوں نے میرا ساتھ دیا۔افتخار عارف صاحب تھے وہاں، انہوں نے کہا کہ آپ لوگ فکر نہ کریں، یہ کر لیں گی۔محسن علی صاحب نے بھی کہا کہ یہ کر لیں گی۔کنور آفتاب صاحب اس وقت وہاں کے جی ایم تھے۔تو ان سب لوگوں نے اتنا encourage کیا کہ کرن کہانی بن گئی، اور لکھی گئی اور آخر تک ڈائریکٹرز میں ہمارے ساتھ شیرین خان بھی شامل ہو گئیں۔اور وہ بھی بہت اچھی ڈائیریکٹر تھیں۔کرن کہانی کی کامیابی کے بعد پی ٹی وی والوں نے کہا کہ بس اب آپ خود ہی لکھیے، اپنے آئیڈیاز پر۔بس پھر میں نے زیر زبر پیش لکھا، انکل عُرفی لکھا ۔

    الف کتاب: آپ کے یہ تمام ڈرامے بے حد کامیاب رہے، بہت مشہور ہوئے۔ ایک اچھے سکرپٹ کے علاوہ اور کیا وجوہات تھیں ان کامیابیوں کی؟

    حسینہ معین:دیکھیں میری ہمیشہ سے پریکٹس تھی کہ میں دو ڈائریکٹرز کے ساتھ کام کرتی تھی۔دو اس لیے کہ ایک ڈائریکٹر میرے ساتھ ڈسکس کر رہا ہوتا تھا ، سن رہا ہوتا تھا کہ میں نے کیا لکھا ہے،اور اگر اس کو ٹھیک کیا جائے تو کیسے کیا جائے اور دوسرا ڈرامہ ریکارڈ کروا رہا ہوتا تھا۔لیکن آپ یہ دیکھیں کہ آپ میری جتنی بھی سیریلز دیکھیںگے آپ کو کہیں بھی ڈائریکشن کا فرق نظر نہیں آئے گا۔یہ میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے بہت اچھے ڈائریکٹرز ملے۔ شروع ہی سے یہ میرے ساتھ یہ دو ڈائریکٹرز، شیرین خان اور محسن علی چلتے رہے۔ So much so  کہ جب میں نے ہیڈ کوارٹر میں آئیڈیا دیا کہ میں ہنری جیمز کے ناول ”The Portrait of a Lady” پہ لکھنا چاہتی ہوںتو وہاں سے جواب آیا کہ اگر یہ حسینہ کر رہی ہیں تو کرنے دیں لیکن اگر کوئی اور کر رہا ہے تو نہیں ہو گا!



  • منّزہ سہام مرزا – گفتگو

    منّزہ سہام مرزا – گفتگو

    گفتگو

    منّزہ سہام مرزا

    (منّزہ سہام مرزا کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں، یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہوگا کہ منّزہ اپنے بچپن سے ہی اس شعبہ سے وابستہ ہیں۔ ان کے والد سہام مرزا صاحب دوشیزہ ڈائجسٹ اور سچی کہانیاں کے مدیرِ اعلیٰ اور بانی تھے۔ اب منّزہ سہام ماہ نامہ دوشیزہ ڈائجسٹ اور سچی کہانیاں کی ادارت کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔)

    ٭ کچھ اپنے حوالے سے بتائیں، آپ کب سے اس فیلڈ میں ہیں؟

    منّزہ: میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ میں اپنے والد کے ساتھ واقعی میں بچپن سے ہی اس فیلڈ میں ہوں۔ جب وہ آفس جاتے تو میں بھی ان کے ساتھ جایا کرتی تھی۔ میرا شروع سے ہی اس کام کے ساتھ ایک خاص لگاؤ رہاہے، وہ مجھ سے کہانیوں کو ڈسکس کیا کرتے تھے، اچھا بتاؤ یہ افسانے، یہ کہانیاں کیسی ہیں؟ ہمارے ادارے سے بچوں کا رسالہ بھی نکلتا تھا جس کا نام ہی ”بچوں کا رسالہ تھا،” میں اس میں ”کوّا کہانی” کے نام سے کہانی لکھتی تھی، اس کا مرکزی خیال ابّو نے ہی دیا تھا کہ ایک کوّا ایک گھر میں بیٹھا ہے اور وہ اس گھر یا اس جگہ پر جو کچھ دیکھ رہا ہے، وہ سب بیان کررہا ہے۔ تو بہت چھوٹی سی عمر سے ہی بچوں کی کہانیوں میں معاشرے مسائل کو ڈسکس کیا۔ مجھے بلیاں بہت پسند تھیں، پہلی کہانی میں نے پانچویں جماعت میں لکھی تھی جس کا نام بلّی کانفرنس تھا، اور اس کے بعد کوّا کہانی۔ جانوروں کی کہانیاں زیادہ لکھیں۔ ابّو کے انتقال کے بعد جب میں نے آفس سنبھالا تو بہت سی چیزوں کا مجھے نہیں پتا تھا، لیکن ابّو کے ساتھ آفس آتے جاتے بہت سی چیزیں غیر ارادی طور پر میں سیکھتی گئی اور مجھے زیادہ مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ میں نے ویسے انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز کیا ہوا ہے۔ گریجوایشن میں نے سینٹ جوزف کالج اور ماسٹرز کراچی یونی ورسٹی سے کیا تھا۔

    ٭ آپ جب ایڈیٹنگ کی فیلڈ میں باقاعدہ طور پر آئیں تو اس کے بعد سے آپ نے لکھناترک کردیا یا ابھی بھی جاری ہے؟

    منّزہ: ترک نہیں کیا، میں کالمز لکھتی رہی۔ میرا مزاج تھوڑا سا تبدیل ہوا۔میں پہلے کہانیاں اور افسانے لکھتی تھی، پھر مجھے کالم لکھنے میں مزہ آنے لگا۔ وہ ایک چیز جو میرے اندر شروع سے تھی سوشل ایشوز کو ڈسکس کرنا، وہ افسانے میں بھی کی جاسکتی ہے لیکن ذاتی طور پر مجھے کم الفاظ میں چیز کہنا یا لکھنا اچھا لگتا ہے تو ظاہر ہے وہ چیز آپ کالم میں کرسکتے ہیں، پھر میں کالمز لکھتی رہی۔ کالمز لکھ کر بھی تھک گئی کہ کچھ فائدہ نہیں ہوتا کتنا آپ لوگوں کوسمجھائیں (مسکراتی ہیں)، کالم لکھنا بھی چھوڑ دیا۔ اس کے بعد میں نے ایک چھوٹی سی ڈائری کے طور پر ‘شہید کی ڈائری’ لکھنا شروع کی جو دو صفحات پر مشتمل ہوتی تھی، وہ 1965ء کی جنگ کا ایک گمنام شہید ہے، وہ جنّت سے بیٹھ کر ہمارے ملک کو کیسے دیکھ رہا ہے، اس کو کیا نظر آرہا ہے۔ وہ سلسلہ چلتا رہا، لیکن اب واقعی میں لکھنے کی فرصت نہیں ہے، جب آپ ایک ادارہ چلارہے ہوتے ہیں تو مشکل ہوجاتا ہے۔ اب دل میرا چاہتا ہے لیکن وقت نہیں مل پاتا۔

  • شکیل عادل زادہ – گفتگو

    گفتگو

    شکیل عادل زادہ

    شکیل عادل زادہ صحافت اورڈائجسٹ کی دنیا کا بے حد معتبر نام ہیں۔ مقبول زمانہ ڈائجسٹ ”سب رنگ” ان کی پہچان بنا۔ 1938ء میں مراد آباد میں پیدا ہونے والے شکیل عادل زادہ کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے۔ چھے سال کے تھے جب والد دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ نامساعد مالی حالات کے باعث خود تگ و دو کرتے ہوئے تعلیمی منازل طے کیں۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آئے اور بطورِ صحافی اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ اپنی محنت اور لگن سے ترقی کی سیڑھیاں چڑھتے اس درجے تک پہنچے کہ اپنی ذات میں ایک ادارہ بنے۔ انہوںنے سب رنگ کے پلیٹ فارم سے اُردو زبان کی ترویج و اشاعت کے لیے بہترین کارہائے نمایاں انجام دیئے۔

    الف کتاب کے کونٹینٹ مینیجر حسن عمر سے ہوئی شکیل عادل زادہ کی گفتگو کا احوال پڑھیے۔

    حسن عمر: ویسے تو ہم سب جانتے ہیں کہ آپ کی عمر گزری ہے اس دشت کی سیاحی میں مگر پھر بھی ہمارے قارئین کے لیے مختصراً تعارف کہ آپ کب سے اس فیلڈ میں ہیں، شروعات کیسے ہوئیں؟

    شکیل: میں عملی زندگی میں اخبار کے راستے داخل ہوا تھا۔یہ سفر  رئیس امروہوی صاحب کے روزنامہ ”شیراز” سے شروع ہوا۔ یہ اُس زمانے میں شائع ہونے والا  ایک ناکام پرچہ تھا۔ لیکن جب میں اس سے وابستہ ہوا  تو تب وہ ڈمی (dummy) پر چھپتا تھا۔جب پرچے میں جان نہ رہتی تو پھر ڈیکلریشن زندہ رکھنے کے لیے وہ ڈمی پر چھپا کرتے تھے۔ تو میں نے اسے مزید ڈمی کردیا۔ یہ بات ہے سن ستاون(1957) کی۔چوں کہ کچھ اشتہارات تھے، تقریباً آٹھ نو سو روپے کے، اس زمانے میں آٹھ نو سو روپے بھی بہت ہوتے تھے ، تو ہم یہ کرتے کہ اشتہارات چھاپنے کے لیے چار صفحے کا سنڈے ایڈیشن چھاپتے جب کہ  باقی سولہ صفحے چھاپنے کے لیے ہمیں ڈمی کی مدد لینا پڑتی تھی۔ قانون یہ ہے کہ سولہ پرچوں کی ماہانہ ڈمی اگر داخل کی جائے توڈیکلریشن زندہ رہتا ہے۔ تو چار تو ہم سنڈے ایڈیشن چھاپ دیتے تھے مہینے میں، باقی سپلیمنٹ کے طور پر ایک صفحہ پر مشتمل اخبار روزانہ چھاپ دیتے تھے،جو تقریباً سو کے قریب چھپتا تھا۔ اس میں ہمیں کافی بچت ہونے لگی جس میں سے رئیس صاحب کا ذاتی خرچہ نکل آتا تھا۔ رئیس صاحب سے میرا تعلق یوں ہوا کہ میرے والد اور رئیس صاحب ہندوستان کے شہر مرادآباد سے ایک رسالہ نکالتے تھے جس کا نام تھا ”مسافر”۔ رئیس صاحب تقسیم کے فوراً بعد پاکستان آگئے اور میں کوئی دس سال بعد یہاں آیا۔ یہاں آیا تو کچھ عرصہ اپنے عزیزوں کے ہاں گزارا لیکن بعد میں رئیس صاحب کے گھر ہی رہا۔تو گویا میری لکھنے کی تربیت اسی خاندان میں ہوئی۔ رئیس امروہوی ،سیّد محمد تقی اور ان کے چھوٹے بھائی جون ایلیا کی ہمراہی میں سارا وقت گزرا اور یہی میرا عملی زندگی کا آغاز تھا۔ ہم پڑھتے بھی رہے، اردو کالج میں داخلہ لیا، وہاں سے بی کام کیا، پھر external student کی حیثیت سے کراچی یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں اور بعد میں پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرزکیا۔ یہ میری مختصراً روداد ہے (مسکراتے ہیں)

    حسن عمر: سب رنگ کا آئیڈیا کسی نے دیا تھا یا یہ خالصتاً آپ کا اپنا آئیڈیا تھا؟

    شکیل: جی ہاں بالکل! یہ میرا اپنا آئیڈ یا تھا۔ہوا کچھ یوں کہ ”شیراز” تقریباً ایک سال تک چلا۔ جون ایلیا بھی اسی زمانے میں ہندوستان سے آئے تھے اور بہت بیمار تھے۔ انہیں TB تھی ایک طویل علاج کے بعد وہ ٹھیک تو ہو گئے مگر ان کی دوبارہ صحت مند زندگی کی طرف بحالی کے لیے ایک رسالہ نکالا گیا جس کا نام تھا ”انشائ” ۔ یہ ایک علمی اور ادبی پرچہ تھا۔ ادبی کم اور علمی زیادہ تھا کیوں کہ یہ گھرانہ  اپنی  علمی حیثیت سے زیادہ پہچانا جاتا تھا۔ ایک سال کے بعد میں بھی انشاء سے وابستہ ہوگیا۔ انشاء میں مارکیٹنگ یعنی اشتہارات کا حصول اور طباعت کی ذمے داری میری تھی۔ سرکولیشن کا کام ان کے تیسرے بھائی سید محمد عباس کرتے تھے اور پرچے کی ایڈیٹنگ جون ایلیا کرتے۔  رفتہ رفتہ میں بھی ایڈیٹنگ میں دل چسپی لینے لگا۔ انشاء ایک ادبی پرچے کی طرح چلتا رہا اور ہماری سر توڑ کوشش کے باوجود اس کی اشاعت ساڑھے بارہ سو سے آگے نہ بڑھ پائی۔ اس کے کئی تیور اور  روپ بدلے۔۔خواتین کے ٹائٹل بھی لگائے( مسکراتے ہیں) لیکن اس کی سرکولیشن ساڑھے بارہ سو سے زیادہ نہ ہوسکی۔ اس زمانے میں اردو ڈائجسٹ کی بڑی شہرت تھی اور اس کی اشاعتی تعداد نوے ہزار تک جا پہنچی تھی۔ ہم تین لوگوں کا روز گار انشاء سے ہی وابستہ تھا، جون ایلیا، ان کے بڑے بھائی سید محمد عباس اور میں۔۔۔تاثر یہ تھا کہ یہ ہم تینوں کا پرچہ ہے۔ پھر ہم نے الطاف حسن قریشی کے اُردو ڈائجسٹ کی مقبولیت سے متاثر ہوکر انشاء کو ”عالمی ڈائجسٹ” کردیا۔۔ عالمی ڈائجسٹ میں دو ایک سال تک جون صاحب زیادہ مستعدرہے، لیکن ڈائجسٹوں کے بارے یہ تاثر غالب تھا کہ یہ دوسرے درجے کی چیزیں ہیں، جو ابھی تک قائم ہے۔ اس تاثر کے پیشِ نظر وہ اس سے بتدریج علیحدہ ہوتے گئے، اور میں اس میں اسی طرح شامل ہوتا گیا۔ باقاعدہ ادارت میں میرا نام آنے لگا، کہانیوں کے انتخاب وغیرہ میں عباس صاحب میرا ساتھ دیتے۔۔۔اس سے فرق یہ پڑا کہ ڈائجسٹکی اشاعت ساڑھے بارہ سو سے ساڑھے چار ہزار تک پہنچی لیکن پھر وہیں ٹھہر گئی۔ بے حد کوششوں کے باوجود اس میں اضافہ نہ کر پائے۔ پھر مزید چارے کے طور پر  ہم نے کالی مائی ٹائپ کی پراسرار کہانیاں قسط وار شائع کرنا شروع کیں اور اسے فکشن کی طرف لے آئییہ طریقہ کار آمد ثابت ہوا اور اشاعت بیس ہزار تک جا پہنچی۔ لیکن جب اس کی اشاعت بیس ہزار تک ہوئی، تو مجھے یہ تاثر ملنے لگا کہ یہاں میری حیثیت  ملازم کی سی ہے، جب کہ حقیقت  میں ،میں پارٹنر تھا۔ ایک مشہور ناقد ہیں سید محمد علی صدیقی جو ڈان میں Aerial کے نام سے کالم لکھتے ہیں اور اُردو تنقید میں ان کا بڑا نام ہے۔ انہوں نے میری طرف سے رئیس امروہوی اور سید محمد تقی سے بات کی کہ شکیل کا رسالے  میں کیا حصہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا  کہ شکیل تو مالک ہیں، جیسے جون ویسے شکیل۔ (مسکراتے ہیں) صدیقی صاحب نے مجھے بتایا تو میں نے کہا کہ اس قسم کی باتیں تو وہ کرتے رہتے  ہیں ان کی کوئی قانونی حیثیت بھی تو ہو۔ انہوں نے رئیس صاحب سے دوبارہ بات کی تو انہوں نے کہا کہ دستاویزی ثبوت کیسا، یہ پرچہ تو رئیس صاحب سمیت سب کا ہے، تقی صاحب اور، ان کی اولادوں کا بھی ہے۔ میں نے ان کے رویئے سے بد دل ہوتے ہوئے ‘سب رنگ’ کے نام سے اپنا ایک ڈیکلریشن چپکے سے فائل کردیا تھا ۔ یہ ایوب خان کا زمانہ تھا اور اس زمانے میں ڈیکلریشن کا ملنا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا،وہ امپورٹ لائسنس کی طرح ملتا تھا۔ مجھے ڈیکلریشن داخل کیے ہوئے زمانہ ہوگیا۔ بہت کوششوں کے بعد بالآخر نومبر 1979 میں مجھے اس کا ڈیکلریشن مل ہی گیا۔ پیسے ویسے تو میرے پاس اس وقت تھے نہیں، جمع پونجی بھی پانچ ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔ تو میں نے رئیس امروہوی کو  خط لکھا کہ اگر میرا کچھ بقایا بنتا ہے تو مجھے دے دیا جائے، میں یہ رسالہ چھوڑ رہا ہوں۔ انہوں نے مجھے ایک پیسہ نہ دیا، البتہ یہ چاہا کہ میں دوبارہ آجاؤں۔۔میں نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ میں اپنا ایک پرچہ نکال رہا ہوں۔ آخر کار اپنے ان پانچ ہزار سے سب رنگ کی ابتدا کی، کچھ دوستوں نے مدد کی۔عالمی ڈائجسٹ کے زمانے میں جو تعلقات پریس اور بائنڈر سے بن چکے تھے ،انہوںنے بڑی معاونت کی۔پریس والوں نے کہا کہ ہم چھاپیں گے اور جب پرچہ چل نکلے  تو ہمیں پیسے دے دیجیے گا۔ پھرلکھاریوں اور ادیبوں نے بھی بڑا ساتھ دیا۔ پہلا پرچہ ہم نے جنوری 70 میں پانچ ہزار کی تعداد میں چھاپا۔ اس زمانے میں ریڈرز ڈائجسٹ بھی اُردو ڈائجسٹ کی طرح اپنا ایک نام اور مقام رکھتا تھا۔ میں نے سب رنگ کو ریڈرز ڈائجسٹ کی طرز پہ تیار کیا تاکہ لوگوں کو عام ڈائجسٹ سے ہٹ کر کچھ پڑھنے کو ملے۔ پہلا شمارہ ساڑھے تین ہزار بکا، ڈیڑھ ہزار واپس آگیا۔ ہم نے دوسرا پرچہ بھی پانچ ہزار ہی چھاپا، اس میں سے بھی ساڑھے تین ہزار ہی بک سکا۔ یہ صورت حال  خاصی  تشویش ناک تھی۔ چناں چہ ہم نے اپنا رخ فکشن کی طرف موڑا۔ جس طرح ہم فکشن پر مبنی پرچہ عالمی ڈائجسٹ نکالتے تھے، اس ہی طرح ہم سب رنگ میں بھی فکشن پر زیادہ توجہ دینے لگے۔ تیسرا شمارہ بھی پانچ ہزارچھپا لیکن وہ پورا بک گیا۔ چوتھا پرچہ غالباً چھے ہزار چھپا تھا اور جو سب کا سب بک گیا تھا، یہاں تک کہ ہمارے پاس ایک بھی کاپی نہ بچی۔ اسے قارئین کی طرف سے پذیرائی ملنے لگی اور بتدریج بڑھنے لگی اس کی اشاعت بتدریج بڑھنے لگی، پہلے سال اس کی بیس ہزار، دوسرے سال بیالیس ہزار، تیسرے سال باسٹھ ہزار ، چوتھے سال اسّی ہزار، پانچویں سال ایک لاکھ اور پھر یہ ڈیڑھ لاکھ سے اوپر تک بھی چھپا۔ یہ کیوں کر ہوا؟ اس لیے کہ ہم نے بہت صدقِ نیت سے کام کیا، بہت خلوص سے، بہت محنت اور جانفشانی سے اور لوگوں کو وہ معیاری تحریریں پڑھنے کو دیں جو وہ ڈھونڈ رہے تھے۔ میرے بعد عالمی ڈائجسٹ ، جون صاحب کی بیگم زاہدہ حنا نے سنبھالا، انہوں نے بھی اسے بہت بہتر بنایا اور اس کی اشاعت بیس ہزار تک جا پہنچی مگرہم بہت آگے بڑھ چکے تھے۔تو یوں یہ سفر شروع ہوا۔

  • چشمہ – انعم سجیل – افسانچہ

    چشمہ – انعم سجیل – افسانچہ

    چشمہ

    انعم سجیل



    ”امیّ! مجھے فہد سے شادی نہیں کرنی، آپ پلیز تائی جان کو منع کر دیں ۔“

    ”لیکن آخر کیا بُرائی ہے اُس میں؟ پڑھا لکھا ہے، اچھی نوکری ہے اور سب سے بڑھ کر اپنی نظروں کے سامنے پلا بڑھا ہے۔ کوئی وجہ بھی تو ہو انکار کی؟“ زلیخا بیگم نے کڑے لہجے میں اپنی بیٹی صالحہ سے استفسار کیا۔

    ”امّی! آپ کو تو پتا ہے فہد نظر کا چشمہ لگا تاہے اور مجھے کسی ایسے شخص سے شادی نہیں کرنی جس کو میں عینک کے بغیر نظر ہی نا آﺅں۔ آپ بس دوسرے رشتے کو فائنل کر دیں۔“ صالحہ نے جیسے ضد ہی پکڑ لی اور زلیخا بیگم کو اپنی لاڈلی بیٹی کی ضد کے آگے ہار ماننا ہی پڑی۔ یوں صالحہ فیض کی دلہن بن کر اس کے بڑے سے گھر میں آ گئی۔

    فیض ایک کام ےاب اور معروف بزنس مین تھا جس کے لیے سب سے ضروری اس کا کاروبار تھا۔ خوب صورت بیوی کی حیثیت اس کے لیے ایک شو پیس سے زیادہ نہ تھی جس کو گھر میںلا کر سجا وٹ کے لیے رکھ دیا گیا ہو۔یوں تو صالحہ کو آسائشوں کی کمی نہ تھی، کمی تھی تو صرف احساس کی۔ بات صرف ایک نظر کی تھی۔وہ ہر روز تیار ہو کر فیض کا انتظار کرتی اور چاہتی تھی کہ وہ اس کو نظر بھر کر دیکھے ، اس کے حسن کی تعریف کرے، اس کو اپنا وقت دے لیکن فیض کے خیال میں یہ سب فارغ لوگوں کے چونچلے تھے۔اور پھر ہر گزرتے دن نے صالحہ کو باور کرایا کہ بصارت کم زور ہونے پر تو چشمہ لگا کر سب کچھ ٹھیک سے دیکھا جا سکتا ہے لیکن اگر آنکھوں پر بے حسی کا ان دیکھاچشمہ لگا ہو تو بھرپور بصارت کے باوجود بھی کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

    ٭….٭….٭



  • ترجیح – صبا سید– افسانچہ

    ترجیح – صبا سید– افسانچہ

    ترجیح

    صبا سید



    ”باجی! تھوڑی مدد کر دےں۔ بچے کو بکھار (بخار) ہے دوائی کے پیسے نہیں۔“

    ”جاﺅ بھئی معاف۔۔۔۔۔“ میرے جملے کے اختتام سے پہلے ہی سمیعہ نے جھٹ پچاس کا نوٹ اسے پکڑا دیا۔

    ”خواہ مخواہ پیسے دیے، ڈرامے ہیں ان کے صرف۔ میں یہاں ہر ہفتے آتی ہوں، اس کے بچے کو ہمیشہ بخار ہوتا ہے؟“ میں نے اسے بتایا۔

    ”اور تم تو سوشل ورک کرتی ہو، تم تو ان لوگوں کو بہتر جانتی ہوگی۔تم کیسے بے وقوف بن سکتی ہو ایسے لوگوں کے ہاتھوں؟“ مجھے حقیقتاً اس کی بے وقوفی پر حیرانی ہوئی تھی۔

    ”ہاں جانتی ہوں، مجھے معلوم ہے یہ سب ڈرامہ ہے۔۔۔“اس نے آہستہ سے کہا۔

    ”مگر میں بے حس ہونے سے زیادہ بے وقوف ہونے کو ترجیح دیتی ہوں۔“



  • تنہا چاند – حریم الیاس – افسانچہ

    تنہا چاند – حریم الیاس – افسانچہ

    تنہا چاند

    حریم الیاس



    >

    وہ "بہو مٹیریل” تھی ہی نہیں شاید….. نہ ہی کوئی ایسی حسین کہ کسی ماں کو اپنے جگرگوشے کے لیے پہلی نظرمیں پسند آتی اوربہنوں کی ہر دل عزیز بھابھی بن جاتی۔

    وہ واجبی سی شکل کی درمیانے قد کی والی فربہی مائل سفید پوش خاندان کی لڑکی تھی۔ رنگت بھی گندمی تھی لیکن اس جیسی سلیقہ شعار، ہونہار، سمجھ دار، ملنسار اور خوش اخلاق لڑکی خاندان بھر میں کوئی نہ تھی۔ اس نے ایم ایس سی کر رکھا تھا اور نگاہیں پی ایچ ڈی پر تھیں، لیکن گھر والے شادی پر بہ ضد تھے۔

    شادی ہو تو کیسے؟ اس کی ساری خوبیاں اس کی واجبی سی شکل اور صحت مند جسم کے پیچھے کہیں چھپ جاتی تھیں اور جو چیزیں ڈرائنگ روم میں بیٹھے مہمانوں کو درکار ہوتیں، وہ چائے کی ٹرے لاتی لڑکی میں مفقود ہوتیں….

    لمبا قد، سمارٹ جسم اور سفید رنگت مہمانوں کو درکار کوئی ایک چیز بھی نہ ہوتی وہاں….

    اس کی جو خوبیاں اس کے ساتھ رہ کر جانچی جا سکتی تھیں وہ ڈرائنگ روم میں چائے ناشتے کے ساتھ چند منٹوں کی ملاقات میں جانچنا مشکل تھا۔ اس لیے ہربار نتیجہ انکار ہی ہوتا…..

    "اوہو یار! تم دل پہ کیوں لیتی ہو؟” اس کا چچا زاد اکثر سمجھاتا جواس کا بہترین دوست بھی تھا۔

    "بس اب دکھ ہوتا ہے۔” وہ مایوسی سے کہتی۔

    "یقین مانو سارہ! میں نے جتنی بھی لڑکیاں آج تک دیکھی ہیں، تم ان میں سب سے بہترین ہو۔” وہ ہمیشہ اسے تسلی دیتا۔

    "اس اچھے ہونے کا فائدہ؟”

    "واقعی یار! میرے نزدیک تم پرفیکٹ لڑکی ہو، تمہارا شوہر بہت خوش نصیب ہوگا۔” وہ ہمیشہ اس کا حوصلہ بڑھاتا۔

    "تم بننا پسند کروگے وہ خوش نصیب؟؟” ایک دن انہی باتوں کے دوران اس نے اچانک سوال کردیا۔

    "میں…. میں کہاں اس قابل، تم مجھ سے کہیں زیادہ اچھا بندہ ڈیزرو کرتی ہو۔” اس اچانک سوال پر وہ گھبرا کر بولا۔

    ٭….٭….٭