Tag: Waseem Badami

  • عکس — قسط نمبر ۷

    اپنے تنے ہوئے جسم کو حتی الامکان ریلیکس کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اس نے پہلی بار اس آئینے کو دیکھا، وہ اب بھی ویسے ہی وہاں کھڑا تھا۔ اپنے اسی استقبالی، خیرمقدمی انداز میں… اسی غرور اور طنطنے کے ساتھ… اسی پراسراریت میں لپٹے جس نے پہلی بار اسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ برآمدے میں قدم بڑھاتے ہوئے اس نے آئینے پر ایک نظر اور دوڑائی تھی۔




    اس گھر میں اس کی آمد 26 سال بعد ہوئی تھی اور ان 26 سالوں کو اس نے جیسے ایک مونو سیکنڈ میں calculate کر لیا تھا۔ گھر کے اندرونی دروازے کو اس کے انتظار میں کھڑے ملازم نے کھولتے ہوئے اسے سلام کیا تھا۔ اس نے سانس روک کر اس دروازے سے اندر قدم رکھا تھا۔ اس کا ماتحت عملہ اس کے ہمراہ تھا۔ اس کا پی اے اس گھر کی تفصیلات سے اسے آگاہ کر رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے اس کا دل چاہا وہ اسے روک دے۔ اسے اس گھر کے تعارف کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ گھر اس کی یادداشت کا انمٹ حصہ تھا جسے کھرچ کھرچ کر مٹا دینے کی ہر کوشش ناکام رہی تھی۔
    ہال میں پہنچ کر چند لمحوں کے لیے اس کے قدم فریز ہو گئے تھے۔ وہ سیڑھیاں اب اس کے سامنے تھیں۔ سیڑھیاں، چیخیں اور…
    ”وہ وہاں کچن کا دروازہ ہے۔” پی اے کا جملہ اسے جیسے کرنٹ کی طرح لگا تھا جو اسے حال میں واپس لے آیا تھا۔ اس نے چونک کر ان سیڑھیوں سے نظریں ہٹائیں اور پی اے کو دیکھا۔
    ”پانی مل سکتاہے؟” اپنے اعصاب اور حواس پر بیک وقت قابو رکھنے کی کوشش میں اس نے لگاتار بولتے پی اے کو ٹوکا۔ پی اے فوری طورپر اس کی پیاس بجھانے کے انتظامات میں مصروف ہو گیا۔ اسے اپنے گرد جو خاموشی چاہیے تھی وہ چند منٹوں کے لیے ہی سہی لیکن مل گئی تھی۔ جسم میں سے گزرتی خوف کی ایک لہر کو اس نے جیسے خود کو ساکت رکھتے ہوئے earth کیا۔ غیر محسوس انداز میں اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچتے ہوئے اس نے ایک نظر اپنی کلائی پر ڈالی۔ اس کے رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے۔ اسی غیر محسوس انداز میں ہاتھ جھٹکتے اور نظریں چراتے ہوئے اس نے پانی کا وہ گلاس تھاما جو اس کے سامنے ایک ٹرے میں پیش کیا گیا تھا۔ اس نے ایک سانس میں وہ گلاس خالی کیا تھا۔ وہ گھر اسے کس طرح ہیبت زدہ کرنے والا تھا یہ اس کے لیے کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ اس نے وہاں پوسٹ نہ ہونے کی مقدور بھر کوشش کی تھی مگر کامیابی نہیں ہوئی تھی۔ وہ آسیب زدہ گھر 26 سالوں کے بعد جیسے اسے ایک بار پھر اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔
    ”مجھے اس گھر کو ایک نظر دیکھنے دیں۔”پی اے نے اس کے پانی کا گلاس رکھتے ہی دوبارہ بولنا شروع کیا ہی تھا جب کہ اس نے اسے ٹوک دیا اور قدم آگے بڑھا دیے۔ ماتحت عملے نے کچھ حیران نظروں کا تبادلہ کیا لیکن پھر کچھ کہے بغیر اس کے ہمراہ ہو لیے۔
    گھر بہت تبدیل ہو چکا تھا لیکن وہاں موجود پرانی چیزوں میں سے کوئی بھی ایسی نہیں تھی جسے اس نے ایک ہی نظر میں نہ پہچان لیا ہو۔ اسے رہائشی عمارت کا جائزہ لینے میں زیادہ دیر نہیں لگی تھی۔ اس گھر نے اس کی زندگی میں idealاور idealism نام کی چیز کو چھین لیا تھا اور بہت سارے سوال دے دیے تھے جنہیں اس کا دماغ بہت سالوں تک کھوجتا رہا… الجھتا رہا… ناکام ہوتا رہا… اور پھر جب بالآخر اسے جواب ملا تھا تو بے یقینی کی ایک عجیب سی کیفیت نے اگلے کئی سال اسے اپنے حصار میں رکھا اور بے یقینی وہ واحد شے نہیں تھی جو بہت عرصے اس کے ہمراہ رہی تھی… ایک ناقابل بیان اذیت بھی، شرم اور دکھ کا ایک عجیب احساس بھی اور ان تمام احساسات کے درمیان وہ ایک چہرہ بھی جو اپنی آنکھوں میں خوف اور دہشت لیے اسے دیکھ رہاتھا۔ صرف چند سیکنڈز کے لیے ملنے والی وہ نگاہ جس کا تصور بھی اسے ٹھنڈے پسینے دلانے کے لیے کافی تھا۔
    اوپر والے فلور کے تقریباً تمام کمرے لاکڈ تھے۔ اس نے کسی کمرے کو نہیں کھلوایا۔ وہاں اب ایسا کچھ نہیں تھا جسے دیکھنے کی اسے خواہش تھی۔ اس گھر کا ماسٹر بیڈ روم بھی لاکڈ تھا اور صرف وہ واحد کمرا تھا جس کے دروازے کے باہر اس کے قدم چند لمحوں کے لیے فریز ہوئے تھے۔ ایک لمحے کے لیے اس کمرے میں جانے کی شدید خواہش نے اسے آن گھیرا تھا پھر اس نے اسی رفتار سے اس خواہش کو جھٹک دیا تھا۔
    ”باہر چلتے ہیں۔” اس نے جیسے منٹوں میں عمارت کے اندرونی جائزے کو مکمل کرتے ہوئے کہا۔ وہاں اندر کھڑے بہت سی چیزوں اور یادوں کا ایک سیلاب تھا جو اسے بہائے لیے جارہا تھا۔ اس نے اپنے وجود کو غرق ہونے سے بچانے کی جیسے ایک اور کوشش کی تھی۔
    عمارت کے اردگرد موجود لان پہلی نظر میں اسے ویسا ہی لگا تھا… اور دوسری نظر نے اسے وہ خاردار جھاڑیاں، کھوکھلے ہوتے تنے اور سوکھے ہوئے پیڑ پودے دکھانے شروع کر دیے تھے جو بظاہر اس تراش خراش کے دم پر کھڑے تھے جو یقینا اس کی آمد سے ایک دن پہلے کی گئی تھی۔ 26 سال پہلے وہ لان اس حالت میں نہیں تھا… نہ وہ لان نہ وہاں کے درخت اور پودے اور نہ ٹینس کا وہ کورٹ جس پر آخری میچ یقینا سالوں پہلے کھیلا گیا تھا۔ سب کچھ بوسیدہ اور خستہ حال تھا ان تکلیف دہ یادوں کی طرح جو اس کے اندر سرکنڈوں کی طرح سر نکالے ہمہ وقت موجود رہنے کے باوجود ایک لمبے عرصے سے وہ کاٹ اور چبھن کھو چکی تھیں جس نے اس کے بچپن کے ایک بڑے حصے کو بے حد بے رحمی سے لہولہان اور مسخ کیا تھا۔
    ”اس طرف سرونٹ کوارٹرز ہیں۔” پی اے نے اسے کسی رہنمائی کا انتظار کیے بغیر لان کے عقبی حصے میں کسی سدھائے ہوئے جانور کی طرح جاتے ہوئے دیکھ کر کچھ حیرانی کے ساتھ کہا۔ اس کو ڈی سی کے انداز میں اس عمارت کے لیے ایک عجیب سی familiarity (مانوسیت، واقفیت) نظر آرہی تھی۔
    ”پتا ہے۔”اس کے انداز میں واقعی ہی ایک عجیب سی مانوسیت تھی اس گھر کے لیے۔ کوئی اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتا تب بھی اس کے لیے عمارت کے عقبی حصے میں اس جگہ جانا دشوار نہ ہوتا۔ اس کے قدم اب جس رستے پر تھے وہاں اس کی زندگی کی بہترین اور بدترین یادیں بکھری تھیں۔ کچن کے عقبی دروازے سے کئی فرلانگ دور۔ عمارت کے بالکل عقب میں، وہاں اب وہ کوارٹر نہیں تھا۔ چند لمحوں کے لیے اس نے اپنے آپ کو اسی شاک اور بے بسی کی حالت میں پایا جو اس نے 26 سال پہلے اس رات محسوس کی تھی۔
    وہ closure اب بھی نہیں ہوا تھا جس کی خواہش اسے وہاں تک لے آئی تھی۔ وہ آسیب اب بھی اس کے وجود کے اندر ہی رہنے والا تھا۔
    ……٭……




    ہال تالیوں سے گونج رہا تھا۔ ایبک فرنٹ رو میں اس مباحثے کے دوسرے مقررین کے ساتھ بیٹھا اسٹیج کی سیڑھیاں چڑھتی فاطمہ کو دیکھ رہا تھا۔ وہ پہلی بار ایچی سن کی ٹیم میں شامل ہو کر کسی انٹرکالجیٹ مقابلے میں شریک ہونے آیا تھا۔ کنیئرڈ کی ٹیم ہمیشہ سے ہی ایک سخت حریف رہی تھی ان کے لیے… اور ہوم گراؤنڈ اور ہوم کراؤڈ کے اضافی advantage کے ساتھ وہ اس بار کچھ اور بھی deadly ہو سکتی تھی۔ اس کے برابر بیٹھے اس کے ٹیم میٹ اکبر علی نے اسے اسٹیج پر چڑھتی ہوئی فاطمہ کے بارے میں انفارم کرنا شروع کیا۔ وہ کنیئرڈ کالج کا Ace تھی۔ کم سے کم اکبر کی باتوں سے اس نے یہی اندازہ لگایا تھا۔ وہ بہت سے مقابلوں میں اس لڑکی کے ہاتھوں ٹرافی گنوا چکا تھا۔ فلک شگاف تالیوں کی گونج میں اس سے آٹھ دس گز دور اس کے تقریباً بالمقابل اس لڑکی نے روسٹرم سنبھال لیا تھا۔
    ہال میں اب پن ڈراپ سائلنس ہو گئی تھی۔ اس لڑکی پر نظریں جمائے ایبک کے ہونٹوں پر بے اختیار ایک مسکراہٹ رینگی۔ یہ وہ پروٹوکول تھا جو آڈیئنس صرف ایک چیمپئن ڈبیٹر کو دیتا تھا۔ اس لڑکی کی تقریر میں اس کی دلچسپی اور تجسس کچھ اور بڑھ گیا تھا۔ وہ اب روسٹرم پر لگا مائیک ٹھیک کر رہی تھی اور اس وقت پہلی بار ایبک نے اسے نروس محسوس کیا… اور اگر ایسا تھا تو ایک حریف کے طور پر یہ مقابلہ شروع ہونے سے پہلے کی سب سے اچھی خبر تھی۔ وہ اتنا ہی mean تھا جتنا کسی بھی مقابلے کے حریف ایک دوسرے کے لیے ہو سکتے تھے خاص طور پر اس صورت میں جب مدمقابل صنف نازک ہو اوراس کی کامیابی کے قوی امکانات ہوں۔ ایبک کو وہاں نیچے بیٹھے اگر کسی بات کا اندازہ نہیں ہوا تھا تو وہ یہ تھا کہ اس لڑکی کی نروس نیس کی وجہ وہ خود تھا۔وہ اگر اسٹیج سے نیچے بیٹھا اس پر نظریں جمائے اس کی حرکات و سکنات کا جائزہ لینے میں مصروف تھا تو وہ روسٹرم کے سامنے کھڑی اس کو نہ دیکھنے کے باوجود اس کے وجود سے کسی پہاڑ میں دبے آتش فشاں کی طرح باخبر تھی۔
    ایبک نے مباحثے کے آغاز میں چند ہی جملوں کے بعد اسے پہلی بار یک دم خاموش ہوتے دیکھا۔ وہ واضح طور پر تقریر بھولی تھی اور اس سے پہلے کہ وہ غلطی نوٹس ہوتی کنیئرڈ کی ٹیم اور ہال میں بیٹھی آڈیئنس نے تالیاں پیٹنا شروع کر دیا تھا۔ کسی مقرر کی غلطی کو کوراپ کرنے کا سب سے بہترین طریقہ… ایبک اور وہاں بیٹھے دوسرے کالجز کے مقررین میں خوشی کی ایک لہر سی دوڑی تھی۔ تقریر بھولنا اور شروع کے چند سیکنڈز میں ہی بھولنا کسی مقرر کے لیے کتنا demoralising تھا وہ سب جانتے تھے۔ فاطمہ کی تقریر میں سب کا انہماک پہلے ہی تھا۔ اب اشتیاق بھی بڑھ گیا تھا۔




  • آدھا سورج —- امایہ خان

    آدھا سورج —- امایہ خان

    تنگ گلی کے دونوں کناروں پر بنے فٹ پاتھ انہی لوگوں کے قبضے میں تھے۔ جن کی صورت بھک منگوں جیسی اور حرکتیں پاگل دیوانوں جیسی تھیں۔ دیواروں سے ٹیک لگائے، آنکھیں بند کیے چند جلالی پیر بھی تھے جنہیں ہر گزرتے شخص کے قدموں کی آہٹ پر ”حق اللہ” کا نعرہ لگانا یاد آجاتا۔ غیر متوجہ زائرین کے گزرجانے کے بعد وہ اپنی کمر کے پیچھے چھپے ہاتھ کو باہر لاتے اور سیاہ ہونٹوں کے کنارے پر باقی ماندہ چرس کا سگریٹ اڑس لیا جاتا۔
    مزار کے سامنے لوگوں کی کثیر تعداد دیکھ کر وہ بہت پہلے ہی گاڑی سے اترگئی تھی۔ یہاں تک چل کر آتے آتے اسے رستے کا کوئی اندازہ نہیں ہوسکا اور شاید غلطی سے وہ اس پچھلی سڑک پر آگئی تھی۔ جہاں ڈیرہ ڈالے تمام افراد کا کھانا پینا چڑھاوے چڑھانے والوں کی ذمہ داری تھا۔ منت مانگنے، اتارنے آئے اکثر لوگ صاحب مزار کے پاس پہنچنے سے قبل ان فقیروں کے منہ سے اپنے لیے دعائے خیر سننے کے عوض جیبیں خالی کردیتے۔ ان کے نزدیک یہ بھی اللہ والے تھے جو اپنا گھر بار چھوڑے یہاں صاحب مزار کے عشق میں چُور محض لوگوں کی بھلائی کی خاطر رل رہے تھے۔ گندگی اور غلاظت کی بو اور تیز اگربتیوں کی مہک آپس میں دست و گریبان تھیں…. کبھی ایک حاوی ہوجاتی تو کبھی دوسری…. فضا ایسی تھی جیسے کثیف دھوئیں کے غبار گلاب کی خوشبو میں لپیٹ دیے گئے ہوں۔ وہ سیاہ بڑی سی چادر اوڑھے تیز قدموں سے چلنے کی کوشش کرتی ہوئی مزار کے اندر پہنچنا چاہتی تھی۔ مگر چلنے کا رستہ کہاں تھا… ہر دو قدم پر اسے ٹھہرجانا پڑتا۔ جب تک نکلنے کی راہ ملتی وہ ان فقیروں کو حسرت سے دیکھتی جو بہ ظاہر دنیا کے جھمیلوں سے آزاد مست زندگی کے مزے لوٹ رہے تھے۔ پھر آگے بڑھتے وہ اپنی چادر درست کرتی چلنے لگتی۔ اسے یوں چادر میں چھپنے کا کوئی شوق نہیں تھا یہ تو مجبوری تھی، بیلا نے کہا تھا اپنے معمول کے حلیہ میں اسے مزار میں داخل ہونے کی اجازت ہر گز نہ ملے گی مجبوراً اسی کا شلوار قمیص پہننا پڑا جو اس کے ناپ سے کافی بڑا تھا۔ جھبلا نما قمیص اور جھول والی شلوار… اوپر سے نہایت میلا اور بدبودار اس کی ماں کی ہدایت پر ہر دم گھر کو چمکانے میں مصروف اس ملازمہ کا پسینے میں شرابور وجود شاید اس قابل نہیں تھا کہ اس پر توجہ دی جاتی یا کم از کم اتنا ریلیف تو دیا جاتا کہ وہ خود بھی اسی طرح صاف ستھری رہے جیسا گھر کی رکھتی ہے۔ اس کا دل اور دماغ اتنے well trained تھے کہ بنا سوچے سمجھے ہر مسئلہ کی جڑ اس کی ماں ہی قرارپاتی اور نہیں تو کیا؟ میں جو بے چین روح کی طرح پورے شہر میں …. جی ماری پھرتی ہوں…. سکون کی تلاش میں ….. اس میں قصور کس کا ہے؟





    اس کا دھیان حال میں تب واپس آیا جب وہ مزار کے احاطے میں داخل ہوکر سیڑھیوں کے سامنے پہنچ گیا سو ڈیڑھ سو سیڑھیاں چڑھ کر عقیدت مند صاحب مزار سے اپنی مرادیں مانگنے جارہے تھے۔ وہ بھی ان میں شامل ہوگئی۔
    ”وہ دیکھو اس پر حاضری آئی ہے” اپنے ساتھ چلتی دو عورتوں میں سے ایک کو نہایت جوش سے کہتے اور سامنے دیکھا، کچھ بھی سمجھ نہ آیا جائے۔ وہ کس طرف متوجہ ہوئی تھیں جو تیزی سے آخری چار سیڑھی پھلانگتی مزار سے پہلے والے کمرے کے دروازے پر جا کھڑی ہوئیں اور ایڑیاں اچک اچک کر سروں کے اوپر سے اندر جھانکنے کی کوشش کرنے لگیں۔ ابھی اندر داخل نہیں ہوا جاسکتا تھا اور نہ ہی کوئی باہر جاسکتا تھا سب جہاں کے تہاں ٹھہرگئے تھے۔ اس چوکھٹ پر جہاں رنگ بہ رنگ موتیوں کی جھالر کچھ تازے کچھ باسی پھولوں کی لڑیاں جابجا لٹک رہی تھیں۔ کھلے صحن کے ایک طرف دیوار پر جالی خانوں میں کبوتر بیٹھے تھے اور کچھ کابکیں خالی تھیں۔ اس نے بھرپور نظر چاروں اطراف دوڑائی، دیوار کے کونے سے…. جہاں چپلیں سنبھال کے بیٹھا شخص لوگوں کو نمبروالی تختیاں پکڑارہا تھا۔ چند پھول فروش تھالیوں میں پھولوں کی پتیاں لیے بیٹھے تھے نیچے گلی میں بھی تو ایسی کئی دکانیں تھیں اس نے، پھولوں کی بھی اور چادروں کی بھی چادریں جن پر اللہ اور رسول کے صفاتی نام خوشنما رنگوں سے چھپے جھلمل ستاروں، ابرق اور افشاں سے سجے تھے ایک قطار میں آخر تک چلتے اس نے ہر شوخ رنگ کپڑے پر لکھے کلمات پڑھ ڈالے تھے یہ چادریں قبر پر چڑھائی جاتی ہیں یا انہیں شانوں پر اوڑھا جاتا ہے اسے دونوں باتوں کا علم نہیں تھا۔ کسی بھی مزار پر آنے کا یہ پہلا تجربہ تھا جب سے سنا تھا درگاہوں پر سکون ملتا ہے۔ مرادیں پوری ہوتی ہیں، اس نے یہ در بھی کھٹکھٹانے کا فیصلہ کرلیا تھا اور آج صاحب قبر کی کرامت کا امتحان لینے پہنچ گئی تھی۔
    یہاں آکر دیکھا تو بھانت بھانت کے لوگ نظر آئے۔ نیاز دینے والوں کا رش، لنگر کھانے والوں کو ہجوم، مانگنے والے فقیر، ناچتے ملنگ، دھمال ڈالتے مرید، نرینگے پھونکنے والے، سارنگی بجانے اور گانے والے جانے کون سا کلام پڑھ رہے تھے وہ سمجھ ہی نہ پائی۔ عجب میلہ سا لگا تھا، یہ ماحول یہ شور کچھ عجیب ہی تھا جیسے کسی نئی دنیا میں آگئی تھی وہ۔ مزار میں داخل ہونے سے پہلے وہ اس شخص کے پاس سے گزری جو تہ شدہ بوری پر آلتی پالتی مارے بیٹھا ایک جوڑی جوتے کی حفاظت کے عوض چار روپے وصول کرتا اپنی ٹوپی میں ڈال رہا تھا جسے اسے الٹا زمین پر رکھا ہوا تھا۔ ایک لمبی ڈوری کا آخری سرا مسلسل اس کے ہاتھ میں تھا جس میں نمبر والی تختیاں پروکر ڈالی ہوئی تھیں پیسے لے کر وہ ایک تختی جوتے میں ڈالتا اور دوسری زائر کو پکڑادیتا۔ مگر اسے تو جوتے اتارنے ہی نہیں تھے وہ پہلے ہی سے ننگے پائوں تھی۔ یونہی مزار کے اندر داخل ہوگئی وہاں موجود بھیڑ انہی جیسے لوگوں پر مشتمل تھی جنہیں وہ باہر چھوڑ آئی تھی۔ اس نے سامنے قبر کی طرف دیکھاجس کے گرد سب دعائیہ انداز میں ہاتھ اٹھائے کھڑے تھے، چند ایک غموں سے چور قبر کے سرے پکڑ کر زمین پر بیٹھے رورہے تھے۔ گڑگڑانے اور گھگیانے سے اسے کوئی دل چسپی نہیں تھی وہ کھڑے ہوئوں کے نزدیک چلی آئی باری باری وہ ہر ایک کے قریب چند سیکنڈرز کے لیے پنجوں کے بل اچک کر ان کی دعا کے الفاظ سننے اور سمجھنے کی کوشش کرتی پھر آگے بڑھ جاتی۔ بآواز بلند دعا مانگنے والوں کی مہربانی سے اس کا آدھا وقت یوں ضائع ہونے سے بچ گیا۔
    یہاں بھی فضا میں اگر بتیوں کے ساتھ وہی بو شامل تھی جو خوش گوار تو ہر گز نہیں تھی مگر دماغ کی نسوں میں گھسی چلتی رہی تھی…. معلوم نہیں کیا تھا؟…. پر کچھ اثر تھا ضرور…. جو اسے پیچھے رہ جانے والی دنیا کے ہر خیال سے دامن چھڑالینے میں مدد دے رہا تھا۔ اپنا وجود یک دم بھاری سا محسوس ہونے لگا تو وہ زمین پر ہی دیوار سے ٹیک لگائے چند زائرین کے درمیان جگہ بنا کر بیٹھ گئی۔
    اس نے پہلے بائیں طرف دیکھا سیاہ چمڑی اور سفید جاٹوں والا، گردن میں رنگ بہ رنگے موتیوں کی ان گنت مالائیں ہزار دانوں کی تسبیح ہاتھ میں لپیٹ کر منہ ہی منہ میں جانے کیا بدبداتا وہ ٹوٹے ناخنوں سے بدرنگ چوغے میں لپٹے بدبودار وجود پر خارش کرتے کرتے اس کی جانب متوجہ ہوا۔ اس کے چہرے پر جابجا سلوٹیں تھیں اور ماتھے پر گہری لکیریں مگر آنکھوں میں شعلوں میں لپک تھی۔ جب کہ اس کی دائیں جانب ایک عورت بیٹھی تھی دھواں دھواں منظر میں تحلیل ہوتی۔
    عام حالات میں شاید وہ ایسے لوگوں کو دور سے دیکھتے ہی بھاگ کھڑی ہوتی پریوں نزدیک آنے کی ہمت ہر گز نہ کرنا مگر اس کی زندگی میں تو عام حالات بھی تھے ہی نہیں… سب کچھ خاص تھا ہمیشہ سے…. بے حد خاص۔ سفید جاٹوں والے بابا نے اپنے ہاتھ سے اس کے ہاتھ میں جانے کیا دیا…. اس نے بھی ساتھ بیٹھی عورت کی دیکھا دیکھی ایک کش لگایا…. بیہوش و خرد آہستگی سے ہاتھ چھڑا کر بھیڑ میں گم ہوگئے۔ ہر کش کے ساتھ منظر دھواں دھواں ہو رہی اور بس ”وہ” یاد آتے تھے پر کیف لمحے…. بے خودی کا عالم….!
    کاش زندگی اسی جنت میں بسر ہو…. ہمیشہ ہمیشہ کے لیے…. اس نے آنکھیں بند کریں اور اندھیروں میں ڈوبتی چلی گئی۔
    ******





    ثروت کافی کے گھونٹ بھرتے ہوئے اخبار کی شہ سرخیوں پر نظر دوڑارہی تھی۔ صبح کا یہ مختصر سا وقت اس کی فراغت کا ہوا کرتا تھا ورنہ باقی دن تو یوں دوڑتے بھاگتے گزرجاتا تھا کہ سانس لینے کی بھی فہرست نہیں ملتی تھی۔ اسی لیے وہ پوری کوشش کرتی تھی کہ ان اوقات میں وہ اطمینان سے بیٹھ کر اپنی کافی انجوائے کرسکے۔
    ہمیشہ کی طرح اعجاز جلدی میں تھا، اسے پھر دیر ہوگئی تھی۔ صبح بیٹی کو اسکول چھوڑ کر واپس آنے کے بعد اس کے پاس اپنے کپڑے استری کرنے اور تیار ہونے کے لیے کافی کم وقت ملا کرتا۔ پہلے پہل اس نے ثروت سے کپڑے استری کرنے کے لیے کہا تو جواباً لمبی تقدیر سننے کو ملی تھی اس کے بعد یہ گستاخی کم از کم اس نے نہیں دہرائی تھی۔ بہ قول ثروت کے رانا نواز علی کی اکلوتی بیٹی ان کاموں کے لیے پیدا نہیں کی گئی۔ یہ نوکروں کے کام ہیں، اعجاز نے مان لیا مگر کپڑے ہمیشہ خود استری کیے۔ اسے بیلا کے ہاتھ سے کی گئی استری شدہ کپڑے پسند نہیں تھے۔ کہیں نہ کہیں شکن رہ جایا کرتی تھی جسے وہ دوبارہ استری کرکے پہنا کرتا اور پھر نہایت غیر محسوس طریقے سے ان دونوں میاں بیوی نے ایک دوسرے کو سمجھ لیا۔ اعجاز کو معلوم ہوگیا کسی بھی کام پر اعتراض کرنے سے بہتر ہے اسے خود کرلیا جائے اور ثروت…. اس کے لیے یہی کافی تھا کہ اعجاز نے اسے سمجھ لیا ہے۔
    عام دنوں میں اعجاز ہاتھ میں جوتے پکڑے ڈائننگ ٹیبل تک آتا تھا۔ انہیں وہاں پھینک کر کرسی پر بیٹھ کے ناشتہ زہر مار کرتے ہوئے وہ پائوں جوتوں میں ڈال کر جلد سے جلد گھر سے روانہ ہونے کی کوشش کرتا تھا، مگر آج ایسا نہیں ہوا تھا کیونکہ گزرا کل بہت خاص دن تھا جسے ثروت کی بے حسی نے برباد کردیا تھا۔ رات کو ان کے جھگڑے کے بعد مسئلہ مزید گھمبیر ہوگیا تھا۔ اعجاز کا موڈ ابھی تک خراب تھا شاید اسی لیے ثروت کو یوں اطمینان سے کافی پیتا دیکھ کر وہ مزید جھنجھلاگیا تھا ”ناشتہ تیار نہیں ہوا ابھی تک….؟”
    ثروت نے بنا اس کی طرف دیکھے جواب دیا، ”بیلا بنا کر لارہی ہے….”
    اعجاز نے بڑی جدوجہد سے اپنے پیر بند تسموں والے جوتوں میں گھسیٹتے ہوئے کہا،
    ”جلدی کروادو مجھے دیر ہورہی ہے۔”
    ثروت کو یوں بار بار ڈسٹرب کیا جانا کھولا گیا، اس نے اخبار میز پر پٹختے ہوئے اور سے بیلا کو آواز دی، hurry up بیلا…. فوراً بریک فاسٹ لائو ٹیبل پر….” ”یوں جاہلوں کی طرح چلانے کے بجائے تم خود اٹھ کر میرا ناشتہ لے آئو تو بہتر ہوگا…” اعجاز نے ثروت کو تنگ کرنے کے لیے کہا اور کامیاب رہا۔ ثروت نے جل کر جواب دیا ”میں تمہاری نوکر نہیں ہوں…. بیلا ہے ‘وہ’ پکارہی ہے تو لا بھی دے گی….”
    اعجاز پھر بھی باز نہیں آیا اس نے پکا ارادہ کرلیا تھا جس طرح ثروت نے کل کا پورا دن اور رات برباد کی تھی وہ بھی آج کا دن خراب ضرور کرے گا۔
    ”بیلا میری بیوی نہیں ہے…. تم ہو…. میرا خیال رکھنا تمہارا فرض ہے….” ثروت سلگ اٹھی، ”اور مجھے پریشان کرنا تمہارا…. سکون سے نیوز پیپر بھی نہیں پڑھ سکتی…. تم جج بن کر فیصلے صادر کرتے رہا کرو…. اور میں حکم بجا لاتی رہوں۔” ہر وقت تمہارے ذہن پر اپنا کام سوا رہتا ہے…. آج جج کہہ دیا ہے کل ملزم کہہ دوگی… واہ کیا بات ہے وکیل صاحبہ کی….” اعجاز جان بوجھ کر اسے تنگ کررہا تھا۔
    ”اپنا طنز اپنے پاس رکھو سمجھے…”، ثروت کے جواب نے اسے سمجھادیا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہا ہے۔ ڈھٹائی سے مسکراتے ہوئے اس نے ثروت کے آگے پڑا اخبار اٹھاتے ہوئے بیلا کے لائے ناشتے کی جگہ بنائی۔ ثروت نے ایک نظر ناشتے کی طرف دیکھا اور زیر لب مسکرادی۔ اب جلنے کلسنے کی باری اعجاز کی تھی جس کا موڈ آف ہوچکا تھا۔
    ”یہ کیا بنایا ہے؟” اس نے جلا ہوا ٹوسٹ اٹھا کر غصے سے پوچھا تو بیلا گڑبڑاگئی، ”وہ …. صاحب آپ کو دیر ہورہی تھی تو میں نے آنچ تیز کردی… تھوڑا جل گیا…. آپ ٹھہریں… میں دوسرا لادیتی ہوں….” تیزی سے واپس جاے لگی، مگر اعجاز اسے فوراً روک دیا اور کہا،” رہنے دو میں پہلے ہی لیٹ ہوچکا ہوں…. یہ اسپیشل ناشتہ اپنی میڈم کو، کھلادینا،” پلیٹ کو ثروت کے سامنے پٹختے ہوئے اعجاز اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
    ثروت نے بلاتاخیر پلیٹ کو واپس دھکیل دیا، اس کا دل جلانے کی غرض سے مسکراتا ہوا اعجاز سیٹی بجاتا رخصت ہوگیا۔ بیلا خاموشی سے اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی پھر ثروت کی جانب مڑی، تو وہ بھی پیر پٹختی اپنے کمرے میں جاتی نظر آئی…. بیلا نے ایک سرد آہ بھر کر ناشتے کی چیزیں واپس سمیٹتے ہوئے سوچا، ”بڑے ناشکرے لوگ ہیں… اللہ نے ساری نعمتیں دیں پھر بھی جب دیکھو…. لڑتے ہی رہتے ہیں۔”
    ******





    وہ لڑکی piercing کروانے کے دوران غش کھاگئی جونہی اس کی گردن ایک طرف ڈھلکی بون بھی ڈھیلا ہوکر کرسی کی پشت سے ٹک گیا جواد ہڑبڑا کر آدھی اڑی بالی کو یونہی چھوڑ کر اس کی جانب لپکا۔ چلو میں تھوڑا پانی لے کر اس لڑکی کے چہرے چھڑکا مگر پوری طرح بے ہوش ہوچکی تھی۔ چند منٹ پہلے جب وہ لڑکی اس کی دکان کے اندر آئی تھی تو اس کی آمد کا مقصد جان کر اسے شک ہوا تھا کہ وہ لڑکی شاید مذاق کررہی ہے۔ ہاں اس کے پاس عورتیں اپنے کان ناک چھدوانے آیا کرتی تھیں اور آئی بروز کے پاس ایک دور کی piercing بھی کرچکا تھا وہ۔ مگر اس لڑکی کو ناف پر بالی چھدوانی تھی۔ ٹی شرٹ جینز میں ملبوس وہ پر اعتماد لڑکی بہ مشکل پندرہ سال کی ہوگی جو بلا خوف شاپنگ پلازہ کی آخری کونے والی چاندی کے زیورات والی دکان میں یہ کام کروانے پہنچ گئی تھی، اور وہ تن تنہا اس وقت بارہ بج رہے تھے۔ پلازہ میں ایک ایک کرکے تمام دکانیں کھلتی جارہی تھیں۔ مگر گاہکوں کا رش نہیں تھا۔ جواد نے اس کے اصرار پر بالآخر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے شوکیس کے نیچے سے سپرٹ کی بوتل اور روئی کا ٹکڑا نکال لیا۔ اس دوران وہ لڑکی اس چھوٹی سی کرسی پر براجمان ہوگئی اور اپنی ٹی شرٹ کو تھوڑا اوپر سِرکا لیا۔ جواد کے لیے یہ اپنی طرز کا انوکھا تجربہ تھا جب ایک نوجوان لڑکی اس سے یہ کام کرواتے ہوئے بالکل بھی شرم محسوس نہیں کررہی تھی۔ جب کہ وہ خود ایک لڑکا ہونے کے باوجود جھجک رہا تھا۔ بڑی ہمت کرکے اس نے خود کو اس کام کے لیے آمادہ کیا اور اب وہ لڑکی بے ہوش ہوچکی تھی تو جواد اس لمحے کو کوس رہا تھا جب اس نے ہمت کا ارادہ کیا تھا۔ اسے فوراً کسی کو بلانا چاہیے ورنہ خود سے کوئی آگیا تو جانے کیا سمجھے۔ ابھی اس نے سامنے والی دکان پر موجود سلیم بھائی کو آواز دینے کے لیے دروازے کی طرف قدم بڑھائے ہی تھے اسی وقت دو خواتین باہر شوکیس میں سجے چاندی کے سیٹ کی قیمت پوچھتی ہوئی اندر داخل ہو گئیں۔ جیسے ہی ان کی نگاہ اس بے ہوش لڑکی پر پڑی وہ ٹھٹھک کروہیں رک گئیں جواد کے تو اوسان خطا ہو گئے، بہ مشکل تھوک نگلتے ہوئے اپنی وضاحت پیش کرتا وہ تقریباً ہلاک ہونے لگا، ”وہ … یہ بالی چھدواتے ہوئے درد سے بے ہوش ہوگئیں شاید…. میں کسی کو مدد کے لیے بلانے ہی والا تھا۔”
    ہر چند کہ وہ سچ بول رہا تھا پر اس کا انداز ان عورتوں کی نظر میں اسے مشکوک بناگیا تھا۔ شاید انہوں نے اس کی بات پر یقین نہیں کیا تھا۔ دونوں برقع پوش خواتین میں سے ایک تو اس لڑکی کو ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگی جو ذرا بڑی عمر کی خاتون تھیں وہ جواد کے سر ہوگئی ”تم نے کیا کیا ہے اس لڑکی کے ساتھ؟”
    ”باجی…. آپ یقین کریں میں تو صرف اپنا کام کررہا تھا…. یہ بے ہوش ہوگئی…. میں نے پانی بھی ڈالا مگر….”
    وہ عورتیں اس کے گال زور زور سے تھپتھپانے لگیں: ”یہ مرتو نہیں گئی؟ یا اللہ! پانی دو گلاس میں…”، جواد نے فوراً حکم کی تعمیل کی۔ کم عمر عورت نے گلاس لے کر ہاتھ میں پانی بھر بھر کر چہرے پر ڈالا، آوازیں دیں اس کے باوجود وہ ہوش میں نہیں آئی، ”اس کے ساتھ کوئی نہیں تھا کیا؟…. اتنی سی بچی کو کوئی اکیلے اس کام کے لیے کیوں بھیجے گا…. ؟”بڑی اماں جی مسلسل جواد پر ہی شک کررہی تھیں۔ ”تم کہہ رہے ہو یہ بالی چھدواتے ہوئے درد سے بے ہوش ہوئی پر اس کے کانوں میں تو کوئی بالی نظر نہیں آرہی… کہاں ہے بالی…؟” انہوں نے دونوں کانوں کی بالی چیک کی۔ ”جی، وہ…. یہاں piercing کی ہے میں نے….” جواد نے اس کی ٹی شرٹ کی طرف اشارہ کیا۔
    ”کہاں…” وہ کچھ بھی نہ سمجھیں تب جواد کو اپنی پوزیشن کلیئر کرنے کے لیے انہیں تفصیل بتانا پڑی۔ بس مصیبت ہوگئی، دونوں عورتیں توبہ توبہ کہتی اپنے کلے پیٹنے لگیں۔ کم عمر عورت نے کسی خیال کے تحت پیروں کے پاس گرا اسکا بینڈ بیگ اٹھاکر شوکیس پر رکھا اور کھول لیا تھوڑی سی تلاش بسیار کے بعد الم غلم سامان سے بھرے بیگ میں سے بالآخر موبائل برآمد ہوگیا۔ اس نے کالز لسٹ کھول کر نام پڑھنا شروع کیے انتہائی بیش قیمت لیٹسٹ ماڈل کا سیل فون…. اس نے ایک بار پھر غور سے اس لڑکی کی طرف دیکھا، ”ہونہہ آج کل ماں باپ بس اولاد کو ڈھیروں آسائشیں خرید کر دینا ہی اپنا فرض سمجھتے ہیں… کچھ ہوش ہی نہیں بچے کیا کرتے پھررہے ہیں…” Mom کے نیچے درج نمبر کو پریس کرتے ہی کال خود بہ خود ڈائل ہونے لگی۔ ”بیل جارہی ہے۔” اس نے گردن موڑ کر اماں جی کو بتایا جو اس لڑکی کے پرس میں تاکا جھانکی کررہی تھی، چار پانچ بیلوں کے بعد دوسری طرف سے فون ریسیو کرلیا۔
    اس خاتون کو تمام تفصیلات سے آگاہ کرکے چند مزید باتوں کے بعد کے بعد کال ڈس کنیکٹ کردی، اماں جی نے اپنی بہو کے کندھے پر ہاتھ رکھا: ”کیا کہا اس کی ماں نے….؟ کیا آرہی ہے اسے لینے کے لیے؟”
    ”نہیں!… کہہ رہی تھی ڈرائیور باہر پارکنگ لاٹ میں ہوگا۔ اسے فون پر دکان کا نام اور نمبر وغیرہ بتاکر یہاں بھیجتا ہے وہی لے کر جائے گا اسے….”
    انہیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا۔ اس لڑکی کا ڈرائیور جلد ہی وہاں پہنچ گیا۔ پہلے اس نے باہر سے شاپ کا نام اور نمبر بورڈ پر پڑھ کر زیر لب دہرایا پھر اندر داخل ہوکر اپنی بے ہوش ”چھوٹی میم صاحبہ” کی طرف دیکھا۔ حیرانی کی بات یہی تھی اسے ایسی حالت میں دیکھنے کے باوجود ڈرائیور کے چہرے پر بالکل بھی حیرانی نہیں تھی۔ ڈرائیور نے کوئی سوال پوچھے بغیر اپنی مالکن کا ہینڈ بیگ ایک کندھے پر ڈالا پھر جھک کر اس کا بازو اپنے کندھوں پر پھیلاتے ہوئے سہارا دے کر اسے کرسی سے اٹھالیا اور یونہی ساتھ لگائے ہوا دکان سے باہر نکل آیا۔ دونوں عورتیں بھی اس کے پیچھے پیچھے باہر نکل آئیں۔ انہیں کیا خریدنا تھا وہ کس کے لیے بازار آئی تھیں؟ فی الحال یہ سب کچھ غیر اہم ہوگیا تھا۔ وہ ڈرائیور سے بات کیے بغیر آپس میں کھسر پھسر کرتی اس کے ساتھ گاڑی تک پہنچ گئیں۔ ”باجی میری مدد کریںگی؟ آپ چھوٹی میم صاحب کو پکڑلیں یا گاڑی کا لاک کھول دیں۔” اماں جی نے آگے بڑھ کر لڑکی کو ایک جانب سے سہارا دیا تو ڈرائیور نے جیب سے گاڑی کی چابی نکالی بہو نے ڈرائیور کے ہاتھ سے چابی لے کر ہنڈا سٹی کا دروازہ کھول دیا۔ اس لڑکی کو پچھلی سیٹ پر لٹانے میں انہیں دونوں عورتوں نے مدد کی۔ ڈرائیور ان کابے حد شکر گزار تھا، اچھے طریقے سے شکریہ ادا کرتا گاڑی میں جا بیٹھا اور چند منٹ بعد ہی وہاں سے روانہ ہوگیا۔ بہ ظاہر وہ لڑکی محفوظ ہوگئی تھی ڈرائیور انہیں بتاگیا تھا کہ سیدھا ہسپتال جائے گا جہاں اس کی ماں آکر اسے سنبھال لے گی۔ ان دونوں کا اس لڑکی سے کوئی رشتہ نہیں تھا اس کے باوجود وہ اس کے لیے نہایت فکر مند تھیں۔ اگر ڈرائیور نے اس کے ساتھ کچھ الٹا سیدھا کرنے کی کوشش کی تو کون بچائے گا اسے؟ آخر کو وہ بھی غیر مرد ہے اور جوان بھی۔ ”چلیں امی گھر چلیں۔” بہو نے اماں جی کو مخاطب کیا جو ابھی تک اس جاتی گاڑی کو دیکھ رہی تھیں۔ انہوں نے مُڑ کر اپنی بہو سے کہا: ”ضرور یہ لڑکی نشہ کرتی ہے۔”
    ******





    شام کو اعجاز گھر کا دروازہ کھول کر جیسے ہی اندر داخل ہوا ثروت اسے لائونج میں صوفے پر بیٹھی کسی شخص سے بات کرتی نظر آئی۔ اس نے اعجاز کی آمد محسوس کرنے کے باوجود اپنی گفت گو جاری رکھی، ”کیا نام ہے تمہارا….؟”
    ”جی دلاور…. میں بیرسٹر شفیق صاحب کے گھر آیا ہوں۔”
    ”ہاں مجھے بتایا تھا انہوں نے… چلو ٹھیک ہے تم صبح سات بجے آنا…. تمہاری نوکری پکی…” ”شکریہ میڈم…” دلاور ممنونیت سے کہتا جیسے ہی مڑا اسے اعجاز نظر آیا:” السلامُ علیکم صاحب….”، اعجاز نے خفیف اشارے سے اس کے سلام کا جواب دیا اور دلاور کے جاتے ہی ثروت سے پوچھا: ”کون تھا یہ؟”
    ”میں نے حسن سے بات کی تھی ڈرائیور کے لیے… اس نے اپنے جاننے والوں کے پاس سے بھجوادیا اسے” ”اور تم نے اسے کام پر رکھ لیا…؟” اعجاز کا دماغ گھوم گیا۔
    ”ہاں تو… ہمیں ضرورت تھی ایک ڈرائیور کی… عماریہ کے اسکول پک اینڈ ڈراپ میں مسئلہ نہیں ہوگا….” ثروت نے بے نیازی سے کندھے اچکاتے ہوئے کہا اور اسی انداز پر اعجاز کو غصہ آگیا ”میں نے صرف ایک بار تم سے عماریہ کو پک کرنے کے لیے کہا اور تم نے ڈرائیور بلالیا… کوئی ضروت نہیں ہے… میں ہر گز اجازت نہیں دوںگا کہ میری بیٹی ایک غیر آدمی کے ساتھ آئے جائے۔”
    ”اور میں بھی ہر گز اجازت نہیں دوںگی کہ تم عماریہ کو اسکول سے لاتے لے جاتے اسے میرے خلاف بھڑکاتے رہو…” ثروت بھی بھری بیٹھی تھی آج دوپہر میں اعجاز نے میٹنگ کی وجہ سے ثروت کو عماریہ کے اسکول جاکر اسے پک کرنے کے لیے کہا تھا، وہ بھی عین وقت پر، آفس سے نکلتے وہاں پہنچتے ثروت کو کافی وقت لگ گیا اور تب اسکول خالی ہوچکا تھا۔
    گاڑی میں بیٹھ کر عماریہ ماں سے سیدھے مُنہ بات نہیں کررہی تھی جب ثروت نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ اس کے پاپا نے ہی دیر میں اطلاع دی اور اس کا اتنا قصور نہیں۔ اس وضاحت کو اس نے قبول نہیں کیا تھا، اس کے خیال میں ثروت اپنے کام میں اس قدر مگن رہی کہ اسے اعجاز کی کال ریسیو کرنے کی فرصت نہیں ملی تھی بالکل اسی طرح جس طرح دو دن پہلے وہ عماریہ کی برتھ ڈے بھول گئی تھی، آج عماریہ کو بھی بھول گئی تھی۔
    اپنی بیٹی کی بدگمانی دیکھ کر ثروت کو شاک لگا تھا۔ ہاں یہ بات درست تھی کہ اس دن وہ مصروفیت کے سبب اعجاز کی کال ریسیو نہیں کررہی تھی لیکن اگر وہ واقعی چاہتا تھا کہ بیٹی کے سالگرہ میں اسے شامل کرے تو ایک دن پہلے اسے بتا تو سکتا تھا۔ وہ بھول گئی تھی تو یاد کروادیتا مگر اس نے ایسا کرنے کے بجائے بیٹی کی نظروں میں ماں کو ویمپ میں بناکر جس طرح پیش کیا وہ ثروت کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ اور اس بات کا حساب وہ اعجاز سے بے باک نہ کرتی یہ ممکن نہیں تھا۔
    ”تم اتنے شاطر انسان ہو…. میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی… تم نے گھر میں پارٹی رکھی عماریہ کے سب دوستوں کو بلالیا لیکن مجھے بتایا تک نہیں….”
    ”کیوں؟ تمہیں اپنی اکلوتی بیٹی کا برتھ ڈے یاد نہیں تھا۔ تم پیدا کرکے اسے بھول گئی ہو اسے…” اعجاز کے ترکش میں بھی تیروں کی کمی نہیں تھی۔
    ثروت پل بھر کے لیے لاجواب ہوئی، پھر جیسے اسے اعجاز کا مسئلہ سمجھ آگیا: ”دراصل تم مجھ سے جیلس ہو… اس لیے خوامخواہscene createکرتے رہتے ہو….”
    اعجاز کو اس کی سوچ پر افسوس ہوا،” تم ماں ہوکر بیٹی کی ضروریات کو اتنا سرسری لیتی ہو؟ کیا تمہیں نظر نہیں آتا وہ دن بہ دن تم سے دور ہوتی جارہی ہے؟”
    ”تم تم ہر وقت اسے میرے خلاف بھڑکاتے رہوگے، poison کرتے رہوگے تو یہی ہوگا،”
    اعجاز نے جواباً اسے چیلنج کیا،” اگر تمہیں لگتا ہے یہ میری باتوں کا اثر ہے تو جائو…. غلط ثابت کردو مجھے…. اپنا کام چھوڑو گھر پر بیٹھو… اسے ٹائم دو… تاکہ اسے یقین آجائے کہ تم اس سے واقعی محبت کرتی ہو،”
    ”تمہاری نظرمیں تو ہر مسئلے کا حل بس یہی ہے کہ میں کام چھوڑ کر گھر بیٹھ جائوں۔” ”بالکل… ہمارے مسئلے ہی تمہارے کام کی وجہ سے ہیں۔”
    ”دراصل تم یہ برداشت نہیں کرپارہے کہ میں تم سے زیادہ کامیاب ہوں۔”
    ”میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ تم نہایت غیر ذمہ دار عورت ہو…. اور ایک بہت بری ماں…”. ثروت جاہل عورتوں کی طرح ہاتھ نچاتی ہوئی وہاں سے نکل گئی۔
    ”تم بہت اچھے باپ ہونا….. آئندہ مجھ سے مت کہنا اسے pick کرنے کے لیے…. ”اس کے پیچھے آتے ہوئے اعجاز دھاڑا ”نہیں کہوںگا…. عماریہ میری بیٹی ہے… اور میں اس کے لیے وہ سب کچھ کروںگا جو تم نہیں کرسکتیں… میری طرف سے جہنم میں جائو… ”ثروت نے کمرے کا دروازہ اس کے منہ پر بند کرتے ہوئے کہا، "You too go to hell!””
    *******




  • آرٹیکل بی-۱۲ – عظمیٰ سہیل

    آرٹیکل بی-۱۲ – عظمیٰ سہیل

    ” شکر ہے بھئی نکل آئے دکان سے۔ آج تو لگ رہا تھا کہ دم ہی گھٹ جائے گا۔ توبہ کتنا رش تھا۔”فائزہ نے اپنے ڈھیروں شاپنگ بیگ سنبھالتے ہوئے شازیہ سے کہا۔ ”ویسے تو ہر لان کی لانچنگ پہ یہی حال ہوتا ہے۔ لوگوں کے پاس پیسہ بھی بہت ہی آگیا ہے۔” شازیہ نے ہنس کر کہا: ” ہمیں بھی تو چین نہیں کہ تھوڑا صبرہی کر لیں۔ جس دن لان کی لانچنگ ہو بس اسی دن لینا ہے نیا سٹاک۔۔کہیں ختم ہی نہ ہو جائے” فائزہ نے ناک سکوڑتے ہوئے شازیہ کی بات کاٹی، ” ہاں بھئی بعد میں لینے کا کیا مزا جب ہر نتھو خیرے کے پاس پہنچ جائے وہ ڈیزائن ۔ تب تک تو میں ایک بار پہن کے پھینک بھی چکی ہوتی ہوں۔” دونوں اسی طرح باتیں کرتی گاڑی کے قریب پہنچ گئیں۔





    گاڑی میں بیٹھ کے فائزہ نے افسردہ ہوتے ہوئے کہا: ” سب کچھ بہت اچھا مل گیا لیکن میرا سب سے فیورٹ آرٹیکل نہیں ملا ۔”
    شازیہ نے پوچھا: ”کون سا؟ ١٢۔ بی؟وہ تو سنا ہے کہ آیا ہی نہیں مارکیٹ میں گولی مارو اس کو۔ باقی شاپنگ انجوائے کرو۔”
    فائزہ کے شوہر عاصم کا شمار شہر کے معروف کاروباری افراد میں ہوتا تھا۔ گھر میں دولت کی ریل پیل تھی اور فائزہ اس دولت کا بے دریغ استعمال کرتی۔ ڈیزائنر لان ہو یا برانڈڈ جوتے،ہر نیا ڈیزائن اس کی وارڈروب میں ہوتا۔ شہر کی ہر بڑی kitty پارٹی کی وہ ممبر تھی جہاں وہ اپنی دولت اور فیشن کی خوب نمائش کرتی۔ تمام بیگمات اس سے متاثر رہتیں اور اس کا بڑا زعم تھا فائزہ کو۔ اگر نہیں دبتی تھی کوئی تو وہ تھی بیگم شائستہ صدیقی۔ سیٹھ منور صدیقی کی تیسری اور چہیتی بیوی۔ فائزہ اور شائستہ کی بہت لگتی تھی اور دونوں ہر پارٹی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوششوں میں رہتیں۔
    شام کی چائے پہ فائزہ عاصم کو اپنی شاپنگ کا احوال سنا رہی تھی کہ فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری جانب کی بات سُن کر فائزہ کا منہ غصے سے سُرخ ہو گیا اور پھر اس نے فون رکھ دیا۔ شوہر کے استفسار پہ بتایا کہ دکان دار نے جو آرٹیکل اُسے یہ کہہ کر نہیں دیا تھا کہ وہ لانچ ہی نہیں ہوا ، وہی آرٹیکل شائستہ سلنے بھی دی آئی ہے۔ یہ بات شازیہ اور شائستہ کے مشترکہ ٹیلر سے اُسے پتا چلی۔ فائزہ کا موڈ سخت آف ہو گیا۔ ” بڑا ہی گھٹیا آدمی ہے یہ کریم فیبرکس کا منیجر۔ کمیشن مجھ سے لیتا ہے اور نئے ڈیزائن اس شائستہ کو دیتا ہے۔ اب وہ پارٹی میں پہن کے خوب اِترائے گی۔ ”
    عاصم جھلا کے بولا:” ارے بھئی تو تم بھی لے آؤ وہی سوٹ اور تم بھی پہن لو۔۔”
    فائزہ فورا بات کاٹ کے بولی: ” لو خواہ مخواہ ۔۔ میں کیوں پہنوں اس جیسا سوٹ؟” ۔عاصم بے زار ہو کے اٹھ گیا اور بولا:”تم عورتوں کے مسائل میری تو سمجھ سے باہر ہیں خیر میں نکل رہا ہوں۔ رات کو دیر سے آؤں گا۔ ” یہ کہہ کر عاصم نکل گیا۔
    اگلے دن فائزہ کا شازیہ کے ساتھ لنچ پہ جانے کا پلان تھا۔ کھانا کھاتے ہوئے اس مہینہ کی kitty پارٹی کا ذکر نکل آیا۔ شازیہ بولی:”ارے بھئی اس بار کی kitty پارٹی تو شائستہ کی ہے نا۔مسز آفندی بتا رہی تھیں کہ اسی کے گھر ہے پارٹی۔”
    شائستہ کا نام سنتے ہی فائزہ کا حلق تک کڑوا ہو گیا۔ وہ جل کر بولی:” ہاں اسی پہ پہنے گی وہ جوڑا۔ کل وہ منیجرلے کے آیا تھا ، وہی آرٹیکل١٢۔ بی۔بڑی صفا ئیاں دے رہا تھا کہ اس نے نہیں دیا شائستہ کو وہ جوڑا اور یہ بھی کہ بڑی مشکل سے وہ ارینج کر کے لایا ہے خاص میرے لئے۔ ورنہ سارا سٹاک ڈیزائنر نے ایکسپورٹ کر دیا ہے۔ میں نے تو خوب سنائیں اور واپس کر دیا سوٹ۔ ”





    فائزہ بڑی نخوت سے ناک منہ چڑھا کے بولی:”خواہ مخوا ہ کی کارروائی ہنہ !! ”شازیہ کھانا کھاتے کھاتے رک گئی اور بولی :” ارے بیوقوف نہ بنو اور واپس منگوا ؤو ہ سوٹ۔ یہی تو شان دار موقع ملا ہے تمہیں ، شائستہ کو نیچا دکھانے کا!” فائزہ نے تذبذب سے پوچھا: ”کیا مطلب کیسا موقع؟ اس کے جیسا سوٹ پہننے میں تو میری انسلٹ ہے، اس کی نہیں۔ ”
    شازیہ نے مسکراتے ہوئے کہا :” یہی تو تم سمجھی نہیں۔ ارے یار وہ منیجر ٹھیک کہہ رہا تھا۔ یہ والے آرٹیکل کا سارا سٹاک واقعی ایکسپورٹ ہو گیا ہے۔میں نے خود پتا کیا ہے مارکیٹ سے۔۔ یا تو تم خوش قسمت ہو، جس کے لئے منیجر نے ارینج کروادیا یا پھر شائستہ نے کوئی رابطہ استعمال کرتے ہوئے ڈائریکٹ ڈیزائنر سے لیا ہے یا ہو سکتا ہے کچھ دکان دار بلیک کر کے بیچ رہے ہوں لیکن مارکیٹ میں بہرحال یہ دستیاب نہیں ، یہ بات توپکی ہے۔ اب تم وہی سوٹ لے کے سلوا ؤ اور میں یہ بات اپنے ٹیلر کے ذریعہ شائستہ کو پہنچا دوں گی اورپھر دیکھنا وہ کبھی بھی اس پارٹی میں وہ سوٹ نہیں پہنے گی بلکہ تمہارے پہننے کے بعد تو کسی اور پارٹی میں بھی نہیں پہن سکے گی اور اس کی ساری پھرتیاں بے کار جائیں گی۔ ”
    فائزہ سوچ میں پڑ گئی۔ بات کچھ کچھ اس کی سمجھ میں آرہی تھی۔وہ سوچتے ہوئے بولی:” لیکن اگر شائستہ نے پھر بھی وہ سوٹ پہن لیا تو ہم دونوں ہی۔۔۔” یہ سوچ آتے ہی اس کا منہ بن گیا،”نہیں بھئی میں نہیں پہننے والی وہ۔۔” شازیہ اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے اس کی بات کاٹ کے بولی:” ارے پاگل پھر تو اور مزہ آئے گا۔ یاد نہیں چائنا ٹاؤن والے لنچ میں جب وہ تمہارے جیسا برانڈڈ بیگ لے آئی تھی اور پھر بھری محفل میں طنز کر رہی تھی کہ میں تو دوبئی شاپنگ فیسٹول سے لائی ہوں یہ بیگ۔ لوگ تو آن لائن کاپی منگوا کے یہی شو کرتے ہیں جیسے اوریجنل ہو۔۔”
    وہ بات یاد آتے ہی فائزہ کا منہ پھر سُرخ ہو گیا۔”تو بس پھر یہی موقع ہے اس کو نیچا دکھانے کا” ۔ شازیہ کی بات مکمل ہوتے ہی فائزہ کریم فیبرکس کے منیجر کو فون ملانے لگی۔
    شائستہ نے پارٹی کا انتظام شہر کی سب سے مشہور ایونٹ مینجمنٹ ٹیم سے کروایا تھا۔ اعلیٰ پائے کی کیٹرنگ کروائی تھی ۔ فائزہ اپنا پسندیدہ جوڑا پہنے گاڑی سے اُتری۔ دوسری گاڑی سے شازیہ کو اُترتا دیکھ کر بجائے سیدھا اندر جانے کے اُس کی طرف بڑھی۔ شازیہ نے فائزہ پہ ایک توصیفی نگاہ ڈالی اور پھر وہ دونوں اکٹھی گھر کے لان کی طرف بڑھیں جہاں پارٹی کا انتظام تھا۔ دوسری مہمان خواتین سے ملتے ملاتے فائزہ کی نظر بیگم شائستہ صدیقی پر پڑی تو فخر اور سرور کی ایک لہر اس کے اندر دوڑ گئی۔۔ جب اس نے بیگم شائستہ کو اپنے جیسے لباس کی بجائے کوئی اور لباس پہنے دیکھا۔ یہ گویا شکست کا ایک خاموش اعلان تھا۔ فائزہ نے ایک فاتحانہ نظر سے شازیہ کی طرف دیکھا جس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اُسے اس فتح پہ گویا مبارکباد دی۔ اتنی دیر میں شائستہ دونوں کے قریب آ گئی۔ فتح کے نشے میں چور فائزہ اس سے معمول سے کہیں زیادہ تپاک سے ملی۔ دل ہی دل میں وہ سوچنے لگی کہ کیسے آج اپنے ڈریس کا بار بار ذکر چھیڑے۔ شائستہ نے دونوں کو بٹھایا اور کہا : ” بہت دیر سے آئی ہیں آپ دونوں۔ اتنی دیر لگا دی تیاری میں؟” فائزہ نے فخر سے اپنے لباس کی مصنوعی شکنیں دور کرتے ہوئے کہا:” بس مسز صدیقی آپ کو توپتا ہے مجھے ہر کام پرفیکشن سے کرنے کی عادت ہے ، پھر وہ چاہے کسی پارٹی کی تیاری ہو یا اپنی، میں کوالٹی پہ کمپرومائز نہیں کرتی۔ ”
    ”جی جی بالکل، اچھا باتیں تو ہوتی رہیں گی میں آپ کے لئے جوس منگواتی ہوں۔” شائستہ نے پاس کھڑے ویٹر کو کچھ اشارہ کیا اور معنی خیز مسکراہٹ لئے فائزہ کی طرف متوجہ ہوگئی۔ اچانک کہیں سے شائستہ کے گھر کی ملازمہ ہاتھ میں جوس کی ٹرے لئے برآمد ہوئی اور فائزہ کا منہ کُھلا کا کُھلا رہ گیا۔ شائستہ نے شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ فائزہ سے کہا:” کیا ہوا مسز عاصم۔ جوس لیجئے نا” اور فائزہ کے چہرے پہ ایک رنگ آ رہا تھا اور ایک جا رہا تھا کیوںکہ سامنے کھڑی ملازمہ نے وہی سوٹ پہن رکھا تھا جو فائزہ نے پہنا ہوا تھا۔ اس کا پسندیدہ ترین آرٹیکل۔ ١٢ بی۔




  • پراڈکٹ – نظیر فاطمہ

    سبزی منڈی کے ایک جانب گلی سڑی سبزیوں کے ڈھیر تھے، جن پر مکھیاں اور مچھر بھنبھنا رہے تھے ۔ ارد گرد ناقابلِ برداشت بد بو پھیلی ہوئی تھی ۔ ہلکی سی ہوا چلتی تو بدبو کے یہ بھبھکے اس کے ساتھ لپٹ کر دور دور تک چلے جاتے اور لوگوں کو ناک پر ہاتھ رکھنے پر مجبور کر دیتے ۔ گندے مندے حلیے والے پانچ سات بچّے ان ڈھیر وں میں سے قدرے کم گلی سڑی سبزیاں اکٹھی کر کے اپنی بوریوں میں ڈال رہے تھے۔یہ گلی سڑی سبزیاں ان کا پیٹ بھرنے کا وسیلہ تھیں ۔ بھوک شاید سب سے بڑی بیماری ہے یا پھر غریب سب سے ڈھیٹ مخلوق ۔۔۔تبھی تو یہ گلی سڑی سبزیاں، گندا پانی اور باسی کھانا ان لوگوں کا کچھ نہیں بگاڑ پاتے۔ جب کہ لوگ گلی سڑی سبزیوں کے ان ڈھیروں کے پاس سے گزرنے سے بھی پرہیز کرتے تھے۔





    ایک سیاہ چمچمائی لینڈ کروزران ڈھیروں کے قریب آ کر رکی ۔ گاڑی اتنی چمک دار تھی کہ سیاہ رنگ ہونے کے باوجود اس میں آئینے کی طرح ہر چیز کا عکس دیکھا جاسکتا تھا۔ گاڑی سے ایک شخص اُترا۔اُس کے چہرے پر صحت مندی اور آسودگی کی چمک تھی۔گلے میں نئے ماڈل کا مہنگا ترین کیمرہ لٹک رہا تھا۔ ایک ہاتھ میں بڑا سا شاپر تھا۔ پیروں میں امپورٹڈ جاگرز جو اپنی قیمت کا چیخ چیخ کر اعلان کر رہے تھے ۔مہنگی جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس اس شخص نے گویا آسمان سے سیدھا زمین پر پائوں رکھا تھاجس پر زمین کی کسی مشکل یا گندگی کا ذرا برابر اثر نہیں ہوا تھا۔بدبو کا تیز بھبھکا اس کے نتھنوں سے ٹکرایا۔ اس بدبو کو بڑی مشکلوں سے برداشت کر کے وہ آگے بڑھا۔وہ کوڑے کے ڈھیروں کے قریب پہنچا تو وہاں گلی سڑی سبزیاں چنتے بچّے اپنی بوریاںچھوڑ کر اُٹھ کھڑے ہوئے اور حیرت سے اُسے دیکھنے لگے۔قریب تھا کہ وہ بچّے اپنی بوریاں اُٹھا کر بھاگ جاتے، اُس شخص نے پیش بندی کی۔
    ”ارے، ارے، بچّو! کہاں جا رہے ہو؟ ٹھہرو شاباش! یہ دیکھو میں تمہارے لیے کیا لایا ہوں؟” اُس نے ایک پھولا سا شاپر اُن کے سامنے لہرایا جسے دیکھ کر بچّے وہیں ٹھہر گئے ۔
    ” اوئے کچھ کھانے والا ہو گا۔ رک جاتے ہیں۔” وہ بچّے جن کے چہروں سے بھوک لپٹی ہوئی تھی ، آپس میں کھسر پھسر کرنے لگے۔
    ” اس میں تم لوگوں کے لیے کھانے پینے کی بہت سی چیزیں ہیں، کھائو گے؟” اُن کے ٹھہرنے پر اُس شخص نے اُنھیں جیسے لالچ دیا۔بچّے شرم اور جھجھک کے مارے ایک دوسرے سے لپٹ گئے اور اپنے پیلے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے ہاں میں سر ہلانے لگے۔
    ” پہلے تم لوگوں کو میرا ایک کام کرنا ہو گا۔بولو کرو گے؟”کھانے کی چیزوں کے لالچ میں بچّے سب کچھ کرنے کو راضی تھے۔
    ”شاباش! ٹھیک ہے۔ پہلے میں تم لوگوں کی کچھ تصویریں اُتاروں گا ۔ پھر یہ ساری چیزیں میں تم لوگوں میں بانٹ دوں گا۔ چلو اب میں جیسے تمہیں کہتا ہوں ویسے کرتے جائو شاباش۔” اُس نے اپنا کیمرہ ہاتھوں میں پکڑ کر سیٹ کرنا شروع کیا۔
    ” چلو تم سب اپنی اپنی بوریاں پکڑ کر اس ڈھیر سے سبزیاں تلاش کرو۔”
    بچّے جھٹ پٹ اپنا کام کرنے لگے، یہ ان کا روز کا کام تھا۔ وہ شخص ہر ہر زاویے سے انہیں فوکس کرنے لگا ۔کوئی دس بارہ تصویریں اُس نے گروپ میں اُتاریں۔ ہر تصویر اُتارتے وقت اُس نے بچّوں کو مختلف ہدایات دی تھیں۔
    ”اب تم یہ گلا ہوا ٹماٹر اس طرح منہ میں ڈالو۔” اُس نے ایک لڑکے کو ہدایت دی۔
    وہ بچّے تو گلی سڑی سبزیاں کچی کھا جانے میں ماہر تھے۔ اُس نے بالکل اُسی طرح وہ ٹماٹر منہ میں ڈالا جس طرح اُسے ہدایت کی گئی تھی۔
    ”گڈ۔” اُس شخص نے حسبِ منشا نتائج ملنے پر خوش ہو کر بچّے کو سراہا۔
    پھر اُس نے ہر بچّے کو انفرادی طور پر ہدایات دے کر فوکس کیا ۔ہر تصویر کو دیکھنے کے بعد وہ شخص جیسے خوشی سے جھوم رہا تھا۔ اُس کا جوش اُس کے چہرے سے چھلک رہا تھا۔ تقریبا ً ایک گھنٹے کی محنت کے بعد اُس شخص نے اپنا کام مکمل کیا، کیمرہ بند کیا اور بڑا شاپر کھول کر اس میں سے چھوٹے چھوٹے شاپر نکالے ۔ ہر شاپر میں دو دو چکن پیٹیزاورجوس کا ایک ایک چھوٹا ڈبہ تھا۔
    ” آئو ، یہ لو ” اُس نے ایک ایک شاپر ہربچّے کو دیا۔
    اس کے بعد اس نے اپنی جیب سے والٹ نکالا اور ہر بچّے کو سو سو روپے کا نوٹ دیا۔ وہ ایک گھنٹے سے یہاں تصویریں اُتار رہا تھا ۔ اُس کو دیکھ کر کئی لوگ وہاں جمع ہو گئے تھے۔ وہ سب دم سادھے اُس شخص کی فیاضی ملاحظہ کر رہے تھے، جو کوڑا کرکٹ چن کر اپنا رزق تلاش کرنے والے بچّوں پر اتنا مہربان ہو رہا تھا۔
    ” اچھا بچّو! اللہ حافظ” وہ پلٹ کر اپنی گاڑی کی طرف جانے لگا تو ایک ادھیر عمر شخص نے اُسے پکارا:
    ”صاب! یہ سب تو غریب بچّے ہیں، ان سے اتنی محبت کیوں؟”اُس نے پلٹ کر سوال کرنے والے کو دیکھا۔
    ”یہ بچّے میرے لیے بہت قیمتی ہیں۔” اُس نے مسکرا کر سامنے دیکھا جہاں وہ بچّے کھانے کے ساتھ نبرد آزما تھے ۔ پھر اُس نے اطمینان بھری گہری سانس کھینچی اور گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے گاڑی بھگائی اور گاڑی کے پہیوں سے سے اُڑنے والی دھول نے چند لمحوں کے لیے سارے منظر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
    ٭…٭…٭





    پیرس میں فوٹو گرافی کے عالمی مقابلے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس مقابلے میں پوری دنیا کے مشہور فوٹو گرافرزنے حصّہ لیا تھا ۔پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے فوٹو گرافر کو لاکھوں ڈالر انعام دیا جاناتھا ۔ ہال لوگوں سے بھرا ہوا تھا اور تھوڑی دیر میں مقابلے کے نتائج کا اعلان ہونے والا تھا۔ نمائش میں حصہ لینے والے تمام فوٹو گرافرز یہاں موجود تھے۔سب کی کھینچی گئی تصاویر ہال کی دیواروں پر آویزاں تھیں۔ مقابلے کا عنوان تھا ”ٹاکنگ فوٹو گرافس”۔ مقابلے کے نتائج کا اعلان شروع ہوا ۔ تیسری اور دوسری پوزیشن کا اعلان ہونے لگا۔ان پوزیشن ہولڈر زکی بڑی اسکرین پر دکھائی جانے والی تصویریں واقعی بولتی ہوئی تھیں۔ تالیوں کا شور تھما تو سب دل تھام کر پہلی پوزیشن کے اعلان کا انتظار کرنے لگے۔
    ”پہلی پوزیشن جاتی ہے عالم گیر جیلانی کو۔”
    انگریزی زبان میں اعلان ہو رہا تھا اور ساتھ ہی بڑی اسکرین پر عالم گیر جیلانی کی کھینچی گئی تصاویر ایک ایک کر کے دکھائی جا رہی تھیں۔کوڑے سے کھانے پینے کی چیزیں چنتے ہوئے بچّے،وہ گلی سڑی سبزیاں کھاتے ہوئے ننگ دھڑنگ بچّے جو جانور بھی سونگھنے کے بعد چھوڑ کر چلے جاتے تھے ۔ عالمگیر جیلانی کی تصاویر”ٹاکنگ فوٹو گرافس’ ‘نہیں بلکہ ”شائوٹنگ فوٹو گرافس” تھیں جوغربت، بھوک، محرومی اور حسرت کا چیخ چیخ اعلان کر رہی تھیں۔
    عالم گیر جیلانی نے تالیوں کی گونج میں دو لاکھ ڈالر کا چیک فخر سے مسکراتے ہوئے وصول کیا۔ دو ہزار کی سرمایہ کاری کر کے اُس نے دو لاکھ ڈالر کمائے تھے۔ آرٹسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بڑا کاروباری ذہن رکھتا تھا اور ایک کاروباری شخص کے لیے اس کی پراڈکٹ سب سے قیمتی ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کی کامیابی کا انحصار اُس کی پراڈکٹ پر ہوتا ہے۔ غربت اور کسمپرسی کا چلتا پھرتا اشتہار یہ بچّے عالم گیر کے لیے بہت قیمتی تھے، کیوں کہ وہ اس کی پراڈکٹ تھے۔




  • پچیس ہزار – حمیرا نوشین

    ڈھولک کی تھاپ اس کے دِل کی دھڑکنوں کی رفتار میں اضافے کا باعث بن رہی تھی، مسکراہٹ پورے استحقاق سے اس کے لبوں کی مکین بن گئی۔ خوش آئند خیالوں نے اسے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ فرینڈز اور کزنز ”حسنین” کا نام لیکر اسے گدگدا رہی تھیں، آج مہندی کی رسم تھی اور کل بارات آنی تھی۔ آج اس گھر میں وہ ناکتخدا اپنی آخری رات بسر کر رہی تھی۔صبح وہ ملیحہ افتخار سے ملیحہ حسنین کے نام سے پہچانی جائے گی۔ حسنین کا نام اس کے دل میں ہلچل مچانے لگا۔ غیرخاندان میں شادی کا خوف بھی آنکھوں میں ہلکورے لے رہا تھا مگر دوسرے ہی پل اسے جھٹک کر سہانے خواب اس کی پلکوں پر بسیرا کرنے لگے اور وہ ان خوبصورت وادیوں کی سیر کرنے لگی۔
    ٭…٭…٭





    ”پچیس ہزار سے ایک روپیہ کم نہیں ہوگا۔”
    ”یہ لو پچیس اور یہ ہزار روپیہ تھامو آپکے پچیس ہزارکا مطالبہ مان لیا گیا ہے۔” دولہا کے بھائی نے نوٹ آگے بڑھائے۔
    ”ارے واہ! ہمیں کیا بے وقوف سمجھا ہوا ہے؟ ہزار ہزار کے پچیس نوٹ ہمارے خوبصورت ہاتھوں میں تھمائیے۔” دلہن کی کزن اترائی۔
    ”میڈم رہتی پاکستان میں ہیں اور دودھ کی قیمت ڈالرز میں وصول کررہی ہیں۔” دوست دودھ کا گھونٹ بھرتے ہوئے بولا۔
    ”دلہن بھی تو اتنی قیمتی لے جارہے ہیں۔ تو ذرا دودھ پلائی بھی شایانِ شان ہونی چاہئے۔”
    ”یہ لیں پانچ ہزار پکڑیں اور عیش کریں” دولہا کے بہنوئی نے ہرے ہرے پانچ نوٹ لہرائے۔
    ”پانچ ہزار واپس اپنی جیب میں ڈالیں، پندرہ سالیوں میں یہ نوٹ اونٹ کے منہ میں زیرہ والی بات ہوگی۔”
    ”اونٹ نہیں خوبصورت اونٹنی کے منہ میں زیرہ۔” منچلے دوست نے فقرہ کسا۔ ”باتیں نہ بنائیے، نوٹ نکالیے” خوبصورت حنائی ہتھیلی سامنے ہوئی۔
    ”یہ لو ایک اور نوٹ کا اضافہ کردیا آپ کے حسین اور نازک ہاتھ دیکھ کر” وہ رومانٹک ہوا۔
    ”ان خوبصورت ہاتھوں کی قیمت آپ دے ہی نہیں سکتے۔”
    ”ارے آپ ہمارے ہاتھوں میں تھمائیں تو سہی ہم بدلے میں دل و جان آپ پر فدا کردیں گے۔” بے باک دوست نے ہاتھ ہی پکڑ لیا۔
    ”فی الحال تو ہمارا مطالبہ پورا کر دیجئے، دل و جان لینے کا فیصلہ بعد میں کریں گے۔” وہ ہاتھ کھینچ کر دل ربائی سے مسکرائی۔
    لوگوں کا اشتیاق بڑھنے لگا۔ اس نوک جھونک کا مزہ لینے اسٹیج پر سب ہی چڑھ آئے۔ مووی والا لڑکیوں کے تھوڑا اور قریب ہوکر مووی بنانے لگا۔ لڑکے لڑکیوں کا باہم اختلاط کوئی اور ہی رنگ بکھیرنے لگا۔ لڑکیوں کے چہرے پرُ شوق نگاہوں کی تپش سے دہکے جارہے تھے اور لڑکوں کے دل قابو میں ہی نہیں رہے تھے۔ اچھے خاصے شریف گھرانوں کی لڑکیاں بن سنور کر دوپٹوں سے بے نیاز دولہا کے دوستوں اور رشتہ داروں کے سامنے کھڑی ان کے ایمان متزلزل کررہی تھیں۔ نوجوان تو ایک طرف جوان بچوں کے باپ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگے۔
    ”بھئی جلدی کرو دیر ہورہی ہے۔” دولہا کی ماں کی کہیں سے آواز ابھری۔
    ”آنٹی جان آپ کے کنجوس بیٹے جیب ہی ڈھیلی نہیں کررہے، ہم تو کب کا چھوڑ دیتے انہیں۔”
    ”ارے بھئی فارغ کرو ان کو دے دلا کر” لہجے میں ناگواری جھلکنے لگی۔
    ”ہاں تو ہم نے کون سا ان کو پلو سے باندھ رکھا ہے؟ پیسے دے کر گھر کو سدھاریں۔” دوسری طرف سے جوابی حملہ ہوا۔
    ”لو بھئی نہ تمہاری نہ ہماری، یہ دس ہزار پکڑو۔” بہنوئی دولہا کا ہاتھ پکڑ کر اٹھانے لگا۔
    ”نہ… نہ… نہ اتنا سستا نہیں چھوڑیں گے۔ دولہا بھائی، کماؤ بیوی دے رہے ہیں۔ پچیس ہزار مہنگا سودا نہیں ہے۔ ایک تنخواہ میں ہی حساب پورا ہو جائے گا۔” سالی نخرے سے بولی۔
    ”کمائے گی تو کیا ہمیں کھلائے گی؟ اپنے ہی اوپر خرچ کرے گی ۔”دولہا کی بہنوں کے لہجے اکھڑنے لگے۔
    ”تیور نہ دکھائیں پچیس ہزار کے نوٹ دکھائیں۔”





    ”کیا زندگی میں کبھی پیسے ہی نہیں دیکھے؟”
    ”ہم نے تو بہت دیکھے ہیں لگتا ہے آپ کنگلے خالی جیبیں لے کر آگئے۔ دلہن لینے آئے تھے تو کچھ نوٹوں کو بھی ساتھ لے آتے۔” سیر کو سوا سیر مل رہا تھا۔
    ”کیوں؟ کیا بیٹی بیچنی ہے تم لوگوں نے؟” اچانک دولہا کی ماں کے تیور بدل گئے۔
    ”ارے ہمیں کیا پتا تھا کہ یہ بیٹی کی بولی لگائیں گے۔ اتنی سستی بیٹی بیچیں گے۔ صفدر نکال پچاس ہزار روپے، ہم ڈبل میں خرید لیں گے۔”
    بات کہاں سے کہاں جا پہنچی۔
    دولہا دلہن کے بھائی اور والدین کے درمیان اسی بات پر تلخ کلامی بڑھنے لگی۔ لڑکیاں سٹیج سے نیچے اتر آئیں۔
    ”ایک رسم پر ہی تو بچیوں نے کچھ پیسے کیا مانگ لئے آپ تو ہتھے سے ہی اکھڑ گئے۔” والد جوش میں آگئے۔
    ”ہاں تو رسم کو رسم ہی رہنے دیں کمائی کا ذریعہ تو نہ بنائیں۔” دولہا کے والد کا بھی تابڑ توڑ جواب آیا۔ لڑکی کے باپ کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
    ”اپنی کماؤ بچی کو اپنے پاس ہی رکھیں۔ ارے ابھی سے ان لوگوں کا یہ حال ہے کل کو میرے بچے کو لوٹ کے کھا جائیں گے یہ تو۔” ماں کو مستقبل کی فکر ستانے لگی۔
    ”ہمیں بھی اپنی بہن بھاری نہیں ہے، آپ جیسے کنگلوں کے حوالے کرنے سے تو بہتر ہے کہ اس کو ساری عمر گھر پر بٹھائے رکھیں۔” بھائی غصے سے بپھرنے لگے۔
    ”ہاں تو بٹھاؤ شوق سے اپنے گھر، چل حسنین دے طلاق۔” خوشیوں کی فضا مکدر ہوگئی۔
    اس صورتِ حال پر دولہا دم سادھے کھڑا تھا۔
    ”تو پھر دیر کس بات کی ہے؟ فارغ کرو ہماری بچی کو، رشتوں کی کوئی کمی نہیں ہے اس کے لیے’۔’ پھوپھا نے بھی حصہ ڈالا، پرانی رنجش کا بدلہ لینے کا یہ صحیح موقع تھا۔
    ”ہاں… ہاں ایسے فقٹوں میں رشتہ داری ہمیں قبول نہیں۔” دو تین اور بیچ میں کود پڑے۔
    ”میں کہتا ہوں اس قصے کو ابھی نمٹا دے۔” باپ بیٹے کی خاموشی سے جھنجھلایا۔
    مگر… ابا!
    ”میں کہہ رہا ہوں جلدی سے تین الفاظ کہہ دے۔ نہیں تو ساری عمر معاف نہیں کروں گا۔”
    اب… با… وہ…
    ”دے طلاق” باپ دھاڑا۔
    ”اماں میں کیسے…؟” وہ مخمصے میں پڑ گیا۔
    ”جیسے قبول ہے کے لفظ ادا کئے تھے، اسی طرح بھرے مجمع میں ان کی بیٹی کو تین الفاظ کہہ کر فارغ کر ورنہ دودھ نہیں بخشوں گی تجھے۔”
    سب کو سانپ سونگھ گیا۔
    اور دولہا نے تین قبیح الفاظ کہہ کر فرماں برداری کا ثبوت دے دیا۔
    بارات خالی واپس چلی گئی۔ بیٹی کی ماں غش کھا کر گر پڑی۔ باپ کے کندھے جھک گئے۔
    بھائی منہ چھپا کر کمروں میں جادبکے۔
    لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگے اور اندر کمرے میں سجی سنوری دلہن چند گھنٹوں میں ہی باپ کی دہلیز پر بیاہتا سے مطلقہ ہوگئی۔ محض ایک رسم کے ہاتھوں، خوابوں کا محل چکنا چور ہوگیا۔ لبوں پر مسکراہٹ کی جگہ اداسی نے قبضہ جمالیا۔
    سرخ ہتھیلی خون بن کر رلانے لگی، اس کی خوشیوں کو معاشرے کی ایک رسم نے نگل لیا تھا۔

    ٭…٭…٭




  • اگلا سفر – مریم مرتضیٰ

    آج وہ بابا جی ساتھ والے گھر میں آئے ہیں۔وہ دو ماہ پہلے سامنے والے گھر میں آئے تھے اور ان آنٹی کے بیٹے کو اپنے ساتھ لے گئے تھے،آنٹی بہت روئی تھیں چلائی تھیں مگر انہوں نے ان کی ایک نہ مانی تھی۔ انہوں نے کہا تھا اس کا دانہ پانی یہاں سے اٹھ چکا ہے۔اس دن بین ڈالے گئے تھے،سر پیٹے گئے تھے،ہمارے گھر میں سوگ کا سماں تھا ۔میں نے تو دو دن تک کھانا نہیںکھایا تھا ۔
    میںجب سامنے والے گھر میں گئی تھی تو میں نے ان سے پوچھا تھا۔
    ” آپ انہیں کہاں لے کر جا رہے ہیں۔؟”
    ” اگلے سفرپر۔۔اس کا اگلا سفر میرے ساتھ ہے۔” انہوںنے کہا۔وہ بہت خوف ناک تھے۔میرے تو الفاظ حلق میں ہی اٹک گئے۔
    ”کیا ہر کسی کا اگلا سفر ہے؟” میں نے پوچھا۔
    ”ہاں۔۔” ان کی ہاں میں کتنی گہرائی اور سچائی تھی۔
    ” کیا آپ سب کو لے جائیںگے؟” میں نے بے ساختہ پوچھا۔
    ” ہاں! مگر وقت پر۔۔۔” وہ اسی یقینی انداز میں بولے۔
    ” ہر کسی کا وقت مقرر ہے؟” میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور کپکپی سے میرا بدن لرز اٹھا۔
    ”ہاں!”
    ”کیا میرا بھی وقت مقرر ہے؟” میں نے توقف کے بعد پوچھا۔
    ”ہاں!”
    میرا وجود ٹھنڈا پڑنے لگا تھا۔





    ” آپ کوئی مشورہ دے دیں۔” میرے حلق سے الفاظ رک رک کر نکلے تھے۔
    ” میرے ساتھ تمہیں بھی ہر صورت جانا ہو گا مگر اپنے وقت پر۔۔وہ وقت تم کبھی بدل نہیں سکتی ہو۔ لیکن اگر راحت حاصل کرنا چاہتی ہو میرے ساتھ چل کر تو ساتھ اپنے وہ لانا جو تمہارا زیور ہے۔” انہوں نے کہا اور چلے گئے۔
    مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی۔ میں کئی دنوں تک خوف میں مبتلا رہی۔ کئی کئی گھنٹے تنہائی میں بیٹھ کر زیور اکٹھے کرنے لگی۔ پھر کچھ ایسا ہوا کہ وقت بدل گیا اور میرا زیورات سے دل اٹھ گیا۔ میں جینے لگی پھر سے اسی طرح عیش و عشرت میں، امنگوں ترنگوں میں مجھے خیال ہی نہ رہا تھا۔ پھر ایک دن میں اکیلی بیٹھی تھی تو سب کہنے لگے چپ ہو جاؤ بابا جی کسی کو لینے آگئے ہیں کیوں کہ مسجد سے بار بار آوازیں آرہی تھیں کہ بابا جی فلاں آدمی کو لینے آئے ہیں۔ کچھ دیر مجھ پر بھی کپکپی طاری ہوئی اور میں پھر سے کا م میں مصروف ہو گئی۔ مجھے خیال ہی نہ رہا انہوں نے مجھے بھی لے جانا ہے۔ میں نے سوچا ہی نہیں۔ دنیا کی خواہشات کی دلدل میں دھنستی ہی چلی جا تی رہی ،نفس کی غلامی سے مجھے چین ملنے لگا تھا، اس نے مجھے اپنا کتا بنا لیا تھا۔ میں نفس کے پاؤں دن رات چاٹتی رہی۔ انسان جتنا امیر ہو گا اتنا ہی زیادہ گرا ہوا اور نفس کا غلام ہو گا۔میں بھی وہی کرتی رہی جو نفس کہتا رہا۔وہ کہتا چلو میں چل پڑتی، وہ کہتا رکو میں رک جاتی،وہ کہتا بیٹھو میں بیٹھ جاتی حتیٰ کہ میں کھانا بھی نفس کی مرضی سے کھاتی نہیں تو بھوکی رہتی۔
    خوابوں اورخواہشوں کے دور میں بابا جی کا خیال کبھی بھول کر بھی نہیںآیا کیوں کہ خواہش کے مطابق شے مل رہی ہو پھر ڈراؤنی چیزوں کو کیا سوچنا؟ چاہے وہ حقیقی کیوں نہ ہوں۔
    آج صبح سویرے جب میں سو رہی تھی تو مجھے رونے پیٹنے کی آوازیں آنے لگیں۔ میں بھاگی بھاگی باہر نکلی، جانے کیا ہو گیا تھا؟ پوچھنے پر پتا چلا ساتھ والے گھر وہی بابا جی آئے ہیں،ان کی جوان بیٹی کو لے جا رہے ہیں۔ گھر والے منتیں ترلے کرتے رہ گئے کہ ابھی اس کی عمر کیا ہے مگر بابا جی نے کہا کہ وقت طے ہو تو عمریں نہیں دیکھی جاتیں۔ بابا جی اسے لے گئے، معلوم نہیں وہ اپنے ساتھ زیور لے کر گئی بھی یا نہیں؟
    زیورات نہ ہوئے اس کے پاس تو بابا جی اسے بہت اذیت میں رکھیں گے۔شام ہوگئی، وہ چلی گئی، رونے کی آوازیں آہستہ آہستہ دھیمی ہو گئی ہیں۔ یہ آوازیں کیوں دھیمی پڑ گئی ہیں؟ چند دنوں بعد یہ آوازیں قہقہوں میں بدل جائیں گی۔ اسے بھول جائیں گے سب۔ وہ سامنے والے گھر میں جب بابا جی آئے تھے تو وہاں لوگ چیخ و پکار کر رہے تھے، سروں میں مٹی ڈال رہے تھے۔ مگر اب ہنسی ہے، قہقہے ہیں خوشیاں ہیں ۔ جسے جانا تھا وہ چلا گیا اب اسے کون یاد رکھتا ہے۔بے وفائی کہوں یا فطرت کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے۔ لیکن مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ خوف طاری ہو رہا ہے، ایسے لگ رہا ہے کہ وہ آ رہے ہیں، مجھے ان کی چاپ سنائی دے رہی ہے،آواز بھی آنے لگی ہے۔میرے پاس زیورات بھی نہیں ہیں میں تو خالی ہاتھ ہوں، میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ میرا کیا ہو گا؟ وہ آرہے ہیں۔ میری جب ان سے ملاقات ہو ئی تھی تو میں نے ان سے پوچھا تھا کون سے زیورات پاس ہوں، تو انہوں نے کہا تھا۔
    ”اطاعتِ اللہ و رسول۔”

    ٭…٭…٭