Tag: urdu novel

  • چنبیلی کے پھول6 :قسط نمبر

    چنبیلی کے پھول6 :قسط نمبر

    6:قسط نمبر

    چنبیلی کے پھول
    مدیحہ شاہد

    سارہ نے عشنا کو فون پر جو خبر سنائی تھی وہ اس کے لیے بڑی حیرت انگیز اور ناقابلِ یقین تھی۔ اس نے فوراً کوٹ پہنا، لانگ شوز پہنے، مفلر لپیٹا اور تیزی سے گھر سے باہر نکلی۔ عطیہ اسے روکتی ہی رہ گئیں مگر وہ برف میں راستہ بناتی ہوئی بھاگتی ہوئی سارہ کے گھر پہنچی۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔
    وہ پھولے ہوئے سانس کے ساتھ تیزی سے اندر داخل ہوئی اور لائونج کے دروازے کے پاس آکر جیسے اس کے قدم وہیں رک گئے وہ حیرت سے اپنی پلکیں جھپکنے لگی۔
    زوار راکنگ چیئر پر بیٹھا اطمینان سے کافی پیتے ہوئے کھڑکی کے پار گرتی برف کو دیکھ رہا تھا پھر اس نے گردن موڑ کر حیران کھڑی عشنا کو دیکھا اور دلکشی سے مسکرایا۔
    ”کیسی ہو عشنا!”
    وہ مسکراتی آواز میں بولا۔ اسے لوگوں کو حیران کر دینے کی عادت تھی۔ وہ اسے بے یقینی سے دیکھ رہی تھی۔ اس نے اسے اندرون لاہور کے ایک پررونق گھر میں دیکھا تھا اور اب کینیڈا کے اس اپارٹمنٹ میں دیکھ رہی تھی۔ وہ واقعی عجیب و غریب شخصیت کا حامل تھا۔ کبھی بھی کچھ بھی کر سکتا تھا۔
    ”آپ یہاں کیسے آگئے؟”
    خوشگوار حیرت کے ساتھ کہتے ہوئے وہ اپنے بالوں اور کوٹ پر سے برف جھاڑتے ہوئے قریب پڑے صوفے پر بیٹھ گئی۔
    ”جہاز میں بیٹھ کر۔”
    اس نے برجستہ جواب دیا۔ وہ اپنی اس ہی حاضر جوابی کی وجہ سے مشہور تھا۔ سارہ کچن سے نکل کر لائونج میں آئی۔ اس کے چہرے پر اطمینان بھری خوشی کا عکس تھا۔
    ”عشنا! سرپرائز کیسا رہا؟”
    وہ خوش دلی سے بولی۔
    ”میں تو ابھی تک اتنی حیران ہوں کہ بتا نہیں سکتی۔ زوار بھائی! اگر آپ نے یہاں آنا ہی تھا تو مجھے کیوں نہیں بتایا!”
    عشنا ابھی تک اپنی حیرت پر قابو نہیں پا سکی تھی۔
    ”کیا تمہیں بتانا ضروری تھا؟”
    وہ اطمینان سے کافی پیتے ہوئے بولا۔ وہ لاجواب ہو گئی۔
    ”کیا آپ کو یہاں جیمو ماموں نے بھیجا ہے؟”
    اسے اچانک خیال آیا کہ یہ ضرور جیمو ماموںکا ہی کارنامہ ہو گا ورنہ لاہور سے کینیڈا کا سفر اتنا بھی آسان نہیں تھا۔
    ”نہیں۔ میں یہاں خود اپنی مرضی سے آیا ہوں۔”
    اس نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔
    ”عشنا! Thank you so much۔ تمہارا ایڈونچر کامیاب ہو گیا۔ دیکھو بھائی ہمارے پاس آگئے۔ ”
    سارہ کی آواز میں ممنونیت تھی۔
    عشنا نے کچھ سوچتے ہوئے نفی میں سرہلایا۔
    ”نہیں۔ یہ میرے کہنے سے نہیں آئے۔ مجھے تو یہ کوئی اور ہی چکر لگتا ہے۔”
    وہ زوار کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے بولی۔
    زوار کی مسکراہٹ گہری ہو گئی پھر اس نے اسی طرح مسکراتے ہوئے سارہ کو دیکھا۔
    ”سارہ! اپنی دوست کو کافی نہیں پلائو گی؟”
    ”ہاں ضرور میں ابھی کافی بنا کر لاتی ہوں۔”
    وہ دوبارہ کچن میں چلی گئی۔
    ”میں بھی حیران تھی کہ آپ نے رانیہ باجی کو انکار کیسے کر دیا تھا۔”
    عشنا نے معنی خیز انداز میں کہا۔
    ”انکار نہیں کیا تھا۔”
    زوار کی آنکھیں یکدم چمکنے لگیں۔
    ” مگر انہوں نے مجھے خود بتایا تھا آپ نے صرف انہیں انکار ہی نہیں کیا تھا بلکہ ان کی insult بھی کی تھی۔”
    عشنا نے کہا وہ خوش ہونے کے ساتھ ساتھ الجھ بھی گئی تھی۔
    ”ایسی بات نہیں ہے۔ دراصل وہ میری بات سمجھ نہیں پائی تھی۔ کافی بے وقوف لڑکی ہے تمہاری کزن۔”
    اس کے چہرے کی مسکراہٹ کا عکس اس کی آنکھوں میں بھی چمک رہا تھا۔
    ”مگر میں نے بھی آپ سے بات کی تھی تو آپ نے مجھے کہا تھا کہ سارہ کو کوئی جواب نہ دینا۔”
    وہ اسے اس کی باتیں یاد دلا رہی تھی۔
    ”ہاں۔ کیوں کہ یہ جواب میں اسے خود دینا چاہتا تھا”
    اس نے نرمی سے جواب دیا۔
    ”آپ نے کینیڈا آنے کا پہلے سے ہی ارادہ کر لیا تھا تو پھر اتنی دیر کیوں کر دی؟”
    عشنا نے بے ساختہ پوچھا۔
    ”شاید یہی مناسب وقت تھا۔”
    اس نے کافی پیتے ہوئے کہا۔ اس کی باتیں عشنا کے سر پر سے گزر گئیں۔
    ”مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ آپ یہاں کس کے کہنے پر آئے ہیں!”
    وہ کچھ اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔
    ”اپنے دل کے کہنے پر۔”
    وہ اسی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔ وہ اس سے باتوں میں جیت نہیں سکتی تھی۔
    ”کیا پاکستان میں کسی کو معلوم ہے کہ آپ یہاں آئے ہیں؟”
    عشنا نے پوچھا۔
    ”اب معلوم ہو جائے گا سب کو۔”
    وہ معنی خیز انداز میں مونچھوں کو تائو دیتے ہوئے بولا۔
    وہ لوگوں کو لاجواب کرنے میں ماہر تھا۔
    عشنا نے مسکراتے ہوئے سرجھٹکا۔
    ”زوار بھائی! آپ سے باتوں میں کوئی نہیں جیت سکتا۔ آپ کی personality بے حدcomplicated ہے ۔ رانیہ باجی آپ کے بارے میں ٹھیک کہتی ہیں۔”
    عشنا نے بالآخر اعتراف کیا۔
    زوار کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔
    ”ہاں۔ وہ مجھے بہت اچھی طرح جانتی ہے۔ اسی لیے تو مجھے پسند نہیں کرتی۔”
    عشنا کو ہنسی آگئی۔
    ”مگر اب تو آپ بدل گئے ہیں۔ شاید وہ اب آپ کو پسند کر لیں۔”
    عشنا نے شوخی سے کہا۔ زوار کی آنکھوں میں خوشی کا عکس چمکنے لگا۔
    ”امید تو ہے۔”
    اس کی آواز دھیمی مگر خوشی سے معمور تھی۔
    ”سارہ عشنا کے لیے کافی لے کر آگئی۔ کافی کے مگ کے ساتھ ٹرے میں آلمنڈ کیک اور پیزا بھی تھا۔ یقینا یہ سارا اہتمام زوار کے آنے کی خوشی میں کیا گیا تھا۔
    ”میں اور ممی بھائی کیساتھ پاکستان جا رہے ہیں۔”
    سارہ نے میز پر ٹرے رکھتے ہوئے اسے کافی کا مگ تھماتے ہوئے کہا۔
    ”اور تمہاری ایجوکیشن؟”
    عشنا نے بے ساختہ پوچھا۔
    ”پاکستان جا کر ہی پڑھوں گی اب۔”
    سارہ نے اطمینان سے جواب دیا اور عشنا کے قریب بیٹھ گئی گویا وہ لوگ سب کچھ پلان کر چکے تھے۔
    ”ناصرہ آنٹی تو بہت خوش ہوں گی!”
    عشنا نے کہا پھر اس نے کیک کا پیس اٹھا لیا۔
    ”ہاں میں نے بہت سالوں بعد ممی کو اتنا خوش دیکھا ہے۔ وہ کچھ شاپنگ کرنے قریبی سٹور تک گئی ہیں۔ کل بھائی ٹکٹ بھی لے آئیں گے۔ بہت سال رہ لیا ہم نے یہاں پر۔ اب پاکستان واپس جا رہے ہیں۔ اپنے گھر میں رہیں گے۔ وہیں میرا بچپن گزرا تھا اور ہاں! بھائی کی شادی بھی ہو رہی ہے۔”
    سارہ نے مسکرا کر کہا۔
    ”اچھا؟ کس سے؟”
    عشنا بے ساختہ بولی۔
    وہ حیران ہوئی۔ اسے تو ابھی تک اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی تھی حالاں کہ ثمن سے تو اس کی روزانہ ہی بات ہوتی تھی مگر اسے ثمن نے ایسی کوئی بات نہیں بتائی تھی۔
    ”ایک لڑکی سے۔”
    وہ مبہم سے انداز میں بولا۔
    ”کون ہے وہ لڑکی؟”
    اس نے احمقانہ پن سے پوچھا۔ سارہ نے معنی خیزی سے زوار کی طرف دیکھا۔ دونوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں کوئی اشارہ کیا۔
    ”تمہاری کزن رانیہ!”
    سارہ بے ساختہ ہنسی اس کی ہنسی میں خوشیوں کی بھنک تھی۔ عشنا کو اس کی بات سمجھنے میں چند سیکنڈز لگے کہانی اتنی آگے تک بڑھ گئی تھی اور اسے خبر بھی نہ ہوئی۔
    زوار کی ذہانت کے سامنے تو اسے اپنے سارے ایڈونچرز فضول ہی لگنے لگ گئے تھے۔
    پھر اس نے مسکراتے ہوئے اطمینان سے ٹیک لگا لی۔ اب اسے زوار سے بہت ساری باتیں کرنی تھیں۔
    بہت عرصے بعد اس اپارٹمنٹ میں خوشی نے قدم رکھا تھا۔
    سارہ ہنس رہی تھی اور زوار کے چہرے پر بھی خوبصورت مسکراہٹ ٹھہر گئی۔
    آج برف پر سورج چمکا تھا۔
    ٭…٭…٭

    روشنی اداس اور ملول تھیں۔ برقع کے کونے سے اپنی نم آنکھیں پونچھ رہی تھیں۔ یوں لگتا تھا جیسے اتنے برسوں کی ریاضت اور قربانیاں بے کار چلی گئیں اور آج وہ خالی ہاتھ اور خالی دل تھیں۔
    رانیہ کی امی اور جیمو ماموں انہیں تسلی دے رہے تھے۔
    ”تو آپ کے میاں نے بالآخر دوسری شادی کر ہی لی۔”
    جیمو ماموں نے گہرا سانس لیتے ہوئے سنجیدہ اور متفکر انداز میں کہا۔ یہ خبر ان کے لیے غیر متوقع نہیں تھی مگر پھر بھی انہیں بے حد افسوس ہوا تھا۔
    ”کون عورت ہے وہ؟ جس نے ایک عورت کے بسے بسائے گھر پر ڈاکا ڈالا۔ ارے اسے تو کوئی بھی مل جاتا، کسی کے شوہر سے شادی کرنا

  • ”قسط نمبر5)”چنبیلی کے پھول )

    ”قسط نمبر5)”چنبیلی کے پھول )

    قسط نمبر5
    چنبیلی کے پھول”

    سب کچھ آناً فاناً ہوا تھا کہ رانیہ کو سمجھ ہی نہیں آئی کہ اچانک کیا ہوگیا ۔
    برسوں پرانی منگنی ختم ہوگئی۔ اُسے اپنے گھر والوں سے اس انتہائی قدم کی امید نہیں تھی۔ سب لوگ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ اور فارس ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ اس کے باوجود امی اور جیمو ماموں نے اُس منگنی کو توڑنے میں ایک سیکنڈ نہیں لگایا اور منگنی توڑنے کے بعد وہ بے حد مطمئن بھی تھے جو کہ بڑی حیر ت انگیز بات تھی۔ پتا نہیں انہوں نے یہ فیصلہ کب اور کیسے کرلیا کہ اسے خبر بھی نہ ہوسکی۔ حالانکہ انہو ں نے تو ہمیشہ فارس اور بی جان کا لحاظ کیا تھا ان کی تلخ و ترش باتیں خاموشی سے برداشت کیں تھیں۔ مگر نہ جانے اب کیا ہوا تھا کہ امی اور ماموں کا مزاج بالکل ہی بدل گیا۔
    فارس اور بی جان تو واویلا مچا کر اور خوب لڑائی جھگڑا کرکے جاچکے تھے۔
    رانیہ رو رہی تھی مگر اُسے نہ تو کسی نے چپ کروایا اور نہ ہی کسی نے اُسے تسلی دی۔ بلکہ کسی نے بھی اس کے رونے دھونے کو اہمیت ہی نہیں دی۔ اُس کے گھر والے اپنے فیصلے پر قائم تھے۔ ان کے خیال میں یہی فیصلہ رانیہ کے مستقبل کے لئے بہتر تھا۔ وہ دکھی ہونے کے ساتھ ساتھ حیران بھی تھی کہ اس کی تو کوئی بات ہی نہیں سن رہا تھا۔
    وہ روئے جارہی تھی۔
    ”کیوں کیا آپ لوگوں نے ایسا؟ جبکہ میں آپ لوگوں کو منع بھی کررہی تھی۔ میری مرضی کے بغیر…”
    اس کا جملہ ادھورا رہ گیا ۔ امی نے خفگی بھرے انداز میں اس کی بات کاٹ دی۔
    ”تمہاری مرضی کو اہمیت دینے کا نتیجہ ہم دیکھ ہی چکے ہیں۔ اتنا عرصہ ہم فارس کی بدتمیزیاں برداشت کرتے رہے۔ اس کی دھمکیاں سنتے رہے۔ اس کا لحاظ کرتے رہے مگر تمہیں اپنے غلط فیصلے کا احساس ہی نہیں ہوا۔ نہ تمہیں اپنی بیوہ ماں کا احساس ہے نہ اپنی یتیم بہن کا اور نہ اپنے ریٹائر ماموں کا… کیسی لڑکی ہو تم؟”
    امی نے درشت لہجے میں اُسے ڈانٹا۔
    وہ رونا بھول کر ٹکر ٹکر انہیں دیکھنے لگی۔
    ”آپ لوگوں نے فارس کو کبھی دل سے قبول ہی نہیں کیا۔ کبھی اُسے اہمیت نہیں دی۔ کبھی کسی دعوت پر کسی فنکشن پر اُسے نہیں بلایا۔ آپ لوگ شروع سے ہی اُسے پسند نہیں کرتے تھے۔”
    رانیہ نے دکھے دل کے ساتھ شکوہ کیا۔
    امی نے ماتھے پر بل ڈال کر اُسے دیکھا۔
    ”کیونکہ وہ ایک لالچی اور خودغرض لڑکا ہے۔ اس کی نظر اس حویلی پر ہے۔”
    امی نے سخت لہجے میں کہا۔
    ”وہ حویلی میری خوشیوں سے زیادہ قیمتی تو نہیں ہے۔ اور جائیدادیں تو بک ہی جاتی ہیں۔ رشتے اہم ہوتے ہیں۔ مجھے نفرت ہے اُس حویلی سے… میرا بس چلتا تو وہ حویلی میں فارس کے نام کردیتی۔”
    امی اور ماموں نے بے اختیار ایک دوسرے کو دیکھا۔ ماموں نے شکر کیا کہ حویلی کے کاغذات ان کے پاس رکھے تھے۔
    امی نے بمشکل اپنا غصہ ضبط کیا۔
    ”اگر حویلی تم اس کے نام کردیتی تو وہ اُسے بیچ کر کھا جاتا۔ اور بعد میں دوسری شادی کرلیتا۔”
    امی نے اُسے حقیقت کا ایک بھیانک رخ دکھاتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں… وہ ایسا کبھی نہیں کرسکتا میں اُسے جانتی ہوں۔”
    رانیہ نے یقین سے کہا۔
    ”تم اُسے بالکل نہیں جانتی… اور اگر اُسے موقع ملتا تو وہ ایسا ہی کرتا۔”
    ماموں نے سنجیدہ انداز میں کہا۔ رانیہ کو اس بات پر بالکل یقین نہیں تھا۔
    ”بند کرو یہ رونا دھونا۔ تم بھی فارس کی طرح خود غرض ہو۔”
    امی نے اُسے بری طرح جھڑکا۔ رانیہ دم بخود رہ گئی۔ اس کے آنسو خشک ہوگئے۔ اسے اپنے لئے خودغرض لفظ سننے کی امید نہیں تھی۔ اس کی آنکھ میں حیرانی اور غم ایک ساتھ ٹھہر گئے۔
    ”یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں امی۔”
    وہ صدمے سے بولی۔
    ”ٹھیک کہہ رہی ہوں فارس کو تم سے کوئی محبت نہیں ہے۔ اُس نے صرف محبت کا ڈرامہ کیا تھا۔ اس نے تم سے یہ منگنی صرف حویلی کی وجہ سے کی تھی۔ اس نے سوچا کہ تم ایک صاحب جائیداد لڑکی ہو۔ اس وجہ سے اُس نے محبت کا جھانسہ دے کر تمہیں بے وقوف بنایا۔ ارے اس جیسے نکمے نالائق کو بھلا کون رشتہ دیتا۔ یہ تو ہماری ہی عقل پر پتھر پڑگئے تھے ورنہ یہ فیصلہ ہمیں بہت پہلے کرلینا چاہیے تھا۔”
    امی نے ناراض آواز میں کہا۔
    وہ آنکھوں میں صدمے کی کیفیت کے ساتھ انہیں دیکھ رہی تھی۔ جیمو ماموں بھی امی کا ساتھ دینے کے لئے بول پڑے۔
    ”رانیہ! تمہیں فارس سے اچھا رشتہ مل جائے گا۔ وہ کوئی دنیا کا آخری لڑکا تو ہے نہیں کہ اگر تمہاری زندگی سے چلا گیا تو تمہاری شادی ہی نہیں ہوگی۔”
    سب اُسے ہی سمجھا رہے تھے۔
    وہ بھی اپنی ضد پر قائم رہی۔ بات محبت کی تھی اور محبت کے معاملے میں لڑکیاں بڑی بے وقوف ہوتی ہیں۔
    ”میں فارس کے علاوہ کسی سے بھی شادی نہیں کروں گی۔”
    اس نے جذباتی انداز میں کہا۔
    امی نے پیشانی پر بل ڈالے اس کی بات سنی۔
    ”ہم فیصلہ کرچکے ہیں۔ اب ہم نے تمہاری ایک نہیں سننی۔ اب ہم وہی کریں گے جو ہمیں مناسب لگے گا۔ تم میں اتنی عقل ہوتی تو کیا ہی بات تھی۔”
    امی نے قطعی اور فیصلہ کن انداز میں کہا۔
    رانیہ کو دکھ تھا کہ اس کے گھر والوں کو اپنی زیادتی کا احساس ہی نہیں ہے اور سب اسی کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔
    وہ خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی آئی۔ کسی نے اُس کا دکھ نہیں بانٹا تھا۔
    فارس اور اس کی محبت برسوں پرانی تھی۔ خاندان کا ہر شخص حیران تھا کہ آخر اُسے فارس جیسے لڑکے سے کیسے محبت ہوگئی۔ وہ بدتمیز، بداخلاق، بدمزاج تھا اور پھر نکما اور نالائق بھی۔ پڑھنے لکھنے میں اُسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ہر وقت بس اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ گھومتا پھرتا رہتا۔
    جبکہ رانیہ پڑھی لکھی سلجھی ہوئی لڑکی تھی۔ آخر فارس میں ایسی کیا خاص بات تھی کہ رانیہ نے اُسے اپنا دل دے دیاتھا۔
    کم عمری کی محبت بھی عجیب ہوتی ہے۔ اس میں ایسی شدت، دیوانگی اور جنون ہوتا ہے کہ عقل کے فیصلے اہم نہیں رہتے۔
    فارس وہ پہلا لڑکا تھا جس نے رانیہ سے اظہار محبت کیا تھا۔ اس نے اس سے کہا تھا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے اور وہ اپنی امی کو رشتے کے لئے اس کے گھر بھیجے گا۔ اس جملے میں بڑی تاثیر تھی۔ ایک جادو تھا جس نے رانیہ کے دل کو اسیر کرلیا تھا۔ ا س جملے کی چابی سے ہر لڑکی کے دل کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ محبت کے اظہار کا ہر انداز انوکھا اور خوبصورت ہوتا ہے۔ ہر لڑکی کے لئے خوش رنگ تجربہ ہوتا ہے۔
    محبت کے دعوے دار اور میٹھی میٹھی باتیں کرنے والے تو بڑے مل جاتے ہیں، مگر شادی کی بات کوئی کوئی ہی کرتا ہے۔ رانیہ کے دل میں فارس کی عزت بڑھ گئی۔ اس نے اپنی ماں کو رانیہ کا رشتہ مانگنے بھیجا، جو کہا وہ کردکھایا۔ اور یوں اس نے رانیہ کے دل کی بلندی کو چھولیا۔ عورت اس مرد کی عزت کرتی ہے جو اس سے کیا وعدہ نبھانا جانتا ہے۔
    فارس کوئی شہزادہ گلفام نہیں تھا۔ ایک عام سا لڑکا تھا مگر ہر لڑکی کے لئے اس کا محبوب ہی شہزادہ گلفام ہوتا ہے۔
    اُسے فارس کی محبت پر یقین تھا اور محبت تو ہر انسان کی کمزوری ہوتی ہے۔ عشق میں لوگ نفع و نقصان کا حساب نہیں رکھتے۔
    رانیہ کو برسوں پرانی منگنی ٹوٹنے کا غم تھا۔ وہ شاک کے زیر اثر تھی۔
    فارس بھی بہت غصے میں تھا۔

    اس نے رانیہ کو فون کیا تو وہ اپنے کمرے میں صدمے سے نڈھال بیٹھی تھی۔
    ”رانیہ! تمہارے گھر والوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔ ارے وہ تو یہ منگنی توڑنے کے لئے پہلے سے تیار بیٹھے تھے۔ یہ فیصلہ اچانک نہیں ہوا۔ یہ فیصلہ تو انہوں نے پہلے ہی کرلیا تھا۔ میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ وہ لوگ تمہاری شادی کرنا ہی نہیں چاہتے۔ تمہاری شادی کی صورت میں وہ حویلی ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ مجھے لالچی اور خودغرض کہتے ہیں، لالچی اور خودغرض تو وہ لوگ خود ہیں۔”
    فارس کی آواز میں غصہ تھا۔ خلاف توقع وہ جیتی ہوئی بازی ہار گیا تھا۔ اُسے شکست کا احساس بھی تھا اور ذلت کا بھی۔
    رانیہ اپنی جگہ مجبور تھی۔
    ”فارس ! تم نے اتنی جلد بازی سے کیوں کام لیا؟ تم اچھی طرح جانتے تھے کہ میری فیملی حویلی کے موضوع پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔ پھر بی جان کو ایسی بات کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ باتیں شادی کے بعد میں بھی تو کی جاسکتی تھیں۔”
    رانیہ نے شکست خوردہ انداز میں کہا۔
    فارس نے درشت انداز میں اُسے ٹوک دیا۔
    ”وہ حویلی تمہاری ہے۔ اس کی مالک تم ہو… تم وہ حویلی اپنی تحویل میں لے سکتی ہو۔ اُسے بیچ سکتی ہو، اُسے نیلام کرسکتی ہو۔ جو چاہے کرسکتی ہو۔ تمہیں اپنے اختیارات اور اپنی طاقت کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ آج تمہاری بزدلی نے مجھے بہت دکھ دیا ہے۔ تمہارے گھر والوں نے سب کے سامنے ہمیں ذلیل کیا اور تم چپ چاپ دیکھتی رہی۔”
    وہ خفا سے انداز میں بولا۔ فارس کو رانیہ کے گھر والوں کے ساتھ ساتھ رانیہ پر بھی غصہ تھا۔
    ”فارس میں نے انہیں روکنے کی کوشش کی تھی مگر کسی نے میری بات ہی نہیں سنی۔”
    اس نے اپنی صفائی پیش کی۔ وہ ملول اور اداس ہوگئی۔ کسی کو اس کے دکھ کا احساس ہی نہیں تھا۔ ہر بندہ اسے ہی ڈانٹ رہا تھا۔ اسی کو باتیں سنا رہا تھا۔
    ”رہنے دو یہ بے کار کی وضاحتیں۔ اب تمہیں عملی طور پر کچھ کرنا ہوگا۔ تم مجھ سے وعدہ کرو کہ تم ہر حال میں میرا ساتھ دوگی۔ جو میں کہوں گا وہی کروگی۔”
    وہ ذرا سنجیدہ ہوا اور رعب سے بولا۔
    ”اب کیا کرنا ہوگا مجھے۔”
    وہ اس کی بات سمجھ نہیں سکی۔
    ”اس مسئلے کا ایک حل ہے میرے پاس۔”
    اب کی بار اُس کا لہجہ اتنا درشت نہیں تھا۔
    ”کیا؟”
    اس نے بے ساختہ پوچھا۔
    ”ہم کورٹ میرج کرلیتے ہیں۔”
    اس نے گویا دھماکہ کیا۔
    کورٹ میرج کا نام سنتے ہی رانیہ کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ اس کے ہاتھ پائوں کانپنے لگے۔
    ”نہیں فارس، میں ایسا نہیں کرسکتی۔ اپنے گھر والوں کی مرضی کے بغیر اتنا بڑا قدم نہیں اٹھا سکتی ہوں۔”
    وہ خوفزدہ انداز میں بولی۔
    ”تمہیں اپنے گھر والوں کے بارے میں نہیں، صرف اپنے اور میرے بارے میں سوچنا ہے۔ ایک بار ہمارا نکاح ہوجائے پھر کوئی کچھ نہیں کرسکے گا۔ پھر تمہارے گھر والوں کو ہماری شادی کے لئے ماننا ہی پڑے گا۔”
    وہ اسے بہکا رہا تھا۔
    وہ اس بات کے لئے کبھی راضی نہیں ہوسکتی تھی۔
    ”عجلت سے کام نہ لو فارس، مجھے تھوڑا وقت دو۔ میں امی اور جیمو ماموں سے دوبارہ بات کروں گی۔”
    اس نے خوفزدہ انداز میں کہا۔فارس نہیں مانا۔
    ”وہ نہیں مانیںگے۔ تم سمجھ کیوں نہیں رہی؟ کورٹ میرج سے کیوں اتنا گھبرا رہی ہو؟ جب تم ساری دنیا کے سامنے تھیٹر ڈرامے کرسکتی ہو تو کورٹ میرج کرنا تمہارے لئے کون سا مشکل کام ہے!”
    اُسے فارس کی بات سن کر صدمہ ہوا تھا۔ اس نے تو کبھی رانیہ کے تھیٹر میں کام کرنے کی مخالفت نہیں کی تھی پھر آج اس نے اسے اس بات کا طعنہ کیوں دے دیا تھا۔رانیہ کو لگا جیسے وہ کسی اجنبی سے بات کررہی ہے۔
    ”فارس! تھیٹر میرا شو ق ہے۔ کورٹ میرج کرنا کسی بھی لڑکی کا شو ق نہیں ہوسکتا۔ تھیٹر میں پرفارم کرنا ایک آرٹ ہے… ایک فن ہے۔ کیا آرٹ کی فیلڈ سے وابستہ لوگ گھر سے بھاگ کر شادیاں کرتے ہیں؟”
    اس کے لہجے میں افسوس تھا۔ اسے فارس کی منطق سمجھ نہیں آئی تھی۔ فارس کے لئے تو جیسے اس کا دکھ اور صدمہ کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتا تھا۔
    ”جب تم اپنی مرضی سے تھیٹر میں کام کرسکتی ہو تو اپنی مرضی سے جاکر شادی بھی کرسکتی ہو۔ تم کون سا گھر میں رہنے والی، ہانڈی چولہا کرنے والی چھوٹی موٹی لڑکی ہو جسے زمانے کی کچھ خبر ہی نہیں ہے۔ اب تمہیں کوئی فیصلہ کرنا ہی پڑے گا۔ کل صبح نو بجے میں تمہارے گھر کے باہر آجائوں گا۔ وہیں سے ہم کورٹ چلے جائیں گے۔ وکیل، گواہ، سب انتظامات میں کرلوں گا۔”
    وہ اسی انداز میں بولا۔
    اس کی باتیں تکلیف دہ تھیں۔
    ”نہیں، میںنہیں آسکتی فارس۔”
    اس نے انکار کردیا ۔فارس نے اس کے انکار کو اہمیت نہیں دی۔
    ”کورٹ میرج سے کیوں اتنا گھبرا رہی ہو؟ لوگ کورٹ میرج کرتے ہی ہیں۔یہ کوئی انوکھی بات تو نہیں ہے۔ مجبور ہوتی ہے لوگوں کی۔ تمہیں تھوڑی سی ہمت کرنی پڑے گی۔ ایک بار میرا اور تمہارا نکاح ہوجائے پھر میں دیکھوں گا کہ تمہارے گھر والے کیسے حویلی پر قبضہ جمائے رکھتے ہیں۔”
    وہ تلخ انداز میں بولا۔ اس کے لہجے میں رانیہ کے گھر والوں کے لئے بڑی نفرت اور حقارت تھی۔
    ”فارس… میری بات تو سنو۔”
    رانیہ کے اوسان خطا ہونے لگے۔
    اس نے تو کورٹ میرج کے بارے میں کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
    ”کل صبح نو بجے۔”
    حکیمہ انداز میں کہتے ہوئے اس نے فون بند کردیا۔ اس کے انداز میں کوئی لچک، کوئی گنجائش نہیں تھی۔ رانیہ کی آنکھوں سے چند آنسو بڑی خاموشی کے ساتھ نکلے۔ وہ شدید ذہنی دبائو اور ڈپریشن کا شکار ہورہی تھی۔ فارس نے غصے کے عالم میں اُسے جو طعنے دیئے تھے۔ ان کی تکلیف اتنی جلدی کم ہونے والی نہیں تھی۔ وہ تو فارس کو بہت روشن خیال شخص سمجھتی تھی اور اس کی روشن خیالی کی مثالیں دیا کرتی تھی۔ مگر آج فارس کے دیئے گئے طعنوں نے اُسے بہت دکھ دیا تھا۔
    اوپر سے وہ اس سے کورٹ میرج کرنے کا مطالبہ بھی کررہا تھا۔ وہ کسی صورت اس کی یہ بات نہیں مان سکتی تھی۔
    وہ کتنی ہی دیر اپنے کمرے میں بیٹھی روتی رہی۔ رات کو ماموں اس کے کمرے میں آئے۔
    وہ اُنہیں آتا دیکھ کر اُٹھ کر بیٹھ گئی۔
    عنایا خاموشی سے میز پر چائے کے کپ اور سینڈوچ رکھ کر چلی گئی۔ ماموں کرسی پر بیٹھ گئے۔
    ”میں نے سوچا کہ آج رانیہ کے ساتھ چائے پی جائے۔”
    وہ اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ بولے پھر چائے کے کپ کی طرف اشارہ کیا۔
    اس نے ناچاہتے ہوئے بھی چائے کا کپ اٹھالیا۔
    بھوک، پیاس سے اس کا برا حال تھا۔
    ماموں نے اصرار کرکے اسے سینڈوچ بھی کھلایا۔
    اسے ڈھارس ملی کہ گھر والوں کے لئے وہ اتنی بھی غیر اہم نہیں تھی۔ ماموں خود چل کر اس کے کمرے میں آئے تھے۔ احترام کا تقاضا تھا کہ وہ ان کی بات سنتی اور بحث و مباحثہ نہ کرتی۔ اس گھر میں بزرگوں کی عزت و احترام کے کچھ اصول تھے۔
    ”سینڈوچ تو بہت ہی مزے دار ہیں۔ عنایا کے ہاتھ میں بڑا ذائقہ ہے۔”
    وہ مسکرا کر بولے۔

    وہ خاموشی سے سینڈوچ کھانے لگی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ یہ باتیں کرنے کے لئے نہیں آئے ہیں۔ یہ تو صرف تمہید ہے۔
    پھر کچھ دیر بعد انہوں نے سنجیدگی سے اس بات کا آغاز کیا جس کے لئے وہ اس وقت یہاں آئے تھے۔
    ”رانیہ بیٹا! زندگی میں بہت سی چیزیں غیر متوقع ہوتی ہیں۔ انسان جن سے محبت کرتا ہے ان سے بچھڑ جاتا ہے۔ جو چاہتا ہے وہ حاصل نہیں کرپاتا۔مقد رکے فیصلوں کو آسانی سے قبول نہیں کرپاتا۔ مگر آسمان والے کے فیصلے زمین والوں کے فیصلوں سے کہیں بہتر ہوتے ہیں۔ اور اس کا احساس انسان کو وقت گزرنے کے ساتھ ہوتا ہے۔”
    وہ اسے سمجھا رہے تھے۔ وہ رو رو کر تھک چکی تھی اور اب خاموشی سے چائے پی رہی تھی۔
    ”مجھے اپنی منگنی کے ٹوٹنے کا بہت دکھ ہے ماموں۔ آپ لوگوں نے میری مرضی، میری رائے کو اہمیت نہیں دی۔”
    کچھ دیر بعد اس نے اُداس آواز میں کہا۔
    ”ہم تمہارے بزرگ ہیں۔ تمہارے لئے کوئی غلط فیصلہ تو نہیں کریں گے۔ ہم پر اعتبار رکھو۔ فارس جیسا لالچی آدمی تمہیں کبھی خوشیاں نہیں دے سکتا۔ آج اس نے حویلی کا مطالبہ کیا ہے۔ کل کوئی اور مطالبہ کرکے دوبارہ تمہیں بلیک میل کرے گا۔ جن لوگوں کو دوسروں کی چیزوں پر قبضہ کرنے کی عادت پڑجائے وہ آہستہ آہستہ دوسروں کی سب چیزیں چھین لیتے ہیں۔”
    ماموں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔ رانیہ کے چہرے پر اداسی تھی۔
    ”مگر میں فارس کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کروں گی۔ یہ میرا فیصلہ ہے۔”
    اس نے نظریں جھکائے ہوئے مدھم مگر سنجیدہ آواز میں کہا۔ ماموں کچھ دیر سوچتے رہے۔ آج انہیں رانیہ کی بے وقوفی پر دکھ ہوا تھا۔ فارس نے اسے ہپناٹائز کرلیا تھا اور وہ اس کے اثر سے باہر نہیں آنا چاہتی تھی۔
    پھر انہوں نے چائے کا کپ آہستگی سے میز پر رکھا اور تفکر بھری سنجیدگی سے کہنے لگے۔
    ”رانیہ! کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی بوڑھی ماں کے بارے میں ضرور سوچنا جو پہلے ہی بلڈ پریشر کی مریض ہیں۔ ابھی تمہاری دونوں بہنوں عنایا اور ثمن کی شادی بھی ہونی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کوئی غلط فیصلہ ان دونوں کے مستقبل پر اثر انداز ہوجائے۔ جب تمہاری مامی کا انتقال ہوا تو ثمن اور ٹیپو بہت چھوٹے تھے۔میں نے بہت محنت سے ان کی پرورش کی۔ زندگی کے ساتھی کے بغیر اتنے سال گزار دیے۔ اپنے بچوں کے لئے قربانی دی کہ نجانے سوتیلی ماں آکر ان کے ساتھ کیا سلوک کرے۔ جب تک وہ سمجھدار نہیں ہوجاتے، میرا پورا وقت اور توجہ صرف میرے بچوں کے لئے ہی ہے۔ اپنے دکھ، غم اور تنہائی کے روگ کو زندہ دلی کی آڑ میں چھپا لیا۔ پھر میں نے اپنی بہن کو بیوگی کا دکھ جھیلتے دیکھا۔ وہ دن رات تمہاری اور عنایا کی فکر میں پریشان رہتیں۔ یہی سوچتی رہتیں کہ تم دونوں کی ذمہ داری تنہا کیسے اٹھائیں گی۔ پھر ہم دونوں بہن بھائی نے ایک دوسرے کے دکھ بانٹ لئے۔ ایک دوسرے کا بوجھ بانٹ لیا۔ جانے والوں کا دکھ تو ہمیشہ دل میں موجود رہتا ہے مگر تم لوگوں کے لئے ہم نے ہمیشہ یہی ظاہر کیا کہ ہم اپنے دکھ بھول چکے ہیں۔ اصل بات ہی قربانی دینے کی ہوتی ہے ۔ بیٹا جو لوگ قربانی دینا نہیں جانتے وہ کبھی محبت نہیں کرسکتے تم ایسا کوئی قدم نہ اٹھانا جس سے اس گھر کی عزت پر آنچ آئے۔”

  • چنبیلی کے پھول“ (قسط نمبر4)”

    چنبیلی کے پھول“ (قسط نمبر4)”

    قسط نمبر4
    ”چنبیلی کے پھول

    اُسے اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں آیا۔ کچھ لمحوں کے لئے اس کے حواس منجمد ہوگئے۔
    وہ اتنی بے باکی سے اُسے پرپوز کرے گا اُسے اس بات کا اندازہ بھی نہیں تھا جبکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اُس کی منگنی ہوچکی ہے۔
    ”آپ!“
    غصے سے اس کا چہرہ سرخ پڑگیا۔ آنکھوں سے شرارے پھوٹنے لگے۔اُسے احساس ہوا کہ اس نے یہاں آکر غلطی کی تھی۔ وہ اُس کے سامنے بڑے اطمینان سے بیٹھا پرسکون انداز میں اُس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
    ”مجھ سے قربانی مانگ رہی ہیں! آپ کیوں یہ قربانی نہیں دے سکتیں؟ توڑ دیں اپنی منگنی…… ختم کردیں۔ مجھ سے شادی کرلیں۔ میں آپ کی بات مان لوں گا۔“
    وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے اسی پرسکون اندا ز میں بولا مگر اس کی آواز برف جیسی سرد تھی۔
    رانیہ کاغصے سے بر ا حال تھا۔ رہی سہی کسر زوار کے سکون اور اطمینان نے پوری کردی۔
    آخر وہ خود کوسمجھتا کیا تھا۔ رانیہ کی آنکھوں سے غصہ چھلکنے لگا۔
    ”آپ ایک نفسیاتی مریض ہیں۔“
    اردگرد بیٹھے لوگوں کی وجہ سے وہ بلند آواز میں بات نہیں کرسکتی تھی۔ اس کی آنکھوں میں برہمی اور چہرے پر بے پناہ خفگی تھی۔
    زوار کے چہرے کے تاثرات پرسکون ہی رہے۔ اُس کے بارے میں رانیہ کا اندازہ درست تھا۔ اس کامطلب تھا کہ وہ اُسے جاننے لگی تھی۔
    ”میں اپنے منگیتر سے بہت محبت کرتی ہوں۔ آ پ کو یہ بات کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔“
    رانیہ نے اُسے یہ جتانا ضروری سمجھا۔ زوار کے اطمینان میں کوئی فرق نہیں آیا۔
    ”آپ کو بھی تو یہ بات کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا کہ میں جواب میں کچھ بھی کہہ سکتا ہوں۔“
    اُ س نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدہ انداز میں کہا مگر اس کی آواز سرد تھی۔
    رانیہ کو اس کا یوں جتانا اور بھی زیادہ برا لگا۔
    ”مجھ سے غلطی ہوگئی۔ مجھے اپنی کزن عشنا کی وجہ سے یہاں آکر آپ سے یہ بات کرنی پڑی مگر آپ کو کیا پتا کہ رشتوں کی محبت اور اُن کا مان کیا ہوتا ہے۔ نہ تو میں سارہ آفندی کو جانتی ہوں اور نہ ناصرہ تسکین کو…… میں نے یہ کوشش صرف انسانی ہمدردی کی وجہ سے کی۔ عشنا اپنی دوست کی مدد کرنا چاہتی ہے اور میں نے انسانیت کے ناطے اُس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ میں اُس کا دل نہیں توڑنا چاہتی تھی۔ اُسے مایوس نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اور پھر میں نے برسوں پردیس میں رہنے والی ماں بیٹی کے بارے میں بھی سوچا جنہوں نے اپنی زندگی کی مشکلات کا تنہا اور خاموشی سے مقابلہ کیا مگر یہاں آکر تو میں نے صرف اپنا وقت ہی ضائع کیا ہے۔آپ ایک بے حد خودغرض، ظالم اور سنگ دل آدمی ہیں۔ آئندہ نہ میں کبھی آپ سے ملنا چاہتی ہوں اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی رابطہ رکھنا چاہتی ہوں۔ میں تو تھیٹر بھی چھوڑ رہی ہوں۔“
    وہ بے حد خفا سے انداز میں بولی۔ اُس نے سوچا کہ آج تو اُسے دو چار سنا ہی دینی چاہیے۔
    وہ پرسکون انداز میں بیٹھا اُس کی بات سنتا رہا۔ شزا اور اس کی بہن وہاں سے جاچکی تھیں۔ ورنہ زوار اور رانیہ کے اس انداز پر ضرور چونک جاتیں۔ زوار کے چہرے کے تاثرات سے لگتا تھا جیسے اُس نے رانیہ کی کسی بات کا برا نہیں منایا، بلکہ وہ تو پہلے سے ہی جانتا تھا کہ وہ اُس کی بات کے جواب میں یہی سب کچھ کہے گی۔ وہ اُس کے اس ردعمل کے لئے پہلے سے ہی تیار تھا۔
    ”یہ کیسی ہمدردی ہے آپ کی؟ کہ آپ سارہ آفندی کے لئے اپنی منگی نہیں توڑ سکتیں! اور مجھ جیسے سنگ دل آدمی سے آپ کو رحم دلی کی اُمید ہے؟“
    اس نے پلکیں جھپکائے بغیر اس کی طرف دیکھتے ہوئے بھاری آواز میں کہا۔
    رانیہ کو اس کی دماغی حالت پر شبہ ہوا۔ اس نے بمشکل اپنے غصے پر قابو پایا۔
    ”آپ مجھ سے شادی کیوں کرنا چاہتے ہیں؟“
    اُس نے زوار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔ وہ اُس کے سوال پر مسکرایا۔
    ”کیونکہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔“
    اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اعتراف کیا۔ اب کی بار اس کی آواز کا بر ف جیسا تاثر پگھل گیا تھا۔
    وہ اس کے اس جملے پر سن ہوگئی۔ اس کی آنکھوں میں ایسی چمک تھی کہ اُس نے نظر جھکالی۔ زوار کی آنکھیں مقناطیسی کشش رکھتی تھیں۔
    ”مگر میں آپ سے محبت نہیں کرتی ہوں۔“
    وہ جھکی نظروں کے ساتھ بولی۔
    وہ زوار کی آنکھوں میں دیکھ کر یہ بات نہیں کرسکتی تھی۔ اس نے کوشش کی کہ اگر زوار کو اس کے حوالے سے کوئی خوش فہمی ہے تو وہ ختم ہوجائے۔ وہ اس کی جھکی پلکوں کودیکھ کر زیر لب مسکرایا۔
    ”مگر میں نے آپ سے محبت تو نہیں مانگی۔“
    وہ مدھم مگر بھاری آواز میں بولا۔
    رانیہ نے بے ساختہ پلکیں اٹھائیں۔ اسے احساس ہوا کہ اس آدمی سے ایسی باتیں کرنا خطرناک تھا…… بہت خطرناک اس نے اس سے محبت کا تقاضا نہیں کیا مگر شادی کے لئے پروپوز کردیا۔ آخر اس بات کا کیا مطلب تھا۔
    وہ الجھ گئی۔
    ”پھر آ پ نے مجھے پروپوز کیوں کیا ہے؟“
    اس نے خفگی سے کہا۔
    وہ مدھم انداز میں مسکرایا۔
    ”جب آپ میرا پروپوزل قبول کرلیں گی پھر بتادوں گا۔“
    وہ اُس مسکراتی نظروں سے دیکھتے ہوئے گہری آواز میں بولا۔ رانیہ کو اس سے خوف سا محسوس ہوا۔ پتا نہیں ا س آدمی کے کیا ارادے تھے۔
    ”ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ مجھے آپ کے پروپوزل میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔“
    اس نے قطعی اور بے لچک انداز میں کہا اور اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    زوار کی مسکراہٹ گہری ہوگئی، یوں جیسے اُسے رانیہ کے انکار سے کوئی فرق ہی نہ پڑا ہو۔ اُسے یوں مسکراتے دیکھ کر رانیہ نے بمشکل ضبط کیا۔ اس کی آنکھیں بے اختیار نم ہوگئیں۔ وہ اس کی باتوں سے ہرٹ ہوئی تھی۔ اس کی آنکھوں کی نمی دیکھ کرزوار کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔ وہ اُسے ہرٹ نہیں کرناچاہتا تھا۔
    وہ وہاں رکی نہیں۔ وہاں سے چلی گئی۔ بارہ بارش تھی۔ وہ بے اختیار۔ اس کے پیچھے آیا۔
    کیفے کے ساتھ ہی تھیٹر ہال تھا۔ وہ بھیگی سڑک کے کنارے چلتے ہوئے اس طرف جارہی تھی۔
    زوار تیزی سے اس کے قریب آکر اس کے برابر چلنے لگا۔
    ”میرا تعاقب نہ کریں۔“

    وہ غصے سے بولی۔ وہ شاید رو رہی تھی۔ زوار کو افسوس ہوا۔
    ”بارش تیز ہے۔ آپ کواس موسم میں اکیلے نہیں جانے دے سکتا ہوں۔“
    وہ نرم مگر قطعی انداز میں بولا۔ رانیہ نے غصے کے عالم میں اس کے لہجے کی فکر مندی کو محسوس ہی نہیں کیا۔ اس نے یونہی چلتے ہوئے اپنا دوپٹہ پھیلا کر اوڑھ لیا۔
    ”مجھے آپ کی مہربانیوں کی ضرورت نہیں ہے۔“
    وہ اکھڑے ہوئے لہجے میں بولی۔ اس کی آواز میں غصہ تھا۔
    ”میں تو ایک سنگ دل آدمی ہوں۔ لوگوں پر مہربانیاں نہیں کرتا ہوں۔“
    اس نے اسے جتاتے ہوئے کہا۔ رانیہ نے بے اختیار لب بھینچ لئے۔
    ”اُف …… اس آدمی کے ساتھ بحث کرنا بے وقوفی ہے۔“
    اس نے لمحہ بھر کے لئے آنکھیں بند کیں اور دل میں سوچا پھر گردن موڑ کر اپنے برابر چلتے زوار کو دیکھ کر درشت لہجے میں کہا۔
    ”آپ یہاں سے چلے جائیں۔“
    اس کی آواز میں غصہ اور ناراضگی تھی۔
    مگر وہ زوار ہی کیا جس پر کسی با ت کا اثر ہوجائے۔
    ”یہ سڑک آپ کی جاگیر تو نہیں ہے۔ آپ کے علاوہ اور لوگ بھی یہاں چل پھر سکتے ہیں۔“
    وہ مدھم آواز میں بات کررہا تھا۔ رانیہ نے بے بسی سے اُسے دیکھا۔
    ”نفسیاتی مریضوں کو اپنے او ردوسروں کے نقصان کی پرواہ نہیں ہوتی۔“
    اس نے خفگی سے کہا۔ اس نے اس کی با ت کا برا نہیں مانا۔
    ”اگر میں نفسیاتی مریض ہوں تو آپ میرا علاج کردیں۔ یقین کریں میں ٹھیک ہوجاؤں گا۔“
    وہ زیر لب مسکرایا۔
    ”اُف یہ آدمی……“
    وہ جھنجھلا گئی۔ اُسے احساس ہوا کہ اس سے کچھ کہنا سننا بے کار ہی تھا۔
    وہ تھیٹر کی پارکنگ میں کھڑی اپنی گاڑی کے پاس آگئی تھی۔ اب وہ جلد از جلد گھر جانا چاہتی تھی۔
    گاڑی کا لاک کھول کر وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئی۔ مگر وہ گاڑی کا دروازہ نہیں بند کرسکی کیونکہ اس پر زوار نے ہاتھ رکھا ہوا تھا۔
    ”میری بات سن لیں۔“
    وہ برستی بارش میں کھڑا تھا۔
    ”آپ میرے پاس یہ مقدمہ لے کر آئی ہیں۔ میں آپ کو مایوس نہیں کرنا چاہتا مگر ادھوری کہانیاں خطرناک ہوتی ہیں۔ میں آ پ کوہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا، مگر میرے پروپوزل پر غور ضرور کیجیے گا۔ یقین کریں میں اتنا بھی سنگ دل نہیں ہوں۔“
    رانیہ نے ناراضگی کے عالم میں اُس کی بات سنی پھر گاڑی اسٹارٹ کردی۔ وہ اب اس کی کسی بات کا جواب نہیں دینا چاہتی تھی۔ وہ گہرا سانس لے کر دو قدم پیچھے ہٹا۔
    رانیہ نے اس کی طرف نہیں دیکھا اور فوراً ہی وہاں سے گاڑی بھگاکر لے گئی۔
    ”میں آئندہ کبھی اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی ہوں۔“
    وہ راستے بھر سوچتی آئی۔
    پھر اُس کی گاڑی کو اپنے تعاقب میں آتے دیکھا۔
    وہ جانتی تھی کہ وہ اس کا پیچھا نہیں چھوڑے گا اور اس برستی بارش میں اس کے گھر تک آئے گا اور ایسا ہی ہوا۔ وہ اپنے گھر پہنچ گئی اور وہ اس کے گھر کے گیٹ سے واپس مڑ گیا۔
    وہ واقعی ایک عجیب آدمی تھا۔
    ٭……٭……٭
    وہ گھر آئی تو عشنا اسی کا انتظار کررہی تھی۔ مگر وہ آتے ساتھ ہی اپنے کمرے میں چلی آئی۔ اس کا چہرہ اترا ہوا اور آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ گیلے بال الجھے ہوئے تھے۔ عشنا اسے اس حال میں دیکھ کر ٹھٹک گئی۔ اسے کسی غیر معمولی بات کا احساس ہوا۔ وہ تو کبھی اس ابتر حالت میں گھر واپس ہی نہیں آئی تھی۔
    رانیہ اپنا لباس تبدیل کرکے تھکے ہوئے انداز میں اپنے بیڈ پر بیٹھ گئی۔ آج کا دن اس کے لئے بے حد برا ثابت ہوا تھا۔
    ”آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے رانیہ باجی؟“
    عشنا نے اس کی سوجی ہوئی آنکھوں اور بجھے ہوئے چہرے کو دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھا۔
    ”میرے سر میں درد ہے…… آج بہت تھک گئی ہوں۔“
    رانیہ نے تھکے ہوئے انداز میں جواب دیا۔
    عشنا کو تشویش ہوئی۔ اس نے ڈریسنگ ٹیبل پر سے برش اٹھایا۔
    ”میں آپ کے بال سلجھا دیتی ہوں۔دیکھیں تو سہی۔ کتنے الجھ گئے ہیں۔“
    وہ آہستگی سے رانیہ کے گیلے الجھے بالوں میں برش کرنے لگی۔ پھر اس نے وہی سوال کیا جس سے رانیہ خوفزدہ تھی۔
    ”کیا آپ نے زوار آفندی سے بات کی؟“
    رانیہ نے ایک پل کے لئے آنکھیں بند کیں۔ وہ اس لمحے کو یاد بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔
    ”وہ ایک پاگل اور سنگ دل آدمی ہے۔ تم اپنی دوست کی مدد کرنے کا خیال دل سے نکال دو۔ وہ ناصرہ تسکین کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔“
    رانیہ نے خفا سے انداز میں کہا۔ وہ عشنا کو کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں کرناچاہتی تھی۔ عشنا اس کے اس انداز پر بھونچکا رہ گئی۔ یہ جواب ا س کی توقع کے برعکس تھا۔
    ”مگر ہوا کیا ہے؟ کیا کہا اُس نے؟“
    عشنانے بے چینی سے پوچھا۔ رانیہ اُسے وہ سب کچھ تو نہیں بتا سکتی تھی جو زوار نے اس سے کہا تھا۔
    ”اس نے انکار کردیا؟“
    عشنا نے دل تھام کر اندازہ لگایا۔
    ”ہاں۔“
    رانیہ کو یہی مناسب ترین جواب لگا۔ عشنا کو مایوسی ہوئی۔
    ”آپ نے اسے ساری باتیں بتائی تھیں؟“
    عشنا نے بجھے ہوئے انداز میں کہا۔
    ”ہاں …… بتائی تھیں۔“
    رانیہ نے کہا۔
    ”پھر…… کیا اُس نے آپ کے ساتھ بدتمیزی کی؟“
    عشنا نے ذرا جھجک کر پوچھا۔
    ”بہت زیادہ…… صرف یہی نہیں بلکہ اس نے میری انسلٹ بھی کی۔“
    رانیہ نے خفا انداز میں کہا۔ عشنا کو افسوس ہوا۔ اُسے زوار سے ایسے انتہائی ردعمل کی امید نہیں تھی۔
    ”I am sorry Rania Baji…… میری وجہ سے آپ کو اتنی باتیں سننی پڑیں۔“
    اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں تمہارا اس میں بھلا کیا قصور…… تم تو اپنی دوست کی مدد کرنا چاہتی تھی وہ ہی بدتمیز آدمی ہے…… آئندہ میں اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی ہوں۔“
    رانیہ برہم انداز میں بولی۔
    ”اس کامطلب ہے سارہ کا اندازہ درست تھا۔“
    عشنا نے گہراسانس لے کر کہا۔
    ”ہاں ظاہر ہے۔ وہ زوار آفندی کی فطرت سے واقف ہوگی بے چاری……“
    رانیہ نے اسی انداز میں کہا۔
    ”اور آپ نے اُسے تاج بھی واپس کردیا؟“
    عشنا نے بجھی آواز میں پوچھا۔
    ”ہاں ……کردیا۔“
    رانیہ نے سنجیدہ انداز میں جواب دیا۔
    عشنا نے بے اختیار گہرا سانس لیا۔ وہ رانیہ کے بال سلجھا چکی تھی اور اب اس کے سامنے آکر بیٹھ گئی تھی۔
    ”مجھے یقین نہیں آرہا کہ زوار آفندی نے آ پ کی بات بھی نہیں سنی۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ جب وہ آپ کے لئےgold کا تاج بنوا سکتا ہے تو آپ کی اتنی سی بات کیوں نہیں مان سکتا؟“
    عشنا نے الجھ کر کہا۔ اسے افسوس تھا کہ اس کی ساری کوششیں بے کار ہوگئی تھیں اور یہ اُس کے لئے بڑے صدمے کی بات تھی۔
    ”ایک دولت مند آدمی کے لئے سونے کا تاج بنوانا بہت آسان ہوتا ہے مگر اپنی انا اور غرور کو توڑنا بہت مشکل ہوتا ہے۔“
    رانیہ نے گہرا سانس لیتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
    عشنا خاموش ہوگئی۔ یہ فلسفہ اس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔
    یکدم رانیہ کا موبائل بجنے لگا۔ اُس نے پرس میں سے موبائل نکال کر دیکھا تو موبائل کی اسکرین پر زوار کالنگ لکھا ہوا آرہا تھا۔
    ”دیکھیں …… زوار کا فون آرہا ہے۔ شاید اُسے ابguiltہورہا ہوگا اور آپ سے sorry کرنا چاہتا ہوگا۔“
    عشنا کی آواز پرجوش ہوگئی۔ رانیہ کی پیشانی شکن آلو دہوگئی۔
    وہ زوار کا فون نہیں اٹھانا چاہتی تھی۔
    ا س نے زوار کا فون کاٹ کر اس کا نمبر بلاک کردیا۔
    ”میں اب اس آدمی سے کبھی با ت نہیں کرنا چاہتی ہوں۔“
    اس نے قطعی انداز میں کہا
    عشنا نے اُسے روکنے کی کوشش کی۔
    ”بلاک تو نہ کریں اُسے۔“
    زوار کا فون آنے سے اُسے کچھ امید بندھ گئی تھی۔
    رانیہ کو عشنا پر غصہ آیا۔
    ”اس کا انکار سن کر بھی تمہیں اس سے ہمدردی ہورہی ہے!“
    وہ اس پر برس پڑی۔
    ”پھر وہ آپ کو فون کیوں کررہا ہے؟“
    عشنا نے الجھ کرکہا۔
    ”کیونکہ وہ ایک پاگل آدمی ہے۔ نفسیاتی مریض ہے۔“
    رانیہ نے خفگی سے کہا اور موبائل آف کرکے سائیڈٹیبل پررکھ دیا۔
    عشنا خاموش ہوگئی۔ اُسے احساس ہوا کہ اس وقت رانیہ سے زوار کے بارے میں بات کرنا بے کار ہے۔ وہ بہت غصے میں تھی مگر آخر رانیہ کو زوار پر اتنا غصہ کیوں تھا؟ ایسی کیا بات ہوگئی تھی۔ عشنا نے سوچا۔ اگر زوار نے سارہ کے معاملے میں انکار کردیا تھا تو اس میں اتنا ناراض ہونے والی کیا بات تھی۔ عشنا کو لگا کہ رانیہ اس سے کچھ چھپا رہی ہے۔ بات دراصل کچھ اور تھی۔
    رانیہ سونے کے لئے لیٹ گئی۔

  • چنبیلی کے پھول” (قسط نمبر2)“

    چنبیلی کے پھول” (قسط نمبر2)“

    قسط نمبر2
    ”چنبیلی کے پھول“

     

    ”کیا؟“
    عشنا نے یقینی سے سارہ کو دیکھ رہی تھی۔ اُس کے جواب نے اُسے ششدرہ کردیا تھا اُسے سارہ کے منہ سے ایسی کوئی بات سننے کی توقع بھی نہیں تھی۔
    سارہ کے چہرے پر گہری شام کے سائے تھے۔
    ”ہاں …… وہ میرے اسٹیپ فادر تھے۔“
    سارہ نے نظریں جھکائے ہوئے مدھم آواز میں اپنا جملہ دہرایا۔
    ”اسٹیپ فادر؟ مگر تم نے تو کہا تھا کہ وہ تمہارے پاپا ہیں۔“
    سارہ اپنے دونوں ہاتھ مسلتے ہوئے خاموش ہوگئی پھر اس نے گہرا سانس لیا۔
    ”میں انہیں پاپا ہی کہتی تھی،مگر وہ ممی کے سیکنڈ ہزبینڈ تھے۔“ اُس نے دھیمی آواز میں کہا۔
    ”اچھا!“
    عشنا حیران ہوئی اور سوچنے لگ گئی کہ ناصرہ تسکین نے گھر سے بھاگ کر جس امیر کبیر آدمی سے شادی کی تھی، تو وہ کون تھا بھلا……
    ”تو تمہارے اپنے فادر کہاں ہیں؟“
    عشنا نے حیرت بھری سنجیدگی سے پوچھا۔
    ”بہت سال پہلے میرے باباکیdeath ہوگئی تھی۔“
    سارہ نے اداسی سے کہا۔
    ”تو پھرتمہاری ممی نے دوسری شادی کب کی تھی؟ عشنا کے لئے انکشافات کا یہ سلسلہ بے حد حیران کن اور عجیب تھا۔
    ”ممی نے دوسری شادی کچھ سال پہلے پاکستان میں ہی کی تھی، پھر ممی کی فیملی نے ان کا بائیکاٹ کردیا اور ہم لوگ کینیڈا آگئے۔ ممی سمجھی تھیں کہ یہاں آکر ہم لوگ ایک نئی زندگی شروع کریں گے مگر یہاں آکرسب کچھ بدل گیا، جیسا ممی نے سوچا ویسا کچھ نہیں ہوا۔“
    سارہ نے افسردہ انداز میں بتایا۔
    ”اگر تمہاری ممی نے تمہارے بابا کیdeath کے بعد دوسری شادی کرلی تھی تو ان کی فیملی ان سے ناراض کیوں ہوگئی؟ کیا پاکستان میں عورتیں دوسری شادی نہیں کرسکتیں؟“
    عشنا نے سنجیدگی سے کہا۔ سارہ نے سرمزید جھکا لیا۔
    ”میرے پاس اس بات کا جواب نہیں ہے۔“
    سارہ نے مدھم مگر افسردہ آواز میں کہا۔
    عشنا بھی سارہ کی بات سن کر اداس ہوگئی۔
    ”کتنے rudeاور cruelہیں تمہارے خاندان والے…… دوسر ں کو معاف کرنے کا حوصلہ ہی نہیں رکھتے۔“
    عشنا نے افسوس سے کہا۔ وہ سارہ اور اس کی ممی کا دکھ محسوس کرسکتی تھی۔
    ”Cruelتو پاپا بھی تھے…… ممی نے انہیں بہت روکا تھا…… وہ بہت روئی تھیں مگر پاپا کو ان پر رحم نہیں آیا۔ وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے، انہوں نے ممی کو دھوکہ دیا تھا۔ممی نے اپنی زندگی میں بہت دکھ دیکھے ہیں۔“
    سارہ نے افسردہ آواز میں کہا۔ بہت چھوٹی سی عمر میں وہ اپنی ماں کو ٹوٹتے ہوئے دیکھ چکی تھی۔
    ”اوہ…… مجھے تو یہ سب سن کر بہت افسوس ہوا۔“
    عشنا افسردہ ہوگئی۔
    سارہ نے اداس آنکھیں اٹھاکر عشنا کی طرف دیکھا۔
    ”میں پاکستان جانا چاہتی ہوں کیونکہ وہاں کوئی میرا انتظار کررہا ہے۔“
    سارہ نے پراسرار لہجے میں کہا۔ اس کے انداز میں کوئی ایسی بات تھی جس نے عشنا کو چونکا دیا تھا۔
    ”کون؟“
    عشنا بری طرح ٹھٹک گئی۔
    ”ہے کوئیrelative۔“
    سارہ نے اسی پراسرار انداز میں جواب دیا۔
    ”کونrelative؟ دادا، دادی، نانا، نانی، خالہ، پھپھو؟“
    عشنا نے بے ساختہ پوچھا۔
    ناصرہ تسکین کی کہانی پرت در پرت کھلتی جارہی تھی اور مزید سنسنی خیز ہوتی جارہی تھی۔ ایک راز سے جڑے کئی راز تھے۔
    ”بس ہے کوئی رشتہ دار…… میں چاہتی ہوں کہ وہ ممی کو معاف کردے…… اس کے لئے مجھے پاکستان جانا ہوگا…… مگر نہ ممی خود پاکستان جانا چاہتی ہیں اور نہ ہی مجھے جانے دیتی ہیں۔“
    سارہ نے چونکا تے ہوئے انداز میں کہا۔
    ”تمہیں چاہیے کہ سوشل میڈیا پر اور فون کے ذریعے اسrelativeسے رابطہ کرو۔“
    عشنا نے پوچھتے ہوئے اُسے مشورہ دیا۔
    ”بہت کوشش کی ہم نے…… ممی انہیں فون کرتی ہیں مگر وہ ممی سے بات ہی نہیں کرتے۔ فون نہیں اٹھاتے، میسجز کا جواب نہیں دیتے…… اتنے سال گزر گئے مگر انہوں نے ممی کو معاف نہیں کیا۔ ممی تو بہت سالوں سے کوشش کررہی ہیں مگر انہیں کوئیsuccess نہیں ہوئی۔“
    سارہ نے اداسی سے جواب دیا۔
    عشنا کے ذہن میں فوراً ایک خیال آیا۔
    ”تم اس relative کا نام مجھے بتاؤ…… فون نمبر دو…… میں اُن سے contact کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں تمہارا یا ناصرہ آنٹی کا نام نہیں لوں گی…… کیا معلوم کچھ ہوجائے۔“
    عشنا کی آواز پرجوش ہوگئی۔
    سارہ نے بنچ پر پڑے بیگ کی جیب میں سے کاغذ اور پین نکالا اور کچھ لکھنے لگی۔
    ”عشنا میں تم پرtrust کرتی ہوں …… یہ میرے رشتہ دار کا نام ہے……میں ان کے پاس پاکستان جانا چاہتی ہوں، مگر یہ ہم سے بات نہیں کرتے…… تم ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کرو…… مگرpromis meعشنا،یہ ہم دونوں کاsecret ہے۔“
    سارہ نے کاغذ پر لکھتے ہوئے عشنا سے کہا۔
    ”Don’t worry Sara، تمہارا کام ضرور ہوجائے گا۔“
    عشنا نے کاغذ پرلکھی تحریر پڑھتے ہوئے سارہ کو تسلی دی۔
    اور اس کے بعد سارہ نے اُسے جو کچھ بتایا اُسے سن کر عشنا کی آنکھیں بے یقینی سے پھیل گئیں …… اُسے اتنا شاک سارہ کے سوتیلے پاپا کے بارے میں سن کر نہیں لگا تھا جتنا سارہ کے رشتہ دار کے بارے میں جان کر لگا۔
    ٭……٭……٭

    رانیہ کے گھر میں تناؤ کی سی کیفیت تھی۔ اُسے گھر والوں کے چہروں کو دیکھ کرہی محسوس ہوگیا تھا کہ وہ سب اُس سے ناراض ہیں۔ منہ سے تو کوئی کچھ نہیں کہتا تھا مگر اُن کے رویوں سے ایسا ہی لگتا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ گھر والوں کو حویلی میں شفٹ ہونے والی بات بہت بری لگی تھی۔ اس کے بعد اس حوالے سے گھر میں کوئی ذکر تو نہیں ہوا تھا مگر تناؤ اور کشیدگی کی فضا برقرار رہی۔ رانیہ شرمندہ بھی تھی۔ اُس کے گھر والے فارس کو ناپسند کرتے تھے اور وہ چاہنے کے باوجود کسی کے دل میں فارس کے لئے جگہ نہ بناپائی۔
    وہ اپنے کمرے سے باہر نکلتی تو گھر والے اُس سے نظریں چرا لیتے، اگر بات چیت میں مصروف ہوتے تو اُسے دیکھ کر خاموش ہوجاتے۔ رانیہ کے لئے یہ رویے تکلیف دہ تھے وہ پریشان تھی کہ کیا کرے اور کیا ناکرے۔ فارس کو بھی اُس سے گلے تھے اور اس کے گھر والے بھی اس سے ناراض تھے۔
    وہ اپنے کمرے میں اکیلی، چپ بیٹھی رہتی۔ اسے لگتا تھا کہ وہ اکیلی ہوگئی ہے۔ نہ کوئی اس کی بات سمجھتا ہے او رنہ کوئی اس کا ساتھ دیتا ہے۔ بذات خود اُسے چاند حویلی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی جس کی وجہ سے اس کی زندگی میں اِتنے مسائل پیدا ہوگئے تھے۔
    چاند حویلی دراصل رانیہ اور عنایا کے دادا کی حویلی تھی اور وہ وراثت میں رانیہ کے والد کے حصے میں آئی تھی۔ رانیہ کے دادا نے ایک بیوہ عورت سے شادی کی تھی جن کے پہلے شوہر سے ایک بیٹا بھی تھا جو فارس کے ابا تھے۔
    ساری زندگی رانیہ کے دادا، دادی نے دونوں بیٹوں میں فرق نہیں رکھا۔ رانیہ کے دادا نے اپنے سوتیلے بیٹے کو بھی وہی محبت اور شفقت دی جو اپنے بیٹے کو دی تھی مگر سوتیلے بیٹے ہونے کی وجہ سے وہ وراثت میں حصہ دار نہیں تھے اور رانیہ کے دادا نے وہ حویلی اپنی پوتیوں کے نام کردی تھی۔ اس بات کا فارس کی ماں کو گلہ تھا کہ انہوں نے ساری زندگی فارس کی دادا کی خدمتیں کیں، اُن کا خیال رکھا اور جائیداد انہوں نے کل کی بچیوں کے نام کردی۔
    فارس کا بچپن اس ہی حویلی میں گزرا تھا۔ اس جگہ سے اُس کی یادیں جڑی تھیں۔ اُسے ضد ہوگئی تھی کہ وہ اسی حویلی میں رہے گا اور اسی وجہ سے ہی اس نے رانیہ سے منگنی کی تھی، ورنہ رانیہ کے ساتھ کبھی کسی نے اُس کے چہرے پر خوشی تو دیکھی نہیں تھی۔
    ان حالات سے دلبرداشتہ ہوکر رانیہ نے دوبارہ تھیٹر جوائن کرلیا۔ اور اب وہ لوگ نئے ڈرامے macbeth کی ریہرسل کررہے تھے اور اس ڈرامے میں وہ لیڈی macbethکا کردار ادا کررہی تھی۔
    ”لیڈی میکبیتھ“ دراصل اسکاٹ لینڈ کی ملکہ تھی، یہ کردار رانیہ کے لئے بہت چیلنجنگ تھا اور وہ اس پر بہت محنت کررہی تھی۔
    وہ خوش تھی کہ وہ ایک بار پھر ملکہ بن رہی تھی اور اس طرح اُس کا کتھارسس بھی ہوجاتا تھا۔ وہ ایک حساس لڑکی تھی اور سوچتی تھی کہ کاش اُس کے پاس بھی ملکہ جیسے اختیارات ہوتے۔ یا کم از کم وہ فارس کے دل کی ملکہ تو ہوتی۔ وہ اُس کی منگیتر ضرور تھی مگر اُس کی ملکہ نہیں تھی۔
    وہ ریہرسل سے فارغ ہوئی تو واپسی پر فارس اُسے لینے آیا اور وہ دونوں ساحل سمندر پر چلے گئے۔
    فارس ہمیشہ کی طرح سنجیدہ تھا، رانیہ کو ہمیشہ اس کی سنجیدگی سے خوف آتا تھا۔
    ”پھر تمہاری امی اور ماموں نے کیا فیصلہ کیا؟ مجھے تو ان لوگوں نے صاف جواب دے دیا تھا…… مگر تمہاری بات پر تو ضرور غور کریں گے۔ وہ لوگ آخر کب تک اپنی من مانی کرتے رہیں گے۔“
    وہ سمندر کے کنارے گیلی ریت پر رانیہ کے ہمراہ چلتے ہوئے سنجیدگی سے بولا۔
    ”فیصلہ!“

    وہ ساکن سمندر کو دیکھ کر چند لمحوں کیلئے چپ سی ہوگئی۔
    ”فارس! وہ حویلی صرف میری نہیں ہے۔ عنایا کی بھی ہے اور عنایا اس بات کے لئے راضی نہیں ہے کہ میں اور تم شادی کے بعد وہاں رہیں۔“
    وہ مدھم آواز میں بولی۔
    ”عنایا راضی نہیں ہے یا تمہاری ماں اور ماموں راضی نہیں ہیں؟“
    وہ طنزیہ انداز میں بولا۔ اُس کی آواز میں دبا دبا سا غصہ تھا اور وہ اپنا غصہ بھی چھپانا نہیں جانتا تھا۔
    ”اس ضد کو چھوڑ دو فارس۔ گھر میں اس بات کی وجہ سے بہت جھگڑا ہوا ہے۔ سب لوگ مجھ سے ناراض ہیں۔“
    رانیہ نے اداسی سے کہا۔ اُسے خود پر بھی افسوس ہوا کہ وہ باوجود کوشش کے کسی کو بھی خوش نہیں رکھ پائی۔
    ”تمہاری امی اور ماموں تمہاری اور میری شادی کرنا ہی نہیں چاہتے ہیں …… تم بے وقوف لڑکی ہو جو ان لوگوں کی پلاننگ کو نہیں سمجھتی ہو۔ وہ لالچی لوگ ہیں اور تمہیں اپنے مفاد کے لئے استعمال کررہے ہیں۔“
    فارس رانیہ کے گھر والوں سے کچھ زیادہ ہی بدگمان تھا۔
    رانیہ نے فوراً اُسے وضاحت دی۔
    ”ایسی بات نہیں ہے فارس……دراصل تمہاری جاب……“
    فارس نے اُس کی بات کاٹ دی۔
    ”جاب تو مجھے مل ہی جائے گی…… ایک دو جگہ انٹرویو ز دیئے ہیں میں نے…… مسئلہ میری جاب کا نہیں ہے رانیہ…… مسئلہ چاند حویلی کا ہے…… تمہاری حویلی کا۔“
    فارس جھنجھلا کربولا۔
    اُسے اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کا فن آتا تھا۔ اُسے ہر چیز میں دوسروں پر الزام لگانے کی عادت تھی۔
    ”وہ صرف میری حویلی نہیں ہے فارس…… تم کیوں بھول جاتے ہو؟“
    رانیہ عاجز آگئی۔
    فارس کی ضد اُسے تکلیف دینے لگی تھی۔ وہ فارس کے ساتھ خوش رہنا چاہتی تھی مگر فارس ہر وقت کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا کرلیتا۔
    ”تم کیوں بھول جاتی ہو، کہ تم اُس حویلی کی مالک ہو۔ اس حویلی کے حوالے سے فیصلہ کرسکتی ہو۔“
    وہ اُسے اُکسا رہا تھا۔
    وہ چاہتا تھا رانیہ اُس کی مرضی کا فیصلہ کرے،وہی کرلے جو وہ چاہتا ہے۔ وہ رانیہ کے منہ سے کسی بھی چیز کے لئے کبھی انکار سننا ہی نہیں چاہتا تھا۔
    ”میں اکیلی مالک تو نہیں ہوں …… مجھے اپنی بہن کے مشورے کا بھی احترام کرنا ہوگا۔“
    رانیہ نے سنجیدگی سے کہا
    وہ ذرا ناراض ہوا۔