Tag: umera Ahmed

  • باغی ۔۔۔۔۔ قسط نمبر ۶ ۔۔۔۔ شاذیہ خان

    اگلے دن ماں اور مُنی ناشتہ کر رہی تھیں کہ منی نے ڈرتے ڈرتے بات شروع کی۔
    ”اماں ایک بات کہوں؟ناراض تو نہیں ہوگی؟”
    ”ہاں بول۔”ماں نے پراٹھے کا نوالہ منہ میں رکھتے ہوئے کہا۔
    ”اماں رات کو فوزیہ باجی کا فون آیا تھا۔” منی نے ہکلاہٹ سے کہا۔
    ” کیا فوزیہ کا فون… ” ماں نے حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر سوال کیا۔ منی اس کے پاس آگئی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔
    ” تو سو رہی تھی۔ باجی بات کرنا چاہ رہی تھی۔”
    ”اب کیوں بات کرنا چاہ رہی تھی وہ؟جب ہم سب مر جاتے تب بات کرتی۔تو نے بتایا نہیں اس کے جانے کے بعد ہم کتنی مصیبتوں میں ہیں۔”ماں نے دکھی لہجے میں کہا۔
    ”ہاں اماں باجی کہہ رہی تھی کہ میں مُنے اور گھر کے لیے پیسے بھیجوں گی۔” منی نے اسے دلاسا دیا۔
    ”وہ کہاں سے پیسے بھیجے گی؟”ماں نے تعجب سے سوال کیا۔
    ”باجی شہر میں ایک بڑی دکان پر کپڑے سیتی ہے۔”منی نے اشتیاق سے جواب دیا۔
    ”ہائے فوزیہ کے ہونے سے کتنا کچھ اچھا تھا اس کے جاتے ہی جیسے گھر کو نظر لگ گئی،بھائی الگ ہوگیا،تیرے باپ کا کام رُک گیا،گھر کو جیسے نظر لگ گئی۔” ماں فوزیہ کو یاد کرکے دکھی ہو رہی تھی۔
    ٭…٭…٭





    عابد نے دکان پر جاتے ہوئے گھر کے خرچ کے لیے اپنی ماں کے ہاتھ پر پیسے رکھے۔ ماں نے اتنے کم پیسے دیکھ کر اسے جھاڑنا شروع کر دیا۔
    ”اماں کیا کروں دکان ہی نہیں چل رہی۔تو چھوٹے سے کہہ کر کچھ پیسے دبئی سے منگوا۔”عابد نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔
    ” ارے! دکان کیسے نہیں چل رہی،اتنا سامان توڈلوایا تھا تیرے بھائی نے اور تو بار بار شہر جا کر خرید کر بھی لا رہا ہے۔ پھر دکان کیسے نہیں چل رہی؟”ماں نے حیرانی سے اونچی آواز میںپوچھا۔ماں بیٹے کی باتیں سن کر روبی بھی کمرے سے نکل آئی۔
    ”اماں جب تیرا بیٹا پورے گاؤں کی عورتوں کومفت میں سامان بانٹے گا تو منافع کیسے ہوگا۔”روبی نے آتے ہی طنز کیا۔
    ” تو چپ کر جا،زیادہ بولے گی تو مار کھائے گی۔”عابد روبی کی مداخلت پر غصے میں آگیا۔
    ” کیوں میں کیوں مار کھاؤں ،اماں تو اس سے پوچھ اس کی دکان پر عورتوں کا اتنا رش کیوں ہوتا ہے؟”روبی نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
    ”اماں دکان میں عورتوں کی چیزیں ہیں، عورتوں کا رش تو ہوگا۔”عابد نے ماں کی طر ف منہ کرتے ہوئے کہا۔
    ”تو منیاری کی دکان اسی لیے نہیں کھولتاکہ پھرپورے گاؤں کی آوارہ عورتیں پھر تیری دکان پر نہیں آئیں گی۔”روبی نے ایک اور طنز کیا تو عابد نے ایک چپل اس کی طرف پھینکی اور وہ اندر بھا گ گئی۔
    ”دیکھ اماں دیکھ! اس کی زبان کیسی قینچی کی طرح چل رہی ہے۔میں تیرا منہ توڑ دوں گا اگر آئندہ ایسی بدتمیزی کی تو۔”عابد نے غصے سے کہا۔
    ”او! بس کردے لڑنا،میری بات کا جواب دے۔ پیسے کیوں کم ہیں؟”ماں نے اپنا سوال دہرایا۔
    ”کیا جواب دوں اور منگوا اس سے پیسے ،اب سامان ختم ہورہا ہے دکان میں۔”عابد نے رکھائی سے کہا۔
    ”وہ اتنی محنت تیری عیاشیوں کے لیے نہیں کررہا وہاں کہ تو جب پیسے مانگے وہ تجھے بھیج دے۔”ماں نے غصے سے چیختے ہوئے عابد کو لتاڑا۔
    ”تو دیکھ لے کہ گھر کیسے چلے گا،میں تو اتنا ہی کرسکتا ہوں۔دکان کو تو جیسے نظر لگ گئی ہے۔”عابد نے فکرمندی سے کہا اور گھر سے باہر نکل گیا۔
    ٭…٭…٭
    کنول سوچوں میں گم اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔ریحان بھی اس کے پاس آگیا۔
    ”بے بی کیا کررہی ہو؟”ریحان نے سوچوں میں گم کنول سے پوچھا۔
    ”میری بات ہوئی تھی گھر پر ریحان، وہاں بہت مسائل کھڑے ہو گئے ہیں۔ ابا پریشان ہے،بھائی گھر چھوڑ گیا اور مُنے نے پڑھائی چھوڑ دی۔میں سوچ رہی ہوں کہ تھوڑے سے پیسے منی آرڈر کروا دوں۔”کنول نے متفکرانہ انداز میں جواب دیا۔
    ”دیکھو کنول ابھی تو تم خود ایسی سٹیج پر ہو جہاں پہلے خود کو مضبوط کیا جاتا ہے،اپنے اخراجات تو پورے کرو پہلے۔”ریحان نے اسے سمجھایا۔
    ”لیکن وہ میرے گھر والے ہیں میں انہیں پریشانی میں نہیں دیکھ سکتی۔”کنول نے دکھی لہجے میں کہا۔
    ”تم خود ابھی کتنا کما رہی ہو؟تمہارا اپنا خرچہ تومشکل سے چل رہا ہے اور گھر والوں کی مدد کرنے چلی ہو۔”ریحان نے طنز کیا۔
    ” نہیں ریحان!مجھے ان کے لیے بھی کچھ نہ کچھ کرناہے،یہ بہت ضروری ہے۔”کنول نے اٹل اندازمیں کہا۔
    ”تمہارا کچھ نہیں ہوسکتا لڑکی۔ تم نہیں بدل سکتیں،جو چاہو کرو۔مجھ سے مت پوچھو۔”ریحان نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔
    ”ہاں کل جاؤں گی پیسے منی آرڈر کرنے،تم بتاؤ کتنے بھیجوں؟”کنول نے پوچھا۔
    ”مجھے نہیں پتا،جودل کرتا ہے وہی کرو۔”ریحان اس سے خفا ہو گیا تھا۔
    ٭…٭…٭





    کنول نے اپنی فٹنس کا خیال رکھنے کے لیے ایک جم جوائن کر لیا۔یہ شہر کے پوش علاقے میں واقع اچھا خاصا مہنگا جم تھا۔ایکسرسائز کرنے کے بعد وہ پسینہ پونچھتے ہوئے ریحان کے پاس آگئی ۔
    ” یہ بہت اچھا جم ہے ریحان،یوں دنوں میں سمارٹ ہو جاؤں گی۔”کنول نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں اور بہت مہنگا بھی،بہت مشکل ہو جائے گا تمہارے لیے،کیسے مینج کرو گی؟”ریحان نے جم کے چاروں طرف نظر دوڑائی اور سوال کیا۔
    ”کر لوں گی مینج ،دنیا کو بھی تو مینج کر ہی رہی ہوں۔”کنول نے طنزیہ انداز میں جواب دیا۔
    ”وہی تو پوچھ رہا ہوں کیسے کرو گی؟ اب تم نے گاؤں بھی پیسے بھجوانے ہیں۔”ریحان نے حیرانی سے پوچھا۔
    ”ہاں وہ توبھجوانے ہی ہیں،بلکہ یہاں سے فارغ ہو جاؤں تو مجھے کسی پوسٹ آفس تک ڈراپ کردینا۔”کنول نے جواب دیا۔
    ”پھر سوچ لو۔ابھی کام نہیں ہے تمہارے پاس اور ابھی گھر والوں کو پیسوں کی عادت مت ڈالو۔”ریحان نے اسے ایک دفعہ اور سمجھانے کی کوشش کی۔
    ”ہاں پہلے بھی اپنا ہی سوچا تھا،مگر اب کچھ ہے ہی نہیں سوچنے والا ۔”کنول نے اداسی سے جواب دیا۔
    ”اچھا چلو اداس مت ہو،جو ہوگا دیکھا جائے گا۔فی الحال اپنا کام کرو۔”ریحان نے اسے اداس دیکھ کر بات بدل دی۔
    ٭…٭…٭
    ریحان نے اسے پوسٹ آفس کے باہر ڈراپ کیا۔ اندر داخل ہونے سے پہلے اس نے اپنا پرس کھولا تو بے دھیانی میں اس میں موجود پیسے نیچے گر گئے جس کا اسے پتا ہی نہ چلا۔ وہ پوسٹ آفس کے اندر چلی گئی اور منی آرڈر بھیجنے کا طریقہ معلوم کیا۔جب اس نے پیسے نکالنے کے لیے بیگ کھولا تو خالی پرس اس کا منہ چڑا رہا تھا۔ وہ بدحواسی کے عالم میں ادھر ادھر پیسے ڈھونڈنے لگی ۔پیسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ پوسٹ آفس سے باہر نکل کر اس جگہ پر آگئی جہاں ریحان نے اسے ڈراپ کیا تھا۔
    وہ پریشانی سے یہاں وہاں بھاگ دوڑ کر رہی تھی کہ ایک گاڑی کا دروازہ کھلا اور اس میں سے ایک نوجوان باہر نکلا۔کنول اس کی طرف بڑھی۔
    ”سُنیں! آپ نے میرے پیسے تو نہیں دیکھے؟”
    ”نہیں! مگر کیا بہت بڑی رقم تھی؟”شہریار نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
    ”میرے لیے تو تھی کیوں کہ مجھے اپنے ماں باپ کو گاؤں بھیجنا تھے۔”کنول نے پریشانی سے کہا۔
    ”Oh I seeکتنی رقم بھیجنی تھی آپ نے؟” شہریار نے اس پر ایک نظر ڈالی پھر بولا۔”میں آپ کو پیسے دے دیتا ہوں۔”
    ”کیوں؟ آپ کیوں دیں گے جب آپ مجھے جانتے ہی نہیں۔”کنول نے غصے سے پوچھا۔
    ”یہ لیں یہ رکھ لیں۔”شہریار نے اپنے والٹ سے پیسے نکالے اور اس کی طرف بڑھادیے۔
    ”سنیں!آپ مجھے کیا سمجھ رہے ہیں، میں کیسی عورت ہوں؟”کنول نے اس کے ہاتھ میں پکڑے پیسوں کو اگنور کرتے ہوئے غصے سے پوچھا۔
    ”اس وقت میں میں آپ کو عورت نہیں صرف ضرورت مند سمجھ رہا ہوں۔ رکھ لیں،شاباش۔”شہریار نے اطمینان سے جواب دیا۔
    ”اچھا ٹھیک ہے،مگر آپ اپنا کارڈ بھی دے دیں مجھے۔”کنول نے کچھ سوچ کر پیسے پکڑ لیے۔
    ”کارڈ کیوں؟”شہریار نے حیرانی سے پوچھا۔
    ”آپ پہلے آدمی ہیں جس نے اپنا کارڈ دیے بغیر ایک عورت کو پیسے دیے۔”کنول نے طنزیہ انداز میں جواب دیا۔
    ”سنیں!دنیا میں سب آدمی ایک جیسے نہیں ہوتے۔”شہریار نے رسان سے کہا۔
    ”اچھا آپ کہتے ہیں تو مان لیتے ہیں۔ٹھیک ہے میں لے لیتی ہوں مگر ایک شرط پر،پہلے آپ کارڈ دیں میں آپ کے پیسے جلد ہی لوٹا دوں گی۔”کنول نے اصرار کرتے ہوئے کہا۔
    ”رہنے دیں اس کی ضرورت نہیں۔”شہریار نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔
    ”اس کی ضرورت مجھے ہے،شایدآپ کو نہ ہو۔”کنول نے قطعیت سے کہا۔
    ”اوکے آپ ضد کررہی ہیں تو یہ رکھیں۔”شہریار نے اپنے والٹ سے وزیٹنگ کارڈ نکال کر اس کی طرف بڑھا دیا۔
    ٭…٭…٭
    امام بخش اپنے کام پر جانے کے لیے گھر سے نکلنے ہی لگا کہ دروازے پر ڈاکیا آگیا اور امام بخش کو آوازیں دینے لگا۔
    ”امام بخش! او امام بخش!”
    ”ہاں بھائی کیا ہو گیا؟کیوں آوازیں دے رہا ہے؟”امام بخش نے دروازہ کھول کر پوچھا۔
    ”امام بخش یہ شہر سے تیرے لیے منی آرڈر آیا ہے۔”ڈاکیے نے ایک کاغذ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
    ”شہر سے ؟مگر کس نے بھیجا ہے؟”امام بخش نے حیرانی سے کاغذ کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔
    ”ریحان نام کا بندہ ہے کوئی۔”ڈاکیے نے بے پروائی سے جواب دیا۔
    ”لیکن میں تو کسی ریحان کو نہیں جانتا۔”امام بخش نے کہا اور کاغذ پر لکھا پتا دیکھنے لگا۔
    ”دیکھ لو اس پر پتا تو تمہارے گھر کا ہی ہے۔”ڈاکیے نے کہا۔
    ”ہاں اس پر لکھا پتا تو میرے گھر کا ہی ہے،لیکن مجھے کون بھیج سکتا ہے۔ بھائی دیکھ لے کسی اور کا نہ ہو۔”امام بخش نے پارسل دوبارہ ڈاکیے کی طرف بڑھا دیا۔
    ”لو پھر پکڑو جلدی مجھے آگے بھی ڈاک پہنچانی ہے۔”” لیکن!”امام بخش تذبذب کا شکار تھا۔اس نے انگوٹھا لگانے کو کاغذ آگے بڑھایا۔
    ” لیکن ویکن کچھ نہیں یہاں انگوٹھا لگاؤ اور پیسے پکڑو۔”ڈاکیے نے کہا اور امام بخش نے انگوٹھا لگا کر پیسے پکڑ لیے۔ڈاکیے کو رخصت کرنے کے بعد امام بخش اندر آیا اور اپنی بیوی کو آواز دی۔
    ”رحیم کی ماں سن!ادھر ، کہاں ہے تو؟”
    ”ہاں بول کیا ہے؟”ماں دوپٹے سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے اس کے پاس آگئی۔
    ”یہ دیکھ گھر کے پتے پر شہر سے پیسے آئے ہیں۔”امام بخش نے پیسے اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
    ”پیسے؟”ماں نے حیرانی سے پوچھا۔
    ”ہاں پورے دس ہزار ہیں،کون بھیج سکتا ہے؟”امام بخش نے بھی اسی حیرانی سے کہا۔
    ”ابا باجی نے بھیجے ہوں گے۔فون آیا تھا اس کا، اس نے کہا تھا بھیجے گی گھر کے خرچے کے لیے۔”منی نے جھجکتے ہوئے کہا۔
    ”فوزیہ کا؟ اس کا فون اب کیوں آیا تھا؟ وہ کیا سمجھتی ہے میں اب بیٹی کی کمائی کھاؤں گا؟”باپ نے غصے سے کہا۔
    ”ابا اس کی محنت کی کمائی ہے،ایسا نہ بول۔”منی نے باپ کو سمجھایا۔
    ”نہ وہاں کیا محنت کررہی ہے جو اتنے پیسے بھیج دیے؟”باپ نے طنز سے پوچھا۔
    ”باجی وہاں ایک بڑی دکان پرکپڑے سلائی کرتی ہے۔”منی نے اشتیاق سے جواب دیا۔
    ”کپڑے سینے میں اتنے پیسے ملتے ہیں کہ اس نے ہمیں بھی بھیج دیے؟”باپ کے لہجے میں طنز برقرار تھا۔
    ”ابا رکھ لے! اب کیوں جھگڑ رہا ہے۔”منی نے ایک دفعہ پھر باپ کو سمجھانے کی کوشش کی۔
    ”نہیں چاہئیں مجھے اس کے پیسے۔”یہ کہہ کر باپ نے پیسے دور پھینک دیے توماں نے لپک کر اُٹھا لیے اور بولی۔
    ”ارے ارے کیا کررہا ہے؟ کوڑا کرکٹ نہیں ،پیسہ ہے یہ، رزق ہے، قدر کرو اس کی۔آخر ہمارے اپنے ہی نے تو بھیجے ہیں کسی غیر نے تو نہیں۔”
    ”تیری اپنی ہوگی ،تو رکھ لے۔میرے سامنے نام بھی مت لینا اس کا۔”امام بخش نے درشتی سے بیوی کو ڈانٹا۔
    ”ہاں تو نہ رکھ اس سے ہماری بہت سی ضرورتیں پوری ہوں گی۔میں تو نہیں پھینکنے والی۔”ماں نے کہا اور پیسے لے کر اندر چلی گئی۔
    ٭…٭…٭





    کنول ٹی وی پر وہی میوزک شو دیکھ رہی تھی جس میں اس نے حصہ لیا تھا اور ججز کی بدتمیزی سہی تھی۔وہی قسط نشر ہو رہی تھی جس میں اس نے بھی آڈیشن دیا تھا۔آڈیشن کے برعکس اسے ٹی وی پر نشر ہونے والی قسط میں ایک بے وقوف اور مزاحیہ کردار کے طور پر پیش کیا گیا تھا جو وہاں موجود لوگوں، ججزاور اب دیکھنے والوں کے لیے تفریح طبع کا سامان تھا۔
    ” ریحان دیکھو!یہ سین بالکل ایسا نہیں تھا جیسا اب نظر آرہا ہے۔ان لوگوں نے کتنی بے ایمانی کی ہے، کتنا مذاق بنایا ہے میرا۔”کنول غصے سے ٹی وی کی طرف اشارہ کرتے ہوئی بولی۔
    ”میں تو پہلے ہی منع کررہا تھا۔تمہیں اس پروگرام میں جانا ہی نہیں چاہیے تھا، وہ جگہ تمہارے لیے نہیں تھی۔”ریحان نے قدرے ناراضی سے کہا۔
    ”کیوں نہیں جانا چاہیے تھا؟مجھے اس لیے وہاں سے نکال دیاکیوں کہ میں سفارشی نہیں تھی؟اورکسی بڑے برانڈ نے مجھے سپانسر نہیں کیا تھا؟”کنول تپ گئی تھی۔
    ”سب کچھ تو تمہیں معلوم ہے،ایسے پروگرامز میں یہی سب کچھ چلتا ہے۔اگر تگڑی سفارش ہے تو سب اپنا ہے،کوئی بے سُرا بھی چل جائے گا۔کیا سمجھیں؟”ریحان نے انڈسٹری کی حقیقت اس پر آشکار کرتے ہوئے کہا۔کنول اس کی بات پر دھیان دینے کے بہ جائے کسی گہری سوچ میں گم تھی۔
    ”کنول میں تم سے بات کررہا ہوں،کیا سوچ رہی ہو۔”ریحان نے اسے گم صم دیکھ کر پوچھا۔
    ”نہیں کچھ نہیں۔”کنول نے چونک کر جواب دیا۔
    ”نہیں کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔”ریحان نے اصرار کیا۔
    ”میں سوچ رہی ہوں کہ یہ پروگرام گھر والوں نے بھی دیکھا ہوگا،پہچان نہ گئے ہوں۔” کنول کے لہجے میں پریشانی جھلک رہی تھی۔
    ”یقینادیکھا ہوگا،اتنا ڈر تھا گھر والوں کا تو نہ کرتیں یہ پروگرام۔”ریحان نے بے پروائی سے کہا۔
    ”نہیں میں ڈر تو نہیں رہی مگر گھر پر یہی بتا کر پیسے بھیجے ہیں کہ بوتیک کا کام کررہی ہوں۔ اگر انہیں معلوم ہوا کہ میں…”اس نے فکرمندی سے کہا۔
    ”چھوڑو پریشان ہونا،اب اس فیلڈ میں قدم رکھا ہے تو ہمت کرو،کچھ نہیں ہوتا۔”ریحان نے اسے تسلی دی۔
    وہ لیپ ٹاپ پراپنی ویڈیوپر آئے ہوئے مختلف لوگوں کے تبصرے پڑھنے لگی ۔
    ” تم ذرا ان لوگوں کو دیکھو ریحان،کس طرح کے کمنٹس کررہے ہیں۔”
    ”برداشت کرو یار،دنوں میں سٹار بن جاؤ گی۔ تب یہی لوگ تمہاری تعریفوں کے کمنٹس کریں گے، لائیکس سے تمہارا پیج بھر جائے گا۔”ریحان نے اسے سمجھایا اور اس نے منہ بنا کر ریحان کی طرف دیکھا۔
    ٭…٭…٭
    گوہر اپنے آفس میں بیٹھا ٹی وی پر آنے والا میوزک شو دیکھ رہا تھا جس میں کنول نے حصہ لیا تھا کہ اس کافون بج اُٹھا۔اُس نے فون ریسیو کیا اورہشاش بشاش ہوکر کہا۔
    ”ہیلوعظیم صاحب کیسے ہیں؟”
    ”بھائی ابھی ٹی وی پر ایک پروگرام چل رہا تھا۔اس میں جو ماڈل تھیں کنول بلوچ،کیاوہ اب آپ کی ماڈل ہیں؟”عظیم نے سلام دعا کے بعد پوچھا۔
    ”ہاں! جی ہاں وہ ہماری ہی ماڈل ہیں۔”گوہر نے بتیسی نکالتے ہوئے جواب دیا۔
    ”بھئی واہ آپ تو اپنی ماڈلز کو بڑا پروموٹ کرتے ہیں۔ سب سے زیادہ فوٹیج آج کے پروگرام میں اسی کو ملی ہے،یہ تو راتوں رات سٹار بن جائے گی۔”عظیم نے کہا ۔
    ”ہاں یہ تو ہے۔”گوہر سر ہلانے لگا۔
    ”آپ نے اس کے ساتھ کوئی ایگریمنٹ کیا ہے؟”عظیم نے پوچھا۔
    ”جی بالکل،ہمارا ایگریمنٹ ہے۔”گوہر نے فوراً جواب دیا۔




  • بھولو کی بے وقوفی

    بھولو کی بے وقوفی

    بھولو کی بے وقوفی
    معاویہ مومن

    ایک دفعہ کا ذکر ہے کسی گاؤں میں ایک بُڑھیا رہتی تھی۔ اُس کا بیٹا ”بھولُو” بڑا ہی بے وقوف تھا۔ ایک دن بُڑھیا نے بھولُو کو کچھ سامان خریدنے بازار بھیجا۔ بھولُو نے بُڑھیا سے دو سِکّے لیے اور بازار کی طرف چل پڑا۔ چلتے چلتے اسے ٹھوکر لگی اور دونوں سِکّے کہیں گر گئے۔ بھولُو بہت پریشان ہوا۔ اُس نے واپس آکر اپنی امّی کو بتایا کہ سکّے گم گئے ہیں۔ بُڑھیا نے سمجھایا: ”بیٹا اس طرح کی چیزوں کو جیب میں رکھتے ہیں۔”
    دوسرے دن بُڑھیا نے بھولُو کو گھی لانے کے لیے بازار بھیجا۔ اِس بار بھولُو نے دکان سے گھی لیا اور اپنی جیب میں ٹھونس لیا۔ گھر پہنچتے پہنچتے سارا گھی پگھل کر بہ گیا۔ بھولُو نے دیکھا تو پریشان ہوگیا۔ بُڑھیا نے اُسے پھر سمجھایا: ”بیٹا! اِس طرح کی چیزوں کو مرتبان یا ڈبے میں ڈال کر لاتے ہیں۔” اگلے دن بھولُو ایک بار پھر بازار گیا۔ اُس نے دو چوزے خریدے اور انہیں ڈبے میں بند کرکے گھر لے آیا۔ جیسے ہی بُڑھیا نے ڈبہ کھولا، اندر سے دو چوزے نکلے جو دم گھٹنے سے مرچکے تھے۔
    بُڑھیا نے افسردہ ہوکر کہا: ”بیٹا ایسی چیزیں ہاتھوں میں اٹھا کر لاتے ہیں۔” چناں چہ اگلے دن بھولُو نے بازار سے گدھے کا ایک بچہ خریدا اور اسے اپنے کندھوں پر سوار کرلیا۔ گدھے کا بچہ اُس کے کندھوں پر ٹِک ہی نہیں رہا تھا۔ بھولُو بڑی مشکل سے اپنے گھر کی جانب روانہ ہوا۔
    راستے میں ایک اُداس شہزادی کا محل تھا۔ شہزادی نے اُس دن اعلان کر رکھا تھا کہ جو بھی اُسے ہنسائے گا وہ اِسے انعام دے گی۔ شام ہونے کو تھی لیکن کوئی بھی شہزادی کو ہنسانہ سکا۔ ایسے میں محل کے سامنے سے بھولُو کا گزر ہوا جس نے بڑی مشکل سے اپنے کندھوں پر گدھے کا بچہ اُٹھا رکھا تھا۔ یہ دیکھتے ہی شہزادی کی ہنسی چھوٹ گئی۔ اُس نے بھولو کو بلا کر بہت سارے انعامات دیے۔

    ٭…٭…٭

  • باغی – قسط نمبر ۱ – شاذیہ خان

    گاؤں کی سب سے الہڑ،بے باک اور منہ پھٹ مٹیار فوزیہ بتول تھی جو کسی کو خاطر میں نہ لاتی،جس راستے سے گزرتی نوجوان اپنا دل راہ میں بچھائے اس کی ایک نظر کو ترستے لیکن وہ کسی کو گھاس نہ ڈالتی بلکہ اکثر کو تو بے بھاؤ کی سُننی پڑتیں۔ میٹرک تک تو اس کے باپ نے جیسے تیسے اُسے سرکاری اسکول میںپڑھا دیا تھا لیکن آگے پڑھنے کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی جس کے لیے وہ خود کوشش کرتی کہ پراندے بناکر کچھ نہ کچھ جمع کرلے لیکن چھوٹے بھائی سے اتنا پیار تھا کہ اپنے لیے جمع کیے ہوئے پیسوں سے اس کی فیس ادا کر دیتی یا کتابیں وغیرہ خرید کر دے دیتی۔وہ منے سے پیار بھی بہت کرتی تھی۔ روزانہ اس کے ہاتھ میں خرچ کے پیسے تھماتی اور تاکید کرتی کہ پڑھ لکھ کر گھر کا بڑا مرد بن تاکہ باپ کا بوجھ کچھ کم ہوسکے۔بڑے بھائی رحیم نے تو اپنی اوقات دکھادی تھی۔ شادی کے بعد پورا زن مرید بن گیا تھا۔جورو کا غلام ہر کام بیوی سے پوچھ کرکرتا، اس کی وجہ سے بہن اور ماں سے جھگڑا کرتا۔ فوزیہ چوں کہ منہ پھٹ تھی اس لیے رحیم اورفوزیہ کی آپس میںبالکل نہ بنتی۔ رحیم کی بیوی اسما کو بھی فوزیہ سے اللہ واسطے کا بیر تھا۔ فوزیہ چوں کہ بھائی بھابی کی جی حضوری نہیں کرتی تھی اس لیے روزانہ کسی نہ کسی بات پر بہن بھائی میں تکرار ہوتی۔ تین بہنوں دو بھائیوںمیں فوزیہ کا نمبر تیسرا تھا ۔ بڑا بھائی رحیم پھر نازیہ ، فوزیہ، مُنی اور مُنا۔
    مُنابہن بھائیوں میںسب سے چھوٹا تھا لیکن فوزیہ سے اس کی بہت بنتی تھی۔وہ خیال بھی تو بہت رکھتی تھی اس کی پڑھائی کا، اس کے کپڑوں کا اسی لیے منا اپنی ہر ضرورت باپ کے بہ جائے بہن سے ہی کہتا تھا۔روزانہ اسکول بھیجتے وقت فوزیہ اسے ایک کالا ٹیکا لگانا نہ بھولتی۔ اس کا خیال تھا کہ منابہن بھائیوں میں سب سے خوب صورت ہے اور اسے جلد نظر لگ جاتی ہے۔





    آج بھی اسکول بھیجتے وقت فوزیہ نے چھوٹے بھائی کو کانوں کے پیچھے کالا ٹیکا لگایا اور گالوں پر ایک زور دار پیار کیا جسے مُنے نے منہ بناتے ہوئے صاف کیا۔
    ”اوہو باجی!”
    ”نظر نہ لگے میرے ویر کو،کتنا سوہنا لگ رہا ہے۔” اس نے یہ کہتے ہوئے ایک پیار بھری نگاہ بھائی پر ڈالی اور بیگ اس کے کندھے پر ڈالا۔”باجی! اب میں جاؤں؟”منے نے بڑے معصومانہ انداز میں پوچھا۔
    ”ہاں ہاں چل، تو نکل اسکول لگنے والا ہوگا مگر دیکھ سنبھل کر جانا اور راستے میں کسی سے بات نہ کرنا، تو بھی ہر کسی سے بات کرنے کھڑا ہو جاتا ہے۔” گیارہ سالہ منے نے اس کی بات سمجھ کر سر ہلایا اور بولا۔
    ”باجی تو فکر نہ کر،یہ بات تو مجھے روز سمجھاتی ہے۔”
    ”اور تو روز بھول جاتا ہے۔ ہر کسی سے بات کرنے کھڑا ہو جاتا ہے۔”فوزیہ نے بھی اس کے سر پر ایک چپت لگاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”توبہ میری باجی،اب نہیں کرتاایسی غلطی۔”وہ کان پکڑتے ہوئے بولا۔
    ”دیکھ مُنے غلطی کرلیا کر مگر گناہ کبھی نہ کرنا۔” وہ معصومانہ انداز میں بولی اور اس کے ساتھ چلتی ہوئی کمرے سے نکل آئی۔
    ”دیکھ مُنے غلطی کی معافی ہے گناہ کی معافی نہیں۔”اس نے سمجھایا اورپھر اس کے پیچھے چل پڑی،منے نے منہ بنایا۔
    ”کیا مطلب باجی؟ ” اس نے ناسمجھنے والے انداز میں پوچھا۔
    ”چل چل تو اب نکل،تجھے دیر ہورہی ہے ۔باقی باتیں بعد میں۔”
    وہ دونوں باتیں کرتے اب صحن تک آگئے تھے۔
    ”تو یہیں رک، دروازے پر مت آنا،میرے دوست مجھے چھیڑتے ہیں۔”
    ”ارے ایسے کیسے؟ میں تجھے دروازے تک چھوڑنے آؤں گی ۔چل میرے ساتھ،اور تیرے دوست کیوں چھیڑتے ہیں؟” اس نے حیرانی سے پوچھا۔
    ”وہ کہتے ہیں تو اتنا بڑا ہوگیا اور تیری بہن تیرا ہاتھ تھام کر دروازے تک چھوڑنے آتی ہے۔” وہ ڈر ڈر کر بولا۔
    ”ایک جھانپڑ دوں گی تجھے اور تیرے دوستوں کو،سب مذاق وزاق بھول جائے گاتجھے بھی اور تیرے دوستوں کو بھی۔” اس نے مصنوعی غصہ دکھایا۔
    ”باجی خرچا تو دے اسکول کا۔” دروازے پر کھڑے ہوکر منے نے فوزیہ سے کہا تو اس نے پلو میںبندھے نوٹ نکالے اور دس کا نوٹ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہنے لگی۔
    ”ہاں جب تو خرچہ مانگتا ہے تب تو تیرے دوست کچھ نہیں کہتے مگر بہن کی انگلی پکڑکر دروازے تک آنے پر باتیں بناتے ہیں۔” منا نوٹ پکڑ کر خوشی خوشی گلی میں بھاگ نکلا اور وہ دور تک اسے جاتا دیکھتی رہی کہ اچانک پیچھے سے ماں کی آواز آئی۔
    ”او ری فوزیہ! نی دروازے پر ہی کھڑی رہے گی یا اندر آکر کچھ کام وغیرہ بھی دیکھے گی۔”وہ منہ بناکر ماں کے پاس آگئی۔
    ”کیا تھا اماں ، تُو مجھے بھی پڑھا دیتی۔” اس نے صحن میں پڑی چارپائی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں… پڑھا کر تجھے تیر سے تلوار کردیتی۔پہلے ہی دیدہ ہوائی ہے تیرا،چل کپڑے دھو۔” ماں نے بہت خفگی سے بڑ بڑاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”فوزیہ کپڑے دھو… فوزیہ جھاڑو لگا… فوزیہ روٹی پکا… فوزیہ جوتے اُٹھا۔کتاب چھپوا کر دے دو ان ساری باتوں کی۔”یہ کہتے ہوئے وہ اندرونی کمرے کی طرف چلی گئی۔
    ”جوتے کھائے گی جس گھر میں جائے گی۔” ماں نے اُسے اندر جاتے دیکھ کرکہا۔
    اندر جاتی ہوئی فوزیہ نے اس کی بات سن کر مڑ کرجواب دیا۔
    ”جوتے ایسے ہی کھاؤں گی؟دو آگے سے بھی ٹکاؤں گی۔” ماں نے اس کی بات سن کر چارپائی کے پاس پڑا جوتا اُٹھا کر پوری قوت سے اس کی طرف اُچھالا اور وہ چلائی۔
    ”اماں جوتی نہ ماریں۔”یہ کہہ کر اس نے دوڑ لگا دی۔
    ٭…٭…٭





    ساجد کی ماں صحن موجودہ گائے کے اپلوں کو ایک کونے میں بنی چھوٹی سی کٹیا میں ڈھیری کی صورت جما رہی تھی تا کہ بہ وقت ضرورت کام آسکے۔ ساتھ ساتھ غصے سے اس کی بُڑبُڑاہٹ بھی جاری تھی۔ اتنے میں ساجد صحن میں مسواک کرتا داخل ہوا اور ٹیڑھی نظر سے غصے میں بڑبڑاتی ماں کو دیکھااور اس کے پاس آگیا۔
    آج اس نے دل میں پورا ارادہ کرلیا تھا کہ اپنی اور فوزیہ کی شادی کی بات کرکے رہے گا۔ حالاں کہ وہ جانتا تھا ماں فوزیہ کو سخت ناپسند کرتی ہے۔اسما سے لڑائی میں اکثر فوزیہ کی ہی جیت ہوتی اور اسما کی ماں کا بس نہیں چلتا تھا کہ اس کی چلتی زبان پرسیمنٹ ڈلوا کر پکا پکا ہی بند کروادے۔اس کا دل بُرا کرنے میں اسما کا بھی بہت ہاتھ تھا جو ہر دوسرے دن گھر آکر فوزیہ کی زبان درازی کے جھوٹے سچے قصے دل سے گھڑ کر سناتی،لیکن ساجد پر اس کی کسی بات کا کوئی اثر نہ ہوتا کیوں کہ وہ تو فوزیہ کو کب سے دل میں بسائے اس کے خواب دیکھ رہا تھا۔اُدھرفوزیہ اُسے سخت ناپسند کرتی تھی۔اسے لوفروں کی طرح باتیں کرتا ساجد ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ وہ ذرا ذرا سی بات پر فری ہونے کی کوشش کرتا اورفوزیہ اکثر اسے جھاڑ دیا کرتی۔ ساجد کا خیال تھا کہ شادی سے پہلے ہر لڑکی یوں ہی نخرے دکھاتی ہے،شادی ہوجائے گی تو وہ بھی ٹھیک ہوجائے گی۔ اسی لیے آج اس نے اپنی ماں سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔
    ”اماں مجھے ایک بات کرنی ہے تجھ سے۔”
    ماں نے اپلے ڈھیری کی طرف پھینکتے ہوئے ہاتھ جھاڑتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اورپوچھا۔
    ”ہاں بول… تو کب سے پوچھ پوچھ کر بات کرنے لگا۔”وہ حیران ہوئی۔
    ”توبس میری شادی کرا دے۔”وہ ایک نادان بچے کی طرح مچلتے ہوئے بولا جسے اپنا کوئی من پسند کھلونا چاہیے تھا۔
    ”یہ صبح سویرے شادی کا بھوت کہاں سے چمٹ گیا تجھے؟” ماں نے خفگی سے پوچھا۔
    ”صبح سویرے کی کیا بات ہے؟کیا میں تجھ سے کہتا نہیں رہا شادی کا؟”ساجداسی انداز میں مسواک چباتے ہوئے بولا۔
    ”ٹک کر کوئی کام تو کر لے چار دن۔دو کمرے ڈال دے پکّے،پھر ہو جائے گی شادی بھی۔”ماںنے اس کی ہٹ دھرمی کو بچوں کی ضد سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔
    ”تیری ایسی ہی باتوں کی وجہ سے مجھے غصہ آتا ہے تجھ پر۔”وہ منہ بناتے ہوئے بولا۔
    ”کہاں کروں رشتہ بتا؟ کون دے تجھے لڑکی؟”وہ خفگی سے بولی۔
    ”کیوں؟ تیرے بیٹے کو انکار کرنے کی جرأت کس میں ہے؟ پر ماںمیں نے شادی فوزیہ سے ہی کرنی ہے۔” وہ بچوں کی طرح ضد کرتے ہوئے بولا۔
    ”فٹے منہ تیرا… نہ تیری شکل اچھی ہے، نہ تیری بات۔ماں کے مقابلے میں لا رہا ہے اس چڑیل کو۔” ماں نے غصے سے پلٹ کر دیکھا۔
    ”اماں اسے چڑیل مت کہہ۔” ساجد نے منہ بنایا۔
    ”خبردار! میرے سامنے آئندہ اس کا نام بھی لیا تونے اپنی زبان سے۔یہ نہیں ہوسکتا،سن لے صاف صاف۔”
    ”تو بس ٹھیک ہے تو بھی بھول جا اپنے بیٹے کے سہرے کے پھول کھلانے کاخیال۔ میں نے بھی شادی نہیں کرنی۔” وہ غصے سے دروازے سے نکل گیا۔
    ”او ساجد!او ساجد سن تو، رک تو صحیح۔” ساجد کی ماں پریشانی سے چلاتی رہ گئی۔
    ٭…٭…٭





    امام بخش آج صبح ہی مرغی دے کر گیا تھا کہ شام کو کسی دوست نے آنا ہے گھر بھی صاف کرلینا اور اچھی سی مرغی بھی پکا لینا۔ اسی لیے مُنی فوزیہ کے ساتھ مل کر اپنے اور فوزیہ کے مشترکہ کمرے کی چارپائیوں پر بچھی چادریں جھاڑ کر دوبارہ بچھا رہی تھی۔کمرے میں پڑا ایک چھوٹا سا بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی بھی آن تھا اور فوزیہ کی نظریں کام کرتے ہوئے بار بار بے چینی سے ٹی وی پر پڑ رہی تھیںجیسے اسے کسی پروگرام کاانتظار ہو۔ ٹی وی پر جمی نظروں کی وجہ سے وہ ٹھیک طرح سے بستر پر چادر نہیں ڈال پاتی، جس کا ایک سرا مُنی نے اور ایک سرا اس نے پکڑا ہوا تھا۔ مُنی جھنجھلا سی گئی ۔
    ”باجی ، بستر ٹھیک کرلو، پھر دیکھ لینا ٹی وی۔” ٹی وی اسکرین پر ایک فیشن شو میں ماڈلز ریمپ پر کیٹ واک کررہی تھیں جو فوزیہ کی پوری توجہ اپنی جانب مبذول کروائے ہوئے تھیں۔
    ”ٹھیک توکردیاہے بستر،اور کیا کروں؟صبح سے لے کر شام تک بس یہی کام تو رہتا ہے۔صفائی کرو، گند ڈالو، پھر صفائی کرو ، پھر گند ڈالو۔یہ جو امیروں کے گھر ہوتے ہیں، پتا نہیں یہ ہر وقت کیسے صاف ستھرے رہتے ہیں؟” اس نے یہ کہتے ہوئے حسرت سے ٹی وی کی جانب دیکھا جس پر بریک میں کسی ڈرامے کا پرومو چل رہا تھا جس میں گھر والے ایک خوب صورت ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے تھے۔ مُنی کی پوری توجہ ابھی بستر ٹھیک کرنے پر ہی تھی۔
    ”سن باجی آج مرغی پکنی ہے ہمارے گھر۔”مُنی نے اس کی توجہ ہٹانے کے لیے اپنے طور پر ایک بڑا انکشاف کیا۔
    ”اچھا! کون لایا ہے مرغی؟”تکیہ جھاڑتے ہوئے فوزیہ نے بھی اشتیاق سے پوچھا۔
    ”ابّا لایا ہے۔”مُنی بے پروائی سے بولی۔
    ”آج تو جمعہ بھی نہیں، پھر آج کس خوشی میں مرغی پکارہے ہیں؟” فوزیہ نے قدرے تشویش سے پوچھا۔
    ”اباکا کوئی دوست آرہا ہے ساتھ والے گاؤں سے،اپنے بیٹے کے ساتھ۔”مُنی نے اسی بے پروائی سے جواب دیا۔
    ”وہ جوابا سے نائیوں کا کام سیکھنے آیا تھا؟” فوزیہ نے بُرا سا منہ بناتے ہوئے مُنی کو یاد دلایا۔
    ”مجھے کیا پتا!” مُنی نے کندھے اچکاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”مجھے پتا ہے، یہ وہی ہوگا اور ابا اگر اس کے لیے مرغی پکارہا ہے نا تو یاد رکھ مُنی!اباکی نیت خراب ہے۔” فوزیہ انتہائی خفگی سے بولی۔
    ”کیا مطلب؟” مُنی نے حیرانی سے پوچھا۔
    ”وہ اس کمینے کو میرے گلے ڈالنے کی کوشش کرے گا، پر فوزیہ بتول مر کر بھی اس سے شادی نہ کرے۔”فوزیہ انتہائی بگڑے ہوئے انداز میں بولی۔
    ”ہاں ہاں اور تو چوہدریوں کی بہو بننے کے خواب دیکھ رہی ہے۔ بھول جا باجی وہ بہت بڑے لوگ ہیں۔”مُنی ہنستے ہوئے دوسرے کمرے میں جاتے ہوئے بولی۔
    ”ہائے! بن ہی جاتی اگر چوہدرانی جی اپنے بیٹے کا رشتہ کہیں اورنہ طے کردیتی ۔”اس نے گہرا سانس لیتے ہوئے جواب دیا اور پھر کسی خیال میں گم ہو گئی اور ٹھنڈی سانس لے کر چارپائی پر بیٹھ گئی او رمیڈم کا گیت گنگنانے لگی۔
    ”میں تیرے سنگ کیسے چلوں ساجنا
    تو سمندر ہے میں ساحلوں کی ہوا!”
    ٭…٭…٭
    دوپہر کا وقت تھا اور شدید دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ فوزیہ کا باپ امام بخش درخت کے نیچے اپنی دکان لگائے ایک گاہک کی شیو بنارہا تھا۔پاس ہی دو گاہک بیٹھے ایک اخبار ہاتھ میں لیے خبریںپڑھنے سے زیادہ اس میں موجود اشتہارات پر تبصرے کر رہے تھے اور ان کا تبصرہ بھی زیادہ تر ان ماڈلز پر تھا جو کسی بھی اشتہار میں موجود تھیں، ان کی زیادہ تر باتیں سرگوشیوں میں تھیں۔ اڑتی اڑاتی کوئی بات آس پاس بیٹھے گاہکوں اور امام بخش کے کانوں تک بھی پہنچ جاتی تو وہ اس میں جواباً اپنا حصہ ضرور ڈالتے۔
    تب ہی ایک گاہک اخبار پر موجود تصویر دیکھ کر بآواز بلند بولا۔
    ”توبہ توبہ!آج کل کی عورتیں کتنی بے حیا ہوگئی ہیں۔” وہ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولا۔
    ”میں تو ان کے باپ بھائیوں کے بارے میں سوچ کر حیران ہوتا ہوں، کیسے بے غیرت لوگ ہیں؟ ایسی حرکتوں پر کچھ بھی نہیں کہتے۔”ساتھ بیٹھے دوسرے گاہک نے بھی لقمہ دینا ضروری سمجھا۔
    ”بے غیرتی تو اس کو لگے جسے عورت کی کمائی کھانے کی عادت نہ ہو۔ یہ عورتیں جب کما کما کر گھر کے مردوں کو کھلاتی ہیںتو ان کی غیرت تو افیم پی کر سوجاتی ہے۔”حجامت بناتے ہوئے امام بخش نے دونوں کی طرف دیکھ کر طنزیہ کہا۔
    ”اچھا تو صفحہ تو پلٹ،گھنٹے سے بکواس کرے جارہا ہے اور دیکھے بھی جارہا ہے۔کوئی اور خبر بھی تو دیکھ۔”ایک گاہک نے اخبار کا صفحہ پلٹنے کے لیے ٹہوکا دیا۔
    ”تو نے بھی سارا دن بس ادھر بیٹھ کر اخبارہی پڑھناہوتا ہے یا کچھ کام دھندا بھی کرے گا؟” امام بخش نے اپنا ہاتھ روک کر گاہک کو جھڑکا۔
    ”ہاں ہاںکروں گا، کیوں نہیں کروں گا۔جب کام ملے گا تو ضرورکروں گا۔”پہلا گاہک اپنی صفائی میں بولا۔
    ”او سدھر جا!کل تیری بیوی چودھری صاحب کے گھر جاکر تیری شکایت کررہی تھی۔” امام بخش ہنستے ہوئے بولا۔
    ”اسے بیماری ہے میری شکایتیں کرنے کی۔کھیت میں چار گھنٹے کام کیا کرلیتی ہے، مجھے تو ہڈحرام اور کام چور ہی سمجھنے لگی ہے۔” گاہک منہ بناتے ہوئے غصے سے بولا۔
    ”ساری عورتیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔مجال ہے آدمی کو فارغ بیٹھا دیکھ کر برداشت کرلیں۔ایک میری بیوی ہے اس کی کمائی کے رونے ہی ختم نہیں ہوتے۔اُسے ہر وقت یہی شک رہتا ہے کہ میںپتا نہیں اپنی کمائی کس کو دے آیاہوں۔” دوسرا گاہک منہ بناتے ہوئے بولا۔
    ”میں تو اس حق میں ہی نہیں ہوں کہ لڑکیوں کو گھر سے نکالا جائے۔ بس دسویں تک پڑھاؤ اور اگلے گھر کا کردو۔ باقی اللہ اللہ خیرصلّا،کوئی گورنر تھوڑی لگ جانا ہے عورتوں نے۔”پہلے گاہک نے منہ بناتے ہوئے جواب دیا۔
    شیو ختم کرتے ہوئے امام بخش نے جواب دیا۔ ”اور اگر کوئی لگ گئی نا تو سب سے پہلے وہ ان سارے مردوں کو ہی جیل میں ڈالے گی۔” اس بات پر وہ سب قہقہہ مار کر ہنسے لیکن پہلا گاہک کھسیانا ہوکر امام بخش کی طر ف دیکھنے لگاجیسے کوئی جواب نہ بن رہا ہو۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ اور فاطمہ چودھرانی کے گھر سے ان کے بیٹے کی شادی کے جوڑے پیک کروا کر آرہی تھیں کہ گلی کی نکڑ پر زور زور سے کسی عورت کے چیخنے کی آواز سنائی دی وہ دونوں ٹھہر گئیں۔
    ایک آدمی اپنی بیوی کا ہاتھ گھسیٹتا ہوا زبردستی کھینچتا چلا جارہا تھا۔گلی کی نکڑ پر کھڑی فوزیہ اورفاطمہ یہ منظر دیکھ کر چند لمحے ٹھٹک گئیں۔
    ”آئند ہ گھر سے نکلی تو تیری ٹانگیں توڑ دوں گا میں۔تو کیا سمجھتی تھی کہ تیرے ماں باپ کے گھر سے لا نہیں سکتا تھا میں؟ چوہے کی طرح چھپ کر بیٹھ جائے گی۔گھر چل،وہ حشر کروں گا کہ یاد رکھے گی۔” وہ آدمی زور زور سے چیخ رہا تھا۔ گاؤں کی گلی عورتوں، مردوں اور بچوں سے بھری ہوئی تھی اور سب یہ سارا تماشا دیکھ کر خاموش کھڑے تھے۔کسی میں ہمت نہ ہوئی کہ آگے بڑھ کر اس آدمی کا ہاتھ پکڑتا۔ وہ آدمی اپنی بیوی کو گھسیٹتا ہوا ان کے سامنے سے گذر گیا۔
    ”دل کرتا ہے جوتا اٹھاؤں،اور ابھی گنجا کردوں اسے۔”فوزیہ نے غصے سے دانت کچکچا کر کہا۔
    ”وہ تو تب کرو نا جب پہلے ہی گنجا نہ ہو۔”فاطمہ نے منہ بناتے ہوئے اس کی ٹنڈ پر طنز کیا۔
    ”کتے بلیوں والی زندگی ہے اس گاؤں کی عورتوں کی۔ دیکھو سب کیسے کھی کھی کر کے ہنس رہی ہیں۔ کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ ہاتھ ہی پکڑ لے اس کا۔” فوزیہ غصے سے منہ بناتے ہوئے سب عورتوں کی طرف ہاتھ اٹھا کر بولی۔
    ”ہاتھ تو کوئی عورت تب پکڑے جب وہ خود نہ پٹتی ہو۔ان کے اپنے گھروں میں روز یہی سب ہوتا ہے، لیکن حرام خور مردوں کو بھی تو دیکھو کوئی آگے بڑھ کر نہیں بولا۔”فاطمہ نے طنز کیا۔
    ”چل نی چھوڑ،ان کے تو عذاب ہی نہیں ختم ہوتے،گھر چلتے ہیں۔”یہ کہہ کر فاطمہ نے فوزیہ کا ہاتھ گھسیٹا اور آگے بڑھ گئی لیکن فوزیہ پلٹ پلٹ کر دیکھتی رہی۔اس کے چہرے پر تاسف کا احساس تھا۔
    ٭…٭…٭
    گاؤں میں چودھری صاحب کے بیٹے کی شادی کی تقریب تھی اس لیے ہر گھر میں خوشی تھی،یوں لگتا تھا کہ ان کے اپنے گھر کی شادی ہے۔چودھری صاحب بہت دیالو طبیعت کے تھے،آج تو پورا گاؤں ان کی حویلی میں موجود تھا کیوں کہ سب کو پتا تھا کہ پورے گاؤں کے غریبوں کے لیے آج دیگوں کے منہ کھول دیے جائیں گے۔ قورمہ اور بریانی کبھی کبھارتوپیٹ بھر کر ملتا تھا،اس لیے آج کوئی بھی یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتا تھا۔فوزیہ بھی خوب تیاری کے ساتھ پہنچی ہوئی تھی اور سب سکھیوں کے ساتھ مل کرکر ہلہ گلہ کر رہی تھی۔ بینڈ باجے والے بھی آئے ہوئے تھے جو مختلف گانوں کی دھنیں بجا رہے تھے۔ مردانے میں بھی رونق تھی لیکن یہاں زنانے میں کھلے صحن میں لڑکیوں بالیوں نے رونق لگائی ہوئی تھی جسے دیکھ دیکھ کر چودھرانی خوش ہورہی تھیں۔
    فوزیہ سب کے درمیان ڈھول لے کر بیٹھی اور میڈم نور جہاں کا کوئی گانا گا رہی تھی۔ آواز کہیں کہیں بے سُری سی ہو جاتی مگر چودھرانی کے پاس کھڑی عورتیں فوزیہ کی تعریف کرتی ہوئی خوش ہورہی تھیں ۔محفل میں موجود ایک شخص اس کی تعریفوں سے جل کر راکھ ہورہا تھااور وہ تھی اسما جو ان دونوں کے ساتھ آئی تھی اور اب پچھتارہی تھی۔
    ”جہاں فوزیہ پہنچ جائے بس میلا لگ جاتا ہے،گاؤں بھر میں رونق لگائے رکھتی ہے۔”ایک عورت نے کہا۔
    ”صحیح کہہ رہی ہیں باجی۔اس کو ناچنے گانے کا شوق ہی بہت ہے،ہر شادی میں پہنچ جاتی ہے۔”محلے کی ہی دوسری عورت نے مُسکراتے ہوئے جواب دیا۔
    ”اے فوزیہ!یہ گانا رہنے دے۔مسرت نذیر کا کوئی شادی والا گانا گا۔”پاس بیٹھی ایک لڑکی نے فوزیہ سے کہا۔




  • آرٹیکل بی-۱۲ – عظمیٰ سہیل

    آرٹیکل بی-۱۲ – عظمیٰ سہیل

    ” شکر ہے بھئی نکل آئے دکان سے۔ آج تو لگ رہا تھا کہ دم ہی گھٹ جائے گا۔ توبہ کتنا رش تھا۔”فائزہ نے اپنے ڈھیروں شاپنگ بیگ سنبھالتے ہوئے شازیہ سے کہا۔ ”ویسے تو ہر لان کی لانچنگ پہ یہی حال ہوتا ہے۔ لوگوں کے پاس پیسہ بھی بہت ہی آگیا ہے۔” شازیہ نے ہنس کر کہا: ” ہمیں بھی تو چین نہیں کہ تھوڑا صبرہی کر لیں۔ جس دن لان کی لانچنگ ہو بس اسی دن لینا ہے نیا سٹاک۔۔کہیں ختم ہی نہ ہو جائے” فائزہ نے ناک سکوڑتے ہوئے شازیہ کی بات کاٹی، ” ہاں بھئی بعد میں لینے کا کیا مزا جب ہر نتھو خیرے کے پاس پہنچ جائے وہ ڈیزائن ۔ تب تک تو میں ایک بار پہن کے پھینک بھی چکی ہوتی ہوں۔” دونوں اسی طرح باتیں کرتی گاڑی کے قریب پہنچ گئیں۔





    گاڑی میں بیٹھ کے فائزہ نے افسردہ ہوتے ہوئے کہا: ” سب کچھ بہت اچھا مل گیا لیکن میرا سب سے فیورٹ آرٹیکل نہیں ملا ۔”
    شازیہ نے پوچھا: ”کون سا؟ ١٢۔ بی؟وہ تو سنا ہے کہ آیا ہی نہیں مارکیٹ میں گولی مارو اس کو۔ باقی شاپنگ انجوائے کرو۔”
    فائزہ کے شوہر عاصم کا شمار شہر کے معروف کاروباری افراد میں ہوتا تھا۔ گھر میں دولت کی ریل پیل تھی اور فائزہ اس دولت کا بے دریغ استعمال کرتی۔ ڈیزائنر لان ہو یا برانڈڈ جوتے،ہر نیا ڈیزائن اس کی وارڈروب میں ہوتا۔ شہر کی ہر بڑی kitty پارٹی کی وہ ممبر تھی جہاں وہ اپنی دولت اور فیشن کی خوب نمائش کرتی۔ تمام بیگمات اس سے متاثر رہتیں اور اس کا بڑا زعم تھا فائزہ کو۔ اگر نہیں دبتی تھی کوئی تو وہ تھی بیگم شائستہ صدیقی۔ سیٹھ منور صدیقی کی تیسری اور چہیتی بیوی۔ فائزہ اور شائستہ کی بہت لگتی تھی اور دونوں ہر پارٹی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوششوں میں رہتیں۔
    شام کی چائے پہ فائزہ عاصم کو اپنی شاپنگ کا احوال سنا رہی تھی کہ فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری جانب کی بات سُن کر فائزہ کا منہ غصے سے سُرخ ہو گیا اور پھر اس نے فون رکھ دیا۔ شوہر کے استفسار پہ بتایا کہ دکان دار نے جو آرٹیکل اُسے یہ کہہ کر نہیں دیا تھا کہ وہ لانچ ہی نہیں ہوا ، وہی آرٹیکل شائستہ سلنے بھی دی آئی ہے۔ یہ بات شازیہ اور شائستہ کے مشترکہ ٹیلر سے اُسے پتا چلی۔ فائزہ کا موڈ سخت آف ہو گیا۔ ” بڑا ہی گھٹیا آدمی ہے یہ کریم فیبرکس کا منیجر۔ کمیشن مجھ سے لیتا ہے اور نئے ڈیزائن اس شائستہ کو دیتا ہے۔ اب وہ پارٹی میں پہن کے خوب اِترائے گی۔ ”
    عاصم جھلا کے بولا:” ارے بھئی تو تم بھی لے آؤ وہی سوٹ اور تم بھی پہن لو۔۔”
    فائزہ فورا بات کاٹ کے بولی: ” لو خواہ مخواہ ۔۔ میں کیوں پہنوں اس جیسا سوٹ؟” ۔عاصم بے زار ہو کے اٹھ گیا اور بولا:”تم عورتوں کے مسائل میری تو سمجھ سے باہر ہیں خیر میں نکل رہا ہوں۔ رات کو دیر سے آؤں گا۔ ” یہ کہہ کر عاصم نکل گیا۔
    اگلے دن فائزہ کا شازیہ کے ساتھ لنچ پہ جانے کا پلان تھا۔ کھانا کھاتے ہوئے اس مہینہ کی kitty پارٹی کا ذکر نکل آیا۔ شازیہ بولی:”ارے بھئی اس بار کی kitty پارٹی تو شائستہ کی ہے نا۔مسز آفندی بتا رہی تھیں کہ اسی کے گھر ہے پارٹی۔”
    شائستہ کا نام سنتے ہی فائزہ کا حلق تک کڑوا ہو گیا۔ وہ جل کر بولی:” ہاں اسی پہ پہنے گی وہ جوڑا۔ کل وہ منیجرلے کے آیا تھا ، وہی آرٹیکل١٢۔ بی۔بڑی صفا ئیاں دے رہا تھا کہ اس نے نہیں دیا شائستہ کو وہ جوڑا اور یہ بھی کہ بڑی مشکل سے وہ ارینج کر کے لایا ہے خاص میرے لئے۔ ورنہ سارا سٹاک ڈیزائنر نے ایکسپورٹ کر دیا ہے۔ میں نے تو خوب سنائیں اور واپس کر دیا سوٹ۔ ”





    فائزہ بڑی نخوت سے ناک منہ چڑھا کے بولی:”خواہ مخوا ہ کی کارروائی ہنہ !! ”شازیہ کھانا کھاتے کھاتے رک گئی اور بولی :” ارے بیوقوف نہ بنو اور واپس منگوا ؤو ہ سوٹ۔ یہی تو شان دار موقع ملا ہے تمہیں ، شائستہ کو نیچا دکھانے کا!” فائزہ نے تذبذب سے پوچھا: ”کیا مطلب کیسا موقع؟ اس کے جیسا سوٹ پہننے میں تو میری انسلٹ ہے، اس کی نہیں۔ ”
    شازیہ نے مسکراتے ہوئے کہا :” یہی تو تم سمجھی نہیں۔ ارے یار وہ منیجر ٹھیک کہہ رہا تھا۔ یہ والے آرٹیکل کا سارا سٹاک واقعی ایکسپورٹ ہو گیا ہے۔میں نے خود پتا کیا ہے مارکیٹ سے۔۔ یا تو تم خوش قسمت ہو، جس کے لئے منیجر نے ارینج کروادیا یا پھر شائستہ نے کوئی رابطہ استعمال کرتے ہوئے ڈائریکٹ ڈیزائنر سے لیا ہے یا ہو سکتا ہے کچھ دکان دار بلیک کر کے بیچ رہے ہوں لیکن مارکیٹ میں بہرحال یہ دستیاب نہیں ، یہ بات توپکی ہے۔ اب تم وہی سوٹ لے کے سلوا ؤ اور میں یہ بات اپنے ٹیلر کے ذریعہ شائستہ کو پہنچا دوں گی اورپھر دیکھنا وہ کبھی بھی اس پارٹی میں وہ سوٹ نہیں پہنے گی بلکہ تمہارے پہننے کے بعد تو کسی اور پارٹی میں بھی نہیں پہن سکے گی اور اس کی ساری پھرتیاں بے کار جائیں گی۔ ”
    فائزہ سوچ میں پڑ گئی۔ بات کچھ کچھ اس کی سمجھ میں آرہی تھی۔وہ سوچتے ہوئے بولی:” لیکن اگر شائستہ نے پھر بھی وہ سوٹ پہن لیا تو ہم دونوں ہی۔۔۔” یہ سوچ آتے ہی اس کا منہ بن گیا،”نہیں بھئی میں نہیں پہننے والی وہ۔۔” شازیہ اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے اس کی بات کاٹ کے بولی:” ارے پاگل پھر تو اور مزہ آئے گا۔ یاد نہیں چائنا ٹاؤن والے لنچ میں جب وہ تمہارے جیسا برانڈڈ بیگ لے آئی تھی اور پھر بھری محفل میں طنز کر رہی تھی کہ میں تو دوبئی شاپنگ فیسٹول سے لائی ہوں یہ بیگ۔ لوگ تو آن لائن کاپی منگوا کے یہی شو کرتے ہیں جیسے اوریجنل ہو۔۔”
    وہ بات یاد آتے ہی فائزہ کا منہ پھر سُرخ ہو گیا۔”تو بس پھر یہی موقع ہے اس کو نیچا دکھانے کا” ۔ شازیہ کی بات مکمل ہوتے ہی فائزہ کریم فیبرکس کے منیجر کو فون ملانے لگی۔
    شائستہ نے پارٹی کا انتظام شہر کی سب سے مشہور ایونٹ مینجمنٹ ٹیم سے کروایا تھا۔ اعلیٰ پائے کی کیٹرنگ کروائی تھی ۔ فائزہ اپنا پسندیدہ جوڑا پہنے گاڑی سے اُتری۔ دوسری گاڑی سے شازیہ کو اُترتا دیکھ کر بجائے سیدھا اندر جانے کے اُس کی طرف بڑھی۔ شازیہ نے فائزہ پہ ایک توصیفی نگاہ ڈالی اور پھر وہ دونوں اکٹھی گھر کے لان کی طرف بڑھیں جہاں پارٹی کا انتظام تھا۔ دوسری مہمان خواتین سے ملتے ملاتے فائزہ کی نظر بیگم شائستہ صدیقی پر پڑی تو فخر اور سرور کی ایک لہر اس کے اندر دوڑ گئی۔۔ جب اس نے بیگم شائستہ کو اپنے جیسے لباس کی بجائے کوئی اور لباس پہنے دیکھا۔ یہ گویا شکست کا ایک خاموش اعلان تھا۔ فائزہ نے ایک فاتحانہ نظر سے شازیہ کی طرف دیکھا جس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اُسے اس فتح پہ گویا مبارکباد دی۔ اتنی دیر میں شائستہ دونوں کے قریب آ گئی۔ فتح کے نشے میں چور فائزہ اس سے معمول سے کہیں زیادہ تپاک سے ملی۔ دل ہی دل میں وہ سوچنے لگی کہ کیسے آج اپنے ڈریس کا بار بار ذکر چھیڑے۔ شائستہ نے دونوں کو بٹھایا اور کہا : ” بہت دیر سے آئی ہیں آپ دونوں۔ اتنی دیر لگا دی تیاری میں؟” فائزہ نے فخر سے اپنے لباس کی مصنوعی شکنیں دور کرتے ہوئے کہا:” بس مسز صدیقی آپ کو توپتا ہے مجھے ہر کام پرفیکشن سے کرنے کی عادت ہے ، پھر وہ چاہے کسی پارٹی کی تیاری ہو یا اپنی، میں کوالٹی پہ کمپرومائز نہیں کرتی۔ ”
    ”جی جی بالکل، اچھا باتیں تو ہوتی رہیں گی میں آپ کے لئے جوس منگواتی ہوں۔” شائستہ نے پاس کھڑے ویٹر کو کچھ اشارہ کیا اور معنی خیز مسکراہٹ لئے فائزہ کی طرف متوجہ ہوگئی۔ اچانک کہیں سے شائستہ کے گھر کی ملازمہ ہاتھ میں جوس کی ٹرے لئے برآمد ہوئی اور فائزہ کا منہ کُھلا کا کُھلا رہ گیا۔ شائستہ نے شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ فائزہ سے کہا:” کیا ہوا مسز عاصم۔ جوس لیجئے نا” اور فائزہ کے چہرے پہ ایک رنگ آ رہا تھا اور ایک جا رہا تھا کیوںکہ سامنے کھڑی ملازمہ نے وہی سوٹ پہن رکھا تھا جو فائزہ نے پہنا ہوا تھا۔ اس کا پسندیدہ ترین آرٹیکل۔ ١٢ بی۔




  • پراڈکٹ – نظیر فاطمہ

    سبزی منڈی کے ایک جانب گلی سڑی سبزیوں کے ڈھیر تھے، جن پر مکھیاں اور مچھر بھنبھنا رہے تھے ۔ ارد گرد ناقابلِ برداشت بد بو پھیلی ہوئی تھی ۔ ہلکی سی ہوا چلتی تو بدبو کے یہ بھبھکے اس کے ساتھ لپٹ کر دور دور تک چلے جاتے اور لوگوں کو ناک پر ہاتھ رکھنے پر مجبور کر دیتے ۔ گندے مندے حلیے والے پانچ سات بچّے ان ڈھیر وں میں سے قدرے کم گلی سڑی سبزیاں اکٹھی کر کے اپنی بوریوں میں ڈال رہے تھے۔یہ گلی سڑی سبزیاں ان کا پیٹ بھرنے کا وسیلہ تھیں ۔ بھوک شاید سب سے بڑی بیماری ہے یا پھر غریب سب سے ڈھیٹ مخلوق ۔۔۔تبھی تو یہ گلی سڑی سبزیاں، گندا پانی اور باسی کھانا ان لوگوں کا کچھ نہیں بگاڑ پاتے۔ جب کہ لوگ گلی سڑی سبزیوں کے ان ڈھیروں کے پاس سے گزرنے سے بھی پرہیز کرتے تھے۔





    ایک سیاہ چمچمائی لینڈ کروزران ڈھیروں کے قریب آ کر رکی ۔ گاڑی اتنی چمک دار تھی کہ سیاہ رنگ ہونے کے باوجود اس میں آئینے کی طرح ہر چیز کا عکس دیکھا جاسکتا تھا۔ گاڑی سے ایک شخص اُترا۔اُس کے چہرے پر صحت مندی اور آسودگی کی چمک تھی۔گلے میں نئے ماڈل کا مہنگا ترین کیمرہ لٹک رہا تھا۔ ایک ہاتھ میں بڑا سا شاپر تھا۔ پیروں میں امپورٹڈ جاگرز جو اپنی قیمت کا چیخ چیخ کر اعلان کر رہے تھے ۔مہنگی جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس اس شخص نے گویا آسمان سے سیدھا زمین پر پائوں رکھا تھاجس پر زمین کی کسی مشکل یا گندگی کا ذرا برابر اثر نہیں ہوا تھا۔بدبو کا تیز بھبھکا اس کے نتھنوں سے ٹکرایا۔ اس بدبو کو بڑی مشکلوں سے برداشت کر کے وہ آگے بڑھا۔وہ کوڑے کے ڈھیروں کے قریب پہنچا تو وہاں گلی سڑی سبزیاں چنتے بچّے اپنی بوریاںچھوڑ کر اُٹھ کھڑے ہوئے اور حیرت سے اُسے دیکھنے لگے۔قریب تھا کہ وہ بچّے اپنی بوریاں اُٹھا کر بھاگ جاتے، اُس شخص نے پیش بندی کی۔
    ”ارے، ارے، بچّو! کہاں جا رہے ہو؟ ٹھہرو شاباش! یہ دیکھو میں تمہارے لیے کیا لایا ہوں؟” اُس نے ایک پھولا سا شاپر اُن کے سامنے لہرایا جسے دیکھ کر بچّے وہیں ٹھہر گئے ۔
    ” اوئے کچھ کھانے والا ہو گا۔ رک جاتے ہیں۔” وہ بچّے جن کے چہروں سے بھوک لپٹی ہوئی تھی ، آپس میں کھسر پھسر کرنے لگے۔
    ” اس میں تم لوگوں کے لیے کھانے پینے کی بہت سی چیزیں ہیں، کھائو گے؟” اُن کے ٹھہرنے پر اُس شخص نے اُنھیں جیسے لالچ دیا۔بچّے شرم اور جھجھک کے مارے ایک دوسرے سے لپٹ گئے اور اپنے پیلے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے ہاں میں سر ہلانے لگے۔
    ” پہلے تم لوگوں کو میرا ایک کام کرنا ہو گا۔بولو کرو گے؟”کھانے کی چیزوں کے لالچ میں بچّے سب کچھ کرنے کو راضی تھے۔
    ”شاباش! ٹھیک ہے۔ پہلے میں تم لوگوں کی کچھ تصویریں اُتاروں گا ۔ پھر یہ ساری چیزیں میں تم لوگوں میں بانٹ دوں گا۔ چلو اب میں جیسے تمہیں کہتا ہوں ویسے کرتے جائو شاباش۔” اُس نے اپنا کیمرہ ہاتھوں میں پکڑ کر سیٹ کرنا شروع کیا۔
    ” چلو تم سب اپنی اپنی بوریاں پکڑ کر اس ڈھیر سے سبزیاں تلاش کرو۔”
    بچّے جھٹ پٹ اپنا کام کرنے لگے، یہ ان کا روز کا کام تھا۔ وہ شخص ہر ہر زاویے سے انہیں فوکس کرنے لگا ۔کوئی دس بارہ تصویریں اُس نے گروپ میں اُتاریں۔ ہر تصویر اُتارتے وقت اُس نے بچّوں کو مختلف ہدایات دی تھیں۔
    ”اب تم یہ گلا ہوا ٹماٹر اس طرح منہ میں ڈالو۔” اُس نے ایک لڑکے کو ہدایت دی۔
    وہ بچّے تو گلی سڑی سبزیاں کچی کھا جانے میں ماہر تھے۔ اُس نے بالکل اُسی طرح وہ ٹماٹر منہ میں ڈالا جس طرح اُسے ہدایت کی گئی تھی۔
    ”گڈ۔” اُس شخص نے حسبِ منشا نتائج ملنے پر خوش ہو کر بچّے کو سراہا۔
    پھر اُس نے ہر بچّے کو انفرادی طور پر ہدایات دے کر فوکس کیا ۔ہر تصویر کو دیکھنے کے بعد وہ شخص جیسے خوشی سے جھوم رہا تھا۔ اُس کا جوش اُس کے چہرے سے چھلک رہا تھا۔ تقریبا ً ایک گھنٹے کی محنت کے بعد اُس شخص نے اپنا کام مکمل کیا، کیمرہ بند کیا اور بڑا شاپر کھول کر اس میں سے چھوٹے چھوٹے شاپر نکالے ۔ ہر شاپر میں دو دو چکن پیٹیزاورجوس کا ایک ایک چھوٹا ڈبہ تھا۔
    ” آئو ، یہ لو ” اُس نے ایک ایک شاپر ہربچّے کو دیا۔
    اس کے بعد اس نے اپنی جیب سے والٹ نکالا اور ہر بچّے کو سو سو روپے کا نوٹ دیا۔ وہ ایک گھنٹے سے یہاں تصویریں اُتار رہا تھا ۔ اُس کو دیکھ کر کئی لوگ وہاں جمع ہو گئے تھے۔ وہ سب دم سادھے اُس شخص کی فیاضی ملاحظہ کر رہے تھے، جو کوڑا کرکٹ چن کر اپنا رزق تلاش کرنے والے بچّوں پر اتنا مہربان ہو رہا تھا۔
    ” اچھا بچّو! اللہ حافظ” وہ پلٹ کر اپنی گاڑی کی طرف جانے لگا تو ایک ادھیر عمر شخص نے اُسے پکارا:
    ”صاب! یہ سب تو غریب بچّے ہیں، ان سے اتنی محبت کیوں؟”اُس نے پلٹ کر سوال کرنے والے کو دیکھا۔
    ”یہ بچّے میرے لیے بہت قیمتی ہیں۔” اُس نے مسکرا کر سامنے دیکھا جہاں وہ بچّے کھانے کے ساتھ نبرد آزما تھے ۔ پھر اُس نے اطمینان بھری گہری سانس کھینچی اور گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے گاڑی بھگائی اور گاڑی کے پہیوں سے سے اُڑنے والی دھول نے چند لمحوں کے لیے سارے منظر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
    ٭…٭…٭





    پیرس میں فوٹو گرافی کے عالمی مقابلے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس مقابلے میں پوری دنیا کے مشہور فوٹو گرافرزنے حصّہ لیا تھا ۔پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے فوٹو گرافر کو لاکھوں ڈالر انعام دیا جاناتھا ۔ ہال لوگوں سے بھرا ہوا تھا اور تھوڑی دیر میں مقابلے کے نتائج کا اعلان ہونے والا تھا۔ نمائش میں حصہ لینے والے تمام فوٹو گرافرز یہاں موجود تھے۔سب کی کھینچی گئی تصاویر ہال کی دیواروں پر آویزاں تھیں۔ مقابلے کا عنوان تھا ”ٹاکنگ فوٹو گرافس”۔ مقابلے کے نتائج کا اعلان شروع ہوا ۔ تیسری اور دوسری پوزیشن کا اعلان ہونے لگا۔ان پوزیشن ہولڈر زکی بڑی اسکرین پر دکھائی جانے والی تصویریں واقعی بولتی ہوئی تھیں۔ تالیوں کا شور تھما تو سب دل تھام کر پہلی پوزیشن کے اعلان کا انتظار کرنے لگے۔
    ”پہلی پوزیشن جاتی ہے عالم گیر جیلانی کو۔”
    انگریزی زبان میں اعلان ہو رہا تھا اور ساتھ ہی بڑی اسکرین پر عالم گیر جیلانی کی کھینچی گئی تصاویر ایک ایک کر کے دکھائی جا رہی تھیں۔کوڑے سے کھانے پینے کی چیزیں چنتے ہوئے بچّے،وہ گلی سڑی سبزیاں کھاتے ہوئے ننگ دھڑنگ بچّے جو جانور بھی سونگھنے کے بعد چھوڑ کر چلے جاتے تھے ۔ عالمگیر جیلانی کی تصاویر”ٹاکنگ فوٹو گرافس’ ‘نہیں بلکہ ”شائوٹنگ فوٹو گرافس” تھیں جوغربت، بھوک، محرومی اور حسرت کا چیخ چیخ اعلان کر رہی تھیں۔
    عالم گیر جیلانی نے تالیوں کی گونج میں دو لاکھ ڈالر کا چیک فخر سے مسکراتے ہوئے وصول کیا۔ دو ہزار کی سرمایہ کاری کر کے اُس نے دو لاکھ ڈالر کمائے تھے۔ آرٹسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بڑا کاروباری ذہن رکھتا تھا اور ایک کاروباری شخص کے لیے اس کی پراڈکٹ سب سے قیمتی ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کی کامیابی کا انحصار اُس کی پراڈکٹ پر ہوتا ہے۔ غربت اور کسمپرسی کا چلتا پھرتا اشتہار یہ بچّے عالم گیر کے لیے بہت قیمتی تھے، کیوں کہ وہ اس کی پراڈکٹ تھے۔




  • باز – فریال سید

    باز – فریال سید

    باز
    فریال سید

    "مورے! میں ٹھیک ہو جاؤں گا ناں ؟”
    اس نے بڑی بڑی آنکھوں میں ڈھیروں ا مید سموتے ہوئے اپنی ضعیف ماں کے چہرے پہ یقین کی ایک رمق تلاش کی۔
    "ہاں میرے بچے تم بالکل ٹھیک ہو جائو گے ۔ اللہ بہت بڑا ہے ، وہ کوئی حل نکال لے گا۔ ”
    روشن بی بی نے اپنے چہرے پے مصنوعی خوش امیدی سجاتے ہوئے جنید کو ا مید دلائی ۔
    جنید خان، روشن بی بی کا واحد سہارا، ان کا اکلوتا بیٹا تھا، جو پیدائشی طور پر دل کے عارضے میں مبتلا تھا۔ ا س کے والد کا انتقال جنید کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا ۔ تب سے اب تک روشن بی بی لوگوں کے گھروں میں کام کر کے اپنا گزر بسر کر رہی تھی اور جنید کی تعلیم کا خرچہ اٹھا رہی تھی ۔ تب ہی ایک دن اسکول سے واپسی پر جنید کی طبیعت بگڑ گئی۔ سرکاری ہسپتال پہنچنے پر پتا چلا کہ جنید کی بیماری خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور اگر جلد از جلد آپریشن نہ کیا گیا تو اس کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس آپریشن کے لئے کم سے کم پانچ لاکھ روپے درکار تھے۔
    5لاکھ روپے "جو روشن بی بی نے کبھی خواب میں بھی نہ دیکھے تھے، کجا ا نکا بند و بست کرنا۔
    مگر چودہ سالہ معصوم جنید جس کاسارا بچپن اپنی بیماری سے لڑ لڑ کر گزرا تھا وہ آنکھوں میں مکمل صحت یاب ہونے کا خواب سجائے بیٹھا تھا اور روشن بی بی ا س کی خوش امیدی دیکھ کے صرف ایک بار، ایک کوشش کرنا چاہتی تھیں۔
    تب ہی جنید کو جلدی واپس آنے کا کہہ کر وہ اپنی مالکن کے پاس آگئیں۔ ان سے کوئی خاص امید تو نہ تھی مگر پھر بھی وہ ایک کوشش کرنا چاہتی تھی۔
    مالکن کے گھر تو عجیب جشن کا سماں تھا۔ صاحب اور بیگم صاحبہ مٹھائی بانٹ رہے تھے ۔ خوشی تھی کہ ان کے چہروں سے عیاں تھی ۔ وہ کچھ دیر اور وہیں کھڑی رہتی اگر بیگم صاحبہ کی نظر ا س پر نہ پڑتی۔
    "ارے آؤ آؤ روشن! ادھر کیوں کھڑی ہو؟ آئو تم بھی مٹھائی کھائو۔ دیکھو تمہارے صاحب اپنا کیس جیت گئے۔” جوش سے کہتی بیگم صاحبہ نے روشن کی آنکھوں کے آنسو نہ دیکھے ، ورنہ اِ س طرح مٹھائی نہ تھماتیں۔
    "وہ بی بی جی میں نے کہنا تھا کہ۔۔ وہ جی میرا جنید ہسپتال میں ہے۔ اگر آپ میری تھوڑی مدد کردیتے تو۔۔۔”
    روشن کے لہجے کی کپکپاہٹ اس کی گھبراہٹ کی غماز تھی۔
    ” ہاں! کیوں نہیں۔ بتائو کتنے پیسے چاہئیں تمہیں۔”
    بیگم صاحبہ نے خوش دلی سے کہا تو روشن کی تھوڑی ہمت بندھی ۔
    "وہ جی، اس کے آپریشن کے لیے پانچ لاکھ روپے کی ضرورت ہے اور ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اگر جلدی پیسوں کا بندوبست نہ ہوا تو۔۔۔”
    روشن کی آواز آنسوئوں میں ڈوب گئی اور وہ بات مکمل نہ کر سکی۔ ا س نے ڈرتے ڈرتے نظریں اٹھا کر بیگم صاحبہ کے چہرے کو دیکھنا چاہا تھا۔ آنسوئوں کی دھند کے پار ا سے بیگم صاحبہ کے نقوش سپاٹ ہوتے نظر آئے۔ خوف کی ایک سرد لہر اس کے وجود میں سرائیت کر گئی ۔ جس انکار کا ا سے خوف تھا ، شاید بیگم صاحبہ وہی کرنے والی تھیں ، اور ا س سے آگے وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی ۔
    "ایسا ہے روشن کہ۔۔” بیگم صاحبہ نے ٹانگ پہ ٹانگ رکھتے ہوئے تمہید باندھی۔
    "تمہارے صاحب آج جو یہ ضروری کیس جیتے ہیں، اِس کے لیے ا نھوں نے وکیل کو پانچ لاکھ روپے فیس دی ہے۔ تو۔۔۔” وہ ایک ثانیے کو ر کیں۔
    "تو اگر تم پہلے آجاتی تو شاید کچھ ہو بھی جاتا ، پر اب تو ناممکن ہے۔”
    بیگم صاحبہ نے اپنی انگلی میں موٹے ہیرے کی انگوٹھی گھماتے ہوئے بات مکمل کی اور روشن بی بی کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کے برسے تھے۔ وہ بنا کچھ کہے واپسی کے لیے پلٹی۔
    "اے میرے پاک خدا! اب میں کیا کروں گی ۔ یہ تو نے مجھے کیسی آزمائش میں ڈال دیا ہے؟ میں کہاں سے لائوں پانچ لاکھ؟ کیا کروں میں آخر؟ شاید میں پہلے آجاتی تو بیگم صاحبہ پیسے دے بھی دیتیں، پر اب تو وہ وکیل کو۔۔۔ وکیل!!!”
    روشن بی بی کی آنکھوں میں امید کی لو ٹمٹمائی۔ وہ تیزی سے مڑی اور بیگم صاحبہ تک آئی ۔
    "بیگم صاحبہ! وہ جی ا س وکیل کا پتا مل سکتا ہے؟ آپ کی بڑی مہربانی ہو گی جی ۔ خدا کے لیے۔”
    بیگم صاحبہ نے تھوڑی دیر ا سے ترش نگاہوں سے گھورا ، پھر صاحب سے ایک کارڈ لے کے اس کی طرف بڑھا دیا۔
    خوشی سے نہال ہوتی روشن بی بی نے عجلت میں ان کا شکریہ ادا کیا اور تیزی سے باہر کی طرف بڑھ گئی۔ اس کا ر خ بس اسٹینڈ کی طرف تھا۔ وہاں بس کے انتظار میں کھڑی ایک طالبہ سے کارڈ پہ درج پتے کے بابت پوچھا۔ اس نے خوش دلی سے پتا سمجھایا۔
    روشن بی بی کے دل میں امید اور خوف کے ملے جلے احساسات جاگ رہے تھے جن میں شرمندگی کی آمیزش بھی تھی۔ پہلی دفعہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا نے سے زیادہ ایک خود ار انسان کے لیے اِس دنیا میں کچھ بھی مشکل نہیں۔
    اپنے خیالوں میں گم وہ اپنی منزلِ مقصود پہ پہنچ چکی تھی۔
    کپکپاتے قدموں کے ساتھ ا س صاف ستھرے آفس میں پہلا قدم رکھا تو گارڈ تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔ وہ جانتی تھی اگر ا س نے اپنا مدعا گارڈ کو کہہ سنایا تو اندر کبھی نہ جا پائے گی۔ اِس لئے اسے کارڈ دکھا کر کہا کہ صاحب نے خود بلایا ہے۔
    گارڈ نے پہلے جانچتی نگاہوں سے ا سے دیکھا پھر اندر جانے کی اجازت دے دی ۔ وہ ڈرتے ڈرتے اندر کی طرف بڑھی۔
    کالے سوٹ میں ملبوس کئی نوجوان وہیں اپنے کام میں مصروف بیٹھے تھے ۔ ان میں سے ایک اس کی طرف متوجہ ہوا۔
    "خیر ہے اماں! کس سے ملنا ہے آپ کو؟”
    "وہ بیٹا مجھے اِن صاحب سے ملنا ہے۔”
    روشن بی بی نے ڈرتے ڈرتے ہاتھ میں پکڑا کارڈ ا س تیکھے نین نقش والے نوحوان کی طرف بڑھایا۔
    "ارے اماں آپ کو سر سے ملنا ہے تو یوں کہیں ناں۔ چلیں آجائیں میں ملاتا ہوں آپ کو سر سے۔”
    خوش اخلاقی سے کہتا ہو وہ انہیں اپنے ساتھ لیے اپنے سرکے کمرے تک لے آیا۔ ہلکی سی دستک کے بعد اس نوجوان نے دروازہ کھولا تو سامنے کا منظر واضح تھا۔
    سیاہ سوٹ میں ملبوس ایک پینتیس چھتیس سال کے ایک نوجوان لڑکے نے مسکراتے چہرے کے ساتھ کھڑے ہوکر اس کا استقبال کیا۔ وہ دل ہی دل میں شرمندہ ہوتی ان کے سامنے والی کرسی پہ آکے بیٹھ گئیں۔
    وکیل صاحب نے شائستہ لہجے میں ان کے آنے کی وجہ دریافت کی۔ وکیل صاحب کا پوچھنا تھا کہ روشن بی بی پھوٹ پھوٹ کے رو دی اور اپنی مشکل بیان کر کے مدد مانگی۔ وکیل صاحب ان کو تسلی دیتے ہوئے ان کے ساتھ باہر تک آئے اور جو تیکھے نقش والا نوجوان انہیں کمرے تک لے گیاتھا، اسے مخاطب کرتے ہوئے روشن بی بی کے ساتھ جانے کی ہدایت کی اور پتا کرنے کو کہا کہ آیا روشن بی بی جھوٹ تو نہیں کہہ رہیں؟
    وہ نوجوان روشن بی بی کوساتھ لئے اپنی ہی گاڑی میں ہسپتال تک آیا ۔ وہاں جنید اور ڈاکٹر صاحب سے مل کے جنیدکی ساری معلومات اکٹھی کرکے چلا گیا۔ روشن بی بی کے دل میں خوش امیدی جاگی تھی۔
    جب کہ نوجوان واپس آفس پہنچا اور وکیل صاحب کو ساری معلومات سے آگاہ کیا ۔ وکیل صاحب تھوڑی دیر خاموش بیٹھے رہے، پھراپنی دراز سے آج صبح ہی ملنے والا پانچ لاکھ روپے کا چیک نکالا اور نوجوان کی طرف بڑھا دیا۔ نوجوان نے سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھتے ہوئے چیک تھام لیا۔
    "یہ لے جائو اور ا س اماں کے بیٹے کا آپریشن جلد سے جلد کرانے کے انتظامات کرو۔”
    نوجوان جونیئر وکیل نے حیرانی سے استفسار کیا:
    "لیکن سر یہ آپ کی پہلی بڑی فیس ہے ۔ آپ ایسے کیسے اپنے سارے پیسے۔۔۔”
    اس سے پہلے کہ نوجوان وکیل کی بات مکمل ہوتی، سر نے اپنا ہاتھ ا ٹھا کے اسے مزیدکچھ کہنے سے روک لیا۔
    "زوئے! (پشتو میں بیٹے کو کہتے ہیں) ایسا نہیں کہتے ۔ کیا پتا خدا میرا امتحان لے رہا ہو۔ میں اسے کیا جواب دوں گا؟”
    سر کی بات پہ نوجوان وکیل خاموش ہو گیا۔
    جنید کا آپریشن ہو گیا اور وہ مکمل صحت یاب بھی ہو گیا۔ اپنے پیروں پہ چل کے ایک دن وہ اور روشن بی بی وکیل صاحب کا شکریہ ادا کرنے بھی آئے تھے۔ روشن بی بی انہیں ڈھیروں دعائیں دیتیں، جنید کو ساتھ لئے چلی گئیں لیکن پھر وکیل صاحب کی کامیابیوں کا سلسلہ نہ ر کا۔
    گو کہ یہ پہلا واقعہ نہیں تھا جب وکیل صاحب نے یوں کسی کی مدد کی تھی ۔ اِ س سے پہلے بھی انہوں نے کئی لوگوں کی ایسے ہی مدد کی تھی۔ آفس کے باہر کھڑے ہونے والے خوانچہ فروشوں کے قریب سے صبح جب گزرتے تو جیب میں ہاتھ ڈالتے، جتنے پیسے ہاتھ میں آتے ا نہیں دیتے جاتے۔ اپنے ہی گروپ میں کام کرنے والے جونیئر وکلا کی بھی ہر ضرورت کا خیا ل رکھتے۔ ان کی ہر ممکن مدد کرتے۔ یوں دعائیں اور عزت کماتے کماتے، وکیل صاحب بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر نامزد ہو گئے۔ وہ اپنے مخالف سے بہت نمایاں ووٹ حاصل کرکے جیتے گئے۔ وقت گزرتا گیا۔ وکیل صاحب بی بی اے کے موجودہ صدر سے سابق صدر ہو گئے لیکن ان کی کامیابیوں کا سلسلہ ر کا نہیں۔
    وہ اب سپریم کورٹ کے وکیل تھے۔ جس کیس کے لیے انہیں منتخب کیا جاتا، جیت ا ن کے موکل کے نصیب میں لکھ دی جاتی۔ اتنی عزت، دولت اور شہرت نے بھی ان کی فطرت نہ بدلی۔ بلکہ اب وہ پہلے سے بھی زیادہ لوگوں کی مدد کرنے لگے تھے اور وقت یونہی گزرتا گیا۔
    پھر ایک دن بی بی اے کے موجودہ صدر بلال قاسی کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا ۔
    وکیل صاحب ا س وقت کیسے پیچھے رہتے ۔ اپنے ساتھی وکلا کو اپنے ساتھ لیے ہسپتال پہنچے جہاں پہلے ہی وکلااور میڈیا کا جمِ غفیر موجود تھا۔ وکیل صاحب اور ان کے ساتھی وکلا بلال قاسی صاحب کی میت لینے میں پیش پیش تھے کہ اچانک ہجوم تھوڑا سا بڑھ گیا۔
    وکیل صاحب کے ساتھ ہی اس تیکھے نقش والے نوجوان کو ہجوم نے پیچھے دھکیل دیا تھا۔ انہوں نے ارد گرد نگاہ دوڑائی، باقی سب ہی ساتھی موجود تھے، نہ تھا تو وہ جو ان کا سب سے چہیتا شاگرد اور ساتھی تھا۔ وہ یقینا اسے فون ملاتے اگر میت نکالنے کا شور نہ مچتا۔ وہ سب چھوڑ چھاڑ باقی ہجوم کی طرح بلال قاسی شہید کی میت کی طرف متوجہ ہو گئے اسی اثنا میں ایک زور دار ھماکا ہو گیا ۔ ہر سو بارود کی تیز بو اور دھوئیں کے کالے بادل چھا گئے۔ وکیل صاحب بھی زمین پہ گرے ہوئے تھے۔ انہوں نے آنکھیں کھول کے اطراف کا منظر دیکھنا چاہا مگر۔۔
    ان کی آنکھوں میں مسلسل بہتا خون ہرمنزل کو دھندلا رہا تھا ۔ کانوں میں تیز سیٹی سی بج رہی تھی۔ کچھ لوگ ا ن کی طرف تیزی سے بڑھے تھے اور پھر ا نہیں کسی چیز کا ہوش نہیں رہاتھا۔
    ”تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دھماکہ خودکش تھا ، جس میں وکلا کو نشانہ بنایا گیا ۔ ملک دشمنوں کی ایک اور سازش ، جس میں وکلا بری طرح سے متاثر ہوئے ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق ، دشمن نے سازش کے تحت صدر بلوچستان بار ایسوسی ایشن بلال قاسی کو شہید کیا اور جب وکلا بڑی تعداد میں میت لینے ہسپتال پہنچے تو دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے ا ڑا دیا ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق بھاری جانی نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ ہمارے نمائندے وقاص علی جائے وقوعہ پہ موجود ہیں آئیے جانتے ہیں ان سے زیادہ ترین صورتِ حال:
    ”جی وقاص! اب تک کی اطلاعات کے مطابق تقریباً کتنے جانی نقصان کا خدشہ ہے؟”
    "جی نادیہ میں اس وقت جائے وقوعہ پہ موجود ہوں، یہاں قیامت کا سا منظر ہے ہر طرف انسانی اعضاء بکھرے پڑے ہیں ۔ جائے وقوعہ کودیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بھاری تعداد میں جانی نقصان کا خدشہ ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پینتیس افراد اس افسوس ناک حادثے میں شہیداور ستر زخمی ہوئے ہیں۔”
    "جی وقاص کچھ پتا چل سکا ہے کہ زخمیوں میں کتنوں کی حالت نازک ہے ؟”
    "جی نادیہ اس وقت تو یہ کہنا مشکل ہو گا لیکن ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کی حالت بہت خراب ہے اورا یک زخمی کی شناخت بہ طور باز محمد کاکڑ ،سابق صدر بلوچستان بار ایسوسی ایشن کی جا رہی ہے ۔ بازمحمد کا کڑ جو اپنے ساتھیوں سمیت بلال قاسی کی میت لینے سول ہسپتال آئے تھے اس بدترین دہشت گردی میں شدید زخمی ہوئے ہیں۔ جی نادیہ ۔ ۔”
    "بہت شکریہ وقاص ہمارے ناظرین کو تازہ ترین صورت حال سے اپ ڈیٹ کرنے کا۔”
    ناظرین یہ افسوس ناک مناظر جو آپ اس وقت اپنی ٹی وی سکرینزپردیکھ رہے ہیں یہ کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ہونے والے خودکش دھماکے کے ہیں ۔ جس میں تازہ تر ین اطلاعات کے مطابق پینتیس افراد شہید اور ستر کے قریب زخمی ہیں ۔ زخمیوں میں سابق صدر بی بی اے باز محمدکاکڑبھی شامل ہیں۔”
    آئیے بات کر تے ہیں ایک دفعہ پھر اپنے نمائندے وقاص سے۔
    "جی وقاص! تازہ ترین صورتِ حال سے اپ ڈیٹ کیجئے گا”
    "جی نادیہ! ایک افسوسناک خبر سے آپ کو آگاہ کرتا چلوں کر ہسپتال زرائع کے مطابق سابق صدر بی بی اے اور بلوچستان کے جانے مانے وکیل باز محمد کاکڑ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے ہیں ۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شہدا کی تعداد 50 جبکہ زخمیوں کی تعداد 90 ہوگئی ہے۔ زخمیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے کچھ زخمیوں کو سی ایم ایچ شفٹ کیا جا رہا ہے۔ آئیے بات کرتے ہیں اس واقعے کے عینی شاہد نوجوان سے۔”
    "جی شاہ صاحب! آپ اس دھماکے میں زخمی ہوئے ہیں اور آپ کے بہت سے دوست اور ساتھی وکلا اس واقعے میں شہید ہوئے ہیں ، آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟”
    صحافی نے تیکھے نقوش والے نو جوان کے سامنے مائک کیا ۔ نوجوان ایمبولینس میں لیٹا ہوا تھا ، اس کا ایک بازو اور ایک ٹانگ پٹیوں میں جکڑے ہوئے تھے ۔ رنگت بے حد زرد تھی لیکن چہرے پر بہادری کا ڈیرہ تھا۔
    "جی بس اللہ معاف کرے قیامت تھی جو آکر گزر گئی۔ یہ ایک پری پلینڈ سازش تھی ہمارے خلاف۔ میرے سارے ساتھی شہید ہو گئے اپنے گروپ میں سے میں واحد بچا ہوں ۔ ہمارے سر باز محمد کاکڑ صاحب ایک بہترین انسان تھے ان کی شہادت سے جو خلا۔ ۔ ۔”
    "جی آپ کا بہت بہت شکریہ۔”
    نادیہ جیسا کہ آپ نے عینی شاہد کی باتیں سنی ۔ انہوں نے اس واقعہ کو پری پلینڈ سازش قرار دیا ۔ میں اپنے ناظرین کو بتاتا چلوں کہ کسی عینی شاہد سے سب سے پہلے بات ہمارے چینل نے کی ہے ۔ جی ہاں! ہم نے اپنی روایت قائم رکھتے ہوئے سب سے پہلے آپ کو اس خبر سے آگاہ کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔”
    نمائندہ اب بھی بہت کچھ کہہ رہا تھا یہ سوچے بنا کہ وہ تیکھے نقوش والا عینی شاہد اِ س وقت کیاسوچ رہا ہے اور وہ عینی شاہد نمائندے کی پیٹھ دیکھ کر سوچ رہا تھاکیاواقعی انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہماراباز ، پاکستان کا باز اب نہیں رہا؟
    کیا انہیں اندازہ ہے کہ وہ باز کتنے لوگوں کے لئے مسیحا تھا ؟
    المیہ یہ نہیں کہ کسی نے باز کی شہادت سے ہونے والے نقصان پر افسوس نہیں کیا ، المیہ تو یہ ہے کہ اس دھماکے میں اور ہر دھماکے میں جانے کتنے باز شہید ہوتے ہیں۔ ایسے باز جوسچے پاکستانی اور نیک مسلمان ہوتے ہیں ۔ دشمن ہمیشہ ہمارے بازوں پر ہی حملہ کرتی ہے ۔
    لیکن ہمیں نہ خبر ہوتی ہے نہ فرق پڑتا ہے ۔ ہاں دوسے تین دن افسوس ہوتا ہے۔ ہم احتجاج کرتے ہیں، سوگ مناتے ہیں اور پھر زندگی دوبارہ اپنی ڈگر پر چل پڑتی ہے ۔ فرق صرف تب پڑتا ہے جب ہم یاہمارا کوئی اپنا ایسی د ہشتگردی کی زد میں آتا ہے۔
    وہ نوجوان سوچ رہا تھا کہ کہیں یونہی ہمارے باز شہید ہوتے گئے تو ہمارے ملک میں باز ختم نہ ہوجائیں ۔ پھر اس ملک کے جنیدوں کی امدادکون کرے گا ؟
    وہ تیکھے نقوش والا نوجوان وکیل سوچ رہاتھا اور سوچے جا رہا تھا، کیوں کہ اس حادثے نے ا سکی زندگی میں جو خلا کیا تھا، وہ کبھی پرُ نہیں ہونا تھا۔ یہ سانحہ اس کی زندگی میں ہمیشہ کے لئے آکر ٹھہر چکا تھا۔

  • پچیس ہزار – حمیرا نوشین

    ڈھولک کی تھاپ اس کے دِل کی دھڑکنوں کی رفتار میں اضافے کا باعث بن رہی تھی، مسکراہٹ پورے استحقاق سے اس کے لبوں کی مکین بن گئی۔ خوش آئند خیالوں نے اسے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ فرینڈز اور کزنز ”حسنین” کا نام لیکر اسے گدگدا رہی تھیں، آج مہندی کی رسم تھی اور کل بارات آنی تھی۔ آج اس گھر میں وہ ناکتخدا اپنی آخری رات بسر کر رہی تھی۔صبح وہ ملیحہ افتخار سے ملیحہ حسنین کے نام سے پہچانی جائے گی۔ حسنین کا نام اس کے دل میں ہلچل مچانے لگا۔ غیرخاندان میں شادی کا خوف بھی آنکھوں میں ہلکورے لے رہا تھا مگر دوسرے ہی پل اسے جھٹک کر سہانے خواب اس کی پلکوں پر بسیرا کرنے لگے اور وہ ان خوبصورت وادیوں کی سیر کرنے لگی۔
    ٭…٭…٭





    ”پچیس ہزار سے ایک روپیہ کم نہیں ہوگا۔”
    ”یہ لو پچیس اور یہ ہزار روپیہ تھامو آپکے پچیس ہزارکا مطالبہ مان لیا گیا ہے۔” دولہا کے بھائی نے نوٹ آگے بڑھائے۔
    ”ارے واہ! ہمیں کیا بے وقوف سمجھا ہوا ہے؟ ہزار ہزار کے پچیس نوٹ ہمارے خوبصورت ہاتھوں میں تھمائیے۔” دلہن کی کزن اترائی۔
    ”میڈم رہتی پاکستان میں ہیں اور دودھ کی قیمت ڈالرز میں وصول کررہی ہیں۔” دوست دودھ کا گھونٹ بھرتے ہوئے بولا۔
    ”دلہن بھی تو اتنی قیمتی لے جارہے ہیں۔ تو ذرا دودھ پلائی بھی شایانِ شان ہونی چاہئے۔”
    ”یہ لیں پانچ ہزار پکڑیں اور عیش کریں” دولہا کے بہنوئی نے ہرے ہرے پانچ نوٹ لہرائے۔
    ”پانچ ہزار واپس اپنی جیب میں ڈالیں، پندرہ سالیوں میں یہ نوٹ اونٹ کے منہ میں زیرہ والی بات ہوگی۔”
    ”اونٹ نہیں خوبصورت اونٹنی کے منہ میں زیرہ۔” منچلے دوست نے فقرہ کسا۔ ”باتیں نہ بنائیے، نوٹ نکالیے” خوبصورت حنائی ہتھیلی سامنے ہوئی۔
    ”یہ لو ایک اور نوٹ کا اضافہ کردیا آپ کے حسین اور نازک ہاتھ دیکھ کر” وہ رومانٹک ہوا۔
    ”ان خوبصورت ہاتھوں کی قیمت آپ دے ہی نہیں سکتے۔”
    ”ارے آپ ہمارے ہاتھوں میں تھمائیں تو سہی ہم بدلے میں دل و جان آپ پر فدا کردیں گے۔” بے باک دوست نے ہاتھ ہی پکڑ لیا۔
    ”فی الحال تو ہمارا مطالبہ پورا کر دیجئے، دل و جان لینے کا فیصلہ بعد میں کریں گے۔” وہ ہاتھ کھینچ کر دل ربائی سے مسکرائی۔
    لوگوں کا اشتیاق بڑھنے لگا۔ اس نوک جھونک کا مزہ لینے اسٹیج پر سب ہی چڑھ آئے۔ مووی والا لڑکیوں کے تھوڑا اور قریب ہوکر مووی بنانے لگا۔ لڑکے لڑکیوں کا باہم اختلاط کوئی اور ہی رنگ بکھیرنے لگا۔ لڑکیوں کے چہرے پرُ شوق نگاہوں کی تپش سے دہکے جارہے تھے اور لڑکوں کے دل قابو میں ہی نہیں رہے تھے۔ اچھے خاصے شریف گھرانوں کی لڑکیاں بن سنور کر دوپٹوں سے بے نیاز دولہا کے دوستوں اور رشتہ داروں کے سامنے کھڑی ان کے ایمان متزلزل کررہی تھیں۔ نوجوان تو ایک طرف جوان بچوں کے باپ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگے۔
    ”بھئی جلدی کرو دیر ہورہی ہے۔” دولہا کی ماں کی کہیں سے آواز ابھری۔
    ”آنٹی جان آپ کے کنجوس بیٹے جیب ہی ڈھیلی نہیں کررہے، ہم تو کب کا چھوڑ دیتے انہیں۔”
    ”ارے بھئی فارغ کرو ان کو دے دلا کر” لہجے میں ناگواری جھلکنے لگی۔
    ”ہاں تو ہم نے کون سا ان کو پلو سے باندھ رکھا ہے؟ پیسے دے کر گھر کو سدھاریں۔” دوسری طرف سے جوابی حملہ ہوا۔
    ”لو بھئی نہ تمہاری نہ ہماری، یہ دس ہزار پکڑو۔” بہنوئی دولہا کا ہاتھ پکڑ کر اٹھانے لگا۔
    ”نہ… نہ… نہ اتنا سستا نہیں چھوڑیں گے۔ دولہا بھائی، کماؤ بیوی دے رہے ہیں۔ پچیس ہزار مہنگا سودا نہیں ہے۔ ایک تنخواہ میں ہی حساب پورا ہو جائے گا۔” سالی نخرے سے بولی۔
    ”کمائے گی تو کیا ہمیں کھلائے گی؟ اپنے ہی اوپر خرچ کرے گی ۔”دولہا کی بہنوں کے لہجے اکھڑنے لگے۔
    ”تیور نہ دکھائیں پچیس ہزار کے نوٹ دکھائیں۔”





    ”کیا زندگی میں کبھی پیسے ہی نہیں دیکھے؟”
    ”ہم نے تو بہت دیکھے ہیں لگتا ہے آپ کنگلے خالی جیبیں لے کر آگئے۔ دلہن لینے آئے تھے تو کچھ نوٹوں کو بھی ساتھ لے آتے۔” سیر کو سوا سیر مل رہا تھا۔
    ”کیوں؟ کیا بیٹی بیچنی ہے تم لوگوں نے؟” اچانک دولہا کی ماں کے تیور بدل گئے۔
    ”ارے ہمیں کیا پتا تھا کہ یہ بیٹی کی بولی لگائیں گے۔ اتنی سستی بیٹی بیچیں گے۔ صفدر نکال پچاس ہزار روپے، ہم ڈبل میں خرید لیں گے۔”
    بات کہاں سے کہاں جا پہنچی۔
    دولہا دلہن کے بھائی اور والدین کے درمیان اسی بات پر تلخ کلامی بڑھنے لگی۔ لڑکیاں سٹیج سے نیچے اتر آئیں۔
    ”ایک رسم پر ہی تو بچیوں نے کچھ پیسے کیا مانگ لئے آپ تو ہتھے سے ہی اکھڑ گئے۔” والد جوش میں آگئے۔
    ”ہاں تو رسم کو رسم ہی رہنے دیں کمائی کا ذریعہ تو نہ بنائیں۔” دولہا کے والد کا بھی تابڑ توڑ جواب آیا۔ لڑکی کے باپ کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
    ”اپنی کماؤ بچی کو اپنے پاس ہی رکھیں۔ ارے ابھی سے ان لوگوں کا یہ حال ہے کل کو میرے بچے کو لوٹ کے کھا جائیں گے یہ تو۔” ماں کو مستقبل کی فکر ستانے لگی۔
    ”ہمیں بھی اپنی بہن بھاری نہیں ہے، آپ جیسے کنگلوں کے حوالے کرنے سے تو بہتر ہے کہ اس کو ساری عمر گھر پر بٹھائے رکھیں۔” بھائی غصے سے بپھرنے لگے۔
    ”ہاں تو بٹھاؤ شوق سے اپنے گھر، چل حسنین دے طلاق۔” خوشیوں کی فضا مکدر ہوگئی۔
    اس صورتِ حال پر دولہا دم سادھے کھڑا تھا۔
    ”تو پھر دیر کس بات کی ہے؟ فارغ کرو ہماری بچی کو، رشتوں کی کوئی کمی نہیں ہے اس کے لیے’۔’ پھوپھا نے بھی حصہ ڈالا، پرانی رنجش کا بدلہ لینے کا یہ صحیح موقع تھا۔
    ”ہاں… ہاں ایسے فقٹوں میں رشتہ داری ہمیں قبول نہیں۔” دو تین اور بیچ میں کود پڑے۔
    ”میں کہتا ہوں اس قصے کو ابھی نمٹا دے۔” باپ بیٹے کی خاموشی سے جھنجھلایا۔
    مگر… ابا!
    ”میں کہہ رہا ہوں جلدی سے تین الفاظ کہہ دے۔ نہیں تو ساری عمر معاف نہیں کروں گا۔”
    اب… با… وہ…
    ”دے طلاق” باپ دھاڑا۔
    ”اماں میں کیسے…؟” وہ مخمصے میں پڑ گیا۔
    ”جیسے قبول ہے کے لفظ ادا کئے تھے، اسی طرح بھرے مجمع میں ان کی بیٹی کو تین الفاظ کہہ کر فارغ کر ورنہ دودھ نہیں بخشوں گی تجھے۔”
    سب کو سانپ سونگھ گیا۔
    اور دولہا نے تین قبیح الفاظ کہہ کر فرماں برداری کا ثبوت دے دیا۔
    بارات خالی واپس چلی گئی۔ بیٹی کی ماں غش کھا کر گر پڑی۔ باپ کے کندھے جھک گئے۔
    بھائی منہ چھپا کر کمروں میں جادبکے۔
    لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگے اور اندر کمرے میں سجی سنوری دلہن چند گھنٹوں میں ہی باپ کی دہلیز پر بیاہتا سے مطلقہ ہوگئی۔ محض ایک رسم کے ہاتھوں، خوابوں کا محل چکنا چور ہوگیا۔ لبوں پر مسکراہٹ کی جگہ اداسی نے قبضہ جمالیا۔
    سرخ ہتھیلی خون بن کر رلانے لگی، اس کی خوشیوں کو معاشرے کی ایک رسم نے نگل لیا تھا۔

    ٭…٭…٭




  • اگلا سفر – مریم مرتضیٰ

    آج وہ بابا جی ساتھ والے گھر میں آئے ہیں۔وہ دو ماہ پہلے سامنے والے گھر میں آئے تھے اور ان آنٹی کے بیٹے کو اپنے ساتھ لے گئے تھے،آنٹی بہت روئی تھیں چلائی تھیں مگر انہوں نے ان کی ایک نہ مانی تھی۔ انہوں نے کہا تھا اس کا دانہ پانی یہاں سے اٹھ چکا ہے۔اس دن بین ڈالے گئے تھے،سر پیٹے گئے تھے،ہمارے گھر میں سوگ کا سماں تھا ۔میں نے تو دو دن تک کھانا نہیںکھایا تھا ۔
    میںجب سامنے والے گھر میں گئی تھی تو میں نے ان سے پوچھا تھا۔
    ” آپ انہیں کہاں لے کر جا رہے ہیں۔؟”
    ” اگلے سفرپر۔۔اس کا اگلا سفر میرے ساتھ ہے۔” انہوںنے کہا۔وہ بہت خوف ناک تھے۔میرے تو الفاظ حلق میں ہی اٹک گئے۔
    ”کیا ہر کسی کا اگلا سفر ہے؟” میں نے پوچھا۔
    ”ہاں۔۔” ان کی ہاں میں کتنی گہرائی اور سچائی تھی۔
    ” کیا آپ سب کو لے جائیںگے؟” میں نے بے ساختہ پوچھا۔
    ” ہاں! مگر وقت پر۔۔۔” وہ اسی یقینی انداز میں بولے۔
    ” ہر کسی کا وقت مقرر ہے؟” میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور کپکپی سے میرا بدن لرز اٹھا۔
    ”ہاں!”
    ”کیا میرا بھی وقت مقرر ہے؟” میں نے توقف کے بعد پوچھا۔
    ”ہاں!”
    میرا وجود ٹھنڈا پڑنے لگا تھا۔





    ” آپ کوئی مشورہ دے دیں۔” میرے حلق سے الفاظ رک رک کر نکلے تھے۔
    ” میرے ساتھ تمہیں بھی ہر صورت جانا ہو گا مگر اپنے وقت پر۔۔وہ وقت تم کبھی بدل نہیں سکتی ہو۔ لیکن اگر راحت حاصل کرنا چاہتی ہو میرے ساتھ چل کر تو ساتھ اپنے وہ لانا جو تمہارا زیور ہے۔” انہوں نے کہا اور چلے گئے۔
    مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی۔ میں کئی دنوں تک خوف میں مبتلا رہی۔ کئی کئی گھنٹے تنہائی میں بیٹھ کر زیور اکٹھے کرنے لگی۔ پھر کچھ ایسا ہوا کہ وقت بدل گیا اور میرا زیورات سے دل اٹھ گیا۔ میں جینے لگی پھر سے اسی طرح عیش و عشرت میں، امنگوں ترنگوں میں مجھے خیال ہی نہ رہا تھا۔ پھر ایک دن میں اکیلی بیٹھی تھی تو سب کہنے لگے چپ ہو جاؤ بابا جی کسی کو لینے آگئے ہیں کیوں کہ مسجد سے بار بار آوازیں آرہی تھیں کہ بابا جی فلاں آدمی کو لینے آئے ہیں۔ کچھ دیر مجھ پر بھی کپکپی طاری ہوئی اور میں پھر سے کا م میں مصروف ہو گئی۔ مجھے خیال ہی نہ رہا انہوں نے مجھے بھی لے جانا ہے۔ میں نے سوچا ہی نہیں۔ دنیا کی خواہشات کی دلدل میں دھنستی ہی چلی جا تی رہی ،نفس کی غلامی سے مجھے چین ملنے لگا تھا، اس نے مجھے اپنا کتا بنا لیا تھا۔ میں نفس کے پاؤں دن رات چاٹتی رہی۔ انسان جتنا امیر ہو گا اتنا ہی زیادہ گرا ہوا اور نفس کا غلام ہو گا۔میں بھی وہی کرتی رہی جو نفس کہتا رہا۔وہ کہتا چلو میں چل پڑتی، وہ کہتا رکو میں رک جاتی،وہ کہتا بیٹھو میں بیٹھ جاتی حتیٰ کہ میں کھانا بھی نفس کی مرضی سے کھاتی نہیں تو بھوکی رہتی۔
    خوابوں اورخواہشوں کے دور میں بابا جی کا خیال کبھی بھول کر بھی نہیںآیا کیوں کہ خواہش کے مطابق شے مل رہی ہو پھر ڈراؤنی چیزوں کو کیا سوچنا؟ چاہے وہ حقیقی کیوں نہ ہوں۔
    آج صبح سویرے جب میں سو رہی تھی تو مجھے رونے پیٹنے کی آوازیں آنے لگیں۔ میں بھاگی بھاگی باہر نکلی، جانے کیا ہو گیا تھا؟ پوچھنے پر پتا چلا ساتھ والے گھر وہی بابا جی آئے ہیں،ان کی جوان بیٹی کو لے جا رہے ہیں۔ گھر والے منتیں ترلے کرتے رہ گئے کہ ابھی اس کی عمر کیا ہے مگر بابا جی نے کہا کہ وقت طے ہو تو عمریں نہیں دیکھی جاتیں۔ بابا جی اسے لے گئے، معلوم نہیں وہ اپنے ساتھ زیور لے کر گئی بھی یا نہیں؟
    زیورات نہ ہوئے اس کے پاس تو بابا جی اسے بہت اذیت میں رکھیں گے۔شام ہوگئی، وہ چلی گئی، رونے کی آوازیں آہستہ آہستہ دھیمی ہو گئی ہیں۔ یہ آوازیں کیوں دھیمی پڑ گئی ہیں؟ چند دنوں بعد یہ آوازیں قہقہوں میں بدل جائیں گی۔ اسے بھول جائیں گے سب۔ وہ سامنے والے گھر میں جب بابا جی آئے تھے تو وہاں لوگ چیخ و پکار کر رہے تھے، سروں میں مٹی ڈال رہے تھے۔ مگر اب ہنسی ہے، قہقہے ہیں خوشیاں ہیں ۔ جسے جانا تھا وہ چلا گیا اب اسے کون یاد رکھتا ہے۔بے وفائی کہوں یا فطرت کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے۔ لیکن مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ خوف طاری ہو رہا ہے، ایسے لگ رہا ہے کہ وہ آ رہے ہیں، مجھے ان کی چاپ سنائی دے رہی ہے،آواز بھی آنے لگی ہے۔میرے پاس زیورات بھی نہیں ہیں میں تو خالی ہاتھ ہوں، میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ میرا کیا ہو گا؟ وہ آرہے ہیں۔ میری جب ان سے ملاقات ہو ئی تھی تو میں نے ان سے پوچھا تھا کون سے زیورات پاس ہوں، تو انہوں نے کہا تھا۔
    ”اطاعتِ اللہ و رسول۔”

    ٭…٭…٭




  • دیارِ خلیل – فرحین خالد

    عالیشان محل جیسے گھر میں رہنا کس کی آرزو نہیں ہوتی ؟بڑی لاگت اور مشقت کے بعد یہ مکان تعمیر تو کر لیے جاتے ہیں مگر ان کو ”گھر ” بنانے کے لیے مزید قربانیاں درکار ہوتی ہیں۔گھر کے مکینوں کی اطراف میں کھنچی ان کی محافظ کہیے یا رکاوٹ، ایک دیوار بھی حائل رہتی ہے جس کو مزّین اور آراستہ تو خوب کیا جاتا ہے مگر اس کی نفسیات کو نہیں سمجھا جاتا ۔آیئے آج ایک ایسی ہی دیوار سے اس کی بپتا سنتے ہیں۔





    مجھ سے ملئے …میں، دیارِ خلیل میں کھڑی ایک ساکت دیوار ہوں جو خود کو اس گھر کا اہم جز سمجھتی ہے ۔میں ہوں تو پتھر جیسی مگر دل میرا ، آپ ہی کی طرح نرم ہے۔ یہ بات سن کے آپ کو حیرت ہوئی ؟ کیوں..؟ جب آپ یہ مانتے ہیں کہ دیواروں کے کان ہوتے ہیں، جب آپ یہ مانتے ہیں کہ روز جزا ہر ہر پتھر گواہی دے گا تو یہ ماننے میں بھی حرج نہیں ہونا چاہیے کہ میرا ایک دل بھی ہے جو اپنے مکینوں کے لیے دھڑکتا ہے۔ ہاں ، مجھے ان سے سچی محبت ہے ۔ جب یہاں حزن بسیرا کرتا ہے تو میرا گریہ نہیں رکتا اور جب یہاں شادیانے بجتے ہیں تو میں ان کے قہقہوں کی گونج ہوتی ہوں۔میں جب تک اپنے مکینوں کو نہیں اپناتی ان کی اجنبیت دور نہیں ہوتی ۔
    پچھلے دنوں جب مجھ پہ روغن ہوا تو یہ اندازہ ہوا کہ میرا پھر سے سودا ہوگیا ہے… سوچتی ہوں کہ یہ کیسے سپنوں کے بیوپاری ہیں کہ جب اتنے چاؤ سے میری ایک ایک اینٹ میں خلوص و وفا کا گارا لگا کر مجھے بلندکرتے ہیں تو آخر مجھے بیچ کیوں جاتے ہیں ؟ میں، اپنے خمیر میں گندھی خصلتوں سے مجبور… اپنے ہر ایک باسی سے پیماں نبھاتی ہوں۔بہرحال آج میں خوش ہوں کہ میری ویرانی دور ہو رہی ہے ۔





    صبح سے چہل پہل تھی۔میں اپنی مقابل دیوار پہ بنتے ہیولے دیکھ رہی تھی۔ کچھ اندیشے تھے ، جو بڑھ رہے تھے کچھ آرزوئیں تھیںجو زور پکڑ رہیں تھیںکیوںکہ مزدور قطار در قطار سامان اٹھائے اندر چلے آ رہے تھے۔مجھے بھی اپنے مکینوں کو دیکھنے کا بہت اشتیاق تھا کہ کون ہوں گے؟ کیسے ہوں گے ؟ اللہ کرے کہ بچوں والے ہوں، مجھے ننھے بچوں کی گونجتی کلکاریاں بہت اچھی لگتی ہیں ۔ میں نے دیکھا کہ پہیے جیسی گول گول چیز بھی ہوا میں لہرائی ہے۔ضرور گھر کے کسی بزرگ کی سائیکل ہوگی جو صبح ہی صبح پارک لے کر جائیں گے اور واپسی میں سودا لیتے ہوئے گھر آئیں گے ۔آوازیں تو آ رہی ہیں مگر سمجھ نہیں آ رہا کس زبان میں بول رہے ہیں۔مجھے ایک لمحے کے لیے فکر ہوئی کہ میں اکیلی رہ جاؤں گی مگر دوسرے ہی لمحے میںنے تہیہ کر لیا کہ کوئی بات نہیں میں سیکھ لوں گی اسی ٹی وی لاؤنج میں تو بیٹھیں گے سارا دن یہ لوگ۔
    اب سائے ڈھل گئے تھے اور آوازیں بھی مدھم ہو گئیں تھیں۔ مجھے ابھی تک کسی کی جھلک نہیں دکھائی دی تھی۔ اچانک گھٹنوں گھٹنوں رینگتا ہوا ایک بچہ دکھائی دیا۔میری خوشی کی انتہا نہ تھی کہ خدا نے میری سن لی ہے ۔میری ممتا اس بچے کو اپنی نگاہ میں بھرنے کی مشتاق تھی۔ اچانک ایک سایہ اس کے پیچھے پیچھے کمرے میں نمودار ہوا اور اس نے آواز لگائی ….
    ” بیبو ..بیبو..ارے وہاں کہاں چلی گئیں ؟”
    میںنے سوچا، بڑے فلمی لوگ ہیں!کیسا نام رکھا ہے منے بچے کا؟ مگر جیسے ہی روشنی کا جھماکا ہوا میری آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ اتنے دن ہو گئے تھے اندھیرے میں رہتے ہوئے۔ غور کیا تو نگاہوں پہ یقین نہیں آیا۔ زمین پہ ایک بزرگ خاتون بیٹھی سفید ریشمی بالوں والے بچے کو سہلا رہی تھیں۔ مجھے پانچ دن لگ گئے یہ یقین کرنے میں کہ یہ کوئی بچہ نہیں ایک پالتو بلی ہے، جو بڑی بی کی بے حد لاڈلی ہے۔ اگر وہ میاؤں میاؤں کی آواز نہ نکالتی تو میری ساتھی دیواریں مجھے اندھا کہہ کے ٹال دیتیں ۔
    یہ تین لوگوں کی ایک چھوٹی سی فیملی ہے۔ سونیا گھر کی بہو ہے ،سمیر اس گھر کا واحد مرد اور تابع دار بیٹا ہے ، ایک بیوہ بوڑھی ماں اور ان کی ایرانی نسل کی خوبصورت بلی… بیبو۔ ممی جی اور سمیر کی تو اس میں جان اٹکی رہتی ہے۔ اس کی ایک ایک ادا کو محبت سے دیکھتے ہیں اور ناز نخرے اٹھاتے نہیں تھکتے۔ اسے جب بھی موقع ملتا، سونیا اور سمیر کے بیچ میں آ کے پسر جاتی ۔سونیا کی تو جان ہی جل جاتی تھی ۔ جتنا وہ بیبو سے الرجک تھی اتنا ہی بیبو اس کی التفات کی منتظر رہتی۔ در اصل سونیا گھر میں جانور رکھنے کی قائل نہیں تھی اور دوسرے اس کو سمیر کی توجہ حاصل کرنے کے لیے یہ مقابلہ منظور نہیں تھا، گویا ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں۔ روز کا ایک ہی ٹنٹا تھا ، بیبو چیزیں لڑھکاتی ، گند مچاتی ، صبح صبح شور کر کے ان کو جگاتی ، فرنیچر خراب کرتی، ہر چیز میں مخل ہوتی مگر سمیر کو سب ”کیوٹ ”لگتا اور ممی جی ، وہ تو ا س کی ہر ہر ادا کو دس دس بار دہراتے نہ تھکتیں۔ سونیا پیج و تاب کھا کے رہ جاتی۔ میں یہ سلسلہ بہ غور دیکھ رہی تھی اور ان ماں بیٹے کے اس لگاؤ کی وجہ سمجھ رہی تھی۔ صاف ظاہر تھا کہ گھر میں کوئی بچہ نہیں تھا جو ان کا دل لبھاتا یا دھیان بٹاتا … مگر سونیا کو کون سمجھاتا اس کے اندر ایک لاوا پک رہا تھا اور مجھے ڈر تھا کہ یہ گھر آباد ہونے سے پہلے نہ ٹوٹ جائے ۔





    سونیا نے بارہا اور برملا سمیر سے اپنی نا پسندیدگی کا اظہار بھی کیا تھا مگر وہ ماں کی طرف دیکھتا تو مجبور ہو جاتا کیوںکہ ان کو اپنی بلی سے ایک لمحے کی دوری گوارا نہ تھی ۔دراصل وہ ان کی بارہ سالہ پرانی رفیقہ تھی، جس نے ان کی زندگی میں موجود خلا کو پُر کیا تھا اور اب وہ اس کی اتنی عادی تھیں کہ اس کو اپنا جزو لاینفک سمجھتی تھیں۔سمیر مخمصے کا شکار ہوگیا تھا۔ماں کو خوش کرتا تو بیوی ناراض ، بیوی کو خوش کرنے کا مطلب تھا کہ ماں کی دل آزاری ۔ بادی النظر میں رب کی رضا بھی مطلوب تھی۔کرتا تو کیا کرتا ۔میں دیکھ رہی تھی کہ وہ خاموش طبیعت تھا سگریٹ کے ساتھ ساتھ خود بھی سلگ رہا ہوتا تھا ۔
    سونیا بری نہیں تھی۔مشیتِ ایزدی کے آگے مجبور تھی۔ ساس سے شکایت نہیں تھی ، بس ان کے شوق سے تھی ۔بیبو بھی تو نت نئے بہانے ڈھونڈتی تھی اس کو زچ کرنے کے ۔ایک روز جب سونیا نے اپنے کرسٹل کا سامان الماری میں لگانا شرو ع کیا تو میں نے خود دیکھا کہ بیبو صاحبہ آ کے اسی ڈبے میں براجمان ہو گئیں…سونیا کو صفائی اور سجاوٹ کا خبط تھا۔ ایک ہاتھ میں کپڑا اور دوسرے ہاتھ میں کرسٹل اٹھائے وہ جیسے ہی کچھ اور نکالنے جھکی تو بیبونے اندر سے باہر کی جانب چھلانگ لگا دی، اس اچانک حرکت سے سونیا کا توازن بگڑ گیا اور وہ دھڑام سے گر گئی … میرے منہ سے بھی چیخ نکل گئی ۔ آواز سن کے سمیر آیا تو سونیا کا پارہ اور چڑھ گیا اس نے کہا: ”تم کب اس عذاب سے میری جان چھڑاؤ گے! دیکھو ، کتنا نقصان کردیا اس نے میرا”سمیر نے کرسٹل کے ٹکڑوں کو دیکھ کر کہا ”کوئی بات نہیں اور آ جائے گا۔” سونیا کو اس کا اطمینان کو دیکھ کر آگ لگ گئی اس نے تو آؤ دیکھا نہ تاؤ اگلے پچھلے سارے حساب برابر کر دیئے۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے چار سال ہو گئے ہیں اس بلی کو برداشت کرتے ہوئے اور اب اُسے کسی قیمت پہ بیبو کی حکمرانی منظور نہیں۔ اس بلی کی وجہ سے سونیا کو الرجی رہنے لگی تھی جو سخت تکلیف کا باعث تھی۔ جواب میں سمیر نے بس اتنا ہی کہا: ”ممی کے کمرے میں چھوڑ آتا ہوں۔” اس نے پیار سے بیبو کو گود میں بھرا اور باہر لے گیا۔سونیا نے اپنے گرد بکھرے کرسٹل کو دیکھا اور پھوٹ پھوٹ کے رو دی ۔ میرا دل کٹ کر رہ گیا ۔مجھے پتا تھا ان ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں میں وہ اپنا دل اور مان دیکھ رہی تھی، جو سمیر نے نہیں رکھا تھا ۔میں سوچ رہ رہی تھی کہ کیا جانور کو انسان پر فوقیت دینا درست ہے ؟ میں تو بس وہی جانتی تھی جس کا مجھے ادراک تھا ۔ باہر کی دنیا جانے کس طرح ایسی گتھی سلجھاتی ہوگی ..؟





    بانو آپا کئی دن سے بیٹے کی گہری خاموشی اور سونیا کا اس سے الگ تھلگ رہنا دیکھ رہیں تھیں ۔ سونیا سے بات کرنے کی کوشش کی تو اس نے رکھائی سے جواب دیا جس سے ان کا قلق بڑھ گیا۔ بیبو نے جب انہیں اُداس بیٹھا دیکھا تو پاس پڑی بال سے خوب کھیل کھیل کر دکھایا اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا مگر وہ گہری سوچ میں ڈوبی رہیں۔ ان کی آنکھوں سے جو مو تی جھڑ رہے تھے وہ اپنے دوپٹے میں سمیٹتی رہیں۔ بیبو بھی آزردہ سی ہو کے پیروں میں بیٹھ گئی ۔
    شام جب سمیر گھر آیا تو نہ بانو آپا تھیں نہ بیبو۔اس نے سونیا سے پوچھا تو اس نے بھی لا علمی کا اظہار کیا۔ وہ دونوں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے اور مجھے اچھا لگ رہا تھا، جب وہ کبھی کبھی ایک ساتھ کسی بات پہ ہنس دیتے ۔جونہی گھنٹی بجی مجھے لگا آ گئے کوئی مہمان کباب میں ہڈی بننے ، کم ہی ہوتا تھا جب وہ دونوں اتنے پرسکون دکھائی دیتے تھے مگر اندر آنے والی کوئی اور نہیں بانو آپا تھیں اور ان کے ہاتھ میں ایک پنجرہ تھا جس میں دو خوبصورت طائرِ محبت کی جوڑی تھی ۔ پوچھنے پہ چہک چہک کے بتانے لگیں کہ وہ اسلم بھائی کو بیبو دے آئیں ہیں، جو ان دنوں بالکل اکیلے تھے اور بدلے میں دو پنچھی لائی ہوں دیکھو تو… سمیر اور سونیا دونوں پنجرے پہ جھکے ہوئے ان کا چہچہانا اور پُھدکنا دیکھ رہے تھے ۔سونیا نے ان سے پوچھا کہ کیا نام رکھیں گی ان کے تو سوچ کے بولیں مشیل اور اوباما ۔ تینوں نے ایک ساتھ فلک شگاف قہقہہ لگایا اور میں بھی یہ منظر دیکھ کر ہنس پڑی … ہنستے ہنستے بانو آپا کی آنکھیں چھلک پڑیں تو بہ مشکل میرے رُکے آنسو بھی رواں ہوگئے مگر آج میں نے ایک نئی بات سیکھی تھی کہ بڑا پن کیا ہوتا ہے۔بانو آپا نے گھر کی خوشیوں کی خاطر اپنی چاہت قربان کی تھی۔ گھر والوں کو جوڑے رکھنے کے لیے ایسی ہی ان گنت قربانیاں دینی پڑتی ہیں تب کہیں جا کر وہ خوشیوں کا گہوارہ بنتا ہے ۔ خدا کرے کہ یہ گھر اور خوشیاں ان کو راس آ جائیں۔





  • استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 8

    استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 8

    تحریر:مدیحہ شاہد

    ”استنبول سے انقرہ تک ”  (سفرنامہ)

    ”لاہور لاہور ہے”
    باب8

    ہم مقررہ وقت پر استنبول سے جدہ جانے والے جہاز میں سوار ہوئے۔ میری سیٹ ایک محرب خاتون کے ساتھ تھی جس کا نام نادیہ تھا۔ وہ سعودی عرب سے اپنے گروپ کے ساتھ سیرو تفریح کی غرض سے ترکی آئی تھی مگر کسی وجہ سے اسے جلد ہی ترکی سے سعودی عرب جانا پڑا تھا۔ وہ درمیانی عمر کی سوبر، خوش اخلاق اور بہادر خاتون تھی۔ اسے زیادہ انگلش نہیں آتی تھی۔ ہم دونوں کو آپس میں گفتگو کرتے ہوئے اشاروں کی زبان میں بھی بات کرنی پڑی۔ میری پچھلی سیٹ پر عقیلہ آنٹی اور انکل سعید شمسی بیٹھے تھے۔ وہ اردو انگریزی ، عربی اور اشاروں کی زبان میں ہونے والی اس مکس گفتگو کو سنتے ہوئے حیران ہو رہے تھے کئی گھنٹوں کا سفر تھا، ہمسفر خاتون سے بات کرنا بھی ضروری تھا ورنہ سفر بھلا کیسے کٹتا۔ جہاز نے ٹیک آف کیا تو میں ذرا خوفزدہ ہوگئی۔ نادیہ نے مجھے تسلی دی اور کچھ جملے بولے جن کامطلب تھا کہ مسلمان کو صرف اللہ سے ڈرنا چاہیے، اور کسی چیز سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔





    مجھے کچھ تسلی ملی۔ سفر کے دوران ہم باتیں کرتے رہے۔ نادیہ نے مجھے اپنے خاندان والوں کی تصاویر موبائل میں دکھائیں۔ وہ ترکی میں جن سیاحتی مقامات پر گئی تھی۔ ان کی تصاویر بھی دکھاتی رہی۔
    اس نے ہمیں ایک تسبیح تحفے میں دی ۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ عرب بے حد دریا دل اور سخی ہوتے ہیں۔
    ائیر ہوسٹس کھانے کی ٹرالی چلاتے ہوئے سب کو کھانا سرو کررہی تھی۔
    ہم نے رغبت سے کھانا کھایا۔
    کہ ہم کافی دیر سے سفر میں تھے۔
    اس تھوڑے سے عرصے میں نادیہ سے میری بہت اچھی دوستی ہوگئی تھی۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کے موبائل نمبرز بھی لئے اور وعدہ کیا کہ اپنے گھر جاکر فون پر رابطہ کریں گے۔ دوستی عجب رشتہ ہے، بعض دفعہ آپ سالوں ایک دوسرے کے قریب رہتے ہیں مگر دوست نہیں بن پاتے اور بعض دفعہ کسی سے دوستی ہونے میں چند لمحے ہی لگتے ہیں۔
    دوستی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ آپ ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہوں۔
    نادیہ پاکستان کو بہت پسند کرتی تھی اور پاکستانیوں سے مل کر خوش ہوتی تھی۔ بالآخر جہاز جدہ ائیرپورٹ پر لینڈ ہوا۔ ہم جہاز سے اترے۔ رن وے بہت وسیع تھا۔ ہم بس میں سوار ہوکر ائیرپورٹ کی عمارت تک پہنچے۔ ائیرپورٹ کا سعودی سٹاف بے حد بارعب تھا۔ وہ لوگ بلند آواز میں بارعب انداز میں انگریزی بولتے اور مسافر ذرا گھبرا جاتے اور مؤدب ہوجاتے۔ ہم ائیرپورٹ کی وسیع عمارت میں چلتے رہے، کہیں کوریڈور ، کہیں سیڑھیاں ، کہیں لفٹ ، ہم سے ہینڈ کیری سنبھالا نا جارہا تھا۔ مختلف جگہوں پر چیکنگ کرواتے رہے۔ سامان اٹھانے کے معاملے میں یوں بھی ہم اناڑی تھے۔
    اسمارا ہماری مدد کو آئی اور کئی بار ہمارا ہینڈ کیری اٹھا کر چیکنگ والی مشین میں رکھا۔ ہمیں ائیرپورٹ پر کوئی ناکوئی رحمدل اور ہمدرد انسان مل ہی جاتا تھا۔ جو خوشی خوشی سامان اٹھانے میں ہماری مدد کرتا۔ کئی بار سوچا کیا ضرورت تھی اس سوٹ کیس کو ساتھ رکھنے کی اچھا ہوتا دوسرے سامان کے ساتھ بھیج دیتے مگر خیر اب کیا ہوسکتا تھا۔ ہم نے اس تعاون کے لئے اسمارا کا شکریہ ادا کیا۔
    ”اسمارا! تمہارا بہت شکریہ،ورنہ ائیرپورٹ پر کوئی کسی کے لئے رکتا نہیں ہے اور کسی کا سامان اٹھانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
    ہینڈ کیری اتنا بھاری ہے کہ ہم سے اٹھایا نہیں جاتا۔ اب اسے ساتھ لانابھی ضروری تھا۔”
    ہم نے ممنونیت سے کہا۔
    کو”ئی بات نہیں ۔اتنا تو ہم ایک دوسرے کے لئے کر ہی سکتے ہیں”وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
    ”ترکی کے سفر میں ہم ساتھ رہے مگر ہمیں آج تمہاری خوبیوں اور اچھائیوں کا اندازہ ہوا ہے نیک اور رحمدل لڑکی خو ش رہو۔”
    ہم نے دلی جذبات کا اظہار کیا۔
    وہ ہنس دی۔
    جن لوگوں نے عمر ے کے لئے جانا تھا ۔ وہ عمرہ کرنے چلے گئے۔ ہم وسیع و عریض ہال میں آگئے۔ جہاں بہت رش تھا۔ مسافر کرسیوں پر بیٹھے تھے اور اپنی فلائٹ کا انتظار کررہے تھے صد شکر کہ ہمیں بیٹھنے کے لئے کرسیاں مل گئیں۔ رات کا وقت تھا۔ میں نے ساتھ والی کرسی پر ہینڈ کیری رکھ دیا اور اسے تکیہ بنالیا اور دو کرسیوں پر لیٹ گئی۔ سوچا کچھ دیر آرام کرلیا جائے۔
    اسمارا سے کہا کہ وہ بھی سوجائے۔
    ”نیند آئے گی تو سوجائوں گی۔”
    وہ اطمینان سے بولی۔
    جدہ سے لاہو رکی ہماری فلائٹ صبح تھی۔ رات ہم نے ائیرپورٹ پر ہی گزارنی تھی۔ ساری رات کرسی پر بیٹھ کر بھلا کیا کرتے، سوچاکچھ دیر آرام کرلیتے ہیں۔ ہم صبح کے انقرہ سے نکلے ہوئے تھے۔ کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد شام کوہم استنبول پہنچے تھے۔ پھر ائیرپورٹ پر بورڈنگ اور چیکنگ میں مصروف ہوگئے۔
    وسیع و عریض ائیرپورٹ پر چلتے رہے۔ پھر کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد استنبول سے جدہ آئے۔ تھکاوٹ ہوگئی تھی۔ صبح سے سفر میں تھے، اب رات ہوگئی تھی۔ ایک نظر اِدھر اُدھر دیکھا۔ مختلف سمتوں میں ہمارے گروپ ممبرز کرسیوں پر بیٹھے نظر آئے۔





    اسمارا ہماری ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
    ”تمہاری دوست رمشہ اپنی والدہ یاسمین مشتاق اور بھائی طلحہ کے ساتھ عمرہ کرنے چلی گئی ہے۔ تم اب میرے ساتھ ہی رہنا۔ پردیس میں ہم وطن بہت اچھے دوست بن جاتے ہیں۔”
    میں نے اسمارا سے کہا۔
    ”جی ہاں۔ ہمارا سفر بہت اچھا گزرا۔ ہمسفر اچھے دوست بن جایا کرتے ہیں۔ اس سفر سے پہلے ہم لوگ ایک دوسرے کے لئے اجنبی تھے مگر اس سفر نے ہمیں محبت اپنائیت اور دوستی کے رشتے میں باندھ دیا۔ یوں تو میں BDSکی پڑھائی میں بہت مصروف رہتی ہوں۔ چھٹیوں میں ہی سیرو تفریح کے پروگرام بنتے ہیں۔ ہماری پڑھائی کی روٹین اتنی ٹف ہے کہ ہم لوگ چھٹیوں کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ رمشہ ترکی جارہی تھی تومیں بھی اس کے ساتھ آگئی۔”
    اسمارا نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
    ہم کچھ دیر باتیں کرتے رہے۔
    رات کے اس پہر بھی ائیرپورٹ کے ہال میں گہما گہمی تھی۔ دکانیں کھلی تھیں اور اسٹاف کے لوگ چاک و چوبند تھے۔ پھر میں کچھ دیر کے لئے سوگئی۔
    نیند آئی ہو اور انسان تھکا ہوا ہو تو وہ ائیرپورٹ کی کرسیوں پر بھی سوسکتا ہے۔
    صبح سویرے میری آنکھ کھلی۔ اسمارا کرسی پر سو رہی تھی۔
    میں گروپ کے باقی لوگوں کو دیکھنے کے لئے Prayer Room میں چلی آئی وہاں میری ملاقات زینب اور شہلا سے ہوئی۔ ان کے ساتھ میں نے ناشتا کیا۔ہماری فلائٹ میں ابھی کافی وقت تھا۔ کچھ ڈالرز پرس میں پڑے ہوئے تھے۔ سوچا کہ اب واپس جا ہی رہے ہیں تو بچے ہوئے پیسے خرچ کرلیتے ہیں ہم نے چائے اور بن خریدے اور Prayer Room میں بیٹھ کر اطمینان سے ناشتہ کیا۔ بہت سے لوگ ابھی سو رہے تھے۔ پھر میں رنگ برنگی چیزوں سے سجی ڈیوٹی فری شاپ میں چلی آئی جو صرف نام کی ہی ڈیوٹی فری شاپ تھی، قیمتیں اتنی زیادہ اور بے حد مہنگی چیزیں تھیں۔
    میں نے وہاں سے کچھ شاپنگ کی اور بچوں کے لئے چاکلیٹس خریدیں اور کچھ دیر یونہی مختلف چیزیں دیکھتی رہی سوچا اس طرح وقت گزر جائے گا۔
    میں واپس آئی تو دیکھا کہ اسمارا اٹھ چکی تھی اور کرسی پر بیٹھی کافی پی رہی تھی۔
    ”اٹھ گئی ہوا ناشتا کرلو۔ وہاں سامنے سے ناشتے کے آئٹمز مل رہے ہیں۔”
    میں نے کہا۔
    ”بس میں نے کافی لے لی ہے۔ جہاز میں ناشتا کرلوں گی۔ فلائٹ میں تھوڑا ہی وقت رہ گیا ہے۔”
    رات میں کس ٹائم سوگئی تھی پتا ہی نہیں چلا۔ نیند آئی ہو تو انسان کرسی پر بیٹھے بیٹھے بھی سوسکتا ہے۔”
    اس نے کافی پیتے ہوئے کہا۔
    سوئے ہوئے لوگ اٹھ گئے تھے۔ کچھ ناشتے والے کائونٹر پر کھڑے تھے، کچھ ڈیوٹی فری شاپ کی طرف جارہے تھے۔ ماحول میں ہلچل سی مچ گئی۔
    ہم ائیرپورٹ پر دیگر مسافروں سے بھی بات چیت کرتے رہے۔ بہت سے لوگ عمرہ کرنے انڈیا سے آتے تھے۔ انڈیا سے آئے لوگ ہمیں بہت سادہ سے لگے۔ سادہ لباس، سادہ انداز اور سادہ سامان، ان کے اردو بولنے کا انداز اور لہجہ مختلف تھا۔ کچھ لوگ Morrocco سے بھی آئے ہوئے تھے۔
    کچھ دیر بعد ہماری فلائٹ کی انائونسمنٹ ہوئی تو ہم لوگ قطار میں کھڑے ہوگئے۔
    اور قطار کی صورت میں ہی ہم باہر نکلے اور جدہ سے لاہور جانے والے جہاز پر سوار ہوگئے۔
    میرے ساتھ ایک خاتون اپنی چھوٹی بچی کے ساتھ بیٹھی تھیں۔
    ان کے شوہر سعودی عرب میں ملازمت کرتے تھے، وہ ان سے ملنے کے لئے آئی تھیں اور اب اپنی بچی کے ساتھ واپس پاکستان جارہی تھیں۔ روزگار کی خاطر پردیس میں رہنے والے پاکستانیوں کی بھی اک الگ داستان تھی۔ سفر میں اس خاتون کے ساتھ ہم گفتگو کرتے رہے۔
    جہاز میں زیادہ تر عمرہ زائرین تھے جو عمرہ کرنے کے بعد پاکستان جارہے تھے اور بے حد خوش تھے۔ ہم بھی بے چینی سے لاہور آنے کا انتظار کررہے تھے۔ جہاز کے ائیرہوسٹس تھوڑی بہت اردو بھی سیکھ گئے تھے ، بلکہ انہیں تو پنجابی بھی آتی تھی۔ انگریزی نا سمجھنے والے لوگوں سے پنجابی میں پوچھ لیتے کہ مرغی چاہیے یا مچھلی چاہیے۔
    ہم نے جہاز میں کھانا کھایا۔ جوس پیے، اور سعودی ائیر لائنز کی سروس سے خوب متاثر ہوئے۔ تھکن کے باوجود ہم خوش تھے کہ اپنے شہر لاہور جارہے ہیں۔ ذہن میں ترکی کی خوبصورت یادیں تھیں اور دل میں اطمینان تھا۔ لاہور سے ہماری محبت مثالی تھی۔
    بلکہ مجھے لاہور شہر سے عشق تھا اور یہ محبت مجھے اپنی والدہ سے ورثے میں ملی تھی۔
    جب ابو فوج سے ریٹائر ہوئے تو انہیں ایک سال کے لئے ٹیکسلا کینٹ میں گھر ملا تھا مگر ابو نے سامان سمیٹ لیا اور لاہور آنے کی تیاری کرنے لگے۔ لوگوں نے روکا بھی کہ آپ ایک سال کے لئے اس گھر میں رہ سکتے ہیں۔ اتنی جلدی لاہور جانے کی کیا ضرورت ہے، ابو بولے کہ کیا کرنا ہے یہاں رہ کر، برسوں نوکری کی وجہ سے ہم مختلف شہروں میں رہے ہیں۔ اب لاہور سیٹل ہونا چاہتے ہیں۔ پھر ابو وہاں رُکے نہیں، سامان پیک کروا لیا اور ایم ای ایس کا سامان انہیں ہینڈ اوور کردیا، جس کی رسید آج بھی ابو کے بریف کیس میں پڑی ہے۔ وہ چیزیں سنبھالنے والے آدمی تھے۔ ان کے بریف کیس میں برسوں پرانے کاغذات ، رسیدیں ، خطوط ۔ حتیٰ کہ دو روپے اور پانچ روپے کے پرانے نوٹ بھی سنبھال کررکھے ہوتے تھے۔ پھر ہم لاہور آگئے۔ امی ابو خوش تھے۔ میں شادی کے بعد راولپنڈی آگئی۔ میاںکے تبادلے کی وجہ سے میں مختلف شہروں میں رہی مگر ہر شہر میں لاہور کی رونقیں ڈھونڈتی رہی۔ ہر شہر مجھے پرایا لگتا۔ میاں کو پنڈی سے انس تھا وہ وہیں خوش رہتے۔ میں پنڈی اور اسلام آباد کے سنجیدہ لوگوں میں لاہوریوں کی خوش مزاجی تلاش کرتی۔ اس جستجو نے مجھے تھکادیا۔ کسی نئے شہر میں نئے دوست اور نیا حلقہ ٔ احباباب بنانا مشکل ہوتا ہے جب آپ کو لوگوں کے رویوں اور عادات کے متعلق بھی زیادہ علم نہ ہو۔