Tag: stranger things

  • عکس — قسط نمبر ۹

    اس آئینے نے کئی سال پہلے کی طرح آج بھی اس کی نظر کو خود سے ہٹنے نہیں دیا… گزر جانے نہیں دیا۔ وہ آئینے کے سامنے رک گئی۔ وقت نے اس آئینے پر اپنے نشانات بڑھا دیے تھے۔ ہلکی سی بوسیدگی، چند داغ، کئی نئی لکیریں، آب و تاب کھوتی چمک، بجھی ہوئی رنگت۔ وقت نے ایسے ہی بہت سارے نشان اس کے اپنے وجود اور اس کے چہرے پر چھوڑے تھے جس کا عکس آئینے میں دیکھنے پر شناخت کرتے ہوئے اسے چند لمحے لگے تھے۔
    وہ آئینے میں خود کو دن میں کئی بار دیکھتی تھی… لیکن اس آئینے میں نظر آنے والا عکس اس نے کئی سال بعد دیکھا تھا۔ ایک نظر اس نے خود کو دیکھا پھر اپنے عقب میں نمودار ہونے والے مرد کو۔ آئینے میں دونوں کی نظریں لمحے بھر کے لیے ایک دوسرے سے ملی تھیں پھر دونوں ہی نے ایک دوسرے سے آنکھیں چرا لی تھیں۔ وہ پچھلے کئی سالوں سے ایک دوسرے سے اسی طرح آنکھیں چراتے ہوئے ہی پھر رہے تھے۔ آئینے میں ایک لمحے کے لیے جیسے ان کی زندگی جھلکی تھی۔وہ زندگی جو وہ ایک دوسرے کے ساتھ گزار رہے تھے… کئی سال سے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ… اور ایک دوسرے سے کئی صدیوں کے فاصلے پر… ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار… اور اس محبت کو کائی کی طرح اپنے وجود سے نوچتے ہوئے۔
    وہ اس کے پاس سے گزر کر کھلے ہوئے اندرونی دروازے سے اندرچلا گیا تھا۔ اس نے سر اٹھا کر ایک گہری سانس لیتے ہوئے ایک بار پھر اس آئینے کو اور اس گھر کو دیکھا… زندگی میں اس گھر سے زیادہ نفرت اسے کبھی کسی دوسری جگہ سے نہیں ہوئی تھی۔ نفرت شاید ایک بہت معمولی لفظ تھا اپنے ان احساسات کو بیان کرنے کے لیے جو وہ اس گھر کے لیے رکھتی تھی، وہاں کی ایک ایک چیز کے لیے رکھتی تھی، اگر کوئی اسے کبھی کہتا کہ دنیا میں وہ کون سی ایک جگہ ہے جسے وہ آگ لگا کر بھسم کر دینا چاہتی تھی تو وہ اس گھر کا نام دیتی… اور اس تمام نفرت کے باوجود وہ وہاں آنے اور وہاں رہنے پر مجبور تھی کیونکہ وہ اس گھر کی ”ملکہ” تھی۔
    ……٭……




    ”ایک گھر میں صرف ایک ملکہ ہوتی ہے۔ بادشاہ کے محل میں ایک سے زیادہ ہوتی ہوں گی اور تم بادشاہ نہیں ہو۔” شہربانو نے اطمینان سے شیردل سے کہا۔
    ”تم imagine کرو۔” شیردل اس کی بات پر مسکرایا لیکن اس نے پھر بھی اپنے سوال کے جواب کے لیے اصرار کیا تھا۔
    ”تم اپنے گھر میں میری جگہ ایک اور عورت لے آؤ گے؟ اپنی زندگی میں سے مجھے نکال کر کسی دوسری عورت کو شامل کر لو گے؟ یہimpossible ہے۔” شہربانو نے اسی انداز میں کہا۔ شیردل اسی انداز میں مسکرا دیا تھا۔ شہربانو اب بھی اس کے سینے پر بچوں کی طرح سر رکھے لیٹی ہوئی تھی۔ شیردل نے اس کے گرد اپنے بازوؤں کے حصار کو توڑتے ہوئے ایک ہاتھ سے بہت نرمی سے اس کے بالوں کو سمیٹنا شروع کر دیا۔
    ”ایک بات کی مجھے سمجھ نہیں آتی۔” شہربانو نے چند لمحوں کی خاموشی کے بعد یک دم اس سے کہا۔ شیردل ٹھٹکا۔
    ”کس بات کی؟” اس نے شہربانو کے بالوں کو سمیٹنا جاری رکھتے ہوئے کہا۔
    ”یہ مردوں کو بیویوں سے آخر یہ سوال کرنے کا شوق کیوں ہوتا ہے۔” شیردل بے اختیار ہنسا تھا۔
    ”اپنے آپشنز چیک کرتے رہنا کوئی غلط بات تو نہیں۔” اس نے برجستگی سے کہا۔
    ”مذاق نہیں کر رہی میں۔” شہربانو سنجیدہ تھی۔ ”ویسے اگر تم شادی کرتے دوسری… تو کس سے کرتے؟” شہربانو کو پتا نہیں کیا خیال آیا تھا۔
    ”Hmm…” شیردل نے بے اختیار گہری سانس لی۔
    ‘‘Interesting question”۔وہ ایک لمحے کے لیے سوچنے لگا تھا یا کم از کم شہربانو کو لگا۔ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ شیردل کو اس سوال کا جواب سوچنے کی ضرورت تک نہیں تھی۔
    ”عکس سے؟” شیردل کے ذہن کی اسکرین پر اس کا چہرہ آیا اور شہربانو کی زبان پر اس کا نام۔
    شیردل اس عجیب اور بے وقت کی غیر متوقع ٹیلی پیتھی پر جیسے دم بخود ہوا تھا اور اس کی خاموشی نے شہربانو کو عجیب انداز میں مضطرب کیا تھا۔ شیردل کے سینے پر سر ٹکائے اس نے یک دم چہرہ سیدھا کر لیا تھا۔ بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگائے نیم دراز شیردل جانتا تھا وہ کیا کرنے والی تھی۔
    ”That’s quite a silly statement” اس نے شہربانو کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا تھا۔
    Statement”نہیں ہے it’s just a wild guess۔” شہربانو نے شیردل کی آنکھوں اور چہرے کو پھر کسی مائیکرو اسکوپ کی طرح پڑھنے کی کوشش کی۔
    ”تم کو سونا نہیں ہے؟” شیردل نے اسی طرح اس کو موضوع سے ہٹانے کی کوشش کی تھی جس طرح وہ ہمیشہ کرتا تھا لیکن آج وہ ہمیشہ کی طرح کامیاب نہیں ہوا تھا۔
    ”تم بتاؤنا۔” شہربانو نے اصرار کیا۔ وہ اب شیردل کے سینے پر اپنی کہنیاں ٹکائے ہوئے تھی۔
    ”دنیا کے سمجھدار مرد ایک شادی کرتے ہیں… بے وقوف دو کرتے ہیں… اور خوش قسمت ایک بھی نہیں۔” اس نے اطمینان سے کہا۔
    ”تم سمجھدار ہو لیکن خوش قسمت نہیں لیکن…” شیردل نے اس کو بات مکمل کرنے نہیں دی۔
    ”یار میں نے بہت غلط سوال کر لیا تم سے… چھوڑو اب اسے… ہر مرد کو بڑی fantasy ہوتی ہے دوسری شادی کی… اور کوئی بات نہیں۔” شیردل ایک بار پھر اسے الجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔
    ”تم ویسے عکس کو بہت پسند کرتے ہو۔” شہربانو نے اس کی کوشش پر پانی ڈالا۔
    ”کوئی بھی کر سکتا ہے۔” شیردل نے نظر ملائے بغیر وال کلاک پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”کوئی بھی مرد۔” شہربانو نے جیسے اسے کچھ جتایا۔
    ”ہاں کوئی بھی مرد۔” شیردل نے اس کے اندازے اور مشاہدے کو جھٹلایا نہیں تھا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کچھ سوچنے لگی۔ شیردل نے جیسے اس کی سوچوں کو پڑھنے کی کوشش کی تھی۔ وہ کامیاب نہیں ہوا۔ وہ ایک عورت کی سوچ تھی۔ شہربانو نے مزید بحث کیے بغیر اس کے سینے پر دوبارہ سر ٹکا دیا۔ شیردل نے اس مائیکرو اسکوپ کے سامنے سے ہٹ جانے پر جیسے شکر ادا کیا تھا۔
    جہاز کی سیٹ پر بیٹھے ایک فلم دیکھتے ہوئے پتا نہیں شہربانو کو شیردل اور اپنی یہ گفتگو کیوں یاد آئی تھی۔ کوئی خدشہ… کوئی خوف… کوئی سائرن نہیں بجا تھا۔ شیردل پر اسے ایسا ہی اندھا اعتماد تھا۔ ان دونوں کو دور ہوئے صرف چندگھنٹے گزرے تھے۔ اور وہ ان تمام گھنٹوں میں شیردل کے علاوہ اور کسی چیز کے بارے میں نہیں سوچ رہی تھی۔ وہ اس وقت کیا کر رہا ہو گا؟ کہاں ہو گا؟ کچھ کھا رہا ہو گا۔ شیردل کی روٹین اس کی فنگر ٹپس پر تھی اور سیکڑوں میل دور اور ہزاروں فٹ کی بلندی پر بھی شیردل جیسے اس کے سامنے چل پھر رہا تھا۔ وہ شادی کے اتنے سالوں بعد بھی شیردل کے بارے میں جیسے جاگتے میں خواب دیکھنے کی عادی تھی بالکل اسی طرح جیسے وہ شیردل سے شادی سے پہلے اس کے بارے میں سوچتی تھی۔
    ”ممی، پاپا کہاں ہیں؟” اس کی سوچوں کاتسلسل مثال کے سوال پر ٹوٹا تھا۔ اس کے برابر کی سیٹ پر وہ ابھی ابھی نیند سے ہڑبڑا کر اٹھی تھی اور اس نے آنکھیں کھولتے ہی شیردل کو تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔ شہربانو نے ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔ یہ مثال کی پرانی عادت تھی، وہ نیند سے جاگتے ہی سب سے پہلے شیردل کو ڈھونڈتی تھی۔ یہ اس کی بھی عادت تھی، وہ بھی اپنے باپ کی زندگی میں اس کے ساتھ رہتے ہوئے آنکھ کھلتے ہی سب سے پہلا سوال اپنے باپ کے بارے میں ہی کرتی تھی۔ مثال کو تھپکتے ہوئے اس نے پچھلے کئی گھنٹوں میں بلاشبہ کوئی دسویں بار مثال کو شیردل کا محل وقوع بتانے اور سمجھانے کی کوشش کی اور یہ بھی کہ وہ ان کے ساتھ کیوں نہیں آسکا۔
    ”Can you tell him that Misal is missing her?” ۔مثال نے اس کی بات سننے کے بعد یک دم اس سے کہا۔
    ”I would definitely do that”شہربانو نے اسے مزید تھپکا۔
    ”Mummy is also missing him”۔ شہربانو نے بھی اس کے ساتھ شیئرنگ کی۔
    ”لیکن آپ میرے جتنا تو miss نہیں کرتیں انہیں۔” مثال نے فوراً اعتراض کیا۔ شہربانو مسکرا دی۔ وہ جانتی تھی مثال باپ کے بارے میں اسی طرح پوزیسو تھی جس طرح باپ اس کے بارے میں تھا۔
    ”ہاں تمہارے جتنا تو miss نہیں کرتی میں تمہارے پاپا کو۔” شہربانو نے جیسے اسے یقین دلایا۔ مثال بے اختیار کچھ مطمئن ہو گئی۔
    ”سو جاؤ۔” شہربانو نے اسے دوبارہ سلانے کے لیے سیٹ کی پشت سے ٹکایا۔ مثال نے مطمئن انداز میں اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے آنکھیں بند کر لیں۔ شہربانو اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔ وہ اب تک اس کی اور شیردل کی زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ تھا… واحد اثاثہ کہنا شاید زیادہ مناسب ہوتا۔ چار سال سے وہ ان دونوں کی زندگی کو بانٹنے والا واحد ساتھی تھا… لیکن اس سال وہ اپنی فیملی میں مزید اضافہ کرنے کی پلاننگ کر رہے تھے۔ مثال کے بہن یا بھائی کے دنیا میں آنے کا اس سے زیادہ موزوں وقت کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا۔
    ……٭……




    عکس مراد علی کے لیے ٹی وی اسکرین پر بار بار گزرنے والے اس ticker کے چلنے کا اس سے زیادہ غیر موزوں، تکلیف دہ اور خطرناک وقت کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا۔ شیردل کو بیڈ روم میں صوفے پر بیٹھے برق رفتاری سے ایک کے بعد ایک کال ملاتے اور متعلقہ افراد سے بات کرتے ہوئے بھی اس کا ٹھیک ٹھیک اندازہ اور احساس تھا۔ رات کے پچھلے پہر بھی ٹی وی پر آنے والی ایک ایسی خبر کا حصہ ہونا ذاتی حیثیت میں جتنا تکلیف دہ تھا پروفیشنلی عکس کے لیے اس سے زیادہ نقصان دہ ہو سکتا تھا۔ پندرہ منٹ کے بعد ٹی وی اسکرین کے نیچے چلنے والے tickers میں سے صرف عکس مراد علی کے حوالے سے چلنے والی خبر غائب ہو گئی تھی… لیکن شیردل کو اندازہ تھا کہ تب تک بھی عکس کے لیے خفت اور رسوائی کا کافی سامان اکٹھا ہو چکا تھا۔
    ”Thank you۔” شیردل کی کال ریسیو کرتے ہی اس نے ہیلوکے بجائے اسے کہا۔
    ”جواد سے بات ہوئی ہے تمہاری؟” شیردل نے اس کے Thank you کو نظرانداز کرتے ہوئے پوچھا۔
    ”نہیں… فون بند ہے اس کا۔” شیردل کواس کی آواز تھکی ہوئی اور بھاری محسوس ہوئی۔ وہ اگلا سوال کرتے کرتے ٹھٹک گیا۔ پتا نہیں اسے کیوں یہ احساس ہوا کہ وہ شاید روئی تھی… یا پھر رو رہی تھی۔
    ”تم تو ٹھیک ہو؟” شیردل بے اختیار ٹینس ہوا تھا۔
    ”ہاں۔” وہ کوئی سوال کرنا چاہتا تھا کہ مگر نہیں کر سکا۔
    ”تم اب سو جاؤ۔” اس نے بے اختیار عکس سے کہا۔




  • شاہین قسط ۱  ”برگد کی چڑیلیں” – عمیرہ احمد

    شاہین قسط ۱  ”برگد کی چڑیلیں” – عمیرہ احمد

    شاہین –  ”برگد کی چڑیلیں” – عمیرہ احمد

    ”میرے گھر میں ایک پرانا برگد ہے جس پر چڑیلیں رہتی ہیں جو ہمیں بہت تنگ کرتی ہیں۔ کیا ٹیم شاہین مجھے برگد کی ان چڑیلوں سے چھٹکارا دلواسکتی ہے؟”
    شیر دل نے کاغذ پر انگلش میں لکھی ہوئی اُس تحریر کو باآواز بلند پڑھا تھا اور نایاب اور احد یک دم بہت ہی پرجوش نظر آنے لگے تھے۔
    ”یہ ہوا نا کیس… بس یہ ہی تفتیش کریں گے ہم سب سے پہلے۔” نایاب نے سکول کی ڈیسک پر ہاتھ مار کر جیسے حتمی فیصلہ کردیا۔
    ”کیس ہے کس کا؟” احد نے شیر دل سے پوچھا۔
    ”یوحنّا جوزف کلاس فائیو۔” شیر دل نے اُس کاغذ کے نیچے لکھا نام پڑھتے ہوئے کہا جو ٹیم شاہین کے لاکر میں کسی نے ڈالا تھا۔






    وہ تینوں آج وہ لاکر کھول کر اُس میں موجود وہ سارے خطوط پڑھ رہے تھے جو سکول کے مختلف بچوں نے ٹیم شاہین سے رابطے کے لئے اپنے مسئلے کے ساتھ بھیجے تھے، اور پچھلے آدھے گھنٹے میں کوئی ایک کیس ایسا نہیں تھا جو اُن کے دل کو لگتا۔ وہ عجیب عجیب مسائل تھے جو بچوں نے کیس بناکر اُنہیں بھیج دیئے تھے۔ کسی کو اپنی وہ والی بلّی کی تلاش کروانا تھی جو تین سال پہلے غائب ہوگئی تھی اور کسی کو اپنے گھر کے چوہوں سے نجات چاہیے تھی۔ کسی کو اپنے موزوں سے بدبو کا مسئلہ حل کروانا تھا اور کسی کو کھجلی کی شکایت پر اُن سے رہنمائی چاہیے تھی۔ کسی کو اپنے چھوٹے بہن بھائی کو پٹوانا تھا اور کسی کو اپنے بڑے بہن بھائی کو اغوا کروانا تھا۔ وہ تینوں مسئلے پڑھ پڑھ کر تپ رہے تھے۔ وہ ٹیم شاہین تھے اُس سکول کی پہلی ”جاسوس تنظیم” اور وہ انہیں احمقانہ کیس لکھ لکھ کر بھیج رہے تھے۔ اُن تینوں کا موڈ بے حد خراب ہوگیا تھا ،تب ہی اُن کے ہاتھوں یوحنّا جوزف کا وہ کیس آیا تھا اور یک دم وہ تینوں جیسے کھل اُٹھے تھے۔
    یہ شیر دل شیرازی تھا جسے جاسوسی ناولز پڑھنے اور فلمیں دیکھنے کا جنون تھا اور اس ہی جنون نے اُسے یہ یقین دلادیا تھا کہ وہ خود بھی جاسوس بن سکتا تھا۔ وہ اخباروں اور ٹی وی پر مختلف جرائم کی خبریں سنتا اور پھر انٹرنیٹ پر تب تک اُن کیسز کو فالو اپ کرتا رہتا جب تک وہ حل نہ ہوجاتے اور مجرم پکڑا نہ جاتا۔ اکثر اوقات شیر دل کے جو اندازے مجرم کے بارے میں ہوتے تھے وہ صحیح ثابت ہوتے تھے اور ایسا ہونے پر وہ خوشی سے بے قابو ہوجاتا۔ احد اُس کا بہترین دوست تھا اور نایاب اُس کے چچا کی بیٹی اور وہ دونوں اُس کے کلاس فیلوز بھی تھے اور شیر دل کے اس جنون سے واقف بھی لیکن شیردل کے ذہن میں جب ایک جاسوسی تنظیم بنانے کا خیال آیا تھا تو اُس نے اُن دونوں کو بھی مکمل طور پر بے خبر رکھا تھا۔ وہ اُس وقت تک شرلاک ہومز سے متاثر تھا مگر شرلاک ہومز کی طرح ایک بھی ساتھی رکھنے پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ اُس کا خیال تھا وہ سب خود کرسکتا تھا۔
    شاہین کا نام اُس نے اپنی دادی سے علامہ اقبال کے اشعار میں شاہین کا ذکر سن سن کر سوچا تھا۔ اُسے وہ پرندہ ، اُس کی پرواز اور اس سے منسلک شاعر مشرق کا ”فلسفۂ خودی” پسند تھا۔ شاہین بھی اکیلا اونچی پرواز کرتا اپنے ہدف پر جھپٹتا تھا اور شیر دل شیرازی بھی اُس ہی کی طرح تنہا اُس تنظیم کو چلانا چاہتا تھا جس کا اس وقت وہ بانی تھا۔
    گھر بیٹھے اُس نے خود ہی ایک دن شاہین کے اغراض و مقاصد لکھ لئے تھے۔ وہ تنظیم کیا کیا کرسکتی تھی اور کیسز حل کرنے کے لئے جو معاوضہ شاہین لیتی شیردل نے اُس کا بھی تعین کرلیا تھا۔ ایک ویب سائٹ بناکر اُس نے شاہین کے لوگو کے ساتھ یہ ساری معلومات وہاں پر چڑھادیں اور اپنا ای میل ایڈریس اور سکول میں ایک لاکر نمبر ایک pamphletپر ڈیزائن کرکے اُس نے سکول کے نوٹس بورڈ پر لگا دیا۔ ایک گھنٹہ میں ہی شاہین کا لفظ پورے سکول میں گردش کرنے لگا تھا اور نوٹس بورڈ کے نیچے بچوں کا ہجوم اکٹھا ہونے لگا تھا۔
    ”ہم سکول کے بچوں کے کیسز حل کرنے والی پاکستان کی سب سے بڑی جاسوسی تنظیم ہیں جس کی شاخیں عنقریب پاکستان بھر کے سکولوں میں کھولی جانے والی ہیں اور اس سکول میں شاہین کا ہیڈ کوارٹر کھولا جارہا ہے۔ ہمارے پاس جدید ترین جاسوسی کے آلات ہیں اور ٹیکنالوجی پر مہارت رکھنے کی وجہ سے ہم آپ کا کوئی بھی مسئلہ منٹوں میں حل کرسکتے ہیں۔
    شاہین آپ کی زندگی کو مسائل سے پاک وہ پرواز دے گی جس کے آپ اہل ہیں تو آئیں آج ہی اپنی ہر پریشانی اور مسئلے کے حل کے لئے ہم سے رابطہ قائم کریں۔” شیر دل جانتا تھا اُس نے اپنی تنظیم کا تعارف کرواتے ہوئے تھوڑی نہیں بہت زیادہ مبالغہ آرائی سے کام لیا تھا لیکن جھوٹ نہ بولنے پر یقین رکھنے کے باوجود اُس کا خیال تھا پروموشن کے لئے تھوڑا بہت مبالغہ ضروری تھا اور ویسے بھی وہ جو اُس pamphletمیں لکھ رہا تھا وہ ایک دن سب کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔





    ”سنو، یہ شاہین ٹیم تم نے بنائی ہے نا؟” نایاب نے سکول میں اُس pamphlet کو پڑھتے ہی شیر دل سے پوچھا تھا۔ شیر دل نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔
    ”میں صرف اس آرگنائزیشن کا فوکل پرسن ہوں اور کچھ نہیں۔”
    ”جھوٹ مت بولو ، ویب سائٹ تم نے بنائی ہے۔” شیر دل بھونچکا رہ گیا۔
    ”تمہیں کیسے پتہ؟”
    ”گھر میں Networking ہے سارے کمپیوٹرز کی، تم رات کو بیٹھے یہ بنارہے تھے اور میں بھی دیکھ رہی تھی۔ ” نایاب نے بڑے اطمینان سے اُسے بتایا اور شیر دل دانت پیس کر رہ گیا تھا۔ نایاب اگر پروگرامر نہ ہوتی تو پھر ہیکر ہوتی، وہ کسی بھی کمپیوٹر کا پاس ورڈ بدل سکتی تھی۔ کسی بھی سسٹم اور سافٹ ویئر تک رسائی کر سکتی تھی۔ انٹر نیٹ پر موجود کسی بھی ویب سائٹ کے بیک اینڈ تک رسائی حاصل کرنا اُس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ شیر دل کو پچھتاوا ہوا کہ اُس نے اس ویب سائٹ پر کام کرتے ہوئے Networking ختم کیوں نہیں کی۔
    ”اوکے! لیکن اب اپنا منہ بند رکھنا۔” شیر دل نے اعتراف کرنے کے ساتھ ہی اُسے دھمکایا۔
    ”صرف ایک صورت میں۔”نایاب نے فوراً کہا۔
    ”کیا ؟”
    ”اگر تم مجھے بھی اس میں شامل کرو۔ اپنے سیکنڈان کمانڈ کے طور پر۔” شیر دل ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے اُسے دیکھتا رہا۔ اُس کے پلان آف ایکشن میں کوئی دوسرا ممبردور دور تک نہیں تھا مگر پھرمجبوراً اُس نے نایاب کو اپنا نائب بنانے کی حامی بھرلی۔
    ”ایسا کیا ہے جو تم شاہین کے لئے کرسکتی ہو؟” شیر دل نے اُس سے پوچھا ۔
    نایاب نے اطمینان سے کہا:
    ”بہت کچھ! اس کی ویب سائٹ اور ٹیکنالوجی سے متعلق سارے کام کرسکتی ہوں جو تم بھی کرسکتے ہو لیکن تم ان میں میرا مقابلہ نہیں کرسکتے۔” وہ دھڑلے سے کہہ رہی تھی۔ شیر دل نے اُس کو ٹوکا نہیں۔ وہ سچ کہہ رہی تھی۔
    ”میں Archer ہوں تو کسی بھی مشن میں تمہیں میرے نشانے کی ضرورت پڑے گی اور میں جو ڈو کی بہترین کھلاڑی ہوں ۔ جتنا تمہیں جاسوسی کہانیاں پڑھنے کا شوق ہے اُتنا ہی مجھے بھی ہے۔” وہ بتاتی جارہی تھی اور شیر دل سرکھجاتا سنتا جارہا تھا۔ وہ دونوں ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ نایاب اپنے بڑے بھائی تیمور اور ماں باپ کے ساتھ اوپر والے فلور پر رہتی تھی۔ اُس کا بھائی میڈیکل کا سٹوڈنٹ تھا اور والد ایڈیشنل سیکشن جج۔
    شیر دل نیچے والی منزل پر اپنے ماں، باپ، دادی اور چھوٹی بہن خدیجہ کے ساتھ رہتا تھا۔ اُس کا باپ ایک بینکر تھا اور ماں ایک بیکر۔
    ”اوکے! ٹھیک ہے مگر یہ سب راز رہے گا۔ کسی اور کو اس کی بھنک بھی نہیں پڑنی چاہیے۔” شیر دل نے اُس سے کہا تھا اور اس سے پہلے کہ نایاب کوئی جواب دیتی شیردل کو عقب سے اچانک احد کی آواز آئی۔
    ”تم اب مجھ سے بھی سب کچھ چھپایا کروگے؟” نایاب اور شیر دل جیسے کرنٹ کھا کر پلٹے تھے اور اُن کے عقب میں احد کمر پر دونوں ہاتھ رکھے بے حد غصّے سے کھڑا تھا۔
    احد شیر دل کا بہترین اور بچپن کا دوست تھا۔ اُس کی ماں ایک سول سرونٹ تھی اور باپ کا انتقال ہوچکا تھا اور وہ شیردل کی ہی کالونی میں رہتا تھا۔
    ”اوہ! تم چھپ کر ہماری باتیں سنتے ہو۔” شیر دل نے اُسے ٹالنے کے لئے ناراض ہوکر کہا تھا۔
    ”میں کیوں چھپ کر سنوں گا میں تو ویسے ہی سب سُن سکتا ہوں۔ میرے کان اتنے باریک ہیں اور میں شاہین کا تیسرا ممبر ہوں۔” شیردل نے بے چارگی سے اُسے دیکھا اور کچھ کہنے کی کوشش کی مگر اُس سے پہلے ہی احد نے اُسے پچکارتے ہوئے کہا۔
    ”دیکھو تمہیں پتہ ہے میں کک باکسنگ میں کیا کیا کرسکتا ہوں اور غلیل سے میرا نشانہ نایاب کے تیروں سے بھی زیادہ اچھا ہے اور میں دُنیا کا سب سے بہترین map reader اور سیکیورٹی کیمروں کا ماہر ہوں۔ دُنیا کا ہر کیمرہ ہینڈل کرسکتا ہوں اور میرے پاس کتنے خفیہ کیمرے ہیں وہ بھی پتہ ہے تم لوگوں کو اور…”
    وہ ایک سانس میں بولتا چلا گیا اور اس سے پہلے کہ بولتا ہی چلا جاتا، شیردل نے اُسے ٹوکتے ہوئے کہا:
    ”اچھا اچھا! بس کلاس شروع ہونے والی ہے۔”
    ”تو پھر میں بھی آج سے ٹیم شاہین ہوں؟” احد نے اطمینان اسے اُس سے پوچھا اور شیردل نے جھنجھلا کر اُسے دیکھتے ہوئے کہا:
    ”میرے پاس کوئی چوائس ہے انکار کی؟”
    احد اور نایاب نے بے اختیار کیا۔ ”No۔”
    شیردل نے کندھے اُچکاتے ہوئے جیسے ہتھیار ڈالے۔ شاہین دو دنوں میں ون مین شو سے ٹیم بن گئی تھی۔






    …٭…