Tag: story

  • تالاب کا مینڈک

    تالاب کا مینڈک

    تالاب کا مینڈک

    ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ ایک شہزادی تالاب کے کنارے سونے کی گیند سے کھیل رہی تھی۔ کہ اچانک اس کی گیند پانی میں گر گئی۔
    شہزادی روتے ہوئے کہنے لگی: ”کوئی ہے جو تالاب سے ہماری گیند نکال دے؟ کوئی ہے؟” یہ سُن کر ایک مینڈک تالاب سے باہر آیا اور کہنے لگا:
    ”اے شہزادی! اگر آپ مجھے اپنے ساتھ شاہی محل میں رہنے دیں اور اپنی پلیٹ میں کھانے کی اجازت دیں تو میں گیند تالاب سے نکال کر لاسکتا ہوں۔”
    شہزادی نے فوراً مینڈک کی شرط قبول کرلی۔ مینڈک تالاب میں کود کر گیند باہر لے آیا۔ شہزادی نے گیندلی اور خوشی خوشی محل واپس جانے لگی۔ مینڈک نے پیچھے سے آواز دی:
    ”اے پیاری شہزادی! اپنا وعدہ پورا کریں اور مجھے بھی ساتھ محل میں لے جائیں۔” مگر شہزادی نے اس کی ایک نہ سنی۔ اگلے روز محل کے دروازے پر دستک ہوئی اور مینڈک کی کمزور سی آواز آئی:
    ”دروازہ کھولیے، پیاری شہزادی! یاد کیجیے اپنا وعدہ جو آپ نے تالاب کے کنارے کیا تھا۔”
    یہ سن کہ شہزادی نے دربانوں کو دروازہ بند رکھنے کا حُکم دیا۔ بادشاہ سلامت نے شہزادی کو سہماہوا دیکھا تو پوچھا:
    ”کیا بات ہے شہزادی! آپ گھبرائی ہوئی لگ رہی ہیں؟” شہزادی نے پورا واقعہ سنایا۔
    بادشاہ نے شہزادی سے کہا: ”شہزادی آپ کو اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے۔”
    چناں چہ شہزادی نے بادشاہ سلامت کی بات مان کر مینڈک کے لیے دروازہ کھلوا دیا۔ دروازہ کھلتے ہی مینڈک پھدکتا ہوا کمرے میں داخل ہوا اور میز کے قریب پہنچ گیا جہاں شہزادی کھانا کھا رہی تھی۔ اس نے شہزادی سے کہا: ”براہِ کرم مجھے اپنے ساتھ والی کرسی پر بٹھائیں اور اپنی پلیٹ سے کھانے دیں۔”
    مجبوراً شہزادی نے اسے کرسی پر بٹھایا اور اپنی پلیٹ اس کے سامنے رکھ دی۔ جب وہ پیٹ بھر کر کھا چکا تو محل میں ہی غائب ہوگیا۔ جب صبح ہوئی تو شہزادی حیران رہ گئی۔ اس نے دیکھا کہ ایک خوب صورت شہزادہ محل میں موجود ہے۔
    شہزادے نے شہزادی کو بتایا کہ ایک ظالم جادوگرنی نے اُس پر جادو کرکے اسے مینڈک بنا دیا تھا۔ اس جادوگرنی نے یہ شرط رکھی تھی کہ جب تک وہ ایک شہزادی کے ساتھ اس کی پلیٹ میں کھانا نہیں کھائے گا تب تک مینڈک ہی رہے گا۔
    تو بچو! آپ نے دیکھا کس طرح شہزادی نے وعدہ نبھا کر شہزادے کو ظالم جادوگرنی کے جادو سے نجات دلائی۔ ہمیں بھی ہمیشہ دوسروں کی مدد کرتے رہنا چاہیے۔
    ٭…٭…٭

  • جادوئی جنگل | سمیعہ علی

    جادوئی جنگل | سمیعہ علی

    جادوئی جنگل
    سمیعہ علی

    کسی پہاڑی علاقے میں پانچ دوست رہتے تھے۔ وہ مل جل کر پڑھتے اور ایک ساتھ ہی کھیلتے تھے۔ حمزہ اور عادل بہت شرارتی اور چالاک تھے۔ پنکی اپنے نام کی طرح گلابی سی اور بھولی بھالی لڑکی تھی۔ قاسم ذراسُست مزاج اور دانیال گول مٹول سابچہ تھا۔ ان پانچوں کی دوستی بڑی مثالی تھی۔ ایک دن وہ سب پہاڑی علاقے کی سیر کو نکلے اور گھومتے پھرتے ایک خوب صورت وادی میں داخل ہوگئے۔ اس نئے علاقے کا حُسن دیکھ کر اُن کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
    ”کیاخیال ہے دوستو! اگر ہم اسی جگہ اپنے خیمے لگا لیں۔” عادل نے ایک جگہ رک کر پوچھا۔ پھر سب نے اپنے اپنے خیمے اسی جگہ لگالیے۔ اچانک ٹھنڈی ہوا چلنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہوا نے تیز طوفان کی شکل اختیار کرلی۔ آخر کچھ دیر بعد طوفان کی شدت کم ہوئی۔ اب وہ ایک ہرے بھرے علاقے میں تھے۔ ہر طرف خوش نما پھول اورمہکتی فضا، ایسا دل کَش منظر انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اچانک عادل نے زور سے ہنسنا شروع کر دیا:
    ”ہاہاہا…ہاہاہا… ارے دیکھو! دانیال بھالو بنا ہوا ہے۔” سب نے حیران ہوکر دیکھا۔ واقعی ایسا ہی تھا۔ سب ہنسنے لگے۔
    ”اوہ… وہ دیکھو! پنکی کتنی پیاری خرگوشنی بن چکی ہے۔” حمزہ چلا ّیا۔ دانیال اب ہنستے ہوئے بولا: ”ہاہاہا!!! عادل! تم ذرا اپنی شکل تو دیکھو… بندر بن چکے ہو تم۔”
    اِدھر حمزہ ایک شاطر لومڑ کا روپ دھار چکا تھا۔ سب حیرانی سے اپنے جسم پر ہاتھ پھیر رہے تھے۔ اچانک انہیں قاسم کا خیال آیا تو وہ چونک گئے۔
    ”ارے! میں یہاں ہوں، نیچے دیکھو!” سب نے نیچے دیکھا تو زمین پر ایک پیارا سا کچھوا رینگ رہا تھا۔
    ”دوستو!لگتا ہے ہم کسی جادوئی دنیا میں آ گئے ہیں۔” دانیال بھالو نے کہا۔ ”ہاں شاید… لیکن جلد ہی باہر نکل جائیں گے فکر مت کرو… ہمیں کوئی نہ کوئی راستہ مل ہی جائے گا۔” پنکی نے کہا تو سب کو حوصلہ ہوا۔
    پھر وہ سب ذرا آگے بڑھے تو وہاں ایک خوب صورت جھیل نظر آئی۔ وہ سبھی جھیل میں موجود کشتی میں سوار ہو گئے۔ کشتی خود بہ خود چلنے لگی۔ پانی میں پیاری پیاری مختلف رنگوں والی مچھلیاں تیر رہی تھیں، جو خوشی سے دائرہ بناتی ہوئی ان کی کشتی کے پاس آتیں اور پھر تیزی سے دور چلی جاتیں۔ جھیل کے پاراُترتے ہی بندر یعنی عادل سیب کے درخت پر چڑھ گیا۔
    ”ارے بھائی! ہمیں بھی کھانے ہیںسیب ۔”خرگوشنی،کچھوا اور بھالو نے آواز لگائی۔ بندر نے یہ سن کر درخت کو زور زور سے ہلانا شروع کر دیا۔ اِس طرح بہت سارے سیب نیچے گرگئے۔ اچانک ایک تیز آواز اُن کے کانوں میں پڑی۔ ”رک جاؤ… کون ہو تم؟ پھل ضائع کرنے پر تمہیں سزا ملے گی۔” کرخت آواز سنتے ہی اُن سب نے دوڑ لگا دی۔ اتنے میں آسمان پر موجود بادل کا ایک ٹکڑا اُن کے سروں پر منڈلانے لگا۔ اسے دیکھ کر لومڑ کو خیال آیا: ”دوستو! یہ بادل ہمیں کہیں لے کر جانا چاہتا ہے۔ دیکھو! یہ نیچے آرہاہے ہماری طرف…” لومڑ کی بات سُن کر سب چوکنا ہوگئے۔
    ”چلوبھئی! بادل آہستہ آہستہ سوار ہوجاؤ۔” بادل کے نیچے آنے پر خرگوشنی نے کہا تو سب سوار ہوگئے۔ بادل نے انہیںایک خوف ناک باغ کے باہر لا کر اُتار دیا۔ اِس باغ میں بے ہنگم پتھر تھے جِن پر پاؤں رکھ کرانہیں آگے بڑھنا تھا۔ اِن پتھروں کے درمیان کہیں آگ تھی تو کہیں پانی اور کہیں رینگتے جانور۔ سب نے اللہ کا نام لے کر پتھر پر پاؤں رکھا اور احتیاط سے آگے بڑھے۔
    سامنے ایک بڑی کھائی آگئی۔ بندر نے ایک درخت کے ساتھ لٹک کر اپنی دم سے انہیں وہ کھائی پار کروائی۔ پھر کچھوا اپنے خول میں سمٹا تو سب نے اُس کے سخت خول پر پاؤں رکھ کر وہ ندی پار کی۔ سامنے دور استے تھے۔ ایک راستے پر خاردار جھاڑیاں اور دوسرے پرسُلگتی ہوئی آگ تھی۔ لومڑ نے سمجھ داری سے کام لیا۔ وہ سب کو لے کر جھاڑیوں والے راستے کی طر ف چل پڑا۔ اچانک بندر کو ایک جادوئی چراغ نظر آیا۔ اس نے بھاگ کر چراغ اُٹھا لیا۔ جیسے ہی اس نے چراغ رگڑا اُس میں سے ایک جن نکلا۔ ”ہوہوہو… ہاہاہا… کیا حکم ہے میرے آقا؟”
    ”اوہ…ج… ج… جن بھائی! ہمارا ایک کام تو کردیں۔” خرگوشنی ذرا ڈر تے بولی۔ ”آقا! میں آپ کا ہر حکم مانوں گا۔”
    بھالو بولا: ”مجھے ایک ایسا گھڑا چاہئے جس میں بہت سارا شہد بھرا ہو۔” خرگوشنی بولی: ”مجھے ایک نیک پری بنا دو۔” کچھوا بولا: ”میں تیز تیراک بننا چاہتا ہوں۔” ”خاموش…” بندر چلّایااور بولا: ”ہمیں اس جادوئی دنیا سے باہر جانا ہے جن بھائی! آپ ہمیں باہر جانے کا راستہ دکھادو بس۔”
    ”جو حکم میرے آقا! تعمیل ہوگی۔” اتنا کہہ کر جن نے کوئی منتر پڑھا تو اطراف سے دھواں اُٹھنے لگا۔ ایک دم کسی چیز نے ان سب کو ہوا میں اُچھالا تو ان کی چیخیں نکل گئیں۔ کچھ دیر بعد پائوں زمین پر لگے تو انہوں نے آنکھیں کھول دیں۔ آس پاس کا منظر دیکھ کر ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ وہ جادوئی دنیا سے باہر آچکے تھے۔ انہوں نے مل کر ایک عزم کیا کہ وہ آئندہ کبھی گھر والوں کے بغیر اتنی دور کا سفر نہیں کریں گے۔
    ٭…٭…٭

  • بدی کے بدلے نیکی

    بدی کے بدلے نیکی

    بدی کے بدلے نیکی
    ہما جاوید

    کسی گائوں میں ایک محنتی اور شریف چیونٹارہتا تھا۔ وہ ہر وقت کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتا۔ کبھی اپنے بِل کی مرمت کررہا ہے تو کبھی منہ میں اناج کادانہ اٹھائے چلاآرہا ہے۔ وہ کاہلی کو گناہ سمجھتا اور ہرکام بڑی محنت سے کرتا تھا۔ کسی کام سے باہر نکلتا توراہ چلتے دوستوں سے بے مقصد بات چیت نہ کرتا، وہ جانتا تھا کہ عقل مند زیادہ نہیں بولتے۔ راستے میں اگر کوئی جان پہچان والا مل بھی جاتا تو چیونٹا دور ہی سے سلام دعا لے کر آگے روانہ ہوجاتا تھا ۔
    اس چیونٹے کے بل کے قریب ہی گندے پانی کاایک جوہڑتھا۔جہاںشریر اور آوارہ بچے گھنٹوں اس گندے پانی میں نہاتے رہتے۔ ان بچوں کے ساتھ بہت سی بھینسیں بھی سارا دن پانی میں بیٹھی رہتی تھیں۔ چیونٹا بڑا پریشان تھاکیوں کہ بھینسیںوہاںسارا دن پھرتی رہتی تھیں۔ چیونٹے کو خطرہ تھا کہ کہیں اُس کا کوئی بچہ اِن کے پاؤں تلے کچلا نہ جائے۔ اب وہ زیادہ تر گھر میں ہی رہتا تھا۔ اگر کبھی کسی ضروری کام سے باہر جاتا بھی تو اپنے بیوی بچوں کو سختی سے کہہ جاتا کہ وہ باہر نہ نکلیں۔
    ایک دن چیونٹا بہت تھکاہوا تھا۔ وہ دوپہرکاکھانا کھا کر کچھ دیر آرام کرنے لگا۔ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ اچانک کسی نے اسے جھنجھوڑدیا۔ وہ چونک کر اٹھا اور دیکھا کہ اس کی بیوی اس کے سر پر کھڑی ہے۔ وہ بہت گھبرائی ہوئی تھی۔ چیونٹے نے جب اس کی طرف دیکھا تووہ بولی: ”آپ مزے سے سو رہے ہیں اور گھر میں پانی بھرا جارہاہے۔ ”
    ”ہیں …؟کیا کہاپانی …؟” کہاں سے آرہا ہے؟ چیونٹاگھبرا کر بولااور پھر وہ باہر کی طرف بھاگا۔ وہاں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ بِل کے بالکل قریب جوہڑ میں ایک بھینس بیٹھی بار بار اپنی دم پانی پرمار رہی ہے جس سے چھینٹے اُڑ اُڑ کر چیونٹے کے بل میں داخل ہورہے ہیں۔ چیونٹے نے یہ منظر دیکھا تو پریشان ہوگیا۔ اِس طرح تو ہماری خوراک کا ذخیرہ برباد ہوجائے گااور جاڑوں کے موسم میں ہم بھوکے مرجائیں گے۔ چیونٹے نے یہ سوچاپھر دوڑ کر بھینس کے قریب ایک پتھر پر چڑھ کر بولا:
    ”بی بھینس! میری ایک بات سنوگی؟”
    ”کیا ہے بھئی؟” بی بھینس نے اکڑکرجواب دیا۔
    ”دیکھو بہن! میں ایک غریب اور کمزور ساچیونٹا ہوں۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ تم جانتی ہو کہ ہم اپنی بِل میں برے وقت کے لیے پہلے ہی سے خوراک ذخیرہ کرلیتے ہیں۔”
    ”تو پھر میں کیا کروں؟” بھینس روکھے پن سے بولی۔
    ”اچھی بہن !تم بار بار اپنی دم پانی میں مارہی ہو۔ اس سے میرے گھر میں پانی داخل ہورہاہے اور ہمیں خوراک کاذخیرہ تباہ ہونے کااندیشہ ہے۔ خدا کے لیے میرے بچوں پر ترس کھائو ۔ میں زندگی بھر تمہارا احسان مندرہوں گا۔” وہ بھینس بڑی بد اخلاق تھی۔ اُس پرچیونٹے کی اِن باتوں کا کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ آنکھیں نکال کر بولی:
    ”چل بھاگ یہاں سے… میں اپنی مرضی کی مالک ہوں۔ جب تک چاہوں دُم ہلاتی رہوں تُو مجھ پر حکم چلانے والا کون ہوتا ہے؟ نکل جا ورنہ کچل کررکھ دوں گی۔” چیونٹے نے یہ سنا تو اس کی آنکھوں میں آنسو بھرآئے۔ وہ سمجھ گیاکہ اس ظالم بھینس سے مزید کچھ کہنا بے کار ہوگا۔ چناںچہ وہ سرجھکا کرلوٹ آیا۔ گھر میں بہت زیادہ پانی بھر نے کے باعث خوراک کا سارا ذخیرہ تباہ ہوچکا تھا ۔ چیونٹے کے بچے خوف سے چیخیں ماررہے تھے۔ اس نے بڑی مشکل سے بچوں کوپانی سے نکالا اور باہر لے آیا پھر ایک حسرت بھری نظر اپنے گھر پر ڈال کر کسی انجانی منزل کی طرف چل دیا۔
    اب اس کے پاس کھانے کو خوراک تھی اور نہ سرچھپانے کو ٹھکانا۔ وہ سخت پریشان تھا ۔چلتے چلتے وہ ایک ٹیلے کے پیچھے جانکلا۔ اس جگہ چیونٹے کے بہت سے دوست رہتے تھے۔ انہیں جب سارا حال معلوم ہوا تو سب نے چیونٹے سے کہا:” پیارے بھائی!آپ ہمارے محسن ہیں۔ہر برے وقت میں آپ نے ہماری مدد کی ہے۔ اب قدرت نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم ان احسانوں کا بدلہ اتار سکیں۔”
    یہ کہہ کر بہت سے چیونٹے مل کر ایک مکان کی تعمیر میں لگ گئے۔ وہی کام جو چیونٹاا کیلا کئی دنوں میں مکمل کرتا اب گھنٹے بھر میں ہوگیا تھا۔ ان سب نے چیونٹے کے لیے بڑاسا مکان بنادیا۔ مکان کے بعد غذا کامسئلہ حل کرنے کے لیے سب چیونٹے اپنے گھروں سے تھوڑاتھوڑا اناج لے آئے ۔اب غلے کا ایک بڑا ڈھیربن گیاتھا۔ اس طرح چیونٹے کے پاس ایک آرام دہ گھر اور ڈھیر ساراغلہ جمع ہوچکاتھا۔ اس نے اپنے سب دوستوںکا شکریہ ادا کیا۔
    ایک دن چیونٹا کسی کام سے جوہڑ کی طرف جارہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ وہی بھینس ندی کے باہر کھڑی رورہی تھی اور بار بار اپنے سرکو جھٹک رہی تھی جیسے وہ سخت تکلیف میں ہو۔ چیونٹے نے اس کو تکلیف میں دیکھا تو اسے بھینس پربڑا ترس آیا۔ وہ آگے بڑھا اور بھینس سے خیریت دریافت کی۔ بھینس سخت شرمندہ تھی۔ وہ روتے ہوئے بولی: ”بھائی چیونٹے مجھے معاف کردو۔ میں نے تم پر ظلم کیا تھا۔ اب اس کی سز ا بھگت رہی ہوں۔ ”چیونٹا بے چینی سے بولا :”مگر تمہیں کیا تکلیف ہے؟”
    ”میں صبح بھوسا کھارہی تھی کہ ایک چھوٹا سا تنکا اڑ کر میری آنکھ میں چلاگیا۔ تب سے میری آنکھ میں تکلیف ہے۔ مجھے کسی پل چین نہیں آرہا۔ تنکا کسی بھی طرح نکل نہیں رہا۔” بھینس نے بتایا ۔
    ”میں تمہاری مدد کرسکتا ہوں۔ تم اپنا سرزمین پر رکھو۔” چیونٹا نے کہا۔
    بھینس نے جھٹ اپنا سرزمین پر رکھ دیا۔ اب چیونٹا اس پر چڑھ گیااور آنکھ کے قریب جاکر تھوڑی دیر میں وہ تنکا باہر نکال لایا ۔ تنکا نکلنے سے بھینس کو بے حد سکون ملااور اس کی آنکھوں میںندامت کے آنسو اُمڈ آئے ۔اس نے شکریہ ادا کیااوربولی:”چیونٹے میاں! میں نے تم پر ظلم کیا لیکن اس کے باوجود تم نے مجھ پر احسان کیا، آخر کیوں؟”
    چیونٹا بولا: ”سنو بہن اگر تمہاری بدی کرنے پر میںبھی بدی سے جواب دیتا تو تم میں اور مجھ میں کیا فرق رہ جاتا ۔اس طرح تو دنیا سے نیکی ہی مٹ جائے ۔ویسے بھی اگر تمہیں اُس خوشی کا احساس ہو جائے جو بھلائی کر کے ملتی ہے تو تمہارے سوال کا جواب تمہیں خود مل جائے گا۔” یہ سن کر بھینس نے شرمندگی سے سر جھکا لیا پھر اس نے وعدہ کیا کہ اب وہ کسی کو تنگ نہیں کرے گی اور سب کے ساتھ نیکی سے پیش آئے گی۔

  • باز – فریال سید

    باز – فریال سید

    باز
    فریال سید

    "مورے! میں ٹھیک ہو جاؤں گا ناں ؟”
    اس نے بڑی بڑی آنکھوں میں ڈھیروں ا مید سموتے ہوئے اپنی ضعیف ماں کے چہرے پہ یقین کی ایک رمق تلاش کی۔
    "ہاں میرے بچے تم بالکل ٹھیک ہو جائو گے ۔ اللہ بہت بڑا ہے ، وہ کوئی حل نکال لے گا۔ ”
    روشن بی بی نے اپنے چہرے پے مصنوعی خوش امیدی سجاتے ہوئے جنید کو ا مید دلائی ۔
    جنید خان، روشن بی بی کا واحد سہارا، ان کا اکلوتا بیٹا تھا، جو پیدائشی طور پر دل کے عارضے میں مبتلا تھا۔ ا س کے والد کا انتقال جنید کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا ۔ تب سے اب تک روشن بی بی لوگوں کے گھروں میں کام کر کے اپنا گزر بسر کر رہی تھی اور جنید کی تعلیم کا خرچہ اٹھا رہی تھی ۔ تب ہی ایک دن اسکول سے واپسی پر جنید کی طبیعت بگڑ گئی۔ سرکاری ہسپتال پہنچنے پر پتا چلا کہ جنید کی بیماری خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور اگر جلد از جلد آپریشن نہ کیا گیا تو اس کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس آپریشن کے لئے کم سے کم پانچ لاکھ روپے درکار تھے۔
    5لاکھ روپے "جو روشن بی بی نے کبھی خواب میں بھی نہ دیکھے تھے، کجا ا نکا بند و بست کرنا۔
    مگر چودہ سالہ معصوم جنید جس کاسارا بچپن اپنی بیماری سے لڑ لڑ کر گزرا تھا وہ آنکھوں میں مکمل صحت یاب ہونے کا خواب سجائے بیٹھا تھا اور روشن بی بی ا س کی خوش امیدی دیکھ کے صرف ایک بار، ایک کوشش کرنا چاہتی تھیں۔
    تب ہی جنید کو جلدی واپس آنے کا کہہ کر وہ اپنی مالکن کے پاس آگئیں۔ ان سے کوئی خاص امید تو نہ تھی مگر پھر بھی وہ ایک کوشش کرنا چاہتی تھی۔
    مالکن کے گھر تو عجیب جشن کا سماں تھا۔ صاحب اور بیگم صاحبہ مٹھائی بانٹ رہے تھے ۔ خوشی تھی کہ ان کے چہروں سے عیاں تھی ۔ وہ کچھ دیر اور وہیں کھڑی رہتی اگر بیگم صاحبہ کی نظر ا س پر نہ پڑتی۔
    "ارے آؤ آؤ روشن! ادھر کیوں کھڑی ہو؟ آئو تم بھی مٹھائی کھائو۔ دیکھو تمہارے صاحب اپنا کیس جیت گئے۔” جوش سے کہتی بیگم صاحبہ نے روشن کی آنکھوں کے آنسو نہ دیکھے ، ورنہ اِ س طرح مٹھائی نہ تھماتیں۔
    "وہ بی بی جی میں نے کہنا تھا کہ۔۔ وہ جی میرا جنید ہسپتال میں ہے۔ اگر آپ میری تھوڑی مدد کردیتے تو۔۔۔”
    روشن کے لہجے کی کپکپاہٹ اس کی گھبراہٹ کی غماز تھی۔
    ” ہاں! کیوں نہیں۔ بتائو کتنے پیسے چاہئیں تمہیں۔”
    بیگم صاحبہ نے خوش دلی سے کہا تو روشن کی تھوڑی ہمت بندھی ۔
    "وہ جی، اس کے آپریشن کے لیے پانچ لاکھ روپے کی ضرورت ہے اور ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اگر جلدی پیسوں کا بندوبست نہ ہوا تو۔۔۔”
    روشن کی آواز آنسوئوں میں ڈوب گئی اور وہ بات مکمل نہ کر سکی۔ ا س نے ڈرتے ڈرتے نظریں اٹھا کر بیگم صاحبہ کے چہرے کو دیکھنا چاہا تھا۔ آنسوئوں کی دھند کے پار ا سے بیگم صاحبہ کے نقوش سپاٹ ہوتے نظر آئے۔ خوف کی ایک سرد لہر اس کے وجود میں سرائیت کر گئی ۔ جس انکار کا ا سے خوف تھا ، شاید بیگم صاحبہ وہی کرنے والی تھیں ، اور ا س سے آگے وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی ۔
    "ایسا ہے روشن کہ۔۔” بیگم صاحبہ نے ٹانگ پہ ٹانگ رکھتے ہوئے تمہید باندھی۔
    "تمہارے صاحب آج جو یہ ضروری کیس جیتے ہیں، اِس کے لیے ا نھوں نے وکیل کو پانچ لاکھ روپے فیس دی ہے۔ تو۔۔۔” وہ ایک ثانیے کو ر کیں۔
    "تو اگر تم پہلے آجاتی تو شاید کچھ ہو بھی جاتا ، پر اب تو ناممکن ہے۔”
    بیگم صاحبہ نے اپنی انگلی میں موٹے ہیرے کی انگوٹھی گھماتے ہوئے بات مکمل کی اور روشن بی بی کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کے برسے تھے۔ وہ بنا کچھ کہے واپسی کے لیے پلٹی۔
    "اے میرے پاک خدا! اب میں کیا کروں گی ۔ یہ تو نے مجھے کیسی آزمائش میں ڈال دیا ہے؟ میں کہاں سے لائوں پانچ لاکھ؟ کیا کروں میں آخر؟ شاید میں پہلے آجاتی تو بیگم صاحبہ پیسے دے بھی دیتیں، پر اب تو وہ وکیل کو۔۔۔ وکیل!!!”
    روشن بی بی کی آنکھوں میں امید کی لو ٹمٹمائی۔ وہ تیزی سے مڑی اور بیگم صاحبہ تک آئی ۔
    "بیگم صاحبہ! وہ جی ا س وکیل کا پتا مل سکتا ہے؟ آپ کی بڑی مہربانی ہو گی جی ۔ خدا کے لیے۔”
    بیگم صاحبہ نے تھوڑی دیر ا سے ترش نگاہوں سے گھورا ، پھر صاحب سے ایک کارڈ لے کے اس کی طرف بڑھا دیا۔
    خوشی سے نہال ہوتی روشن بی بی نے عجلت میں ان کا شکریہ ادا کیا اور تیزی سے باہر کی طرف بڑھ گئی۔ اس کا ر خ بس اسٹینڈ کی طرف تھا۔ وہاں بس کے انتظار میں کھڑی ایک طالبہ سے کارڈ پہ درج پتے کے بابت پوچھا۔ اس نے خوش دلی سے پتا سمجھایا۔
    روشن بی بی کے دل میں امید اور خوف کے ملے جلے احساسات جاگ رہے تھے جن میں شرمندگی کی آمیزش بھی تھی۔ پہلی دفعہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا نے سے زیادہ ایک خود ار انسان کے لیے اِس دنیا میں کچھ بھی مشکل نہیں۔
    اپنے خیالوں میں گم وہ اپنی منزلِ مقصود پہ پہنچ چکی تھی۔
    کپکپاتے قدموں کے ساتھ ا س صاف ستھرے آفس میں پہلا قدم رکھا تو گارڈ تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔ وہ جانتی تھی اگر ا س نے اپنا مدعا گارڈ کو کہہ سنایا تو اندر کبھی نہ جا پائے گی۔ اِس لئے اسے کارڈ دکھا کر کہا کہ صاحب نے خود بلایا ہے۔
    گارڈ نے پہلے جانچتی نگاہوں سے ا سے دیکھا پھر اندر جانے کی اجازت دے دی ۔ وہ ڈرتے ڈرتے اندر کی طرف بڑھی۔
    کالے سوٹ میں ملبوس کئی نوجوان وہیں اپنے کام میں مصروف بیٹھے تھے ۔ ان میں سے ایک اس کی طرف متوجہ ہوا۔
    "خیر ہے اماں! کس سے ملنا ہے آپ کو؟”
    "وہ بیٹا مجھے اِن صاحب سے ملنا ہے۔”
    روشن بی بی نے ڈرتے ڈرتے ہاتھ میں پکڑا کارڈ ا س تیکھے نین نقش والے نوحوان کی طرف بڑھایا۔
    "ارے اماں آپ کو سر سے ملنا ہے تو یوں کہیں ناں۔ چلیں آجائیں میں ملاتا ہوں آپ کو سر سے۔”
    خوش اخلاقی سے کہتا ہو وہ انہیں اپنے ساتھ لیے اپنے سرکے کمرے تک لے آیا۔ ہلکی سی دستک کے بعد اس نوجوان نے دروازہ کھولا تو سامنے کا منظر واضح تھا۔
    سیاہ سوٹ میں ملبوس ایک پینتیس چھتیس سال کے ایک نوجوان لڑکے نے مسکراتے چہرے کے ساتھ کھڑے ہوکر اس کا استقبال کیا۔ وہ دل ہی دل میں شرمندہ ہوتی ان کے سامنے والی کرسی پہ آکے بیٹھ گئیں۔
    وکیل صاحب نے شائستہ لہجے میں ان کے آنے کی وجہ دریافت کی۔ وکیل صاحب کا پوچھنا تھا کہ روشن بی بی پھوٹ پھوٹ کے رو دی اور اپنی مشکل بیان کر کے مدد مانگی۔ وکیل صاحب ان کو تسلی دیتے ہوئے ان کے ساتھ باہر تک آئے اور جو تیکھے نقش والا نوجوان انہیں کمرے تک لے گیاتھا، اسے مخاطب کرتے ہوئے روشن بی بی کے ساتھ جانے کی ہدایت کی اور پتا کرنے کو کہا کہ آیا روشن بی بی جھوٹ تو نہیں کہہ رہیں؟
    وہ نوجوان روشن بی بی کوساتھ لئے اپنی ہی گاڑی میں ہسپتال تک آیا ۔ وہاں جنید اور ڈاکٹر صاحب سے مل کے جنیدکی ساری معلومات اکٹھی کرکے چلا گیا۔ روشن بی بی کے دل میں خوش امیدی جاگی تھی۔
    جب کہ نوجوان واپس آفس پہنچا اور وکیل صاحب کو ساری معلومات سے آگاہ کیا ۔ وکیل صاحب تھوڑی دیر خاموش بیٹھے رہے، پھراپنی دراز سے آج صبح ہی ملنے والا پانچ لاکھ روپے کا چیک نکالا اور نوجوان کی طرف بڑھا دیا۔ نوجوان نے سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھتے ہوئے چیک تھام لیا۔
    "یہ لے جائو اور ا س اماں کے بیٹے کا آپریشن جلد سے جلد کرانے کے انتظامات کرو۔”
    نوجوان جونیئر وکیل نے حیرانی سے استفسار کیا:
    "لیکن سر یہ آپ کی پہلی بڑی فیس ہے ۔ آپ ایسے کیسے اپنے سارے پیسے۔۔۔”
    اس سے پہلے کہ نوجوان وکیل کی بات مکمل ہوتی، سر نے اپنا ہاتھ ا ٹھا کے اسے مزیدکچھ کہنے سے روک لیا۔
    "زوئے! (پشتو میں بیٹے کو کہتے ہیں) ایسا نہیں کہتے ۔ کیا پتا خدا میرا امتحان لے رہا ہو۔ میں اسے کیا جواب دوں گا؟”
    سر کی بات پہ نوجوان وکیل خاموش ہو گیا۔
    جنید کا آپریشن ہو گیا اور وہ مکمل صحت یاب بھی ہو گیا۔ اپنے پیروں پہ چل کے ایک دن وہ اور روشن بی بی وکیل صاحب کا شکریہ ادا کرنے بھی آئے تھے۔ روشن بی بی انہیں ڈھیروں دعائیں دیتیں، جنید کو ساتھ لئے چلی گئیں لیکن پھر وکیل صاحب کی کامیابیوں کا سلسلہ نہ ر کا۔
    گو کہ یہ پہلا واقعہ نہیں تھا جب وکیل صاحب نے یوں کسی کی مدد کی تھی ۔ اِ س سے پہلے بھی انہوں نے کئی لوگوں کی ایسے ہی مدد کی تھی۔ آفس کے باہر کھڑے ہونے والے خوانچہ فروشوں کے قریب سے صبح جب گزرتے تو جیب میں ہاتھ ڈالتے، جتنے پیسے ہاتھ میں آتے ا نہیں دیتے جاتے۔ اپنے ہی گروپ میں کام کرنے والے جونیئر وکلا کی بھی ہر ضرورت کا خیا ل رکھتے۔ ان کی ہر ممکن مدد کرتے۔ یوں دعائیں اور عزت کماتے کماتے، وکیل صاحب بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر نامزد ہو گئے۔ وہ اپنے مخالف سے بہت نمایاں ووٹ حاصل کرکے جیتے گئے۔ وقت گزرتا گیا۔ وکیل صاحب بی بی اے کے موجودہ صدر سے سابق صدر ہو گئے لیکن ان کی کامیابیوں کا سلسلہ ر کا نہیں۔
    وہ اب سپریم کورٹ کے وکیل تھے۔ جس کیس کے لیے انہیں منتخب کیا جاتا، جیت ا ن کے موکل کے نصیب میں لکھ دی جاتی۔ اتنی عزت، دولت اور شہرت نے بھی ان کی فطرت نہ بدلی۔ بلکہ اب وہ پہلے سے بھی زیادہ لوگوں کی مدد کرنے لگے تھے اور وقت یونہی گزرتا گیا۔
    پھر ایک دن بی بی اے کے موجودہ صدر بلال قاسی کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا ۔
    وکیل صاحب ا س وقت کیسے پیچھے رہتے ۔ اپنے ساتھی وکلا کو اپنے ساتھ لیے ہسپتال پہنچے جہاں پہلے ہی وکلااور میڈیا کا جمِ غفیر موجود تھا۔ وکیل صاحب اور ان کے ساتھی وکلا بلال قاسی صاحب کی میت لینے میں پیش پیش تھے کہ اچانک ہجوم تھوڑا سا بڑھ گیا۔
    وکیل صاحب کے ساتھ ہی اس تیکھے نقش والے نوجوان کو ہجوم نے پیچھے دھکیل دیا تھا۔ انہوں نے ارد گرد نگاہ دوڑائی، باقی سب ہی ساتھی موجود تھے، نہ تھا تو وہ جو ان کا سب سے چہیتا شاگرد اور ساتھی تھا۔ وہ یقینا اسے فون ملاتے اگر میت نکالنے کا شور نہ مچتا۔ وہ سب چھوڑ چھاڑ باقی ہجوم کی طرح بلال قاسی شہید کی میت کی طرف متوجہ ہو گئے اسی اثنا میں ایک زور دار ھماکا ہو گیا ۔ ہر سو بارود کی تیز بو اور دھوئیں کے کالے بادل چھا گئے۔ وکیل صاحب بھی زمین پہ گرے ہوئے تھے۔ انہوں نے آنکھیں کھول کے اطراف کا منظر دیکھنا چاہا مگر۔۔
    ان کی آنکھوں میں مسلسل بہتا خون ہرمنزل کو دھندلا رہا تھا ۔ کانوں میں تیز سیٹی سی بج رہی تھی۔ کچھ لوگ ا ن کی طرف تیزی سے بڑھے تھے اور پھر ا نہیں کسی چیز کا ہوش نہیں رہاتھا۔
    ”تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دھماکہ خودکش تھا ، جس میں وکلا کو نشانہ بنایا گیا ۔ ملک دشمنوں کی ایک اور سازش ، جس میں وکلا بری طرح سے متاثر ہوئے ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق ، دشمن نے سازش کے تحت صدر بلوچستان بار ایسوسی ایشن بلال قاسی کو شہید کیا اور جب وکلا بڑی تعداد میں میت لینے ہسپتال پہنچے تو دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے ا ڑا دیا ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق بھاری جانی نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ ہمارے نمائندے وقاص علی جائے وقوعہ پہ موجود ہیں آئیے جانتے ہیں ان سے زیادہ ترین صورتِ حال:
    ”جی وقاص! اب تک کی اطلاعات کے مطابق تقریباً کتنے جانی نقصان کا خدشہ ہے؟”
    "جی نادیہ میں اس وقت جائے وقوعہ پہ موجود ہوں، یہاں قیامت کا سا منظر ہے ہر طرف انسانی اعضاء بکھرے پڑے ہیں ۔ جائے وقوعہ کودیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بھاری تعداد میں جانی نقصان کا خدشہ ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پینتیس افراد اس افسوس ناک حادثے میں شہیداور ستر زخمی ہوئے ہیں۔”
    "جی وقاص کچھ پتا چل سکا ہے کہ زخمیوں میں کتنوں کی حالت نازک ہے ؟”
    "جی نادیہ اس وقت تو یہ کہنا مشکل ہو گا لیکن ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کی حالت بہت خراب ہے اورا یک زخمی کی شناخت بہ طور باز محمد کاکڑ ،سابق صدر بلوچستان بار ایسوسی ایشن کی جا رہی ہے ۔ بازمحمد کا کڑ جو اپنے ساتھیوں سمیت بلال قاسی کی میت لینے سول ہسپتال آئے تھے اس بدترین دہشت گردی میں شدید زخمی ہوئے ہیں۔ جی نادیہ ۔ ۔”
    "بہت شکریہ وقاص ہمارے ناظرین کو تازہ ترین صورت حال سے اپ ڈیٹ کرنے کا۔”
    ناظرین یہ افسوس ناک مناظر جو آپ اس وقت اپنی ٹی وی سکرینزپردیکھ رہے ہیں یہ کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ہونے والے خودکش دھماکے کے ہیں ۔ جس میں تازہ تر ین اطلاعات کے مطابق پینتیس افراد شہید اور ستر کے قریب زخمی ہیں ۔ زخمیوں میں سابق صدر بی بی اے باز محمدکاکڑبھی شامل ہیں۔”
    آئیے بات کر تے ہیں ایک دفعہ پھر اپنے نمائندے وقاص سے۔
    "جی وقاص! تازہ ترین صورتِ حال سے اپ ڈیٹ کیجئے گا”
    "جی نادیہ! ایک افسوسناک خبر سے آپ کو آگاہ کرتا چلوں کر ہسپتال زرائع کے مطابق سابق صدر بی بی اے اور بلوچستان کے جانے مانے وکیل باز محمد کاکڑ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے ہیں ۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شہدا کی تعداد 50 جبکہ زخمیوں کی تعداد 90 ہوگئی ہے۔ زخمیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے کچھ زخمیوں کو سی ایم ایچ شفٹ کیا جا رہا ہے۔ آئیے بات کرتے ہیں اس واقعے کے عینی شاہد نوجوان سے۔”
    "جی شاہ صاحب! آپ اس دھماکے میں زخمی ہوئے ہیں اور آپ کے بہت سے دوست اور ساتھی وکلا اس واقعے میں شہید ہوئے ہیں ، آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟”
    صحافی نے تیکھے نقوش والے نو جوان کے سامنے مائک کیا ۔ نوجوان ایمبولینس میں لیٹا ہوا تھا ، اس کا ایک بازو اور ایک ٹانگ پٹیوں میں جکڑے ہوئے تھے ۔ رنگت بے حد زرد تھی لیکن چہرے پر بہادری کا ڈیرہ تھا۔
    "جی بس اللہ معاف کرے قیامت تھی جو آکر گزر گئی۔ یہ ایک پری پلینڈ سازش تھی ہمارے خلاف۔ میرے سارے ساتھی شہید ہو گئے اپنے گروپ میں سے میں واحد بچا ہوں ۔ ہمارے سر باز محمد کاکڑ صاحب ایک بہترین انسان تھے ان کی شہادت سے جو خلا۔ ۔ ۔”
    "جی آپ کا بہت بہت شکریہ۔”
    نادیہ جیسا کہ آپ نے عینی شاہد کی باتیں سنی ۔ انہوں نے اس واقعہ کو پری پلینڈ سازش قرار دیا ۔ میں اپنے ناظرین کو بتاتا چلوں کہ کسی عینی شاہد سے سب سے پہلے بات ہمارے چینل نے کی ہے ۔ جی ہاں! ہم نے اپنی روایت قائم رکھتے ہوئے سب سے پہلے آپ کو اس خبر سے آگاہ کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔”
    نمائندہ اب بھی بہت کچھ کہہ رہا تھا یہ سوچے بنا کہ وہ تیکھے نقوش والا عینی شاہد اِ س وقت کیاسوچ رہا ہے اور وہ عینی شاہد نمائندے کی پیٹھ دیکھ کر سوچ رہا تھاکیاواقعی انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہماراباز ، پاکستان کا باز اب نہیں رہا؟
    کیا انہیں اندازہ ہے کہ وہ باز کتنے لوگوں کے لئے مسیحا تھا ؟
    المیہ یہ نہیں کہ کسی نے باز کی شہادت سے ہونے والے نقصان پر افسوس نہیں کیا ، المیہ تو یہ ہے کہ اس دھماکے میں اور ہر دھماکے میں جانے کتنے باز شہید ہوتے ہیں۔ ایسے باز جوسچے پاکستانی اور نیک مسلمان ہوتے ہیں ۔ دشمن ہمیشہ ہمارے بازوں پر ہی حملہ کرتی ہے ۔
    لیکن ہمیں نہ خبر ہوتی ہے نہ فرق پڑتا ہے ۔ ہاں دوسے تین دن افسوس ہوتا ہے۔ ہم احتجاج کرتے ہیں، سوگ مناتے ہیں اور پھر زندگی دوبارہ اپنی ڈگر پر چل پڑتی ہے ۔ فرق صرف تب پڑتا ہے جب ہم یاہمارا کوئی اپنا ایسی د ہشتگردی کی زد میں آتا ہے۔
    وہ نوجوان سوچ رہا تھا کہ کہیں یونہی ہمارے باز شہید ہوتے گئے تو ہمارے ملک میں باز ختم نہ ہوجائیں ۔ پھر اس ملک کے جنیدوں کی امدادکون کرے گا ؟
    وہ تیکھے نقوش والا نوجوان وکیل سوچ رہاتھا اور سوچے جا رہا تھا، کیوں کہ اس حادثے نے ا سکی زندگی میں جو خلا کیا تھا، وہ کبھی پرُ نہیں ہونا تھا۔ یہ سانحہ اس کی زندگی میں ہمیشہ کے لئے آکر ٹھہر چکا تھا۔