Tag: stories

  • درزی اور راجا | انعم سجیل

    درزی اور راجا | انعم سجیل

    درزی اور راجا
    انعم سجیل

    کسی جنگل میں راجہ نام کا ایک ہاتھی رہتا تھا۔ وہ روز نہانے کے لیے ندی پر جایا کرتا۔ راستے میں درزی کی دکان تھی۔ راجہ روزانہ اُس درزی کی دکان پر کچھ دیر ٹھہر جاتا کیوں کہ درزی اُسے کھانے کے لیے ڈبل روٹی دیا کرتا تھا۔ راجہ مزے لے لے کر ڈبل روٹی کھاتا اور پھر نہانے چلا جاتا۔
    ایک دن راجہ درزی کی دکان پر آیا اور اپنی سُونڈ کھڑکی کے اندر کی تاکہ درزی سے روٹی لے سکے۔ اسی دوران درزی کو شرارت سُوجھی۔ اس نے ڈبل روٹی کی بجائے ایک باریک اور نوک دار سوئی راجہ کی سونڈ میں چبھودی۔ راجہ تو ایک دَم تڑپ ہی اٹھا۔ سوئی چبھنے سے اُسے بہت درد ہوا۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے لیکن راجہ نے درزی کو کچھ نہ کہا اور حُپ چاپ ندی پر نہانے چلا گیا۔ درزی اپنی شرارت پر خوب ہنسا۔
    راجہ جب ندی پر پہنچا تو اُس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔ وہ درزی سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔ خوب اچھی طرح نہانے کے بعد راجہ نے ندی کے کنارے سے بہت سا کیچڑ اپنی لمبی سُونڈ میں بھر لیا اور تیز تیز چلتا ہوا درزی کی دُکان پر پہنچ گیا۔ درزی اپنی دُھن میں مگن رنگ برنگے پیارے پیارے کپڑے سی رہا تھا۔
    راجہ نے کھڑکی سے اپنی سُونڈ اندر کی اور سارا کیچڑ پھینک دیا۔ درزی کی دکان میں رکھے سارے کپڑے کیچڑ سے خراب ہوگئے۔ پہلے تو درزی کو بہت غصہ آیا لیکن جب اُسے اپنی شرارت یاد آئی تو وہ بہت شرمندہ ہوا۔ اُس نے راجہ سے معافی مانگی اور آئندہ شرارت سے توبہ کرلی۔
    ٭…٭…٭

  • پڑھاکو روبینہ | لبنیٰ حمید

    پڑھاکو روبینہ | لبنیٰ حمید

    پڑھاکو روبینہ

    لبنیٰ حمید

    کسی قصبے میں روبینہ نام کی ایک لڑکی رہتی تھی۔ اُس کے پاس ڈھیر ساری کتابیں تھیں لیکن اُسے اِن کتابوں سے کوئی دل چسپی نہ تھی۔ ایک دن روبینہ کا کتا اُس کی کتابوں والی الماری پرچڑھ گیا۔ روبینہ اُسے نیچے اتارنے لگی تو ساری کتابیں زمین پر گر گئیں اور اُن کے صفحات پھٹ گئے۔ کتابوں کے صفحوں سے جانور نکل کر باہر آنے لگے۔ روبینہ حیرانی سے سب کو دیکھ رہی تھی۔ ہاتھی میز پر ناچ رہا تھا۔ بندروں نے پردے پھاڑ کر پگڑیاں بنالی تھیں۔ خرگوش اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے جب کہ دُنبہ ایک طرف کھڑا رو رہا تھا۔
    ”رکو! تم سب واپس آجاؤ۔” روبینہ غصے سے چلّائی مگر اِس شور میں کسی نے اُس کی آواز نہ سنی۔
    اچانک روبینہ کو ایک خیال آیا۔ اُس نے ایک کتاب کھول کر کہانی پڑھنا شروع کی: ”ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی ملک میں…” سب جانور قریب آکر روبینہ کی کہانی سننے لگے۔ اچانک روبینہ نے دوسرا صفحہ پلٹا تو بندر اُچھلنے لگے:
    ”یہ ہمارے بارے میں لکھا ہے۔” اِس کے بعد وہ چھلانگیں لگاتے ہوئے کتاب کے اندر غائب ہوگئے۔ روبینہ یہ دیکھ کر حیران ہوئی لیکن وہ کہانی پڑھتی رہی۔ یوں ایک ایک کرکے سب جانور دوبارہ کتابوں میں بند ہوگئے۔ اب پورے گھر میں خاموشی تھی۔ ”میں انہیں دوبارہ کیسے دیکھ پاؤں گی؟” روبینہ افسردگی سے بولی مگر پھر اچانک اُسے ایک خیال آیا اور وہ مُسکرانے لگی۔
    اب وہ روزانہ اپنے اسکول کی کتابیں اور کہانیاں بہت شوق سے پڑھنے لگی۔ اُسے کتابیں پڑھنے میں مزا آنے لگا۔ اب وہ روزانہ کتابوں میں سب جانورں سے ملاقات کرلیتی تھی۔

  • مالی کا گدھا | طاہرہ احمد

    مالی کا گدھا | طاہرہ احمد

    مالی کا گدھا
    طاہرہ احمد

    پرانے زمانے کی بات ہے شہر بغداد میں رستم نامی ایک مالی رہتا تھا۔ ایک دن رستم اپنے گدھے کو لے کر بازار سے گزر رہا تھا۔
    بازار میں اُسے ایک ٹھگ ملا، ٹھگ نے رستم سے پوچھا: ”میاں! گدھے کو کہاں لے جارہے ہو؟” رستم بولا: ”یہ بہت تنگ کرتا ہے۔ میں اسے بیچنے جارہا ہوں۔” ٹھگ نے کہا:
    ”ارے بھئی کیوں نقصان کرتے ہو اپنا؟ میں اسے انسان بنا سکتا ہوں لیکن اس کے بدلے پانچ سونے کے سِکّے لوں گا۔” رستم یہ سن کر بہت خوش ہوا۔ اس نے گدھا ٹھگ کے حوالے کیا اور چھے ماہ بعد آنے کا وعدہ کرکے چلا گیا۔
    دن گزرتے گئے۔ اُدھر ٹھگ نے رُستم کا گدھا بیچ ڈالا۔ چھے ماہ بعد رستم ٹھگ کے پاس گیا۔ اس نے جاتے ہی ٹھگ سے گدھے کے متعلق پوچھا: ”بھائی میرا گدھا انسان بن گیا؟”
    یہ سن کر ٹھگ پہلے تو گھبرایا پھر اُس نے سوچا کہ یہ تو بے وقوف ہے۔ کیوں نا اس کی بے وقوفی کا فائدہ اٹھایا جائے؟
    اُس نے مالی سے کہا: ”دیکھو بھائی! میں نے تمہارے گدھے کو انسان بنادیا تھا اور اب وہ شہر جاکر گورنر لگ گیا ہے۔ تم گورنر کے محل چلے جاؤ لیکن یاد رکھنا وہ خود کو گدھا نہیں مانے گا۔ اس لیے تم اُس کی کسی بات پر یقین نہ کرنا۔ بس اس کے سامنے چارہ لہرا دینا، ہوسکتا ہے وہ تمہیں پہچان لے۔”
    ٹھگ کی بات سن کر رُستم نے اپنے ہاتھ میں چارہ لیا اور گورنر کے محل میں چلا گیا۔ وہاں جاکر مالی نے گورنر کے سامنے چارہ لہرایا اور بولا: ”چل بھئی میرے گدھے! تُو انسان بن گیا ہے۔ چل میرے ساتھ میں تجھے لینے آیا ہوں۔”
    گورنر نے یہ بات سنی تو اسے بہت غصّہ آیا وہ چیخ کر بولا: ”کون ہو تم؟ کہاں سے آئے ہو؟ کون سا گدھا؟ چلو بھاگو یہاں سے…” رُستم نے گورنر کو پچکارنا شروع کردیا۔
    ”ارے میرے پیارے گدھے! اتنا غصہ کیوں کرتا ہے۔ تُو اپنے مالک کو ہی بھول بیٹھا۔ دیکھ یاد کر جب تو میرے ڈنڈے کھایا کرتا تھا میں ہی تیرا مالک ہوں۔” یہ کہہ کر رستم نے اُچھل کر گورنر کو دبوچ لیا۔ گورنر نے اپنے سپاہی بلالیے جنہوں نے مالی کو گرفتار کرلیا۔ رستم کے رونے دھونے پر گورنر نے اُس سے سارا واقعہ سنا تو اس کی ہنسی چُھوٹ گئی۔ اس نے سپاہی بھیج کر اس ٹھگ کو گرفتار کروایا اور رُستم کو آزاد کر دیا۔

  • خالہ بلی اور ننھے چوہے | افشاں شاہد

    خالہ بلی اور ننھے چوہے | افشاں شاہد

    خالہ بلی اور ننھے چوہے
    افشاں شاہد

    کسی جنگل میں ٹومی اور ٹمی دو ننھے چوہے رہتے تھے۔ ایک دن دونوں نے اپنے امی ابو سے میلے پر جانے کی اجازت لی اور قریبی گاؤں کی طرف چل پڑے۔ ابھی وہ کچھ قدم ہی چلے تھے کہ انہیں صُبح سے بھوکی خالہ بلی مل گئیں۔ ننھے چوہوں کو دیکھ کر ان کے منہ میں پانی آگیا۔
    ”آہا…!! آج تو شکار خود چل کر پاس آیا ہے۔ بہت مزہ آئے گا!” خالہ بلی خوش ہوکر بُڑبُڑائی۔ ٹومی اور ٹمی خوف زدہ ہوگئے اور ٹمی رونے لگی۔
    ”میں تم دونوں کو کھا جاؤں گی۔” خالہ بلی نے پنجے لہراتے ہوئے کہا۔
    ”خالہ بلی! خالہ بلی! ہم آتے ہوئے کیچڑ میں گرگئے تھے۔ یہ دیکھیں! ہمارے ہاتھ پاؤں بھی گندے ہوگئے ہیں۔ ہمیں ابھی کھائیں گی تو آپ کے پیٹ میں درد ہوگا۔ ہم تالاب سے نہا کر آتے ہیں۔ پھر آپ چاہیں تو بے شک ہمیں کھالیں۔” ٹومی ہمت کرکے بولا۔
    ”تم اتنے چالاک نہ بنو! مجھے پتا ہے تم دونوں موقع ملتے ہی بھاگ جاؤ گے۔” خالہ بلی نے کہا۔
    ”خالہ بلی! ہم ایک ایک کرکے جائیں گے اور نہا کر واپس آجائیں گے۔” ٹومی نے کہا تو خالہ بلی نے اجازت دے دی۔ ٹومی تالاب کی طرف چل پڑا۔ ٹومی کو جاتا دیکھ کر ٹمی پریشان ہوگئی۔ خالہ بلی کو تسلی تھی کہ ٹمی اُس کے پاس ہی ہے۔ تھوڑی دیر بعد ٹومی بھاگتا ہوا واپس آیا۔ اُسے دیکھ کر خالہ بلی نے اپنی زبان ہونٹوں پر پھیرنا شروع کردی۔
    اچانک ڈبو انکل کی خوف ناک غرّاہٹ گونجی جو ٹومی کے پیچھے پیچھے چلا آرہا تھا۔ ڈبو انکل کو دیکھ کر خالہ بلی گھبرا گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں سے دُم دبا کر بھاگ نکلی۔ وہ سمجھ گئی کہ ٹومی ڈبو کو بلا کر لایا ہے۔ خالہ بلی کو بھاگتے دیکھ کر ٹومی نے آواز دی: ”خالہ بلی! خالہ بلی! رک جاؤ، بھاگ کیوں گئی۔ کیا ہمیں کھانا نہیں؟”
    خالہ بلی نے بھاگتے ہوئے جواب دیا: ”نہیں نہیں! تم لوگ بہت گندے ہو۔ میں تمہیں کھاؤں گی تو میرے پیٹ میں درد ہوگا۔” یہ سن کر ٹومی، ٹمی اور ڈبو انکل کی ہنسی چھوٹ گئی۔