Tag: shaheen

  • عکس —عمیرہ احمد (قسط نمبر ۱)

    وہ کھلے داخلی دروازے سے اندر جانے کے بجائے وہیں برآمدے میں ہی رک گئی تھی۔ داخلی دروازے کے دائیں طرف یہ ایک Cheval Standing Floor Mirror تھا جس نے اس کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی تھی۔ Oak Tree سے بنا ہوا لیکن آبنوسی رنگت کا وکٹورین اسٹائل کا ایک بہت پرانا Mirror Cheval جس کے ساتھ دونوں اطراف ہک تھے۔ اچھی پالش نہ ہونے کے باوجود بے حد اچھی حالت میں تھا۔ فرنیچر میں تھوڑی سی دلچسپی اور پہچان رکھنے والا بھی ایک نظر میں ہی لکڑی کی عمدگی اور اس پر بنے ہوئے ڈیزائن کی نفاست کو جانچ لیتا۔ وہ ایک اینٹک پیس تھا اور کم از کم شہر بانو کی نظر سے چوک نہیں سکتا تھا۔ وہ کچھ تجسس اور دلچسپی کے عالم میں فریم کے پاس آئی تھی۔ اپنی انگلیوں کی پوروں سے اس نے لکڑی پر بنے ہوئے ڈیزائن کے نشیب و فراز کو جیسے محسوس کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کی پوریں گرد آلود ہوئی تھیں۔ فریم کو یقیناً باقاعدگی سے صرف سرسری انداز میں جھاڑا جاتا تھا۔ اوول شکل کا آئینہ شفاف نہیں رہا تھا اس میں ہلکے ہلکے نشان نظر آ رہے تھے۔ یقیناً دوسری طرف موجود کروم اب اپنی مدت پوری کرنے کے بعد فنا پزیر تھا لیکن اپنے وجود پر زمانے کے تغیر و تبدل کے تمام نشانات رکھنے کے باوجود Mirror Cheval کسی بھی آرٹ لور کو سحر زدہ کر سکتا تھا جیسے اس وقت وہ ہو رہی تھی۔




    اس نے Mirror Cheval میں اپنے عکس کو دیکھا۔ غیر محسوس طور پر سر پر ٹکائے گلاسز کو ٹھیک کرتے ہوئے اس نے ماتھے پر آئے ہوئے اپنے کچھ بالوں کو دوبارہ سن گلاسز کی مدد سے قابو کرنے کی کوشش کی تھی اور مرر کے سامنے سے ذرا ہٹتے ہی اس نے آئینے میں اپنے عقب میں ابھی تک ڈرائیو وے میں کھڑے اپنے عملے کے افراد سے باتیں کرتے شیر دل کو دیکھا تھا۔ وہ رہائش گاہ کے سامنے موجود لان کے حوالے سے ہاتھ کے اشارے سے اپنے پی اے سے کچھ کہہ ہا تھا۔ شہر بانو کے بر عکس اس کے گلاسز کی آنکھوں پر تھے۔ سیاہ ٹراؤزر کے اوپر سفید شرٹ اور سیاہ جیکٹ پہنے وہ casualڈریس میں ہونے کے باوجود بے حد نارمل حلیئے میں لگ رہا تھا۔ چھ فٹ سے نکلتے قد کے ساتھ اپنے تیکھے نقوش اور کسرتی جسم کے ساتھ وہ اب بھی ہمیشہ کی طرح picture perfectلگ رہا تھا ڈرائیووے کی آرچ میں سامنے لان کے داخلی راستے میں کھڑے اس کے چہرے پر دھوپ پڑ رہی تھی۔ شہر بانو کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئی۔ ایک عجیب سے استحقاق نے اسے سرشار کیا تھا۔ آئینے میں نظر آنے والا قابل رشک مرد اس کا تھا یا شاید وہ اس کی تھی۔ نہیں… وہ دونوں ایک دوسرے کے تھے۔ ایک دوسرے کے لیے تھے۔ وہ عکس جو کسی بھی عورت کی نظر کو بھٹکانے کا باعث بن سکتا تھا صرف اس کا تھا… شہر بانو کا شیر دل۔
    اسے یاد نہیں، وہ زندگی میں کتنی بار اسے دیکھ کر فریز ہوئی تھی۔ کتنی بار اس پر فدا ہوئی تھی۔ کتنی بار اسے اپنے آپ پر رشک آیا تھا کہ شیر دل کا نام اس کے نام کا حصہ تھا۔ آئینے میں نظر آنے والا مرد اس کے وجود کو اتنے سالوں سے اسی طرح اپنی انگلیوں کے گرد لپیٹے ہوئے تھا۔
    شیر دل بالآخر مرکزی لان اور وہاں موجود flag poleکے بارے میں ہدایات سے فارغ ہو گیا تھا۔ اس کے ساتھ کھڑی تین سالہ مثال نے اس کی انگلی دوبارہ پکڑ لی تھی۔ شیر دل نے ذرا سا جھک کر بڑی سہولت کے ساتھ مثال کو اٹھا لیا پھر اپنے عملے کے افراد کے ساتھ برآمدے کی طرف بڑھتے ہوئے اس نے اس Mirror Cheval کے سامنے کھڑی شہر بانو کو دیکھا۔ شہر باتو تب آئینے میں نظر آنے والے اس عکس سے نظریں ہٹا چکی تھی۔ اس نے آئینے میں شیر دل کو اندرونی دروازے کی طرف آتے دیکھ لیا تھا۔ ذرا سا پلٹ کر وہ شیر دل کے انتظار میں رکی، ایک لمحے کے لیے دونوں کی نظریں ملیں۔ شیر دل اسے دیکھ کر مسکرایا تھا۔ ہ اس گھر میں پہلے آ چکا تھا اور وہ جانتا تھا داخلی دروازے کے قریب رکھا یہ آئینہ اس کی بیوی کے قدموں کی زنجیر بننے والا تھا۔ شہر بانو وہاں نہ رکتی تو وہ حیرت سے مر جاتا۔ وہ اپنی بیوی کی پسند نا پسند سے کسی psychicکی طرح واقف تھا۔ اس حد تک کہ وہ اس گھر میں موجود ان تمام چیزوں کی لسٹ بنا کر دے سکتا تھا جن کے سامنے شہر بانو آج رکنے والی تھی اور قیام لمبا ہوتا یا چھوٹا وہ یہ بھی بتا سکتا تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ یہ بھی بتا سکتا تھا کہ اس گھر کی کون کون سی چیز اسے پسند نہیں آنے والی تھی اور وہ ان تمام چیزوں کی تبدیلی کے انتظاما ت کر کے آیا تھا۔
    ”Isn’t it beautiful” اس نے شیر دل کے قریب آتے ہی اس کے بازو پر غیر محسوس انداز میں ہاتھ رکھتے ہوئے اس تک اپنی ستائش پہنچائی تھی۔
    ”It is” شیر دل نے تائید کی۔ اس نے بھی اپنے سن گلاسز اب سر پر ٹکا لیے۔ وہ دونوں اب اس اسٹینڈنگ مرر کے بالکل سامنے ایک دوسرے کے برابر کھڑے تھے۔ مثال کو گود میں لیے وہ ایک خوش و خرم خاندان کا عکس تھا۔ اوول مرر میں ان کا عکس گل میں پہنے جانے والے کسی لاکٹ میں لگی تصویر کی طرح دکھ رہا تھا۔ مثال نے شیر دل کی گود سے اترنے کے لیے جدوجہد کی۔ شیر دل نے اسے جھک کر نیچے اتار دیا۔ وہ ہاتھ میں پکڑے ٹیڈی بیئر کے ساتھ داخلی دروازے سے اندر بھاگ گئی تھی۔
    ”بہت پرانا لگتا ہے؟” شہر بانو اب اس مرر پر تبصرہ کر رہی تھی۔
    150”سال پراناتو یہ گھر ہے اور یہاں موجود بہت سا فرنیچر انگریزوں کے زمانے کا ہی ہے۔ استعمال سے زیادہ ڈیکوریشن اور maintenance budget خراب کرنے کے لیے سنبھال کر رکھا ہوا ہے تب سے شاید…” شیر دل اب اندر چلا گیا تھا۔ شہر بانو بھی اندر داخل ہو گئی۔ داخلی دروازے کو ان کے لیے کھول کر پکڑے ہوئے ملازم نے جیسے سکون کی سانس لی تھی۔ وہ دروازہ پکڑے پندرہ منٹ میں وہاں اکڑ گیا تھا۔
    وہ ایک راہداری نما کمان کی شکل کا برآمدہ تھا جس میں وہ داخل ہوئے تھے۔ وہ راہداری دونوں اطراف سے آگے گھر کے ان کمروں تک جاتی تھی جن کے دروازے فی الحال ان کی نظروں سے اوجھل تھے۔ پوری راہداری میں قد آدم کھڑکیاں تھیں جن کے اوپر پڑی ہوئی آرائشی چقیں اس وقت اٹھی ہوئی تھیں۔ دونوں اطراف میں مختلف جگہوں پر کرسیاں، تپائیاں اور دیوان پڑے ہوئے تھے۔ وہ راہداری اس آپٹیکل انگلش آرکیٹکچر کی ایک شاندار مثال تھی جو انگریزوں نے برصغیر میں یہاں کے موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کیا تھا۔ اس راہداری کی قد آدم کھڑکیوں سے برصغیر کی مون سون اور یورپ کے سن باتھ دونوں سے لطف اندوز ہوا جا سکتا تھا۔
    دیواروں پر اب اکثر جگہوں پر سیلن نظر آ رہی تھی۔ باہر کھڑکیوں اور دیواروں پر چڑھی بیلیں اس کی بنیادی وجہ تھی شاید۔
    شہر بانو نے وہاں کھڑے کھڑے ایک ہی نظر میں اس پوری راہداری کا جائزہ لے لیا تھا۔ شیر دل اب داخلی دروازے کے بالکل سامنے اندر ہال میں کھلنے والے دروازے کی طرف جا رہا تھا جس کے دونوں پٹ پہلے ہی کھلے ہوئے تھے اور اس میں دور مثال مٹر گشت کرتی نظر آ رہی تھی۔ اس ہال نما کمرے کے آدھے حصے میں ڈائننگ ایریا تھا اور باقی کا آدھا حصہ سٹنگ ایریا کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔
    شیر دل نے ٹھیک کہا تھا وہاں اندر واقعی بہت سے ایسے فرنیچر آئٹمز تھے جو استعمال کرنے سے زیادہ دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے۔ شہر بانو اب مکمل طور پر aweمیں تھی۔ وہ جیسے کسی اینٹیک گیلری میں آ گئی تھی۔
    ”کیا فرنیچر ہے!” وہ داد دئیے بغیر نہیں رہ سکی۔ وہ اب ایک ایک چیز کے پاس جا کر جیسے اسے چھو کر اسے اپنا خراج پیش کر رہی تھی۔




  • شاہین قسط ۱  ”برگد کی چڑیلیں” – عمیرہ احمد

    شاہین قسط ۱  ”برگد کی چڑیلیں” – عمیرہ احمد

    شاہین –  ”برگد کی چڑیلیں” – عمیرہ احمد

    ”میرے گھر میں ایک پرانا برگد ہے جس پر چڑیلیں رہتی ہیں جو ہمیں بہت تنگ کرتی ہیں۔ کیا ٹیم شاہین مجھے برگد کی ان چڑیلوں سے چھٹکارا دلواسکتی ہے؟”
    شیر دل نے کاغذ پر انگلش میں لکھی ہوئی اُس تحریر کو باآواز بلند پڑھا تھا اور نایاب اور احد یک دم بہت ہی پرجوش نظر آنے لگے تھے۔
    ”یہ ہوا نا کیس… بس یہ ہی تفتیش کریں گے ہم سب سے پہلے۔” نایاب نے سکول کی ڈیسک پر ہاتھ مار کر جیسے حتمی فیصلہ کردیا۔
    ”کیس ہے کس کا؟” احد نے شیر دل سے پوچھا۔
    ”یوحنّا جوزف کلاس فائیو۔” شیر دل نے اُس کاغذ کے نیچے لکھا نام پڑھتے ہوئے کہا جو ٹیم شاہین کے لاکر میں کسی نے ڈالا تھا۔






    وہ تینوں آج وہ لاکر کھول کر اُس میں موجود وہ سارے خطوط پڑھ رہے تھے جو سکول کے مختلف بچوں نے ٹیم شاہین سے رابطے کے لئے اپنے مسئلے کے ساتھ بھیجے تھے، اور پچھلے آدھے گھنٹے میں کوئی ایک کیس ایسا نہیں تھا جو اُن کے دل کو لگتا۔ وہ عجیب عجیب مسائل تھے جو بچوں نے کیس بناکر اُنہیں بھیج دیئے تھے۔ کسی کو اپنی وہ والی بلّی کی تلاش کروانا تھی جو تین سال پہلے غائب ہوگئی تھی اور کسی کو اپنے گھر کے چوہوں سے نجات چاہیے تھی۔ کسی کو اپنے موزوں سے بدبو کا مسئلہ حل کروانا تھا اور کسی کو کھجلی کی شکایت پر اُن سے رہنمائی چاہیے تھی۔ کسی کو اپنے چھوٹے بہن بھائی کو پٹوانا تھا اور کسی کو اپنے بڑے بہن بھائی کو اغوا کروانا تھا۔ وہ تینوں مسئلے پڑھ پڑھ کر تپ رہے تھے۔ وہ ٹیم شاہین تھے اُس سکول کی پہلی ”جاسوس تنظیم” اور وہ انہیں احمقانہ کیس لکھ لکھ کر بھیج رہے تھے۔ اُن تینوں کا موڈ بے حد خراب ہوگیا تھا ،تب ہی اُن کے ہاتھوں یوحنّا جوزف کا وہ کیس آیا تھا اور یک دم وہ تینوں جیسے کھل اُٹھے تھے۔
    یہ شیر دل شیرازی تھا جسے جاسوسی ناولز پڑھنے اور فلمیں دیکھنے کا جنون تھا اور اس ہی جنون نے اُسے یہ یقین دلادیا تھا کہ وہ خود بھی جاسوس بن سکتا تھا۔ وہ اخباروں اور ٹی وی پر مختلف جرائم کی خبریں سنتا اور پھر انٹرنیٹ پر تب تک اُن کیسز کو فالو اپ کرتا رہتا جب تک وہ حل نہ ہوجاتے اور مجرم پکڑا نہ جاتا۔ اکثر اوقات شیر دل کے جو اندازے مجرم کے بارے میں ہوتے تھے وہ صحیح ثابت ہوتے تھے اور ایسا ہونے پر وہ خوشی سے بے قابو ہوجاتا۔ احد اُس کا بہترین دوست تھا اور نایاب اُس کے چچا کی بیٹی اور وہ دونوں اُس کے کلاس فیلوز بھی تھے اور شیر دل کے اس جنون سے واقف بھی لیکن شیردل کے ذہن میں جب ایک جاسوسی تنظیم بنانے کا خیال آیا تھا تو اُس نے اُن دونوں کو بھی مکمل طور پر بے خبر رکھا تھا۔ وہ اُس وقت تک شرلاک ہومز سے متاثر تھا مگر شرلاک ہومز کی طرح ایک بھی ساتھی رکھنے پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ اُس کا خیال تھا وہ سب خود کرسکتا تھا۔
    شاہین کا نام اُس نے اپنی دادی سے علامہ اقبال کے اشعار میں شاہین کا ذکر سن سن کر سوچا تھا۔ اُسے وہ پرندہ ، اُس کی پرواز اور اس سے منسلک شاعر مشرق کا ”فلسفۂ خودی” پسند تھا۔ شاہین بھی اکیلا اونچی پرواز کرتا اپنے ہدف پر جھپٹتا تھا اور شیر دل شیرازی بھی اُس ہی کی طرح تنہا اُس تنظیم کو چلانا چاہتا تھا جس کا اس وقت وہ بانی تھا۔
    گھر بیٹھے اُس نے خود ہی ایک دن شاہین کے اغراض و مقاصد لکھ لئے تھے۔ وہ تنظیم کیا کیا کرسکتی تھی اور کیسز حل کرنے کے لئے جو معاوضہ شاہین لیتی شیردل نے اُس کا بھی تعین کرلیا تھا۔ ایک ویب سائٹ بناکر اُس نے شاہین کے لوگو کے ساتھ یہ ساری معلومات وہاں پر چڑھادیں اور اپنا ای میل ایڈریس اور سکول میں ایک لاکر نمبر ایک pamphletپر ڈیزائن کرکے اُس نے سکول کے نوٹس بورڈ پر لگا دیا۔ ایک گھنٹہ میں ہی شاہین کا لفظ پورے سکول میں گردش کرنے لگا تھا اور نوٹس بورڈ کے نیچے بچوں کا ہجوم اکٹھا ہونے لگا تھا۔
    ”ہم سکول کے بچوں کے کیسز حل کرنے والی پاکستان کی سب سے بڑی جاسوسی تنظیم ہیں جس کی شاخیں عنقریب پاکستان بھر کے سکولوں میں کھولی جانے والی ہیں اور اس سکول میں شاہین کا ہیڈ کوارٹر کھولا جارہا ہے۔ ہمارے پاس جدید ترین جاسوسی کے آلات ہیں اور ٹیکنالوجی پر مہارت رکھنے کی وجہ سے ہم آپ کا کوئی بھی مسئلہ منٹوں میں حل کرسکتے ہیں۔
    شاہین آپ کی زندگی کو مسائل سے پاک وہ پرواز دے گی جس کے آپ اہل ہیں تو آئیں آج ہی اپنی ہر پریشانی اور مسئلے کے حل کے لئے ہم سے رابطہ قائم کریں۔” شیر دل جانتا تھا اُس نے اپنی تنظیم کا تعارف کرواتے ہوئے تھوڑی نہیں بہت زیادہ مبالغہ آرائی سے کام لیا تھا لیکن جھوٹ نہ بولنے پر یقین رکھنے کے باوجود اُس کا خیال تھا پروموشن کے لئے تھوڑا بہت مبالغہ ضروری تھا اور ویسے بھی وہ جو اُس pamphletمیں لکھ رہا تھا وہ ایک دن سب کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔





    ”سنو، یہ شاہین ٹیم تم نے بنائی ہے نا؟” نایاب نے سکول میں اُس pamphlet کو پڑھتے ہی شیر دل سے پوچھا تھا۔ شیر دل نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔
    ”میں صرف اس آرگنائزیشن کا فوکل پرسن ہوں اور کچھ نہیں۔”
    ”جھوٹ مت بولو ، ویب سائٹ تم نے بنائی ہے۔” شیر دل بھونچکا رہ گیا۔
    ”تمہیں کیسے پتہ؟”
    ”گھر میں Networking ہے سارے کمپیوٹرز کی، تم رات کو بیٹھے یہ بنارہے تھے اور میں بھی دیکھ رہی تھی۔ ” نایاب نے بڑے اطمینان سے اُسے بتایا اور شیر دل دانت پیس کر رہ گیا تھا۔ نایاب اگر پروگرامر نہ ہوتی تو پھر ہیکر ہوتی، وہ کسی بھی کمپیوٹر کا پاس ورڈ بدل سکتی تھی۔ کسی بھی سسٹم اور سافٹ ویئر تک رسائی کر سکتی تھی۔ انٹر نیٹ پر موجود کسی بھی ویب سائٹ کے بیک اینڈ تک رسائی حاصل کرنا اُس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ شیر دل کو پچھتاوا ہوا کہ اُس نے اس ویب سائٹ پر کام کرتے ہوئے Networking ختم کیوں نہیں کی۔
    ”اوکے! لیکن اب اپنا منہ بند رکھنا۔” شیر دل نے اعتراف کرنے کے ساتھ ہی اُسے دھمکایا۔
    ”صرف ایک صورت میں۔”نایاب نے فوراً کہا۔
    ”کیا ؟”
    ”اگر تم مجھے بھی اس میں شامل کرو۔ اپنے سیکنڈان کمانڈ کے طور پر۔” شیر دل ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے اُسے دیکھتا رہا۔ اُس کے پلان آف ایکشن میں کوئی دوسرا ممبردور دور تک نہیں تھا مگر پھرمجبوراً اُس نے نایاب کو اپنا نائب بنانے کی حامی بھرلی۔
    ”ایسا کیا ہے جو تم شاہین کے لئے کرسکتی ہو؟” شیر دل نے اُس سے پوچھا ۔
    نایاب نے اطمینان سے کہا:
    ”بہت کچھ! اس کی ویب سائٹ اور ٹیکنالوجی سے متعلق سارے کام کرسکتی ہوں جو تم بھی کرسکتے ہو لیکن تم ان میں میرا مقابلہ نہیں کرسکتے۔” وہ دھڑلے سے کہہ رہی تھی۔ شیر دل نے اُس کو ٹوکا نہیں۔ وہ سچ کہہ رہی تھی۔
    ”میں Archer ہوں تو کسی بھی مشن میں تمہیں میرے نشانے کی ضرورت پڑے گی اور میں جو ڈو کی بہترین کھلاڑی ہوں ۔ جتنا تمہیں جاسوسی کہانیاں پڑھنے کا شوق ہے اُتنا ہی مجھے بھی ہے۔” وہ بتاتی جارہی تھی اور شیر دل سرکھجاتا سنتا جارہا تھا۔ وہ دونوں ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ نایاب اپنے بڑے بھائی تیمور اور ماں باپ کے ساتھ اوپر والے فلور پر رہتی تھی۔ اُس کا بھائی میڈیکل کا سٹوڈنٹ تھا اور والد ایڈیشنل سیکشن جج۔
    شیر دل نیچے والی منزل پر اپنے ماں، باپ، دادی اور چھوٹی بہن خدیجہ کے ساتھ رہتا تھا۔ اُس کا باپ ایک بینکر تھا اور ماں ایک بیکر۔
    ”اوکے! ٹھیک ہے مگر یہ سب راز رہے گا۔ کسی اور کو اس کی بھنک بھی نہیں پڑنی چاہیے۔” شیر دل نے اُس سے کہا تھا اور اس سے پہلے کہ نایاب کوئی جواب دیتی شیردل کو عقب سے اچانک احد کی آواز آئی۔
    ”تم اب مجھ سے بھی سب کچھ چھپایا کروگے؟” نایاب اور شیر دل جیسے کرنٹ کھا کر پلٹے تھے اور اُن کے عقب میں احد کمر پر دونوں ہاتھ رکھے بے حد غصّے سے کھڑا تھا۔
    احد شیر دل کا بہترین اور بچپن کا دوست تھا۔ اُس کی ماں ایک سول سرونٹ تھی اور باپ کا انتقال ہوچکا تھا اور وہ شیردل کی ہی کالونی میں رہتا تھا۔
    ”اوہ! تم چھپ کر ہماری باتیں سنتے ہو۔” شیر دل نے اُسے ٹالنے کے لئے ناراض ہوکر کہا تھا۔
    ”میں کیوں چھپ کر سنوں گا میں تو ویسے ہی سب سُن سکتا ہوں۔ میرے کان اتنے باریک ہیں اور میں شاہین کا تیسرا ممبر ہوں۔” شیردل نے بے چارگی سے اُسے دیکھا اور کچھ کہنے کی کوشش کی مگر اُس سے پہلے ہی احد نے اُسے پچکارتے ہوئے کہا۔
    ”دیکھو تمہیں پتہ ہے میں کک باکسنگ میں کیا کیا کرسکتا ہوں اور غلیل سے میرا نشانہ نایاب کے تیروں سے بھی زیادہ اچھا ہے اور میں دُنیا کا سب سے بہترین map reader اور سیکیورٹی کیمروں کا ماہر ہوں۔ دُنیا کا ہر کیمرہ ہینڈل کرسکتا ہوں اور میرے پاس کتنے خفیہ کیمرے ہیں وہ بھی پتہ ہے تم لوگوں کو اور…”
    وہ ایک سانس میں بولتا چلا گیا اور اس سے پہلے کہ بولتا ہی چلا جاتا، شیردل نے اُسے ٹوکتے ہوئے کہا:
    ”اچھا اچھا! بس کلاس شروع ہونے والی ہے۔”
    ”تو پھر میں بھی آج سے ٹیم شاہین ہوں؟” احد نے اطمینان اسے اُس سے پوچھا اور شیردل نے جھنجھلا کر اُسے دیکھتے ہوئے کہا:
    ”میرے پاس کوئی چوائس ہے انکار کی؟”
    احد اور نایاب نے بے اختیار کیا۔ ”No۔”
    شیردل نے کندھے اُچکاتے ہوئے جیسے ہتھیار ڈالے۔ شاہین دو دنوں میں ون مین شو سے ٹیم بن گئی تھی۔






    …٭…

  • دیارِ خلیل – فرحین خالد

    عالیشان محل جیسے گھر میں رہنا کس کی آرزو نہیں ہوتی ؟بڑی لاگت اور مشقت کے بعد یہ مکان تعمیر تو کر لیے جاتے ہیں مگر ان کو ”گھر ” بنانے کے لیے مزید قربانیاں درکار ہوتی ہیں۔گھر کے مکینوں کی اطراف میں کھنچی ان کی محافظ کہیے یا رکاوٹ، ایک دیوار بھی حائل رہتی ہے جس کو مزّین اور آراستہ تو خوب کیا جاتا ہے مگر اس کی نفسیات کو نہیں سمجھا جاتا ۔آیئے آج ایک ایسی ہی دیوار سے اس کی بپتا سنتے ہیں۔





    مجھ سے ملئے …میں، دیارِ خلیل میں کھڑی ایک ساکت دیوار ہوں جو خود کو اس گھر کا اہم جز سمجھتی ہے ۔میں ہوں تو پتھر جیسی مگر دل میرا ، آپ ہی کی طرح نرم ہے۔ یہ بات سن کے آپ کو حیرت ہوئی ؟ کیوں..؟ جب آپ یہ مانتے ہیں کہ دیواروں کے کان ہوتے ہیں، جب آپ یہ مانتے ہیں کہ روز جزا ہر ہر پتھر گواہی دے گا تو یہ ماننے میں بھی حرج نہیں ہونا چاہیے کہ میرا ایک دل بھی ہے جو اپنے مکینوں کے لیے دھڑکتا ہے۔ ہاں ، مجھے ان سے سچی محبت ہے ۔ جب یہاں حزن بسیرا کرتا ہے تو میرا گریہ نہیں رکتا اور جب یہاں شادیانے بجتے ہیں تو میں ان کے قہقہوں کی گونج ہوتی ہوں۔میں جب تک اپنے مکینوں کو نہیں اپناتی ان کی اجنبیت دور نہیں ہوتی ۔
    پچھلے دنوں جب مجھ پہ روغن ہوا تو یہ اندازہ ہوا کہ میرا پھر سے سودا ہوگیا ہے… سوچتی ہوں کہ یہ کیسے سپنوں کے بیوپاری ہیں کہ جب اتنے چاؤ سے میری ایک ایک اینٹ میں خلوص و وفا کا گارا لگا کر مجھے بلندکرتے ہیں تو آخر مجھے بیچ کیوں جاتے ہیں ؟ میں، اپنے خمیر میں گندھی خصلتوں سے مجبور… اپنے ہر ایک باسی سے پیماں نبھاتی ہوں۔بہرحال آج میں خوش ہوں کہ میری ویرانی دور ہو رہی ہے ۔





    صبح سے چہل پہل تھی۔میں اپنی مقابل دیوار پہ بنتے ہیولے دیکھ رہی تھی۔ کچھ اندیشے تھے ، جو بڑھ رہے تھے کچھ آرزوئیں تھیںجو زور پکڑ رہیں تھیںکیوںکہ مزدور قطار در قطار سامان اٹھائے اندر چلے آ رہے تھے۔مجھے بھی اپنے مکینوں کو دیکھنے کا بہت اشتیاق تھا کہ کون ہوں گے؟ کیسے ہوں گے ؟ اللہ کرے کہ بچوں والے ہوں، مجھے ننھے بچوں کی گونجتی کلکاریاں بہت اچھی لگتی ہیں ۔ میں نے دیکھا کہ پہیے جیسی گول گول چیز بھی ہوا میں لہرائی ہے۔ضرور گھر کے کسی بزرگ کی سائیکل ہوگی جو صبح ہی صبح پارک لے کر جائیں گے اور واپسی میں سودا لیتے ہوئے گھر آئیں گے ۔آوازیں تو آ رہی ہیں مگر سمجھ نہیں آ رہا کس زبان میں بول رہے ہیں۔مجھے ایک لمحے کے لیے فکر ہوئی کہ میں اکیلی رہ جاؤں گی مگر دوسرے ہی لمحے میںنے تہیہ کر لیا کہ کوئی بات نہیں میں سیکھ لوں گی اسی ٹی وی لاؤنج میں تو بیٹھیں گے سارا دن یہ لوگ۔
    اب سائے ڈھل گئے تھے اور آوازیں بھی مدھم ہو گئیں تھیں۔ مجھے ابھی تک کسی کی جھلک نہیں دکھائی دی تھی۔ اچانک گھٹنوں گھٹنوں رینگتا ہوا ایک بچہ دکھائی دیا۔میری خوشی کی انتہا نہ تھی کہ خدا نے میری سن لی ہے ۔میری ممتا اس بچے کو اپنی نگاہ میں بھرنے کی مشتاق تھی۔ اچانک ایک سایہ اس کے پیچھے پیچھے کمرے میں نمودار ہوا اور اس نے آواز لگائی ….
    ” بیبو ..بیبو..ارے وہاں کہاں چلی گئیں ؟”
    میںنے سوچا، بڑے فلمی لوگ ہیں!کیسا نام رکھا ہے منے بچے کا؟ مگر جیسے ہی روشنی کا جھماکا ہوا میری آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ اتنے دن ہو گئے تھے اندھیرے میں رہتے ہوئے۔ غور کیا تو نگاہوں پہ یقین نہیں آیا۔ زمین پہ ایک بزرگ خاتون بیٹھی سفید ریشمی بالوں والے بچے کو سہلا رہی تھیں۔ مجھے پانچ دن لگ گئے یہ یقین کرنے میں کہ یہ کوئی بچہ نہیں ایک پالتو بلی ہے، جو بڑی بی کی بے حد لاڈلی ہے۔ اگر وہ میاؤں میاؤں کی آواز نہ نکالتی تو میری ساتھی دیواریں مجھے اندھا کہہ کے ٹال دیتیں ۔
    یہ تین لوگوں کی ایک چھوٹی سی فیملی ہے۔ سونیا گھر کی بہو ہے ،سمیر اس گھر کا واحد مرد اور تابع دار بیٹا ہے ، ایک بیوہ بوڑھی ماں اور ان کی ایرانی نسل کی خوبصورت بلی… بیبو۔ ممی جی اور سمیر کی تو اس میں جان اٹکی رہتی ہے۔ اس کی ایک ایک ادا کو محبت سے دیکھتے ہیں اور ناز نخرے اٹھاتے نہیں تھکتے۔ اسے جب بھی موقع ملتا، سونیا اور سمیر کے بیچ میں آ کے پسر جاتی ۔سونیا کی تو جان ہی جل جاتی تھی ۔ جتنا وہ بیبو سے الرجک تھی اتنا ہی بیبو اس کی التفات کی منتظر رہتی۔ در اصل سونیا گھر میں جانور رکھنے کی قائل نہیں تھی اور دوسرے اس کو سمیر کی توجہ حاصل کرنے کے لیے یہ مقابلہ منظور نہیں تھا، گویا ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں۔ روز کا ایک ہی ٹنٹا تھا ، بیبو چیزیں لڑھکاتی ، گند مچاتی ، صبح صبح شور کر کے ان کو جگاتی ، فرنیچر خراب کرتی، ہر چیز میں مخل ہوتی مگر سمیر کو سب ”کیوٹ ”لگتا اور ممی جی ، وہ تو ا س کی ہر ہر ادا کو دس دس بار دہراتے نہ تھکتیں۔ سونیا پیج و تاب کھا کے رہ جاتی۔ میں یہ سلسلہ بہ غور دیکھ رہی تھی اور ان ماں بیٹے کے اس لگاؤ کی وجہ سمجھ رہی تھی۔ صاف ظاہر تھا کہ گھر میں کوئی بچہ نہیں تھا جو ان کا دل لبھاتا یا دھیان بٹاتا … مگر سونیا کو کون سمجھاتا اس کے اندر ایک لاوا پک رہا تھا اور مجھے ڈر تھا کہ یہ گھر آباد ہونے سے پہلے نہ ٹوٹ جائے ۔





    سونیا نے بارہا اور برملا سمیر سے اپنی نا پسندیدگی کا اظہار بھی کیا تھا مگر وہ ماں کی طرف دیکھتا تو مجبور ہو جاتا کیوںکہ ان کو اپنی بلی سے ایک لمحے کی دوری گوارا نہ تھی ۔دراصل وہ ان کی بارہ سالہ پرانی رفیقہ تھی، جس نے ان کی زندگی میں موجود خلا کو پُر کیا تھا اور اب وہ اس کی اتنی عادی تھیں کہ اس کو اپنا جزو لاینفک سمجھتی تھیں۔سمیر مخمصے کا شکار ہوگیا تھا۔ماں کو خوش کرتا تو بیوی ناراض ، بیوی کو خوش کرنے کا مطلب تھا کہ ماں کی دل آزاری ۔ بادی النظر میں رب کی رضا بھی مطلوب تھی۔کرتا تو کیا کرتا ۔میں دیکھ رہی تھی کہ وہ خاموش طبیعت تھا سگریٹ کے ساتھ ساتھ خود بھی سلگ رہا ہوتا تھا ۔
    سونیا بری نہیں تھی۔مشیتِ ایزدی کے آگے مجبور تھی۔ ساس سے شکایت نہیں تھی ، بس ان کے شوق سے تھی ۔بیبو بھی تو نت نئے بہانے ڈھونڈتی تھی اس کو زچ کرنے کے ۔ایک روز جب سونیا نے اپنے کرسٹل کا سامان الماری میں لگانا شرو ع کیا تو میں نے خود دیکھا کہ بیبو صاحبہ آ کے اسی ڈبے میں براجمان ہو گئیں…سونیا کو صفائی اور سجاوٹ کا خبط تھا۔ ایک ہاتھ میں کپڑا اور دوسرے ہاتھ میں کرسٹل اٹھائے وہ جیسے ہی کچھ اور نکالنے جھکی تو بیبونے اندر سے باہر کی جانب چھلانگ لگا دی، اس اچانک حرکت سے سونیا کا توازن بگڑ گیا اور وہ دھڑام سے گر گئی … میرے منہ سے بھی چیخ نکل گئی ۔ آواز سن کے سمیر آیا تو سونیا کا پارہ اور چڑھ گیا اس نے کہا: ”تم کب اس عذاب سے میری جان چھڑاؤ گے! دیکھو ، کتنا نقصان کردیا اس نے میرا”سمیر نے کرسٹل کے ٹکڑوں کو دیکھ کر کہا ”کوئی بات نہیں اور آ جائے گا۔” سونیا کو اس کا اطمینان کو دیکھ کر آگ لگ گئی اس نے تو آؤ دیکھا نہ تاؤ اگلے پچھلے سارے حساب برابر کر دیئے۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے چار سال ہو گئے ہیں اس بلی کو برداشت کرتے ہوئے اور اب اُسے کسی قیمت پہ بیبو کی حکمرانی منظور نہیں۔ اس بلی کی وجہ سے سونیا کو الرجی رہنے لگی تھی جو سخت تکلیف کا باعث تھی۔ جواب میں سمیر نے بس اتنا ہی کہا: ”ممی کے کمرے میں چھوڑ آتا ہوں۔” اس نے پیار سے بیبو کو گود میں بھرا اور باہر لے گیا۔سونیا نے اپنے گرد بکھرے کرسٹل کو دیکھا اور پھوٹ پھوٹ کے رو دی ۔ میرا دل کٹ کر رہ گیا ۔مجھے پتا تھا ان ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں میں وہ اپنا دل اور مان دیکھ رہی تھی، جو سمیر نے نہیں رکھا تھا ۔میں سوچ رہ رہی تھی کہ کیا جانور کو انسان پر فوقیت دینا درست ہے ؟ میں تو بس وہی جانتی تھی جس کا مجھے ادراک تھا ۔ باہر کی دنیا جانے کس طرح ایسی گتھی سلجھاتی ہوگی ..؟





    بانو آپا کئی دن سے بیٹے کی گہری خاموشی اور سونیا کا اس سے الگ تھلگ رہنا دیکھ رہیں تھیں ۔ سونیا سے بات کرنے کی کوشش کی تو اس نے رکھائی سے جواب دیا جس سے ان کا قلق بڑھ گیا۔ بیبو نے جب انہیں اُداس بیٹھا دیکھا تو پاس پڑی بال سے خوب کھیل کھیل کر دکھایا اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا مگر وہ گہری سوچ میں ڈوبی رہیں۔ ان کی آنکھوں سے جو مو تی جھڑ رہے تھے وہ اپنے دوپٹے میں سمیٹتی رہیں۔ بیبو بھی آزردہ سی ہو کے پیروں میں بیٹھ گئی ۔
    شام جب سمیر گھر آیا تو نہ بانو آپا تھیں نہ بیبو۔اس نے سونیا سے پوچھا تو اس نے بھی لا علمی کا اظہار کیا۔ وہ دونوں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے اور مجھے اچھا لگ رہا تھا، جب وہ کبھی کبھی ایک ساتھ کسی بات پہ ہنس دیتے ۔جونہی گھنٹی بجی مجھے لگا آ گئے کوئی مہمان کباب میں ہڈی بننے ، کم ہی ہوتا تھا جب وہ دونوں اتنے پرسکون دکھائی دیتے تھے مگر اندر آنے والی کوئی اور نہیں بانو آپا تھیں اور ان کے ہاتھ میں ایک پنجرہ تھا جس میں دو خوبصورت طائرِ محبت کی جوڑی تھی ۔ پوچھنے پہ چہک چہک کے بتانے لگیں کہ وہ اسلم بھائی کو بیبو دے آئیں ہیں، جو ان دنوں بالکل اکیلے تھے اور بدلے میں دو پنچھی لائی ہوں دیکھو تو… سمیر اور سونیا دونوں پنجرے پہ جھکے ہوئے ان کا چہچہانا اور پُھدکنا دیکھ رہے تھے ۔سونیا نے ان سے پوچھا کہ کیا نام رکھیں گی ان کے تو سوچ کے بولیں مشیل اور اوباما ۔ تینوں نے ایک ساتھ فلک شگاف قہقہہ لگایا اور میں بھی یہ منظر دیکھ کر ہنس پڑی … ہنستے ہنستے بانو آپا کی آنکھیں چھلک پڑیں تو بہ مشکل میرے رُکے آنسو بھی رواں ہوگئے مگر آج میں نے ایک نئی بات سیکھی تھی کہ بڑا پن کیا ہوتا ہے۔بانو آپا نے گھر کی خوشیوں کی خاطر اپنی چاہت قربان کی تھی۔ گھر والوں کو جوڑے رکھنے کے لیے ایسی ہی ان گنت قربانیاں دینی پڑتی ہیں تب کہیں جا کر وہ خوشیوں کا گہوارہ بنتا ہے ۔ خدا کرے کہ یہ گھر اور خوشیاں ان کو راس آ جائیں۔





  • استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 8

    استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 8

    تحریر:مدیحہ شاہد

    ”استنبول سے انقرہ تک ”  (سفرنامہ)

    ”لاہور لاہور ہے”
    باب8

    ہم مقررہ وقت پر استنبول سے جدہ جانے والے جہاز میں سوار ہوئے۔ میری سیٹ ایک محرب خاتون کے ساتھ تھی جس کا نام نادیہ تھا۔ وہ سعودی عرب سے اپنے گروپ کے ساتھ سیرو تفریح کی غرض سے ترکی آئی تھی مگر کسی وجہ سے اسے جلد ہی ترکی سے سعودی عرب جانا پڑا تھا۔ وہ درمیانی عمر کی سوبر، خوش اخلاق اور بہادر خاتون تھی۔ اسے زیادہ انگلش نہیں آتی تھی۔ ہم دونوں کو آپس میں گفتگو کرتے ہوئے اشاروں کی زبان میں بھی بات کرنی پڑی۔ میری پچھلی سیٹ پر عقیلہ آنٹی اور انکل سعید شمسی بیٹھے تھے۔ وہ اردو انگریزی ، عربی اور اشاروں کی زبان میں ہونے والی اس مکس گفتگو کو سنتے ہوئے حیران ہو رہے تھے کئی گھنٹوں کا سفر تھا، ہمسفر خاتون سے بات کرنا بھی ضروری تھا ورنہ سفر بھلا کیسے کٹتا۔ جہاز نے ٹیک آف کیا تو میں ذرا خوفزدہ ہوگئی۔ نادیہ نے مجھے تسلی دی اور کچھ جملے بولے جن کامطلب تھا کہ مسلمان کو صرف اللہ سے ڈرنا چاہیے، اور کسی چیز سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔





    مجھے کچھ تسلی ملی۔ سفر کے دوران ہم باتیں کرتے رہے۔ نادیہ نے مجھے اپنے خاندان والوں کی تصاویر موبائل میں دکھائیں۔ وہ ترکی میں جن سیاحتی مقامات پر گئی تھی۔ ان کی تصاویر بھی دکھاتی رہی۔
    اس نے ہمیں ایک تسبیح تحفے میں دی ۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ عرب بے حد دریا دل اور سخی ہوتے ہیں۔
    ائیر ہوسٹس کھانے کی ٹرالی چلاتے ہوئے سب کو کھانا سرو کررہی تھی۔
    ہم نے رغبت سے کھانا کھایا۔
    کہ ہم کافی دیر سے سفر میں تھے۔
    اس تھوڑے سے عرصے میں نادیہ سے میری بہت اچھی دوستی ہوگئی تھی۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کے موبائل نمبرز بھی لئے اور وعدہ کیا کہ اپنے گھر جاکر فون پر رابطہ کریں گے۔ دوستی عجب رشتہ ہے، بعض دفعہ آپ سالوں ایک دوسرے کے قریب رہتے ہیں مگر دوست نہیں بن پاتے اور بعض دفعہ کسی سے دوستی ہونے میں چند لمحے ہی لگتے ہیں۔
    دوستی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ آپ ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہوں۔
    نادیہ پاکستان کو بہت پسند کرتی تھی اور پاکستانیوں سے مل کر خوش ہوتی تھی۔ بالآخر جہاز جدہ ائیرپورٹ پر لینڈ ہوا۔ ہم جہاز سے اترے۔ رن وے بہت وسیع تھا۔ ہم بس میں سوار ہوکر ائیرپورٹ کی عمارت تک پہنچے۔ ائیرپورٹ کا سعودی سٹاف بے حد بارعب تھا۔ وہ لوگ بلند آواز میں بارعب انداز میں انگریزی بولتے اور مسافر ذرا گھبرا جاتے اور مؤدب ہوجاتے۔ ہم ائیرپورٹ کی وسیع عمارت میں چلتے رہے، کہیں کوریڈور ، کہیں سیڑھیاں ، کہیں لفٹ ، ہم سے ہینڈ کیری سنبھالا نا جارہا تھا۔ مختلف جگہوں پر چیکنگ کرواتے رہے۔ سامان اٹھانے کے معاملے میں یوں بھی ہم اناڑی تھے۔
    اسمارا ہماری مدد کو آئی اور کئی بار ہمارا ہینڈ کیری اٹھا کر چیکنگ والی مشین میں رکھا۔ ہمیں ائیرپورٹ پر کوئی ناکوئی رحمدل اور ہمدرد انسان مل ہی جاتا تھا۔ جو خوشی خوشی سامان اٹھانے میں ہماری مدد کرتا۔ کئی بار سوچا کیا ضرورت تھی اس سوٹ کیس کو ساتھ رکھنے کی اچھا ہوتا دوسرے سامان کے ساتھ بھیج دیتے مگر خیر اب کیا ہوسکتا تھا۔ ہم نے اس تعاون کے لئے اسمارا کا شکریہ ادا کیا۔
    ”اسمارا! تمہارا بہت شکریہ،ورنہ ائیرپورٹ پر کوئی کسی کے لئے رکتا نہیں ہے اور کسی کا سامان اٹھانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
    ہینڈ کیری اتنا بھاری ہے کہ ہم سے اٹھایا نہیں جاتا۔ اب اسے ساتھ لانابھی ضروری تھا۔”
    ہم نے ممنونیت سے کہا۔
    کو”ئی بات نہیں ۔اتنا تو ہم ایک دوسرے کے لئے کر ہی سکتے ہیں”وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
    ”ترکی کے سفر میں ہم ساتھ رہے مگر ہمیں آج تمہاری خوبیوں اور اچھائیوں کا اندازہ ہوا ہے نیک اور رحمدل لڑکی خو ش رہو۔”
    ہم نے دلی جذبات کا اظہار کیا۔
    وہ ہنس دی۔
    جن لوگوں نے عمر ے کے لئے جانا تھا ۔ وہ عمرہ کرنے چلے گئے۔ ہم وسیع و عریض ہال میں آگئے۔ جہاں بہت رش تھا۔ مسافر کرسیوں پر بیٹھے تھے اور اپنی فلائٹ کا انتظار کررہے تھے صد شکر کہ ہمیں بیٹھنے کے لئے کرسیاں مل گئیں۔ رات کا وقت تھا۔ میں نے ساتھ والی کرسی پر ہینڈ کیری رکھ دیا اور اسے تکیہ بنالیا اور دو کرسیوں پر لیٹ گئی۔ سوچا کچھ دیر آرام کرلیا جائے۔
    اسمارا سے کہا کہ وہ بھی سوجائے۔
    ”نیند آئے گی تو سوجائوں گی۔”
    وہ اطمینان سے بولی۔
    جدہ سے لاہو رکی ہماری فلائٹ صبح تھی۔ رات ہم نے ائیرپورٹ پر ہی گزارنی تھی۔ ساری رات کرسی پر بیٹھ کر بھلا کیا کرتے، سوچاکچھ دیر آرام کرلیتے ہیں۔ ہم صبح کے انقرہ سے نکلے ہوئے تھے۔ کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد شام کوہم استنبول پہنچے تھے۔ پھر ائیرپورٹ پر بورڈنگ اور چیکنگ میں مصروف ہوگئے۔
    وسیع و عریض ائیرپورٹ پر چلتے رہے۔ پھر کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد استنبول سے جدہ آئے۔ تھکاوٹ ہوگئی تھی۔ صبح سے سفر میں تھے، اب رات ہوگئی تھی۔ ایک نظر اِدھر اُدھر دیکھا۔ مختلف سمتوں میں ہمارے گروپ ممبرز کرسیوں پر بیٹھے نظر آئے۔





    اسمارا ہماری ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
    ”تمہاری دوست رمشہ اپنی والدہ یاسمین مشتاق اور بھائی طلحہ کے ساتھ عمرہ کرنے چلی گئی ہے۔ تم اب میرے ساتھ ہی رہنا۔ پردیس میں ہم وطن بہت اچھے دوست بن جاتے ہیں۔”
    میں نے اسمارا سے کہا۔
    ”جی ہاں۔ ہمارا سفر بہت اچھا گزرا۔ ہمسفر اچھے دوست بن جایا کرتے ہیں۔ اس سفر سے پہلے ہم لوگ ایک دوسرے کے لئے اجنبی تھے مگر اس سفر نے ہمیں محبت اپنائیت اور دوستی کے رشتے میں باندھ دیا۔ یوں تو میں BDSکی پڑھائی میں بہت مصروف رہتی ہوں۔ چھٹیوں میں ہی سیرو تفریح کے پروگرام بنتے ہیں۔ ہماری پڑھائی کی روٹین اتنی ٹف ہے کہ ہم لوگ چھٹیوں کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ رمشہ ترکی جارہی تھی تومیں بھی اس کے ساتھ آگئی۔”
    اسمارا نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
    ہم کچھ دیر باتیں کرتے رہے۔
    رات کے اس پہر بھی ائیرپورٹ کے ہال میں گہما گہمی تھی۔ دکانیں کھلی تھیں اور اسٹاف کے لوگ چاک و چوبند تھے۔ پھر میں کچھ دیر کے لئے سوگئی۔
    نیند آئی ہو اور انسان تھکا ہوا ہو تو وہ ائیرپورٹ کی کرسیوں پر بھی سوسکتا ہے۔
    صبح سویرے میری آنکھ کھلی۔ اسمارا کرسی پر سو رہی تھی۔
    میں گروپ کے باقی لوگوں کو دیکھنے کے لئے Prayer Room میں چلی آئی وہاں میری ملاقات زینب اور شہلا سے ہوئی۔ ان کے ساتھ میں نے ناشتا کیا۔ہماری فلائٹ میں ابھی کافی وقت تھا۔ کچھ ڈالرز پرس میں پڑے ہوئے تھے۔ سوچا کہ اب واپس جا ہی رہے ہیں تو بچے ہوئے پیسے خرچ کرلیتے ہیں ہم نے چائے اور بن خریدے اور Prayer Room میں بیٹھ کر اطمینان سے ناشتہ کیا۔ بہت سے لوگ ابھی سو رہے تھے۔ پھر میں رنگ برنگی چیزوں سے سجی ڈیوٹی فری شاپ میں چلی آئی جو صرف نام کی ہی ڈیوٹی فری شاپ تھی، قیمتیں اتنی زیادہ اور بے حد مہنگی چیزیں تھیں۔
    میں نے وہاں سے کچھ شاپنگ کی اور بچوں کے لئے چاکلیٹس خریدیں اور کچھ دیر یونہی مختلف چیزیں دیکھتی رہی سوچا اس طرح وقت گزر جائے گا۔
    میں واپس آئی تو دیکھا کہ اسمارا اٹھ چکی تھی اور کرسی پر بیٹھی کافی پی رہی تھی۔
    ”اٹھ گئی ہوا ناشتا کرلو۔ وہاں سامنے سے ناشتے کے آئٹمز مل رہے ہیں۔”
    میں نے کہا۔
    ”بس میں نے کافی لے لی ہے۔ جہاز میں ناشتا کرلوں گی۔ فلائٹ میں تھوڑا ہی وقت رہ گیا ہے۔”
    رات میں کس ٹائم سوگئی تھی پتا ہی نہیں چلا۔ نیند آئی ہو تو انسان کرسی پر بیٹھے بیٹھے بھی سوسکتا ہے۔”
    اس نے کافی پیتے ہوئے کہا۔
    سوئے ہوئے لوگ اٹھ گئے تھے۔ کچھ ناشتے والے کائونٹر پر کھڑے تھے، کچھ ڈیوٹی فری شاپ کی طرف جارہے تھے۔ ماحول میں ہلچل سی مچ گئی۔
    ہم ائیرپورٹ پر دیگر مسافروں سے بھی بات چیت کرتے رہے۔ بہت سے لوگ عمرہ کرنے انڈیا سے آتے تھے۔ انڈیا سے آئے لوگ ہمیں بہت سادہ سے لگے۔ سادہ لباس، سادہ انداز اور سادہ سامان، ان کے اردو بولنے کا انداز اور لہجہ مختلف تھا۔ کچھ لوگ Morrocco سے بھی آئے ہوئے تھے۔
    کچھ دیر بعد ہماری فلائٹ کی انائونسمنٹ ہوئی تو ہم لوگ قطار میں کھڑے ہوگئے۔
    اور قطار کی صورت میں ہی ہم باہر نکلے اور جدہ سے لاہور جانے والے جہاز پر سوار ہوگئے۔
    میرے ساتھ ایک خاتون اپنی چھوٹی بچی کے ساتھ بیٹھی تھیں۔
    ان کے شوہر سعودی عرب میں ملازمت کرتے تھے، وہ ان سے ملنے کے لئے آئی تھیں اور اب اپنی بچی کے ساتھ واپس پاکستان جارہی تھیں۔ روزگار کی خاطر پردیس میں رہنے والے پاکستانیوں کی بھی اک الگ داستان تھی۔ سفر میں اس خاتون کے ساتھ ہم گفتگو کرتے رہے۔
    جہاز میں زیادہ تر عمرہ زائرین تھے جو عمرہ کرنے کے بعد پاکستان جارہے تھے اور بے حد خوش تھے۔ ہم بھی بے چینی سے لاہور آنے کا انتظار کررہے تھے۔ جہاز کے ائیرہوسٹس تھوڑی بہت اردو بھی سیکھ گئے تھے ، بلکہ انہیں تو پنجابی بھی آتی تھی۔ انگریزی نا سمجھنے والے لوگوں سے پنجابی میں پوچھ لیتے کہ مرغی چاہیے یا مچھلی چاہیے۔
    ہم نے جہاز میں کھانا کھایا۔ جوس پیے، اور سعودی ائیر لائنز کی سروس سے خوب متاثر ہوئے۔ تھکن کے باوجود ہم خوش تھے کہ اپنے شہر لاہور جارہے ہیں۔ ذہن میں ترکی کی خوبصورت یادیں تھیں اور دل میں اطمینان تھا۔ لاہور سے ہماری محبت مثالی تھی۔
    بلکہ مجھے لاہور شہر سے عشق تھا اور یہ محبت مجھے اپنی والدہ سے ورثے میں ملی تھی۔
    جب ابو فوج سے ریٹائر ہوئے تو انہیں ایک سال کے لئے ٹیکسلا کینٹ میں گھر ملا تھا مگر ابو نے سامان سمیٹ لیا اور لاہور آنے کی تیاری کرنے لگے۔ لوگوں نے روکا بھی کہ آپ ایک سال کے لئے اس گھر میں رہ سکتے ہیں۔ اتنی جلدی لاہور جانے کی کیا ضرورت ہے، ابو بولے کہ کیا کرنا ہے یہاں رہ کر، برسوں نوکری کی وجہ سے ہم مختلف شہروں میں رہے ہیں۔ اب لاہور سیٹل ہونا چاہتے ہیں۔ پھر ابو وہاں رُکے نہیں، سامان پیک کروا لیا اور ایم ای ایس کا سامان انہیں ہینڈ اوور کردیا، جس کی رسید آج بھی ابو کے بریف کیس میں پڑی ہے۔ وہ چیزیں سنبھالنے والے آدمی تھے۔ ان کے بریف کیس میں برسوں پرانے کاغذات ، رسیدیں ، خطوط ۔ حتیٰ کہ دو روپے اور پانچ روپے کے پرانے نوٹ بھی سنبھال کررکھے ہوتے تھے۔ پھر ہم لاہور آگئے۔ امی ابو خوش تھے۔ میں شادی کے بعد راولپنڈی آگئی۔ میاںکے تبادلے کی وجہ سے میں مختلف شہروں میں رہی مگر ہر شہر میں لاہور کی رونقیں ڈھونڈتی رہی۔ ہر شہر مجھے پرایا لگتا۔ میاں کو پنڈی سے انس تھا وہ وہیں خوش رہتے۔ میں پنڈی اور اسلام آباد کے سنجیدہ لوگوں میں لاہوریوں کی خوش مزاجی تلاش کرتی۔ اس جستجو نے مجھے تھکادیا۔ کسی نئے شہر میں نئے دوست اور نیا حلقہ ٔ احباباب بنانا مشکل ہوتا ہے جب آپ کو لوگوں کے رویوں اور عادات کے متعلق بھی زیادہ علم نہ ہو۔





  • استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ)  |  باب 7

    استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 7

    تحریر:مدیحہ شاہد

    استنبول سے انقرہ تک ”  (سفرنامہ)”

    انقرہ کی روشنیاں
    باب7

    صبح سویرے ہم ناشتہ کرنے کے بعد کپاڈوکیہ سے انقرہ کے لئے روانہ ہوئے۔ راستے میں ہم ایک جھیل پررکے جس کا نام salt lake Tuz Golu تھا۔ کہاجاتا ہے کہ وہ نمک کی جھیل تھی جس کے کنارے نمک سے بھرے ہوتے تھے۔ یہ جھیل قدرت کا شاہکار ہے۔ ہم بس سے اتر کر جھیل کنارے چلے آئے۔ جھیل کے پانی پر سنہری کرنیں چمک رہی تھیں۔ ہم نے کچھ وقت گزارا۔ یہ ترکی کی دوسری بڑی جھیل ہے۔ جھیل کا نظارہ بہت خوبصورت تھا۔ دور تلک پانی ہی پانی نظر آتا۔
    جھیل کے کنارے پر ذرا فاصلے پر اس جھیل کا نام Tuz Golu جعلی حروف میں لکھا ہوا تھا جس کے پاس بیٹھ کر لوگ تصویریں بنوا رہے تھے۔ جھیل کے کنارے پر چلنا دشوار تھا مگر لوگ جوش وخروش کے عالم میں دشواری کے باوجود چلتے جارہے تھے۔
    کچھ دیر جھیل پر رکنے کے بعد ہم نے دوبارہ سفر شروع کیا اور انقرہ کے لئے روانہ ہوئے۔
    انقرہ ترکی کا دارالحکومت ہے اور ایک ترقی یافتہ شہر ہے۔ یہ اناطولیہ کے وسط میں واقع ہے۔ اس شہر کا پرانا نام انگورہ تھا مگر 1923ء میں اسے ترکی کا دارالحکومت بناکر انقرہ کا نام دیا گیا۔ یہ استنبول کے بعد ترکی کا دوسرا بڑا شہر ہے۔
    انقرہ انگوار کی کاشت اور دیسی شہد کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ انقرہ ترک دفاع اور ایروسپیس کمپنیوں کامرکز بھی ہے۔ ترکی کے دیگر علاقوں سے یہاں طلبہ و طالبات کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھی آتے ہیں۔ انقرہ کی سب سے بڑی مسجد کا نام کوکاٹیپی مسجد ہے۔ جسے عثمانی طرز تعمیر کے مطابق بنایا گیا ہے۔ اس شہر میں احمد حمدی ایسقی مسجد بھی موجود ہے۔ جو عثمانی حکومت میں تعمیر کی گئی تھی۔
    ینی مسجد بھی یہاں واقع ہے جسے سولہویں صدی میں معمار سنان نے تعمیر کیا تھا۔
    ابقدس انقرہ کی سب سے قدیم مسجد ہے اس میں اخروٹ کا ایک نقشہ موجود ہے جس میں لکھا ہے کہ یہ مسجد 574ء عیسویں میں تعمیر کی گئی تھی۔ ایک پہاڑی پر انقرہ قلعہ بھی واقع ہے۔ انقرہ میں بہت سی تاریخی عمارات موجود ہیں۔
    انقرہ سرسبز شہر ہے اس لئے اسے گرین سٹی بھی کہاجاتا ہے۔ انقرہ میں بہت سے بازار موجود ہیں اور بہت سارے میوزیم بھی ہیں۔
    ترکی کی نیشنل پولیس اکیڈمی بھی اسی شہر میں واقع ہے۔
    ہم راستے میں ایک جگہ لنچ کے لئے رکے پھر انقرہ پہنچتے پہنچتے ہمیں سہ پہر ہوگئی۔ ہم میوزیم اور بازار میں سے کسی ایک جگہ پر ہی جاسکتے تھے۔
    سرخان نے سب سے مشورہ لینا چاہا۔
    ”آپ لوگ بازار جانا پسند کریں گے یا میوزیم؟”
    اس نے اعلانیہ انداز میں پوچھا۔
    ”بازار، بازار……..”
    سب نے یک زبان ہوکر جوش و خروش کے عالم میں باآواز جواب دیا۔
    ”پھر بازار۔۔۔”
    سرخان عاجز آگیا۔
    ”اور کتنی شاپنگ کریں گے آپ لوگ؟ سامان کا بھی خیال رکھیں، سامان زیادہ ہوگیا تو لے جانے میں مشکل ہوگی، ایئرپورٹ پر لوگ اعتراض کریں گے۔”
    سرخان نے نامحانہ انداز میں کہا۔
    ”ہم پھر بھی بازار ہی جائیں گے۔ بازار صرف شاپنگ کرنے کے لئے ہی نہیں بلکہ رونقیں، دکانیں اور ریسٹورنٹ دیکھنے کے لئے بھی جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں بازاروں میں رش رہتا ہے، لوگ بازار جاتے ہیں اور کچھ نہیں تو یونہی بازار کی گلیوں میں شغل لگاتے ہوئے پھرتے رہتے ہیں۔ اکثر نوجوان تویونہی بازار کے قریب تھڑوں پر بیٹھے دکھائی دیں گے۔ ہمارے ہاں بازار جانا ایک ہابی اور ایکٹیویٹی ہے۔”
    لوگوں نے اپنی اپنی رائے دی۔
    سرخان کو سب کی بات مانتے ہی بنی۔
    ہم ہوٹل پہنچے جس کا نام Best Wester’n hotel Zoooتھا۔ انٹرنس پر شیشے کا بڑا سا دروازہ نصب تھا۔ ہمارا کمرہ تیسری منزل پر واقع تھا۔ ہم نے کمرے میں سامان رکھا ۔ کمرہ خوبصورت اور آرام دہ تھا۔ ہم نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو نیچے سڑکیں اور گلیاں نظر آئیں۔ سامنے دکانیں بھی تھیں۔ حسب ِ عادت ہم نے تھوڑی سی کھڑکی کھول دی کہ تازہ ہوا آتی رہے۔ ابھی تک ہم Ceterally heatedماحول کے عادی نہ ہوئے تھے۔
    کمرے میں سامان رکھ کر ہم بازار جانے کے لئے ہوٹل کی لابی میں چلے آئے ، پھر سوچا کہ وائی فائی بھی connectکروا لیں ہم منیجر کے پاس چلے آئے جو باری باری لوگوں کے موبائل پر وائی فائی connectکررہا تھا۔
    ”پانچ منٹ انتظار کرلیں، سیکورٹی کی وجہ سے ہر فلور کا پاس ورڈ مختلف ہے اور یہاں انٹرنیٹ connectکرنے کا طریقہ بھی مختلف ہے۔ تسلی رکھیے میں آپ سب لوگوں کے موبائل پر وائی فائی connectکردوں گا۔ بس تھوڑا سا انتظار کرلیں۔”
    کائونٹر پر کھڑے سوٹڈ بوٹڈ منیجر نے پروفیشنل انداز میں ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ وہ انگلش سمجھتا اور بولتا تھا۔
    وہ سفید رنگت اور بھورے بالوں والا دبلا پتلا خوش اخلاق نوجوان تھا۔ جو اردو ناسمجھتے ہوئے بھی اشتیاق بھرے انداز میں پاکستانیوں کو اردومیں بات کرتے ہوئے بغور دیکھ رہا تھا اور ان کے تاثرات دیکھ کر ان کی بات سمجھنے کی کوشش بھی کررہا تھا۔
    وہ ایک ذہین شخص تھا۔ اسے معلوم ہوگا کیا ہم لوگوں کو انٹرنیٹ connect کرنے کی اور پھر بازار جانے کی جلدی ہے۔
    ”ہم چلتے ہیں یہ لوگ بعد میں آجائیں گے۔”
    ساجدہ نے میرا بازو تھام کر کہا۔
    انہیں انقرہ دیکھنے کی جلدی تھی اور اب وہ ہوٹل میں رکھنے کو تیار نہ تھیں۔”
    ”چلیں آپ لوگ جائیں، ہم بھی پیچھے سے آرہے ہیں۔”یسریٰ نے بے ساختہ کہا۔
    ”منیجر نے یہ گفتگو سنتے ہوئے ہمیں انگریزی میں بازار کا راستہ اور محل و قوع سمجھانے کی کوشش کی اور کاغذ کی چِٹ پر احتیاطاً بازار کا نام بھی لکھ دیا۔
    اس نے وہ کاغذ کا چھوٹا سا ٹکڑا ہماری طرف بڑھایا جس پر Hilmi street لکھا ہوا تھا، ہم نے اس کی ذہانت پر عش عش کرتے ہوئے وہ چٹ لی اور ہوٹل کے دروازے سے باہر نکل آئے۔
    راستے میں ہم وہ کاغذ کا ٹکڑا راہ گیروں کو دکھاتے ہوئے کہ اس بازار کا راستہ بتادیں اور یوں ہم مختلف سڑکوں پر چلتے ہوئے بالآخر ہلمی اسٹریٹ کے بازار پہنچ گئے۔
    انقرہ ایک ماڈرن شہر ہے، یہاں سڑک کے کنارے سٹی منزلوں والے اپارٹمنٹس تھے جن کے سامنے پھولوں کے گملے رکھے تھے۔ دارالحکومت ہونے کی وجہ سے یہ ترکی کا اہما ور ترقی یافتہ شہر ہے۔ یہاں جدید طرز تعمیر والی عمارتیں اور اپارٹمنٹس واقع ہیں۔ یہاں کی رونقیں میں گہما گہمی ہے۔ یہاں کا طرزِ زندگی ترکی کے باقی شہروں سے مختلف ہے۔
    سڑک پر ٹریفک رواں دواں تھا۔ جابجا اونچی عمارتیں نظر آتیں۔ سڑکیں کشادہ اور پررونق تھیں۔ ٹریفک کا شور ماحول پر حاوی تھا۔
    ہلمی اسٹریٹ کا بازار پررونق اور وہاں کا مشہور بازار تھا۔ سڑک کے اطراف جدید طرز کی دکانیں تھیں۔ زیادہ تر دکانیں ترکی کے روایتی عروسی ملبوسات کی تھیں۔ موتی ستاروں والے کامدانی سفید رنگ کے لمبے گھیر دار فراک دکانوں میں سجے ہوئے تھے۔
    ہم نے ایک منی ایکسچینج سے کرنسی تبدیل کروائی اور کچھ دیر کے لئے سڑک کے کنارے رکھی میز کرسیوں کے قریب چلے آئے۔
    وہاں زمین پر
    لکھا ہوا تھا جس کا مطلب ہے۔
    ہم لوگ کافی دیر سے پیدل چل رہے تھے اس لئے کچھ دیر کے لئے کرسی پر بیٹھ گئے۔ قریب ہی ایک درخت بھی تھا۔ عقب میں ترکی کے روایتی عروسی ملبوسات کی دکانیں تھیں۔ شادی پر دلہنوں کے پہننے والے سفید رنگ کے خوبصورت سے فراک سجے ہوئے تھے۔ کچھ فاصلے پر کپڑوں کی دکان بھی تھی۔
    یہ انقرہ تھا۔ ترکی کا دارالحکومت جس کے بارے میں ہم بچپن سے سکول کی درسی کتابوں میں پڑھتے آئے تھے، انقرہ اسلام آباد سے ملتا جلتا تھا۔ انقرہ کی اس پررونق سڑک کے کنارے بیٹھ کر گاڑیوں کو دوڑتے اور لوگوں کو اپنی دھن میں مگن چلتے پھرتے دیکھ کر ہم سوچ رہے تھے کہ بھلا ہم نے کب سوچا تھا کہ ایک دن انقرہ میں سڑک کنارے بیٹھے ہوں گے۔ ہم حیران اور خوش تھے۔ مقدر انسان کوکب کہاں لے آتا ہے، اس کی خبر بھی نہیں ہوتی۔
    کچھ دیر بعد ہم وہاں سے اٹھے اور بازار کی گلیوں میں چلے آئے۔
    راستے میں ہمیں مختلف جگہوں پر ہمارے گروپ کے لوگ ملتے رہے، کوئی کسی دکان سے نکلتا ہوا دکھائی دیا تو کوئی سامنے سے آتا نظر آیا، کسی کونے سے اردو بولنے کی آواز آتی تو کہیں سے پنجابی کے جملے سنائی دیتے۔
    ان دن انقرہ کے مصروف بازار میں ہر جگہ پاکستانی دکھائی دے رہے تھے۔ اردو اور پنجابی میں بولے گئے جملوں کی آوازیں ہر سمت گونج رہی تھیں۔ اس دن وہاں پاکستانیوں کا ہی راج تھا۔
    ہم نے وہاں سے شاپنگ کی اور بچوں کے کپڑے خریدے۔ بازار میں مختلف گلیاں تھیں جہاں مختلف اشیاء کی دکانیں تھیں۔
    ساجدہ ایک کونے میں کچھ سوچتے ہوئے کھڑی تھیں۔ جیسے کوئی فیصلہ نا کر پارہی ہوں۔ ہم نے اس کا سبب دریافت کیا۔
    ”کیا ہوا؟ لوگ شاپنگ میں مصروف ہیں اور آپ یہاں کھڑی کیا سوچ رہی ہیں؟”
    انہوں نے سنجیدگی سے ہماری طرف دیکھا۔
    ”سوچ رہی ہوں کیا خریدوں! میرے بچے جوان ہیں، صرف مخصوص برانڈز کے کپڑے پہنتے ہیں، اور ہر چیز اپنی پسند سے چنتے ہیں ، سمجھ نہیں آرہی ان کے لئے کیا لوں؟”
    وہ سوچتے ہوئے بولیں اور پھر دھیرے سے چلتے ہوئے مردانہ کپڑوں کی اک دکان پر چلی گئیں۔ میں بھی میک اپ سے سجی اک دکان پر چلی آئی جہاں سیل لگی تھی۔ ریک پر میک اپ کا سامان سجا تھا۔ہم نے وہاں سے میک اپ کا سامان خریدااور ہم مختلف رنگوں کی نیل پالش دیکھ رہے تھے کہ وہاں یسریٰ چلی آئی۔
    ”آپ یہاں ہیں؟ واہ بڑی شاپنگ ہورہی ہے؟”
    وہ خوشدلی سے بولی۔
    ”سیل لگی ہے، شاپنگ کر لو میک اپ کی بہت اچھی ورائٹی ہے۔”
    میں نے مسکرا کر کہا۔
    ”کتنی شاپنگ کرنی ہے۔ واقعی یہ دکان تو بہت اچھی ہے۔ بڑی ورائٹی ہے یہاں تو۔”
    اس نے ستائشی انداز میں کہا۔
    دکاندار خاتون یہ گفتگو سنتے ہوئے مختلف چیزیں دکھانے لگی۔ یہاں دکانیں خواتین بھی چلاتی تھیں۔ اور کسی خاتون کا دکان پر بیٹھنا اک نارمل سی بات تھی۔ یہاں بہت سی خواتین اس پروفیشن سے منسلک تھیں۔
    ”یسریٰ تم یہاں ہو۔”
    اچانک رضیہ پھپھو کی آواز آئی۔
    ”تم کہاں چلی گئی تھی، میں نے ہر جگہ دیکھ لیا، مجھے بتا کر تو آتی، میں پریشان ہوگئی تھی، اجنبی دیس ہے۔”
    رضیہ آنٹی نے پریشانی سے کہا۔
    ”میں کچھ دیر کے لئے یہاں چلی آئی، سوچا قریب ہی دکان ہے، میک اپ دیکھ رہی تھی۔”
    اس نے تاویل پیش کی۔
    ”یہ کون ہیں؟”

    دکاندار خاتون نے پوچھا۔
    ”یہ میری پھپھو ہیں۔”
    یسریٰ نے جواباً کہا۔
    دکاندار خاتون حیرت سے دیکھتے ہوئے صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کررہی تھی۔
    یسریٰ اور پھپھو دکان سے چلی گئیں۔
    میں شاپنگ کرنے کے بعد باہر آئی۔
    اور کچھ دور چلنے کے بعد مجھے سڑک کے کنارے ایک جیولری شاپ نظر آئی، میں شاپ میں چلی آئی جہاں رفعت آنٹی بھی موجود تھیں۔
    کائونٹر پر سفید بالوں والا بوڑھا شخص بیٹھا تھا، وہ ایک بارعب دکاندار تھا۔
    ”آپ کے پاس سلطان نائٹ کی انگوٹھی ہے؟ اس پتھر کا رنگ بدلتا رہتاہے۔”
    ہم نے مدعا بیان کیا۔
    ”جی ہاں، یہ دیکھیں ، سلطان نائٹ انگوٹھیوں کے بہت سے ڈیزائن ہیں، کون سی انگوٹھی آپ پسند کریں گے؟”
    دکاندار نے ہمیں بہت سی انگوٹھیاں دکھائیں۔ ہم دلچسپی سے مختلف انگوٹھیاں دیکھنے لگے۔
    میں نے اور رفعت نے انگوٹھی خریدی۔
    ”شکرہے کہ ہمیں یہ انگوٹھی مل گئی ہمیں اس کی ہی تلاش تھی۔”
    ہم نے خوشی خوشی وہ انگوٹھی انگلی میں پہن لی اور دکان میں جلتی لائٹوں کی روشنی میں پتھر کا بدلتا ہوا رنگ دیکھ کر خوش ہوتے رہے۔
    سلطان نائٹ ایک قیمتی پتھر کا نام ہے۔ جو ترکی کے پہاڑوں سے نکلتا ہے۔ اس پتھر کا رنگ روشنی کے ساتھ بدلتا ہے۔ یہ ترکی کا مشہور پتھر ہے اور ترکی آنے والے لوگ اس پتھر کی انگوٹھی ذوق و شوق سے خریدتے ہیں۔
    ہم یہ شاپنگ کرکے اس دکان سے باہر نکلے۔
    ایک دکان سے یسریٰ نے خوبصورت سا بیگ خریدا۔ اسی دکان میں زاہدہ فاروق اور ان کا بیٹا حیدر بھی چلے آئے۔ زاہدہ نے بھی بیگ خریدنا تھا۔ بہت سے لوگوں کا سامان خریداری کے باعث بڑھ گیا تھا۔ اس لئے انہیں مزید ایک بیگ کی ضرورت تھی۔
    ”کیا آپ بتائیں گی کہ یہ بیگ کتنے کا ہے؟”
    حیدر نے یسریٰ کا بیگ دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    یسریٰ نے بیگ کی قیمت بتادی۔
    پھر وہ اپنی والدہ کی جانب مڑا۔
    ”امی، ایسا بیگ لے لیں، اچھا بھی ہے اور قیمت بھی مناسب ہے۔”