Tag: sana safinaz

  • عکس — قسط نمبر ۶

    عکس نے گاڑی سے اتر تے ہوئے سر اٹھا کر اس آئینے کو دیکھا جو اس گھر کے برآمدے میں دروازے کے پاس رکھا تھا اور جس میں اس وقت شیر دل اور شہر بانو کی پشت نظر آرہی تھی۔ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے وہ کمشنر اور اس کی بیوی کا استقبال کررہے تھے جن کی گاڑی اس وقت پورچ میں داخلی برآمدے کے بالکل سامنے کھڑی تھی، خود اس کی گاڑی پورچ کی چھت سے باہر تھی۔ نظریں آئینے سے ہٹا کر اس نے ایک لمحے کے لیے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا جہاں سے ہلکی بوندا باندی ہورہی تھی ۔پانی کی ہلکی پھوار نے اس کے چہرے، بالوں اور لباس کو ذرا سا نم کیا اور برآمدے میں کمشنر اور اس کی بیوی سے ملتے ہوئے شیر دل نے بالکل اس لمحے گردن موڑ کر اسے دیکھا تھا۔ وہ سیاہ موتیوں سے ایمبرائڈرڈ ایک فٹنگ والا سیاہ شیفون کا لباس پہنے ہوئے تھی جو اس کے متناسب جسم کو کچھ اور بھی متناسب کررہا تھا۔ عام طور پر کھلے رہنے والے گھنے سیاہ بال اس وقت ایک سیاہ نیٹ میں ڈھیلے جوڑے کی شکل میں اس کی گردن کے پیچھے سمٹے اس کی پتلی اور لمبی گردن کو نمایاں کیے ہوئے تھے۔ دائیں کندھے پر اسٹول کی شکل میں تہ شدہ دوپٹا ڈالے وہ بائیں ہاتھ میں ایک بہت چھوٹا اور خوب صورت سیاہ پرس پکڑے ہوئے تھی۔ شیر دل نے اس سے نظریں ہٹائیں مشکل کام تھا یہ اور اس نے مشکل سے ہی کیا۔ وہ کمشنر اور ان کی فیملی کے ساتھ آئی تھی اس لیے کمشنر اور ان کی بیوی گاڑی سے اتر کر سیدھا اندر جانے کے بجائے چند لمحوں کے لیے وہیں برآمدے میں رک گئے تھے۔ کمشنر کا استقبال کرنے کے بعد شیر دل برآمدے سے نکل کر اس کی گاڑی کی طرف بڑھا۔ اس کی طرف جاتے ہوئے غیر محسوس انداز میں اس نے اپنی جیب میں پڑا ٹشو پیپرٹٹولا تھا۔




    ڈرائیور سے کچھ کہتے ہوئے عکس جب تک پلٹی وہ اس کے سامنے تھا۔ دونوں بے اختیار ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے۔ بلیک ڈنر سوٹ کے ساتھ ایک سرخ Striped ٹائی لگائے، سلور کف لنکس اور ٹائی پر ایک کرسٹل کی ٹائی پن لگائے وہ اپنے اس حلیے میں اس کے سامنے کھڑا تھا جو اس کی ایک وجہ شہرت تھا۔ اکیڈمی میں کوئی اور کامنر اپنی ڈریسنگ سینس میں شیر دل کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا تھا۔ عکس مراد علی نے اپنے اتنے سال کی سروس میں بھی شیر دل سے زیادہ خوش لباس مرد نہیں دیکھا تھا۔
    عکس نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ ستائشی نظروں سے شیر دل کو دیکھا۔ ہوا کے ایک جھونکے نے شیر دل کی ٹائی کو اڑایا۔ عکس کی نظر بھٹکی۔ اس کی ٹائی کو بے اختیار اڑنے سے روک دینے کی خواہش کو اس نے اتنی ہی بے اختیاری کے ساتھ دبایا جس طرح وہ ابھری تھی۔
    دونوں کے درمیان اب خیر مقدمی کلمات کا تبادلہ ہورہا تھا۔ وہی رسمی جملے… اور وہی ان کہے مفہوم… وہ ہمیشہ کی طرح اس کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے بات کررہا تھا۔ اور اس کے چہرے پر نظریں جمائے شیر دل کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہورہا تھا کہ اس کے چہرے پر موجود کون سی شے کس کو ماند کررہی تھی۔ اس کے کانوں کی لوؤں میں دمکتے سفید موتیوں کےstuds اس کی شفاف چمکدار سیاہ آئی لائنز سے سجی آنکھوں کو یا اس کی آنکھیں سرخ لپ اسٹک سے رنگے ہونٹوں سے چھلکتی دودھیا دانتوں کی قطار کو جو اس کی مسکراہٹ کو اور بھی دلکش کررہی تھی۔ بارش کی پھوار کے ننھے ننھے قطرے اوس کے قطروں کی طرح اس کے بالوں اور چہرے پر چمک رہے تھے۔ ایک لمحے کے لیے شیر دل کا دل چاہا وہ ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے صاف کردے… صرف ایک لمحے کے لیے پھر اس نے نظر چرائی تھی…جیب سے ایک ٹشو نکال کر غیر محسوس انداز میں عکس کی طرف بڑھاتے ہوئے شیر دل نے کہا۔
    ”تم نے بڑا رسک لیا۔” عکس نے کسی سوال کے بغیر وہ ٹشو تھام کر اسی غیر محسوس انداز میں چہرہ اور سر تھپتھپاتے ہوئے کچھ حیرانی سے اس سے پوچھا۔
    ”کیا؟ ”وہ دونوں اب ساتھ چل رہے تھے۔
    ”بارش میں گاڑی سے نکل آئیں۔” قدم بڑھاتے ہوئے شیر دل نے کچھ سنجیدگی سے کہا۔
    ”تو؟” وہ الجھی۔
    ”اگر میک اپ بہہ جاتا تو؟”اس بار شیر دل کے ہونٹوں اور آنکھوں میں شرارت لہرائی تھی یہ جاننے کے باوجود کہ وہ ایک سیاہ آئی لائنز اور لپ اسٹک کے سوا شاید ہی کچھ لگائے ہوئے تھی۔
    ”ہاں رسک تو تھا، میک اپ صاف ہوجاتا تو تم اس سے زیادہ گھورتے مجھے… جتنا ابھی گھوررہے تھے۔” عکس نے ہاتھ میں پکڑے ٹشو کوبڑی نفاست سے لپیٹ کر پرس میں بے نیازی سے رکھتے ہوئے کہا۔جواب ویسا ہی آیا تھا جیسا سوال کیا تھا۔ اسے دیکھے بغیر شیر دل نے بے اختیار سر جھکا کر اپنی مسکراہٹ چھپائی۔ وہ باقی لوگوں کے قریب پہنچ چکے تھے اور وہ اسے جواباً کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔
    کمشنر کی بیوی کے ساتھ بات کرتی شہر بانو عکس کے استقبال کے لیے چند قدم آگے بڑھ آئی تھی۔




    ”شہر بانو… ”عکس مراد علی…” ایک لفظ میں شیر دل نے باری باری دونوں کو ایک دوسرے سے متعارف کروایا۔ دونوں ناموں کے ساتھ کوئی سیاق و سباق نہیں تھا پھر بھی دونوں ایک دوسرے کو اس سے کہیں زیادہ جانتی تھیں جتنا شیر دل نے ان کاتعارف کروایا تھا۔
    سفید شیفون کے کلیوں والے کرتے اور چوڑی دار پاجامے میں شہر بانو ایک باربی ڈول لگ رہی تھی۔دودھیا رنگت، سیاہ لمبی خمدار پلکیں، ننھی سی نوک والی تیکھی ناک اور بے حد باریک مسکراتے ہونٹ۔ عکس کے ہونٹوں پر موجود مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئی تھی اس کو دیکھ کر۔ شیر دل کو اس سے زیادہ پرفیکٹ لڑکی نہیں مل سکتی تھی۔ وہ واقعی صرف شیر دل کے ساتھ سجتی تھی۔ اس کی طرف بڑھتے ہوئے عکس نے سوچا تھا۔
    شہر بانو نے اس سے پہلے عکس مراد علی کا نام سنا تھا یا اس کو شیر دل کی گروپ فوٹو گرافس میں دیکھا تھا۔ جہاں وہ لاکھ غور کرنے کے باجود بھی اس کی شکل وصورت اور حلیے میں وہ خاص چیز کھوجنے میں ناکام رہی تھی جو اس کے ذہن میں کسی خدشے یا اندیشے کو جنم دیتی لیکن آج اس پر پہلی نظر ڈالتے ہی وہ عکس مراد علی سے بری طرح خائف ہوئی کیوں ہوئی؟ یہ اسے کئی دن سمجھ نہیں آیا۔ نہ اسے شیر دل سے کوئی خدشہ تھا نہ عکس مراد علی اس حسن وجمال کی مالک تھی جس سے اسے کوئی احساس کمتری ہونے لگتا لیکن اس کے باوجود اسے یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ عکس مراد علی کو نظر انداز کرنا بے حد مشکل تھا اور اس کو پسند نہ کرنا اس سے بھی زیادہ دشوار۔
    بر آمدے کی انٹرنس پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے وہ دونوں شہر بانو کو کسی فوٹو فریم کا حصہ لگے تھے۔ ایک پرفیکٹ پکچر، دراز قد، اٹریکٹو، پراعتماد، اسمارٹ… سیاہ لباس میں ملبوس وہ ایک ایسا کپل لگے تھے جو گھر سے نکلتے ہوئے پرفیکٹ میچنگ کر کے آئے تھے۔کوئی بھی ایک نظر میں دیکھ لیتا کہ عکس کے ہونٹوں کی لپ اسٹک کا رنگ شیر دل کی ٹائی کے رنگ کا ایک حصہ لگ رہا تھا… شہر بانو نے بھی نوٹس کیا تھا۔ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے کسی رشتے اور تعلق کے بغیر بھی ان دونوں کی باڈی لینگویج میں ایک عجیب کیمسٹری تھی۔ ایک عجیب سا ربط اور تعلق جس کو نہ چھپانے کی کوشش تھی نہ دکھانے کی…لیکن پھر بھی وہ چھپ چھپ کر دِکھ رہا تھا۔ شہر بانو الجھی ٹھٹکی… اور پھر چاہنے کے باوجود وہ عکس سے ویسی گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کرسکی جو وہ دوسرے مہمانوں کے ساتھ کررہی تھی۔ وہ نپے تلے انداز میں عکس کی طرف بڑھی تھی اور عکس نے بھی مصافحے کے لیے اس کا ہاتھ گرم جوشی پر اسی احتیاط سے پکڑا تھا جس کے ساتھ وہ بڑھایا گیا تھا۔ شہر بانو نے اس کے ہاتھ کے لمس کی حدت اور نرمی کو بیک وقت محسوس کیا۔دونوں کی نظریں ملیں۔
    ”آپ کیسی ہیں؟” اس نے عکس کو کہتے سنا۔ اس کی آواز کی ملائمت نے شہر بانو کے وجود کی سرد مہری کو عجیب انداز میں پگھلایا۔
    ‘‘I am fine. How are you ”اس نے جواباً اپنی مسکراہٹ کو کچھ گرم جوش کرنے کی کوشش کی۔
    ‘‘I am good too ”عکس نے جواباً ایک دھیمی مسکراہٹ کے
    ساتھ کہا۔ شیر دل اب کمشنر کے ساتھ اندر جارہا تھا۔ شہر بانو نے ایک عجیب سا اطمینان محسوس کیا اس فوٹو فریم کے ایک حصے کو ہٹتے دیکھ کر۔
    ”شیر دل سے بہت سنا ہے میں نے آپ کے بارے میں ۔” عکس نے شہر بانو سے کہا۔




  • عکس — قسط نمبر ۵

    اس اسٹینڈنگ مرر میں اپنے عکس پر پہلی نظر ڈالتے ہی اس نے اپنی یادداشت کے سارے خانوں کو جسم سے اترے ہوئے لباس کی جیبوں کی طرح کھنگالنا اور جھاڑنا شروع کردیا تھا۔ کتنے سال بعد اس نے اس مرر کو دیکھا تھا اور اس مرر میں کیا کیا دیکھا تھا۔




    آئینہ اتنے سالوں کے بعد آج بھی وہیں کا وہیں کھڑا تھا۔ کم آب و تاب کے ساتھ لیکن اسی وقار کے ساتھ جس کے ساتھ اس نے اسے پہلی بار دیکھا تھا۔گھر کا ایکسٹیرئر مکمل طور پر بدل چکا تھا۔ وہ آئینہ جیسے کسی شہزادی کا رومال تھا جسے وہ پھاڑ کر پھٹنے اور غائب ہونے سے پہلے شہزادے کی رہنمائی کے لیے باہر چھوڑ گئی تھی۔ واحد سراغ … ہر ہر بھید تک لے جانے اور اسے پانے والا۔ چند لمحوں کے لیے اس آئینے کو دیکھتے ہوئے اسے یوں لگا تھا جیسے وہ بھی تب ہی وہاں سے ہٹے گا۔ غائب ہوگا جب حضرت سلیمان کے عصا کی طرح اسے بھی کھڑے کھڑے دیمک لگ جائے گی، پھر ایک دن وہ برادے کے ایک ڈھیر اور آئینے سے شیشے کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں میں تبدیل ہو کر وہاں سے ہٹادیا جاتا۔ پتا نہیں وہاں کھڑا وہ کس کس کا عکس دیکھتا اور دکھاتا رہا تھا۔ وہ نم آنکھوں کے ساتھ اس آئینے میں نظر آتی عمارت کے بیرونی حصے کے عکس کو دیکھنے لگی۔ انگلیوں کی پوروں پر اس نے جیسے وہ سال گنے تھے جب وہ آخری بار اس گھر سے گئی تھی۔ وہ گھر جو اس کی زندگی کا خوب صورت ترین اور سیاہ ترین باب تھا۔ وہ گھر جس سے زیادہ محبت اور نفرت اسے کبھی کسی جگہ سے نہیں ہوئی تھی لیکن وہ گھر جو وہاں آکر بسنے والے انسانوں کے تمام احساسات سے بے نیاز آج بھی اسی تمکنت سے وہاں کھڑا تھا۔
    اور پھر آئینے میں اپنے اور اس گھر کے عکس کے درمیان اس نے یک دم کسی کو نمودار ہوتے دیکھا۔ وہ نم آنکھوں کے ساتھ بے اختیار مسکرائی۔ اس نے زندگی میں اس مرد کے علاوہ صرف ایک مرد کو …وہ آگے کچھ سوچ نہیں پائی، وہ اب اس کے عقب میں کھڑا اس کے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھے اس کو آئینے میں دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا
    ”You look lovely ”وہ بے ساختہ ہنس پڑی۔
    ”Thank you for flattering me”اس نے جواباً کہا۔ وہ اس کے عکس پر نظر جمائے ہوئے بے اختیار مسکرایا۔ گہری، گرم جوش، بہت کچھ یاد دلادینے والی آنکھیں… بے حد باریک ہونٹوں پر آنے اور کھیلنے والی بے ساختہ اور خمدار مسکراہٹ… اور یہ مسکراہٹ کیا کیا طوفان نہیں اٹھادیتی تھی۔ کون کون سی قیامت تھی جو بپا نہیں کردیتی تھی۔
    ”You are more than welcome” اس نے ذرا ساہنس کر اس کی بات پر جیسے کسی ندامت کا اظہار کیے بغیر دھڑلے سے کہا۔
    ”تمہیں پتا ہے میں پہلی بار اس گھر میں کب آئی تھی؟” اس نے آئینے میں اس کے عکس کے عقب میں موجود عمارت پر ایک نظر ڈالتے ہوئے مدھم آواز میں کہا۔ وہ اب بھی اس کے کندھے پر اسی طرح دونوں ہاتھ جمائے ،ٹکائے کھڑا تھا۔وہ اس کے ہاتھوں کا دباؤ محسوس کررہی تھی، نرم ،سہارا دیتا ہوا دباؤ۔ چند لمحوں کے لیے جیسے اس کا دل اس سے لپٹ جانے کو چاہا تھا۔
    ”جب…” اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن آواز حلق سے نہیں نکل سکی۔ آنسوؤں کے ایک ریلے نے اس کی قوت گویائی اور بینائی دونوں کو بیک وقت مفلوج کیا تھا۔ یادیں تھیں… درد کے آبلے تھے جو گرم پانی کے چشموں کی سطح پر ابھرنے والے بلبلوں کی طرح پھٹنے لگے تھے۔ کندھوں پر ٹکے وہ دونوں ہاتھ سرعت سے بازوؤں پر آئے پھر انہوں نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔ وہ حصار جس نے زندگی میں کبھی اس کو اکیلا نہیں چھوڑا تھا، وہ حصار جواس کے لیے ایک عطا تھا کسی کا تحفہ۔ اس کے بازوؤں کے حصار میں روتے ہوئے اس کی سمجھ میں نہیں آیا وہ کون سے کانٹے پہلے نکال کر اس کو دکھائے… وہ جو پاؤں میں تھے یا وہ جو دل میں تھے۔ سمجھ میں یہ بھی نہیں آرہا تھا کہ وہ جو یاد کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ اس کو دوبارہ بھلانے کے لیے وہ کیا کرے گی۔
    اس گھر کے برآمدے میں لگا وہ آئینہ، شہزادی تک پہنچانے والا واحد سراغ، اب جیسے شہزادے کو اس کے پاس لے آیا تھا، پہاڑ کی اس کھوہ میں جہاں ایک شہزادی کو کئی سال پہلے گہری نیند سلادیاگیا تھا۔
    ……٭……




    شیر دل نے اس کو کاریڈور میں داخل ہوتے ہی بہت دور سے دیکھ لیا تھا۔ وہ کمشنر آفس کے میٹنگ روم کے داخلی دروازے پر کھڑی اپنے عملے کے کسی رکن کو ہدایت دینے میں مصروف تھی۔
    چیف کمشنر کے ساتھ ڈویژن کے تمام ڈی سیز کی دس بجے ہونے والی میٹنگ کا انتظام اس کی ذمے داری تھی۔ شیر دل کے ہونٹوں پر بے ساختہ ایک مسکراہٹ رینگی تھی اور ایسا کیوں تھا وہ کبھی سمجھ نہیں پایاتھا۔
    عکس مراد علی کو اپنے سامنے پاکر اسے ہمیشہ خوشی ہوتی تھی یا پھر غصہ آتا تھا لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ وہ بے تاثر رہ پایا ہو… خوشی کا وہ حال ہوتا تھا کہ وہ بہت دن تک اس کے ٹرانس سے باہر نہیں نکل پاتا تھا… اور غصہ سمندر کی ایک شوریدہ لہر کی طرح آکر گزر جاتا تھا۔
    ایمرلڈگرین لانگ شرٹ میں سیاہ چوڑی دار پاجامے اور دوپٹے میں کندھوں سے کافی نیچے تک جاتے اسٹیپس میں کٹے ہوئے گھنے سیاہ بالوں کو وہ اب بھی بات کرتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں جھٹک رہی تھی۔ وہ اس کو کئی سالوں بعد دیکھ رہا تھا لیکن شیر دل کو کم از کم دور سے اس میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوا تھا۔ اس نے اپنے سامنے کھڑے شخص کے ساتھ بات کرتے کرتے اپنا رخ موڑا تھا اور تب اس نے بھی شیر دل کو دیکھ لیا تھا۔ ایک لمحے کے لیے شیر دل نے اس کو بھی بات کرتے کرتے ٹھٹکتے دیکھا پھر اس کے ہونٹوں پر بھی ایک مسکراہٹ آئی تھی۔ نظروں اور مسکراہٹوں کے تبادلے کے بعد اس نے عملے کے اس فرد کو کچھ آخری ہدایات دیں۔ شیر دل کے اس کے قریب پہنچتے پہنچتے اس کا عملہ وہاں سے رخصت ہوچکا تھا۔ اس کے بالمقابل جا کر کھڑے ہوتے ہوئے شیر دل کا دل بے اختیار مچلا تھا کہ وہ اپنے عقب میں آنے والے اپنے اسٹاف کو وہاں سے رخصت کردے… کم سے کم چند لمحوں کے لیے۔ عکس کو دیکھ کراس کے دل میں ہر قسم کی احمقانہ اور بچگانہ خواہشات پیدا ہوتی رہتی تھیں اور یہ ہمیشہ سے تھا۔ ہاں پہلے کبھی اس نے اپنی ان تمام خواہشات کو احمقانہ اور بچگانہ کا لیبل نہیں لگا یا تھا، اب لگانے لگا تھا۔ یہ کام وہ نہ کرتا تو وہ کرتی جو اس سے تین فٹ کے فاصلے پر اس کے سامنے کھڑی اپنی سیاہ، چمکدار، شفاف، گہری آنکھوں اور بے حدجان لیوا مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔
    ”ہیلو!اس کے خیر مقدمی کلمات کے آغاز سے پہلے ہی شیر دل نے کہا تھا۔
    ”سر آپ کیسے ہیں؟
    ”I am good آپ کیسی ہیں میم؟”
    ”I am fine too، آپ کا سفر ٹھیک رہا؟”
    ”جی، چیف آچکے ہیں؟”
    ”وہ بس راستے میں ہیں، دس منٹ میں پہنچ جائیں گے۔” کمشنر آفس میں کھڑے ادھر سے ادھر جاتے ہوئے انتظامی عملے کے بیچ میں وہ ایک دوسرے سے یہی کہہ سکتے تھے جو کہہ رہے تھے… فارمل انداز اور کلمات۔ صرف ان کی مسکراہٹ اور آنکھیں تھیں جو ایک دوسرے کو وہ پہنچارہی تھیں جو ان کے احساسات تھے۔ صرف چند منٹ وہ وہاں کھڑا رہا تھا پھر میٹنگ روم میں چلا گیا تھا، اس کے پاس سے نہ ہلنے کی خواہش کے باوجود…
    میٹنگ ٹھیک وقت پر شروع ہوئی تھی۔ شیر دل کمشنر کے بائیں جانب میز کی پہلی کرسی پر تھا اور وہ اس کے بالمقابل کمشنر کے داہنی جانب پہلی سیٹ پر براجمان تھی۔ اور اس سیٹنگ ارینجمنٹ سے شیر دل کو کم از کم یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کے لیے ٹیبل کے سرے پر بیٹھے ہوئے کمشنر اور میٹنگ پر توجہ مرکوز رکھنا آج کافی مشکل ثابت ہونے والا تھا اور ایسا ہی ہوا تھا… وہ بار بار بھٹک رہا تھا، اسے دیکھتے اور سنتے ہوئے۔ وہ اب بھی اسی طرح بات کررہی تھی جس طرح ہمیشہ کرتی تھی۔ نپا تلا انداز، تول کر بولنے کی عادت، بے حد ٹھہراؤ والا دھیما، ملائم لہجہ اور بے حد شستہ اور مدلل گفتگو۔




  • باغی — قسط نمبر ۳ — شاذیہ خان

    فوزیہ ہاتھ میں گوہر کی ایڈورٹائزنگ ایجنسی کا پتا لیے بس سے نیچے اتری اور ایک راہ گیر کو پرچی دکھاتے ہوئے ایڈریس دریافت کیا۔ راہ گیر نے اسے ناصرف پتا سمجھایا بلکہ اسے یہ بھی بتا دیا کہ اس طرف کون سی بس جائے گی۔فوزیہ نے بس کے بجائے رکشہ پہ جانا زیادہ مناسب سمجھا۔تھوڑی ہی دیر بعد رکشے والے نے بآسانی اسے گوہر کی ایڈورٹائزنگ ایجنسی تک پہنچا دیا۔ فوزیہ کرایہ ادا کرکے رکشے سے اتری اوربلڈنگ کے اندر چلی گئی جہاں ایک چوکیدار نے اس سے پوچھا کہ میڈم آپ نے کہاں جانا ہے؟جب فوزیہ نے اسے میڈیا ٹیک ایڈ ایجنسی کا بتایا تو اس نے فوزیہ کو بتایا کہ یہ دفتر پانچویں فلور پر ہے۔فوزیہ نے اس کی بات سن کر سر ہلایا اور لفٹ کی طرف بڑھ گئی۔
    پانچویں فلور پر لفٹ سے باہر نکل کر وہ ایک دفتر کے سامنے پہنچی جہاں میڈیا ٹیک ایڈورٹائزنگ کمپنی کا نام لکھا ہوا تھا۔ فوزیہ نے رُک کر پرچی پر لکھا نام دوبارہ پڑھا۔ اسی وقت بند دروازہ کھلااور ایک آدمی باہر نکلاتو وہ اندرگھس گئی۔ سامنے ریسپشنسٹ کسی سے فون پر بات کررہی تھی۔ اُس نے فوزیہ کو دیکھ کر فون رکھا اور مسکرا کر پوچھا۔
    ” جی میم!کیا میں آپ کی کوئی مدد کر سکتی ہوں؟” فوزیہ نے پرچی اس کے ہاتھ میں تھما دی۔ ریسپشنسٹ نے پرچی پر نظر ڈ الی اور پوچھا۔
    ” آپ کو گوہر صاحب سے ملنا ہے؟”
    ”جی ہاں۔”فوزیہ نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
    ریسپشنسٹ نے فون ملایااور فوزیہ سے اس کا نام پوچھا۔
    ” فوزیہ بتول،انہوں نے مجھے آج کا ٹائم دیا تھا۔”فوزیہ نے قدرے رک رک کر جواب دیا۔





    ” سر آپ سے کوئی مس فوزیہ بتول ملنے آئی ہیں۔ ”ریسپشنسٹ نے کہا اور پھر اوکے سر کہہ کر فون بند کر دیا۔
    فون رکھنے کے بعد اس نے فوزیہ سے کمرے میں جانے کا کہا، فوزیہ ”شکریہ” کہہ کر کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
    فوزیہ کمرے میں داخل ہوئی تو سامنے ایک پینتیس سالہ درمیانی عمر کا عیار سا شخص لیپ ٹاپ پربیٹھا تھا جو اسے اندر داخل ہوتے دیکھ کر کرسی سے کھڑا ہوگیا۔ فوزیہ خاموشی سے آگے بڑھی، ہاتھ میں پکڑا پرس میز پر رکھا اورگوہر کو سلام جھاڑ دیا۔
    ”السلام علیکم جی میں فوزیہ بتول۔”
    ”جی جی ! ویلکم۔” گوہرنے خوش اخلاقی سے کہااور ایک کرسی کی طرف بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ”میں آپ ہی کا انتظار کررہا تھا،آیئے بیٹھیے۔”
    ”کیا آپ گوہر صاحب ہیں اور آپ ہی نے مجھے فون کیا تھا؟”فوزیہ کے لہجے میں شبہ تھا۔
    ”جی جی میں نے ہی آپ کو فون کیا تھا۔ باقی باتیں بعد میں،پہلے یہ بتائیں کیا لیں گی چائے، کافی یا…؟” گوہر نے مسکرا کر انٹرکام کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”جی رہنے دیں۔” فوزیہ نے تھوڑا جھجکتے ہوئے جواب دیا۔
    ”ارے نہیں،ایسے اچھا نہیں لگتا۔”گوہر نے اس کی جھجک محسوس کی اور کہاپھراصرار کرتے ہوئے انٹرکام کان سے لگا لیا۔”آپ پہلی بار آئی ہیں ایسے کیسے جانے دیں،آپ کو کچھ نہ کچھ تو لینا پڑے گا۔”
    ” جی پھر کافی منگوا لیں۔” فوزیہ نے کچھ سوچ کر جواب دیا۔
    ”بلیک یا وِد ملک؟”گوہر نے پوچھا۔
    ”جی؟” فوزیہ اس کی بات پر تھوڑا بوکھلا گئی اس نے تو کبھی کافی نہیں پی تھی اب بلیک یا ملک والی کا کیا جواب دیتی۔
    ” میرا مطلب ہے بلیک کافی پیتی ہیں یا ملک والی۔”گوہر نے سمجھاتے ہوئے پوچھا۔
    ” جیسی آپ پئیں۔” فوزیہ کے لہجے میں اب بھی ہچکچاہٹ تھی۔
    ”میں تو بلیک کافی پسند کرتا ہوں۔”گوہرنے ہنستے ہوئے کہا۔
    ” میں بھی وہی پی لوں گی۔” فوزیہ نے فوراً کہا۔
    ” کافی تابع دار قسم کی خاتون ہیں آپ۔” گوہر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھل رہی تھی۔
    انٹرکام پر کافی کا آرڈر دینے کے بعد گوہر نے دوبارہ بات شروع کی۔
    ” ویسے اچھا ہوا آپ آگئیں ورنہ آج ہی یہ ایڈ کسی اور کے نصیب میں چلا جاتا۔ کافی دن تو آپ نے رابطہ ہی نہ کیا۔ ”
    ” جی میرے گھر کے کچھ مسائل تھے۔” فوزیہ نے سر جھکاتے ہوئے ہوئے جواب دیا۔
    ” مسائل؟کیسے مسائل؟”گوہر نے پوچھا۔
    ” جی میرے میاں اجازت نہیں دے رہے تھے۔”فوزیہ نے تھوڑا جھجکتے ہوئے بتایا۔
    ” آپ شادی شدہ ہیں؟”گوہر نے آنکھیں پھاڑتے ہوئے حیرانی سے پوچھا۔





    ”جی میرا ایک بیٹا بھی ہے۔”وہ شرمندگی سے بولی۔
    ”لیکن جب آپ نے اپنی تصاویر کے ساتھ انفارمیشن لکھی تھی اس میں تو سنگل شو کیا تھا۔”
    ”جی اس وقت تک میری شادی نہیں ہوئی تھی۔”فوزیہ نے گڑبڑا کرجواب دیا۔
    ” دیکھیں مس فوزیہ بتول!یہ فیلڈ ینگ لڑکیوں کے لیے ہے۔یہاں نوجوان اور غیرشادی شدہ لڑکیاں ہی کام یاب ہیں، آپ کیسے چلیں گی یہاں؟” گوہر کرسی کی پشت سے کمر لگاتے ہوئے بولا۔
    ”وہی تو آپ کو بتانا چاہ رہی ہوں کہ میری میاں سے علیحدگی ہوچکی ہے۔ وہ اجازت نہیں دے رہے تھے اور مجھے ہر حال میں اس فیلڈ میں آنا تھا۔” فوزیہ نے فوراً بات بنائی۔
    ” اوہ اچھا اچھا! ایسے میں کہنا تو نہیں چاہیے مگر اگر آپ واقعی اس فیلڈ میں نام کمانا چاہتی ہیں تو یہ آپ کے حق میں بہت اچھا ہوا۔” گوہر نے قدرے سکون کا سانس لیا۔
    اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی اورچپڑاسی کافی لے کر آگیا اور دونوں کے آگے کافی کپ رکھ دیے۔ گوہر نے ہاتھ کے اشارے سے اصرار کرتے ہوئے اسے کپ اُٹھانے کا کہا۔
    ”فوزیہ! کافی لیجیے ،ہمارے آفس کی کافی بہت پسند کی جاتی ہے ۔”
    فوزیہ نے کپ اٹھایا اور پہلے ہی سپ پر اس نے منہ بنا کر کافی چھوڑ دی۔ گوہر نے فوراً پوچھا۔
    ”کیا ہوا؟”
    ناسمجھی کے انداز میں فوزیہ نے منہ بنایااور بولی۔”اتنی کڑوی۔”
    ”لیکن کافی تو کڑوی ہی ہوتی ہے۔” گوہر نے حیرانی سے جواب دیا۔
    ” ہاں لیکن یہ تو بہت ہی کڑوی ہے۔”فوزیہ نے بھی جیسے بات بنائی۔
    ” چلیں یہ آپ رہنے دیں ،میں چائے منگواتا ہوں آپ کے لیے۔” گوہر نے اس کے آگے سے کپ اٹھاتے ہوئے کہا۔
    ” نہیں نہیں رہنے دیں، مجھے ابھی کچھ نہیں پینا۔ آپ پلیز مجھے بتائیں کہ کرنا کیا ہے؟کس اشتہار کے لیے آپ نے مجھے بلایاہے؟” فوزیہ نے ہاتھ کے اشارے سے روکتے ہوئے کہا۔
    ” جی وہ بھی بات ہو جائے گی، پہلے تو مجھے لگ رہا ہے کہ آپ کا پورٹ فولیو دوبارہ بنوانا پڑے گا اور آپ کو تھوڑا مین ٹین بھی کرنا پڑے گا۔ اپنے اوپر توجہ دیں۔ اس ایک سال میں آپ کا وزن کافی بڑھ گیا ہے۔”گوہر نے اس کے خدوخال پرنظریں جماتے ہوئے جواب دیا۔
    ”جی وہ بس بچے کے بعد …لیکن میں جلد کم کرلوں گی،آپ فکر نہ کریں۔” فوزیہ کے لہجے میں شرمندگی چھپی ہوئی تھی۔
    ” خیر ہم آپ کو ساری سہولیات دیں گے، پہلے تو یہ بتائیں آپ ٹھہری کہاں ہیں؟ ”گوہر نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
    ”وہ بس میں ابھی…”فوزیہ سے کوئی جواب نہ بن پایا۔
    ” اچھا خیر اس کا انتظام بھی ہو جاتا ہے۔ ہمارا ایک گیسٹ ہاؤس ہے،میں ڈرائیور سے کہتا ہوں کہ آپ کو وہاں چھوڑ آئے،اب آپ ہماری ذمہ داری ہیں۔ بہت جلد آپ ہمارے ادارے سے ایک روشن ستارے کی طرح چمکیں گی مس فوزیہ۔”گوہر نے اسے تسلی دی۔
    ” جی بہت شکریہ آپ میراخواب پورا کررہے ہیں۔ ” فوزیہ تشکر آمیز لہجے میں بولی۔
    ”مس فوزیہ بس آپ ہمارے خواب پورے کریں ہم آپ کے پورے کریں گے۔ زندگی دراصل کچھ لو،کچھ دو ہی کا نام ہے۔”
    فوزیہ گوہر کی یہ بات سمجھ تو نہ سکی لیکن محض جی کہہ کر مسکرا دی۔
    ٭…٭…٭





    گوہر سے رخصت ہونے کے بعد ڈرائیور اسے گیسٹ ہاؤس لے آیا۔ وہ کمرے میں داخل ہوئی جہاں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔اس نے کمرے کی ایک ایک چیز کا غور سے جائزہ لیا۔ LCDکے پاس جاکر اس پر ہاتھ پھیرا اوراس کے بٹن دبانے کی کوشش کی لیکن کام یاب نہیں ہوئی تو ساتھ آئے ملازم سے پوچھا۔
    ”یہ چلتا کیوں نہیں، کیا خراب ہے؟ ”
    ”جی نہیں میم یہ ریموٹ سے چلے گا۔”ملازم نے طنز آمیز مسکراہٹ سے جواب دیا اورپاس پڑا ریموٹ اٹھا کر اُسے تھمادیا۔
    ” ہاں ہاں مجھے پتا ہے۔” فوزیہ نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا اورریموٹ پر لگے بٹن دبائے لیکن اسکرین روشن نہ ہوئی تو اس نے دوبارہ ملازم کی طرف دیکھا تو ملازم نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے ریموٹ تھام لیا اور ٹی وی چلادیا۔
    ”میم اس بٹن کو دبانے سے آپ چینل چینج کرسکتی ہیں۔” ملازم ایک بٹن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا،ساتھ ہی وہ بڑی عجیب سی نظروں سے فوزیہ کو دیکھ رہا تھا۔
    ”ہاں ہاں مجھے پتا ہے۔” فوزیہ نے منہ بناتے ہوئے کہا اورپھر غور سے اپنی جانب دیکھتے ہوئے ملازم کو ڈانٹا۔”کیا گھور کر دیکھ رہے ہو؟کبھی کوئی لڑکی دیکھی نہیں؟ ”
    ”کچھ نہیں جی معاف کردیں،کسی اور چیز کی ضرورت ہے تو بتا دیں۔” ملازم یوں پکڑے جانے پر گھبرا گیا اور ہکلا کر جواب دیا۔
    ” نہیں، اب تم جاؤ۔”فوزیہ نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا۔
    ملازم ڈانٹ کھانے کے بعدسر جھکائے باہر نکل گیا۔ فوزیہ نے چپل ایک طرف اتاری اور صوفے پر پھیل کر بیٹھ گئی۔ ریموٹ ہاتھ میں لے لیا اور چینل بدل بدل کر دیکھنے لگی۔ ایک چینل پر ایک بچے کی فلم آرہی تھی۔اس کا چینل بدلتا ہاتھ اپنی جگہ ٹھہر سا گیا۔ وہ دل جمعی سے دیکھنے لگی۔ اس کے بیٹے کی عمر کا ایک ہنستا ہوا بچہ تھا جسے دیکھ کر اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں اور اسے اپنا بیٹایاد آنے لگا۔نہ جانے اس وقت منا کس کے پاس ہوگا،اسے کون سنبھال رہا ہوگا۔
    ٭…٭…٭
    ماجدشدید رو رہا تھا اور عابد اسے سنبھالتے سنبھالتے خود پریشان ہوگیا تھا،لیکن وہ کسی صورت چپ ہی نہیں ہو رہاتھا۔ اتنے میں اس کی ماں فیڈر بنا کر لائی تو عابد نے بچہ ماں کی گود میں ڈال دیا۔
    دادی نے منہ بناتے ہوئے بچے کے منہ میں فیڈر ٹھونسی اور بولی۔
    ”تو نے کیوں روک لیا اِسے، لے جارہی تھی تو لے جانے دیتا۔”
    ”اماں یہ میرا بیٹا ہے، میرے پاس ہی رہے گا۔”عابد غصے سے بولا۔
    ”تو سنبھالے گا کون اسے؟ میری بوڑھی ہڈیوں میں اتنا دم نہیں۔ تو نے بھی بس کچھ سوچے سمجھے بغیر تین بول سنا دیے۔” ماں نے بھی غصے سے جواب دیا۔
    ” تو نے دیکھا نہیں کتنی بدتمیزی کررہی تھی،اور تو فکر نہ کر آ جائے گی۔”عابد نے ماں کو تسلی دی۔
    ” عابد پتا تو کر ابھی تک اس کے گھر سے کسی نے رابطہ ہی نہیں کیا۔”عابد کی ماں کے لہجے میں تجسس تھا۔
    ” کرلیں گے رابطہ بھی، جلدی کیا ہے۔ ابھی تو ایک دن ہی ہوا ہے۔ پلٹ کر واپس گھر ہی آئے گی، اس نے جانا کہاں ہے؟اس کے گھر والے بھی اُسے نہیں رکھیں گے۔”عابد نے اپنی ماں کو قائل کرتے ہوئے کہا۔
    ”لیکن دیکھ اب ذرا لگامیں کھینچ کر رکھنا ۔تواُسے بہت ڈھیل دے دیتا ہے جب ہی تیرے سر پر ناچتی ہے۔”ماں نے اسے نصیحت کی۔
    ”تو فکر ہی نہ کر ،ایسی چٹیا پکڑ کر رکھوں گا کہ یاد رکھے گی۔ زیادہ ہی دماغ خراب ہوگیا ہے اُس کا۔”عابد نے ماں کی بات سن کر غصے سے جواب دیا۔
    ” چل تو آج راجدہ کو بتا جا کر ،اُسے کہہ کہ اماں نے بلایا ہے۔اس سے مشورہ کرتی ہوں کہ جب تک وہ واپس نہیں آتی اس کا کیا کریں۔ میری بوڑھی ہڈیوں میں اتنادم نہیں۔آکر راجدہ ہی اسے سنبھال لے۔” ماں نے پریشانی سے کہا۔
    ”ٹھیک ہے اماں میں جاکر راجدہ سے بات کرتاہوں تب تک تو سنبھال اسے۔”یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ کی نند اور اس کی ساس بیٹھی آپس میں باتیں کررہی تھیں۔راجدہ کی گود میں عابد کا بیٹا تھا اور وہ اُسے پیار سے گلے لگائے ہوئے تھی۔ فوزیہ کی نند بچے کو پیار کرتے ہوئے بولی۔
    ” فوزیہ کتنی سنگ دل ہے ،اتنا پیارا بیٹا چھوڑ کر چلی گئی۔ ویسے اماں جھگڑا ہوا کس بات پر تھا؟”
    ” ویسے تو کم بخت کا جھگڑا روز ہی کسی نہ کسی بات پر ہوتا تھا، لیکن کل تو ضد کررہی تھی کہ مجھے اشتہاروں میں کام کرنا ہے، لیکن تیرے بھائی نے انکار کردیا۔” فوزیہ کی ساس نے نفرت سے جواب دیا۔
    فوزیہ کی نند یہ بات سن کر گال پیٹنے لگی۔
    ”توبہ توبہ !ویسے کتنی آوارہ ہے، شریفوں والی زندگی چھوڑ کر گندی عورتوں والے کام کرنا چاہتی ہے۔”
    ”بس بدنصیب ہوتی ہیں کچھ عورتیں۔ وہ توبہت ہی آوارہ تھی۔ نہ جانے تیرے بھائی کو کیا پسند آیا اس میں۔زبان دیکھو گز بھر کی،ذرا ذرا سی بات پر لڑنے کو تیار۔ بھئی اب اگر منہ چلائے گی تو پٹے گی بھی۔” فوزیہ کی ساس سر پر ہاتھ مارتے ہوئے تاسف سے بولیں۔
    ” او چھوڑ اماں، گھر بسانے والی عورتیں ایسی نہیں ہوتیں۔ اس نے گھر بسانا ہی نہیں۔” فوزیہ کی نند نے نفرت سے فوزیہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔
    ” لیکن اپنابچہ تو کوئی نہیں چھوڑتااس طرح ؟اس بچے کی خاطر وہ واپس آئے گی۔پہلے بھی آگئی تھی،لیکن اب تو بہت دھڑلے سے گئی ہے۔”فوزیہ کی ساس نے فکر سے سر ہلایا۔
    ”تو نے کہا بھائی سے کہ پتا لے کر آئے؟”فوزیہ کی نند تشویش سے بولی۔
    ” ہاں آج جائے گاوہ پتا کرنے، دیکھ کیا کہتے ہیں وہ لوگ۔” فوزیہ کی ساس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”کہنا کیا ہے اماں،پہلے کی طرح بھیج دیں گے بیٹی کو، انہوں نے کون سا بٹھانا ہے اسے۔” فوزیہ کی نند نے بے پروائی سے کہا۔
    ان دونوں کی باتوں کے دوران ماجدنے پھر رونا شروع کردیاجسے راجدہ تھپک تھپک کر سلانے کی کوشش کررہی تھی لیکن وہ کسی صورت قابو نہیں آرہا تھا۔
    ”کتنی بدنصیب ماں ہے، اللہ نے اتنا خوب صورت بیٹا دیا، گھر دیا اور وہ آوارہ پھر رہی ہے۔ اس لڑکی کے چلن تو پہلے ہی ٹھیک نہ تھے، شادی کے بعد تو اور بھی پر نکل آئے۔”فوزیہ کی نند کے لہجے میں فوزیہ کے لیے نفرت ہی نفرت تھی۔
    ”چل تو اس کو دیکھ میں کچھ اور کام کرلوں۔”فوزیہ کی ساس جیسے اس بات سے اکتا گئی تھی، وہ اُٹھی اور دوسرے کمرے کی طرف چلی گئی۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ کی ماں بہت ہی بھیانک اور عجیب سا خواب دیکھ کر گھبرا کر اُٹھ بیٹھی اور امام بخش کو جھنجھوڑا۔ وہ بھی آنکھیں ملتا ہوا اُٹھ بیٹھا۔
    ”خیر ہے بھاگ بھری تو کیوں اُٹھ کر بیٹھ گئی؟”
    ”فوزیہ کے ابا!میں نے فوزیہ کے بارے میں ایک بڑا بُرا خواب دیکھا ہے ۔”ماں نے پریشانی سے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
    ” کیسا خواب؟ ” امام بخش حیرانی سے بولا۔
    ”وہ بہت پریشان ہے، رو رہی ہے، کہہ رہی ہے اماں مجھے معاف کردے۔” ماں نے پریشان لہجے میں کہا۔
    ”او! رہن دے وہ مر جائے گی لیکن تجھ سے یا مجھ سے کبھی معافی نہیں مانگے گی۔” امام بخش نے ہاتھ جھٹک کر جواب دیا۔
    ” نہیں میں ٹھیک کہہ رہی ہوں، وہ رو رہی تھی۔”فوزیہ کی ماں نے اپنی بات پر اصرار کیا۔
    ”چل رہن دے، سو جا ابھی صبح دیکھیں گے۔” امام بخش نے دوبارہ بے پروائی سے چارپائی پر کروٹ لی۔
    ” فوزیہ کے ابا بات سُن ۔” ماں نے پاس آکر بڑے مان سے کہا۔
    ”ہاں بول کیا بات ہے؟”اُس نے کروٹ بدل کر پوچھا۔
    ” کل تو فوزیہ کی طرف جا خبر لے کر آ اُس کی وہ ٹھیک تو ہے؟”ماں نے بہت اصرار سے کہا۔
    ” دیکھ میں ہاتھ جوڑ رہا ہوں، اس کے بارے میں مجھ سے کوئی بات مت کر میں بالکل نہیں جاؤں گااور تو بھی خاموشی سے بیٹھی رہ اپنی جگہ۔”وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا اور غصے سے بولا۔
    ” تو کتنا بے درد ہے؟ تجھے ذرا اپنی بیٹی کا خیال نہیں آتا؟” فوزیہ کی ماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے جسے اس نے اپنے دوپٹے سے پونچھا۔
    ” دیکھ اس نے بھی تو کبھی ہمارا خیال نہیں کیا اور تو اس وقت اس کی ساری باتیں چھوڑ اور سو جا۔ نہ جانے رات کو بیٹی کی کیسی محبت جاگ گئی کہ تو نے میری نیند بھی خراب کردی۔ ”امام بخش نے یہ کہہ کر کروٹ لی،ماں نے بھی دوسری طرف منہ کر لیا ۔اس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ ایک میگزین کے لیے فوٹو شوٹ کروا کر کرسی پر بیٹھی تھی اور دوسرے شوٹ کا انتظار کر رہی تھی کہ اس کی ماں کا فون آ گیا۔
    فوزیہ نے فون نمبر دیکھ کر پہلے کچھ سوچا اور پھرکال ریسیو کر لی۔دوسری طرف ماں کی آواز سن کر بولی۔
    ”ہاں اماں بول کیا بات ہے؟ ”
    ”فوزیہ میں نے بہت بُرا خواب دیکھا ہے تو ٹھیک تو ہے اور تو ہے کہاں؟”ماں نے پریشان ہوکر کہا۔
    ”ہاں اماں میں بالکل ٹھیک ہوں اور اس وقت شہر میں ہوں۔” فوزیہ نے بے پروائی سے جواب دیا۔
    ”کیوں شہر میں کیوں تو اپنے گھر میں نہیں ہے؟” ماں اس کی بات سن کر حیران رہ گئی۔
    ” اماں اس نے پھر مجھے طلاق دے دی تھی۔” فوزیہ نے قدرے توقف کے بعد جواب دیا۔
    ماں کو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آیا، وہ اپنے گال پیٹنے لگی۔
    ” ہائے وے میرے ربا تو کیا کہہ رہی ہے فوزیہ؟”
    ”ہاں اماں دیکھ میرااب ایسے اس کے ساتھ رہنا حرام تھا۔ میں چھوڑ آئی اُسے۔” فوزیہ نے کندھے اچکائے۔
    ”تو کیسی باتیں کررہی ہے فوزیہ؟ اپنے سر کے سائیں کو چھوڑ دیا؟”ماں نے تشویش سے کہا۔
    ” اماں اس نے مجھے مارا تھا، طلاق دینا تو جیسے کھیل بنالیا تھا۔ اسے میں چھوڑ آئی ہوں۔” فوزیہ نے اپنی بات میں وزن پیدا کرتے ہوئے کہا۔
    ”ہائے فوزیہ تو نے اپنے بچے کا بھی نہیں سوچا،کیسے پلے گی وہ ننھی سی جان۔” فوزیہ کی ماں نے تاسف سے پوچھا۔
    بچے کے نام پر فوزیہ کے لہجے میں تھوڑی اُداسی اتر آئی۔”بچہ بھی تو اُسی کا ہے اور پھر ہے بھی لڑکا، لڑکے تو پل ہی جاتے ہیں اماں۔”
    ”تو کتنی سنگ دل ہوگئی ہے فوزیہ۔ تجھے اپنے بچے پر ذرا ترس نہیں آرہا۔”ماں نے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔
    ”بالکل ترس آرہا ہے اماں، مگر تو سوچ اس کا باپ کیا چاہتا ہے؟ بات بات پر طلاق دے دیتا ہے۔دوسری شادی کا خیال ہے اس کا، کتنا عرصہ چلتا یہ سلسلہ۔پھر اس نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا کہ وہ مجھے کام کرنے دے گا اب مکر گیا ہے اور اماں سچ بولوں اس نے اپنی ماں کی جھوٹی قسم کھائی تھی جو شخص اپنی ماں کے نام کی جھوٹی قسم کھا لے اس کا کیا اعتبار۔”فوزیہ نے کرسی پر پہلو بدلتے ہوئے ماں کو جواب دیا۔
    ” تو چھوڑ سب باتوں کو ،یہ بتا تو اس وقت کہاں ہے؟ تیرا باپ تجھے لینے آرہا ہے۔”فوزیہ کی ماں نے غصے سے پوچھا۔
    ” اماں بتا دوں گی وقت آنے پر، مگرابھی مت پوچھ۔ ” فوزیہ نے بے پروائی سے کہا۔
    ”کیوں نہ پوچھوں، تو واپس آ بس اسی وقت۔”فوزیہ کی ماں نے اصرار کیا۔
    ” میں نے ابھی واپس بالکل نہیں آنا،تو زبردستی مت کر۔” فوزیہ نے غصے سے جواب دیا۔
    اسی دوران سپاٹ بوائے نے اُسے پکارا۔”مس فوزیہ آپ کا شوٹ ریڈی ہے۔ touching وغیرہ کروالیں۔”
    ”اچھا اماں میں فون بند کررہی ہوں۔ ضروری کام ہے،خدا حافظ۔” فوزیہ نے ماں سے جان چھڑائی۔
    ٭…٭…٭
    شوٹ کروانے کے بعد فوزیہ گوہر کے کمرے میں آگئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی پوٹلی تھیجس میں کچھ زیوراتتھے جو وہ اسے بیچنا چاہتی تھی۔
    ”یہ رکھ لیں۔”فوزیہ نے زیورات گوہر کے آگے رکھتے ہوئے کہا۔
    ” یہ کیا ہے؟”گوہر نے پوٹلی کو کھولتے ہوئے دیکھا۔
    ” مجھے تھوڑے پیسوں کی ضرورت تھی میں نے سوچا انہیں بیچ دوں۔”فوزیہ نے ہچکچاہٹ سے کہا۔
    گوہر نے پوٹلی میں سے زیورات نکال کر دیکھے،پھر انہیں دوبارہ پوٹلی میں بند کر کے اس کی طرف بڑھا دیے۔
    ”تمہیں کتنے پیسوں کی ضرورت ہے؟”اس نے فوزیہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جیسے اُسے جانچا۔
    ”یہی تھوڑے بہت مل جاتے بس، ضرورت پڑ جاتی ہے۔”فوزیہ نے جھجکتے ہوئے کہا۔
    گوہر نے دراز سے پانچ پانچ ہزار کے چند نوٹ نکال کر اس کی جانب بڑھا دیے۔




  • باغی – قسط نمبر ۲ – شاذیہ خان

    آج کافی دن کے بعد فوزیہ عابد کی دکان میں کھڑی چیزیں دیکھ رہی تھی۔اب گاہ بہ گاہ وہ اس کی دکان میں آتی رہتی اور عابد کبھی تحفتاً اسے کوئی نہ کوئی شے دے دیتا۔وہ اپنے ہاتھوں میں کیوٹکس لگا کر چیک کررہی تھی۔ کاؤنٹر کے دوسری جانب عابد بھی کن انکھیوں سے اُسے میگزین کے صفحات پلٹتے دیکھ رہا تھاجس میں ریمپ پر ماڈلز کیٹ واک کرتی نظر آرہی تھیں۔ وہ میگزین کا ایک ایک صفحہ پلٹتی رہی اورپھر اچانک ایک صفحے پر میڈم نور جہاں کی ایک تصویر دیکھ کر رُک گئی۔ اس کی آنکھوں میں بہت سی ننھی ننھی خواہشیں چمکنے لگیں۔عابد اس کی آنکھوں میں چمکتے جگنو دیکھ کر حیران رہ گیا جب فوزیہ نے اس سے کہا۔
    ”ہائے اللہ! میری کتنی بڑی حسرت ہے کہ میں بھی میڈم کی طرح ایک مشہور سنگر بنوں اور ان ماڈلز کی طرح نظر آؤں۔”
    ”تو یہ کیا مشکل ہے ،تو بھی ایساکرسکتی ہے۔” عابد کندھے اُچکاتے ہوئے بولا۔
    ”پر یہاں رہ کر کیسے کرسکتی ہوں؟” فوزیہ نے منہ بناتے ہوئے پوچھا۔
    ”میں کروا سکتا ہوں بلکہ تیری ہر خواہش پوری کرسکتا ہوں۔”عابد نے اسے ایک خواب دکھایا تو اس نے بے ساختہ پوچھا۔
    ”تو قسم کھا کہ تو سچ کہہ رہا ہے؟”اپنی اتنی بڑی خواہش پورا ہونے کا خواب کتنا دلکش تھا۔ بے ساختہ اس نے عابد سے قسم کھانے کا کہا ساتھ ہی ہاتھ بھی پکڑ لیا،وہ جذباتی ہوگئی تھی۔
    ”تیری قسم یہ کون سی مشکل بات ہے۔” عابد نے پیار بھرے لہجے میں کہا۔
    فوزیہ نے ایک دم اُس کا ہاتھ پکڑ تولیا تھا لیکن احساس ہوتے ہی فوراً چھوڑ بھی دیا۔
    ”تو مجھے یہ سارے کپڑے لے کر دے گا؟ سچ کہہ رہا ہے نا، مجھے گانا بھی سکھائے گا اور میں ٹی وی پر بھی آؤں گی۔”کچھ توقف کے بعد اس نے آنکھوں میں جگنو بھر کے پوچھا۔
    ”بالکل سچ، میں تیرے دل کی ہر خواہش پوری کروں گا۔ بس تو ایک بار میرے گھر آجا۔” عابد نے مسکراتے ہوئے اسے یقین دلایا۔
    ”تو پھر بھیج نہ اپنی ماں کو میرے گھر۔”تھوڑا رک کر شرماتے ہوئے بولی۔
    ”اماں سے بات تو کی ہے میں نے،وہ جلد ہی تیرے گھر آتی ہیں مگر دیکھ تو نے مکرنا نہیں۔” عابد نے تھوڑا سوچ کر کہا۔
    ”نہیں مکرتی تیری قسم۔” فوزیہ نے آنکھوں میں خوشی کے ڈھیر سارے دیے بھر کر کہا اور پھر سامنے رکھے میگزین کے صفحات محویت سے دیکھنے لگی۔
    ”دوچار دوسرے میگزین بھی ہیں،لے جا تجھے پسند ہیں نا، بلکہ یہ بھی لے جا۔” عابد نے کاؤنٹر کے نیچے سے میگزین اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
    ”واقعی لے جاؤں؟”فوزیہ نے خوش ہو کر پوچھا۔
    ”لے جا،تجھ سے اچھے ہیں کیا؟” یہ کہتے ہوئے سارے میگزین ایک شاپر میں ڈال کر اسے پکڑا دیے، فوزیہ جلدی سے میگزین دوپٹے کے پلو میں چھپاتی دکان سے نکل گئی۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ نے سب کے سونے کے بعدچپ چاپ اپنی چارپائی کی چادر کے نیچے چھپائے میگزین نکالے اور نیم درازہو کرفیشن میگزین کے صفحے اُلٹنے لگی۔اچانک ایک خوب صورت کم عمر ماڈل گرل کی تصویر دیکھ کر وہ رک گئی جو بغیر آستینوں کی ایک چھوٹی سی شرٹ پہنے مُسکرا رہی تھی۔ فوزیہ اس تصویر پر انگلیاں پھیرنے لگی اور خود کو اس ماڈل کی جگہ محسوس کررہی تھی کہ اچانک عقب سے اُس کی بہن نازیہ اُس کے سر پر آکھڑی ہوئی۔اس نے آدھے کپڑوں میں ملبوس ماڈل کی تصویر دیکھ کر زور سے چیخ ماری اورمنہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے پھٹی پھٹی آنکھوں سے میگزین کو دیکھنے لگی۔
    ”شرم کر فوزیہ!یہ تو کہاں سے لائی ہے؟” فوزیہ نے اُٹھ کر دروازہ بند کیااور منہ پر انگلی رکھ کر نازیہ کو چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
    ”آہستہ بول، ایسا کیا ہے اس میں جو تیری آنکھیں پھیل رہی ہیں؟”فوزیہ نے سرگوشی میں بہن کو ڈانٹا۔
    ”ہائے اللہ!ذرا شرم ہے تجھ کو؟ کیسی کیسی تصویریں دیکھ رہی ہے۔” نازیہ نے آنکھیں پھاڑ کر میگزین کی تصویر کی طرف اشارہ کیا۔
    فوزیہ نے میگزین کے صفحات پلٹتے ہوئے بہن کو دکھائے اور پوچھا۔
    ”اس میں شرم کی کیا بات ہے بھلا؟ دیکھ تو کتنے خوب صورت کپڑے پہنے ہوئے ہیں، تو ان کی کمر دیکھ کیسی پتلی ہے چیتے کی طرح۔”
    ”انہیں شرم نہیں آتی پوری دنیا میں اپنی کمر اور جسم کی نمائش کرتے۔” نازیہ منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔
    ”تو یہ سب باتیں چھوڑ باجی،ان کے جسم دیکھ۔کتنی ورزش کرتی ہیں خوب صورت نظر آنے کے لیے۔ خود کو اور مجھے دیکھ، اتنا خوب صورت ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں ہے ہمارے پاس۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہم خود ڈھل جاتے ہیں، تو اپنی طرف دیکھ کتنی خوب صورت تھی۔ تیرے میاں اور بچوں نے چند سالوں میں خون چوس کے رکھ دیا تیرا۔اپنی عمر سے کئی گنا بڑی نظر آرہی ہے تو۔”
    ”ہاں فوزیہ تو ٹھیک کہہ رہی ہے۔ شادی کے بعد کیا ملا مجھے، گالیاں، ٹھوکریں اور دھتکار۔” یہ کہتے ہوئے نازیہ کی آنکھوں میں نمی بھر آئی۔
    ” تو اپنے لیے سوچ باجی۔ صرف اپنے لیے، اگر تو آج اپنے لیے نہیں سوچے گی تو کوئی تیرے بارے میں نہیں سوچے گا۔”فوزیہ نے اسے حوصلہ دیا۔
    ”مگر یہ کیسے ہو سکتا ہے فوزیہ؟سب لوگ کتنا برا بھلا کہتے ہیں ایسی ماڈلز کو…”نازیہ نے میگزین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
    ”کہنے دے، ان سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تجھ پر بھی نہیں پڑے گا۔” فوزیہ کسی زمانہ شناس کی طرح بولتی گئی۔ ”اپنی زندگی جی باجی، اپنی زندگی۔ کوئی کسی کو خوش نہیں دیکھ سکتا، ہمیں خود کو خوش رکھنا چاہیے۔ اس کمینے پر تیرے رونے یا غم زدہ رہنے سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا، لیکن اگر تو خوش رہے گی، تو وہ جل جل کر مر جائے گا۔”
    ”کہہ تو تو صحیح رہی ہے فوزیہ۔”نازیہ اُس کے فلسفے سے کچھ کچھ قائل ہورہی تھی۔
    فوزیہ پھر اُسے کسی دانش مند کی طرح سمجھانے لگی۔
    ”باجی تو مجھ سے وعدہ کر اپنے آپ پر محنت کرے گی، خود کو سجا سنوار کر رکھے گی،تیرا میاں نہ تیرے قدموں میں آکر گرے، تو میرا نام بدل دینا۔”
    ”توبہ توبہ کیسی باتیں کررہی ہے تو۔” نازیہ نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا۔
    ”لو اس میں توبہ کی کیا بات ہے۔ میرا میاں ایسا ہوتا تو کب کی چھوڑ کر آجاتی میں۔تو تو خود مار کھاتی ہے شوق ہے تجھے بہت۔جب تک وہ تجھے پھینٹی نہ لگائے، دھکے دے کر گھر سے نہ نکالے تیری روٹی ہضم نہیں ہوتی۔” فوزیہ نے منہ بناتے ہوئے اسے جھاڑا۔
    ”کیا کروں مجبوری ہے فوزیہ۔” نازیہ منہ لٹکا کر بولی۔
    ”ایسی مجبوری پر لعنت بھیج، چھوڑ دے اُسے۔” فوزیہ نے حقارت سے کہا۔
    ”تو میرے بچوں کا کیا ہوگا؟”نازیہ نے بے بسی سے پوچھا۔
    ”پل جائیں گے بچے بھی، تو بس ایک بار سوچ اپنے لیے۔” فوزیہ نے اس کا حوصلہ بڑھایا۔
    نازیہ اس کی باتیں سن کر خلامیں گھورنے لگی۔اسے فوزیہ کی باتوں کے بعد خود سے ہمدردی ہونے لگی تھی۔وہ اپنے بارے میں سوچ رہی تھی لیکن یہ صرف سوچ تھی وہ ہمت کہاں سے لاتی جو فوزیہ کے پاس تھی۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ کی ماں صحن میں بیٹھی برتن دھو رہی تھی کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ اس نے اُٹھ کر دروازہ کھولاتو سامنے عابد کی ماں کھڑی تھی۔سلام دُعاکے بعد وہ اندر آگئی۔فوزیہ کی ماں نے چارپائی بچھائی تو اس نے تنقیدی نظروں سے گھر کا جائزہ لیا۔ فوزیہ کی ماں نے اسے چارپائی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔عابد کی ماں نے اِدھر اُدھر حقارت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بُرا سا منہ بنا کرکہا۔
    ”وہ سامنے والی کاسمیٹکس کی دکان میرے بیٹے عابد کی ہے۔ کچھ مہینے ہوئے دبئی سے آیا ہے، میرا بڑا بیٹا بھی دبئی میں ہی ہوتا ہے۔”
    ”ہاں جی میں جانتی ہوں لیکن…” فوزیہ کی ماں اس کی بات سن کر تذبذب کا شکار ہوگئی۔
    ”یہ میں اس لیے بتا رہی ہوں کہ میرے بیٹے نے مجھے تمہارے گھرتیری بیٹی کے رشتے کے لیے بھیجا ہے۔” فوزیہ کی ماں نے پاس کھڑی منی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھایا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھاپھر حیرت سے پوچھا۔
    ”میری بیٹی کے رشتے کے لیے؟ مگر یہ تو ابھی بہت چھوٹی ہے ۔”
    عابد کی ماں نے حیرانی سے مُنی کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ”اس کا نام فوزیہ ہے؟”
    ”فوزیہ کی تو بات پکی ہوگئی ہے، پورے محلے میں مٹھائی بانٹی تھی۔” فوزیہ کی ماں نے حیرت سے کہا۔
    ”لیکن میرا بیٹا چاہتا ہے کہ…” عابد کی ماں نے مزید کچھ کہنے کی کوشش کی مگر فوزیہ کی ماں نے اسے وہیں روک دیا۔
    ”بس بہن تم جانتی ہو زبان دینا کیا ہوتا ہے، زبان دی ہے ہم نے۔ پہلے بات کرتی تو میں خوش نصیبی سمجھتی لیکن اب تو ہم شادی کی تیاریاں کررہے ہیں۔”
    ”تو بہن اس شادی کے لیے پہلے بیٹی کو تو راضی کر لے، وہ میرے بیٹے کو کہہ رہی ہے کہ رشتہ بھیجو۔ اسی کے کہنے پر تو میں اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر آئی ہوں۔”عابد کی ماں نے تپے ہوئے لہجے میں کہا۔
    ”کیا کہہ رہی ہو تم، تمہیں شرم نہیں آرہی میری بیٹی کا نام لیتے ہوئے؟” یہ کہتے ہوئے وہ غصے سے کھڑی ہو گئی۔
    ”شرم تو اپنی بیٹی کو دلاؤ جو غیرمردوں پرڈورے ڈالتی پھرتی ہے۔” عابد کی ماں نے الٹا اسے شرم دلائی اور کھڑی ہو گئی،پھر دروازے کی جانب جاتے ہوئے کہا۔ ”کس کس کا منہ توڑو گی، پورا محلہ باتیں بنائے گا ابھی تو…”
    فوزیہ کی ماں نے ہاتھ اُٹھا کرلڑتے ہوئے کہا۔ ”جاجا،دیکھا ہے میں نے۔”
    عابد کی ماں بڑ بڑاتی، بکتی جھکتی دروازے سے باہر نکل گئی۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ کی ماں رحیم کے کمرے میں رحیم سے بات کر رہی تھی کہ فوزیہ کے کان میں اپنا نام پڑا تو وہ دروازے پر ہی رک کر دونوں کی باتیں سننے لگی۔
    ”دیکھ رحیم جتنی جلدی ہوسکے بہن کو گھر سے رخصت کردے، اس سے پہلے کہ کوئی بڑا فتنہ کھڑا ہوجائے۔”فوزیہ کی ماں بیٹے سے بہت پریشانی سے کہہ رہی تھی۔
    ”میں بھی یہی کہہ رہا ہوں اماں، آ تو رہے ہیں وہ رسم کرنے، ہم تاریخ طے کردیتے ہیں۔” رحیم نے کہا۔
    فوزیہ کی ماں کے چہرے پر پریشانی عیاں تھی۔وہ اس سے بھی زیادہ تیزی سے بولی۔
    ”بس تو کہہ دے ان سے کہ جلد از جلد ڈولی اٹھوا کر لے جائیں، پتا نہیں کہاں کہاں سے رشتے آرہے ہیں اس کے لیے۔” ماں نے کہا۔
    ”میں نے اسما سے بات کی ہے،وہ کہے گی اپنی ماں سے تو فکر نہ کر۔میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ وہ جلد از جلد اپنے گھر رخصت ہو جائے۔” رحیم نے ماں کو تسلی دیتے ہوئے جواب دیا اورکمرے سے نکل گیا۔فوزیہ دروازے کے پیچھے ہوگئی اور بھائی کے جاتے ہی کمرے میں گھس گئی۔
    ”اماں یہ جوتو کررہی ہے،یہ ٹھیک نہیں ہے۔”فوزیہ نے غصے سے لال پیلاہوتے ہوئے ماں سے کہا۔
    ”اور تو جو کررہی ہے وہ ٹھیک ہے؟ کس لفنگے سے تیری دوستی ہے جو اس نے اپنا رشتہ بھیجا ہے۔ تجھے معلوم نہیں کہ تیری بات طے ہوگئی ہے بے شرم۔ جان سے مار دوں گی۔”ماں نے اس کی بات سن کر چوٹی پکڑ کر جھٹکا دیا۔
    فوزیہ نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا اور بے خوفی سے جواب دیا۔
    ”تو کر لے جو کرنا ہے اماں، میں بھی وہ کروں گی جو چاہوں گی۔ میں اُس لفنگے سے شادی نہیں کروں گی، بتا دیا میں نے۔”
    ”یہ تو اپنے باپ کو بتا جا کر۔”ماں نے جھٹکا دے کر اس کی چوٹی چھوڑتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں ہاں بتا دوں گی، کر لوں گی ابا سے بھی بات، لیکن یہ جو تو بھائی اور بھابی کے ساتھ مل کر سازشیں کررہی ہے ان سے باز آجا۔”فوزیہ نے کہا۔
    ” اری مردود! تجھے یہ سازشیں لگ رہی ہیں۔ تیرا بیڑا غرق ہو۔” ماں غصے سے بولی۔
    ”دیتی رہو بددعائیں۔ اماں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، میں نے جو کرنا ہے کرکے رہوں گی،روتی رہنا۔ ” فوزیہ منہ بنا کر ماں کو باتیں سنا کرکمرے سے نکل گئی۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ مُنی کا ہاتھ تھامے ایک پگ ڈنڈی سے تیز تیز گزر رہی تھی کہ اچانک ساجد نے اپنا نیا رکشہ اس کے پاس لا کرروکا۔وہ گڑبڑا کرایک دم پیچھے ہٹی ۔ نہ ہٹتی تو رکشے سے ٹکر ضرور ہوجاتی۔ اسے بہت غصہ آیا۔ اس نے ساجد کو دیکھا جو اپنی خبیثانہ مسکراہٹ کے ساتھ فوزیہ کو دیکھ کر سوچ رہا تھا۔ ساجد نے دل ہی دل میں کہاآج دل کی بات کرکے رہوں گا، گھر جاتا ہوں تو لفٹ ہی نہیں کراتی سالی، کمرے میں گھس جاتی ہے۔
    ”نظر نہیں آتا تجھے؟”فوزیہ اُسے دیکھ کرغصے سے بولی ۔
    ”تیرے سوا اب کچھ نظر نہیں آتا فوزیہ۔کبھی ہم سے بھی بات کرلیا کر، گھر میں تو موقع ہی نہیں ملتا۔ تیرا ہونے والا شوہر ہوں، چل کہیں باہر چلتے ہیں۔”
    فوزیہ نے انگلی اُٹھا کر غصے سے گھورتے ہوئے کہا ۔
    ”تیرا دماغ تو ٹھیک ہے، اپنی اوقات میں رہ۔”
    ”کیوں، کیا ہوا میری اوقات تو وہی ہے، لگتا ہے تو اپنی اوقات بھول گئی ہے۔” ساجد نے طنزیہ انداز میں جواب دیا۔
    فوزیہ پہلے تو اس کی بات سن کر کھڑی رہی کہ کیا جواب دے پھر ہاتھ ہلاتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔
    ”میں راستے میں بھونکنے والے کتوں کو پتھر نہیں مارتی بولتا رہ۔مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ”
    ساجد نے یہ سن کررکشے سے چھلانگ لگائی اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔وہ تیزی سے پلٹی،ایک نظر اپنے ہاتھ پر اور دوسری اس کے چہرے پر ڈالی اور بپھری ہوئی شیرنی کی طرح زور دار تھپڑ ساجد کے منہ پر دے مارا۔
    ”میں نے صحیح کہا تھا نا تو اپنی اوقات بھول گیا ہے۔ فوزیہ بتول نام ہے میرا، ایسی ویسی نہ سمجھنا۔ گاؤں میں مٹھائی بانٹ دینے سے یہ نہ سمجھنا کہ میں تیری بیوی بن گئی ہوں اور تو زبردستی کرسکتا ہے۔” یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گئی اور ساجد ہکا بکا اس کی شکل دیکھتا رہ گیا۔
    اس کا ایک ہاتھ ابھی تک اپنے گال پر تھا۔
    ”دیکھ لوں گا فوزیہ بتول تجھے بھی، ایک بار تو گھر تو آ، ساری اڑیاں نکال دوں گا تیری، بہت ناز ہے نہ تجھے اپنے حسن پر۔تو نے تھپڑ میرے منہ پر نہیں اپنے مستقبل پر مارا ہے یاد رکھنا۔” ساجد بُڑبُڑایا۔
    ٭…٭…٭
    مُنی بھاگی بھاگی کمرے میں آئی اور سوئی ہوئی فوزیہ کو جھنجھوڑنے لگی، پھر گھبرائی ہوئی آواز میں چیخ کربولی۔
    ”باجی اُٹھ جا، باجی اُٹھ جا۔” فوزیہ ہڑ بڑا کر آنکھیں ملتی ہوئی اُٹھ بیٹھی۔
    ”اللہ خیر مُنی کیا ہوگیا؟”
    ”ابھی اماں اور ابا کی باتیں سن کر آئی ہوں۔”منی نے گھبرائی ہوئی آواز میں کہا۔” باجی! اماں کہہ رہی تھیں کہ اس جمعے کو تیری رسم نہیں بلکہ نکاح ہوگا۔” فوزیہ مُنی کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کھڑی ہوگئی۔اس کے چہرے پر منی کی بات سن کر شدید کرب ابھر آیا اوروہ سوچنے لگی ماں تو بہت پچھتائے گی ،سچی بہت پچھتائے گی۔فوزیہ سے جھگڑا مول لیا ہے تو نے،اپنی بیٹی سے! اب بھگتتی رہنا۔
    ٭…٭…٭
    امام بخش گھر داخل ہوااورہینڈپمپ چلا کر پانی نکالنے لگا،پھرمنہ ہاتھ دھو کر چارپائی پر بیٹھ گیا۔فوزیہ نے کھانے کی ٹرے چار پائی پر رکھی اور خودبھی ایک کونے پر ٹک گئی۔
    ”تیری ماں کہاں ہے؟”امام بخش نے اپنے سر پر بندھے رومال سے منہ پونچھا اور فوزیہ سے پوچھا۔
    ”وہ چودھری صاحب کی حویلی گئی ہے۔ انہوں نے بلایا تھا، کوئی کام تھا اُن کو۔” فوزیہ نے پانی کاگلاس ٹرے میں رکھتے ہوئے جواب دیا۔
    امام بخش نے بسم اللہ پڑھ کر نوالہ منہ میں رکھا ۔ فوزیہ نے حوصلہ جمع کرکے باپ سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔
    ”ابا تجھ سے ایک بات کرنی تھی۔”
    امام بخش جلدی جلدی نوالے منہ میں رکھتے ہوئے بولا۔”ہاں بول؟ آج بڑی بھوک لگی ہے۔صُبح سے اب روٹی نصیب ہوئی ہے۔”
    ”ابا میں نے اس لفنگے سے شادی نہیں کرنی،تو بس مجھے پڑھنے دے۔ میں اپنا خرچہ خود اٹھا لوں گی، تو فکر نہ کر۔”فوزیہ نے ہمت کر کے کہا۔
    امام بخش نے کھانا چھوڑ کر اُس کی بات سنی ،پھر غصے سے جواب دیا۔
    ”او بس کر دے،تیرے بعد ایک بوجھ اور باقی ہے مجھ پر،یہ ختم ہوگا تو وہ اتاروں گا۔”
    ”ابا میں تجھ پر بوجھ نہیں، میں پراندے وغیرہ بنا کر اپنا خرچہ خود اُٹھا لیتی ہوں، میں وعدہ کرتی ہوں تجھے کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔” فوزیہ نے گڑگڑا کر کہا۔
    امام بخش نے ہاتھ میں پکڑا نوالہ دوبارہ پلیٹ میں رکھا اورغصے سے بولا۔
    ”اب توہمیں اپنی کمائی کا طعنہ بھی دینے لگی ہے۔ ویسے ہی سب مجھے نازیہ کی وجہ سے طعنے دیتے ہیں، وہ بھی تیری بے وقوفیوں کی وجہ سے بھاگ بھاگ کر گھر بیٹھ جاتی ہے۔”
    ”ابا اس کے شوہر نے اسے نکالا ہے، وہ خود بھاگ کر نہیں آئی۔”فوزیہ تن کربولی۔





    ” تو بھڑکاتی ہے اسے اس کے میاں کے خلاف، تو وہ بولتی ہے نا۔آخر مرد کب تک برداشت کرے۔” امام بخش چارپائی سے کھڑا ہوگیا اور منہ میں پانی ڈال کر کلی کی۔
    فوزیہ باپ کے سامنے تن کر کھڑی ہوگئی۔ ”ابا تو بات کہاں سے کہاں لے جارہا ہے۔ میں تجھ سے اپنی بات کررہی ہوں اور تو نازیہ…”
    امام بخش نے نہایت غصے سے اسے جھڑک دیا۔
    ” نازیہ کو تو نے خراب کیا ہے۔ تیری باتوں سے پورے خاندان بلکہ گاؤں میں میرا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ توجتنی جلد اپنے گھر کی ہو جائے بہتر ہے۔”
    فوزیہ حیرت سے نگاہیں پھاڑ کر جیسے اُسے دھچکا لگا ہو۔
    ”میں نے ایسا کیا کردیا کہ تیرا سر شرم سے جھک گیا ابا؟”
    ”بس چھوڑ دے ساری باتیں، میں اب زیادہ دیر تجھے گھر نہیں بٹھا سکتا۔”
    ”ابا تو جانتا ہے وہ کیسا ہے؟” فوزیہ نے دکھی انداز میں کہا۔
    ”ہاں ہاں سب ٹھیک ہو جاتے ہیں شادی کے بعد، چل جا اندر مجھ سے کوئی بات نہ کر۔” امام بخش نے غصے سے کہا۔
    ”ابا تو ایک بار…”فوزیہ نے زچ ہو کر کہا اور پاؤں پٹختی ہوئی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ عابد کی دکان پر گئی جہاں وہ اپنے کام میں مصروف تھا۔ اُسے دیکھ کر بھی عابد کام میں مصروف رہا۔اسے ایک نظر اُٹھا کر بھی نہیں دیکھا جیسے جتا رہا ہو کہ وہ اُس سے ناراض ہے۔ فوزیہ نے اس کی آنکھوں کے آگے ہاتھ ہلایاجیسے اسے منانا چاہ رہی ہو۔
    ”ناراض ہے مجھ سے؟”
    ”ناراض تو نہیں بس تیری وجہ سے روز اماں سے باتیں سنتا ہوں۔” عابدنے منہ بناتے ہوئے جواب دیا۔
    ”اچھا چھوڑ سب باتیں، تو حل بتا اب کرنا کیا ہے؟ وقت بہت کم ہے ہمارے پاس۔” فوزیہ صلح کے انداز میں بولی۔
    ”تو اپنے ماں باپ کو راضی کر، اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔”عابدنے اُسے سمجھایا۔
    ”اور اگر وہ راضی نہ ہوئے تو کیا میرے ساتھ بھاگ کر شادی کرے گا؟”
    عابد نے حیرانی سے اس کی بات سنی۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا جواب دے۔
    ایک لمحے کے لیے عابد فوزیہ کی دیدہ دلیری پر حیران رہ گیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دے۔ وہ تذبذب کا شکار تھا۔ آخر اس کے منہ سے یہی نکلا۔
    ”بھاگ کر؟”
    ” کیا سوچ رہا ہے؟ بس اتنی سی بات پر تیرا دم نکل گیا؟ویسے تو بڑی محبت جتاتا تھا۔” فوزیہ نے اسے شرم دلائی۔
    ”میں تیار ہوں، بالکل تیار ہوں پر ایک بار تو کوشش تو کر انہیں منانے کی،شاید وہ مان جائیں۔”عابد ایک دم جوش میں آگیا۔
    ”میں نے ساری کوششیں کر لی ہیں پاگلا، وہ نہیں مانتے۔اسی لیے تجھے کہہ رہی ہوں۔تو راضی ہے تو بھاگ چلتے ہیں۔”فوزیہ نے اس کی بات پر مایوسی سے کہا۔
    ”دیکھ شادی تو میں نے تجھ سے ہی کرنی ہے،لیکن تو کوشش کر گھر والے مان جائیں۔”عابد نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔وہ دراصل تھوڑا سیدھا راستہ نکالنا چاہتا تھا تا کہ بات خراب نہ ہو۔
    فوزیہ نے بڑے غور سے اس کا چہرہ دیکھا جیسے کچھ ٹٹول رہی ہو۔
    ”اچھا چل میں تیرے کہنے پر آخری کوشش کر لیتی ہوں۔اماں کو بتا دیتی ہوں کہ میں نے عابد سے شادی کرنی ہے۔اگر وہ مان گئی تو ٹھیک ورنہ…”
    ”ہاں انہیں سیدھا سیدھا بتا تیری خواہش پر میری ماں تیرے گھر آئی تھی،اب وہ بھی ہاں کر دیں۔”عابد نے اسے رستہ دکھایا۔وہ جانتا تھا کہ فوزیہ کی ماں کبھی راضی نہیں ہوگی لیکن ایک کوشش کر کے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں تھا۔
    ”چل دیکھتی ہوں، تیری خاطر یہ بھی کر لیتی ہوں،مگر مجھے امید نہیں ہے کہ وہ مانے گی۔” فوزیہ قدرے مایوسی سے بولی اور پھیکی سی مسکراہٹ سے عابد کی طرف دیکھاجو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
    ٭…٭…٭





    گھر میں اس کی شادی کی تیاریاں شروع ہوگئی تھیں۔سب ہی خوش تھے صحن میں منی ڈھولکی بجاتے ہوئے نور جہاں کا گانا بھی گا رہی تھی۔جب فوزیہ گھر میں داخل ہوئی تو منی گلا پھاڑ کر بے سُری آواز میں”ماہی آوے گا میں پُھلاں نال دھرتی سجانواں گی”گانے کی کوشش کر رہی تھی۔
    ”او بس کردے منی، گلا مت پھاڑ۔پہلے ہی سر میں بہت درد ہے۔”فوزیہ نے اسے ڈانٹ کر کہا۔
    ”باجی تیری شادی کی خوشی میں ساتھ والی سے ڈھولکی مانگ کر لائی ہوں،آ جا مل کر بجاتے ہیں۔” منی نے ڈانٹ کا برا مانے بغیر فوزیہ کو بھی دعوت دی۔
    ”بکواس بند کر میرے سر میں درد ہورہا ہے۔ ”فوزیہ نے غصے سے اسے دیکھا اور بولی۔
    ابھی فوزیہ کی بات ختم ہی ہوئی تھی کہ اماں کمرے میں داخل ہو گئی اور آتے ہی اس پر چڑھ دوڑی۔
    ”تو یہ بتا کہ کہاں گئی تھی؟ آدھے گھنٹے کا کہہ کر دو گھنٹے لگا کر آئی ہے۔تیری بھابی بھی پوچھ رہی تھی۔”
    ”وہ کون ہوتی ہے پوچھنے والی؟” فوزیہ تلملاتے ہوئے بولی۔
    ”بس کر دے اپنی بکواس،اب تو اس کے بھائی کے گھر جانے والی ہے۔”ماں نے اسے زور سے ڈانٹا۔
    ”ابھی گئی تو نہیں نا، جب جاؤں گی تب رعب ڈال مجھ پر۔رعب میں تو میں اپنے باپ کے بھی نہیں آتی۔”فوزیہ نے منہ بسورتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا۔
    ”سدھر جا فوزیہ ورنہ سر پکڑ کر روئے گی۔” ماں نے اسے سمجھایا۔
    ”فوزیہ کمرے میں جاتے ہوئے رکی اور طنزیہ انداز میں ماں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”بس تو بددعائیں دیتی رہنا،سر پکڑ کر روئیں میرے دشمن۔”
    ” ہاںہاں بددعادے مجھے فوزیہ،منہ بھرکے بددعا دے۔توکب سے اپنادشمن سمجھ رہی ہے مجھے؟”ماں روہانسی ہو کر بولی۔
    ”جب سے تو نے دشمنوں والے ہتھیار استعمال کیے ہیں۔”فوزیہ نے چلاتے ہوئے جواب دیا۔
    ” اچھا بابا معاف کر دے مجھے،مت لڑ اب،چل جا اندر۔”ماں نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے۔
    ”تو ہمیشہ مجھے ہی چپ کروایا کر اماں۔میں چپ ہو گئی نا تو اسی طرح منہ سے کچھ بلوانے کے لیے ہاتھ جوڑے گی۔”فوزیہ نے کہا۔
    ”تو چپ تو کر کے دکھا تب مانوں گی،توتو ابھی بھی مسلسل منہ چلا رہی ہے۔”ماں نے بھی اسی کے لہجے میں جواب دیا۔
    ”ٹھیک ہے پھر،آج سے فوزیہ بتول چپ ہے،کچھ نہیں بولے گی،حتیٰ کہ تو نکاح کے لیے بھی بلوا کر دیکھ۔مولوی کے سامنے انکار کروں گی۔” فوزیہ نے نہایت غصے سے دھمکی دیتے ہوئے کہا۔
    ”اللہ تیرا بیڑا غرق کرے فوزیہ، تجھے کسی کی آئی آ جائے،تو مر جائے۔ماں باپ کی عزت کا جنازہ نکالنے والی کا جنازہ اٹھے۔”ماں نے منہ پر دوپٹا ڈال کر اسے کوسنے دینے شروع کردیئے۔
    ”ہاں ہاں دو بددعائیں، دل بھر کر دو۔میرے مرنے پر ترسو گی میری شکل کو۔”فوزیہ نے منہ بناتے ہوئے ماں کو دیکھا اور دھمکی دیتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی۔
    ٭…٭…٭





    آج ساجد بہت خوش تھا کیوں کہ اس کے دل کی مراد پوری ہورہی تھی پورے گاؤں کے لڑکوں میں اس کی دھاک بیٹھ گئی تھی کہ گاؤں کی سب سے خوب صورت لڑکی سے اس کی شادی ہورہی تھی۔وہ دلہا بن کر بارات لے کر فوزیہ کے گھر آیا تھا۔صحن میں خوب چہل پہل تھی۔فوزیہ کے گھر والے اسے سادگی سے رخصت کرنا چاہتے تھے۔ رحیم نے ادھار لے کر کھانے کا انتظام کیا تھا کیوں کہ اُسے اپنی سسرال میں اپنی دھاک بھی بٹھانی تھی،خالی خولی بہن تو نہیں بھیج سکتا تھا۔ عورتوں والے حصے میں ساجد کی ماں بڑے طمطراق سے بیٹھی تھی۔اس کے انداز میں بھی بڑا غرور تھا جسے فوزیہ کے گھر والے بھی محسوس کررہے تھے۔ اسما بھی خوش خوش اِدھر اُدھر انتظامات میں مصروف تھی کہ کچھ بھی ہو بھائی کی دلی خواہش تو پوری ہوگئی۔
    ”مولوی صاحب آ گئے۔”اتنے میں کسی نے آواز لگائی تو باراتیوں اور گھر والوں میں بھگدڑ مچ گئی۔
    ایک مولوی صاحب ہاتھ میں نکاح رجسٹر تھامے اند رداخل ہوئے۔انہیں خاص اہتمام سے بٹھادیا گیا۔
    ”مولوی صاحب بسم اللہ، نکاح شروع کرو۔” رحیم نے کہا۔
    نکاح شروع کیا گیا لیکن کسی کو نہیں معلوم تھا کہ جس سے نکاح پڑھایا جانا تھا وہ دلہن تو گھر میں موجود ہی نہیں،اور جب پتا چلا تو رحیم کے ساتھ ساتھ ساجد اور دوسرے لوگ باہر کی طرف بھاگے۔گھر میں موجود سب ہی لوگ جانتے تھے کہ وہ سیدھی کہاں گئی ہوگی۔
    ٭…٭…٭
    رحیم،ساجد اور چند دوسرے لوگ عابد کی دکان پر پہنچ گئے۔وہ پہلے ہی اداس اور دُکھی سا بیٹھا کچھ سوچ رہا تھا۔ ان سب کو اندر داخل ہوتے دیکھ کر گڑبڑا گیا۔
    ”او بتا اوئے کہاں ہے میری بہن؟تو نے رشتہ بھیجا تھا نا ہمارے گھر؟” رحیم نے غصّے سے کاؤنٹر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔
    ”مجھے کیا پتا تیری بہن کا۔میں نے تو نہیں بھگایا اسے۔” عابد نے گھبراتے ہوئے جواب دیا۔رحیم نے اس کا گریبان پکڑ لیا اور ساجد نے ایک زوردار تھپڑا مارا۔
    ”اوئے سچ سچ بتا دے ،اس سے پہلے کہ تجھے پولیس کے حوالے کر دیں۔وہ میری منگ ہے،میں تجھے چھوڑوں گا نہیں۔”ساجد نے چلاتے ہوئے اس کا گلا پکڑ لیا۔
    ”اسے پولیس کے حوالے نہ کرو،میں تو کہتا ہوں چودھری صاحب کے پاس لے چلو وہ خود ہی اس سے قبول کر وا لیں گے۔”ایک آدمی نے مشورہ دیتے ہوئے کہا،سب لوگوں نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی اور عابد کو گھسیٹنے لگے۔
    ”اوئے مجھے دکان تو بند کر لینے دو،چلتا ہوں تمہارے ساتھ۔ چودھری صاحب خود فیصلہ کر لیں گے۔”عابد نے گریبان چھڑاتے ہوئے چیخ کر کہا۔
    ساجد نے اُسے ایک اور زوردار تھپڑ مارا اور گھسیٹتے ہوئے بولا۔
    ”بھاڑ میں گئی تیری دکان،ہماری زندگی داؤ پر لگی ہے اور تجھے دکان کی پڑی ہے۔”
    ”اسے چودھری صاحب کے پاس لے چلو فوراً ، وہاں دو تھپڑ پڑیں گے تو یہ خود ہی بول پڑے گا۔”
    رحیم نے عابد کو حقارت سے دیکھتے ہوئے کہا اورمشتعل ہجوم اسے گاؤں کی گلیوں میں گھسیٹتا ہوا چودھری صاحب کی حویلی کی طرف روانہ ہو گیا۔
    چودھری صاحب کی حویلی میں لوگوں کا جم غفیر جمع تھا۔بھانت بھانت کی خلقت میںرنگ برنگی آوازیں آرہی تھیں۔ فوزیہ کا پورا خاندان اور گاؤں کے سارے مرد وہاں موجود تھے۔انہی مردوں میں فوزیہ کا باپ امام بخش بھی شامل تھا۔اس نے چودھری صاحب کے سامنے آکر ہاتھ جوڑے اور گڑگڑاتے ہوئے بولا۔
    ”چودھری صاحب! اس آدمی نے میری بیٹی بھگائی ہے،ہم آپ کے پاس فیصلہ لینے آئے ہیں۔”
    چودھری صاحب نے تحمل سے اس کی بات سنی اور ایک انکشاف کرتے ہوئے کہا۔
    ”اوئے اس نے تیری بیٹی نہیں بھگائی،وہ میرے پاس ہے۔تم اس بچی کے ساتھ زبردستی کیوں کر رہے ہو؟”چودھری نے امام بخش کو ڈانٹا۔اسی دوران فوزیہ بھی چودھری صاحب کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔
    ”سُن!تو بچی کی شادی زبردستی نہیں کر سکتا،اگر وہ نہیں چاہتی تو کیوں زبردستی کر رہا ہے؟”
    امام بخش ہاتھ جوڑتے ہوئے بہت نرمی سے بولا۔





    ”چودھری صاحب! میں غریب آدمی ہوں،اس کے علاوہ ایک اور بیٹی بھی ہے بیاہنے والی، برادری سے رشتہ اچھا تھا تو سوچا رخصت کر دوں،مگر یہ …”اس نے منہ میں آئی گالی کو زبان کے نیچے روکا۔
    ”تجھے پتا ہے ہمارے مذہب میں لڑکی کی مرضی کے بغیر شادی کرنا جرم ہے؟”چودھری اس کا انداز دیکھ کر غصے سے بولا۔
    امام بخش نے فوزیہ کی طرف دیکھ کر کہا۔
    ”چودھری صاحب معافی چاہتا ہوں،اگر اس کی مرضی کا انتظار کروں تو شاید کبھی شادی نہ ہو اور مجھے اس کے بعد ایک اور بیٹی بیاہنی ہے۔”
    فوزیہ نے کچھ کہنا چاہا مگر چودھری صاحب نے اسے ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا اورخودفوزیہ کی جگہ جواب دیا۔
    ”دیکھ امام بخش!بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں اور ان کے دکھ درد بھی سانجھے۔تواپنی اس بیٹی کو تو اب بھول جا،اب یہ ہمارے پاس ہے اور ہماری ذمہ داری ہے۔ اس کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کر سکتا۔”
    چودھری صاحب کی یہ بات سن کر،رحیم نے ساجد کے آنکھ کے اشارے پر آگے بڑھ کر دلیری سے کہا۔
    ”لیکن چودھری صاحب جس کے ساتھ اس کی شادی ہو رہی ہے سارے گاؤں میں اس کی بڑی بدنامی ہوگی۔”
    ”اوئے تو چپ کرزن مرید! تجھے اپنی بہن کی نہیں اپنے سالے کی فکر ہے جس کی بدنامی پورے گاؤں میں مشہورہے ۔”چودھری صاحب نے گرجتے ہوئے اسے ڈانٹا۔
    ”لیکن چودھری صاحب…”امام بخش نے کچھ کہنے کی کوشش کی،چودھری نے ہاتھ اُٹھا کر اس کی بات کاٹ دی۔
    ”لیکن ویکن کچھ نہیں، میں نے کہہ دیا لڑکی نے ہماری حویلی میں پناہ لی ہے۔اس لیے جب تک وہ خود نہیں چاہے گی ہم نہیں بھیج سکتے بلکہ لڑکی بھی موجود ہے تم خود پوچھ لو۔بتا فوزیہ تو کیا چاہتی ہے؟”
    فوزیہ نے منہ سے کچھ بولے بِنا محض نفی میں سر ہلا دیا۔
    امام بخش نے بیٹی کا ردعمل دیکھااور وہ کچھ دیر سوچتا رہا،پھر چودھری صاحب کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہنے لگا۔
    ”چودھری صاحب تسی ساڈے مائی باپ او،تہاڈا فیصلہ ساڈا فیصلہ ہے۔”
    ”لیکن ابا سارا گاؤں کیا کہے گا؟”رحیم اس فیصلے سے راضی نہیں تھا،آگے بڑھ کر باپ سے خفگی سے بولا۔
    امام بخش نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اورجھڑک کر بولا۔
    ”کوئی نہیں ہوتی بدنامی،چودھری صاحب کا فیصلہ ہے یہ اور چودھری صاحب کے آگے گاؤں والے کچھ نہیں کہیں گے،تو گھرچل اب۔”
    فوزیہ نے فاتحانہ انداز میں مسکراتے ہوئے بھائی کو دیکھا اور وہ اسے غصے سے گھورتا ہوا باہر نکل گیا۔اس کے باہر نکلنے کے بعد فوزیہ نے اسی انداز میں ساجد پر نظر ڈالی جس کے چہرے پر بھی ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ اُسے معلوم تھا پورے گاؤں نے اُسے نکو بنادینا ہے۔ وہ اُسے گھورتا ہوا باہر نکل گیا۔
    ٭…٭…٭





    اپنے گھر پہنچ کر اسما ماں سے لپٹ کر زور زور سے رو پڑی،سب گھر والوں کے چہروں پر اداسی اور بے عزتی کے آثار تھے۔ساجد نے ایک غصیلی نظر رحیم پر ڈالی۔اسما روتے روتے بولی۔
    ”اماں! پورے گاؤں میں بدنامی ہوئی ہے ہماری،میرے ویر کی برات لوٹ گئی بغیر دلہن کے۔”
    ”تو بھی واپس نہیں جائے گی اب،تب انہیں پتا چلے گا کہ بے عزتی کیا ہوتی ہے۔”اسما کی ماں غصے سے کھڑی ہوئی اورجواب دیا۔
    اسما رحیم کی طر ف دیکھ کر بلبلائی اور ماں سے کہا۔”لیکن اماں اس میں میرا کیا قصور،میرے بچوں کا کیا قصور،بدلہ لینا ہے تو اس کمینی سے لو جس کی وجہ سے بدنامی ہوئی ہے۔”
    رحیم نے بیوی کی طرف دیکھ کر ہاں میں ہاں ملائی اور ساس سے پوچھا۔
    ”اس میں میرا اور اسما کا کیا قصور؟ تم لوگ رشتہ لائے ہم نے قبول کیا،پھر ماں باپ کو منا لیا،اب وہ کمینی بھاگ گئی تو ہم کیوں بھگتیں؟”
    ساجد نے خاموشی سے ساری بات سنی اور غصے سے اپنے بہنوئی کو ڈانٹا۔
    ”تو چپ رہ،تجھ سے ایک بہن قابو نہ ہوسکی۔تو جانتا تھا کہ وہ کیسی ہے،اس نے بتا بھی دیا تھا کہ وہ گھر سے بھاگ جائے گی،تو نے اس پر پابندی کیوں نہ لگائی؟نظر کیوں نہ رکھی؟ ”





    ”تو تو اس بات کا بدلہ اپنی بہن سے لے گا؟حالاں کہ ہم دونوں کا اس میں کوئی قصور نہیں۔” رحیم نے پریشانی سے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنی بات کی وضاحت کی۔ساجد نے غصّے سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
    اسما نے بھائی کے غصے کو دیکھا تو ساجد کے پاس جا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو اس نے اسما کا ہاتھ بھی جھٹک دیا۔وہ انتہائی غصے میں تھا لیکن اسما نے بھی ہمت نہ ہاری اور کہنے لگی۔
    ”تجھے اپنی بے عزتی کا بدلہ لینا ہے تو فوزیہ سے لے،بس یہ سوچ کہ وہ واپس آئے گی تو کیا کرے گا؟”
    ساجد چارپائی پر بیٹھ گیا اور بولا۔
    ”او رہن دے تو اپنے مشورے،دیکھ لیا میں نے تجھے۔بھائی کی خاطر اپنا گھر نہیں چھوڑ سکتی؟”
    ”غصہ نہ کر،میں تیری خاطر جان بھی دے سکتی ہوں،مگر تو ذرا عقل استعمال کر۔جس کی وجہ سے ہم سب اذیت میں ہیں اسے کوئی سزا دے۔میرے گھر بیٹھنے سے اس کی خوشی ہوگی پاگل کہ اس کی راہ کا روڑا ہٹ گیا۔”اسما اسے سمجھاتے ہوئے بولی۔
    اسما کی بات سن کر اس کی ماں نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔”کہہ تو ٹھیک رہی ہے،اس طرح تو اس کے دل کو ٹھنڈ پر جائے گی۔”
    ”وہ گھر آجائے تو پھر دیکھنا میں اس کا کیا حال کرتا ہوں،سب دیکھیں گے۔بے غیرت، بے شرم نے ہم سب کے سر جھکا دیے۔” رحیم فوزیہ کا ذکر کرتے ہوئے آگ بگولا ہوا، اس کی آنکھوں میں نفرت کی چنگاریاں چمک رہی تھیں۔
    ”ہاں میں جانتا ہوں کہ تو کتنا مرد ہے،پہلے تو سنبھالی نہیں گئی اور اب باتیں بنا رہا ہے۔خیر توکچھ نہ کر،میں خود ہی دیکھ لوں گا۔”ساجد نے رحیم کی مردانگی پر چوٹ پر کرتے ہوئے کہا اور کندھے پر پڑا رومال جھاڑ کر باہر نکل گیا۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ چودھری صاحب کے گھر بہت خوش تھی۔دن بھر چودھرانی اور ان کی بہو کے کام کرتی اور چودھری صاحب کے آنے کے بعد ان کے لیے چائے وغیرہ کی ذمہ داری بھی اس نے اٹھالی تھی۔ وہ دل سے دونوں کی قدر کرتی تھی اور جانتی تھی کہ اگر ان دونوں نے اس کا ساتھ نہ دیا ہوتا تو وہ اس وقت ساجد کی بیوی بن کر اس کی باتیں سن رہی ہوتی۔ کبھی کبھی اسے اماں اور ابا خاص طور پر منا یاد آتا لیکن اس نے دل سخت کرلیا تھا کہ اگر انہیں فکر نہیں میری تو میں کیوں کروں۔
    ایک دن فوزیہ حویلی کے صحن میں بیٹھی تھی کہ چودھرانی وہاں آئی اور اپنے چند پرانے جوڑے اس کے آگے رکھتے ہوئے کہا۔
    ”یہ لے،انہیں صحیح کر کے پہن لینا۔پتا نہیں تجھے کب تک یہاں رہنا ہے۔”




  • پراڈکٹ – نظیر فاطمہ

    سبزی منڈی کے ایک جانب گلی سڑی سبزیوں کے ڈھیر تھے، جن پر مکھیاں اور مچھر بھنبھنا رہے تھے ۔ ارد گرد ناقابلِ برداشت بد بو پھیلی ہوئی تھی ۔ ہلکی سی ہوا چلتی تو بدبو کے یہ بھبھکے اس کے ساتھ لپٹ کر دور دور تک چلے جاتے اور لوگوں کو ناک پر ہاتھ رکھنے پر مجبور کر دیتے ۔ گندے مندے حلیے والے پانچ سات بچّے ان ڈھیر وں میں سے قدرے کم گلی سڑی سبزیاں اکٹھی کر کے اپنی بوریوں میں ڈال رہے تھے۔یہ گلی سڑی سبزیاں ان کا پیٹ بھرنے کا وسیلہ تھیں ۔ بھوک شاید سب سے بڑی بیماری ہے یا پھر غریب سب سے ڈھیٹ مخلوق ۔۔۔تبھی تو یہ گلی سڑی سبزیاں، گندا پانی اور باسی کھانا ان لوگوں کا کچھ نہیں بگاڑ پاتے۔ جب کہ لوگ گلی سڑی سبزیوں کے ان ڈھیروں کے پاس سے گزرنے سے بھی پرہیز کرتے تھے۔





    ایک سیاہ چمچمائی لینڈ کروزران ڈھیروں کے قریب آ کر رکی ۔ گاڑی اتنی چمک دار تھی کہ سیاہ رنگ ہونے کے باوجود اس میں آئینے کی طرح ہر چیز کا عکس دیکھا جاسکتا تھا۔ گاڑی سے ایک شخص اُترا۔اُس کے چہرے پر صحت مندی اور آسودگی کی چمک تھی۔گلے میں نئے ماڈل کا مہنگا ترین کیمرہ لٹک رہا تھا۔ ایک ہاتھ میں بڑا سا شاپر تھا۔ پیروں میں امپورٹڈ جاگرز جو اپنی قیمت کا چیخ چیخ کر اعلان کر رہے تھے ۔مہنگی جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس اس شخص نے گویا آسمان سے سیدھا زمین پر پائوں رکھا تھاجس پر زمین کی کسی مشکل یا گندگی کا ذرا برابر اثر نہیں ہوا تھا۔بدبو کا تیز بھبھکا اس کے نتھنوں سے ٹکرایا۔ اس بدبو کو بڑی مشکلوں سے برداشت کر کے وہ آگے بڑھا۔وہ کوڑے کے ڈھیروں کے قریب پہنچا تو وہاں گلی سڑی سبزیاں چنتے بچّے اپنی بوریاںچھوڑ کر اُٹھ کھڑے ہوئے اور حیرت سے اُسے دیکھنے لگے۔قریب تھا کہ وہ بچّے اپنی بوریاں اُٹھا کر بھاگ جاتے، اُس شخص نے پیش بندی کی۔
    ”ارے، ارے، بچّو! کہاں جا رہے ہو؟ ٹھہرو شاباش! یہ دیکھو میں تمہارے لیے کیا لایا ہوں؟” اُس نے ایک پھولا سا شاپر اُن کے سامنے لہرایا جسے دیکھ کر بچّے وہیں ٹھہر گئے ۔
    ” اوئے کچھ کھانے والا ہو گا۔ رک جاتے ہیں۔” وہ بچّے جن کے چہروں سے بھوک لپٹی ہوئی تھی ، آپس میں کھسر پھسر کرنے لگے۔
    ” اس میں تم لوگوں کے لیے کھانے پینے کی بہت سی چیزیں ہیں، کھائو گے؟” اُن کے ٹھہرنے پر اُس شخص نے اُنھیں جیسے لالچ دیا۔بچّے شرم اور جھجھک کے مارے ایک دوسرے سے لپٹ گئے اور اپنے پیلے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے ہاں میں سر ہلانے لگے۔
    ” پہلے تم لوگوں کو میرا ایک کام کرنا ہو گا۔بولو کرو گے؟”کھانے کی چیزوں کے لالچ میں بچّے سب کچھ کرنے کو راضی تھے۔
    ”شاباش! ٹھیک ہے۔ پہلے میں تم لوگوں کی کچھ تصویریں اُتاروں گا ۔ پھر یہ ساری چیزیں میں تم لوگوں میں بانٹ دوں گا۔ چلو اب میں جیسے تمہیں کہتا ہوں ویسے کرتے جائو شاباش۔” اُس نے اپنا کیمرہ ہاتھوں میں پکڑ کر سیٹ کرنا شروع کیا۔
    ” چلو تم سب اپنی اپنی بوریاں پکڑ کر اس ڈھیر سے سبزیاں تلاش کرو۔”
    بچّے جھٹ پٹ اپنا کام کرنے لگے، یہ ان کا روز کا کام تھا۔ وہ شخص ہر ہر زاویے سے انہیں فوکس کرنے لگا ۔کوئی دس بارہ تصویریں اُس نے گروپ میں اُتاریں۔ ہر تصویر اُتارتے وقت اُس نے بچّوں کو مختلف ہدایات دی تھیں۔
    ”اب تم یہ گلا ہوا ٹماٹر اس طرح منہ میں ڈالو۔” اُس نے ایک لڑکے کو ہدایت دی۔
    وہ بچّے تو گلی سڑی سبزیاں کچی کھا جانے میں ماہر تھے۔ اُس نے بالکل اُسی طرح وہ ٹماٹر منہ میں ڈالا جس طرح اُسے ہدایت کی گئی تھی۔
    ”گڈ۔” اُس شخص نے حسبِ منشا نتائج ملنے پر خوش ہو کر بچّے کو سراہا۔
    پھر اُس نے ہر بچّے کو انفرادی طور پر ہدایات دے کر فوکس کیا ۔ہر تصویر کو دیکھنے کے بعد وہ شخص جیسے خوشی سے جھوم رہا تھا۔ اُس کا جوش اُس کے چہرے سے چھلک رہا تھا۔ تقریبا ً ایک گھنٹے کی محنت کے بعد اُس شخص نے اپنا کام مکمل کیا، کیمرہ بند کیا اور بڑا شاپر کھول کر اس میں سے چھوٹے چھوٹے شاپر نکالے ۔ ہر شاپر میں دو دو چکن پیٹیزاورجوس کا ایک ایک چھوٹا ڈبہ تھا۔
    ” آئو ، یہ لو ” اُس نے ایک ایک شاپر ہربچّے کو دیا۔
    اس کے بعد اس نے اپنی جیب سے والٹ نکالا اور ہر بچّے کو سو سو روپے کا نوٹ دیا۔ وہ ایک گھنٹے سے یہاں تصویریں اُتار رہا تھا ۔ اُس کو دیکھ کر کئی لوگ وہاں جمع ہو گئے تھے۔ وہ سب دم سادھے اُس شخص کی فیاضی ملاحظہ کر رہے تھے، جو کوڑا کرکٹ چن کر اپنا رزق تلاش کرنے والے بچّوں پر اتنا مہربان ہو رہا تھا۔
    ” اچھا بچّو! اللہ حافظ” وہ پلٹ کر اپنی گاڑی کی طرف جانے لگا تو ایک ادھیر عمر شخص نے اُسے پکارا:
    ”صاب! یہ سب تو غریب بچّے ہیں، ان سے اتنی محبت کیوں؟”اُس نے پلٹ کر سوال کرنے والے کو دیکھا۔
    ”یہ بچّے میرے لیے بہت قیمتی ہیں۔” اُس نے مسکرا کر سامنے دیکھا جہاں وہ بچّے کھانے کے ساتھ نبرد آزما تھے ۔ پھر اُس نے اطمینان بھری گہری سانس کھینچی اور گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے گاڑی بھگائی اور گاڑی کے پہیوں سے سے اُڑنے والی دھول نے چند لمحوں کے لیے سارے منظر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
    ٭…٭…٭





    پیرس میں فوٹو گرافی کے عالمی مقابلے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس مقابلے میں پوری دنیا کے مشہور فوٹو گرافرزنے حصّہ لیا تھا ۔پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے فوٹو گرافر کو لاکھوں ڈالر انعام دیا جاناتھا ۔ ہال لوگوں سے بھرا ہوا تھا اور تھوڑی دیر میں مقابلے کے نتائج کا اعلان ہونے والا تھا۔ نمائش میں حصہ لینے والے تمام فوٹو گرافرز یہاں موجود تھے۔سب کی کھینچی گئی تصاویر ہال کی دیواروں پر آویزاں تھیں۔ مقابلے کا عنوان تھا ”ٹاکنگ فوٹو گرافس”۔ مقابلے کے نتائج کا اعلان شروع ہوا ۔ تیسری اور دوسری پوزیشن کا اعلان ہونے لگا۔ان پوزیشن ہولڈر زکی بڑی اسکرین پر دکھائی جانے والی تصویریں واقعی بولتی ہوئی تھیں۔ تالیوں کا شور تھما تو سب دل تھام کر پہلی پوزیشن کے اعلان کا انتظار کرنے لگے۔
    ”پہلی پوزیشن جاتی ہے عالم گیر جیلانی کو۔”
    انگریزی زبان میں اعلان ہو رہا تھا اور ساتھ ہی بڑی اسکرین پر عالم گیر جیلانی کی کھینچی گئی تصاویر ایک ایک کر کے دکھائی جا رہی تھیں۔کوڑے سے کھانے پینے کی چیزیں چنتے ہوئے بچّے،وہ گلی سڑی سبزیاں کھاتے ہوئے ننگ دھڑنگ بچّے جو جانور بھی سونگھنے کے بعد چھوڑ کر چلے جاتے تھے ۔ عالمگیر جیلانی کی تصاویر”ٹاکنگ فوٹو گرافس’ ‘نہیں بلکہ ”شائوٹنگ فوٹو گرافس” تھیں جوغربت، بھوک، محرومی اور حسرت کا چیخ چیخ اعلان کر رہی تھیں۔
    عالم گیر جیلانی نے تالیوں کی گونج میں دو لاکھ ڈالر کا چیک فخر سے مسکراتے ہوئے وصول کیا۔ دو ہزار کی سرمایہ کاری کر کے اُس نے دو لاکھ ڈالر کمائے تھے۔ آرٹسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بڑا کاروباری ذہن رکھتا تھا اور ایک کاروباری شخص کے لیے اس کی پراڈکٹ سب سے قیمتی ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کی کامیابی کا انحصار اُس کی پراڈکٹ پر ہوتا ہے۔ غربت اور کسمپرسی کا چلتا پھرتا اشتہار یہ بچّے عالم گیر کے لیے بہت قیمتی تھے، کیوں کہ وہ اس کی پراڈکٹ تھے۔