Tag: rhymes

  • آؤ کھانا کھائیں

    آؤ کھانا کھائیں

    آؤ کھانا کھائیں
    نظیر فاطمہ

    آؤ بچو! کھانا کھائیں
    مل کر دسترخوان بچھائیں
    اپنے ہاتھوں کو دھولیں
    شروع میں بسم اللہ پڑھ لیں
    پلیٹ میں تھوڑا سالن لیں
    اور نوالے چھوٹے لیں
    دائیں ہاتھ سے کھائیں کھانا
    ہر لقمے کو خوب چبانا
    چپکے چپکے کھائیں سب
    برتن کو چمکائیں سب
    کھا کر، رب کا شکر کریں
    کلی کریں اور ہاتھ دھوئیں
    ٭…٭…٭

  • چلتا جا تُو الف نگر میں!

    چلتا جا تُو الف نگر میں!

    چلتا جا تُو الف نگر میں!
    ضیاء اللہ محسن

    چاند چکوری ہوتا بھیّا

    تارے ہوتے گول
    سورج چاچو لمبے ہوتے

    کھمبے گول مٹول
    چُوں چُوں چڑیا چارہ کھاتی

    ٹھک ٹھک بجتا ڈھول
    کہاں ہے ممکن؟ کیسے ممکن؟

    پیارے بھیّا بول
    چلتا جا تُو الف نگر کے بند دروازے کھول
    بول بول تُو من کی باتیں بول
    ہر ایک چیز سہانی ہے

    کیا دلچسپ کہانی ہے
    شانی، مانی بچے ہیں

    اور بچوں کی نانی ہے
    عینک والا اُلّو ہے

    توتلا تیتر تانی ہے
    جگ مگ جَو جَو جگنو بھیّا

    ثمر کی گڑیا ثانی ہے
    بی بی بطخو بڑی سیانی، بات کرے انمول
    بول بول تُو من کی باتیں بول

  • کریلا

    کریلا

    الف نگر مقابلہ کی چوتھی بہترین نظم

    کریلا
    ناہید حیات

    میں ہوں سبزی، نام کریلا
    جو بھی کھائے کرے واویلا

    کڑوا ہوں اور نیم چڑھا بھی
    کچھ کچھ چھوٹا اور بڑا بھی

    امی جب بھی مجھے پکائیں
    سارے بچے منہ بنائیں

    ابّو مجھ کو شوق سے کھائیں
    ہر ہفتے سالن بنوائیں

    دادا کی فرمائش ہوں میں
    دادی کی بھی خواہش ہوں میں

    ہر اک کو میں نہیں ہوں بھاتا
    کوئی کوئی مجھے ہے کھاتا

    ٭…٭…٭

  • بلّی اور پرندہ

    بلّی اور پرندہ

    بلّی اور پرندہ
    عبدالمجید سالک

    سنا ہے کسی گھر میں تھی ایک بلّی
    وہ چوہوں کو کھا کھا کے تنگ آگئی تھی
    اسے صبح شام ایک کھانا نہ بھاتا
    بھلا صبر اک چیز پر کیوں کر آتا؟
    بس اک روز بلّی نے یہ دل میں ٹھانا
    کہ ڈھونڈوں گی اب میں نیا کوئی کھانا
    چڑھی ایک کوٹھے پہ یہ سوچ کر وہ
    لگی جھانکنے پھر اِدھر اور اُدھر وہ
    نظر اک طرف جب اُٹھائی تو دیکھا
    کہ ہے ایک لڑکے کا چھوٹا سا کمرہ
    دریچے میں ننّھا سا پنجرا ٹنگا ہے
    اور اُس میں پرندہ کوئی خوش نما ہے
    پرندہ وہ پنجرے میں جب چہچہایا
    وہیں منہ میں بلّی کے پانی بھر آیا
    اُٹھی اور دبے پاؤں کمرے کو چل دی
    قدم کو اُٹھاتی چلی جلدی جلدی
    جو دیکھا کہ کمرے میں لڑکا نہیں ہے
    اور اُس کے پرندے کا پنجرا وہیں ہے
    غضب ناک ہو کر وہ پنجرے پہ جھپٹی
    وہ گویا کہ بپھری ہوئی شیرنی تھی
    پڑا ہاتھ بلّی کا پنجرے کے در پر
    زمیں پر گری اُس کی زنجیر کھل کر
    نہ پھولی سمائی جو بلّی نے دیکھا
    کہ اب تو ہے قبضے میں میرے پرندہ

    ابھی باہر اِس کو پکڑ لاؤں گی میں
    ابھی پھاڑ کر اِس کو کھا جاؤں گی میں
    پرندے نے دیکھا کہ آئی ہے آفت
    نہیں آج کچھ جان بچنے کی صورت
    اچانک جو در کو کُھلا اُس نے دیکھا
    وہ پھر سے اُڑا اور پنجرے سے نکلا
    وہ جنگل کی جانب اُڑا گیت گاتا
    چہکتا گیا اور تانیں اُڑاتا
    وہ بلّی ہوئی غرق شرمندگی میں
    یہ پہلی شکست اُس کی تھی زندگی میں
    یہ دھوکا جو کھایا پریشان تھی وہ
    پرندے کے اُڑنے سے حیران تھی وہ
    وہ کہتی تھی اک بے حقیقت پرندہ
    مجھے حیف! اِس طرح دے جائے دھوکا
    نتیجہ یہ ہے اِس کا اے پھول بچّو!
    پرندے سے عقل اور دانائی سیکھو
    کہ کام آتی ہے وقت پر عقل مندی
    نہ جانے دو ہاتھوں سے موقع کو تم بھی
    ٭…٭…٭