Tag: quarantine diaries

  • اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں ۔ احمد فراز ۔ شاعری

    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں ۔ احمد فراز ۔ شاعری

    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں ۔ احمد فراز



    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
    جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

    ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
    یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

    غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو
    نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

    تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
    دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں

    آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر
    کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں

    اب نہ وہ میں نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فرازؔ
    جیسے دو شخص تمنا کے سرابوں میں ملیں

  • قرنطینہ ڈائری – چوتھا دن

    قرنطینہ ڈائری

    سارہ قیوم

    چوتھا دن: جمعہ 27 مارچ 2020

    ڈیئر ڈائری!

    کل کھوئے جانے (اور پھر پائے جانے) کے تجربے نے ہمیں کچھ نڈر سا کر دیا اور آج واک کے لئے نکلتے ہوئے دل کو یہ تسلی تھی کہ اس سوسائٹی میں ہم مثل خورشید رہتے ہیں، ادھر نکلے ادھر ڈوبے ،ادھر ڈوبے ادھر نکلے۔ یعنی جب تک سوسائٹی کے اندر ہیں کھوئے جانے کا ڈر نہیں۔ جہاں بھی چلے جائیں گے ،آخر کو پہنچیں گے اپنی گلی میں ہم ۔ چنانچہ آج بھی ماسک چڑھایا اور اللہ کا نام لے کر گیٹ سے باہر قدم رکھا۔ باہر نکلتے ہی ایسی خنک ہوا نے استقبال کیا کہ جھرجھری آگئی۔ آج صبح سے بارش ہوتی رہی تھی اور سردی جاتے جاتے ایک بار پھر لوٹ آئی تھی۔ ارادہ کیا کہ واپس آتے ہی کمبل ،جو پیک کر دیا گیا تھا، واپس نکالوں گی کیوں کہ مجھے سردی زیادہ لگتی ہے اور اس ٹھنڈ میں کمبل کے بغیر نیند نہ آئے گی۔ خنک موسم میں نرم گرم کمبل میں دبک کر سونے کے خیال سے دل کو بڑی مسرت ہوئی۔

    کل چوں کہ پارک کی طرف گئی تھی اور گم گئی تھی لہٰذا آج دوسری طرف کا راستہ اختیار کیا۔ فریدہ آنٹی کے گھر کے سامنے سے گزری جنہوں نے اپنے گھر کے ساتھ والے خالی پلاٹ میں کچن گارڈن بنا رکھا ہے اور جہاں سے مونگرے اور میتھی جیسی نعمتیں وہ وقتاً فوقتاً ہمیں بھیجتی رہتی ہیں۔ کچھ دیر کھڑے ہو کر میں ان کے باغ کو دیکھتی رہی۔ مونگرے کے پودوں پر سفید پھول آنے لگے تھے۔ سلاد کے پتوں کے گٹھے بارش میں نکھرے یوں لگ رہے تھے جیسے ہرے طوطے اپنے پَرپھیلائے بیٹھے ہوں۔ ان کے ساتھ دھنیے کی کیاری تھی اور اس سے ذرا آگے ایک پودے پر ننھی منی بھنڈیاں لگی تھیں۔ بھنڈیاں ارے واہ! بھنڈیوں کو دیکھنے ہی یوں لگا جیسے کسی نے گرمی کے موسم کی آمد کا نقارہ بجا دیا ہو۔ پلک جھپکتے میں گرما کی نعمتیں میری آنکھوں کے سامنے آکھڑی ہوئیں۔ وہ آموں کے ٹوکرے، وہ فالسے کا شربت، وہ میٹھے تربوز، آڑو، آلو بخارے، چٹپٹی بھنڈیاں، میٹھی لسی، وہ گرم دوپہر میں لمبی تان کے سونا، وہ فجر کا سہانا سماں۔ فبای الا ربکما تکذبانِ ۔ میں نے پیچھے مڑ کے اپنے گھر کو دیکھا جس کی ایک الماری میں میرا وہ نرم گرم کمبل پڑا تھا جسے میں گھر واپس آکر نکالنے والی تھی اور میں نے اپنے سامنے اس باغ کو دیکھا جس میں گرمی کی سبزیاں پھل پھول رہی تھیں۔ مجھے یونانی دیو مالا کا دیوتا جونوس یاد آیا جس کے دوسر تھے۔ ایک ماضی کو دیکھتا تھا، دوسرا مستقبل کو ۔ اسی وجہ سے سال کے پہلے مہینے جنوری کا نام اس کے نام پر رکھا گیا۔ یعنی اسے وہ مہینہ اور وقت قرار دیا گیا جو گزرے سال اور آنے والے سال کو جوڑتا ہے اور دونوں کے درمیان ایک رابطہ ہے۔ فریدہ آنٹی کے باغ کے سامنے کھڑے میں بھی وقت کے اسی پل میں کھڑی تھی جس میں بیک وقت ماضی سے لوٹ آنے والی مسرت کا ایک لمحہ تھا اور مستقبل کی نعمتوں کی نوید تھی۔ تو ڈیئر ڈائری! آج میں شکر گزار ہوں وقت کے اس میزان کی جو گزری اور آنے والی نعمتیں اپنے پلڑوں میں سجائے ساکت اور برابر قائم ہے اور میں شکرگزار ہوں اس موقع کی کہ میں ہاتھ بڑھا کر دونوں پلڑوں کی نعمتیں اٹھا سکتی ہوں۔

    کِن مِن بوندیں پڑنے لگی تھیں۔ میں نے جلدی سے قدم بڑھائے اور تیز قدموں سے چل پڑی۔ بوندیں اتنی ہلکی تھیں کہ چند قدم چلنے کے بعد کہیں ایک پھوار سی چہرے پر محسوس ہوتی تھی۔ اگر میں تیز چلوں تو دو کلومیٹر تو کر ہی سکتی ہوں۔ سڑکیں سنسان تھیں۔ نہ آدم نہ آدم ذاد۔ میں گرین بیلٹ کے ساتھ چلتی گئی۔ سوسائٹی کی عقبی دیوار تک پہنچتے پہنچتے گرین بیلٹ اتنی چوڑی ہو جاتی ہے کہ باقاعدہ ایک میدان بن جاتا ہے۔ میرا سب سے چھوٹا بیٹا ابراہیم یہاں فٹ بال کھیلنے آیا کرتا تھا۔ تب یہاں بے حد رونق ہوتی تھی۔ لوگ چہل قدمی کر رہے ہوتے تھے، مائیں چھوٹے بچوں کو پرام میں لے کر گھوم رہی ہوتی تھیں۔ ایک جگہ کرسیوں پر چند معمر حضرات کی محفل جمی ہوتی تھی جو وقفے وقفے سے فٹ بال کھیلنے والے پرجوش، پسینے میں بھیگے بچوں کو بلا کر پانی پلایا کرتے تھے۔ آج یہاں سناٹا تھا۔ اگر تھی تو بس فطرت کی آواز۔ وہ آواز جسے سننے کے لیے دل کو کان ہونا پڑتا ہے۔

           فطرت کا ساز بھی کیا ساز ہے

           بج رہا ہے اوربے آواز ہے

    راستے میں ایک گھر کے باہر اتنے بڑے گلاب لگے نظر آئے کہ میں ٹھٹک کر رک گئی۔ خون کے رنگ کے سرخ گلاب سائز میں چھوٹی پلیٹ کے برابر تھے۔ کمال ہے فطرت کی صناعی بھی۔ چلتے چلتے ایک گلی میں پھولوں سے لدی بیل نظر آئی اور میں غڑاپ سے اس گلی میں گھس گئی۔ ارے آج ہم نڈر ہیں، کل کی طرح تھوڑی کہ ”پھرتے ہیں میرخوار کوئی پوچھتا نہیں۔“ بس ناک کی سیدھ میں چلتے جائیں گے اور کسی نہ کسی ایسے جانے پہچانے رستے پر جا نکلیں گے جو ہمارے گھر کو جاتا ہو گا۔

    گھر آئی تو اندر کمرے میں سے ابراہیم کی آواز آرہی تھی۔ وہ سمبا سے باتیں کر رہا تھا۔ میں باہر لاﺅنج میں کھڑے ہو کر سننے لگی۔

    ”عقل کیا کرو سمبا۔“ ابراہیم نے تلقین کی۔

    ”میاﺅں۔“ سمبا نے جواب دیا۔

    ”نہ نہ باہر نہیں جانا۔“ ابراہیم نے سمجھایا۔ ”باہر کرونا پھر رہا ہے۔ چھوٹے بچوں کو اٹھا کر لے جاتا ہے۔ اگر تمہیں کرونا ہو گیا تو تمہیں پولیس والے پکڑ کر لے جائیں گے اور کوارنٹین میں بند کر دیں گے۔ پھرہم کیا کریں گے؟“

    ”میاﺅں میاﺅں۔“ سمبا نے کہا۔

    ”میاﺅں میاﺅں کیا؟“ ابراہیم نے پوچھا۔ ”دیکھو سمبا اگر وہ تمہیں لے گئے تو ہم تو کوئی نئی بلی ڈھونڈ لیں گے اور اسے پال لیں گے۔ لیکن تم کیا کرو گے؟ تمہیں اور کون اتنا پیار کرے گا؟“

    اے میرے رب! ہم بھی تیرے سامنے سمبا کی طرح ہیں۔ عاجز، بے پرواہ اور نالائق۔ اپنے اچھے برے سے اور اپنے انجام سے بے خبر۔ ہمیں اپنی پناہ میں رکھ، ہمیں ہمارے نفس کے اور شیطان کے حوالے نہ کر۔ تجھے تو پالنے کے لئے اور شفقت کرنے کے لئے بہت سی مخلوق مل جائے گی مگر ہمارا تو تیرے علاوہ اور کوئی رب نہیں۔ تو ہم سے بے نیاز ہو گیا تو ہم کہاں جائیں گے؟ اے روزی دینے والے، گناہگاروں کی پردہ پوشی کرنے والے، عذاب سے ڈرنے والوں کو امن دینے والے اور اے بیماروں کو شفا دینے والے، اس بیمار انسانیت سے اس وبا کو ٹال دے۔ اے ستر ماﺅں سے زیادہ محبت کرنے والے، ہمیں اپنی آغوش محبت میںلے لے۔ آمین یا رب العالمین۔

    ٭….٭….٭

  • قرنطینہ ڈائری ۔ تیسرا دن

    قرنطینہ ڈائری ۔ تیسرا دن

    قرنطینہ ڈائری

    تیسرا دن: جمعرات 26 مارچ 2020

    ڈیئر ڈائری!

    رات خواب میں مرزا غالب کو دیکھا۔ کیا دیکھتی ہوں کہ ایک مشاعرہ ہے۔ قافیہ ہے رات، بات اور ردیف ہے ”یاخدا“۔ مرزا غالب میرے بائیں جانب بیٹھے ہیں، ہاتھ میں پرچہ ہے جس پر غزل لکھی ہے۔ میں اشتیاق سے ان کے پرچے کو پڑھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ اس پر غالب کے شایانِ شان کوئی شعر لکھا ہے۔ مرزا مجھے اپنی غزل پڑھتا پا کر ابرو اچکاتے ہیں اور گردن بڑھا کر میرے ہاتھ میں پکڑا پرچہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میری نظر اپنے کاغذ پر پڑتی ہے اور وہاں اس قسم کا ایک شعر لکھا ہے۔

              ہو گئی ہے ان سے ملاقات یا خدا

             کبھی خواب میں نہ سوچی تھی یہ بات یا خدا

    یا خدا! میں گھبرا کر اپنا کاغذ غالب سے چھپانے کی کوشش کرتی ہوں اور اس گھبراہٹ میں میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ خدا کا شکر کہ یہ خواب تھا اور میں اس شعر کے غالب کی نظروں میں آنے کی بے عزتی سے بچ گئی۔ ویسے دیکھا جائے تو نکما ہی سہی لیکن یہ شعر میرے خواب کی صورتحال پر بڑا فِٹ بیٹھتا ہے۔ خواب میں ہو رہی ہے غالب سے ملاقات ےاخدا، کبھی خواب میں بھی نہ سوچی تھی یہ بات یا خدا۔

    اخبار اٹھانے باہر نکلی تو دیکھا کہ لان میں مالی چہرے پر ماسک چڑھائے مشین سے گھاس کاٹ رہا ہے اور ہمارا پالتو بلا سمبا دروازے کے آگے بیٹھا بڑی بے نیازی سے اسے دیکھ رہا ہے۔ مجھے وہ وقت یاد آیا جب سمبا نیا نیا ہمارے گھر آیا تھا۔ میں اپنی ایک دوست سے اسے جب لے کر آئی تھی تو وہ دو مہینے کا تھا اور ایک ہتھیلی میں سما جاتا تھا۔ گھر لاتے ہی سمبا لان کی ایک جھاڑی میں جا چھپا اور ہمارے لاکھ پچکارنے بلانے پر بھی باہر نہ نکلا۔ جب ہم اسے باہر نکالنے کی کوشش میں ناکام ہو کر تھک ہار کر اندر آنے لگے تو عین اس وقت مالی اپنی مشین لے کر آگیا اور گھاس کاٹنا شروع کر دی۔ سمبا نے جو یہ ہیبت ناک آواز سنی تو اس کے اوسان خطا ہو گئے۔ اچھل کر نکلا اور تیر کی سی تیزی سے بھاگتا ہوا گیٹ سے باہر نکل گیا۔ میں اور بچے گھبرا کر اس کے پیچھے بھاگے۔ آخر آدھے گھنٹے کی کوششوں کے بعد کہیں سمبا صاحب ہاتھ لگے اور انہیں پکڑ کر گھر لایا گیا جہاں آتے ہی وہ دوبارہ جھاڑی میں جا چھپے۔ یہ معمول تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہا تاوقتیکہ سمبا ہم سے مانوس نہ ہو گیا اور گھر کے اندر آنے جانے لگا اور ہمارے ہاتھ سے کھانا کھانے لگا۔ یوں ہم نے اور سمبا نے ایک دوسرے کو دل سے اپنا لیا۔

     کبھی کبھی میں سوچتی ہوں دنیا کی ہر کہانی محبت کی کہانی ہے۔ ہر جذبہ، ہر الفت، ہر دوستی، ہر احسان حتیٰ کہ ہر نفرت کے ڈانڈے بھی کہیں نہ کہیں کسی محبت سے جا ملتے ہیں۔ اور محبت کی دو قسمیں ہوتی ہیں، اول کسی رشتے یا غرض کی محبت اور دوم بے غرض محبت۔ سمبا ہم سے اس لیے مانوس ہے کہ ہم اس کے قیام و طعام کا بندوبست کرتے ہیں۔ لیکن ہم سمبا سے کیوں محبت کرتے ہیں، یہ آج تک سمجھ نہ آیا۔ جب میں ننھے سمبا کو گھر لے کر آئی تھی تو میرے میاں صاحب بہت ناخوش ہوئے تھے۔ انہیں بلی کے بالوں سے بچوں کو الرجی ہو جانے کا ڈر تھا اور سمبا کو لانے کی اجازت انہوں نے اس شرط پر دی تھی کہ وہ گھر کے اندر نہیں لایا جائے گا۔ یوں ہم نے سمبا کو پورچ میں ایک ٹوکری میں رکھ لیا۔ شروع شروع میں مجھے سمبا سے لاڈ پیار کرتے دیکھ کر وہ بہت جز بز ہوتے اور چوں کہ خود کبھی کوئی جانور نہ پالا تھا اس لیے میری محبت کو سمجھ نہ پاتے۔ پھر یوں ہوا کہ آہستہ آہستہ سمبا نے ان کے دل میں جگہ بنانا شروع کی۔ پہلے اس کے لیے خوبصورت سا گھر آیا، پھر اس کے لیے چن کر بہترین کیٹ فوڈ بھی وہ خود لانے لگے۔ پھر سمبا ان کے ساتھ واک پر جانے لگا جہاں وہ اس کو دوسرے بڑے بلوں سے یوں بچاتے جیسے کوئی باپ اپنے بچے کو بڑے لڑکوں سے بچاتا ہے۔ اب یہ عالم ہے کہ سمبا ڈرائنگ روم میں صوفے پر سوتا ہے اور ہمارے فونز میں گھر والوں سے زیادہ سمبا کی تصویریں ہیں۔ ہم سمبا پر یوں جان کیوں چھڑکتے ہیں ہم میں سے کوئی نہیں جانتا۔ نہ وہ گھر کی رکھوالی کرتا ہے، نہ اسے کوئی کرتب آتے ہیں اور نہ ہی وہ ہمارے ساتھ کسی قسم کا کوئی کھیل کھیلتا ہے۔ اس کا واحد کام کھانا اور سونا ہے، لیکن ہمارے دل اس کی محبت سے لبریز ہیں۔ کیوں؟ کیوں کہ انسان کے دل کی سب سے بڑی ضرورت، خواہش اور غذا محبت ہے اور جب کوئی معصوم، بے غرض اور بے اختیار محبت دل میں گھر کر لیتی ہے تو انسان پر اپنے دل کی وسعت کے نئے راز افشا ہوتے ہیں اور اسے ادراک ہوتا ہے کہ اس وسیع دل کے لیے معاف کرنا، درگزر کرنا، رحم کرنا اور بلاتفریق محبت کرنا کتنا آسان ہو گیا ہے۔ تو ڈیئر ڈائری آج میں اس بے غرض محبت کے لیے شکرگزار ہوں جو اللہ نے میرے دل کو بخشی ہے اور اس دراک کے لیے شکر گزار ہوں جو میں نے اپنے دل کے بارے میں پایا ہے اور میں ان تمام راستوں کے لیے ممنون ہوں جو اس محبت نے میری روح کے لیے کھولے ہیں۔

    آج پھر موسم بہت سہانا تھا۔ سنا ہے ملتان میں خوب اولے پڑے ہیں۔ اتنے حسین موسم میں مجھ سے رہا نہ گیا اور تقریباً ایک ہفتے بعد میں واک کے لیے نکل کھڑی ہوئی۔ جاگرز پہنے، دستانے پہنے، ماسک لگایا اور اللہ کا نام لے کر گیٹ سے باہر قدم رکھا۔ ہماری کالونی gated communityہے اور یہاں صرف وہی لوگ آتے ہیں جو یہاں رہتے ہیں یا یہاں رہنے والوں کے مہمان ہیں۔ لہٰذا عام حالات میں بھی ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے لیکن آج تو یوں لگتا تھا جیسے میں سلیپنگ بیوٹی کے شہر میں آنکلی ہوں۔ اکادکا چند بزرگ حضرات ماسک لگائے چہل قدمی کر رہے تھے۔ میں تیز قدموں سے چلتی پارک تک گئی تو اس کے چھوٹے سے گیٹ کو تالا لگا پایا۔ حسرت سے پارک میں لگے پھولوں کو دیکھا اور سڑک پرواک کے ارادے سے چل پڑی۔ سڑک صاف اور خالی تھی۔ ہوا خوشگوار تھی اور خاموشی میں فطرت کا ساز بجتا تھا۔ یہ وہ ساز ہے جو انسانوں کی آوازوں کے ہوتے سننے میں نہیں آتا۔ ہوا کے چلنے کی موہوم سی آواز، ہوا سے پتوں کا یوں ہلنا گویا اپنی خوشی میں سرمست تالیاں بجاتے ہوں اور چڑیوں کا چہچہانا۔ ایسی ایسی رنگ برنگی اور خوبصورت چڑیاں نظر آئیں جو پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ ایسی ایسی چہکاریں سننے کو ملیں جن سے کان ناآشنا تھے۔ دیواروں پر چڑھی بیلیں پھولوں سے لدی تھیں۔ ایک مکان کے باہر دیوار کے ساتھ گلاب کے پھولوں کی جھاڑیاں تھیں۔ ہر جھاڑی کے پھولوں کا رنگ جدا تھا۔ میں رک کر ان پھولوں کو دیکھتی رہی۔ سات رنگوں کے پھول میں نے گنے اور ان پر اڑتی تتلیوں کو نہ گن سکی۔ ایک دوسرے گھر کے باہر اس قدر خوبصورت اور انوکھے پھول نظر آئے جو پہلے کبھی نہ دیکھے تھے۔ دل چاہا ماسک اتار کر ان کی خوشبو سونگھوں لیکن پھر ارادہ بدل دیا۔ ذرا یہ کرونا کا ڈبہ گول ہو جائے پھر ہم ہوں گے اور پھول ہوں گے۔ جی بھر کر سونگھنے کا شوق پورا کریں گے۔ ایک گھر کے باہر سے گزری جہاں پورچ میں ڈھیر سارے بچے فٹ بال کھیل رہے تھے ۔بند گیٹ کے پیچھے سے بچوں کی چہکار اور ہنسی کی آوازیں سن کر دل خوش ہو گیا۔ ایک اور گھر میں ایک باپ اپنے بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیل رہا تھا۔ ننھی بٹیا رو رو کر فرما رہی تھیں کہ بھائی کو باﺅلنگ نہیں کرائیں گی کیوں کہ وہ بیٹ سے بال کو مارے گا اور بال روئے گی۔ ان کے ابا انہیں سمجھا رہے تھے لیکن وہ ضد پر اڑی تھیں۔ تھوڑا آگے گئی تو ایک گھر کے بند گیٹ پر ایک بلبل بیٹھی تھی اور خوشی کے گیت الاپتی تھی۔ اس سے ذرا دور ایک لمبی سی سبز دم والی چڑیا بلبل کے گیتوں کا جواب اپنی میٹھی بولی میں دیتی تھی۔

    کسی زمانے میں انگریزی شاعری میں sensous poetry کی اصطلاح بہت مقبول تھی۔ یعنی وہ شاعری جو پڑھنے والے کی senses یعنی حسیات پر اثرانداز ہو۔ اسے لگے کہ وہ جو پڑھ رہا ہے، اسے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، چھو رہا ہے۔ واک کرتے ہوئے مجھے یوں لگتا تھا کہ میں فطرت کی sensousشاعری پڑھ رہی ہوں۔ لذت کام و دہن کا لفظ تو سنا تھا، آج لذتِ حسیات کا احساس ہوا۔ میری آنکھوں نے شوخ رنگوں کے حسین پھولے دیکھے ، میری سماعت نے بچوں کی ہنسی اور چڑیوں کی چہکار سنی اورمیرے چہرے نے لطیف ہوا کے جھونکے محسوس کیے۔ میں فطرت کی اس شاعری میں یوں کھوئی کہ سچ مچ کھو گئی۔ جی ہاں کھو گئی، گم ہو گئی، راستہ بھٹک گئی اور نہ جانے کہاں کی کہاں جا نکلی۔ چلتی جاتی تھی اور اجنبی مکان اور گردوپیش دیکھتی جاتی تھی اور سوچتی تھی کہ ”یہ کہاں آگئے ہم یونہی ساتھ ساتھ چلتے؟“ ویسے گم جانے میں مجھے یدطولیٰ حاصل ہے اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ بغیر گمے میں کسی نئے ایڈریس پر جا پہنچوں۔ بقول میری دوستوں کے ”سارہ تو ٹہلتے ٹہلتے ہی مینارِ پاکستان جا پہنچتی ہے۔“ لیکن یہ تو اپنی ہی سوسائٹی ہے، یہاں گم جانا چہ معنی دارد؟ چھوٹی سی سوسائٹی ہے اور اسکے تقریب©ا© تمام رستے میرے دیکھے بھالے ہیں۔ بےشک میں نئے رستوں پر گم جاتی ہوں لیکن اپنے گھر کے رستوں پر گم جاو¾ں گی ےہ تو میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔کبھی خواب میں نہ سوچی تھی یہ بات یا خدا۔ سوسائٹی کا ایک ہی گیٹ ہے جس پر ناکہ لگا ہے۔ اس لیے یہ تسلی تو تھی کہ وہ گیٹ پار نہیں کیا۔ یعنی ہوں میں سوسائٹی کے اندر ہی۔ لیکن کہاں؟ کس جگہ؟ چلتے چلتے ٹانگیں شل ہو گئیں اور پاﺅں دکھنے لگے۔ میں اندازے سے بڑی سڑک پر نکلی۔ دور سے ایک سڑک نظر آرہی تھی جو بالکل پہچان میں نہ آتی تھی۔ میں اس سڑک کی طرف چلی اور اچانک مین بلیوارڈ پر جا نکلی۔ دیکھا تو وہ دور سے نظر آتی سڑک میرے ہی گھر کی سڑک تھی۔ کونے پر ڈولی آنٹی کا گھر اپنے سولر پینلز کے ساتھ کھڑا تھا اور اس سے ذرا آگے میرا گھر اپنی مہربانی چھت لیے ایستادہ تھا۔ جیسے مسکرا کر مجھے دیکھ رہا ہو اور کہتا ہو۔ ”میں تو یہیں تھا، تم کہاں رہ گئی تھیں؟“

    اے میرے رب! ہم دنیا کی لذتوں میں کھو جاتے ہیں، رستہ بھٹک جاتے ہیں، تیری طرف آنے والی راہ گم کر بیٹھتے ہیں۔ لیکن کہیں بھی جا نکلیں، رہتے تیری بادشاہت ہی میں ہیں۔ تیری عملداری سے نکلنے کی قدرت ہم میں کہاں؟ اور یونہی بھٹکتے بھٹکتے اچانک تیری عظمت، تیرے جلال اور تیری کبریائی کا احساس مجسم ہمارے سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔ اس وقت ہمارے پاس تیرے علاوہ کوئی جائے پناہ نہیں ہوتی۔ ہم نالائق ہیں، گناہگار ہیں، بے وقوف ہیں لیکن تیرے پاس لوٹتے ہیں۔

              چنگی ہاں یا مندی ہاں

              صاحب تیری بندی ہاں

    اپنے شرمسار بندوں کو اپنی رحمت کے سائے سے محروم نہ کر، اس وبا کو ہم پر سے ٹال دے۔ اے رحم کرنے والے، اے لطف و کرم کرنے والے، اے معاف کرنے والے ، ہمیں اپنی مہربان پناہ میں لے لے۔ آمین یا رب العالمین۔

    سارہ قیوم

  • قرنطینہ ڈائری ۔ دوسرا دن

    قرنطینہ ڈائری ۔ دوسرا دن

    قرنطینہ ڈائری

    دوسرا دن: 25 مارچ 2020

    ڈیئر ڈائری،

    زباں پہ بارِ خدا یہ کس کا نام آیا یاد ہے کل مونگروں کے ساتھ میں نے کسی سبزی کا نام لیا تھا اور جنت کی سبزی کہہ کر یاد کیا تھا؟ میتھی کا ۔ تو آج، اللہ خوش رکھے ساتھ والی آنٹی کو، ہری بھری تازہ میتھی ایک ہرے بھر ے برکت والے باغ سے ہمارے گھر وارد ہوئی۔ کبھی کبھی میں سوچتی ہوں، زندگی کی یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں، معصوم خواہشیں، بے ضرر دعاﺅں کی قبولیت ہی ہے جو زندگی کو جینے کے قابل بناتی ہے۔ یہ نہ ہو تو بڑی بڑی خوشیوں کے انتظارمیں انسان جینا بھول جائے۔ 

    کل ماسی کی چھٹی کر دی گئی تھی۔ آج سے گھر کا کام ہے اور ہم ہیں دوستو۔ ڈیڑھ سال پہلے جب مجھ پر شیاٹکا نے حملہ کیا تو میں اپنی ٹوٹی کمر لیے پورے تین مہینے بستر سے بندھ کر رہ گئی۔ نہ کروٹ بدل سکتی تھی، نہ اٹھ کر بیٹھ سکتی تھی۔ تین لوگ اٹھا کر واش روم لے جاتے تھے۔ کھانا بھی لیٹے لیٹے، نماز بھی لیٹے لیٹے اور علاج بھی لیٹے لیٹے۔ آسمان کو دیکھنا خواب ہو گیا، ہوا کے جھونکے چہرے پر کیسے لگتے تھے بھول گئی، بیٹھ کر پانی پینے کو ترس گئی۔ تب میں سوچا کرتی تھی صبح آنکھ کھلنے پر اٹھ بیٹھنا، اپنے پیروں پر چل کر دن کا آغاز کرنا دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے اور جب یہ نعمت مجھے میسر تھی، میں نے کبھی اس پر غور ہی نہ کیا۔ کیوں نہ کیا؟ بس اسے ایک معمول کی بات سمجھتی رہی۔ پھر اللہ نے مجھ پر کرم کیا اور مجھے شفا بخشی۔ تب سے ہر نیا دن ایک نعمتِ عظیم ہے۔ صبح اٹھنا، اپنے پیروں پر کھڑے ہونا اور ایک دن کا صحت کے ساتھ آغاز کرنا ایک عبادت ہے اور ہر عبادت کی طرح اس عبادت کے لیے بھی ایک وضو ضروری ہے۔ ہر دن کے آغاز پر میری روح شکرگزاری کا وضو کرتی ہے۔ ہر صبح کے طلوع ہونے پر میں کسی ایسی چیز کے بارے میں سوچتی ہوں جو عام ہونے کے باوجود خاص الخاص ہے، نعمت عظیم ہے، خدا کا حسین تحفہ ہے۔ تو آج ڈیئر ڈائری میں آسائش کے بعد آنے والی مشکل کے لیے شکرگزار ہوں۔ ملازم کا ہونا آسائش تھی، نہ ہونا مشکل۔ اس مشکل میں کام کا بوجھ ہے اور تھکن بھی۔ لیکن اس کے ساتھ اس میں مصروفیت ہے اور اپنے بچوں کے کام کرنے کی طمانیت اور سکون کی نیند۔ یہ وہ مشکل ہے جو مجھے میری اوقات میں رکھتی ہے۔ کل بیٹھ کر حکم چلاتی تھی، آج کام میں جتی ہوں۔ نہ کل میری بڑائی تھی، نہ آج میری تحقیر۔ کل گزر گیا، آج بھی گزر جائے گا اور اس مشکل کے بعد جو آسائش آئے گی اس کی قدرومنزلت میرے دل میں کئی گنا بڑھ کر ہو گی۔ اور اس آسائش کے لیے اور اس ادراک کے لیے اے زندگی، میں ابھی سے شکرگزار ہوں۔

    لاک ڈاﺅن میں زندگی کو جامد ہونے سے بچانے کے لیے میں نے ارادہ کیا ہے کہ ہر روز ایک نئی چیز سیکھوں گی۔ اس ہفتے دو کتابیں ہاتھ لگی تھیں۔ پہلی کتاب اردو کی تھی اور کسی خاتون کی لکھی ہوئی تھی جس میں انہوں نے ایک ایسے گلوکار کی کہانی بیان کی تھی جو دین کی طرف راغب ہو جاتا ہے۔ مذہب کی طرف مائل ہونے سے پہلے وہ اچھا بیٹا، بہترین شوہر اور شفیق باپ ہوتا ہے اور جونہی اس کی دینی غیرت جاگتی ہے وہ ایک عجیب و غریب قسم کی چیز بن جاتا ہے۔ بیوی سے لڑنے لگتا ہے، لوگوں پر حد جاری ہونے کے فتوے دینے لگتا ہے، دادا سے بدتمیزی کرنے لگتا ہے حتیٰ کہ ننھی بیٹی کے سامنے ذراسے اختلاف پربیوی کو مار مارکر حلیہ بگاڑ دیتا ہے۔