Tag: pakistan

  • امربیل — قسط نمبر ۳

    امربیل — قسط نمبر ۳

    اگلے دن یونیورسٹی میں اس کا دل نہیں لگا تھا۔ گھر واپس آتے ہی وہ سیدھا کچن میں گئی۔
    ”نانو رات کے لئے کیا پکوا رہی ہیں!”
    ” کوئی خاص چیز کھا نے کو دل چاہ رہا ہے؟”
    نانو نے مسکراتے ہوئے پوچھاتھا۔
    ”نہیں ! میں اپنے لئے نہیں عمر کے لئے پوچھ رہی ہوں۔ اس کے لئے کیا بنوا رہی ہیں۔”
    نانو کرسی پر بیٹھی ملازم سے فریزر صاف کروا رہی تھیں۔ انہوں نے کچھ حیرانی سے دیکھاتھا۔




    ”عمر کے لئے تو کچھ بھی نہیں بنوارہی۔”
    ”کیوں نانو ؟”
    وہ کچھ حیران رہ گئی۔
    ”آپ کو یاد ہے نا کہ وہ رات کو آ رہا ہے؟”
    ”ہاں ، مجھے یاد ہے ، وہ دو بجے کی فلائٹ سے یہاں آئے گا۔ پہنچتے پہنچتے اسے تین بج جائیں گے ظاہر ہے کہ اس وقت تو وہ کھانا نہیں کھائے گا، سیدھا سونے کے لئے چلا جائے گا۔”
    ”پھر بھی نانو! فرض کریں اس نے کھانا نہ کھا یا ہوا تو؟”
    ”یہ فرض کرنے والی بات ہے ہی نہیں ، وہ رات کا کھانا یقیناً فلائیٹ میں ہی کھائے گا۔ تم جانتی ہو کہ کھانے کے معاملہ میں وہ کتنا باقاعدہ ہے۔”
    ”پھر بھی نانو! بھوک کا کیا ہے۔ وہ تو کسی بھی وقت لگ سکتی ہے، اگر اس نے کچھ کھا نے کے لئے مانگ لیا؟”
    ”بعض دفعہ تم حماقت کی حد کر دیتی ہوعلیزہ! اس طرح بات کر رہی ہو جیسے گھر میں کھانے کے لئے کچھ ہو ہی نا۔ تمہیں پتہ ہے ہر وقت فریج میں دو، تین ڈشز ضرور ہوتی ہیں۔ بھوکا نہیں سو ئے گاوہ۔”
    علیزہ کچھ شرمندہ سی ہو گئی تھی۔
    ”البتہ کل کے لئے میں کافی ڈشز بنوا رہی ہوں، تم دیکھ لینا بلکہ خود بھی خانساماں سے کہہ دینا ، اگر کوئی خاص چیز وہ بھو ل جائے تو۔”
    وہ اب دوبارہ ملازم کی طرف متوجہ ہو چکی تھیں۔
    ”میں دیکھ لوں گی ، آپ فکر نہ کریں۔”
    وہ کچن سے باہر آگئی تھی، لاؤنج کی گھڑی تین بجا رہی تھی۔
    ”اور وہ رات کے تین بجے گھر پہنچے گا۔ ابھی پورے بارہ گھنٹے باقی ہیں اور مجھے ان بارہ گھنٹوں میں کیا کرنا چاہئے ؟”
    اس نے سوچنے کی کوشش کی تھی۔
    اپنے کمرے میں جاکر رات کو پہننے کے لئے کپڑے دیکھنے شروع کر دئیے تھے۔ پھر ایک لباس اس نے منتخب کر ہی لیاتھا ایک خیال آنے پر وہ واپس کچن میں آگئی تھی۔
    ”نانو ! عمر ڈرائیور کو پہچانے گاکیسے ؟ یہ ڈرائیور تو نیا ہے اور ڈرائیور بھی عمر کو نہیں پہچانتا!”
    ”میں نے ڈرائیور کو عمر کی تصویر دکھا دی تھی۔ مزید احتیاط کے طور پر میں نے اسے کارڈ پر عمر کا نام لکھ دیا ہے۔ عمر کارڈ اس کے پاس دیکھ کر خود ہی آ جائے گا۔”
    ”ہاں ! یہ ٹھیک ہے۔”
    وہ مطمئن ہو کر واپس اپنے کمرے میں آگئی تھی۔
    رات کا کھانا اس نے نانو کے ساتھ آٹھ بجے کھالیا۔ پہلی بار کلاک کو بار بار دیکھتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ وقت کو پر نہیں لگتے بلکہ بعض دفعہ وقت بالکل رک بھی جاتا ہے۔ اس کی تیز رفتاری ہی صبر آزما نہیں ہوتی ۔بعض دفعہ اس کی سست رفتاری بھی تکلیف دہ ہوتی ہے۔
    ”نانو، آپ ڈرائیور کو کتنے بجے بھیجیں گی ؟”
    کھانے سے فارغ ہو کر علیزہ نے پوچھاتھا۔
    ”ایک بجے۔”
    ”آپ عمر کا انتظار کریں گی؟”
    ”ظاہر ہے ،مجھے تو ویسے بھی رات کو نیند نہیں آتی مگر تم چاہو تو جا کر سو جاؤ۔”
    ”نہیں نانو ! میں بھی انتظار کروں گی۔”
    ”تمہیں صبح یونیورسٹی جانا ہے۔”
    نانو نے اسے یاد دلایا۔
    ”ہاں ! مجھے پتہ ہے لیکن کچھ نہیں ہوگا۔”




  • جتن کیا تو…!

    جتن کیا تو…!

    جتن کیا تو…!
    زاہد حسین

    جتن کیا تو وطن پایا ہے
    ہم نے مل کے یہ پاکستان بنایا ہے

    قائد کی محنت نے ہے یہ کیسا رنگ دکھایا
    دے کر ہم نے قربانی اپنا یہ دیس بنایا

    ہم نے مل کے یہ پاکستان بنایا ہے

    قدرت کے سارے نظارے اس میں ہیں پیارے پیارے
    اس کی ندیاں اور دھارے ہر کوئی تن من وارے

    ہم نے مل کے یہ پاکستان بنایا ہے

    ٭…٭…٭

  • آزادی کی نعمت

    آزادی کی نعمت

    آزادی کی نعمت
    عظمیٰ رحمان ہاشمی

    آزادی کا جشن مناتے رہنا ہے
    گیت سدا خوشیوں کے گاتے رہنا ہے

    لاکھوں جانیں دے کر جس کو پایا تھا
    اس گلشن کو خوب سجاتے رہنا ہے

    اس کی خاطر کتنے درد اٹھائے تھے
    اب خوشیوں کے پھول بچھاتے رہنا ہے

    دشمن پر ہیبت ہو جائے گی طاری
    آزادی کے گیت سناتے رہنا ہے

    دیس کی عزت اپنی جان سے پیاری ہے
    ہر پل اس کی شان بڑھاتے رہنا ہے

    آزادی کی نعمت کے شکرانے میں
    الفت کے اب دیپ جلاتے رہنا ہے

    پاک وطن کی خاطر جینا مرنا ہے
    دیس پہ امبر جان لٹاتے رہنا ہے

    ٭…٭…٭

  • انہیں ہم یاد کرتے ہیں — اشتیاق احمد

    انہیں ہم یاد کرتے ہیں — اشتیاق احمد

    اشتیاق احمد کا نام آتے ہی ذہن میں انسپکٹر جمشید،ایک مستعد ،ایمان دار اور محب وطن پولیس آفیسر کا خاکہ بننے لگتا…محمود، فاروق اور فرزانہ کی نوک جھونک، شرارتیں،غیر معمولی ذہانت اور بر وقت سمجھ داری، بچپن کی یادیں تازہ کرنے لگتی ہے۔
    اشتیاق احمد ہمارے ہیرو تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔ انہوں نے ہمیں اپنی تحریروں کے ذریعے وطن سے محبت اور وفاداری کا سبق دیا… اشتیاق احمد 1944ء کو پانی پت، ضلع کرنال میں پیدا ہوئے۔ تقسیم کے زمانے میں پاکستان ہجرت کی اور ان کا گھرانہ جنگ میں آبسا… انہوں نے ستر کی دہائی کے آغاز میں لکھنے کی ابتدا کی… شروع میں انہوں نے بچوں کی کہانیاں لکھیں اور پھر 1973ء میں باقاعدہ ناول لکھنے کا آغاز کیا جو بنیادی طور تو جاسوسی تھے مگر ان میں بچوں کے لیے دینی تعلیمات اور اصلاحی مواد بدرجہ اتم موجود ہوتا… ان کی یاد گار تحاریر میں انسپکٹر جمشید سیریز، انسپکٹر کامران مرزا سیریز اور شوکی سیریز شامل ہیں… اشتیاق احمد صاحب نے آٹھ سو سے زائد ناول تحریر کیے… انہوں نے تمام عمر اپنی توجہ بچوں کے ادب پر ہی مرکوز رکھی … ہر کتاب کا موضوع الگ ہونے کے باوجود اس سے دل چسپی کا عنصر کم نہ ہوتا… اشتیاق احمد اپنے دور کے مقبول و معروف ترین مصنف رہے اور انہوں نے لاکھوں کروڑوں دلوں پہ راج کیا… بچوں کے ادب پہ شائد ہی کسی نے اتنی محنت اور جانفشانی سے کام کیا ہو جتنا اشتیاق احمد نے اس فن کو اپنے خون جگر سے پالا …انہوں نے ایک ماہ میں چار چار ناول لکھنے کا ریکارڈ بھی قائم کیا … ان کی تحریریں اُردو زبان کی بہترین شاہ کار ہوتیں، جس سے بچوں کی بول چال میں بھی نکھار آتا۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے پڑھنے والوں کے دلوں میں پاکستان کی شدید محبت انڈیلی… کتاب آپ کی دوست ہوتی ہے کے مقولے کو اشتیاق احمد صاحب کی کتابوں نے ثابت کیا…





    میں جب پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو ہمیشہ ایک خوشگوار احساس ہوتا ہے کہ ہمارا بچپن اور نوجوانی کا دور اشتیاق احمد کے اصلاحی ناول پڑھتے ہوئے گزرا… اَسی کی دہائی میں مجھ جیسے ہزاروں لاکھوں بچوں کے لیے اشتیاق احمد مشفق و مہربان استاد کی حیثیت رکھتے تھے… میرے والد اس وقت ہم بہن بھائیوں کو دو روپے روزانہ جیب خرچ دیتے جن کے مصرف میں ترجیح اشتیاق احمد کے ناولوں کو حاصل ہوتی تھی… ہم رنگ برنگی گولیاں ٹافیاں یا سموسہ وغیرہ کھائے بغیر تو رہ سکتے تھے مگر اشتیاق صاحب کی کتاب کے بغیر ہمارا گزارا نہ تھا… اور پھر ایک کتاب کے بعد دوسری کتاب کے لیے پیسے جمع کرنا شروع کر دیتے… ان کتب کا نشہ ایسا تھا کہ جب بھی نئی کتاب لاتے تو دل میں کھلبلی مچنے لگتی کہ کب سکول کا کام ختم ہو اور ہم انسپکٹر جمشید، محمود، فاروق اور فرزانہ سے مل سکیں… کتابوں کے آغاز میں بچوں کے لیے دئے گئے رہنما اصول اپنی مثال آپ تھے :
    (1)کیا یہ کسی نماز کا وقت تو نہیں؟
    (2)کیا آپ نے اسکول کا کام ختم کر لیا ؟
    (3)کیا آپ کے والدین نے آپ کو کوئی کام تو نہیں کہا؟
    (4)کیا یہ سونے کا وقت تو نہیں ؟
    (5) آپ کے گھر میں مہمان تو نہیں آئے ؟
    اگر ان میں سے ایک بھی کام ہے تو پہلے اسے مکمل کریں پھر کتاب پڑھیں …
    اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اشتیاق احمد صرف کتاب ہی نہ لکھتے تھے بلکہ بچوں کی تعلیم و تربیت میں بھی اُن کا کردار اہم تھا۔
    کتاب شروع کرنے سے ختم کرنے تک سیکھنے کا عمل مسلسل جاری رہتا…





    اشتیاق احمد صاحب کے ناولوں میں دلچسپی کا عنصر بھر پور ہونے کے باعث پڑھتے ہوئے محویت کا عالم یہ ہوتا کہ ارد گرد کا کوئی ہوش نہ رہتا … ناول میں مزاح ،سنجیدگی اور اصلاح ساتھ ساتھ چلتی … اشتیاق صاحب مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ نئی نسل کے لیے استاد کی حیثیت بھی رکھتے تھے … بڑوں کا ادب، اللہ سے محبت، اچھائی اور برائی میں فرق کا سبق ان کی کتابوں میں ہمیشہ موجود ہوتا … اُردو زبان سے محبت اور مشکل الفاظ سے واقفیت ان کی کتابوں کی وجہ سے ہی ہمیں حاصل ہوئی… ان کی کتابوں میں سائنس کی نت نئی ایجادات سے بھی آگاہی ملتی… مجھے یہ کہنے میں ہمیشہ فخر محسوس ہوا ہے کہ اشتیاق احمد ہمارے بچپن کا ایک ناقابلِ فراموش حصہ ہیں… وہی قومی زبان سے ہماری محبت کا باعث ہیں … ہماری اور ہم سے پیچھے آنے والی نسلوں میں اُردو ادب کا بیج بونے والے اشتیاق احمد ہی ہیں…کتاب چند کاغذوں پہ مشتمل شے کا نام ہی نہیں بلکہ اس کے اندر ایک جہان بستا ہے اور اس جہان کو ہم تب ہی جان پاتے ہیں اور اس کا حصہ بھی ہم تب ہی بن پاتے ہیں جب اس کتاب کو اپنا لیتے اور اس کے اندر دئیے گئے اسباق اور اصلاح پر عمل کرتے ہیں… ایک قاری کے محسوسات کتاب کے بارے میں بہت حساس ہوتے ہیں کیوںکہ وہ کتاب نہ صرف اس کی دوست ہوتی ہے بلکہ اس کتاب کے لمس میں اپنائیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے … اور ان تمام احساسات سے ہمارا تعارف اشتیاق احمد کی کتب کے ذریعے ہوا…ان کا ادبی سفر1970 ء سے 2015 ء تک جاری رہا اور اس تمام عرصے میں انہوں نے بچوں کے دلوں پہ راج کیا…
    آج کی نسل کو اُردو ادب سے وہ شغف حاصل نہیں جو تین یا چار دہائیاں پہلے کے بچوں کو تھا… دوسری زبانوں کا ادب پڑھنا بھی اچھی بات ہے مگر اپنی زبان کا ساتھ چھوڑ دینا دانش مندی نہیں۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو اردو کی کہانیوں اور کتابوں کی جانب راغب کریں ..
    17 نومبر 2015ء کو وہ اس فانی دنیا کو چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے اور اپنے پیچھے لاکھوں مداحوں کو چھوڑ گئے… مرحوم ایک ایسا سرمایہ تھے جن کی کمی پوری ہونا ناممکن ہے… انہوں نے لاکھوں بچوں کے دلوں میں مطالعہ کی شمع روشن کی اور انہیں اپنی زبان سے روشناس کرایا … حاضر دماغی کا ہنر ان کی کتابوں سے بچوں نے حاصل کیا کہ مشکل وقت میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے… اشتیاق احمد کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ ہماری اصلاح اور تربیت اتنے لطیف طریقے سے کرتے کہ ہمیں وہ ذہنی بوجھ نہ لگتا بلکہ ہم اس میں ایسے ڈوب جاتے کہ غیر محسوس طریقے سے علم ہمارے اندر سرایت کر جاتا … والدین کی تربیت کے ساتھ ساتھ ایک اور انسان نے بچوں کی تربیت کا بیڑا اٹھا رکھا تھا اور وہ تھے مرحوم اشتیاق احمد…
    …اس سب کو دیکھتے ہوئے ایک خواہش دل میں پنپتی ہے کہ کاش ایک اشتیاق احمد آج کی نسل کے لیے بھی پیدا ہو جو اپنے لفظوں کی جادوگری سے اس زمانے کو شیدا کر دے… ہم اشتیاق احمد صاحب کی خدمات سے نظر نہیں چرا سکتے اور نہ ہی انہیں فراموش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی کئی نسلوں پر احسان کیا اور ہم احسان فراموش بالکل نہیں ہیں۔ ہمارے دلوں میں مطالعے کی جو لگن وہ لگا گئے ہیں ہم اسے اپنی زندگی کا حصہ بنائے رکھیں گے اِن شاء اللہ… اللہ پاک اشتیاق احمد مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ آمین ثم آمین ۔




  • اگلا سفر – مریم مرتضیٰ

    آج وہ بابا جی ساتھ والے گھر میں آئے ہیں۔وہ دو ماہ پہلے سامنے والے گھر میں آئے تھے اور ان آنٹی کے بیٹے کو اپنے ساتھ لے گئے تھے،آنٹی بہت روئی تھیں چلائی تھیں مگر انہوں نے ان کی ایک نہ مانی تھی۔ انہوں نے کہا تھا اس کا دانہ پانی یہاں سے اٹھ چکا ہے۔اس دن بین ڈالے گئے تھے،سر پیٹے گئے تھے،ہمارے گھر میں سوگ کا سماں تھا ۔میں نے تو دو دن تک کھانا نہیںکھایا تھا ۔
    میںجب سامنے والے گھر میں گئی تھی تو میں نے ان سے پوچھا تھا۔
    ” آپ انہیں کہاں لے کر جا رہے ہیں۔؟”
    ” اگلے سفرپر۔۔اس کا اگلا سفر میرے ساتھ ہے۔” انہوںنے کہا۔وہ بہت خوف ناک تھے۔میرے تو الفاظ حلق میں ہی اٹک گئے۔
    ”کیا ہر کسی کا اگلا سفر ہے؟” میں نے پوچھا۔
    ”ہاں۔۔” ان کی ہاں میں کتنی گہرائی اور سچائی تھی۔
    ” کیا آپ سب کو لے جائیںگے؟” میں نے بے ساختہ پوچھا۔
    ” ہاں! مگر وقت پر۔۔۔” وہ اسی یقینی انداز میں بولے۔
    ” ہر کسی کا وقت مقرر ہے؟” میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور کپکپی سے میرا بدن لرز اٹھا۔
    ”ہاں!”
    ”کیا میرا بھی وقت مقرر ہے؟” میں نے توقف کے بعد پوچھا۔
    ”ہاں!”
    میرا وجود ٹھنڈا پڑنے لگا تھا۔





    ” آپ کوئی مشورہ دے دیں۔” میرے حلق سے الفاظ رک رک کر نکلے تھے۔
    ” میرے ساتھ تمہیں بھی ہر صورت جانا ہو گا مگر اپنے وقت پر۔۔وہ وقت تم کبھی بدل نہیں سکتی ہو۔ لیکن اگر راحت حاصل کرنا چاہتی ہو میرے ساتھ چل کر تو ساتھ اپنے وہ لانا جو تمہارا زیور ہے۔” انہوں نے کہا اور چلے گئے۔
    مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی۔ میں کئی دنوں تک خوف میں مبتلا رہی۔ کئی کئی گھنٹے تنہائی میں بیٹھ کر زیور اکٹھے کرنے لگی۔ پھر کچھ ایسا ہوا کہ وقت بدل گیا اور میرا زیورات سے دل اٹھ گیا۔ میں جینے لگی پھر سے اسی طرح عیش و عشرت میں، امنگوں ترنگوں میں مجھے خیال ہی نہ رہا تھا۔ پھر ایک دن میں اکیلی بیٹھی تھی تو سب کہنے لگے چپ ہو جاؤ بابا جی کسی کو لینے آگئے ہیں کیوں کہ مسجد سے بار بار آوازیں آرہی تھیں کہ بابا جی فلاں آدمی کو لینے آئے ہیں۔ کچھ دیر مجھ پر بھی کپکپی طاری ہوئی اور میں پھر سے کا م میں مصروف ہو گئی۔ مجھے خیال ہی نہ رہا انہوں نے مجھے بھی لے جانا ہے۔ میں نے سوچا ہی نہیں۔ دنیا کی خواہشات کی دلدل میں دھنستی ہی چلی جا تی رہی ،نفس کی غلامی سے مجھے چین ملنے لگا تھا، اس نے مجھے اپنا کتا بنا لیا تھا۔ میں نفس کے پاؤں دن رات چاٹتی رہی۔ انسان جتنا امیر ہو گا اتنا ہی زیادہ گرا ہوا اور نفس کا غلام ہو گا۔میں بھی وہی کرتی رہی جو نفس کہتا رہا۔وہ کہتا چلو میں چل پڑتی، وہ کہتا رکو میں رک جاتی،وہ کہتا بیٹھو میں بیٹھ جاتی حتیٰ کہ میں کھانا بھی نفس کی مرضی سے کھاتی نہیں تو بھوکی رہتی۔
    خوابوں اورخواہشوں کے دور میں بابا جی کا خیال کبھی بھول کر بھی نہیںآیا کیوں کہ خواہش کے مطابق شے مل رہی ہو پھر ڈراؤنی چیزوں کو کیا سوچنا؟ چاہے وہ حقیقی کیوں نہ ہوں۔
    آج صبح سویرے جب میں سو رہی تھی تو مجھے رونے پیٹنے کی آوازیں آنے لگیں۔ میں بھاگی بھاگی باہر نکلی، جانے کیا ہو گیا تھا؟ پوچھنے پر پتا چلا ساتھ والے گھر وہی بابا جی آئے ہیں،ان کی جوان بیٹی کو لے جا رہے ہیں۔ گھر والے منتیں ترلے کرتے رہ گئے کہ ابھی اس کی عمر کیا ہے مگر بابا جی نے کہا کہ وقت طے ہو تو عمریں نہیں دیکھی جاتیں۔ بابا جی اسے لے گئے، معلوم نہیں وہ اپنے ساتھ زیور لے کر گئی بھی یا نہیں؟
    زیورات نہ ہوئے اس کے پاس تو بابا جی اسے بہت اذیت میں رکھیں گے۔شام ہوگئی، وہ چلی گئی، رونے کی آوازیں آہستہ آہستہ دھیمی ہو گئی ہیں۔ یہ آوازیں کیوں دھیمی پڑ گئی ہیں؟ چند دنوں بعد یہ آوازیں قہقہوں میں بدل جائیں گی۔ اسے بھول جائیں گے سب۔ وہ سامنے والے گھر میں جب بابا جی آئے تھے تو وہاں لوگ چیخ و پکار کر رہے تھے، سروں میں مٹی ڈال رہے تھے۔ مگر اب ہنسی ہے، قہقہے ہیں خوشیاں ہیں ۔ جسے جانا تھا وہ چلا گیا اب اسے کون یاد رکھتا ہے۔بے وفائی کہوں یا فطرت کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے۔ لیکن مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ خوف طاری ہو رہا ہے، ایسے لگ رہا ہے کہ وہ آ رہے ہیں، مجھے ان کی چاپ سنائی دے رہی ہے،آواز بھی آنے لگی ہے۔میرے پاس زیورات بھی نہیں ہیں میں تو خالی ہاتھ ہوں، میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ میرا کیا ہو گا؟ وہ آرہے ہیں۔ میری جب ان سے ملاقات ہو ئی تھی تو میں نے ان سے پوچھا تھا کون سے زیورات پاس ہوں، تو انہوں نے کہا تھا۔
    ”اطاعتِ اللہ و رسول۔”

    ٭…٭…٭




  • دیارِ خلیل – فرحین خالد

    عالیشان محل جیسے گھر میں رہنا کس کی آرزو نہیں ہوتی ؟بڑی لاگت اور مشقت کے بعد یہ مکان تعمیر تو کر لیے جاتے ہیں مگر ان کو ”گھر ” بنانے کے لیے مزید قربانیاں درکار ہوتی ہیں۔گھر کے مکینوں کی اطراف میں کھنچی ان کی محافظ کہیے یا رکاوٹ، ایک دیوار بھی حائل رہتی ہے جس کو مزّین اور آراستہ تو خوب کیا جاتا ہے مگر اس کی نفسیات کو نہیں سمجھا جاتا ۔آیئے آج ایک ایسی ہی دیوار سے اس کی بپتا سنتے ہیں۔





    مجھ سے ملئے …میں، دیارِ خلیل میں کھڑی ایک ساکت دیوار ہوں جو خود کو اس گھر کا اہم جز سمجھتی ہے ۔میں ہوں تو پتھر جیسی مگر دل میرا ، آپ ہی کی طرح نرم ہے۔ یہ بات سن کے آپ کو حیرت ہوئی ؟ کیوں..؟ جب آپ یہ مانتے ہیں کہ دیواروں کے کان ہوتے ہیں، جب آپ یہ مانتے ہیں کہ روز جزا ہر ہر پتھر گواہی دے گا تو یہ ماننے میں بھی حرج نہیں ہونا چاہیے کہ میرا ایک دل بھی ہے جو اپنے مکینوں کے لیے دھڑکتا ہے۔ ہاں ، مجھے ان سے سچی محبت ہے ۔ جب یہاں حزن بسیرا کرتا ہے تو میرا گریہ نہیں رکتا اور جب یہاں شادیانے بجتے ہیں تو میں ان کے قہقہوں کی گونج ہوتی ہوں۔میں جب تک اپنے مکینوں کو نہیں اپناتی ان کی اجنبیت دور نہیں ہوتی ۔
    پچھلے دنوں جب مجھ پہ روغن ہوا تو یہ اندازہ ہوا کہ میرا پھر سے سودا ہوگیا ہے… سوچتی ہوں کہ یہ کیسے سپنوں کے بیوپاری ہیں کہ جب اتنے چاؤ سے میری ایک ایک اینٹ میں خلوص و وفا کا گارا لگا کر مجھے بلندکرتے ہیں تو آخر مجھے بیچ کیوں جاتے ہیں ؟ میں، اپنے خمیر میں گندھی خصلتوں سے مجبور… اپنے ہر ایک باسی سے پیماں نبھاتی ہوں۔بہرحال آج میں خوش ہوں کہ میری ویرانی دور ہو رہی ہے ۔





    صبح سے چہل پہل تھی۔میں اپنی مقابل دیوار پہ بنتے ہیولے دیکھ رہی تھی۔ کچھ اندیشے تھے ، جو بڑھ رہے تھے کچھ آرزوئیں تھیںجو زور پکڑ رہیں تھیںکیوںکہ مزدور قطار در قطار سامان اٹھائے اندر چلے آ رہے تھے۔مجھے بھی اپنے مکینوں کو دیکھنے کا بہت اشتیاق تھا کہ کون ہوں گے؟ کیسے ہوں گے ؟ اللہ کرے کہ بچوں والے ہوں، مجھے ننھے بچوں کی گونجتی کلکاریاں بہت اچھی لگتی ہیں ۔ میں نے دیکھا کہ پہیے جیسی گول گول چیز بھی ہوا میں لہرائی ہے۔ضرور گھر کے کسی بزرگ کی سائیکل ہوگی جو صبح ہی صبح پارک لے کر جائیں گے اور واپسی میں سودا لیتے ہوئے گھر آئیں گے ۔آوازیں تو آ رہی ہیں مگر سمجھ نہیں آ رہا کس زبان میں بول رہے ہیں۔مجھے ایک لمحے کے لیے فکر ہوئی کہ میں اکیلی رہ جاؤں گی مگر دوسرے ہی لمحے میںنے تہیہ کر لیا کہ کوئی بات نہیں میں سیکھ لوں گی اسی ٹی وی لاؤنج میں تو بیٹھیں گے سارا دن یہ لوگ۔
    اب سائے ڈھل گئے تھے اور آوازیں بھی مدھم ہو گئیں تھیں۔ مجھے ابھی تک کسی کی جھلک نہیں دکھائی دی تھی۔ اچانک گھٹنوں گھٹنوں رینگتا ہوا ایک بچہ دکھائی دیا۔میری خوشی کی انتہا نہ تھی کہ خدا نے میری سن لی ہے ۔میری ممتا اس بچے کو اپنی نگاہ میں بھرنے کی مشتاق تھی۔ اچانک ایک سایہ اس کے پیچھے پیچھے کمرے میں نمودار ہوا اور اس نے آواز لگائی ….
    ” بیبو ..بیبو..ارے وہاں کہاں چلی گئیں ؟”
    میںنے سوچا، بڑے فلمی لوگ ہیں!کیسا نام رکھا ہے منے بچے کا؟ مگر جیسے ہی روشنی کا جھماکا ہوا میری آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ اتنے دن ہو گئے تھے اندھیرے میں رہتے ہوئے۔ غور کیا تو نگاہوں پہ یقین نہیں آیا۔ زمین پہ ایک بزرگ خاتون بیٹھی سفید ریشمی بالوں والے بچے کو سہلا رہی تھیں۔ مجھے پانچ دن لگ گئے یہ یقین کرنے میں کہ یہ کوئی بچہ نہیں ایک پالتو بلی ہے، جو بڑی بی کی بے حد لاڈلی ہے۔ اگر وہ میاؤں میاؤں کی آواز نہ نکالتی تو میری ساتھی دیواریں مجھے اندھا کہہ کے ٹال دیتیں ۔
    یہ تین لوگوں کی ایک چھوٹی سی فیملی ہے۔ سونیا گھر کی بہو ہے ،سمیر اس گھر کا واحد مرد اور تابع دار بیٹا ہے ، ایک بیوہ بوڑھی ماں اور ان کی ایرانی نسل کی خوبصورت بلی… بیبو۔ ممی جی اور سمیر کی تو اس میں جان اٹکی رہتی ہے۔ اس کی ایک ایک ادا کو محبت سے دیکھتے ہیں اور ناز نخرے اٹھاتے نہیں تھکتے۔ اسے جب بھی موقع ملتا، سونیا اور سمیر کے بیچ میں آ کے پسر جاتی ۔سونیا کی تو جان ہی جل جاتی تھی ۔ جتنا وہ بیبو سے الرجک تھی اتنا ہی بیبو اس کی التفات کی منتظر رہتی۔ در اصل سونیا گھر میں جانور رکھنے کی قائل نہیں تھی اور دوسرے اس کو سمیر کی توجہ حاصل کرنے کے لیے یہ مقابلہ منظور نہیں تھا، گویا ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں۔ روز کا ایک ہی ٹنٹا تھا ، بیبو چیزیں لڑھکاتی ، گند مچاتی ، صبح صبح شور کر کے ان کو جگاتی ، فرنیچر خراب کرتی، ہر چیز میں مخل ہوتی مگر سمیر کو سب ”کیوٹ ”لگتا اور ممی جی ، وہ تو ا س کی ہر ہر ادا کو دس دس بار دہراتے نہ تھکتیں۔ سونیا پیج و تاب کھا کے رہ جاتی۔ میں یہ سلسلہ بہ غور دیکھ رہی تھی اور ان ماں بیٹے کے اس لگاؤ کی وجہ سمجھ رہی تھی۔ صاف ظاہر تھا کہ گھر میں کوئی بچہ نہیں تھا جو ان کا دل لبھاتا یا دھیان بٹاتا … مگر سونیا کو کون سمجھاتا اس کے اندر ایک لاوا پک رہا تھا اور مجھے ڈر تھا کہ یہ گھر آباد ہونے سے پہلے نہ ٹوٹ جائے ۔





    سونیا نے بارہا اور برملا سمیر سے اپنی نا پسندیدگی کا اظہار بھی کیا تھا مگر وہ ماں کی طرف دیکھتا تو مجبور ہو جاتا کیوںکہ ان کو اپنی بلی سے ایک لمحے کی دوری گوارا نہ تھی ۔دراصل وہ ان کی بارہ سالہ پرانی رفیقہ تھی، جس نے ان کی زندگی میں موجود خلا کو پُر کیا تھا اور اب وہ اس کی اتنی عادی تھیں کہ اس کو اپنا جزو لاینفک سمجھتی تھیں۔سمیر مخمصے کا شکار ہوگیا تھا۔ماں کو خوش کرتا تو بیوی ناراض ، بیوی کو خوش کرنے کا مطلب تھا کہ ماں کی دل آزاری ۔ بادی النظر میں رب کی رضا بھی مطلوب تھی۔کرتا تو کیا کرتا ۔میں دیکھ رہی تھی کہ وہ خاموش طبیعت تھا سگریٹ کے ساتھ ساتھ خود بھی سلگ رہا ہوتا تھا ۔
    سونیا بری نہیں تھی۔مشیتِ ایزدی کے آگے مجبور تھی۔ ساس سے شکایت نہیں تھی ، بس ان کے شوق سے تھی ۔بیبو بھی تو نت نئے بہانے ڈھونڈتی تھی اس کو زچ کرنے کے ۔ایک روز جب سونیا نے اپنے کرسٹل کا سامان الماری میں لگانا شرو ع کیا تو میں نے خود دیکھا کہ بیبو صاحبہ آ کے اسی ڈبے میں براجمان ہو گئیں…سونیا کو صفائی اور سجاوٹ کا خبط تھا۔ ایک ہاتھ میں کپڑا اور دوسرے ہاتھ میں کرسٹل اٹھائے وہ جیسے ہی کچھ اور نکالنے جھکی تو بیبونے اندر سے باہر کی جانب چھلانگ لگا دی، اس اچانک حرکت سے سونیا کا توازن بگڑ گیا اور وہ دھڑام سے گر گئی … میرے منہ سے بھی چیخ نکل گئی ۔ آواز سن کے سمیر آیا تو سونیا کا پارہ اور چڑھ گیا اس نے کہا: ”تم کب اس عذاب سے میری جان چھڑاؤ گے! دیکھو ، کتنا نقصان کردیا اس نے میرا”سمیر نے کرسٹل کے ٹکڑوں کو دیکھ کر کہا ”کوئی بات نہیں اور آ جائے گا۔” سونیا کو اس کا اطمینان کو دیکھ کر آگ لگ گئی اس نے تو آؤ دیکھا نہ تاؤ اگلے پچھلے سارے حساب برابر کر دیئے۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے چار سال ہو گئے ہیں اس بلی کو برداشت کرتے ہوئے اور اب اُسے کسی قیمت پہ بیبو کی حکمرانی منظور نہیں۔ اس بلی کی وجہ سے سونیا کو الرجی رہنے لگی تھی جو سخت تکلیف کا باعث تھی۔ جواب میں سمیر نے بس اتنا ہی کہا: ”ممی کے کمرے میں چھوڑ آتا ہوں۔” اس نے پیار سے بیبو کو گود میں بھرا اور باہر لے گیا۔سونیا نے اپنے گرد بکھرے کرسٹل کو دیکھا اور پھوٹ پھوٹ کے رو دی ۔ میرا دل کٹ کر رہ گیا ۔مجھے پتا تھا ان ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں میں وہ اپنا دل اور مان دیکھ رہی تھی، جو سمیر نے نہیں رکھا تھا ۔میں سوچ رہ رہی تھی کہ کیا جانور کو انسان پر فوقیت دینا درست ہے ؟ میں تو بس وہی جانتی تھی جس کا مجھے ادراک تھا ۔ باہر کی دنیا جانے کس طرح ایسی گتھی سلجھاتی ہوگی ..؟





    بانو آپا کئی دن سے بیٹے کی گہری خاموشی اور سونیا کا اس سے الگ تھلگ رہنا دیکھ رہیں تھیں ۔ سونیا سے بات کرنے کی کوشش کی تو اس نے رکھائی سے جواب دیا جس سے ان کا قلق بڑھ گیا۔ بیبو نے جب انہیں اُداس بیٹھا دیکھا تو پاس پڑی بال سے خوب کھیل کھیل کر دکھایا اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا مگر وہ گہری سوچ میں ڈوبی رہیں۔ ان کی آنکھوں سے جو مو تی جھڑ رہے تھے وہ اپنے دوپٹے میں سمیٹتی رہیں۔ بیبو بھی آزردہ سی ہو کے پیروں میں بیٹھ گئی ۔
    شام جب سمیر گھر آیا تو نہ بانو آپا تھیں نہ بیبو۔اس نے سونیا سے پوچھا تو اس نے بھی لا علمی کا اظہار کیا۔ وہ دونوں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے اور مجھے اچھا لگ رہا تھا، جب وہ کبھی کبھی ایک ساتھ کسی بات پہ ہنس دیتے ۔جونہی گھنٹی بجی مجھے لگا آ گئے کوئی مہمان کباب میں ہڈی بننے ، کم ہی ہوتا تھا جب وہ دونوں اتنے پرسکون دکھائی دیتے تھے مگر اندر آنے والی کوئی اور نہیں بانو آپا تھیں اور ان کے ہاتھ میں ایک پنجرہ تھا جس میں دو خوبصورت طائرِ محبت کی جوڑی تھی ۔ پوچھنے پہ چہک چہک کے بتانے لگیں کہ وہ اسلم بھائی کو بیبو دے آئیں ہیں، جو ان دنوں بالکل اکیلے تھے اور بدلے میں دو پنچھی لائی ہوں دیکھو تو… سمیر اور سونیا دونوں پنجرے پہ جھکے ہوئے ان کا چہچہانا اور پُھدکنا دیکھ رہے تھے ۔سونیا نے ان سے پوچھا کہ کیا نام رکھیں گی ان کے تو سوچ کے بولیں مشیل اور اوباما ۔ تینوں نے ایک ساتھ فلک شگاف قہقہہ لگایا اور میں بھی یہ منظر دیکھ کر ہنس پڑی … ہنستے ہنستے بانو آپا کی آنکھیں چھلک پڑیں تو بہ مشکل میرے رُکے آنسو بھی رواں ہوگئے مگر آج میں نے ایک نئی بات سیکھی تھی کہ بڑا پن کیا ہوتا ہے۔بانو آپا نے گھر کی خوشیوں کی خاطر اپنی چاہت قربان کی تھی۔ گھر والوں کو جوڑے رکھنے کے لیے ایسی ہی ان گنت قربانیاں دینی پڑتی ہیں تب کہیں جا کر وہ خوشیوں کا گہوارہ بنتا ہے ۔ خدا کرے کہ یہ گھر اور خوشیاں ان کو راس آ جائیں۔





  • استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 8

    استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 8

    تحریر:مدیحہ شاہد

    ”استنبول سے انقرہ تک ”  (سفرنامہ)

    ”لاہور لاہور ہے”
    باب8

    ہم مقررہ وقت پر استنبول سے جدہ جانے والے جہاز میں سوار ہوئے۔ میری سیٹ ایک محرب خاتون کے ساتھ تھی جس کا نام نادیہ تھا۔ وہ سعودی عرب سے اپنے گروپ کے ساتھ سیرو تفریح کی غرض سے ترکی آئی تھی مگر کسی وجہ سے اسے جلد ہی ترکی سے سعودی عرب جانا پڑا تھا۔ وہ درمیانی عمر کی سوبر، خوش اخلاق اور بہادر خاتون تھی۔ اسے زیادہ انگلش نہیں آتی تھی۔ ہم دونوں کو آپس میں گفتگو کرتے ہوئے اشاروں کی زبان میں بھی بات کرنی پڑی۔ میری پچھلی سیٹ پر عقیلہ آنٹی اور انکل سعید شمسی بیٹھے تھے۔ وہ اردو انگریزی ، عربی اور اشاروں کی زبان میں ہونے والی اس مکس گفتگو کو سنتے ہوئے حیران ہو رہے تھے کئی گھنٹوں کا سفر تھا، ہمسفر خاتون سے بات کرنا بھی ضروری تھا ورنہ سفر بھلا کیسے کٹتا۔ جہاز نے ٹیک آف کیا تو میں ذرا خوفزدہ ہوگئی۔ نادیہ نے مجھے تسلی دی اور کچھ جملے بولے جن کامطلب تھا کہ مسلمان کو صرف اللہ سے ڈرنا چاہیے، اور کسی چیز سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔





    مجھے کچھ تسلی ملی۔ سفر کے دوران ہم باتیں کرتے رہے۔ نادیہ نے مجھے اپنے خاندان والوں کی تصاویر موبائل میں دکھائیں۔ وہ ترکی میں جن سیاحتی مقامات پر گئی تھی۔ ان کی تصاویر بھی دکھاتی رہی۔
    اس نے ہمیں ایک تسبیح تحفے میں دی ۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ عرب بے حد دریا دل اور سخی ہوتے ہیں۔
    ائیر ہوسٹس کھانے کی ٹرالی چلاتے ہوئے سب کو کھانا سرو کررہی تھی۔
    ہم نے رغبت سے کھانا کھایا۔
    کہ ہم کافی دیر سے سفر میں تھے۔
    اس تھوڑے سے عرصے میں نادیہ سے میری بہت اچھی دوستی ہوگئی تھی۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کے موبائل نمبرز بھی لئے اور وعدہ کیا کہ اپنے گھر جاکر فون پر رابطہ کریں گے۔ دوستی عجب رشتہ ہے، بعض دفعہ آپ سالوں ایک دوسرے کے قریب رہتے ہیں مگر دوست نہیں بن پاتے اور بعض دفعہ کسی سے دوستی ہونے میں چند لمحے ہی لگتے ہیں۔
    دوستی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ آپ ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہوں۔
    نادیہ پاکستان کو بہت پسند کرتی تھی اور پاکستانیوں سے مل کر خوش ہوتی تھی۔ بالآخر جہاز جدہ ائیرپورٹ پر لینڈ ہوا۔ ہم جہاز سے اترے۔ رن وے بہت وسیع تھا۔ ہم بس میں سوار ہوکر ائیرپورٹ کی عمارت تک پہنچے۔ ائیرپورٹ کا سعودی سٹاف بے حد بارعب تھا۔ وہ لوگ بلند آواز میں بارعب انداز میں انگریزی بولتے اور مسافر ذرا گھبرا جاتے اور مؤدب ہوجاتے۔ ہم ائیرپورٹ کی وسیع عمارت میں چلتے رہے، کہیں کوریڈور ، کہیں سیڑھیاں ، کہیں لفٹ ، ہم سے ہینڈ کیری سنبھالا نا جارہا تھا۔ مختلف جگہوں پر چیکنگ کرواتے رہے۔ سامان اٹھانے کے معاملے میں یوں بھی ہم اناڑی تھے۔
    اسمارا ہماری مدد کو آئی اور کئی بار ہمارا ہینڈ کیری اٹھا کر چیکنگ والی مشین میں رکھا۔ ہمیں ائیرپورٹ پر کوئی ناکوئی رحمدل اور ہمدرد انسان مل ہی جاتا تھا۔ جو خوشی خوشی سامان اٹھانے میں ہماری مدد کرتا۔ کئی بار سوچا کیا ضرورت تھی اس سوٹ کیس کو ساتھ رکھنے کی اچھا ہوتا دوسرے سامان کے ساتھ بھیج دیتے مگر خیر اب کیا ہوسکتا تھا۔ ہم نے اس تعاون کے لئے اسمارا کا شکریہ ادا کیا۔
    ”اسمارا! تمہارا بہت شکریہ،ورنہ ائیرپورٹ پر کوئی کسی کے لئے رکتا نہیں ہے اور کسی کا سامان اٹھانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
    ہینڈ کیری اتنا بھاری ہے کہ ہم سے اٹھایا نہیں جاتا۔ اب اسے ساتھ لانابھی ضروری تھا۔”
    ہم نے ممنونیت سے کہا۔
    کو”ئی بات نہیں ۔اتنا تو ہم ایک دوسرے کے لئے کر ہی سکتے ہیں”وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
    ”ترکی کے سفر میں ہم ساتھ رہے مگر ہمیں آج تمہاری خوبیوں اور اچھائیوں کا اندازہ ہوا ہے نیک اور رحمدل لڑکی خو ش رہو۔”
    ہم نے دلی جذبات کا اظہار کیا۔
    وہ ہنس دی۔
    جن لوگوں نے عمر ے کے لئے جانا تھا ۔ وہ عمرہ کرنے چلے گئے۔ ہم وسیع و عریض ہال میں آگئے۔ جہاں بہت رش تھا۔ مسافر کرسیوں پر بیٹھے تھے اور اپنی فلائٹ کا انتظار کررہے تھے صد شکر کہ ہمیں بیٹھنے کے لئے کرسیاں مل گئیں۔ رات کا وقت تھا۔ میں نے ساتھ والی کرسی پر ہینڈ کیری رکھ دیا اور اسے تکیہ بنالیا اور دو کرسیوں پر لیٹ گئی۔ سوچا کچھ دیر آرام کرلیا جائے۔
    اسمارا سے کہا کہ وہ بھی سوجائے۔
    ”نیند آئے گی تو سوجائوں گی۔”
    وہ اطمینان سے بولی۔
    جدہ سے لاہو رکی ہماری فلائٹ صبح تھی۔ رات ہم نے ائیرپورٹ پر ہی گزارنی تھی۔ ساری رات کرسی پر بیٹھ کر بھلا کیا کرتے، سوچاکچھ دیر آرام کرلیتے ہیں۔ ہم صبح کے انقرہ سے نکلے ہوئے تھے۔ کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد شام کوہم استنبول پہنچے تھے۔ پھر ائیرپورٹ پر بورڈنگ اور چیکنگ میں مصروف ہوگئے۔
    وسیع و عریض ائیرپورٹ پر چلتے رہے۔ پھر کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد استنبول سے جدہ آئے۔ تھکاوٹ ہوگئی تھی۔ صبح سے سفر میں تھے، اب رات ہوگئی تھی۔ ایک نظر اِدھر اُدھر دیکھا۔ مختلف سمتوں میں ہمارے گروپ ممبرز کرسیوں پر بیٹھے نظر آئے۔





    اسمارا ہماری ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
    ”تمہاری دوست رمشہ اپنی والدہ یاسمین مشتاق اور بھائی طلحہ کے ساتھ عمرہ کرنے چلی گئی ہے۔ تم اب میرے ساتھ ہی رہنا۔ پردیس میں ہم وطن بہت اچھے دوست بن جاتے ہیں۔”
    میں نے اسمارا سے کہا۔
    ”جی ہاں۔ ہمارا سفر بہت اچھا گزرا۔ ہمسفر اچھے دوست بن جایا کرتے ہیں۔ اس سفر سے پہلے ہم لوگ ایک دوسرے کے لئے اجنبی تھے مگر اس سفر نے ہمیں محبت اپنائیت اور دوستی کے رشتے میں باندھ دیا۔ یوں تو میں BDSکی پڑھائی میں بہت مصروف رہتی ہوں۔ چھٹیوں میں ہی سیرو تفریح کے پروگرام بنتے ہیں۔ ہماری پڑھائی کی روٹین اتنی ٹف ہے کہ ہم لوگ چھٹیوں کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ رمشہ ترکی جارہی تھی تومیں بھی اس کے ساتھ آگئی۔”
    اسمارا نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
    ہم کچھ دیر باتیں کرتے رہے۔
    رات کے اس پہر بھی ائیرپورٹ کے ہال میں گہما گہمی تھی۔ دکانیں کھلی تھیں اور اسٹاف کے لوگ چاک و چوبند تھے۔ پھر میں کچھ دیر کے لئے سوگئی۔
    نیند آئی ہو اور انسان تھکا ہوا ہو تو وہ ائیرپورٹ کی کرسیوں پر بھی سوسکتا ہے۔
    صبح سویرے میری آنکھ کھلی۔ اسمارا کرسی پر سو رہی تھی۔
    میں گروپ کے باقی لوگوں کو دیکھنے کے لئے Prayer Room میں چلی آئی وہاں میری ملاقات زینب اور شہلا سے ہوئی۔ ان کے ساتھ میں نے ناشتا کیا۔ہماری فلائٹ میں ابھی کافی وقت تھا۔ کچھ ڈالرز پرس میں پڑے ہوئے تھے۔ سوچا کہ اب واپس جا ہی رہے ہیں تو بچے ہوئے پیسے خرچ کرلیتے ہیں ہم نے چائے اور بن خریدے اور Prayer Room میں بیٹھ کر اطمینان سے ناشتہ کیا۔ بہت سے لوگ ابھی سو رہے تھے۔ پھر میں رنگ برنگی چیزوں سے سجی ڈیوٹی فری شاپ میں چلی آئی جو صرف نام کی ہی ڈیوٹی فری شاپ تھی، قیمتیں اتنی زیادہ اور بے حد مہنگی چیزیں تھیں۔
    میں نے وہاں سے کچھ شاپنگ کی اور بچوں کے لئے چاکلیٹس خریدیں اور کچھ دیر یونہی مختلف چیزیں دیکھتی رہی سوچا اس طرح وقت گزر جائے گا۔
    میں واپس آئی تو دیکھا کہ اسمارا اٹھ چکی تھی اور کرسی پر بیٹھی کافی پی رہی تھی۔
    ”اٹھ گئی ہوا ناشتا کرلو۔ وہاں سامنے سے ناشتے کے آئٹمز مل رہے ہیں۔”
    میں نے کہا۔
    ”بس میں نے کافی لے لی ہے۔ جہاز میں ناشتا کرلوں گی۔ فلائٹ میں تھوڑا ہی وقت رہ گیا ہے۔”
    رات میں کس ٹائم سوگئی تھی پتا ہی نہیں چلا۔ نیند آئی ہو تو انسان کرسی پر بیٹھے بیٹھے بھی سوسکتا ہے۔”
    اس نے کافی پیتے ہوئے کہا۔
    سوئے ہوئے لوگ اٹھ گئے تھے۔ کچھ ناشتے والے کائونٹر پر کھڑے تھے، کچھ ڈیوٹی فری شاپ کی طرف جارہے تھے۔ ماحول میں ہلچل سی مچ گئی۔
    ہم ائیرپورٹ پر دیگر مسافروں سے بھی بات چیت کرتے رہے۔ بہت سے لوگ عمرہ کرنے انڈیا سے آتے تھے۔ انڈیا سے آئے لوگ ہمیں بہت سادہ سے لگے۔ سادہ لباس، سادہ انداز اور سادہ سامان، ان کے اردو بولنے کا انداز اور لہجہ مختلف تھا۔ کچھ لوگ Morrocco سے بھی آئے ہوئے تھے۔
    کچھ دیر بعد ہماری فلائٹ کی انائونسمنٹ ہوئی تو ہم لوگ قطار میں کھڑے ہوگئے۔
    اور قطار کی صورت میں ہی ہم باہر نکلے اور جدہ سے لاہور جانے والے جہاز پر سوار ہوگئے۔
    میرے ساتھ ایک خاتون اپنی چھوٹی بچی کے ساتھ بیٹھی تھیں۔
    ان کے شوہر سعودی عرب میں ملازمت کرتے تھے، وہ ان سے ملنے کے لئے آئی تھیں اور اب اپنی بچی کے ساتھ واپس پاکستان جارہی تھیں۔ روزگار کی خاطر پردیس میں رہنے والے پاکستانیوں کی بھی اک الگ داستان تھی۔ سفر میں اس خاتون کے ساتھ ہم گفتگو کرتے رہے۔
    جہاز میں زیادہ تر عمرہ زائرین تھے جو عمرہ کرنے کے بعد پاکستان جارہے تھے اور بے حد خوش تھے۔ ہم بھی بے چینی سے لاہور آنے کا انتظار کررہے تھے۔ جہاز کے ائیرہوسٹس تھوڑی بہت اردو بھی سیکھ گئے تھے ، بلکہ انہیں تو پنجابی بھی آتی تھی۔ انگریزی نا سمجھنے والے لوگوں سے پنجابی میں پوچھ لیتے کہ مرغی چاہیے یا مچھلی چاہیے۔
    ہم نے جہاز میں کھانا کھایا۔ جوس پیے، اور سعودی ائیر لائنز کی سروس سے خوب متاثر ہوئے۔ تھکن کے باوجود ہم خوش تھے کہ اپنے شہر لاہور جارہے ہیں۔ ذہن میں ترکی کی خوبصورت یادیں تھیں اور دل میں اطمینان تھا۔ لاہور سے ہماری محبت مثالی تھی۔
    بلکہ مجھے لاہور شہر سے عشق تھا اور یہ محبت مجھے اپنی والدہ سے ورثے میں ملی تھی۔
    جب ابو فوج سے ریٹائر ہوئے تو انہیں ایک سال کے لئے ٹیکسلا کینٹ میں گھر ملا تھا مگر ابو نے سامان سمیٹ لیا اور لاہور آنے کی تیاری کرنے لگے۔ لوگوں نے روکا بھی کہ آپ ایک سال کے لئے اس گھر میں رہ سکتے ہیں۔ اتنی جلدی لاہور جانے کی کیا ضرورت ہے، ابو بولے کہ کیا کرنا ہے یہاں رہ کر، برسوں نوکری کی وجہ سے ہم مختلف شہروں میں رہے ہیں۔ اب لاہور سیٹل ہونا چاہتے ہیں۔ پھر ابو وہاں رُکے نہیں، سامان پیک کروا لیا اور ایم ای ایس کا سامان انہیں ہینڈ اوور کردیا، جس کی رسید آج بھی ابو کے بریف کیس میں پڑی ہے۔ وہ چیزیں سنبھالنے والے آدمی تھے۔ ان کے بریف کیس میں برسوں پرانے کاغذات ، رسیدیں ، خطوط ۔ حتیٰ کہ دو روپے اور پانچ روپے کے پرانے نوٹ بھی سنبھال کررکھے ہوتے تھے۔ پھر ہم لاہور آگئے۔ امی ابو خوش تھے۔ میں شادی کے بعد راولپنڈی آگئی۔ میاںکے تبادلے کی وجہ سے میں مختلف شہروں میں رہی مگر ہر شہر میں لاہور کی رونقیں ڈھونڈتی رہی۔ ہر شہر مجھے پرایا لگتا۔ میاں کو پنڈی سے انس تھا وہ وہیں خوش رہتے۔ میں پنڈی اور اسلام آباد کے سنجیدہ لوگوں میں لاہوریوں کی خوش مزاجی تلاش کرتی۔ اس جستجو نے مجھے تھکادیا۔ کسی نئے شہر میں نئے دوست اور نیا حلقہ ٔ احباباب بنانا مشکل ہوتا ہے جب آپ کو لوگوں کے رویوں اور عادات کے متعلق بھی زیادہ علم نہ ہو۔





  • استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ)  |  باب 7

    استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 7

    تحریر:مدیحہ شاہد

    استنبول سے انقرہ تک ”  (سفرنامہ)”

    انقرہ کی روشنیاں
    باب7

    صبح سویرے ہم ناشتہ کرنے کے بعد کپاڈوکیہ سے انقرہ کے لئے روانہ ہوئے۔ راستے میں ہم ایک جھیل پررکے جس کا نام salt lake Tuz Golu تھا۔ کہاجاتا ہے کہ وہ نمک کی جھیل تھی جس کے کنارے نمک سے بھرے ہوتے تھے۔ یہ جھیل قدرت کا شاہکار ہے۔ ہم بس سے اتر کر جھیل کنارے چلے آئے۔ جھیل کے پانی پر سنہری کرنیں چمک رہی تھیں۔ ہم نے کچھ وقت گزارا۔ یہ ترکی کی دوسری بڑی جھیل ہے۔ جھیل کا نظارہ بہت خوبصورت تھا۔ دور تلک پانی ہی پانی نظر آتا۔
    جھیل کے کنارے پر ذرا فاصلے پر اس جھیل کا نام Tuz Golu جعلی حروف میں لکھا ہوا تھا جس کے پاس بیٹھ کر لوگ تصویریں بنوا رہے تھے۔ جھیل کے کنارے پر چلنا دشوار تھا مگر لوگ جوش وخروش کے عالم میں دشواری کے باوجود چلتے جارہے تھے۔
    کچھ دیر جھیل پر رکنے کے بعد ہم نے دوبارہ سفر شروع کیا اور انقرہ کے لئے روانہ ہوئے۔
    انقرہ ترکی کا دارالحکومت ہے اور ایک ترقی یافتہ شہر ہے۔ یہ اناطولیہ کے وسط میں واقع ہے۔ اس شہر کا پرانا نام انگورہ تھا مگر 1923ء میں اسے ترکی کا دارالحکومت بناکر انقرہ کا نام دیا گیا۔ یہ استنبول کے بعد ترکی کا دوسرا بڑا شہر ہے۔
    انقرہ انگوار کی کاشت اور دیسی شہد کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ انقرہ ترک دفاع اور ایروسپیس کمپنیوں کامرکز بھی ہے۔ ترکی کے دیگر علاقوں سے یہاں طلبہ و طالبات کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھی آتے ہیں۔ انقرہ کی سب سے بڑی مسجد کا نام کوکاٹیپی مسجد ہے۔ جسے عثمانی طرز تعمیر کے مطابق بنایا گیا ہے۔ اس شہر میں احمد حمدی ایسقی مسجد بھی موجود ہے۔ جو عثمانی حکومت میں تعمیر کی گئی تھی۔
    ینی مسجد بھی یہاں واقع ہے جسے سولہویں صدی میں معمار سنان نے تعمیر کیا تھا۔
    ابقدس انقرہ کی سب سے قدیم مسجد ہے اس میں اخروٹ کا ایک نقشہ موجود ہے جس میں لکھا ہے کہ یہ مسجد 574ء عیسویں میں تعمیر کی گئی تھی۔ ایک پہاڑی پر انقرہ قلعہ بھی واقع ہے۔ انقرہ میں بہت سی تاریخی عمارات موجود ہیں۔
    انقرہ سرسبز شہر ہے اس لئے اسے گرین سٹی بھی کہاجاتا ہے۔ انقرہ میں بہت سے بازار موجود ہیں اور بہت سارے میوزیم بھی ہیں۔
    ترکی کی نیشنل پولیس اکیڈمی بھی اسی شہر میں واقع ہے۔
    ہم راستے میں ایک جگہ لنچ کے لئے رکے پھر انقرہ پہنچتے پہنچتے ہمیں سہ پہر ہوگئی۔ ہم میوزیم اور بازار میں سے کسی ایک جگہ پر ہی جاسکتے تھے۔
    سرخان نے سب سے مشورہ لینا چاہا۔
    ”آپ لوگ بازار جانا پسند کریں گے یا میوزیم؟”
    اس نے اعلانیہ انداز میں پوچھا۔
    ”بازار، بازار……..”
    سب نے یک زبان ہوکر جوش و خروش کے عالم میں باآواز جواب دیا۔
    ”پھر بازار۔۔۔”
    سرخان عاجز آگیا۔
    ”اور کتنی شاپنگ کریں گے آپ لوگ؟ سامان کا بھی خیال رکھیں، سامان زیادہ ہوگیا تو لے جانے میں مشکل ہوگی، ایئرپورٹ پر لوگ اعتراض کریں گے۔”
    سرخان نے نامحانہ انداز میں کہا۔
    ”ہم پھر بھی بازار ہی جائیں گے۔ بازار صرف شاپنگ کرنے کے لئے ہی نہیں بلکہ رونقیں، دکانیں اور ریسٹورنٹ دیکھنے کے لئے بھی جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں بازاروں میں رش رہتا ہے، لوگ بازار جاتے ہیں اور کچھ نہیں تو یونہی بازار کی گلیوں میں شغل لگاتے ہوئے پھرتے رہتے ہیں۔ اکثر نوجوان تویونہی بازار کے قریب تھڑوں پر بیٹھے دکھائی دیں گے۔ ہمارے ہاں بازار جانا ایک ہابی اور ایکٹیویٹی ہے۔”
    لوگوں نے اپنی اپنی رائے دی۔
    سرخان کو سب کی بات مانتے ہی بنی۔
    ہم ہوٹل پہنچے جس کا نام Best Wester’n hotel Zoooتھا۔ انٹرنس پر شیشے کا بڑا سا دروازہ نصب تھا۔ ہمارا کمرہ تیسری منزل پر واقع تھا۔ ہم نے کمرے میں سامان رکھا ۔ کمرہ خوبصورت اور آرام دہ تھا۔ ہم نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو نیچے سڑکیں اور گلیاں نظر آئیں۔ سامنے دکانیں بھی تھیں۔ حسب ِ عادت ہم نے تھوڑی سی کھڑکی کھول دی کہ تازہ ہوا آتی رہے۔ ابھی تک ہم Ceterally heatedماحول کے عادی نہ ہوئے تھے۔
    کمرے میں سامان رکھ کر ہم بازار جانے کے لئے ہوٹل کی لابی میں چلے آئے ، پھر سوچا کہ وائی فائی بھی connectکروا لیں ہم منیجر کے پاس چلے آئے جو باری باری لوگوں کے موبائل پر وائی فائی connectکررہا تھا۔
    ”پانچ منٹ انتظار کرلیں، سیکورٹی کی وجہ سے ہر فلور کا پاس ورڈ مختلف ہے اور یہاں انٹرنیٹ connectکرنے کا طریقہ بھی مختلف ہے۔ تسلی رکھیے میں آپ سب لوگوں کے موبائل پر وائی فائی connectکردوں گا۔ بس تھوڑا سا انتظار کرلیں۔”
    کائونٹر پر کھڑے سوٹڈ بوٹڈ منیجر نے پروفیشنل انداز میں ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ وہ انگلش سمجھتا اور بولتا تھا۔
    وہ سفید رنگت اور بھورے بالوں والا دبلا پتلا خوش اخلاق نوجوان تھا۔ جو اردو ناسمجھتے ہوئے بھی اشتیاق بھرے انداز میں پاکستانیوں کو اردومیں بات کرتے ہوئے بغور دیکھ رہا تھا اور ان کے تاثرات دیکھ کر ان کی بات سمجھنے کی کوشش بھی کررہا تھا۔
    وہ ایک ذہین شخص تھا۔ اسے معلوم ہوگا کیا ہم لوگوں کو انٹرنیٹ connect کرنے کی اور پھر بازار جانے کی جلدی ہے۔
    ”ہم چلتے ہیں یہ لوگ بعد میں آجائیں گے۔”
    ساجدہ نے میرا بازو تھام کر کہا۔
    انہیں انقرہ دیکھنے کی جلدی تھی اور اب وہ ہوٹل میں رکھنے کو تیار نہ تھیں۔”
    ”چلیں آپ لوگ جائیں، ہم بھی پیچھے سے آرہے ہیں۔”یسریٰ نے بے ساختہ کہا۔
    ”منیجر نے یہ گفتگو سنتے ہوئے ہمیں انگریزی میں بازار کا راستہ اور محل و قوع سمجھانے کی کوشش کی اور کاغذ کی چِٹ پر احتیاطاً بازار کا نام بھی لکھ دیا۔
    اس نے وہ کاغذ کا چھوٹا سا ٹکڑا ہماری طرف بڑھایا جس پر Hilmi street لکھا ہوا تھا، ہم نے اس کی ذہانت پر عش عش کرتے ہوئے وہ چٹ لی اور ہوٹل کے دروازے سے باہر نکل آئے۔
    راستے میں ہم وہ کاغذ کا ٹکڑا راہ گیروں کو دکھاتے ہوئے کہ اس بازار کا راستہ بتادیں اور یوں ہم مختلف سڑکوں پر چلتے ہوئے بالآخر ہلمی اسٹریٹ کے بازار پہنچ گئے۔
    انقرہ ایک ماڈرن شہر ہے، یہاں سڑک کے کنارے سٹی منزلوں والے اپارٹمنٹس تھے جن کے سامنے پھولوں کے گملے رکھے تھے۔ دارالحکومت ہونے کی وجہ سے یہ ترکی کا اہما ور ترقی یافتہ شہر ہے۔ یہاں جدید طرز تعمیر والی عمارتیں اور اپارٹمنٹس واقع ہیں۔ یہاں کی رونقیں میں گہما گہمی ہے۔ یہاں کا طرزِ زندگی ترکی کے باقی شہروں سے مختلف ہے۔
    سڑک پر ٹریفک رواں دواں تھا۔ جابجا اونچی عمارتیں نظر آتیں۔ سڑکیں کشادہ اور پررونق تھیں۔ ٹریفک کا شور ماحول پر حاوی تھا۔
    ہلمی اسٹریٹ کا بازار پررونق اور وہاں کا مشہور بازار تھا۔ سڑک کے اطراف جدید طرز کی دکانیں تھیں۔ زیادہ تر دکانیں ترکی کے روایتی عروسی ملبوسات کی تھیں۔ موتی ستاروں والے کامدانی سفید رنگ کے لمبے گھیر دار فراک دکانوں میں سجے ہوئے تھے۔
    ہم نے ایک منی ایکسچینج سے کرنسی تبدیل کروائی اور کچھ دیر کے لئے سڑک کے کنارے رکھی میز کرسیوں کے قریب چلے آئے۔
    وہاں زمین پر
    لکھا ہوا تھا جس کا مطلب ہے۔
    ہم لوگ کافی دیر سے پیدل چل رہے تھے اس لئے کچھ دیر کے لئے کرسی پر بیٹھ گئے۔ قریب ہی ایک درخت بھی تھا۔ عقب میں ترکی کے روایتی عروسی ملبوسات کی دکانیں تھیں۔ شادی پر دلہنوں کے پہننے والے سفید رنگ کے خوبصورت سے فراک سجے ہوئے تھے۔ کچھ فاصلے پر کپڑوں کی دکان بھی تھی۔
    یہ انقرہ تھا۔ ترکی کا دارالحکومت جس کے بارے میں ہم بچپن سے سکول کی درسی کتابوں میں پڑھتے آئے تھے، انقرہ اسلام آباد سے ملتا جلتا تھا۔ انقرہ کی اس پررونق سڑک کے کنارے بیٹھ کر گاڑیوں کو دوڑتے اور لوگوں کو اپنی دھن میں مگن چلتے پھرتے دیکھ کر ہم سوچ رہے تھے کہ بھلا ہم نے کب سوچا تھا کہ ایک دن انقرہ میں سڑک کنارے بیٹھے ہوں گے۔ ہم حیران اور خوش تھے۔ مقدر انسان کوکب کہاں لے آتا ہے، اس کی خبر بھی نہیں ہوتی۔
    کچھ دیر بعد ہم وہاں سے اٹھے اور بازار کی گلیوں میں چلے آئے۔
    راستے میں ہمیں مختلف جگہوں پر ہمارے گروپ کے لوگ ملتے رہے، کوئی کسی دکان سے نکلتا ہوا دکھائی دیا تو کوئی سامنے سے آتا نظر آیا، کسی کونے سے اردو بولنے کی آواز آتی تو کہیں سے پنجابی کے جملے سنائی دیتے۔
    ان دن انقرہ کے مصروف بازار میں ہر جگہ پاکستانی دکھائی دے رہے تھے۔ اردو اور پنجابی میں بولے گئے جملوں کی آوازیں ہر سمت گونج رہی تھیں۔ اس دن وہاں پاکستانیوں کا ہی راج تھا۔
    ہم نے وہاں سے شاپنگ کی اور بچوں کے کپڑے خریدے۔ بازار میں مختلف گلیاں تھیں جہاں مختلف اشیاء کی دکانیں تھیں۔
    ساجدہ ایک کونے میں کچھ سوچتے ہوئے کھڑی تھیں۔ جیسے کوئی فیصلہ نا کر پارہی ہوں۔ ہم نے اس کا سبب دریافت کیا۔
    ”کیا ہوا؟ لوگ شاپنگ میں مصروف ہیں اور آپ یہاں کھڑی کیا سوچ رہی ہیں؟”
    انہوں نے سنجیدگی سے ہماری طرف دیکھا۔
    ”سوچ رہی ہوں کیا خریدوں! میرے بچے جوان ہیں، صرف مخصوص برانڈز کے کپڑے پہنتے ہیں، اور ہر چیز اپنی پسند سے چنتے ہیں ، سمجھ نہیں آرہی ان کے لئے کیا لوں؟”
    وہ سوچتے ہوئے بولیں اور پھر دھیرے سے چلتے ہوئے مردانہ کپڑوں کی اک دکان پر چلی گئیں۔ میں بھی میک اپ سے سجی اک دکان پر چلی آئی جہاں سیل لگی تھی۔ ریک پر میک اپ کا سامان سجا تھا۔ہم نے وہاں سے میک اپ کا سامان خریدااور ہم مختلف رنگوں کی نیل پالش دیکھ رہے تھے کہ وہاں یسریٰ چلی آئی۔
    ”آپ یہاں ہیں؟ واہ بڑی شاپنگ ہورہی ہے؟”
    وہ خوشدلی سے بولی۔
    ”سیل لگی ہے، شاپنگ کر لو میک اپ کی بہت اچھی ورائٹی ہے۔”
    میں نے مسکرا کر کہا۔
    ”کتنی شاپنگ کرنی ہے۔ واقعی یہ دکان تو بہت اچھی ہے۔ بڑی ورائٹی ہے یہاں تو۔”
    اس نے ستائشی انداز میں کہا۔
    دکاندار خاتون یہ گفتگو سنتے ہوئے مختلف چیزیں دکھانے لگی۔ یہاں دکانیں خواتین بھی چلاتی تھیں۔ اور کسی خاتون کا دکان پر بیٹھنا اک نارمل سی بات تھی۔ یہاں بہت سی خواتین اس پروفیشن سے منسلک تھیں۔
    ”یسریٰ تم یہاں ہو۔”
    اچانک رضیہ پھپھو کی آواز آئی۔
    ”تم کہاں چلی گئی تھی، میں نے ہر جگہ دیکھ لیا، مجھے بتا کر تو آتی، میں پریشان ہوگئی تھی، اجنبی دیس ہے۔”
    رضیہ آنٹی نے پریشانی سے کہا۔
    ”میں کچھ دیر کے لئے یہاں چلی آئی، سوچا قریب ہی دکان ہے، میک اپ دیکھ رہی تھی۔”
    اس نے تاویل پیش کی۔
    ”یہ کون ہیں؟”

    دکاندار خاتون نے پوچھا۔
    ”یہ میری پھپھو ہیں۔”
    یسریٰ نے جواباً کہا۔
    دکاندار خاتون حیرت سے دیکھتے ہوئے صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کررہی تھی۔
    یسریٰ اور پھپھو دکان سے چلی گئیں۔
    میں شاپنگ کرنے کے بعد باہر آئی۔
    اور کچھ دور چلنے کے بعد مجھے سڑک کے کنارے ایک جیولری شاپ نظر آئی، میں شاپ میں چلی آئی جہاں رفعت آنٹی بھی موجود تھیں۔
    کائونٹر پر سفید بالوں والا بوڑھا شخص بیٹھا تھا، وہ ایک بارعب دکاندار تھا۔
    ”آپ کے پاس سلطان نائٹ کی انگوٹھی ہے؟ اس پتھر کا رنگ بدلتا رہتاہے۔”
    ہم نے مدعا بیان کیا۔
    ”جی ہاں، یہ دیکھیں ، سلطان نائٹ انگوٹھیوں کے بہت سے ڈیزائن ہیں، کون سی انگوٹھی آپ پسند کریں گے؟”
    دکاندار نے ہمیں بہت سی انگوٹھیاں دکھائیں۔ ہم دلچسپی سے مختلف انگوٹھیاں دیکھنے لگے۔
    میں نے اور رفعت نے انگوٹھی خریدی۔
    ”شکرہے کہ ہمیں یہ انگوٹھی مل گئی ہمیں اس کی ہی تلاش تھی۔”
    ہم نے خوشی خوشی وہ انگوٹھی انگلی میں پہن لی اور دکان میں جلتی لائٹوں کی روشنی میں پتھر کا بدلتا ہوا رنگ دیکھ کر خوش ہوتے رہے۔
    سلطان نائٹ ایک قیمتی پتھر کا نام ہے۔ جو ترکی کے پہاڑوں سے نکلتا ہے۔ اس پتھر کا رنگ روشنی کے ساتھ بدلتا ہے۔ یہ ترکی کا مشہور پتھر ہے اور ترکی آنے والے لوگ اس پتھر کی انگوٹھی ذوق و شوق سے خریدتے ہیں۔
    ہم یہ شاپنگ کرکے اس دکان سے باہر نکلے۔
    ایک دکان سے یسریٰ نے خوبصورت سا بیگ خریدا۔ اسی دکان میں زاہدہ فاروق اور ان کا بیٹا حیدر بھی چلے آئے۔ زاہدہ نے بھی بیگ خریدنا تھا۔ بہت سے لوگوں کا سامان خریداری کے باعث بڑھ گیا تھا۔ اس لئے انہیں مزید ایک بیگ کی ضرورت تھی۔
    ”کیا آپ بتائیں گی کہ یہ بیگ کتنے کا ہے؟”
    حیدر نے یسریٰ کا بیگ دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    یسریٰ نے بیگ کی قیمت بتادی۔
    پھر وہ اپنی والدہ کی جانب مڑا۔
    ”امی، ایسا بیگ لے لیں، اچھا بھی ہے اور قیمت بھی مناسب ہے۔”

  • ماں کا آکاش

    ماں کا آکاش

    ماں کا آکاش

    انتساب
    وطن اور قوم کی خاطربہنے والے لہو کے نام

    ادارتی نوٹ
    اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جو انسان کی خاص توجہ حاصل کرلیتے ہیں اورکیپٹن آکاش آفتاب ربانی شہید کی سوانح حیات کی ادارت بھی میرے لیے ایک ایسا ہی کام تھا۔ وجہ صرف یہ نہیں کہ یہ ملک و قوم کی خاطر جواں مردی سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے ایک دلیر فوجی کی کہانی ہے، بلکہ یہ کہانی اس ماں کی یادوں پر مشتمل ہے جو اب بھی اپنے شہید بیٹے کو دیکھتی ہے، محسوس کرتی ہے، اس سے باتیں کرتی ہے۔ جس کی کرسی آج بھی کھانے کی میز پر سجتی ہے اور جس کا کمرہ آج بھی تیار کیا جاتا ہے۔ ایک بہادر فوجی کا اپنے گھر اور دوستوں کے ساتھ نہایت دوستانہ رویے کا امتزاج بھی دلنشین ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کتاب کی ادارت کے دوران تخیلات کی دنیا میں سفر کرتے ہوئے میری بھی کئی جگہ اس دوست صفت انسان سے ملاقات ہوئی۔
    ”شہید کبھی مرتا نہیں“ کا فلسفہ مذہبی اعتبار سے ہٹ کر ایک دنیاوی پہلو بھی رکھتا، یہ بات شاید آپ کو کیپٹن آکاش شہید کی سوانح حیات پڑھ کر معلوم ہوسکے۔

    نوید احمد خان
    ایڈیٹر
    ٭……٭……٭

    پیش لفظ

    15جولائی 2014ء کو میرے دل، میری روح، میرے احساسات اور میرے وجود پرجو خبر بجلی بن کر گری، اس کے صدمہ سے باہر آنا شاید ممکن ہی نہیں مگر مشیتِ ایزدی کے سامنے میری کیا حیثیت۔ اس ٹوٹے ہوئے دل، اس پر سوز روح، ان بکھرے ہوئے پریشان خیالات و احساسات کو کہانی کی شکل دینے کی ایک بہت ناکام کاوش نے مجھ سے شہید کیپٹن آکاش آفتاب ربانی کو یاد کرتے ہوئے یہ اور اق لکھوا دیے۔
    ایک ماں جس کا بہت پیارا اور عزیز از جان بیٹا، بہت ہونہار، قابل اور ذمہ داربیٹا جوچوبیس سال کا ہونے سے ڈھائی ماہ پہلے شہید ہو جائے، اس کی آنکھوں اور دنیا سے روپوش ہوجائے تو یہ خیال ہی اس ماں کے لیے کتنا اذیت ناک ہوگا کہ میرے شہزادے سے بچے کی کہانی ختم…… اور اتنی جلدی ختم۔ اس کے بیٹے کی زندگی کے سارے Chapters Close۔ بس اتنی مختصر سی زندگی تھی اس کی۔

    میرے پھول سے بچے کی جوانی شروع ہوئی اور ابھی ہی تو اس کے خوابوں کی تکمیل کا وقت شروع ہوا تھا۔ اس کی چھوٹی بڑی بے شمار خواہشیں، اس کے خوبصورت اور اہم plans،اس کے ارادے جو وہ وقتاً فوقتاً میرے ساتھ شیئر کرتا رہتا تھا، سب کچھ پورا کیے بغیر کوئی خوشی دیکھے بغیر کیسے جا سکتا ہے وہ۔ کیسے چلا گیاوہ۔
    اور اب وہ اس دنیا میں مجھے اور کسی کو بھی دوبارہ نظر نہیں آئے گا اور پھرout of sight, out of mindسب اسے بھول جائیں گے کہ آکاش نام کا لڑکا بھی ہوتا تھا۔
    آکاش کی جدائی، اس کی کمی اور اُس کے بچھٹرنے کے غم کے علاوہ یہ بھی ایک بہت بڑا دکھ کہ میرے بچے کی کہانی جو میری کہانی سے بہت بعد میں شروع ہوئی تھی، وہ میری کہانی سے اتنا پہلے کیسے ختم ہو گئی۔ یہ سوچ اتنی تکلیف دہ ہے کہ اس کے ساتھ سانس لینا بھی محال لگتا ہے۔
    اگرچہ شہادت آکاش کی سب سے بڑی خواہش تھی۔لیکن کاش وہ تھوڑا سا اور جی لیتا۔ کچھ سال اور رہ جاتا یا کم از کم میری زندگی سے پہلے تو نہ جاتا۔ اس دنیا سے میری آنکھوں کے سامنے یوں نہ رخصت ہوتا۔
    اپنے اس دکھ کو کم کر کرنے کے لیے جب میں نے اور شہید بچوں کی ماؤں سے ملناشروع کیا اور ان شہیدوں کی کہانیاں ان کی ماؤں اور گھر والوں سے سنیں تو مجھے لگا کہ تقریباًسب شہید بچوں کی کہانیاں بہت مماثلت رکھتی ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے چہرے، ان کی مسکراہٹیں، ان کی عادتیں، ان کا اپنی ماؤں سے والہانہ پیار اپنے سب گھر والوں کا بے انتہا خیال سب کچھ ایک جیسا اور بہت قابلِ رشک۔ تو میرا دل چاہا کہ میں آکاش کی کہانی لکھوں۔ آکاش سے ملتی جلتی اُن تمام شہید بچوں کی کہانی لکھوں کہ کتنے پیارے پیارے، میرے آکاش جیسے بچے، پھولوں کی مانند معصوم بچے وطن اور قوم کی خاطر بن کھلے ہی مرجھا گئے۔
    یہ کہانی لکھنا میرے لیے آسان نہ تھا۔ آکاش کی زندگی کو سوچنا، پڑھنا اور لکھنا بہت تکلیف دہ تھا۔ ماضی کے اس حصے میں چلے جانا جب وہ میرے ساتھ ہوتا تھا اورپھر واپس حقیقت کی دنیا میں آکر اسے کہیں نہ پانا اور بار بار یہ عمل اپنے ساتھ دہرانا بہت مشکل، تکلیف دہ اور بہت اذیت ناک تھا۔ شاید ہی کوئی ایسی سطر ہوگی جو میں نے بغیر آنسوؤں کے لکھی ہو۔ یہ میرے لیے بالکل ایسے تھا جیسے اپنے زخموں کو تیز بلیڈ سے کھرچ کھرچ کر ان پر نمک ڈالنا۔ لیکن میں نے مصمم ارادہ کرلیا تھا کہ میں نے یہ کرنا ہے۔ اس بیٹے کے لیے جس نے اس دکھ کے باوجود مجھے پہچان دی۔ مجھے شناخت دی۔ اپنا پاک لہو دے کر مجھے ایک شہید کی ماں ہونے کا اعزاز دیا۔
    اس نے دنیا میں بھی میری تربیت، میری پرورش اور میری محبت کی لاج رکھی اور انشاء اللہ آخرت میں بھی میری شفاعت کا ذریعہ بنے گا اور مجھے میرے پروردگار کے سامنے بھی سرخرو کرے گا۔انشاء اللہ!
    میں نے روتے روتے اسے سوچا اور روتے روتے ہی یہ کتاب لکھی۔ اس خیال کے ساتھ کہ کوئی نہ کوئی کبھی نہ کبھی بھولے بسرے اسے پڑھ لے گا اور آکاش کا وجود نہ سہی اس کا نام تو رہے گا۔
    اس بات پر ایمان کے باوجود کہ نام زندہ رکھنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ اس ذات نے اپنے نیک بندوں کے نام ناصرف زندہ رکھے ہوئے ہیں بلکہ اس کے وسیلے سے وہ بہت سے ہم جیسے گناہ گاروں پر بھی اپنا کرم کرتا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے نام دیتا ہے، عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے آکاش کی شہادت کے ذریعے مجھ جیسی گناہ گار کو بہت کچھ سکھا دیا اور وہ خالقِ کائنات شہادت کو جس طرح ownکر رہا ہے، وہ نہ کرتا تو شاید شہیدوں کی ماؤں کے لیے ان کے بچوں کے بعد سانس لینا ہی مشکل ہوجاتا۔
    اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ ”شہید کو مردہ تصور نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے۔“
    میں سب لوگوں کی طرح یہ سمجھتی تھی کہ یہ کوئی ایسا phenomenanہے جو آخرت کے بارے میں ہے۔ یہ شہید کی دوسرے جہاں کی زندگی کے بارے میں آیت ہے۔ لیکن میرے اللہ نے مجھے اور میرے گھر والوں کویہ بتایا کہ نہیں، یہ آیت صرف دوسرے جہاں سے تعلق نہیں رکھتی کہ شہید سبز پرندوں کی شکل میں جنت میں جہاں چاہتے ہیں اڑتے پھرتے ہیں۔بلکہ وہ اس دنیا میں بھی کسی نہ کسی صورت میں پائے جاتے ہیں۔
    آکاش میرے ساتھ نہیں ہے۔ میں اُسے ظاہری حالت میں دیکھ نہیں سکتی چھو نہیں سکتی۔ لیکن میں ہر وقت ہر دن اُس کے کا موں کے ساتھ ایسے ہی مصروف ہوتی ہوں جیسے میں اپنے دوسرے دو بچوں کی وجہ سے ہوتی ہوں۔ بلکہ شاید حقیقت یہ ہے کہ آکاش سے relatedکام دوسرے بچوں اور گھر کے کاموں سے زیادہ ہوتے ہیں۔ میں اگر ان کاموں کی تفصیل لکھوں گی تو بہت لمبا ہو جائے گا۔ مختصراً مجھے میرے رب نے دکھایا اور سکھایا ہے اور مسلسل دکھا رہاہے کہ شہید کے زندہ ہونے کا مطلب کیا ہے۔
    میں اپنے رب کی بے انتہا شکرگزار ہوں کہ اُس نے میرے بچے کو شہادت کا بلند مقام بلند درجہ عطا کیا اور مجھ ناچیز کو شہید کی ماں ہونے کا اعزازدیا۔ کیونکہ وہ قادرالمطلق ہے۔ وہ اگر مجھے آکاش جیسا بیٹا نہ دیتا یا پھر اُسے دے کر کسی اور ذریعے سے واپس لے لیتا، تو بھی میرا کیا اختیار تھا۔ تو میں اُس اللہ کی ذات کا اس کے احسانات کے لیے
    جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔
    اس کتاب کے لکھنے میں میرے ساتھ بہت سے لوگوں کا تعاون شامل ہے جن کی فہرست بہت لمبی ہے۔ لیکن میں خاص طور پر اپنے ان پیاروں کا نام ضرور لکھنا چاہتی ہوں جن کے تعاون اور مدد کے بغیر یہ کتا ب لکھنا ممکن نہ ہوتا۔
    (1) عبیداللہ ساہی آکاش کے سکول اور کالج کا دوست
    (2) میجر احسن اقبال 48 field Regt Arty
    (3) میجر عارف نیازی 47 field Regt Arty
    (4) میجر محمد اسلم 2 cdo Battalian
    (5) میجر ہاورن 4 cdo Battalian
    (6) میجر جواد 4 cdo Battalian
    (7) حوالدار اقبال 4 cdo Battalian
    (8) عثمان کیانی 4 cdo Battalian
    (9) سر علی رضانقوی Central Public School
    خاص طور پر عمیرہ احمد صاحبہ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ انہوں نے اپنی بے پناہ مصروفیت کے باوجود میری اس کتاب کو دیکھنے اور شائع کرنے کی حامی بھرلی۔ میں کیا ہو ں؟ لیکن ایک شہید کی ماں ہونے کی وجہ سے اپنی مصروفیت کے باوجود انہوں نے مجھے انکار نہیں کیا۔ میں دل کی گہرائیوں سے ان کی ممنون ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ میں کس طرح سے ان کا شکریہ ادا کروں۔ بس اتنا کہوں گی عمیرہ جی آپ کے لیے بہت بہت دُعائیں ہیں۔ اللہ پاک آپ کو ہمیشہ ہمیشہ خوش اور شادآباد رکھے۔ آپ پر کبھی کسی غم کا سایہ بھی نہ پڑے اور میرا رب آپ کی ہر ہر خواہش پوری کرے۔(آمین ثم آمین)
    عمیرہ احمد کی پوری ٹیم خاص کر نوید احمد خان صاحب کی بے انتہا ممنون ہوں کہ انہوں نے اس کتاب کو پایہئ تکمیل تک پہنچایا۔
    میرے وہ سب محسن جن کی وجہ سے یہ کتاب ممکن ہوئی سب کے لیے بہت دُعائیں!
    ساجدہ آفتاب ربانی
    والدہ شہید کیپٹن آکاش آفتاب ربانی

    ٭……٭……٭