Tag: mahira khan

  • امربیل — قسط نمبر ۸

    امربیل — قسط نمبر ۸

    "تمہارا جہانگیر کے ساتھ کوئی جھگڑا ہے؟” اس شام لان میں چائے پیتے ہوئے باتوں کے دوران اچانک لئیق انکل نے اس سے پوچھا۔
    عمر چونکا ”نہیں۔” اس نے بڑے نارمل انداز میں کہا۔
    ”اچھا!” لئیق انکل نے حیرت کا اظہار کیا۔ ”جہانگیر تو کہہ رہا تھا کہ تم آج کل اس سے کچھ ناراض ہو۔ تم دونوں کے درمیان کوئی بات وات نہیں ہوتی؟”
    لئیق انکل نے چائے کے سپ لیتے ہوئے بڑے جتانے والے انداز میں کہا۔
    ”نہیں، بات تو ہوجاتی ہے مگر کوئی خوشگوار انداز میں نہیں ہوتی۔” عمر نے بڑی لاپروائی سے کہا۔
    ”اچھا! کیوں؟” لئیق انکل نے خاصی بے نیازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوچھا۔
    عمر نے ایک گہری نظر ان پر ڈالی۔ ”پاپا خوشگوار انداز میں کسی خوبصورت عورت سے ہی بات کرتے ہیں۔ یا پھر کسی سیاست دان سے۔”
    لئیق انکل نے بے اختیار قہقہہ لگایا۔ عمر اسی طرح بے تاثر چہرے سے انہیں دیکھتا رہا۔ بمشکل اپنی ہنسی روکتے ہوئے انہوں نے کہا۔ ”you have a very good sense of humour” (تمہاری حس مزاح بہت اچھی ہے) مگر اس طرح کی بات جہانگیر کے سامنے مت کرنا۔”
    ”ورنہ وہ چوتھی شادی کرلیں گے۔ ہے نا۔۔۔” عمر نے لاپروائی سے کہہ کر ایک بار پھر چائے پینا شروع کردیا۔
    ”اسی قسم کی باتیں تم جہانگیر سے کرتے ہو، اسی لیے تو وہ اتنا پریشان رہتا ہے۔”
    ”ایکسکیوزمی! پاپا میری وجہ سے پریشان نہیں ہوتے۔ وہ اپنے علاوہ کسی دوسرے کے بارے میں پریشان ہوتے ہیں نہ ہی کسی دوسرے کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں۔”
    عمر نے چائے کا کپ سامنے پڑی ہوئی میز پر رکھ دیا۔
    ”عمر! جہانگیر کے بارے میں اتنا بدگمان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ تمہاری بہت پروا کرتا ہے۔ تم اس کے بیٹے ہو۔ وہ تمہارے رویے کی وجہ سے بہت فکر مند رہتا ہے۔” لئیق انکل یکدم سنجیدہ ہوگئے۔
    ”اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ میں ان کی اولاد ہوں یا ان کا بیٹا ہوں۔”




    ”کیوں فرق نہیں پڑتا… تم جہانگیر سے پوچھو، کتنی اہمیت ہے اس کے نزدیک تمہاری۔”
    ”میں ان کی اکلوتی اولاد نہیں ہوں۔ دوسری بیوی سے بھی ان کی اولاد ہے اور اب۔ اب تیسری سے بھی ہوجائے گی۔” اس کے لہجے میں تلخی تھی۔
    ”مگر تم اس کے سب سے بڑے بیٹے ہو۔ تمہاری اور اس کی بہت اچھی انڈراسٹینڈنگ ہونی چاہیے ورنہ آگے چل کر اور پرابلمز ہوں گی۔”
    عمر نے غور سے ان کا چہرہ دیکھا۔ ”کیا مطلب! آگے چل کر کیا پرابلمز ہوں گی؟” عمر نے کچھ الجھ کر کہا۔
    ”وہ تمہارے مستقبل کے بارے میں بہت کچھ پلان کرتا رہتا ہے۔ کل کو جب تمہاری شادی کے بارے میں اگر وہ کوئی فیصلہ کرنا چاہے گا تو اس طرح کے ٹکراؤ کی صورت میں پرابلم ہوگا۔”
    لئیق انکل نے اتنے نارمل انداز میں یہ بات کہی کہ وہ ان کا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔
    ”میں آپ کی بات نہیں سمجھا ہوں۔ آپ کس کی شادی کی بات کر رہے ہیں؟” اس نے سرد آواز میں کہا۔
    ”تمہاری شادی کے بارے میں؟”
    ”میری شادی کے بارے میں پاپا کچھ طے کیوں کریں گے؟”
    ”وہ تمہارا باپ ہے۔”
    ”تو۔۔۔”
    ”عمر! تمہیں شادی۔۔۔”
    اس نے یکدم لئیق انکل کی بات کاٹ دی۔ ”انکل! آپ مجھ سے جو کچھ بھی کہنا چاہتے ہیں، صاف صاف کہیں۔ کیا پاپا نے میری شادی کے بارے میں آپ سے کچھ کہا ہے؟” وہ جیسے بات کی تہہ تک پہنچ گیا تھا۔
    لئیق انکل کچھ دیر اس کا چہرہ دیکھتے رہے۔ ”شادی تو نہیں! ہاں البتہ وہ تمہاری انگیجمنٹ ضرور کرنا چاہتا ہے۔”
    ”کس سے؟”
    ”یہ میں نہیں جانتا۔”
    ”بہت خوب، بہر حال آپ پاپا کو بتا دیں کہ مجھے شادی نہیں کرنا نہ آج نہ ہی آئندہ کبھی اور جس سے وہ میری انگیجمنٹ کرنا چاہتے ہیں اس سے خود شادی کرلیں۔” اس کی آواز میں تلخی تھی۔
    ”یار! تم خواہ مخواہ ناراض ہو رہے ہو، میں نے تو ویسے ہی بات کی تھی ایک… اس نے کون سا کچھ طے کرلیا ہے۔”
    تم مجھے یہ بتاؤ کہ صفدر مقصود کے ساتھ کیسی ملاقات رہی تمہاری؟”
    لئیق انکل نے یکدم بات کا موضوع بدلتے ہوئے سائیکالوجسٹ کا نام لیا۔
    ”میں نے پاپا سے پہلے بھی کہا تھا، مجھے کسی سائیکالوجسٹ کے ساتھ سٹنگ کی ضرورت نہیں ہے۔ میرے لیے یہ سائیکالوجیکل ٹیسٹ ایک کیک واک ہے۔ مجھے صفدر مقصود جیسے لوگوں کی گائیڈنس کی ضرورت نہیں ہے۔”
    ”کسی بھی چیز کو اتنا سرسری نہیں لینا چاہیے۔ بعض دفعہ یہ نقصان دہ بھی ہوتا ہے۔ صفدر مقصود نے ہی بعد میں تمہارا انٹرویو کرنا ہے۔ اس لیے جو کچھ وہ بتاتا ہے، اسے غور سے سنا کرو۔” لئیق انکل نے اسے سنجیدگی سے سمجھایا۔




  • امربیل — قسط نمبر ۷

    امربیل — قسط نمبر ۷

    ”میں نے سوچا شاید تم زارا سے ملتے ہوگے۔”
    علیزہ اگلی شام اپنے کمرے سے نکل کر لاؤنج کی طرف آرہی تھی، جب اس نے لاؤنج میں نانو کو عمر سے کہتے سنا تھا۔ وہ ٹھٹھک گئی۔
    رات کو عمر کے کمرے میں جانے کے بعد وہ بھی کھانا کھا کر اپنے کمرے میں آگئی تھی… بہت دیر تک وہ عمر کے بارے میں سوچتی رہی پھر آہستہ آہستہ نیند نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔
    آج صبح عمر ناشتے کی میز پر نہیں تھا۔ کالج سے واپس آنے پر اس نے لنچ پر بھی موجود نہیں پایا۔ ”سر میں کچھ درد ہے اس کے… آرام کر رہا ہے۔” اس کے پوچھنے پر نانو نے کہا تھا۔




    علیزہ کچھ بے چین ہوگئی۔ ”کیا زیادہ درد ہے؟”
    ”پتا نہیں… کچھ بتایا نہیں کہہ رہا تھا کہ سوؤں گا تو ٹھیک ہو جاؤں گا۔” نانو نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
    ”آپ کو پوچھنا چاہیے تھا!” اس نے بے ساختہ کہا۔ ”موسم تبدیل ہو رہا ہے اسی کی وجہ سے اس کی طبیعت خراب ہوگئی ہوگی۔” نانو نے اس کی بات پر زیادہ دھیان نہیں دیا تھا۔
    وہ کچھ دیر تک انہیں دیکھتے رہنے کے بعد اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی۔
    عمرکے لئے اس کے دل میں موجود ہمدردی میں یک دم اضافہ ہوا تھا۔ پڑھائی کے دوران بھی وہ بدستور عمر کے بارے میں سوچتی رہی۔
    اور اب جب وہ تین گھنٹے بعد شام کی چائے کیلئے نکلی تھی تو وہ لاؤنج میں موجود تھا۔
    ”نہیں، آپ نے غلط سوچا۔ میں ممی سے نہیں ملتا ہوں۔”
    وہ کافی کا مگ ہاتھ میں لیے مدھم آواز میں نانو سے کہہ رہا تھا۔
    ”کیوں؟” نانو کے سوال پر عمر نے چند لمحے خاموشی سے ان کے چہرے کو دیکھا تھا۔
    ”کبھی طلب محسوس نہیں ہوئی۔” اس کا لہجہ بہت عجیب تھا۔
    ”والدین اور اولاد ایک دوسرے کیلئے طلب نہیں ضرورت ہوتے ہیں۔” نانو نے اسے جھڑکتے ہوئے کہا تھا۔
    ”ہماری کلاس میں پیرنٹس اور اولاد ایک دوسرے کیلئے طلب ہوتے ہیں نہ ہی ضرورت ،بلکہ چیزوں کی طرح ہوتے ہیں… جب اولاد کو ضرورت پڑے تو وہ ماں باپ کو استعمال کرلے اور جب ماں باپ کو ضرورت پڑے تو وہ اولاد کو استعمال کرلیں۔” علیزہ نے اس کی مذاق اڑاتی ہوئی ہنسی سنی تھی۔ وہ کوریڈور میں جہاں کھڑی تھی، وہاں سے اس کی پشت نظر آرہی تھی۔ وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکتی تھی مگر اس کی آواز سے وہ اندازہ کرسکتی تھی کہ وہ طنز کر رہا تھا۔
    ”اس طرح مت کہو۔” نانو نے اسے جیسے روکنے کی کوشش کی تھی۔
    ”سچ کہہ رہا ہوں گرینی! جیسے میں یہ مگ استعمال کر رہا ہوں نا میرے اور اس مگ کے درمیان اتنا ہی گہرا رشتہ ہے جتنا میرا اپنے ماں باپ کے ساتھ اور میرے ماں باپ کے نزدیک بھی میری اہمیت کافی کے اس گرم مگ جتنی ہی ہوگی جو ضرورت کے وقت ان کے کام آجائے۔” اس کا لہجہ پہلے سے زیادہ تلخ تھا۔
    علیزہ کوشش کے باوجود اندر داخل نہیں ہوسکی۔
    ”پتا نہیں، میرا اندر جانا ٹھیک ہے یا نہیں؟” وہ وہیں کھڑی سوچنے لگی۔
    ”تم زارا سے مل لیا کرو۔” نانو کی آواز میں اس بار ہمدردی جھلکی تھی۔
    ”کیوں؟” عمر کا لہجہ بہت تیکھا تھا۔ ”ا ب ایسا کیا ہوگیا ہے کہ میں ان سے مل لیا کروں؟”
    ”وہ تمہاری ماں ہے۔”
    ”تو میں کیا کروں؟”
    ”تم بچپن میں بہت اٹیچ تھے اس کے ساتھ۔”
    ”ہوسکتا ہے۔”
    ”جھوٹ مت بولو عمر!”
    ”میں جھوٹ نہیں بول رہا ہوں۔ میں واقعی انہیں مس نہیں کرتا بلکہ میں کبھی بھی کسی کو بھی مس نہیں کرسکتا۔” اس کی آواز میں بے حد سنجیدگی تھی۔
    ”مگر زارا تم سے ملنا چاہتی ہے۔ بہت محبت کرتی ہے وہ تم سے بار بار تمہاری باتیں کر رہی تھی۔ مجھے بتا رہی تھی کہ تمہیں اس نے سوات میں دیکھا تھا۔ پھر تمہیں ٹریس آؤٹ کرنے کی کوشش کی مگر تم ہوٹل سے چیک آؤٹ کرگئے۔ پھر اس نے اندازہ لگایا کہ تم یہیں ہوگے میرے پاس اور وہ سیدھی تمہارے پیچھے لاہور آگئی۔” نانو اب تفصیل سے بتا رہی تھیں۔
    ”بڑا کارنامہ کیا مجھے ڈھونڈ کر۔” اس نے عمر کو بڑبڑاتے سنا تھا۔
    ”وہ اپنی فیملی کو وہیں سوات میں چھوڑ کر صرف تمہارے لیے یہاں آئی تھی۔” نانو نے جیسے اسے جتایا۔
    ”نہ آتیں… اپنی فیملی کے ساتھ ہی رہتیں… انجوائے کرتیں۔”
    ”وہ صرف تمہارے لیے یہاں آئی تھیں… مجھے بتا رہی تھی کہ تمہیں بہت مس کرتی ہے۔”
    ”مس کرتی ہیں تو یہ ان کی غلطی ہے نہ کیا کریں… بے اولاد تو نہیں ہیں۔ دوسرے بیٹے ہیں نا پاس… پھر میرے لیے یہ ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟” اس کے لہجے میں بے زاری تھی۔




  • امربیل — قسط نمبر ۶

    امربیل — قسط نمبر ۶

    ”ان این جی اوز کے آفس کینٹ کے علاقہ میں ہیں اور ظاہر ہے یہ تو ناممکن ہے کہ آرمی کے علاقے میں ہونے والی ایسی سرگرمیاں آرمی کی ایجنسیز سے خفیہ ہوں مگر وہ بھی صرف رپورٹس دے دیتے ہیں… کچھ کر نہیں سکتے۔”
    وہاں اس عمارت کے بڑے کمرے میں سب لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے اسے عمر کی بات بے اختیار یاد آئی۔ وہ لوگ لاہور سے سیدھا اس گاؤں میں جانے کے بجائے پہلے اس این جی او کے آفس میں گئے جو شہر کے اندر کینٹ کے علاقے میں ایک خاصی بڑی کوٹھی میں واقع تھا، عمر کی ایک بات سچ ثابت ہوگئی تھی۔ وہاں انہیں اس این جی او کی طرف سے اپنے کام اور آفس کی دوسری سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی جانی تھی۔ اس وقت وہ چائے اور اسنیکس سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور علیزہ کو یہ دیکھ کر خاصی حیرت ہوئی کہ اس نسبتاً قدامت پسند علاقے میں بھی لڑکیوں کی ایک بڑی تعداداس این جی او کیلئے کام کر رہی تھی جو خاصی حیران کن بات تھی آفس کی عمارت کا ایک جائزہ لیتے ہوئے اسے قدم قدم پر حیرانی ہوئی تھی۔ عمارت میں موجود سہولتیں نہ صرف بے حد جدید تھیں۔ بلکہ خاصی وافر تھیں۔ اندر موجود کمپیوٹر اور فیکس مشینوں سے لے کر باہر موجود گاڑیوں کے ماڈلز تک یہ ظاہر کر رہے تھے کہ روپے کا خاصی فراوانی سے استعمال کیا جارہا ہے۔
    ”این جی او اگر واقعی دیہی علاقوں میں ریفارمز اور سوشل ڈیویلپمنٹ کیلئے کام کر رہی ہیں تو پھر ان کے آفسز بھی ان ہی گاؤں وغیرہ میں ہونے چاہئیں تاکہ وہ لوگوں کے ساتھ مسلسل اور بہتر رابطہ میں رہیں مگر کسی بھی این جی او کا آفس تم گاؤں کے اندر نہیں دیکھو گی۔ سارے آفسر شہر کے سب سے مہنگے اور محفوظ علاقے میں خاصے گم نام اور خفیہ رکھے گئے ہیں اگر ان کا کام لوگوں کی بہتری ہی ہے تو پھر انہیں تو لوگوں کے ساتھ رابطے زیادہ بڑھانے چاہئیں اپنے آفسزکو ایسی جگہوں پر رکھنا چاہیے جہاں زیادہ سے زیادہ لوگ ان کے نام سے واقف ہوں، ان کے پاس آسکیں مگر ایسا نہیں ہے شہر کے اردگرد گاؤں کے لوگ ان کے نام سے بہت آشنا ہیں مگر شہر میں اگر تم کینٹ کے علاقے میں بھی کھڑے ہو کر کسی سے کسی بھی این جی او کا نام بتا کر آفس کا پتا پوچھو تو وہ بے خبر ہوگا اگر انہیں کچھ لیک آؤٹ ہوجانے کا خطرہ نہیں ہے تو یہ لوگوں کو کھلے عام اپنے آفس میں کیوں آنے نہیں دیتیں۔ انٹرنیشنل میڈیا تو دھوم مچا رہا ہے ان کے کارناموں کی مگر مقامی اخبارات تک ان کے کام اور نام سے بے خبر ہیں۔” اسے عمر کے الزامات یاد آرہے تھے۔
    چائے اور دوسرے لوازمات سے فارغ ہونے کے بعد انہیں اس این جی او کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے بریفنگ دینی شروع کی۔ ”جب ہم نے اس علاقے میں کام شروع کیا تھا اس وقت یہ پورا علاقہ ہر طرح سے پسماندہ تھا… یہاں زندگی کی بنیادی سہولیات تک نہیں تھیں صرف تیس فیصد بچے اسکول جاتے تھے اور پرائمری میں ڈراپ آؤٹ ریٹ بہت زیادہ تھا، اور وہ بہت سے مہلک امراض کا شکار ہو تے تھے۔ عورتوں کی حالت تو اس سے بھی زیادہ خراب تھی۔ ڈرگز کا استعمال بھی اس علاقے میں بہت زیادہ تھا۔”
    وہ اب دوسرا ”Version” سن رہی تھی۔ ”اس علاقے میں موجود فیکٹریاں بانڈڈ لیبر کروا رہی تھیں۔ دیہاتی علاقے سے زمیندار زبردستی فیکٹریز کے مالکان کے مطالبے پر کام کیلئے لوگوں کو بھجواتے تھے۔ جو اجرت ان لوگوں کو دی جاتی تھی اسے سن کر آپ کو شاک لگے گا مگر لوگ کام کرنے پر اس لیے مجبور تھے کہ خواندگی کی شرح بہت کم تھی اور بے روزگاری بہت زیادہ تھی۔ بنیادی طور پر یہ زرعی علاقہ تھا مگر لوگوں نے اپنی زرخیز زمینیں فیکٹریز کی تعمیر کیلئے بیچنا شروع کردیں۔ اس سے یہ ہوا کہ اس علاقے میں کاشت کاری بہت کم ہوگئی۔ ایک بڑے علاقے میں ٹینریز بن گئیں اور ٹینریز سے نکلنے والے آلودہ پانی نے اس علاقے کی زرخیزی پر منفی اثرات مرتب کیے لوگوں کو نہ صرف مالی طور پر بہت سے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ بہت سے جلدی امراض بھی ان علاقوں میں پھیل گئے دوسرے لفظوں میں یا مختصراً آپ یہ سمجھ لیں کہ اس علاقے میں زیادہ استحصال ہو رہا تھا۔”
    وہ بہت غور سے اس شخص کی باتیں سن رہی تھی۔
    ”پھر سب سے پہلے ہم نے اس علاقے میں کام شروع کیا۔ آپ اندازہ نہیں کرسکتے کہ یہ کتنا مشکل کام تھا بلکہ شاید یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ یہ ایک ہر کولین ٹاسک تھا، شروع شروع میں ہم جہاں جاتے تھے ہم سے تعاون نہیں کیا جاتا تھا بعض جگہوں پر تو ہمارے ممبرز پر حملے بھی کیے گئے۔ ہم پر دباؤ ڈالا گیا۔ مختلف فیکٹریز کی طرف سے کہ ہم یہ کام نہ کریں انہیں خوف تھا وہاں لوگوں میں شعور آئے گا تو ان کا بزنس ٹھپ ہوجائے گا اور یہ خوف بالکل درست تھا جن حالات اور شرائط پر وہ لوگ کام کررہے تھے شعور حاصل کرنے پر سب سے پہلے وہ ان فیکٹریز کیلئے کام کرنا ہی چھوڑتے، ہماری ثابت قدمی نے ایک طرف تو ان علاقوں کے لوگوں میں ہم پر اعتماد بڑھایا بلکہ دوسری طرف ہمیں دیکھ کر بہت سی دوسری این جی اوز بھی میدان میں آگئیں ایک پورا نیٹ ورک قائم ہوگیا۔”




    اگر اسے عمر کی باتوں میں سچائی نظر آئی تھی تو اس شخص کے لہجے میں بھی وہ کوئی فریب ڈھونڈنے میں ناکام رہی اس کی الجھن بڑھ گئی تھی ”اپنی sense of Judgement۔” اسے عمر کی بات یاد آئی، مگر اسے استعمال کیسے کرتے ہیں اس نے سوچا تھا۔
    ”ہم لوگ گروپس بنا بنا کر سارا دن ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں اور دوسرے تیسرے گاؤں پھرتے رہتے ہمیں ایک ایک گھر جانا پڑا۔ وہاں سارے کوائف اکٹھے کرنے پڑے۔ گھر میں افراد کی تعداد کتنی ہے۔، ان میں عورتیں کتنی ہیں اور ان کی عمریں کیا ہیں، مرد کتنے ہیں اور کس عمر کے ہیں، بچوں کی تعداد کیا ہے اور کس عمر کے ہیں، گھر میں کام کرنے والے افراد کی تعداد کیا ہے؟ اور وہ کس کام سے منسلک ہیں۔ ان کی آمدنی کتنی ہے گھر میں کون سی سہولتیں ہیں، کیا بچے اسکول جاتے ہیں۔ گھر میں خواندہ افراد کتنے ہیں؟ یہ سب کچھ جاننے کیلئے ہمیں بڑے پاپڑ بیلنے پڑے کیونکہ لوگ ہمیں شک کی نظر سے دیکھتے تھے اور معلومات چھپاتے تھے یا غلط معلومات دیتے تھے یا پھر بات ہی نہیں کرتے تھے ہمیں ان معلومات کی ضرورت اس لیے تھی تاکہ ہم ان لوگوں کے مسائل حل کرنے کیلئے کوئی پراپر پلاننگ کرسکتے۔”
    اس کے الجھے ہوئے ذہن میں اب کچھ اور گونج رہا تھا۔
    ”این جی اوزجب یہاں آئیں تو انہوں نے دیہی اصلاحات اور سوشل ڈویلپمنٹ کا نام لے کر حقائق اور اعداد و شمار اکٹھے کرنے شروع کردیئے۔ کس علاقے میں کس عمر تک کے بچے کام کر رہے ہیں؟ فٹ بال انڈسٹری سے منسلک عورتوں کی تعداد کیا ہے۔ بانڈڈ لیبر کی اجرتوں کا ریٹ کتنا ہے؟ ان لوگوں کو کس طرح کی سہولیات میسر ہیں؟ یہ سارا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے ”اور اب دیکھئے گا علیزہ بی بی آئندہ چند سالوں میں چائلڈ لیبر اور بانڈڈ لیبر کے حوالے سے ان ہی علاقوں کے متعلق انٹرنیشنل میڈیا خاصا شور مچائے گا۔ کچھ پابندیاں بھی لگائی جائیں گی۔” اس نے اپنے ذہن سے عمر کی آواز جھٹکتے ہوئے دوبارہ اس شخص کی آواز پر توجہ دینی شروع کی۔
    ”ظاہر ہے یہ لوگ کسی آدمی کو تو گھر کے اندر آنے نہیں دیتے اس لیے ہمیں لڑکیوں کی ضرورت تھی جو یہ کام کرسکیں، اسی لیے آپ لوگ دیکھیں گے کہ اس علاقے میں کام کرنے والی ساری این جی اوز کے ساتھ لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد وابستہ ہے۔”
    ”ہم دو دو لوگوں کا ایک گروپ بناتے تھے جو ایک لڑکی اور لڑکے پر مشتمل ہوتا تھا، یہ لوگ اپنے مخصوص علاقے میں جاتے اور خود کو بہن بھائی ظاہر کرتے اس علاقے کے امام مسجد سے رابطہ کرتے پھر اس کے ذریعے سے باقی لوگوں سے واقفیت حاصل کرتے۔ لڑکیوں کا گھر کے اندر آنا جانا شروع ہوتا، وہ ان کی ضرورت کی چھوٹی موٹی چیزیں ساتھ لے جاتے دوائیاں، صابن، خشک دودھ، بسکٹ اور اسی قسم کی چھوٹی موٹی دوسری چیزیں آہستہ آہستہ وہ لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے لگے اور پھر کوائف اکٹھے کرنا کافی آسان ہوگیا۔ معلومات حاصل کرنے کے بعد دوسرا مرحلہ تھا کہ ان لوگوں تک اپنی بات پہنچائی جائے اور انہیں ان باتوں کو ماننے کیلئے قابل کیا جائے۔ یہ کام زیادہ مشکل تھا مگر بہرحال کسی نہ کسی طرح ہم نے یہ کام بھی شروع کردیا۔
    ہمارے چار بنیادی مقاصد تھے، چائلڈ اور بانڈڈ لیبر کا خاتمہ، بچوں کیلئے تعلیم کی فراہمی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان علاقوں میں روزگار کے بہتر مواقع اور بہتر اجرت کی فراہمی اوراس کے علاوہ بھی کچھ اور چیزیں تھیں جو ہم کرنا چاہتے تھے مگر وہ اتنی اہمیت کے حامل نہیں تھے۔
    ہم اس علاقے اور وہاں کے رہنے والوں کی زندگیوں میں کیا تبدیلیاں لے کر آئے ہیں یہ آپ تب ہی جان پائیں گے جب آپ خود وہاں جائیں گے لوگوں سے باتیں کریں گے اور ان تبدیلیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے ہمیں یہ دعویٰ نہیں ہے کہ ہم نے سب کچھ تبدیل کردیا ہے ظاہر ہے ہم ابھی بھی کام کر رہے ہیں اور تبدیلی ایک مسلسل عمل کا نام ہے لیکن ہم نے ایک اہم کام کا آغاز ضرور کیا ہے اور شاید جتنی بہتری این جی اوز وہاں لائی ہیں اتنی کوئی حکومت بھی نہیں لاسکتی تھی۔”
    شہلا نے اسے کہنی مار کر متوجہ کیا ”کیا تمہیں اب بھی ان پر شک ہے؟”
    ”کیا تمہیں شک ہے؟” اس نے جواباً پوچھا۔
    ”پتا نہیں میں تو بہت ہی کنفیوزڈ ہوں۔ ایک طرف عمر کی باتیں۔ دوسری طرف یہ لوگ… ابھی تو میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔” شہلا بھی اسی کی طرح الجھی ہوئی تھی۔
    ”ابھی تو یہ سب کچھ زبانی بتارہے ہیں جب ہم گاؤں میں جاکر رہیں گے تب ہی ہمیں اندازہ ہوسکے گا کہ کیا یہ واقعی سچ بول رہے ہیں یا پھر یہ واقعی کوئی جھوٹ ہے۔” اس نے شہلا سے کہا۔
    وہ آدمی ایک بار پھر بولنا شروع کرچکا تھا اب وہ اپنی این جی اوز کے بارے میں معلومات فراہم کر رہا تھا اور اس کی کارکردگی کے حوالے سے کچھ حقائق پیش کر رہا تھا۔ سب لوگ بے حد سنجیدگی سے اس کی باتیں سننے میں مصروف تھے۔
    پہلی بار علیزہ کو اندازہ ہوا کہ سچ اور جھوٹ کو پہچاننا کتنا مشکل کام ہے۔ Sense of Judgement ہر بندے کے پاس ہوتی ہے اور اگر ہو بھی تو ضروری نہیں کہ اس کو استعمال کرنے کی صلاحیت بھی سب ہی کے پاس ہو۔ کم از کم اس کیلئے تو یہ سب بہت مشکل تھا۔
    ”اگر عمر کے پاس ٹھوس اعتراضات تھے تو اس چیز کی ان کے پاس بھی کمی نہیں ہے اگر وہ لاجک کی بات کرتا ہے تو یہ شخص بھی ہر چیز کو منطقی بنا کر ہی پیش کر رہا ہے اگر عمر کی بات میں سچائی نظر آئی تھی تو جھوٹا تو یہ آدمی بھی نہیں لگ رہا تھا پھر میں یہ کیسے طے کروں کہ کون صحیح اور کون غلط ہے۔”
    وہ جتنا سوچ رہی تھی اتنا ہی الجھتی جارہی تھی۔
    ***




  • امربیل — قسط نمبر ۳

    امربیل — قسط نمبر ۳

    اگلے دن یونیورسٹی میں اس کا دل نہیں لگا تھا۔ گھر واپس آتے ہی وہ سیدھا کچن میں گئی۔
    ”نانو رات کے لئے کیا پکوا رہی ہیں!”
    ” کوئی خاص چیز کھا نے کو دل چاہ رہا ہے؟”
    نانو نے مسکراتے ہوئے پوچھاتھا۔
    ”نہیں ! میں اپنے لئے نہیں عمر کے لئے پوچھ رہی ہوں۔ اس کے لئے کیا بنوا رہی ہیں۔”
    نانو کرسی پر بیٹھی ملازم سے فریزر صاف کروا رہی تھیں۔ انہوں نے کچھ حیرانی سے دیکھاتھا۔




    ”عمر کے لئے تو کچھ بھی نہیں بنوارہی۔”
    ”کیوں نانو ؟”
    وہ کچھ حیران رہ گئی۔
    ”آپ کو یاد ہے نا کہ وہ رات کو آ رہا ہے؟”
    ”ہاں ، مجھے یاد ہے ، وہ دو بجے کی فلائٹ سے یہاں آئے گا۔ پہنچتے پہنچتے اسے تین بج جائیں گے ظاہر ہے کہ اس وقت تو وہ کھانا نہیں کھائے گا، سیدھا سونے کے لئے چلا جائے گا۔”
    ”پھر بھی نانو! فرض کریں اس نے کھانا نہ کھا یا ہوا تو؟”
    ”یہ فرض کرنے والی بات ہے ہی نہیں ، وہ رات کا کھانا یقیناً فلائیٹ میں ہی کھائے گا۔ تم جانتی ہو کہ کھانے کے معاملہ میں وہ کتنا باقاعدہ ہے۔”
    ”پھر بھی نانو! بھوک کا کیا ہے۔ وہ تو کسی بھی وقت لگ سکتی ہے، اگر اس نے کچھ کھا نے کے لئے مانگ لیا؟”
    ”بعض دفعہ تم حماقت کی حد کر دیتی ہوعلیزہ! اس طرح بات کر رہی ہو جیسے گھر میں کھانے کے لئے کچھ ہو ہی نا۔ تمہیں پتہ ہے ہر وقت فریج میں دو، تین ڈشز ضرور ہوتی ہیں۔ بھوکا نہیں سو ئے گاوہ۔”
    علیزہ کچھ شرمندہ سی ہو گئی تھی۔
    ”البتہ کل کے لئے میں کافی ڈشز بنوا رہی ہوں، تم دیکھ لینا بلکہ خود بھی خانساماں سے کہہ دینا ، اگر کوئی خاص چیز وہ بھو ل جائے تو۔”
    وہ اب دوبارہ ملازم کی طرف متوجہ ہو چکی تھیں۔
    ”میں دیکھ لوں گی ، آپ فکر نہ کریں۔”
    وہ کچن سے باہر آگئی تھی، لاؤنج کی گھڑی تین بجا رہی تھی۔
    ”اور وہ رات کے تین بجے گھر پہنچے گا۔ ابھی پورے بارہ گھنٹے باقی ہیں اور مجھے ان بارہ گھنٹوں میں کیا کرنا چاہئے ؟”
    اس نے سوچنے کی کوشش کی تھی۔
    اپنے کمرے میں جاکر رات کو پہننے کے لئے کپڑے دیکھنے شروع کر دئیے تھے۔ پھر ایک لباس اس نے منتخب کر ہی لیاتھا ایک خیال آنے پر وہ واپس کچن میں آگئی تھی۔
    ”نانو ! عمر ڈرائیور کو پہچانے گاکیسے ؟ یہ ڈرائیور تو نیا ہے اور ڈرائیور بھی عمر کو نہیں پہچانتا!”
    ”میں نے ڈرائیور کو عمر کی تصویر دکھا دی تھی۔ مزید احتیاط کے طور پر میں نے اسے کارڈ پر عمر کا نام لکھ دیا ہے۔ عمر کارڈ اس کے پاس دیکھ کر خود ہی آ جائے گا۔”
    ”ہاں ! یہ ٹھیک ہے۔”
    وہ مطمئن ہو کر واپس اپنے کمرے میں آگئی تھی۔
    رات کا کھانا اس نے نانو کے ساتھ آٹھ بجے کھالیا۔ پہلی بار کلاک کو بار بار دیکھتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ وقت کو پر نہیں لگتے بلکہ بعض دفعہ وقت بالکل رک بھی جاتا ہے۔ اس کی تیز رفتاری ہی صبر آزما نہیں ہوتی ۔بعض دفعہ اس کی سست رفتاری بھی تکلیف دہ ہوتی ہے۔
    ”نانو، آپ ڈرائیور کو کتنے بجے بھیجیں گی ؟”
    کھانے سے فارغ ہو کر علیزہ نے پوچھاتھا۔
    ”ایک بجے۔”
    ”آپ عمر کا انتظار کریں گی؟”
    ”ظاہر ہے ،مجھے تو ویسے بھی رات کو نیند نہیں آتی مگر تم چاہو تو جا کر سو جاؤ۔”
    ”نہیں نانو ! میں بھی انتظار کروں گی۔”
    ”تمہیں صبح یونیورسٹی جانا ہے۔”
    نانو نے اسے یاد دلایا۔
    ”ہاں ! مجھے پتہ ہے لیکن کچھ نہیں ہوگا۔”




  • امربیل — قسط نمبر ۱

    امربیل — قسط نمبر ۱

    مجھے یہ کہنا ہے

    بعض کہانیاں لکھتے ہوئے آپ کو ایک مستقل خلش کا احساس ہوتا رہتا ہے کیونکہ آپ جانتے ہیں، یہ کہانی کہیں کوئی تبدیلی نہیں لائے گی۔ امربیل بھی ایک ایسی ہی کہانی ہے جسے لکھتے ہوئے میں اسی احساس سے دوچار ہوں پھر بھی میں اس کہانی کو اس لئے لکھ رہی ہوں تاکہ آپ لوگ زندگی کے ایک اور پہلو کو جان سکیں۔ ان لوگوں کے دلوں اور ذہنوں پرایک نظر ڈال سکیں۔ جو پاکستان کے قیام کے بعد سے اس ملک کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں۔ اچھے طریقے سے یا برے طریقے سے۔ بہرحال وہ اس ملک کو چلا رہے ہیں اور خود وہ اپنی زندگیوں میں کس ابنارمیلٹی کا شکار ہیں۔ امربیل میں آپ یہی دیکھ پائیں گے۔
    اس ناول کو پڑھتے ہوئے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہ کوئی سیاسی ناول نہیں ہے، نہ ہی یہ کوئی تاریخی اور معاشرتی ناول ہے۔ یہ خواہش اور چاہ کا ناول ہے یا پھر سو دو زیاں کا۔ بعض دفعہ ساری زندگی گزارنے کے بعد بھی ہم یہ جان نہیں پاتے کہ ہمیں آخر زندگی میں کس چیز کی ضرورت تھی… کسی چیز کی ضرورت تھی بھی یا نہیں اور بعض دفعہ زندگی کے آخری لمحات میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ جس چیز کو ہم نے زندگی کا حاصل بنا رکھا تھا، اس چیز کے بغیر زندگی زیادہ اچھی گزر سکتی تھی۔ امربیل کے کردار بھی آپ کو آگہی کے اسی عذاب سے گزرتے نظر آئیں گے۔
    میں نے اس ناول میں کرداروں کی بھیڑ اکٹھی نہیں کی۔ صرف چند لوگ ہیں جو پہلے اپنے ارد گرد انسانی رشتوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور بعد میں صرف انسانوں کی … جو کوشش انہوں نے کبھی نہیں کی، وہ اپنے آپ کو تلاش کرنے کی ہے۔
    بنیادی طور پر امربیل ان ناولوں میں سے ایک ہے جو صرف ایک کردار کے لئے لکھا گیا اور یہ ایک ہی کردار کا ناول ہے۔ اب وہ کردار کس کا ہے… یہ آپ کو خود معلوم کرنا ہو گا۔ ہاں میں یہ دعویٰ کر سکتی ہوں کہ آپ اس کردار سے چاہنے کے باوجود بھی نفرت نہیں کر پائیں گے۔ حقیقت میں بھی آپ ایسے کرداروں کے ساتھ ایسی ہی محبت میں گرفتار رہتے ہیں اور … اور… یہی آپ کی غلطی ہے۔
    آئیے غلطی دہرائیں۔




    کوئی چھاؤں ہو
    جسے چھاؤں کہنے میں
    دوپہر کا گمان نہ ہو
    کوئی شام ہو
    جسے شام کہنے میں شب کا کوئی نشان نہ ہو
    کوئی وصل ہو
    جسے وصل کہنے میں ہجر رت کا دھواں نہ ہو
    کوئی لفظ ہو
    جسے لکھنے پڑھنے کی چاہ میں
    کبھی اک لمحہ گراں نہ ہو
    یہ کہاں ہوا ہے کہ ہم تمہیں
    کبھی اپنے دل سے پکارنے کی سعی کریں
    وہیں آرزو بے اماں نہ ہو۔
    وہیں موسمِ غمِ جاں نہ ہو

    عمیرہ احمد




  • عکس — قسط نمبر ۱۰

    آئینے میں ابھرنے والے عکس نے چڑیا کو روک لیا تھا۔ کسی پرانے ،مہربان واقف حال، غمگسار دوست کی طرح اس کے دل اور قدموں دونوں پر بیک وقت کمند ڈالی تھی… ایسا دوست جس نے اس گھر میں اس کی زندگی کے بہترین دن اور بد ترین رات دیکھی تھی۔
    چڑیا بہت دیر تک نم آنکھوں کے ساتھ اس آئینے میں عکس کو دیکھتی رہی۔ آخری بار اس نے یہاں کھڑے ہو کر اس آئینے میں ایک پنک فراک والی ایک ریشمی سیاہ بالوں والی سانولی چمکدار آنکھوں والی ایک پری کو دیکھا تھا وہ اس حادثے سے ایک شام پہلے کی بات تھی۔ اس دن اس نے اپنا دودھ کا تیسرا دانت گنوایا تھا اور اس آئینے میں وہ اور ایبک ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے ہنس ہنس کر بے حال ہوگئے تھے۔ وہ جانتی تھی ایبک اس کے دانت کا خلا دیکھ دیکھ کر ہنس رہا تھا لیکن وہ ایبک کو اس طرح ہنستا دیکھ کر اپنے دانتوں کی مضحکہ خیز حالت بھول گئی تھی۔




    اس آئینے میں وہ بونوں کو ڈھونڈا کرتی تھی۔ آج اس نے اس آئینے میں اپنے بچپن کو کھوجنے کی کوشش کی تھی۔ آئینہ اب اسے ایک سفید کوٹ کالر ڈ اے لائن لانگ شرٹ، سیاہ چوڑی دار پاجامہ اور سیاہ جیکٹ میں ملبوس بے حد اسمارٹ اور ویل ڈریسڈ لڑکی دکھا رہا تھا جس کے کانوں کے ڈائمنڈاسٹٹذاو ر سفید شرٹ کے کھلے کالرز سے بہت نمایاں طور پر ابھری ہوئی کالر بون کے درمیان سنہری زنجیر میں چمکتا ایک ڈائمنڈ پینڈنٹ کسی بھی پرائس ٹیگ کے بغیربھی اس کے متمول ہونے کا اعلان کررہا تھا۔ اس عکس میں اس سستے پنک فراک اور کسی ریڑھی سے دو روپے میں ملنے والے ایک اتنے ہی سستے تتلیوں والے پنک ہیر بینڈ والی اس آٹھ سالہ بچی کو ڈھونڈنا مشکل تھا۔ صرف وہ تھی جو اس ” عکس”میں ”چڑیا” کو کھوج رہی تھی اور کھوج پارہی تھی ۔ صرف وہ تھی جو اس آئینے میں وہ دیکھ رہی تھی جو دوسرا کوئی بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔
    اس آئینے میں اس نے وہ بونا دیکھا تھا جسے دیکھنے کی تمنا میں وہ گھنٹوں اس میں جھانکتی رہتی تھی اور پہلی بار وہ بونا نظر آجانے پر وہ خوف سے فریز ہوگئی تھی۔ وہ اس کی بد صورتی سے ڈر گئی تھی۔ زندگی نے اسے سکھایا تھا کہ ظاہری بد صورتی خوف کھانے والی شے نہیں ہوتی ۔یہ انسان کے اندر کی بد صورتی ہوتی ہے جس سے ڈرنا چاہیے۔ اس آئینے میں اسی دن اس نے انسان نام کا ایک بے حد خوب صورت بونا بھی دیکھا تھا جس سے خوف اور گھن نام کی کوئی شے اسے محسوس نہیں ہوئی تھی لیکن اس کے باوجود اس بونے نے اس کی زندگی تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ زندگی میں بعض ولن ہیرو کی شکل میں اور بعض ہیرو ولن کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں لیکن ہم ان کی شناخت بہت دیر سے کر پاتے ہیں۔
    چڑیا نے اس آئینے میں نظر آنے والے اس بد صورت بونے کو اس گھر میں دوبار دیکھا تھا۔ ایک بار اس آئینے میں جب وہ اسے دیکھ کر خوف کے عالم میں ہل بھی نہیں سکی تھی اور دوسری بار اس بونے نے کسی اور کو فریز کر کے…
    چڑیا نے یک دم آئینے سے نظر ہٹائی تھی۔ وہ سات بونے یک دم اتنے سالوں کے بعد اسے اپنے پاس اپنے گھر میں دیکھ کر خوشی سے جیسے پاگل ہوگئے تھے کنٹا اس ہیل والے بند جوتے پر چھلانگ مار کر چڑھا تھا اور اس کی پنڈلی سے لپٹ گیا تھا۔ وہ اپنی خوشی کا اظہار ہمیشہ ایسے ہی کرتا تھا۔ منٹا اچھل کر اس کی جیکٹ کی آستین سے لٹک گیا تھا۔ اسے ہمیشہ اس طرح جھولنے میں مزہ آتا تھا۔ سب سے موٹا بونا ٹوکو اپنے تھر تھراتے ہوئے پیٹ کے ساتھ اور پھولے سانس کے ساتھ اس کے ارد گرد ناچتا پھر رہا تھا۔ آنکھیں گھمانے والا کٹو خوشی سے بے حال اپنی ہی جگہ دروازے کی دہلیز پر پھرکی کی طرح ایک ہی جگہ گھومتا جارہا تھا۔ ٹنٹو نے اس کے دوسرے جوتے پر چڑھنے کی کوشش میں چھینک چھینک کر خود کو بے حال کرلیا تھا۔ ٹوفو بھاگتے ہوئے اپنی عینک کہیں گرا بیٹھا تھا اور اپنے بازو پھیلائے چڑیا کو ڈھونڈنے کی کوشش میں ادھر ادھر چیزوں سے ٹکراتا پھررہا تھا… اور چڑیا کا فیورٹ ڈیڈو وہ بس اس کے پیروں میں کھڑا بچوں کی طرح بلک بلک کر روتا ہی جارہا تھا… سب کچھ وہیں تھا جہاں وہ چھوڑ کر گئی تھی یا اسے جانا پڑا تھا… ایلس اپنے ونڈرلینڈ میں لوٹ آئی تھی۔
    ……٭……




    وہ ایبک کی بات پر اس کے قریب سے گزرتے گزرتے جیسے واپس لوٹ آئی تھی۔ اس کی اطلاع نے فاطمہ کو جیسے اسی طرح حیران کیا تھا۔
    ”آنٹی مجھ سے کیوں ملنا چاہتی ہیں؟” اس نے کالج کے کاریڈور کی دیوار سے ٹکے ایبک کو دیکھتے ہوئے کہا۔ وہ خلاف توقع بہت سنجیدہ تھا۔
    ”یہ تو تمہیں ممی ہی بتاسکتی ہیں، مجھے تو انہوں نے صرف تمہیں یہ میسج دینے کے لیے کہا تھا۔” فاطمہ کچھ دیر الجھی ہوئی نظروں سے اسے دیکھتی رہی۔ اس کے اور ایبک کے درمیان اتنی سی بات بھی کئی دنوں کے بعد ہورہی تھی۔ وہ کالج میں ایبک کو مکمل طور پرنظر انداز کیے ہوئے تھی اور اس کی اس کوشش نے ایبک کو جیسے بری طرح زچ کردیا تھا اور اب یک دم وہ اس کے سامنے یہ مطالبہ لے کر آگیا تھا کہ مسز سلطان اس سے ملنا چاہتی تھیں۔
    الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ وہ اگلے دن مسز سلطان کے آفس میں آئی تھی ۔وہ ہمیشہ کی طرح اس سے انتہائی گرم جوشی اور شفقت کے ساتھ ملی تھیں۔
    ”کتنے دن ہوگئے تم سے ملاقات ہوئے… میں نے کئی بار ایبک سے تمہارے بارے میں پوچھا لیکن اس نے کہا تم اس سے کچھ خفا ہو۔” وہ اپنے آفس میں اپنے ٹیبل سے اپنی فائلز سمیٹتے ہوئے بولیں۔ چند لمحوں کے لیے فاطمہ کو عجیب سی شرمندگی ہوئی۔ اسے بالکل توقع نہیں تھی کہ ایبک اپنی ماں سے اس کی خفگی کو اتنے کھلے طریقے سے شیئر کرے گا۔
    ”نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔” وہ گڑ بڑا کر صفائی دینے والے انداز میں بولی۔
    ”تو پھر تم دونوں نے کمبائنڈ اسٹڈی کیوں بند کردی… آپس میں ملنا جلنا کیوں چھوڑ دیا؟ ایبک تمہارے اس رویے کی وجہ سے بے حد اپ سیٹ ہے اور اسی وجہ سے میں نے سوچا کہ میں تم سے خود بات کروں۔” فاطمہ کو بڑی مشکل ہوئی مسز سلطان کے سوالوں کا جواب ڈھونڈنے میں ۔وہ کبھی مسز سلطان سے اپنے اور ایبک کے تعلق کا اعتراف نہیں کرسکتی تھی۔ خاص طور پر اب جب ایبک کی زندگی میں اس کی فیملی کی منتخب کردہ ایک اور لڑکی آچکی تھی لیکن اس کی مشکل کو مسز سلطان نے خود ہی حل کردیا تھا۔
    ”ایبک تمہیں بہت پسند کرتا ہے اور یہ پسندیدگی ایک کلاس فیلو اور دوست کی حیثیت سے نہیں ہے۔” فاطمہ نے چونک کر انہیں دیکھا۔ جو آخری شے وہ مسز سلطان سے توقع کرسکتی تھی وہ بات تھی جو انہوں نے ابھی کی تھی۔




    ”ایبک نے مجھ سے اس پسندیدگی کو کبھی نہیں چھپایا لیکن کچھ فیملی پرابلمزایسی ہوگئیں کہ ایبک کی بات طے کرنی پڑی مجھے… لیکن بیٹا ہم لوگ کوشش کررہے ہیں کہ خوش اسلوبی کے ساتھ یہ معاملہ ختم ہوجائے۔ ایبک اور میری بھتیجی میں کسی قسم کی کوئی compatability نہیں ہے اگر فیملی کا معاملہ نہیں ہوتا تو یہ رشتہ بہت پہلے ختم کردیتی میں کیونکہ مجھے اپنے بچوں کی خوشی سے بڑھ کر کوئی چیز عزیز نہیں ہے لیکن بس فیملی کی کچھ مجبوریاں ہیں جن کی وجہ سے یہ رشتہ لٹک ہی گیا ہے۔” فاطمہ بے یقینی کے عالم میں مسز سلطان کی باتیں سن رہی تھی۔ آسمان اس کے سر پر گر جاتا تو اسے اس قدر شاک نہیں پہنچتا جتنا ابھی پہنچ رہا تھا۔ مسز سلطان اس کے اور ایبک کے بارے میں پہلے ہی سارے اندازے اور قیاس لگائے بیٹھی تھیں جو سو فی صد ٹھیک تھے اور اب وہ اسے اس پچھتاوے سے آگاہ کررہی تھیں جو اس رشتے کی صورت میں انہیں ہوا تھا۔
    ”بیٹا میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ تم اور ایبک اپنی دوستی پہلے کی طرح رکھو، اکٹھے پڑھو… ساتھ گھومو پھرو جیسے پہلے تھے۔ میں تمہیں یقین دلارہی ہوں کہ ہاؤس جاب ختم ہونے تک یہ معاملہ ختم ہوجائے گا۔ میں ایبک کی شادی وہیں کروں گی جہاں وہ چاہتا ہے اور میں جانتی ہوں کہ وہ کہاں شادی کرنا چاہتا ہے۔” انہوں نے آخری جملہ بے حد معنی خیز انداز میں کہا۔ ایک عجیب اچنبھے کے عالم میں فاطمہ اس دن ان کے آفس سے اٹھ کر آئی تھی۔ مسز سلطان نے اسے صرف یہی نہیں کہا تھا۔ انہوں نے اس سے اور بھی بہت سی باتیں کی تھیں۔ بہت ساری یقین دہانیاں ،خوش گمانیاں، بہت ساری تسلیاں اور آخر میں بار بار ایک ہی ریکویسٹ کہ وہ ایبک کے ساتھ کمبائنڈ اسٹڈیز جاری رکھے۔ وہ اس کی عدم توجہی کی وجہ سے اپنی اسٹڈیز پر فوکس نہیں کرپارہا تھا اور مسز سلطان کے لیے یہ بہت تکلیف دہ اور ناقابل برداشت بات تھی خاص طور پر اس صورت میں جب وہ ایبک کو آگے اسپیشلائزیشن کے لیے باہر بجھوانے کا ارادہ رکھتی تھیں۔




  • عکس — قسط نمبر ۹

    اس آئینے نے کئی سال پہلے کی طرح آج بھی اس کی نظر کو خود سے ہٹنے نہیں دیا… گزر جانے نہیں دیا۔ وہ آئینے کے سامنے رک گئی۔ وقت نے اس آئینے پر اپنے نشانات بڑھا دیے تھے۔ ہلکی سی بوسیدگی، چند داغ، کئی نئی لکیریں، آب و تاب کھوتی چمک، بجھی ہوئی رنگت۔ وقت نے ایسے ہی بہت سارے نشان اس کے اپنے وجود اور اس کے چہرے پر چھوڑے تھے جس کا عکس آئینے میں دیکھنے پر شناخت کرتے ہوئے اسے چند لمحے لگے تھے۔
    وہ آئینے میں خود کو دن میں کئی بار دیکھتی تھی… لیکن اس آئینے میں نظر آنے والا عکس اس نے کئی سال بعد دیکھا تھا۔ ایک نظر اس نے خود کو دیکھا پھر اپنے عقب میں نمودار ہونے والے مرد کو۔ آئینے میں دونوں کی نظریں لمحے بھر کے لیے ایک دوسرے سے ملی تھیں پھر دونوں ہی نے ایک دوسرے سے آنکھیں چرا لی تھیں۔ وہ پچھلے کئی سالوں سے ایک دوسرے سے اسی طرح آنکھیں چراتے ہوئے ہی پھر رہے تھے۔ آئینے میں ایک لمحے کے لیے جیسے ان کی زندگی جھلکی تھی۔وہ زندگی جو وہ ایک دوسرے کے ساتھ گزار رہے تھے… کئی سال سے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ… اور ایک دوسرے سے کئی صدیوں کے فاصلے پر… ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار… اور اس محبت کو کائی کی طرح اپنے وجود سے نوچتے ہوئے۔
    وہ اس کے پاس سے گزر کر کھلے ہوئے اندرونی دروازے سے اندرچلا گیا تھا۔ اس نے سر اٹھا کر ایک گہری سانس لیتے ہوئے ایک بار پھر اس آئینے کو اور اس گھر کو دیکھا… زندگی میں اس گھر سے زیادہ نفرت اسے کبھی کسی دوسری جگہ سے نہیں ہوئی تھی۔ نفرت شاید ایک بہت معمولی لفظ تھا اپنے ان احساسات کو بیان کرنے کے لیے جو وہ اس گھر کے لیے رکھتی تھی، وہاں کی ایک ایک چیز کے لیے رکھتی تھی، اگر کوئی اسے کبھی کہتا کہ دنیا میں وہ کون سی ایک جگہ ہے جسے وہ آگ لگا کر بھسم کر دینا چاہتی تھی تو وہ اس گھر کا نام دیتی… اور اس تمام نفرت کے باوجود وہ وہاں آنے اور وہاں رہنے پر مجبور تھی کیونکہ وہ اس گھر کی ”ملکہ” تھی۔
    ……٭……




    ”ایک گھر میں صرف ایک ملکہ ہوتی ہے۔ بادشاہ کے محل میں ایک سے زیادہ ہوتی ہوں گی اور تم بادشاہ نہیں ہو۔” شہربانو نے اطمینان سے شیردل سے کہا۔
    ”تم imagine کرو۔” شیردل اس کی بات پر مسکرایا لیکن اس نے پھر بھی اپنے سوال کے جواب کے لیے اصرار کیا تھا۔
    ”تم اپنے گھر میں میری جگہ ایک اور عورت لے آؤ گے؟ اپنی زندگی میں سے مجھے نکال کر کسی دوسری عورت کو شامل کر لو گے؟ یہimpossible ہے۔” شہربانو نے اسی انداز میں کہا۔ شیردل اسی انداز میں مسکرا دیا تھا۔ شہربانو اب بھی اس کے سینے پر بچوں کی طرح سر رکھے لیٹی ہوئی تھی۔ شیردل نے اس کے گرد اپنے بازوؤں کے حصار کو توڑتے ہوئے ایک ہاتھ سے بہت نرمی سے اس کے بالوں کو سمیٹنا شروع کر دیا۔
    ”ایک بات کی مجھے سمجھ نہیں آتی۔” شہربانو نے چند لمحوں کی خاموشی کے بعد یک دم اس سے کہا۔ شیردل ٹھٹکا۔
    ”کس بات کی؟” اس نے شہربانو کے بالوں کو سمیٹنا جاری رکھتے ہوئے کہا۔
    ”یہ مردوں کو بیویوں سے آخر یہ سوال کرنے کا شوق کیوں ہوتا ہے۔” شیردل بے اختیار ہنسا تھا۔
    ”اپنے آپشنز چیک کرتے رہنا کوئی غلط بات تو نہیں۔” اس نے برجستگی سے کہا۔
    ”مذاق نہیں کر رہی میں۔” شہربانو سنجیدہ تھی۔ ”ویسے اگر تم شادی کرتے دوسری… تو کس سے کرتے؟” شہربانو کو پتا نہیں کیا خیال آیا تھا۔
    ”Hmm…” شیردل نے بے اختیار گہری سانس لی۔
    ‘‘Interesting question”۔وہ ایک لمحے کے لیے سوچنے لگا تھا یا کم از کم شہربانو کو لگا۔ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ شیردل کو اس سوال کا جواب سوچنے کی ضرورت تک نہیں تھی۔
    ”عکس سے؟” شیردل کے ذہن کی اسکرین پر اس کا چہرہ آیا اور شہربانو کی زبان پر اس کا نام۔
    شیردل اس عجیب اور بے وقت کی غیر متوقع ٹیلی پیتھی پر جیسے دم بخود ہوا تھا اور اس کی خاموشی نے شہربانو کو عجیب انداز میں مضطرب کیا تھا۔ شیردل کے سینے پر سر ٹکائے اس نے یک دم چہرہ سیدھا کر لیا تھا۔ بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگائے نیم دراز شیردل جانتا تھا وہ کیا کرنے والی تھی۔
    ”That’s quite a silly statement” اس نے شہربانو کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا تھا۔
    Statement”نہیں ہے it’s just a wild guess۔” شہربانو نے شیردل کی آنکھوں اور چہرے کو پھر کسی مائیکرو اسکوپ کی طرح پڑھنے کی کوشش کی۔
    ”تم کو سونا نہیں ہے؟” شیردل نے اسی طرح اس کو موضوع سے ہٹانے کی کوشش کی تھی جس طرح وہ ہمیشہ کرتا تھا لیکن آج وہ ہمیشہ کی طرح کامیاب نہیں ہوا تھا۔
    ”تم بتاؤنا۔” شہربانو نے اصرار کیا۔ وہ اب شیردل کے سینے پر اپنی کہنیاں ٹکائے ہوئے تھی۔
    ”دنیا کے سمجھدار مرد ایک شادی کرتے ہیں… بے وقوف دو کرتے ہیں… اور خوش قسمت ایک بھی نہیں۔” اس نے اطمینان سے کہا۔
    ”تم سمجھدار ہو لیکن خوش قسمت نہیں لیکن…” شیردل نے اس کو بات مکمل کرنے نہیں دی۔
    ”یار میں نے بہت غلط سوال کر لیا تم سے… چھوڑو اب اسے… ہر مرد کو بڑی fantasy ہوتی ہے دوسری شادی کی… اور کوئی بات نہیں۔” شیردل ایک بار پھر اسے الجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔
    ”تم ویسے عکس کو بہت پسند کرتے ہو۔” شہربانو نے اس کی کوشش پر پانی ڈالا۔
    ”کوئی بھی کر سکتا ہے۔” شیردل نے نظر ملائے بغیر وال کلاک پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”کوئی بھی مرد۔” شہربانو نے جیسے اسے کچھ جتایا۔
    ”ہاں کوئی بھی مرد۔” شیردل نے اس کے اندازے اور مشاہدے کو جھٹلایا نہیں تھا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کچھ سوچنے لگی۔ شیردل نے جیسے اس کی سوچوں کو پڑھنے کی کوشش کی تھی۔ وہ کامیاب نہیں ہوا۔ وہ ایک عورت کی سوچ تھی۔ شہربانو نے مزید بحث کیے بغیر اس کے سینے پر دوبارہ سر ٹکا دیا۔ شیردل نے اس مائیکرو اسکوپ کے سامنے سے ہٹ جانے پر جیسے شکر ادا کیا تھا۔
    جہاز کی سیٹ پر بیٹھے ایک فلم دیکھتے ہوئے پتا نہیں شہربانو کو شیردل اور اپنی یہ گفتگو کیوں یاد آئی تھی۔ کوئی خدشہ… کوئی خوف… کوئی سائرن نہیں بجا تھا۔ شیردل پر اسے ایسا ہی اندھا اعتماد تھا۔ ان دونوں کو دور ہوئے صرف چندگھنٹے گزرے تھے۔ اور وہ ان تمام گھنٹوں میں شیردل کے علاوہ اور کسی چیز کے بارے میں نہیں سوچ رہی تھی۔ وہ اس وقت کیا کر رہا ہو گا؟ کہاں ہو گا؟ کچھ کھا رہا ہو گا۔ شیردل کی روٹین اس کی فنگر ٹپس پر تھی اور سیکڑوں میل دور اور ہزاروں فٹ کی بلندی پر بھی شیردل جیسے اس کے سامنے چل پھر رہا تھا۔ وہ شادی کے اتنے سالوں بعد بھی شیردل کے بارے میں جیسے جاگتے میں خواب دیکھنے کی عادی تھی بالکل اسی طرح جیسے وہ شیردل سے شادی سے پہلے اس کے بارے میں سوچتی تھی۔
    ”ممی، پاپا کہاں ہیں؟” اس کی سوچوں کاتسلسل مثال کے سوال پر ٹوٹا تھا۔ اس کے برابر کی سیٹ پر وہ ابھی ابھی نیند سے ہڑبڑا کر اٹھی تھی اور اس نے آنکھیں کھولتے ہی شیردل کو تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔ شہربانو نے ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔ یہ مثال کی پرانی عادت تھی، وہ نیند سے جاگتے ہی سب سے پہلے شیردل کو ڈھونڈتی تھی۔ یہ اس کی بھی عادت تھی، وہ بھی اپنے باپ کی زندگی میں اس کے ساتھ رہتے ہوئے آنکھ کھلتے ہی سب سے پہلا سوال اپنے باپ کے بارے میں ہی کرتی تھی۔ مثال کو تھپکتے ہوئے اس نے پچھلے کئی گھنٹوں میں بلاشبہ کوئی دسویں بار مثال کو شیردل کا محل وقوع بتانے اور سمجھانے کی کوشش کی اور یہ بھی کہ وہ ان کے ساتھ کیوں نہیں آسکا۔
    ”Can you tell him that Misal is missing her?” ۔مثال نے اس کی بات سننے کے بعد یک دم اس سے کہا۔
    ”I would definitely do that”شہربانو نے اسے مزید تھپکا۔
    ”Mummy is also missing him”۔ شہربانو نے بھی اس کے ساتھ شیئرنگ کی۔
    ”لیکن آپ میرے جتنا تو miss نہیں کرتیں انہیں۔” مثال نے فوراً اعتراض کیا۔ شہربانو مسکرا دی۔ وہ جانتی تھی مثال باپ کے بارے میں اسی طرح پوزیسو تھی جس طرح باپ اس کے بارے میں تھا۔
    ”ہاں تمہارے جتنا تو miss نہیں کرتی میں تمہارے پاپا کو۔” شہربانو نے جیسے اسے یقین دلایا۔ مثال بے اختیار کچھ مطمئن ہو گئی۔
    ”سو جاؤ۔” شہربانو نے اسے دوبارہ سلانے کے لیے سیٹ کی پشت سے ٹکایا۔ مثال نے مطمئن انداز میں اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے آنکھیں بند کر لیں۔ شہربانو اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔ وہ اب تک اس کی اور شیردل کی زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ تھا… واحد اثاثہ کہنا شاید زیادہ مناسب ہوتا۔ چار سال سے وہ ان دونوں کی زندگی کو بانٹنے والا واحد ساتھی تھا… لیکن اس سال وہ اپنی فیملی میں مزید اضافہ کرنے کی پلاننگ کر رہے تھے۔ مثال کے بہن یا بھائی کے دنیا میں آنے کا اس سے زیادہ موزوں وقت کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا۔
    ……٭……




    عکس مراد علی کے لیے ٹی وی اسکرین پر بار بار گزرنے والے اس ticker کے چلنے کا اس سے زیادہ غیر موزوں، تکلیف دہ اور خطرناک وقت کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا۔ شیردل کو بیڈ روم میں صوفے پر بیٹھے برق رفتاری سے ایک کے بعد ایک کال ملاتے اور متعلقہ افراد سے بات کرتے ہوئے بھی اس کا ٹھیک ٹھیک اندازہ اور احساس تھا۔ رات کے پچھلے پہر بھی ٹی وی پر آنے والی ایک ایسی خبر کا حصہ ہونا ذاتی حیثیت میں جتنا تکلیف دہ تھا پروفیشنلی عکس کے لیے اس سے زیادہ نقصان دہ ہو سکتا تھا۔ پندرہ منٹ کے بعد ٹی وی اسکرین کے نیچے چلنے والے tickers میں سے صرف عکس مراد علی کے حوالے سے چلنے والی خبر غائب ہو گئی تھی… لیکن شیردل کو اندازہ تھا کہ تب تک بھی عکس کے لیے خفت اور رسوائی کا کافی سامان اکٹھا ہو چکا تھا۔
    ”Thank you۔” شیردل کی کال ریسیو کرتے ہی اس نے ہیلوکے بجائے اسے کہا۔
    ”جواد سے بات ہوئی ہے تمہاری؟” شیردل نے اس کے Thank you کو نظرانداز کرتے ہوئے پوچھا۔
    ”نہیں… فون بند ہے اس کا۔” شیردل کواس کی آواز تھکی ہوئی اور بھاری محسوس ہوئی۔ وہ اگلا سوال کرتے کرتے ٹھٹک گیا۔ پتا نہیں اسے کیوں یہ احساس ہوا کہ وہ شاید روئی تھی… یا پھر رو رہی تھی۔
    ”تم تو ٹھیک ہو؟” شیردل بے اختیار ٹینس ہوا تھا۔
    ”ہاں۔” وہ کوئی سوال کرنا چاہتا تھا کہ مگر نہیں کر سکا۔
    ”تم اب سو جاؤ۔” اس نے بے اختیار عکس سے کہا۔




  • عکس — قسط نمبر ۵

    اس اسٹینڈنگ مرر میں اپنے عکس پر پہلی نظر ڈالتے ہی اس نے اپنی یادداشت کے سارے خانوں کو جسم سے اترے ہوئے لباس کی جیبوں کی طرح کھنگالنا اور جھاڑنا شروع کردیا تھا۔ کتنے سال بعد اس نے اس مرر کو دیکھا تھا اور اس مرر میں کیا کیا دیکھا تھا۔




    آئینہ اتنے سالوں کے بعد آج بھی وہیں کا وہیں کھڑا تھا۔ کم آب و تاب کے ساتھ لیکن اسی وقار کے ساتھ جس کے ساتھ اس نے اسے پہلی بار دیکھا تھا۔گھر کا ایکسٹیرئر مکمل طور پر بدل چکا تھا۔ وہ آئینہ جیسے کسی شہزادی کا رومال تھا جسے وہ پھاڑ کر پھٹنے اور غائب ہونے سے پہلے شہزادے کی رہنمائی کے لیے باہر چھوڑ گئی تھی۔ واحد سراغ … ہر ہر بھید تک لے جانے اور اسے پانے والا۔ چند لمحوں کے لیے اس آئینے کو دیکھتے ہوئے اسے یوں لگا تھا جیسے وہ بھی تب ہی وہاں سے ہٹے گا۔ غائب ہوگا جب حضرت سلیمان کے عصا کی طرح اسے بھی کھڑے کھڑے دیمک لگ جائے گی، پھر ایک دن وہ برادے کے ایک ڈھیر اور آئینے سے شیشے کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں میں تبدیل ہو کر وہاں سے ہٹادیا جاتا۔ پتا نہیں وہاں کھڑا وہ کس کس کا عکس دیکھتا اور دکھاتا رہا تھا۔ وہ نم آنکھوں کے ساتھ اس آئینے میں نظر آتی عمارت کے بیرونی حصے کے عکس کو دیکھنے لگی۔ انگلیوں کی پوروں پر اس نے جیسے وہ سال گنے تھے جب وہ آخری بار اس گھر سے گئی تھی۔ وہ گھر جو اس کی زندگی کا خوب صورت ترین اور سیاہ ترین باب تھا۔ وہ گھر جس سے زیادہ محبت اور نفرت اسے کبھی کسی جگہ سے نہیں ہوئی تھی لیکن وہ گھر جو وہاں آکر بسنے والے انسانوں کے تمام احساسات سے بے نیاز آج بھی اسی تمکنت سے وہاں کھڑا تھا۔
    اور پھر آئینے میں اپنے اور اس گھر کے عکس کے درمیان اس نے یک دم کسی کو نمودار ہوتے دیکھا۔ وہ نم آنکھوں کے ساتھ بے اختیار مسکرائی۔ اس نے زندگی میں اس مرد کے علاوہ صرف ایک مرد کو …وہ آگے کچھ سوچ نہیں پائی، وہ اب اس کے عقب میں کھڑا اس کے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھے اس کو آئینے میں دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا
    ”You look lovely ”وہ بے ساختہ ہنس پڑی۔
    ”Thank you for flattering me”اس نے جواباً کہا۔ وہ اس کے عکس پر نظر جمائے ہوئے بے اختیار مسکرایا۔ گہری، گرم جوش، بہت کچھ یاد دلادینے والی آنکھیں… بے حد باریک ہونٹوں پر آنے اور کھیلنے والی بے ساختہ اور خمدار مسکراہٹ… اور یہ مسکراہٹ کیا کیا طوفان نہیں اٹھادیتی تھی۔ کون کون سی قیامت تھی جو بپا نہیں کردیتی تھی۔
    ”You are more than welcome” اس نے ذرا ساہنس کر اس کی بات پر جیسے کسی ندامت کا اظہار کیے بغیر دھڑلے سے کہا۔
    ”تمہیں پتا ہے میں پہلی بار اس گھر میں کب آئی تھی؟” اس نے آئینے میں اس کے عکس کے عقب میں موجود عمارت پر ایک نظر ڈالتے ہوئے مدھم آواز میں کہا۔ وہ اب بھی اس کے کندھے پر اسی طرح دونوں ہاتھ جمائے ،ٹکائے کھڑا تھا۔وہ اس کے ہاتھوں کا دباؤ محسوس کررہی تھی، نرم ،سہارا دیتا ہوا دباؤ۔ چند لمحوں کے لیے جیسے اس کا دل اس سے لپٹ جانے کو چاہا تھا۔
    ”جب…” اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن آواز حلق سے نہیں نکل سکی۔ آنسوؤں کے ایک ریلے نے اس کی قوت گویائی اور بینائی دونوں کو بیک وقت مفلوج کیا تھا۔ یادیں تھیں… درد کے آبلے تھے جو گرم پانی کے چشموں کی سطح پر ابھرنے والے بلبلوں کی طرح پھٹنے لگے تھے۔ کندھوں پر ٹکے وہ دونوں ہاتھ سرعت سے بازوؤں پر آئے پھر انہوں نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔ وہ حصار جس نے زندگی میں کبھی اس کو اکیلا نہیں چھوڑا تھا، وہ حصار جواس کے لیے ایک عطا تھا کسی کا تحفہ۔ اس کے بازوؤں کے حصار میں روتے ہوئے اس کی سمجھ میں نہیں آیا وہ کون سے کانٹے پہلے نکال کر اس کو دکھائے… وہ جو پاؤں میں تھے یا وہ جو دل میں تھے۔ سمجھ میں یہ بھی نہیں آرہا تھا کہ وہ جو یاد کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ اس کو دوبارہ بھلانے کے لیے وہ کیا کرے گی۔
    اس گھر کے برآمدے میں لگا وہ آئینہ، شہزادی تک پہنچانے والا واحد سراغ، اب جیسے شہزادے کو اس کے پاس لے آیا تھا، پہاڑ کی اس کھوہ میں جہاں ایک شہزادی کو کئی سال پہلے گہری نیند سلادیاگیا تھا۔
    ……٭……




    شیر دل نے اس کو کاریڈور میں داخل ہوتے ہی بہت دور سے دیکھ لیا تھا۔ وہ کمشنر آفس کے میٹنگ روم کے داخلی دروازے پر کھڑی اپنے عملے کے کسی رکن کو ہدایت دینے میں مصروف تھی۔
    چیف کمشنر کے ساتھ ڈویژن کے تمام ڈی سیز کی دس بجے ہونے والی میٹنگ کا انتظام اس کی ذمے داری تھی۔ شیر دل کے ہونٹوں پر بے ساختہ ایک مسکراہٹ رینگی تھی اور ایسا کیوں تھا وہ کبھی سمجھ نہیں پایاتھا۔
    عکس مراد علی کو اپنے سامنے پاکر اسے ہمیشہ خوشی ہوتی تھی یا پھر غصہ آتا تھا لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ وہ بے تاثر رہ پایا ہو… خوشی کا وہ حال ہوتا تھا کہ وہ بہت دن تک اس کے ٹرانس سے باہر نہیں نکل پاتا تھا… اور غصہ سمندر کی ایک شوریدہ لہر کی طرح آکر گزر جاتا تھا۔
    ایمرلڈگرین لانگ شرٹ میں سیاہ چوڑی دار پاجامے اور دوپٹے میں کندھوں سے کافی نیچے تک جاتے اسٹیپس میں کٹے ہوئے گھنے سیاہ بالوں کو وہ اب بھی بات کرتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں جھٹک رہی تھی۔ وہ اس کو کئی سالوں بعد دیکھ رہا تھا لیکن شیر دل کو کم از کم دور سے اس میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوا تھا۔ اس نے اپنے سامنے کھڑے شخص کے ساتھ بات کرتے کرتے اپنا رخ موڑا تھا اور تب اس نے بھی شیر دل کو دیکھ لیا تھا۔ ایک لمحے کے لیے شیر دل نے اس کو بھی بات کرتے کرتے ٹھٹکتے دیکھا پھر اس کے ہونٹوں پر بھی ایک مسکراہٹ آئی تھی۔ نظروں اور مسکراہٹوں کے تبادلے کے بعد اس نے عملے کے اس فرد کو کچھ آخری ہدایات دیں۔ شیر دل کے اس کے قریب پہنچتے پہنچتے اس کا عملہ وہاں سے رخصت ہوچکا تھا۔ اس کے بالمقابل جا کر کھڑے ہوتے ہوئے شیر دل کا دل بے اختیار مچلا تھا کہ وہ اپنے عقب میں آنے والے اپنے اسٹاف کو وہاں سے رخصت کردے… کم سے کم چند لمحوں کے لیے۔ عکس کو دیکھ کراس کے دل میں ہر قسم کی احمقانہ اور بچگانہ خواہشات پیدا ہوتی رہتی تھیں اور یہ ہمیشہ سے تھا۔ ہاں پہلے کبھی اس نے اپنی ان تمام خواہشات کو احمقانہ اور بچگانہ کا لیبل نہیں لگا یا تھا، اب لگانے لگا تھا۔ یہ کام وہ نہ کرتا تو وہ کرتی جو اس سے تین فٹ کے فاصلے پر اس کے سامنے کھڑی اپنی سیاہ، چمکدار، شفاف، گہری آنکھوں اور بے حدجان لیوا مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔
    ”ہیلو!اس کے خیر مقدمی کلمات کے آغاز سے پہلے ہی شیر دل نے کہا تھا۔
    ”سر آپ کیسے ہیں؟
    ”I am good آپ کیسی ہیں میم؟”
    ”I am fine too، آپ کا سفر ٹھیک رہا؟”
    ”جی، چیف آچکے ہیں؟”
    ”وہ بس راستے میں ہیں، دس منٹ میں پہنچ جائیں گے۔” کمشنر آفس میں کھڑے ادھر سے ادھر جاتے ہوئے انتظامی عملے کے بیچ میں وہ ایک دوسرے سے یہی کہہ سکتے تھے جو کہہ رہے تھے… فارمل انداز اور کلمات۔ صرف ان کی مسکراہٹ اور آنکھیں تھیں جو ایک دوسرے کو وہ پہنچارہی تھیں جو ان کے احساسات تھے۔ صرف چند منٹ وہ وہاں کھڑا رہا تھا پھر میٹنگ روم میں چلا گیا تھا، اس کے پاس سے نہ ہلنے کی خواہش کے باوجود…
    میٹنگ ٹھیک وقت پر شروع ہوئی تھی۔ شیر دل کمشنر کے بائیں جانب میز کی پہلی کرسی پر تھا اور وہ اس کے بالمقابل کمشنر کے داہنی جانب پہلی سیٹ پر براجمان تھی۔ اور اس سیٹنگ ارینجمنٹ سے شیر دل کو کم از کم یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کے لیے ٹیبل کے سرے پر بیٹھے ہوئے کمشنر اور میٹنگ پر توجہ مرکوز رکھنا آج کافی مشکل ثابت ہونے والا تھا اور ایسا ہی ہوا تھا… وہ بار بار بھٹک رہا تھا، اسے دیکھتے اور سنتے ہوئے۔ وہ اب بھی اسی طرح بات کررہی تھی جس طرح ہمیشہ کرتی تھی۔ نپا تلا انداز، تول کر بولنے کی عادت، بے حد ٹھہراؤ والا دھیما، ملائم لہجہ اور بے حد شستہ اور مدلل گفتگو۔




  • عکس — قسط نمبر ۴

    اس نے اسٹینڈنگ مرر میں اپنے آپ کو دیکھا، اپنے خوبصورت بالوں کو دیکھا، اپنے بے حد نازک گولائی میں پھولے ہوئے پنک فراک کو ذرا گھوم کر دیکھا پھر اس نے بے حد فخریہ انداز میں چند قدم پیچھے کھڑی چڑیا کو دیکھا جو بے حد ستائشی نظروں سے اس ساڑھے تین سالہ باربی ڈول کو دیکھ رہی تھی۔یہ وہ نام تھا جس سے وہ اس کو پکارتی تھی اور یہی وہ نام تھا جو اس نے پہلی بار اسے دیکھتے ہی دے دیا تھا۔ اس کے تمام ساتھی بونوں کو بھی باربی ڈول سے اتنا ہی عشق تھا جتنا چڑیا کو اور وہ بھی اس کو پہلی بار دیکھتے ہی اس پر اسی طرح فریفتہ ہوئے تھے جس طرح چڑیا کو دیکھ کر ہوئی تھی۔
    ”میں اچھی لگ رہی ہوں؟” اب باربی ڈول چڑیا سے پوچھ رہی تھی۔




    ”بہت، بہت، بہت، بہت اچھی اور پیاری۔” چڑیا نے دونوں ہاتھ پھیلا کر اس کی خوبصور تی اور ستائش کی جیسے پیمائش پیش کی۔ باربی ڈول کا رنگ سرخ ہوا، اس نے ناک کو ہلکا سا دائیں طرف سکیڑ کر اپنے ہونٹوں کو بھینچ کر جیسے اپنی خوشی اور مسکراہٹ کو ایک ساتھ چھپانے کی کوشش کی۔
    ”میں تمہاری پونی کر دوں؟” چڑیا نے باربی ڈول کے بکھرے ہوئے سیاہ ریشمی بالوں کو نرمی سے چھوتے ہوئے پوچھا۔ باربی ڈول سر ہلاتی فوراً پونی بنوانے پر تیار ہو گئی تھی۔ چڑیا نے اپنے بالوں سے ربڑ بینڈ اتارا اور آئینے کے سامنے باربی ڈول کے عقب میں جا کر بڑے انہماک سے اس کی پونی بنانے لگی۔ ان دونوں کے اس تعلق کا آغاز باربی ڈول کے اس کے اسکول میں ایڈمیشن کے ساتھ ہوا تھا۔
    چڑیا کلاس مانیٹر تھی اور وہ اس دن اپنی کلاس سے کسی کام سے باہر نکلی تھی جب اس نے مانیٹسوری کے لنچ بریک کے دوران پلے ایریا کے سامنے سے گزرتے ہوئے باربی ڈول کو وہاں لنچ باکس ہاتھ میں پکڑے see saw پر جھولتے دو بچوں کے پاس کھڑے دیکھا۔ چند لمحوں کے لیے چڑیا کو جیسے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آیا تھا۔ وہ باربی ڈول جس کے بالوں کو چھونے اور جس کے ساتھ بات کرنے اور کھیلنے کی خواہش میں وہ کئی بار ڈی سی ہاؤس میں لان کے اس حصے میں منع کرنے کے باوجود جاتی رہتی تھی جہاں وہ اپنی ماں اور کبھی کبھار باپ کے ساتھ بھی شام کو کھیلنے کے لیے نکلتی تھی۔ باربی ڈول کے قریب جا کر اس سے کچھ کہنے کی ہمت اسے کبھی نہیں ہوئی تھی لیکن دور سے بہت باران دونوں کے درمیان خاموش نظروں اور مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ وہ اس گھر کے مستقل رہائشی دو واحد بچے تھے۔ یہ ممکن نہیں تھا کہ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں تجسس کا شکار نہ ہوتے اور ایک دوسرے کو مستقل طور پر اگنور کر پاتے۔ چڑیا فرینڈلی تھی، باربی ڈول نہیں تھی۔ وہ اپنے ماں باپ کی طرح بہت مہذب اور سلجھی ہوئی ہونے کے باوجود بے حد ریزورڈ تھی۔ پتا نہیں یہ طبعاً تھا یا اس کے ماں باپ نے اسے بھی کچھ ہدایات دی تھیں۔ چڑیا سوچتی رہتی تھی لیکن کچھ اندازہ نہیں کر سکی تھی اور اب وہی باربی ڈول اس سے چند گز کے فاصلے پر کھڑی تھی۔ چڑیا کے لیے کیسے یہ ممکن تھا کہ وہ اسے اگنور کر کے گزر جاتی۔ اگر اس کا بس چلتا تو وہ شاید باربی ڈول کو بھی اپنے ہی اسکول میں دیکھ کر خوشی سے چھلانگیں لگاتی۔
    ”ہیلو۔” وہ ایکسائٹمنٹ کے باوجود کچھ ڈرتی جھجکتی باربی ڈول کے پاس پہنچ گئی تھی اور ہیلو کا چھوٹا سا لفظ کہنے کے لیے اسے پتا نہیں کتنی ہمت کرنی پڑی تھی۔ باربی ڈول نے چونک کر گردن گھما کر اسے دیکھا اور پھر اس نے بھی اسی برق رفتاری سے چڑیا کا چہرہ پہچانا تھا جس طرح چڑیا نے اس کا… وہ چڑیا کو فراموش کر بھی کیسے سکتی تھی۔ وہ گھر میں اس کے لیے دلچسپ چیزوں میں سے ایک تھی۔ لان میں کھیلتے اچانک کسی پھولدار جھاڑی یا پودے کی شاخ کے درمیان سے جھانکتا ہوا پرتجسس آنکھوں والا ایک معصوم چہرہ، کبھی راہداری کی کھڑکیوں میں یک دم نمودار ہونے والی وہ روشن شرارتی آنکھیں جو باربی ڈول کے ساتھ اس کی ماں یا باپ کو دیکھ کر اسی طرح جھپاکے سے غائب ہو جاتی تھیں۔ بہت دفعہ پودوں سے جھانکتی چڑیا کو دیکھ کر وہ ٹھٹکی تھی… اپنے کھلونوں کے ساتھ لان میں کھیلتے یا سائیکل چلاتے ہوئے اور شروع شروع میں وہ اپنی ممی کو چڑیا کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش بھی کرتی تھی لیکن وہ اس کوشش میں ہمیشہ ناکام رہی۔ وہ جب تک اپنی ممی کو اس پودے یا جھاڑی کی طرف متوجہ کر پاتی جہاں اس نے چڑیا کو دیکھا تھا چڑیا وہاں سے غائب ہو چکی ہوتی۔
    ”ممی وہاں ایک Girl ہے۔” اس نے پہلی بار چڑیا کو دیکھنے پر فٹ بال کو کک لگاتے لگاتے رک کر اپنی ماں کو اشارے سے بتایا تھا لیکن جب تک وہ اس پودے کی ان شاخوں کو دوبارہ فوکس کر پاتی جن میں سے اسے چڑیا کا چہرہ نظر آیا تھا، چڑیا غائب ہو چکی تھی۔ اس کی ماں نے چند لمحوں کے لیے چونک کر اس پودے کو دیکھا پھر پوچھا۔
    ”کہاں؟”




    ”وہاں… پر وہ اب نہیں ہے۔” وہ اب فٹ بال کھیلنا بھول گئی تھی۔
    ”ہاں وہی بچی ہو گی جو اس دن ملنے آئی تھی… وہی بچی تھی کیا؟” اس کی ممی نے کسی خاص حیرت اور تعجب کے اظہار کے بغیر کہا۔ ”وہ جو ہمارے کک کے ساتھ آئی تھی۔” باربی ڈول نے ماں کے سوال پر اتنا غور نہیں کیا تھا نہ ہی اس نے اس بچی کے خدوخال کو ذہن میں لانے کی کوشش کی جسے اس نے کک کے ساتھ ملاقات میں دیکھا تھا۔ اسے زیادہ تجسس اس بات پر تھا کہ وہ اس پودے کے پیچھے سے اچانک کیسے غائب ہو گئی تھی اور کہاں غائب ہو گئی تھی۔ یہ چڑیا سے اس کے تعارف کا آغاز تھا اور پھر جیسے یہ ایک معمول ہو گیا تھا۔ اس نے کئی بار چڑیا کو پودوں کے پیچھے چھپے ہوئے دیکھا تھا۔ شروع شروع میں وہ ایکسائٹڈ ہو کر اپنی ممی کو بتانے کی کوشش کرتی تھی لیکن آہستہ آہستہ اسے اندازہ ہو گیا کہ اس کی ایسی ہر کوشش کے دوران چڑیا غائب ہو جاتی تھی اور اس کی ممی کو بھی لان کی جھاڑیوں اور پودوں میں چھپی ہوئی کسی بچی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ پھر اس نے اپنا یہ معمول بہت جلد بدل لیا تھا اب وہ لان میں کھیلنے کے لیے داخل ہوتے ہی دور تک پھیلے ہوئے پودوں اور جھاڑیوں میں چڑیا کی تلاش شروع کر دیتی تھی اور اکثر بڑی آسانی سے اسے ڈھونڈ لیتی تھی پھر وہ اپنی ماں کو کچھ بھی کہے بغیر اس طرح کھیل میں مصروف رہتی اور وقتاً فوقتاً کھیل سے دھیان ہٹا کر چڑیا کو بھی دیکھتی رہتی۔
    چڑیا نے اب پہلے کی طرح غائب ہونا بند کر دیا تھا۔ خاموش نظروں کا تبادلہ آہستہ آہستہ مسکراہٹوں کے تبادلے میں بدلنے لگا تھا۔ اگر کچھ نہیں ٹوٹا تھا تو ان دونوں کے بیچ خاموشی نہیں ٹوٹی تھی۔ ڈی سی کی بیوی لان میں کرسی پر بیٹھی یا تو کوئی کتاب پڑھتی رہتی یا پھر پینٹنگ کرتی رہتی اوروہ لان میں سائیکل چلاتے یا فٹ بال کھیلتے ہوئے دور پودوں میں چھپی چڑیا کو دیکھ کر مسکراتی رہتی۔ کبھی کبھار وہ سائیکل چلاتے چلاتے جان بوجھ کر چڑیا کے بہت قریب سے ہو کر گزرتی اور کبھی وہ کھیلتے ہوئے جان بوجھ کر پودے کے قریب بال پھینک دیتی جہاں چڑیا چھپی ہوتی، یہ جیسے چڑیا کو کھیل کی دعوت دینے کی ایک غیر ارادی کوشش تھی جسے چڑیا نے کبھی قبول نہیں کیا تھا، وہ یہ جرأت کر ہی نہیں سکتی تھی کہ لان میں صاحب یا ان کی بیوی کی موجودگی میں وہ باہر نکل آتی۔ خیر دین نے اسے سختی سے منع کیا تھا، وہ ایک بچگانہ تجسس کی وجہ سے وہاں آ تو جاتی تھی لیکن وہ یہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی وجہ سے کبھی اس کے نانا کو ڈانٹ پڑے۔ اس نے بہت بار مختلف آفیسرز کے ہاتھوں اپنے نانا کو ڈانٹ کھاتے دیکھا تھا اور یہ اسے کبھی بھی اچھا نہیں لگا تھا اگرچہ خیر دین ہر بار ایسے کسی موقع پر ا سکی موجودگی پر بعد میں اسے بٹھا کر اپنے صاحب کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
    ”دیکھو چڑیا جب غلطی ہوتی ہے تو ڈانٹ پڑتی ہے اور نہ ہر ڈانٹنے والا برا ہوتا ہے نہ ہی ہر ڈانٹ۔”
    ”پر نانا… آپ کی زیادہ غلطی تو نہیں تھی۔” وہ اپنا نانا کا دفاع کرتی۔
    ”تھوڑی تھی پر تھی تو سہی نا… اب اگر صاحب غلطی پر کسی کو بھی نہ ڈانٹا کرے تو ہر ایک کام خراب کرنا شروع کر دے گا۔” چڑیا خیر دین کی بات پر سر ہلا دیتی لیکن اس کے باوجود خیر دین جانتا تھا کہ وہ خیر دین کو پڑنے والی کسی ڈانٹ پر بہت ناخوش ہوتی تھی۔
    ”ہیلو۔” باربی ڈول نے جواباً مسکرا کر کہا تھا۔ اسکول میں پہلے دن وہ پہلا شناسا چہرہ تھا جو اسے نظر آیا تھا۔ اس کا بس چلتا تو وہ چڑیا سے لپٹ ہی جاتی۔
    ”تم یہاں اسٹڈی کے لیے آئی ہو؟” چڑیا اس کے ہیلو پر مسکرائی تھی، باربی ڈول نے سر ہلایا۔
    ”ممی پاپا کے ساتھ آئی ہو؟” باربی ڈول کا سر ایک بار پھر ہلا لیکن ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آئے تھے۔ اسے یک دم یاد آ گیا تھا کہ اس کے ممی پاپا اسے صبح وہاں چھوڑ گئے تھے اور وہ وہاں اکیلی تھی۔ چڑیا اس کے آنسو دیکھ کر جیسے تڑپ اٹھی تھی۔
    ”رونا نہیں باربی ڈول۔ اچھے بچے تو نہیں روتے نا۔” اس نے آگے بڑھ کر باربی ڈول کے گالوں پر لڑھکتے آنسو پہلے اپنے ہاتھوں سے پونچھے پھر اپنے فراک کی جیب سے رومال نکال کر اس سے باربی ڈول کا چہرہ صاف کیا۔




  • عکس — قسط نمبر ۳

    ایبک اس شیول مرر کے سامنے کھڑا اپنا ریکٹ گھماتے گھماتے رک گیا تھا۔ یہ آئینے میں ابھرنے والا ایک عکس تھا جس نے اسے روکا تھا اور وہ یہ نہیں جانتا تھاوہ چہرہ ساری عمر ہر بار سامنے آنے پر اسی طرح اسے فریز کر دیا کرے گا۔ اس نے چڑیا کو پہلی بار اسی آئینے میں دیکھا تھا لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ چڑیا پچھلے کئی دنوں سے اسے کئی بار دیکھ چکی تھی… ٹینس کورٹ پر صاحب کے ساتھ ٹینس کھیلتے… لان میں صاحب کی بیٹی اور اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ کھیلتے… Frisbeeپکڑنے میں ناکامی پر اپنے چھوٹے بہن بھائی پر چلاتے اور خفا ہوتے ہوئے… وہ صاحب کے گھرآئے ہوئے مہمان تھے اور صاحب کے گھر ویک اینڈ پر مہمانوں اور ان کے ساتھ ان کے بچوں کا آنا کوئی انوکھی بات نہیں تھی مگر یہ صاحب کے ہاں لمبی چھٹیاں گزارنے کے لیے آئے ہوئے مہمان تھے۔




    صاحب کے گھر کا سناٹا ان تین بہن بھائیوں کی سرگرمیوں سے ٹوٹنے لگا تھا جن میں سے ایک ایبک سب سے بڑا تھا۔ آٹھ سالہ وہ بچہ اپنے قدوقامت سے دس سال کا لگتا تھا… وہ جب بھی گھر سے باہر نظر آتا اس کے ہاتھ میں زیادہ تر ٹینس ریکٹ ہی ہوتا جسے وہ بے مقصد گھماتا ، ٹینس شاٹس کی پریکٹس کرتا رہتا… کبھی کبھار اس کی چھ سالہ بہن اس کے ساتھ ٹینس کھیلتی لیکن وہ کسی اعتبار سے ایبک کا مقابلہ نہیں کر پاتی تھی۔ وہ جسمانی طور پر بہت مضبوط تھا… لڑکا تھا… بہن سے عمر میں دو سال بڑا تھا… اور تکنیک کے اعتبار سے بہت Soundتھا… اور پانچ سال کی عمر سے ٹینس ریکٹ اٹھائے ہوئے تھا۔ ٹینس جیسے ان کا خاندانی کھیل تھا، ان کی ننھیالی اور ددھیالی فیملی میں کوئی ایسا نہیں تھا جو ٹینس نہ کھیلتا ہو… مگر ان میں سے کسی میں بھی ٹینس کے لیے ایبک جیسا پیشن نہیں تھا… وہ سوئمنگ کرتا تھا یا پھر ٹینس کھیلتا تھا اور اس گھر میں آنے کے ایک ہفتے میں ہی چڑیا یہ جان چکی تھی۔
    ایبک کے آنے کے بعد صاحب باقاعدگی سے شام کے وقت اس کے ساتھ لان ٹینس کھیلا کرتے کبھی کبھار ایبک کی ممی، بہن بھائی اور صاحب کی بیوی اور بیٹی بھی وہاں موجود ہوتے لیکن عام طور پر صرف صاحب اور ایبک ہی کھیل رہے ہوتے اور صاحب مسلسل ایبک کو ہدایات دے رہے ہوتے۔ ایبک صاحب سے کبھی جیت نہیں پاتا تھا لیکن کبھی کبھار وہ کوئی اچھا شاٹ مار دیتا اور صاحب اس شاٹ کو Missکر دیتے اور تب کورٹ میں فاتحانہ انداز میں چلانے والا صرف ایبک نہیں ہوتا تھا کسی پودے یا درخت کے پیچھے چھپی ہوئی چڑیا بھی اتنی ہی مسرور ہوتی تھی اور اس کے سات بونے بھی… وہ آٹھوں اس کے اس اتفاقی شاٹ کو بھی اس طرح سلیبریٹ کرتے جیسے وہ ایک پوائنٹ نہیں میچ جیت گیا ہو۔ ایبک چڑیا کو کیوں اچھا لگا تھا؟ اس وقت اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ Aweمیں تھی۔ اس وقت تک وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اس کا ہم عمر تھا… اس کے لیے متاثر ہونے کے لیے یہ کافی تھا کہ وہ ٹینس کھیلتا تھا اور بہت اچھی کھیلتا تھا اور جب وہ فریز لی پھینکتا تھا تو کوئی نوکر بھی اس کو نہیں پکڑ پاتا تھا۔ وہ ان تین بچوں کا سردار تھا جو اس وقت اس گھر میں تھے اور وہ جس طرح ان تینوں بچوں کو کنٹرول کرتا تھا۔ وہ کہیں سے بھی ایک آٹھ سالہ بچہ نہیں لگتا تھا۔
    چڑیا ، صاحب کے ریکٹ کو دیکھ کر ہمیشہ فیسینیٹ ہوتی تھی لیکن وہ کبھی خواہش کے باوجود اس ریکٹ کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکی تھی۔ اس کے ساتھ کھیلنا تو خیر بہت دور کی بات تھی۔ اس وقت تک اسے وہ ٹینس ریکٹ بہت ہلکی پھلکی کوئی چیز لگتا تھا کیونکہ اس نے صاحب کو اسے ایک ہلکی پھلکی چیز ہی کی طرح اٹھائے اور کھیلتے ہوئے دیکھا تھا۔ اسے اندازہ تک نہیں تھا کہ وہ اس ریکٹ کو موقع مل جانے پر اٹھا کر گھما بھی نہیں سکے گی۔
    ایبک اپنا ریکٹ اکثر لان میں چھوڑ کر چلا جاتا تھا اور موقع ہونے کے باوجود چڑیا اس ریکٹ کے قریب جانے کی ہمت بھی نہیں کر پاتی تھی۔ اسے خوف ہوتا تھا کہ ایبک کسی بھی وقت نمودار ہو سکتا تھا اور چند بار واقعی ایسا ہوا تھا کہ وہ ہمت کر کے اس ٹیبل کے پاس جانے کی تیاری کر رہی ہوتی جہاں ایبک اپنا ریکٹ چھوڑ کر گیا تھا اور ایبک کھانے پینے کی کوئی چیز لیے یک دم دوبارہ لان میں آ جاتا۔ وہ ہمیشہ اتنے دبے قدموں میں آتا تھا کہ چڑیا اس سے خائف رہنے لگی تھی اسے لاشعوری طور پر یہ یقین ہو گیا تھا کہ وہ جب بھی اس کے ریکٹ کو پکڑنے کے لیے اس ٹیبل کے پاس جائے گی۔ ایبک وہاں آ جائے گا۔
    وہ اب پہلے کی طرح کیاریوں میں سے ٹینس بالز بھی نہیں نکال پاتی تھی کیونکہ ایبک کھیل ختم ہونے کے بعد تمام بالز خود ڈھونڈ کر ٹینس بالز کے ڈبے میں بالز پوری کر کے ہی لان سے روانہ ہوتا۔ اس نے چڑیا کی زندگی کی ایک سب سے پسندیدہ سرگرمی چھین لی تھی لیکن اس کے باوجود چڑیا کو ایبک اچھا لگتا تھا۔ وہ اکیلے ٹینس شاٹس کی پریکٹس کرتے ہوئے کورٹ پر خود ہی اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا… چڑیا اور اس کے سات بونے اس کی ان خود کلامیوں سے محظوظ ہوتے رہتے۔ چڑیا نے پہلی بار اپنے علاوہ کسی دوسرے کو خود سے گفتگو کا شوقین پایا تھا اور ایبک کے لیے اس کی پسندیدگی میں کچھ اور اضافہ ہو گیا تھا۔ کبھی کبھار اس کی باتیں سنتے ہوئے اس کا دل چاہتا وہ ان کی باتوں کا جواب دے اور وہ دیتی بھی لیکن سرگوشی میں اپنے بونوں کو۔ لیکن ایبک کی وہ ساری باتیں، جھلاہٹیں، خود کلامیاں چڑیا کے لیے جیسے ایک شاندار تفریح تھی۔ وہ اس کی Vocabularyبڑھا رہا تھا… ایبک کے منہ سے سننے والا ہر نیا لفظ وہ خیر دین کے سامنے رکھ دیتی تھی اور ان میں سے زیادہ تر لفظ خیر دین کے لیے بھی نئے تھے۔ چڑیا خیر دین کو یہ نہیں بتاتی تھی کہ اس نے وہ لفظ کہاں سنا تھا لیکن وہ خیر دین کی لاعلمی اور کم علمی کو کسی اعتراض کے بغیر قبول کر لیتی تھی۔




    بعض دفعہ ایبک کو اپنے بہن بھائیوں یا اکیلے کھیلتے ہوئے دیکھ کر چڑیا کا بے تحاشا دل چاہتا تھا کہ وہ خود بھی اس کے ساتھ جا کر کھیلنے لگے۔ ایبک کی اچھالی ہوئی ہوا میں اڑتی ہوئی اس فریز بی کو جسے کوئی پکڑ نہیں پاتا وہ پکڑ لے۔ ایبک کی ٹینس Serve کو وہ دوسرے کورٹ سے اتنی ہی طاقت کے ساتھ Return کرے جس قوت سے وہ پھینکی گئی تھی اور اسے یقین تھا وہ ایسا کر سکتی تھی۔ ایک بچے کی معصومیت اور خوش فہمی اسے یہ بتا ہی نہیں پا رہے تھے کہ کھیل کھیلنے اور اچھا کھیلنے کے لیے صرف خواہش اور موقع نہیں Skillکی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ٹینس کا وہ ریکٹ جسے ایبک بڑی آسانی سے گھماتا اور ہلاتا نظر آتا تھا اس کے پیچھے Will نہیں Skill تھی۔ اس کے تین سالوں کا تجربہ تھا۔ فریز بی کی وہ ڈسک تھی جو ہوا میں تیرتی کسی کے ہاتھ نہیں آتی تھی۔ وہ اس کے ہاتھ سے بھی اسی طرح چھوٹ کر گرتی جس طرح دوسروں کے ہاتھوں سے… لیکن بچے آدھی زندگی اور آدھی خواہشات خوابوں اور فینٹسی میں پوری کرتے ہیں… نہ نپولین کی ڈکشنری میں ناممکن کا لفظ تھا نہ اس کی زندگی میں ہوتا ہے… اور چڑیا کے ساتھ تو سات دوست بونے بھی تھے۔
    ”نانا جب میں بڑی ہو جاؤں گی تو میں ٹینس کی پلیئر بنوں گی۔” ایبک کے آنے کے چند دنوں کے بعد ایک دن چڑیا نے خیر دین سے ریکٹ کی فرمائش کرتے ہوئے اسے اپنے کیئریئر میں تبدیلی کا عندیہ دیا۔
    ”نہیں بیٹا، لڑکیاں ٹینس نہیں کھیلتیں۔” خیر دین نے فوراً اسے ٹوکا۔
    ”ٹی وی پر تو کھیلتی ہیں… وہ جو ومبلڈن ہوتا ہے۔” چڑیا نے پی ٹی وی پر دیکھے جانے والے کسی میچ اور ٹورنامنٹ کی اسے یاد دلائی۔
    ”ہاں پر وہ تو انگریزوں کے ملک میں ہوتا ہے اور انگریز عورتیں کھیلتی ہیں۔” خیر دین جواب دیتے ہوئے صاحب کی بیوی اور اب ایبک کی ممی کو بھول گیا تھا چڑیا نہیں، اس نے خیر دین کو یاد دلانے میں دیر نہیں کی۔
    ”بیٹا وہ صاحب لوگ ہیں، وہ کھیل سکتے ہیں ہم نہیں کھیل سکتے۔” خیر دین نے بے اختیار گہری سانس لیتے ہوئے اس سے کہا۔ چڑیا کو اب بار بار صاحب اور اپنی کلاس کا فرق سمجھانا اور بتانا خیر دین کو بڑا مشکل لگتا تھا۔ خاص طور پر اس لیے کیونکہ ساری عمر وہ چڑیا کے سامنے ایک ”بڑا آدمی” بنا رہا تھا اور اب اس بڑے آدمی کو اس بچی کے سامنے یہ خول اتارنا پڑ رہا تھا اور یہ آسان نہیں تھا مگر اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ وہ اسے اپنی استطاعت سے بڑھ کر کھلا پلا رہا تھا۔ اسے انگلش میڈیم اسکول بھی بھیج رہا تھا۔ اس انگلش میڈیم اسکول میں جہاں اس جیسا آدمی اپنی اولاد کو بھیجنے کے صرف خواب دیکھ سکتا تھا لیکن اس کے باوجود وہ چڑیا کے پاؤں زمین پر بھی رکھنا چاہتا تھا۔ اس کو پرواز سے روکنا چاہتا تھا۔
    ”بہت سارے کام صاحب لوگ کر سکتے ہیں لیکن ہم نہیں…” چڑیا کو اس فلاسفی کی سمجھ آئی تھی یا نہیں لیکن یہ ایک جملہ اس نے کسی طوطے کی طرح اپنے سسٹم میں بغیر بحث کے فیڈ کیا تھا۔