Tag: lok kahani

  • گلانے — صوفیہ بٹ (قسط نمبر ۱)

    گلانے — صوفیہ بٹ (قسط نمبر ۱)

    رات نے ہاتھ میں سیاہ دوات لے کر ہر سو اندھیرا چھڑک رکھا تھا ۔
    کچھ ایسی ہی تاریک اس شخص کی زندگی بھی تھی جس کے ہاتھ میں سگریٹ اور نگاہ آسمان پر تھی۔ وہاں کچھ ٹمٹماتے تارے تھے ۔ اس کی نظریں دور کہیں ایک ستارے کو ڈھونڈ رہی تھیں مگر وہ ملتا نہ تھا۔ سگر یٹ اس کا ہاتھ جلا گئی ۔ اس نے جھٹک کر اسے پھینکا اور دوسری نکال کر سلگا لی۔
    یوں تو عرصہ ہو ا زندگی دشوار ہوئی مگر کبھی کبھی تو ایسا گھائل کرتی کہ اس جیسا مضبوط اعصاب والا بندہ بھی خودکشی کے بارے میں سوچنے لگتا۔ وہ اپنا شہر چھوڑ آیا ، جان پہچان کے لوگوں سے دور ہو گیا پھر بھی ماضی دامن نہ چھوڑتا تھا ۔ زلیخا کی طرح رسوا کرنے پہ تلا تھا۔
    وہ جہاں بھی چلا جاتا یہ خبر پانی کی طرح رستہ بناتے ہوئے وہاں پہنچ جاتی اور لوگ ترحم بھری یا پھر طنزبھری نظروں سے اسے دیکھنے لگتے تھے۔ وہ جو ایک وجیہہ و شکیل مرد تھا ، جس کا اپنی فیلڈ میں نام اور ایک مقام تھا جسے لوگ رشک یا حسد کی نگاہ سے دیکھتے ، ایک دم انہیں بے چارا سا لگنے لگتا۔
    ”کافی ٹھنڈ ہے یہاں …ہے ناں ؟ ” قرة العین اس کے پیچھے کب آ کھڑی ہوئی ، اسے پتا ہی نہ چلا تھا۔ قرة العین نے ایک طرف دیوار میں لگے سوئچ بورڈ پر دو تین بٹن دبائے تو بالکونی روشن ہوگئی۔ اس نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا، وہ وہیں اسی پوزیشن میں کھڑا تھا۔ اس کے آنے اور بالکونی روشن ہونے سے اسے جیسے کوئی فرق نہیں پڑاتھا۔ کورٹ میں ، چیمبر میں ایک ایک لمحہ حرکت میں رہنے والا یہ شخص جب کبھی اپنی ذات میں گم ہوتا تو یوں لگتا جیسے اب اس کیفیت سے عمر بھرباہر نہیں نکلے گا ،کبھی اس جگہ سے نہیں ہلے گا ،کبھی دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھے گا۔

    ”ڈنر میں سب آپ کا پوچھ رہے تھے۔ جسٹس صفدر نعیم کی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دفعہ ان کا بیٹاسیالکوٹ بار کونسل کے صدر کا انتخاب لڑے گا۔ ”
    اگر وہ کچھ سمجھ دار ہوتی تواس کے چہرے کے تاثرات سے بخوبی اندازہ لگا لیتی کہ اسے اس وقت جسٹس صفدر نعیم یا ان کے بیٹے کی باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں۔
    ”میں نے سنا ہے کہ ججز کے لیے کمیشن اناؤنس ہونے والا ہے ، کیا مجھے اپلائی کرنا چاہیے؟” وہ ایک اور خبر دیتے ہوئے اس سے رائے مانگ رہی تھی۔ اس کے چہرے اور آنکھوں سے صاف ظاہر تھا کہ وہ جواب اثبات میں چاہتی ہے۔ مگر اس شخص کی طرف سے اثبات میں اور نہ ہی نفی میں کوئی جواب ملا تھا۔ اس کی انگلیوں میں دبی سگریٹ سلگتے سلگتے آخری سانسیں لے رہی تھی۔
    ”جسٹس سلیمان نواب کہہ رہے تھے کہ صرف اپنے آپ پر نہ اتراتے پھرنا، سفارش ضروری ہے، بلکہ ضروری ہی سفارش ہے۔ کیسی نا انصافی ہے ناں؟ جب بڑے لوگ اتنی چھوٹی بات کرتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے۔” ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے طبیعت پر خوب اثر ڈالا۔ قرةالعین گہرا سانس لیتے ہوئے یاسیت کی کیفیت سے باہر نکلی۔
    ”ایک ہی ملک میں مختلف موسم… مجھے گرم کپڑے رکھ لینے چاہئیں تھے …آپ نے رکھے؟”
    ”آپ اس وقت میرے کمرے میں کیا لینے آئی ہیں مس غنی ؟” وہ اچانک اس کی طرف مڑا اور درشت لہجے میں پوچھا۔
    ”میں یہاں …وہ …” وہ جوبڑے آرام سے اسے ڈنر کے موقع پر حاصل ہونے والی خبریں سنا رہی تھی،اس سے اب بولنا دشوار ہو گیا۔
    ”جاؤ یہاں سے ۔اسکینڈل بنوانے کا زیادہ شوق ہے تو کسی اور کے کمرے میں جاؤ۔”
    اس کے لفظ زہریلے تھے اور لہجہ اس سے بھی زیادہ تلخ۔
    قرةالعین کچھ دیر گنگ سی کھڑی انہیں دیکھتی رہی۔جب تیزی سے پانیوں سے بھرتی آنکھیں برسنے کو ہوئیں تو وہ عجلت سے مڑی، کمرے میں آ کر سائیڈ ٹیبل پر پڑی ایک فائل اٹھائی اور کمرے سے نکل گئی۔
    ٭…٭…٭
    رات کا جانے کون سا پہر تھا ۔چاند اس کی کھڑکی کے سامنے آ کر ٹھہر گیا تھا ۔ اس کے سامنے دو کتابیں کھلی پڑی تھیں، ساتھ ہی کچھ صفحات تھے ۔ اوپر والے صفحے پر "And” اور "Or”گیٹس ڈرا کیے ہوئے تھے ۔اس کے اوپر اسکیل اور ربر پڑے تھے ۔پنسل اس کی انگلیوں میں دبی ہوئی تھی اور وہ کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہی سو گئی تھی۔ ہانیہ کی آنکھ کھلی تو تاسف سے سر ہلاتے ہوئے بیڈ سے اٹھی۔اس کے پاس آکر کتابیں بند کیں اورآہستگی کے ساتھ اس کا کندھا ہلاتے ہوئے اسے پکارا۔وہ ڈر کر جاگی تھی۔ اس کے منہ سے ہلکی سی چیخ بھی نکلی۔پھر وہ خوف زدہ نظروں سے ہانیہ کی طرف دیکھنے لگی۔
    ”اٹھو…بستر پر سو جاؤ۔” وہ جیسے کچھ نہ سمجھی تھی۔ یونہی تیز سانس لیتی اسے دیکھتی رہی۔
    ”بستر پر جاؤنور …بہت رات ہو گئی ہے۔” ہانیہ نے پھر نرمی سے کہا ۔
    ”نہیں …مجھے ابھی الیکٹرونکس کی اسائنمنٹ مکمل کرنی ہے ۔” اس نے اسکیل اور ربر اٹھا کر ایک طرف رکھے اور کاغذ پر بنے gatesکو دیکھنے لگی۔
    ”صبح بنا لینا… رات آرام کے لیے ہوتی ہے ۔” ہانیہ نے دونوں کتابیں بند کر دیں ۔
    ”صبح مڈ ٹرم کی تیاری کرنی ہے ۔” وہ اٹھنے کو تیار نہ تھی۔
    ”تو یار یہ کون سا میجر ہے جس کے لیے اتنا مغز مار رہی ہو۔ مائنر ہی تو ہے، چھوڑو۔”
    ”علم تو علم ہوتا ہے ۔ مائنر یا میجر سے فرق نہیں پڑتا ۔ انسان زندگی میں بہت سی چیزوں کو مائنر (معمولی) سمجھ کر اہمیت نہیں دیتا۔ یہی مائنر کبھی کبھی بڑی بلا بن کر حملہ کرتے ہیں تو خوشی، سکون ، اعتبار ، اعتماد سب نگل جاتے ہیں۔” ایک اندھیری رات کی دہشت سے آج بھی اس کا رنگ پیلا پڑا ہوا تھا۔
    ”یار تیری باتیں تو مجھے دن میں سمجھ نہیں آتیں ، رات کے اس پہر خاک پلے پڑنی ہیں۔” ہانیہ نے جمائی لیتے ہوئے ہار مانی۔ وہ جانتی تھی کہ اب وہ اس کے پاس گھنٹا کھڑی ہو کر اس کی منتیں بھی کر لے پھر بھی وہ دوبارہ سونے والی نہیں ۔اس نے اسائنمنٹ مکمل کر کے ہی اس کرسی سے اٹھنا تھا ۔وہ بڑبڑاتی ہوئی اپنے بیڈ پر واپس گئی۔
    ”صدر مملکت نے ایوارڈ دینا ہے ناں تمہیں۔” ہانیہ بُرا سامنہ بناتے ہوئے بستر پر لیٹتے ہوئے بولی۔
    وہ منہ پر چھینٹے مار کر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔ ہانیہ کی بڑبڑاہٹ اس کے کانوں تک پہنچتی رہی۔یہاں تک کہ وہ دوبارہ نیندکی وادی میں پہنچ گئی مگر اسے اب رات بھر نیند نہیں آنی تھی۔
    اس کا دل ابھی بھی تیزی سے دھڑک رہاتھا۔ اور ماتھے پر پسینا چمک رہا تھا ۔
    ٭…٭…٭
    وہ ایک بدترین ایکسیڈنٹ تھا۔
    کار،موٹر سائیکل اور ٹرالرکے بیچ ہونے والے تصادم میں چار جانیں چلی گئیں۔ سیاہ مرسڈیز میں سوار دونوں لڑکے جان کی بازی ہار چکے تھے ۔ موٹر سائیکل والا لڑکا بھی مر چکا تھا۔صرف اس کے پیچھے بیٹھے لڑکے کی سانسیں چل رہی تھیں مگر حالت ایسی تھی کہ کوئی معجزہ ہی اسے بچا سکتا تھا۔ اور حواس کھو دینے سے قبل اس نے معجزہ ہو جانے کی شدت سے دعا مانگی تھی۔
    مرنے سے پہلے وہ ایک چہرہ دیکھنا چاہتا تھا ۔
    مرنے سے پہلے وہ ایک لفظ کہنا چاہتا تھا ، ایک جملہ سننا چاہتا تھا ۔
    اس نے معجزہ ہو جانے کی شدت سے دعا مانگی تھی۔ رب نے اس کی سن لی وہ بچ گیاتھا۔
    ٭…٭…٭
    دو روزہ انٹرنیشنل جوڈیشل کانفرنس آج اپنے اختتام کو پہنچی تھی۔ ان کے ضلع کے ججز اور وکلا نے ایک دن اسلام آباد کے خوب صورت مقاما ت کی سیرکے لیے مختص کیا تھا ۔لوک و ر ثہ ،شکر پڑ یا ں اور پاک مونومنٹ گھومنے کے بعد وہ 1969 ریسٹورنٹ لنچ کے لیے پہنچے تھے۔ ریسٹورنٹ میں چلتا ساٹھ اور ستر کی دہائی کا میوزک ، میز کے شیشے کے نیچے ر کھی اس دو ر کی خبر و ں کے تراشے بو ڑ ھوں کو ا یام جوانی کی یاد دلاتے اور جوانوں پر پچھلی صدی کا سحر سا طاری کر دیتے ۔ سب اس ماحول میں لذیذ کھانے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے مختلف موضوعات پر مبنی گفتگو میں مگن تھے مگر قرةالعین خلافِ معمول آج چپ چپ سی تھی۔ساتھیوں کے استفسار پر بھی اس نے انہیں ”طبیعت کچھ صحیح نہیں ” کہہ کر ٹال دیا تھا۔وہ جانتا تھا قرةالعین کی خا موشی اور آزُردگی، کی و جہ، مگر ا س نے معذر ت کی ضر و ر ت نہ سمجھی تھی۔
    غلطی اس کی تھی۔ بغیردستک دیے کسی کے کمرے میں آنا اس کے نزدیک سب سے بڑی بدتہذیبی تھی۔ اوپر سے یہ دیکھے بغیر کہ سامنے والا سننے کے موڈ میں ہے بھی یا نہیں ، بولتے چلے جانا،یہ بھی تہذیب کے دائرے میں ہر گز نہ آتا تھا۔مزید غصہ اسے یہ آیا تھا کہ آج کل کے جوانوں میں عقل سمجھ تو ہے نہیں، ملک بھر کی عدلیہ اور دنیا کے مختلف ممالک سے آئے قانون دان اس ہوٹل میں جمع تھے ۔صحافیوں نے ان کے پہنچنے سے پہلے وہاں ڈیرے ڈالے ہوئے تھے ۔ اور وہ چلی آئی تھی رات کے اس پہر ا س کے کمرے میں ۔ کوئی بھی اسے وہاں ،رات کے اس پہر اس کے کمرے میں آتا جاتا دیکھ لیتا توکہانی اپنی مرضی کی گھڑتا۔ دوسرے شعبوں کی طرح اس فیلڈ میں بھی حسد و بغض کی کمی نہیں تھی۔ وہ ایک کم عمر بے وقوف لڑکی کی وجہ سے اپنا نام اور مقام خراب نہیں کرسکتا تھا۔
    ”آپ کو کیا لگتا ہے چیف جسٹس جواد خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اردو کو آفیشل لینگویج کے طو ر پر اڈاپٹ کرنے کا جو حکم صادر کیا ہے وہ امپلی منٹ ہو گا یا صرف دیوانے کا خواب بن کر رہ جائے گا ؟” سیشن جج اعتبار احمد نے کانٹا چمچ چلاتے ہوئے تبصرہ کیا تو اس کا دھیان بھی اُدھر ہوا۔
    ”آپ نے اپنے سوال میں جتنے انگریزی کے الفاظ استعمال کر ڈالے ،اس سے تو نہیں لگتا ۔ ” جوڈیشل مجسٹریٹ خورشید عطا نے مچھلی کا ٹکڑا پلیٹ میں رکھتے ہوئے ہنس کر کہا ۔
    ”اردو بھی تو بہتر ہوئی ہے میرے ہم دم… یہ بھی تو ملاحظہ فرمائیں۔” اعتبار احمد بھی ان کی اِس بات پر ہنسے تھے۔
    ”مجھے نہیں لگتا۔ کیوں کہ ہمارے یہاں بہت سے ایسے انگریزی الفاظ رائج ہو چکے ہیں جنہیں اردو کے کسی لفظ سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔” جوڈیشل مجسٹریٹ نے نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”اس سے فرق نہیں پڑتا۔ تبدیل کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔ ہر زبان میں ایسے الفاظ پائے جاتے ہیں جن کا اوریجن کوئی اور زبان ہے مثلاً انگریزی ہی لے لیجیے جس میں ہزاروں ایسے الفاظ ہیں جو دوسری زبانوں سے لیے گئے ہیں۔ فرنچ یا لیٹین (لاطینی) ہیں، مگر اب انگریزی کا حصہ بن چکے ہیں۔ لفظ ایڈووکیٹ کو ہی لے لیں۔ اگر اس کی etymology دیکھیں تو اس کا اوریجن فرنچ اور لیٹین ہیں۔ اسی طرح اگر انگریزی کے کچھ لفظ عربی ،فارسی اور سنسکرت کی طرح اردو زبان کا حصہ بن چکے ہیں توکوئی مضائقہ نہیں ۔اس بات کو بنیاد بنا کر ہم اپنی قومی زبان کو پیچھے نہیں دھکیل سکتے۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اس فیصلے کو رائج ہونا چاہیے ۔” وہ اپنی رائے د ے ر ہا تھا اور قرةالعین دل میں اس سے خفا ہونے کے باوجود اسے دیکھے بنا نہ رہ سکی تھی۔اس کی شخصیت میں بلا کی کشش تھی۔
    ”میں اس حق میں نہیں ہوں۔ ہم پہلے ہی پیچھے ہیں ،انگلش کو چھوڑ کر مزید پیچھے چلے جائیں گے۔” لرنڈ کاؤنسل منیب طاہرنے نفی میں سر ہلاتے ہوئے گفتگو میں حصہ لیا۔
    ”چائنا پیچھے چلا گیا؟” اس نے منیب کی آنکھوں میں جھانک کر سوال کیا۔
    ”آپ نے نہیں سنا، ماؤ زے تنگ نے کہا تھا کہ میں دنیا کو بتانا چاہتا ہوں چین گونگا نہیں ہے ۔ اس کی اپنی ایک زبان ہے اور اگر دنیا ہمارے قریب آنا چاہتی ہے یا ہمیں سمجھنا چاہتی ہے تو اسے ہماری زبان سمجھنا اور جاننا ہو گی۔” اس کی آنکھوں میں بلا کی سنجیدگی تھی۔
    خوداری… میرے ہم دم خوداری۔ اپنی زبان کو فروغ دینے کے لیے، عزت دینے کے لیے خوداری لازم ہے اور فقیر خوددار ہو گیا تو کاسہ کیسے بھرے گا ؟” اعتبار احمد پھر ہنسے تھے ۔ وہ کڑوی مگر سچی بات کر گئے تھے ۔
    ”ہم فقیر نہیں ہیں۔” قرة العین نے صدائے احتجاج بلند کی۔
    اس نے بہت غور سے قرةالعین کا سرخ پڑتا چہرہ دیکھا۔ جوانی میں فرطِ جذبات سے چہرہ ایسا ہی ہو جاتا ہے کیوں کہ بات دل سے کی جاتی ہے ۔پھر دھیرے دھیرے وقت، دماغ کو سردار بنا دیتا ہے، اسی کے فیصلے چلنے لگتے ہیں، مصلحتوں سے بھرے لہجے جذبات سے عاری ہونے لگتے ہیں۔ چہرے سپاٹ ہونے لگتے ہیں ۔
    ”خود فریبی سی خود فریبی ہے ۔” اعتبار احمد گنگناتے ہوئے طنزیہ انداز میں ہنس دیے تھے ۔
    قرةالعین کاچہرہ ایک بار پھر لال ہوا ۔اس نے پلیٹ پر جھکنے سے پہلے اس بے درد کو دیکھا جو اپنی رائے دینے کے بعد کھانے میں مصروف ہو چکا تھا۔ یہ اس کی عادت تھی۔ ا پنی ر ا ئے د ینے کے بعد چپ ہو جا تا تھا، بحث میں نہیں پڑتا تھا۔ ہاں دوسروں کا مؤقف ضرور غور سے سنتا تھا۔ مگراس کے معاملے میں یہ نام ور جج اچھا منصف نہیں تھا۔ اس سے جانے کیا خار رکھتا تھا کہ اس کا مؤقف سننے کی کبھی ضرورت ہی نہ سمجھی۔ زیادہ تکلیف دہ بات تو یہ تھی کہ زیادتی کرنے کے بعد اسے احساس تک نہ ہوتا تھا۔ اب بھی اس کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں تھی، انداز میں کوئی ندامت نہ تھی جیسے وہ بھول چکا تھا کہ رات کتنے سخت الفاظ اسے کہہ چکا ہے۔ و ہ تو ڈنر کے بعد جب علینہ اور فرواکے ساتھ وہ روم میں آئی تو اس وقت اسے ایک دم یاد آیا کہ اس نے انہیں شام میں اس پیپر کو ریویو کرنے کو کہا تھا جو ا س نے کل کانفرنس کے پہلے سیشن میں پڑھنا تھا ۔وہ اس کے کمرے سے اپنا پیپر لینے گئی تھی۔یہ اور بات ہے کہ اسے یوں تنہا ،اداس دیکھ کر وہ رہ نہ سکی تھی اور اس کے قریب چلی آئی تھی۔
    یہ سچ تھا کہ اسے اس شخص کی تنہائی تکلیف دیتی تھی۔ اسے اس شخص کا کرب بھی رنج دیتا تھا۔ وہ اس شخص کا ہاتھ تھام لینا چاہتی تھی، اس کو تنہائی کے عذاب سے نکالنا چاہتی تھی، اس کے سب غم سمیٹ لینا چاہتی تھی۔
    ہاں! اس سے انکاری کب تھی وہ۔ ایسا تو وہ چاہتی تھی مگر وہ نہ چاہتی تھی جو یہ بے درد شخص سمجھا تھا اس کی عزت اسے بہت عزیز تھی۔ اس کی بدنامی اسے کب قبول تھی؟ اس کا تو ابھی تک ہیومن رائٹس کی اس علم بردار کا منہ نوچ لینے کو جی چاہ رہا تھا جس نے کل دوپہر اسے ماضی کا طعنہ دیا تھاجس کے بعد سے ہی اس نے اپنے آپ کو کمرے میں بند کر لیا تھا ۔
    اسے سمجھ نہیں آتی تھی کہ کسی کے زخم پر نمک چھڑک کر بھلا لوگوں کو کیا مزہ آتا ہے؟
    وہ اس شخص کے لیے اپنا دل جلا رہی تھی جو اسے اپنے لفظوں اور اپنے رویے سے گھائل کرتا تھا۔
    ٭…٭…٭

  • لالی — شاذیہ خان

    لالی — شاذیہ خان

    رجونے چولہے میں مزید لکڑیاں جھونکیں اور جلدی جلدی پیڑے بنانے لگی ۔ چونکی اُس وقت جب بارش کی کن من اس کے کانوں سے ٹکرائی ۔ وہ سب کچھ وہیں چھوڑ کر صحن کی طرف بھاگی ۔ بھائی بھابھی ابھی سو رہے تھے ۔ کاشی (چھوٹا بھائی ) دوسرے گاؤں گیا ہوا تھا ۔ سواُسے اکیلے ہی صحن میں سے بکھرا سارا سامان اور بھاری بھاری چارپائیاں سمیٹنی پڑیں۔ اس دوران بارش نے اُسے بھگو ڈالا تھا ۔ سب نپٹا کر اُس نے کپڑے بدلے اور دوبارہ چولہے کی طرف آ گئی ۔ سب کے اُٹھنے سے پہلے اُسے ناشتہ تیار کرنا تھا۔ چاٹی میں نمک اور تھوڑا ٹھنڈا پانی ڈال کر وہ جلدی جلدی لسّی بلونے لگی۔ مکھن اوپر آ جانے کے پر اُس نے ہاتھ ڈال کر پیڑا نکالا اور پیالے میں ڈھک دیا۔ بھائی ناشتے میں مکھن اور پراٹھا پسند کرتا تھا ، بھابھی روٹی اور لسّی۔
    چھوٹا رات تک آنے والا تھا ۔ویسے بھی وہ ناشتے میں زیادہ تر گُڑ والی چائے اور روٹی مکھن کے ساتھ کھاتا تھا۔ اُس نے چنگیری میں موجود رات کی بچی ہوئی روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کئے اور مرغیوں کے ڈربے کی طرف آ گئی ۔مُرغیاں کُٹ کُٹ کرتی ایک دوسرے پر چڑھتی روٹی کے ٹکڑوں پر لپکیں ۔ وہ وہیں کھڑی اُن کو ایک دوسرے سے لڑتا دیکھ رہی تھی کہ اچانک دروازے پر دستک ہو ئی ۔ کپڑوں کو بچاتی رجو دروازے پر آئی ۔ کاشی تھا جو کہ بُری طرح بھیگا ہوا تھا ۔ ”کاشی تو اتنی صبح؟ تو نے تو شام تک آنا تھا ”۔ ”ہاں آپا جس کا م کے لئے گیا تھا وہ تو رات کو ہی ہو گیا تھا۔ تو میں نے سوچا کہ اب نکل لوں، بارش سے پہلے ہی گھر پہنچ جاؤں گا مگر بارش نے راستے میں ہی آ لیا۔ وہ تو بھلاہو چھوٹے چودھری صاحب کا وہ بھی گاؤں ہی آرہے تھے ۔ انھوں نے اپنی گاڑی میں بٹھا لیا ۔ تو بتا، ناشتہ بنایا ہے؟” اس نے لمبی کہانی سناتے ہوئے پیٹ پر ہاتھ پھیرا ۔
    ”ارے تو کپڑے بدل میں ابھی تیرے لئے ناشتہ لاتی ہوں”۔ رجو نے تیزی سے ہاتھ چلاتے ہوئے ناشتہ بنا کر ٹرے میں رکھا اور کمرے میں آگئی ۔ کاشی کپڑے بدل چکا تھا ۔ ”آپا پیسوں کا انتظام ہو گیا ”۔ اس نے نوٹوں کی ایک موٹی سی گڈی اُس کے ہاتھ میں تھمائی ۔ وہ رجو کی اور اپنی شادی کے انتظامات کے لئے دوسرے گاؤں میں موجود ابّا کی زمین بیچنے گیا تھا ۔ اچھی قیمت مل گئی تھی ۔
    سب آہستہ آہستہ اُٹھ چکے تھے رجو نے بھائی اور بھابھی کے آگے ناشتہ رکھا۔ بھائی چھوٹے بھائی سے زمین کے سودے کے بارے میں بھی پوچھ رہے تھے وہ بتا رہا تھا کہ بہت تھوڑے سی زمین بچی ہے بوائی واسطے لیکن شکر ہے سودا ہو گیا۔ اب شادی کی تیاری شروع کر دی جائے۔ اس کی اور رجو کی منگنی کو دو سال ہو چکے تھے اور اب دونوں کی سسرال والے شادی کے لیے زور دے رہے تھے۔ اُن کی باتوں کو سن کر رجو اپنے کمرے کی طرف آگئی نہ جانے دل کیوں بھر آیا تھا ابا اور اماں اس وقت بہت یاد آرہے تھے۔ اس وقت اُسے رونے کے لیے کاندھے کی ضرورت تھی اور کوئی کاندھا نہ تھا۔ بھابھی ذرا لئے دیئے میں رہتیں رجو سے ضرورت کے وقت ہی باتیں کرتیں وہ اپنے دل کی ساری بھڑاس اپنی جاں سے پیاری لالی سے کر لیتی لالی اور وہ سہیلیاں تھیں لیکن اس وقت بارش اتنی تیز تھی کہ وہ لالی تک نہیں جا سکتی تھی۔ وہ لالی کو کیسے بتاتی کہ شادی کی بات سُن کر اس کا دل بھر آیا ہے۔

    رجوکی ساس شادی کی بہت جلدی مچا رہی تھیں ۔ انہوں نے دوسال انتظار بھی تو کیا تھا ۔ دو سال پہلے انہوں نے اُسے پھرکی کی طرح پورے گھر میں بھاگ بھاگ کر کام کرتے دیکھا ۔ ہر طرف رجو رجو کی صدائیں گونج رہی تھیں۔ کہیں وہ مہمانوں کے لئے چارپائیاں بچھا رہی ہے ۔ کہیں صبح صبح اٹھ کر ناشتہ کروا رہی ہے ۔ کہیں چولہا سنبھالے مہمانوں کے دوپہر کے کھانے کی فکر میں ہلکان تھی۔ غرض ہر دوسرے شخص کی زبان پر اسی کا نام تھا۔
    رجو کی ہونے والی ساس اس کی دور پرے کی پھوپھی بھی تھیں جو شادی میں شرکت کے لئے اپنے گاؤں سے آئیں تو انہیں محسوس ہوا کہ اس ہیرے کو تو میرے گھر ہونا چاہئے ۔ شکل صورت بھی لاکھوں نہیں تو ہزاروں میں ایک تھی ۔ رجو کے باپ کا انتقال کچھ مہینے پہلے ہی ہوا تھا ۔ دو بھائی تھے ۔ ماں بچپن میں ہی فوت ہو گئی تھی ۔ باپ اور بھائیوں نے بڑا کیا تھا ۔ چھوٹا عظیم جسے سب پیار سے کاشی کہتے تھے رجوسے ایک سال چھوٹا تھا ۔ اس کا رشتہ بھی بھابھی کی بہن سے طے تھا۔ صرف رجو کا رشتہ طے ہونا باقی تھا۔ یہ مسئلہ پھوپھی نے حل کر دیا اور دونوں بھائیوں سے افضل کے لئے ہاں کروا کر ہی اٹھیں ۔ یہ بھی نہ سوچا کہ اس رشتے میں افضل کی خوشی بھی شامل ہے یا نہیں؟
    وہ اپنی چچا زاد زینب سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن ابّا کے آگے مجبور ہو گیا ۔ چند سال پہلے زمین اور جائیداد کے معاملے پر ابّا اور چاچا کا ایسا جھگڑا ہوا کہ اب دونوں بھائی ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے بھی روا دار نہ تھے اوراسی جھگڑے نے افضل کی محبت کو بھی دم توڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔ پچھلے سال جب افضل کا باپ دنیا سے رخصت ہوا تب بھی چاچا اور اُن کا گھرانا بھائی کا منہ تک دیکھنے نہ آیا۔ اماں نے بین ڈالتے ہوئے قسم کھائی کہ آج کے بعد اُس گھر سے کوئی ناطہ نہیں رکھا جائے گا۔ بھلے کوئی مرے یا جئے اور جس نے رکھنے کی کوشش کی تو اُس کے لئے میں بھی مر جاؤں گی ۔ یہ قسم دیتے ہوئے اُن کا مخاطب صرف افضل تھا اور افضل ہاتھ مسلتے ہوئے ابّا کا آخری دیدار کر رہا تھا۔
    کیا خون کے رشتے اتنے سنگ دل اور تنگ دل بھی ہو سکتے ہیں کہ آخری دیدار بھی نہ کریں۔ اس نے ابا کی میّت کو دفن کرتے وقت اپنی محبت کو بھی دکھی دل سے دفن کر دیا۔
    حالاں کہ وہ اور زینب بچپن کے ساتھی تھے ۔ اُن کے بڑے ہمیشہ یہ احساس دلاتے تھے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے لئے ہی ہیں۔ اس بیج نے تن آور درخت کی صورت اس وقت اختیار کی جب لڑکپن میں اُسے کبوتر بازی کا شوق ہوا۔ دن بھر آوارہ گردی کرتے کبوتروں کو بند کرنے شام کو جب چھت پر جاتا وہ نہ صرف اس سے پہلے موجود ہو تی بلکہ اس کے انتظار میں کئی چکر بھی لگا چکی ہوتی ۔ کبھی کبھی سب کی نگاہ سے بچ کر وہ دونوں کسی بڑے پنجرے کی اوٹ میں کچھ دیر دل کی باتیں بھی کر لیتے۔ وہ کبوتروں کے لئے میوے اور دانہ لینے جاتا تو سب کی نظر بچا کر اُس کے لئے بھی کاچھو حلوائی سے جلیبیاں ، قتلمے ، سموسے یا اندرسے ضرور لاتا ۔ دونوں ایک دوسرے کو اپنے ہاتھوں سے کھلا کر بہت خوش ہوتے۔ افضل کو محسوس ہوتا کہ زینب بھی غٹرغوں غٹرغوں کرتی ایک کبوتری ہی ہے ۔ کبوتروں کی کابک تلے ان کی محبت پروان چڑھتی گئی۔ وہ زینب کے گھر جائے یا زینب اس کے گھر دونوں کے ماں باپ اُن پر صدقے واری ہوتے ۔ اُن کے گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ الگ ہو جائیں گے۔
    تعلقات منقطع ہو جانے کے بعد رحیم چاچانے افضل سے جان چھڑانے کے لئے زینب کی شادی اپنی بیوی کے یتیم بھانجے ماجد سے کر دی۔ ماجد کے ماں باپ بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے ۔ پھوپھی نے اسے اپنی اولاد سمجھ کر پالا تھا۔ تھوڑی سی زمین تھی جس پر پھوپھا کی معاونت سے بوائی کرتا اور مشورے لیتا۔ شادی کے بعد زینب نے اُسے ایک پل سکون نہ دیا ۔ ہر دوسرے دن جھگڑا کر کے میکے آ بیٹھتی اور کسی طور جانے کے لئے راضی نہ ہوتی ۔جھگڑے کی وجوہات اتنی معمولی ہوتیں کہ اُن سے ماجد تو کیا اُس کے اپنے ماں باپ بھی نالاں تھے۔ روز روز کے جھگڑوں سے تنگ آکر پھوپھا نے ماجد کوسسرال ہی رہنے کو کہا تو وہ بڑی خوب صورتی سے ٹال گیا ۔ غیرت مند تھا ، گھر جوائی کا طعنہ کبھی نہ سہہ سکتا تھا ۔
    بڑوں کے درمیان نفرتیں ان کی محبتوں پر حاوی ہو گئیں ۔اس کی شادی کے روز افضل پاؤں جلی بلّی کی طرح اِدھر سے اُدھر چکر لگاتا رہا۔ اس حالت کو صرف اُس کی ماں سمجھ رہی تھی ۔

  • دانہ پانی — قسط نمبر ۹ (آخری قسط)

    دانہ پانی — قسط نمبر ۹ (آخری قسط)

    عشق تے آتش سیک برابر
    سانوں عشق دا سیک چنگیرا
    اگ تے ساڑھے ککھ تے کانے
    عشق ساڑے تن میرا
    اگ دا دارو مینہ تے پانی
    دس عشق دا دارو کیہڑا
    (آگ اور عشق دونوں ایک طرح سے جلاتے ہیں
    لیکن ہمیں عشق سے جلنا پسند ہے
    آگ تو صرف گھاس پھوس جلاتی ہے
    مگرعشق میرا تن جلاتی ہے
    آگ تو پانی سے بجھ جاتی ہے
    مگر مجھے بتاؤ عشق کس دوا سے ختم ہوتاہے)
    اُس بُت نے دعا کی تھی کہ وہ واقعی بُت ہوتا۔ جو اُس نے سُنا، نہ سُن سکتا، جو اُس نے دیکھا، نہ دیکھ پاتا اور اگر پہلے نہیں تھا تو اب بُت بن جاتا، رہ ہی کیا گیا تھا اب دُنیا میں؟
    وہ وہاں آنے سے پہلے بھی مجرم بن کر آیا تھا مگر یہ نہیں جانتا تھا کہ بتول سیدھا اُسے پھانسی کے تختے پر لٹکادے گی۔ وہ تو اتنے لمبے عرصے کے بعد گاؤں آنے پر حویلی جانے سے بھی پہلے گامو کے گھر آیا تھا تعزیت کرنے اور موتیا کا حال جاننے۔ اُس کے ملازم نے اُسے بتایا تھا گامو کے بارے میں جب وہ اُسے سٹیشن سے لینے آیا تھا اور مراد اُسے یہ نہیں کہہ سکا کہ وہ اتنے عرصہ بعد واپس ہی اس لئے آیا تھا کہ وہ اُس کے گھر جاسکے۔
    ”اسلم! حویلی کے بجائے گامو کے گھر چلو۔”
    اُس نے گاڑی چلانے والے ملازم سے کہا تھا۔ گامو کے گھر سے بہت دور گاڑی روک کر وہ پیدل اُس کی گلی میں آیاتھا اور اُس گلی میں آتے ہوئے اُسے چند سال پہلے ایک چھت پر کھڑی وہ دلہن یاد آئی تھی۔ اُس نے بے اختیارآج بھی سر اُٹھا کر جیسے اُس گلی میں گامو کے گھر کی چھت پر اُس وجود کو ڈھونڈنا چاہا تھا، وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔
    گامو کے گھر کا دروازہ کھلا تھا اور مراد نے دہلیز پر قدم رکھ کر اُس دروازے کو بجانا چاہا تھا، جب اُس نے اندر سے آتی بتول کی آواز سُنی تھی اور پھر وہ انسان سے بُت میں بدل گیا تھا۔ پتہ نہیں وہ کون سی ریل کی پٹڑی تھی جس پر وہ لیٹا ہوا تھا اور بتول کی آواز ریل بن کر اُس کے وجود کے پرخچے اُڑاتے ہوئے اُس پر سے گزر رہی تھی۔
    ”سازش؟ اُس کی ماں یہ سازش کیسے کرسکتی تھی؟”
    اُس نے تو صرف ”پیار ” کیا تھا۔ پیار کی یہ سزا تو کوئی اُسے نہیں دے سکتا تھا اور وہ بھی وہ جو اُس کی اپنی ماں تھی۔
    کبھی کبھی انسان روشنی میں آنا نہیں چاہتا، کبھی کبھی دُنیا اتنی بدصورت لگتی ہے کہ انسان اُسے دیکھنے کے بجائے اندھا ہوکر جینا چاہتا تھا۔ مراد کے ساتھ بھی اس وقت یہی ہورہا تھا۔ وہ کس کو بُرا کہے؟ کس سے لڑے؟ کس سے بدلہ لے؟سامنے کھڑے مہرے سے یا اُس مہرے کو چلانے والے اُس ہاتھ سے جس نے مراد کو جنم دیا تھا۔
    ” چوہدری صاحب میں۔۔۔”

    بتول نے بڑی دیر بعد کچھ کہنے کی ہمت کی تھی اور مراد نے ہاتھ اُٹھا کر جیسے اُسے خاموش ہوجانے کے لئے کہا تھا۔ وہ اب اُس سے کچھ اور بھی سننا نہیں چاہتا تھا۔ کوئی وضاحت، کوئی معافی، کچھ بھی نہیں۔ بتول نے اُس کا چہرہ دیکھا اور پھر پلٹ کر سکے چنتی موتیا کو دیکھا اور پھر وہ چپ چاپ اُس دہلیز کی طرف بڑھ گئی تھی جہاں سے مراد ہٹا تھا۔ وہ بتول کو نہیں دیکھ رہا تھا، وہ چارپائی پر بیٹھے اُس وجود کو دیکھ رہا تھا جسے اُس نے پہلی نظر میں پہچانا ہی نہیں تھا۔ وہ سر جھکائے بیٹھی سکّوں کے ساتھ کھیل رہی تھی اور اُس کے قدموں کی آواز پر اُس نے سر اُٹھا کر اُسے دیکھا تھا بالکل اُسی طرح جیسے کچھ دیر پہلے وہ بتو ل کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔
    وہ کتنے سال بعد ایک دوسرے کے سامنے آئے تھے۔ کتنے سال بعد ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔
    اُس کے نین غزالی دلبر
    اُس کے گال گلابی
    اُس کے روپ پہ ساون برسے
    بہہ جائے مر مرکے
    اُس کا حسن کہانی جیسا
    کاغذ کتنے بھردے
    اُس کی مشک بہاروں جیسی
    اُس کی چپ میں چھاؤں
    وہ حسن پری
    وہ روپ متی
    وہ میرے جل کی ناؤ
    پہلی بار جب مراد نے اُسے دیکھا تھا تو وہ حسن کا مجسمہ تھا اور وہ اُس پر یوں مرمٹا تھا کہ پہلی نظر بھی ہٹا نہیں سکا تھا۔ موتیا نے اُسے باندھ کر رکھ دیا تھا۔ وہ آج اُس سے ملا تھا تو وہ حسن کا مجسمہ بھربھرا ہوکر اپنی ساری آب وتاب کھوچکا تھا۔ وہ پھر بھی اُس سے نظر نہیں ہٹاپایا وہ آج بھی اُس پر شعر پڑھ سکتا تھا، اُسے آج بھی ٹرین میں سُنا ہوا وہی گیت یاد آیا تھا اور اُس نے عجیب سے اندازمیں وہ سب اُس کے سامنے کہنا شروع کردیاتھا۔ اُس کی آواز امرت کی طرح موتیا کی سماعتوں میں اُتررہی تھی جیسے کسی طلسم کو توڑتے ہوئے اُسے پھر سے زندہ کررہی تھی۔ وہ سب کچھ جو بھول گیا تھا، دوبارہ یاد آنے لگا تھا۔پھر وہ سب کچھ جو یاد آرہا تھا وہ جہاں آکر ختم ہورہا تھا، وہاں وہ کھڑا تھا۔ غائب نہیں ہوا تھا۔
    مراد چند قدم چل کر آگے آیا تھا پھر اُس کے بالمقابل چارپائی پر بیٹھ گیا تھا۔ اُس کے ہاتھ سے سکّے لے کر اُس نے چارپائی پر رکھے تھے۔ اُس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا تھا۔ اُس کا ہاتھ بے حد ٹھنڈا تھا۔ بہت کمزور، اُس کی ہاتھ کی رگیں اُبھری ہوئی تھیں۔گوشت نہ ہونے کے برابر تھا۔ اُس کا سرخ و سفید گلابی رنگ اب زرد تھا۔ اُس کے اتنے قریب بیٹھ کر مراد اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں دیکھ سکا۔ وہ سر جُھکائے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے کسی مجرم کی طرح بیٹھا ہوا تھا اور موتیا پلکیں جھپکائے بغیر اُسے دیکھتی ہی جارہی تھی۔
    ”مجھے اتنا برا بھلا کہو موتیا کہ میں مرجاؤں یہاں بیٹھے بیٹھے۔”
    وہ عجیب مطالبہ تھا جو مراد نے بالآخر سر اُٹھا کر اُس سے کیا تھا۔
    ” میں اب تم سے اپنے لئے کوئی اچھے الفاظ نہیں چاہتا۔ کوئی اظہارِ محبت نہیں، بس تم مجھے بددعائیں دو، بُرا بھلا کہو، گالیاں دو۔ میں سب کچھ سننے آیا ہوں جو اتنے سالوں میں میری بے وفائی پر مجھے کہا ہوگا۔”
    مراد نے اُس کو دیکھتے ہوئے کہا تھا اور جواب اللہ وسائی نے دیا تھا جو ابھی ابھی گھر میں داخل ہوئی تھی اور دروازے کی طرف مراد کی پشت ہوتے ہوئے بھی وہ پہچان گئی تھی کہ وہ کون تھا جو موتیا کے سامنے بیٹھا تھا تو موتیا کی آنکھوں میں جیسے چمک لوٹ آئی تھی۔
    ” جس دن تمہاری بارات ہمارے گھر آنے کے بجائے دروازے کے سامنے سے گزر کر گئی تھی، اس دن کے بعد موتیا نہیں بولی۔ گامو کے مرنے پر بھی نہیں ۔ چھوٹے چوہدری کمّی کمین تو ہم تھے پر تم لوگوں نے کیوں بدلہ لینے کے لئے کمیّوں سے بھی بدتر کام کیا۔”
    اللہ وسائی کی آواز پر وہ کرنٹ کھا کر پلٹا تھا اور پھر بے اختیار چارپائی سے کھڑا ہوگیا۔
    ” کس کی بارات؟ میری بارات نے تو یہاں آنا نہیں تھا۔”
    ” جاکر اپنی ماں سے پوچھ، اپنے باپ سے پوچھ کہ تیری بارات نے اُس دن کہاں جانا تھا اور کہاں گئی؟ تو نے میری بیٹی کو رسوا کرنا تھا تو چھوڑدیتا، پورے گاؤں کے سامنے یوں بارات لاکر تماشا نہ بناتا۔دیکھ اب اس کا حال یہ نہ ہنستی ہے نہ روتی ہے اور نہ بولتی ہے۔ تین سال سے اسی طرح لئے بیٹھی ہوں۔ اسے دیکھتے دیکھتے گامو مرگیا۔ اکلوتی جوان بیٹی کا یہ حال ہوجائے تو کون زندہ رہے گا؟ میں بھی زندہ لاش ہوں چھوٹے چوہدری۔ صرف اس لئے چل پھررہی ہوں کیونکہ یہ زندہ ہے، اس کی سانسیں چل رہی ہیں۔ اس نے بددعا نہیں دی کبھی تجھے اور تیرے ماں باپ کو، پر میں ہر روز دیتی ہوں۔ بھٹی پر دانے بھونتے ہوئے میں سارا وقت تجھے بددعائیں دیتی ہوں کہ تیرا خاندان اس طرح اُجڑے کہ لوگ کانوں کو انگلیاں لگا لگا کر توبہ کریں۔”
    اللہ وسائی بے حد غم و غصّہ میں اُس سے کہتی جارہی تھی اور مراد دم سادھے سُن رہا تھا۔
    اولاد کے گناہ ماں باپ کے پیروں کے نیچے سے زمین نکال دیتے ہیں لیکن ماں باپ کے گناہ بھی اولاد کی جان نکال دیتے ہیں۔
    مراد نے ایک لفظ کہے بغیر وہ سب کچھ سن لیا تھا۔ اُس نے اللہ وسائی کو بولنے دیا تھا۔ رونے دیا تھا۔ وہ سارے جہاں کا کوڑا لاکر اُس پر پھینک دیتی ، تب بھی وہ وہاں سے نہ ہلتا۔ لیکن اُس کا ذہن ماؤف ہورہا تھا۔ اُس کی ماں اتنی بے رحم تو کبھی بھی نہیں تھی یا تھی اور اسے ہی اندازہ نہیں ہوا تھاکیونکہ وہ اُس کی اکلوتی اولاد تھا ۔ اُس کے لئے اُس کی ماں کے پاس مٹھاس کے علاوہ کچھ تھا ہی نہیں اور اُس مٹھاس نے اُسے بے یقین کردیا تھا کہ وہ جو کچھ سُن اور دیکھ رہا تھا، وہ تاجور کا کیا دھرا تھا۔ اتنی نفرت، اتنا زہر، اتنی بے رحمی اور اتنی بے حسی۔۔۔ کس طرح؟ وہ سمجھنے سے قاصر تھا اور وہ جیسے تڑپ رہا تھا۔
    ” تو دیکھ یہ میری بیٹی کس طرح گزارے گی ساری زندگی؟ باپ چلا گیا ، میرے بعد کون خیال رکھے گا اِس کا؟ لوگ کہتے ہیں یہ پاگل ہوگئی ہے، پر مجھے پتہ ہے یہ پاگل نہیں ہے، بس سہہ نہیں سکتی کچھ بھی۔ تو نے ٹور نہیں نبھانی تھی تو کیوں میری بیٹی کو محبت کا فریب دیا تھا؟”
    اللہ وسائی روتے ہوئے اُس سے پوچھ رہی تھی اور مراد کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، نہ کوئی وضاحت۔ وہ اللہ وسائی سے یہ کہہ نہیں پارہا تھا کہ وہ بھی لہولہان تھا۔ اُس کی پشت میں غیروں نے نہیں اُس کی اپنی ماں نے خنجر گھونپا تھا۔
    ” سنیں چاچی! میں اس جمعے کو بارات لے کر آؤں گا اور موتیا کو بیاہ کر لے جاؤں گا۔ جو کچھ ہوا، اُس پر اپنا پچھتاوا اور رنج دکھانے کے لئے میرے پاس لفظ نہیں ہیں مگر میں موتیا کو اب لے جاؤں گا، اسی دھوم دھام سے جس دھوم دھام سے وہ پہلی بارات آپ کی گلی سے گزر کر گئی تھی۔”
    وہ فیصلہ لمحوں میں ہوا تھا اور اُس سے بھی کم وقت میں مراد نے اللہ وسائی کو سُنا دیا تھا۔ وہ گنگ رہ گئی تھی۔ وہ اُس موتیا کو بیاہنے آئے گا، سب کچھ دیکھنے اور جاننے کے بعد بھی۔ اللہ وسائی کو یقین نہیں آیا تھا۔ لیکن کہنے والا اب ایک بار پھر جُھک کر موتیا کا ہاتھ پکڑ رہا تھا اور پھر اُس نے اس ہاتھ کو اپنے ہونٹوں سے چھو کر ماتھے پر لگایا تھا۔ پھر وہ اُٹھ کر کھڑا ہوا اور کچھ بھی کہے بغیر اُن کے گھر سے نکل گیا تھا۔
    ”مراد!”
    اللہ وسائی کو لگا اُسے وہم ہوا تھا۔ اُس نے بے یقینی سے موتیا کو دیکھا۔ وہ چارپائی سے اُتر کر کھڑی تھی اور اُس دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی جہاں سے وہ نکل کر گیا تھا۔
    ” امّاں مراد۔۔۔”
    اللہ وسائی نے اُسے ایک بار پھر کہتے سُنا تھا اور اس پر جیسے شادیٔ مرگ طاری ہوگیا تھا۔ آج اتنے سالوں بعد اُس نے موتیا کی آواز سنی تھی۔ دوپٹہ منہ پر رکھے روتے ہوئے اللہ وسائی نے موتیا کو اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے اُس سے کہا تھا:
    ”ماں صدقے! ماں واری! ہاں مراد ہی تھا میری دھی۔تیرے لئے آیا تھا، اب بارات لے کر آئے گا۔”
    اُس نے جیسے موتیا کو ساری خوشخبریاں اکٹھی دینا چاہیں۔
    ” تو بول بات کر موتیا! تُو کچھ کہہ۔”
    اللہ وسائی اُسے کہہ رہی تھی، وہ اللہ وسائی کا چہرہ دیکھتی رہی پھر اُس نے مدھم آواز میں کہا۔
    ”ابّا!”
    اللہ وسائی کے کلیجے پر ہاتھ پڑا۔روتے ہوئے اُس نے سوچا وہ موتیا کے لئے اب گامو کہاں سے لائے گی۔
    ”ابّا!’
    موتیا جیسے ایک بار پھر پکاررہی تھی ۔ اللہ وسائی ہنستی اور روتی جارہی تھی۔ خوشی اور غم دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر اکٹھے آگئے تھے اُس کے گھر۔
    ”تو اتنی جلدی کیوں چلاگیا گامو؟ دیکھ اچھے دن لوٹ کر آئے ہیں ہمارے گھر۔”
    اُس نے روتے اور ہنستے ہوئے گامو کو پکارا تھا اور پھر موتیا کو ایک بار پھر اپنے سینے سے لگالیا تھا۔
    …٭…

  • پاتال — حیا بخاری

    پاتال — حیا بخاری

    اس کے چاروں طرف خوبصورت سبزہ تھا۔ شیشم اور چیڑ کے درخت، نرم ملائم سر سبز گھاس…. اوپر آسمان پہ کالے بادل چھانے لگے تھے۔ اس نے ایک نظر نیچیکھڑے اس شخص کی طرف دیکھا جو اس کے لیے پوری کائنات تھا۔ لیکن اُس شخص کی آنکھوں میں اس کے لیے بے یقینی، بے اعتباری اور نفرت تھی۔ اس نے خود کو ذرا سا اوپر کھینچ کر دونوں ہاتھوں سے پہاڑی سطح سے جھانکتی اس شاخ کو اور مضبوطی سے جکڑا۔ وہ مرنا نہیں چاہتی تھی۔ اس نے ڈرتے ڈرتے ایک بار پھر مدد طلب نگاہوں سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا۔ وہ بے حس تھا۔
    اس نے ایک نظر نیچے دوڑائی تھی۔ کتنے ہی فٹ نیچے سنگلاخ چٹانوں کے نوکیلے پتھر، درختوں اور پودوں کی شاخیں اور جڑیں اور پوری روانی سے بہتا دریا کا پانی…. وہ کانپ گئی تھی۔
    ”لالا…..” خوف سے نیلے پڑتے لب ذرا سا وا ہوئے تھے۔
    ٭٭٭٭

    ”پلوشے۔ اُدھر دیکھو۔” چلتے چلتے اچانک زرغونہ رکی تھی۔ پلوشہ بھی اس کے ہاتھ کے اشارے کی سمت دیکھنے لگی۔ سامنے ہی مالٹوں کا باغ تھا۔ سبز پتوں میں چھپے اور کچھ جھانکتے نارنجی مالٹے دل للچائے دے رہے تھے۔
    ”لالا سے کہیں گے وہ لادے گا۔” زرغونہ نے ہمیشہ کی طرح سمجھ داری کا مظاہرہ کیا، ”تم اپنے لالا کی سنو۔ میں تو چلی” پلوشہ نے سڑک سے نیچے باغ کی طرف جاتے ہوئے کہا۔ زرغونہ اسے روکتی رہ گئی۔
    ”کیا ہو رہا ہے؟” اچانک ایک بھاری آواز نے اسے بُری طرح چونکادیا تھا۔ چادر میں لپٹے مالٹے اس کے ہاتھ سے چھوٹتے بچے۔
    ”تم کون ہو اور کیا کررہی ہو؟” آنے والے نے سوال دہرایا۔
    ”عظمت اللہ کی بیٹی ہوں۔ مالٹے دیکھے تو رہا نہیں گیا۔” وہ حسب معمول پُراعتماد لہجے میں بولی۔ اُس کے اچانک آنے پر اسے سنبھلنے میں چند پل لگے تھے۔
    ”ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔ مگر اب نکلو یہاں سے۔” وہ تپ کر بولا تھا۔ اور تب ہی اس کی نظر ذرا اوپر سڑک پر پڑی تھی۔ دوہرا ساں سبز، جھیل جیسی آنکھیں ان ہی کی طرف دیکھ رہی تھیں اور رفیق جان کو لگا اس ایک نظر نے اسے بے جان کردیا تھا تو یا روح تک اندر سے کھینچ لی۔ وہ لڑکیاں کب گئیں؟ کیا بولیں؟ کسی طرف گئیں؟ اسے کچھ خبر نہیں ہوئی تھی۔ اسے ہوش ہی کہاں رہا تھا۔
    ٭٭٭٭
    چھوٹی سی وادی تھی۔ چند دنوں کی تلاش کے بعد ہی وہ جان گیا تھا کہ وہ ساحر آنکھوں والی لڑکی کون تھی…. فرہاد آفریدی کی بہن …. زرغونہ…. اماں نے تو اتنا بھی بتادیا کہ پوری دادی میں اس سے زیادہ حسین کوئی نہیں۔ ” اس کے دل نے یہی توگواہی دی تھی۔” رفیق مسکرایا۔
    ”فیروز خاناں۔ میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔” اگلے چند ہی گھنٹوں میں وہ چوک میں بیٹھا جگری دوست سے راز و نیاز کررہا تھا۔ اس کی بات پہ فیروز خان کی آنکھوں میں عجیب سا تاثر اُبھرا ۔
    ”کیا ہوا؟” نہ وہ چونکا۔ فیروز نے نہ جانے کیوں محسوس کیا کہ اس کے دوست کے ساتھ کچھ گھمبیر ہونے والا تھا۔ یا پھر….
    ”’فیروز خاناں…. ”رفیق نے اس کا کندھا ہلایا۔
    ”وہ تو بچپن سے اپنے چچا زاد کی منگیتر ہے” اسے یہی مناسب لگا کہ رفیق جتنی جلدی اپنے سفر سے واپس لوٹ جائے اس کے لیے بہتر ہے۔ رفیق ایک جھٹکے سے اُٹھا اور تیزی سے چوک سے باہر نکل گیا۔ فیروز پکارتا رہ گیا تھا۔
    ٭٭٭٭
    ساری وادی گواہ تھی رفیق جان ایسا بالکل بھی نہ تھا۔ دراز قامت، سرخ و سپید گلابیوں میں کھلتی رنگت، لبوں پہ ہر دم دھیمی مسکراہٹ رکھنے والا رفیق جان اس رفیق جان سے بالکل الگ تھا۔ اسے دیکھ کر تو لگتا تھا کسی صحرا کا بھٹکا ہوا مسافر ہے۔ مجنوں ہے کہیں سے پتھر کھاکر آرہا ہے۔ شانوں پر بکھرے لمبے ریشمی بال اب گرد سے اَٹے رہتے تھے۔ گلابی ہونٹوں پہ پپڑیاں جمنے لگیں تھیں۔ کئی دنوں سے پہنا جوڑا میل سے اٹا تھا اور سب سے وحشت ناک اس کی مسکراتی، جھلمل، دوستی کا رنگ دیتی گہری نیلی آنکھیں…. نہ جانے اب وہاں کیسے وحشت زدہ رنگ لودینے لگے تھے۔
    ”میرے بچے کو نظر لگ گئی۔ ساری وادی میں اس جیسا جوان نہیں بس کسی بدخواہ کی نظر لگ گئی۔” اماں نے روتے ہوئے دہائی دی۔
    ”مجھے تو کالا جادو لگتا ہے۔ کسی حاسد نے جادو کروادیا ہے۔ تم مانو یا نہ مانو۔”
    کسی دوسری عورت نے اندازہ لگایا۔ اماں کو یقین آنے لگا۔ لیکن فیروز…. وہ سب جانتا تھا۔ رفیق کے بچپن کا دوست تھا۔ اس کے پل پل کا ساتھی، اس کی رگ رگ سے واقف، اس کے ہر رنگ کی پہچان تھی اسے اور وہ جان گیا تھا۔ خوب صورت سوچ کا مالک رفیق جان اب کچھ غلط سوچ رہا تھا۔ کچھ بے حد غلط۔
    ٭٭٭٭
    خاکی رجسٹر تھامے صبح سے نہ جانے وہ کون سے حساب کتاب میں مصروف تھا۔ زرغونہ نے سارے گھر کے کام نبٹالیے تھے اور اب آدھے گھنٹے سے اسے کھانے کا کہہ رہی تھی مگر فرہاد تھا کہ رجسٹر میں سردیے بس ہوں ہاں کردیتا۔ آخر اس کے صبر کا پیمانہ چھلک پڑا۔
    ”لالا… مجھے بھوک لگی ہے۔”
    ”تو تم کھالو نا پگلی۔ بس تھوڑا سا کام رہ گیا۔ ”فرہاد نے رجسٹر پر ہی نظریں جمائے اسے جواب دیا۔
    ”آپ جانتے ہیں۔ مجھے آپ کے ساتھ کھانا کھانے کی عادت ہے۔” وہ منہ بناکر بولی۔
    ”تو میں بھی کئی دنوں سے تمہیں سمجھا رہا ہوں کہ اب میرے بغیر کھانا کھانے کی عادت ڈالو۔” اب کی بار وہ مسکراتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوا۔
    ”کیوں ڈالوں عادت۔ مجھے آپ کو چھوڑ کے کہیں نہیں جانا۔” وہ خفا ہوئی۔
    ”ہر بیٹی، ہر بہن یہی کہتی ہے۔ مگر اگلے گھر جا کر میکے کی یاد تک نہیں آتی۔”
    ”ایسا تو نا ممکن ہے لالا۔” وہ حیران ہوئی۔
    ”چلو دیکھ لیں گے۔” فرہاد مسکرایا۔
    ”دیکھیں گے تو تب نا جب میں یہاں سے جاوؑں گی۔”
    ”اچھا۔ میں ذرا جہیز کی ایک دو چیزیں اور یاد کرکے لکھ لوں تو پھر کھاتے ہیں کھانا۔ یہ بحث بعد میں کرلیں گے۔” فرہاد نے بحث سمیٹنی ضروری سمجھا۔
    ”ایسے ہی اتنا خرچہ بڑھارہے ہیں آپ۔ میں نے کہا نا کہ مجھے کہیں نہیں جانا۔” وہ بضد تھی، فرہاد ہنس دیا۔
    ٭٭٭٭

  • سعی — سحر ساجد

    سعی — سحر ساجد

    وہ عجیب کیفیت میں تھی ….. ناک کے نتھنوں سے، سانس کے نام پر خارج ہونے والی ہوا تپش لیے ہوئے تھی۔ وہ کہاں تھی، آسمان پر یا زمین پر؟ وہ اپنے وجود کو کسی سطح پر محسوس نہیں کرپارہی تھی۔ سر جس قدر بھاری تھا، وجود اسی قدر ہلکا۔ ذہن کسی ایک سوچ پر مرتکز نہیں ہوپارہا تھا۔ اس کے وجود پر ایک نظر ڈالو تو سانس کا اتار چڑھاوؑ واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا تھا۔ لمبے ادھ کھلے بال ، کچھ شانوں پر، کچھ سینے پر اُلجھے، پریشان اور بے ترتیب بکھرے ہوئے تھے۔ خلافِ معمول دوپٹہ گلے میں، کہ ان کے ہاں گھر میں بھی دوپٹہ سر پر لیا جاتا تھا۔ دونوں بازو سیدھے پہلو میں گرے … ہاتھ کی مٹھیاں سختی سے بند کیں۔ لاوؑنج کے کنارے پر کھڑی اک اک چیز کو دیکھے جارہی تھی لیکن نہیں جانتی تھی کہ کیوں دیکھے جارہی تھی۔
    فیصلہ سخت تھا جو اس نے کرلیا تھا اور اس فیصلے کی یاد آتے ہی اس نے دائیں ہاتھ کی مٹھی کچھ اور سختی سے بھینچی تھی۔ ہونٹ لرزے اور آنکھ کے کنارے پر اک قطرہ آکر جم سا گیا تھا۔ دل پر جیسے کسی نے خنجر کا وار کیا تھا۔ لرزتے ہونٹوں کے ساتھ اس نے حلق سے نیچے کچھ اتارا تھا اور اس کی نظر ان چیزوں پر کسی آوارہ بد روح کی طرح بھٹکتی تھی ”آپی!….”
    اچانک لاوؑنج کے کسی گوشے سے آواز ابھری تھی۔ وہ بُری طرح سے ڈری اور سہم کر آواز کی سمت دیکھا تھا لیکن اس کاارادہ دائیں ہاتھ کی مٹھی کو کمر کے پیچھے چھپانے کا تھا۔”آپی۔ دیکھیں میرا بے بلیڈ۔”

    اسے بھائی کی آواز کسی باز گشت کی طرح محسوس ہوئی تھی۔ اس نے دھندلی آنکھوں سے بھائی کو دیکھا جو لٹو سے کھیل رہا تھا۔ وہ کسی بے جان وجود کی مانند بھائی کی طرف بڑھی تھی۔ وہ نیچے قالین پر بیٹھا میز پر اپنا لٹو گھمارہا تھا اور وہ اس کے پیچھے موجود صوفے پر جاکر بیٹھی تھی۔ دونوں ہاتھوں کی بند مٹھیاں اب اس کے دائیں بائیں سختی سے صوفے پر جمی تھیں اور وہ اپنے بھائی کو دیکھے ہی چلی جا رہی تھی۔ اس کے بھائی نے بٹن دبایا، لٹو میز کی سطح سے ٹکرایا۔ وہ چونک کر آواز کی سمت متوجہ ہوئی۔ لٹو اب گھوم رہا تھا گول، گول اور تیزی سے…. اس کے بھائی نے مڑ کر اس کا گھٹنا ہلاکر اس سے کچھ کہا تھا۔ کیا؟ وہ محض آواز کااِک احساس ہی محسوس کرپائی تھی۔ لٹو گھوم رہا تھا گول گول اور پھر گھومتے گھومتے وہ یک دم بڑا ہوتا گیا۔ ہوتا گیا، ہوتا ہی چلاگیا۔ لٹو اتنا بڑا ہوگیا کہ وہاں موجود ہر چیز پر حاوی ہوچکا تھا۔ وہ ڈر کے مارے صوفے کی پشت سے ٹکرانے کے سے انداز میں جالگی تھی۔ لٹو ا س کے عین سامنے گھومے چلاجارہا تھا۔ وہ نظریں لٹو کی گھومتی دھاریوں سے ہٹانا چاہتی تھی لیکن سر کو حرکت نہیں دے پارہی تھی۔ نظر گھوم رہی تھی، سر چکرارہا تھا اور اب اسے متلی محسوس ہورہی تھی، اتنی کہ پیٹ میں شدید بل پڑا۔ وہ بے اختیار آگے کو جھکی۔ اسے زور کی ابکائی آئی تھی۔ وہ سانس لینے کو سیدھی ہوئی اور پیروں تلے سے جیسے زمینیک دم نکلی ہو۔ لٹو عین اس کی آنکھوں کے سامنے ہوا میں معلق گھومے جارہا تھا۔ گھبراہٹ کا احساس شدید تھا۔ وہ ہانپتے ہوئے، کف بہتے منہ کے ساتھ، بری طرح سے خوف زدہ ہوکر اس لٹو کو دیکھتی جارہی تھی۔
    ‘آپی۔ آپی! ” اس کا بھائی شانہ ہلارہا تھا لیکن وہ متوجہ نہ تھی۔ وہ متوجہ ہو بھی کیسے سکتی تھی۔
    تنفس کی بگڑی رفتار کے ساتھ وہ خوفزدہ سی لٹو کو دیکھے جارہی تھی۔
    ”مور، مور” اس کا بھائی ماں کو بلانے بھاگا تھا اور ماں کے آنے تک وہ بے حد گھبراچکی تھی۔ اتنی خوف زدہ ہوچکی تھی کہ اس نے دائیں ہاتھ کی مٹھی کھولی اور اس میں موجود زہریلی گولیاں پھانک لیں۔ اچانک وہاں سناٹا چھاگیا تھا، اتنا کہ جیسے کائنات کی ہر متحرک چیز حالت قرار میں آچکی ہو…. وہاں اب کوئی لٹو نہ تھا۔ وہ بے یقینی سے کھڑی ہوئی لڑکھڑائی اور پھر اوندھے منہ گرگئی اور گرتے ہی تکلیف کی اک لہر، دھماکے کی صورت اس کے وجود سے آن ٹکرائی تھی۔ شدید دباوؑ، اندھیرا ،گھٹن، پیاس، حلق سوکھ رہا تھا اور وہ تڑپ رہی تھی لیکن کمال کی بات یہ کہ وہ خود ہی اپنے تڑپتے وجود کو ذرا فاصلے پر کھڑی دیکھ رہی تھی۔ وہ محسوس کرسکتی تھی کہ اسے کتنی تکلیف ہورہی تھی۔ وہاں زمین پر اس کا تڑپتا جسم تھا اور وہ دور بس، بہتی آنکھوں کے ساتھ کھڑی خود کو بے بسی سے تڑپتا دیکھ رہی تھی اور میز پر لٹو آہستہ ہوتے ہوتے بالکل ساکت ہوگیا تھا۔
    ٭٭٭٭
    یہ انگور کے باغوں کی سرزمین تھی۔ اس کے خاندان والے پتھریلے پہاڑوں کے درمیان بستے اور اک سخت زندگی گزارتے تھے۔ یہ قلعہ سیف اللہ تھا اور وہ اس کی ہونہار بیٹی جاناں کاکڑ۔ اونچی نیچی گھاٹیوں پر جب چلتی تو یوں محسوس ہوتا تھا گویا جنگل میں کسی ہرنی نے کلانچ بھری ہو۔ تعلیم حاصل کرنے کا اتنا شوق تھا کہ اس کی اماں کہتی تھیں۔ ”جاناں پاگل تو نیند میں بھی اسکول کا سبق دہراتی رہتی ہے۔”
    اور ہاں وہ اتنی ہی پاگل تھی۔ جنونی تھی۔ اسے پڑھنا تھا بہت سارا۔ ڈھیر سارا۔ اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھا دیکھنا تھا۔ ڈاکٹر جاناں کاکڑ۔ ڈاکٹر۔ ڈاکٹر جاناں کاکڑ۔ قلعہ سیف اللہ، قبائل کی آماج گاہ تھا۔ جہاں روایات کی سختی سے پابندی کی جاتی تھی۔ وہ ساتویں جماعت میں تھی تب سے برقعہ پہن کر اسکول جاتی تھی۔ برقعے کے اوپر کالی چادر کے نقاب سے محض اس کی ایک آنکھ ہی نظر آیا کرتی تھی۔ وہ قلعہ سیف اللہ کی ان چندخوش نصیب لڑکیوں میں سے تھی جو پرائمری سے اوپر تعلیم حاصل کررہی تھیں۔ جاناں وہ طالبہ تھی جس نے اپنا ہر امتحان نمایاں درجے میں پاس کیا تھا۔ وہ برف زاروں میں پل کر بڑی ہوئی تھی لیکن خواہش، اک چنگاری کی صورت، طلب بن کر سینے میں بھڑکتی تھی۔ وہ خوش تھی، مگن تھی اور سمجھتی تھی کہ زندگی کا سفر اسی طرح کامیابی و کامرانی سے طے ہوتا چلا جائے گا۔ وہ امتحان پر امتحان پاس کرتی چلی جائے گی اور پھر… پھر وہ دن ضرور آئے گا کہ جب وہ اسکالرز گاؤن پہنے اپنی Ph.D کی ڈگری وصول کرے گی۔ خوشی سے چیختے ہوئے اسکالرز کیپ کو ہوا میں اچھالے گی اور کوئی نامعلوم فوٹوگرافر اس کی آنکھ کی خوشی، اس کی ہنسی، اس کے چہرے کا جوش، طمانیت سب اک لمحے میں قید کرکے اسے زندہ جاوید بناڈالے گا۔ ہاں… وہ ایسا ہی سوچتی تھی… ایسا ہی سمجھتی تھی۔
    جب اس نے میٹرک میں پوزیشن حاصل کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ وہ اتنی خوش تھی اتنی کہ لگتا تھا کہ بس اب خوشی سے مر ہی جائے گی۔ وہ۔ وہ جاناں کاکڑ۔ اک پسماندہ علاقے کی گورنمنٹ اسکول کی طالبہ، اُسی جاناں کاکڑ نے میٹرک میں ٹاپ کیا تھا۔ ٹاپ۔ یہ پہلی بڑی کامیابی تھی۔ پہلی بڑی کامیابی اور اتنی بڑی خوشی جو اُسے مار بھی ڈالتی تو غم نہ تھا۔ لیکن اسے تو جینا تھا۔ بہت سارا ایک لمبی زندگی گزارنی تھی کیوںکہ اسے تو پڑھنا تھا۔ ڈھیر سارا۔ اتنا زیادہ کہ اس کے نام کے ساتھ لکھا جاتا… ڈاکٹر جاناں کاکڑ…
    ٭٭٭٭

  • دانہ پانی — قسط نمبر ۸

    دانہ پانی — قسط نمبر ۸

    مٹّی دا توں مٹّی ہونا کاہدی بلّے بلّے
    اج مٹّی دے اُتے بندیا کل مٹّی دے تھلّے
    اللہ وسائی بے یقینی کے عالم میں گامو کا چہرہ دیکھتی رہی پھر اُس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے گامو سے کہا:
    ” نہ گامو! یہ نہیں کرسکتی میں۔ جس اولاد کو منتوں مرادوں سے لیا ہے،اُسے اپنے ہاتھوں سے مارنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔”اُس نے دوپٹے سے اپنی آنکھیں رگڑتے ہوئے کہا تھا۔
    ”اور تو بھی کیوں سوچ رہا ہے مرنے کا؟ گامو مت سوچ ایسا کچھ بھی۔ یہ شیطان ہے جو تجھے بھٹکا رہاہے۔”
    اللہ وسائی نے اپنے شوہر کا ہاتھ پکڑ کر جیسے اُسے سنبھالا دینا چاہا تھا اور وہ گیلی آنکھوں کے ساتھ قہقہہ لگانے لگا۔
    ” شیطان کو کیا پڑی ہے اللہ وسائی کہ وہ جھوک جیون میں آئے۔ یہاں اس کا کیا کام۔ یہاں تو انسان کافی ہیں اُس کا کام کرنے کے لئے۔”
    وہ ہنس رہاتھا اور بڑبڑا رہا تھا۔ اللہ وسائی کا بھی دل بھرآنے لگا تھا۔
    ”نہ روگامونہ رو! موتیا ٹھیک ہوجائے گی۔ تجھے یاد ہے جب اولاد نہیں تھی تو کتنے سال اولاد کے انتظار میں گزارے تھے ہم نے۔ کبھی زبان پر شکوہ نہیں لائے۔ پھر رب سوہنے نے اپنی رحمت کردی تھی۔ اب پھر کردے گا۔ ٹھیک ہوجاناہے موتیا نے۔ دیکھنا تُو۔”
    اللہ وسائی شوہر کو تسلیاں دینے لگی۔ گامواُس کا چہرہ پلکیں جھپکائے بغیر دیکھتا رہا۔ پھر اُس نے سر ہلاتے ہوئے کہا:
    ”پتہ نہیں اس بار دل کو تسلی کیوں نہیں ہوتی کہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔”
    وہ اُٹھ کر صحن کے چکر کاٹنے لگا۔ اللہ وسائی بیٹھی بے بسی سے شوہر کو دیکھتی رہی۔ اُس کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا۔ نہ وہ شوہر کے لئے کچھ کرسکتی تھی، نہ بیٹی کے لئے۔ بے بسی سی بے بسی تھی جو وہ محسوس کررہی تھی اور اس کیفیت میں وہ بس رب سوہنے کو ہی پکار سکتی تھی اور پکار رہی تھی۔ غم تھا کہ سینہ چیر رہا تھا اور آنسو تھے کہ سیلاب بن کر سب کچھ بہا لے جانے کے لئے کھڑے تھے اور دل کا بوجھ تھا کہ بھاری سے بھاری ہی ہوتا جارہا تھا۔ نہ رونے سے گھٹ رہا تھا، نہ رب کو پکارنے سے۔ وہ بس گامو کودیکھ رہی تھی جو ننگے پاؤں اُس صحن میں پھررہا تھا جس کے فرش کو اب اللہ وسائی نے لیپنا بند کردیا تھا۔
    جھوک جیون میں اُس سال بارش نہیں ہوئی۔اُس گھر میں دو انسانوں کی آنکھوں سے ہونے والی برسات نے جھوک جیون میں بارش لانے والے بادلوں کا سارا پانی پی لیا تھا۔
    گاؤں میں پریشانی کی لہر دوڑی تھی۔ بڑے سالوں کے بعد یہ پہلا سال تھا جب جھوک جیون کے آسمان پر بدلیاں اُمڈ کر برسے بغیر گزری تھیں۔ گاؤں کے لوگوں کی طرح چوہدریوں کو بھی فکر ہوئی تھی۔ چوہدری مراد کا بیٹا پیداہو اور گاؤں میں سوکھا پڑجائے۔ یہ کم از کم تاجور کو تو برداشت نہیں ہورہا تھا۔ لیکن پھر اُس نے خود کو یہ کہہ کر تسلی دے دی تھی کہ یہ اتفاقاً ہوا ہوگا ، اِس بار نہیں تو اگلے سال تو ضرور ہی بارشیں ہوں گی۔
    مراد بیٹے کو دیکھنے تین مہینے کے بعد گاؤں آیا تھا اور اُسے گود میں لئے وہ بہت دیر اُس کا چہرہ دیکھتا رہا۔
    ”ہے نا خوبصورت تیرا بیٹا؟”

    تاجور نے اُسے یوں بیٹے کو دیکھتے دیکھ کر جیسے فخریہ اندازمیں کہا تھا۔مراد نے جواب دینے کے بجائے بیٹے کا ماتھا چوما تھا اور اُسے ماہ نور کی گود میں دے دیا تھا۔ وہ شادی کے بعد پہلی بار پاکستان آیا تھا اور بالکل بدلا ہوا تھا۔ مختصر بات کرتا اور مسکرانا بھول گیا تھا۔ تاجور کو اُس کے رویے نے پریشان کیا تھااور ماہ نو ر کو دل شکستہ۔ سارا سال تاجور اُسے یہی کہہ کہہ کر بہلاتی رہی تھی کہ اولاد ہوتے ہی سب ٹھیک ہوجائے گا اور بیٹا ہونے دے تو مراد نے واقعی سب کچھ بھول جانا تھا، پر مراد کچھ بھی نہیں بھولا تھا نہ بدلا تھا۔ اُس کے لہجے کی ٹھنڈک میں کوئی شبنم نہیں اُتری تھی۔
    وہ دس دن کے لئے آیا تھا اور چلاگیا تھا اور ان دس دنوں میں گاؤں کی ایک ایک گلی میں اُسے موتیا کی یاد آئی تھی اور اُس کا دل چاہا تھا وہ لوگوں سے اُس کا پوچھے پر اُس نے جیسے اپنے زبان اور دل پر قفل ڈال لئے تھے۔ اب کیا نام لینا موتیا کا، کیا یاد کرنا اُس کو، وہ یہ سمجھے بیٹھا تھا کہ وہ شہر میں ڈاکٹر بن رہی ہوگی۔ یہ بھی ہوسکتا تھا کہ وہ کسی اور سے شادی کرچکی ہوتی۔ یہ بھی ممکن تھا کہ وہ کسی اور کی محبت میں گرفتار ہوکر اُس پر ہنستی ہو۔ پتہ نہیں مراد کو کیا کیا خیال آئے تھے اور سارے ہی خیال پل بھر میں غائب ہوجاتے تھے۔
    دل موتیا موتیا کرتا تھا اور وہ اُس دل کو کوڑے مارتا تھا پھر بھی وہ مرتا نہیں تھا، ڈھیٹ تھا۔ موتیا کے پیار میں اُس سے بھی ڈھیٹ تھا۔ دماغ اچھا تھا اس معاملے میں اُس کی سنتا تھا۔ اُسے جب کہتا وہ موتیا کے بارے میں سوچنا بند کردیتا۔
    وہ دل اور دماغ کی یہ جنگ لے کر پاکستان آیا تھا اور پاکستان سے جاتے ہوئے ماہ نور کو ساتھ لے گیا تھا۔ یہ بھی تاجور کی ضد تھی، اُسے لگا تھا بیٹا وہاں اکیلا رہتا تھا اس لئے بدل گیا تھا۔ ماہ نور اور اُس کا بچہ ساتھ رہیں گے تو مراد پھر وہی پہلے والا مراد ہوجائے گا۔ وہی ماں باپ پر قربان جانے والا، خوش مزاج، خوش گفتار جس کی چھیڑ خانی تاجور کو اچھی لگتی تھی اور جس کے بلند و بانگ قہقہوں پر وہ قربان جایا کرتی تھی۔
    مراد نے کوئی ضد نہیں کی تھی۔ تاجور نے جیسے کہا تھا، اُس نے ویسے ہی کیا تھا۔ وہ ماہ نور کو لے کر لندن آگیا تھا۔ ماہ نور بڑی خوشی اور ولولے کے ساتھ آئی تھی۔ تاجور نے اُسے یہی کہا تھاکہ اکیلا رہ رہ کر ایسا ہوگیا ہے مراد، اب تم او ربچہ پاس رہوگے تو دیکھنا کیسے نثار ہوتاہے وہ تم پر۔
    تاجور غلط تھی اور ماہ نور بے وقوف۔ مراد کے پاس لندن میں رہ کر بھی ماہ نور اُس کا دل جیت پائی نہ اُس کی چپ توڑ پائی تھی، پر اُسے لگتا تھا وہ کالے پانی کی سزا کاٹنے وہاں اُس کے ساتھ آگئی تھی جہاں وہ سارا سارا دن دو کمروں کے اُس چھوٹے سے فلیٹ کی دیواروں کو دیکھتی رہتی تھی یا پھر کھڑکیوں سے باہر نظر آنے والے لوگ اور گاڑیاں جو اُسے چلتے پھرتے نظر آتے تھے۔
    اُس فلیٹ کے اندر اُس کی اور مراد کی خاموشی کو اگر کوئی توڑتا تھا تو وہ اُس کا بیٹا تھا، مگر اُس کا رونا دھونا، ہنسنا کھیلنا بھی کئی بار ماہ نور کو غصّہ دلاتا۔ اُسے لگنے لگا تھا وہ وہاں پاگل ہورہی تھی اور پاگل ہوجانے سے بچنے کے لئے اُس نے مراد سے واپس جانے کا اصرار کیا تھا اور مراد مان گیا تھا۔
    ماہ نور ایک بار پھر امید سے تھی جب وہ پانچویں مہینے واپس گاؤں آگئی تھی۔ تاجور بہو اور پوتے کو واپس دیکھ کر جہاں نہال ہوئی تھی،وہاں وہ یہ جان کر پریشان بھی ہوئی تھی کہ وہ اب مراد کے پاس دوبارہ لندن نہیں جانا چاہتی تھی۔
    ”تیرا خیال نہیں رکھا اُ س نے؟” اُس نے پریشان ہوکر ماہ نور سے پوچھا تھا جس کے چہرے پر رونق تھی نہ آنکھوں میں چمک۔
    ” رکھتا تھا پھوپھو! جو چیز مانگتی تھی بغیر کہے لاکر دیتے تھے، پیار کے سوا۔ بس اُن کے پا س میرے لئے پیار کا ایک لفظ بھی نہیں ہے۔” ماہ نور غم زدہ تھی اور اُس نے اپنا غم اسی طرح تاجور کو سنایا تھا۔
    ”مرد ایسے ہی ہوتے ہیں ، بیویوں سے کہاں پیار محبت کی باتیں کرتے ہیں؟ کہاں اُن کے قصیدے پڑھنے بیٹھتے ہیں۔ تو نے تو پریشان ہی کردیا مجھے ماہ نور۔ میں سمجھی پتہ نہیں کتنا ستایا ہے مراد نے۔”
    تاجور نے ہنس کر ماہ نور کو بہلایا تھا جو چپ چاپ تاجور کو دیکھتی رہی ، پھر جب وہ خاموش ہوکر اُس کا بیٹا گود میں لے کر اُس کے ساتھ کھیلنے لگی تو ماہ نور نے کہا:
    ”پر مراد میرے لئے گونگابنا ہے، اُس کے لئے تو نہیں۔”
    تاجور نے اُس کا چہرہ چونک کر دیکھا تھا۔ ماہ نور کی آنکھوں میں عجیب سی آگ تھی، آنسو نہیں تھے۔
    ”وہ نیند میں اُس کا نام لے لے کر باتیں کرتے ہیں اُس کی۔ اُس کے حسن کے قصیدے پڑھتے ہیں۔”
    وہ اب وہ نظم سُنا رہی تھی تاجور کو جو اُس نے نیند میں مراد کو کئی بار پڑھتے سنی تھی۔ وہ اُس کے پہلو میں نیند کی وادیوں میں بھی موتیا کے ساتھ پھرتا، اُسے پکارتا اور اُس کے حسن پر مرمٹنے کی باتیں کرتا اور ماہ نور بستر پر بیٹھی اُس کا چہرہ دیکھتی، اُس رقیب کے قصیدے سنتی جو اُن دونوں کے بیچ سے کبھی ہٹی ہی نہیں تھی۔
    اُس کے نین غزالی دلبر
    اُس کے گال گلابی
    تاجور نے ساکت بیٹھے ماہ نور کی زبان سے داستانِ امیر حمزہ کی طرح داستانِ موتیا و مراد سنی تھی اور وہ بھی ماہ نور کے سامنے گونگی ہوگئی تھی۔ اُسے اب کیا تاویل اور توجیہہ دیتی اُس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ اب تو دو سال گزرنے کو تھے۔ اب تو اُن دونوں کے درمیان کوئی رابطہ بھی نہیں تھا۔ اب تو وہ ایک بیٹے کا باپ بن چکا تھا۔ دوسرا اُس کے گھر آنے والا تھا۔اُس کے پاس بہت سارے ”اب تو” تھے اور کوئی بھی مراد کے لئے رسّی نہیں بنا تھا۔اُس نے موتیا کو کھُرچ کھُرچ کر اُس کے دل سے اُتارا تھا۔ اُس کی کوئی پرچھائیں تک نہیں رہنے د ی تھی پھر مراد پر اس کا سایہ کیسے ہوگیا تھا؟
    ”لوگ جادو ٹونے کردیتے ہیں۔بڑا کاری وار کرتے ہیں۔ تجھے یاد ہے نا آدم کی دفعہ تجھے خوشبو آیا کرتی تھی ہر طرف موتیا کی۔ اُن لوگوں نے ہی ٹونے کئے ہیں مراد پر۔ دل باندھ دیا ہے اُس کا۔”
    تاجور نے لمبی چپ کے بعد وہی سب کچھ کہنا شروع کیا جواُس کی سمجھ میں آیا تھا۔ پیار محبت کی طاقت اُسے سمجھ میں نہیں آتی تھی، جادو ٹونے کا اثر اُسے سمجھ میں آتاتھا۔ اُس نے ماہ نور کے سامنے وہی راگ الاپا تھا جو اُس نے ہمیشہ سنا تھا۔
    ”پھوپھو! اُس کا کوئی توڑ نہیں؟” ماہ نور نے عجیب بے بسی کے ساتھ اُس سے پوچھا تھا۔

  • پنج فرمان — سحر ساجد

    پنج فرمان — سحر ساجد

    پیش لفظ
    ماضی (سال١٩٩١ء)
    Aung san suu kye.. (Nobel peace prize winner…….)
    (٣ جون، ٢٠١٥)
    محض %4 اقلیتی آبادی
    گیارہ اقلیتی انسانوں کو بس سے اتار کربے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ اور…
    یہ محض آغاز تھا… صرف ابتدا تھی اس کے بعد …
    20 ہزار معصوم انسان مار دیئے گئے، 500 بستیاں جلا دی گئیں، 20 گاؤں صفحۂ ہستی سے مٹا دیئے گئے…میرے سامنے اخباری تراشے ہیں، تصاویر ہیں، کالمز بکھرے پڑے ہیں، خون میں نہلائی لاشوں کے ڈھیر ہیں، انسانی اعضاء سے اٹھتا کالا سیاہ دھواں ہے، ننگ دھڑنگ، انسانیت کو شرماتے مردہ وجود ہیں کہ جن کی آنکھوں سے وحشت ابھی بھی برستی ہے۔ آنسو ہیں سسکیاں ہیں، چیخیں اور آہیں… منتظر، آس سے لتھڑی نگاہیں… انسانیت کا بچا کھچا رہ جانے والا پنجر نظر میں ہے۔ لاغر اتنا کہ ہڈیاں بھربھری مٹی کی مانند بکھرتی ہیں، اور … اور ان سب سے پرے بربریت کی اٹھان قابل دید ہے۔ کل کھوپڑیوں کے مینار کی صورت اور آج … ان %4 اقلیتی انسانوں پہ ظلم کی صورت۔
    Aung san suu kyi اس سب پہ خاموش ہے۔ بالکل چپ…
    حال (25 مارچ، 2016)
    Aung san suu kyi’s words during an interview ………..
    "No one told me that I am going to be interviewed by a …….’Muslim’…… ”
    کیا یہ الفاظ کسی ایسی خاتون کے ہیں جو کہ نوبل پیس پرائز جیت چکی ہو؟…
    کیا ان لفظوں سے نسلی منافرت کی سڑاند نہیں آتی؟…
    ماضی اور حال… مابین ان کے حقیقت کیا؟…
    حقیقت … پنچ فرمان…
    میرا احتجاج…
    جو پڑھنے کے بعد یقینا آپ کو درست محسوس ہو گا۔
    سحر ساجد

  • مستانی — منظر امام

    مستانی — منظر امام

    پینترا بدل کر گرو نے پھر وار کیا۔ اس بار یہ وار دائیں ہاتھ کوجھکاوا دے کر بائیںطر ف کیا گیا تھا۔ لیکن دس بارہ برس کی بچی صاف طُرح دے گئی تھی۔ گرو اپنے وار کی طاقت کے جھونک میں ایک طرف کو لچک گیا تھا۔ بچی نے اپنی تلوار کی نوک اس کے سینے پر رکھ دی:”بس مہا راج! آپ ہارگئے۔”
    ”دھنے باد مستانی ! دھنے باد”گرو نے کہا۔
    ”میں نے جو پینترا بدلا تھا ۔ اس سے بچنا آسان نہیں ہو تا۔
    لیکن تو تو ایسا لگتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے سیکھ کرآئی ہے”۔
    بچی نے تلوار ایک طرف ڈال دی اور آگے بڑھ کر گرو کا ہاتھ چوم لیا۔
    ”مہاراج!یہ سب تو آپ ہی نے سکھا یا ہے نا۔”
    گرو کی آنکھوں میں مشعل روشن ہو گئی۔
    بچی کی ماں روحانی بیگم ایک طرف کھڑی اس مقابلے کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے چہرے کے تاثرات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ وہ اس وقت کتنی خوش تھی۔
    خدمت گزارملازمائیں پیچھے ادب سے سر جھکائے کھڑی تھیں۔
    گرو ”آگیا”لے کر چلا گیا۔ مستانی نے اپنی تلوار اٹھائی اور ماں کے پاس آگئی۔ اس کے خوب صورت چہرے پر پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح جھلملا رہے تھے۔
    ”تم نے دیکھا ماں۔”مستانی کے لہجے میں موجود تفاخر روحانی بیگم سے چھپا نہیں تھا۔
    ”ہاں دیکھ لیا۔”روحانی بیگم نے بہ ظاہر بے نیازی سے کہا۔”لیکن ہمیں اس میں شک ہے۔”
    ”کس با ت کا شک ؟ ”مستانی نے تڑپ کر پوچھا۔
    ”ہو سکتا ہے کہ گرو جی نے مجھے دیکھ کر تمہارا لحاظ کر لیا ہو۔”روحانی نے کہا ۔
    ”نہیں ماں ۔”مستانی کی بھنویں تن گئیں۔
    ”گرو ایک راجپوت ہیں اور راجپوتوں کے ہاں مصلحت سے کام نہیں لیا جا تا ۔ ”
    ”شاباش”۔ تالیاں بجنے کی آواز آئی ۔
    مہاراجہ چھتر سال ان کے پیچھے کب آکر کھڑا ہوا،اس کا انہیں پتا بھی نہ چلا ۔
    دونوں ماں بیٹی نے اس کے احترام میں اپنی گردنیں جھکا دی تھیں۔
    ”پتا جی !مستانی نے شکوہ کیا:”آپ نے سن لیا نا ، ماں کیا کہہ رہی تھیں۔”
    ” ہاں بیٹا! وہ تم سے بے پناہ محبت کرتی ہیں اور محبت کرنے والے یہ چاہتے ہیں کہ کسی منزل پر مسافر رک نہ جائے بلکہ آگے بڑھتا رہے۔ تم اپنی ماں کے سینے سے لگ کرتو دیکھو۔ وہاں سے تمہیں مبارک باد کی آوازیں آتی سنائی دیں گی۔”
    روحانی بیگم نے اپنی بانہیں پھیلا دیں۔ مستانی ان بازوؤں میں سمٹ گئی ۔
    یہ محل مہاراجہ چھتر سال کا تھا۔ بندیل کھنڈ اور ارد گرد کے وسیع علاقے کا خود مختار حکم ران۔
    مستانی اسی کی بیٹی تھی۔ جس کی ماں روحانی بیگم ایک مسلمان عورت تھی۔

    تاریخ ایسے جوڑوں سے بھری پڑی ہے ،جس میں ایک طرف ہندو شوہر تو دوسری طرف مسلمان بیویاں۔ ایک طرف مسلمان شوہر تو دوسری طرف ہندو بیویاں۔
    شائد صدیوں کے میل جول کے بعد ایک مفاہمتی کلچر وجود میں آجا تا ہے۔ لیکن چھتر سال اور روحانی بیگم کے درمیان معاملہ ایسے کلچر کا نہیں بلکہ نگاہوں کے تصادم اور ایک ایسی آگ کا معاملہ تھا جس کے لئے کہا گیا ہے کہ عشق پہ زور نہیں ۔
    چھتر سال نے اس لڑکی کو دیکھا جس کے بدن میں جوالا مکھی بھری تھی۔ جب وہ رقص کے دائرے بناتی تو جیسے پوری کائنات ان میں سمٹ آتی ۔ اس کے نازک پیروں سے بندھے گھنگرو ایسی کیفیت پیدا کرتے کہ در و دیوار بھی ہم آہنگ ہو کر بجنے لگتے تھے۔
    مدھ بھری آنکھوں میں ایسی بجلیاں کوندتی تھیں ،جو اپنی راہ میں آنے والی ہر شے کو خاکستر کئے جا تی تھیں۔ اس کی زلفوں کی گھٹائیں بارش برساتی محسوس ہو تی تھیں۔ چھتر سال اُسے دیکھ دیکھ کر پہلو بدل رہا تھا۔ اس وقت اس کی کیفیت کچھ ایسی تھی کہ اِن زلفوں سے دل بھر کر باتیں کی جائیں ۔
    اُس نے اُسی وقت اس حسن کو اپنے لئے مخصوص کرنے کا ارادہ کر لیاتھا۔ روحانی بیگم کی ماں اس کے سامنے ہی بیٹھی تھی۔ محفل ختم ہو نے کے بعد مہاراجہ چھتر سال نے اس کی ماں کو اپنے حضور طلب کر لیا ۔ وہ گردن جھکا ئے اس کے سامنے آکھڑی ہو ئی ۔
    مہاراجہ نے ہیروں کا ایک قیمتی ہار اپنے گلے سے اتار کر اس کی طرف اچھال دیا۔ جسے روحانی بیگم کی ماں نے فوراً اُچک لیا ۔
    ”ہم تمہاری بیٹی کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔”چھتر سال نے فیصلہ سنا یا۔
    ”مہاراج!آپ اس علاقے میں بسنے والے ہر شخص کی قسمت کے مالک ہیں۔ ”روحانی بیگم کی ماں نے کہا ۔
    ”لیکن ہر معاملے کے دو پہلو ہوا کرتے ہیں۔ ایک زبر کا دوسرا زیر کا ۔ ”
    ”خوب ”مہاراجہ مسکرا دیا۔ ”اب تم مجھے زیر و زبر کا مفہوم بھی بتا دو۔”
    ”مہاراج!زبر، زبر دستی کا نام ہے اور زیر ، زیر دستی یعنی محبت کا ۔ ایک دوسرے سے پیار کا۔ ”
    ”نہیں ۔ زبر دستی نہیں ،زیر دستی کے ساتھ۔ میں تمہاری روحانی کو اپنے محل میں لے جانا چاہتا ہوں۔”
    ” مہاراج!ویسے تو روحانی آپ کی کنیز ہے ۔لیکن میں نے اس کی پرورش اس انداز سے کی ہے کہ یہ ایک دیوار ، ایک محراب یا ایک دروازہ بن کر نہیں رہ سکتی، اس کو سانس لینے کی عادت ہے،دیواریں تنگ ہو تی گئیں تو یہ بھی گھٹ کر رہ جائے گی ۔ ”
    ”تم نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ میں اس کو در ودیوار بنا کر اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔ میں تو اس کو قید رکھوں گااپنے دل کی دیواروں میں۔”
    ”مہاراج !یہ بہت بڑا دعویٰ کررہے ہیں آپ۔ ”روحانی بیگم بولی۔
    ”یہ ایک راجپوت کا وچن ہے۔”مہاراج نے پورے یقین سے کہا۔
    اس طرح روحانی مہاراجہ چھتر سال کے ساتھ اس کے محل میں آ گئی۔ مہاراجہ نے اپنا وچن نبھا دیا تھا۔ اس نے روحانی سے شادی کرلی۔ بیویاں اوربھی تھیںلیکن روحانی کی اپنی ایک الگ مسلم حیثیت تھی۔ اس کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا ،وہ مسلمان ہی رہی ۔ مستانی اسی کی بیٹی تھی۔ بچپن ہی سے ذہین اور بہادر۔ شمشیر زنی اور گھڑ سواری کی تربیت نے اسے جفاکش اور بے خوف بنا دیا تھا۔وہ ایک راج کنیا تھی۔ کہا جاتا ہے اس کے مستانی نام رکھنے میں بھی یہ حکمت پوشیدہ تھی کہ لوگوں کو اُس کی صحیح شناخت نہ ہو سکے کہ وہ ہندو ہے یا مسلمان۔ مہاراجہ چھتر سال کو اس پر بے حد فخر تھا۔

    ٭

    اس کا زمانہ (١٦٤٩ ء سے ١٧٣١ء )تک کا ہے۔
    اس زمانے میں دہلی پر شہنشاہ شاہ جہاں کی حکومت تھی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی بے شمار رجواڑے اور چھوٹی بڑی ریاستیں تھیں۔ شاہ جہاں کے بعد اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے میں مرہٹوں نے طاقت پکڑنا شروع کر دی۔
    اورنگ زیب نے ١٦٦٦ ء میں مرہٹوں کے سردار شیوا جی پر قابو پا کر اسے گرفتار کر لیا تھا۔ لیکن وہ کسی طرح قید سے فرار ہو گیا ۔ ١٦٧٤ ء میں مرہٹوں نے شیوا جی کو اپنا حکمراں بنا کر اس کی تخت نشینی کی رسم ادا کی ۔ اس نے چھے سال حکومت کی۔ اس کی حکومت کلیان سے گوا،مشرق میں کرناٹک،اور جنوب میں میور تک پھیلی ہوئی تھی۔

    ٭

    محبت کی یہ داستان اسی جغرافیائی اور تاریخی پس منظر کی ہے۔ اب باجی راؤ کو راجپوتوں کا راج سنبھالنا ہے۔ یہ ایک کڑا چناؤ ہے۔ اس میں طاقت اور ہنر مندی کے ساتھ دانش مندی کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔ مرہٹوں کا دربار سجا ہوا ہے۔ سروں پر پگڑیاں باندھے اور پگڑیاں بھی ایسی جن پر ہیرے ٹکے تھے ۔ان پگڑیوں کے چھجے آگے کی طرف بڑھے تھے جن کے نیچے دمکتی سرخ آنکھیں،تنے ابرو اور سرکش مونچھیںجو ان کی راجپوتی شان کی علامت تھیں۔ جھلمل جھلمل قیمتی کرتے ،پیش وازاور کمر کے گرد حائل تلواریں اور آوازوں میں گھن گرج۔
    اپنی اہمیت کا احساس دلاتی اونچی اونچی محرابیں، لہراتے ہوئے حریری پردے، ستونوں پر مرہٹوں کے قدیم مصوروں کی بنائی گئی نقاشی،درمیان میں دورویہ بیٹھے ہوئے راجپوت سردار۔ان میں ہر ایک اپنی آن پر جان دینے اور لینے کو تیار۔ دو رویہ قطاروں کے بعد ایک اونچا سنگھاسن ۔جس پر پوری آن اور شان سے بیٹھا ہوا پیش وا۔جس کے کرتے کا گھیرہی دس گز کا تھااور پگڑی سب سے اونچی ۔ اوپر کی جانب اُٹھی ہوئی بل کھائی مونچھیں۔
    راجہ کی نشست کے پیچھے غلام مورچھل لئے ہوا دے رہے تھے۔ اس کی آواز میں اتنی گھن گرج تھی کہ در و دیوار ہل کر رہ جاتے۔
    آج مرہٹوں کے پیش وا کے انتخاب کا دن تھا۔ مرہٹہ سلطنت بہت دور تک پھیل چکی تھی۔ اس کے ساتھ ہی سلطنت کو کئی ایک خطرات بھی لاحق تھے۔
    کامیابی کا راستہ ہمیشہ کانٹوں بھرا ہوا کرتا ہے ۔
    باجی راؤ کا اعلان کیا گیا۔ باجی راؤ کا باپ خود ایک بڑا سردار تھا۔ اس کی موت کے بعد باجی راؤ کو نہ صرف اپنے باپ کی گدی سنبھالنی تھی بلکہ سارے راجپوتوں کا سردار بھی بننا تھا۔
    اس اعلان کے ساتھ ہی پورے دربار میں سرگوشیاں گونجنے لگیں۔
    ایک سردار اپنی مونچھوں کو بل دیتا کھڑا ہوا۔
    ”مہاراج!اس نے پیش وا کو مخاطب کیا :”راج سنگھاسن بچوں کا کھیل نہیں ہے ۔ اس میں زندگی تلواروں کی چھاؤں تلے گزرتی ہے ۔ اس کے علاوہ بدھی مان (عقل مند ) بھی ہونا پڑتا ہے۔”
    پیش وانے پہلو بدلا۔”بالا جی تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ باجی راؤ اس ترازو پرپورا نہیں اترے گا،اس کو پریکشاتو دینے دو۔”
    سردار اپنی جگہ جا کر بیٹھ گیا۔
    باجی راؤ سامنے آکھڑا ہو گیا۔ تمکنت سے تنی مونچھیں، بالوں سے صاف سر پرایک لہراتی موٹی سی چٹیا ، گٹھا ہوا جسم اور للکارتی آنکھیں،جن میں سے جوالاپھوٹ رہاتھا۔
    کمر کے گرد کسی ہوئی تلوار اور دوسرے پہلو میں ایک کٹار ،جس کو وہ اپنی پتنی کہا کرتا۔
    ”باجی راؤ!کیا تمہیں یہ معلوم ہے کہ تم نے جس بات کی خواہش کی ہے اس کے لئے جان کی بازی ہارنی پڑتی ہے”۔
    ”مہاراج!”باجی راؤ نے اپنی گردن جھکا لی۔
    ”جان کی بازی ہارنے کی بات اس وقت ہو تی ہے جب حوصلہ ہار دیا جائے اور جب تک حوصلہ زندہ رہتا ہے ہم جیسے لوگ جیت کی بات کرتے ہیں ہارکی نہیں۔”
    واہ۔ واہ۔واہ۔واہ۔۔۔پورا دربار داد دینے لگا تھا۔
    ”تم اپنی عمر اور تجربے سے بڑھ کر بات کررہے ہو باجی راؤ ”۔
    ”ہاں مہاراج!بہت سے لوگ تجربوں کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ تجربہ ان کا محتاج ہوتا ہے کہ وہ کوئی ایساکام کر دکھائیں جو ایک نئے تجربے کے طور پر اتہاس کے پرنوں میں لکھ دیا جائے ۔ ”
    ”ابھی اس کا امتحان ہو جا تا ہے”۔
    باجی راؤ شانے اچکا کر رہ گیا۔ پیش واکے کہنے پر تیر کمان لایا گیا۔ پہلا امتحان تیر اندازی تھا۔ جس میں باجی راؤکی مہارت نے سب کو حیران کر دیا تھا۔ دوسرا مقابلہ تلوار بازی کا تھا۔ تیسرا مقابلہ بدھی کا تھا۔ شطرنج کا تھا۔ اس نے ہر ہر میدان میں اپنے آپ کو سربراہی کے قابل ثابت کر دیا تھا۔
    چناؤ ختم ہوا۔ باجی راؤ کی پیش وائی کا اعلان کر دیا گیا تھا۔
    اس کے بعد جنگوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا ۔ باجی راؤ ہرمعرکے میں کامیابی حاصل کرتا رہا۔ جیت اس کی غلام بن گئی ۔ جہاں جاتا فتوحات کے ڈھیر لگا دیتا۔
    مگرہر معرکے کے بعدجسم کے زخموں میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیااور ہر زخم اس کے لئے ایک ایسے تمغے کی مانند تھاجس کو بہادر اپنے جسم پرسجا کر فخر محسوس کرتے ہیں۔
    اس کے جلو میں دوڑنے والے گھوڑوں کے سموں سے چنگاریاں نکلتیں۔ اس کی راتیں تلواروں کے پہلو میں اور اس کے دن تلواروں کے سائے میں گزرتے۔
    اس کی شادی کاشی سے ہو گئی ،جو ایک خوب صورت عورت اور ایک بڑے سردار کی بیٹی تھی۔ کاشی اس کے لئے سراپا محبت تھی۔ اس نے جی بھر کر باجی راؤ سے محبت کی ۔ باجی راؤ اس کی موجودگی میں کسی اور کا دھیان بھی نہیں کرتا تھا۔
    کاشی اس سے کہا کر تی:”ہم نے آپ کے پیمانہ عشق کو اپنے وجود سے اتنا بھر دیا ہے کہ اس میں کسی اور کے لئے کبھی گنجائش نہیں نکل سکتی ۔”
    ”میری جان!ہمارے لئے کسی اور کی ضرورت بھی کیا ہے۔”باجی راؤ اس کی آنکھوں میں جھانک کر کہتا۔” بس ایک محبت کافی ہے۔”
    ”لیکن ہمارے درمیان ایک سوتن بھی تو ہے۔”
    ”وہ کون ہے؟ ”تڑپ کو پوچھا۔
    ”آپ کے پہلو میں لٹکی تلوار۔”
    ”کاشی!ہمیشہ یاد رکھنا ،کسی بہادر شخص کا پہلا بیاہ اس کے ہتھیاروں سے ہوا کرتا ہے۔”
    کاشی ہنس کر خاموش ہو جاتی۔
    ٭

  • دانہ پانی — قسط نمبر ۷

    دانہ پانی — قسط نمبر ۷

    کپڑا پھٹے تے لگے تروپا
    دل پھٹے کیہہ سینا
    سجناں باج محمد بخشا
    کیہہ مرنا کیہہ جینا
    ”چل موتیا! بس دیکھ لی ہے تُو نے بارات ، اب نیچے اتر۔ یہ نہ ہو کسی کی نظر لگ جائے۔”
    اللہ وسائی نے ڈھول تاشوں کے شور میں اُسے بازو سے پکڑ کر منڈیر سے پیچھے ہٹایا تھا۔ موتیا نے ایک لمحہ کے لئے پلٹ کر مراد کو دیکھنا چاہا پر وہ دیکھ نہیں سکی۔ اللہ وسائی کے ہاتھ کی گرفت ایسی ہی سخت تھی۔ سکّوں کی برسات میں وہ کھلکھلاتی ہوئی اللہ وسائی کے ساتھ لکڑی کی سیڑھی سے نیچے اُترنے لگی تھی اور اُس نے اُترتے ہوئے اپنے صحن کو دیکھا تھا جس میں ہر طرف سکّے بکھرے ہوئے تھے۔ کچھ گھومتے، ناچتے گررہے تھے اور کچھ گرچکے تھے۔وہ واقعی بارش کی بوندوں کی طرح برس رہے تھے۔
    موتیا نے ایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اور ایسا منظر تو اُس گاؤں نے بھی پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا کہ بوریوں کی بوریاں سکّوں کی یوں لُٹائی جارہی تھیں اور سکّے گلی کے ساتھ ساتھ دائیں بائیں لوگوں کے گھروں میں بھی اچھالے جارہے تھے۔ مگر ایک گھر میںوہ خاص طور پر اُچھالے جارہے تھے۔
    وہ گھر گامو کا تھا، اور گامو گلی میں بارا ت کا یہ طمطراق دیکھ رہا تھا۔ اُچھالے ہوئے سکّے پکڑنے کی چھینا جھپٹی نے بارات کو جیسے ایک ہی جگہ کھڑا کردیا تھا۔ بارات آگے جا ہی نہیں پارہی تھی۔ اور تب ہی گامو کو خیال آیا کہ اُسے خود چوہدری شجاع کو سلام کرنا چاہیے۔ اُسے بگّھی سے اُتارنا چاہیے۔ وہ آگے گیا تھا اور اُس نے کُھلی بگّھی میں بیٹھے چوہدری شجاع اور تاجور کو دیکھا پھر عاجزی کے ساتھ اُس نے چوہدری شجاع کی طرف کا دروازہ کھول کر اُنہیں سلام کیا۔چوہدری شجاع نے سلام کا جواب دیا۔
    ”ملنی یہیں کرلیں چوہدری جی یا بارات کو آگے جانے دیں؟” اُس نے اپنے کندھے پر پڑی چادر سیدھی کرتے ہوئے شور شرابے میں آواز بلند کرتے ہوئے چوہدری شجاع سے کہا۔ وہ اُلجھا۔

    ”کیسی ملنی گامو؟”گامو نے اُس کا چہرہ دیکھا پھر نہ سمجھنے والے اندازمیں ہنستے ہوئے کہا:
    ”ہماری طرف بڑا میں ہی ہوں چوہدری جی! اور آپ کی طرف آپ۔”
    شجاع کو کرنٹ لگا تھا۔ اُس نے بے اختیار برابر میں بیٹھی تاجور کو دیکھا جس نے بڑے اطمینان سے گامو سے کہا:
    ”تمہارے گھر بھی دانوں کی بوری اور کپڑے آئیں گے گامو۔ گاؤں کے ہر گھر میں چوہدریوں کی طرف سے جائے گا یہ تحفہ۔ یہ میرے بیٹے کی جان کا صدقہ ہے۔ اُس کی شادی کا تحفہ۔ آگے سے رستہ صاف کرواؤ۔ بارات نے آگے گزر کر جانا ہے۔ ہمیں دیر ہورہی ہے ،اگلے گاؤں میں پہنچتے پہنچتے اور بھی دیر ہوجائے گی۔”
    تاجور نے بے حد تنفر سے بڑے تحکمانہ اندازمیں اُس سے کہا تھا اورگامو کو یوں لگا جیسے اُس کے کانوں میں کسی نے پگھلا ہوا سیسہ اُنڈیلا ہو۔
    ”چوہدرائن جی نے کیا کہا تھا بارات کس گاؤں جارہی تھی اور کیوں جارہی تھی؟ اُس کا گھر تو یہیں تھا۔”
    اُس نے عجیب سکتے کی سی کیفیت میں سوچا تھا۔ چوہدریوں کے ایک ملازم نے بگّھی کے لئے راستہ صاف کروالیا تھا اور اب بگّھی گامو کو پیچھے چھوڑ کر آگے سر ک گئی تھی۔ چوہدری شجاع نے بُت بنے کھڑے گامو کے پاس سے بگّھی پر بیٹھے گزرتے ہوئے تاجور سے پوچھا۔
    ”تم نے گامو کو بتایا نہیں تھا کہ بارات اُس کے گھر نہیں آرہی؟” اُنہوں نے جیسے اپنے کسی خدشے کی تصدیق کرنا چاہی تھی۔ تاجور نے عجیب سے اندازمیں مسکراتے ہوئے شوہر سے کہا۔
    ”نہیں! اُس نے سوچ کیسے لیا کہ چوہدر ی کی بارات کمّی کمینوں کے گھر آئے گی۔”
    چوہدری شجاع نے جواباً اُسے جن نظروں سے دیکھا تھا، تاجور اُن سے نظریں چراگئی۔ اُس نے اطمینان سے منہ موڑ لیا تھا۔
    ” تُو نے ظلم کیا تاجور!” اُس نے شوہر کو ملامت بھری آوازمیں بڑبڑاتے سُنا تھا مگر اُس نے پھر بھی شوہر کو دیکھا نہیں تھا۔ وہ صرف چوہدری تھا اور تاجور کو یقین تھا کہ وہ سیّد بھی تھی اِس لئے اُسے سب معاف تھا، سات خون بھی۔ یہ تو بس گامو کی عزت تھی اور موتیا کا دل، یہ بھلا کس کھاتے میں آتے تھے۔
    بگّھی گامو کے پاس سے گزرگئی تھی اور گامو کے ہاتھ سے ملنی کی وہ سفید چادر گرگئی تھی جو اُس نے قرض لئے ہوئے پیسوں کے ساتھ لی تھی۔ موتیا کی شادی کے لئے اُس نے بہت سارے لوگوں سے پیسے پکڑے تھے۔ جتنے بھی ہوسکتے تھے۔ وہ چوہدریوں کی حیثیت کے مطابق شادی نہیں کرسکتا تھا مگر وہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر تو شادی کرسکتا تھا اور اب وہ سفید کھدّر کی چادر گاؤں کی دھول مٹّی میں اٹی پڑی تھی اور گامو کو لگ رہا تھا اُس کے اردگردسکّے پکڑتے گاؤں کے لوگ سکّے نہیں اُس کی عزت کی دھجیاں نوچ رہے تھے۔
    وہ ساری سرگوشیاں جنہیں وہ اتنی دیر سے کانوں سے دماغ تک جانے ہی نہیں دے رہا تھا، اب ایک بار پھر اُس کے کانوں میں سرسرانے لگیں۔
    ”چوہدری شجاع نے اپنے سالے کی بیٹی کے ساتھ کیا ہے رشتہ۔”
    ”بارات وہیں جارہی ہے اور چوہدری مراد کی مرضی سے ہوا ہے یہ سب کچھ”
    ”تجھے کسی نے بتایا نہیں گامو؟”
    وہ سرگوشیاں ڈھول تاشوں پر حاوی ہوگئی تھیں۔ وہ چوہدری مراد کی بارات نہیں تھی، وہ گامو کی عزت کا جنازہ تھا جو چوہدریوں نے نکالا تھا۔ گامو کو کبھی زندگی میں غصّہ نہیں آیا تھا۔ وہ حق باہو کا کلام پڑھ پڑھ کر ڈرنے اور رونے والا انسان تھا۔ پر اُس کی زندگی میں غصّہ کا پہلا لمحہ وہاں آیا تھااور غصّہ بھی نہیں، وہ طیش تھا ۔
    وہ جیسے اس وقت وہاں سب کو ماردینا چاہتاتھا۔اُس کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار ہوتا تو وہ یہی کرتا۔
    خیر اُس کے ہاتھ تو کیا گھر تک میں کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ کچھ بھی نہیں جس سے گامو اپنے غصّے کا اظہار کرتا۔ چوہدریوں کی تذلیل کرتا،حساب برابر کرنے کی کوشش کرتا۔ اللہ نے اُسے چیونٹی بنایا تھا اور چوہدریوں کو ہاتھی، اور یہ احساس گامو کو زندگی میں پہلی بار ہوا تھا۔
    اُس کی موتیا کا دل ٹوٹنے والا تھا اور گامو کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرگزرے۔
    بارات اُسی طرح آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔ لوگ اُسی طرح اچھالے ہوئے سکّوں کو لوٹنے میں مگن تھے۔ وہاں کسی کو اس وقت گامو سے ہمدردی کرنے اور افسوس کرنے کے لئے بھی وقت نہیں مل رہا تھا۔ دانوں پر پلنے والے لوگ سکّے دیکھ کر آپے سے باہر ہورہے تھے۔ گامو بھاگتا ہوا اپنے گھر کا دروازہ کھول کر اندر آگیاتھا۔ صحن میں صرف اللہ وسائی تھی جو اُسے دیکھ کر ہنستے ہوئے زمین پر پڑے سکّے دکھاتے ہوئے کہنے لگی:
    ”دیکھ گامو! سکّوں کی بارش کردی ہے چوہدریوں نے۔ میں تو یہ سارے وار کے پھینکوں گی موتیا سے۔”
    ”چوہدری مراد کی بارات ہمار ے گھر نہیں آئی۔ وہ پیر صاحب کے گھر جارہی ہے دوسرے گاؤں۔” گامو نے اُس کی بات سُنے بغیر غضبناک اندازمیں کہا تھا۔
    ”دے میرا کلہاڑا اللہ وسائی! میں نے کسی کو نہیں چھوڑنا آج۔ میں چوہدری مراد کے ہی ٹوٹے کردوں گا آج پھر دیکھوں گا کس کی بارات لے کر جاتے ہیں پیر صاحب کے گھر۔” وہ صحن میں اپنا کلہاڑا ڈھونڈتے ہوئے چلّایا تھا اور اندر کمرے میں موتیا نے باپ کا ہر جملہ سُنا تھا اور ہر جملے نے اُس کے دل کو کاٹا تھا۔
    ‘ ‘تجھے غلط فہمی ہورہی ہے گامو! ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ میں آپ جاکے پوچھتی ہوں باہر، بارات تو گلی میں ہے۔”حواس باختہ اللہ وسائی کی سمجھ میں نہیں آیا، وہ گامو کو روکے کہ بارات کو۔
    ” کوئی فائدہ نہیں اللہ وسائی انہوں نے مذاق اُڑایا ہے ہمارا۔ میری دھی کی عزت رول دی۔ میں بھی اُن کی نسل ختم کردوں گا آج۔”
    گامو کو کلہاڑی مل گئی تھی۔ وہ لکڑیوں کے اُس ڈھیر پر تھی جو گھر کا ایندھن تھا۔ کلہاڑی کو برق رفتاری سے ٹھوکتے ہوئے وہ پلٹا تھا جب موتیا کمرے سے نکل کر باپ کے رستے میں آگئی تھی۔ گامو نے بیٹی کو دلہن کے رو پ میں دیکھا اور اُس کے وجود کی آگ جیسے بھانبڑ بن گئی تھی۔
    ”نہ ابّا نہ! مراد کو نہ مارنا۔” وہ سامنے آئی تھی اور اُس نے باپ کے ہاتھ سے کلہاڑی پکڑ کر کھینچ لی تھی اور گامو مزاحمت ہی نہیں کرسکا تھا۔
    ” وہ بارات لے کر چوہدرائن کی بھتیجی بیاہنے جارہاہے موتیا۔” گامو نے جیسے موتیا کو خبر دی تھی۔
    ” جانے دے ابّا۔ ہم اُنہیں نہیں روک سکتے۔” گامو نے بیٹی کا چہرہ دیکھا۔
    وہ حُسن سات گاؤں میں نہیں تھا اور اُس حُسن پر وہ روپ گامو کو تو پوری دُنیا میں نظر نہیں آیا تھا۔ اُس نے بڑوں سے سُنا تھا روپ روتاہے، آج اُس نے دیکھ لیا تھا۔
    ”چل موتیا پھر اُس کو مارتے نہیں ، اُس پر تھوک کر آتے ہیں۔” گامو نے بیٹی کا ہاتھ پکڑا تھا۔
    ”اُن کو دکھاتے ہیں کہ تجھے کوئی فرق نہیں پڑا تیرے لئے مراد بڑے۔” کلہاڑی موتیا کے ہاتھ سے چھوٹ گئی تھی۔ گامو اُس کا ہاتھ کھینچتا ہوا اُسے لکڑی کی سیڑھی کی طرف لے گیااور وہ میکانکی اندازمیں سیڑھی چڑھتی گئی۔
    ”تُو نے رونا نہیں موتیا،ایک آنسو نہ آئے تیری آنکھ میں۔تُو نے بارات پر تھوکنا ہے۔”
    گامو اُس کا ہاتھ پکڑے اُسے منڈیر کی طرف لے جاتے کہتا گیا۔ وہ خالی آنکھوں کے ساتھ باپ کے حکم کی تعمیل میں منڈیر پر جاکر کھڑی دُلہن بنی اپنے محبوب کی بارات دیکھنے لگی تھی جو اُس کے بجائے کسی دوسرے کے گھر جارہی تھی۔
    سکّے ہوامیں اب بھی اُچھل رہے تھے اور اُن کے گھر کی چھت اور صحن میں گررہے تھے۔ ڈھول اور تاشوں کی آوازیں بھی اُس ہی طرح آرہی تھیں۔ نیچے صحن میں اللہ وسائی دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے چوہدریوں کو بددعائیں دے رہی تھی اوپر چھت پر گامو پاگلوں کی طرح بارات پر منہ بھر بھر کے تھوک رہا تھا اور اس سب کے بیچوں بیچ ایک موتیا تھی جو اب بغیر دوپٹے کے چھت پر کھڑی تھی۔ ماتھے پر ٹیکا لگائے، مراد کی پشت دیکھ رہی تھی جو گھوڑے پر بیٹھا تھا اور اُس کے دروازے کے سامنے سے گزرچکا تھا۔
    وہ اُسے دیکھتی ہی رہ گئی تھی۔ گامو کی آواز اس کے کانوں میں آرہی تھی جو اُسے اُس پر تھوکنے کا کہہ رہا تھا۔ وہ اُس پر کیسے تھوک سکتی تھی؟ وہ اُس کا مراد نہیں تھا، اُس کی مراد تھا۔
    تاجور نے گامو اور موتیا دونوں کو چھت پر کھڑے دیکھا تھا۔ اُس نے گامو کو بارات پر تھوکتے بھی دیکھا تھا ۔ اُس کی بگّھی اُس وقت اُس کے دروازے کے سامنے سے گزررہی تھی۔
    ”یہ کمّی کمین میرے بیٹے کی بارات پر تھوکے گا؟ اس کی اتنی جرأت۔”
    تاجور تڑپی تھی اور اُس نے چوہدری شجاع سے کہا تھا جس نے سر اُٹھا کر گامو کو دیکھا پھر اُس کے برابر کھڑی موتیا کو۔ ننگے سر والی اُس دلہن کو دیکھ کر چوہدری شجاع کا سر جھک گیا تھا۔
    ”ہم اسی قابل ہیں تاجور، تھوکنے دے۔ شاید اُس کا غصّہ ٹھنڈا ہوجائے اور وہ بددعا نہ دے۔” چوہدری شجاع نے بیوی سے کہا تھا اور تاجور کو مشتعل کردیا تھا۔
    ”ہم کوئی بیٹیوں والے ہیں کہ اُس کی بددعاؤں سے ڈریں گے، ہم بیٹے والے ہیں۔”
    اُس نے تن کے شوہر سے کہا تھا اور پھر موتیا کو دیکھا تھا جو اُسے نہیں دیکھ رہی تھی۔ وہ اب بھی اُس کے بیٹے کو دیکھ رہی تھی جو دور جارہا تھا۔ تاجور کو اُس کی نظر، اُس کے انداز سے خوف آیا۔ اُ س نے آج واپسی پربھی بیٹے کا صدقہ اُتارنا تھا۔ گیارہ بکرے ذبح کرنے تھے۔ اب بائیس کا طے کرلیا تھا اُس نے۔
    بارات موتیا کی گلی سے گزرگئی تھی۔ گلی کے سارے لوگ بارات کے ساتھ ہی آگے چلے گئے تھے۔ اُنہیں آج وہاں تک سکّے پکڑنے تھے جہاں تک بارات سکّے لٹاتی۔ ڈھول تاشوں کی آوازیں اب دور ہوگئی تھیں۔

  • تحفۂ محبت — لعل خان

    تحفۂ محبت — لعل خان

    رات اپنے تیسرے پہر میں داخل ہو چکی تھی ،میں شیشے سے سر ٹکائے تیزی سے باہر دوڑتے ہوئے مناظر دیکھ رہا تھا،کہیں کہیں لائٹس کی وجہ سے منظر صاف ہو جاتا اور پھر اگلے ہی لمحے مہیب تاریکی میں ڈوب کر مجھے تھوڑا سا اداس کر جاتا تھا،جاتی سردیاں تھیں ،شیشے کے بیرونی حصے پر پڑی ہوئی اوس کی چادر مجھے اندر سے ہی محسوس ہو رہی تھی ،گاڑی میں ہلکا ہلکا میوزک چل رہا تھا،گائیک گارہا تھا۔۔
    ”نی اک پھل ….موتیے دا مار کے جگا سوہنیے”
    میرے ساتھ والی سیٹ خالی تھی ،اچانک میری سماعتوں سے ایک مترنم آواز ٹکرائی ۔۔
    ”ایکس کیوزمی ”
    میں نے سر گھما کر آواز کاتعاقب کیا اور میری نظروں سے ایک خوب صورت گناہ سرزد ہو گیا،مجھے مولانا صاحب کی دوران تبلیغ ہزار بار کی گئی تاکید یاد آگئی …”نامحرم پر دوسری نظر حرام ہے” …پر میری آنکھیں تو پہلی بار ہی تھم گئی تھیں ،میرے جسم کی پوری قوت جیسے سمٹ کر آنکھوں میں آگئی تھی ،میں آنکھیں جھپکنا نہیں چاہتا تھا ،کہیں یہ جھپکیں اور منظر غائب ہو جائے ،جو قسمت نے رات کے آخری پہر میں سنسان سڑک پہ دوڑتی ہوئی بس میں بیٹھے ہوئے درجنوں لوگوں کے بیچوں بیچ میرے سامنے کشید کر ڈالا تھا،میں مبہوت تھا ،میری نظریں باغی ہو چکی تھیں ،کیوں نہ ہوتیں ….
    یہ بھی اپنے اندر بھوک رکھتی ہیں …طلسمی مناظر کی بھوک …..اور اس سے بڑا طلسمی منظر اور کیا ہو سکتا تھا ؟
    میں نے پانچ سیکنڈز میں لولی ووڈ ،بولی ووڈ اور ہولی ووڈ کے تمام حسین چہروں کو اس کے آگے پانی بھرتے پایا جنہیں میں اب تک دیکھ چکا تھا ،وہ تو جنت سے اتری ہوئی کوئی حور تھی،حسن کے بے مثال جلووں سے چور چور تھی ،وہ بے نور آنکھوں کے لئے وجہ نور تھی ،وہ جو بھی تھی …….پر مجسم حسن ضرور تھی ..
    میں یک ٹک اسے تکے جا رہا تھا ،اور وہ مسکراتے ہوئے اک ادائے بے نیازی سے کھڑی تھی۔اس نے تھوڑی دیر تک میری بے قابو ہوتی نظروں کو میرے تابع ہونے کا انتظار کیا مگر پھر اسے احساس ہوا ،اس کا انتظار بہت طویل بھی ہو سکتا ہے ،اس نے میری ساکت آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلا کر پھر سے میری سماعتوں میں سریلا رس گھولا۔
    ”ہیلو ۔۔۔۔کین یو ہیر می ؟”
    اور جیسے مجھے کسی نے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ ہی ڈالا ہو ۔
    میں نے ہڑبڑا کر ہونقوں کی طرح آگے پیچھے بیٹھے ہوئے لوگوں کی طرف دیکھا۔
    بس میں اس وقت تقریباًسب ہی مسافر سو رہے تھے ۔
    ”کیا میں یہاں تھوڑی دیر بیٹھ سکتی ہوں ؟”
    وہ اپنے صبیح چہرے پہ دل فریب مسکراہٹ سجائے میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔
    ”جج ۔۔جی ۔۔۔”
    میں نے حلق میں اٹکتے لفظ حلق میں ہی چھوڑ دیے ،اور جو مشکل سے نکلا ،اسے ہی غنیمت جان کر خاموش ہو گیا۔
    ”تھینکس ”۔اس نے ماتھے پہ آئی لٹ بائیں کان کے پیچھے اڑستے ہوئے کہا اور جھٹ سے میرے ساتھ والی سیٹ پہ بیٹھ گئی ۔
    میں تھوڑا سا سمٹ کر کھڑکی سے لگ گیا۔
    ”تو ….نام کیاہے آپ کا ؟”اس نے سرتھوڑاترچھا کر کے مجھ سے سوال کیا۔
    میں ابھی تک اس صورت ِ حال کو قبول نہیں کر پا رہا تھا،میرے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو رہے تھے،حلق میں کانٹے اُگ آئے تھے ،مجھ سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا ۔
    اس نے میری جھجک محسوس کر لی تھی ….
    ”آپ کو میرا یہاں بیٹھنا اچھا نہیں لگا ”

    اس نے صاف اور سادہ سے انداز میں مجھ سے پوچھا۔
    ”نن …نہیں …..مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ”
    بے اختیار میرے منہ سے نکلا تھا۔مجھے یاد آچکا تھا میں لڑکا ہوں ..وہ لڑکی ہے ،جھجکنا اسے چاہیے ….مجھے نہیں۔
    ”تو پھر بتائیے نا؟….نام کیا ہے آپ کا؟”اس نے ہولے سے اپنا سوال دہرایا۔
    مجھے اس سوال سے بہت چڑ ہے ، اسکول ،مدرسہ ،کالج ،اکیڈمی اور آفس ،یہاں تک کے گھر میں آنے والے مہمان بھی اگر میرا نام پوچھ لیں تو ایک بار میری سٹی ضرور گم ہو جاتی ہے ،اب بھلا آپ خود سوچئے ،یہ بھی کوئی نام ہے؟ جو میرے دادا حضور نے اپنے ابو جان یعنی میرے پردادا جان کے نام پہ رکھ چھوڑا تھا،اور اس وقت تو حالات اور بھی مخدوش تھے ،مجھے ایک ایسی نڈر ،بے باک اور لبرل خاتون کو اپنا نام بتانا تھا،جو اپنی سیٹ سے اٹھ کر گپ شپ کرنے کے لئے میرے پاس آ بیٹھی تھی ۔اب اگر میرا نام ہی اسے امپریس نہ کرپائے گا ،تو بات چیت کیا خاک کرے گی وہ ۔؟
    میں سوچ و بچار میں مصروف تھا کہ اسے سچ سچ بتا دوں یا آج کل کے حساب سے کوئی ماڈرن نام بتا کر ایک عدد جھوٹ کا گناہ اپنے کھاتے میں لکھوا لوں…جب اس کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔
    ”کیا ہوا ۔۔آپ کو اپنا نام یاد نہیں آ رہا؟”
    ”نام تو یاد ہے مجھے …سوچ رہا ہوں آپ کو بتاؤں یا نہیں؟” اس بار میں نے تھوڑے سے پر اعتماد لہجے میں جواب دیا۔
    ”کیوں بھئی ۔۔۔۔؟ایسا بھی کیا چھپا ہے آپ کے نام میں ؟”اس کی آنکھوں میں حیرت سمٹ آئی تھی ۔
    ”لعل خان ”میں نے ایسے بتایا جیسے کوئی بوجھ سر سے اتارا ہو۔
    ”کیا؟”اس نے ناسمجھی سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا۔
    مجھے پہلے سے ہی پتا تھا….وہ اب یہ سوال ضرور کرے گی ،میں نے آج تک جسے بھی اپنا نام بتایا ہے ۔۔۔اسے تھوڑا سا پریشان اور خود کو پشیمان پایا ہے ۔۔حالاں کہ اس میں میرا کوئی قصور بھی نہیں ہے۔
    ”جی لعل خان ہے میرا نام ……آپ شائد سمجھ نہیں پائیں۔”میں نے گہرا سانس لے کر اعترافِ جرم کیا۔
    ”اوہ ۔۔۔”اس کے ہونٹ سیٹی بجانے والے انداز میں سکڑ گئے۔
    ”لال کا مطلب تو سرخ ہوتا ہے نا؟”پتا نہیں وہ مجھ سے پوچھ رہی تھی …یا مجھے بتا رہی تھی ۔
    ”جی نہیں ۔۔یہ وہ والا لال نہیں یہ لام عین لام والا ”لعل” ہے جو ایک قیمتی پتھرکا نام بھی ہے ۔”
    میں نے تیزی سے اپنے نام کی وہ وضاحت اس کے سامنے بھی پیش کر دی جومیں لاتعداد بار، لاتعداد لوگوں کے سامنے کر چکا تھا۔
    ”اچھا…….مطلب آپ ایک قیمتی پتھر ہیں ۔”میں نے سر گھما کر سیدھا اس کی طرف دیکھا۔وہ زیر لب مسکرا رہی تھی ۔
    ”میں انسان ہوں ”میں نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔مجھے لگا وہ میری دی گئی وضاحت کا مذاق اڑا رہی ہے ۔
    ”اور ویسے بھی لوگ نام سے نہیں کام سے پہچانے جاتے ہیں ۔”میری آواز میں روکھا پن کچھ زیادہ ہی ہو گیا تھا ،تبھی اس نے فوراً ہی کہا۔
    ”میں تو ویسے ہی پوچھ رہی تھی ،ورنہ نام میں کیا رکھا ہے ….نام تو نام ہی ہوتا ہے ۔”
    ”جی”۔میں نے صرف جی کہنے پہ اکتفا کیا۔
    میرے جی کہنے پہ وہ اک ذرا سی خاموش ہوئی تو مجھے لگا شائد وہ اب میری طرف سے کچھ پوچھے جانے کی متمنی ہے۔
    میں نے کھنکار کر گلا صاف کیا اور وہی سوال پوچھ لیا جو پہلے اس نے پوچھا تھا۔
    ”آپ کا اسم گرامی کیا ہے ۔؟”
    اس نے حیرت سے مجھے دیکھا۔
    ”اوہ پلیز ۔۔۔۔اتنی پر تکلف اردو مت بولئے ، میں یہاں تھوڑا سا وقت گزارنے آئی ہوں،آپ سے اردو کا مقابلہ کرنے نہیں”۔
    میں نے جھینپ کر کھڑکی سے باہر گھپ اندھیرے کو تاکنا شروع کر دیا ۔
    ”باہر اگر کچھ نظر آتا ….تو میں یہاں آپ کے پاس آ کر نہ بیٹھتی ۔”اس نے مجھے کھڑکی سے باہر گھورتے پا کر ہلکے سے طنزیہ لہجے میں کہا۔
    ”مجھے اندھیرے میں دیکھنا اچھا لگتا ہے ”۔ بڑا عجیب سا لہجہ تھا ،مجھے خود بھی سمجھ میں نہیں آیا۔
    ”روشنی میں بیٹھ کر اندھیرے میں دیکھنے والے لوگ ناشکرے کہلاتے ہیں ”۔
    اس نے ایک دم ہی فلسفیانہ لہجہ اختیار کر لیا تھا۔
    میں نے سر گھما کر اسے دیکھا ،وہ دونوں ہاتھ گود میں رکھے سیٹ کی پشت سے سر ٹکائے بس کی چھت کو تک رہی تھی۔
    ”آپ شائد ٹیوب لائٹ اور بلب کی روشنی کو ہی روشنی کہتی ہیں ۔”
    میرا لہجہ تھوڑا سا استہزائیہ تھا۔
    ”نہیں ۔”
    اس نے نفی میں سر ہلایا ۔
    ”پھر ”؟میں نے سوال کیا۔
    ”اللہ تعالیٰ ہمیں ایک خوبصورت دل کی شکل میں روشنی کا وہ ذریعہ عطا کرتا ہے ،جس کے صحیح استعمال سے ہم خود کو روشن کر سکتے ہیں ،اور یہی روشنی ہماری آنکھوں سے نکل کر ہمارے لئے اس دنیا کی ہر شے کوخوب صورت اورچمک دار بنا دیتی ہے ،یہ روشنی ہمیں اندھیروں سے بچاتی ہے اور روشن رستے دکھاتی ہے ،ایسے میں اگر کوئی یہ کہے کہ اسے اندھیرے میں دیکھنا پسند ہے …..تو میں تو اسے ناشکرا ہی کہوں گی ۔”
    بہت خوب صورت لہجے میں بولتی ہوئی وہ حور شمائل مجھے تھوڑی دیر کے لئے لاجواب کر گئی تھی۔
    ”نام کیا ہے آپ کا ۔”
    میں اپنے پہلے سوال پہ آ چکا تھا ۔
    ”ماہین۔۔” وہ بہت آہستہ سے بولی ۔ وہ ابھی تک چھت کو دیکھ رہی تھی۔
    ”اچھا نام ہے ۔”میرا لہجہ رسمی تھاجسے اس نے محسوس کیا اور فوراً بولی ۔
    ”شکریہ۔”وہ بھی رسم ہی ادا کر رہی تھی۔
    ہمارے درمیان ایک بار پھر خاموشی آ چکی تھی۔
    وہ میری منتظر تھی۔۔۔۔
    میں اس کا منتظر تھا۔۔۔
    گاڑی اپنی فل اسپیڈ کے ساتھ میری اور اس کی منزل کی جانب بڑھ رہی تھی ،ہم سندھ کراس کر کے پنجاب میں داخل ہو چکے تھے شائد،ابھی کچھ کہنا مشکل تھا ،اندھیرے کے راج کی وجہ سے۔
    ”آپ کیا کرتے ہو؟”
    اس نے چھت کو تکتے تکتے کافی بے تکلفی سے سوال کیا۔مجھے ایسا لگا وہ خاموشی کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتی تھی ….
    ”جاب کرتا ہوں کراچی میں۔”میں نے نظریں جھکائے جھکائے جواب دیا ۔
    ”کیا جاب کرتے ہو۔؟اس نے پھر پوچھا۔
    ”پرائیویٹ جاب کرتا ہوں،ایک فوڈ انڈسٹری میں،آپ کیا کرتی ہو؟۔
    میں نے جواب دے کر سوال بھی کر دیا تھا۔
    ”میں ایم بی اے کر رہی ہوں۔”
    ”ویری نائس”۔
    میں نے بے اختیار توصیفی لہجے میں کہا۔
    ”آگے کیا ارادہ ہے آپ کا ۔”
    میں نے جلدی سے اگلا سوال کیا۔