Tag: lok kahani

  • انوکھی محبت (انٹرنیٹ والا لو) — مہک شاہ

    انوکھی محبت (انٹرنیٹ والا لو) — مہک شاہ

    ہر طرف گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ سب لوگ نہ جانے کب کے سو چکے تھے۔ روہاب نے لیپ ٹاپ کی اسکرین سے نظریں ہٹا کے دیواری گھڑی کی طرف دیکھا جو صبح کے چار بجا رہی تھی۔ معمول کے مطابق اس کے سونے کا وقت ہوا چلا تھا۔ اِس کے ساتھ ہی اس نے ثانیہ ، وشمہ اور تمام آن لائن دوستوں کو گڈ نائٹ کہا اور سونے کے لیے آنکھیں موند کر لیٹ گیا۔
    ابھی اسے سوئے چند گھنٹے ہی ہوئے تھے کہ فون کی گھنٹی کی آواز پورے کمرے میں گونجنے لگی۔
    آنکھوں میں سرخ ڈورے اس کی شب بیداری کے گواہ تھے۔ اس نے غصے سی بنا دیکھے ہی کال کاٹ دی۔ چند سیکنڈ بھی نہ گزرے تھے کہ دوبارہ بیل بجنے لگی۔
    زوہیب کا نام اسکرین پر جگمگا رہا تھا۔ کسی اور کی کال ہوتی تو وہ فون بند کرکے سو جاتا، مگر یہ اس کے قریبی دوست کی کال تھی اِس لیے بلاتاخیر اٹینڈ کر لی تھی۔نہ جانے فون پر کیا کہا گیا تھا کہ روہاب جھٹ سے بیڈ سے اٹھ کر واش روم میں گھس گیا۔ جب وہ باہر آیا تو چہرے سے پانی کی بوندیں ٹپک رہی تھیں۔ اس نے سائیڈ ٹیبل سے کار کی چابی اٹھائی اور باہِر چل دیا۔
    اسپتال کے اندر گہری خاموشی کا راج تھا۔ یہ پہلی بار نہیں تھا آج وہ یہاں تیسری بار لایا گیا تھا.. اس کی سوشل میڈیا پر بنی تیسری گرل فرینڈ بھی اسے چھوڑ کر جا چکی تھی۔
    ہر بار کی طرح اس بار بھی وہ یہ صدمہ برداشت نہ کر پایا تھا۔ روہاب اور اس کے باقی دوستوں نے کئی بار اسے سمجھایا تھا کہ سوشل میڈیا کے تعلقات زیادہ دیر نہیں ٹکتے۔ پھر بھی وقار ہر بار سنجیدہ ہو جاتا تھا۔
    زوہیب کو اسپتال کے کاریڈور میں چکر لگاتا دیکھ روہاب بھی بھاگتا ہوا اس کے قریب آگیا۔
    ”کیا ہوا وقار کو؟”
    ”وہی جو ہر بارہوتا ہے۔” زوہیب نے ماتھے پر تیوری چڑھا کر جواب دیا۔
    ”بریک اپ! پھر سے؟” روہاب نے اس کے تاثرات کو سمجھتے ہوئے خود ہی اندازہ لگایا۔

    ”یار کیا کریں اس کا؟ ہرچار پانچ مہینے بعد اس کا یہی رولا ہوتا ہے۔”
    ”اس بار کون سا طریقہ آزمایا ہے جان دینے کا؟”روہاب نے استفسار کیا۔
    ”خود ہی چل کر دیکھ لے ۔” زوہیب نے اس کے شانوں پر ہاتھ رکھا اور دونوں وارڈ کی جانب چل پڑے۔
    وقار کے قریب ایک نرس کھڑی چیک اپ کے ساتھ اس سے سوال جواب کر رہی تھی۔
    وقار چہرے پر بے زاری سجائے اس کے سوالوں کے جواب دے رہا تھا۔
    ”اوکے! بٹ یو ہیو ٹو بی کئیرفل نیکسٹ ٹائم ۔ اس بار ڈوز کم تھی توجان بچ گئی۔ اگر ڈوز زیادہ ہوتی تو جان جا بھی سکتی تھی۔” یہ کہہ کر نرس باہر چلی گئی۔
    ”جینا بھی کون چاہتا ہے۔”وقار نے نرس کے جاتے ہی دیوداسی انداز میں کہا۔
    ”یار ایک لڑکی کی خاطر تو ہمیں بھول گیا۔ ایک بار بھی نہ سوچا تیرے گھر والوں اور تیسرے معصوم دوستوں کا کیا ہو گا؟ ”روہاب نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے معصومیت سے کہا۔
    ”چل بھول جا کوئی یمنیٰ بھی تھی تیری لائف میں ۔ دیکھنا اس سے اچھی لڑکی مل جائے گی اب۔” فیس بک تو بھری پڑی ہے خوب صورت لڑکیوں سے۔” زوہیب نے اسے تسلی دینے کو ایک نیا شوشہ چھوڑا۔
    ”شٹ اپ یار! اس بار میں سیریس ہوں۔ مجھے سچ میں یمنیٰ سے پیار ہو گیا ہے۔” وقار نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ وہ ہر بار یہی کہتا تھا۔
    روہاب کا سیب منہ تک لے جاتا ہاتھ وہیں تھم گیا۔
    ”اچھا ٹھیک ہے ابھی تم آرام کرو بعد میں اس موضوع پر بات کرتے دیکھتے ہیں۔”
    ”ویسے اس موقع پر سیلفی تو بنتی ہے نا؟ ”
    کہتے ساتھ ہی روہاب نے موبائل کا فرنٹ کیمرا کھولا اور تینوں نے سیلفیاں بنوائیں۔ وقار نے اس لیے سیلفی بنوائی تھی کہ یمنیٰ ان کے ”Matual” میں تھی اور وقار کی تصویر دیکھ کر اس سے رابطہ ضرور کرتی۔
    روہاب نے فوراً سیلفی کے ساتھ سٹیٹس اپڈیٹ کر دیا تھا۔
    ”می اینڈ زوہیب ود وقار ایٹ ہاسپٹل۔ ”
    ”with zohaib and waqar at hospital”
    ٭…٭…٭
    اُف اللہ! میں کیا کروں، میں کس سے کہوں؟ماما جانی کدھر ہیں آپ؟ اتنی زوروں کی بھوک لگی ہے۔”
    ”آآآ میرا بچہ! بس آ گیا کھانا۔” نازش نے خود نوالہ بنا کر اپنی نازوں پلی بیٹی پلوشہ کے منہ میں ڈالا۔
    ”ماما جانی بہت مزے کا بنا ہے۔” نازش نے پیار سے اپنی بیٹی کو ساتھ لگایا۔
    ”ماما! میں نے آج یونی میں بھی کچھ نہیں کھایا۔ آپ کی بھتیجی نے کچھ کھانے نہیں دیا۔” پلوشہ نے یمنیٰ کی طرف برا سا منہ بنا کر اسے گھورا۔ نازش نے ایک نظر یمنیٰ کو دیکھا جو گھر جانے کے بجائے سیدھا یہاں چلی آئی تھی اور مسلسل پلوشہ کی ڈراما بازی دیکھ کر کڑھ رہی تھی۔ پلوشہ نے مزے سے کھاتے ہوئے اسے آنکھ ماری۔ یمنیٰ نے برا سا منہ بنا کر سر جھکا لیا۔
    پلوشہ اٹھ کر واش بیسن پر ہاتھ دھونے چلی گئی۔
    ”توکب آ رہے ہیں ہادی لوگ؟” پلوشہ کے جانے کے بعد نازش نے یمنیٰ سے پوچھا۔
    ”جی پھپھو کل آنا ہے۔”
    پلوشہ نے سیڑھیاں چڑھتے یمنیٰ کو اشارہ کیا۔ یمنیٰ بیگ اور موبائل اٹھائے اس کے پیچھے چلی آئی۔
    ”ہاں جی اب بتائیں کیوں صبح سے سڑے ہوئے بینگن جیسی شکل بنا رکھی ہے محترمہ نے؟”
    ”مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔” یمنیٰ بے چارگی سے بولی۔
    ”کیسی مدد؟”
    ”میں ہادی سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔”
    ”وہاااااااٹ؟” پلوشہ جھٹکے سے اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
    ”لیکن کیوں؟ ہادی میں کیا خرابی ہے؟ تمہارا فرسٹ کزن ہے۔ اسمارٹ ہے، ہینڈسم ہے، اچھا بزنس ہے اس کا دبئی میں اور کیا چاہیے؟ تم بس جلدی سے شادی کروائو تو میرا نمبر آئے گا نا۔ میں نے تو سوچ بھی لیا ہے میرا پرنس چارمنگ کیسا ہوگا۔”
    ”بکواس نہیں کرو۔ میں مذاق کے موڈ میں بالکل نہیں ہوں۔” پلوشہ اب خاموشی سے اس کے چہرے کے بگڑے تاثرات کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش میں لگی تھی۔
    ”اچھا ٹھیک ہے بتا کیا مسئلہ ہے؟” یمنیٰ نے اپنا موبائل اٹھا کر وقار کی اسپتال والی تصویر دکھائی۔
    ”ارے! یہ تو وہی چمپو ہے نا جو روز کینٹین میں ہمارے ساتھ والی ٹیبل پر بیٹھ کر گھورتا رہتا تھا۔”
    ”ہاں! وہی ہے اور ہم ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔ اب جب میں نے اسے کہا کہ میری شادی ہو رہی ہے اور اب بات نہیں کروں گی تو اس نے سوسائیڈ اٹیمپٹ کرنے کی کوشش کی اور اب اسپتال میں ہے۔” اس نے افسردہ سا منہ بنا کر بتایا۔
    پلوشہ تو شاک کے مارے گنگ رہ گئی۔
    ”بولو بھی کچھ۔” یمنیٰ نے اسے جھنجھوڑا۔
    ”اب کیا کر سکتے ہیں۔” پلوشہ کو اپنی آواز دور سے آتی سنائی دی۔
    ”تم اس سے پیار کرتی ہو؟” پلوشہ نے رازداری سے اس کے قریب آکر پوچھا۔
    ”پیار کا تو پتا نہیں لیکن اس کے لیے برا لگ رہا ہے۔ پانچ ماہ سے ہم دوست ہیں۔”
    ”ہیں؟ ابھی تو کہہ رہی تھی پیار کرتی ہو۔ یہ کیسا پیار ہے؟اور ایک بات بتائو، 5ماہ تو یونی جاتے بھی نہیں ہوئے ابھی، تو یہ سب؟” پلوشہ نے بھنویں چڑھاتے ہوئے کہا۔
    ”ہماری دوستی فیس بکپر ہوئی تھی، یونی تو بعد میں جوائن کی تھی۔”
    ”افففف! تم لوگ بھی کن چکروں میں پڑے ہوئے ہو۔ مجھے دیکھو فیس بک بس DP کور بدلنے کو آن لائن جاتی ہوں۔
    ”اچھا اب اپنی تعریفوں کے پل بعد میں باندھ لینا، ابھی بتائو کیا کرنا ہے؟
    ”ہممم! تم ٹینشن نہ لو اِس کو میں سمجھا دوں گی۔ آرام سے ہادی بھائی کے ساتھ شادی کی تیاری کرو ۔” پلوِشہ نے اسے تسلی دی، یمنیٰ کو بھی کچھ حوصلہ ہو گیا تھا۔ اسے بس یہ ڈر تھا کہ وقار کی وجہ سے وہ کسی مصیبت میں نہ پڑ جائے۔
    اب مسئلہ پلوِشہ کا تھا اور اسے پلوِشہ پر پورا یقین تھا۔
    ٹی وی کے سامنے بیٹھے میچ دیکھتے ہوئے وقفے وقفے سے فیس بک پر سکورز کی کمنٹری چل رہی تھی اور میچ دیکھنے سے زیادہ اس کا دھیان ان پوسٹس پر آنے والے کمنٹس پر تھا۔
    روہاب اسپتال سے آتے ہی ٹی وی آن کر کے بیٹھ گیا تھا۔ فین فالوئنگ کے چکر میں زیادہ پوسٹس ڈالنا اس کی عادت کے ساتھ مجبوری بھی تھی۔
    وقار کی ٹینشن اسے بالکل بھی نہیں تھی کیوں کہ وہ جانتا تھا اس کا یہ پیار کا بھوت دو دن میں ہوا ہو جائے گا۔
    ”آگئے جناب! کہاں غائب تھے صبح سے؟”
    ”جی بس فرینڈز کے ساتھ تھا۔”
    ”کس فرینڈ کے ساتھ اور وقار کی طبیعت اب کیسی ہے؟”تیمور صاحب اس کی پوسٹ پہلے ہی دیکھ چکے تھے۔
    ”جی ڈیڈ بس ایسے ہی طبیعت ذرا خراب تھی، اب بہتر ہے۔”
    روہاب اگر انہیں بتا دیتا کہ وقار نے پھر سوسائیڈ کرنے کی کوشش کی ہے تو تیمور صاحب کا لمبا چوڑا لیکچر سننا پڑنا تھا جسے سننے کے لیے وہ بالکل تیار نہ تھا۔
    صبح بھی جلدی جاگ گیا تھا۔ اِس لیے فوراً اٹھ کے کمرے میں چلا گیا اور خلافِ معمول جلدی سو گیا ۔
    ٭…٭…٭
    ”وقار کا روم کون سا ہے؟” پلوِشہ نے ریسیپشن پر موجود لڑکی سے پوچھا۔
    ”میم انہیں آئی سی یو سے پرائیویٹ روم میں شفٹ کر دیا گیا ہے، آپ سیکنڈ فلور پر روم نمبر5 میں چلی جائیں۔”
    ”اوکے تھینک یو۔”
    پلوِشہ جیسے ہی وقار کے کمرے میں پہنچی، وہ اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔
    ”آپ؟”
    ”جی میں؟ کیسے ہیں اب آپ؟”
    ”جی میں ٹھیک ہوں اب۔” وقار نے اچنبھے سے اسے دیکھ کر جواب دیا۔
    ”کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں آپ؟ ہاں؟ بہت شوق ہے آپ کو جان دینے کا، تو بارڈر پر چلے جائیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں آپ کی اِس چیپ حرکت سے میری کزن اِمپریس ہو جائے گی؟ بہت ہی فضول سوچ ہے آپ کی۔” پلوشہ نے تمہید باندھے بغیر اسے سنانا شروع کردیا۔ وقار اس کے بدلتے رویے پر حیران سا ہو کر اسے دیکھنے لگا۔
    ”لڑکیاں کبھی بھی آپ جیسے کم ہمت اور بزدِل لڑکوں سے محبت نہیں کرتیں اور نہ اِمپریس ہوتی ہیں، سمجھے آپ ؟” پلوشہ اب اسے آئینہ دکھا رہی تھی۔
    ”میں بس آپ کو یہی بتانے آئی ہوں کہ یمنیٰ آپ کو صرف دوست مانتی تھی، اِس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔ مہربانی فرما کہ ایسی فضول پوسٹس میں آئندہ اسے ٹیگ مت کیجیے گا۔”
    ”She`s gonna engaged tomorrow.”
    روہاب گنگ کھڑا پلوشہ کی اِک اِک بات سن رہا تھا۔ وقار بھی اسے چپ چاپ خاموشی سے کھڑے دیکھ کہ حیران ہو رہا تھا اور پلوِشہ کی باتوں سے اس کا دماغ بھی صاف ہو رہا تھا۔ اس کی ساری دیوداسی جیسے اڑن چھو ہو گئی تھی۔
    ”اِیکسکیوز می پلیز۔” پلوشہ جانے کے لیے مڑی تو روہاب کو دروازے پر کھڑا پا کر اِس سے کہا، لیکن وہ بت بنا اسے دیکھتا رہا۔
    ”کیا آپ یہاں سے ہٹنے کی زحمت کریں گے؟” روہاب دروازے کے بیچ و بیچ ہوش و حواس سے بے گانہ کھڑا تھا۔
    ”بہرے ہو؟ ہٹو سامنے سے۔” پلوِشہ نے ذرا چیخ کر کہا تو روہاب نے کسی روبوٹ کی طرح فوراًدروازہ چھوڑ دیا اور اسے جاتے ہوئے دیکھنے لگا ۔ اس کے نظروںسے اوجھل ہوتے ہی فوراً وقار کے سر پر آن پہنچا۔
    ”کون تھی یہ لڑکی؟” وقار نے بہت مان سے اسے دیکھا۔
    ”یہ یمنیٰ کی کزن ہے میرے ساتھ یونی میں پڑھتی ہے ۔”
    ”آج تک مجھے تو نہیں ملوایا؟” وہ پتا نہیں کیا معلوم کرنا چاہ رہا تھا۔
    ابھی چند سیکنڈ پہلے جو امید اس کے دل میں جاگی تھی کہ اس کا دوست اس کو حوصلہ دے گا وہ لمحہ بھر میں چکنا چور ہو گئی تھی، مگر وہ جواب دینے پر مجبور تھا۔
    ”عجیب انسان ہو، چلو خیر اِس کی آئی ڈی بتا مجھے۔ آج ہی ریکویسٹ سینڈ کرتا ہوں۔” روہاب نے جیب سے موبائل نکالتے ہوئے کہا۔
    ”کیوں! کیا ضرورت ہے اس لڑکی کو ریکویسٹ سینڈ کرنے کی؟”وقار نے گھور کر پوچھا۔
    ”کیوں؟ اسے ریکویسٹ سینڈ کرنے میں حرج ہی کیا ہے؟ایسی حوصلے والی لڑکی آج تک نہیں دیکھی یار۔” روحاب نے ستائشی انداز میں کہا۔
    ”پلوِشہ شاہ ! یمنیٰ کی میوچل میں ایڈ ہے۔” وقار نے بیڈ سے اُٹھتے ہوئے غضب ناک نگاہوں سے گھور کر کہا جسے روہاب نے جان بوجھ کر ان دیکھا کر دیا۔
    ”تھینک یو!”
    ”بہت ہی کمینے ہو، وہ میری اِتنی انسلٹ کر کے گئی ہے اور تمہیں ریکویسٹ سینڈ کرنے کی سوجھ رہی ہے۔” وقار نے آخر خود ہی خفگی کا اظہار کیا۔
    اِسی وقت زوہیب کمرے میں داخل ہوا ۔
    ”ایک گڈنیوز ہے۔”
    ”کون سی گڈنیوز؟”دونوں نے ایک ساتھ پوچھا ۔
    ”ڈاکٹر نے کہہ دیا ہے کہ اب تم بالکل ٹھیک ہو اور گھر جا سکتے ہو۔” وقار اور روہاب دونوں نے خاموش نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا۔
    ”کیا ہوا تم دونوں کو خوشی نہیں ہوئی؟”زوہیب نے حیرت سے پوچھا۔
    روہاب نے اسے ساری داستان مزے لے کر سنائی۔
    ”اوہ! یہ تو بہت برا ہوا۔” زوہیب نے وقار کے تاثرات پر غور کرتے ہوئے روہاب کی امید کے بر عکس جواب دیا۔
    ”ٹھیک ہوا جو بھی ہوا۔”
    ”تم لوگوں سے زیادہ مجھے اس لڑکی کی باتوں سے سمجھ آئی ہے۔ میں ہی غلط سمجھ رہا تھا۔ جب میری اپنی دوست ہی بے وفا ہے تو اِس سے کیا گِلہ۔”
    یہ کہنے کے ساتھ ہی وقار نے موبائل فون نکال کر ایف بی آن کی اور فرینڈلسٹ سے یمنیٰ کو ڈیلیٹ کر دیا۔
    ”آج سے یہ ٹاپِک بند۔” روہاب اور زوہیب نے خوشی سے اسے گلے لگا لیا۔
    ”شکر ہے پیار کا بھوت تو سر سے اُترا۔” روہاب نے ذرا اونچی آواز میں کہا۔
    دونوں کو اپنا دوست واپس ہنستا مسکراتا مل گیا تھا۔
    ”یہ سب پلوِشہ کا کمال تھا۔” روہاب دل میں صرف اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
    ٭…٭…٭

  • انوکھی محبت (انٹرنیٹ والا لو) — مہک شاہ

    انوکھی محبت (انٹرنیٹ والا لو) — مہک شاہ

    ہر طرف گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ سب لوگ نہ جانے کب کے سو چکے تھے۔ روہاب نے لیپ ٹاپ کی اسکرین سے نظریں ہٹا کے دیواری گھڑی کی طرف دیکھا جو صبح کے چار بجا رہی تھی۔ معمول کے مطابق اس کے سونے کا وقت ہوا چلا تھا۔ اِس کے ساتھ ہی اس نے ثانیہ ، وشمہ اور تمام آن لائن دوستوں کو گڈ نائٹ کہا اور سونے کے لیے آنکھیں موند کر لیٹ گیا۔
    ابھی اسے سوئے چند گھنٹے ہی ہوئے تھے کہ فون کی گھنٹی کی آواز پورے کمرے میں گونجنے لگی۔
    آنکھوں میں سرخ ڈورے اس کی شب بیداری کے گواہ تھے۔ اس نے غصے سی بنا دیکھے ہی کال کاٹ دی۔ چند سیکنڈ بھی نہ گزرے تھے کہ دوبارہ بیل بجنے لگی۔
    زوہیب کا نام اسکرین پر جگمگا رہا تھا۔ کسی اور کی کال ہوتی تو وہ فون بند کرکے سو جاتا، مگر یہ اس کے قریبی دوست کی کال تھی اِس لیے بلاتاخیر اٹینڈ کر لی تھی۔نہ جانے فون پر کیا کہا گیا تھا کہ روہاب جھٹ سے بیڈ سے اٹھ کر واش روم میں گھس گیا۔ جب وہ باہر آیا تو چہرے سے پانی کی بوندیں ٹپک رہی تھیں۔ اس نے سائیڈ ٹیبل سے کار کی چابی اٹھائی اور باہِر چل دیا۔
    اسپتال کے اندر گہری خاموشی کا راج تھا۔ یہ پہلی بار نہیں تھا آج وہ یہاں تیسری بار لایا گیا تھا.. اس کی سوشل میڈیا پر بنی تیسری گرل فرینڈ بھی اسے چھوڑ کر جا چکی تھی۔
    ہر بار کی طرح اس بار بھی وہ یہ صدمہ برداشت نہ کر پایا تھا۔ روہاب اور اس کے باقی دوستوں نے کئی بار اسے سمجھایا تھا کہ سوشل میڈیا کے تعلقات زیادہ دیر نہیں ٹکتے۔ پھر بھی وقار ہر بار سنجیدہ ہو جاتا تھا۔
    زوہیب کو اسپتال کے کاریڈور میں چکر لگاتا دیکھ روہاب بھی بھاگتا ہوا اس کے قریب آگیا۔
    ”کیا ہوا وقار کو؟”
    ”وہی جو ہر بارہوتا ہے۔” زوہیب نے ماتھے پر تیوری چڑھا کر جواب دیا۔
    ”بریک اپ! پھر سے؟” روہاب نے اس کے تاثرات کو سمجھتے ہوئے خود ہی اندازہ لگایا۔

    ”یار کیا کریں اس کا؟ ہرچار پانچ مہینے بعد اس کا یہی رولا ہوتا ہے۔”
    ”اس بار کون سا طریقہ آزمایا ہے جان دینے کا؟”روہاب نے استفسار کیا۔
    ”خود ہی چل کر دیکھ لے ۔” زوہیب نے اس کے شانوں پر ہاتھ رکھا اور دونوں وارڈ کی جانب چل پڑے۔
    وقار کے قریب ایک نرس کھڑی چیک اپ کے ساتھ اس سے سوال جواب کر رہی تھی۔
    وقار چہرے پر بے زاری سجائے اس کے سوالوں کے جواب دے رہا تھا۔
    ”اوکے! بٹ یو ہیو ٹو بی کئیرفل نیکسٹ ٹائم ۔ اس بار ڈوز کم تھی توجان بچ گئی۔ اگر ڈوز زیادہ ہوتی تو جان جا بھی سکتی تھی۔” یہ کہہ کر نرس باہر چلی گئی۔
    ”جینا بھی کون چاہتا ہے۔”وقار نے نرس کے جاتے ہی دیوداسی انداز میں کہا۔
    ”یار ایک لڑکی کی خاطر تو ہمیں بھول گیا۔ ایک بار بھی نہ سوچا تیرے گھر والوں اور تیسرے معصوم دوستوں کا کیا ہو گا؟ ”روہاب نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے معصومیت سے کہا۔
    ”چل بھول جا کوئی یمنیٰ بھی تھی تیری لائف میں ۔ دیکھنا اس سے اچھی لڑکی مل جائے گی اب۔” فیس بک تو بھری پڑی ہے خوب صورت لڑکیوں سے۔” زوہیب نے اسے تسلی دینے کو ایک نیا شوشہ چھوڑا۔
    ”شٹ اپ یار! اس بار میں سیریس ہوں۔ مجھے سچ میں یمنیٰ سے پیار ہو گیا ہے۔” وقار نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ وہ ہر بار یہی کہتا تھا۔
    روہاب کا سیب منہ تک لے جاتا ہاتھ وہیں تھم گیا۔
    ”اچھا ٹھیک ہے ابھی تم آرام کرو بعد میں اس موضوع پر بات کرتے دیکھتے ہیں۔”
    ”ویسے اس موقع پر سیلفی تو بنتی ہے نا؟ ”
    کہتے ساتھ ہی روہاب نے موبائل کا فرنٹ کیمرا کھولا اور تینوں نے سیلفیاں بنوائیں۔ وقار نے اس لیے سیلفی بنوائی تھی کہ یمنیٰ ان کے ”Matual” میں تھی اور وقار کی تصویر دیکھ کر اس سے رابطہ ضرور کرتی۔
    روہاب نے فوراً سیلفی کے ساتھ سٹیٹس اپڈیٹ کر دیا تھا۔
    ”می اینڈ زوہیب ود وقار ایٹ ہاسپٹل۔ ”
    ”with zohaib and waqar at hospital”
    ٭…٭…٭
    اُف اللہ! میں کیا کروں، میں کس سے کہوں؟ماما جانی کدھر ہیں آپ؟ اتنی زوروں کی بھوک لگی ہے۔”
    ”آآآ میرا بچہ! بس آ گیا کھانا۔” نازش نے خود نوالہ بنا کر اپنی نازوں پلی بیٹی پلوشہ کے منہ میں ڈالا۔
    ”ماما جانی بہت مزے کا بنا ہے۔” نازش نے پیار سے اپنی بیٹی کو ساتھ لگایا۔
    ”ماما! میں نے آج یونی میں بھی کچھ نہیں کھایا۔ آپ کی بھتیجی نے کچھ کھانے نہیں دیا۔” پلوشہ نے یمنیٰ کی طرف برا سا منہ بنا کر اسے گھورا۔ نازش نے ایک نظر یمنیٰ کو دیکھا جو گھر جانے کے بجائے سیدھا یہاں چلی آئی تھی اور مسلسل پلوشہ کی ڈراما بازی دیکھ کر کڑھ رہی تھی۔ پلوشہ نے مزے سے کھاتے ہوئے اسے آنکھ ماری۔ یمنیٰ نے برا سا منہ بنا کر سر جھکا لیا۔
    پلوشہ اٹھ کر واش بیسن پر ہاتھ دھونے چلی گئی۔
    ”توکب آ رہے ہیں ہادی لوگ؟” پلوشہ کے جانے کے بعد نازش نے یمنیٰ سے پوچھا۔
    ”جی پھپھو کل آنا ہے۔”
    پلوشہ نے سیڑھیاں چڑھتے یمنیٰ کو اشارہ کیا۔ یمنیٰ بیگ اور موبائل اٹھائے اس کے پیچھے چلی آئی۔
    ”ہاں جی اب بتائیں کیوں صبح سے سڑے ہوئے بینگن جیسی شکل بنا رکھی ہے محترمہ نے؟”
    ”مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔” یمنیٰ بے چارگی سے بولی۔
    ”کیسی مدد؟”
    ”میں ہادی سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔”
    ”وہاااااااٹ؟” پلوشہ جھٹکے سے اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
    ”لیکن کیوں؟ ہادی میں کیا خرابی ہے؟ تمہارا فرسٹ کزن ہے۔ اسمارٹ ہے، ہینڈسم ہے، اچھا بزنس ہے اس کا دبئی میں اور کیا چاہیے؟ تم بس جلدی سے شادی کروائو تو میرا نمبر آئے گا نا۔ میں نے تو سوچ بھی لیا ہے میرا پرنس چارمنگ کیسا ہوگا۔”
    ”بکواس نہیں کرو۔ میں مذاق کے موڈ میں بالکل نہیں ہوں۔” پلوشہ اب خاموشی سے اس کے چہرے کے بگڑے تاثرات کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش میں لگی تھی۔
    ”اچھا ٹھیک ہے بتا کیا مسئلہ ہے؟” یمنیٰ نے اپنا موبائل اٹھا کر وقار کی اسپتال والی تصویر دکھائی۔
    ”ارے! یہ تو وہی چمپو ہے نا جو روز کینٹین میں ہمارے ساتھ والی ٹیبل پر بیٹھ کر گھورتا رہتا تھا۔”
    ”ہاں! وہی ہے اور ہم ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔ اب جب میں نے اسے کہا کہ میری شادی ہو رہی ہے اور اب بات نہیں کروں گی تو اس نے سوسائیڈ اٹیمپٹ کرنے کی کوشش کی اور اب اسپتال میں ہے۔” اس نے افسردہ سا منہ بنا کر بتایا۔
    پلوشہ تو شاک کے مارے گنگ رہ گئی۔
    ”بولو بھی کچھ۔” یمنیٰ نے اسے جھنجھوڑا۔
    ”اب کیا کر سکتے ہیں۔” پلوشہ کو اپنی آواز دور سے آتی سنائی دی۔
    ”تم اس سے پیار کرتی ہو؟” پلوشہ نے رازداری سے اس کے قریب آکر پوچھا۔
    ”پیار کا تو پتا نہیں لیکن اس کے لیے برا لگ رہا ہے۔ پانچ ماہ سے ہم دوست ہیں۔”
    ”ہیں؟ ابھی تو کہہ رہی تھی پیار کرتی ہو۔ یہ کیسا پیار ہے؟اور ایک بات بتائو، 5ماہ تو یونی جاتے بھی نہیں ہوئے ابھی، تو یہ سب؟” پلوشہ نے بھنویں چڑھاتے ہوئے کہا۔
    ”ہماری دوستی فیس بکپر ہوئی تھی، یونی تو بعد میں جوائن کی تھی۔”
    ”افففف! تم لوگ بھی کن چکروں میں پڑے ہوئے ہو۔ مجھے دیکھو فیس بک بس DP کور بدلنے کو آن لائن جاتی ہوں۔
    ”اچھا اب اپنی تعریفوں کے پل بعد میں باندھ لینا، ابھی بتائو کیا کرنا ہے؟
    ”ہممم! تم ٹینشن نہ لو اِس کو میں سمجھا دوں گی۔ آرام سے ہادی بھائی کے ساتھ شادی کی تیاری کرو ۔” پلوِشہ نے اسے تسلی دی، یمنیٰ کو بھی کچھ حوصلہ ہو گیا تھا۔ اسے بس یہ ڈر تھا کہ وقار کی وجہ سے وہ کسی مصیبت میں نہ پڑ جائے۔
    اب مسئلہ پلوِشہ کا تھا اور اسے پلوِشہ پر پورا یقین تھا۔
    ٹی وی کے سامنے بیٹھے میچ دیکھتے ہوئے وقفے وقفے سے فیس بک پر سکورز کی کمنٹری چل رہی تھی اور میچ دیکھنے سے زیادہ اس کا دھیان ان پوسٹس پر آنے والے کمنٹس پر تھا۔
    روہاب اسپتال سے آتے ہی ٹی وی آن کر کے بیٹھ گیا تھا۔ فین فالوئنگ کے چکر میں زیادہ پوسٹس ڈالنا اس کی عادت کے ساتھ مجبوری بھی تھی۔
    وقار کی ٹینشن اسے بالکل بھی نہیں تھی کیوں کہ وہ جانتا تھا اس کا یہ پیار کا بھوت دو دن میں ہوا ہو جائے گا۔
    ”آگئے جناب! کہاں غائب تھے صبح سے؟”
    ”جی بس فرینڈز کے ساتھ تھا۔”
    ”کس فرینڈ کے ساتھ اور وقار کی طبیعت اب کیسی ہے؟”تیمور صاحب اس کی پوسٹ پہلے ہی دیکھ چکے تھے۔
    ”جی ڈیڈ بس ایسے ہی طبیعت ذرا خراب تھی، اب بہتر ہے۔”
    روہاب اگر انہیں بتا دیتا کہ وقار نے پھر سوسائیڈ کرنے کی کوشش کی ہے تو تیمور صاحب کا لمبا چوڑا لیکچر سننا پڑنا تھا جسے سننے کے لیے وہ بالکل تیار نہ تھا۔
    صبح بھی جلدی جاگ گیا تھا۔ اِس لیے فوراً اٹھ کے کمرے میں چلا گیا اور خلافِ معمول جلدی سو گیا ۔
    ٭…٭…٭
    ”وقار کا روم کون سا ہے؟” پلوِشہ نے ریسیپشن پر موجود لڑکی سے پوچھا۔
    ”میم انہیں آئی سی یو سے پرائیویٹ روم میں شفٹ کر دیا گیا ہے، آپ سیکنڈ فلور پر روم نمبر5 میں چلی جائیں۔”
    ”اوکے تھینک یو۔”
    پلوِشہ جیسے ہی وقار کے کمرے میں پہنچی، وہ اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔
    ”آپ؟”
    ”جی میں؟ کیسے ہیں اب آپ؟”
    ”جی میں ٹھیک ہوں اب۔” وقار نے اچنبھے سے اسے دیکھ کر جواب دیا۔
    ”کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں آپ؟ ہاں؟ بہت شوق ہے آپ کو جان دینے کا، تو بارڈر پر چلے جائیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں آپ کی اِس چیپ حرکت سے میری کزن اِمپریس ہو جائے گی؟ بہت ہی فضول سوچ ہے آپ کی۔” پلوشہ نے تمہید باندھے بغیر اسے سنانا شروع کردیا۔ وقار اس کے بدلتے رویے پر حیران سا ہو کر اسے دیکھنے لگا۔
    ”لڑکیاں کبھی بھی آپ جیسے کم ہمت اور بزدِل لڑکوں سے محبت نہیں کرتیں اور نہ اِمپریس ہوتی ہیں، سمجھے آپ ؟” پلوشہ اب اسے آئینہ دکھا رہی تھی۔
    ”میں بس آپ کو یہی بتانے آئی ہوں کہ یمنیٰ آپ کو صرف دوست مانتی تھی، اِس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔ مہربانی فرما کہ ایسی فضول پوسٹس میں آئندہ اسے ٹیگ مت کیجیے گا۔”
    ”She`s gonna engaged tomorrow.”
    روہاب گنگ کھڑا پلوشہ کی اِک اِک بات سن رہا تھا۔ وقار بھی اسے چپ چاپ خاموشی سے کھڑے دیکھ کہ حیران ہو رہا تھا اور پلوِشہ کی باتوں سے اس کا دماغ بھی صاف ہو رہا تھا۔ اس کی ساری دیوداسی جیسے اڑن چھو ہو گئی تھی۔
    ”اِیکسکیوز می پلیز۔” پلوشہ جانے کے لیے مڑی تو روہاب کو دروازے پر کھڑا پا کر اِس سے کہا، لیکن وہ بت بنا اسے دیکھتا رہا۔
    ”کیا آپ یہاں سے ہٹنے کی زحمت کریں گے؟” روہاب دروازے کے بیچ و بیچ ہوش و حواس سے بے گانہ کھڑا تھا۔
    ”بہرے ہو؟ ہٹو سامنے سے۔” پلوِشہ نے ذرا چیخ کر کہا تو روہاب نے کسی روبوٹ کی طرح فوراًدروازہ چھوڑ دیا اور اسے جاتے ہوئے دیکھنے لگا ۔ اس کے نظروںسے اوجھل ہوتے ہی فوراً وقار کے سر پر آن پہنچا۔
    ”کون تھی یہ لڑکی؟” وقار نے بہت مان سے اسے دیکھا۔
    ”یہ یمنیٰ کی کزن ہے میرے ساتھ یونی میں پڑھتی ہے ۔”
    ”آج تک مجھے تو نہیں ملوایا؟” وہ پتا نہیں کیا معلوم کرنا چاہ رہا تھا۔
    ابھی چند سیکنڈ پہلے جو امید اس کے دل میں جاگی تھی کہ اس کا دوست اس کو حوصلہ دے گا وہ لمحہ بھر میں چکنا چور ہو گئی تھی، مگر وہ جواب دینے پر مجبور تھا۔
    ”عجیب انسان ہو، چلو خیر اِس کی آئی ڈی بتا مجھے۔ آج ہی ریکویسٹ سینڈ کرتا ہوں۔” روہاب نے جیب سے موبائل نکالتے ہوئے کہا۔
    ”کیوں! کیا ضرورت ہے اس لڑکی کو ریکویسٹ سینڈ کرنے کی؟”وقار نے گھور کر پوچھا۔
    ”کیوں؟ اسے ریکویسٹ سینڈ کرنے میں حرج ہی کیا ہے؟ایسی حوصلے والی لڑکی آج تک نہیں دیکھی یار۔” روحاب نے ستائشی انداز میں کہا۔
    ”پلوِشہ شاہ ! یمنیٰ کی میوچل میں ایڈ ہے۔” وقار نے بیڈ سے اُٹھتے ہوئے غضب ناک نگاہوں سے گھور کر کہا جسے روہاب نے جان بوجھ کر ان دیکھا کر دیا۔
    ”تھینک یو!”
    ”بہت ہی کمینے ہو، وہ میری اِتنی انسلٹ کر کے گئی ہے اور تمہیں ریکویسٹ سینڈ کرنے کی سوجھ رہی ہے۔” وقار نے آخر خود ہی خفگی کا اظہار کیا۔
    اِسی وقت زوہیب کمرے میں داخل ہوا ۔
    ”ایک گڈنیوز ہے۔”
    ”کون سی گڈنیوز؟”دونوں نے ایک ساتھ پوچھا ۔
    ”ڈاکٹر نے کہہ دیا ہے کہ اب تم بالکل ٹھیک ہو اور گھر جا سکتے ہو۔” وقار اور روہاب دونوں نے خاموش نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا۔
    ”کیا ہوا تم دونوں کو خوشی نہیں ہوئی؟”زوہیب نے حیرت سے پوچھا۔
    روہاب نے اسے ساری داستان مزے لے کر سنائی۔
    ”اوہ! یہ تو بہت برا ہوا۔” زوہیب نے وقار کے تاثرات پر غور کرتے ہوئے روہاب کی امید کے بر عکس جواب دیا۔
    ”ٹھیک ہوا جو بھی ہوا۔”
    ”تم لوگوں سے زیادہ مجھے اس لڑکی کی باتوں سے سمجھ آئی ہے۔ میں ہی غلط سمجھ رہا تھا۔ جب میری اپنی دوست ہی بے وفا ہے تو اِس سے کیا گِلہ۔”
    یہ کہنے کے ساتھ ہی وقار نے موبائل فون نکال کر ایف بی آن کی اور فرینڈلسٹ سے یمنیٰ کو ڈیلیٹ کر دیا۔
    ”آج سے یہ ٹاپِک بند۔” روہاب اور زوہیب نے خوشی سے اسے گلے لگا لیا۔
    ”شکر ہے پیار کا بھوت تو سر سے اُترا۔” روہاب نے ذرا اونچی آواز میں کہا۔
    دونوں کو اپنا دوست واپس ہنستا مسکراتا مل گیا تھا۔
    ”یہ سب پلوِشہ کا کمال تھا۔” روہاب دل میں صرف اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
    ٭…٭…٭

  • ادھوری کہانیاں — کوثر ناز

    ادھوری کہانیاں — کوثر ناز

    دل فگار الفاظ لکھتے ہوئے میری انگلیاں کبھی نہیں تھکیں۔ میری نگاہ و دل کی گہرائی و گیرائی اپنے مکمل عروج پر تھی۔ درد لکھنے والی میںبے ساختہ قہقہے لگاتی، اپنے ارد گرد مسکراہٹ بکھیرنے کے فن میں ماہر تھی۔
    لوگ کبھی سمجھ ہی نہیں سکے کہ حقیقت کیا ہے، وہ جو درد لکھتی ہے یا وہ جو قہقہے بکھیرتی ہے اور یہی الجھی ہوئی ذات تو کہانی کار کی ہوتی ہے۔ وہ بے نام الجھنوں کو ایک اچھی تحریر لکھ کر بھول جانا چاہتا ہے۔
    میں ہمیشہ کی طرح ایک عام ڈگر پر چل رہی تھی۔ کئی کہانیوں میں گھری میں ان دنوں کسی اور زاویے پر سوچتی ہی نہ تھی۔ نہ شوشل میڈیا پر دھیان تھا نہ ہی دوسری سرگرمیوں میں شامل ہوتی تھی۔ اسی دوران مجھے فیس بک پر کسی اجنبی لڑکی کا پیغام موصول ہوا۔ لازمی جواب دینے کی گزارش تھی۔ اس پیغام میں ایسا کچھ ضرور تھا کہ میں اسے نظر انداز نہیں کرسکی۔ جواب ملتے ہی اس نے اپنی درخواست میرے گوش گزار کی اور میں سوچ میں ڈوب گئی۔ اتنی ساری ادھوری کہانیاں تو میری فائلز اور لیپ ٹاپ میں موجود ہیں، میں ایک اور تحریر کا بار نہیں اٹھانا چاہتی تھی لیکن وہ بضد تھی کہ میں بس اس کی کہانی لکھوں، اس کے اصرار پر میںنے اس کی کہانی سننے کے لیے رضا مندی ظاہر کر دی اور اس نے مجھے وہی کہانی سنائی جو فیس بک پر یقینا ہر تیسری نوعمر لڑکی کی کہا نی ہے۔
    کہتی رہی کہ ایسا لکھیے گا کہ پڑھنے والا دردمحسوس کرے، لفظوں میں وہ قیامت خیزی لائیے گا کہ دل فگار ہوجائیں۔ وہ چاہتی تھی کہ میں وہ درد لکھوں جو وہ محسوس کرتی ہے۔ وہ سمجھتی تھی کہ جو اس پر بیتا ہے وہ اس دنیا سے ہٹ کر ہے اور شاید وہ ٹھیک ہی سمجھتی تھی کیوں کہ ہر کردار اپنی کہانی کا مرکزی کردار ہی ہوتا ہے۔ پھر چاہے اس کی کتاب زندگی میں اس سے بہتر درجے کے کتنے ہی لوگ کیوں نہ موجود ہوں۔
    اس نے مجھے بتایا کہ سالِ نو کے پہلے مہینے کا ذکر ہے جب وہ زمین زاد مجھے فلک زاد بن کر ملا اور ملتے ہی میری آنکھوں کو اپنے خواب دان کرگیا۔کہتی تھی کہ وہ سب سے جدا تھا، نہ بولتا تھا ، نہ ہنستا تھا اور نہ ہی بات کرتا تھا ۔ میرے فیس بک گروپ میں موجود تھا اور سب سے بالکل مختلف تھا۔ میں نے اس کی جانب کبھی توجہ دی ہی نہ تھی، وہ کافی عرصے سے میرے دوستوں میں بھی شامل تھا۔ پھر ایک روز میری بیماری کے اسٹیٹس پر اس نے سوالیہ نشان بھیجا تو جواباً ”کچھ نہیں” کہہ کر میں آگے بڑھ گئی اور وہ ہمیشہ کی طرح خاموش ہوگیا لیکن اس بار اس کا خاموش ہونا مجھے محسوس ہوا تو میں سلام دعا کرنے انباکس میں پہنچ گئی۔
    پہلی بار کے بعد پھر کئی بار اس سے بات کی۔ اس سے بات کرکے ہمیشہ لگتا کہ وہ تن ِ تنہا تمام عالم کا غم اٹھا رہا ہے۔ وہ اکیلا ہے جو غموں کے جھرمٹ میں سر گھٹنوں میں دیے بیٹھا کسی مسیحا کا منتظر ہے۔ خاموش شخص اپنے اندر لاتعداد اسرار رکھتا ہے، وہ بھی ایسا ہی تھا لیکن وہ جب مجھ سے بات کرتا تو ہنس دیتا تھا اور مجھے اس کی ہنسی بھلی لگتی تھی ۔ اس ایک بار کی گفتگو کے بعد ہماری بات چیت کے درمیان کوئی لمبے دنوں کا وقفہ نہیں آیا ۔ ہم مسلسل رابطے میں رہتے تھے۔ عام سی ساری باتیں ہوتیں لیکن ہم انہی عام سی باتوں پر اپنا سارا وقت صرف کرنے لگے۔ دنیا جہاں کا کوئی موضوع نہ چھوڑتے۔ ہم مزید مانوس ہوئے تو مجھے علم ہوا کہ وہ اس بھری دنیا میں بالکل تنہا ہے۔ اس کے والدین اس کے بچپن میں ہی چل بسے تھے۔ وہ کہتا تھا کہ
    ”مایا میں نے کبھی بچپن نہیں دیکھا۔” اور صحیح کہتا تھا جس کے پاس لاڈ اٹھانے والے ہی نہ ہوں تو وہ زندگی کا حسین چہرہ کیسے دیکھ سکتا ہے۔

    وہ عجیب و غریب باتیں کیا کرتا۔ کہتا کہ ” آپ کو پتا ہے یہ لوگ جو زندگی سے ہار مان جاتے ہیں نا دراصل یہ ان کی لفظی ہار ہوتی ہے ورنہ تو زندگی کے لیے آخری سانس تک لڑتے رہتے ہیں، ہاں خود کو دھوکہ دیتے ہیں کہ ہار مان لی ہے تاکہ زندگی اپنے امتحان آسان کردے ۔” اس کے دکھ سن کر مجھ پر عجیب سی کیفیت طاری ہوجاتی، مجھے خواہش ہوتی کہ اس کے غم چن لیے جائیں لیکن میں چپ چاپ اس کی باتیں سنے جاتی۔ پھر عجیب واقعہ ہوا جب میں ایک روز یونیورسٹی سے لوٹی تو اس کے کئی پیغامات میرے منتظر تھے۔
    ”کیا ہم بات کرسکتے ہیں پلیز؟” اس کا پیغام دیکھ کر میں نے فوراً سے پیشتر جواب دیا تھا۔
    ”کیا ہوا؟”’ اور وہ میرا ہی منتظر تھا کہنے لگا ۔
    ”بہت گھبراہٹ ہورہی ہے، کسی طور سکون نہیں ہے، کیا ہم کچھ دیر بات کرسکتے ہیں؟ بہت سے لوگوں کو میسج کیا لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔” میں اس کی مسیحائی کے لیے تیار بیٹھی فوراً اس کی سننے لگی۔ چند دن بعد پھر اسی وقت پر اس کا وہی میسج تھا اور میں اسے پھر مختلف حیلے بہانوں سے بہلانے لگی۔ وہ کہتا تھا کہ ”مایا تم سے بات کرکے میں سکون کی کس منزل پر پہنچ جاتا ہوں میں کبھی بیان نہیں کرسکتا ۔” ہم بن کہے ایک دوسرے کے ہوگئے تھے۔ ہمارا دل ایک ساتھ دھڑکنے لگا تھا، کوئی معنی خیز سی بات ہماری سانسوں میں گرمی بھر دیا کرتی تھی۔ زندگی کب کیا رخ اختیار کرلیتی ہے، کسی کو بھنک تک نہیں پڑتی۔ ہم اب صبح سے شام اور رات سے صبح صادق تک بات کرتے کرتے نہ جانے کس راہ پر نکل آئے تھے کہ اب ایک دوسرے کے بغیر جینا تو دور سانس تک لینا محال لگنے لگا تھا۔ لیکن بات اب تک صرف اپنی ذات کے درمیان تھی ، ہم نے ابھی ایک دوسرے کو حال دل نہیں بتایا تھا، ہم منتظر تھے کہ اقرار کا کوئی لمحہ ہمارے ہاتھ لگے اور پھر ایک دن فیضان نے پوچھ ہی لیا۔
    ”اگر آپ کسی کو پسند کرتے ہوں تو کیا اسے بتا دینا چاہیے؟” اور میں نے دھڑکتے دل کے ساتھ کہا کہ ضرور بتانا چاہیے اور وہ میرے سر ہوگیا۔ گزرتے وقت کے ساتھ میں اس کے غمو ں کا مداوا کرتے کرتے اس کی مسیحا بن گئی اور وہ عشق کے مدار میں چکر کاٹنے لگا تھا۔ مجھے نا خدا ماننے لگا تھا۔
    کہتا کہ اگر مجھے کسی انسان کو سجدے کی اجازت ہوتی تو وہ میں آپ کو کرتا۔ آپ میرا ایمان بن گئی ہیں۔ کوئی ایک لمحہ آپ کے دھیان سے خالی نہیں ہوتا۔ کوئی پل آپ کی ذات کے خیال سے باہر کا نہیں ہوتا۔ آپ میرا کعبہ میرا قبلہ بن گئی ہیں۔ میں ڈر جاتی ، اس کی شدتیں عروج پر ہوتیں۔ مجھ پر گناہ گار ہونے کا خوف مسلط ہوجاتا، لیکن اس کے لیے میرے عشق کی گہرائی نہ ختم ہوتی۔ یہ سچ تھا کہ میں خود سے چار سال چھوٹے شخص کے عشق میں خود کو بھولی ہوئی تھی اور وہ… وہ تو پاگل بن بیٹھا تھا، میرے علاوہ اسے کچھ سوجھتا ہی نہ تھا، ہمیشہ ایک ہی نام اس کی زبان پر ہوتا اور وہ نام میرا ہوتا۔ کہتا کہ
    ”یقین کرو۔ میرا سارا سکون تم سے وابستہ ہے۔ تمہارا ہاتھ تھامے رکھوں، تمہارے ساتھ ہونے کے احساس کو محسوس کرتا رہوں تو اس کے آگے ساری دنیا ہیچ ہے۔” وہ اظہارِمحبت میں کنجوسی کرتا لیکن باقی جذبات وہ بہت دھڑلے سے بتایا کرتا۔ ایک دن کسی بات پر کہنے لگا۔
    ”مجھے اپنے شناختی کارڈ کی تصویر لے کر بھیجیں لیکن اپنے چہرے کو کسی چیز سے ڈھانپ دینا، مجھے وہ نہیں دیکھنا کیوں کہ مجھے آپ ہر صورت پسند ہیں۔” لیکن ایسا بھی کبھی ہوا ہے کہ جہاں محبت اپنی تمام تر شدتوں کے ساتھ پنپ رہی ہو وہاں کوئی پردہ، کوئی جھجک درمیان آجائے۔ میں نے اس کی بات کو معتبر جان کر اسے کہا کہ تصویر تو میں تمھیں ویسے ہی دکھا دوں گی، وہ بہت حیران ہوا۔
    ”کیا آپ مجھے واقعی تصویر بھیجیںگی؟”
    ”ہاں !کیوں نہیں۔”
    ”لیکن میں نا محرم ہوں۔”
    ”’تو کیا نہیں بھیجنی چاہیے؟” میں نے سوال کیا۔
    جواباً وہ خاموش رہا تو میں نے اسکارف پہن کر ایک عدد تصویر لی اور اسے بھیج دی۔ وہ تادیر مبہوت سا اسے دیکھتا رہا، اس کی محبت عروج کی جانب بڑھتی رہی اور میں اس کی محبت کی شدت پر آسودہ سی مسکراتی رہی۔
    وہ میرے ساتھ پر نازاں تھا۔ میرے ہونے کا مطلب پورا ہوگیا تھا۔
    ہم خوش تھے کہ ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ میسر ہے۔ راتوں کو دیر تک فون پر بات کرتے۔ خدا کا شکر ادا کرتے۔ ایک دوسرے کے بغیر کھانا نہ کھاتے، میں اسے جب تک اطلاع نہ دیتی وہ بھوکا رہتا۔ اکثر مذاقاً کہتا کہ ، آپ مجھے بھوکا مار دیں گی۔ میری محبت چاہے لاکھ شدت رکھتی ہو لیکن اُس کی محبت مکمل دین، ایمان والی تھی۔ میں اسے بات کے دوران کہتی ‘ ‘رکو” اور وہ صبح سے شام تک میسنجر کھولے میرا منتظر رہتا۔ میں خدا حافظ کیے بغیر سو جاتی تو وہ صبح صادق تک میرے پیغام کا انتظار کرتا رہتا اور پھر لکھتا کہ:
    ”بہت نیند آئی ہے ، اب سوتا ہوں۔”
    دن اپنی برق رفتاری کے ساتھ گزرتے رہے کہ ایک روز کسی نے میرے گروپ میں پوسٹ لگائی کہ ” میں اور مایا دوست ہیں۔” اور اس کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہوگیا۔ وہ مجھے لے کر اسی قدر جذباتی تھا۔ کہتا کہ:
    ”آپ کو خدا کا واسطہ ہے ، آپ کو میرے علاوہ کوئی اور نہ دیکھے، کوئی نہ بات کرے، آپ میرا تمام تر ایمان ہیں، میں آپ کے گرد حصار رکھنا چاہتا ہوں، پلیز میری مقدس محبت کو عام نہ کیجیے۔ ایسے میرا ایمان مجروح ہوتا ہے، میری محبت کی توہین ہوتی ہے۔” وہ روتا، گڑگڑاتا اور میں اس کی محبت میں ہر اس شخص کو گروپ سے بلاک کردیتی جس جس کی طرف وہ اشارہ کرتا۔

  • آپا — فاطمہ عبدالخالق

    آپا — فاطمہ عبدالخالق

    بچپن سے پچپن تک میں اسی شش و پنج کا شکار رہا کہ وہ میری آپا ہیں یا میں ان کا بھیا ہوں؟ کیوں کہ یوں تو آپا مجھ سے عمر میں چھوٹی تھیں، لیکن ا ن کی جسامت دیکھنے والوں کو حیرت میں مبتلا ضرور کر دیتی تھی۔ آپا صرف جسامت کے لحاظ سے ہی نہیں بلکہ عقل کے لحاظ سے بھی کافی موٹی تھیں۔ یہ بھی الگ قصہ ہے کہ ان کی ساری کوتاہیوں کا نزلہ مجھی پر گرتا تھا۔پہلے پہل تو میں آپا کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا، لیکن جب میری ناؤ کنارے پر پہنچنے کے بجائے بیچ منجدھار میں غوطہ کھانے لگی، تو مجھے شدت سے اپنی بزدلی پر غصہ آیا اور اماں مرحومہ کی یاد نے شدت سے حملہ کیا کیوں کہ ایک اماں ہی تھیں جو آپا کو کسی نادیدہ ریموٹ سے کنٹرول کرنا جانتی تھیں۔ اماں کے علاوہ آپا اپنی زبان درازی کے باعث پورے خاندان والوں پر بھاری تھیں۔
    آپا اگر چھے بچوں کی اماں تھیں، تو میں بھی چار بچوں کا باپ تھا۔ یہ الگ داستان ہے کہ اتنا بڑا ہونے کے باوجود ان کے سامنے میری گھگی بندھ جاتی جس کا میری بیگم صائمہ منیر کو از حد قلق ہے کیوں کہ وہ اکثرہی آپا کی زیادتیوں کا شکار بنتی آئی ہے۔سیانے کہتے ہیں کہ جوان اولاد کا باپ طاقت ور ہوتا ہے، مگر میں محمد خضر ولد حیات علی ایسا مرد ہوں جو اپنی بیوی کے سامنے شیر اور آپا کے سامنا گیدڑ کا رول بہ خوبی نبھاتا ہے۔ میری کہانی پڑھتے ہوئے یقیناآپ کو مجھ پر بے تحاشا غصہ آ رہا ہو گا اور میری بیوی کے لیے آپ کے دل میں رحم کے لڈو پھوٹ رہے ہوں گے، حالاں کہ اگر انصاف کی عینک سے دیکھا جائے تو آپ کو واضح طور پر نظر آئے گا کہ بیگم سے زیادہ میری حالت قابلِ رحم ہے کیوں کہ میں بچپن سے لے کر اب تک آپا کے زیر عتاب ہی رہا ہوں۔ ایک سوچ یقینا آپ کو مسلسل بے چین کر رہی ہو گی کہ آپا تو اب بال بچوں والی ہیں اور اپنے گھر جا چکی ہوں گی، توپھر میں کیوں دکھڑے رو رہا ہوں تو پیارے قارئین! آپ کی اطلاع کے لیے عرض کرتا چلوں کہ ہماری آپا بیاہ کر کبھی رخصت ہی نہیں ہوئیں بلکہ وہ تو ہمارے دلہا بھیا کو رخصت کروا لائی تھیں۔ یہاں تک تو زندگی کی گاڑی ٹھیک ٹھاک دوڑ رہی تھی، مگر جونہی کچھ سالوں بعد اماں محترمہ کو ہمارے سر پر سہرا سجانے کا شوق طاری ہوا، تو زندگی کی چلتی ہوئی اس گاڑی کو ایک زوردار بریک لگا اور اس بریک کے لگتے ہی ہماری آپا کے بھی کان کھڑے ہو گئے۔ ہمارے رشتے کی مہم شروع کیا ہوئی کہ آپا کی تو پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں آگیا۔ رنگ برنگے کھانوں کی شوقین آپا گھر گھر جا کر کھانے کھاتیں اور جب پیٹ اچھی طرح بھر جاتا، تو ایک لمبا سا ڈکار مارتے ہوئے کھانے میں نادیدہ قسم کے نقص نکال کر واپس آ جاتیں۔ لڑکی والے جو آپا کو رغبت سے کھانا کھاتا دیکھتے دل میں آس امید جگا لیتے، لیکن آپا کے نقص نکالنے پر ان کی ساری امیدوں پر پانی پھر جاتا اور دل الگ کھٹا ہوتا اور یقینا دل ہی دل میں آپا کے خوب لتے لیے جاتے ہوں گے۔ اماں مرحومہ نے جب آپا کا یہ حال دیکھا، تو چپکے سے اپنے چھوٹے بھائی کے گھر میرا رشتہ پکا کر آئیں۔ اس بات کی خبر جونہی آپا کو ہوئی، انہوں نے سارا گھر سر پر اٹھا لیا کیوں کہ انہیں بہ خوبی علم تھا کہ میں صائمہ کو پسند کرتا ہوں اور ان کا نظریہ تھا کہ صائمہ آتے ہی میرے کان بھرنا شروع کر دے گی اور یوں میں اماں سے جدائی کا مطالبہ کروں گا۔ یہی وجہ تھی کہ اس دن محلے والے بھی آپا کی زبان کے جواہر سے خوب لطف اندوز ہوئے۔ بالآخر اماں مرحومہ نے بھی آپا کو کسی نہ کسی طرح قابو کر ہی لیا۔ اب واللہ علم اماں نے آپا کو کیا کہا تھا کہ ایک دم سے پرسکون ہوگئیں۔ ابھی بات پکی کیے چھے ماہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ اماں کو میرے بیاہ کی رٹ لگ گئی۔ آپا بھی نہ جانے کیسے اماں کی ہاں میں ہاں ملانے لگیں۔ خیر جو بھی تھا، میرے سر پر سہرا سج گیا اور صائمہ منیر میری دلہن بن کر روشنی بکھیرنے آ گئی۔ چوں کہ وہ آپا کی مخالفت کے باوجود بیاہ کے اس گھر میں آئی تھیں اس لیے آپا کو صائمہ منیر کی خوشی ایک آنکھ نہ بھاتی اور جب کبھی بھی وہ صائمہ منیر کے لبوں پر مسکراہٹ دیکھتیں، تو کوئی نہ کوئی زہریلا جملہ اس کے کانوں میں انڈیلنا اپنا اوّلین فرض سمجھتیں اور کڑوی گولی پلانے کے بعد ٹی وی پر چلنے والے پسندیدہ ڈرامے کی جانب متوجہ ہو جاتیں۔ یہ بھی ایک مزے دار بات ہے کہ صبح نو سے رات بارہ بجے تک مسلسل اسٹار پلس پر چلنے والے تمام ڈرامے ان کے پسندیدہ تھے۔ ادھر کبھی غلطی سے کیبل بند ہوئی نہیں کہ ادھر آپا کیبل والے کی شان میں ”شان دار قصیدہ” گوئی شروع کردیتیں۔ دُلہا بھائی کی پچاس ہزار ماہوار تنخواہ ہونے کے باوجود مہینے کی چوبیس یا پچیس تاریخ کو آپا کے پاس پیسے ختم ہو جاتے تھے۔ حالاں کہ گھر کے سارے خرچے اماں میری تنخواہ اور زمینوں سے آنے والی آمدن سے پورے کرتی تھیں۔ دراصل آپا کو کھانے پینے، دوسروں کو کھلانے پلانے اور بلاوجہ کی دعوتوں کا بہت شوق تھا جس کی بنا پر ان کے لیے پچاس ہزار بھی کم تھے۔ اماں بھی آپا کی اس عادت سے چشم پوشی اختیار کیے رکھتی تھیں کہ اُنہیںکچھ کہنا گویا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف تھا۔اماں کی اسی چشم پوشی کی بدولت آپا کی یہ عادت خاصی پختہ ہو گئی کہ انہوں نے اماں کے دار فانی سے رخصت ہو نے کے بعد آہستہ آہستہ میری تنخواہ پر نظریں جمانا شروع کر دیں۔حالاں کہ میں خود بال بچوں والا ہوں، لیکن آپا کو اب یاد آیا کہ میں تو ان کا بڑا بھائی ہوں۔ ہمارا گھر صحیح معنوں میں جنگ کا میدان تب بنا جب میں نے اماں کے انتقال کے بعد پہلی تنخواہ اپنی بیگم صائمہ منیر کو پکڑائی۔آپا کا کہنا تھا کہ میری تنخواہ پر ان کا حق ہے اور میری بیگم صائمہ منیر کا نقطۂ نظر تھا کہ اب اماں کے گزر جانے کے بعد یہ اس کا حق بنتا ہے۔ آپ اسے میری شرافت کہہ لیں یا بزدلی کا نام دے لیں، لیکن سچ تو یہ تھا کہ میں دو خواتین کے درمیان چکی کے دو پاٹوں کی طرح پس رہا تھا۔ جب دونوں خواتین میں کوئی ہار ماننے کو تیار نہ ہوا، تو آپا نے سارے خاندان کو فون گھما کر اکٹھا کر لیا۔ سارے خاندان والوں کو بھی آپا پر ہی ترس آیا کہ ماں کے بعد اب اکلوتا بھائی بھی اس سے منہ موڑ رہا ہے، لیکن اگر انصاف کی بات کی جائے تو سب غلط تھا۔ چار و ناچار سب کے سامنے مجھے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور یوں خاصی منت سماجت کے بعد آپا اس بات پر بہ مشکل راضی ہوئیں کہ انہیں ماہوار بیس ہزار خرچ دیا جائے جب کہ اس وقت میری تنخواہ چالیس ہزار تھی۔ باقی کا بیس ہزار اور چار بچوں کا ساتھ میرے لیے انتہائی مشکل تھا۔ میری بیگم بھی مجھ سے ناراض تھیں کہ نہ جانے وہ وقت کب آئے گا جب میں اپنی بزدلی ختم کر پائوں گا اور اپنے فیصلے آپا کے بہ جائے خود کروں گا جب کہ میں اس بات پہ شکر منا رہا تھا کہ چاہے آدھی تنخواہ ہاتھوں سے چلی گئی، لیکن کم از کم گھر میں سکون تو ہوا کرے گا۔ یوں بھی پوری تنخواہ ان کے ہاتھوں میں تھمانے سے بہتر تھا کہ آدھی تھما دی جائے۔ کاش میری آپا جیسی عورتیں جو مرد کی کمائی کو بلاوجہ فضول کاموں میں خرچ کرتی ہیں، ایک بار مرد کی جگہ کھڑے ہو کر تو دیکھیں کہ وہ کیسے محنت و مشقت سے پیسے کما کر لاتا اور آپ کو تھماتا ہے، لیکن جب آپ اس محنت کی کمائی کو ضروریاتِ زندگی کی بہ جائے آسائشاتِ زندگی کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے بلاوجہ خرچ کرنے لگتی ہیں، تو آہستہ آہستہ نئی نکور چمکتی دمکتی زندگی کی گاڑی کی باڈی کو زنگ لگنے لگتا ہے اور ہاتھ میں کباڑ کے سوا کچھ نہیں آتا۔ سیانے سچ کہتے ہیں کہ ہمیں اپنی چادردیکھتے ہوئے ہی پائوں پھیلانے چاہئیں، کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے تھوڑے پر گزارہ کرنا سیکھ لیا جائے ۔
    خیر، وقت کا کام بیتنا ہے، تو یہ دبے پاؤں گزرتا چلا جاتا ہے۔ ہم نے بھی جیسے تیسے بیس ہزار میں گزارہ کرنا سیکھ لیا تھا اور اب جہاں میرے بچے جوان ہوئے، وہیں آپا کی بیٹیاں بھی جوان ہوگئیں۔ آپا کی بیٹیاں، آپا سے قدرے مختلف ہیں کیوں کہ ان کی پرورش میں میری بیگم صائمہ کا بہت بڑا ہاتھ ہے، لیکن آپا کا اکلوتا بیٹا اُنہی کا پرتو نکلا تھا۔ بچوں کے بڑے ہونے پر گھر میں کافی سکون رہنے لگا۔آپا بھی شاید میری بیگم کے ساتھ تھوڑا بہت سمجھوتا کر چکی تھیں، لیکن سیانے سچ ہی کہتے ہیں، طویل خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے کیوں کہ اصل بھونچال تو ہمارے گھر تب آیا جب آپا اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے میری لاڈلی بیٹی شائستہ کا رشتہ لے کر آئی۔ اُن کا بیٹا میری آنکھوں کے سامنے پلا بڑھا تھا اور بالکل آپا کی کاربن کاپی تھا، اس لیے میں بہ خوبی جانتا تھا کہ یہ میری لاڈلی بیٹی کے لیے درست فیصلہ نہیں ہے، لیکن آپا کو انکار کرنے کی ہمت مجھ میں کب تھی؟
    مجھے وہ دن بہ خوبی یاد ہے جب سارے گھر والے بڑے ہال میں جمع تھے۔ محفل پر سکتہ طاری تھا۔ آپا بھی بڑے رعب سے رشتہ مانگ رہی تھیں کیوں کہ وہ جانتی تھیں کہ میں انہیں کبھی بھی انکار نہیں کر پائوں گا۔ آپا کی بڑی بیٹی مریم نے کچھ کہنا چاہا کہ آپا نے اسے بھی جھڑک کر خاموش کروا دیا۔ میرے دائیں جانب بیٹھی میری بیگم صائمہ منیر بھی بڑی بے چینی سے پہلو بدل رہی تھی۔ اس کا سارا وجود اضطراب کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ کیوں کہ وہ بہ خوبی جانتی تھی کہ مجھ میں اتنی سکت نہیں کہ میں اس رشتے سے انکار کر سکوں اور یہ سچ ہی تھا۔ میں کبھی انکار کر نہیں پاتا اگر میری بیٹی میرے سامنے سوالیہ نشان بن کر کھڑی نہ ہوتی۔ جی ہاں اس دن میں آپا کو رشتے کے لیے ہاں کہنے ہی والا تھا کہ میری نظر اپنی لاڈلی بیٹی شائستہ کے چہرے پر پڑی جو ہال کے دروازے پر کھڑی آنسو ضبط کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔کیا نہیں تھا اس وقت اس کی آنکھوں میں؟ لاچاری، بے بسی، سوالات کا انبار، کانچ کی کرچیوں کی صدا، سمندری طوفان جو امڈنے کو بے تاب تھا، ٹوٹے خوابوں کی مسمار عمارت اور بھی بہت کچھ جس سے میں چاہتا، تو بھی نظریں نہیں چرا سکتا تھا۔
    میں، خضر حیات، جو کبھی آپا کے سامنے نہ بول پایا تھا، اپنی بیٹی کی آنکھوں کے سمندر میں تیرتے سوالوں میں ڈوب گیا۔
    آپا کی حیرت بھری نگاہیں مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہیں کیوں کہ وہ دن اور منظر مجھے کبھی نہیں بھول سکتا۔ پچپن سال تک جس لاوے کو انہوں نے دبائے رکھا تھا، وہ اس دن شعلہ بن کر جب دہکا، تو اس کی لپیٹ میں آپا کا وجود ہی جھلسا تھا۔
    اس دن سے آپا نے خاموشی کی چادر اوڑھ کر ہماری زندگی پر حکومت کرنا چھوڑ دی۔”آپا” نامی خوف ہمارے سروں سے اتر چکا تھا۔ اس دن میں نے پہلی بار اپنی اور آپا کی بیٹیوں کو خوش اور آزاد دیکھا تھا۔
    میں نے دیر سے ہی سہی، لیکن یہ ضرور جان لیا تھا کہ ظالم کا ظلم سہنا بھی گناہ ہے۔ اگر آپ ظلم کو روکنے کی ہمت نہیں رکھتے، تو ظلم سہنے سے آپ کے علاوہ کسی کا کوئی نقصان نہیں ہوتا، آپ کی ہی زندگی بدتر ہوتی چلی جاتی ہے اور دوسری اور سب سے اہم بات یہ کہ بیٹیوں کے باپ کو ہمیشہ مضبوط ہونا چاہیے ورنہ یہ کلیاں مرجھا جاتی ہیں اور اگر یہ کلیاں مرجھا جائیں، تو در و دیوار سے وحشت ٹپکنے لگتی ہے۔ اُداسی اپنے پر کھولے منڈیر پر ڈیرہ جما لیتی ہے، خوشیاں ان کلیوں کے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی مسمار عمارتوں کے ملبے تلے دب کر سانسوں سے ناتا توڑ لیتی ہیں اور پھر آپ کے ہاتھ میں فقط پچھتاوے کی پوٹلی آتی ہے۔
    آپ قارئین میں سے بھی اگر کوئی ایسی صورت حال سے دوچار ہے، تو خدار اسے روکیے تاکہ کوئی کلی مرجھا نہ پائے۔

    ختم شد
    ٭…٭…٭

  • نوشتہ تقدیر — حاجرہ عمران خان

    نوشتہ تقدیر — حاجرہ عمران خان

    چھوٹے چھوٹے کنکر پاؤں میں چبھ کر جب انہیں زخمی کرتے تو اس کی روح کلبلا اٹھتی۔ آسمان پر چمکتا سورج قہر برساتا تو اسے یاد آتا کہ کبھی کوئی مہربان سائباں اس کے لیے بھی چھاؤں تھا۔ اردگرد جو نہیں رہے وہ محبت اور چاہتوں کی بنیاد پر کھڑی دیواروں کے حصار یاد آتے۔ وہ یاد نہ بھی کرتی مگر گزرا ہوا کل بار بار اس کے سامنے آ کھڑا ہوتا۔ جب جسم بھوک سے نڈھال ہوتا ، جب دھوپ اس کے نازک سے بدن کو جھلسانے لگتی، اڑتی ہوئی خاک جب اس کی روح تک کو گرد آلود کر دیتی جسے دیکھ کر اسے اپنے وجود کی کم مائیگی یاد آتی تو وہ سوچنے لگتی کہ میری ذات تو اس خاک سے بھی ارزاں ٹھہری۔
    ”کیا کلمہ گو ہونا ہی اس صدی کا سب سے بڑا جرم ہے؟”
    آندھی کی شدت سے سرخ پڑتے آسمان کو فریاد کناں نگاہوں سے دیکھتے ہوئے زینب نے سوچا۔
    اپنے دو ننھے بچوں کی انگلی تھامے وہ گلی گلی خوار اور محلوں کی خاک چھان رہی تھی۔ وہ بھکارن نہیں تھی۔ ابھی کچھ روز پہلے وہ ایک آرام دہ ، پرسکون اورخوش حال زندگی گزار رہی تھی جہاں فکر و غم گھر کی دہلیز پھلانگنے کی جرات بھی نہیں کرسکتے تھے۔ خوشیوں اور آسائشوں سے سجا گھر جہاں زینب ، اس کا شوہر اور بچے جنت جیسی زندگی گزار رہے تھے۔ ایک دین دار اور مسلم گھرانا جو اپنی روایات اور مرئوجہ اصولوں پر زندگی کی بنیاد رکھے ہو ئے تھا کہ یکایک بغاوت کی ایک لہر پورے ملک میں جاگی۔

    بغاوتیں ایسے ہی نہیں جاگا کرتیں ، ان کے پیچھے کوئی نہ کوئی نظریہ اور سوچ ہوا کرتی ہے۔ ایسی ہی بغاوت ہندوستان میں اس وقت پھیلی جب ہندو چاہتا تھا کہ انگریز عنان حکومت اس کے سپرد کر کے ہندوستان سے چلا جائے۔ اس وقت دو قومی نظریہ پروان چڑھا۔ وہ ہندوستان میں مسلمانو ں کی نسلوں کی بقا کی جنگ تھی جسے بے حساب جان و مال اور عصمتوں کی قربانی کے بعد زندہ رکھا گیا۔ شام کی سر زمین سے بھی ایسی ہی ایک تحریک نے اس وقت جنم لیا جب وہاں کے جابر حکمران نے سورئہ اخلاص میں انحراف کیا ، جب اس نے خدائی کا دعویٰ کر دیا اور لوگوں سے خود کو سجدہ کرنے کی کافرانہ خواہش ظاہر کی۔ اس نے عہدِ فرعون و نمرود کی یاد تازہ کر دی۔ اس کے ملعون سپاہیوں نے گلیوں، سڑکوں اور چوراہوں پر لوگوں کو زدو کوب کرنا شروع کر دیا کہ وہ اس کے نام کا کلمہ پڑھنے لگیں۔ بشارالاسد کے سوا کوئی خدا نہیں۔ اس کے پوسٹرز پر آویزاں تصویروں کو سجدہ کرنے کے لیے کہا جانے لگا۔
    زینب کے ہنستے بستے گھر کو نہ جانے کس کی نظر کھا گئی۔ وہ ایک سرد صبح تھی جب اس کا جواں سال دیور گھر سے سودا سلف لینے نکلا۔ وہ اپنے حال میں مست سائیکل پر سوار جا رہا تھا کہ دو فوجیوں سے ٹکراتا ٹکراتا بچا اور خود ہی سائیکل سمیت زمین پر آرہا۔ بجائے اس کے کہ وہ لوگ اس کا شکریہ ادا کرتے، ایک فوجی نے اسے کالر سے پکڑ کر سیدھا کھڑا کیا اور زدو کوب کرنے لگا۔
    ”چھوڑ دو مجھے، میں نے کیا کیا ہے؟” وہ چلّانے لگا۔ دوسرے نے آگے بڑھ کر پہلے فوجی کو روکا۔
    ”اچھا تم کہتے ہو تو چھوڑ دیتے ہیں، مگر تمہیں اس کے لیے بس ایک جملہ کہنا ہو گا۔” وہ خباثت سے مسکرایا۔
    ”کیا؟” مار کھا کر ہانپتا ہوا بلال بولا: ”تمہیں کہنا ہو گا کہ بشارالاسد میرا خدا ہے۔” مکّاری سے کہہ کر وہ انتظار کرنے کی اداکاری کرنے لگا۔ بلال نے زمین پر تھوک دیا اور نفرت سے بولا۔
    ”تمہیں وہ غلام یاد نہیں ؟” ”کون سا غلام؟” ان دونوں نے حیرت سے اسے دیکھا:
    ”وہی بلال جس نے ہر ستم سہ لیا مگر دامن حق نہیں چھوڑا۔ وہی بلال جن کی اذان کی آواز مکّے میں گونجتی تھی تو دلوں پر رِقت طاری ہو جاتی تھی۔” بلال نے طنز سے مسکرا کر انہیں دیکھا اور اپنے دونوں ہاتھ کانو ں تک لے جا کر اذان دینا شروع کر دی ”اللہ اکبر ، اللہ اکبر” اردگرد سے لوگ اذان کی آواز سُن کر وہاں جمع ہونے لگے ، سب جاننا چاہتے تھے کہ آخر یہ معا ملہ کیا ہے ؟ لوگو ں کوجمع ہوتے دیکھ کر بھی فوجیوں کے رویوں میں کوئی فرق نہیں آیا۔ انہوں نے اس بار مل کر بلال کو مارنا شروع کر دیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    بلال بن داد کو مار مار کے ادھ موا کر دیا گیا۔ اس کی ایک ٹانگ میں فریکچر ہوا جب کہ پیشانی پھٹ گئی اور پورا جسم زخموں سے چور ہوگیا۔ لوگوں نے اسے ہسپتال پہنچایا۔ خاور بن داد کا غم کے مارے برا حال تھا۔ اسے اپنے بھائی سے بہت پیار تھا، اسے اس حالت میں دیکھنا اس کے لیے بہت تکلیف دہ تھا مگر وہ بے بس تھا اپنا ہی سر دیوار میں مار کر زخمی تو کر سکتا تھا مگر طاقت کے ایوانو ں میں کوئی ہلچل نہیں مچا سکتا تھا نہ ہی کسی کا کچھ بگاڑ سکتا تھا۔
    ٭…٭…٭
    فوج کے خلاف عوامی نفرت میں اضافہ ہو رہا تھا۔ لوگ ایسے ظالم اور جابر حکم ران کو اٹھا کر پھینک دینا چاہتے تھے۔ حکمران اگر ان سے روٹی چھین لیتا تو وہ صبر کر لیتے۔ انہیں ضروریات زندگی سے محروم کر دیا جاتا، تو بھی وہ برداشت کر جاتے، مگر اس جابر نے تو ان کے ایمان پر حملہ کیا تھا۔ طاقت کے نشے میں اندھا ہو کر وہ خود کو خدا سمجھنے لگا تھا۔ خاور بن داد نے بھی ظلم کے بادشا ہ کے خلاف تحریک کا حصہ بننے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
    ”ہم ظلم کے خلاف سر نگو ں نہیں ہوں گے ، وقت کے یزید کو حساب دینا ہو گا، ہم اسے حکومت کے ایوانوں سے کھینچ کر باہر لا پھینکیں گے۔” خاور غصّے میں دھاڑا۔ زینب نے اپنے شوہر کی غضب ناک حالت دیکھی تو دل میں د عا کرنے لگی۔
    ”یا اللہ، سب ٹھیک رکھنا۔” زینب کی دعائیں بھٹک گئیں کہ پھر کبھی انہیں عرش تک جانے کا راستہ نہ مل سکا۔
    ٭…٭…٭
    صورتِ حال گمبھیر سے گمبھیر تر ہوتی جا رہی تھی۔ شام کی عوام سڑکوں پر نکلنے کے لیے مجبور تھی۔ شام کھنڈر بننے جا رہا تھا اور اِس بات کا کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ محض ایک معمولی سا مظاہرہ خونی دنگل میں تبدیل ہونے والا ہے۔ پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ دنیا کی چھوٹی بڑی طاقتوں نے ان پر دھاوا بول دیا۔ اس کام میں انہوں نے ایک دوسرے کو اس طرح دعوت دی جیسے کوئی کسی کو دعوتِ شیرازدیتا ہے۔
    ٭…٭…٭
    شام کے عوام کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ ان کے گھر کی چھتیں ان پر ہی مسمار کی جانے والی ہیں۔ خاور کہتے تھے۔
    ”ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا جہاد ہے۔”
    وہ کتنے خوش فہم تھے۔ انہیں جمع ہو نا تھا اور ایک آمر کے خلاف احتجاج ہی تو ریکارڈ کرانا تھا۔ مگر اس کا نتیجہ کیا ہونے جا رہا تھا وہ نہیں جانتے تھے۔
    اُن کے لیے کربلا جیسا میدان سجنے والا تھا۔
    ٭…٭…٭
    گلی میں آندھی سی دھول اٹھ رہی تھی۔ پانچ سالہ صالحہ نے زینب کے کندھے سے سر ٹِکا کر آنکھیں بند کر لیں جب کہ صالحہ سے دو سال بڑے عبداللہ نے گرد سے گھبرا کر چھوٹے چھوٹے ہاتھ آنکھوں پر رکھ لیے۔ اس لمحے زینب کے دل میں عجب خیال نے سر اُٹھایا۔
    ”میں بھی تو گلی کی دھول ہی بن بیٹھی ہوں اتنی بے اماں تو کبھی نہ تھی میں۔ جانے زندگی کیا سے کیا ہو گئی۔”
    ایک سینہ دہکاتی سانس اس کے بوجھل سینے سے نکلی اور آہ کی سواری کرتی ہوئی آسماں کی طرف محوِ پرواز ہوگئی۔
    ٭…٭…٭
    کیاکربلا ابھی تھما نہیں؟ کاروان کربلا درماندہ و آفت کنندہ اسی سر زمین طیب پر ہی تو آ کر رُکا تھا؟ کیا کربلا نے اپنے سفر کا آغاز وہیں سے شروع کیا جہاں سانس لینے ذرا تھما تھا ، کیا کربلا یونہی اہلِ اسلام پر صدی در صدی وارد ہوا کرے گا؟ یہ مقام کربلا ہی تو تھا ، بھوک ، پیاس ، در ماندگی ، موسمی شدت اور دشمن کی یلغار۔ اہلِ شام سے ان کا تمام اثاثہ چھینا جا چکا تھا۔ گھر ، امان،پناہ ،تحفظ ،زندگی اور بدلے میں موت بانٹی گئی تھی جو مفت اور بے حساب تقسیم ہو رہی تھی۔
    ٭…٭…٭

  • تماشائے روزگار — آدم شیر

    تماشائے روزگار — آدم شیر

    نسرین نے کلائی پر بندھی چھوٹے ڈائل والی گھڑی میں گھومتی سوئیوں کو دیکھا اور نائیلون کی چارپائی پر سوئے ناصر کو کندھے سے پکڑ کر ہلانے لگی۔ کچھ دیر ہلانے پر بھی حرکت نہ ہوئی تو ناصر کے کان کے قریب منہ لے جا کر اعلان کیا۔
    ”اٹھو! جلدی سے دودھ لے کر آئو۔”
    ”اچھا۔ اٹھتا ہوں۔” ناصر نے دائیں سے بائیں کروٹ لیتے ہوئے بوجھل آواز میں جواب دیالیکن نسرین نے اسے بازو سے پکڑ کر ہلانا جاری رکھا۔
    ”کہا نا جلدی اٹھو! بچوں نے اسکول جانا ہے۔ روز دیر کر دیتے ہو۔”
    ناصر مزید جھٹکے نہ سہ سکا اور جھنجھلا کر اٹھ بیٹھا۔ ادھ کھلی غصیلی آنکھوں سے نسرین کو دیکھا۔ پھر اس کے ایک ہاتھ سے برتن اور دوسرے سے پیسے لیے اور بڑبڑاتے ہوئے گھر سے نکل گیا۔
    نسرین کو کئی اور کام تھے لہٰذا وہ ناصر کی بڑبڑاہٹ سنی اَن سنی کرتے ہوئے بچوں کی طرف متوجہ ہوگئی جو ابھی تیار نہیں ہوئے تھے۔ رمیز پتلون تھامے صحن میں چکر لگا رہا تھا اور فریحہ فراک پر لگے سیاہی کے داغ کو تکے جا رہی تھی۔ نسرین نے پہلے فریحہ کی فراک کا پلو پکڑ کر سیاہی دھوئی لیکن نشان رہ گیا، پھر وہ رمیز کو پتلون پہنانے لگی۔ اسی دوران اسے یاد آیا ابھی چائے کے لیے پانی رکھنا ہے۔ کیتلی میں پانی بھرتے ہوئے سالن کی سڑانڈ نتھنوں تک پہنچی تو نسرین نے چہرے سے پسینہ پونچھتے ہوئے ہنڈیا چولھے سے اتار دی۔

    نسرین کو گیس کی بندش کا خوف تھا اس لیے ہاتھ تیز تیز چلانے لگی۔ توا رکھا اور اوپر سے گول نیچے سے چپٹے پیڑے بنائے۔ چپاتی توے پر ڈالنے لگی تو فریحہ بہتی ناک کے ساتھ حاضر ہوگئی۔ نسرین نے چپاتی جلدی سے توے پر پھینکی، فریحہ کی ناک صاف کی اور چپاتی کو پلٹ دیا۔پھر اس نے گھڑی پر نظر ڈالی جس کی تیزی سے گھومتی سوئیوں نے اس کے ماتھے پر ایک شکن اور بڑھا دی۔نسرین نے بیرونی دروازے کی طرف دیکھا اور پھر بے دھیانی سے روٹیاں پکانے لگی۔روٹیاں پکا چکی توتوا اور کیتلی بھی چولھے سے اتار دی اور ناصر کا انتظار کرنے لگی۔ جب وہ آیا تو خالی ہاتھ ڈول ہلاتا ہوا باورچی خانے میں آدھمکا۔
    ہر دوسرے تیسرے دن ناصر دودھ لینے میں ناکام ہو کر گھر لوٹتا تو نسرین کی برداشت جواب دے جاتی۔ ان کے بچے تھے تو چھوٹے لیکن بڑے سمجھ دار، موقع کی نزاکت بھانپتے ہوئے چپکے سے کھسک جاتے تھے۔ نسرین ان کے غائب ہونے سے پہلے کھانے کے لیے کچھ نہ کچھ ڈبے میں بھر دیتی تھی۔ اس کے بعد نسرین اور ناصر ایک دوسرے پر دھونس جمانے کی کوشش کرتے۔
    ”آج پھر دودھ نہیں لائے؟” نسرین نے ہاتھ قمیص سے پونچھتے اور سر کو قدرے اوپر جھٹکا دیتے ہوئے پوچھا۔
    ”ختم ہو گیا تھا۔” ناصر آرام سے چارپائی پر بیٹھتے ہوئے بولا جس پر نسرین کی ناک مزید پھول گئی۔
    ”تو کسی اور سے لے آتے۔”
    ”تین گوالوں کو منہ دکھاآیا ہوں۔ اب کیا پورا شہر پھروں؟” ناصر تیکھے لہجے میں جواب دیتے ہوئے لیٹ گیا۔
    ”سارا شہر کیا پھرو گے؟ ایک کام تم سے ہوتا نہیں۔ یونہی چارپائی توڑتے رہو۔” بچے اسکول جاچکے تھے۔ نسرین کو بچوں کے سامنے خفت کا خوف نہیں تھا۔ اس نے حلق کی کمان سے ایک تیر کھینچ کر زبان کے ذریعے ناصر پر چھوڑا جو ٹھیک نشانے پر لگا اور وہ درد سے کراہ اٹھا۔
    ”یہ کیا ہر وقت طعنے دیتی رہتی ہو؟ تمہاری نوکری کیا لگ گئی میرے پیچھے ہی پڑ گئی ہو۔”
    ”ہاں میری نوکری لگ گئی اور تمہاری قسمت جاگ اٹھی۔ گھر بیٹھے روٹیاں توڑتے رہو۔” نسرین اتنا کہہ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔ ناصر تلملاتے ہوئے اٹھ بیٹھا اور پیچھے سے پانڈیوں کی طرح آواز لگائی۔
    ”آٹھ مہینے نہیں ہوئے نوکری پر لگے اور طعنے دیا کرو آٹھ سو مرتبہ روزانہ… مفت میں روٹیاں… بک بک کرتی رہتی ہے۔” ناصر کی اس بات کا نسرین کی طرف سے جواب نہ آیا ۔ کچھ دیر بعد وہ تیار ہو کر کمرے سے نکلی۔ ناصر کو اَن دیکھا کرتے ہوئے دروازے تک پہنچی۔ دروازہ کھولنے سے پہلے کچھ دیر رکی لیکن پیچھے مڑ کر نہ دیکھا ۔ پھر زور سے دروازہ کھولا اور اس سے زیادہ زور سے بند کر دیا۔ ناصر کو دروازہ بند ہونے کی آواز بالکل زناٹے دار تھپڑ جیسی لگی۔ اس نے تھوڑا سا سر اٹھایا اور جھٹک کر سو گیا۔
    سورج سر پر آیا تو پسینے میں شرابور ناصر اٹھ بیٹھا۔ نہا دھوکر باورچی خانے میں گیا،جو ملا کھا لیا۔ دروازوں کو تالے لگائے اور نوکری کی تلاش میں نکل پڑا۔ اس کی منزل نائیلون کے دانے بنانے والا کارخانہ تھا۔ پہلے وہ کپڑا بنانے والے کارخانے میں کام کرتا تھا۔ اچھی بھلی نوکری تھی۔ اسی سے یہ مکان بنایا تھا۔ کرسی پر بیٹھ کر کام کرتا تھا۔ اچھی گزر بسر ہوتی تھی اورگھر والی بھی عزت کرتی تھی۔
    پھر ملک میں توانائی کی قلت اور بڑھ گئی ۔ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے چلنے والی مشینیں آٹھ گھنٹے بھی نہ چل پاتیں اور چھے گھنٹے چلنے پر بھی بل اٹھارہ گھنٹے کا ہی آتا۔ مصنوعات پر لاگت بڑھ گئی اور پیداوار گھٹ گئی تھی۔ سرمایہ دار کو جس کارخانے سے نقصان ہوتا، اسے بند کر دیتا ۔ ہنر مند چھابڑی لگاتے یا کہیں ٹھیلا سجا لیتے۔ مزدور سڑکوں پر جوتیاں گھساتے۔ ریڑھی بان الگ پریشان رہتے۔ پڑھے لکھوں کو پہلے ہی کام مشکل سے ملتا تھا اب مرحلے اور بھی دشوار ہو گئے۔ ناصر کوئی دکان چمکا لیتا لیکن وہ حساب کتاب کرنے والا بندہ تھا۔ ایک مرتبہ نوکری کیا چھوٹی، پھر کہیں ٹک کر کام نہ کر سکا لیکن آج اسے نوکری ملنے کی بڑی امید تھی۔
    ناصر راستے کی دھول اور بسوں کا دھواں کھاتے ہوئے کارخانے پہنچا تو پتا چلا کہ اِدھر بھی حالات زیادہ ساز گار نہیں۔ مالک پہلے ہی بات بات پر ملازم نکال رہا ہے اور کارخانہ بند کرکے دوسرے ملک جانے کے چکر میں ہے جہاں بجلی، گیس اور پانی سمیت مزدورسستے ملتے ہیں اور ٹیکس بھی کم دینا پڑتا ہے ۔ کارخانے سے چہرے پر ناکامی کا ٹھپا لگوائے وہ باہر نکلا تو اس نے سوچا کہ اب وقت کیسے کاٹے؟ اسی دھیان میں وہ پہلے ایک دوست کے پاس گیا، اس کے بعد دوسرے اور پھر تیسرے کے ساتھ رونے روتا رہا ۔ جب سورج کسی اور جہان کو منور کرنے گیا تو وہ بھی اپنے گھر کو ہو لیا۔
    نسرین باورچی خانے میں بیٹھی ترکاری بنا رہی تھی۔ اس کے چہرے کا کھچاؤ، مزاج کی خشکی کا پتا دے رہا تھا۔ ناصر نظر بچا کر بچوں کے کمرے میں چلا گیا۔ کمرے تھے ہی کتنے اس کے گھر میں… صرف دو۔ ایک میں بچے اور دوسرے میں ناصر اور نسرین رہتے۔ پیچھے ایک باورچی خانہ اور غسل خانہ بچتا۔ باورچی خانے میں نسرین بیٹھی تھی۔ غسل خانے میں زیادہ سے زیادہ وہ ایک سگریٹ پی سکتا تھا۔ اپنے کمرے میں جانا نہیں چاہتا تھا کہ وہاں نسرین سے بار بار ٹاکرا ہوتا۔ بچوں کا کمرا ہی بہتر تھا جو مہمان خانے کا کام بھی دے دیتا۔ بچوں کے کمرے میں چیزیں بکھری پڑی تھیں۔ فریحہ اور رمیض ایک ہی چارپائی پر بیٹھے اپنی کتابوں اور کاپیوں سے کھیل رہے تھے۔ دوسری چارپائی پر ناصر نے قبضہ کرلیا۔
    ناصر کو بچے بڑے اچھے لگتے تھے۔ جب سے وہ بے کار ہوا تھا، بچوں نے پیسے مانگنے چھوڑ دیے تھے۔ اسے لگتا یہ نسرین کا کمال ہے۔ وہ کچھ دیر بچوں کو دیکھتا رہا پھر دوسری طرف کروٹ لے کر بچوں کے متعلق سوچنے لگا۔ سوچتے سوچتے اسے بھوک محسوس ہوئی۔ وہ بھوک دبانے کی کوشش کرتا رہا لیکن نوکری کی تلاش کی طرح یہاں بھی ناکامی ہو رہی تھی۔ پیٹ بھرا ہو تو دماغ میں اوٹ پٹانگ خیالات آتے ہیں ، اگر خالی ہو تو کچھ بھی نہیں رہتا۔ سوچ کے گھوڑے ایک مرکز کے گرد طواف کرتے رہتے ہیں۔ اس کی سوچ کا مرکز بھی بھوک تھی لیکن وہ نسرین کی باتوں کے خوف سے روٹی مانگنا نہیں چاہتا تھا۔
    ناصر نے کافی دیر سہانی یادوں سے پیٹ بھرنے کی ناکام کوشش کی مگر زیادہ دیر بھوکا رہنے سے تیزابیت ہونے لگی۔ وہ تیزاب کو تھوک کے راستے نکال بھی نہیں پایا تھا کہ اس کا سر دکھنے لگا ۔ جب پنڈلیوں میں چبھن ہونے لگی تو وہ چارپائی سے اٹھا اور جا کر نسرین سے پوچھا۔
    ”کب تک کھانا تیار ہو جائے گا؟”
    ”ابھی بنا رہی ہوں۔” نسرین نے اندر اٹھتے ابال پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے جواب دیا۔
    ”اچھا! ذرا جلدی کردو۔” ناصر اس کے چہرے کے اتار چڑھائو کو نظر انداز کر کے غسل خانے کی طرف جانے لگا مگر نسرین کے جواب نے اس کے پیروں میں زنجیر ڈال دی اور اس کے قدم غسل خانے کے قریب رک گئے۔
    ”اتنی ہی بھوک لگی تھی تو خود بنا لیتے۔ تم کون سا کام پر گئے تھے۔”
    ”سارا دن کام ڈھونڈتا رہا ہوں۔” ناصر نے پتلون کی پیٹی کھولتے ہوئے ترنت جواب دیا۔اس کا ایک پائوں غسل خانے کے باہر اور دوسرا اندر تھا۔
    ”یہ بہانے کسی اور کو سنائو۔ کام ڈھونڈ رہے تھے تو ملا کیوں نہیں؟” نسرین کا سر جھکا اور آنکھیں اٹھی ہوئی تھیں۔ وہ دن بھر کی تکان ناصر پر نکالنے کی پوری تیاری میں لگ رہی تھی۔
    ”کام ہے ہی نہیں، ملے گا کہاں سے، تمہارے باپ کی دکان پر؟”’ ناصر نے معدے میں موجود مروڑ اٹھاتی تیزابیت کوزبان کے راستے خارج کیا تو نسرین نے سر بھی اٹھا لیا۔
    ”اپنے باپ کی زمین پر گھاس کاٹو۔ میرے باپ کی دکان میں تمہیں کون گھسنے دے گا؟”
    ناصر نے غسل خانے والا کام بیچ میں چھوڑا اور نسرین کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ گھاس کاٹنے والی بات ہی ایسی تھی۔ گائوں چھوڑنے کی وجہ یہی بنی تھی۔ وہ کچھ دیر نسرین کو دیکھتا رہا۔ وہ چھری سے سبز مرچیں ایسے کاٹ رہی تھی جیسے کچھ اور ہو۔ ناصر اسے یوں مرچیں کاٹتے دیکھ کر ایسے بے چین ہوا جیسے پالتو کتے کی دم پر مالک کا پیر آ گیا ہو۔ اس نے دو تین بار اپنے سر میں انگلیاں پھیریں۔ دماغ کو بڑا ٹٹولا، پھر ہتھیار ڈال دیے۔

  • محرومی — کوثر ناز

    محرومی — کوثر ناز

    میرا دل ہوا کی سرسراہٹ کے ساتھ بڑی تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ ایسا زندگی کے پچیس سالوں میں پہلی بار ہوا تھا کہ میںیوں کسی مرد سے خوف زدہ تھی۔ میری لرزتی ٹانگیں کمزور پڑتی ہمت کا ساتھ دینے کی ناکام کوشش کررہی تھیں مگر مجھے بادِ مخالف کی جانب چلنے کی عادت نے رکنے نہیں دیا۔ میں دلی جذبات پر قابو پاتی اس کی طرف بڑھنے لگی اور وہ دور ایک بڑے پتھر پربیٹھا ٹانگ پر ٹانگ جمائے آنکھوں کو بے دردی سے مسلتے ہوئے شبِ گزشتہ والے حلیے میںبھی مجھ پر اپنی دھاک بٹھا رہا تھا۔ میں قریب جاکر وہیں ایک بڑے سے پتھر پر ٹک گئی۔ میرے ساتھ موجود باقی کئی ساتھیوں نے ایک نظر مجھے دیکھاضرور تھا مگر مجھ تک پہنچنے کی کوشش کسی نے نہیں کی ۔
    ٭…٭…٭
    پاکستان کا وہ محنت کش طبقہ جو سارا دن محنت مزدوری کے بعد بھی تین وقت کا کھانامکمل اہتمام و آسودگی سے نہیں کھا سکتا، مجھے وہ ہمیشہ ہی سے متاثر کرتا آیا ہے جس کی وجہ سے وہ میری خاص توجہ کا مرکزبھی رہا ہے ۔ اپنی گاڑی میں اپنے شہر کی سڑکوں پر اسکول ،کالج اور یونیورسٹی کی منازل طے کرتے، آتے جاتے میری نظروں کا مرکز سدا وہی لوگ رہے ہیں جن کے چہرے پر پسینا اور ماتھے پر دھوپ سے لڑتی شکنوں میں ان کی خودداری کا عکس جھلملاتا ہے۔ اسکول جاتے ہوئے میں ہمیشہ ان بچوں کو دیکھا کرتی تھی جو صبح صبح گندگی کے ڈھیروں سے گتے و سگریٹ کے خالی پیکٹس اُٹھا اُٹھا کر پیٹھ پر لٹکائی بوری میں بھرتے اپنا کام کرنے میں مگن ہوتے تھے۔ تب میرے ذہن میں بس ایک ہی سوچ ہوتی کہ ان میں اکثریت خوب صورت، گول مٹول سے بچوں کی ہوتی ہے لیکن گندے میلے کپڑوں میں ملبوس… انہیں نہلاکر اچھا کیا جاسکتا ہے۔ پتا نہیں ان کی مائیں انہیں گندا کیوںرکھتی ہیں۔ یہ سوچ من میں بیٹھی رہتی اور میں گاڑی کے شیشے سے چہرہ لگائے دور تک انہیں دیکھے جاتی۔ وہ پیچھے رہے جاتے اور میں آگے بڑھ جاتی پھر وہ سوال وہیں رہ گئے اور عمر کی منازل طے کرتے میں نہم جماعت میں پہنچی تو نئی سوچیں ذہن و دل میں ارتعاش سا بپا کرنے لگیں۔ یہاں دوست نئے تھے جن کے ساتھ دل بہل گیا تھا لیکن آتے جاتے مزدور طبقے پر نظر پڑتی ہی رہتی پھر جب اسکول تبدیل کیا تو اسکول کے سامنے سڑک بن رہی تھی اور میں کلاس میں کھڑکی کے قریب بیٹھی اکثر مزدوروں کو کام کرتے دیکھا کرتی۔ اُن کے کپڑے بھی ایسے ہی ہوا کرتے تھے جیسے پہلے سب کے دیکھتی آئی تھی لیکن ماتھے پر دھوپ کی وجہ سے پسینے کے قطرے زیادہ نمایاں ہوتے۔ وہ اس قدر محنت کرتے تھے کہ بڑے بڑے پتھروں اور سیمنٹ بجری سے بہت اچھی سڑک بنتی رہتی۔ مجھے ان کی محنت کا عکس اس خوب صورت سی سڑک میں نظر آنے لگتا تو بے پناہ خوشی ہوتی۔ ہاں وہ کچھ وقت آرام کے لیے بھی نکالا کرتے تھے۔ سانس لینے بیٹھنا تو ان کا بھی حق تھا۔

    پھر ایک دن جب میں چھٹی کے بعد اپنے بابا کی منتظر تھی تو کوئی سفید کاٹن کے جوڑے میں ملبوس شخص ان مزدوروں پر برُی طرح برس رہا تھا۔ میرا دل اس شخص سے برا ہوگیا جو خود تویہاں کام نہیں کرتا تھا البتہ مزدوروں کو شاید مشین سمجھ بیٹھا تھا۔ میں چاہتی تھی کہ جاکر اُسے کہوں، لڑوں ان کے لیے لیکن درمیان میں بولنا کبھی سیکھا ہی نہیں تھا۔ پھر کچھ دیر بعدمیرے بابا آئے تو میںگھر چلی گئی لیکن ان کی محنت اور پھر اس شخص کا ان پر چلانا میری سوچ سے محو نہیں ہوسکا۔
    یونہی کالج کا سفر شروع کیا تو گھروں اور گلی کوچوں میں مختلف اشیا بیچنے آنے والوں پر میری نگاہیں ٹھہر جاتیں۔ وہ ہر شے کی دگنی قیمت بتایا کرتے تھے اور سب ان سے آدھے سے بھی کم میں وہ اشیا خریدتے۔ ان کی سیاہ و سفید شکلیں دیکھ کر مجھے شدید ترس آتا چوں کہ میں سندھ میں رہتی تھی تو وہاں پٹھانوں کو دیکھنے کا تجربہ ان دنوں انوکھا لگاکرتا تھا۔ یہ سوچ ہی دل لرزا دیتی کہ یہ گھروں سے دور برتن یا قالین بیچنے آتے ہیں۔ مجھے ہمیشہ ہی سے ان کے دکھ اذیت دیتے آئے ہیں جو گھروں سے دور، اپنے علاقوں سے دور رزق کے حصول کے لیے ہاتھ پاؤں مارتے ہیں کیوں کہ اپنا گھر اور اپنے گھر والے کیا ہوتے ہیں، یہ میں بہت اچھی طرح جانتی ہوں لیکن میں ابھی اتنی بڑی نہیں تھی کہ ان کے غم غلط کرسکتی۔ امی یا محلے کی کوئی بھی خاتون جب کبھی گلی میں آواز دیتے کسی پٹھان یافیصل آباد سے آئے کسی پنجابی جس کے سر پرکپڑوں کی گٹھڑی ہوتی تھی، آواز لگاتا ہوا گزرتا یا سندھ ہی کا کوئی مقامی پلاسٹک کے برتنوں کا ٹب سر پر اُٹھائے، پرانے کپڑوں کے عوض پلاسٹک اور کانچ کے نئے برتن بیچنے آیا کرتا یا کئی طرح کے تیل بیچنے والا آواز لگاتے ایک بوڑھا گھر کے سامنے سے گزرتا، بُھنے چنے بیچنے والے، کانوں کی بالیوں والے یا کان چھیدنے والا آواز لگا کر بلاتے یا مچھلیوں سے بھرا خوانچہ لیے گلی گلی گھومنے والوں کو روک کر ذرا بھاؤ تاؤ کرتی تو میں شوق سے دیکھا کرتی اور دل چاہتا کہ کاش امی انہیں وہ دے دیں جو وہ مانگتے ہیں۔ اکثر امی زیادہ ہی دیتیں اور جب بابا کہتے کہ یہ مہنگا ہے اور چیز بھی پائیدار نہیں تو بھی مجھے کوئی برائی محسوس نہ ہوتی۔ میرا یہ رویہ پٹھانوں اور سندھ کے دیہی علاقوں میں بسنے والوں کے لیے زیادہ فکر مندانہ ہوتا کہ وہ لوگ پڑھ نہیں سکے تو اس قدر محنت کرتے ہیں۔ مجھے لگتاکہ وہی سب سے اونچے ہیں کیوں کہ وہ لوگ جو کا م کرتے ہیں وہ کوئی اورنہیں کرتا اور ہماری چھوٹی بڑی ضرورتیں اکثر انہی کی وجہ سے پوری ہوتی ہیں۔ پھر کچھ اور وقت گزرا تو میرے ذہن سے وہ سب محو ہونے لگا۔ میں نے کثرت سے ان کے بارے میں سوچنا ترک کردیا یاپھریوں کہہ لیں کہ میرے خواب، میری تعلیم، مجھ سے منسوب امی بابا کے خواب ہی سب کچھ ہوگئے۔ لیکن جب میں یونیورسٹی لیول پر پہنچی تو پھر سے وہی خیالات من میں سر اٹھانے لگے۔ میںفائن آرٹس و میڈیا گروپ میں بیچلرز کررہی تھی۔ چاہتی تھی کہ ان لوگوں سے بات کروں جو ہمیں اکثر اسکول، کالج اور یونیورسٹی جاتے ہوئے سڑک کے اطراف شامیانوں یا شہر سے پرے کچی جگہوں پر اپنے آشیانے آباد کیے، دنیا کی رونقوں سے دور زندگی بسر کرتے اپنی ہی دنیا میں منہمک نظر آتے ہیں۔ چاہتی تھی ان کے غم سنوں، وہ لوگ زندگی کیسے بسر کرتے ہیں؟ وہ کیسے خواب بنتے ہیں؟ ان کی کھانے میں پسند کیسی ہوتی ہے؟ وہ میوزک کس قسم کا پسند کرتے ہیں؟ انہیں جوتوں میں کون سا برانڈ پسند ہے حالاں کہ میں جانتی تھی جو جوتیوں کی جگہ مٹی کو پاؤں کی آرام گاہ بنایا کرتے ہیں ان کی پسندیدہ برانڈ کون سی ہوگی۔ ان خانہ بدوشوں کو توعلاقوں کی مٹی بھی یاد نہ رہتی ہوگی کہ ٹوٹی ہوئی جوتیوں سے باہر نکلتی ہوئی انگلیاں کس کس زمین کی مٹی چھوتی ہیں۔ انہیں کیا خبر جو کھانے کے لیے کسی کے بچے ہوئے ٹکڑوں کے محتاج ہوتے ہیں۔ وہ کیا جانتے ہوں گے کھانے کا ذائقہ کیا ہوتا ہے، وہ تو اسی غم میں آدھے ہوجاتے ہوں گے کہ وہ مانگا ہوا کھا رہے ہیں یا پھر شاید انہیں مانگتے مانگتے یہ خیال بھی نہ رہتا ہو کہ مانگنا بری بات ہے۔ اسے ہی وہ سب حلال کمائی گردانتے ہوں اور جو دن بھر سڑک پر چلنے والی ٹریفک کا شور کانوں پر محسوس کرتے ہوں، انہیں کیا خبر کہ ایک شور ایسا بھی ہے، جو اونچے مکانوں میں رہنے والوں کے سینوں میں سکون بھرتا ہے اور خواب؟ وہ کیا دیکھتے ہوں گے جن کے سروں پر چھت نہیں ہوتی۔ خواب تو ہم جیسے دیکھتے ہیں اور ان کی تعبیر پانے میںلگ جاتے ہیں کہ کرنے کو کچھ اور جو باقی نہیں ہوتا۔
    یہ سب جاننے کے باوجود ایک چاہ تھی ان سے راہ و رسم بڑھانے کی۔ مجھے وہ اپنے اپنے سے لگتے تھے جو میرے کچھ تھے ہی نہیں۔ بس جن کے دکھ اپنے تھے وہ بھی صرف تب تک جب تک میں انہیں سوچتی ۔ہاں یہ شرمندگی کی بات ہے مگر یہ حقیقت بھی ہے کہ اس کے بعد اپنے کام میں اس قدر مگن ہوئی کہ کئی دفعہ کھانا بھی بھولنا پڑتا اور گھر والے بارہا آکر کھانا لگنے کی اطلاع دیا کرتے۔ یونیورسٹی جاتی تو ٹھیلے لگائے عینک بیچنے والوں پر نظر پڑتی جو دھوپ میں کھڑے سڑک کی جانب تکتے ہوئے گاہکوں کے منتظرہوتے تھے۔ میں ان سے پوچھنا چاہتی کہ دن بھر میں ایک وقت کی سبزی کے پیسے بھی کما لیتے ہو یا نہیں؟ لیکن میں نہیں پوچھ سکتی تھی۔ گاڑی کے دروازے ہی ایسی مضبوط دیوار ہوا کرتے تھے کہ وہاں سے اُتر کر کسی سے بات کرنا مجھے بہت بھاری لگا کرتا۔
    دن گزرتے جاتے ہیں لیکن وہ لوگ وہیں اسی حالت میں رہتے ہیں۔ عینک کے ٹھیلے اب بھی لگتے ہیں۔ خانہ بدوش اب بھی وہیں بسیرا کیے رکھتے ہیں۔ پٹھان اب بھی قالین لیے سڑکوں تو کبھی محلوں میں نظر آتے ہیں۔ کچھ عورتیں بیڈ شیٹس لیے اب بھی گھروں کے دروازے کھٹکھٹاتی ہیں۔ ٹی وی کے ریموٹ بیچنے والے اب بھی آواز لگاتے ہوئے جاتے ہیں اورمیں اپنا ماسٹرز کرنے کے بعداب ایک نجی نیوز چینل سے وابستہ بہ حیثیت نیوزاینکر اپنی انٹرن شپ پوری کرنے کے بعد جاب کررہی ہوں۔ ایسے میں مجھے ہر طرح کی خبرلوگوں تک پہنچانی پڑتی ہے اور وہ خبر ہمیں ہمارے رپوٹرز دیتے ہیں۔ اب پھر مجھ میں یہ خیال سر اٹھانے لگا تھا کہ مجھے ہمت کرکے اپنے من میں بچپن سے اٹھتے ہوئے سوالات کا جواب جان لینا چاہیے۔ اب میں قدرے خود مختار ہوںاور اپنے فیصلے خود کرنے لگی ہوںتو من کا سکون ڈھونڈ لینے میں حرج ہی کیا ہے؟ تب میں، مشہور نجی چینل کی نیوز اینکر،ایک ایسی جگہ اپنی ٹیم کے چند ممبرز کے ہمراہ پہنچی جہاں سے میں بچپن سے گزرتی آرہی تھی۔ آج جب میں اس جگہ پہنچی تو وہ ایک کچی بستی کا روپ دھار چکی تھی۔ میری ٹیم نے پہلے ہی وہاں اطلاع پہنچا دی تھی کہ یہاں کچھ رپوٹرز آنے والے ہیں تاکہ آپ کا طرزِزندگی عوام کو دکھا سکیں اور حکومت سے آپ لوگوں کے لیے گھروں کی مانگ کر سکیں۔ میری ٹیم کا جو بھی مقصد تھا میں اس سے دور پرے اپنی ہی سوچوں میں گم تھی۔ وہ سار ے سوال سوچ رہی تھی جو من میں اُٹھتے تھے۔ میرے احساسات بالکل ایسے تھے، جیسے امتحان گاہ میں جانے سے پہلے ایک ایسے شاگرد کے ہوتے ہیں جسے پیپر سے متعلق کسی شے کا علم نہ ہو اور اسے خبر ملی ہو کہ اندر بہت سختی ہے یا پھر گاؤں کی کسی الہڑ دوشیزہ کے مانند کہ جسے لڑکے والے ابھی دیکھنے آہی رہے ہیں۔ ان سب ڈرو خوف کے باوجود میں پرُاعتماد اور پرُسکون نظر آرہی تھی کہ میں مسائل کو حل کرنا جانتی ہوں اور زمانۂ جدید کی لڑکی ہوں جواپنا کماتی بھی ہے۔

  • بانجھ — علی حسن سونو

    بانجھ — علی حسن سونو

    مختار شیرازی دراز قد وجیہہ انسان اور سندھ کے ایک وڈیرے خاندان کا وارث تھا۔اس کے جاہ و جلال کی وجہ سے پورا گاوؑں اس کے دائرہ اختیار میں تھا۔ اپنے خاندان کا سب سے بڑا بیٹا ہونے کی حیثیت سے لوگوں اور خاص طور پر خاندان والوں کو اس سے بہت سی توقعات تھیں۔
    شیرازی خاندان اپنی سرداری کے تسلسل کے حوالے سے بہت حساس تھا ۔ بنیادی طور پر ایک نرم طبیعت انسان ہونے کے باوجود قبیلے کے رسم و رواج اور جاگیردارانہ پرورش نے اس کی شخصیت کے گرد اناپرستی اور تندخوئی کا ایک خول چڑھا رکھا تھا۔
    دوسرے قبیلوں کے سردار بھی اپنی بیٹیوں کی نسبت مختار شیرازی سے جوڑنا چاہتے تھے مگر مختار کی چچا زاد ماروی شیرازی سے اس کا رشتہ طے پایا۔ ماروی اور مختار ایک دوسرے کے ساتھ یوں ہم آہنگ تھے جیسے صبح کا آنا اور رات کا جانا ۔تھوڑے ہی وقت میں لوگوں نے مشاہدہ کیا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بہت خوش ہیں اور مختار شیرازی ماروی کو اپنی زندگی کا حسین اضافہ سمجھتا ہے۔
    ٭…٭…٭
    شادی کے دو سال بعد جب قبیلے میں چہ میگوئیاں شروع ہوئیں کہ کیا مختار شیرازی اپنی نسل کو آگے نہیں بڑھانا چاہتا؟ دو سال گزر گئے مگر شیرازی خاندان کی اگلی نسل کے بارے میں کوئی خیر خبر نہیں آئی۔ مختار ان باتوںپر چپ سادھے سب کی سنتا رہا کہ اچانک ایک دن قبیلے میں اعلان ہوا کہ مبارک ہو! شیرازی خاندان کا اگلا وارث آگیا ہے۔ سائیں مختار کو اللہ نے چاند سا بیٹا عطا کیا ہے۔ قبیلے میں یک لخت خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مبارک باد دینے والوں کی ایک قطار ہر روز مختار شیرازی کی حویلی کے باہر لگی رہتی۔ بہت سے لوگ تو ان میں ایسے بھی تھے جو شیرازی قبیلے کی سترہویں پشت کی پیدائش ہی سے اٹھارہویں پشت کی باتیں کرنے لگے۔ مختار شیرازی بہت خوش تھا اور وہ خوشی کی اس ناقابلِ بیان کیفیت میں انتہائی پرخلوص نظروں سے ماروی کی طرف دیکھتا جیسے اس کا شکریہ ادا کر رہا ہو کہ اس نے اسے اس خوب صورت رشتے سے متعارف کروایا۔
    ٭…٭…٭

    مختار شیرازی نے اپنے پہلے بیٹے اور شیرازی خاندان کے اگلے وارث کا نام اعزاز رکھا۔ اعزاز بچپن ہی سے اپنے حُسن کا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ کب اپنے باپ سے سیانی باتیں کرنے لگا پتا ہی نہ چلا۔ مختار اور ماروی اپنی شفیق نگاہوں میں اعزاز کے لیے ہر روز ایک نیا خواب سجاتے اور اگلے دن اس سے بہتر خواب کے مقابلے میں پچھلے خواب کو رد کر دیتے۔
    میٹرک کا امتحان اعزاز نے امتیازی نمبروں میں پاس کیا تو انٹرمیڈیٹ میں اس نے پورے صوبے میں اوّل پوزیشن حاصل کی۔ شیرازی خاندان میں لکھنے پڑھنے کا زیادہ رجحان نہیں تھا مگر مختار چوں کہ خود اتنا نہپڑھ سکا تو اس کی خواہش تھی کہ اپنی اولاد کو خوب پڑھائے۔ جب اعزاز کا یونیورسٹی میں داخلے کا وقت آیا تو اس نے اپنے باپ سے کہا:
    ”ابا! بات یہ ہے کہ میں اپنے گاؤں کا اور خاص طور پر اپنے خاندان کا واحد لڑکا ہوں جو یونیورسٹی میں جا کرڈاکٹری پڑھے گا۔ مجھے دعا دیجیے کہ میں آپ کا اور اپنے خاندان کا نام روشن کر سکوں۔” اس کی حصولِ علم کی تڑپ اور اپنے خاندان سے وابستگی دیکھ کر مختار شیرازی اپنے آنسوؤں کو نہ روک سکا اور اعزاز کا ماتھا چوم کر کہا:
    ”بیٹا! تو میری واحد اولاد ہے ۔ خدا ایسی اولاد ہر ایک کو دے۔ میں کون ہوتا ہوں تیری منزل میں حائل ہونے والا۔ جا میرا بیٹا! اپنے خواب پورے کر۔ تیرا باپ ہر وقت تیرے ساتھ کھڑا ہے۔” اعزاز جو کہ نازوں کی آغوش میں پلا تھا، خاندانی رکھ رکھاؤ سے بہ خوبی واقف تھا اور ماں باپ کا فرماں بردار بھی، اپنے باپ کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر بولا: ” ابا! آپ میرا فخر ہیں اور میں اس فخر میں کبھیکمینہیں آنے دوں گا۔ مختار شیرازی نے بے اختیار اپنے بیٹے کا ماتھا چوم لیا۔ آنسو کب اس کی آنکھوں سے رواں ہوئے، اسے پتا نہ چلا۔
    ٭…٭…٭
    شہر کی سب سے بڑی میڈیکل میں یونی ورسٹی جب اس کا داخلہ ہوا تو اپنے دراز قد، چہرے پر خاندانی کشش اور اپنے میٹھے لب و لہجے سے اعزاز اپنی کلاس میں پہلے دن ہی کئی لڑکیوں کے لیے مرکزِ نگاہ بن گیا۔ اسی دن سے یونیورسٹی کیمپس میں نئی نئی شناسائیوں کے گروہ بیٹھ کر اعزاز کے بارے میں باتیں کرنے لگے۔ اعزاز مگر کہیں اور گم تھا۔ آیا تو وہ ڈاکٹر بننے تھا مگر پہلے ہی دن اس کی تمام تر ترجیہات کہیں اور تھیں۔ درمیانے قد کی ایک حیاداردوشیزہ جو اپنے ہم جماعتوں سے بھی بہت لجاجت اور مدھم لہجے میں بات کر رہی تھی۔جھکی ہوئی نظریں، اُجلا رنگ اور جامہ زیب شخصیت اعزاز کو کہیں اڑا کر لے گئی تھی۔بروقت اس چہرے کا دیدار کرنا گویا اعزاز شیرازی کا فرض بن چکا تھا۔
    ٭…٭…٭
    اعزاز جیسے لڑکے کے دل میں کوئی بات آتی اور وہ اس کے بارے میں دریافت نہ کرتا، یہ کہاں ممکن تھا۔ کافی جدوجہد کے بعد اسے پتا چلا کہ موصوفہ انہی کی ہم جماعت ہیں اور پنجاب کے کسی معتبر گھرانے کی اکلوتی بیٹی ہیں۔ اعزاز کے دل میں اور کشش پیدا ہوئی کہ وہ بھی اکلوتی ہے اور اعزاز بھی۔
    وہ روز بہانے بنا کر اس سے بات کرنے کی کوشش کرتا مگر شرم و حیا کا وہ پیکر اسے نظرانداز کیے آگے بڑھ جاتا۔ اب وہ چھچھورا تو تھا نہیں کہ مسلسل نظرانداز ہونے پر اس کا تعاقب کرتا رہتا، مگر بات تو دل میں اتر چکی تھی ۔
    ٭…٭…٭
    ایک دن کلاس میں مڈ ٹرم کی پریذنٹیشن تھی۔ ہر طالب علم اپنے اپنے منتخب کردہ موضوعات پر پریذنٹیشن بنا کر لایا۔ استاد کی طرف سے طے یہ پایا کہ جو ٹاپ کرے گا اس کی پریذنٹیشن سے متعلق سوالات امتحان میں بھی آئیں گے۔
    پریذنٹیشن کا آغاز ہوا۔کئی طلبا تو بے تُکی اور بے ربط تیاری کی وجہ سے تمسخر کا نشانہ بنے مگر جب باری آئی اعزاز کی تو اس نے آتے ہی روسٹرم پر ہاتھ رکھا اور یوں شروع ہوا کہ جیسے کبھی نہیں رکے گا ہم جماعت تو ایک طرف اس کی کلاس ٹیچر بھی اس سے مرعوب ہوئے بنا نہ رہی ۔کلاس میں پیچھے کی جانب بیٹھی اعزاز کی مرکزِ نگاہ آنکھیں پھاڑے ورطۂ حیرت میں گم تھی۔ جیسے ہی اس کی پریذنٹیشن ختم ہوئی تو گویا تالیوں اور داد کا ایک سیلاب اُمڈ آیا۔ کلاس ٹیچر نے وہیں آکر اعزاز کو تھپکی دی اور ستائشی لہجے میں کہا:
    ” It’s the best presentation so far’سب اسٹوڈنٹس اعزاز کی پریذنٹیشن کی کاپی لیں اور اس پر ریسرچ کریں، اس میں سے امتحان میں سوالات آئیں گے۔”
    وہ تو جیسے ہیرو بن گیا۔ کلاس ختم ہوتے ہی اعزاز طلبا کے ہجوم میں گھر گیا۔ کوئی اسے سراہ رہا تھا اور کوئی پوچھ رہا تھا کہ کیسے کر لیتے ہو یار؟ کمال! اعزاز گروہ میں گھرا ہوا تھا مگر وہ نہیں تھی جس کو ہونا چاہیے تھا۔ اعزاز نے دوسرے طلبا سے بات کرتے ہوئے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی کہ اس کا نظارہ کہیں نظر نہیں آرہا تھا۔ اچانک اس کی نظر پڑی کہ موصوفہ ایک دیوار سے ٹیک لگائے شاید گروہ سے آزاد ہونے کا انتظار کر رہی تھیں اور کیوں نہ کرتیں ؟ امتحان میں سوالات جو آنے ہیں۔
    ٭…٭…٭
    ہم جماعتوں سے فراغت کے بعد اعزاز دبے پاؤں اس کے پاس گیا اور مدھم لہجے میں کہا: ”کہنے لگا کہ اگر آپ امتحان میں پاس ہونا چاہتی ہیں تو یہ نوٹس تو ضروری ہیں اور اگر آپ فیل ہونا چاہتی ہیں تو…”اس نے اتراتے ہوئے بات ادھوری چھوڑی۔
    غیر متوقع طو رپر موصوفہ کی دہن گلِ مثال سے کچھ لفظ نکلے۔ ہائے! کیا لہجہ تھا، کیا آواز اور کیا تاثیر۔ اعزاز نے نوٹس کی فائل بازوؤں میں سمیٹی اور ٹھنڈا سانس لیتے ہوئے سوچا۔
    لفظ نکلنے کی دیر تھی کہ اعزاز تو جیسے سکتے میں چلا گیا وہ یہ پوچھ کر چپ ہو گئی کہ مجھے یہ نوٹس مل سکتے ہیں؟ اس کے لہجے میں وضع داری اور شخصیت میں ٹھوس پن نمایاں تھا۔ اعزاز دم بہ خود کھڑا اسے تکتا رہا۔ اعزاز کی اس حالت پر وہ ذرا گڑبڑا سی گئی اور ذرا درشت لہجے میں کہا۔
    ”یہ نوٹس نہیں مل سکتے کیا؟”
    اعزاز جواب تک اسے یک ٹک دیکھے جارہا تھا، ہڑبڑا کر بولا:
    ”وہ وہ وہ … جیسے آپ چاہیں، تو ابھی لے جائیں مگر ایک مسئلہ ہے، ہم ایک ہی کلاس میں پڑھتے ہیں اور چار سال اکٹھے رہنا ہے وہ نام تو پتا ہونا چاہیے ایک دوسرے کا۔” وہ لڑکیوں کی طرح شرماتے ہوئے بول رہا تھا۔
    ”مجھے تو آپ جان ہی گئی ہوںگی۔ میں چاہتا ہوں کہ میں بھی آپ کو جان لوں۔”
    ”آمنہ۔ آمنہ نام ہے میرا… ” وہ قدرے درشت لہجے میں بولی۔
    ” آمنہ ؟کون آمنہ؟
    ” میرا نام آمنہ ہے۔ اب کی بار وہ نظریں چُراتے ہوئے بولی۔ اعزاز کے دل میں تو جیسے جشن کا سماں تھا، اسے یک دم ہر چیز رنگین نظر آنے لگی۔ وہ دہراتے ہوئے بولا:
    ”آمنہ؟”
    ”جی…” اس بار وہ قدرے ہچکچاتے ہوئے بولی۔
    ”تو آمنہ یہ نوٹس آپ کو نہیں مل سکتے۔”اعزاز کے انداز میں شوخی جھلک رہی تھی۔
    ”یہ کیا بات ہوئی۔ ایسا کیسے کرسکتے ہیں آپ؟”
    ”ہائے آپ…” اعزاز نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا:
    ” آپ کو آپ کہنے میں کوئی مسئلہ ہے تو…”
    ” ارے نہیں نہیں! اعزاز اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا۔
    ” آپ مجھے آپ ہی کہیے اچھا لگتا ہے۔ میں مذاق کر رہا تھا، یہ نوٹس آپ کے ہیں۔ یہ لیجیے۔” اعزاز نے نوٹس اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
    ” شکریہ…” آمنہ نے نوٹس پکڑے اور وہاں سے چل پڑی۔
    ٭…٭…٭

  • پہچان — ماہ وش طالب

    پہچان — ماہ وش طالب

    گرمی کی تپش سے تارکول کی سڑک جلتا انگارہ بنی ہوئی تھی۔ گاڑی کا اے سی بند کیا ذرا دیر کو، تو یوں لگا جیسے سورج بابا نے مجھے ہی فوکس کیا ہوا ہے۔ آج پھپھو کی ساہیوال سے واپسی تھی۔ لہٰذا میں آفس سے جلد اٹھ گئی۔ ضروری رپورٹ تیار کرکے میں نے کمپوزنگ کا کام شائستہ کو سونپ دیا۔ گھر پہنچ کر پھپھو کا کمرا صاف کروانا تھا اور کھانا بھی بنانا تھا۔ وہ ہفتہ پہلے اپنی خالہ زاد کے یہاں گئی تھیں، شام تک انہیں پہنچ جانا تھا اور ان کے آنے سے پہلے مجھے گھر کو نک سک سے تیا ر میرا مطلب ہے صاف ستھرا کرنا تھا۔ ویسے تو پھپھو کی موجودگی میں مجیدہ آکر کام کرتی تھی لیکن ان کی غیر موجودگی میں، میں نے اسے چھٹی دی ہوئی تھی اور آج کے دن ہی وقت پر آنے کا کہا تھا۔ گاڑی پوش علاقے میں داخل ہوئی۔ یہاں سب ہی بنگلوں کا طرز تعمیر تقریباً ایک جیسا تھا،مگر رقبے کے اعتبار سے ہمارا گھر نسبتاً چھوٹاتھا لیکن دو افراد کے لیے تو یہ بھی بڑا لگتا۔ تپتی دوپہر میں سب ہی اپنے گھروں میں پڑے اونگھ رہے تھے۔ میں نے جونہی مطلوبہ بلاک کی طرف گاڑی موڑی، کوئی تیزی اور بے دھیانی سے بھاگتا میری گاڑی سے ٹکرا کر نیچے گر گیا۔ اگر میں بروقت بریک نہ لگاتی تو اس کا کام تمام ہوجاتا۔ گاڑی سے باہر نکل کر میں نے گرنے والی لڑکی کو اور اس کے پاؤں پر آئی خراشوں کو دیکھ کر سوچا،وہ درد سے کراہ رہی تھی۔ جانے کیوں مجھے لگا کہ لڑکی کے ٹکرانے سے پہلے کوئی اور بھی کالونی میں داخل ہوا تھا اور پل بھر میں ہی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ خیر میں سر جھٹک کر دوبارہ لڑکی کی طرف متوجہ ہوئی جس کے ٹخنے سے اب خون بہ رہا تھا کیوں کہ خراشیں گہری تھیں۔ میں نے سہارا دے کر اسے کھڑا کیا اور گاڑی میں بٹھایا، لڑکی کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد کی ضرورت تھی۔ میں اسے اپنے ساتھ گھر لے آئی۔ وہ سولہ سترہ برس کی لڑکی نہ جانے کیوں مجھے اتنی معصوم اور پیاری لگی۔

    مرہم پٹی او ر کچھ دیر آرام کرنے کے بعد میں نے اس سے کچھ رسمی اور ضروری سوالات کیے اور میں جو یہ سوچ رہی تھی کہ اس لڑکی جس کا نام ثمن تھا اور اِس نے ایک بار بھی مجھے اپنے گھر جانے کا نہیں کہا، تو مجھے اپنے سوال کا جواب اس کے انٹرویو کے دوران مل گیا۔ اس میں اور مجھ میں پہلی اور سب سے اہم چیز مشترک نکلی، بس فرق اتنا تھا کہ ثمن کے ماں باپ دنیا چھوڑ جانے کے بعد ایک دوسرے سے علیحدہ ہوئے اور میرے والدین نے ہجر کی فصل کاٹنے کے بعد جہان فانی سے کوچ کیا۔ یعنی میں ایک بروکن فیملی کا بکھرا ہوا ٹکڑا تھی۔ تب ہی ثمن مجھے پہلی نظر میں اپنی اپنی سی لگی۔ اس نے اپنی نم ناک آنکھوں کو پونچھتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے جن رشتہ داروں کے ہاں عرصے سے رہ رہی تھی ان کے بیٹے نے اس کے ساتھ بدتمیزی کرنے کی کوشش کی۔ اب کیا ہوگا اس کا؟ میں نے سوچا، شام کے پانچ بج رہے تھے، پھپھو بھی بس آنے ہی والی تھیں۔ میں نے ایک نظر اس کے حلیے پر ڈالی ،گندمی رنگت اور غزالی چہرہ ،صاف ستھرے کپڑے پہنے وہ نظریں جھکائے،دودھ کے خالی گلاس کی جانب دیکھ رہی تھی۔ میں نے فیصلہ کرلیا تھا، بس پھپھو کی ناراضی کا خوف تھا، مگر انہیں بھی کسی نہ کسی طرح میں نے منا ہی لینا تھا۔ میں نے اس لڑکی کو اپنے ساتھ رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔
    ”لڑکی تم ہوش میں ہو،میں چار دن گھر سے کیا گئی تم نے تو اسے سرائے ہی بنا ڈالا۔ ”
    جس غیظ و غضب کا مجھے امکان تھا، پھپھو کے منہ سے وہی امڈ رہا تھا۔ ”پلیز پھپھو! آہستہ وہ ساتھ والے کمرے میں ہے سُن لے گی۔” میں نے ملتجی نہ انداز میں کہا۔ ”مجھے پروا نہیں۔” حد ہے،تم تو بالکل ہی ننھی بچی ہو ابھی تک، میں نہ ہوں، تمہیں سمجھانے کے لیے تو یہ دنیا چاردنوں میں پیروں میں مسل کر رکھ دے۔ دو دن رکھنا اور بات ہے، ساری زندگی کے لیے رکھنا اور بات۔ نہ بچی کا آگا پیچھا،کیا سچ ، کیا جھوٹ، کچھ بھی تو نہیں معلوم۔” غصے میں ان کی بڑی آنکھیں اور بھی کُھل جاتیں۔ رات کے کھانے کے بعد وہ کچھ دیر واک کرنے کی عادی تھیں،مگر اس ہنگامے میں انہوں نے اپنی روٹین کو بھی پس پشت ڈال دیا اور ویٹنگ روم میں میری شامت آئی ہوئی تھی۔
    ”پیار ی پھپھو ! پلیز سوچیں آپ کا بھی تو فائدہ ہے، سارا دن آپ گھر میں تنہا رہتی ہیں۔اچھا ہے کمپنی ہوجائے گی۔” میں نے مکھن لگانا چاہا ،لیکن وہ نہ مانیں، جانے انہیں کس چیز پرزیادہ اعتراض تھا،ثمن کو گھر لانے پر،میری بیوقوفیوں پر یا ثمن کے ہاتھوں بدھوبننے پر؟ غرض کے انہوں نے سینکڑوں اعتراض کیے اور میں نے ہزاروں دلائل دیے اور آخر میں فیصلہ میرے ہی حق میں ہوا پھر آنے والے دنوں نے بتایا کہ میرا یہ فیصلہ کچھ زیادہ غلط بھی نہ تھا۔ پھپھو نے زبانی تو نہیں، لیکن اپنے انداز سے اس کا اظہار ضرور کیا تھا۔ اب میں گھر جاتی تو گھر کا گیٹ لاکڈ ملتا،کال کرتی تو معلوم ہوتا کہ محترمائیں بازار کی دھول چاٹنے گئی ہیں۔ چار ماہ تو گزر گئے تھے، ثمن کی پہلی والی ہچکچاہٹ بھی جاتی رہی۔ یوں بھی اس گھر میں کوئی مرد تو تھا نہیں جس سے زیادہ مسئلہ ہوتا۔
    بے اولادی کے غم نے پھپھو کو مجرم ٹھہرادیا تھا۔شادی کے محض چار سال بعد وہ طلاق لے کر اپنے بھائی کے گھر آگئیں۔ وہ بھائی جو اپنے ہی چکروں میں پڑے تھے بہن کی کیا پروا کرتے، بس یہ احسان کیا کہ گھر امی اور پھپھو کے نام لگا کر اپنی امیر ترین بیوی کے ہمراہ رخصت ہوگئے اور امی بیچاری اس جھٹکے کو سہار نہ پائیں۔ بس پھر اس کے بعد سے میں اور جاناں پھپھو ہی ایک دوسرے کا سہارا تھے۔
    ”مدحت باجی! ایک بات پوچھوں؟” میں اپنے پلنگ پر نیم دراز کتاب پڑ ھ رہی تھی ،جب دوسرے پلنگ پر بیٹھتے ہوئے اس نے پوچھا۔ ”جی! ضرور۔” میں نے کتاب میں غرق جواب دیا۔
    ”خلیل صاحب کون ہیں؟” اس کے انتہائی غیر متوقع سوال پر میں نے چونک کر سر اُٹھایا ”آئی ایم سوری۔” میں نے اس دن آپ کی اور پھپھو کی باتیں سن لی تھیں۔ مجھے لگا آپ مجھے بھی اس بارے میں ضرور بتائیں گی، مگر وہ شرمندہ شرمندہ سی تھی۔”
    ”سوری تو تمہیں کرنا چاہیے، لیکن اب آیندہ ایسی حرکت مت کرنا۔ میں تمہیں بتادیتی۔ اگر خلیل کے آنے کا کنفرم ہوتا۔ خیر۔ وہ اگلے جمعہ کی فلائٹ سے آرہے ہیں اور میں موصوف کی منکوحہ ہوں۔ یعنی وہ میرے شوہر ہیں ۔ میںنے تحمل سے اسے جواب دیا۔ ”کیا سچ! تو پھر آپ یہاں۔”
    ”ابھی صرف نکاح ہوا ہے،وہ اپنی پڑھائی مکمل کرلیں اگلے سال پھر ہماری شادی ہوجائے گی۔” خلیل میرے خالہ زاد تھے اور میں میٹرک میں تھی جب ان سے میرا نکاح ہوا، بڑوں کی پسند میں آہستہ آہستہ فریقین کی پسند بھی ڈھل گئی ۔ خلیل کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کررہے تھے۔ امید تھی کہ رواں سال انہیں ڈگری مل جائے گی۔ میرے تفصیلات بتانے پر وہ پہلے شرمائی پھر مطمئن ہوئی اور بعد میں مجھے گلے لگا کر ڈھیروں مبارک باد دی۔
    ہم دونوں ٹیرس پر بیٹھے شام کی چائے اور سہانے موسم کا لطف لے رہے تھے۔ خلیل کو مہینا ہوچلا تھا پاکستان آئے مگر چار دن قبل ہی لاہور آئے تھے اور ہمیں آج موقع ملا تھا بیٹھ کر بات کرنے کا۔ ہجر، وصل، پڑھائی، سیاست، فنکشن، جرمنی کا احوال،شوبز پر بات کرنے کے بعد جب سارے موضوع ختم ہوگئے تو انہوں نے ایک غیر معمولی بات کہہ دی ”اس لڑکی کو بھیج دو یہاں سے۔” کپ میرے ہاتھ سے پرچ میں لڑھک سا گیا۔
    ”کیا ہوا کیا تم کچھ ہونے کا انتظار کر رہی ہو۔ وہ میری آنکھوں میں دیکھ رہے تھے اور میں کچھ نہ کہہ سکی۔ ”تم کیسے کسی کی ذمہ داری لے سکتی ہو۔”
    آپ بھی پھپھو کی طرح بات کررہے ہیں، ٹھیک ہے لیکن دیکھیے گا بعد میں آپ ہی میرے فیصلے کو سراہیں گے۔” میں نے تیز لہجے میں دفاع کیا۔ ”پھپھو تمہاری طرح بے وقوف ہوسکتی ہیں، مگر میں نہیں۔”
    ” خلیل!” مجھے پھپھو کے لیے ان کا اس طرح بات کرنا اچھا نہ لگا۔
    ”دیکھو مدحت… تم مجھے انسانیت کے لیکچرز مت دینا شروع کردینا۔ اب تم یہی سوچ رہی ہو نا کہ میں بہت خود غرض ہوں اور تمہیں مجھ سے یہ امید نہ تھی۔” میرے سپاٹ انداز کو دیکھ کر وہ پھر سے گویا ہوئے اور صحیح اندازے لگارہے تھے۔ سفید نظر کا چشمہ لگائے، تراشے ہوئے کالے بال، خاکی جینز اور نیلی ٹی شرٹ پہنے وہ پروفیسر لگ رہے تھے۔ان کا بات کرنے کا انداز بھی افسرانہ ہوتا تھا، وقفے وقفے سے ہاتھوں کو ضرورت کے مطابق دائیں بائیں حرکت دیتے۔
    ”وہ پیاری سی بچی ہے،تم لوگوں کا کیا بگاڑا ہے اس نے میں نے چڑ کر پوچھا ”بچی؟ مانا کہ تمہاری اور اس کی عمر میں کافی فرق ہے اور حالات نے تمہاری سوچ کو بہت پختہ کردیا ہے، مگر اسے کم از کم بچی نہ کہو۔”
    ”آپ کہنا کیا چاہتے ہیں کہ کیا ہوسکتی ہے وہ۔ کوئی چور، کوئی غلط حرکت کی ہوگی اس نے؟ اگر فرض کریں اس نے ایسا کیا بھی ہو تو۔ اب تو وہ بدل گئی ہے نا۔ نارمل لڑکی بن گئی ہے۔ ہم نے اسے جو پیار دیا ہے ،تحفظ فراہم کیا ہے۔ وہ اس کا regard کرتے ہوئے کم از کم دوبارہ تو کوئی بری حرکت نہیں کرے گی نا میں نے اس گفت گو سے جان چھڑانی چاہی یعنی تم مانتی ہو کہ وہ غلط بھی ہوسکتی ہے۔ وہ جیسے مجھے چیلنج کررہے تھے اُف؟

  • جو غائب بھی ہے حاضر بھی — سحرش مصطفیٰ

    جو غائب بھی ہے حاضر بھی — سحرش مصطفیٰ

    ”سر پر ڈوپٹا لے لے۔” اماں نے اسے زور کی جھڑکی دی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی منہ بسور کر اس نے اماں کے حکم کی تعمیل کی۔ دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ جما کر اماں اندر داخل ہوگئی۔ یہ اس کا پسندیدہ بنگلہ تھا۔ نایاب باجی اخلاق کی بہت اچھی تھیں۔ انہوں نے قرآن کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی تھی۔ ملانی تھیں پوری ملانی۔ دین کے بارے میں ایسی ایسی باتیں بتاتیں کہ انسان بس اسی میں کھو جائے۔ اندر داخل ہو کر لاؤنج سے گزر کر دونوں ماں بیٹی کچن میں داخل ہوگئیں۔ وہاں نایاب باجی سر پر اچھی طرح دوپٹا جمائے چائے بنارہی تھیں۔ ان کے چہرے پر جھنجلاہٹ کے تاثرات نمایاں تھے۔ نورین ڈر گئی ۔ وہ ایسی ہی تھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ڈرجانے والی۔
    ”سلام بیگم صاحبہ!” اماں نے بڑی دھیمی آواز میں چہرے پر مظلومیت سجائے سلام کیا۔ ان کی آواز سے تھوڑی دیر پہلے والی کرختگی غائب تھی۔ نورین دل ہی دل میں اماں سے متاثر ہوئی۔
    ”کمال ہے کنیز کتنی دیر سے اُٹھی ہوئی ہوں۔ تمہارا انتظار کرتے کرتے آنکھیں سوکھ گئیں اور تم اب آئی ہو؟ صفدر بھی ناراض ہورہے تھے مجھ سے آج وہ گھر پر ہی ہیں۔ نہ آنا ہو تو بندہ بتاہی دیتا ہے۔” وہ خاصی خفا لگ رہی تھیں۔”
    ”بس جی مجبوری ہو گئی تھی، اس کے باپ کے رشتے دار میرا پیچھا ہی نہیں چھوڑتے۔ ہاتھ دھوکر پیچھے پڑ گئے ہیں، اماں نے کم زور سے لہجے میں ساری تفصیل بتائی۔ جو کچھ پلے تھا سارا کچھ چھین لیا۔ پھر بھی کلیجے نہیں ٹھنڈے پڑتے ان کے بس اسی بلا کو ٹالنے گئی تھی جی۔”
    ”دیکھو اگر تمہیں زیادہ پریشانی ہے تو کچھ دن گھر بیٹھ جاؤ، میں مالی کی بیوی سے کام کروالوں گی۔” نایاب نے اسے دھمکایا۔
    ”نا نا میری میٹھی بیگم صاحبہ! لو کیسی بات کردی جی، میں آپ کے گھر نہیں آؤں گی تو دن کیسے گزرے گا میرا بیگم صاحبہ جی۔ آپ کے گھر میں تو اللہ رسولۖ کا نام چلتا ہے۔ کانوں میں مٹھاس گھلتی ہے چھاتی ٹھنڈی پڑ جاتی ہے۔ بس جی یہ روٹی پانی کی گٹھ نہ ہو نا بیگم صاحبہ تو سارا دن یہیں گزار دوں۔ آپ کا اخلاق اور اسلامی طریقے دیکھ کر تو جی مجھے خوشی ملتی ہے۔ ہر ایک آپ کی طرح نیک تو نہیں ہوتا نا۔” اس کے لہجے میں نمی اترآئی تھی۔ اس کی تعریف نے عجیب انداز میں نایاب کا غصہ ٹھنڈا کردیا۔ نورین نے حیرت سے اماں کو دیکھا جو گھر پر نایاب کو بڑے طنزیہ انداز میں ملانی کہہ کر یاد کرتی تھی۔
    ”ملانی کے گھر میں کیبل ہی نہیں ٹی وی بھی سمجھو خالی ڈبا ہی ہے۔ کیبل کے بغیر نہ گانے نہ ڈرامے، میرا تو دل گھبراتا ہے ایسی خاموشی میں۔ بڑی عجیب باتیں کرتی ہے۔”
    ”یہ بتا کیا کہہ رہے ہیں اب وہ لوگ ؟”اپنا غصہ اترنے کے بعد اسے کنیز کی پریشانی کا خیال آیا۔ نورین نے نہایت حیرت سے باجی کو دیکھا اور پھر اماں کو۔ تھوڑی دیر بعد جب وہ کام ختم کرکے بنگلے سے باہر آئیں تو کنیز کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ نایاب نے اسے ایک ہزار کا نوٹ دیا تھا، صدقے کے پیسوں میں سے۔
    ”اماں ایک بات تو بتا۔” نورین نے اپنے دماغ میں پڑنے والی گرہ کھولنی چاہی۔
    ”ہاں پوچھ!” کنیز نے چنگ چی رکشے کا انتظار کرتے ہوئے اسے اجازت دی۔
    ”اماں جب تو نایاب باجی کے ہاں جاتی ہے تو سر ڈھانپتی ہے۔ مجھے بھی پردہ کرواتی ہے لیکن فرح باجی کے گھر جاتی ہے تو اتار دیتی ہے ایسا کیوں؟”اماں نے ملگجے مگر صاف ستھرے دوپٹے سے پسینا صاف کرتے ہوئے بیٹی کو دیکھا۔

    ”نی نورین پانچ جماعتیں پڑھنے کا کیا فائدہ ؟ تو ابھی بھی جھلی ہے۔ دیکھ میں تجھے بتاتی ہوں یہ جو اپنی ملانی ہے نہ یہ بڑی اسلامی ہے۔ اسے اسلامی طریقے اچھے لگتے ہیں اور وہ جو اپنی فرح میڈم ہے نا۔” فرح کا نام لیتے ہوئے اماں کا لہجہ ہمیشہ پرجوش ہوجاتا تھا۔
    ”ارے وہ بہت ماڈرن ہے، تو اسے ماڈرن طریقے اچھے لگتے ہیں۔ دیکھ تجھے پتا ہے نا فرح باجی کے کتنے دوست آتے ہیں۔ سارے مرد ہوتے ہیں، اب پردے والی بی بی کو تو نہیں رکھے گی وہ کام پر تو اُسے ماڈرن ماسی چاہیے۔ کیا کہتی ہیں باجی وہ لیب… لیب۔” وہ اٹکی تھی۔
    ”لبرل!” نورین نے جھٹ سے اسے درست لفظ بتایا۔ یہ لفظ وہ کئی مرتبہ فرح باجی کے منہ سے سن چکی تھی۔
    ”ہاں میرا پتر وہی۔” چنگ چی رکشا آچکا تھا۔ وہ دونوں اس میں بیٹھ کر روانہ ہوگئیں۔ گھر پہنچ کر بھی اس کا ذہن اسی گتھی کو سلجھاتا رہا۔
    ”لیکن اماں ہم اصل میں کون ہیں؟” نورین کے سوال پر صندوق سے رضائیاں نکالتی کنیز نے کچھ خفگی سے اسے دیکھا”کیا مطلب ہم کون ہیں؟ انسان ہیں ہم۔” وہ اپنے کام میں لگ گئی۔
    ”لیکن اماں ہم ماڈرن ہیں یا اسلامی؟” وہ اپنے مطلب کے سوال پر آگئی تھی۔ رضائی نکال کر اسے جھاڑتے ہوئے کنیز نے اپنی بڑی بیٹی کو دیکھا۔
    جو اس گھر کی واحد بچی تھی جو قابل تھی اور اس نے پانچ جماعتیں پڑھی ہوئی تھیں ۔ اس کے بعد کنیز نے اسے اسکول سے اٹھادیا۔ ایک تو جس بیگم صاحبہ نے اس کا داخلہ کروایا تھا وہ شہر چھوڑ گئی تھی۔ حالاں کہ وہ سرکاری اسکول تھا اور خرچہ کوئی پہاڑ نہیں تھا لیکن کنیز کے خیال میں اب نورین کو پریکٹیکل ہوجانا چاہیے تھا۔ آگے بھی تو یہی کرنا تھا۔ وہ اسے اپنے ساتھ رکھ کر اپنے پروفیشن کے اسرا ر و رموز سکھانا چاہتی تھی اور اس وقت بھی اسے ایک اہم گُر سے آگاہی دینے کا وقت آگیا تھا۔
    وہ اپنا کام چھوڑ کر اس کی طرف آگئی۔
    ”دیکھ میرا پتر! یہ جو سارے شوشے ہوتے ہیں نا یہ امیروں کے ہوتے ہیں۔ ہم غریب جو ہیں ہمارا ایک ہی مسئلہ ہے اور وہ ہے ضرورت۔ ضرورت پڑے تو ماڈرن بن جاؤ، ضرورت پڑے تو اسلامی بن جاؤ۔ دیکھ میرا بچہ یہ جو باجیاں ہوتی ہیں نا ان کو اپنے جیسے لوگ اچھے لگتے ہیں۔ دیکھ فرح باجی کے گھر کبھی سر نہ ڈھانپنا اور نایاب باجی کے گھر کبھی سر ڈھانپے بنا نہ جانا۔ اپنی ضرورت دیکھ کہ وہ کس جگہ کیسے پوری ہوتی ہے، ویسا بھیس بنالے۔”تیرہ سالہ نورین حیرت سے ماں کی باتیں سنتی رہ گئی۔
    ”لیکن اماں میں نے تو کتابوں میں کبھی یہ نہیں پڑھا۔” وہ الجھی تھی، کنیز بے ساختہ ہنس پڑی۔
    ”پگلی ہوگئی ہے تو، یہ کتابیں امیر لوگ لکھتے ہیں۔ یہ تو ہم غریبوں کی باتیں ان کے پلے نہیں پڑتیں۔”
    اماں کی باتیں اس کے ننھے ذہن کو الجھا دیتی تھیں ۔ الجھن بھی ایسی کہ سلجھنے میں نہ آتی ۔ اماں کا فلسفہ عجیب تھا، کچھ کھٹا کچھ میٹھا۔ کبھی اپنے اندر چاشنی لیے ہوئے اور کبھی کڑواہٹ سے بھرا۔ نورین کو ایسا لگتا جیسے غریب کوئی الگ دنیا کی مخلوق ہوتے ہیں۔ اس نے ایک کتاب میں allien کے بارے میں پڑھا تھا۔ اسکول کی تعلیم سے تو اس کا ناتا ٹوٹ چکا تھا لیکن خوش قسمتی سے کتابوں سے ابھی اس کا رشتہ برقرار تھا۔ اماں کے لاکھ منع کرنے کے باوجود وہ پہلی مرتبہ نافرمانی کی مرتکب ہوئی تھی۔
    اسے ہر قسم کی کتابیں پسند تھیں لیکن کتابوں سے یہ دوستی اس کے ذہن میں مزید سوالات کو جنم دیتی تھی ۔ فرح باجی کے گھر میں ایک بہت بڑا کتابوں والا کمرا تھا اور نورین کبھی کبھار اس کمرے کی صفائی کرتے ہوئے کوئی کتاب پڑھ لیتی تھی۔ کبھی آدھی کبھی پوری اور وہیں ایک کتاب کو اپنے اندر جذب کرتے ہوئے اس کی تلاش جیسے مکمل ہوچکی تھی۔
    وہ خوشی خوشی واپس آئی۔ اس دن اس نے کہیں نظریۂ ضرورت کے بارے میں پڑھا تھا اور اِسے پڑھتے ہوئے مسلسل اپنی ماں یاد آئی تھی۔ ہاں یہی تو ہے اماں کا طریقہ ۔ زندگی گزارنے کا سہل طریقہ، نظریۂ ضرورت ۔ مطلب اپنے آپ کو اپنی ضرورت کے لبادے میں ناپنا۔ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے رہنا۔ اپنی ضرورت دیکھ ۔ یہ جملہ اس نے ہزار بار سنا تھا بلکہ شاید ہوش سنبھالنے کے بعد روزانہ۔
    زندگی میں کچھ بھی غلط صحیح نہیں ہوتا، صرف ضرورت کا تابع ہوتا ہے۔ نورین کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے تھے ضرورت کے نام پر۔
    ضرورت کے وقت سب کرنا جائز تھا۔ زبان سے جھوٹ کے دریا بہانا جائز تھا۔اپنے چہرے پرمنافقت کی چادر اوڑھنابھی جائز تھا۔
    ضرورت ، ضرورت… آخر کیا تھی ضرورت ؟عفریت یا مصیبت؟
    آخر یہ ضرورت تھی کیا؟ کون تھی جو صرف غریبوں کے حصے میں آتی ہے۔ امیروں کو اس کی پروا کیوں نہیں ہوتی؟ اس کا ذہن اس فرق کو ناپنے اور سمجھنے سے قاصر تھا کہ جدید ماڈل کی گاڑیوں اور جہازی سائز کے گھروں میں رہنے والوں کی ضرورتیں کچھ اور ہوتی ہیں اور وہ بھی ایسا ہی کرتے ہیں، اپنی ضرورت کے رعب میں آکر صحیح اور غلط کی پہچان کھودیتے ہیں۔
    وہ گیارہ سال کی تھی جب اس نے ماں کے منہ سے پہلی بار یہ لفظ سنا اور اگلے کئی سال تک وہ اس لفظ کو باقاعدگی سے سنتی رہی۔ کم عمر نورین اپنی ماں کے منہ سے نکلنے والے ہر حرف کو کتابوں میں ڈھونڈتی اور مایوس ہوجاتی تھی ۔ کتابوں میں پڑھی ہوئی باتیں اپنی ماں میں ڈھونڈتی اور یہ مایوسی کی خلیج اور بڑھ جاتی۔
    اس کی زندگی میں ایسا کچھ نہیں تھا جو کتابوں میں تھا۔ کتابوں والی زندگی تو فرح باجی اور نایاب باجی کے گھروں میں تھی۔
    دو کمروں کا مکان جہاں سب سے بڑا اثاثہ ایک زنگ آلودلوہے کی فولڈنگ چارپائی تھی اور جس میں قابلِ فخر چیز اندرونی کمرے میں لگا ہوا وہ پنکھا تھا جو پچھلے رمضان فرح باجی کے ایک جاننے والے نے دیا تھا اور سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ ان کا گھر پکا تھا۔ دیواریں رنگ و روغن سے عاری لیکن سیمنٹ کی تھیں۔ یہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی جو اس تنگ گلی والے محلے میں بہت کم لوگوں کو حاصل تھی۔ اماں جھوٹ بول کر بہانے کرکے اور جھوٹی سچی تعریفیں لگا کر اپنی جھولی کو صدقے اور خیرات کے مال سے بھرتی رہتی تھیں۔ ان کا گھر اس گلی کا واحد گھر تھا جس میں بڑی عید کے علاوہ بھی گوشت بنتا تھا اور اماں کو لگتا تھا کہ یہ سب اس کی عقل مندانہ اور بروقت پالیسیوں کا کمال ہے۔
    وقت کے ساتھ ساتھ نورین نے کتابوں میں جھانکنا چھوڑ دیا تھا۔ کام بھی بڑھ گیا۔
    لیکن کچھ تھا جس کی چبھن تھی کوئی روگ تھا یا پھر کچھ اور، وہ اپنی اس زندگی سے خوش نہیں تھی۔
    وہ کچھ سمجھی اور کچھ ناسمجھی کے عالم میں زندگی گزارتی رہی ۔ سترہواں سال لگتے لگتے وہ کام میں ماہر ہوگئی تھی لیکن زبان و بیاں میں اماں جیسی چابک دستی اور چاپلوسی نہیں آسکی تھی ۔ جہاں ماشااللہ کہنا ہوتا وہاں الحمدللہ کہہ جاتی جہاں آمین کہنا ہوتا وہاں ان شا اللہ کہہ جاتی اور پھر اماں کو اپنے لفظوں کا جادو جگانا پڑتا۔ ابھی وہ اسے اکیلے کام پر نہیں بھیجتی تھی۔
    کنیز کا خیال تھا کہ نوری کو ابھی مزید ٹریننگ کی ضرورت ہے۔ نوری کو کتابوں سے عشق تھا۔ اس کا ذہن اکثر اماں کی پالیسی برائے ضرورت کو برے طریقے سے مسترد کرتا تھا ۔ وہ اکثر بے اختیار کوئی جملہ کہہ جاتی تھی۔
    ”دیکھ نوری تو اپنی یہ جو کتابی باتیں ہیں نا ان کو اپنے آپ میں ہی رکھا کر، اِدھر اُدھر پھیلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تیرے چھوٹے بہن بھائیوں کو لت لگ گئی نا تو میں کیسے چھڑؤاں گی۔ ویسے ہی تونے مجھے تنگ کرکے رکھا ہے۔”ایک دن اماں نے تنگ آکر کہا۔
    ”دیکھ پتر تونہیں جانتی یہ ضرورت کیا ہوتی ہے۔ یہ جو نایاب باجی ہے نا اپنی ملانی، یہ جودوپٹے پہنتی ہے نا ان کی قیمت ہزاروں میں ہوتی ہے اور ہر سوٹ کی میچنگ چیزیں لیتی ہے، کپڑوں لتوں کا خرچہ الگ اور ہمیں دو ہزار دیتے ہوئے اس کی جان جاتی ہے اور بنی پھرتی ہے اسلامی۔ اگر ایک دو جملوں کی نوٹنکی کرکے ہمیں اچھا کھانے کو مل جائے تو کیا برائی ہے؟” اب کی بار اماں نے اسے قدرے نرمی سے سمجھایا۔
    ”اماں رزق دینے والی اللہ کی ذات ہے اس کے لیے تجھے یہ ڈرامے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔” نورین کی بات سن کر کنیز حیران رہ گئی۔ اسے یہ بات ٹھیک سے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس کی بیٹی کے پاس علم آگیا تھا اور وہ صحیح اور غلط کی تمیز کرنا سیکھ گئی تھی۔
    ”ہم غریب ہیں، ضرورت مند ہیں ہم پر کوئی گناہ نہیں آتا تجھے آہستہ آہستہ پتا لگ جائے گا۔” وہ اسے اس منافقت کی توجیہہ پیش کرتی تھی۔