Tag: kids story

  • پڑھاکو روبینہ | لبنیٰ حمید

    پڑھاکو روبینہ | لبنیٰ حمید

    پڑھاکو روبینہ

    لبنیٰ حمید

    کسی قصبے میں روبینہ نام کی ایک لڑکی رہتی تھی۔ اُس کے پاس ڈھیر ساری کتابیں تھیں لیکن اُسے اِن کتابوں سے کوئی دل چسپی نہ تھی۔ ایک دن روبینہ کا کتا اُس کی کتابوں والی الماری پرچڑھ گیا۔ روبینہ اُسے نیچے اتارنے لگی تو ساری کتابیں زمین پر گر گئیں اور اُن کے صفحات پھٹ گئے۔ کتابوں کے صفحوں سے جانور نکل کر باہر آنے لگے۔ روبینہ حیرانی سے سب کو دیکھ رہی تھی۔ ہاتھی میز پر ناچ رہا تھا۔ بندروں نے پردے پھاڑ کر پگڑیاں بنالی تھیں۔ خرگوش اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے جب کہ دُنبہ ایک طرف کھڑا رو رہا تھا۔
    ”رکو! تم سب واپس آجاؤ۔” روبینہ غصے سے چلّائی مگر اِس شور میں کسی نے اُس کی آواز نہ سنی۔
    اچانک روبینہ کو ایک خیال آیا۔ اُس نے ایک کتاب کھول کر کہانی پڑھنا شروع کی: ”ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی ملک میں…” سب جانور قریب آکر روبینہ کی کہانی سننے لگے۔ اچانک روبینہ نے دوسرا صفحہ پلٹا تو بندر اُچھلنے لگے:
    ”یہ ہمارے بارے میں لکھا ہے۔” اِس کے بعد وہ چھلانگیں لگاتے ہوئے کتاب کے اندر غائب ہوگئے۔ روبینہ یہ دیکھ کر حیران ہوئی لیکن وہ کہانی پڑھتی رہی۔ یوں ایک ایک کرکے سب جانور دوبارہ کتابوں میں بند ہوگئے۔ اب پورے گھر میں خاموشی تھی۔ ”میں انہیں دوبارہ کیسے دیکھ پاؤں گی؟” روبینہ افسردگی سے بولی مگر پھر اچانک اُسے ایک خیال آیا اور وہ مُسکرانے لگی۔
    اب وہ روزانہ اپنے اسکول کی کتابیں اور کہانیاں بہت شوق سے پڑھنے لگی۔ اُسے کتابیں پڑھنے میں مزا آنے لگا۔ اب وہ روزانہ کتابوں میں سب جانورں سے ملاقات کرلیتی تھی۔

  • کہاوت کہانی | مسور کی دال | ضیاء اللہ محسن

    کہاوت کہانی | مسور کی دال | ضیاء اللہ محسن

    کہاوت کہانی
    مسور کی دال
    ضیاء اللہ محسن

    پرانے زمانے میں ہندوستان پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ کھانے پینے کا بہت شوقین تھا اسی لیے اُس نے اپنے محل میں بہت وسیع باورچی خانہ بنارکھا تھا۔ اس باورچی خانے میں بہت سے باورچی نت نئے پکوان بنا کر بادشاہ کو خوش کرتے اور اس سے انعام لیتے۔ مسور کی دال اُن دنوں بہت قیمتی ڈش سمجھی جاتی تھی۔ جیسے آج کل گوشت یا مچھلی پسند کی جاتی ہے۔ بادشاہ کو بھی مسور کی دال بہت پسند تھی۔
    ایک دن بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو باورچی مسور کی دال سب سے اچھی بنائے گا اُسے خاص انعام و کرام سے نوازا جائے گا۔ چناں چہ تمام شاہی باورچیوں نے اچھی سے اچھی دال بنانے کے لیے محنت کی لیکن بادشاہ کو کسی کا ذائقہ پسند نہ آیا۔ انہی دنوں ایران سے ایک باورچی ہندوستان آیا ہوا تھا۔ وہ کھانا بنانے میں بہت ماہر تھا۔ چناں چہ اُسے بھی محل میں دعوت دی گئی تاکہ وہ اپنی قسمت آزمائے۔
    خدا کا کرنا یہ ہوا کہ بادشاہ کو حاذق نامی اس باورچی کی بنائی گئی دال پسند آگئی۔ چناں چہ اُسے انعام و اکرام دے کر شاہی باورچیوں میں شامل کر لیا گیا۔ رفتہ رفتہ یہ باورچی بادشاہ کا خاص اور لاڈلا بن گیا۔ بادشاہ کو جب بھی مسور کی دال کھانا ہوتی تو حاذق ہی کو کہا جاتا۔
    دن یونہی گزرتے گئے۔ ایک دن بادشاہ بیمار پڑگیا۔ اُسے لگا کہ اُس کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔ چناں چہ بادشاہ نے شاہی خاندان کے تمام افراد کو ایک دعوت پر مدعو کیا تاکہ نئے بادشاہ کے نام کے لیے سوچ بچار کی جاسکے۔ چوں کہ بادشاہ کی کوئی اولاد نہ تھی چناں چہ نئے بادشاہ کے لیے کسی قریبی عزیز کا نام دے دیا گیا۔ اِس اعلان کے چند روز بعد بادشاہ کا انتقال ہوگیا۔ اب تختِ شاہی پر نیا بادشاہ بیٹھ چکا تھا لیکن اپنی فطرت میں یہ کچھ تنگ دل اور کنجوس تھا۔
    کچھ روز بعد نئے بادشاہ نے مسور کی دال کھانے کی فرمائش کی۔ چناں چہ حاذق باورچی نے دال تیار کرکے بادشاہ کے دسترخوان پر پیش کی، جسے کھاتے ہی بادشاہ کا منہ بن گیا۔ اُسے دال پسند نہ آئی۔ بادشاہ حاذق پر بگڑتے ہوئے بولا:
    ”اے پردیسی باورچی! کیا تمہیں کھانا پکانا نہیں آتا؟ ہونہہ… کیا ہی بد ذائقہ چیز بنائی ہے۔”
    یہ بات سنتے ہی ایرانی باورچی حاذق نے جواب دیا: ”بادشاہ سلامت! دال تو وہی ہے جو میں پہلے بنایا کرتا تھا البتہ اب کھانے والا منہ بدل گیا ہے۔ ہونہہ… یہ منہ اور مسور کی دال…” یہ کہتے ہوئے حاذق نے محل سے اپنا بوریا بستر سمیٹا اور ایران جانے کی تیاری کرنے لگا۔ اُسے معلوم ہوگیا کہ اب یہاں اِس کی قدر نہیں ہوگی۔
    پیارے بچو! حاذق تو واپس ایران چلا گیا لیکن اُس کا بولا گیا جملہ اتنا مشہور ہوا کہ رفتہ رفتہ وہ کہاوت بن گئی جو آج بھی مشہور ہے۔ یہ منہ اور مسور کی دال۔ آج بھی اگر کوئی آدمی کسی کام یا کسی خدمت کے لائق نہ ہو تو اس کے لیے یہی کہاوت بولی جاتی ہے۔
    ٭…٭…٭