Tag: kids poem

  • رات کو دیکھوں!

    رات کو دیکھوں!

    رات کو دیکھوں!
    صوبیہ اطہر

    رات کو دیکھوں، جی للچائے
    کوئی تارا ہاتھ میں آئے

    امی بولیں بیٹے پیارے
    تم بھی تو ہو میرے تارے

    پُھولے گال، چمکتی آنکھیں
    خُوش بو، خُوش بو، مہکی سانسیں

    ننھے منّے پیارے پیارے
    ربّ نے بنائے کتنے سارے

    ٹِم ٹِم کرتے پیارے تارے
    دیکھو ربّ کی قدرت سارے

    ٭…٭…٭

  • چلتا جا تُو الف نگر میں!

    چلتا جا تُو الف نگر میں!

    چلتا جا تُو الف نگر میں!
    ضیاء اللہ محسن

    چاند چکوری ہوتا بھیّا

    تارے ہوتے گول
    سورج چاچو لمبے ہوتے

    کھمبے گول مٹول
    چُوں چُوں چڑیا چارہ کھاتی

    ٹھک ٹھک بجتا ڈھول
    کہاں ہے ممکن؟ کیسے ممکن؟

    پیارے بھیّا بول
    چلتا جا تُو الف نگر کے بند دروازے کھول
    بول بول تُو من کی باتیں بول
    ہر ایک چیز سہانی ہے

    کیا دلچسپ کہانی ہے
    شانی، مانی بچے ہیں

    اور بچوں کی نانی ہے
    عینک والا اُلّو ہے

    توتلا تیتر تانی ہے
    جگ مگ جَو جَو جگنو بھیّا

    ثمر کی گڑیا ثانی ہے
    بی بی بطخو بڑی سیانی، بات کرے انمول
    بول بول تُو من کی باتیں بول

  • آزادی کی نعمت

    آزادی کی نعمت

    آزادی کی نعمت
    عظمیٰ رحمان ہاشمی

    آزادی کا جشن مناتے رہنا ہے
    گیت سدا خوشیوں کے گاتے رہنا ہے

    لاکھوں جانیں دے کر جس کو پایا تھا
    اس گلشن کو خوب سجاتے رہنا ہے

    اس کی خاطر کتنے درد اٹھائے تھے
    اب خوشیوں کے پھول بچھاتے رہنا ہے

    دشمن پر ہیبت ہو جائے گی طاری
    آزادی کے گیت سناتے رہنا ہے

    دیس کی عزت اپنی جان سے پیاری ہے
    ہر پل اس کی شان بڑھاتے رہنا ہے

    آزادی کی نعمت کے شکرانے میں
    الفت کے اب دیپ جلاتے رہنا ہے

    پاک وطن کی خاطر جینا مرنا ہے
    دیس پہ امبر جان لٹاتے رہنا ہے

    ٭…٭…٭

  • بلّی اور پرندہ

    بلّی اور پرندہ

    بلّی اور پرندہ
    عبدالمجید سالک

    سنا ہے کسی گھر میں تھی ایک بلّی
    وہ چوہوں کو کھا کھا کے تنگ آگئی تھی
    اسے صبح شام ایک کھانا نہ بھاتا
    بھلا صبر اک چیز پر کیوں کر آتا؟
    بس اک روز بلّی نے یہ دل میں ٹھانا
    کہ ڈھونڈوں گی اب میں نیا کوئی کھانا
    چڑھی ایک کوٹھے پہ یہ سوچ کر وہ
    لگی جھانکنے پھر اِدھر اور اُدھر وہ
    نظر اک طرف جب اُٹھائی تو دیکھا
    کہ ہے ایک لڑکے کا چھوٹا سا کمرہ
    دریچے میں ننّھا سا پنجرا ٹنگا ہے
    اور اُس میں پرندہ کوئی خوش نما ہے
    پرندہ وہ پنجرے میں جب چہچہایا
    وہیں منہ میں بلّی کے پانی بھر آیا
    اُٹھی اور دبے پاؤں کمرے کو چل دی
    قدم کو اُٹھاتی چلی جلدی جلدی
    جو دیکھا کہ کمرے میں لڑکا نہیں ہے
    اور اُس کے پرندے کا پنجرا وہیں ہے
    غضب ناک ہو کر وہ پنجرے پہ جھپٹی
    وہ گویا کہ بپھری ہوئی شیرنی تھی
    پڑا ہاتھ بلّی کا پنجرے کے در پر
    زمیں پر گری اُس کی زنجیر کھل کر
    نہ پھولی سمائی جو بلّی نے دیکھا
    کہ اب تو ہے قبضے میں میرے پرندہ

    ابھی باہر اِس کو پکڑ لاؤں گی میں
    ابھی پھاڑ کر اِس کو کھا جاؤں گی میں
    پرندے نے دیکھا کہ آئی ہے آفت
    نہیں آج کچھ جان بچنے کی صورت
    اچانک جو در کو کُھلا اُس نے دیکھا
    وہ پھر سے اُڑا اور پنجرے سے نکلا
    وہ جنگل کی جانب اُڑا گیت گاتا
    چہکتا گیا اور تانیں اُڑاتا
    وہ بلّی ہوئی غرق شرمندگی میں
    یہ پہلی شکست اُس کی تھی زندگی میں
    یہ دھوکا جو کھایا پریشان تھی وہ
    پرندے کے اُڑنے سے حیران تھی وہ
    وہ کہتی تھی اک بے حقیقت پرندہ
    مجھے حیف! اِس طرح دے جائے دھوکا
    نتیجہ یہ ہے اِس کا اے پھول بچّو!
    پرندے سے عقل اور دانائی سیکھو
    کہ کام آتی ہے وقت پر عقل مندی
    نہ جانے دو ہاتھوں سے موقع کو تم بھی
    ٭…٭…٭