Tag: kids content

  • ہڑپہ اور موہنجو دڑو کی کہانی

    ہڑپہ اور موہنجو دڑو کی کہانی

    ہڑپہ اور موہنجو دڑو کی کہانی
    کہانی بڑی پرانی!
    سمیع اللہ حامد۔ بحرین

    اِدھر آؤ بچو! کہانی سنو!
    کہانی ہماری زبانی سنو!

    کہانی یہ ماضی کی سوغات ہے
    یہ صدیوں پرانی ملاقات ہے

    کنارے پہ راوی کے اِک ملک تھا
    اور آباد و خوش حال، اچھا بھلا

    بنے تھے ہر اِک سمت پکے مکاں
    سرِ شام اُٹھتا تھا جن سے دھواں

    وہاں منڈیاں اور بازار تھے
    کساں تھے، جولاہے تھے، کمہار تھے

    بنے تھے فِصیلوں پہ کچھ دَمدمے
    کہ جلتے تھے شب بھر وہاں قمقمے

    وہاں کا جو تھا بادشاہ دوستو!
    وہ رکھتا تھا سب پر نگاہ دوستو!

    ہری رُوپا تھا اُس کی بیٹی کا نام
    کِیا کرتی تھی سلطنت کے وہ کام

    وہ شہزادی قدرت کا اظہار تھی
    وہ حُسن و ذہانت کا شہکار تھی

    رعایا تھی خوش اُن سے بے انتہا
    وہ کرتے تھے جاں اپنی اُن پر فدا

    کہیں دُور بہتا تھا دریا ”سواں”
    وہاں کا تھا شہزادہ موہن جہاں
    تھا شہزادہ موہن بہت خُوبرو
    نہایت بہادر، بڑا جنگ جُو

    یونہی ایک دن اُس نے یہ ٹھان لی
    کروں کیوں نہ میں سیر ہر ملک کی

    اجازت جو گھر والوں سے مل گئی
    تو موہن کے دل کی کلی کِھل گئی

    کہا اُس کی امّی نے بیٹے مرے!
    سپاہی بھی کچھ ساتھ ہوں گے ترے

    کمر بستہ سب تھے سفر کے لیے
    پھر اِک دن سفر پر سبھی چل پڑے

    تھکن سے وہ گرتے سنبھلتے رہے
    مگر سب مسلسل ہی چلتے رہے

    اسی طرح سیّاحوں کے بھیس میں
    وہ پہنچے ہری روپا کے دیس میں

    وہیں اک سرائے میں رہنے لگے
    ہے اچھی جگہ، سب یہ کہنے لگے

    کبھی گھومنے جاتے گُل زار میں
    کبھی پھرتے دن بھر وہ بازار میں

    وہ دولت بھی لے آئے تھے ساتھ ہی
    سبھی نے خریداری جی بھر کے کی

    انھوں نے خریدے کچھ اوزار بھی
    لیے سیپیوں سے بنے ہار بھی

    سبھی نے خریدیں نئی کنگھیاں
    جو ہاتھی کے دانتوں سے بنتی تھیں واں
    ہر اِک نے پسندیدہ محفل چُنی
    کچھ اپنی سنائی، کچھ اُن کی سنی

    نہ جانے خبر کس طرح اُڑ گئی
    کہ موہن نہیں عام سا آدمی

    وہ جو دور بہتا ہے دریا ”سواں”
    وہاں کا ہے شہزادہ موہن جہاں

    خبر جب یہی بادشاہ کو ملی
    تو فوراً ہی دوڑائے دو ایلچی

    محل میں پھر اُس نے بلایا انھیں
    مزے دار کھانا کھلایا انھیں

    سبھی نے پھر اُن سے ملاقات کی
    انھی سب میں رُوپا بھی موجود تھی

    چلا اُن کی باتوں کا اِک سلسلہ
    تو رُوپا نے بھی اِس میں حصہ لیا

    جو موہن سے رُوپا نے کی بات چیت
    لگا اُس کو جیسے وہ گاتی ہو گیت

    کِیا دل میں موہن نے اِک فیصلہ
    قریب آکے پھر بادشاہ سے کہا

    اگر آپ کی ہو اجازت حضور!
    تو رُوپا کو دلہن بناؤں ضرور

    سبھی کو پسند آئی موہن کی ذات
    ہوئی پکی یوں اُن کے رشتے کی بات

    رہے اُس جگہ کچھ دن آرام سے
    تھی آزادی سب کو ہر اِک کام سے
    محل ہی میں سب نے گزارے وہ دن
    تھے سوچوں سے بھی بڑھ کے پیارے وہ دن

    جدائی جو گھر کی ستانے لگی
    وطن کی انھیں یاد آنے لگی

    پھر اِک دن وہ رختِ سفر باندھ کر
    چلے، کیونکہ لمبا تھا اُن کا سفر

    لیے سب نے جب خوب آنسو بہا
    تو موہن نے فوراً ہی اُن سے کہا

    میں واپس نہ آئوں، مری کیا مجال
    کریں گے یہ شادی ہم اگلے ہی سال

    مسافت تھی اُن کی بہت ہی طویل
    سفر اُن کو درپیش تھا چھے سو میل

    اکہتر دنوں میں وہ پہنچے وطن
    تھکاوٹ سے تھے چُور اُن کے بدن

    جو آئے ملاقات کرنے سبھی
    سنی پھر کہانی ہری رُوپا کی

    وہ موہن کی منگنی پہ خوش ہو گئے
    خیالوں میں شادی کے وہ کھو گئے

    مگر باپ نے یہ کِیا فیصلہ
    میں خود جائوں گا لے کے اِک قافلہ

    کِیا بادشاہ نے جو عزمِ سفر
    تو ہنستی تھی اُس پر قضا و قدر

    ہری رُوپا کے دیس پہنچا وہ جب
    وہاں اُس نے نظّارے دیکھے عجب

    کہ وہ سب تھے خوش حال بے انتہا
    ملا تھا انھیں مال بے انتہا
    بہت خوش ہوئے اُن کی آمد سے لوگ
    انہیں کیا پتا تھا کہ کل ہو گا سوگ

    رہے اُن کے مہمان خانے میں وہ
    معزز تھے کیونکہ زمانے میں وہ

    ہوئی بادشاہ کی جو نیّت خراب
    تو حملے کا اُس نے کیا اِرتکاب

    مکینوں کو تلواروں پر دھر لیا
    نہتوں کو بھی قتل اُس نے کِیا

    ہری رُوپا کے والد اور والدہ
    نہ تھی اُن کے بچنے کی کوئی جگہ

    غرض خون اُس نے بہایا بہت
    ڈرایا بہت اور ستایا بہت

    جو دریائے راوی نے دیکھا ستم
    تو غصے میں وہ آگیا ایک دم

    بہاؤ کا رُخ اُس نے موڑا اِدھر
    جہاں پر تھا واقع ہری کا نگر

    درختوں کو ٹیلوں کو ڈھاتا ہوا
    پرانی فصیلیں گِراتا ہوا

    وہ داخل ہوا اُس طرح شہر میں
    کہ طغیانی تھی اُس کی ہر لہر میں

    تھی رفتار اُس کی بہت تند و تیز
    درندہ ہو جیسے کوئی خون ریز

    وہ آبادیوں کو کچلتا گیا
    ہر اِک شے کو گویا نگلتا گیا
    جہاں تھے کبھی کچے پکے مکاں
    وہاں اب تھا ہر سمت پانی رواں

    جو موہن کو پہنچی یہی داستاں
    تو لُٹ ہی گیا اُس کے دل کا جہاں

    وہ گھبرا کے دریا ”سواں” پر گیا
    بالآخر وہیں ڈوب کر مر گیا

    خفا ہو گیا واں بھی دریا سواں
    تو دہرائی اُس نے وہی داستاں

    پھنسا ملک موہن کا گرداب میں
    ہوا غرق سارا ہی سیلاب میں

    یہ دونوں وطن مٹ گئے اِس طرح
    کہ موجود تھے ہی نہیں جس طرح

    سنو پیارے بچو! سناتا ہوں میں
    کہانی کا مقصد بتاتا ہوں میں

    ہڑپہ جسے آج کہتے ہیں سب
    ہری رُوپا لڑکی ہے اِس کا سبب

    وطن تھا جو موہن کا اے دوستو!
    اُسے کہتے ہیں اب موہنجو دڑو

    ہُوا ساتھیو! اب یہ قصّہ تمام
    کہ دنیا کو حاصل نہیں ہے دوام

    کوئی بھی ہمیشہ نہ رہ پائے گا
    کسی روز حامد بھی مر جائے گا

    یہ دنیا بھی کیا ہے، فقط خار و خس
    ہے اللہ بس اور باقی ہَوس
    ٭…٭…٭

    مشکل الفاظ
    1۔ فِصیلیں (دیواریں)
    2۔ دمدمے (مورچے)
    3۔ خوبرو (خوبصورت)
    4۔ رختِ سفر (سفر کا سامان)
    5۔ ارتکاب (غلط کام)
    6۔ طغیانی (سیلاب)
    7۔ خون ریز (خون بہانے والا)
    8۔ دوام (ہمیشہ)
    9۔ خاروخس (کانٹے اور گھاس)
    نوٹ
    پیارے دوستو! اس ”نظم کہانی” کو غور سے پڑھیں اور پوری کہانی کو اپنے ذہن میں دہرا کر اس کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیں۔

  • میٹھے بول

    میٹھے بول

    میٹھے بول
    ضیاء اللہ محسن

    جب بھی بچو بولو تم
    لب اپنے جب کھولو تم

    لہجہ ایسا، من کو بھائے
    اور باتوں سے خوشبو آئے

    منہ سے نکلیں میٹھے بول
    بول بھی ایسے کہ انمول

    گالی سے پرہیز کرو
    مت آواز کو تیز کرو

    کسی کا الٹا نام نہ لو
    کسی کو تم الزام نہ دو

    تب بدلے گا یہ ماحول
    جب بولو گے میٹھے بول

    میٹھا بول تو سنّت ہے
    اسی میں اپنی جنت ہے

    سنّت کو اپناتے جاؤ
    میٹھے بول سناتے جاؤ

    میٹھے بول کا اونچا تول
    میٹھے بول بڑے انمول
    ٭…٭…٭

  • محمدۖ کے جیسا نہیں کوئی بھی

    محمدۖ کے جیسا نہیں کوئی بھی

    محمدۖ کے جیسا نہیں کوئی بھی
    محمد ارسلان اللہ خان

    نہیں بعد اُن ۖ کے کوئی بھی نبی
    یہ امُّت بھی ہے امُّتِ آخری

    جو گُزرے اطاعت میں سرکار ۖ کی
    بہت قابلِ رشک ہے زندگی

    بتایا انہوں نے کہ رب ایک ہے
    نہیں اس سے بڑھ کر کوئی آگہی

    جو چاہے کوئی رب کا محبوب ہو
    خُدا کے نبی ۖ کی کرے پیروی

    جو آقاۖکے نقشِ قدم پہ چلا
    وہ پائے گا دونوں جہاں میں خوشی

    حقیقت یہی ہے کہ بعدِ خُدا
    محمد ۖ کے جیسا نہیں کوئی بھی

    یہی ارسلاں! مُصطفیٰ ۖ نے کہا
    کرو ایک اللہ کی بندگی
    ٭…٭…٭

  • کریلا

    کریلا

    الف نگر مقابلہ کی چوتھی بہترین نظم

    کریلا
    ناہید حیات

    میں ہوں سبزی، نام کریلا
    جو بھی کھائے کرے واویلا

    کڑوا ہوں اور نیم چڑھا بھی
    کچھ کچھ چھوٹا اور بڑا بھی

    امی جب بھی مجھے پکائیں
    سارے بچے منہ بنائیں

    ابّو مجھ کو شوق سے کھائیں
    ہر ہفتے سالن بنوائیں

    دادا کی فرمائش ہوں میں
    دادی کی بھی خواہش ہوں میں

    ہر اک کو میں نہیں ہوں بھاتا
    کوئی کوئی مجھے ہے کھاتا

    ٭…٭…٭

  • بلّی اور پرندہ

    بلّی اور پرندہ

    بلّی اور پرندہ
    عبدالمجید سالک

    سنا ہے کسی گھر میں تھی ایک بلّی
    وہ چوہوں کو کھا کھا کے تنگ آگئی تھی
    اسے صبح شام ایک کھانا نہ بھاتا
    بھلا صبر اک چیز پر کیوں کر آتا؟
    بس اک روز بلّی نے یہ دل میں ٹھانا
    کہ ڈھونڈوں گی اب میں نیا کوئی کھانا
    چڑھی ایک کوٹھے پہ یہ سوچ کر وہ
    لگی جھانکنے پھر اِدھر اور اُدھر وہ
    نظر اک طرف جب اُٹھائی تو دیکھا
    کہ ہے ایک لڑکے کا چھوٹا سا کمرہ
    دریچے میں ننّھا سا پنجرا ٹنگا ہے
    اور اُس میں پرندہ کوئی خوش نما ہے
    پرندہ وہ پنجرے میں جب چہچہایا
    وہیں منہ میں بلّی کے پانی بھر آیا
    اُٹھی اور دبے پاؤں کمرے کو چل دی
    قدم کو اُٹھاتی چلی جلدی جلدی
    جو دیکھا کہ کمرے میں لڑکا نہیں ہے
    اور اُس کے پرندے کا پنجرا وہیں ہے
    غضب ناک ہو کر وہ پنجرے پہ جھپٹی
    وہ گویا کہ بپھری ہوئی شیرنی تھی
    پڑا ہاتھ بلّی کا پنجرے کے در پر
    زمیں پر گری اُس کی زنجیر کھل کر
    نہ پھولی سمائی جو بلّی نے دیکھا
    کہ اب تو ہے قبضے میں میرے پرندہ

    ابھی باہر اِس کو پکڑ لاؤں گی میں
    ابھی پھاڑ کر اِس کو کھا جاؤں گی میں
    پرندے نے دیکھا کہ آئی ہے آفت
    نہیں آج کچھ جان بچنے کی صورت
    اچانک جو در کو کُھلا اُس نے دیکھا
    وہ پھر سے اُڑا اور پنجرے سے نکلا
    وہ جنگل کی جانب اُڑا گیت گاتا
    چہکتا گیا اور تانیں اُڑاتا
    وہ بلّی ہوئی غرق شرمندگی میں
    یہ پہلی شکست اُس کی تھی زندگی میں
    یہ دھوکا جو کھایا پریشان تھی وہ
    پرندے کے اُڑنے سے حیران تھی وہ
    وہ کہتی تھی اک بے حقیقت پرندہ
    مجھے حیف! اِس طرح دے جائے دھوکا
    نتیجہ یہ ہے اِس کا اے پھول بچّو!
    پرندے سے عقل اور دانائی سیکھو
    کہ کام آتی ہے وقت پر عقل مندی
    نہ جانے دو ہاتھوں سے موقع کو تم بھی
    ٭…٭…٭