Tag: junaid jamshaid

  • امربیل — قسط نمبر ۳

    امربیل — قسط نمبر ۳

    اگلے دن یونیورسٹی میں اس کا دل نہیں لگا تھا۔ گھر واپس آتے ہی وہ سیدھا کچن میں گئی۔
    ”نانو رات کے لئے کیا پکوا رہی ہیں!”
    ” کوئی خاص چیز کھا نے کو دل چاہ رہا ہے؟”
    نانو نے مسکراتے ہوئے پوچھاتھا۔
    ”نہیں ! میں اپنے لئے نہیں عمر کے لئے پوچھ رہی ہوں۔ اس کے لئے کیا بنوا رہی ہیں۔”
    نانو کرسی پر بیٹھی ملازم سے فریزر صاف کروا رہی تھیں۔ انہوں نے کچھ حیرانی سے دیکھاتھا۔




    ”عمر کے لئے تو کچھ بھی نہیں بنوارہی۔”
    ”کیوں نانو ؟”
    وہ کچھ حیران رہ گئی۔
    ”آپ کو یاد ہے نا کہ وہ رات کو آ رہا ہے؟”
    ”ہاں ، مجھے یاد ہے ، وہ دو بجے کی فلائٹ سے یہاں آئے گا۔ پہنچتے پہنچتے اسے تین بج جائیں گے ظاہر ہے کہ اس وقت تو وہ کھانا نہیں کھائے گا، سیدھا سونے کے لئے چلا جائے گا۔”
    ”پھر بھی نانو! فرض کریں اس نے کھانا نہ کھا یا ہوا تو؟”
    ”یہ فرض کرنے والی بات ہے ہی نہیں ، وہ رات کا کھانا یقیناً فلائیٹ میں ہی کھائے گا۔ تم جانتی ہو کہ کھانے کے معاملہ میں وہ کتنا باقاعدہ ہے۔”
    ”پھر بھی نانو! بھوک کا کیا ہے۔ وہ تو کسی بھی وقت لگ سکتی ہے، اگر اس نے کچھ کھا نے کے لئے مانگ لیا؟”
    ”بعض دفعہ تم حماقت کی حد کر دیتی ہوعلیزہ! اس طرح بات کر رہی ہو جیسے گھر میں کھانے کے لئے کچھ ہو ہی نا۔ تمہیں پتہ ہے ہر وقت فریج میں دو، تین ڈشز ضرور ہوتی ہیں۔ بھوکا نہیں سو ئے گاوہ۔”
    علیزہ کچھ شرمندہ سی ہو گئی تھی۔
    ”البتہ کل کے لئے میں کافی ڈشز بنوا رہی ہوں، تم دیکھ لینا بلکہ خود بھی خانساماں سے کہہ دینا ، اگر کوئی خاص چیز وہ بھو ل جائے تو۔”
    وہ اب دوبارہ ملازم کی طرف متوجہ ہو چکی تھیں۔
    ”میں دیکھ لوں گی ، آپ فکر نہ کریں۔”
    وہ کچن سے باہر آگئی تھی، لاؤنج کی گھڑی تین بجا رہی تھی۔
    ”اور وہ رات کے تین بجے گھر پہنچے گا۔ ابھی پورے بارہ گھنٹے باقی ہیں اور مجھے ان بارہ گھنٹوں میں کیا کرنا چاہئے ؟”
    اس نے سوچنے کی کوشش کی تھی۔
    اپنے کمرے میں جاکر رات کو پہننے کے لئے کپڑے دیکھنے شروع کر دئیے تھے۔ پھر ایک لباس اس نے منتخب کر ہی لیاتھا ایک خیال آنے پر وہ واپس کچن میں آگئی تھی۔
    ”نانو ! عمر ڈرائیور کو پہچانے گاکیسے ؟ یہ ڈرائیور تو نیا ہے اور ڈرائیور بھی عمر کو نہیں پہچانتا!”
    ”میں نے ڈرائیور کو عمر کی تصویر دکھا دی تھی۔ مزید احتیاط کے طور پر میں نے اسے کارڈ پر عمر کا نام لکھ دیا ہے۔ عمر کارڈ اس کے پاس دیکھ کر خود ہی آ جائے گا۔”
    ”ہاں ! یہ ٹھیک ہے۔”
    وہ مطمئن ہو کر واپس اپنے کمرے میں آگئی تھی۔
    رات کا کھانا اس نے نانو کے ساتھ آٹھ بجے کھالیا۔ پہلی بار کلاک کو بار بار دیکھتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ وقت کو پر نہیں لگتے بلکہ بعض دفعہ وقت بالکل رک بھی جاتا ہے۔ اس کی تیز رفتاری ہی صبر آزما نہیں ہوتی ۔بعض دفعہ اس کی سست رفتاری بھی تکلیف دہ ہوتی ہے۔
    ”نانو، آپ ڈرائیور کو کتنے بجے بھیجیں گی ؟”
    کھانے سے فارغ ہو کر علیزہ نے پوچھاتھا۔
    ”ایک بجے۔”
    ”آپ عمر کا انتظار کریں گی؟”
    ”ظاہر ہے ،مجھے تو ویسے بھی رات کو نیند نہیں آتی مگر تم چاہو تو جا کر سو جاؤ۔”
    ”نہیں نانو ! میں بھی انتظار کروں گی۔”
    ”تمہیں صبح یونیورسٹی جانا ہے۔”
    نانو نے اسے یاد دلایا۔
    ”ہاں ! مجھے پتہ ہے لیکن کچھ نہیں ہوگا۔”




  • آرٹیکل بی-۱۲ – عظمیٰ سہیل

    آرٹیکل بی-۱۲ – عظمیٰ سہیل

    ” شکر ہے بھئی نکل آئے دکان سے۔ آج تو لگ رہا تھا کہ دم ہی گھٹ جائے گا۔ توبہ کتنا رش تھا۔”فائزہ نے اپنے ڈھیروں شاپنگ بیگ سنبھالتے ہوئے شازیہ سے کہا۔ ”ویسے تو ہر لان کی لانچنگ پہ یہی حال ہوتا ہے۔ لوگوں کے پاس پیسہ بھی بہت ہی آگیا ہے۔” شازیہ نے ہنس کر کہا: ” ہمیں بھی تو چین نہیں کہ تھوڑا صبرہی کر لیں۔ جس دن لان کی لانچنگ ہو بس اسی دن لینا ہے نیا سٹاک۔۔کہیں ختم ہی نہ ہو جائے” فائزہ نے ناک سکوڑتے ہوئے شازیہ کی بات کاٹی، ” ہاں بھئی بعد میں لینے کا کیا مزا جب ہر نتھو خیرے کے پاس پہنچ جائے وہ ڈیزائن ۔ تب تک تو میں ایک بار پہن کے پھینک بھی چکی ہوتی ہوں۔” دونوں اسی طرح باتیں کرتی گاڑی کے قریب پہنچ گئیں۔





    گاڑی میں بیٹھ کے فائزہ نے افسردہ ہوتے ہوئے کہا: ” سب کچھ بہت اچھا مل گیا لیکن میرا سب سے فیورٹ آرٹیکل نہیں ملا ۔”
    شازیہ نے پوچھا: ”کون سا؟ ١٢۔ بی؟وہ تو سنا ہے کہ آیا ہی نہیں مارکیٹ میں گولی مارو اس کو۔ باقی شاپنگ انجوائے کرو۔”
    فائزہ کے شوہر عاصم کا شمار شہر کے معروف کاروباری افراد میں ہوتا تھا۔ گھر میں دولت کی ریل پیل تھی اور فائزہ اس دولت کا بے دریغ استعمال کرتی۔ ڈیزائنر لان ہو یا برانڈڈ جوتے،ہر نیا ڈیزائن اس کی وارڈروب میں ہوتا۔ شہر کی ہر بڑی kitty پارٹی کی وہ ممبر تھی جہاں وہ اپنی دولت اور فیشن کی خوب نمائش کرتی۔ تمام بیگمات اس سے متاثر رہتیں اور اس کا بڑا زعم تھا فائزہ کو۔ اگر نہیں دبتی تھی کوئی تو وہ تھی بیگم شائستہ صدیقی۔ سیٹھ منور صدیقی کی تیسری اور چہیتی بیوی۔ فائزہ اور شائستہ کی بہت لگتی تھی اور دونوں ہر پارٹی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوششوں میں رہتیں۔
    شام کی چائے پہ فائزہ عاصم کو اپنی شاپنگ کا احوال سنا رہی تھی کہ فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری جانب کی بات سُن کر فائزہ کا منہ غصے سے سُرخ ہو گیا اور پھر اس نے فون رکھ دیا۔ شوہر کے استفسار پہ بتایا کہ دکان دار نے جو آرٹیکل اُسے یہ کہہ کر نہیں دیا تھا کہ وہ لانچ ہی نہیں ہوا ، وہی آرٹیکل شائستہ سلنے بھی دی آئی ہے۔ یہ بات شازیہ اور شائستہ کے مشترکہ ٹیلر سے اُسے پتا چلی۔ فائزہ کا موڈ سخت آف ہو گیا۔ ” بڑا ہی گھٹیا آدمی ہے یہ کریم فیبرکس کا منیجر۔ کمیشن مجھ سے لیتا ہے اور نئے ڈیزائن اس شائستہ کو دیتا ہے۔ اب وہ پارٹی میں پہن کے خوب اِترائے گی۔ ”
    عاصم جھلا کے بولا:” ارے بھئی تو تم بھی لے آؤ وہی سوٹ اور تم بھی پہن لو۔۔”
    فائزہ فورا بات کاٹ کے بولی: ” لو خواہ مخواہ ۔۔ میں کیوں پہنوں اس جیسا سوٹ؟” ۔عاصم بے زار ہو کے اٹھ گیا اور بولا:”تم عورتوں کے مسائل میری تو سمجھ سے باہر ہیں خیر میں نکل رہا ہوں۔ رات کو دیر سے آؤں گا۔ ” یہ کہہ کر عاصم نکل گیا۔
    اگلے دن فائزہ کا شازیہ کے ساتھ لنچ پہ جانے کا پلان تھا۔ کھانا کھاتے ہوئے اس مہینہ کی kitty پارٹی کا ذکر نکل آیا۔ شازیہ بولی:”ارے بھئی اس بار کی kitty پارٹی تو شائستہ کی ہے نا۔مسز آفندی بتا رہی تھیں کہ اسی کے گھر ہے پارٹی۔”
    شائستہ کا نام سنتے ہی فائزہ کا حلق تک کڑوا ہو گیا۔ وہ جل کر بولی:” ہاں اسی پہ پہنے گی وہ جوڑا۔ کل وہ منیجرلے کے آیا تھا ، وہی آرٹیکل١٢۔ بی۔بڑی صفا ئیاں دے رہا تھا کہ اس نے نہیں دیا شائستہ کو وہ جوڑا اور یہ بھی کہ بڑی مشکل سے وہ ارینج کر کے لایا ہے خاص میرے لئے۔ ورنہ سارا سٹاک ڈیزائنر نے ایکسپورٹ کر دیا ہے۔ میں نے تو خوب سنائیں اور واپس کر دیا سوٹ۔ ”





    فائزہ بڑی نخوت سے ناک منہ چڑھا کے بولی:”خواہ مخوا ہ کی کارروائی ہنہ !! ”شازیہ کھانا کھاتے کھاتے رک گئی اور بولی :” ارے بیوقوف نہ بنو اور واپس منگوا ؤو ہ سوٹ۔ یہی تو شان دار موقع ملا ہے تمہیں ، شائستہ کو نیچا دکھانے کا!” فائزہ نے تذبذب سے پوچھا: ”کیا مطلب کیسا موقع؟ اس کے جیسا سوٹ پہننے میں تو میری انسلٹ ہے، اس کی نہیں۔ ”
    شازیہ نے مسکراتے ہوئے کہا :” یہی تو تم سمجھی نہیں۔ ارے یار وہ منیجر ٹھیک کہہ رہا تھا۔ یہ والے آرٹیکل کا سارا سٹاک واقعی ایکسپورٹ ہو گیا ہے۔میں نے خود پتا کیا ہے مارکیٹ سے۔۔ یا تو تم خوش قسمت ہو، جس کے لئے منیجر نے ارینج کروادیا یا پھر شائستہ نے کوئی رابطہ استعمال کرتے ہوئے ڈائریکٹ ڈیزائنر سے لیا ہے یا ہو سکتا ہے کچھ دکان دار بلیک کر کے بیچ رہے ہوں لیکن مارکیٹ میں بہرحال یہ دستیاب نہیں ، یہ بات توپکی ہے۔ اب تم وہی سوٹ لے کے سلوا ؤ اور میں یہ بات اپنے ٹیلر کے ذریعہ شائستہ کو پہنچا دوں گی اورپھر دیکھنا وہ کبھی بھی اس پارٹی میں وہ سوٹ نہیں پہنے گی بلکہ تمہارے پہننے کے بعد تو کسی اور پارٹی میں بھی نہیں پہن سکے گی اور اس کی ساری پھرتیاں بے کار جائیں گی۔ ”
    فائزہ سوچ میں پڑ گئی۔ بات کچھ کچھ اس کی سمجھ میں آرہی تھی۔وہ سوچتے ہوئے بولی:” لیکن اگر شائستہ نے پھر بھی وہ سوٹ پہن لیا تو ہم دونوں ہی۔۔۔” یہ سوچ آتے ہی اس کا منہ بن گیا،”نہیں بھئی میں نہیں پہننے والی وہ۔۔” شازیہ اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے اس کی بات کاٹ کے بولی:” ارے پاگل پھر تو اور مزہ آئے گا۔ یاد نہیں چائنا ٹاؤن والے لنچ میں جب وہ تمہارے جیسا برانڈڈ بیگ لے آئی تھی اور پھر بھری محفل میں طنز کر رہی تھی کہ میں تو دوبئی شاپنگ فیسٹول سے لائی ہوں یہ بیگ۔ لوگ تو آن لائن کاپی منگوا کے یہی شو کرتے ہیں جیسے اوریجنل ہو۔۔”
    وہ بات یاد آتے ہی فائزہ کا منہ پھر سُرخ ہو گیا۔”تو بس پھر یہی موقع ہے اس کو نیچا دکھانے کا” ۔ شازیہ کی بات مکمل ہوتے ہی فائزہ کریم فیبرکس کے منیجر کو فون ملانے لگی۔
    شائستہ نے پارٹی کا انتظام شہر کی سب سے مشہور ایونٹ مینجمنٹ ٹیم سے کروایا تھا۔ اعلیٰ پائے کی کیٹرنگ کروائی تھی ۔ فائزہ اپنا پسندیدہ جوڑا پہنے گاڑی سے اُتری۔ دوسری گاڑی سے شازیہ کو اُترتا دیکھ کر بجائے سیدھا اندر جانے کے اُس کی طرف بڑھی۔ شازیہ نے فائزہ پہ ایک توصیفی نگاہ ڈالی اور پھر وہ دونوں اکٹھی گھر کے لان کی طرف بڑھیں جہاں پارٹی کا انتظام تھا۔ دوسری مہمان خواتین سے ملتے ملاتے فائزہ کی نظر بیگم شائستہ صدیقی پر پڑی تو فخر اور سرور کی ایک لہر اس کے اندر دوڑ گئی۔۔ جب اس نے بیگم شائستہ کو اپنے جیسے لباس کی بجائے کوئی اور لباس پہنے دیکھا۔ یہ گویا شکست کا ایک خاموش اعلان تھا۔ فائزہ نے ایک فاتحانہ نظر سے شازیہ کی طرف دیکھا جس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اُسے اس فتح پہ گویا مبارکباد دی۔ اتنی دیر میں شائستہ دونوں کے قریب آ گئی۔ فتح کے نشے میں چور فائزہ اس سے معمول سے کہیں زیادہ تپاک سے ملی۔ دل ہی دل میں وہ سوچنے لگی کہ کیسے آج اپنے ڈریس کا بار بار ذکر چھیڑے۔ شائستہ نے دونوں کو بٹھایا اور کہا : ” بہت دیر سے آئی ہیں آپ دونوں۔ اتنی دیر لگا دی تیاری میں؟” فائزہ نے فخر سے اپنے لباس کی مصنوعی شکنیں دور کرتے ہوئے کہا:” بس مسز صدیقی آپ کو توپتا ہے مجھے ہر کام پرفیکشن سے کرنے کی عادت ہے ، پھر وہ چاہے کسی پارٹی کی تیاری ہو یا اپنی، میں کوالٹی پہ کمپرومائز نہیں کرتی۔ ”
    ”جی جی بالکل، اچھا باتیں تو ہوتی رہیں گی میں آپ کے لئے جوس منگواتی ہوں۔” شائستہ نے پاس کھڑے ویٹر کو کچھ اشارہ کیا اور معنی خیز مسکراہٹ لئے فائزہ کی طرف متوجہ ہوگئی۔ اچانک کہیں سے شائستہ کے گھر کی ملازمہ ہاتھ میں جوس کی ٹرے لئے برآمد ہوئی اور فائزہ کا منہ کُھلا کا کُھلا رہ گیا۔ شائستہ نے شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ فائزہ سے کہا:” کیا ہوا مسز عاصم۔ جوس لیجئے نا” اور فائزہ کے چہرے پہ ایک رنگ آ رہا تھا اور ایک جا رہا تھا کیوںکہ سامنے کھڑی ملازمہ نے وہی سوٹ پہن رکھا تھا جو فائزہ نے پہنا ہوا تھا۔ اس کا پسندیدہ ترین آرٹیکل۔ ١٢ بی۔